چھتیسواں مراقبہ:نیت مراقبہ لا تعین

نیت مراقبہ لا تعین

 فیض می آید از ذات مطلق بیچون کہ موجود است بوجود خارجی و منزہ است از جمیع تعینات بہ ہیئت  وحدانی من بواسطہ پیران کبار رحمۃاللہ علیہم اجمعین

ذات مطلق  باری تعالیٰ  کی طرف سے  جووجود خارجی کے ساتھ موجود اور تمام  تعینات سے مبراء ہے عظیم مرشدین گرامی   اللہ تعالیٰ ان پر رحمتیں نازل فرمائےکے وسیلہ جلیلہ  سے  میری   ہیئت وحدانی  میں فیض  آتا ہے۔

تشریح

یہ مراقبہ لاتعین ہے۔ لاتعین مرتبہ ذات محبت سے عبارت ہے۔ یہ مقام بھی حضور سرور کائنات ﷺ سے مخصوص ہے۔ اور یہ سیرصفات ثمانیہ، ان کے وصول اور ذات محبت میں ہوتی ہے۔

یہاں سیر قدمی کی گنجائش نہیں اگر کسی پر فضل الہی ہو جائے تو سیر نظری میسر ہو گی یہ مقام بھی حضور کے خصائص میں سے ہے

لى مع الله وقت لا يسعنى فيه ملك مقرب ولا نبى مرسل (اللہ تعالی کے ساتھ میرا ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی فرشتہ  مقرب اورنبی مرسل کودخل نہیں اسی طرف اشارہ ہے حضور ﷺ کے طفیل بعض ۤپ کے امتیوں کو بھی اس خوان نعمت سے الش عطا ہوا ہے

اگر پادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ  سبلت مکن

 ترجمہ: اگر بڑھیا کے در پر آئے سلطان تو اے خواجہ نہ ہو ہرگز پریشان

اس سے حضور ﷺ کی عظمت نمایا ں ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺکے نمک خوار اور الش خوار بھی اس دولت سےمشرف ہوتے ہیں

یہ وہ مقام ہے جو بے نام و نشان اور بے وہم و گمان ہے ۔ اس مقام میں صرف ذات مطلق کی خاص تجلی جلوہ گر ہوتی ہے۔ بلکہ یہ مقام ذات بحت ہی کے لیے مختص ہے اور امت محمدیﷺ کے اولیائے کاملین کو اتباع نبویﷺ کے باعث یہاں سیر نظری نصیب ہوتی ہے۔ کیونکہ سیر قدمی روحانی کی ممانعت ہے اس لیے سیر نظری روحانی کی اجازت ہے۔ چونکہ ذات جل شانہ کی کوئی انتہا نہیں اور بیچاری نظر محدود ہونے کے سبب حیران و سرگرداں ہے ۔ یہ مقام خاص حضور سید الکونین ﷺ کے لیے مخصوص ہے ۔

اس مقام میں اس طرح مراقبہ کرتے ہیں کہ اس ذات سے فیض آ تا ہے ۔ جوتعینات سے مبرا ومنزہ ہے۔ پیرومرشد کے واسطے سے میری ہیئت وحدانی پرفیض آ رہا ہے ۔ سالک کو اس مقام سے جوفیض حاصل ہوتا ہے ۔ وہ فہم وفراست سے بالاتر ہے ۔ جب سالک کے لطائف سبعہ کا تزکیہ ہو جائے اور اس کے جسم نے روح کی مماثلت اختیار کر لی ہو اور ایک وجود سے مشرف ہو گیا ہوتو جناب رسول اللہﷺ کی کامل اتباع اور حضرت پیرومرشد کی توجہات بابرکات کے باعث ایک حد تک فیض لاتعین کے شرف سے مشرف ہوتا ہے ۔ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقام لاتعین وہ مقام محبت ہے جس میں اللہ تعالی صرف اپنی ذات سے محبت کرتا ہے ۔ اس مقام کے اعتبار سے وہ: إن الله لغنى، عن العالمين ترجمہ یعنی اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے غنی ہے۔

یہی کبریائی اور استغنا کا منشاء و مدعا ہے ۔اس کمال بے نیازی سے تمام مقر بین بارگاہ ذو الجلال میں ہمہ وقت لرزاں وتر ساں رہتے ہیں ۔ سب درگاہ جلالت میں فضل و کرم کی امید پر سر تعلیم خم کیسے ہوئے ہیں ۔ بلکہ محبوب خدا ﷺ بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں آپ کا بندہ ہوں آپ کے بندہ اور بندی کا بیٹا ہوں اور میری جان آپ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ اس طرح ذات لاتعین سے کسب فیض کر کے سالک اپنے آپ کو ان انوارات و تجلیات کے پرتو کی وجہ سے کائنات عالم میں لاتعین محسوس کرتا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں