اقوال زریں(شیخ سعدی)

آدمی را عقل باید  در بدن ورنہ جان در کالبد دارد حمار

آدمی کی اصل ماہیت عقل و شعور و ادراک ہے ورنہ رہا جسم تو وہ گدھے کے پاس بھی ہے۔

سفر دراز نباشد بہ پائے طالبِ دوست کہ خارِ دشتِ محبت گُل است و ریحان است
طالبِ دوست کے (اُٹھے ہوئے) قدموں کے لیے سفر دراز اور مشکل نہیں ہوتا کیونکہ دشتِ محبت کے کانٹے بھی پھول اور نرم و نازک خوشبو دار سبزے کی طرح ہیں۔

کسے را کہ شیطاں بَوَد پیشوا                       کجا باز گردد براہِ خدا

جس کا راہ نُما شیطان ہو، وہ کب خدا کی راہ پر واپس آتا ہے۔

کس دل به اختیار به مهرت نمی‌دهد دامی نهاده‌ای که گرفتار می‌کنی
کوئی بھی قصداََ دل تیری محبت میں نہیں دیتا۔ تو نے کوئی دام (جال) بچھایا ہوا کہ تو گرفتار کرلیتا ہے۔

شادمانی مکُن که دُشمن مُرد تو هم از مرگ جان نخواهی بُرد

[اِس چیز پر] شادمانی مت کرو کہ دُشمن مر گیا۔۔۔ [کیونکہ] تم بھی مَوت سے جان بچا نہیں لے جاؤ گے۔۔۔

گر سنگ ہمہ لعلِ بدخشاں بودے پس قیمتِ لعل و سنگ یکساں بودے
اگر سارے پتھر ہی لعلِ بدخشاں ہوتے تو پھر پتھر اور لعل کی ایک جیسی قیمت ہوتی۔

به کسی نِگر که ظُلمت بِزُداید از وُجودت نه کسی نعوذُ بِالله که در او صفا نباشد
کسی ایسے شخص پر نگاہ کرو کہ جو تمہارے وُجود سے ظُلمت کو محْو و صاف کر دے،

مست می عشق را ۔۔۔ عیب مکن سعدیا مست بیفتی تو نیز گر ہم از این می‌چشی

ا ے سعدی تو ان عشق کے سرمستوں کی عیب جوئی نہ کر۔اگر تو ان کےذوق کا آشنا ہوجائے تو تو بھی انہی کی طرح سرمست ہو جائے گا ۔

کسی پر نہ اتنی سختی کر کہ وہ تجھ سے بیزار ہو جائیں اور نہ اتنی نرمی کر کہ وہ تم پر سوار ہو جائیں ۔ اعتدال پسندی اختیار کرو۔

لوگوں کے چھپے عیب ظاہر نہ کرو کیونکہ تو ان کو ذلیل کرے اور خود کو بھروسے کے نا قابل بنائے گا۔

 جو بزرگوں سے لڑتا ہے وہ خودا پناخون گراتا ہے۔

 نفس پرور سے ہنر پروری نہیں ہو سکتی اور بے ہنر سرداری کے قابل نہیں

جس کو ایک مدت کے لیے دوست بنا مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کردیں اس سے لاتعلقی بھی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے یک دم نہیں۔

موتی اگر کیچڑ میں گر جائے تو بھی وہ موتی ہی ہے اور قیمتی ہی ہے اور گرد اگر آسمان پر بھی چڑھ جائے تو بھی گردہی ہے اور بے قیمت ہے۔

 جو گنہگار دعا کے لیے اللہ تعالی کے حضور میں دست دعا بلند کرتا ہے وہ مغرور عبادت گزار سے بہت اچھا ہے۔ توبہ کر لینا بہتر ہے۔

 جوآدمی سوچ کر بات نہیں کرتا وہ اس کے جواب پر بگڑتا ہے۔

 جب آمدنی نہ ہو تو تھوڑا تھوڑا خرچ کر کیوں کہ ملاح گایا کرتے ہیں کہ اگر بارش نہ ہو تو دریاۓ دجلہ بھی ایک سال میں خشک ہو جاتے ہیں۔

 وہ دونوں انسان ملک اور دین کے دشمن ہوتے ہیں۔

ایک وہ بادشاہ جس میں حلم اور بردباری نہ ہو۔

اور دوسرا وہ عابد جس میں علم نہ ہو۔

تین چیزوں کی بقا نہیں ہے۔

۔ مال کو تجارت کے بغیر۔

علم کو بحث کے بغیر۔

مالک کو تدبیر کے بغیر۔

 علم دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے ہے نہ کہ دنیا کمانے کے لیے۔

 بادشاہوں کو وہی شخص نصیحت کر سکتا ہے جس کو نہ سرکا خوف ہو نہ زر کی تمنا اور لا لچ  یعنی بے خوف و خطر آدمی۔

 جو کمزور پر رحم نہیں کرتا وہ زبردستوں کے ظلم میں پھنستا ہے۔

 اگر چہ  کوئی بے موت نہ مرے گا لیکن تو خود اژدہوں کے منہ میں نہ جانا یعنی مصیبت کو خود دعوت نہ دینا۔

 جونصیحت غرض سے خالی ہو کڑوی دوا کی طرح مرض کی دافع ہے۔

 جوذات تجھے مال دار نہیں بنارہی وہ تیری مصلحت تجھ سے بہتر جانتی ہے۔

 لالچی کے لیے اپنا دروازہ نہیں کھولنا چا ہے اگر کھل گیا تو پھر بند نہ ہوگا

 دوست وہی ہے جو دوست کی پریشان حالی اور عاجزی کو دیکھ کر مدد کرے۔

 اگر مالدار بننا چاہتے ہو تو سوائے قناعت کے کچھ طلب نہ کرو۔

 اگر کوئی مانگنے والا عاجزی سے تجھ سے مانگے تو اس کو دے دے ورنہ کوئی ظالم زور سے لے لے گا۔

 شر پھیلانے والا خود بھی شر میں پھنس جاتا ہے۔

 فقیر کی ستر پوشی کرنا کہ خدا کا پردہ تیرا ستر پوش ہو۔

 برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر نوجوان مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان اور نیکی سے دے۔

جسم کی طاقت خوراک سے نہ سمجھ اس لیے کہ الله تعالی کی مہرانی پرورش کرتی ہے۔

 اگر تو اپنے آپ کو نیکوں میں گنتا ہے تو بد ہے اس لیے کہ خدائی میں خودی نہیں سماتی۔

 جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔

 اگر برائی تجھے ناپسند ہے تو خود نہ کر پھر پڑوسی سے کہ کہ نہ کرے۔

 دشمن کا مشورہ مانتا خطا لیکن سننا روا ہے۔

 اگر کام زر سے نکل سکے تو جان کو خطرے میں نہ ڈالو۔ .

زبان بریده به کنجی نشسته صم بکم به از کسی که نباشد زبانش اندر حکم

 زبان کٹا ہوا اور گوشہ تنہائی میں بہرا گونگا بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ ہو۔

جس کا حساب پاک ہے اس کو محاسبہ سے کیا ڈر۔

 جہاں پھول ہے وہاں کا نٹا بھی ہوگا۔

جس نے علم حاصل کیا اورعمل نہ کیا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نےہل چلایا اور کچھ نہ بویا۔

. بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتا ہے۔

 جو آدی اچھے وقتوں میں بھلائی نہیں کرتا وہ برے وقتوں میں دکھ اٹھاتا ہے۔

 جوشخص بروں کی صحبت میں بیٹھتا ہے وہ بھی سکھ نہیں پاتا

 استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔

 بسیارخور ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔

 لوگوں کے چھپے عیب ظاہر نہ کر کیونکہ تو ان کو ذلیل کرے گا اور خود کو بھروسے کے نا قابل بنائے گا۔

 شیرسے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکامارنا عقلمندوں کا کام نہیں۔

 لوگوں کو ستانے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کہ مصیبت کے وقت اس کا کوئی ساتھی نہیں ہے۔

 جوسخی کھائے اور دے اس عبادت گزار سے بہتر ہے جو لے جائے اور جمع  کرے۔

بے نماز کو قرض مت دوخواہ فاقہ سے اس کا منہ کھلا ہوا ہو اس لیے کہ جو خدا

کا قرض ادا نہیں کرتا اسے تیرے قرض کی فکر بھی نہ ہوگی

 جو زندگی میں لوگوں کو روٹی نہیں کھلاتا جب وہ مر جاتا ہے تو لوگ اس کا نام بھی نہیں لیتے۔

نیک انجام فقیر بدانجام بادشاہ سے بہتر ہے۔

 اگر تجھے میری عادت ناگوار ہے تو تو اپنی اچھی عادت ہاتھ سے نہ جانے  دے

 سونا کان سے کان کنی کے بعد نکلتا ہے اوربخیل کے ہاتھ سے جانکنی کے بعد۔

 امیر وزیر اور بادشاہ کے دروازوں کا چکر بغیر کسی وسیلہ کے نہ کاٹ۔

 حسین چہرہ کو بناؤ سنگھار کرنے کی ضرورت نہیں۔

 آدمیت جوانمردی اور مہربانی کا نام ہے حسین شکل وصورت کا نام نہیں۔

کوئی شخص روزی اپنی لیاقت اور طاقت سے نہیں حاصل کرتا۔ اللہ سب کا رازق ہے۔

بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو بھی خدا کے سامنے جھکے بغیر چارہ نہیں۔

خداوند تعالٰی متحمل بھی ہے اور رحیم و کریم بھی۔ وہ گناہ گاروں کو توبہ کے لئے مہلت دیتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کو دامن رحمت میں ڈھانپ لیتاہے۔

نطفے کو خوبصورت انسان بنا دینا اللہ تعالٰی کی قدرت کا اعجاز ہے۔ پانی کی بوند پر ایسے نقش و نگار کوئی نہیں بناسکتا۔

جب تو خدا سے مغفرت و عطا کا طالب ہے تو جن لوگوں کی امیدیں تیری ذات سے وابستہ ہیں تو انہیں بھی محروم و مایوس نہ کر۔

جیسا سلوک تو مخلوق خدا سے کرے گا ویسا ہی سلوک خدا تیرے ساتھ کرے گا۔

حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہو اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو۔

جس مظلوم کو بادشاہ سے انصاف نہ  مل سکے اسے خدا انصاف دلاتا ہے

آخرت میں نیکیوں کے مطابق مرتبے ملتے ہیں اس لئے نیکی کرو۔

جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتاہے پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے۔

مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے۔ ہمت سے اس کامقابلہ کرنا چاہئے۔ ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔

احساس کیا ہے؟ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا۔

منصف اور عادل کو اللہ اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا

آدمی وہ ہے جس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ورنہ پتھر ہے۔

نیکی کرنے والا نیکی کا صلہ ضرور پاتا ہے

بے رحم انسان نہیں درندہ ہے۔

نیک نیت کی وجہ سے کام نیک اور بری نیت کی بدولت برا ہوجاتاہے۔

مظلوم کی تکلیف تو چند ساعت کی ہوتی ہے مگر ظالم ابدی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

نصیحت اگرچہ ناخوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتاہے۔

ظالم جب تک ظلم نہیں چھوڑتا اس کے حق میں کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔

دنیا بے وفا اور انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتاہے جو اسے مخلوق خدا کی اصلاح اور فلاح میں لگا دیتاہے۔

دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی۔

زندگی کا راز صبر میں پوشیدہ ہے ۔

 اگر تم چاھتے ہو کے تمہارا نام زندہ رھے تو اولاد کو اچھے اخلاق سکھلاؤ ۔

اگر چہ انسان کو مقدر سے زیادہ رزق نہیں ملتا۔ لیکن رزق کی تلاش میں سستی نہ کرو۔

 جو شخص دوسروں کے غم سے بے غم ہے  آدمی کہلانے کا حقدار نہیں ہے ۔

 دشمن سے ھمیشہ بچو اور دوست سے اسوقت تک جب تک وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔

 اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جاۓ تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔

 عقل مند اسوقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی ۔

 رزق کی کمی اور زیادتی دونوں ھی برائی کی طرف لے جاتی ہیں ۔

 دنیا داری نام ہے  اللہ سے غافل ہوجانے کا۔ ضروریات زندگی اور بال بچوں کی پرورش کرنا دنیا داری نہیں۔

مصیبت کو پوشیدہ رکھنا جوانمردی ہے ۔

مطالعہ غم اور اداسی کا بہترین علاج ہے ۔

 اچھی عادات کی مالکہ عورت اگر فقیر کے گھر بھی ہو تو اسے بادشاہ بنا دیتی ہے ۔

 دوست وہ ہے  جو دوست کا ھاتھ پریشان حال و تنگی میں پکڑتا ہے ۔

 بروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ھی ہے  جیسے نیکوں کے ساتھ برائی کرنا۔

۔ بھوک اور مسکینی میں زندگی گزارنا کسی کمینے کے سامنے دست سوال کرنے سے بہتر ہے ۔

 جو کوئی اپنی کمائی سے روٹی کھاتا ہے  اسے حاتم طائی کا احسان اٹھانا نہیں پڑتا ۔

 سب داناؤں کا اس پر اتفاق ہے  کہ حق شناس کتا ناشکر گزار انسان سے بہتر ہے ۔

 جو شخص اپنے سے زیادہ طاقتور انسان سے زور آزمائی کرتا ہے  وہ اپنے آپ کو تباہ کرنے میں مدد کرتا ہے ۔

 خدا کے دوستوں کی اندھیری رات بھی روز روشن کی طرح چمکتی ہے ۔

 کمزور دشمن اطاعت قبول کرے اور دوست بن جاۓ اسکا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ مضبوط دشمن بننا چاھتا ہے ۔

 اے عقل مند ھاتھ دھولے جو دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ۔

 نہ تو اسقدر سختی کر کہ لوگ تجھ سے تنگ آجائیں اور نہ اسقدر نرمی کہ تجھ پر حملہ کر دیں۔

 جو شخص طاقت کے دنوں میں نیکی نہیں کرتا ضعف کے دنوں میں تکلیف اٹھاتا ہے ۔

جو شخص بچپن میں ادب کرنا نہیں سیکھتا بڑی عمر میں اس سے بھلائی کی کوئی امید نہیں۔

 یہ ضروری نہیں کہ جو خوبصورت ہو نیک سیرت بھی ہو گا کیوں کہ کام کی چیز اندر ہوتی ہے  باھر نہیں۔

 جو شخص دشمن سے صلح کرتا ہے  اسے دوستوں کو آزار پہنچانے کا خیال ہے ۔

 آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کامیابی کی علامت ہے ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں