<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	
	>
<channel>
	<title>
	Comments on: حضرات خمسہ	</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%A7%D8%AA-%D8%AE%D9%85%D8%B3%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Thu, 08 Aug 2024 07:01:04 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>
	<item>
		<title>
		By: fazal		</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%ae%d9%85%d8%b3%db%81/#comment-1309</link>

		<dc:creator><![CDATA[fazal]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Jan 2024 16:12:39 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8825#comment-1309</guid>

					<description><![CDATA[*لغزش کی سات قسمیں*
حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الہی قدس سرہ نے سلوک کی راہ کی لغزش کی سات قسمیں بیان فرمائیں۔ 

اعراض، حجاب، تفاصل، سلب مزید، سلب قدیم، تسلی اور عداوت۔

ان قسموں کی تمثیل اور تفصیل میں فرمایا کہ (جیسے) دو دوست ہوں، عاشق اور معشوق۔ ایک دوسرے کی محبت میں ڈوبے ہوئے۔ اس دوران اگر عاشق سے کوئی حرکت یا کام یا بات یا فعل ایسا ہوجائے جو اس کے دوست کی پسند کا نہ ہو تو وہ دوست اس سے *اعراض* کرتا ہے۔ یعنی منہ موڑ لیتا ہے۔ پس عاشق پر واجب ہے کہ اسی وقت استغفار میں مشغول ہوجائے اور معذرت چاہے اور یقیناً اس کا دوست اس سے راضی ہو جائے گا۔ تھوڑی سی بے توجہی جو ہوئی تھی جاتی رہے گی۔ 
اور اگر وہ محبت کرنے والا اس خطا پر اصرار کرے گا اور عذر پیش نہیں کرے گا، تو وہ اعراض *حجاب* تک پہنچ جائے گا۔ معشوق ایک حجاب (پردہ) درمیان میں لے آئے گا۔ جیسے ہی خواجہ نظام الدین حجاب کی تمثيل میں اس بات پر پہنچے،  ہاتھ اونچا کیا اور آستین چہرہ مبارک کے سامنے کرلی اور فرمایا کہ مثلاً. اس طرح محب اور محبوب کے درمیان ہوجائے گا۔ پس محب (عاشق) پر واجب ہوگا کہ معذرت کی کوشش میں رہے اور توبہ کرے۔ اور اگر اس معاملے میں سستی کرے گا تو وہ حجاب *تفاصل* میں بدل جائے گا۔ کیا ہوگا؟ یہ کہ وہ دوست اس سے جدائی اختیار کرلے گا۔
پس شروع میں اعراض سے زیادہ نہیں تھا۔ چونکہ معافی نہیں چاہی حجاب ہو گیا اور جب اس نا پسندیدگی پر اڑا رہا تو تفاصل ہو گیا (دوری ہو گئی)۔  اگر اس کے بعد بھی وہ دوست معافی نہ مانگے تو *سلب مزید* واقع ہوگا۔ یعنی اس کے اوراد اور طاعت و عبادت کے ذوق میں جو بڑھت تھی وہ واپس لے لی جائے گی۔
پس اگر اس پر بھی عذر نہ کرے اور اس ہٹ دھرمی پر جما رہے تو *سلب قدیم* ہوگا کہ وہ طاعت اور وہ راحت جو &quot;مزید&quot; (بڑھوتری) سے پہلے میسر تھی وہ بھی چھین جائے گی۔ پس اگر یہاں بھی توبہ میں کسر رہ جائے تو اس کے بعد *تسلّی* ہوگی۔
تسلی کسے کہتے ہیں؟ یعنی اس کے دوست کا دل اس کی جدائی پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ پس اگر پھر بھی توبہ میں سستی ہو تو *عداوت* پیدا ہوتی ہے۔ اور محبت جو تھی وہ عداوت(دشمنی) میں بدل جاتی ہے۔ 

نعوذ باللہ منھا

📖 فوائد الفواد]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>*لغزش کی سات قسمیں*<br />
حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الہی قدس سرہ نے سلوک کی راہ کی لغزش کی سات قسمیں بیان فرمائیں۔ </p>
<p>اعراض، حجاب، تفاصل، سلب مزید، سلب قدیم، تسلی اور عداوت۔</p>
<p>ان قسموں کی تمثیل اور تفصیل میں فرمایا کہ (جیسے) دو دوست ہوں، عاشق اور معشوق۔ ایک دوسرے کی محبت میں ڈوبے ہوئے۔ اس دوران اگر عاشق سے کوئی حرکت یا کام یا بات یا فعل ایسا ہوجائے جو اس کے دوست کی پسند کا نہ ہو تو وہ دوست اس سے *اعراض* کرتا ہے۔ یعنی منہ موڑ لیتا ہے۔ پس عاشق پر واجب ہے کہ اسی وقت استغفار میں مشغول ہوجائے اور معذرت چاہے اور یقیناً اس کا دوست اس سے راضی ہو جائے گا۔ تھوڑی سی بے توجہی جو ہوئی تھی جاتی رہے گی۔<br />
اور اگر وہ محبت کرنے والا اس خطا پر اصرار کرے گا اور عذر پیش نہیں کرے گا، تو وہ اعراض *حجاب* تک پہنچ جائے گا۔ معشوق ایک حجاب (پردہ) درمیان میں لے آئے گا۔ جیسے ہی خواجہ نظام الدین حجاب کی تمثيل میں اس بات پر پہنچے،  ہاتھ اونچا کیا اور آستین چہرہ مبارک کے سامنے کرلی اور فرمایا کہ مثلاً. اس طرح محب اور محبوب کے درمیان ہوجائے گا۔ پس محب (عاشق) پر واجب ہوگا کہ معذرت کی کوشش میں رہے اور توبہ کرے۔ اور اگر اس معاملے میں سستی کرے گا تو وہ حجاب *تفاصل* میں بدل جائے گا۔ کیا ہوگا؟ یہ کہ وہ دوست اس سے جدائی اختیار کرلے گا۔<br />
پس شروع میں اعراض سے زیادہ نہیں تھا۔ چونکہ معافی نہیں چاہی حجاب ہو گیا اور جب اس نا پسندیدگی پر اڑا رہا تو تفاصل ہو گیا (دوری ہو گئی)۔  اگر اس کے بعد بھی وہ دوست معافی نہ مانگے تو *سلب مزید* واقع ہوگا۔ یعنی اس کے اوراد اور طاعت و عبادت کے ذوق میں جو بڑھت تھی وہ واپس لے لی جائے گی۔<br />
پس اگر اس پر بھی عذر نہ کرے اور اس ہٹ دھرمی پر جما رہے تو *سلب قدیم* ہوگا کہ وہ طاعت اور وہ راحت جو &#8220;مزید&#8221; (بڑھوتری) سے پہلے میسر تھی وہ بھی چھین جائے گی۔ پس اگر یہاں بھی توبہ میں کسر رہ جائے تو اس کے بعد *تسلّی* ہوگی۔<br />
تسلی کسے کہتے ہیں؟ یعنی اس کے دوست کا دل اس کی جدائی پر مطمئن ہو جاتا ہے۔ پس اگر پھر بھی توبہ میں سستی ہو تو *عداوت* پیدا ہوتی ہے۔ اور محبت جو تھی وہ عداوت(دشمنی) میں بدل جاتی ہے۔ </p>
<p>نعوذ باللہ منھا</p>
<p>📖 فوائد الفواد</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
	</channel>
</rss>
