غناء اور محتاجی (مناجات 01)

یہ پہلی دعا ہے کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ کی جوتالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔

پہلی مناجات
حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے فرمایا :-
إِلٰهِيْ أَنَا الْفَقِيرُ فِي غِنَائِي فَكَيْفَ لَا أَكُونُ فَقِيرًا فِي فَقْرِىْ
اے میرے اللہ ! جب میں اپنی غنا ( دولتمندی) کی حالت میں محتاج ہوں، تو میں اپنی محتاجی کی حالت میں کیسے محتاج نہ ہوں گا ؟
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں ۔ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنی مناجات محتاجی ثابت کرنے کے ساتھ شروع کی کیونکہ اس کے بعد غنا جلدی ہی آتی ہے اور میں نے اس کو اپنے ایک قصیدے میں بیان کیا ہے۔
تَحَقَّقْ بِوَصْفِ الْفَقْرِ فِي كُلِّؔ لَحْظَةٍ فَمَا أَسْرَعَ الاُغْنٰى إِذَا صُحِحَ الْفَقْرُ
تم ہرلمحہ محتاجی کے وصف کے ساتھ ثابت قدمی سے قائم رہو کیونکہ جب محتاجی درست ہو جاتی ہے تو غنا بہت جلدی آتی ہے حضرت شیخ ابو عثمان نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا ہے۔
اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً تم لوگ اپنے رب سے عاجزی اور پوشیدگی کے ساتھ دعا کرو ۔
تضرع یہ ہے کہ تم اپنی محتاجی اور اپنی عاجزی اور اپنا عیب اور اپنی ضرورت اور اپنے اختیار اور قوت کی کمی کو سامنے رکھو، اور تضرع زبان سے ظاہر کرنا نہیں ہے اور نہ عبادتوں کا ظا ہر کرنا ہے۔
۔ جب میں اپنی وہمی اور ادعائی غنا کی حالت میں محتاج ہوتا ہوں تو میں اپنی حقیقی اور اصلی محتا جی کی حالت میں کیوں محتاج نہ ہوں گا؟
کیونکہ میری غنا ظاہری اسباب کی موافقت سے ہے اور اس کا وجو د میری ذات سے نہیں ہے اور اس کا باقی رہنا میرے اختیار میں نہیں ہے لہذا میں اس کے موجود ہونے کی حالت میں محتاج ہوں تو میں اس کے موجود نہ ہونے کی حالت میں کیسے محتاج نہ ہوں گا؟
:۔ میں اپنی زندگی کی اس حالت میں جبکہ میرے خاندان اور احباب کے ساتھ میری غنا کی صورت ظاہر ہے محتاج ہوں۔ تو میں اپنی موت کے بعد جبکہ میرے احباب اور خاندان جدا ہو جائیں گے، کیسے محتاج نہ ہوں گا ؟ یا جب میں تیرے ساتھ اپنی غنا کی حالت میں محتاج ہوں کیونکہ تیری مدد کی زیادتی سے میں بے نیاز نہیں ہوں، (یعنی میں تیری مزیدمدد کا ہر وقت محتاج ہوں اور یہ مفہوم ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک عارف شاعر نے فرمایا ہے۔
آنَا الْفَقِيرُ إِلَيْكُمْ وَالْغَنِيُّ بِكُمْ وَلَيسَ لِي بَعْدَ كُمْ حِرْصٌ عَلَى أَحَدٍ
میں تمہارے سامنے محتاج ہوں اور تمہارے ساتھ غنی ہوں اور تمہار ے سو ی مجھ کو کسی شے کی حرص نہیں ہے۔ تو میں تیرے سامنے اپنی محتاجی کی حالت میں کیسے محتاج نہ ہوں گا؟ یعنی جب میں تیرے ساتھ اپنی غنا د یکھنے کے حال میں محتاج ہوں تو میں تیرے سامنے اپنی محتاجی دیکھنے کے حال میں کیسے محتاج نہ ہوں گا؟
ایک عارف شاعر نے فرمایا ہے۔
إنِّى إِلَيْكَ مَعَ الْأَنْفَاسِ مُحْتَاجُ لَوْ كَانَ في مَفْرَقِي الإِكْلِيْلُ والتَّاجُ
میں ہر سانس کے ساتھ تیرے سامنے محتاج ہوں اگر چہ میرے سر پر شاہی تاج ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجیاں ظاہر کرنے اور اس کے ماسوی سے اپنی ہمت کو اٹھا کر اپنے مولا کے حقیقی کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے میں اللہ تعالیٰ کے پاس ایسے فوائد اور عزت اور مرتبے کی اتنی بلندی حاصل ہوتی ہے جس کے بیان سے زبان گونگی ہوتی ہے اور اس کے برداشت سے وسیع قلب عاجزہوتا ہے۔ حضرت سہیل بن عبداللہ نے فرمایا ہے ۔ جب بندہ دعا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاج ظاہر کرتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہے۔ لبیک لیکن بندہ اللہ تعالیٰ کے لبیک کہنے کوسننے کی طا قت نہیں رکھتا ہے۔ اور بعض نازل شدہ آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ کلام ہےاللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ اپنی حاجت میری مخلوق کو چھوڑ کر میرے سامنے پیش کرتا ہے ، حالانکہ میں اس کی نیت سے زیادہ اس کی حاجت کا علم رکھتا ہوں ۔ تو اگر چہ ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمین اس کے ساتھ مکر و فریب کریں لیکن میں اس کیلئے اس کے معاملے سے نکلنے کا اور اس کی کشادگی کا راستہ پیدا کر دیتا ہوں، (یا جیسا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہو )
حضرت ابو القاسم قشیری نے فرمایا ہے ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پھر اپنی حاجتیں غیر اللہ کے سامنے پیش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کا محتاج بنا دیتا ہے۔ پھر اس کیلئے مخلوق کے قلوب سے ہمدردی اور رحمت نکال دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کا مقام دیکھتا ہے اور اپنی حاجتیں اسی کے سامنے پیش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے طریقے پر غنی کرتا ہے جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا ہے اور ایسی جگہ سےاس کو عطا کرتا ہے جہاں سے ملنے کی اس کو امید بھی نہیں ہوتی ہے۔
ایک عارف سے دریافت کیا گیا: کیا بندہ روزی کو تلاش کرے ؟ انہوں نے جواب دیا ۔ ہاں
اگر اس کو معلوم ہو کہ وہ کہاں ہے۔ تو اس کو تلاش کرنی چاہیئے ۔
پھر ان سے دریافت کیا گیا ۔ کیا بندہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ، اگر اس کو اللہ تعالیٰ کے متعلق شک ہو، تو اس کو آزمائش کرنی چاہیئے ۔
پھر ان سے دریافت کیا گیا۔ کیا بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں اگراس کو یہ علم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھول گیا ہے، تو اس کو یاد دہانی کرانی چاہیئے ۔
پھر ان سے دریافت کیا گیا :- بندہ پھر کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا ۔ بندہ وہی کرے جواللہ تعالیٰ نے اس کو حکم دیا ہے۔
لہذا بندہ کو اپنے رب تعالیٰ پر کامل اعتما در کھنا چاہیئے اور اس نے اس کو جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل میں اس کو مشغول رہنا چاہیئے اور اس کو ایسا ہو جانا چاہیئے جیسا کہ بہلول دیوانے نے فرمایا ہے ۔ ہم اسی طرح اس کی عبادت کرتے ہیں جس طرح اس نے ہم کو حکم دیا ہے اور وہ ہم کو اسی طرح روزی دیتا ہے جس طرح اس نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔
اور اپنے قلب اور جسم کے مخلوق کے ساتھ بالکل تعلق نہ رکھنا چاہیئے اور ان خطروں اور وسوسوں کو مٹا دینا چاہیئے جو مخلوق سے تعلق کی بنا پر اس کے قلب میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ وسوسے اس کے قلب میں مضبوطی سے قائم ہو جا ئیں، پھر وہ محرومی کا شکار ہو کر بد نصیبی اور رسوائی میں مبتلا ہو جائے۔
ایک عجیب حکایت
حضرت ابراہیم خواص نے فرمایا ہے:۔ میں جنگل و میدان میں حیران وسرگرداں پھر رہا تھا ، یہاں تک کہ حال نے مجھ کو پریشان کر دیا میں نے کتے کے رونے کی آواز سنی ۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کی طرف چلا۔ اچانک میری ملاقات ایک چور سے ہوئی ، اس نے میری گردن میں گھونسہ مارا، میں نے اپنے دل میں کہا: جو شخص مخلوق پر بھروسہ کرتا ہے اس کا یہی حال ہوتا ہے تو مجھ سے میرے سر میں کہا گیا:- اے ابراہیم جب تک تو میری حفاظت و نگرانی میں تھا اس وقت تک تو عزیز تھا۔ لیکن جب تو کتے کی حمایت میں چلا گیا تو تیرے اوپر مخلوق مسلط ہوگئی ۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے تو بہ کی تو اب میں نے یہ دیکھا کہ وہ شخص جس نے مجھ کو گھونسہ مارا تھا وہ ایک طرف گر گیا اور اس کا سراڑگیا ہے۔
ایک عارف کے اشعار ہیں :-
مَدَدْتُ یَدِى أَرْجُونَوَالًا وَرَحْمَةٌ وَمَالِىْ شَفِيعٌ غَيْرَ جُودِكَ وَالرَّجَا
فَجُدْلِي بِعَوْفٍ مِنكَ وَارْحَمُ تَذَلُّلِى فَاَنْتَ الَّذِي أَعْطَيْتَنِي الْفَقْرَ وَاللَّجا
میں نے بخشش اور رحمت کی امید کر کے اپنا ہاتھ پھیلایا، اور تیری بخشش اور امید کے سوا میراکوئی شفیع نہیں ہے
لہذا تو اپنی معافی سے میرے لیے بخشش کر ، اور میری ذلت و عاجزی پر رحم فرما۔ کیونکہ تو نے ہی مجھ کو محتا جی اور پناہ عطا فرمائی ہے
پس محتاجی اور جہالت عبودیت کے اوصاف میں سے ہے جیسا کہ غنا اور علم ربوبیت کے اوصاف میں سے ہے ۔ لہذا جب اپنی محتاجی اپنے مولائے حقیقی کی غنا کے سامنے پیش کی تو اب اپنی جہالت کو اپنے مولائے حقیقی کے علم کی وسعت کے سامنے پیش کیا۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں