کہاں تم کہاں قرب خدا(تیئسواں باب)

کہاں تم کہاں قرب خدا کے عنوان سےتیئسویں باب میں  حکمت نمبر 214 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
بعض اصطلاحات میں سے :- قرب اور استشراف (آگاہی ) اور مراقبہ ہیں ۔ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے قرب کے معنی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:-
214) قُرْبُكَ مِنْهُ أَنْ تَكُونَ مُشَاهِداً لِقُرْبِهِ ، وَإِلا فَمِنْ أَيْنَ أَنْتَ وَوُجُودُ قُرْبِهِ.
اللہ تعالیٰ سے تمہارے قرب کے معنی یہ ہیں کہ تم اس کے قرب کا مشاہدہ کر رہے ہو ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تم کہاں اور اس کا قرب کہاں ؟ چه نسبت خاک را با عالم پاک۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں :۔ جب تم نے اس حقیقت کو معلوم کر لیا ، کہ مخلوق اللہ تعالیٰ کے اثبات کے ساتھ ثابت ہے اور اس کی ذات کی احدیت کے ساتھ فنا ہے۔ تو تم نے علم یقین سے یہ جان لیا کہ کائنات اور مکان و زمان کا وجود نہیں اور یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا وجود تنہا تھا۔ اور اس کے ساتھ زمان و مکان نہیں تھا۔ اسی طرح وہ اب بھی ہے۔ اس کے ساتھ زمان و مکان نہیں ہے ۔ اس کی احدیت کے نور نے کائنات کو مٹا دیا ہے۔ لہذا اس کے وجود سے زمان و مکان ختم ہو گئے ۔ اور صرف اللہ واحد منان باقی رہ گیا۔
بخاری شریف میں حضرت رسول اللہ ﷺ نے روایت کی ہے۔
يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى – يَسُبُّ ابْنُ ادَمَ الدَّهْرَ وَ أَنَا الدَّهْرُ بِيَدِى اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔ آدمی زمانہ کو برا کہتا ہے۔ حالانکہ زمانہ میں ہوں ۔ میرے ہی قبضے میں رات اور دن ہیں۔
لہذا حقیقی وجود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کے لئے ہے۔ اور اس کی صفات کے اثر کے لئے ، جو ظا ہر ہوا، اور ان اشیاء میں پوشیدہ ہو گیا ، جو ظا ہر ہوئیں۔ لہذا جب تم کو یہ معلوم ہو گیا۔ تو تم کو یہ معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ہرشے سے قریب ہے اور ہرشے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اور اس کے سوا کوئی شے موجود نہیں ہے۔
ليسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ اس کے مثل کوئی شے نہیں ہے۔
لیکن حکیم مطلق کی حکمت نے حادث اور قدیم کو قائم کیا اور جس شخص کی بصیرت کی آنکھ اللہ تعالیٰ نے کھول دی ، وہ اس کے وجود کے سامنے اپنے وجود کو عدم دیکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کو گھیرے ہوئے اور اس کے وجود کو فنا کرنے والا ہے اور جس شخص کی بصیرت کی آنکھ اللہ تعالیٰ نے اندھی کر دی۔ وہ فرق کے سوا کچھ نہیں دیکھتا ہے۔ اور دوری کے سوا کچھ نہیں پاتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کو اپنے قریب کرنا چاہتا ہے، تو اس کی بصیرت کی شعاع کو کھول دیتا ہے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب اور اپنے کو گھیرے ہوئے دیکھتا ہے۔ روایت ہے:۔ حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ نے ایک روز اپنے شیخ کے سامنے کہا ۔
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَوْمَ لِقَائِكَ اے اللہ ! تو اپنی ملاقات کے دن مجھ کو معاف کر دے۔
ان کے شیخ نے فرمایا اللہ تمہاری رات اور تمہارے دن سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے لیکن ظلم نے ظلمت کو واجب کیا اور قضا و قدر پہلے ہی فیصلہ کر چکا ہے۔ محبت کے درجوں اور وصال کے مقاموں سے دور ہونے کا حکم دیا۔ اور ظالم کے لئے وہ دن مقرر ہے۔ جس دن وہ شک نہ کر سکے گا۔ نہ کوئی تدبیر کر سکے گا۔ اور سابق حال میں آجائے گا۔
اسمِعُ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَاتُونَنَا لَكِنِ الظَّلِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ جس روز وہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے اس روز وہ اپنے ظلم اور اس کے انجام کوسنیں گے ۔ اور دیکھیں گے۔ لیکن آج اس دنیا میں یہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں
لہذا اللہ تعالیٰ سے تمہارے قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کو وجود اور احاطہ کے قرب کے حیثیت سے ، اپنے قریب مشاہدہ کرتے ہو ۔ اور یہ اس وقت حاصل ہوتا ہے۔ جبکہ تمہارا عالم لطیف اور تمہارے حس کا دائرہ فنا ہو جاتا ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے تمہارا قرب ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ اور جب ہم نے تم سے کہا، بیشک تمہارا رب لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا أوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلَّ شَيْءٍ شَهِيدٌ کیا تم اپنے رب کو کافی نہیں سمجھتے ہو ۔ حالانکہ وہ ہرشے کا دیکھنے والا ہے۔ لیکن اگر تمہارا یہ اعتقاد نہیں ہے۔ بلکہ تم اپنے نفس کے موجود ہونے اور اپنے وہمی حس کے ثابت ہونے کا یقین رکھتے ہو۔ تو تم صرف دوری دیکھو گے۔ کیونکہ کہاں تم اور تمہارا محسوس قرب اور کہاں اللہ تعالیٰ کا لطیف نور کیسے ممکن ہے کہ تم اس کو محسوس آنکھ سے دیکھ سکو لہذا جب تک تم عالم اجسام میں ہو۔ عالم ارواح سے قریب ہونے کی حالت میں بھی اس سے دور ہو گئے ۔ جیسا کہ ایک عارف نے اس حقیقت کو اشعار میں بیان فرمایا ہے ۔
وَ مِنْ عَجَبٍ أَنِّي أَحِنَّ إِلَيْهِمُ وَ أَسْأَلُ شَوْقًا عَنْهُمْ وَهُمْ مَعِي
تعجب ہے کہ میں ان کا مشتاق ہوں اور ان کے بارے میں بڑے شوق سے دریافت کرتا ہوں۔حالانکہ وہ میرے ساتھ ہیں۔
وَتَبْكِيْهِمْ عَيْنِى وَهُمْ بِسَوَادِهَا وَيَشْكُو النَّوَى قَلْبِي وَهُمْ بَيْنَ أَضْلعي
میری آنکھ ان کے لئے روتی ہے ۔ حالانکہ وہ میری آنکھ کی پتلی ہی میں ہیں اور میرا قلب جدائی کی شکایت کرتا ہے۔ حالانکہ وہ میری پسلیوں کے درمیان ہیں۔
وہ اللہ تعالیٰ پاک ہے، جو کچھ لوگوں سے ان کے قریب ہونے کی حالت میں بھی دور ہے۔ اور کچھ لوگوں سے ان کی دوری کے بغیر قریب ہے۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے قول شعاع البصیرت کے بیان میں جو تشریح میں نے پہلے کی ہے۔ تم اس کو پھر غور سے پڑھو۔ تو اس مسئلے کی حقیقت بخوبی تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ اور اس حکمت یعنی قرب کا حق یہ ہے کہ اس کو وصول سے پہلے بیان کیا جائے کیونکہ قرب.وصول سے پہلے ہوتا ہے اور اس وجہ سے بھی قرب کا بیان پہلے ہونا چاہیئے ۔ کہ وصول کے بیان کے بعد ترتیب کے لحاظ سے واردات کا بیان درست ہوتا ہے۔والله تعالیٰ اعلم
حضرت شیخ زروق رضی اللہ عنہ نے اس حکمت کی شرح میں فرمایا ہے :۔ قرب کی تین قسمیں ہیں:۔
ایک قسم ، قرب کرامت :۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کو اس طریقے پر قریب کرنا ہے۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے قریب مشاہدہ کرے۔ پھر وہ اس کے ماسوا کو ترک کر کے اسی سے محبت کرے۔
دوسری قسم قرب احاطہ :- اور وہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت اور ارادہ اور عام تصرف کا ، ہرشے کو گھیرے ہوئے دیکھنا ہے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے سے قریب ہونا ہے۔
تیسری قسم ، قرب مناسبت و مسافت : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ قرب ممکن اور درست نہیں ہے۔ کیونکہ مسافت اس کے لئے محال ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے بندے کی مناسبت ناممکن ہے۔
لہذا مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے مقدر کلام سے مراد یہ ہے :-
قرُبُكَ مِنْهُ عَلى وَجْهِ الْكَرَامَةِ أَنْ تَكُونَ مُشَاهِدًا لِقُرْبِهِ مِنْكَ عَلَى وَجْهِ الْإِحَاطَةِ وَإِلَّا فَمِنْ أَيْنَ أَنتَ وَوُجُودِ قُرْبِهِ عَلَى وَجْهِ التَّناسُبِ وَالْمَسَافَةِ اللہ تعالیٰ سے تمہارا قرب، کرامت کے طریقے پر اس طرح ہے کہ تم اپنے سے اللہ تعالیٰ کے قرب کو احاطہ کے طریقے پر مشاہدہ کر رہے ہو۔ ورنہ تناسب اور مسافت کے طریقے پر تم کہاں اور اللہ تعالیٰ کا قرب کہاں؟ میں نے اس مضمون کو اس لئے نقل کیا ہے کہ مجھے معلوم ہے۔ کہ اس کتاب کا مطالعہ وہ لوگ بھی کریں گے جو علوم سے بخوبی واقف ہیں اور وہ لوگ بھی اس کا مطالعہ کریں گے ، جو علوم سے بخوبی واقف نہیں ہیں۔ تو جب وہ سمندر میں ڈوبنے سے ڈریں گے ، تو وہ ایک جزیرہ پا جائیں گے۔ ، جس میں وہ پناہ لیں گے۔وبالله التوفيق
اور جو شخص قرب اور وصول کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کے اوپر عرفانی حقیقتیں اورر بانی اسرار اور لد نی علوم وارد ہوتے ہیں۔ کبھی وہ مجمل طریقے پر وارد ہوتے ہیں۔ بعد میں ان کی تفصیل ظاہر کی جاتی ہے۔ اور کبھی وہ مفصل طریقے پر وارد ہوتے ہیں ۔ اور مفصل واردات اکثر اہل تمکین پر وارد ہوتے ہیں۔ اور اکثر یہ واردات فتح اور وصول کے بعد ہی وارد ہوتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے کہاہے۔ اگر مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) پہلے قرب کے مقام کو بیان کرتے اس کے بعد وصول کے مقام کو بیان کرتے ، تو بہتر ہوتا۔ تا کہ واردات کا بیان اس کے قریب ہو کر ترتیب درست ہو جاتی ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں