عارفین کی تواضع (پچیسواں باب)

عارفین کی تواضع کے عنوان سے پچیسویں باب میں  حکمت نمبر 240 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
بعض تو اضع ، اختیاری حقیقی ہوتا ہے۔ اور وہ عارفین کی تواضع ہے۔ چونکہ وہ معبود حقیقی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے مشاہدے سے پیدا ہوتی ہے، اس لئے اُس میں کبھی تاخیر نہیں ہوتی ہے مگرغفلت کے وقت ۔ اور ایسا کم ہوتا ہے۔ اور یہی تواضع ہے جس کو مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے ۔
240) اَلتَّوَاضُعُ الحَقِيقِيُّ هُوَ مَا كَانَ نَاشِئاً عَنْ شُهُودِ عَظَمَتِهِ وَتَجَلِّي صِفَتِهِ .
حقیقی تواضع ۔ وہ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے مشاہدے ، اور اُس کی صفت کی تجلی سے پیدا ہوتی ہے۔ میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ حقیقی تواضع – وہ عارفین کی تواضع ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے مشاہدے، اور اُس کی ذات وصفات کی تجلی سے پیدا ہوتی ہے۔ اور واو عطف تفسیر کے لئے ہے۔
اس لئے کہ صفات کی تجلی ہی ذات کی عین عظمت ہے۔ اور یہ اس طرح کہ : اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے قدیم ازل میں اپنی صفات کے ساتھ موصوف اور اپنے اسمائے حسنے کے ساتھ موسوم ، ایسی پوشیدگی اور لطافت میں تھا کہ اُس کو کوئی نہیں پہچانتا تھا۔ پھر جب اُس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ پہچانا جائے ۔ تو اُس نے اپنی قدرت اور ارادے سے اپنی ذات اقدس کی عظمت اپنی ازلی صفات سے موصوف حال میں ظاہر کی۔ پس ذات کی عظمت کے لئے قدرت ظاہر ہوئی ۔ لہذاذات اقدس کی عظمت کا شہود، صفات کی تجلی کا شہو دہی ہے۔
اور اسی کی طرف عینیہ کے مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اشارہ کیا ہے۔
فَاوْصَافَة وَالْإِسم والأثر الَّذِي هُوَ الْكَوْنُ عَیْنُ الذَّاتِ وَاللَّهُ جَامِعٌ
پس اُس کے اوصاف اور اسماء اور آثاریعنی کائنات عین ذات ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ سب کا جامع لہذا حقیقی تواضع :- وہی ہے ، جو ذات کی عظمت یعنی صفات کے نور کے مشاہدہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی لئے تم عارفین کو دیکھتے ہو کہ وہ پتھر اور مٹی کے ڈھیلے اور ہرشے کے ساتھ تواضع کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہرشے میں معرفت حاصل کرتے ہیں۔
تواضع کس طرح آتی ہے حضرت ذوالنون مصری رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ۔ جو شخص تواضع اختیار کرنا چاہتا ہے اس کو چاہیئے کہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی طرف متوجہ کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت سے نفس پگھل کر ذلیل و حقیر ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی قدرت اور غلبہ کی طرف نظر کرتا ہے ۔ اس کے نفس کی قدرت اور غلبہ اس سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ کل نفوس اللہ تعالیٰ کی ہیبت کے سامنے حقیر و ذلیل ہیں۔ لہذا بہترین تواضع یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے نفس کی طرف نہ دیکھے۔ حاصل یہ ہے:۔ حقیقی تواضع : صرف عارفین کے لئے ہے ۔ اس لئے کہ وہ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اُن سے ان کے نفوس کے اوصاف زائل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے وصف کے شہود کے سوا کوئی شے نفس کے وصف سے نہیں نکال سکتی ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں