سیور اربعہ (چار سیریں)

اللہ تعالی کا خصوصی تعلق اور قرب حاصل کرنے کے راستے پر چلنے کے دوران سالک کو مختلف حالات پیش آتے جاتے ہیں ایک حال سے دوسرے حال یا ایک روحانی مقام سے دوسرے روحانی مقام کو منتقل ہونے کے اس عمل کو سیر کا نام دیا گیا ہے اسےسیر علمی اور روحانی طور پر ہوتی ہے جسمانی طور پر نہیں

صوفیاء کو روحانی مشق میں عروج و نزول  کے دوران  جو مختلف سیریں کروائی جاتی ہیں وہ سیر و سلوک روحانی سفر کہلاتے ہیں انہیں حرکت

اور انتقال علمی بھی کہا جاتا ہے یہ چار اسفار ہیں

سیر الی اللہ

  سیر فی اللہ

 سیرعن اللہ باللہ

سیر فی الاشیا ء باللہ

پہلی سیر میں ایک طالب ظلال سے اسماء و صفات الہی کی طرف سیر کرتا ہے جو علم اسفل سے علم اعلیٰ کی جانب ہواور پھر اعلیٰ سے اور اعلیٰ کی طرف ۔جس کے ذریعے وہ اپنی اصل کو پہنچ جاتا ہے اور اس میں فانی ہوکر اپنا کوئی نشان نہیں پاتا یہ فنا فی اللہ کہلاتی ہے یہی دائرہ ظلال بھی ہے جس کو تصوف کی اصطلاح میں سیر الی اللہ کہتے ہیں ولایت صغریٰ بھی کہا جاتا ہے ۔

دوسری سیر ایک طالب کا یہ سلسلہ دائمی طور پر جاری رہتاہے اس کے بعد سالک شرع شریف کے تحت ترقی کرتے ہوئے سیرفی اللہ میں داخل ہو جاتا ہے جس میں وہ اللہ تعالی کی صفات و اسماء شیونات و اعتبارات کی سیر کرتا ہے جو ایسے مرتبہ پرانتہاء ہو جسے کسی عبارت سےتعبیر نہ کیا جاسکے اس کو اصطلاحاًسیر فی اللہ کہتے ہیں یہ سیر اسے ولایت کبری میں میسر آتی ہے اسے بقا  باللہ، مقام جذبہ اور سیر انفسی کا نام بھی دیا گیا ہے۔

یہ دونوں سیریں مکمل ہونے پر طالب علموں کو دو گروہ جاتے ہیں ہیں ایک وہ جو اللہ تعالی کی محبت میں فنا ہو کر جمال الہی کا مشاہدہ کرتے ہیں انہیں مستہلک کہا جاتا ہےوہ  یہیں تک رہ جاتے ہیں۔

دوسرا طبقہ راجعین کا ہے جن کو واپس بلایا جاتا ہے کہ وہ آ کر مخلوق میں انسانوں کے درمیان رہیں اور اللہ کے بندوں کو اسی لحاظ سے سیر کرنے میں مدد کریں جن کے ذریعے وہ یہاں تک آیا تھا اسے مخلوق کے ساتھ کسی قسم کی گرفتاری نہیں ہوتی۔

تیسری سیر  سیرعن اللہ باللہ ہے جو کہ علم اعلی سے علم اسفل کی طرف اور پھر اس اسفل سے دوسرے اسفل کی طرف حرکت علمیہ کا نام ہے

چوتھی سیرکا نام سیر فی الاشیاء  باللہ  ہے اس میں سالک مخلوق کے ساتھ ہر وقت ملا ہوا ہے لیکن اسے ان کے ساتھ ایسا لگاؤ نہیں ہوتا کہ اس کا اللہ تعالی سے رابطہ منقطع ہو جائے وہ خلقت کی طرف اپنی مرضی سے توجہ نہیں کرتا  اس میں یہ وصف خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔


ٹیگز

3 تبصرے “سیور اربعہ (چار سیریں)

اپنا تبصرہ بھیجیں