قلب مومن کی وسعت

قلب مومن کی وسعت

اس حدیث قدسی کے متعلق سوال کیاگیا کہ ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے

لَا يَسَعُنِي أَرْضِي، وَلَا سَمَائِي، وَلَكِنْ يَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ

میں نہ زمین میں سماتا ہوں نہ آسمان میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں

یہ حقیقت ہے کہ اس حدیث کو عام محدثین نے اپنی کتب میں نقل نہ کیا شاید اس کی سند کمزور ہو یا ان کے ابواب میں اس کی جگہ نہ ہو لیکن سلوک و تصوف سے جس کا بھی تھوڑا بہت واسطہ ہوا اس نے اس حدیث کو حدیث قدسی کے طور پر شامل کیا اور تقریباً 50سے زائد بار مختلف کتابوں میں یہ حدیث ملتی ہے بعض احباء کی تسلی کیلئے اس کی وضاحت پیش خدمت ہے ۔مندرجہ ذیل حوالہ جات دیکھے جا سکتے ہیں ۔

  1. علامہ شہاب الدین آلوسی نے تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں 5جگہوں پر اس حدیث کو لکھا ۔

  2. علامہ اسماعیل حقی نے تفسیر ’’روح البیان‘‘ میں 6مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی اسی کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ محبین کاقلب ﷲ کے جمال کا آئینہ ہوتا ہے ۔

  3. ابو العباس ابن عجیبہ نے تفسیر ’’البحر المدید‘‘میں بھی 7جگہوں پر ا س کو روایت کیا

  4. تفسیر’’ النیشاپوری‘‘میں 7بار اس حدیث کو بیان کیا گیا ۔

  5. امام غزالیؒ نے’’ احیاء العلوم الدین‘‘ میں بیان معنی النفس والروح والقلب والعقل میں ذکر کیا اور ساتھ ہی عبدا ﷲ ابن عمر کی یہ روایت بھی بیان کی کہ آقا نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا یا رسول ﷲ ﷲ تعالیٰ کہاں ہے زمین میں یا آسمان میں تو فرمایا (فی قلوب عبادہ المومنین)اپنے مومن بندوں کے دلوں میں۔(اورامام ابو القاسم القشیری نے ’’رسالہ قشیریہ‘‘ جزء الثانی باب الفتوۃ میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیایا رب این تسکن؟اے میرے پروردگار آپ کی سکونت کہاں ہے فاوحی اﷲ تعالیٰ الیہ فی قلب عبد المومن تو ﷲ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی بندہ مومن کے دل میں )

  6. شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی نے’’ فتوحات مکیہ‘‘ میں 10مرتبہ حدیث ذکر کی ۔

  7. ابو طالب مکی نے’’ قوت القلوب‘‘ میں2بار حدیث نقل کی

  8. علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب ’’المنثور ‘‘ 2باراس حدیث کی طرف اشارہ کیا اور(ومتی رمت طلبی فاطلبنی بقلبک)اور جب میری طلب ہو تو اپنے دل میں ڈھونڈویہ اس حدیث کی دلیل میں بیان کیا

  9. ابو العباس ابن عجیبہ نے’’ ایقاظ الھمم شرح متن الحکم‘‘ میں 2مرتبہ حدیث نقل فرمائی۔

  10. ابن رجب نے’’ اسباب المغفرۃ‘‘ میں التوحید یطہر القلب کے باب میں حدیث کے طور پر نقل کیا اور’’ جامع العلوم والحکم‘‘ میں اسرائیلی روایت کے طور پر بیان کیا

  11. شیخ محمد السفارینی نے ابن قیم سے’’ غذاء لالباب فی شرح منظومۃ الآداب‘‘ میں لکھی۔

  12. ’’مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ‘‘ میں ایک جگہ پروفی حدیث ماثور اور دوسری جگہ اسرائیلیات میں شمار کیا۔

  13. اورانہی’’ ابن تیمیہ نے’’ الفتاوٰی الکبریٰ‘‘ میں بطور حدیث بیان کیا اور لکھا لیس لہ اسناد معروف عن النبی ﷺ

  14. ’’شرح النیل وشفا ء العلیل‘‘ میں محمد بن یوسف اطفیش نے اسے بطور حدیث نقل کیا ہے ۔

  15. علامہ خیر الدین الزرکلی نے ’’الاعلام الزرکلی ‘‘الجزء 4میں بیان کی ۔

  16. ابو علی الحسن بن الیوسی ’’المحاضرات فی اللغہ والادب‘‘میں اسے ذکر کیا ۔

  17. شیخ عزالدین عبد السلام نے ’’حل الرموز و مفاتیح الکنوز‘‘ کے نام سے بھی ایک کتاب اسی حدیث کے ضمن میں لکھی ہے ۔

  18. کشف الظنون میں ہے کہ اس حدیث کے معانی پر عبد الکریم بن ابراہیم الگیلانی نے ’’لوامع البرق الموھن ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی۔

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ  فرماتے ہیں:

دل دریا سمندروں ڈُونگھے، کون دِلاں دیاں جانے ہُو

وچے بیڑے وچے جھیڑے، وچے ونجھ مہانے ہُو

چوداں طبق دِلے دے اندر، جتھے عشق تمبو ونج تانے ہُو

جو دل دا محرم ہووے باہو، سوئی رب پچھانے ہُو


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں