بیسویں مجلس

محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب ”الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے بیسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان المجلس العشرون فی القول بلا عمل ‘‘ ہے۔

 منعقده 21 ذیعقد ہ545  و بروز جمعہ، بوقت صبح ، بمقام مدرسہ قادریہ

 نفاق بڑھ جائے تو اخلاص کم ہو جا تا ہے:

اے شہر کے رہنے والو! تم میں نفاق بہت بڑھ گیا ہے، اور اخلاص کم ہو گیا ہے، باتیں بہت ہیں عمل کوئی نہیں ۔ عمل کے بغیر قول کسی کام کا نہیں، بلکہ وہ تم پر دلیل ہے قرب خداوندی کا رستہ نہیں عمل کے بغیر قول ایسا ہے کہ

جیسے دروازے کے بغیر کوئی گھر ہو۔ یا ایسا خزانہ جس سے کچھ خرچ نہ کیا جائے ، وہ صرف دعوی ہی دعوئی ہے جس کا کوئی گواہ نہیں،صورت تو ہے مگر روح کے بغیر ،  ایسابت ہے جس کے نہ ہاتھ ہیں نہ پاؤں ، نہ ہی پکڑنے کی قوت وطاقت ہے، تمہارے بڑے اعمال ایسے ہیں کہ جیسے روح کے بغیر جسم، روح کیا ہے  اخلاص و توحید ، اور قرآن وسنت رسول اللہ ﷺ پر ثابت قدم رہنا۔ غفلت نہ کرو، اپنی حالت کو بدل لو، بھلائی پاؤ گے، احکام الہی پر عمل کر و، منع کئے گئے سے باز رہو،تقدیرالہی کی موافقت کرو، مخلوق میں سے گفتی کے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کے دلوں کو انس اور مشاہدہ اور قرب الہی کی شراب پلائی جاتی ہے، جس سے مست ہو کر وہ تقدیر کے غموں اور بلاؤں کی تکالیف محسوس نہیں کرتے ، تنگی اور مصیبتوں کے سب دن گزر جاتے ہیں ، انہیں اس کا پتہ بھی نہیں چلتا ، وہ اللہ کی حمد اور شکر گزاری کرتے رہتے ہیں، مصائب و آلام کے نزول کے وقت وہ اپنے آپ ہی میں نہ تھے کہ رب تعالی پر اعتراض کرتے ، جیسے تم پر آفتیں آتی ہیں ویسے ہی اللہ والوں پر آتی ہیں  ،اور بعض ان میں سے وہ ہیں جوصبر کرتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو آفات سے اور ان پر صبر سے غائب ہو جاتے ہیں ، انہیں کچھ خبر نہیں ہوتی ۔ تکلیف کا ماننا ایمان کی کمزوری ہے، اور یہ ایمان کے بچپن کا زمانہ ہوتا ہے، جب تکلیف پر صبر آ نے لگتا ہے تو یہ ایمان اٹھتی جوانی کی مثل ہوتا ہے ، تقد یرالہی پر موافقت کرنا ایمان کی بلوغت کی نشانی ہے، راضی برضاء الہی ہو جانا اس کے قرب کے وقت ہوتا ہے،  وہ اپنے علم سے اللہ کی طرف دیکھتا ہے، جب قلب اور باطن کا وجود اللہ کے پاس ہو تب غیبت وفنا ہوتے ہیں، یہ حالت مشاہدے اور آپس میں بات چیت کی ہے، ایسے شخص کا باطن اور وجود فنا ہو جا تا ہے، اور خلقت کے نزدیک محو ہو جا تا ہے، وہ اللہ کی حضوری میں ہوتا ہے، وہاں محو ہو کر پوری طرح سے پگھل جاتا ہے، اسے بقامل جاتی ہے، پھر اللہ جب چاہتا ہے اسے زندہ کرتا ہے، اور جب چاہتا ہے اسے خلقت کی طرف واپس کر دیتا ہے ۔ اس کے بکھرے ہوئے اور متفرق اجزاء کو جمع کرتا ہے، جیسے قیامت کے دن مخلوق کے ریزہ ریزہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئے اجسام کو جمع کرے گا ۔ ان کی ہڈیاں اور گوشت اور بال اکٹھے کرے گا  پھر اسرافیل علیہ السلام کو ان میں ارواح بھو نکنے کا حکم کرے گا ، یہ بات تو عام مخلوق کے لئے ہے لیکن اپنے پیاروں کو بلا واسطہ لوٹا تا ہے ، ایک نظر میں انہیں فنا کرتا ہے اور ایک نظر میں لوٹا تا ہے ۔

اللہ کی محبت آسان نہیں جو ہر ایک اس کا دعوی کرنے لگے:

 محبت کی شرط یہ  ہے کہ تمہارا ارادہ محبوب کے ارادے کے ساتھ ہو،دنیا و آخرت میں مخلوق اور کوئی چیز تجھے اس محبوب سے نہ روک سکے، اللہ کی محبت آسان بات نہیں جوهر ایک اس کا دعوی کرنے لگے، کتنے لوگ ہیں جو محبت کا دعوی کرتے ہیں ، جبکہ محبت ان سے کوسوں دور ہوتی ہے، اور کتنے لوگ ہیں جو محبت کا دعوی نہیں کرتے ،حالانکہ محبت انہیں حاصل ہے۔ مسلمانوں میں سے تم کسی کو حقیر و ذلیل نہ سمجھو کیونکہ ان میں اسرار الہی بیج کی طرح بکھیر دیئے گئے ہیں ۔اے مسلمانو! اپنے نفسوں میں تواضع اختیار کرو، اور اللہ کے بندوں پر غرور و تکبر نہ کرو، اپنی غفلتوں سے ہوشیار ہو جاؤ تم غفلت میں ایسے پڑے ہو گویا کہ تمہارا حساب کتاب ہو چکا ہے اور تم پل صراط سے گزر چکے ہو اور جنت میں اپنے مکان دیکھ لئے ہیں ۔ کیسی خودفریبی ہے، کچھ خیال کرو، تم میں سے ہر ایک کثیر گناہوں کے باعث اللہ کا نا فرمان ہے ۔ اس کے باوجود اسے ( انجام کی کوئی فکر نہیں ، نہ وہ ان سے تو بہ کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی نافرمانیاں بھلا دی گئیں، جبکہ وہ تاریخوں اور وقت کے ساتھ تمہارے اعمال نامے میں درج ہیں۔ چھوٹے بڑے، کم یا زیادہ سب گناہوں کا حساب و عذاب ہوگا ،۔ اے غافلو، ہوشیار ہو جاؤ! اے سونے والو، بیدار ہو جاؤ ! – اللہ کی رحمت حاصل کرو۔اے بندو! جس کسی نے گناہ اور لغزشیں بکثرت کی اوران پر اصرار کرتا رہا  نہ توبہ کی ا ورنہ شرمندہ ہوا ۔ اگر اس نے اپنے کئے کا تدارک نہ کیا تو قاصد اس کے پاس آ گیا۔اے آخرت کے بغیر دنیا کو طلب کرنے والے ۔ اے خالق کے بغیر مخلوق کو طلب کرنے والے۔ تو محتاجی کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور امیری کے سوا کسی کی آرزو نہیں کرتا۔

رزق کا معاملہ منشاءالہی پر موقوف ہے:

تجھ پر افسوس ہے! رزق قسمت کا ہے جو زیادہ یا کم نہیں ہوتا ، نہ ہی آگے یا پیچھے ہوتا ہے، تم اللہ کی ضمانت میں شکایت کرتے ہو، جو چیز نصیب میں نہیں اس کی طلب پر حرص کرتا ہے، تیری حرص نے تجھے اہل علم کے پاس حاضر ہونے اور نیکی کی محافل میں جانے سے روک رکھا ہے، تجھے اس بات کا خوف ہے کہ تیرا نفع کم اور مال تھوڑ ا ہو جائے گا۔ تجھ پر افسوس ہے! جب تو اپنی ماں کے پیٹ میں بچہ تھا توتجھے کون کھلا تا تھا، آج تجھے اپنے آپ اور خلقت پر، اپنی اشرفیوں اور روپوں پر اپنے لینے اور دینے پر شہر کے حاکم پر،جس جس پر تجھے اعتماد اور بھروسہ ہے، وہی تمہارا خدا ہے۔ اور جس جس سےتجھے ڈر خوف ہے۔ جس سےتجھے کوئی آرزویا کچھ امید ہے۔

 جس سے تم نفع یا نقصان دیکھو اوریہ نہ سمجھو کہ اس کے ہاتھوں سے اللہ ہی کرا تا ہے، وہی تمہارا رب ہے، تجھے جلد ہی اپنے متعلق پتہ چل جائے گا ۔ اللہ تعالی تم سے سننے  اور سیکھنے اور پکڑنے کی قوت وہمت چھین لے گا،  تمہارا مال اور جس پر اللہ کے سوا بھروسہ تھا ، جاتے رہیں گے، ۔۔۔ خلقت اور تمہارے بیچ میں قطع تعلق کر دے گا اور تمہاری طرف سے طاقت کے دل سخت کر دے گا، تمہاری طرف سے ان کے ہاتھ روک دے گا ، تمہارا کاروبار ٹھپ کر کے ۔ رزق کے دروازے بند کر دے گا، ایک دروازے سے دوسرے دروازے کی طرف مارے مارے پھرو گے۔ تجھے ایک لقمہ تو کیا ایک ذرہ بھی نہ ملے گا ۔ جب اسے پکارو گے ، تجھے قبول نہ کرے گا،  یہ ساری مصیبت: تمہارے شرک اور غیر اللہ پر بھروسہ کرنے ، ماسوا اللہ سے نعمت طلب کرنے ،نعمت سے گناہوں پر مدد چاہئے کی وجہ سے ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ میں نے خودایسا برتا ؤ ہوتے دیکھا ہے، غالبا یہ لوگ نافرمانوں میں سے تھے ، اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو تو بہ کر کے اپنی بداعمالی کا تدارک کر لیتے ہیں ۔ اللہ بھی ان کی توبہ قبول کر کے نظر رحمت فرماتا ہے، اور ان سے لطف و کرم کا معاملہ کرتا ہے ، اے خلق خدا! توبہ کرو، اے عالمو !اے فقیہو ، اے زاہدو! اےعابدو! تم میں سے ہر ایک شخص تو بہ کا محتاج ہے، تمہارے جینے اور مرنے کی سب خبریں میرے پاس ہیں ، اگر تمہارے ابتدائی افعال شک و شبه والے ہوں اور مجھ سے چھپے ہوں تو تمہاری موت کے وقت وہ سب مجھ پرکھل جاتے ہیں ۔ اگر تمہاراکسی کا اصل مال مجھ سے پوشیدہ ہو جائے تو میں اس کے نکاس کو دیکھتا ہوں ، اگر اس کا خرچ بیوی بچوں اور اللہ کے فقیروں اورمخلوق کی اصلاح وفلاح پر ہو، تو میں جان لیتا ہوں کہ اس مال کی اصل حلال ہے۔ اگر خاصان خدا صد یقوں پر خرچ ہوا ہوتو جان لیتا ہوں کہ اسکے حصول کے اصل اللہ پر توکل ہے، اور یقینا یہ مال حلال ہے، میں تمہارے ساتھ بازاروں میں نہیں رہتا لیکن اللہ تعالی تمہارے مالوں کو اس طریقے سے اور دوسرے طریقوں سے بھی مجھ پر ظاہر کر دیتا ہے۔

دل میں غیر کا خوف رسوائی کا باعث ہے:

 بیٹا! اس بات سے بچو کہ اللہ تعالی تمہارے دل میں اپنے غیر کو نہ دیکھے تا کہ تمہاری رسوائی نہ ہو، اس بات سے بھی بچو کہ وہ تمہارے دل میں اپنے غیر کا خوف، غیر سے امید اور غیر کی محبت نہ دیکھے، اپنے دلوں کو غیر اللہ سے پاک کرو، نفع یا نقصان غیر کی بجائے اس سے دیکھو، اس لئے کرتم اللہ کے گھر میں ہو اور اس کی مہمانی میں ہو۔

صحیح محبت وہی ہے جو اللہ کی محبت میں تغیر نہ لائے

بیٹا! تم خوبصورت چہرے دیکھتے ہو ، اورتم انہیں چاہنے لگتے ہو، یہ محبت ناقص ہے، اس پر پکڑ ہوسکتی ہے صحیح  محبت وہی ہے کہ جو اللہ کی محبت میں تغیر نہ لائے ، اللہ کی محبت وہ ہے جو تم اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھتے ہو – یہی محبت صدیقوں اور روحانیوں کی ہے ، ان کی محبت ایمان سے نہیں بلکہ یقین اور آنکھ سے ہے ۔ ان کے دل کی آنکھوں سے حجاب اٹھ گئے ہیں، جو کچھ غیب میں ہے، وہ دیکھتے ہیں ، وہ ایسی چیز دیکھتے ہیں کہ جس کی شرح وہ خود بیان نہیں کر سکتے ۔

التجا ہے اللهم ارزقنا محبتك مع العفو والعافية  الہی! ہمیں عفو و عافیت کے ساتھ اپنی محبت عطا فرما۔  تمہاری قسمتیں  دنیا میں مقررہ اوقات تک اللہ تعالی کے پاس امانت ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ مالک کی اجازت مل جانے کے بعد تمہارے حوالے ہونے سے  روکے ،مخلوق اور ان کی عقل کی خرابی پر دنیا ہنستی ہے اور مذاق اڑاتی ہے، ایسے شخص پر ہنستی ہے:  جوایسی چیز کا خواہاں ہے جو اس کے نصیب میں نہیں ، اور جو مالک کی اجازت کے بغیر قسمت کا لکھا مانگتا ہے

 دنیا خود بخود تمہاری تابع کیوں کر ہوسکتی ہے:

 اے لوگو! اگر تم دنیا کے دروازے سے منہ پھیر لو، اور اللہ کے دروازے کی طرف رخ پھیر لو تو دنیا خود بخود تمہاری تابع فرماں ہو جائے گی ۔ اللہ سے عقل کی طلب کرودنیا جب اولیاء اللہ کی طرف آتی ہے تو وہ اس سے کہتے ہیں:’’ چلی جادوسروں کو دھوکہ دے، ہم نے تجھے پہچان لیا اور دیکھ لیا ہے۔ ہما را تجر بہ نہ کر ہمیں تیری آزمائش خوب معلوم ہے،  ہم پر پرکھنے کی مشقت نہ ڈال، تیرے سکے کھوٹے ہیں ،  تیری ز ینت خالی بت پر ہے جولکڑی سے بنا ہے، جس میں روح نہیں ، – تیرا ظاہر ہے باطن نہیں صورت ہے سیرت نہیں ، دیکھنے اور پرکھنے کی چیز اصل میں آخرت ہے ۔

 اولیاء اللہ پر دنیا کے عیب جب ظاہر ہوتے ہیں تو وہ اس سے کنارہ کر لیتے ہیں، اور جب مخلوق  کے عیب ظاہر ہوتے ہیں تو وہ ان سے غائب ہو جاتے ہیں، ان سے بھاگتے ہیں اور نفرت کرتے ہیں ۔ جنگلوں اور بیابانوں اور ویرانوں اور غاروں میں جنوں اور فرشتوں کے ساتھ جوزمین پر چلنے والے ہیں ، ان سے انس حاصل کرتے ہیں ۔ فرشتے اور جنات ان کے کبھی وحشی جانوروں کی صورت میں، جس صورت پر چا میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ فرشتوں اور جنات  پاس ان کے پاس  غیر صورتوں میں آتے ہیں،: کبھی و ہ زاہدوں اور راہبوں کی صورت میں داڑھی سمیت ظاہر ہوتے ہیں ، کبھی مردوں کی صورت میں، کبھی وحشی  جانوروں کی صورت میں، جس صورت پر چاہیں ظاہر ہوتے ہیں فرشتوں اور جنات کیلئے صورتیں بدلنا ایسے ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر میں مختلف طرح کے کپڑے لٹکے ہوئے ہوں، جسے چاہا پہن لیا ۔ مرید صادق جو اللہ تعالی کی ارادت میں سچا ہوتا ہے، اپنی ابتدائی حالت میں مخلوق کے دیکھنے سے تنگ آ تا ہے، اور ان کی بات نہیں سننا چاہتا، دنیا کا ایک زرہ دیکھنے سے بھی تنگی محسوس کرتا ہے ، خلقت میں سے کچھ دیکھنے کی بھی قدرت نہیں رکھتا ، ۔ شروع شروع میں اس کا دل حیران اور عقل غائب اور آنکھیں چڑھی رہتی ہیں، رحمت الہی کا ہاتھ اس کے دل – کے سر پر آ جانے تک حالت یہی رہتی ہے ۔ اس وقت اس پر ایک نشہ سا چھا جا تا ہے، پھر وہ ہمیشہ مست رہتا ہے، قرب الہی کی مہک اس کے دماغ میں پہنچتی ہے تب اسے افاقہ ہوتا ہے، اب وہ تو حید اور اخلاص اور معرفت الہی میں اپنے علم اور محبت کے ساتھ قرار پکڑ لیتا ہے ، اسے خلقت کی وسعت اور ثابت قدمی حاصل ہوتی ہے، اسے اللہ کی طرف سے قوت حاصل ہوتی ہے ، کسی مشقت کے بغیر مخلوق کا بوجھ اٹھا لیتا ہے ۔ ان کے قریب ہو جا تا ہے، انہیں چاہتا ہے، اس کا پورا شغل ان کی اصلاح وفلاح ہوتا ہے۔ اس کے باوجود) وہ اللہ کی طرف سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتا، زاہد مبتدی آغاز میں خلق سے بھاگتا ہے ، جبکہ زاہد جو اپنے زہد میں کامل ہوان باتوں کی کچھ پرواہ نہیں کرتا ، نہ ہی مخلوق سے گریز کرتا ہے، بلکہ ان کا طالب بنتا ہے ۔ کیونکہ وہ عارف باللہ ہو چکا ہوتا ہے، جسے اللہ کی پہچان ہو جاتی ہے وہ کسی شے سے نہیں ۔ بھا گتا، ۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ زاہد مبتدی بدکاروں اور نافرمانوں سے بھاگتا ہے، جبکہ انتہائی مقام والا زاہد انہیں طلب کرتا ہے، وہ انہیں کیوں نہ طلب کرے اس کے پاس ان کی پوری دوا ہے، اس لئے زاہدوں میں سے ایک بزرگ نے ارشادفرمایا: لا يضحك في وجه الفاسق إلا العارف

’’ فاسق کے چہرے پر عارف کے سوا کوئی نہیں ہنستا‘‘ جو اللہ کی معرفت میں کامل ہو جا تا ہے اللہ کی خبر دینے لگتا ہے، لوگوں کور استہ دکھانے لگتا ہے۔ وہ ایک جال ہے جو دنیا کے سمندر سے خلقت کو شکار کرتا ہے، اسے دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا ۔ اسے ایسی قوت عطا ہوتی ہے کہ ابلیس کولشکر سمیت شکست فاش دے دیتا ہے اور مخلوق کو اس سے بچالیتا ہے ۔ اے زاہد بن کر جہالت کے ساتھ خلوت میں بیٹھنے والے، آگے آ ، اور جو کچھ میں کہتا ہوں ، اسے سن !،  اے روئے زمین کے زاہدو! آ گے آ ؤ اور اپنے خلوت خانے ویران کر دو، اور مجھ سے قریب ہو جاؤ ، تم اپنی خلوت میں کسی اصل کے بغیر بیٹھے ہو، تمہیں کچھ نہیں ملا، آگے آؤ اور حکمت و دانائی کے ثمرات پاؤ ، اللہ تم پر رحم کرے تمہارا آنا میرے کسی نفع کے لئے نہیں ، بلکہ تمہارے ہی لئے ہے۔

حاجت روائی کے لئے محنت کرو، صنعت سیکھو

 اے بیٹا! تو ضرورت مند ہے، اپنی حاجت روائی کے لئے محنت کر و صنعت سیکھو، ہزار بار بناؤ اور ہزار بارتوڑ و تا کہ تو ایسی عمارت بنائے جو پھر نہ ٹوٹے، جب تو بنائے اور توڑنے میں فنا ہو جائے تو اللہ تعالی تیرے لئے ایسی عمارت بنائے گا جو کبھی نہ ٹوٹے گی۔

اللہ کے طالبوں کی جان ومال سے خدمت کرو:

 اے لوگو تمہیں کب سمجھ آئے گی ،اسے کب پاؤ گے جس کی طرف میں سیر کرتا ہوں ، اللہ کے طالبوں اور مریدوں کی تلاش کرو، جب وہ مل جائیں تو اپنی جانوں اور مالوں سے ان کی خدمت کرو، اللہ کے سچے مریدوں اور عاشقوں کے لئے خاص خوشبوئیں ہیں، اور خاص علامت ان کے چمکتے روشن چہرے ہیں ، تمہارے اندراور تمہارے دیکھنے میں نقص ہے ، اور سمجھ میں نقص ہے، اس میں بڑی آفتیں ہیں، تمہارے نزدیک: صدیق و زندیق، حلال و حرام زہروتریاق مخلص و منافق، تابع فرمان و نافرمان – طالب مولی اور طالب مخلوق مشرک ومتوحد،میں کوئی فرق نہیں ، علم رکھتے ہوئے عمل کرنے والے مشائخ کرام کی خدمت کروتا کر تمہیں سب چیزوں کی حقیقت کا عرفان کرا دیں اللہ کی معرفت کے حصول کی کوشش کرو، جب اسے پہچانو گے تو غیر کو بھی پہچان لو گے، پہلے معرفت حاصل کرو، پھر محبت کرو اگر دل کی آنکھوں سے نظر نہیں آ تا ہے تو دل کی آنکھوں سے دیکھو، نعمتیں جب اس کی طرف سے سمجھوگے تو ضرور اس سے محبت پیدا ہوگی ، نبی اکرم  ﷺ نے ارشادفرمایا : أَحِبُّوا ‌اللهَ ‌لِمَا ‌يَغْذُوكُمْ ‌مِنْ ‌نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللهِ اللہ سے محبت کرو کیونکہ تمہیں نعمتیں عطا فرماتا ہے، اور مجھے چاہو کیونکہ اللہ تعالی مجھے چاہتا ہے۔

مانگے ،بن مانگے ملنے والی سب نعمتوں کا شکر ادا کرو

اے لوگو! اللہ تعالی نے تمہیں اپنی نعمتیں عطا فرمائیں جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، اور اس سے نکلنے کے بعد غذا عطا فرمائی ، پھر اس نے عافیت اور سب طرح کی قوت اور اطاعت عنایت فرمائی ، اپنی اطاعت تمہارے نصیب میں کی ، تمہیں مسلمان بنایا اور اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ کا پیروکار بنایا ، چنانچہ اس کا شکر ادا کرو اور محبت کرو ، جب تم نعمتوں کو اللہ تعالی کی طرف سے خیال کرو گے تو تمہارے دلوں سے مخلوق کی محبت جاتی رہے گی ، اللہ کا عارف اللہ کا محب اللہ کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھنے والا وہی شخص ہے جو نیکی اور بدی سب اسی کی طرف سے جانتا ہے، مخلوق میں سے جو اس سے بھلائی و برائی کرتا ہے، وہ اس کی طرف نہیں دیکھتا ۔مخلوق میں سے اگر کوئی اس سے بھلائی کرتا ہے تو اسے اللہ کی تسخیر سمجھے، اگر مخلوق میں سے کوئی اس سے برائی کرے تو اسے اللہ کی مسلط کردہ جانے ،  اس کی نظر ہمیشہ خلق سے نکل کر خالق پر پڑے ۔ اس کے باوجود وہ شرع کا پابند ہے ۔ کسی بھی حالت میں شرعی حکم ۔ کو ساقط نہ ہونے دے۔ عارف الہی کا دل ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف ہمیشہ منتقل ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ مخلوق سے بے رغبتی ، پھر انہیں چھوڑ دینا اور ان سے رخ پھیر لینا طاقت پکڑ جاتا ہے ، اللہ کی رغبت ہو جاتی ہے، اللہ کی ذات پر تو کل قوی ہو جا تا ہے ۔ خلقت سے لین دین کی عادت جاتی رہتی ہے ، جو کام خلقت سے حاصل ہوتا ہے، اسے اللہ کے ہاتھ سے جانتا ہے اس کی عقل جو مخلوق اور خالق میں مشترک ہے،مضبوط اور موکد ہو جاتی ہے، اور دوسری عقل بڑھادی جاتی ہے ۔ وہ خاص عقل اللہ کی طرف سے ہے (یعنی جز وی عقل سے کلی عقل بن جاتی ہے )۔

ڈر کہیں مخلوق کی محتاجی میں نہ موت آ جائے :

 اے خلقت کے محتاج! اے خلقت کے مشرک!  ڈر کہیں مخلوق کی محتاجی میں نہ موت آ جائے  ایسی حالت میں اللہ تیری روح کے لئے اپنا دروازہ نہ کھولے گا اور نہ اس کی طرف نظر رحمت ڈالے گا، کیونکہ جوغیر پر بھروسہ کرنے والاہو، اللہ ایسے مشرک سے سخت نالاں ہے، تجھے چاہیے کہ تو پہلے نفس سے الگ ہو جاء پھر خلق سے الگ ہو جاء پھر دنیا سے الگ ہوجا، – پھر آخرت سے جدا ہو جابالآ خر ماسوا اللہ سے الگ ہو جا۔

پھراگر چا ہو کہ مالک کے ساتھ خلوت ہو تو اپنے وجود اور اپنی تدا بیر اور اپنی بکواس کو دور کرو تجھ پر افسوس! تو اپنے خلوت خانہ میں بیٹھا ہے اور تیرا دل لوگوں کے گھروں میں ہے، ان کے آنے اور ان کے ہدیوں کا منتظر رہتا ہے تیری عمر بیکار گئی صورت سے بھی بے صورت رہ اپنے نفس کو کسی چیز کا اہل نہ سمجھ  یہاں تک کہ اللہ اسے اہل نہ بنادے۔ جب تک اللہ کی طرف سے اہلیت نہ آئے تم اور خلقت از خوداہلیت حاصل نہیں کر سکتے ۔ اللہ اگرتم سے کسی امر کا ارادہ کرے تو اس کے لئے تمہارے لئے سامان کر دیتا ہے۔ اگر تمہارا باطن صحیح نہ ہو اور قلب ماسوا اللہ سے خالی نہ ہو تو صرف خلوت تمہیں نفع نہیں دے سکتی۔

التجا ہے اللهم انفعني بما أقول والفعهم بما أقول ويستمعون – ” الہی جو کچھ میں کہتا ہوں اس سے مجھے نفع عطا فرما، اور انہیں بھی میری نصیحت سے نفع عطا فرما، اور وہ میری نصیحت ہوش سے سن کر قبول کر یں ۔

تینتالیسویں مجلس

   منعقد ہ 21 ر جب 545 صبح اتوار بمقام خانقاہ شریف

فلاح ونجات اللہ کی موافقت اور نفس کی مخالفت میں ہے :

اے بیٹا! تیرافلاح ونجات کا ارادہ ہے تو اللہ کی موافقت کر اورنفس کی مخالفت کر، طاعت الہی میں نفس کی موافقت کر اور معصیت الہی میں نفس کی مخالفت کر ، خلقت کی پہچان کرنے میں نفس تیرے لئے حجاب ہے، اور اللہ کی معرفت میں خلقت تیرے لئے حجاب ہے۔

 جب تک خلقت کے ساتھ رہے گا ، خالق کو نہ پہچان سکے گا ، جب تک دنیا کے ساتھ رہے گا ، آخرت کو نہ پہچان سکے گا،  جب تک آخرت کے ساتھ رہے گا ، رب آخرت کو نہ پہچان سکے گا۔ جیسے دنیا وآخرت یکجانہیں ہو سکتے ، ویسے ہی مالک ومملوک یکجا نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح سے خالق وخلقت کا یکجا ہونا غیر ممکن  ہے،  نفس بدی کی راہ چلانے والا ہے، یہ اس کی فطرت ہے، اس کی اصلاح میں کچھ وقت لگے گا،  قلب کے  موافق ہو جانے تک اس کی اصلاح میں لگارہ، ہر حال میں اس سے مجاہدہ کر، اسے اس ارشاد الہی سے حجت و دلیل نہ بنا فَأَلْهَمَهَا ‌فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا اللہ نے ہرنفس کو نیکی وبدی الہام کر دی ہے ۔ یہ ندا اللہ کی طرف سے آئے گی جبکہ نفس کدورتوں سے پاک ہو، نفس کا شر زائل ہو جائے ،  قلب ، ذکر اور طاعت الہی سے پھل پھول جائے ،جب تک نفس کے لئے یہ بات حاصل نہ ہو تو اس کی کدورت اور شرارت کی وجہ سے قرب الہی کی امید نہ رکھ نفس جب تک نجاستوں سے پاک نہ ہوگا اسے بادشاہ حقیقی کا قرب کیسے حاصل ہوسکتا ہے، تو نفس کی امید کم کرتا کہ تیری مرضی کے مطابق تیری اطاعت کرے۔اسے رسول اکرم  ﷺ کی نصیحت سنایا کر ، آپ  ﷺ نے ارشادفرمایا إِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالْمَسَاءِ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَمِنْ حَيَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي يَا عَبْدَ اللهِ ‌مَا ‌اسْمُكَ ‌غَدًا” جب تو صبح کرے تو اپنے نفس سے شام کی بات نہ کر، اور جب شام کرے تو اپنے نفس سے صبح کی بات نہ کر۔ کیونکہ تجھے نہیں معلوم کہ کل تیرا کیا نام ہوگا ، ( زندہ یا مردہ) –

تو اپنے نفس پر غیر سے زیادہ مہربان ہے حالانکہ تو نے ہی اسے بگاڑا ہے،غیر کس لئے اس پر مہربانی کرے گا اور اس کا خیال رکھے گا  تیری آرز وار حرص کی قوت نے تجھے نفس کے ضیاع کے لئے مائل کر دیا ہے، تو -آرزو کے کم کرنے، حرص کے کم کرنے موت کو یاد کرنے ، مراقبہ الہی کا ذکر کرنے ، صدیقوں کی انفاس و کلمات سے علاج کرنے ، کدورت سے پاک ذکر کرنے کے لئے کوشاں ہو۔

نفس سے کہو کہ تیری نیک کمائی تیرے فائدے کے لئے اور تیری بد کمائی تیرے نقصان کے لئے ہے، ذرا سوچ سمجھ کر عمل کر کوئی بھی تیرے ساتھ عمل نہ کرے گا ، اور نہ اپنے عمل میں سے تجھے کچھ دے گا، عمل و مجاہدہ لازی ہیں ، وہی دوست ہے جو تجھے بازرکھے ، وہی دشمن ہے جو راہ سے ہٹائے ۔

میں تجھے خلقت کے پاس دیکھتا ہوں خالق کے پاس نہیں ، تو نفس اور خلقت کے حقوق ادا کر رہا ہے جبکہ خالق کے حقوق نظر انداز کئے ہوئے ہے، نعمتیں اللہ نے دی ہیں اور شکر غیراللہ کا ادا کر رہا ہے ۔ تیرے پاس جو نعمتیں ہیں وہ کس کی عطا کردہ ہیں ،۔ کیا غیراللہ نے دی ہیں ۔ جو اس کا شکر ادا کرتا ہے۔اور اس کی عبادت کرتا ہے، جب تجھے علم ہے کہ تیرے پاس کی نعمتیں اللہ نے عنایت کی ہیں تو اللہ کا شکر کہاں ہے! –

 جب تجھے علم ہے کہ اس نے پیدا کیا ہے تو اس کی فرماں برداری کرنے اور نا فرمانی سے بچنے میں تیری عبادت کہاں، اس کی بلا پرصبر کہاں ہے تو اپنے نفس سے اتنا جہاد کرتا کہ وہ راہ راست پر آ جائے ۔ ارشاد باری تعالی ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ ‌سُبُلَنَا” جولوگ ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ، ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیتے ہیں ۔ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ ‌وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

نیز فرمایا: ”اے ایمان والو! اگرتم اللہ کی مددکرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا۔ تو اپنے نفس کو کھلا نہ چھوڑ ، نہ اس کی فرماں برداری کر، تجھے نجات مل جائے گی ۔ اس کے سامنےہنسی نہ کر، اس کی ہزاروں باتوں میں سے ایک کا جواب دے تا کہ اسے کچھ تہذیب آ جائے ، نفس جب تجھ سے خواہشوں اور لذتوں کی تمنا کرے تو اسے ٹالدے، کچھ دیر کرو اور اس سے کہو کہ ان کے پانے کا مقام جنت ہے ۔ نفس کو رکاوٹ کی تلخی پر صبر کرنے کی عادت ڈال یہاں تک کہ عطائے الہی نصیب ہو ۔ جب اسے صبر کی عادت ہو جائے اور وہ صبر کرنے لگے تو اللہ اس کے ساتھ ہوگا، کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ– اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ نفس کی کوئی بات نہ مان ، وہ تو نافرمانی پرا کسائے گا، نفس سے دوستی ترک کر دے اور اس کے خلاف چل، اس کے خلاف چلیں تو یہ درست رہتا ہے۔

اے معرفت الہی کا دعوی کرنے والے تو اپنے دعوے میں جھوٹا ہے کیونکہ تو اپنے نفس پر قائم ہے _نفس اور حق دونوں جمع نہیں ہوتے ، دنیا اور آخرت دونوں جمع نہیں ہوتے ، جو بندہ اپنے نفس کے ساتھ ٹھہر ااس کا اللہ کے ساتھ ٹھہر نا باقی نہ رہےگا ، رسول اکرم  ﷺ نے ارشادفرمایا: مَنْ أَحَبَّ دُنْيَاهُ أَضَرَّ بِآخِرَتِهِ وَمَنْ ‌أَحَبَّ ‌آخِرَتَهُ أَضَرَّ بِدُنْيَاهُ”جس نے دنیا سے محبت کی اس نے آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت کی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا۔

صبر سے کام لے، جب صبر کامل ہو گا تو رضائے الہی کامل ہوگی ، جب تجھے فنا نصیب ہوگی تو ، تجھے سب کچھ علم ہو جائے گا۔ – ہر بات میں شکر گزار ہوگا۔ – دوری قرب سے بدل جائے گی، شرک، تو حید ہو جائے گا۔ تو خلقت کی طرف سے نہ فائدہ پائے گانہ نقصان ، مخالف چیزیں دکھائی نہ دیں گی۔سب دروازے اورسمتیں ایک ہو جائیں گی صرف ایک ہی جہت رہ جائے گی ۔یہ ایسی حالت ہے کہ بہت سی خلقت اسے سمجھ ہی نہیں سکتی، بلکہ یہ حالت خاص لوگوں میں لاکھوں میں سے کسی ایک کو حاصل ہوتی ہے۔

کوشش کر روح کے بدن سے نکلنے سے پہلے ہی تیرانفس مرجائے:

اے بیٹا! کوشش کر کہ تو اللہ کے سامنے یہیں مر مٹے ۔ اور یہ کوشش کر کہ روح کے بدن سے نکلنے سے پہلے ہی تیرانفس مر جائے ۔ نفس کی موت صبر کرنے اور اس کی مخالفت کرنے میں ہے، جلد ہی اس کی عاقبت نیک ہوگی۔ تیر اصبرفنا ہو جائے گا مگر اس کی جزا باقی رہنے والی ہے ۔ ( تجربے کی بات ہے میں نے صبر کیا اور صبر کی عاقبت نیک پائی ہے۔ میں مر گیا۔ پھر اس نے مجھے زندہ کیا، اس نے مجھے پھر مارا اور میں غائب ہو گیا ، غائب ہونے کے بعد پھر مجھے وجود عطا کیا ، میں اس کی معیت میں فوت ہوا اور اس کی معیت میں مالک بنا ، میں نے اختیار اور ارادہ چھوڑ دینے میں نفس سے جہاد کیا۔ حتی کہ مجھے اللہ کی معیت حاصل ہوگئی اب تقدیر الہی میرا ہاتھ تھامتی ہے، اس کا احسان میرا مددگار ہے، اس کا فعل مجھے لئے لئے پھرتا ہے، غیرت الہی میری حفاظت کرتی ہے، اور اس کی مشیت میری اطاعت کرتی ہے، سابق علم الہی مجھے آگے بڑھا تا ہے اور میرا رب مجھے بلند کئے جارہا ہے۔ تجھ پر افسوس ! تو مجھ سے بھا گتا ہے، جبکہ میں تجھ پر کوتوال ہوں ۔ میں تیرے نفس کا محافظ ہوں ، تیرا ٹھکانہ میرے پاس ہے، میرے پاس ٹھہر جاورنہ ہلاک ہو جائے گا ۔اے جاہل ، بیوقوف! پہلے میرے پاس آ ، پھر بیت اللہ شریف کا حج کرنا، میں کعبہ کا دروازہ ہوں، میرے پاس آ تا کہ میں تجھے حج کا طریقہ بتاؤں کہ حج کیسے کرتے ہیں  اور میں تجھے بتاؤں کہ رب کعبہ سے کیسے بات کرنی ہے۔ جب مطلع صاف ہوگا ،غبار بیٹھ جائے گا تم پرحقیقت کھل جائے گی۔

اے سیاست دانو! میری حفاظت میں آ جاؤ، اللہ نے مجھے کامل قوت عطا فرمائی ہے ، اولیاءاللہ تمہیں وہی حکم دیتے ہیں جیسا کہ اللہ کے حکم سے میں تمہیں حکم دیتا ہوں اور اس سے روکتے ہیں جس چیز سے انہیں اللہ نے روکا ہے، تمہاری خیر خواہی ان کے سپرد کی گئی ہے، وہ نصیحت کرنے میں اپنی امانت ادا کرتے ہیں ، تم دار حکمت ( دنیا ) میں عمل کرد، تا کہ دار قدرت (آخرت) تک پہنچ سکو، نیا دارحکمت ہے اور آخرت دار قدرت، حکمت کو آلات و اسباب اور اوزاروں کی ضرورت ہے جبکہ قدرت اس کی محتاج نہیں فضل الہی نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ دار قدرت، دار حکمت سے الگ ہو جائے ، آخرت میں اشیاء کسی سبب کے بغیر وجود پائیں گی ، وہاں تمہارے اعضاء بول رہے ہوں گے۔ اللہ کی جو نافرمانیاں تم نے کی ہیں تمہارے اعضاءان کی گواہی دیں گئے تمام رات کھل جائیں گے ، اور تمام چھپی باتیں ظاہر ہو جائیں گی ۔ تم چاہو خواہ نہ چاہو تمہاری مرضی نہ چلے گی، خلقت میں سے کوئی بھی ٹھنڈے دل کے بغیر داخل نہ ہوگا اس پر حجت قائم ہوگئی جس پر کوئی عذر نہ کر سکے گا اور ٹھنڈے دل سے داخل ہو جائے گا ، اپنے نامہ اعمال کوفکر کی زبانوں سے پڑھو، پھر نافرمانیوں پر توبہ کرو اور فرماں برداریوں پر شکر ادا کرو، نافرمانیوں کے کھاتے اکٹھے کر کے دیکھو، ان کی سطروں پر تو بہ کاقلم پھیر دواور یہ  سطریں کاٹ دو۔

میں تمہیں تمہارے لئے چاہتا ہوں نہ کہ اپنے لئے: ۔

 اے بیٹا! تو میرے ہاتھ پر تائب ہوا اور میری صحبت میں بھی رہا۔ میں نے جو بات تجھ سے کہی ،تو اسے نہ مانے تو میں کیا کہوں تجھے اس سے کیا فائدہ ہوگا، حقیقت کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے تو نے ظاہر پرستی کی طرف رغبت کی۔جو شخص میری صحبت کا طالب ہو، وہ میری بات مانے اور اس پر عمل کرے، جیسے میں کروں ویسے ہی وہ کرے، درنہ میری صحبت میں نہ آئے ،ایسے میں اسے فائدے کی جگہ نقصان ہوگا۔ میں ایک مہذب دسترخوان ہوں، پھر بھی کوئی مجھ سے کھانا نہیں چاہتا ، میں کھلا ہوا دروازہ ہوں لیکن اس میں داخل کوئی نہیں ہوتا، :

میں تمہارے ساتھ کیا عمل کروں ، کتنی بار کہوں ، تم سنتے ہی نہیں ، میں تمہیں تمہارے لئے چاہتا ہوں نہ کہ اپنےلئے ، میں نہ تم سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی کوئی امید رکھتا ہوں ، نہ ویرانے اور آبادی میں کوئی فرق کرتا ہوں۔ اسی طرح زندہ اور مردہ ،امیر وفقیر، بادشاہ اور رعایا سب ایک جیسے ہیں، حکم تو تمہارے غیر کے ہاتھ میں ہے۔

 میں نے جب اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دی تو مجھے یہ مقام حاصل ہو گیا، جب تیرا دل دنیا کی محبت سے معمور ہے تو تیرے لئے تو حید کیسے صحیح ہو سکتی ہے، کیا تم نے رسول اکرم  ﷺ کا یہ مبارک ارشاد نہیں سنا: حُبُّ ‌الدُّنْيَا ‌رَأْسُ ‌كُلِّ ‌خَطِيئَةٍ’’دنیا کی محبت ہر خطا کی جڑ ہے ۔‘‘ تو جب تک ابتدائی حالت میں عبادت گزار ہے، طالب اور سالک ہے، دنیا تیرے حق میں خطا کی جڑ رہے گی ،جب تیرے قلب کی سیر کی انتہا ہو جائے گی تو وہ قرب الہی سے واصل ہو جائے گا۔ تیرا دنیا کے لئے لکھا نصیب تیرے لئے محبوب بنا دیا جائے گا ، اور غیر کے نصیب کیلئے تیرے دل میں نفرت پیدا کر دی جائے گی ۔ تیرا نصیب اس لئےتیرے لئے محبوب بنایا جائے گا تا کہ تو اپنے بارے میں اللہ کے ازلی علم کو ثابت کرنے کیلئے اپنا نصیب اچھی طرح سے حاصل کر لے، اس پر قناعت کرے اور تیری غیر کی طرف توجہ نہ ہو، اور تیرادل اللہ کے حضور میں قائم ہو جائے ،  دنیاوی نصیب میں اسی طرح تصرف کرے جس طرح کہ جنت والے جنت میں تصرف کریں  گے ، اللہ کی طرف سے جو بھی حکم جاری ہوگا، تجھے پسند ہوگا ، کیونکہ تو اس کے ارادے سے ارادہ کرے گا ، -اس کے اختیار سے اختیار کرے گا۔ اس کی تقدیر کے ساتھ چلے گا۔ ماسوی اللہ سے تیرا دل ہٹ جائے گا، دنیا وآخرت تجھ سے دور ہو جائیں گے ۔ تیرا یہ اپنے نصیب کو حاصل کرنا اور اسے محبوب رکھنا اپنی طرف سے نہیں بلکہ حکم الہی کے تحت ہوگا۔

 دکھاوے کے لئے عمل کرنے والا منافق اپنے عمل پر مغرور رہتا ہے، دن کو ہمیشہ روزے سے رہتا ہے، رات کو شب بیداری کرتا ہے، روکھی سوکھی کھا تا ہے اور موٹا لباس پہنتا ہے۔ ظاہری اور باطنی اعتبار سے تاریکی میں ہے، اپنے رب کی طرف ایک قدم بھی دل سے نہیں بڑھتا۔ وہ توفقط عمل کرنے والوں غم اٹھانے والوں العاملة الناصبہ میں سے ہے۔ اس کی اندرونی حالت صدیقین ، صالحین ، واصلان حق اور اولیاء اللہ سے ڈھکی چھپی نہیں۔خلقت میں سے خواص تو آج بھی اسے جانتے اور پہچانتے ہیں، قیامت کے دن عوام بھی اس کا اصل چہرہ دیکھ لیں گے، خواص جب بھی اسے دیکھتے ہیں ، دل ہی دل میں اس کے لئے غصہ کرتے ہیں لیکن وہ اللہ کی پردہ پوشی سے اس کی عیب پوشی کرتے ہیں ۔ اور اسے دنیا والوں پر ظاہر نہیں کرتے۔

تو اپنے نفاق کے ساتھ اولیاء اللہ میں شامل نہ ہو، جب تک تو اپنی زنارکونہ توڑ ڈالے اور نئے سرے سے اسلام نہ لائے ، توبہ کو دل کے ساتھ ثابت نہ کرے، اور اپنی عادت اور حرص اور اپنے وجود اور نفع پانے اور دفع ضرر کے گھر سے نہ نکل آئے ۔ واعظ بن کے اولیاء اللہ کے حالات نہ سنا یہ کسی کام کا نہیں جب تک کہ تو اپنے آپ سے باہر نہ نکلے ۔اپنے نفس اور حرص اور عادت کو دروازے پر نہ چھوڑے، اور دل کو دہلیز پر اور باطن کو بادشاہ کے حضور میں مقام مخلوق  میں نہ چھوڑے، تیرا کلام نامسموع ہے ، زبان نہ ہلا ۔ بنیادکو پختہ کرلے، بنیاد جب مضبوط ہو جائے تو جلدی سے عمارت بنا، یہ بنیاد کیا ہے، دین اور دل کی سمجھ علم اور فقہ، زور بیان اور زبان کی فقہ نہیں ،  زبان کی سمجھ خلقت اور بادشاہوں کے قریب کرتی ہے، جبکہ دل کی سمجھ قرب الہی کی مجلس کا صدر بناتی ہے اور تیرے قدم اللہ کے قریب کرتی ہے دل کی سمجھ کو اختیار کر ۔

علم کی طلب تو رکھتا ہے مگر اس پر عمل کی تڑپ نہیں رکھتا

تجھ پرافسوس تو اپنے وقت کوعلم کی طلب میں ضائع کرتا ہے، اس پرعمل نہیں کرتا۔ تو جہالت کے قدم پر حرص میں ہے ۔ اللہ کے دشمنوں کی خدمت کرتا ہے اور انہیں اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے، اللہ کو تیری اور تیرے شرک کی کوئی پرواہ نہیں، اسے اپنے ساتھ کوئی شریک قبول نہیں ۔ کیا تجھے نہیں پتہ کہ تو اس کا بندہ کہلائے گا جس کے ہاتھ میں تیری باگ ہوگی ، اگرتواپنی بھلائی چاہتا ہے:

 اپنے دل کی ڈوراللہ کے ہاتھ میں دے دے ،اس کی ذات پر حقیقی بھروسہ کر،اپنے ظاہر و باطن سے اس کی خدمت کر، اس پر تہمت  نہ ر کھ، کیونکہ وہ ہر تہمت سے بری ہے،  وہ تیری مصلحت تجھ سے زیادہ جانتا ہے : – وہ جانتا ہے اور تو نہیں جانتا ہے، تجھ پرلازم ہے کہ اس کے سامنے گم نام، آنکھیں بند کئے سر کو جھکائے ، گونگا بنا خاموش رہے، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے تجھے بولنے کا حکم آ جائے ، اب تو اپنے ارادے سے نہیں ، اس کے ارادے سے بول، ایسے میں تیرا بولنا دلوں کے ۔ مرض کی دوا، باطن کے لئے شفا اور عقلوں کے لئے روشنی ہوگا ۔

 اللهم نور قلوبنا و دلها عليك وصف أسرارنا و قربها منك واتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار ”اے اللہ! ہمارے دلوں کو منور کر، انہیں اپنا راستہ بتا، اور ہمارے باطن کو صفا کر اپنی تائید سے دلوں کو قوی کرے ۔ اور ہمیں دنیا کی بھلائی عطا کرے ، اور آخرت کی بھلائی عطا کرے  اور دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھے۔“

فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 151،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی

الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 89دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں