عبودیت کے اوصاف (انیسواں باب)

عبودیت کے اوصاف کے عنوان سے انیسویں باب میں  حکمت نمبر 178 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
فقر میں ثابت و قائم ہونا ۔ عبودیت کے تمام اوصاف میں قائم ہونا ہے اور عبودیت کے اوصاف یہ ہیں ۔ ذلت اور عاجزی اور کمزوری ۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں بیان فرمایا ہے
178) تَحَقَّق بِأَوْصَافِكَ يُمِدُّكَ بِأَوْصَافِِهِ، تَحَقَّقْ بِذَلِكَ يُمِدُّكَ بِعِزِّهِ، تَحَقَّق بِعَجْزِكَ يُمِدُّكَ بِقُدْرَتِهِ، تَحَقَّق بِضَعْفِكَ يُمِدُّكَ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ.
تم اپنی عبودیت کے اوصاف سے موصوف ہو جاؤ۔ تو اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت کے اوصاف سے تمہاری مددفرمائے گا۔ اور تم اپنی ذلت سے موصوف ہو جاؤ۔ تو اللہ تعالی اپنی عزت کے وصف سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تم اپنی عاجزی کے وصف سے موصوف ہو جاؤ۔ تو اللہ تعالی اپنی قدرت کے وصف سے تمہاری مدد فرمائے گا۔ اور تم اپنی کمزوری کے وصف سے موصوف ہو جاؤ۔ تو اللہ تعالی اپنے اختیار اور اپنی قوت کے وصف سے تمہاری مددفرمائے گا۔
(اوصاف سے مدد کرنا ۔ اوصاف سے موصوف کر دینا ہے۔ ) میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ عبودیت کے اوصاف چار ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں ربوبیت کے اوصاف بھی چار ہیں :۔
عبودیت کا پہلا وصف :- فقر (محتاجی ) ہے ۔ اس کے مقابلے میں ربوبیت کا وصف :- غنا ( بے نیازی) ہے۔
عبودیت کا دوسرا وصف ۔ ذلت ہے۔ اس کے مقابلے میں ربوبیت کا وصف : – عزت ہے۔
عبودیت کا تیسرا وصف – عاجزی ہے۔ اس کے مقابلے میں ربوبیت کا وصف :- قدرت ہے۔
عبودیت کا چوتھا وصف :- کمزوری ہے۔ اس کے مقابلے میں ربوبیت کا وصف – قوت ہے ۔ اور وصف کے ساتھ ثابت و قائم ہونے کا مفہوم -:- قلب اور جسم کا وصف سے آراستہ و موصوف ہوناہے۔ اور یہ اوصاف اس کی مخلوق کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی کے لئے ذلت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ جبتک وہ اس کے بندوں کے سامنے ظاہر نہ ہو۔ لہذا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالی اس کو اپنے ماسوا سے بے نیاز فرما دے۔ اس کو اس کے ماسواے محتاج (خالی) ہو جانا چاہیئے ۔
حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ نے اپنے حزب کبیر میں فرمایا ہے : اے اللہ میں تجھ سے ماسوا سے خالی ہونا اور تیرے ساتھ بے نیازی طلب کرتا ہوں ۔ یہاں تک کہ تیرے سوا کچھ نہ دیکھوں۔
اور جو شخص یہ چاہتا ہے۔ کہ اللہ تعالی اس کو غیر فانی عزت عطافرمائے ۔ اس کو اللہ تعالی کے لئے ذلت اور تواضع کے ساتھ ، اس کی مخلوق کے درمیان موصوف ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جو شخص اپنے مرتبہ سے گر کر تواضع کرتا ہے۔ اللہ تعالی اس کے مرتبے کو اور زیادہ بلند کرتا ہے۔
اور جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو خرق عادات ( کرامات ) کی قدرت عطا فرمائے ۔ اس کو اپنی عاجزی سے موصوف ہونا اور اپنے اختیار و قوت کو ترک کر دینا چاہیئے ۔ اور جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو عبادت اور اس کے نفس اور اس کی خواہش سے
مجاہدہ کی طاقت عطا فرمائے ۔ اس کو اپنی کمزوری سے موصوف ہونا اور اپنے تمام معاملات کو اپنے آقائے حقیقی اللہ تعالی کے سپرد کر دینا چاہیئے ۔ اس لئے کہ تم جتنا دو گے ، اتنا ہی پاؤ گے ۔ اور جس قدر تم اپنے اندر عبودیت کے اخلاق پیدا کرو گے۔ اس قدر تم ان اخلاق سے موصوف ہوگے ۔ اور جتنا تم اپنی عبودیت کے اوصاف سے موصوف ہوں گے ۔ اتناہی اللہ تعالی تم کو اپنے اوصاف سے موصوف فرمائے گا۔
اور اس کے بارے میں میں نے کچھ اشعار کہے تھے ۔ وہ درج ذیل ہیں :
تَحَقَّقُ بِوَصْفِ الْفَقْرِ فِي كُلِّ لَحْظَةٍ فَمَا أَسْرَعَ الْغِنَى إِذَا صُحِحَ الْفَقْرُ
تم ہر لفظ محتاجی کے وصف سے موصوف رہو۔ کیونکہ اگر مختاجی درست کر لی جائے ۔ تو یہ سب سے بڑی بے نیازی ہے۔
وَإِن تُرِدْنَ بَسْطُ الْمَوَاهِبِ عَاجِلا فَفِي الفَاقَةِ رِيحَ الْمَوَاهِبِ يُنشَرُ
ور اگر تم فورا عطیات کی کشائش چاہتے ہو تو سمجھ لو ۔ کہ فاقہ میں عطیات کی خوشبو پھیلتی ہے۔
وَإِن تُرِدَنَ عِزًّا مَنیْعًا مُوَيَّدًا فَفِي الذُّلِ يَخْفَى الْعِزَّ بَلْ ثُمَّ يَظْهَرُ
اور اگر تم مضبوط اور تائید الہی رکھنے والی عزت چاہتے ہو۔ تو جان لو! کہ یہ عزت ، ذلت میں پوشیدہ ہے ۔ بلکہ ذات ہی میں ظاہر ہوتی ہے۔
وَإِنْ تُرِدَنُ رَفْعًا لِقَدْرِكَ عَالِيا فَفِي وَضْعِكَ النَّفْسَ الدَّنِيَّةَ يَحْضُرُ
اور اگر تم اپنے مرتبہ کو بلند کرنا چاہتے ہو ۔ تو تم یہ جان لو! کہ اپنے نفس کو پست و ذلیل کرنے ہی میں مرتبے کی بلندی حاضر ہوتی ہے۔
وَإِنْ تُرِدِ الْعِرْفَانَ فَافْنَ عَنِ الْوَرَى وَ عَنْ كُلَّ مَطْلُوبٍ سِوَى الْحَقِّ تَظْفُرُ
اور اگر تم عرفان چاہتے ہو۔ تو مخلوق سے اور اللہ تعالی کے سوا ہر مطلوب سے فنا ہو جاؤ۔ تم کامیاب ہو جاگے ۔
تَرَى الحَقََّ فيِ الْاَشَيَاء حِيْنَ تَلَطَّفَتْ فَفِي كُلِّ مَوْجُوْدٍ حَبِیْبَیْ ظَاهِرُ
جب اشیاء لطیف ہو کر غائب ہو جائیں گی۔ تو تم ان میں اللہ تعالی کو دیکھو گے ۔ کیونکہ ہر موجود میں میرا دوست ظاہر ہے۔
حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :-
عبودیت کی درستی اللہ تعالی کے لئے محتاجی اور کمزوری اور ذلت اختیار کرنے سے ہوتی ہے۔ اور اس کی ضد : ربوبیت کے اوصاف ہیں اور تم کو اس سے کیا نسبت ہے؟ تو تم اپنے اوصاف کو اپنے اوپر لازم کرو۔ اور اللہ تعالی کے اوصاف سے تعلق پیدا کرو۔
اور حقیقی محتاجی اختیار کر کے کہو :- اے بے نیاز اللہ ! تیرے سوا محتاج بندے کا کون ہے اور حقیقی کمزوری اختیار کر کے کہو ۔ اے طاقتور اللہ تیرے سوا کمزور بندے کا کون ہے اور حقیقی عا جزی اختیار کر کے کہو: اے قادر مطلق اللہ ! تیرے سوا عاجز بندے کا کون ہے اور حقیقی ذلت اختیار کر کے کہو :- اے عزیز ( رب العزت اللہ ) تیرے سوا ذلیل بندے کا کون ہے۔ جب تم ایسا کرو گے۔ تو قبولیت اس طرح تمہارے پاس آئے گی ۔ گویا کہ وہ تمہاری فرماں بردار ہے۔
اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ اللہ تعالی سے مدد چاہو اور صبر کرو ۔ بیشک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اور عبودیت کے وصف سے موصوف ہونا ، اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا ہے۔ جب تک بندہ اپنے مولائے حقیقی اللہ تعالی کے ان اوصاف سے تعلق نہ پیدا کرے۔ جو اس کی عبودیت کے اوصاف کی ضد ہیں۔ لہذا اپنی عاجزی اور محتاجی اور کمزوری میں اللہ تعالی کے سوا کسی سے التجا نہ کرے۔
منقول ہے :۔ ایک بادشاہ نے ایک فقیر سے کہا ۔ آپ کی جو کچھ حاجت ہو۔ میرے سامنے پیش کیجئے۔ فقیر نے اس کو جواب دیا- میں نے اپنی کل حاجتیں اس مقدس ذات کے سامنے پیش کی ہیں ۔ جو آپ سے زیادہ قدرت رکھنے والی ہے۔ تو اس نے ان میں سے میری جس حاجت کو پوری کر دیا۔ میں اس پر راضی ہوں۔ اور جس حاجت نے مجھ کو محروم کر دیا۔ میں اس پر بھی راضی ہوں۔ پھر بادشاہ نے اس سے کہا :- آپ کو مجھے سے کوئی بھی حاجت نہیں ہے؟ فقیر نے کہا ۔ ہاں ایک حاجت ہے۔ بادشاہ نے کہا: ۔ وہ کیا ہے؟ فقیر نے کہا ۔ وہ حاجت یہ ہے کہ آئندہ نہ آپ مجھ کودیکھیں۔ اور نہ میں آپ کو دیکھوں۔
اس کے متعلق ایک عارف کے یہ اشعار ہیں ۔ ۔
مَلَكْتُ نَفْسِي وَ كُنتُ عَبْدًا فَزَالَ رِقَى وَ طَابَ عَيْشِى
میں اپنے نفس کا مالک ہو گیا۔ حالانکہ پہلے میں اس کا غلام تھا۔ لیکن اب میری غلامی دور ہو گئی اور میری زندگی خوشگوار ہوگئی۔
أَصْبَحْتُ أَرضَى بِحُكْمِ رَبِّي إِنْ لَمْ أَكُنْ رَاضِبًا فَايْشِي
میں اپنے رب کے حکم پر راضی ہوں ۔ کیونکہ اس کے حکم پر راضی رہنے کے سوا میرے لئے کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔
پس یہی ربوبیت کے وصف سے تعلق پیدا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ عزت حاصل کرنی ہے۔ جس کی عزت فنا نہیں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:-
وَاللَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ اور عزت اللہ تعالی کے لئے اور اس کے رسول میں تعلیم کے لئے اور مومنوں کے لئے ہے۔
اور جو شخص اللہ تعالی کے ساتھ عزت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے سامنے ہرشے عاجز اور فرماں بردار ہو جاتی ہے۔
منقول ہے :۔ حضرت شیبان راعی رضی اللہ عنہ ، حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ کےساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے۔ دونوں حضرات ایک میدان میں جارہے تھے ۔ کہ اچانک ایک شیر ان کے سامنے آ گیا ۔ حضرت سفیان راستے سے الگ ہٹ گئے۔ اور حضرت شیبان راعی شیر کی طرف بڑھے اور اس کا کان پکڑ کر اینٹھنے لگے۔ اور شیر اپنی دُم ہلاتا رہا۔ پھر دم ہلاتے ہوئے واپس چلا گیا ۔ حضرت سفیان ثوری نے کہا:- اے شیبان ایہ کس طرح ہوا؟ حضرت شیبان نے فرمایا ۔ اگرآپ چاہتے تو میں اس پر سوار ہو کر مکہ معظمہ تک چلا جاتا۔
منقول ہے :- ایک بڑھیا عورت روزانہ حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ کے گھر آتی تھی اور ان کے گھر میں جھاڑو دیتی تھی اور ان کے لئے بازار سے کچھ کھانے کا سامان خرید لاتی تھی ۔ ان سے دریافت کیا گیا ۔ یہ کون ہے؟ حضرت نے جواب دیا ۔ یہ دنیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو میرا فرماں بردار بنا دیا ہے۔ کیونکہ میں نے دنیا کو ترک کر دیا ہے۔ اور اس سے متعلق یہ حدیث شریف ہے
يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لِلدُّنْيَا – ‌يَا ‌دُنْيَا ‌اخْدُمِي مَنْ خَدَمَنِي، وَأَتْعِبِي يَا دُنْيَا مَنْ خَدَمَكِ اللہ تعالیٰ دنیا سے فرماتا ہے ۔ اے دنیا ! جو شخص میری خدمت کرتا ہے تو اس کی خدمت کر اور جوشخص تیری خدمت کرتا ہے ۔ تو اس کو رنج اور محنت میں مبتلا کر۔
حضرت ابراہیم بن ادھم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :-
جو شخص فقیری چاہتا ہے اس کے سامنے توانگری آتی ہے اور جو شخص تونگری چاہتا ہے۔ اس کے سامنے محتاجی آتی ہے اور تونگری:- حقیقتا اللہ تعالی کے ساتھ متعلق ہو کر ہر شے سے بے نیاز ہو جانا ہے۔
حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :۔ جوشخص غیر اللہ کے سامنے جھک گیا۔ اس کو یقین کی خوشبو سو نگھنی نصیب نہیں ہوئی۔ حضرت ابو تراب نے فرمایا ہے :۔ میں نے ایک نو جوان کو ایک جنگل میں بغیر کچھ کھانے کے سامان کے چلتے دیکھا۔ میں نے اس سے کہا:- ایسے جنگل میں آپ سفر کر رہے ہیں۔ اور آپ کے پاس کھانے کا کچھ سامان نہیں ہے۔ اس نے کہا – میں اللہ تعالی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا ہوں ۔ تب میں نے اس سے کہا :- جب آپ کا یہ حال ہے۔ تو آپ جہاں چاہیئے تشریف لیجائیے۔
حضرت ابراہیم خواص نے فرمایا ہے :۔ ایک جنگل میں ایک درویش سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کہا ۔ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ۔ میں مکہ معظمہ جارہا ہوں ۔ میں نے اُن سے کہا:- آپ سواری اور زاد راہ کے بغیر جارہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ۔ جو اللہ تعالی آسمانوں اور زمینوں کو تھامے ہوئے ہے۔ اور ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ اس کو بغیر کسی وسیلے اور ذریعے کے میری روزی عاجز نہیں کر سکتی ہے۔ میں نے کہا:- آپ نے بالکل سچ فرمایا ۔ پھر اس کے بعد میں نے ان کو مکہ معظمہ میں دیکھا۔ کہ طواف کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں :-
يَا عَيْنُ سُحِّى اَبَدًا يَا نَفْسُ مُونتي كَمَدًا
اے آنکھ ہمیشہ روتی رہ ۔ اے نفس غم سے مرجا وَ
لَا تُحبِى أَحَدًا إِلَّا الإلهُ الصَّمَدا
اور تو کسی سے محبت نہ کر ۔ مگر صرف اس اللہ تعالی سے جو بے نیاز ہے۔
جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھ سے فرمایا ۔
کیا ا ب تک آپ کا یقین کمزور ہے؟ میں نے کہا: نہیں بلکہ مجھ کو یہ یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ہرشے پر قادر ہے۔
یہاں انیسواں باب ختم ہوا۔
خلاصہ
اس باب کا حاصل :- یہ ہے کہ اکثر اوقات ادب:- عارفین کی رہنمائی اس بات کی طرف کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ نہ مانگیں اور اس کے علم کو کافی سمجھیں ۔ اس لئے کہ یاد دہانی غافل کو اور تنبیہ بھولنے والے کو کی جاتی ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالی کی شان غفلت اور بھول سے بالکل پاک صاف اور بہت بلند ہے۔ لہذا جب ان کے اوپر فاقہ یاسختی نازل ہوتی ہے ۔ تو وہ اس کے دور ہونے کے لئے دعا نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ وہ اس سے خوش ہوتے ہیں ۔ اور اس کو حج اور عید کی خوشی کی طرح سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اس میں ان کو ترقی حاصل ہوتی ہے۔ اور ان کے قلوب پر تو حید اور تفرید کی ہوا چلتی ہے۔ اور وہ عطیات ربانی اور علوم لدنی ہیں ۔ پھر وہ اپنی عبودیت کے اوصاف سے موصوف ہو جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالی ان کو اپنے اوصاف سے آراستہ فرماتا ہے۔ تو وہ ظاہر میں بندے اور باطن میں آزاد۔ ظاہر میں محتاج، کمزور اور ذلیل اور باطن میں تونگر ، طاقتور اور عزت والے ہو جاتے ہیں اور یہی کرامت عظمی ( بڑی کرامت ) ہے ۔ نہ کہ محسوس ظاہری کرامت۔ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے کرامت ہی کا بیان بیسویں باب کی ابتدا میں بیان فرمایا ہے


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں