<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مجدد الف ثانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84-%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA/%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Thu, 05 Jun 2025 09:14:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>مجدد الف ثانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مکا شفات عینیہ از مجدد الف ثانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%db%8c%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%db%8c%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Jun 2023 11:01:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[مجدد الف ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[بعض بزرگان دین کے مقامات]]></category>
		<category><![CDATA[توحید کی دو قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[حدیث جامع الخیرات]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت کعبہ مشرفہ]]></category>
		<category><![CDATA[خلق عیال اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجگان نقشبندیہ کا طریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ باقی باللہ دہلوی]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ محمد پارسا نقشبندی]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ نقشبند بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[دائرہ ظل کامفہوم]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا دار العمل]]></category>
		<category><![CDATA[دو خدشات کا جواب]]></category>
		<category><![CDATA[ذات باری تعالی کا عرفان]]></category>
		<category><![CDATA[راز حقیقت کیا ہے؟]]></category>
		<category><![CDATA[سالک طریقت کا اختیار]]></category>
		<category><![CDATA[شان حقیقت محمدی ﷺ]]></category>
		<category><![CDATA[شیون وصفات میں دقیق فرق]]></category>
		<category><![CDATA[عالم آب و گل کی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[عالم اجسام اور عالم ارواح]]></category>
		<category><![CDATA[عالم ارواح کے مشاہدات]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن اور اہل طہارت]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن اوراہل طہارت]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن دائرہ اصل]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن کا ہر حرف جامع کمالات]]></category>
		<category><![CDATA[کام کا وقت]]></category>
		<category><![CDATA[مقالات فتوح الغیب کا حاصل]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت نقشبندیہ کا امتیاز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6760</guid>

					<description><![CDATA[مکا شفات عینیہ مکاشفہ :نمبر1 خواجگان نقشبندیہ کا طریقہ یہ حضرات خواجگان قدس اللہ تعالی اسرارھم کے طریقہ عالیہ کا بیان ہے، تمہیں معلوم ہو کہ ان لوگوں کی توجہ ایک خاص توجہ ہے کہ اس جہت میں استہلاک (گمشدگی)اور <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%db%8c%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>مکا شفات عینیہ</h1>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ :نمبر1</span></h2>
<h2>خواجگان نقشبندیہ کا طریقہ</h2>
<p>یہ حضرات خواجگان قدس اللہ تعالی اسرارھم کے طریقہ عالیہ کا بیان ہے، تمہیں معلوم ہو کہ ان لوگوں کی توجہ ایک خاص توجہ ہے کہ اس جہت میں استہلاک (گمشدگی)اور اضمحلال(کمزوری) کے قبول کرنے کو جذبہ (انسان کا فطری میلان)کہتے ہیں اور یہ جذبہ ان کی بلندی مرتبت کی وجہ سے دوسرے جذبات سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا اور اس کے رخ کو نقطہ دائرہ غیب کے ساتھ مثلا پوری مناسبت ہے جو کہ نقطہ نہایت النہایت (آخری مقام)اور قابلیت جامعہ (مجموعی استعداد)کا منشا تعین(تجلی کا سبب) جس سے تعین محمدی ﷺ مراد ہے، مناسبت رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مضبوط طریقہ کےا کابر کو سیر فی اللہ کی تحصیل کے بعد بے انتہا تر قیات حاصل ہوتی ہیں اور کبھی ان کی تشنگی ظاہر نہیں ہوتی ہے اور اس نقطہ میں فانی اور مستہلک(فنا) ہو جاتے ہیں بلکہ اپنی استعداد کے مطابق اس جگہ میں بقا پیدا کرتے ہیں اور اس نقطہ تک پہنچنا ولایت محمدیﷺ کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی نقطہ میں باقی رہنا دعوت عام اور پورے تفاوت(فرق) کا منشا ہے ، اس کے کاملین ورثا کا اس مقام کے فنا و بقا میں حصہ بطریق متابعت ہے، بخلاف ارباب سلوک کے کہ ان کا سلوک جذ بہ پر مقدم ہے یا اس جذبہ کے علاوہ کوئی دوسرا جذبہ ان کے سلوک پر مقدم ہے کہ جب یہ سلوک کو چاہتے ہیں اور واصل ہو جاتے ہیں تو ایک قسم کی ٹھنڈک اور خستگی ان میں پیدا ہوتی ہے جو استعلا ء (بلندی)سے باز رکھتی ہے، اس لیے حضرت امیر ( علی رضی اللہ عنہ) سلوک کے تمام ہونے اور فنا و بقا کے حصول کے بعد اس گھر سے نکل کر معیت ذاتیہ کی راہ سے نقطہ نہایت تک پہنچے ہیں، اگر چہ ان کے سالک مجذوب مجذوب سالکوں سے حرارت اور سوزش زیادہ رکھتے ہیں لیکن اس طریقہ سے سالک مجذوبوں کے مرتبے کو نہیں پہنچتے ، اس لیے کہ مناسبت مرکز یہ اس جذبہ کے ساتھ مخصوص ہے ، اس لیے دوسرے سلسلوں کے بعض منتہی فنا و بقا کے بعد اس گھر سے کہ اس کا انجام بےصفتی اور بے رنگی ہے، باہر نکلتے ہیں اور بعض خانہ غیب افراد میں جا کر ترقی کرتے ہیں اور جو محبت کہ اس مقام کے ساتھ مخصوص ہے اس سے توسل کرتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگ اس جگہ سے باہر نکل کر سماع اور نغمہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی ترغیب و تحریص میں ترقیات کرتے ہیں، بخلاف اس طریقہ کے والوں کے کہ یہ صرف جذ بہ الہی سے ترقی کرتے ہیں، اس لیے کہ صفت اور رنگ ان میں نہیں رہتے کہ اس کی وجہ سے ترقی کر سکیں ، جذبے کی طلب کشاں کشاں لے جاتی ہے۔ نیز یہ جذ بہ نقطہ نہایت النہایت (آخری مقام)سے پوری مناسبت رکھتا ہے ، جیسا کہ گزر چکا ہے؟ اس سلسلہ کے بعض اکا بر اسی مقام میں اس مقام کے نور سے منور اور رنگین ہو گئے ہیں اور جو کچھ اس نہایت میں حاصل ہوتا ہے انہیں اس گھر میں میسر ہو گیا ہے ، حضرت قطب المحققین ناصر الدین خواجہ عبید اللہ جو خواجہ احرار ہی کے نام سے مشہور ہیں، اس جذبہ کے مقام میں نہایت کے نور سے مشرف ہوئے ہیں جیسا کہ ان کے احوال شریفہ میں اس کا کچھ بیان کیا جائے گا ، اس طرح اس سلسلہ کے بعض اکابر سلوک کو تمام کر کے ولایت و شہادت اور صدیقیت کے درجات تک پہنچے ہیں، اگر اس نقطہ تک نہیں پہنچے ہیں لیکن اس کے نور نے ان کے دلوں کو منور کر دیا ہے اور مشاہدہ افادت (علمی نکات)تمام ہو گیا ہے ، پھر جذبہ کی اس دولت کے حاصل کرنے کے بعد سلوک اختیار کرتے ہیں اور اس معنی کے حصول کو اس توجہ کے ممد ومعادن بنا کر مسافت بعیدہ کو تھوڑی مدت میں طے کرتے ہیں اور کعبہ مقصود تک پہنچتے ہیں ۔ ان حضرات کا یہ طریقہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہے، یہاں ایک نکتہ جان لینا چاہیے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی کا جذبہ سلوک کی تحصیل کے بعد جو فوقانی(اوپر) ہے اور حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب ہے اور اس عبارت میں (انہوں نے) اسے بیان فرمایا ہے کہ &#8221; تم مجھ سے آسمان کے راستے دریافت کرو ، کیونکہ میں آسمان کے راستے اس سے زیادہ جانتا ہوں جتنا کہ تم زمین کے راستوں سے واقف ہو&#8221; اور یہ سلوک سیر آفاقی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ سلوک جو سیر انفسی سے ہے وہ اس طرح ہے گویا جذبہ کے گھر میں نقب لگا کر ذات غیب تک پہنچا دیا ہے اور اس راہ سے گئے ہیں اور حضرت رسالت ﷺ بھی اس راہ سے نہایت تک پہنچتے ہیں اور سلوک فوقانی جو سیر آفاقی سے تعلق رکھتا ہے اگر چہ آنحضرت محمد مصطفے ﷺکی مشکوۃ نبوت سے ماخوذ ہے لیکن حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ مخصوص ہے، باقی تین خلفا دوسری راہوں سے غیب تک گئے ہیں ، حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا مسلک معلوم ہو گیا ، حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا مسلک جدا ہے ، اسی طرح حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کا مسلک بھی الگ ہے اور سالکوں کا ان چاروں مسلکوں پر سلوک واقع ہوا ہے اور یہ سلوک اپنے امیر کے مسلک کے مطابق مشہور ہے اور اکثر سلاسل اس مسلک کے ذریعہ مقصود کی طرف متوجہ ہیں ، اسی طرح حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مسلک دوسرے سلسلوں کے اعتبار سے خواجگان کے سلسلہ کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن مشائخ کبار اس سلسلہ کے علاوہ دوسرے سلسلوں سے بھی اسی مسلک پر چل کر مقصود تک پہنچے ہیں اور چونکہ اس مسلک پر چلنا پوشیدگی اور خفا کی وجہ سے کچھ دشوار تھا، چنانچہ مولوی جامی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔<br />
نقشبندیہ عجب قافلہ سالار ہیں، جو باطنی راہ سے لے جائیں حرم قافلہ کو<br />
اور حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کا مسلک ظاہر تھا اس لیے حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کا مسلک مشہور ہو گیا، اسی طرح حضرت فاروق رضی اللہ عنہ ہے اور حضرت ذی النور ین رضی اللہ عنہ کے مسالک مخفی تھے۔ اور ان پر چلنا دشوار تھا، اس لیے مشائخ نے اس طریقہ کو اختیار کیا، اور چونکہ حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ متاخر تھے اور ان کے مسلک نے شہرت پائی اس لیے مجبور اس کو ہاتھوں سے پکڑا ہے اور کوتاہ فہم لوگ تسلیک (سلوک )و تکمیل کو حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ مخصوص جانتے ہیں اور خلفائے ثلاثہ کو کامل غیر مکمل خیال کرتے ہیں ، ان کی جرات پر فریاد ہے ، چونکہ ان کا سلوک حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے مسلک پر واقع ہوا ہے اس لیے اس کے ماسوی کی نفی کر کے فعل شنیع (برا)کے مرتکب ہوتے ہیں ۔<br />
جو کیڑا ایک پتھر میں نہاں ہے وہی اس کا زمین و آسماں ہے<br />
اس حقیر نے بعض اکابر کو دیکھا ہے کہ انہوں نے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کےمسلک میں سلوک کیا ہے اور حضرت غوث الثقلین یا اس مسلک کے ذریعہ غیب ذات تک واصل ہوئے ہیں اور حضرت امیر علی کرم اللہ وجہہ کے مسلک میں فناوبقاسے زیادہ نہیں چلے ہیں ، جو کہ ولایت میں ابتدائی قدم ہے اور حضرت شیخ ابو سعید خراز قدس سرہ بھی حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے مسلک پر چلے ہیں ،شاید ان لوگوں نے یہ نہیں سنا ہے کہ حضرت پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے اگر تکمیل وافادہ ان میں نہ ہوتا تو مقام نبوت سے کیا مناسبت رکھتے ، کو تاہ فہم لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد یہ نسبت حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو پہنچی اور اندرونی راہ سے مقصود تک پہنچے، ان کے بعد یہ نسبت بعینہ حضرت قاسم بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو پہنچی ، ان کے بعد یہ نسبت حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کو حضرت قاسم رضی اللہ عنہ سے پہنچی جو کہ ان کے نانا تھے اور حضرت امام نے یہ جو فرمایا ہے کہ : &#8221; ابو بکر نے مجھ کو دو بار جنا تو اس سے اشارہ ان ہی دو ولایتوں کی طرف ہے، کہ ملکوت السموت والارض میں وہ شخص داخل نہیں ہو سکتا جو کہ دو بار نہ پیدا ہوا ہولیکن چونکہ حضرت امام نے اپنے آبائے کرام سے بھی نور حاصل کیا تھا اور وہ سلوک فوقانی سے نسبت رکھتا تھا اس لیے جذب کی تحصیل کے بعد سلوک فوقانی کے ذریعے مقصود تک پہنچے اور دونوں نسبتوں کے جامع ہوئے ، ان کے بعد یہ نسبت حضرت امام سے ودیعت کے طریقہ پر سلطان العارفین با یزید بسطامی کی کو روحانیت کے راستے سے پہنچی جو ولیوں کے طریقے میں ہے، گویا ودیعت کے اس نور کو ان کی پشت پر امانت کے طور پر رکھا ہے تا کہ اس کے اہل تک پہنچا دیں اور سلطان کی توجہ کا رخ دوسری جانب ہے اور اس امانت کو اٹھانے سے پہلے اس نسبت کے ساتھ تعلق نہیں سمجھا جاتا ہے، ان کے بعد یہ نسبت بعینہ مذکورہ بالا طریقے پر سلطان سے شیخ خرقان قدس سرہ تک پہنچی اور ان سے شیخ ابوعلی فارمدی قدس سرہ تک اور ان سے حضرت خواجہ یوسف قدس سرہ تک پہنچی ، یہ نسبت اس نسبت کے اہل اعلیٰ حضرت خواجہ عبد الخالق غجد وانی قدس سرہ کو پہنچی جو کہ حلقہ خواجگان کے سردار ہیں اور اس محل میں یہ نسبت جذبہ وسلوک آفاقی کی راہ سے جو کہ حضرت امام کا خاصہ ہے ظہور میں آئی اور سیر سے تازگی پائی ، وہ اس راہ سے ترقی کر کے صد بقیت کے مقام تک پہنچے اور کمال و تکمیل میں بلند درجہ رکھتے تھے، نیز روسائے اقطاب میں سے تھے اور حضرت خواجہ نے نہایت کو &#8221; &#8220;یادداشت&#8221; سے تعبیر فرمایا ہے : &#8221; یادداشت&#8221; کے معنی تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ اس رسالہ میں تحریر ہوں گے ، حضرت خواجہ کے بعد حضرت خواجہ نقشبند تک اس سلسلہ کے مشائخ جذ بہ سے غیب تک سیر انفسی کے اندرونی راستے سے متوجہ ہو سکے اور اپنی استعداد کے مطابق حصہ پایا، جب حضرت خواجہ نقشبند کے ظہورکا زمانہ آیا، ، حضرت خواجہ نے ان کو روحانیت کی راہ سے تربیت فرمائی اور بعینہ وہ نسبت جذب وسلوک کے اعتبار سے ان تک پہنچی اور تمام و کمال پایا اور ان کے خلفا سے خواجہ علاؤ الدین عطار اور خواجہ محمد پارسا قدس اللہ اسرارھم اس نسبت کو حاصل کر کے ان کی تربیت سے مشرف ہوئے اور حضرت خواجہ علاؤ الدین ولایت و شہادت اور صدیقیت کی نسبت کی تحقیق کے باوجود معیت ذاتیہ کی راہ سے غیب ذات تک گئے ہیں ، نقطہ نہایت تک پہنچے ہیں اور وہاں بقا پیدا کی ہے اور اس بقا کی وجہ سے قطب ارشاد ہو گئے ہیں، اس لیے کہ قطبیت ارشاد بلکہ قطبیت مدار اس نقطہ تک پہنچنے پر موقوف ہے، جب تک اس مقام میں فنا و بقا نہ کریں اس قطبیت کے مقام تک نہیں پہنچتے ہیں اور حضرت خواجہ نے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک طریقہ وضع کیا ہے اور ان کے خلفا نے اس طریقہ کی اس عبارت سے تعبیر کی ہے کہ سب سے قریب ترین طریقہ علاؤ الدین کا طریقہ ہے اور یقینا یہ طریقہ سب سے قریب ترین طریقہ ہے، نہایت النہایت (آخری مقام)تک پہنچنے کے لیے اولیا ءعظام میں سے بہت کم لوگوں نے اس دولت تک راہ پائی ہے، کیا ہی بلند مقام ہے اس شخص کا جس نے اس بلند مقصد کے حصول کے لیے طریقہ وضع کیا ہو، حضرت خواجہ محمد پارسا اور حضرت خواجہ محمد یعقوب نے حضرت خواجہ علاؤ الدین کی صحبت میں اس طریقے سے بھی سیرابی حاصل کی اور ان کے والد بزرگوار خواجہ حسن عطار اور دوسرے خلفا بھی اس راہ پر چلے ہیں اور سالکوں کو بھی اسی راہ پر چلاتے تھے اور حضرت خواجہ احرار نے مولانا خواجہ یعقوب چرخی سے اسی طریقہ سے حصہ حاصل کیا ہے، آج تک ان کے خلفا اس طریقہ کی برکت سے بہرہ ور ہیں اور جو نورکہ اس راہ میں ان تک پہنچا ہے اس سے طالبوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور حضرت مولانا یعقوب چرخی جذبہ سے غیبت کی طرف مذکورہ راہ انفسی کے ذریعہ متوجہ ہیں ، پس معلوم ہوا کہ حضرات خواجگان کا جذبہ دو قسم کا ہے، ایک وہ جذبہ جس کی شرح رسالہ کی ابتدا میں گزری اور دوسرا جذبہ معیت کی راہ سے ہے اور اس خاص جذ بہ کی راہ سے سالکوں کو چلانا حضرت علاؤ الدین عطار ہی کا خاصہ ہے ، اگرچہ بعض اکابر اولیا اسی راہ سے گزرے ہیں لیکن کوئی طریقہ وضع نہیں کیا ہے، طریقہ کا وضع کرنا اور اس راہ پر چلانا ان کے کمال و تکمیل اور مسند ارشاد پر غلبہ اقتدار کی سب سے پہلی دلیل ہے ، حضرت خواجہ محمد پارسا سے منقول ہے کہ میں تمام مخلوق کو مقصود حقیقی تک پہنچا سکتا ہوں لیکن حضرت خواجہ محمد پارسا کے ان تمام کمالات کے باوجود حضرت خواجہ بزرگ نے ان کو حضرت خواجہ علاؤ الدین کی متابعت کا حکم فرمایا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت خواجہ عطار اس سلسلہ میں بہت زیادہ برکت والے ہیں ، آج تک اس طریقہ کے تمام لوگ خواہ عطاریہ ہوں یا احرار یہ سب کے سب ان کی ہدایت کی روشنی سے ہدایت پانے والے ہیں اور ان کا وضع کردہ طریقہ سالک کے لیے اگر افادہ کے نور سے ہے تو ان کے لیے اس راہ سے ہے اور حضرت رسالت ماب ﷺنے اس معیت کی راہ سے خلائق کی ہدایت کے لیے عالم کی طرف رجوع فرمایا، اور حضرت صدیق و فاروق رضی اللہ عنہمابھی اسی راہ سے نیچے اترے، پس جذبہ کے ان دو مقامات کی بزرگی معلوم ہوگئی ، اس لیے کہ سرور دو جہاں ﷺ کے عروج کی راه جذ بہ اول ہے اور نزول کی راہ جذبہ ثانی ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر2</span><br />
بعض بزرگان دین کے مقامات</h2>
<p>سید المحققین ، ناصر الدین حضرت خواجہ عبید اللہ نے ان بزرگواروں کے جذبہ کے مقام میں بڑی شان کے مالک تھے اور وہاں سے پورے استہلاک کے بعد بقائے خاص پیدا کیا تھا اور اس بقا کی وجہ سے نور فوقانی جو کہ نہایت النہایت (آخری مقام)کے نقطہ سے پہنچا تھا، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، کثرت میں وحدت کو اس طور پر دیکھنے والے تھے کہ گویا کوئی پردہ کثرت درمیان میں نہیں رہ گیا تھا اور سلوک آفاقی کو بھی اسی اسم تک جو ان کا مبدا تعین تھا پہنچایا تھا لیکن اس اسم میں فانی نہ ہوئے تھے بلکہ اس کے بعد اسی جذبہ میں گزشتہ استہلاک (گمشدگی)کے علاوہ ایک قسم کا استہلاک پیدا کیا تھا اور اس سلوک کے پورا کرنے پر خاص استہلاک کے ساتھ جو کہ جذبہ میں پیدا کیا تھا خاص القا کے ذریعہ نور فوقانی کی زیادتی کے ساتھ اس کی استعداد ر کھنے والے کی تربیت کرتے تھے اور حق تعالی کے ماسوی کی گرفتاری کی تنگی سے نجات دیتے تھے، نیز معیت ذاتیہ کی جہت کہ حضرت ذی النورین اور حضرت امیر رضی اللہ عنہما اس طریقہ سے نہایت النہایت (آخری مقام)تک پہنچے ہیں، حضرت خواجہ کو اس سے وافر حصہ اور پورا نصیب حاصل ہوا ہے اور اس راہ سے بھی غیب ذات کے ساتھ ایک مناسبت رکھتے ہیں باوجود اس کمال وتکمیل کے بارہ اقطاب سے بھی پورا حصہ رکھتے تھے اور یہ غیب میں ایک ایسا مقام ہے کہ بے نسبتی کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور محبت ذاتی کی ایک خاص قسم بھی اس مقام کے لیے لازم ہے ، دین کا رائج کرنا اور احکام شریعت کا جاری کرنا اس مقام سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت امام اعظم کوفی اس مقام کے روسائے اقطاب میں سے تھے اور حضرت خواجہ اگر چہ اس مقام کے اقطاب میں سے نہ تھے لیکن اس مقام سے کافی حصہ رکھتے تھے، دین کی نصرت اور ملت کی ترویج ان میں اس مقام کے ثمرات میں سے تھی ، اس لیے ان کو ناصرالدین کہتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان کے آبائے کرام سے جو کہ ان کے والد کی جانب سے تھے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک نسبت حاصل کی تھی ، غرض اس بزرگ خاندان کے شرف کی وجہ سے اس نادر سلسلہ کا چراغ روشن ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو ہماری طرف سے بہترین جزا دے، ہم گرفتاروں کو عبادت کی تاریکی اور گمراہی کی حیرانی سے ان بزرگوں کی ہدایت کے انوار نے باہر نکالا ہے اور مقصود کی راہ دکھائی ہے، اگر ان کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم ہلاک ہو جاتے اور اگر ان کی مدد نہ ہوتی تو ہم قلعہ بند ہو جاتے ، یا اللہ تو ہمیں ان کی محبت پر ثابت قدم رکھ اور اپنے حبیب اکرم حضرت محمد مصطفے ﷺ کی حرمت میں ان بزرگوں کی متابعت پر استقامت نصیب فرما۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر3</span><br />
حضرت خواجہ محمد پارسا نقشبندی</h2>
<p>حضرت خواجہ محمد پارسا حضرت خواجہ نقشبندکے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے اور جذ بہ وسلوک کے ساتھ راہ طے کی تھی، فنافی اللہ اور بقا باللہ کی حقیقت تک پہنچے ہوئے تھے اور ولایت و شہادت کے درجات تک عروج کیا ہے، حضرت خواجہ نقشبند ہی نے فرمایا ہے کہ میں نے اس کو جذ بہ دسلوک کے دونوں طریقوں کی تربیت دی ہے اور ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ تھا یہ ہم سے لے گیا&#8217; اس کے ساتھ ساتھ فردیت کی نسبت مولانا عارف کی خدمت سے حاصل کی ہے اور فردیت کی راہ سے غیب ہویت تک اتصال پیدا کیا تھا، اس ہر دو نسبت کا غلبہ جو کہ عالم کے ساتھ بے مناسبتی ہے ان کی تکمیل وارشاد کے لیے مانع تھاور نہ تکمیل کا مقام ان کے لیے پورے طور پر تھا۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر4</span><br />
حضرت خواجہ نقشبند بخاری</h2>
<p>حضرت خواجہ نقشبند نے حضرات خواجگان کے جذبہ کی تحصیل کے بعد سلوک فوقانی کی طرف رجوع کیا اور سلوک کو انتہا تک پہنچایا اور فنافی اللہ اور بقا باللہ کے ساتھ مشرف ہوئے اور یہ ولایت کا مرتبہ ہے، اس کے بعد شہادت کے مقام پر پہنچے جو کہ ولایت سے اوپر ہے اور اس کو مقام ولایت سے وہی نسبت ہے جو تجلی صوری کو تجلی ذاتی سے ہے، اس کے بعد صدیقیت کے مقام پر پہنچے، کمال و تکمیل کے ان درجات کی تحصیل کے باوجود معیت ذاتی کی راہ سے غیب ہو یت ذاتیہ تک پہنچے جس راہ سے حضرت امیر پہنچے تھے اور وہ حضرت امیر کے رنگ میں اس نقطہ نہایت میں مستہلک ہو گئے ہیں اور حضرت غوث الثقلین بھی اس سے ولایت خاصہ محمدی کی نہایت پر ہیں ،اگر اس نہایت میں بقا پیدا کر کے آنحضرت ﷺ کے مرتبے سے بھی حصہ پائے تو ان اکابر کے لیے اس مقام سے بقا کی ایک قسم ہے کہ طالبوں کو اس راہ سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر5</span><br />
حضرت خواجہ باقی باللہ دہلوی</h2>
<p>آج کل ان حضرات علیہ اور اکا بر نقشبندیہ کے قائم مقام ہمارے شیخ و مولانا شیخ اجل اور عارف کامل و اکمل محمد باقی باللہ (اللہ ان کو باقی اور محفوظ رکھے ) ہیں، جو کہ نہایت النہایت تک اور انتہائے درجہ ولایت تک پہنچے ہوئے ہیں ، قطب دائرہ ولایت ، مدار خلائق ، کاشف اسرار، اہل حق محبت ذاتیہ میں کامل ، محقق ، کمالات ولایت محمدیہ کے جامع ، مسند اہل ارشاد و ہدایت ، درج نہایۃ فی البدایۃ کے طریق کے مرشد، زبدۃ العارفین ، قدوۃ المحققین ہیں ،مثنوی<br />
حیف گرہو اہل دنیا پر عیاں چاہیے ہو راز عشق از بس نہاں<br />
کہہ رہا ہوں ، تاکہ لوگ اس پر چلیں اور مبادا ، فوت پر حسرت کریں<br />
شیخنا و مولانا، شیخ اجل ، عارف کامل، اکمل محمد باقی اللہ (اللہ ان کو باقی اور سلامت رکھے )ابتدائے حال میں شیخ ظاہر کی تعلیم کے بغیر خواجگان کے حضور میں مشرف ہوئے اور جذبہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں استہلاک اور اضمحلال حاصل کیا اور ان کا باطن نہایت النہایت کے اس نور سے معمور اور منور ہو گیا جس کے ساتھ قطبیت ارشاد کا مقام متعلق ہے، چنانچہ شیخ ظاہر کی اجازت کے بغیر اس موقوف علیہ نور کے ساتھ طالبوں کو کثرت میں وحدت شہود کی تربیت فرمائی اور ارشاد و تکمیل کے مقام میں ایک بڑا مرتبہ پیدا کیا اور ان کی ایک ہی صحبت میں طالبوں کو جس قدر فوائد حاصل ہوتے تھے ، اس قدر ریاضات و مجاہدات شاقہ سے بھی حاصل نہ ہوتے تھے، اس کے باوجود بارہ اقطاب کے مقامات سے بھی پورا حصہ حاصل کیا تھا ، نیز حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کے خاص مسلک پر فوق کی طرف متوجہ ہو گئے تھے اور سلوک آفاقی کو بھی اعیان ثابتہ تک طے کیا تھا ، اسی دوران میں عنایت خدا وندی پہنچی اور سلوک آفاقی کی راہ ان پر کھول دی اور اس راہ میں اس اسم کی طرف متوجہ ہوئے جو ان کا مربی ہے اور وہاں تک پہنچ کر ولایت و شہادت اور صدیقیت کے درجات تک ترقی کی اوراس راہ سے غیب ذات تک گئے اور نہایت النہایت کے نقطہ میں مستہلک ہو گئے اوراس شہادت عظمی سے مشرف ہوئے جس کے متعلق حضرت امیر رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا کہ یہ میرا بیٹا سردار ہے حضرت امام اسی نقطہ میں اس سبب سے استہلاک رکھتے ہیں اور اسی نقطہ میں ایک قسم کی بقا اس جگہ میں جو کہ قطب مدار کی بقا کے مناسب ہے اور حضرت خواجہ نقشبند و ہاں بقا کی بھی ایک قسم رکھتے ہیں، پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس راہ سے غیب ذات تک پہنچے کہ اولیا میں سے کم لوگ پہنچے ہیں ، اس بلند مقصد تک پہنچنے کی اصل بعض اکابر الاکابر کے ساتھ مخصوص ہے ، خصوصاً جب تک محبوب نہ ہوں اس راہ سے غیب تک نہیں جاسکتے ہیں، کامل اور مکمل محبوب کے تصرف تک پہنچنے کی بغیر ان دو طریقوں پر چلنے کی کوئی صورت نہیں ہے اور افراد کی راہ سے اس مطلب تک معیت کی راہ سے پہنچتے ہیں لیکن سلوک کی راہ سے ترقی کر کے نہایت تک پہنچنا بہت دشوار بلکہ محال معلوم ہوتا ہے، الا یہ کہ محبوب مراد جذ بات قویہ کے ذریعے اس کو کھینچیں اورمقصود تک پہنچا ئیں،عیش والوں کو ان کا عیش مبارک ہو۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر6</span><br />
ذات باری تعالی کا عرفان</h2>
<p>حق سبحانہ کی ذات صفات کے اعتبارات سے کافی بلکہ نفس صفات سےمستغنی ہے یعنی جو کچھ صفات میں مترتب ہوتا ہے ، ذات صفات سے مجرد اس کی تربیت میں کافی ہے، مثلاً جو امور کہ صفت حیات و علم و قدرت اور ارادہ کے ساتھ وابستہ ہیں ، اگر وہ صفات بالکل متحقق نہ ہوں تو ذات تنہا وہ کام کرتی ہے ، اس معنی میں نہیں کہ صفات بالکل موجود نہیں ہیں یا علم میں موجود ہیں خارج میں نہیں ، کیونکہ یہ اہل سنت و جماعت کے قول کے مخالف ہے ، بلکہ صفات استغنائے ذاتی کے با وجود خارج میں ذات عز سلطانہ کے وجود پر زائد موجود ہیں جیسا کہ اہل حق کا مذہب ہے یہ ایک مثال سے واضح ہوتا ہے، میں کہتا ہوں کہ پانی بالذات بلندی سے پستی کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس میل کو میل طبیعی کہتے ہیں ، پس پانی کی ذات علم و حیات اور قدرت وارادہ کا کام کرتی ہے کیونکہ اگر یہ علم رکھتا تو بھی پستی کی طرف آتا اور ارادت کا کام دو متساوی امور میں سے ایک کو خاص کرنا بھی ہوتا ہے، اس حرکت ارادیہ سے حیات و قدرت کا کام بھی ہوتا ہے، اسی طرح جب وہی پانی مرتبہ تنزل میں حیوان کا جز ہوتا ہے تو اس میں طبعی کے ساتھ ساتھ صفات زائدہ سے بھی متصف ہوتا ہے اور ان امور کو طبعیت کے باوجود صفات زائدہ کے ساتھ کرتا ہے، اللہ کی مثال بہت بلند ہے، اس کی ذات عز شانہ استغنائے ذاتی اور صفات سے کافی ہونے کے باوجود مرتبہ الوہیت میں صفات زائدہ موجودہ کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور جن امور کی تحصیل میں اس کی ذات کافی ہے ان صفات کی وجہ سے قوت سے فعل میں لاتی ہے اس لیے جس طرح صفات سے مجرد پانی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی صفات میں ذات ہیں بلکہ وہاں ذات ہے فقط اور صفت کی گنجائش بالکل نہیں ہے ، اسی طرح ذات واجب تعالی کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ صفات عین ذات ہیں ، کیونکہ وہاں صفت نہیں ہے کہ عینیت کا حکم لگا یا جائے اور جب صفت کا اعتبار آیا تو عینیت برطرف ہوگئی ، اگر چہ اعتبار علمی ہو، پس واضح ہو گیا کہ متکلمین کا کلام اور واجب تعالی میں صفات زائدہ موجودہ کا اثبات بعض صوفیہ کے کلام سے زیادہ درست ہے جو کہ صفات کی عینیت کے قائل ہیں اورصفات زائدہ موجودہ کا اثبات نہیں کرتے ہیں۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر7</span><br />
راز حقیقت کیا ہے؟</h2>
<p>صفات کی عینیت کا حکم اور اللہ تعالی کی ذات پر ان صفات کی زیادتی کی نفی حقیقتہ الحقائق تک نہ پہنچنے پر مبنی ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اب تک اس جماعت کے لیے ان صفات کے پردے میں مشہود (جس کا مشاہدہ کیا جائے)ہے اور چونکہ ذات کو آئینہ صفات میں دیکھتے ہیں، اس لیے آئینے کے اخفا کی وجہ سے ان کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتی ہیں ، ان کے عدم کا حکم لگاتے ہیں اور اگر ان کا مشہود اس پردے سے باہر نکلتا تو یہ صفات کو ذات سے جدا د یکھتے اور ان کے وجود کا علم لگاتے ، ان کے وحدت وجود کے حکم لگانے میں یہی راز ہے ، ما سوا ان کی نظر سے بھی پوشیدہ نہیں ہوا ہے اور اس پوشیدگی نے اس کے عدم کا حکم لگانے پر مجبور کیا ہے، چونکہ مشہود کا آئینہ مفقود کا آئینہ ہے اور اس کا علم موجود ہے ، اس لیے ماسوا میں بھی ان دونوں حالات کے اعتبار سے وجود خارجی کی نفی اور ثبوت علمی کیا ہے اس لیے ان کا فنا مکمل نہیں ہوتا کیونکہ ماسوا کا شعور کرتا ہے اور اس کا مشہودبرطرف ہو جاتا ہے اور ماسوا کا عدم شعور اس وقت متحقق ہوتا جب کہ ان کا مشہود ماسوا کے آئینہ سے پوری طرح باہر نکل آئے اور چونکہ ایسا نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ اس کا کامل ہونا فنا کے تمام ہونے کے اعتبار سے ہے چنانچہ یہ جماعت بقا کے بعد اپنے آپ کو حق پر سمجھتی ہے اور اس علم کا منشا بھی سکر ہے ، اگر کمال بقا کے ساتھ مشرف ہوتے تو جس طرح کہ وہ ہیں اپنے آپ کو دیکھتے عبد مملوک کسی چیز پر قادر نہیں اور یا جماعت جمادات میں بھی علم قدرت اور دیگر صفات کا اثبات کرتی ہے اور ان کا ثبوت ذاتی سرایت کے اعتبار سے جانتے ہیں ، حالانکہ اللہ تعالی کسی چیز میں سرایت نہیں کرتا اور ایشیا کا احاطہ احاطہ علمی ہے اور ذات منزہ کو عالم کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ان کا خالق اور ان کا رزق دینے والا ، ان کا پروردگار اور ان کا مولا ہے ، اس کلام کی حقیقت او پر پانی کی ذات اور اس کے میل طبیعی کی بحث میں بیان ہو چکی ہے اور ان لوگوں نے اپنے علوم کے اندازے سے دوسرے کارنگ میں حکم کیا ہے، اللہ حق کو ثابت کرتا ہے اور وہی راستہ کی ہدایت کرتا ہے، منقول ہے کہ خواجہ یوسف ہمدانی کی مجلس میں جو خواجہ عبد الخالق غجد وانی کے پیر ہیں اور حضرات خواجگان کے حلقہ کے سردار ہیں ، ایک دن اعزہ میں سے ایک شخص احوال کا ذکر کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا، بلکہ خیالات جن سے اطفال طریقت کی تربیت کی جاتی ہے، بالجملہ احکام شرعیہ اور وہ علوم جو مشکوۃ نبوت سےظوا ہر مراد اور وضوح مستفاد کے مطابق ہیں وہ مرکز عدالت و استقامت پر ہیں اور اس کے خلاف کجی اور بے استقامتی کو مستلزم ہے، اگر چہ توضیح و تاویل کے ذریعے ہو یا کشف کے ذریعے ہو، اللہ تعالی نے فرمایا: &#8220;إِنَّ هَذَا صِرَاطِئُ مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُو السُّبُل “ بے شک یہ میرا راستہ سیدھا ہے پس اس کی پیروی کرو اور راستوں کی پیروی نہ کرد ہے اور نہایت النہایہ تک پہنچنے کی علامت خصوصاً ان احکام کا تابع اور مطیع ہونا ہے اور ان علوم کے ساتھ محقق اور متخلق ہونا ہے ، کشف کو نص کے تابع بنانا عین استقامت ہے اور الہام کو وحی پر چھوڑ ناعین صواب ہے، جن شرایع کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مخصوص ہوئے ہیں یہ ان علوم کے احکام ہیں جو مرتبہ ذات کے مناسب ہیں اور ان کے مقتضا پر عمل کرنا اس نہایت تک پہنچانے والا ہے ، اسی طرح ہر پیغمبر کہ اپنے پروردگار کے مرتبہ کے مناسب ہے اور اس کے مقتضا پر عمل وہاں تک پہنچانے والا ہے، پس جس جماعت کو حق سبحانہ وتعالی نے حضرت خاتمیت کی اتباع کی وجہ سے اس نہایت تک پہنچایا وہ جماعت علم وعمل میں بال برابر بھی شریعت کے مخالف نہیں ہوتی ہے ، جس طرح کہ علمائے اہل حق کے نزدیک ثابت ہے اس سے تجاوز نہیں کرتی ہے اور نہ اس سے جدا ہوتی ہے اور علوم لدنی جو ان پر فائض کرتے ہیں وہ شریعت غرا کے موافق ہیں بلکہ ان ہی علوم کی تفصیل ہے، ایک شخص نے حضرت خواجہ نقشبند سے پوچھا کہ سلوک سے مقصود کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا تا کہ معرفت اجمالی تفصیلی ہو جائے اورا ستدلالی کشفی ہو جائے اور ہر وہ کشف جو کہ ظاہر شریعت اور علمائے اہل سنت و جماعت کے مقررہ اصول کے خلاف ہو قبول کے لائق نہیں ، اس لیے کہ یہ اس طریقہ مستقیم سے انحراف ہے جو کہ حضرت محمد مصطفے ﷺ کا خاصہ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : &#8221; إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقیم &#8221; بے شک آپ مرسلین سے ہیں سیدھے راستے پر ہیں کہ محمدی المشرب اس علمی اور عملی دولت کے ساتھ مشرف ہے اور ولایت خاصہ محمدی اس کا حصہ ہے اور اس کا مخالف اگر چہ اس کو کشف ہوتا ہواگر چہ اولیا میں سے ہو اس کا اس ولایت میں حصہ نہیں ہے اور گزشتہ پیغمبروں میں سے کسی ایک پیغمبر کے قدم پر ہے اور وہ علوم صحیفہ کی تقدیر پر انبیا کے علوم شرایع کے موافق ہیں اور اس کے سیر کی انتہا اسی نبی کے قدم تک ہے، محمدی المشرب تمام علمی و عملی کمالات کو جامع ہے اور مرکز اعتدال پر ہے،<br />
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری .<br />
آپ کی ذات مبارک کو ہے تنہا حاصل وہ کمالات کہ جو جملہ حسیں رکھتے ہیں<br />
جو کتاب کہ دنیا و دین کے سردار ﷺ پر نازل ہوئی وہ ان تمام کتب سماوی کو جامع ہے جو دوسرے انبیا پر نازل ہوئی ہیں اور آپ کی شریعت دیگر شریعتوں کا خلاصہ ہے، فنائے اتم محمد یوں کا خاصہ ہے اور بقائے اکمل ان کی شان کے لائق ہے ، اس لیے کہ بقا کی اکملیت عبد کے مرتبے میں نہیں ہے اور یہ ایسی دولت ہے جو آنجناب ﷺ کو مرحمت ہوئی ہے، دوسرے لوگ طفیلی ہیں اور طفیلی آپ کی تابعداری کرنے والے ہیں ، آپ کی پیروی کے بغیر اس منزل تک پہنچنا دشوار، بلکہ محال ہے، یہ بلند مقام نہایت النہایت تک پہنچنے کے ساتھ مربوط ہے، یہ مقام کمال تنزل میں ہے اور وہ نہایت کمال بلندی میں اور نقیض کے طرفین میں اعلیٰ ہے لیکن کوئی چیز اگر اپنی حد سے بڑھ جائے تو اس کا عکس ہو جاتی ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر8</span><br />
شان حقیقت محمدی ﷺ</h2>
<p>جاننا چاہیے کہ قابلیت اولی جس کی تعبیر حقیقت محمدی علیہ الصلوۃ والسلا م سے کی جاتی ہے، قابلیت ذات ہے، خصوصاً اس اعتبار علمی کے لیے جو کہ اجمال کے طور پر ان تمام کمالات کے ساتھ متعلق ہوتا ہے جو کہ کلام کی شان ہیں، بلکہ قرآن مجید میں تفصیل سے بیان ہوا ہے اور وہ قابلیت رب محمدی ہے اور ہو سکتا ہے کہ بعض صوفیہ نے جو فرمایا ہے کہ آنحضرت کا رب شان العلم ہے تو اس کے یہی معنی ہوں اور اس قابلیت اولی کے اعتبار سے افادہ آپﷺ کی نسبت متحقق ہوا ہے اور آپ کی کامل پیروی کرنے والوں کے ارباب جو کہ آپ کے قدم پر ہیں( اولا آپ پر اور ثانیا ان لوگوں پر درود وسلام ہو ) اعتبار مذکور کی قابلیات میں جو کہ اجزا ء کی طرح ہیں خصوصا اس قابلیت جمع کے لیے اور اولو العزم اور غیر اولو العزم انبیا ء و رسل کے ارباب ہمارے پیغمبر ﷺکے علاوہ قابلیت ذات ہے، تمام صفات کے لیے اجمالی طور پر متصف ہونے کی اور یہی قابلیت بعض اعتبارات سے مستفیض ہو کر ان کے درجات کے لحاظ سے متعدد حقائق ہو گئے اور جو جماعت کہ ان کے قدم پر ہے اس مقام سے حصہ رکھتی ہے لیکن ان کے حقائق تمام صفات ہیں جو کہ اس قابلیت اخیرہ کے تحت واقع ہوئی ہیں اور یہ قابلیت اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کے درمیان برزخ ہے اور قابلیت اولی ذات وصفات اور شیونات ذاتیہ اور ان قابلیات کے درمیان حجاب ہے جو کہ ان قابلیات کے لیے خصوصا اجزا ءکی طرح ہیں اور برزخ چونکہ دو جہتوں کا حکم رکھتا ہے اس لیے لازما دوسری قابلیت میں حجابیت کا حکم پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ اس کی آخری جہت وہ صفات ہیں جو کہ ذات پر زائد ہیں اور ذات پر وجود زائد کے ساتھ موجود ہیں جیسا کہ علمائے اہل حق کے نزدیک ثابت ہے، اللہ تعالی ان کی کوششوں کی قدر دانی فرمائے اور یقیناً ایسا ہی ہے اور حجاب کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ شے پر ایک زائد چیز ہے اور قابلیت اولی چونکہ اس کی تحتانی جہت سے وہ قابلیات ہیں جو ذات پر زائد محض اعتباری طور پر ہیں، اس لیے اس قابلیت کا انصباغ (رنگ)اسی جہت سے حجابیت کا سبب نہیں ہوتا ہے، البتہ یہاں بھی ایک حجاب علمی پیدا ہو گیا بخلاف پہلی صورت کے کہ اس میں حجاب عینی خارجی ہے، لیکن جاننا چاہیے کہ حجاب علمی کا اٹھ جانا ممکن ہے بلکہ وقوع میں آتا ہے اور حجاب خارجی کا اٹھناممکن نہیں ہے ، یہیں سے ارباب سے رب الارباب کی طرف محمدیوں کی ترقیات اور عروج واقع ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تجلی ذاتی آپ ( آپ پر اور تمام انبیا پر درود وسلام ) کے ساتھ اور آپ کی متابعت کے ساتھ مخصوص ہو اور ان کا مشہودبلا حجاب کے ہو ، پس غور کرو اور صفات اور اس کی قابلیات کی جانب میں خلائق اور اپنے ارباب سے عروج ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ حجاب مرتفع نہیں ہوتا ہے کہ عروج ممکن ہو ، آج کل بعض صوفیہ نے حقیقت محمدی کو تمام صفات کے ساتھ اجمالی طور پر ذات کے متصف ہونے کی قابلیت گمان کیا ہے اور اس گمان کا سبب یہ گمان ہے کہ یہ جماعت خانہ صفات میں ہے اور اس مقام سے حصہ رکھتی ہے اور اس مقام کی قابلیت ، مذکورہ قابلیت ہے جیسا کہ گزرا، اس لیے ضرورت کی بنا پر اس بلند مقام کو آپ کی طرف نسبت کیا ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے اور جو پہلے بیان ہوا ہے وہی حق ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ جانتا ہے اور وہ راستہ کی ہدایت کرتا ہے اور ان کا یہ حکم لگانا کہ یہ قابلیت شیونات کے اوپر ہے، ایسا ہی ہے اور جن شیونات کو اس کے تحت ثابت کیا ہے وہ شیونات نہیں ہیں بلکہ صفات ہیں ، جو اس قابلیت کے تحت ہیں اور چونکہ اس جماعت کی نظر اس گھر سے آگے نہیں بڑھی ہے اس لیے صفات کو شیبونات سمجھ لیا ہے، اس وجہ سے زیادتی صفات کے بھی منکر ہیں بلکہ شیونات عین ذات ہیں اور صفات ذات پر زائد ہیں اور شیونات کی تفصیل علیحدہ لکھی گئی ہے وہاں دیکھنا چاہیے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر9</span><br />
کلام اور حضور اکرم ﷺ</h2>
<p>صفت کلام بلکہ شان کلام اس لیے کہ ہمارا کلام اس میں ہے ، اس کےواسطے محتاج الیہ ہے کہ افادہ اس کے بغیر متصور نہیں ہے، پس تمام کمالات ذاتیہ اور شیونات ذاتیہ پہلے اس صفت کے مرتبہ میں بلکہ اس شان کے مرتبہ میں فائض ہوتے ہیں اور وہاں سے عالم افادہ میں آتے ہیں، مثلاً جو شخص کہ بہت سے کمالات رکھتا ہے اور چاہتاہے کہ ان کمالات کو ظاہر کرے تو پہلے ان کو قوت کلامیہ کے مرتبے میں نیچے لاتا ہے اور اس جگہ سے ان کا اظہار کرتا ہے ، پس واجب تعالی میں مرتبہ شیونات میں جو کہ ذات پر محض اعتباری طور پر زائد ہیں ، کلام کی شان اس معنی کے ساتھ مخصوص ہو گئی اور جو کچھ کمالات مرتبہ ذات و شیونات میں متحقق تھے ، پورے کے پورے کلام کی شان میں فائض ہوئے ، اس شان کی حقیقت کا پورا حاصل صرف یہی قرآن ہے اور یہ عربی عبارت اور ترتیب اور جو مصاحف میں لکھی ہوئی ہے اور ہر وہ کتاب جو کہ ان پر نازل ہوئی ہے اس قرآن کے اجزا ءمیں سے ایک جز ءہے کہ اس کی بعض عبارتوں سے بعض وجوہ سے مستفاد ہے اور ابتداسے انتہا تک تمام مکونات کی تخلیق اس سے مستفاد ہے إِنَّمَا قَولُنَا لِشَيْءٍ أَن يَقُولَ لَهُ كُن فيكون ہمارا کسی چیز کے متعلق کہنا کہ ہم اس کا ارادہ کریں یہ کہ اس سے کن کہیں تو ہو جاتا ہے) اس قول کا مصداق ہے اور یہ قرآن اس عظیم مرتبہ کے ساتھ دائرہ اصل میں داخل ہے، کسی ظلیت نے اس کی طرف راہ نہیں پائی اور بعض اکابر اولیاء اللہ جو فرماتے تھے کہ قرآن مرتبہ جمع سے ہے وہ اس معنی کے اعتبار سے ہے اور قابلیت اولی جس کی تعبیر حقیقت محمدی ﷺسے کی جاتی ہے۔ اس قرآن مجید کا ظل ہے پس وہ قابلیت بھی تمام کمالات ذاتیہ کو جامع ہے اور شیونات ذاتیہ (کی جامع) ہوگی، لیکن ظلیت کے طور پر اس اصالت کے طور پر نہیں اور قرآن بطریق اصالت جامع ہے اور اسی مناسبت سے قرآن مجید آںسر در محمد مصطفے ﷺ پر نازل ہوا اور آپ کو اس نعمت عظمی کے ساتھ مخصوص کیا اور حضرت رسالت پناہﷺ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ کی شان میں فرمایا ہے کہ اپنے دین کا دو حصہ اس حمیر اسے اخذ کرو اسی طرف اشارہ ہے اور آنجناب ﷺ کے خلق کے بیان میں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ كَانَ ‌خُلُقُهُ ‌الْقُرْآنَ &#8221; آپ کا خلق قرآن ہے ) تو یہ اسی مناسبت کی وجہ سے ہے کہ اصالت وظلیت ہے اور آپ ﷺ کی شریعت کی بزرگی کو اس سے قیاس کرنا چاہیے اور آپ کی متابعت کو تمام سعادات کا سر ما یہ جاننا چاہیے ۔</p>
<p>دولت یہی ہے دیکھیے کسی کو نصیب ہو<br />
یہ ایسا علم ہے کہ بعض ان افراد کے ساتھ مخصوص ہے جن کو خلق قرآنی کے ساتھ متخلق کیا ہے اور اس کی روشنی سے دیدہ بصیرت کو سرمگیں بنایا ہے، اقطاب کی نظر یہاں تک نہیں پہنچتی ہے اور ظلیت کے مراتب سے نفوذ نہیں کرتی ہے اور علوم و مقامات کے دقائق بعض افراد اقطاب کے ساتھ مخصوص ہیں ، اقطاب ارشادو مدار کے دوسرے کاروبار ہیں اور خاص خدمت کے ساتھ مخصوص ہیں ،ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جو قطبیت اور فردیت دونوں کے مرتبوں کو جامع ہیں ، مثلا سید الطائفہ جنید بغدادی قدس سرہ اور یہ فردیت کی نسبت ان کو شیخ محمد قصاب قدس سرہ سے حاصل ہوئی اور نسبت قطبیت کی تحصیل میں ان کے پیر شیخ سری سقطی قدس سرہ ہیں اور سید الطائفہ نسبت فردیت کے مقابلے میں نسبت قطبیت کو فراموش کر کے فرماتے ہیں کہ لوگ جانتے ہیں کہ میں سری سقطی قدس سرہ کا مرید ہوں، میں محمد قصاب رحمۃ اللہ علیہ کا مرید ہوں ، اب اصل کلام کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور کہتا ہوں کہ قرآن میں ماضی اور استقبال کا لفظ اس سبب سے ہے کہ ازلیت اور ابدیت کے تمام زمانے اس سے ظہور میں آئے ہیں ، ان میں بعض تو ماضی سے اور بعض حال سے اور بعض استقبال سے تعلق رکھتے ہیں تو یہ قرآن کی نسبت سے نہیں ہوتے ہیں بلکہ بعض زمانوں کی نسبت سے ہوتے ہیں ، قرآن اس پر شامل ہے، مثلاً ایک شخص اپنے گزشتہ احوال کو ماضی کے ساتھ تعبیر کرتا ہے تو یہ ماضویت اس شخص کے زمانہ حال کے اعتبار سے ہے اس شخص کے اعتبار سے نہیں ، وہ شخص تمام از منہ کو جامع ہے، اللہ تعالی صواب کا جاننے والا ، سیدھی راہ کا الہام کرنے والا ہے اور اللہ ہی حق کو ثابت کرتا ہے اور وہ راستہ کی ہدایت کرتا ہے، پس قرآن کی تصدیق کرنے والا اور اس کے مطابق احکام کی پیروی کرنے والا تمام کتب سماویہ کی تصدیق کرنے والا اور انبیا ء علیہم السلام کے جمیع شرائع کے کمالات کو حاوی ہے اور اس کلام اللہ کی تکذیب کرنا اور اس شریعت کے مطابق عمل نہ کرنا بڑی محرومی کومستلزم ہے ۔<br />
حضرت ختم رسل میں دو جہاں کی آبرو خاک اس کے سر پہ جو کوئی نہیں اس در کی خاک</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر10</span><br />
ہر حرف قرآن جامع کمالات ہے</h2>
<p>جاننا چاہیے کہ قرآن کے حروف میں سے ہر ایک حرف اجمال کے طور پر تمام کمالات کو جامع ہے اور طویل سورتوں میں جو خاص فضیات ہے چھوٹی سورتوں میں بھی وہی فضیلت رکھی ہے ، طویل وقصیر ہونا اس باب میں کوئی فرق پیدانہیں کرتا ، البتہ ہر سورۃ کے لیے بلکہ ہر آیت کے لیے بلکہ ہر کلمہ کے لیے ایک خاص قسم کی فضیلت مخصوص ہے، جیسا کہ شیون الہی میں ہر شان تمام شیونا ت کو اجمال کے طور پر جامع ہے، ساتھ ساتھ خاص تاثیر اور فضیلت کے ساتھ مخصوص ہے ، اس لیے قابلیت اولی میں جولوگوں نے کہا ہے کہ اس مرتبہ میں ہرشان تمام شیون کو جامع ہے تو اس مرتبہ میں شیون کا اطلاق ظلیت کے اعتبار سے ہے ورنہ شیون دائرہ اصل میں داخل ہیں ۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر11</span><br />
ہرآیت کا پورا فائدہ</h2>
<p>معلوم ہو کہ ہر سورۃ بلکہ ہر آیت جو خاص اور الگ واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس کا قرآت کرنا اس کی تلاوت کرنے والے کو اس باب میں پورا فائدہ پہنچاتا ہے ، مثلاً جو آیت کہ تزکیہ نفس کے باب میں نازل ہوئی ہے اس آیت کی قرآت کا تزکیہ نفس میں بہت بڑا اثر ہے، اسی پر سب کو قیاس کرنا چاہیے۔<br />
<span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر12</span><br />
قرآن دائرہ اصل میں داخل ہے: تحقیق کہ آیہ کریمہ لَّا يَأۡتِيهِ ‌ٱلۡبَٰطِلُ مِنۢ بَيۡنِ يَدَيۡهِ وَلَا مِنۡ خَلۡفِه تَنزِيل مِّنۡ حَكِيمٍ حَمِيدٖ &#8221; باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، یہ حکیم حمید کی طرف سے اتارا ہوا ہے )میں اس طرف اشارہ ہے کہ قرآن دائرہ اصل میں داخل ہے، باطل کو اس کی طرف راہ نہیں ہے، اس لیے کہ ہر ظل جو کہ جہت تحتانی کے اعتبار سے ہے اس کے ظل میں باطل کو راہ ہے، جو کچھ باطل ہے اس کی طرف راہ نہیں پاتا ہے اور اصل خالص ہے ، ہر چیز اس کی ذات کے سوا ہلاک ہونے والی ہے، اللہ سبحانہ زیادہ جاننے والا ہے اور وہ راستہ کی ہدایت دیتا ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر13</span><br />
قرآن اوراہل طہارت</h2>
<p>گویا آيہ كريمہ لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ &#8221; میں اس طرف اشارہ ہے کہ حقیقت قرآنی کے بعض دقائق سے مطلع ہونا کامل پاک لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے لیکن اس کے تمام دقائق سے مطلع ہونا حضرت رب العزت جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے راہنمائی فرمائی ، نیز مساس کسی چیز کے ظاہر کے متعلق بولا جاتا ہے اس لیے وجود ظاہرہ پر مطلع ہوتا ہے لیکن باطن بطون کو اللہ سبحانہ وتعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا اور کمال طہارت اس سے وابستہ ہے کہ ماسوا سے کمال انقطاع ہو اور ان تعلقات کے ساتھ آلودگی نہ ہو اور یہ اصل کے ساتھ متصل ہونا اور ظل سے اعراض کرنا ہے خواہ کوئی ظل ہو<br />
فراق یار اگر کم بھی ہو ، زیادہ ہے<br />
گروہ صوفیہ جن کی نظر قابلیت اولی سے آگے نہیں بڑھی ہے انہوں نے اس قابلیت کو انتہائی عروج سمجھا ہے اور اس کو تعین اول سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ذات پر زائد نہیں ہے اور اس قابلیت کے مشہود کو تعین تجلی ذات کہا ہے اور ان کا بھی ولایت خاصہ میں سے حصہ ہے، کیونکہ اس ولایت کے درجات میں بھی تفاوت ہے ۔<br />
آسماں عرش کی نسبت سے ہے نیچا ورنہ اس زمیں سے اسے دیکھو تو ہے کتنا عالی<br />
لیکن اولیاء اللہ کے ایک دوسرے گروہ نے اس مرتبہ کو بھی زائد سمجھا ہے اور یقین کے سایہ میں آرام کیا ہے، یا اللہ تو اپنے حبیب اکرم سﷺکی حرمت کے واسطے سے ہمیں ان لوگوں کی محبت نصیب فرما۔</p>
<h2><span style="color: #800080;">مکاشفه: 14</span><br />
قرآن پاک اور رمضان پاک</h2>
<p>کلام کی شان منجملہ شیونات ذاتیہ کے ہے، تمام کمالات ذاتی اور شیونات ذاتی کو جامع ہے ، جیسا کہ پہلے علوم میں بیان کیا گیا اور رمضان کا ماہ مبارک تمام خیرات و برکات کو جامع ہے اور ہر خیر و برکت جو کہ ہے اس کا اللہ تعالی کی جناب سے فیضان ہوتا ہے اور اس کی شیونات کا نتیجہ ہے کیونکہ ہر برائی اور نقص جو وجود میں آتا ہے اس کا سبب ذات وصفات محدثہ ہیں &#8221; مَّآ ‌أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ ‌أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَ&#8221; جو اچھائی تجھ کو پہنچے تو اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھ کو پہنچے وہ تیری اپنی ذات کی طرف سے ہے )خود نص قاطع ہے، اس لیے اس ماہ مبارک کی تمام بھلائیاں اور برکتیں کمالات ذاتیہ کا نتیجہ ہیں کہ شان کلام ان سب کو جامع ہے اور قرآن مجید اس جامع شان کی حقیقت کا پورا حاصل ہے چنانچہ اس ماہ مبارک کو قرآن مجید کے ساتھ پوری مناسبت ہے، کیونکہ قرآن تمام کمالات کو جامع ہے اور یہ مہینہ تمام بھلائیوں کو جامع ہے جو کہ ان کمالات کے نتائج و ثمرات ہیں اور یہی مناسبت اس ماہ میں نزول قرآن کا سب ہوئی شَهرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرآن رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے اور اس ماہ میں شب قدر اس ماہ کا زبدہ اور خلاصہ ہے، یہ رات مغز ہے اور یہ ماہ پوست کی طرح ہے، اس لیے جو لوگ اس ماہ کو جمعیت کے ساتھ گزار یں: اور اس کی بھلائیوں اور برکتوں سے بہرور ہوں تو سال بھر اطمینان سے گزارتے ہیں اور خیر و برکت سے معمور ہوتے ہیں، اللہ تعالی اس ماہ مبارک میں ہمیں نیکیوں اور برکتوں کی توفیق بخشے اور ہمیں اس سے بہت زیادہ حصہ عطا کرے۔</p>
<h2><span style="color: #800080;">مکاشفه (15)</span><br />
فضائل رمضان المبارک</h2>
<p>حضرت رسالت پناه محمد مصطفے ﷺ نے فرمایا &#8221; جب تم میں سے کوئی شخص افطار کرے تو چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے، کیونکہ یہ برکت ہے کھجور سے روزہ افطار کرنے کا راز کھجور کے برکت ہونے میں ہے، کیونکہ کھجور کا درخت عنوان جامعیت اور اعدلیت کی صفت کے ساتھ انسان کے رنگ میں پیدا کیا ہے،<br />
اس لیے حضرت پیغمبر ﷺ نے کھجور کے درخت کو بنی آدم کا چچا فرمایا ہے ، جو کہ حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اپنے چچا کھجور کے درخت کی عزت کرو کیونکہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کی باقی ماندہ مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور اس برکت کی طرف اس کی نسبت اس جامعیت کے اعتبار سے ہو سکتی ہے اس لیے اس کے پھل یعنی کھجور سے افطار کرنے میں وہ کھجور افطار کرنے والے کا جز ء بن جاتی ہے اور اس کی حقیقت جامعہ اس جزئیت کے اعتبار سے اس کے کھانے والے کی حقیقت کا جزء بن جاتی ہے اور اس کا کھانا بے انتہا کمالات کو جامع ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے جو کہ اس کھجور کی حقیقت جامعہ میں مندرج ہیں اور یہ معنی اگر چہ اس کے مطلقا کھانے میں حاصل ہے۔ لیکن افطار کے وقت جو کہ شہوات مانعہ اور لذات فانیہ سے روز ہ دار کے خالی ہونے<br />
کا وقت ہے زیادہ اثر کرتا ہے اور یہ معنی پورے اور کامل طور پر ظاہر ہوتا ہے اور حضور ا کرم ﷺ نے جو فرمایا: ” مومنین کا بہترین سحر کھجور سے ہے یہ اس اعتبار سے ہو سکتا ہے کہ غذا میں جو کہ صاحب غذا کا جز ء بن جاتی ہے اس غذا کی حقیقت سے اس کی حقیقت کی تکمیل ہوتی ہے اور چونکہ یہ معنی روزہ میں مفقود ہے اس لیے اس کی تلافی کے لیے کھجور سے سحر کی ترغیب دی ، گویا اس کا کھانا تمام ماکولات کے کھانے کا فائدہ دیتا ہے اور اس کی برکت جامعیت کے اعتبار سے افطار کے وقت تک ظاہر ہوتی ہے اور غذا کا یہ فائدہ جو کہ بیان ہوا اس تقدیر پر مرتب ہوتا ہے کہ وہ غذا شرعی تجویز کے طور پر استعمال ہو اور حدود شرعیہ سے سر مو متجاوز نہ ہو، نیز اس فائدے کی حقیقت اس وقت میسر ہوتی ہے کہ اس کا کھانا صورت سے گزر کر حقیقت تک پہنچا ہوا ہو اور ظاہر سے باطن تک آرام کیے ہوئے ہو اور ظاہری غذا اس کے ظاہر کے لیے اور باطنی غذا اس کے باطن کے لیے ممد ہے لیکن امداد ظاہری مقصود ہے اور اس کا کھانا عین قصور ہے<br />
لقمہ یوں کھاؤ کہ وہ گوہر بنے بعد اس کے کھاؤ جو کچھ مل سکے<br />
صاحب غذا کو افطار میں عجلت اور سحر کی تاخیر کا حکم دینے میں تعمیل غذا کا راز یہی ہے ، اگر کوئی کہے کہ جب عارف کی تکمیل غذا کی تاثیر میں ہے تو روزے میں جو کہ ترک غذا ہے کیا حکمت ہے ؟ تو ہم کہیں گے کہ بعض اسمائے الہی جل سلطانہ جو کہ مرتبہ صمدیت کے مناسب ہے غذا کے روکنے میں بھی اس کی تعمیل ہے،اللہ تعالیٰ حقیقت حال سے زیادہ باخبر ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080;">مکاشفه: 16 </span><br />
شیون وصفات میں دقیق فرق</h2>
<p>اللہ تعالیٰ کی ذات پر شیون کی زیادتی محض اعتباری ہے اور اس کی ذات پر صفات کی زیادتی وجود خارجی کے ذریعے ہے اس لیے کہ صفات خارج میں ذات پر وجود زائد کے ساتھ موجود ہیں ، جیسا کہ اہل حق کا مذہب ہے اور شیون و صفات میں فرق بہت ہی دقیق ہے، محمد یوں میں جو لوگ کامل ہیں وہ اس فرق سے باخبر ہیں ، اس گروہ میں سے اکثر نے اس فرق کو نہ جاننے کی وجہ سے شیون کو عین صفات سمجھا اور خارج میں صفات کے وجود کے منکر ہو گئے اور یہ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ اہل سنت و جماعت کے اجماع کے مخالف ہے، اس فقیر نے فرق مذکور کو تفصیل کے ساتھ مسودات میں لکھا ہے اور تنظیر و تمثیل کے ساتھ روشن کر دیا ہے، الغرض شیون دائرہ اصل میں داخل ہیں، کسی ظلیت نے ان کی طرف راہ نہیں پائی ، جو قابلیات کہ اس شیون کے تحت ہیں سالوں کی طرح ہیں ، ان شیون کے لیے محمدیوں کے حقائق ان کے درجات و مراتب کے فرق کے مطابق ہیں اور حقیقت ان سب کو جامع ہے، اس کے مظہر پر صلوۃ وسلام اور تحیات اور ظہور کمال کے مظہر پر برکات ہوں، ان اقطاب کے عروج کی نہایت قابلیت اولی کے مرتبہ کی نہایت تک ہے ، جو کہ حقیقت محمدی ﷺ ہے، ان اقطاب کا مقام گو یا اس قابلیت کے مرکز کے نقطہ میں ہے اور ہر قطب جو ہوتا ہے ارشاد پر مدار ہوتا ہے اور جب نیچے آتا ہے تو ہر جگہ سے نیچے آتا ہے ، ان کی ترقی اس مقام سے اوپر تک نہیں ہے اور اگر ترقی واقع ہوتی ہے تو بعض کو اجمالی طور پر حاصل ہوتی ہے اور اس مقام سے ترقی کرنا اور دائرہ اصل میں داخل ہونا اس وقت کے افراد کے ساتھ مخصوص ہے اور جب تک فردیت کے مقام تک نہ پہنچے یہ کمال ہے حاصل ہے، ہاں بعض کاملین کو افراد کی صحبت کی وجہ سے اور ان کی تاثیر کی وجہ سے اس کمال سے حصہ ملتا ہے، بغیر اس کے کہ فردیت کے مقام تک پہنچیں بغیر اس کے کہ دائرہ اصل میں داخل ہوں ، چونکہ یہ دخول اقرار کے ساتھ مخصوص ہے، لیکن اس مقام سے دوسروں کو افراد کی مناسبت کے واسطہ سے حصہ حاصل ہے اور افراد میں بھی تفاوت بہت زیادہ ہے، دائرہ اصل میں داخل ہونے کے بعد اس لیے کہ شیون بھی اس دائرہ میں داخل ہیں اگر چہ عین ذات ہیں لیکن محض اعتباری طور پر ان میں زیادتی حاصل ہے۔</p>
<p>فراق یار بہت ہے اگر چہ ہو کم بھی ٍ جو آدھا بال بھی ہو آنکھ میں تو کیا کم ہے<br />
شہود(مشاہدہ) ذات سب کا حاصل ہے خواہ شیون کے مرتبے میں ہو خواہ ذات میں داخل ہو ورنہ شہود کو اس مقام میں کوئی دخل نہیں ہے ، نیز اس خاص کیفیت کی صورت عالم مثال میں مشہودکی صورت میں متمثل نگرانی ہے اور اس اعتبار سے اس کا اور اس طرح کے دیگر الفاظ کا اطلاق کیا جاتا ہے اور نگرانی مذکور بھی دائرہ اصل میں دخول کے بغیر متصور نہیں ہے اور جو جماعت کہ داخل نہیں ہے اور ظلیت کے مراتب سے پورے طور پر گزر چکی ہے ان لوگوں کا مشہوددائرہ اصل ہے جو کہ حضرت تعالی شانہ اور شیونات کو جامع ہے ، ذات فقط کا شہودشیون کی مشارکت کے ساتھ افراد کے ساتھ مخصوص ہے، جاننا چاہیے کہ ان بزرگوں میں سے جولوگ ذات تک واصل ہیں اور افراد کے ساتھ ملقب ہیں وہ بھی بہت ہی کم ہیں اور اکابر صحابہ اور اہل بیت میں سے ائمہ اثنا عشر رحمۃ اللہ علیہم اس دولت سے فیض یافتہ ہیں اور ا کا برا اولیاء اللہ میں سے غوث الثقلین ، قطب ربانی محی الدین شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ اس دولت میں ممتاز ہیں اور اس مقام میں خاص شان رکھتے ہیں ، دوسرے اولیا کو اس خصوصیت سے بہت کم حصہ ملا ہے اور اس فضل کا امتیاز ان کے علوشان کا باعث ہوا ہے ، چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ میرا یہ قدم ہر ولی اللہ کی گردن پر ہے، اگر چہ دوسروں کے بھی فضائل و کرامات بہت زیادہ ہیں لیکن ان کا قرب اس خصوصیت میں سب سے زیادہ ہے، اس کیفیت کے ساتھ عروج میں کوئی بھی اس مرتبے کو نہیں پہنچتا ہے، یہ اصحاب اور ائمہ اثنا عشر کے ساتھ اس باب میں شریک ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہی ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر17</span><br />
عالم اجسام اور عالم ارواح عالم</h2>
<p>اجسام عالم ارواح کے لیے سایہ کی طرح ہے اور ارواح بھی شیونات الہی جل شانہ کے لیے بمنزلہ ظل( سایہ )کے ہیں، جو کہ اسماء الہی سبحانہ کی طرح عین ذات ہیں جو کہ ذات تقدس و تعالی پر زائد ہیں ، ظلیت اولی جو کہ شیونات کی ظلیت ہے محمدی المشرب جماعت کے ساتھ مخصوص ہے کہ پوری جامعیت جو اس صورت میں ہے ذات جل سلطانہ کی عینیت سے حاصل ہے اسی وجہ سے تجلی ذاتی ان کے ساتھ مخصوص ہوگئی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفه : 18</span><br />
عالم ارواح کے مشاہدات</h2>
<p>ایک سالک جب چاہتا ہے کہ اس عالم اجسام سے قدم اوپر رکھے تو محض عنایت خداوندی کی وجہ سے بعض کی نظر عالم ارواح پر پڑتی ہے جو کہ اس عالم کی اصل ہے اور ظلیت کی مناسبت کی وجہ سے ارواح خصوصاً شیونات کو یااسماء کو اس عالم اجسام کے لیے جو کہ ظل کا ظل ہے ، حق جانتا ہے اور اس کے شہود کو شہود حق یقین کرتا ہے ، حالانکہ حقیقت میں اس کا مشہودعالم ارواح ہے جو اپنی اصل کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اور اس متجلی کے لیے کہ اس تجلی کی ابتدا میں عالم اجسام بھی مشہود ہے لیکن چونکہ نظر اوپر کی طرف رکھتا ہے اس لیے اوپر کی طرف متوجہ ہے ، اس عالم سفلی کو عالم ارواح جان کر اس کی حقیقت کا حکم لگاتا ہے اور اگر چہ اس وقت میں اس کو روحانیت کے عنوان سے نہیں جانتا ہے بلکہ حقانیت کے عنوان سے تخیل کرتا ہے اس لیے خود کو اور عالم کو حق جانتا ہے اور آخر میں اس متجلی لہ کے لیے عالم اجسام پورے طور پر نظر سے اٹھ جاتا ہے اور مرائیت پیدا کرتا ہے اور وہی عالم ارواح اس عالم میں اس کا مشہود ہوتا ہے ، اگر چہ وہ روحانیت کے عنوان سے جانتا ہے، اس وقت میں حکم کرتا ہے کہ حق سبحانہ وتعالی موجود ہے اور اس کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں ہے ،اس غلبہ شہود کی حالت میں اس وقت بعض کا انا بالکل جاتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو گم کر دیتا ہے، ان دونوں صورتوں میں اس کی تجلی صورت کی تجلی ہے اور اس کا مشہود صرف عالم ارواح ہے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس مقام میں اس کے لیے بقا بھی پیدا ہوتی ہے اور جو انا کہ زائل ہو گیا تھا وہ واپس لوٹ آتا ہے، اس وقت پھر وہ اپنے آپ کو حق جانتا ہے ، حالانکہ حقیقت میں روح کی وجہ سے بقا پائی ہے اور اس کا انا روح پر پڑا ہوا ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اس بقا کو حق الیقین خیال کرتا ہے جیسا کہ بعضوں نے گمان کیا ہے اور فناو بقا کو پہلے قدم میں ثابت کرتا ہے اور علم الیقین اور عین الیقین اور حق الیقین کا اس مقام میں تصور کرتا ہے اور مقصود تک پہنچنے سے عاجز رہتا<br />
ہے جو کیڑا ایک پتھر میں نہاں ہے وہی اس کا زمین و آسماں ہے<br />
اور اللہ تعالی کا عالم کو محیط ہونا اور عالم کے تمام ذرات میں اس کا ساری ہونا اور کثرت میں وحدت کا شہود اور اس طرح کے دیگر خیالات جو اس طریقہ کے نو آموزوں کو پیدا ہوتے ہیں سب اس مقام میں ہیں ، حالانکہ حقیقت میں یہ عالم اجسام میں عالم ارواح کا احاطہ ہے اور چونکہ عنایت خدا وندی جل شانہ اس کے شامل حال ہو گئی اور اس بھنور سے اس کو گزار دیا اس لیے اس کی نظر عالم ارواح کی اصل پر پڑتی ہے جو کہ شیونات بلکہ شیو نات یااسماء کا عکس ہے اور اسی نظر کی وجہ سے عالم سابق میں فتور پیدا ہوتا ہے اور خود کو اور عالم کو جو حق سمجھتا تھا وہ یقین زائل ہو جاتا ہے ، اسی طرح احاطہ(محدود) وسریان(سما جانا) اور اس کے مثل کا حکم بھی کم ہو جاتا ہے اور اس کے شہود کی وجہ شیون یااسماء ہیں جو کہ مرتبہ تنزیہ (پاک کرنا)کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور اس عالم کے ساتھ چنداں مناسبت نہیں رکھتے ہیں اور ان احکام کی بنیاد بھی مناسبت پر ہے اور اس وقت کام حیرت تک پہنچ جاتا ہے اور اس شہود کے غلبہ میں عالم ارواح کا مشہودپوشیدہ ہو جاتا ہے اور آئینہ ہونے کا حکم پیدا کرتا ہے اور اس کا مشہوداسماء کے ان شیون کے آئینہ میں ہوتا ہے ، پس اس وقت جوا نا کہ واپس آیا تھا پھر گم ہو جاتا ہے اور اس مشہود میں استہلاک پیدا ہوتا ہے، بعض کو اس مقام میں ایک بقا حاصل ہوتی ہے، اپنے عین کے لیے عین اسم ہوتا ہے جو کہ ان کا مشہود ہے، مثلا خود کو علم یا قدرت یا ارادہ پاتے ہیں اور عین اس اسم کی جامعیت کی وجہ سے خود کو وجوب وقدم کے سوا تمام اسمائے الہی کا عین پاتے ہیں ، اسمائے الہی کی اس قسم کی تجلیات کو تجلیات معنویہ کہتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کو اس مقام سے ترقی نصیب ہوئی تو اس کا مشہود حضرت ذات جل سلطانہ کےاسماءوشیون کے آئینے میں ہے اور آئینے کے پوشیدہ ہونے کی وجہ سےاسماء کے شیون اس کی نگاہ سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں ، اس مقام میں شیون واسماء کچھ پوشیدہ ہونے کی وجہ سے صفات کے وجود کا حکم نہیں کر سکتا ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر(19)</span><br />
توحید کی دوا ہم قسمیں</h2>
<p>جو تو حید کہ طالبان حق جل سلطانہ کو اثنائے راہ میں ظاہر ہوتی ہے اس کی دوقسمیں ہیں،ایک تو حید شہودی اور دوسری توحید وجودی تو حید کی پہلی قسم اس طریق کی ضروریات میں سے ہے، یعنی جب تک طالب کا مشہود ایک نہ ہو اور پورے طور پر کثرت اس کی نظر سے دور نہ ہو مقام فنا سے جو کہ ولایت کا ابتدائی قدم ہے حصہ نہیں پاتا ہے اور وحدت دیکھنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ سب کو ایک دیکھے، یہ خود کثرت کا دیکھنا ہے ،لیکن اس وقت میں وہ کثرت کو عین وحدت جانتا ہے اور حق کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہے ،اسی طرح کثرت سے مراد یہی امکان کے صور و اشکال مخصوصہ یا متخیلہ ہیں کہ محض ان کے ارتفاع کی وجہ سے وحدت کا دیکھنا حاصل ہوتا ہے، خدا کی پناہ پھر خدا کی پناہ<br />
ہزار نکتے یہاں بال سے بھی ہیں باریک نہ جو کہ سر کو منڈا لے قلندری جانے<br />
نیز جب کثرت نظر سے اٹھ گئی تو ہمیشہ وحدت کا دیکھنا ہے ، نہ یہ کہ کبھی کثرت نظر سے اٹھ جاتی ہے اور کبھی مشہود ہوتی ہے، کثرت کا اس قسم کا زوال عدم میں داخل ہے، مقام فنا سے اس کو کچھ سروکار نہیں اور بقا کے بعد جو کہ تکمیل کے مقام میں ہوتی ہے کثرت حاصل ہوتی ہے ، وہاں بھی وحدت دائمی مشہود ہے اور کثرت بھی دائمی ہے، نہ یہ کہ کبھی وحدت مشہود ہے اور کبھی کثرت مشہو د اس لیے کہ وہاں فنا و بقا ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، عین فنا میں باقی ہے اورعین بقا میں فانی توحید کی دوسری قسم راہ کی ضروریات میں سے نہیں ہے اس لیے بعض کو اثنائے راہ میں اس سے اتفاق پڑتا ہے اور کسی کو نہیں ، جس گروہ کو زیادہ تر انجذاب قلبی کا ، جو کہ زیادہ منازل سلوک طے کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ، حصہ حاصل ہو جاتا ہے اس کو اس قسم کی تو حید زیادہ حاصل ہوتی ہے، ایک گروہ اور بھی ہے کہ اس راہ کے سالکوں کو انجذاب قلبی میں اس قسم کی توحید ظاہر نہیں ہوتی ہے، اس قسم کی توحید کی بنا سکر وقت اور غلبہ حال ہے اور قلبی محبت کا استیلاء ہے، اس لیے ارباب قلوب کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے جو منتہی حضرات اس مقام قلب سے گزرتے ہیں اور مقلب قلب سے جاملے ہیں اور وقت و حال سے اوقات کے موقت کرنے والے اور احوال کے بدلنے والے تک پہنچے ہیں اور سکر سے صحو تک آکر اور اس کے لیے انجذاب روحی پیدا کیا ہے، اس توحید سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ، ان میں سے بعض کو حقیقت پر اطلاع دیتے اور گزارتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگ نفی و اثبات سے کوئی کام نہیں رکھتے ہیں، متقدمین صوفیہ رحمۃ اللہ علیہم کا طریقہ اس طور پر واضح ہے کہ اس توحید کے ساتھ بہت کم مناسبت ہے، بلکہ اس کے ساتھ مناسبت معدوم ہے اور ان کا سلوک جو کہ مقامات عشرہ کے طے کرنے کے نام سے مشہور ہے تزکیہ نفس سے تعلق رکھتا ہے ، مقام تو حید محبت قلبی کا مقام ہے اور متقدمین کی بعض عبارتیں جو توحید پر دلالت کرتی ہیں مثلاً انا الحق اور سبحانی تو اس سے تو حید شہودی مراد لینا چاہیے تا کہ ان کے سلوک کے موافق ہو ، ہاں ایک جذبہ کے ساتھ ملے ہوئے سلوک کی بھی گنجائش ہے جو کہ اس توحید وجودی کے سالک کے دوران راہ میں پیش آتا ہے اور بعض کو اس مقام سے گزار کر انتہائے کار تک پہنچا دیتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اسی مقام سے الفت بخشتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ اسی مقام میں مقید رہتے ہیں، جاننا چاہیے کہ توحید وجودی کی ایک قسم جو کہ اس موقع میں بلکہ سابق حالات میں بھی تو حید وجودی کے مراقبات کی ممارست(مشق) اور کلمہ توحید بمعنی &#8220;لا الہ موجود الا اللہ سے تعلق کے بعد حاصل ہوتی ہے ، یہ ایسی توحید ہے کہ خیال کو اس میں پورا دخل ہے، گویا کثرت مزا ولت (کوشش)اور تکرار ممارست کی وجہ سے خیال میں ایک صورت بندھتی ہے اسے محبت سے چنداں تعلق نہیں ہوتا ، اگر چہ انجذاب و محبت کی آمیزش کے بغیر نہ ہوگا لیکن معلول ہے اور اس کے جعل کی تجعیل مجعول ہے تم جانو کہ توحید شہودی کا حصول تو حید وجودی کے بعد ہے ، جن لوگوں کو دونوں تو حیدیں ظاہر ہوتی ہیں جس وقت تک کہ توحید وجودی کے قابل ہوں رویت کثرت کی قید کے باعث کثرت رکھتے ہیں اور چونکہ کثرت پورے طور پر ان کی نظر سے دور نہیں ہوتی ہے تو حید شہودی حاصل نہیں ہوتی ہے اور توحید وجودی کے مقام سے آگے نہیں جاتے ہیں ، ان سطور کے کاتب کو دونوں توحید کے ساتھ مشرف کیا ، ابتدائے حال میں توحید وجودی گا انکشاف فرمایا، یہاں تک کہ کئی سال تک اس مقام میں رکھا اور اس مقام کے دقائق جتلائے اور اس کی حقیقت کی اطلاع دی، آخر کار کمال بندہ نوازی کی بنا پر اس مقام سے گزار دیا اور توحید شہودی کے مقام سے مشرف بنایا اور دونوں مقاموں کے علوم و معارف سے آگاہی بخشی ، توحید وجودی سیر آفاقی میں ہے اور اس سیر کا منتہا توحید شہودی ہے جس کی تعبیر فنا سے کی جاتی ہے، بقا کے بعد سیر انفسی ہے ، اس زمانہ کے بعض لوگ جو اپنے آپ کو اس گروہ سے سمجھتے ہیں، جس وقت کہ طالب اپنے آپ کو عین حق پاتا ہے تو حید وجودی میں جانتے ہیں جو کہ سیر انفسی میں داخل ہے اور جن اشیا کو کہ عین حق پاتا ہے سیر آفاقی جانتا ہے اللہ تعالی حق کو ثابت کرتا ہے اور سیدھا راستہ دکھاتا ہے اللہ تعالی حقیقت حال سے زیادہ باخبر ہے اوراللہ تعالی ہی مرجع اور مآل ہے</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;"> مکاشفه : 20</span><br />
اب کام کا وقت ہے</h2>
<p>برادر عزیز ! کام کا وقت ہے بات کا نہیں، ظاہر و باطن میں اس کی جناب قدس کا گرفتار ہونا چاہیے، اللہ سبحانہ کی اجازت کے بغیر آنکھ نہ کھولنی چاہیے۔ کام تو بس یہ ہے باقی ہیچ ہے</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ (21)</span><br />
نسبت نقشبندیہ کا امتیاز</h2>
<p>ایک مدت ہوئی ہے کہ باطنی سبق کی تکرار اور اس کے احوال کی کیفیات سے مطلع نہیں کیا ہے ، امیدوار ہوں کہ استقامت کے طریقے پر ہوں گے، جو کہ شجرہ طیبہ سے ماخوذ اور نقشبندی انوار سنیہ سے اقتباس کیا ہوا ہے، اس لیے کہ ان بزرگوں کا کلام دوا ہے اور نظر شفا ہے اور اللہ تعالی کی عنایت سے ان لوگوں کی صحبت میں برسوں کا کام ساعتوں میں آسان ہوتا ہے اور ان کا ایک التفات سینکڑوں چلہ سے بہتر ہے ، اس لیے کہ دوسروں کی نہایت ان بزرگوں کی بدایت میں مندرج ہوتی ہے اور ان کا طریق قریب ترین طریقہ ہے اور ان کی نسبت جو حضور و آگاہی سے عبارت ہے تمام نسبتوں سے بالا ہے، حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہم دوسروں کی نہایت کو بدایت میں درج کرتے ہیں اور فر ما یا کہ حق کی معرفت بہاؤالدین پر حرام ہے اگر ہماری ابتدا بایزید رحمۃ اللہ علیہ کی انتہا نہ ہو اور فرمایا کہ ہمارا طریقہ قریب ترین طریقہ ہے اور یقیناً پہنچانے والا ہے ، حضرت خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہماری نسبت تمام نسبتوں سے بالا ہے اور نسبت سے حضور و آگاہی مراد لیا ہے ، غرض ان اکابر کا کارخانہ بلند مرتبہ ہے، ہر مبتدی و منتہی اس سےنسبت نہیں رکھتے ہیں، مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں<br />
سکہ جو بطحا و یثرب میں چلا اب بخارا سے وہی جاری ہوا<br />
کون اس کے نقش سے ہے بہرہ مند ہاں دل بے نقشِ شاہ نقشبند<br />
ان کا اول آخر ہر منتہی انتہا ، جیب تمنا ہے تہی<br />
کیا کیا جا سکتا ہے، آپ کی صحبت چار گھڑی بھی نہ رہی کہ ان بزرگوں کے کمالات کا ایک شمہ بھی واضح کیا جاتا ، اب بھی کچھ نہیں گیا ہے،موقع غنیمت ہے اور اللہ تعالی توفیق بخشنے والا ہے، برادر عزیز! ایک توفیق آثار نے میاں شیخ فرید کو تمہاری خدمت میں بھیجا ہے تا کہ باطنی سبق کا کام انجام دے اور اس کو جلا بخشے، اللہ تمہیں راہ دکھائے، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ولایت و نبوت ہر دو کا حصول قرب حق سبحانہ کے مراتب میں ہے بغیر اس شائبہ کے کہ بندہ حق جل وعلی تک عروج کرتا ہے اور بغیر اس مظنہ (گمان)کے کہ اللہ تعالی نزول کرتا ہے بلکہ اللہ تعالی کا قرب بے چون و بے چگون ہے(اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کیسے کیونکر اوربحث و تکرار سے بلند و بالا ہے)، ہاں جو نسبت کہ بے چون کے ساتھ تعلق اختیار کرتی ہے مجبوراً بے چون ہوگی ، اس لیے کہ بندہ جب تک بے چونی کا مظہر نہ ہو گا اس قرب کو معلوم نہیں کر سکتا اور عام لوگ جو کچھ قرب کو سمجھتے ہیں بلکہ اکثر ارباب کشف و شہود اپنے کشف کے ذریعہ قرب کے معنی سمجھتے ہیں اور اس سے لذت حاصل کرتے ہیں، تو یہ اجسام لطیفہ کے قرب کے قبیل سے ہے کہ ذات( جل سبحانہ تعالی و تقدس) میں قدم رکھتا ہے اللہ تعالی اس سے بہت زیادہ بلند ہے، اللہ تعالیٰ کا قرب دو قسم کا ہے، ایک اس کی ذات جل شانہ کا قرب اور دوسرا اس کی صفات ( تعالت و تقدست ) کا قرب اور جو قرب کہ اسماء و صفات کے ظل سے تعلق رکھتا ہے ، وہ حقیقت میں اس قرب کے دائرہ سے خارج ہے اور اس پر قرب کے لفظ کا اطلاق مجاز کے طور پر ہے، پس ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کا بالاصالت قرب انبیا ء علیہم السلام کے حصے میں ان کے درجات کے اختلاف کے مطابق ہے اور مرتبہ نبوت کے کمالات تابعہ میں ہے اور انبیا کے اصحاب تبعیت کے مرتبہ پر اس قرب سے علی فرق مراتب حصہ رکھتے ہیں اور جو لوگ کہ اس قرب ذاتی کی دولت سے اصالتا یا تبعا مشرف ہیں یہ وہ سابقین ہیں جن کی شان میں آیت وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ اور جولوگ اعلی درجہ کے ہیں تو اعلیٰ درجہ کے ہیں وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں، یہ لوگ آرام کے باغوں میں ہوں گے، ان کا ایک بڑا گر وہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے )صادق ہے ہاں چونکہ اولین میں ہزاروں انبیا کرام تھے اور لاکھوں ان کے اصحاب تھے اس لیے لاز ما آخرین سے کثیر ہوئے جو کہ ایک پیغمبر خاتم الرسل رکھتے ہیں اور آپ کے اصحاب کرام کی ایک جماعت ہے اور آخرین وقت میں سے ایک قلیل مثلا حضرت مہدی علیہ الرضوان اور اکمل اصحاب ، ہو سکتا ہے کہ آنجناب ﷺ نے اس دولت کے حصول کے اعتبار سے جو کہ آخرین امت میں بھی ہوگا فرمایا ہوگا، کہ معلوم نہیں ان میں پہلے بہتر ہیں یا آخری اور صفات کا قرب کامل اولیا کا حصہ ان کی صلاحیتوں کے فرق کے اعتبار سے ہے اور یہ قرب انبیا ء علیہم السلام کی ولایت کے کمالات تابعہ سے ہے کہ پیروی کی وجہ سے ان کی پیروی کرنے والوں کو حاصل ہوا ہے ، اگر چہ اکثر اس قرب کو قرب ذات نہیں سمجھتے ہیں اور بے رنگی اور بے صفتی کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں ، یہ ایسا نہیں ہے بلکہ بے رنگی اور بے صفتی کی وجہ سے ان اصناف کو جو مرتبہ صفات میں میں بے رنگی اور بے صفاتی میں ایک صفت مطلق جو مرتبہ ذات میں ہے تصور کر کے وہم میں پڑ جاتے ہیں اور تجلی صفت کو تجلی ذات سمجھتے ہیں ، اس ولایت کے کمالات قرب صفات سے تعلق رکھتے ہیں اور کل کمالات درجہ نبوت ہے جو کہ قرب ذات کے ساتھ متعلق ہے اور جو لوگ کہ اسماء و صفات کے ظلال کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اس ولایت کاظل ہے بیک واسطہ یا بچند واسطہ اور اگر چہ اس قرب پر بھی ولایت کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں لیکن تجوز ( چشم پوشی)و مسامحہ (رعایت)سے خالی نہیں ہے، جیسا کہ پہلے گزرا ، اس لیے کہ قرب ظل کو جو کہ دائرہ امکان سے باہر ہے قرب اصل سمجھا ہے اور لفظ ولایت کا اس پر اطلاق کیا ہے، اس قرب تک پہنچنے والے بھی اولیا میں داخل ہیں اور فنا وبقا کے ساتھ متحقق ہیں ، اس لیے کہ یہ جماعت دائر و امکان سے باہر آگئی ہے اور ظلال وجوبی تک پہنچ گئی ہے، چنانچہ مجبور اً امکان سے خالی ہو کر کل وجوب کے ساتھ بقا پائے ہوئے ہیں ، جاننا چاہیے کہ دائرہ امکان سے باہر ہونے اور ظلال وجوب میں داخل ہونے سے مراد شہود کے اعتبار سے ہے نہ یہ کہ امکان سے حقیقت میں نکل کر ظلال وجوب میں داخل ہو جاتے ہیں کہ وہ یقینا متضاد ہے اور قلب حقائق کہ محال عقلی ہے ، تم جانو کہ مرتبہ نبوت جو قرب ذات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے مراتب ولایت کے اعتبار سے ایک محیط سمندر کی طرح ہے اور اس کو چند قطروں سے جو نسبت حاصل ہے ، ذات جل سلطانہ سے صفات تعالت و تقدست تک یہی نسبت ہے ، ظلال صفات تک کیا پہنچے ، نیز مرتبہ نبوت کا شہود شہودیت کے رنگ میں عالم میں ہے نہ عالم کے خارج میں اور نہ عالم سے اتصال رکھتا ہے اور نہ عالم سے انفصال، بخلاف شہود ولایت کہ عروج تام کے وقت وہاں شہود بیرون عالم ہے اور ہبوط (نزول )کے وقت عالم میں بلکہ اپنے نفس میں ہے؟ نیز صاحب کمالات نبوت علم کے لیے صانع جل سلطانہ کے ساتھ سوائے صانعیت اور مصنوعیت کے اور مولویت (مولائیت ) اور عبدیت کے اور کوئی نسبت نہیں دکھاتے ہیں، بخلاف ارباب ولایت اصلی وظلی کے کہ عالم کو ذات وصفات واجبی کا آئینہ جانتے ہیں اور اللہ تعالی کے اسم وصفات کے کمالات کا ظل سمجھتے ہیں اور جو شخص قرب ظل کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے، یہ دید اس میں زیادہ غالب ہوتی ہے اور ، جو کم مناسبت رکھتا ہے اس میں اس دید کی کمی ہوتی ہے لیکن اس دید کی اصل سے خالی نہیں ہوتا اگر چہ بعض اوقات میں ہوتا ہو مگر وہ شخص جو کہ ارباب علم میں سے نہ ہو اور جہل میں اس نے تربیت پائی ہو وہ بحث سے خارج ہے کیونکہ وہ تفصیل کے ساتھ اپنے احوال کا علم نہیں رکھتا ہے، نیز صاحب کمالات نبوت ہمیشہ عالم کے ساتھ ایک نسبت رکھتا ہے اور نہ عالم سے عروج رکھتا ہے اور نہ عالم میں نزول ، کیونکہ اپنے مشہود کو عالم سے خارج نہیں سمجھتا ہے کہ عروج کرے اور وہاں شہود کرے اور عالم میں داخل بھی نہیں سمجھتا ہے کہ نزول فرمائے اور دونوں عالم کا شہود ثابت کرے، بخلاف ارباب ولایت کے ، اسی طرح علمائے اہل حق نے جو فرمایا ہے: &#8221; حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نہ تو عالم میں داخل ہے اور نہ عالم سے خارج ہے، نہ عالم کے ساتھ متصل ہے اور نہ عالم سے منفصل ہے یہ مشکوۃ نبوت سے ماخوذ ہے اور انبیا ء علیہم السلام کی متابعت کے انوار سے لیا گیا ہے کیونکہ ارباب ولایت کے شہود کا مذاق اس معرفت سے دور اور مہجور ہے، نیز صاحب کمالات نبوت کی نظر جب عالم کی طرف کلی طور پر متوجہ ہوتی ہے یعنی ظاہر و باطن کے ساتھ عالم کی طرف توجہ فرماتا ہے یہاں تک کہ اس کا باطن حق سبحانہ وتعالیٰ کا دیکھنے والا ہے اور اس کا ظاہر عالم ملک کی طرف متوجہ ہے فوق کی طرف توجہ کے وقت نظر پورے طور پر جناب قدس جل شانہ تک محصور ہے اور عالم کی طرف توجہ کے وقت پورے طور پر عالم کی طرف نظر ہے، ان بزرگوں کے حق میں دونوں جہات کی طرف نظر مفقود ہے ، بخلاف ارباب ولایت کے کہ ان کا باطن اپنے حال پر ہے اور ان کے ظاہر نے عالم کی طرف توجہ کیا ہے اور اس مقام کو مقام تکمیل کہتے ہیں اور اس شہود کو شہود جامع ، بین الشهود والحق و شهود الخلق (شہود حق اور شہود خلق کا جامع شہود )کہتے ہیں اور اس مقام کو مقامات ولایت و دعوت کا کمال جانتے ہیں ، اس مقام میں جمع بین التنز یہ (پاک کرنا)والتشبیہ (مشابہت)کا اثبات کرتے ہیں اور اس توجہ جامع کو صرف توجہ تنزیہ سے بہتر رکھتے ہیں، ہر جماعت اسی چیز میں مگن ہے جو کہ اس کے پاس ہے ، اس ہزار سال میں معلوم نہیں ہے کہ کسی نے بھی اس معرفت پر لب کشائی کی ہو اور رجوع کے وقت میں پوری نظر عالم پر رکھ کر گفتگو کی ہو، بلکہ قریب ہے کہ اس بات کو نقص پر محمول کریں اور اس حالت کو ناقص جانیں، معذور ہیں، جنہوں نے چکھا ہی نہیں انہیں کیا معلوم ، ان کے عذر کو بیان کرتے ہیں معلوم ہو کہ رجوع کے وقت جب نظر پورے طور پر رجوع کرے تو اس کی علامت یہ ہے کہ کہ باقی کام کے فوق میں رہ گیا ہے اور مقصد حقیقی تک نہیں پہنچا ہے اور جب نظر پورے طور پر متوجہ ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ کام کو انتہا تک پہنچا کر تربیت خلق کی طرف رجوع فرمایا ہے، سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے اگر اللہ تعالی ہمیں اس کی ہدایت نہیں کرتا ، ہمارے پروردگار کے رسل حق کے ساتھ آئے ، یہ اور اس جیسی معرفت علوم و ہبی اور مواہب لدنی میں سے ہے، معارف کسبی اور علوم استدلالی میں سے نہیں ہے کہ اس کو ترتیب مقدمات کے ذریعے سر انجام دے سکیں، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;"> مکاشفہ: نمبر22 </span><br />
حقیقت کعبہ مشرفہ</h2>
<p>الحمد الله وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی ، برادر عزیز شیخ محمد طاہر بدخشی نے استفسار کیا ہے کہ رسالہ مبدا و معاد میں واقع ہے کہ جس طرح کعبہ کی صورت ، صورت محمدی ﷺکی مسجودالیہ ہے اسی طرح اس کی حقیقت بھی حقیقت محمدی کی مسجود الیہ ہے، اس سے حقیقت محمدیہ ﷺپر کعبہ معظمہ کی حقیقت کی فضلیت لازم آتی ہے، حالانکہ یہ ثابت ہے کہ عالم و عالمیان کی پیدائش کا مقصود آپ ﷺ ہیں ، اگر آپ نہ ہوتے تو اللہ تعالی افلاک کو پیدانہ کرتا اور نہ ربوبیت ظاہر ہوتی جیسا کہ وارد ہوا ہے، جاننا چاہیے کہ کعبہ کی صورت سے مراد سنگ و کلوخ نہیں ہیں کیونکہ بالفرض اگر یہ سنگ و کلوخ درمیان میں نہ ہوں تو بھی کعبہ کعبہ ہے اور مسجود خلائق ہے ، بلکہ کعبہ کی صورت باوجود یکہ عالم خلق سے ہے، حقائق اشیا کے رنگ میں ایک ایسا پوشیدہ امر ہے کہ حس و خیال کے احاطہ سے باہر ہے اور عالم محسوسات سے ہے اور کوئی محسوس اشیا ءکے لیے متوجہ الیہ نہیں ہے اور توجہ میں کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جس نے نیستی کا لباس پہنا ہے اور نہ نیستی ہے جس نے ہستی کے لباس میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے، جہت میں بے جہت ہے، ہمت میں بے ہمت ہے، غرض اس کی یہ حقیقت بین صورت ایک عجوبہ ہے کہ عقل اس کی تشخیص میں عاجز ہے اور عقلاء اس کے تعین میں حیران ہیں، گویا عالم بے چونی و بے چگونی کا نمونہ رکھتا ہے اور بے شبہی و بے نمونی کی علامت اس میں موجود ہے ، ہاں جب تک ایسا نہ ہو گا مسجودیت کے لائق نہ ہوگا اور موجودات میں سے سب سے بہتر حضور علیہ الصلوۃ والسلام شوق و آرزو کے ساتھ اس کو اپنا قبلہ اختیار نہ فرماتے فِيهِ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰت&#8221; اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ، اس کی شان میں نص قاطع ہے اور وَمَن دَخَلَهُۥ كَانَ ءَامِنٗاۗ اور جو اس میں داخل ہو گیا وہ مامون ہو گیا ، بیت اللہ کی مدح کرنے والے کا یہ فرمان اس کے حق میں ہے ، صاحب جل شانہ کی خاص کینونیت(وجود) اس کے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ اتصال و نسبت مجہول الکیفیت ، بے چون و بے چگون ہے وَلِلَّهِ ‌ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ &#8221; اللہ کے لیے بلند مثال ہے کہ عالم مجاز میں کہ قطرہ حقیقت ہے بیتوتیت (گھر)سے ماخوذ ہے جس کے معنی صاحب خانہ کی آرام گاہ اور جائے قرار ہے، دولت مندوں کے لیے اگر چہ بہت ہی نشست گاہیں اور بے شمار نشست و برخاست کی جگہیں ہیں لیکن گھر گھر ہے کہ اغیار کی مزاحمت سے بیگانہ ہے اور مسکن اور آرام گاہ جانانہ ہے، اگر چہ بمصداق حدیث قدسى ولكن يسعنى قلب عبد المومن &#8221; لیکن میں مومن بندے کے قلب میں سماتا ہوں کچھ مومن بندے کا قلب بے چونی کے ظہور کی گنجائش پیدا کرتا ہے لیکن بیت کی نسبت جو کہ بیوتیت سے ماخوذ ہے کہاں سے پیدا کرے گا اور مزاحمت اغیار کی ممانعت کہاں سے لائے گا جو کہ لوازم بیت میں سے ہے اور چونکہ غیر اور غیر یت کو اس جگہ میں دخل نہیں ہوتا ہے اس لیے نا چار سجدہ گاہ خلائق ہوتا ہے کہ غیر کے لیے سجدہ نہیں ہوتا ہے اور غیریت مسجودیت کے منافی ہے، حضرت محمد مصطفے ﷺنے اپنی جانب سجدہ تجویز نہیں فرمایا ہے، بیت اللہ کی جانب شوق ورغبت کے ساتھ سجدہ کیا ، تفاوت کی حقیقت یہاں سے معلوم کرو ساجد اور مسجود کے درمیان کس قدر فرق ہے، اے برادر:جب تم نے کعبہ معظمہ کے متعلق کچھ سن لیا تو اب تھوڑا اس کی حقیقت کے متعلق بھی سنو، کعبہ کی حقیقت اس واجب الوجود کی ذات بے چون جل سلطانہ سے عبارت ہے کہ ظہورظلیت کی گرد نے اس تک راہ نہیں پائی ہے اور معبودیت و مسجودیت کے شایاں ہے ، اس حقیقت جل سلطانہ کو اگر حقیقت محمدی ﷺ کا مسجود کہیں تو کیا دشواری لازم آتی ہے اور اس کی اس پر فضلیت کیا کمی رکھتی ہے یہاں حضرت محمد مصطفے ﷺکی حقیقت تمام افراد عالم کے حقائق سے افضل ہے لیکن کعبہ معظمہ کی حقیقت منجملہ عالم کے نہیں ہے کہ اس کی طرف اس کی نسبت کی جاسکے اور پہلے کی افضلیت میں توقف کیا جائے، تعجب ہے کہ عقلائے ذوفنون نے ان دو صاحبان دولت کے ساجدیت و مسجودیت میں صورتوں کے تفاوت کی طرف دھیان نہیں دیا کہ مقام اعتراض میں رہے اور تشنیع کے لیے لب کشائی کی، حضرت حق سبحانہ وتعالی ان کا انصاف کرے کہ بے سمجھے ملامت نہ کریں، اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور اپنے امور میں ہمارے اسراف کو بخش دے اور ہمارے قدموں کو ثبات بخش دے اور کا فرقوم کے مقابلہ میں ہماری مددفرمادے۔</p>
<h2><span style="color: #800080;">مکاشفه : 23 </span><br />
مقالات فتوح الغیب کا حاصل</h2>
<p>حسب ارشاد کتاب فتوح الغیب کے مخصوص مقالات مطالعہ کیے ، ان مقالات کا حاصل ارادت اور ہویٰ کے فنا کا بیان ہے جو اس راہ کے قدموں میں سے ایک قدم ہے اور افعال کی تجلی کا نتیجہ ہے کہ اول تجلیات ہے ، آپ نے لکھا تھا کہ اس کتاب مستطاب کا حاصل خلق و نفس، خواہش، ارادہ اور اختیار کے فنا میں منحصر ہے، فقیر کی نظر میں اپنے تمام احوال کرامت مال کو بیان کیا ہے، فوری فائدہ جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ ولایت کا مرتبہ کس قدر بلند مرتبہ ہے، خصوصاً آنحضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی ولایت کبری مخدوم و مکرم ! خواهش وارادہ کا فنا کرنا مطالب مقصود میں سے نہیں ہے بلکہ اس سے مقصود استعداد اور قابلیت کا حصول ہے کہ بے نہایت تجلیات و ظہورات حاصل ہوں ، ایسی تجلیات و ظہورات کہ اگر بالفرض اس کا ایک شمہ ظہور میں لایا جائے تو قریب ہے کہ نزدیک کے لوگ دوری چاہیں اور دور والوں کا کیا کہنا، ان ظہورات کے ضمن میں قرب و منازل کے مراتب اور انبساط جو حاصل ہوتے ہیں اگر ان میں سے تھوڑا بیان کیا جائے تو دانا لوگ الحاد و زندقہ کا حکم لگا ئیں ، نادانوں کا شکوہ کیا کیا جائے ، وہاں خواہش و ارادہ کے فنا کا نام زبان پر لانا ہزاروں عار ہے ،ضرورت کی بنا پر کاہل مبتدیوں کی تربیت کرنے کے لیے فنا کی اس قسم کو بیان کرتے ہیں اور حصول و مطلوب کے مقدمہ کو کھولتے ہیں ، پس معلوم ہوا کہ کمالات ولایت جس سے اولیا کے قدموں کا تفاضل متعلق ہے وہ کوئی دوسری چیز ہے ، ارادہ اور خواہش کا فنا ایک قدر مشترک ہے کہ اس کے حاصل کیے بغیر کمالات ولایت کی طرف راہ نہیں ہے<br />
اپنی ہستی میں نہ ہو جب تک فنا پائے کب راہ حریم کبریا<br />
اب تھوڑا سا حال کمالات ولایت سے ظاہر کیا جاتا ہے ، ذکر کے وقت یعنی ابتدائی حالات میں سالک ممکنات کے ذرات میں سے ہر ایک ذرہ کو ذاکر پاتا ہے، خواہ آفاق ہوں یا انفس اور توجہ کے وقت جو کہ مقام ذکر سے اوپر ہے ہر ذرہ کو جناب خداوندی جل سلطانہ کی طرف متوجہ دیکھتا ہے اور بوقت شہود جو کہ عالم سے تعلق رکھتا ہے اور آئینہ میں ظاہر ہوتا ہے ، ذرات میں سے ہر ذرہ کو حسن لا زوال کا آئینہ جانتا ہے بلکہ ہر ذرہ کواسماء وصفات کا جامع جانتا ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر24</span><br />
سالک طریقت کا اختیار</h2>
<p>اے مخدوم! جو ارادت کہ سالک کو اختیار و ارادت کے فنا کے بعد عطافرماتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ اس ارادے کے ذریعے جو کچھ کرامات اور خوارق عادات چاہے وقوع میں آئے جیسا کہ عوام خلائق کا گمان فاسد ہے بلکہ ممکن ہے کہ کسی کامل کو یہ ارادت عطا فرمائیں اور کرامات و خوارق عادات میں سے کچھ بھی نہ ظاہر کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس ارادے کا مالک اس پہلے ارادے کے مالک سے اعلی و ارفع ہو، شیخ الشیوخ قدس سرہ نے عوارف میں فرمایا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندے پر آیات و کرامات کا مکاشفہ بندے کی تربیت اور اس کی کیفیت اور ایمان کی تقویت کے لیے کرتا ہے ، اس کے بعد صاحب کشف و خوارق کی حکایات بیان کیں، پھر فرمایا کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی بخشش ہے اور کبھی اس کا مکاشفہ کچھ لوگوں کو ہوتا ہے اور عطا ہوتا ہے، حالانکہ ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ان سے بلند مرتبہ ہوتے ہیں لیکن ان کو ان چیزوں میں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تا کہ یقین کی تقویت ہو اور جس کو یقین کامل عطا ہو چکا ہو اس کو ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور یہ تمام کرامات قلب میں ذکر کے جاگزیں ہونے اور ذکر ذات ہو جانے سے کم درجے کی ہیں اور قریب قریب یہی بات شیخ الاسلام ہروی قدس سرہ نے منازل السائرین میں فرمائی ہے اور تجربہ سے جو چیز میرے نزدیک ثابت ہے وہ یہ کہ اہل معرفت کی فراست ان کی اس تمیز میں ہے کہ کون حضرت عزوجل کی صلاحیت رکھتا ہے اور کون نہیں اور ان اہل استعداد کو معلوم کرتے ہیں جو کہ اللہ سبحانہ کے ساتھ مشغول ہوئے اور حضرت جمع تک پہنچے ہیں، یہ اہل معرفت کی فراست ہے لیکن ریاضت، بھوک ، تنہائی اور تصفیہ باطن کی فراست بغیر اس کے کہ جناب حق سبحانہ کا وصل حاصل ہو ، تو یہ کشف صور کا اور ان مغیبات کے اخبار کا کشف ہے جو کہ حق تعالی کے ساتھ مخصوص ہیں، چنانچہ ان کو صرف خلق کی طرف سے جزا ملتی ہے، اس لیے کہ یہ لوگ حق سبحانہ کی طرف سے محجوب ہیں لیکن اہل معرفت کا یہ حال نہیں ہے بلکہ ان کے اشغال ایسے ہوتے ہیں کہ حق سبحانہ کے معارف ان پر وارد ہوتے ہیں، چنانچہ ان کی خبریں اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہیں اور چونکہ اکثر اہل علم اللہ تعالیٰ سے منقطع ہوتے ہیں اور دنیا میں مشغول ہوتے ہیں اس لیے ان کے دل کشف صور اور خبروں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو کہ مخلوقات کے احوال سے پوشیدہ ہوتے ہیں چنانچہ ان لوگوں نے ان کی تعظیم کی اور اعتقاد کیا کہ یہی لوگ اہل اللہ اور اس کے مخصوص لوگوں میں سے ہیں اور اہل حقیقت کے کشف سے اعراض کیا اور ان کو متہم کیا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا بدلہ ملے گا اور ان لوگوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ اہل حق ہوتے جیسا کہ دعوی کرتے ہیں تو ہمیں مخلوقات کے احوال کی خبر دیتے تو وہ کس طرح امور کے کشف پر قادر ہو سکتے ہیں ، ان پر جن لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا اور جن لوگوں نے ان کی تکذیب کی ، یہ قیاس فاسد ہے اور صحیح خبریں ان پر پوشیدہ رہ گئیں ہیں اور ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالی نے ان لوگوں کو خلق کے لحاظ کرنے سے اور ان کو ماسوا سے بے پروا کرنے اور ابھارنے کی طرف سے ان کی حفاظت کی ہے، اگر یہ لوگ خلق کے احوال کی طرف متوجہ ہوتے تو حق سبحانہ و تعالیٰ کی صلاحیت نہ رکھتے ، پس اہل حق خلق کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، جس طرح اہل خلق حق تعالیٰ کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور ہم نے اہل حق کو دیکھا ہے کہ جب انہوں نے کشف صور کی طرف ادنی التفات کیا تو انہوں نے اس کی وجہ سے ایسی چیز کا ادر اک کیا کہ دوسرے لوگ فراست کی وجہ سے ان صور کے ادراک پر قادر نہیں ہیں ، میں نے اس کا نام معرفت رکھا ہے اور میدان امور میں فراست ہے جو جناب حق سبحانہ اور اسکے قرب سے تعلق رکھنے والے ہیں، اور ہر دنیا دار کے مسلمان ، نصاری ، یہود اور دیگر جماعتیں اس میں شریک نہیں ہیں، اس لیے کہ یہ اللہ تعالی کے نزدیک شریف نہیں ہیں ، اس لیے اس کے اہل ہی اس کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر25</span><br />
دائرہ ظل کا افہام</h2>
<p>دائرہ ظل واجب تعالیٰ کےاسماء و صفات ہیں ، یہ مرتبہ تعینات خلائق کو تضمن ہے سوائے انبیا کرام اور ملائکہ عظام علیہم السلام کے اور ہر اسم کاظل اشخاص میں سے کسی ایک کے تعین کا مبدا ہے اور یہ دائرہ اصل حقیقت میں اسماء وصفات کے مرتبہ کی تفصیل ہے، مثلاً صفت علم ایک حقیقی صفت ہے کہ جزئیات اس صفت کے ظلال (ظہورات ) ہیں جو کہ اجمال کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور ہر چیز اس حقیقت کا انبیا کرام اور ملائکہ عظام علیہم السلام کے علاوہ اشخاص میں سے ایک شخص ہے اور انبیا و ملائکہ علیہم السلام کے تعینات کے مبادی ان ظلال کے اصول ہیں ، یعنی جزئیات مفصلہ کے کلیات ہیں، مثلا صفت علم ، صفت قدرت ، صفت ارادہ وغیرہ اور اکثر اشخاص ایک صفت میں شرکت رکھتے ہیں مثلاً خاتم الرسل ﷺ کے تعین کا مبدا صفت علم ہے اور یہی ایک اعتبار سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعین کا مبدا ہے، نیز ایک اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام کے تعین کا مبدا ہے اور لوگوں نے جو کہا ہے کہ حقیقت محمدی ﷺحضرت اجمال ہے اورعین اول جس کو وحدت کہا جاتا ہے اس دائرہ ظل کا مرکز ہے اور اسی دائرہ ظل کو مرکز اول کا تعین سمجھا ہے اور اس کے مرکز کو اجمال سمجھ کر وحدت کا نام دیا ہے اور اس مرکز کی تفصیل کو جو کہ دائرہ کا محیط ہے احدیت گمان کیا ہے اور دائرہ ظل کے مقام فوق کو جو کہ اسماء وصفات کا دائرہ ہے، ذات بے چون تصور کیا ہے کیونکہ صفت کو عین ذات کہا ہے اور زائد نہیں سمجھا ہے ، حالانکہ حقیقت میں یہ دائرہ فوق کا مرکز ہے جو کہ اس کی اصل ہے اور اسکو کے دائرہ اسماءو صفات کہا جاتا ہے اور حقیقت محمدیﷺ اسی دائرہ اصل کا مرکز ہے اور اس مرکز کے ظل پر حقیقت کا اطلاق کرنا اصل کے ساتھ ظل کے اشتباہ پرمبنی ہے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مبدا تعین جو کہ انبیا کے بعد افضل البشر ہیں اور یہ دائرہ اسماء و صفات کے لیے خاص کر دائرہ اصل ہے اور دوسرا دائرہ جو اس کے اوپر ہے اس اصل کی اصل ہے اور ایک قوس دوسرے دائرہ سے بھی اس کے اصول سے اور اس کے بعد پھر ظاہر نہیں ہوا، مگر اسی قدر قوس جس قدر کہ تصور کیا جاسکے، یہاں ایک راز ہوگا کہ اس پر اطلاع نہیں بخشی ہے اور یہ اصول حضرت ذات حق تعالی و تقدس میں محض اعتبار ہے، جو کہ صفات زائد کا مبادی ہوا ہے اور جب سیر کو اس جگہ پہنچا دیا تو و ہم ہوا کہ کام انجام تک پہنچا دیا ہوگا ، ندادی کہ یہ تفصیل جو تم نے گزاری اور دیکھی (دراصل) اسم ظاہر کی تفصیل تھی کہ وہ اڑنے کا ایک بازو ہے اور اسم باطن اب تک آگے ہے اور جب اس کو تفصیل کے ساتھ انجام کو پہنچائے گا تو اپنے اڑنے کے لیے دوسرا باز و تیار کر لیا ہوگا ، چونکہ اللہ سبحانہ کی عنایت سے اسم باطن کا سیر انجام تک پہنچ گیا، اس لیے دوسرا باز و بھی مہیا ہو گیا اور مطلوب تک اڑنا میسر ہو گیا ، اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت کی ، اگر اللہ تعالی ہمیں ہدایت نہیں دیتا تو ہم ہدایت نہیں پاسکتے تھے، ہمارے پروردگار کے پیغمبر حق لے کر آئے ، اسم باطن کی سیر کے متعلق کیا لکھے کہ اس حال کے مناسب پوشیدگی اور راز داری ہی ہے اور بے ظن ہے ، اس مقام کے متعلق اس قدر ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسم ظاہر کی تفصیل کی سیر صفات میں سیر ہے بغیر اس کے کہ ان کے ضمن میں ذات تعالی و تقدس ملحوظ ہو اور اسم باطن کی سیر میں اگر چہ اسما ءکی سیر ہے لیکن ان کے ضمن میں ذات ملحوظ ہے ، اسماءسیروں کے رنگ میں ہیں کہ ان کے ماوراء اللہ تعالیٰ کی ذات ملحوظ ہوتی ہے، مثلاً علم میں ذات ملحوظ نہیں ہے اور اسم علیم میں ذات ملحوظ ہے علم کے پردے میں، کیونکہ علیم وہ ذات ہے جس کو علم ہے، پس علم میں سیر اسم ظاہر میں سیر ہے اور سیر فی العلیم اسم باطن میں سیر ہے ، اس پر تمام صفات و اسما ءکو قیاس کرو، یہ اسما ءجو کہ اسم باطن سے تعلق رکھتے ہیں ملائکہ کے مبادی تعینات ہیں ، اس فرق کو تھوڑا نہ خیال کرو اور یہ نہ کہو کہ علم سے علیم تک تھوڑی راہ ہے ، ہر گز نہیں ، جو فرق کہ خاک کے مرکز اور عرش کے درمیان ہے اس فرق کے ساتھ ایک قطرہ کا حکم رکھتا ہے جو کہ دریائے محیط کے ساتھ اس کو نسبت ہے، گفتگو میں تو نزدیک ہے لیکن حصول میں دور ہے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے، اسم ظاہر اور اسم باطن کے دو بازو کے حصول کے بعد جب پرواز واقع ہوئی اور عروجات میسر ہو گئے تو معلوم ہوا کہ یہ ترقیات اصل میں ناری حصہ ہیں اور عنصر ہوائی اور عنصر آبی اور ملائکہ کرام ان ترقیات میں شریک ہیں کیونکہ ان عناصر سے حصہ رکھتے ہیں اور اس سیر کے دوران واقعہ میں دکھایا گیا ہے گویا میں ایک راہ پر چل رہا ہوں اور بہت زیادہ چلنے کی وجہ سے بہت تھک گیا ہوں وجوب کے لحاظ سے اور میں ایک عصا رکھتا ہوں کہ شاید اس کی مدد سے چل سکوں ، لیکن میسر نہیں ہوتا تھا اور ہرخس و خاشاک میں ہاتھ ڈالتا ہوں کہ چلنے کی قوت حاصل ہو، میرے لیے چلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ، جب ایک مدت تک میں نے اس حال میں سیر کیا تو ایک فنائے شہر ظاہر ہوا، اس فنا کے طے کرنے کے بعد اس شہر میں داخلہ واقع ہوا، معلوم کیا کہ یہ شہر تعین اول سے کنایہ ہے جو کہاسماء و صفات اور شیون و اعتبارات کے تمام مراتب کو جامع ہے ، نیز ان مراتب کے اصول کو جامع ہے اور اصول اصول اعتبارات ذاتیہ کے منتہا کی انتہا ہے کہ ان کا اعتبار علم حصولی کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس کے بعد اگر سیر واقع ہو تو علم حضوری کے مناسب ہے اور یہ تعین اول تمام ولایت کا منتہا ہے، خواہ ولایت کبری ہو اور خواہ ولایت علیا ہو جو کہ ملاء اعلیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور جامع ہے تمام ولایت انبیا و ملائکہ کرام کو ، اس مقام میں ملاحظہ ہوا کہ آیا یہ تعین اول شاید وہی حقیقت محمدی ﷺہے جو کہ مشائخ نے کہا ہے؟ معلوم ہوا کہ نہیں ہے اور حقیقت محمدی ﷺ دوسری ہے جو کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے، لہذا جو سیر کہ اس شہر کے اوپر واقع ہوتی ہے کمالات نبوت میں سیر ہوگی جو کہ انبیا کو اصالتاً حاصل ہے اور اولیائے کاملین کو ان حضرات کی اتباع کی وجہ سے حاصل ہے اور ان کمالات سے خاک کے عنصر کے لیے کافی حصہ ہے اور تمام اجزائے انسانی خوا ہ عالم امر سے ہوں یا عالم خلق سے سب اس مقام میں اس پاک عنصر کے تابع ہیں اور مرتبہ خواص بشریہ کے لیے خواص ملک اس راہ سے حاصل ہوئے ہیں ، اس لیے کہ عنصر (خاک) بشر کے ساتھ مخصوص ہے، اگر چہ عناصر اربعہ کے کمالات کمالات مطمئنہ سے اوپر ہیں جیسا کہ اس کی تحقیق کی جا چکی ہے لیکن مطمئنہ اس مناسبت کے واسطے سے جو کہ اس ولایت کے مقام سے رکھتی ہے اور عالم امر سے ملحق ہے، صاحب سکر ہے اور مقام استغراق میں یقیناً مخالفت کی مجال اس میں نہ رہی ہے اور عناصر( اربعہ ) کے لیے چونکہ مقام نبوت سے مناسبت زیادہ ہے اس لیے ان میں صحو غالب ہے، مجبور اًمخالفت کی صورت کو ان میں باقی رکھا ہے بعض منافع اور فوائد حاصل کرنے کے لیے جو کہ ان کے ساتھ متعلق ہیں۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفہ: نمبر26</span><br />
دو خدشوں کا جواب</h2>
<p>برادر عزیز خواجہ محمد ہاشم کشمی نے پوچھاتھا کہ بعض فضلا ء ان دو باتوں میں خدشہ رکھتے ہیں، ایک یہ کہ ہزار سال کے بعد حقیقت محمدی ، حقیقت احمدی ہو جاتی ہے اور عبارت کا تتمہ لکھا جو کہ اس فقرہ کے بعد واقع ہے اور دونوں اسم کا مسمی متحد ہو جاتا ہے، اس عبارت کو ملاحظہ کرنے کے بعد دیکھیں کہ وہ خدشہ باقی رہتا ہے یا نہیں، کیا چیز مانع ہے کہ ایک مسمیٰ اپنے ان دو ناموں کے ساتھ جن سے دو کمالات مخصوصہ مراد ہیں یکے بعد دیگرے طویل زمانہ کے بعد متحقق ہو اور ایک کمال سے دوسرے کمال کی طرف ترقی کرے جو کہ بالقوہ اس میں موجود تھا، یہ فلاسفہ کا قول ہے کہ انہوں نے مجردات میں تمام کمالات کے بالفعل حاصل ہونے کا اعتبار کیا ہے اور قوت سے فعل کی طرف ترقی کو جائز نہیں قرار دیا ہے، یہ ان کی کوتاہ نظری کے باعث ہے، جس شخص کے دودن برا بر ہوں تو وہ خسارے میں ہے،اس وجہ سے ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جن کا نزول آنجناب ﷺ کی بعثت کے ایک ہزار سال کے بعد( کسی وقت ) ہوگا ، آنحضرت ﷺکو احمد کے نام سے یاد کیا ہے اور اپنی قوم کو آنحضرت ﷺکی تشریف آوری کی بشارت اس نام سے دی ہے جو کہ اس اسم کی دولت کا زمانہ ہے ، ورنہ اس غیر مشہور نام کو یاد کرنے کی کیا گنجائش تھی کہ ایک مخلوق اشتباہ میں پڑ جائے اور اسم سےمسمی کی طرف راہ نہ پائے ، نیز اس سے قیاس کرنا چاہیے کہ آنجناب ﷺ زمین پر محمدﷺ ہیں اور آسمان پر احمد ، کیونکہ کمالات محمدی ﷺ اہل زمین کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور کمالات احمدی ﷺ آسمان اور ملاء اعلیٰ سے اور جب آنجناب ﷺکی رحلت کو ایک ہزار سال گزر جائے جس مدت کو پورا دخل ہے اور امور کے تغیر و تبدل کے باعث آپ کو اہل زمین سے مناسبت کم رہے تو کمال احمدی طلوع کرے اور اس کمال کے علوم و معارف کا ظہور فرما ئیں تو خدشہ کیا ہے؟ اور تردد کیا ہے جو کہ خدشہ میں بیان کیا ہے ، جہاں کہ حقیقت ہے وہاں زمانہ نہیں ہے اور نہ تغیر و تبدل ہے، کہ یہ سوال پیدا کیا جائے کہ حقیقت سے کیا مراد ہے اور تغیر و تبدل سے کیا مطلوب ہے، قلب حقیقت نہیں ہے بلکہ حقیقت کا ایک کمال سے دوسرے کمال کی طرف تقلب ہے اور ایک رنگ سے دوسرے رنگ میں رنگنا ہے ، اس بیان سے دو تشکیکات حل ہو گئے جو ظاہر کیے تھے کہ اس سے مراد اپنی حقیقت ہے ورنہ ہزار کی قید کیوں ہے اور کیوں کہا ہے کہ ہزار سال کی دعا قبول ہو گئی کیونکہ حقیقت احمدی ﷺواقع ہوگئی اور ہزار سال کا فائدہ واضح ہو گیا ، دوسرا خدشہ یہ ہے کہ اس صباحت و ملاحت سے کیا مراد ہے کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفے ﷺ اور حضرت خلیل الرحمن علیہ السلام اس کے جامع نہ تھے اور انہوں (حضرت مجدد )نے جمع کرایا ، صباحت و ملاحت سے وہی صباحت و ملاحت مراد ہے جس کے متعلق آنجناب ﷺ نے فرمایا: &#8220;میرے بھائی یوسف صبیح تھے اور میں ملیح ہوں ملاحت کو اپنے لیے ثابت کیا ، جو کہ ان کے پدر کلاں خلیل الرحمن علیہ السلام سے ان کو پہنچی ہے ،اگر ایک خادم خدمت گزاری کرے اور مشاطگی صاحب جمال کے حسن کو تازگی پہنچائے اور زینت بخشے اور زیب دار بنائے اور خوبی کے ساتھ اپنی دلالت اور صاحب جمال کو جمع کرے اور ایک دوسرے کے حسن کو ایک دوسرے کے ساتھ ملائے تو ان دو صاحبان جمال کا کیا قصور ہے؟ اور شان خدمت گاری کے حسن میں کونسا نقص ہے؟ خادموں کا مخدوموں کی امداد کرنا مخدوموں کی عظمت شان کو ظاہر کرتا ہے اور ان کی ہیبت و جاہ کے کمال کی خبر دیتا ہے، جس مخدوم کے پاس خدام نہیں ہیں کہ اس کی خدمت کریں اور اس کی امداد و اعانت کریں وہ اس بادشاہ کی طرح ہے جس کے پاس خدم و حشم ہوں اور بغیرلشکر اور فوجیوں کے زندگی گزارتا ہے، امداد و اعانت تمام لوگوں سے قصور ہے لیکن خدم و حشم کی طرف سے کمال اور محمود ہے اور بصیرت چاہیے کہ تفریق کرے اور محمود کو مذموم سے جدا کرے ، سبحان اللہ وبحمدہ، کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان میں سے کسی شخص کے ہزاروں ہنر ظاہر ہوں اور بظاہر ایک عیب بھی رکھتا ہو تو اس عیب کو پیش نظر رکھتے ہیں اور ہنروں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور زبان ملامت دراز کرتے ہیں ، وہ نہیں جانتے کہ وہ عیب بھی شاید ظاہر سے پھرا ہوا ہو اور دانشمندی پر مشتمل ہو، ایسے کلام جو کہ ظاہر سے پھرے ہوئے ہیں کتاب وسنت میں اور مشائخ طریقت کے کلام میں بہت زیادہ ہیں، اسلام میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس قدر جاننا چاہیے کہ وہ شخص زندیق ہے جو کہ اپنے آپ کو نبی سے بہتر اور افضل سمجھے اور نبی کو بعض امور میں اپنا تابع سمجھے اور عبارتوں سے اس معنی کا وہم کرنا صاحب عبارت کے زندقہ کا حکم لگاتا ہے، حضرت حق سبحانہ و تعالی انصاف کرے<br />
رومی نے کوئی کفر کہا ہے نہ کہے گا منکر نہ ہو اس سے کہ یہی کفر و بلا ہے<br />
میں صاحب خدشہ کو محب سمجھتا تھا اور قبول کرنے والا خیال کرتا تھا ، انکارکی صورت کہاں سے پیدا کی اور ایک دم عناد کی راہ اختیار کی ، جو سوالات عناد و تعصب کی وجہ سے پیدا کیے ہیں وہ جواب کے مستحق نہیں ہیں اور معذرت کے مستوجب نہیں ہیں لیکن تم چونکہ متوسلوں میں سے ہو اس لیے اس کے جواب کے لیے لب کشائی کی گئی اللہ سبحانہ صواب کا الہام کرنے والا ہے اور اس کی طرف مرجع اور لوٹنے کی جگہ ہے۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">  مکاشفہ : 27</span><br />
خلق عیال اللہ ہے</h2>
<p>اے مخدوم مکرم ! حدیث قدسی میں آیا ہے کہ &#8221; خلق میرے عیال ہیں“<br />
جب مخلوقات اس کے عیال ہوں تو ان کے ساتھ احسان مولی جل شانہ کی کس قدر خوشنودی کا سبب ہوگا کہ یہ اللہ تعالی کے اعیال کے ساتھ احسان ہے اور منقول ہے کہ تمہارے جد بزرگوار حضرت شیخ قدس سرہ اس کمال شفقت ومہربانی کی بنا پر جو کہ ان کو تلوقات پرتھی دعاء کرتے تھے کہ خدایا تو مجھ کو اس قدر بڑا اور جسم بنا دے کہ سارا دوزخ مجھ سے اس طرح پر ہو جائے کہ کسی گنہ گار کی اس میں گنجائش نہ ہو اور کسی گنہگار کو عذاب نہ دیا جائے اور بمصداق الولد سر لابیہ “ حضرت شیخ کی اولاد کرام سے بھی یہی قسم متوقع ہے اور یقین جانیں کہ ان کا آنا فقرا کے لیے باعث سرور ہوا ہے ، حضرت حق سبحانہ و تعالی آپ کو مسرور رکھے اور آبائے کرام کے طریقہ ہوپر استقامت بخشے ۔</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفه : 28</span><br />
دنیا دار العمل ہے</h2>
<p>معلوم ہوا کہ یہ دار دار عمل ہے، فراغت و آسودگی کا گھر نہیں ، چاہیے کہ اپنی ہمت کو اعمال میں پورے طور پر منہمک رکھیں اور اپنی فراغت اور عیش کو ایک طرف رکھیں، اپنی زبان کو لا اله الا اللہ “ کے ذکر کے ساتھ اس قدر مصروف بنا ئیں کہ بے ضرورت اس کلمہ طیبہ کے سوا گفتگو نہ کریں، چاہیے کہ زبان سے ذکر دل کی موافقت کے ساتھ خفی طریقہ پر کیا جائے ، اگر ہو سکے تو پانچ ہزار بار سے اس کلمہ کو کم نہ کہیں اور زیادتی میں انہیں اختیار ہے، کابلی اور ستی نصیب دشمناں ہو عمل کرنا چاہیے عمل کرنا چاہیے، عمل کرنا چاہیے۔ گھر میں اگر ہے کوئی تو ایک حرف بس ہے</p>
<h2><span style="color: #800080; font-size: 20px;">مکاشفه : 29</span><br />
عالم آب و گل کی حقیقت</h2>
<p>شک نہیں ہے کہ عالم حق سبحانہ کا پیدا کیا ہوا ہے اور ثبات و استقرار رکھتا ہے اور ابدی معاملہ کا تعلق دائمی عذاب و ثواب اخروی سے ہے جس کے متعلق مخبرصادق ﷺنے خبر دی ہے ، اس عالم کو علمائے ظواہر موجود خارجی جانتے ہیں اور آثار خارجی سمجھتے ہیں اورصوفیہ عالم کومو ہوم جانتے ہیں اور وہم وحس کے سوا اور کسی مرتبہ میں اس کا ثبوت و اثبات نہیں کرتے ہیں، ایسا موہوم نہیں جو کہ محض وہم کے اختراع کے باعث ہوا ہو کہ وہم کے مرتفع ہونے سے وہ بھی مرتفع ہو جائے ، ہرگز نہیں، بلکہ حق جل وعلا کی صنعت کی وجہ سے مضبوط اور مستحکم ہے ، مرتبہ وہم میں ثبوت و تقرر پیدا کیا ہے اور موجود کا حکم اختیار کر لیا ہے، ان بزرگوں کے نزدیک خارج میں موجود صرف حق سبحانہ و تعالی ہے اور عالم کا ثبوت صرف علم میں ہے اور خارج میں بھی ثبوت و تقرر کے سوا اس کے حصے میں نہیں ہے وَلِلَّهِ ‌ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ للہ کے لیے بلند مثال ہے ) اس موجود حقیقی جل شانہ اور اس موہوم خارجی کی مثال نقطہ جوالہ ہے اور دائرہ موہومہ جو کہ مرتبہ حس وو ہم میں اس نقطہ کی تیزی رفتار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور وہم میں ایک ثبوت پیدا کیا ہے، پس حقیقت میں دائرہ کا ثبوت صرف وہم میں ہے، ورنہ موجود صرف وہی نقطہ ہے ۔<br />
ہے یہی اچھا کہ محبوبوں کا راز یوں کہیں جیسے کہ ہے غیروں کی بات<br />
چونکہ عالم جو اعراض (وہ اشیاء جو قائم بالذات نہ ہوں)مجتمعہ ہے ، ذاتیت اور جو ہر یت(کسی شے کی اصل) اس میں کائن (موجود)نہیں ہے کہ اس کے ساتھ اعراض کا قیام ہو اور ذات موہوب (بخشا گیا)کے ساتھ قیام ہو ، عارف تام وہ معرفت دیتا ہے ، اس کو ان پر مقدم بنا تا ہے اور اس ذات موہوب کو بے چونی سے کوئی حصہ نہ ہوگا ، جیسا کہ اس کی تحقیق دوسرے مکاتیب میں کی گئی ہے اور جب بے چونی سے حصہ پیدا کر کے دید و دانش سے باہر ہو گیا اور فہم و وہم سے خارج ہو گیا تو عقل سلیم جس قدر جستجو میں رہے اس سے کچھ حاصل نہ کرے، تیزی رفتار کے باوجود جس قدر بھی دور دور تک جائے کچھ بھی پتہ نہ پائے اور وراء الورا پائے ، جو ہر یت اور امکان کے باوجود جو ہر یت اور امکان کا حکم اس میں مفقود ہے اور نیستی کے حکم کے علاوہ کوئی اور حکم قبول نہیں کرتا ہے۔</p>
<h2>حدیث جامع الخیرات</h2>
<p>نوادر الاصول میں حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے بیان کیا : ” ایک دن رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے ، اس وقت ہم لوگ مدینہ مشرفہ کی مسجد میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے آج رات عجیب بات دیکھی، میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے آیا تو والدین کے ساتھ اس کا حسن سلوک آیا اور اس فرشتے کو واپس کر دیا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب قبر اس پر پھیلا ہوا تھا تو اس کا وضو آیا اور اس عذاب کو اس سے دور کر دیا اور میں اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ شیاطین نے اس کا احاطہ کر لیا تھا، اللہ کا ذکر آیا اور اس کو ان سے نجات دلائی اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ عذاب کے فرشتے اس کو گھیرے ہوئے تھے تو اس کی نماز آئی اور ان کے ہاتھوں سے اس کو چھڑایا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا ، جب بھی حوض کے پاس آتا تو اسے روک دیا جاتا ، اس کا روزہ آیا او( اس نے ) اسے پلایا اور سیراب کیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ انبیا حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے ، جب بھی یہ شخص ان کے حلقوں کے پاس پہنچتا تو وہ بھگا دیا جاتا ، اس کا غسل جنابت آیا اور اس کو پکڑ کر حلقے کے پاس بٹھا دیا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے آگے تاریکی تھی ، اس کے پیچھے تاریکی تھی ، اس کے دائیں تاریکی تھی اور اس کے بائیں تاریکی تھی ، اس کے اوپر تاریکی تھی اور اس کے نیچے تاریکی تھی تو اس کا حج اور عمرہ آیا اور اس کو نجات دلائی اور نور میں اسے داخل کیا یا فرمایا کہ ان دونوں نے اس کو نجات دلائی اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو مومنین سے کلام کرتا تھا لیکن وہ لوگ اس سے کلام نہیں کر رہے تھے تو صلہ رحم آیا اور کہا کہ اے مومنین کی جماعت اس سے کلام کرو، تو ان لوگوں نے اس سے کلام کیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ اس حال میں کہ آگ اور اس کے شرارے اس کے سامنے بھڑک رہے تھے تو اس کا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر آیا اور اس کو ان کے ہاتھوں سے چھڑایا اور ملائکہ رحمت کے ساتھ داخل کیا اور میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے گھٹنوں کے بل پڑا تھا، اس کے اور اللہ کے درمیان حجاب تھا، اس کا حسن خلق آیا اور اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کا صحیفہ اس کے بائیں طرف گرا ہوا تھا، خوف الہی آیا اور اس کے صحیفہ کو لے کر اس کے دائیں ہاتھ میں ڈال دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کا میزان ہلکا تھا تو افراط(کثرت) نے آکر اس کے میزان کو وزنی کر دیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو جہنم کے دہانے پر کھڑا تھا ، اس کا علم آیا اور اس کو اس سے نجات دلائی، پھر وہ گزر گیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو آگ میں دیکھا تو اس کے وہ آنسو آئے جو آگ کے متعلق اللہ تعالی کے خوف سے بہے تھے اور اس کو آگ سے نکلوایا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو صراط پر کھڑا تھا اور شعلہ کی طرح کانپ رہا تھا تو اللہ کے ساتھ اس کا حسن ظن آیا اور اس کا کانپنا موقوف ہوا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا کبھی گھسٹ کر چل رہا تھا اور کبھی گھٹنوں کے بل چل رہا تھا تو اس کی نماز آئی اور اسے سیدھا کھڑا کیا تو وہ صراط پر گزر گیا اور میں نے اپنی امت میں سے ایک شخص کو دیکھا جو جنت کے دروازوں تک پہنچا تو دروزے اس کے سامنے بند کر دیئے گئے تو لا الہ الا اللہ&#8221; کی شہادت آئی اور دروازے اس کےلیے کھول دیئے اور اس میں داخل کر دیا ۔<br />
مے باقی وماہتاب باقی ما راز تو صد حساب باقی</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b4%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&#038;title=%D9%85%DA%A9%D8%A7%20%D8%B4%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%DB%8C%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%db%8c%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/" data-a2a-title="مکا شفات عینیہ از مجدد الف ثانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%a7-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%db%8c%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رسالہ تہلیلیہ مجدد الف ثانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%aa%db%81%d9%84%db%8c%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%aa%db%81%d9%84%db%8c%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Mar 2022 02:52:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[مجدد الف ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تقدیر" خبر  لا"کی بحث]]></category>
		<category><![CDATA[عوام کی توحید اور خواص کی توحید]]></category>
		<category><![CDATA[فلاسفہ کا مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[کلمہ طیبہ کے فضائل]]></category>
		<category><![CDATA[لفظ اللہ کی تحقیق میں تحیر عقلاء کا راز :]]></category>
		<category><![CDATA[لفظ جلالت میں لطائف عجیبہ]]></category>
		<category><![CDATA[نبوت کی دلیل]]></category>
		<category><![CDATA[وحدانیت کی دلیل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6265</guid>

					<description><![CDATA[رسالہ تہلیلیہ تعارف  &#8220;حامداً ومصليا على رسول الله&#8221; یہ ر سالہ عربی زبان میں ہے جس کا نام تہلیلیہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا الله محمد رسول اللہ “ کے بارے میں <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%aa%db%81%d9%84%db%8c%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1 class="wp-block-heading">رسالہ تہلیلیہ</h1>
<h2>تعارف</h2>



<p> &#8220;حامداً ومصليا على رسول الله&#8221;</p>



<p>یہ ر سالہ عربی زبان میں ہے جس کا نام تہلیلیہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں کلمہ طیبہ ’’لا الہ الا الله محمد رسول اللہ “ کے بارے میں عظیم اور جلیل اسرار کو نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا ہے، ان حقائق و اسرار سے مصنف شہیر کے فکری وعلمی ، روحانی و وجدانی کمال کا اظہار ہوتا ہے ، اس کا تاریخی نام معارف&#8221; <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللَّهُ ‌مُحَمَّدٌ ‌رَسُولُ ‌اللَّهِ </strong>&#8221; (1010ھ  ہے یہ اکبراعظم کا دور تھا جب دین اسلام پر &#8220;دین الہی‘‘ کے کلہاڑے چل رہے تھے،متعد وعقائدو نظریات کو تبدیل کیا جا رہا تھا جہاں تک کہ اسلام کی بنیاد کلمہ طیبہ کو بھی بدلنے کیا سازش کی گئی محمد رسول اللہ کی جگہ معاذ اللہ اکبر خلیفۃ اللہ کے الفاظ کا حکم نا فذ کیا گیا ۔ ان حالات میں حضور امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ  علیہ نے فاروقی غیرت و حمیت کا ثبوت دیا اور لوگوں کو کلمہ طیبہ کے فضائل ولطائف ،تو حید باری کے دلائل اور وجود باری سے متعلق صوفیہ وفلاسفہ کے افکار و آراء سے آ گاہ فر ما یا اور آخر میں اپنے اہم موضوع یعنی حضور ختم نبوت ﷺکے محامد ومحاسن کو نہایت دلآو یز پیرائے میں تحریر کیا ، نیز قرآن عظیم کے معجزہ نبوت ہونے پر شواہد پیش کئے ،اس رسالہ کی تحقیق و تحریر کے موقع پر آپ کی عمر مبارک چھتیس سال تھی ، جس سے آپ کے علمی رتبہ کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ، اس میں آپ کا صوفیا نہ رنگ خوب نکھرا ہے ،حضرت ابوالحسن زید فاروقی  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ رسالہ نسبت نقشبندی حاصل ہونے سے پہلے لکھا گیا‘‘ کیونکہ اس میں صوفیہ وجود یہ کے احوال و آثار سے استفادہ کیا گیا ہے، یہ بات زبدة المقامات میں بھی ہے، اگر یہ درست ہے تو اس کا سال تصنیف 1008ھ سے پہلے ہونا چاہئے ،( واللہ علم الصواب) رسالہ تہلیلیہ کے بہت سے مباحث معارف لدنیہ اور مکتوبات شریفہ میں بھی مذکور ہیں ، اس میں آپ نے اپنے رسالہ اثبات النبوۃ کا بھی ذکر فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالہ تہلیلیہ رسالہ اثباۃ النبوۃ  کے بعد تحریر  فرمایا گیا ہے ، ان دونوں رسالوں کی بہت سی چیزیں مشترک بھی ہیں ، مثلادونوں میں حضور سید المرسلین ﷺ کے فضائل و کمالات کا خوبصورت جہان آباد ہے ۔</p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ </strong>الرَّحْمَنِ<strong> الرَّحِيمِ</strong></p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالِمِيْنَ ‌وَالْعَاقِبَةُ ‌لِلْمُتَّقِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ‌عَلَى ‌رَسُوْلِهِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ الْعَالَمِيْنَ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ</strong></p>



<p>  یہ رسالہ کلمہ شریفہ</p>



<p><strong>لااله الا الله محمد رسول الله</strong> کی تحقیق میں رقم ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">تقدیر&#8221; خبر  لا&#8221;کی بحث</h2>



<p> سوال: اگر آپ کہیں کہ خبر لا سے پہلے تقدیر  (کسی لفظ یا کلمہ کا کسی کلام سے محذوف ہونا ، عبارت میں کسی لفظ کے نہ ہونے کے باوجود اس کے معنی لئے جانا)کا مانناضروری ہے تو ایسے عبارت لاالہ موجود الا اللہ ہوگی ، جو دوسرے معبود کے&#8221; عدم امکان&#8221; کو مفید نہیں ،اگر عبارت ایسے ہولا الہ ممكن الا اللہ تو یہ وجود مستثنی پر دلیل نہیں لہذا یہ دونوںصورتیں ہی غلط ہیں ۔</p>



<p> جواب: ہم کہتے ہیں کہ ہم صورت اول کو اختیار کرتے ہیں جیسا کہ خبرلا کی تقدیر میں مشہور ہے اور اس کے غلط نتیجے کو باطل قرار دیتے ہیں ، کیونکہ دوسرے خدا کا موجود ہو ناممکن نہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہم یہ عقید رکھیں لیکن یہ لازم نہیں  کر کلمہ توحید ہی اس طرح کی ہر بات پر دلالت کرے ، البتہ اتنا جائز ہے کہ یہ اس پر کافی ہے ،اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ، یہی اس کا مقصد ہے اور یہ اس مطلب میں نہایت عمدہ ہے ۔</p>



<p>سوال: اگر آپ کہیں بنو تمیم کی زبان کے مطابق لاکوخبر ثابت کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ ابن الحاجب سے منقول ہے ، وہ اس کوخبر نہیں مانتے ۔</p>



<p> جواب: ہم کہتے ہیں کہ یہ بات محققین کے نزد یک ’’غیر معتمد“ ہے حتی کہ اندلسی نے کہا’’ <strong>لا ادري من اين نقله ولعل مقالته</strong> ‘‘  ’’میں نہیں جانتا کہ یہ کہاں سے لی گئی ہے، ہوسکتا ہے یہ اس کا قیاس ہو“</p>



<p>حق یہ ہے کہ بنو تمیم اس کو اس وقت چھوڑ تے ہیں جب یہ کسی سوال کا جواب ہواور جب کوئی قرینہ اس پر دلالت کرتا ہو، جب کوئی قرینہ نہ ہو تو اس کے خلاف قطعاً جائز نہیں ، پھر اس صورت میں تو بالکل جائز نہیں ہوسکتا جب اس پر دلیل بھی نہ ہو، (واللہ اعلم )</p>



<h2 class="wp-block-heading">  لفظ اللہ کی تحقیق میں تحیر عقلاء کا راز :</h2>



<p>السید السند نے الکشاف کے حواشی میں فرمایا:</p>



<p>’’ جس طرح عقلاء اللہ تعالی کی ذات وصفات میں عظمت و جبروت کے انوار کی بدولت حیرت زدہ ہیں اس طرح لفظ اللہ میں حیرت زدہ ہیں ، گو یا اس کی طرف بھی ان انوار کی کر نیں عکس اندازہیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہیں ، چنانچہ ان میں اختلاف ہوا کہ لفظ اللہ عبری (سریانی)ہے ، کہ عربی ، اسم ہے کہ صفت ، یہ کسی اصل سے مشتق ہے اور غیر مشتق ہے تو کیا ہے عَلَم  ہے یا غیر  عَلَم ؟</p>



<p> اس میں کئی اقوال میں ہے کہا گیا ہے کہ اس کی اصل الہ ہے ، ہمزہ محذوف ہے ، اس کی جگہ الف اور لام آ گئے ،اس لئے قطع کر کے یآاللہ کہا گیا ہے اگر آپ کا موقف ہو کہ کیا وجہ ہے کہ صورت ندا میں ہمزہ قطعی ہوگا اوربصورت دیگر اصلی ، ہم کہتے ہیں کہ صورت ندا میں ہمزہ ، الف لام معرفہ کے عوض قطعی ہوگا ، اور بصورت دیگر یہ مفہوم اس سے بالکلیہ خارج نہیں ہوتا لہذ امعنا معرفہ ہوگا اس کو خوب جانئے ، لفظ اللہ بالحق معبود ساتھ مخصوص ہے ، کیونکہ اللہ اصل میں ہر معبود کو کہا جا سکتا ہے ، وہ حق ہو یا یاطل ، پھر یہ غالب طور پر معبود برحق کے لئے بولا جانے لگا۔</p>



<p> اور کہا گیا ہے کہ اس کی اصل <strong>اَلْاِ لٰہَ</strong> ہے، ہمزہ اپنی ثقالت کی وجہ سے محذوف ہوا اور لام شامل ہوا۔</p>



<p> اور کہا گیا ہے کہ اس کی اصل الاهیۃ والوهية واُلوهية ہے یعنی ، عبد بمعنی تعبد اور تاله و استاله، بھی اسی سے مشتق ہیں( یعنی اس نے عبادت کی ہے )</p>



<p> اور کہا گیا ہے،اَلِہَ سے ہے، جب حیران رہ جاۓ ، گو یا عقول اس کی معرفت  میں حیران ہیں ، یا اَلْھِتُ الی فلان سے ہے، اس کا مطلب ہے کے اس کی جانب سے سکون نصیب ہوا،تو بے شک ارواح اس کی معرفت سے تسکین لیتی ہیں ۔</p>



<p> اور کہا گیا ہے کہ وہ اس کی ذات مخصوصہ کیلئے عَلَم ہے، گو یا جامد ہے ،اس کیلئے کوئی اشتقاق نہیں کہ اس کی توصیف کی جاتی ہے ، اس کے ساتھ تعریف نہیں تو یہ ضروری ہوا کہ اس کا کوئی اسم گرامی ہو جو اس کی صفات کا ملہ کی پہچان ہو کہ اس کے علاوہ کسی اور لفظ کا اطلاق اس پر صحیح  نہ ہو ، اگر اسے صفت مانا جائے تو قول <strong>لَا ‌إِلٰهَ ‌إِلَّا ‌اللہ </strong>، تو حید نہیں جیسا کہ <strong>لا اله الا الرحمن</strong> نہیں ہے کہ اس سے شرک نہیں رکتا۔</p>



<p> یہ بات محل نظر ہے کہ دلائل مذکورہ ثبوت مطلب پر دلالت نہیں کر تے کیونکہ دلیل اول’’ نفی وصفیت‘‘ پر دلالت کرتی ہے نہ کہ ثبوت علمیہ پر ، جبکہ اجناس کے اسمااور لفظ ’’ الشی‘‘ ایک طرح ہیں اور دلیل ثانی ثبوت علمیہ پر دلالت نہیں کرتی جیسا کہ پوشیدہ نہیں اور دلیل ثالث اس لئے درست نہیں کہ ممکن ہے ’’ اوصاف غالبہ‘‘ میں سے ہو ، دوسرے کیلئے مستعمل نہ ہو اور شرکت غیر کو مانع ہولیکن اس کے باوجو دعلم بھی نہ ہو اور <strong>لا الہ الا الرحمن</strong> تو حید کیلئے کیوں مفید نہیں ، لفظ رحمن کا اطلاق بھی غیر خدا پر نہیں ہوتا اور خدا کے سوا کسی کی اس کے ساتھ تعریف نہیں کی جاتی ، یہ عَلَم کی مانند ہے جو’’ شرک‘‘ کو روکتا ہے ، جیسا کہ تم دیکھتے ہولہذ ااس پر غور کر نا چا ہئے ۔</p>



<p>قاضی بیضاوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ذات مخصوصہ کیلئے علم سے روکا ہے کہ اس کی ذات ایسی ہے جو ہر اعتبار سے حقیقی اور انسان کی عقل سے بالا ہے ، لہذا ایک لفظ کا اس پر دلالت کرنا ناممکن ہے، یہ بھی محل نظر ہے کیونکہ  محض یہ وجہ قابل قبول نہیں کہ اس لفظ اللہ کو مقرر کر نے والا وہ خود سبحانہ وتعالی ہے ، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔ اگر آپ کہیں کہ بے شک کسی شے کا علم ایک طریقے سے حاصل ہو تو اس علم سے مغائر ہوگا جو دوسرے طریقے سے حاصل ہو، یہ علماۓ کثیر کا قول مختار ہے ،پھر اس طرح جائز ہے کہ اس کی ذات مشخصہ‘‘ کوکسی طریقے سے جانا جائے جیسا کہ واجب بالذات اور معبود بالحق ، وہ لفظ اللہ ذات معلومہ کیلئے اس لئے مقرر فرماتا ہے کہ یہ لفظ اس پر دلالت کرتا ہے ۔</p>



<p>ہم کہتے ہیں کہ اس جگہ خصوصیت ذات کی وجہ سے علم ضروری ہے کہ وہ لفظ مانع شرک ہو ،ورنہ کسی چیز کا عام علم اورکلی مفہوم اس مطلب کیلئے کفایت نہیں کرتا یہاں تامل ضروری ہے کہ یہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔ واللہ المستعان</p>



<h2 class="wp-block-heading">لفظ جلالت میں لطائف عجیبہ</h2>



<p> بعض محققین نے لفظ اللہ کے لطائف میں فرمایا ہے اگر اس کا تلفظ ہمزہ کے ساتھ نہ ہو، یعنی للہ ہو،  تو بھی بامعنی ہے <strong>لِلَّهِ ‌جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ </strong>، اللہ کیلئےہیں زمینوں اور آسمانوں کے لشکر ،اگر لام باقیہ چھوڑ دیا جاۓ تو باقی’’ ہاۓ مضمومہ ہوگی جوھو سے ہے، ( تو بھی با معنی ہے) <strong>لا الـه الاهـو</strong> ، اس میں واو زائدہ ہے، اس کی سقوط میں ھما اور ہم رہ جاتے ہیں ، اس میں تامل ہے جیسا کہ عربی میں ادنی درایت رکھنے والے پر بھی پوشیدہ نہیں ، اب رہا معنی کے حساب سے تو آپ اس کو لفظ ’اللہ کے ساتھ پکاریں گے تو ایسے ہے جیسے آپ نے اسے تمام صفات کے ساتھ پکارا ، بخلاف دوسرے تمام اسماء کے ،لہذ ا فقط اس لفظ سے کلمہ کی شہادت زیادہ درست ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">وحدانیت کی دلیل :</h2>



<p>اس ذات سبحانہ کے واحد ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر دو قدرت والے خدا ہوتے تو مقدورات کی نسبت دونوں کی طرف یکساں ہوتی ، کیونکہ علت قدرت اور علت مقدوریت دونوں میں پائی جاتی ہیں اس سے لازم ہوا کہ وہ مقد ور معین دونوں کی قدرت سے ہوتا اور یہ محال ہے کیونکہ مقدور واحد پر دومستقل قد رتوں کا وارد ہو نا ممکن نہیں اور دونوں میں سے ایک ایسا کرے تو بھی محال ہے کہ اس سے ترجیح بلا مرجع لازم آتی ہے، پس حاصل ہوا کہ متعدد خداؤں کو تسلیم کرنے سے ممکنات کی کسی چیز کا وجود صحیح نہیں رہتا کیونکہ مذکورہ دونوں محالات میں سے ایک محال کو اختیار کرنا ہوگا اور محال کا التزام بھی محال ہوتا ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں اس پر یہ بر ہان حق دلیل کافی ہے، لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ ‌لَفَسَدَتَا اگرز مین و آسمان میں اللہ کے سوا اور معبود ہو تے تو فساد بر پا ہوتا ، اس مطلب کے اثبات کیلئے یہ دلیل مشہور ہے جو بیان سے بے نیاز ہے ۔</p>



<p>حکما نے کہا ہے کہ اگر واجب الوجود دو ہوتے تو ان کے نزدیک ثابت ہوسکتا ہے کہ وجوب کے نفس ماہیت میں تمایز ہے، اس سے ان کا مرکب ہونا لازم آتا ہے اور یہ محال ہے، کیونکہ مرکب ہونے کیلئے ضروری ہے کہ کوئی واجب الوجود نہ ہو،ترکیب ، وجوب کے منافی ہے، جبکہ فرض اس کے خلاف کیا تھا ،شرح مواقف میں درج ہے کہ اس مسئلہ میں وثنیہ اور ثنو یہ(دو خالق کا عقیدہ رکھنے والے) کے علاوہ کوئی مخالف نہیں ، وہ دوالہٰوں کے وجود کو واجبی نہیں کہتے اور نہ بتوں کو صفات الہیہ سے متصف کرتے ہیں ، اگرچہ ان پر’’اسم الہ‘‘ کا اطلاق کر تے ہیں ، بلکہ انہوں نے نبیوں ، زاہدوں ،فرشتوں اور ستاروں کی تماثیل تراش لیں اور عبادت کی غرض سے ان کی تنظیم میں مشغول ہو گئے تا کہ ان تماثیل کے ذریعے وہ معبود حقیقی تک رسائی حاصل کر سکیں ۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">کلمہ طیبہ کے فضائل :</h2>



<p>اور لیجئے اب اس کلمہ شریفہ کے فضائل جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں</p>



<p> بخاری ومسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ  عنہ  سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے بھی صدق دل سے گواہی دی <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللَّهُ ‌مُحَمَّدٌ ‌رَسُولُ ‌اللَّهِ </strong>اس پر اللہ نے آگ حرام کر دی ۔</p>



<p>. بخاری ومسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ  عنہ   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بندے نے کہا <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌الله</strong> اور اسی پر فوت ہوا، وہ جنت میں داخل ہوا، میں نے عرض کیا ، اگر چہ وہ زنا اور چوری کرے؟ فر ما یا : اگر چہ وہ زنا اور چوری کرے، میں نے عرض کیا ، اگر چہ وہ زنا اور چوری کرے؟ فرمایا اگر چہ وہ زنا اور چوری کرے، میں نے عرض کیا ، اگر چہ وہ زنا اور چوری کرے؟ فرمایا ابوذر کی ناک خاک آلودہ ہوا ، گر چہ وہ زنا اور چوری کرے ۔</p>



<p>وہ عطا پر عطا ہی کرتے ہیں                  گوخطا پر خطا کرے کوئی</p>



<p>  مسلم نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ  عنہ   سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا جس نے گواہی  دی لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللَّهُ وانَّ ‌مُحَمَّدٌ ‌رَسُولُ ‌اللَّهِ، اللہ نے اس پرآگ کو حرام کر دیا ۔ مسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ  عنہ   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوفوت ہوا اور جا نتا تھا کہ لا اله الا الله وہ جنت میں داخل ہوا۔</p>



<p>احمد نے حضرت معاذ رضی اللہ  عنہ   سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت کی چابیاں یہ شہادت ہے <a><strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللہ </strong></a>۔</p>



<p> ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت جابر رضی اللہ  عنہ    سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: افضل الذكر <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللہ </strong>ہے اور افضل الدعاالحمد اللہ ہے۔</p>



<p> شرح السنہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ  عنہ    سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت موسی علیہ نے عرض کی ، مولا مجھے ایسی چیز سکھا جس کے ساتھ تیرا ذکر کروں اور جس کے ساتھ تیرے حضور دعا کروں ،فرمایا: اے موسی لاا اله الا اللہ کہا کر و، عرض کیا مولا یہ تو ہر بندہ کہتا ہے ، میں کوئی مخصوص چیز چاہتا ہوں ، فرمایا: اے موسی ! اگر ساتوں آسمان اور ان میں میرے سوا تمام بسنے والے اور ساتوں زمینیں ایک طرف ہوں اور <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللہ </strong>ایک طرف تو <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللہ</strong> والا پلڑ ا وزنی ر ہے گا ۔</p>



<p> مفسرین نے قول سبحانه <strong>إِلَيْهِ ‌يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ</strong> کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے مراد کلمات تو حید لا اله الا اللہ ہیں اور وہ <strong>لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَقَالَ ‌صَوَابًا</strong>کے ضمن میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد درست قول ہے اور وہ ہے شفاعت کر نےوالاقول <strong>لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللہ </strong>جو دنیا میں کہا تھا ۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">عوام کی توحید اور خواص کی توحید :</h2>



<p> جان لو کہ اہل اسلام میں عوام کی توحید یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ شرک کا انکارکیا جاۓ کہ واجب لذاتہ وہی ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے، اس پر نجات اخروی اور سعادت ابدی کا مدار ہے اور ظاہر میں تمام انبیاء کرام نے یہی تبلیغ فرمائی اور صوفیہ جو کہ اللہ والے ، کشف والے ،مشکوۃ نبوت سے اقتباس کر نے والے ، جو زمین کے اوتاد ہیں ، جن کی برکات سے اہل زمین کی طرف رحمت نازل ہوتی ہے اور جن کے صدقے ان کو بارش دی جاتی ہے ، رزق دیا جا تا ہے، جووہ قوم ہیں جن کا ساتھی کبھی شقی نہیں ہوتا ،ان کی تو حید اس سے عبارت ہے کہ وجود میں اس کے شریک کی نفی کی جاۓ کہ ان کے نزدیک اس کے سوا کوئی موجود نہیں ، وہ مطلق تھا اور اس کے ساتھ کوئی کون وقید نہیں تھی اور وہ اب بھی مطلق ہے اور جس کو عالم ، غیر و ماسوایا مقید کہا جا تا ہے ، وہ محض دکھاوا ہے ،انتقاش (نقش ،شکل)ہے ، جیسا کہ عارف نے کہا ۔</p>



<p>دوئی را نیست رہ  در حضرت تو        ہمہ عالم توئی و قدرت تو</p>



<p>حضرت شیخ صدر الدین قونوی  رحمۃ اللہ علیہ  نے النصوص میں فرمایا کہ وجود واحد میں بڑے شبہات وحجابات اور تعد دات واقعہ وہی ہیں جن کو اعیان ثابتہ کے آثار کہتے ہیں ،ان سے یہ گمان ہوتا ہے کہ اعیان ثابت بھی وجود میں بالوجود ظاہر ہیں ، جو آثار اس میں ظاہر ہوۓ تو وہ ظاہر نہیں ہوئے اور کبھی نہیں ہو سکتے کہ ان کی ذات میں ظہور کا حوصلہ نہیں ۔</p>



<p> ہمارے شیخ والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ کنز الحقاق میں فرمایا کہ یہ قید عالم محض دکھاوا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالی کی صناعی سے جس نے ہر چیز کو ٹھہرایا ہے لہذایہ موجود حقیقی کے نمائندہ کا حکم رکھتا ہے اور اس پر دنیوی و اخروی احکام کا ترتب ہے، جیسا کہ کتاب وسنت سے منطوق ہے ، پس یہ ابدی بن گیا ہے کہ کسی کے زوال دینے سے زوال پذیر نہ ہو گا ماسوا اس کے جس نے اسے اثر بقا دیا ہے، اس لئے اس کو مراتب وجود عطا کئے اور ہرگز یہ قید عالم نفس الامر(اعیان ثابتہ یعنی صور علمیہ) میں موجود حقیقی نہیں ، بلکہ معدوم محض ہے الا عيـان مـاشـمـت رائحة الوجود اعیان نے وجود کی بو تک نہیں سونگھی اور موجودحقیقی اللہ واحد قہار کے سوا کوئی نہیں ، اس لئے وجودمرتبت تنزل سے موسوم ہے، اللہ سبحانہ کے لیے نہ تنزل ہے اور نہ ترقی ، و وتو ہر قید سے پاک ہےحتی کہ ا طلاق کی قید سے بھی متعلق الوجودمراتب احکام کے لیےجامع ہے لیکن ہر مرتبہ  کیلئے احکام مختص ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ جو ان کی حفاظت نہیں کرتا ۔ زندیق ہے ، لہذا اس نے ان کے بیان و حفاظت کیلئے کتابوں کو نازل فرما یا ااور رسولوں کو ارسال کیا ،اس مطلب شریف کے ادراک کے لیے صوفیہ کرام کے پاس وجدان صحیح اور مکاشفات حقانی کی شان ہے ،انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے کشف وعیان سے ظاہر ہوا کہ اللہ سبحانہ کا وجود عین ذات ہے اور اسی کےسواحققیتاکوئی موجود نہیں اور تمام اشیاء شیون و اعتبارات سے اس کی ذات کے ساتھ لاحق ہیں۔ حقیقی وجود اللہ سبحانہ کا ہے جو اپنی ذات سے قائم ہے ، وجود اور موجود ایک ساتھ۔ ہیں ،لان مـعـنـى الـمـوجود ما قام به الوجود ، کہ موجود کا معنی ہے تو وجود کے ساتھ قائم ہو، یہ برابر ہے کہ یہ قیام صفت بالموصوف کی قبیل سے ہوشے کا قیام بنفسہ ہو، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت و جو دوہی ہے جو اپنی ذات کے ساتھ قائم ہونہ کہ جو غیر کے وصف سے قائم ہو، پس مناسب نہیں کہ اس کا غیر اصلا موجود ہو لہذا مرتبہ وجود میں نہج کمال پر ممکن اور واجب میں تفاوت اور تباعدہ ہوگا ، یہی وجہ ہے کہ ذات سبحانہ عین وجودہ ہے اور ذات ممکن عین وجودہ نہیں، وواپنے وجود سے متصف اور اپنے وجود کیلئے معروض نہیں، بلکہ ممکن تو وجود کیساتھ نسبت حاصلہ کے سبب نظر آتا ہے، گویا وجود ممکنات کا موجود ہونا اس نسبت خاص سے عبارت ہے جو اسے اس قائم بالذات وجود سے ہے ، ہاں یہ نہیں ہوسکتا اس کا وجودان ممکنات سے قائم ہو مثلا لوہار اس شخص کو کہتے کہ لوہا جس کی صنعت کا مصنوع ہو ، اس کولو ہے سے نسبت خاص ہو نہ کہ لوہا اس کی ذات کے ساتھ قائم ہو، یا شمس کی طرح کہ اس پانی کو کہتے ہیں جس نے سورج کے ساتھ نسبت خاص حاصل کی اور اس کے محاذات سےوہ تپش لیتاہے ، پس عالم مر تبہ وجود میں مرتبہ وجود حق  سے بہت ہی نیچے ہے، تراب کا رب ا لارباب سے کیا مقابلہ مطلق بے نیازی اور کمالات صوری ومعنوی حق سبحانہ کیئے ثابت ہیں وہی عین  وجود اور اصل کمالات ہے ۔</p>



<p><strong>ولو وجهها من وجهها قمر               ولعینها من عینھا کحل</strong></p>



<p>چاند اس کے رخ روشن سے روشن ہے اور آنکھ اس کی آنکھ سے سرمگیں ہے۔</p>



<p>مخلوق میں ذاتی طور پر ذلت اور احتیاج ہے کہ حقیقت میں اس کا وجود و نمودنہیں ، بلکہ وہ تو وجو دحق سبحانہ کا عکس ہے جو اعیان کے شیشوں میں اور اس کی جلوہ گاہوں میں ظاہر ہوا ، وہ ان کے معدوم پر باقی ہے ، جیسے پانی ، برتن کے رنگ کے ظہور کے سامنے ، اس میں عدم رنگ پر بقا ہے ، وہ اس کے غیر کا رنگ ہے،اس کا اپنا کوئی رنگ نہیں ، حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ  سے توحید کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا<strong>: لون السماء لون اناء ه</strong> ، پانی کا رنگ اس کے برتن کا رنگ ہے ، یعنی بے شک وجوداور کمالات جواعیان میں ظاہر ہوۓ ، وہ نہیں مگر حق کیلئے اور اصلا اعیان نے تو وجود کی بو تک نہیں سوکھی ، پس عالم ان اعیان سے عبارت ہے جو حق سبحانہ کی تجلی کا واسطہ تصور کی جاتی ہیں ، جن میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے ،سوتمام نظام عالم اس وجود ظاہر اور اس اعدام کے ساتھ ہے، كما قال العراقي</p>



<p>روز وشب با هم آشتی کردند                کار عالم ازاں گرفت نظام</p>



<p>دن رات میں جو باہم رابطہ ہے اس سے کار عالم کا نظام قائم ہے ، یعنی وجود و عدم کے اختلاط کے واسطہ اور امتزاج سے نظام ہستی ہے ، شیخ العارف عبدالقدوس حنفی اپنے مکتوبات میں فرماتے ہیں</p>



<p> حقیقت میں ہستی مطلق کی سبحانہ ہے ، مگر حجاب والوں کی آنکھ میں لباس کونی نے خاک ڈال دی ہے اور ان کو دور اور مہجور کر دیا ہے گویا اس سبحانہ کا اعیان ثابتہ کی صفات کے ساتھ ظہور اور عارضی احکام کے ساتھ انصباغ(رنگا ہوا) ہی حجاب والوں کے ادراک کے انتخاب کا سبب ہواور نہ حق سبحانہ کے سوا ظاہر،مرئی اور مشہو دکوئی نہیں ۔</p>



<p> شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ  نے فرمایا</p>



<p>ان صوفیہ میں سے کسی نے کہا”الحق محسوس والخلق معقول “حق تعالی محسوس ہے اور خلق معقول ہے ۔ وہ سبحان ہے کہ شدت ظہور سے پوشیدہ ہوا۔ غایت قرب سے دور ہوا، اور  ادراک  کا ادراک بھی مفقود ہے اس لئے نہ پہچانا گیا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ معمولی ادراک بھی نہ ہو، وہ تو ہر فرد کو ہے اور ان سے اس کا اصلا عدم افکاک ہے، پس انبیاء کرام علیہم السلام  کی بعثت اور تکالیف شاقہ اس ادراک الادراک کی تحصیل کیلئے ہیں ۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">فلاسفہ کا مذہب</h2>



<p> یادر ہے کہ حکما ءصوفیہ کے ساتھ اس میں موافق ہیں کہ وجـود الـحـق سبحانه عین ذاته حق تعالیٰ کا وجودعین ذات ہے اور وجود غیر اس قائم وواجب بالذات کے وجود کی نسبت خاص سے عبارت ہے ، یہ نہیں کہ وجود اس کا وصف ہو اور اس سے قائم ہو، جیسا کہ لوہار اور شمس کی مثا لیں دی گئیں فلاسفہ نے واجب تعالی کے وجود کے عین ذات ہونے  پردووجہوں سے استدلال کیا ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">پہلی وجہ</h2>



<p>اگر اس کا وجود اس کی ذات پر زائد ہوتو اسے اتصاف وجود کیلئے کسی علت کی احتیاج ہوگی ا گراتصاف کیلئے علت ہوا گر چہ اس کی ذات ہوتو اتصاف ذات کا وجود سے تقدم لازم آئے گا اور اتصاف بالوجود میں اس کی تا ثیر ہو گی کہ یہ ضرورت عقل کا محاکمہ ہے ، <strong>بان الا یجا دفرع الوجود</strong> یعنی ایجا دو جودکی  فرع ہے اور اگر وجود سابق ہو اورعین وجود لاحق ہو تو اپنے نفس پر شے کا تقد م لا زم آئے گا اگر لاحق ہونے والا غیر ہوتو ہم ا s غیر سے اس کے اتصاف پر کلام کریں گے، جہاں تک کہ وجود میں تسلسل لازم آئے گاپس  انتہاء اس  وجود پر ہوگی جو عین ذات ہے لیکن شے واحد کے وجود میں تعدد کا ہونامحال ہے جیسا کہ فطرت سلیم بھی اس پر گواہ ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">دوسری وجہ</h2>



<p>جو چیز وجود میں آتی ہے تو وجوداسی کی ذات کی طرف دیکھنے سے مسلوب عنہ ہے۔ یعنی پوشیدہ ہے، یہ بات جمہور میں مشہور ہے، اس کی ماہیت ایک ہی جیسی ہوتی ہے ، امور عارضہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے وجود کا ثبوت اس کی ذات سے نہیں ہوا جیسا کہ گزرا الایجـاد فرع الوجود  پس یہ  صحیح نہیں کہ  ذات جیسی کہ وہ ہے ، بغیر شرط وجود کے موجد ہو، یہ ایک ہی بات ہے کہ وہ اپنے آپ موجد ہے یا اپنے غیر کی موجد لہذا یہی ہے کہ واجب تعالی  کی حقیقت  ایک وجود  متا کد( ضروری) ہے، جو اپنی ذات کے ساتھ قائم  ہو  اس کا وجود ہونا اور موجودہونا ایک ساتھ ہے، جیسا کہ بیان کیا گیا۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">کلمہ طیبہ کا دوسرا حصہ</h2>



<p>محمد اللہ کے رسول ہیں اولا دآدم کےسردارہیں قیامت کے دن آپ کی اتباع کرنے والے دوسرے نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ ہوں گے ، اور اللہ تعالی کے ہاں آپ اولین و آخرین سے افضل ہیں سب سے پہلے آپ کامزار پر انوار شق ہوگا اور پہلے شفاعت کریں گے، آپ کی شفاعت قبول ہوگی۔ آپ سب سے پہلے جنت کے دروازہ پر دستک دیں گے، آپ کیلئے اللہ اس کو کھول دے گا قیامت کے دن پرچم حمد کواٹھا ئیں گے جس کے نیچے آدم  اور سب انبیا کرام علیہم  ہوں گے، آپ نے فرمایا ہم آخری ہیں اور ہم  قیامت کے پہلے ہونگے، میرا یہ قول فخریہ نہیں میں  رسولوں کا سالار ہوں   کوئی فخر نہیں ، میں نبیوں کا خاتم ہوں ، کوئی فخر نہیں ، میں لوگوں کا اول ہوں جب وہ اٹھیں گے ، میں لوگوں کا قائد ہوں ، جب وہ وفد بنیں گے، میں لوگوں کا خطیب ہوں ، جب وہ خاموش ہوں گے ، میں لوگوں کا شفیع ہوں ، جب وہ روک دیئے جائیں گے، میں لوگوں کا مبشر ہوں ، جب وہ مایوس ہوں گے ، بزرگی اور چابیاں اس دن میرے ہاتھ میں ہوں گی ، میں اپنے رب کے ہاں اولادآدم کا بزرگ ہوں ،میرے گرد ہزار خادم طواف کر رہے ہوں گے ، جیسے سفید انڈے یا بکھرے موتی ، جب روز قیامت ہوگا میں نبیوں کا امام ، خطیب اور ان کی شفاعت والا ہوں گا ، اس پر کوئی فخر نہیں ، اگر حضور سر اپا نور ﷺنہ ہوتے تو اللہ تعالی مخلوق کو پیدا نہ کرتا اور نہ اپنی ربوبیت کو ظاہر کرتا اور وہ اس وقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام  مٹی اور پانی کے درمیان تھے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">نبوت کی دلیل :</h2>



<p>حضور سراپا نور ﷺ کی نبوت کے اثبات کیلئے جمہور کے نزدیک یہ دلیل معول ہے کہ حضور ﷺ نے نبوت کا دعوی فرمایا اور ان کے ہاتھ پرمعجزات کا ظہور ہوا ، جویہ خصوصیت رکھتا ہو وہ نبی ہے اور آپ کا دعوی نبوت کر نا تواتر سے ثابت ہے اور ایسے ہی آپ سے صدور معجزات ہوا اور قرآن پاک بھی آپ کا معجزہ ہے، قرآن پاک اس لئے معجزہ ہے کہ حضور ﷺ نے اس کے مقابلہ کی دعوت دی اور عرب کے فصحا ءو بلغاء کو کہا کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنالاؤ ، وہ کثیر التعداد تھے اور غایت عصبیت اور حمیت و جہالیت کے باوجود بھی اس جیسی ایک چھوٹی سورت بنانے سے بھی عاجز آ گئے ، جہاں تک کہ انہوں نے قلمی معارضت کی بجائے سیفی مقارعت(تلوار کی گونج) کو ترجیح دی ، اگر وہ قلمی مقابلہ کر سکتے تو ضرور کرتے اور اگر کر تے تو ہم تک تواتر سے منقول ہوتا ،اس کونقل کرنے کے بہت سے طریقے ہیں جیسا کہ خطیب منبر پر بیان کرتا ہے اور اس طریقے سے ضرورت عادیہ کے مطابق علم حاصل ہوتا ہے کیونکہ حس کی طرح عادت بھی حصول علم کا طریقہ ہے۔</p>



<p> جو شخص نبوت کا دعوی کرے اور معجزے ظاہر کرے وہ نبی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے یہ عادت جاری کی کہ مخلوق میں مدعی نبوت کی سچائی کاعلم پیدا کیا جب اس کے ہاتھ پر معجزے کا ظہور ہو، کیونکہ کاذب کے ہاتھ پر معجزے کا ظہور نہیں ہوسکتا ، مثلا کوئی کہے کہ میں نبی ہوں ، پھر پہاڑ کوا ٹھا کر لوگوں کے سروں پر کھڑا کر دے اور کہے اگر تم مجھے جھٹلاؤ گے تو یہ تم پر گر پڑے گا ، اگر میری تصدیق کرو گے تو یہ تم سےہٹ جاۓ گا ، پھر جب وہ تصدیق کرنا چاہیں تو ان سے ہٹ جاۓ اور جب تکذیب کر نا چاہیں تو ان کے قریب آ جاۓ ، اس سے ضروری علم حاصل ہوگا کہ وہ صادق ہے اور عادت بھی یہی فیصلہ دیتی ہے کہ کا ذب یہ کام نہیں کر سکتا۔ لوگوں نے یہ مثال بھی دی ہے کہ جب کوئی آدمی بادشاہ کے دربار میں ہجوم غفیر کے سامنے کہے کہ وہ اس بادشاہ کا تمہاری طرف رسول ہے، وہ دلیل مانگیں تو کہے کہ اگر بادشاہ اپنی عادت کے خلاف اٹھ کر ایسے مقام پر جا بیٹھے جہاں بیٹھنے کی اسے عادت نہیں ، تو یہ اس کی تصدیق ہو گی اور اس کی سچائی کے علم ضروری کیلئے فائدہ مند ہو گی ، اس مثال کا یہ مطلب نہیں کہ غائب کو موجود پر قیاس کر لیا ہے، ہمارا دعوی تو یہ ہے کہ بے شک ظہور معجزہ ،علم ضروری کوسچائی کے ساتھ مفید ہے اور اس کا علم اس کیلئے مفید ہے ،ضرورت عادی کے ساتھ معلوم ہے ، یہ مثال تفہیم کیلئے اور زیادت تقریر کیلئے ہے ، اس پر جوسوالات وارد ہوۓ اور ان کے جوابات دیئے گئے وہ سب( کتابوں میں) مذکور ہیں، ہم نے اپنے رسالہ اثباۃ النبوةمیں اس کی تفصیل لکھی ہوئی ہے۔</p>



<p>اس کے سوا جو معجزات ہیں وہ اپنی تفاصیل کے ساتھ متواتر نہیں لیکن ان میں قدر مشترک یہ ہے کہ ان کا ثبوت معجزہ متواتر ہے، بلاشبہ جیسا کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ  کی شجاعت اور حاتم کی سخاوت ، وہ ہمیں اثبات مطلب کیلئے کافی ہے، اس پر حضور پرنور ﷺ کے احوال سے استدلال ہوسکتا ہے خواہ وہ اعلان نبوت سے   پہلے اور بعد میں کبھی کسی فعل قبیح  کی طرف قدم نہ اٹھانا ، امی ہونے کے باوجود کمال فصاحت کا اظہار کرنا تبلیغ رسالت میں مختلف مشقتوں کا برداشت کر ناحتی کہ فرمایا ، کسی نبی کو اتنی تکلیفیں نہیں دی گئیں جتنی مجھے اور عز یمت میں کوئی لغزش نہ آنا ، پھر جب دونوں پر غلبہ حاصل کیا اور ان کی جانوں اور مالوں میں حکم نافذ کرنے کا رتبہ ملا تو بھی پہلی حالت میں تبد یلی نہ آ نا بلکہ آپ شروع سے آخر تک ایک ہی طریقہ مرضیہ پر گامزن رہے ، امت پر بے حد درجہ شفقت فرمانا ، یہاں تک کہ خدا تعالی نے فرمایا</p>



<p><strong>فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ ‌حَسَرَاتٍ</strong> محبوب! ان کی پریشانیوں میں تمہاری جان نہ چلی جاۓ اور آپ کا انتہائی سخی ہونا کہ آپ کو یوں فرمایا گیا&#8217; <strong>وَلَا ‌تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ</strong> ان ہاتھوں کو اس طرح نہ کھول دو اور دنیوی زیبائشوں کی طرف عدم التفات ، فقراء مساکین کے ساتھ غایت تواضع ، اغنیا کے ساتھ غایت ترفع ، دونوں کے مقابلہ میں استقلال اور ہرگز خوفزدہ نہ ہونا، جیسا کہ یوم احد و احزاب کے موقع پر دیکھا گیا ، یہ آپ کی قوت قلبی اور اولوالعزمی کی دلیل ہے ،ایسا ہرگز نہ ہوتا اگر آپ کو اللہ تعالی کی عصمت پر یقین نہ ہوتا ،جیسا کہ اس نے آپ سے دعد وفر مایا <strong>وَاللَّهُ ‌يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ</strong> اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچاتا ہے، یہ بطور عادت نہ ہوتا حضور سراپا نور ﷺ کےحال میں تلوین  نہیں  جبکہ دوسروں کے حال میں تلوین آگئی، یہ تمام امور اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضور سراپا نور ﷺ نبوت کے اعلی درجات پر فائز ہیں ،</p>



<p>یہ کسی مصنف مزاج عقلمند سے پوشیدہ نہیں۔</p>



<p><strong>رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا ‌رَشَدًا </strong>رسالہ اختتام کو پہنچتا ہے ، اللہ تعالی کیلئے ہی تعریف ہے اول و آخراوراسی کیلئے حکم اور تم اس کی طرف لوٹ جاؤ گے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DB%81%D9%84%DB%8C%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%aa%db%81%d9%84%db%8c%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/" data-a2a-title="رسالہ تہلیلیہ مجدد الف ثانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%aa%db%81%d9%84%db%8c%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مبدأ و معاد تصنیف حضرت مجدد الف ثانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Feb 2022 10:39:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[مبدا و معاد]]></category>
		<category><![CDATA[مجدد الف ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[، حضور ﷺ کا رب]]></category>
		<category><![CDATA[اپنے احوال کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[ارادے کی فنا]]></category>
		<category><![CDATA[اس طریقے میں بے حاصلی]]></category>
		<category><![CDATA[اسما ءاور صفات کی سیر]]></category>
		<category><![CDATA[انبیا کے درجات اور تجلی ذات]]></category>
		<category><![CDATA[اندراج النہایہ فی البدایہ]]></category>
		<category><![CDATA[انسان افضل ہے یا فرشتہ؟]]></category>
		<category><![CDATA[باری تعالی کا دیدار]]></category>
		<category><![CDATA[بدعت اعتقادی کا نقصان]]></category>
		<category><![CDATA[پیغمبر اعظمﷺ کا امتیاز خاص]]></category>
		<category><![CDATA[تحدیث نعمت اور اظہار واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم طریقہ کی اجازت]]></category>
		<category><![CDATA[تکوین صفت حقیقی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[جنوں کے بارے میں کشف]]></category>
		<category><![CDATA[حق تعالی بے مثل و بے مثال ہے]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق ثلاثہ کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[حواس کے بغیر مرتبہ یقین]]></category>
		<category><![CDATA[خداتخیل وتصور سے ماوراء]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ نقشبند ک فرمان]]></category>
		<category><![CDATA[راہ سلوک میں پیش آنے والے حالات]]></category>
		<category><![CDATA[روحانی سیروں کی داستان]]></category>
		<category><![CDATA[سنت اور بدعت]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ کامل کی اتباع]]></category>
		<category><![CDATA[صرافت مطلق کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[صفات باری کا تعارف]]></category>
		<category><![CDATA[طریق توبہ کی ابتدا]]></category>
		<category><![CDATA[عرفان مجدد  کو سمجھنے کا اسلوب]]></category>
		<category><![CDATA[علم اشیاء کار جوع]]></category>
		<category><![CDATA[علم باطن کی علم ظاہر پر فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[علوم امکانی اور معارف و جوبی]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن اور مقام ہدایت]]></category>
		<category><![CDATA[قطب الارشاد کا فیض]]></category>
		<category><![CDATA[کلام الہی کا سر بستہ راز]]></category>
		<category><![CDATA[کلمہ طیبہ کی فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[کمالات نبوت]]></category>
		<category><![CDATA[کمالات ولایت کے مدارج]]></category>
		<category><![CDATA[متشابہات کی تاویل]]></category>
		<category><![CDATA[محبت ذاتی اور محبت صفاتی]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب ثلاثہ اور یادداشت]]></category>
		<category><![CDATA[مقام رضا کا حصول اور اطمینان نفس]]></category>
		<category><![CDATA[مقام رضا کی برتری]]></category>
		<category><![CDATA[مقام روح اور کمال عروج]]></category>
		<category><![CDATA[مقام کمال و تکمیل]]></category>
		<category><![CDATA[مقامات عشرہ کے بغیر وصول نہایت]]></category>
		<category><![CDATA[موت قبل از موت کی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[نبی کی کلی فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[نزول تام کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[نفسی اور آفاقی مشاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفی و اثبات کا ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[وجود باری کے متعلق معرفت خاص]]></category>
		<category><![CDATA[ولی کی جزئی فضیلت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=5947</guid>

					<description><![CDATA[مبدأ و معاد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَحْمَدُ اللهَ فيِ الْمَبْدَأِ وَالْمَعَادِوَاُصَلِّیْ عَلىٰ حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِهِ الْاَمْجَادِ یعنی میں ابتدا، اور انتہا میں اللہ تبارک و تعالی کی حمد کرتا ہوں اور اس کےحبیب محمد &#160;مصطفے ﷺ اور آپ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><h1>مبدأ و معاد</h1>
</p><p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ</strong> <strong>اَحْمَدُ اللهَ فيِ الْمَبْدَأِ وَالْمَعَادِوَاُصَلِّیْ عَلىٰ حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِهِ الْاَمْجَادِ</strong> یعنی میں ابتدا، اور انتہا میں اللہ تبارک و تعالی کی حمد کرتا ہوں اور اس کےحبیب محمد &nbsp;مصطفے ﷺ اور آپ کی بزرگ اولادپر درود بھیجتا ہوں ۔ حمد و صلاۃ کے بعد عرض ہے کہ یہ ایک پر فضیلت رسالہ ہے جولطیف و خوش آئندا شارات اور دقیق وبلند مرتبہ اسرار پرمشتمل ہے۔ اس کے مصنف بہت بڑے امام، بندوں پر اللہ &nbsp;کی حجت، اقطاب اور اوتاد کے پیشواء ابدال اورافراد کے قبلہ سبع مثانی (یعنی سورۂ فاتحہ) کے اسرار ورموز کو وضاحت کے ساتھ بیان فرمانے والے ، حضرت مجدد الف ثانی، اویسی رحمانی، عارف ربانی اسلام اور مسلمانوں کے شیخ ہمارے شیخ اور ہمارے امام شیخ احمدجونسبا فاروقی ، مذہبا حنفی اور مشربا نقشبندی ہیں، حق سبحانہ و تعالی ان کی ہدایت کے آفتاہوں کو بلندی کے افق پر ہمیشہ تاباں رکھے اور لوگ ان کے فیوض وبرکات کے چمنستان میں ہمیشہ مصروف گلگشت رہیں۔ <strong>وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ۔ </strong>&nbsp;</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-1-اپنے-احوال-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 1۔اپنے احوال کا بیان :</mark></h1>



<p>جب مجھے راہ سلوک کی ہوس پیدا ہوئی تو اللہ تعالی جل شانہ کی عنایت نے مجھے خانوادہ نقشبندیہ کے ایک خلیفہ کی خدمت میں پہنچایا جن کی توجہ کی کرامت سے خواجگان کرام کا جذبہ جو بلحاظ &nbsp;فنا صفت قومیت میں جا ملتا ہے ، حاصل ہوا اور اندراج النہایہ فی البدایۃ کے طریقے سے بھی ایک گھونٹ حاصل ہوا ، اس جذ بہ کے&nbsp; حاصل ہو جانے کے بعد سلوک شروع ہوا اور یہ راہ میں نے اسد اللہ الغالب حضرت علی کرم اللہ وجہ کی روحانیت کی تربیت سے اس انجام تک طے کی ، یعنی اس اسم سے جو میرا پرورش کنندہ ہے بعد ازاں اس اسم سے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ کی روحانیت کی مدد سے قابلیت اولی تک جس کو حقیقت محمدیہ سے تعبیر کرتے ہیں ترقی کی ، وہاں سے اوپر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی روحانیت کی مدد سے عروج حاصل ہوا، وہاں سے آگے حضرت ختم المرسلین ﷺ کی روحانیت کی مدد سے مقام اقطاب محمدیہ تک ترقی کی، یہ مقام قابلیت کے مقام سے اوپر ہے اور یوں سمجھو کہ یہ مقام قابلیت اولی کا اجمال ہے اور قابلیت اولی اس کی تفصیل ہے، اس مقام میں پہنچتے وقت حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ کے خلیفہ حضرت خواجہ علاؤ الدین عطار قدس اللہ اسرار ہ کی روحانیت سے بھی ایک طرح کی مدد مجھے ملی ، قطب کا انتہائی عروج اسی مقام و اقطاب محمد یہ تک ہوتا ہے، دائرہ ظلیت بھی اس مقام پر ختم ہو جا تا ہے ، بعد ازاں یا تو خالص اصل ہے یا اصل اور ظل ملے ہوئے ہیں، یہ مقام افراد کیلئے مخصوص ہے، ہاں بعض قطب بھی افراد کی ہمنشینی کے سبب مقام ممتزج ( جہاں اصل اور ظل ملے جلے ہیں)&nbsp; تک ترقی کرتے ہیں اور اس اصل و سا یہ کو ملے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن محض اصل خالص تک پہنچنا یا اسے دیکھنا حسب درجہ افراد کا خاصہ ہے کہ اللہ تعالی کا فضل ہے جسے چاہے عنایت کرے، اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے ، اور مقام اقطاب پر پہنچ کر جناب سرور کائنات ﷺ سے مجھے قطبیت ارشاد کی خدمت عنایت ہوئی اور اس منصب سے مجھے سرفراز فرمایا، بعدازاں پھر عنایت الہی جل شانہ میرے شامل حال ہوئی اور اس مقام سے اوپر کی طرف ترقی نصیب ہوئی حتی کہ مجھے عنایت الہی نے اصل ممتزج( اصل وسا یہ ملا ہوا ) تک پہنچایا اور وہاں بھی فناو بقا نصیب ہوئی جیسا کہ گذشتہ مقامات میں ہوتی آئی تھی ، وہاں سے آگے مقامات اصل میں ترقی عنایت فرمائی اور اصل الاصل تک پہنچادیا ، اس آخری عروج میں جو مقامات اصل کا عروج ہے ، حضرت غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت کی مد دنصیب ہوئی جس نے اپنی قوت تصرف سے ان مقامات سے عبور کرا کے اصل الاصل میں پہنچادیا ، وہاں سے پھر جہان کی طرف لوٹایا، چنانچہ لوٹتے وقت ہر مقام سے عبور حاصل ہوا۔</p>



<p>مجھےیہ نسبت فرد یہ جس سے عروج اخیر مخصوص ہے اپنے والد ماجد(شیخ عبدالاحد بن زین العابدین علیہما الرحمہ )سے حاصل ہوئی ، انہیں ایک بزرگ ( حضرت شاہ کمال قادری رحمۃ اللہ &nbsp;علیہ ) سے جن کو جذ بہ قوی حاصل تھا اور جو خوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے، ہاتھ آئی لیکن مجھے شروع میں ضعف بصیرت اور اس نسبت کی قلت کے ظہور کے باعث اپنے آپ میں اس نسبت فردیہ کا ہونا معلوم نہ تھا ، جب سلوک کی منزلیں طے کیں تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ نسبت شروع ہی سے مجھ میں تھی ، نیز عبادات نافلہ کی توفیق خصوصاً نماز نافلہ کا ادا کر نا بھی اپنے والد ماجد سے حاصل ہوا اور انہیں یہ سعادت اپنے شیخ ( شیخ عبد القدوس رحمۃ اللہ علیہ) سے جو سلسلہ چشتیہ سے منسوب تھے حاصل ہوئی ، جب تک میں مقام اقطاب سے عبور نہ کر چکا مجھے علوم لدنی حضرت خضر علیہ السلام کی روحانیت سے حاصل ہو تے رہے،جب اس مقام سے عبور کر کے مقامات عالیہ میں ترقی کی تو پھر اپنی حقیقت سے علوم اخذ کر نے لگا ، اس وقت کسی غیر کی مجال نہ تھی کہ بیچ میں دخل دیتا نیز مجھے نزول کے وقت جس سے مراد سیر عن الله باللہ ہے دوسرے سلسلوں کے مشائخ کے مقامات میں عبور واقع ہوا اور ہر ایک مقام سے کافی حصہ لیا اور ان مقامات کے مشائخ نے میرے کام میں میری مد دواعانت کی اور اپنی نسبتوں کے خلاصے مجھے عنایت فرماۓ ، پہلے پہل اکابر چشتیہ &nbsp;رحمۃ اللہ علیہم &nbsp;کے مقام میں عبور واقع ہوا، اس مقام سے کافی حصہ حاصل ہوا، ان مشائخ عظام میں سے حضرت خواجہ قطب الدین &nbsp;رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت نے دوسروں کی نسبت زیادہ امدادفرمائی ، واقعی اس مقام میں ان کی شان نہایت اعلی ہے اور آپ اس مقام کے سردار ہیں ، بعد ازاں اکابر کبرویہ رحمۃ اللہ علیہہم کے مقام میں گزر ہوا، یہ دنوں مقام یعنی چشتیہ و کبرویہ بلحاظ عروج برابر ہیں لیکن یہ مقام ( کبرویہ ) نزول کے وقت شاہراہ کی دائیں طرف پڑتا ہے اور پہلا (چشتیہ ) بائیں طرف ، یہ شاہراہ وہی ہے جس سے بعض بڑے بڑے اقطاب ارشاد ہوکر مقام فردیت میں جاتے ہیں اور وہاں سے نہایت النہایہ میں پہنچتے ہیں ،صرف افراد کی راہ اور ہے بغیر قطبیت کے اس راہ سے نہیں گزر سکتے یہ مقام( کبرویہ ) مقام صفات اور اس شاہراہ کے مابین واقع ہے گو یا یہ دونوں مقاموں کا رخ ہے ، دونوں طرف سے اسے حصہ ملتا ہے ، پہلا مقام( چشتیہ ) شاہراہ کی دوسری طرف واقع ہے جو صفات سے بہت کم مناسبت رکھتا ہے، اس کے بعد مجھے اکابر سہروردیہ کے مقام میں جو شیخ شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرف ہیں ،عبور واقع ہوا، یہ مقام سنت نبویﷺ کی اتباع کے نور سے آراستہ اور مشاہدہ فوق الفوق(برتر از برتر) کی نورانیت سے مزین ہے ، توفیق عبادات اس مقام کی رفیق ہے، بعض سا لک جو ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے اور عبادات نافلہ میں مشغول ہیں اور اس سے مطمئن ہیں ، انہیں بھی اس مقام کی مناسبت کی وجہ سے اس مقام سے کچھ حصہ نصیب ہوتا ہے ، عبادات نافلہ اصالتاً اس مقام کے مناسب ہیں ، دوسرے کیا مبتدی اور کیا منتہی سب اس مقام کی مناسبت کی وجہ سے بہرہ ور ہیں، یہ مقام و سہروردیہ کے نہایت عجیب و بزرگ ہے ، جونورانیت اس مقام میں دیکھنے کو آئی ہے ، دوسرے مقامات میں بہت کم دکھائی دیتی ہے، اس مقام کے مشائخ بہ سبب کمال اتباع عظیم الشان اور رفیع القدر ہیں ، اپنے ہم جنسوں میں پورے طور پر ممتاز ہیں ، جو کچھ ان بزرگوں کو اس مقام میں نصیب ہوا ہے ، دوسرے مقامات میں گو وہ بلحاظ عروج اوپر ہی ہیں ، میسر نہیں ہوتا ، بعد ازاں مجھے مقام جذ بہ میں اتار لاۓ ، اس مقام میں بیشمار جزئیات کے مقامات شامل ہیں ، پھر وہاں سے بھی نیچے لاۓ ، نزول کا آخری مرتبہ و مقام قلب ہے جو حقیقت جامع ہے اور ارشاد و تکمیل اس مقام پر نزول کر نے کے متعلق ہے ، جب اس مقام میں لائے تو پیشتر اس کے کہ مجھے اس مقام پر استقرار حاصل ہو پھر عروج نصیب ہوا ، اس وقت اصل کو سائے کی طرح پیچھے چھوڑا اور اس عروج سے جو مقامات قلب میں ہوا استقرار حاصل ہوا۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-2-قطب-الارشاد-کا-فیض"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">. منها:2 قطب الارشاد کا فیض:</mark></h1>



<p>قطب ارشاد جس میں فردیت کے جامع کمالات بھی پائے جاتے ہیں قلیل الوجود ہوتا ہے، کئی صدیوں بلکہ بے شمار زمانوں کے بعد اس قسم کا موتی ظاہر ہوتا ہے ، جس کے نورظہور سے تاریک دنیاروشن ہو جاتی ہے ، اس کی ہدایت وارشاد محیط عرش سے لے کر مرکز زمین تک تمام جہان کو حاصل ہوتا ہے ، جس شخص کو رشد و ہدایت اور ایمان ومعرفت حاصل ہوتے ہیں ، اس کی وساطت سے ہوتے ہیں اس کے وسیلے کے بغیر براہ راست کسی کو یہ نعمت حاصل نہیں ہو سکتی گویا اس کا نور ہدایت سمندر کی طرح تمام جہان کو گھیرے ہوتا ہے اور وہ ایک منجمد سمندر ہے جو بالکل حرکت نہیں کرتا ، جوشخص اس بزرگ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کا مخلص ہوتا ہے یاوہ بزرگ کسی طالب کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو توجہ کے وقت طالب کے دل میں گویا ایک سوراخ کھل جا تا ہے جس کی راہ سے وہ اس دریا سے توجہ اور اخلاص کے مواقف سیراب ہوتا ہے ، اسی طرح جوشخص ذکر الہی میں مشغول ہے لیکن اس بزرگ( قطب ارشاد ) کی طرف متوجہ نہیں مگر انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ اس واسطے کہ وہ اسے جانتا نہیں تو بھی اسے اس قسم کا فائدہ پہنچتا ہے مگر پہلی صورت میں بہ نسبت دوسرے کے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے، لیکن جوشخص قطب ارشاد کا منکر ہے یا وہ بزرگ اس سے ناراض ہے خواہ وہ کتنا ہی ذکر الہی میں مشغول رہے پھر بھی رشد و ہدایت کی حقیقت سے محروم رہتا ہے اور اسکا انکار اس کے فیض کا سد راہ ہوتا ہے، خواہ قطب ارشادا سے فائدہ نہ پہنچانے کیلئے یا نقصان پہنچانے کیلئے توجہ نہ ہی کرے، ایسے شخص کو ہدایت کی حقیقت میسر نہیں ہوسکتی گویا اسے رشد کی صورت حاصل ہوتی ہے لیکن محض صورت سے کیا کام نکل سکتا ہے ،بصورت بے معنی سے بہت تھوڑ افائدہ حاصل ہوتا ہے ، جولوگ قطب ارشاد کے محب ومخلص ہوتے ہیں گو وہ ذکر الہی اور توجہ مذکور سے خالی ہی ہوں تو بھی محض محبت کی وجہ سے رشد و ہدایت کا نور پالیتے ہیں، <a><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong></a> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-3-مقام-کمال-و-تکمیل"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:3۔مقام کمال و تکمیل :</mark></h1>



<p>پہلے پہل جو دروازہ میرے لئے کھولا گیا وہ یافت کا ذوق تھا نہ کہ یافت ، بعد ازاں دوسرے درجے پر یافت نصیب ہوئی تو ذوق یافت(پالینے کا ذوق) مفقود ہو گیا، تیسرےدر جے پر یافت(پالینا) بھی ذوق یافت کی طرح مفقود ہوگئی ، دوسری حالت حالت کمال اور ولایت خاصہ کے درجے کا حاصل کرنا ہے، تیسرا مقام تکمیل اور دعوت کیلئے خلقت کی طرف لوٹنا ہے، پہلی حالت صرف بلحاظ جذ بہ کمال ہے ، جب اس کے سلوک کو پورے طور پر حاصل کر لیا جا تا ہے تو دوسری حالت حاصل ہوتی ہے، بعد ازاں تیسری حالت ، لیکن مجذوب کو سلوک سے یہ دوسری اور تیسری حالت بالکل نصیب نہیں ہوتی جو کامل مکمل ہے وہ مجذوب سالک ہے ، اس سے دوسرے درجے پر سالک مجذوب ہے، جو ان دونوں کے بغیر ہے وہ نہ کامل ہے نہ مکمل ہے، تم کم ہمت نہ بننا ۔والسلام على خير البشر سيد نا محمد و آله الاطهر</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-4اندراج-النہامی-فی-البدائي"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:4اندراج النہایہ فی البدایہ:</mark></h1>



<p>&nbsp;ماہ ربیع الآخر کے آخری حصے میں بزرگ خانوادہ کے ایک بزرگ خلیفہ(خواجہ باقی باللہ ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان بزرگوں کا طریقہ اخذ کیا ، اس سال ماہ رجب کے نصف کے قریب حضور نقشبندیہ کی سعادت جو اس مقام میں اندراج نہایت در بدایت ہے حاصل ہوئی ، ان بزرگ نے فرمایا کہ نسبت نقشبندیہ سے مراد یہی حضور ہے ، پورے دس سال کچھ مہینے اوپر ماہ ذوالقعدہ کے نصف میں وہ نہایت جو بدایت میں بدایات(ابتداء) واوساط(درمیانی درجوں) کے اتنے پردوں کے پیچھے سے جلوہ گر ہوئی تھی ، نقاب اتار کر نمودار ہوئی ، اس وقت یقین ہو گیا کہ بدایت میں اس اسم کی صورت تھی اور اس پیکر کا سخن تھا اور اس مسنمی کا اسم تھا، ان دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے، کام کی حقیقت یہاں آ کر کھلی اور معاملہ راز اس جگہ ظاہر ہوا ، جس نے چکھا نہیں اسے معلوم نہیں ہوا والصلوة والسلام على سيد الانام و آله الكرام واصحابه العظام ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-5تحدیث-نعمت-اور-اظہار-واقعہ"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:5تحدیث نعمت اور اظہار واقعہ:</mark></h1>



<p><strong>وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ</strong><strong>اپنے</strong> پروردگار کی نعمت کا ذکر &nbsp;کرو (کے حکم کے&nbsp; تحت بیان کرتا ہوں کہ )میں ایک روز اپنے یاروں کے حلقے میں بیٹھا تھا اور اپنی خرابیوں کو دیکھ رہا تھا ، &nbsp;اوریہ دید یہاں تک غالب آئی کہ میں نے اپنے آپ کو اس وضع سے بالکل مناسب نہ پایا اسی اثنا میں <strong>‌مَنْ ‌تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ</strong>جس نے اللہ تعالی کی خاطر تواضع کی اللہ تعالی نے اس کا درجہ بلند کر دیا، کے موافق اس دور پڑے ہوۓ کو رسوائی کی خاک سے اٹھا کر یہ آواز سر میں دی ، غفرت لك ولمن توسل بك الي بواسطة او بغير واسطة الى يوم القيمة، میں نے تجھے اور اس شخص کو بھی جو تجھے میری بارگاہ کا وسیلہ با لواسطہ یا بلا واسطہ بنائے گا بخشا اور یہ سلسلہ قیامت تک یونہی جاری رہے گا اور از راہ بندہ نواز ی بار بار مجھے یہ فرمایا حتی کہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہی ، اس بات کیلئے اللہ تعالی کا بہت بہت شکر ہے ، اللہ تعالی اس میں برکت دے، <strong>والصلوة والسلام على رسوله سيدنا محمد واله كمایجری</strong> بعد ازاں اس واقعہ کے ظاہر کرنے کا مجھے حکم ہوا</p>



<p>اگر بادشاه بر دپیر زن بیاید تواے خواجہ سبلت مکن</p>



<p><strong>إِنَّ رَبَّكَ ‌وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ </strong>، بے شک تیرے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها6-روحانی-سیروں-کی-داستان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها6 &nbsp;روحانی سیروں کی داستان :</mark></h1>



<p>سیر الی اللہ (اللہ کی طرف سیر)سے مراد کسی ایک اسم الہی تک کی سیر ہے جو سا لک کا مبدأتعین (جہاں سے متعین طور پر سالک کے متعلق فیصلہ کیا جاتا&nbsp; ہے کہ وہ حق تعالیٰ&nbsp; کی کونسی صفت میں سیر کررہا ہے)ہے اور سیر فی اللہ سے مراد اس اسم میں یہاں تک سیر کرنا ہے کہ اسماء وصفات اور شیون واعتبارات کے لحاظ سے مجردذات احدیت کی بارگاہ میں پہنچ جاۓ ، یہ تقریر اس وقت درست معلوم ہوتی ہے جب کہ اسم مبارک اللہ سے مراد مرتبہ وجوب لیا جاۓ جو اسماء وصفات کا جامع ہے لیکن اگر اس اسم مبارک سے مراد ذات محض لی جاۓ تو پھر سیر فی اللہ بھی سیر الی اللہ میں داخل ہوتی ہے اور اس طرح سیر فی اللہ بالکل حاصل نہیں ہوتی کیونکہ آخری سے آخری نقطہ میں سیر کرنا وہم و خیال میں بھی نہیں آ سکتا، اس نقطے پر پہنچ کر بلا توقف جہان کی طرف لوٹنا ہوتا ہے جسے(اصطلاح صوفیہ میں ) سیر عن الله باللہ کہتے ہیں ، یہ شناخت آخری سے آخری نقطہ تک واصلوں کیلئے مخصوص ہے، میرے سوا کسی ولی اللہ نے اس شناخت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے، اللہ تعالی کا شکر ہے، والسلام علی سيد المرسلين محمد و آله اجمعین۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-7-کمالات-ولایت-کے-مدارج"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:7۔کمالات ولایت کے مدارج:</mark></h1>



<p>کمالات ولایت کی سیر میں اولیاۓ کرام کے مختلف مراتب ہیں ، بعض میں صرف ایک درجہ ولایت کی استعداد ہوتی ہے بعض میں دو کی بعض میں تین کی اور بعض میں چار کی ، خال خال ایسے ہوتے ہیں جو ولایت کے پانچویں درجے کو حاصل کرتے ہیں ،ان پانچ درجوں میں سے پہلا درجہ تجلی افعال سے وابستہ ہے،دوسراتجلی صفات سے اور باقی کے تین حسب مرتبہ تجلیات ذاتی سے وابستہ ہوتے ہیں ، میرے اکثر یار تیسرے درجہ سے مناسبت رکھتے ہیں اور ان میں تھوڑے ایسے ہیں جو چو تھے درجے کے قابل ہیں اور خال خال ایسے بھی ہیں جو ولایت کے آخری یعنی پانچو یں درجے سے &nbsp;مناسبت رکھتے ہیں لیکن جس کمال کو میں معتبر سمجھتا ہوں وہ ان پانچوں سے بڑھ کر ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے کے بعد اس کمال کا ظہور نہیں ہوا جو جذ بہ وسلوک کے کمال سے بڑھ کر ہے ، انشاء اللہ یہ کمال آخری زمانے میں حضرت مہدی موعود ہی میں ظاہر ہوگا ، و الصلوة والسلام على خير البريۃ</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-8نزول-تام-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 8نزول تام کا بیان :</mark></h1>



<p>نہایت النہایت ( آخری مقام ) کے اصل رجوع قہقری (الٹے پاؤں واپس آتے ) وقت نچلے سے نچلے مقام میں اتر آتے ہیں ، یہی نچلے سے نچلے مقام میں اتر آنا ہی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ اعلی سے اعلی اور آخری سے آخری مقام تک ترقی کر چکے ہیں، جب نزول اس خصوصیت سے وقوع میں آتا ہے تو صاحب رجوع ہمہ تن عالم اسباب کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، یہ نہیں ہوتا کہ اس کا کچھ حصہ بارگاہ الہی کی طرف متوجہ ہو اور کچھ خلقت کی طرف، کیونکہ ایسی حالت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ آخری سے آخری مقام تک نہیں پہنچا، نیز اسے نچلے سے نچلے مقام تک نزول بھی حاصل نہیں ہوا، اب میں اصل بات کو بیان کرتا ہوں وہ یہ کہ نماز پڑھتے وقت جو کہ مومن کیلئے معراج ہے صاحب رجوع کے تمام لطائف بارگاہ الہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نماز سے فارغ ہو کر بالکل خلقت کی طرف لیکن فرائض وسنن ادا کر تے وقت چھ لطیفے بارگاہ والہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نفل ادا کر تے وقت صرف عمدہ سے عمدہ لطیفے متوجہ ہوتے ہیں ممکن ہے کہ حدیث <strong>لِي ‌مَعَ ‌اللَّهِ وَقْتٌ</strong><strong>کا</strong> اشار ہ اس خاص وقت کی طرف ہو جو نماز سے مخصوص ہے اور اس اشارہ کے تعین پرقرینہ حدیث <strong>‌قُرَّةَ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ</strong>ہے یعنی مجھے نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے ، اس قرینے کے علاوہ کشف صحیح اور الہام صریح بھی اس بارے میں مجھے ہوا ہے، یہ جو معارف مجھ سے ہی مخصوص ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے، دوسرے مشائخ نے اس کمال کو جمع بین التوجہین(دونوں توجہوں کو جمع کرنے) میں جانا ہے، میں اپنا کام اور معاملہ اللہ تعالی کے سپردکرتا ہوں ، اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی اور جناب سرور کائنات ﷺ کی فرمانبرداری اور تابعداری کی ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-9-نفسی-اور-آفاقی-مشاہدہ"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: &nbsp;9،نفسی اور آفاقی مشاہدہ:</mark></h1>



<p>مشائخ نے فرمایا ہے کہ اہل اللہ مرتبہ ولایت پر پہنچ &nbsp;کر اپنے اندر ہی مشاہدہ کرتے ہیں، بیرونی مشاہدہ جو سیر الی اللہ کے وقت اثناۓ راہ میں حاصل ہوتا ہے ، معتبر نہیں ، جو کچھ مجھ پر منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مشاہدہ اندرونی بھی مشاہد ہ بیرونی کی طرح قابل اعتبار نہیں ، اس واسطے کہ وہ مشاہد ہ دراصل حقیقت حق سبحانہ و تعالی کا مشاہدہ نہیں کیونکہ جب حق تعالی بیچون و بیچگون ہے تو پھر چون کے آئینہ میں کیونکر سما سکتا ہے ، خواہ آئینہ اندرونی ہو یا بیرونی ، اللہ تعالی نہ جہان کے اندر ہے اور نہ اس سے باہر ہے ، نہ جہان سے ملا ہوا ہے ، نہ ہی الگ ہے ، اسی واسطے جو رؤیت حق آخرت میں حاصل ہوتی ہے ، اسے بھی بلا کیف ہی لکھا ہے جو عقل و وہم کے احاطہ سے باہر ہے ، دنیا میں بھی یہ بھید خواص الخواص پر منکشف کیا ہے ، اگر چہ اسے رؤیت تو نہیں کہہ سکتے پھر بھی رؤیت ہی کی طرح ہے ، یہ دولت عظمی ایسی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم &nbsp;کے زمانے کے بعد بہت کم اشخاص کو نصیب ہوئی ہے، گویا یہ بات آج کل بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے اور اکثر لوگ اس پر یقین نہیں کرتے لیکن میں اس نعمت عظمی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ خوا و کوتاہ اندیش لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں ، یہ &nbsp;نسبت اس خصوصیت سے انشاء اللہ آخری زمانے میں حضرت مہدی موعود ہی میں ظاہر ہو گی ، اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی اور جناب سرور کائنات ﷺ کی فرمانبرداری کی اور آنحضرت ﷺ کی متابعت کو لا زم جانا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-10-طریق-توبہ-کی-ابتدا"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:10۔طریق توبہ کی ابتدا :</mark></h1>



<p>جب کوئی طالب کسی شیخ کی خدمت میں حاضر ہو تو شیخ پہلے اس سے تین سے لے کر سات &nbsp;دن تک استخارہ کرائے اگر استخاروں کے بعد طالب میں کسی قسم کا تذبذب پیدا نہ ہو تو اس کے کام کو شروع کرے، سب سے پہلے اسے توجہ کا طریقہ سکھلائے اور دورکعت نماز تو بہ پڑھنے کیلئے کہے، کیونک تو بہ کیے بغیر اس راہ میں قدم رکھنا مفیدنہیں پڑتا لیکن توبہ کے حصول میں مجمل پر ہی اکتفا کرے، یہ نہ کرے کہ طالب اسی وقت ہی تو بہ نصوحی کرے بلکہ یہ کرے کہ طالب آہستہ آہستہ تمام بری باتوں سے تو بہ کر سکے گا کیونکہ آج کل ہمتیں بالکل پست ہو گئیں ہیں ، اگر پہلے ہی مفصل تو بہ کی تکلیف دی جاۓ تو اس کیلئے عرصہ درکار ہے ممکن ہے اس عرصہ میں طالب اس کام سے ہمت ہار جاۓ بلکہ تو بہ ہی کو سرانجام نہ دے سکے جب تو بہ مجملا ہو چکے تو پھر طالب کی استعداد کے موافق خاص طریقہ کی تعلیم کرے اور جو ذ کر اس کی قابلیت کے مناسب ہوتلقین کرے اور اس کے کام میں اپنی توجہ صرف کرے اور اس کے حال کو مد نظر رکھے اور راستے کے آداب وقواعد اور شرائط اسے بتادے، کتاب وسنت کی اور آثار سلف صالحین کی متابعت کی ترغیب دلائے اور اس کے ذہن نشین کر دے کہ اس متابعت کے بغیر مطلوب حاصل نہیں ہوتا اور اس کو جتلا دے کہ جو کشف و خواب کتاب وسنت سے بال بھر بھی اختلاف رکھتا ہو وہ قابل اعتبار نہیں بلکہ اس سے استغفار کرنی چاہیئے اور اس بات کی نصیحت کرے کہ عقائد کو فرقہ ناجیہ یعنی اہل سنت و جماعت کی رائے کے موافق صحیح &nbsp;کرے اور اس بات کی تاکید کرے کہ وہ فقہ کے ضروری احکام دیکھ کران پرعمل کرے کیونکہ اس راہ میں بغیران دو بازوؤں یعنی اعتقاد اور علم کے اڑ نا محال ہے، نیز اس بات کی سخت تاکید کرے کہ مشتبہ اورحرام لقمہ میں نہایت احتیاط سے کام لے جو کچھ یا جہاں سے مل جاۓ نہ کھاۓ ، تاوقتیکہ اس کا کھانا شرعاً جائز نہ ہو مختصر یہ کہ تمام کاموں میں اس آیت کریمہ کوملحوظ ومد نظر رکھے وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا جوکچھ رسول خداﷺ نے کر نے کیلئے فرمایا ہے اسے کرواور جس سے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ، طالب دو حالتوں سے خالی نہیں ، یا اہل کشف و کرامت ہے یا صاحب جہل و حیرت لیکن جب پردے اٹھ جاتے ہیں اور منزلیں طے ہو جاتی ہیں تو اس وقت دونوں برابر ہوتے ہیں ، یعنی پہنچ جانے میں یکساں ہوتے ہیں ، مثلا دو شخص دور دراز کی منزلیں طے کر کے جب کعبے پہنچ جائیں ، ایک راہ میں ہر منزل پر نظارے دیکھتا آۓ اور دوسرا آنکھوں پرٹھیکری رکھ کر آۓ تو دونوں شخص کعبہ پہنچنے میں برابر ہیں کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں ، گوراہ کے نظاروں کے لحاظ سے ان میں فرق ہے، مطلوب کے پاس پہنچ جانے کے بعد دونوں کیلئے جہل لازم ہے کیونکہ ذات الہی کی معرفت یہی ہے کہ اس کی معرفت سے جہل وعجز کیا جائے۔</p>



<p>واضح رہے کہ سلوک کی منزلیں طے کرنے سے مراد دس مقامات کا طے کرنا ہے اور ان دس مقامات کا طے کر نا ان تین قسم کی تجلیات سے وابستہ ہے، یعنی افعال ، تجلی صفات اور تجلی ذات، ان مقامات سے سواۓ مقام رضا کے سب تجلی افعال اور تجلی صفات کے متعلق ہیں ، مقام رضا تجلی ذات سے وابستہ ہے، نیز محبت ذاتیہ کے متعلق ہے جس میں محب کی یہ حالت ہوتی ہے کہ محبوب کی طرف سے خواہ اسے تکلیف ہو یا آرام دونوں کو برابر سمجھے، جب ایسی حالت ہو جاتی ہے تو فی الواقع رضا حاصل ہوتی ہے اور کراہت اٹھ جاتی ہے ،اسی طرح باقی مقامات پر بدرجہ کمال ۔ پہنچنا بھی تجلی ذات کے وقت نصیب ہوتا ہے جس سے فناۓ اتم وابستہ ہے لیکن نو مقامات کا نفس حصول تجلی افعال اورتجلی صفات میں ہو جا تا ہے، مثلاً جب یہ د یکھتا ہے کہ اللہ تعالی مجھ پر اور تمام اشیا پر قادر ہے تو بے اختیارتو بہ کرتا ہے ، ڈرتا ہے اور تقوی کو اپنی عادت بنالیتا ہے، اس کی تقدیروں پر صبر کرنے لگتا ہے، بے طاقتی و بے صبری چھوڑ دیتا ہے اور کسی نعمت کا دینایا روکنا اس سے یقین کرتا ہے ، جب جانتا ہے کہ نعمتوں کا مولا وہی ہے اور چاہے دے چا ہے نہ دے تو نا چار شکر گزار بنتا ہے اور تو کل میں راسخ قدم ہو جا تا ہے، جب مہربانی اور نرمی متجلی ہوتی ہے تو مقام رضا آ جا تا ہے، جب اس کی عظمت اور کبریائی کا مشاہدہ کرتا ہے اور دنیاۓ دوں اس کی نگاہوں میں خوار و بے اعتبار دکھائی دینے لگتی ہے تو مجبوراً دنیا سے دل ہٹالیتا ہے، فقر اختیار کرتا ہے اور زہد کو اپنا طریقہ بنالیتا ہے، یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ مقامات مفصل وترتیب وار صرف سالک مجذوب کو حاصل ہوتے ہیں مجذوب سا لک ان مقامات کو مجمل طور پر طے کرتا ہے کیونکہ عنایت الہی نے اسے ایسی محبت میں گرفتار کیا ہے کہ وہ بالتفصیل ان مقامات میں مشغول نہیں ہوسکتا، اس محبت کے ضمن میں اسے ان مقامات کا وہ لب لباب اور ان منازل کا وہ خلاصہ پورا پورا حاصل ہو جا تا ہے جو صاحب تفصیل کو بھی نصیب نہیں ہوتا ، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-11-اس-طریقے-میں-بے-حاصلی"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 11۔اس طریقے میں بے حاصلی :</mark></h1>



<p>&nbsp;طالب کو چاہیئے کہ اندرونی و بیرونی باطل معبودوں کی نفی کی کوشش کرے&nbsp; معبود حقیقی کے اثبات کیلئے جو کچھ اس کے وہم و خیال میں آئے اسے بھی برطرف کر دے ، صرف اس کی موجودیت پر اکتفا کرے اگر چہ اس مکان میں وجود کی بھی گنجائش نہیں ، اسے وجود کے علاوہ تلاش کر نا چاہیئے ،اہل سنت نے کیا خوب کہا ہے کہ واجب تعالی کا وجوداس کی ذات اقدس پر زائد ہے ، وجودکوعین ذات کہنا اور وجود کے سوائے کسی اور بات کا ثابت نہ کر نا نظر کی کوتاہی کی وجہ سے ہے، شیخ علاوؤالدولہ رحمۃ اللہ &nbsp;فرماتے ہیں کہ عالم وجود کے اوپر ملک و دود کا عالم ہے، میں( حضرت مجدد الف ثانی) عالم وجود سے اوپر گزرا تو کچھ عرصہ میں مغلوب الحال رہا اور اپنے آپ کو علم تقلید کی رو سے مسلم خیال کرتا رہا مختصر یہ کہ جو کچھ ممکن کے حوصلہ میں آتا ہے وہ بدرجہ اولی ممکن ہوتا ہے ، وہ ذات پاک ہے جس نے اپنی طرف خلقت کی راہ سواۓ اس کے اور کوئی نہیں بنائی کہ اس کی معرفت سے عاجزی ظاہر کی جاۓ اس سے یہ خیال نہ کرنا اس فنافی اللہ اور بقا باللہ سے ممکن واجب ہو جا تا ہے کیونکہ ایک تو ایسا ہونا محال ہے اور دوسرا اس سے قلب حقائق لازم آتا ہے ، پس جب ممکن واجب نہیں ہو سکتا تو ممکن کو واجب تعالی کے ادراک سے سوائے عجز کے اور کیا حاصل ہوسکتا ہے ۔</p>



<p>عنقا شکار کس نشود دام باز چین کایں جاہمیشہ باد بدست است دام را</p>



<p>اٹھا لے جا ل عنقا بھلا&nbsp; کب کسی کے ہاتھ آتا ہے یہاں&nbsp; ہر جال لگانے والا خالی ہاتھ جاتا ہے۔</p>



<p>بلند ہمت اشخاص اس طرح مطلب کو چاہتے ہیں کہ اس سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا اور اس کا نام ونشان تک پیدا نہیں ہوتا، بعض ایسے ہیں کہ کسی خاص مطلب کے متوالے ہوتے ہیں تو اس کو اپناعین پا کر اس سے قرب ومعیت پیدا کرتے ہیں</p>



<p>آن ایشانندمن چنینم یارب&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وہ کہاں میں کہاں اے رب</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-12-خواجہ-نقشبند-کے-فرمان-کی-تشریح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 12۔خواجہ نقشبند کے فرمان کی تشریح :</mark></h1>



<p>&nbsp;حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر ایک شیخ کے آئینے کے دورخ ہوتے ہیں لیکن میرے آئینے کے چھ رخ ہیں، اس میں کلام نہیں کہ آج تک اس بزرگ خانوادے کے کسی خلیفے نے اس کلمہ قدسیہ کی شرح بیان نہیں کی ، بلکہ اشارتاً اور کنایتاً بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ، مجھے حقیر قلیل البضاعت کی کیا حیثیت کہ اس کی شرح کی جرات کر سکے اور اس کے کشف کیلئے زبان کھولے لیکن چونکہ حق تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے اس معما کا بھید بھی منکشف فرمایا ہے اور کما حقہ اس کی حقیقت مجھ پر ظاہر فرمائی ہے، اس واسطے اس پوشیدہ بھید کو بیان کی انگلیوں سے رشتہ تحریر میں پروتا ہوں اور زبان ترجمان سے بھی تقریر میں لاتا ہوں ، استخارہ کے بعد اور اللہ تعالی سے غلطی سے بچنے اور توفیق کی دعا کر کے شروع کرتا ہوں ، واضح رہے کہ آئینہ سے مراد عارف کا دل ہے جو روح اور نفس کے مابین برزخ ( وسیلہ ) ہے ، آئینے کے دورخوں سے مراد ایک رخ روح کا اور دوسرا رخ نفس کا لیا ہے، جس وقت مشائخ مقام قلب پر پہنچتے ہیں تو ان پر دونوں رخوں سے وہ علوم و معارف جو قلب کے مناسب ہوتے ہیں منکشف ہونے لگتے ہیں برخلاف &nbsp;اس کے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کے طریقہ میں بدایت ہی میں نہایت مندرج ہے، اس طریقہ میں آئینہ کے چھ رخ ہو جاتے ہیں ، اس کی مفصل حقیقت یہ ہے کہ اس طریقہ عالیہ کے بزرگوں پر منکشف ہوا کہ جو کچھ تمام افراد انسانی میں ثابت ہے وہ چھ لطیفوں سے اکیلے دل میں متحقق ہے، ان چھ طرفوں سے مرادنفس ، قلب ،روح ، سرخفی ، اخفی لئے ہیں ، باقی تمام مشائخ کی سیر قلب کے ظاہر تک محدود ہے لیکن نقشبندی بزرگوں کی سیر قلب کے باطن تک بلکہ اس سیر کے ذریعے اس کے اندرونی سے اندرونی نقطے تک ہے اور انہیں ان چھ لطیفوں کے علوم و معارف مقام قلب میں منکشف ہوتے ہیں لیکن وہ علوم منکشف ہوتے ہیں جو مقام قلب کے مناسب ہیں یہ ہے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کے کلمہ قدسیہ کا بیان ، مجھ حقیر کو ان بزرگوں کی برکت سے اور زیادہ تحقیق وتدقیق معلوم ہوئی ،سو میں اس تحقیق و تدقیق میں سے کچھ اشارتا اس آیہ کریمہ کے بموجب،<strong> وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ</strong><strong>اپنے</strong> پروردگار کی نعمت کا ذکر &nbsp;کرو بيان کرتا ہوں ، واضح رہے کہ قلبِ قلب میں بھی قلب کی طرح لطائف پاۓ جاتے ہیں لیکن قلبِ قلب میں یا دائرہ کی تنگی یا کسی اوربھید کی وجہ سے مذکورہ بالا چھ لطیفوں میں سے دو لطیفے بطریق جز ویعنی لطیفہ نفس اور لطیفہ اخفی ظاہر نہیں ہوتے اور یہی حالت اس دل کی ہے جو تیسرے مرتبے میں ہو کیونکہ اس میں خفی بھی ظاہر نہیں ہوتا اور یہی حالت اس دل کی ہے جو چوتھے رتبہ میں ہو کیونکہ اس میں صرف قلب و روح کا ظہور ہوتا ہے ، سر کا نہیں ہوتا، پانچویں مرتبے میں لطیفہ روح کا بھی ظہور نہیں ہوتا صرف قلب ہی قلب رہ جا تا ہے جو بسیط محض اور نا قابل اعتبار ہے ، اس موقع&nbsp; پر بعض معارف عالی معلوم کرنا ضروری ہے، تا کہ ان کے ذریعے واضح ہو جائے کہ نہایت النہایت اور غایت الغایت سے کیا مراد ہے، میں ان معارف کو بتو فیق الہی بیان کرتا ہوں ، وہ یہ کہ جو کچھ عالم کبیر میں مفصل طور پر ظاہر کیا گیا ہے وہ عالم صغیر میں مجمل طور پر ظاہر ہوتا ہے، عالم صغیر کو صیقل کر کے منور کر لیا جا تا ہے تو اس میں آئینے کی طرح عالم کبیر کی تمام چیز یں مفصل دکھائی دینے لگتی ہیں کیونکہ صیقل اور منور کرنے سے اس کا احاطہ وسیع ہو جا تا ہے ، اس وقت صغیر کا لفظ اس پر عائد نہیں ہوتا اور یہی حالت اس دل کی ہے جس کو عالم صغیر سے وہی نسبت ہے جو عالم صغیر کو عالم کبیر سے ہے ، جب دل کو صیقل کیا جا تا ہے اور اس سے تاریکی دور ہو جاتی ہے تو اس میں بطریق آئینہ عالم صغیر کی تمام چیز یں مفصل دکھائی دینے لگتی ہیں اور یہی نسبت قلب القلب اور قلب میں ہوتی ہے جو قلب اور عالم صغیر میں ہوتی ہے، جب قلب القلب کا تصفیہ کر لیا جا تا ہے تو اس میں تمام چیزیں مفصل طور پر دکھائی دینے لگتی ہیں علی ہذا القیاس دل تیسرے اور چوتھے اور پانچویں مرتبے میں بہ سبب صقالت و نورانیت سابقہ مراتب کی تمام چیزوں کو مفصلا دکھلانے لگتا ہے ، اس طرح جو دل پانچو یں مرتبے میں بسیط محض اور نا قابل اعتبار ہوتا ہے ، جب اسے پورے طور پر منتقل کیا جا تا ہے تو اس میں عالم کبیر ، عالم صغیر اوراصغر اور بعد کے باقی تمام عوالم کی چیزیں مفصلا دکھائی دینے لگتے ہیں ، سو وہ تنگ لیکن سب سے فراخ اور بسیط سے بسیط ہے، نہایت چھوٹا لیکن سب سے بڑا ہے، اس وصف کی کوئی اور چیز اللہ تعالی نے پیدا نہیں کی ، اس لطیفہ بدیعہ سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ تعالی سے مناسبت نہیں رکھتی ، اس واسطے اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا ہے، ‌لَا ‌يَسَعُنِي ‌أَرْضِي، وَلَا سَمَائِي، وَلَكِنْ يَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ ، میرے آسمان اور میری زمین میں میری گنجائش نہیں، میں صرف اپنے مومن بندے کے دل میں سما سکتا ہوں ۔ عالم کبیر اگر چہ بلحاظ ظہور نہایت وسیع ہے اور اس کی کثرت و تفصیل کی وجہ سے اسے اس چیز کے ساتھ جس میں کثرت وتفصیل بالکل نہ ہو کوئی مناسبت نہیں ، وہ تنگ لیکن بہت وسیع ہے اور بسیط الابسط ہے، بہت ہی تھوڑا ہے لیکن ساتھ ہی بہت ہی کثیر بھی ہے ، جب وہ عارف جو بلحاظ معرفت مکمل اور از روۓ شہود اکمل ہو اس مقام پر پہنچتا ہے جوعزیز الوجود اور شریف الرتبہ ہے تو وہ عارف تمام جہان اور اس کے ظہورات کیلئے بمنزلہ دل ہو جا تا ہے ، تب اسے ولایت محمدیہ حاصل ہوتی ہے اور دعوت مصطفویہ سے مشرف ہوتا ہے ، قطب ، اوتا داور ابدال بھی اس کی ولایت کے دائرہ کے تحت داخل ہوتے ہیں اور ہر قسم کے اولیاء اللہ مثلا افراد و آحاد بھی اس کے انوار ہدایت کے تحت مندرج ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ جناب رسول خدا ﷺ کا نائب مناب اور حبیب الہی کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہوتا ہے، یہ عزیز الوجود اور شریف النسبۃ مرادوں میں سے کسی ایک سے مخصوص ہوتی ہے ، مریدین کو یہ کمال نصیب نہیں ہوتا ، یہ بڑی نہایت اور آخری غایت ہے ، اس کے اوپر کوئی کمال نہیں اور اس سے عمد و کوئی بخشش نہیں خواہ اس قسم کا عارف ہزار سال بعد پا یا جاۓ تو بھی غنیمت ہے ، اس کی برکت مدت مدید اور عرصہ بعید تک جاری رہتی ہے، ایسے عارف کا کلام بمنزلہ دوا اور اس کی نظر بمنزلہ شفا ہوتی ہے ، اس آخری امت میں سے انشاء اللہ حضرت مہدی موعود ہی اس نسبت شریفہ پر پائے جائیں گے ، یہ اللہ تعالی کا فضل ہے، جسے چاہے عطا فرماۓ اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے ، یہ دولت عظمی سلوک و جذبہ کے دونوں راستے بالترتیب اور بالتفصیل طے کرنے سے وابستہ ہے، نیز فناۓ اتم اور بقاۓ اکمل کو ایک ایک درجہ کر کے حاصل کر نے پر منحصر ہے ،سو یہ باتیں جناب سرور کائنات ﷺ کی فرمانبرداری کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتیں ، اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے ہمیں آنحضرت ﷺ کی فرمانبرداری و پیروی عنایت فرمائی ، ہم اللہ تعالی سے آنحضرت ﷺ کی متابعت کا کمال ، اس پر ثابت قدم رہنا اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کی استقامت مانگتے ہیں ، آمین کہنے والے بندے پر اللہ تعالی رحم کرے ، یہ معارف پوشید و اسرار اور مخفی رموز سے ہیں، بڑے بڑے اولیا میں سے کسی نے بھی ان کا ذکر نہیں کیا اور بڑے بڑے اصفیاء میں سے کسی نے بھی ان کی طرف اشارہ نہیں کیا ، اللہ تعالی نے اپنے اس بندے کو اپنے حبیب اکرم ﷺ کے صدقے ان اسرار سے مطلع فرما کران کے ظاہر کر دینے کا حکم فرمایا کسی نے کیا اچھا کہا ہے</p>



<p>اگر بادشاه بر در پیر زن&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن</p>



<p>اللہ تعالی کی قبولیت کسی شے یا سبب پر منحصر نہیں ، جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کر تا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے، <strong>وصـلـى الـلـه تـعـالـى عـلـى سيدنا محمد و اله واصحابه وسلم وبارك على جميع الانبياء والمرسلين وعلى الملئكة المقربين وعلى عباده الصالحين والسلام على من اتبع الهدى والتزم متابعة المصطفى عليه الصلوة والسلام۔</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-13-مقام-روح-اور-کمال-عروج"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:13۔مقام روح اور کمال عروج:</mark></h1>



<p>روح بھی چونکہ عالم بیچونی (عالم بے کیف)سے ہے اس واسطے اس کیلئے بھی لا مکان ہونا متحقق ہے، لیکن اس کی بیچونی (بے کیفی )بمقابلہ وجوب ذات حق عین چون(کیف) ہے اور اسکا لامکان ہو نا حقیقی لامکان کی لامکانیت کے سامنے عین مکانیت ہے، گویا عالم ارواح اس عالم اور مرتبہ بیچونی کے مابین برزخ ہے ، چونکہ روح میں دونوں رنگ پاۓ جاتے ہیں ،اس واسطے عالم بیچون&nbsp; کی نسبت سے&nbsp; اسے بے چون جانتے ہیں لیکن اصلی بیچون کے مقابلہ میں عین چون ہے، یہ برزخ ہونے کی نسبت اسے اس کی اصلی فطرت کے اعتبار سے حاصل ہے لیکن جب اس روح کا تعلق اس کے ایک ہیکل اور قفس عنصری سے ہو جاتا ہے تو عام برزخیت سے نکل کر بالتمام عالم چون میں اتر آ تا ہے ، اس واسطے بچونی کا رنگ اس سے نکل جاتا ہے ، اس کی مثال ہاروت و ماروت &nbsp;کی سی ہے جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ارواح ملائکہ بعض خاص مصلحت کیلئے بشریت کی پستی میں اترے ہیں ، پس اگر عنایت الہی مددکرے اور اس سفر سے لوٹ کر اپنی اصلی جگہ جاۓ جو درحقیقت تنزل سے عروج ہے تو تاریک نفس اور بدن عنصری بھی اس کی متابعت سے ضرور عروج حاصل کر لیں گے اور منزلیں طے کر لیں گے ، اس ضمن میں وہ مقصود بھی ظاہر ہو جاۓ گا جوروح کے تعلق اور اس کے نزول سے مطلوب تھا نفس امارہ نفس مطمئنہ بن جائے گا اور ظلمانی نورانی سے بدل جاۓ گا ، جب روح اس سفر کوختم کر لیتا ہے اور نزول کے مقصود کو انجام تک پہنچا لیتا ہے تو اصلی برزخیت پر پہنچتا ہے اور نہایت بدائیت کی طرف لوٹتے وقت حاصل کرتا ہے، چونکہ قلب بھی عالم ارواح سے ہے اس واسطے اسے بھی برزخیت میں وطن نصیب ہوتا ہے اور نفس مطمئنہ بھی جو عالم امر کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ وہ قلب و بدن کے مابین برزخ ہے اس جگہ ا قامت کرتا ہے اور بدن عنصری جوار بعہ عناصر کا بنا ہوا ہے عالم کون و مکان میں قرار پکڑتا ہے اور اطاعت وعبادت میں مشغول ہو جا تا ہے ، بعد ازاں اگر سرکشی اور مخالفت واقع ہوتی ہے تو اسے عناصر کی طبیعتوں سے منسوب کیا جا تا ہے ،مثلا جز و ناری جو بالذات سرکش اور مخالفت طلب ہے ابلیس لعین کی طرح <strong>انا خیر منہ</strong> میں اس سے اچھاہوں پکارے گا نفس مطمئنہ سرکشی سے باز آ چکا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی سے راضی ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس سے ، سو جو ایک دوسرے سے راضی ہوں ان میں سرکشی کا خیال تک نہیں ہوتا ،اگر سرکشی ہے بھی تو قالب سے، شاید جناب سرور کائنات ﷺ نے اس شیطانی سر کشی کے خلاف جہاد کو جہادا کبر سے تعبیر فرمایا ہو کیونکہ اس کی پیدائش بھی جزو قالبی ہے اور یہ جوفر مایا، اسلم شیطانی ، اس سے مراد ہے میرے شیطان نے اسلام قبول کیا (حضور اکرم ﷺ کی شان تخصیص ہے کہ آپ کا شیطان( قرین) مسلمان ہو گیا اس لیے اس کے اثرات و تصرفات کا آپ ﷺ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔)، یا تو مرادشیطان آفاقی ہے جو آنحضرت ﷺ کا قرین ہے لیکن جہادا کبر والی حدیث میں انفسی شیطان مراد ہے ،اگر چہ سالک نے&nbsp; اس شیطان کی شان وشوکت کو بھی تو ڑا ہوا ہے اور وہ سرکشی سے باز آیا ہوا ہے لیکن پھر بھی جو شے کسی کی ذات میں داخل ہواس سے جدا نہیں ہوسکتی ،</p>



<p>سیاسی از حبشی کے رود که خودر نگ است</p>



<p>حبشی کے رنگ سے سیاہی کیسے دور ہوسکتی ہے</p>



<p>یا اس سے مراد انفسی شیطان ہے ،اس کے اسلام قبول کرنے سے لازم نہیں آتا ہے کہ اس نے سرکشی بالکل ترک کر دی ہو، باوجوداسلام کے اگر عزیمت کو ترک کر کے رخصت کا مرتکب ہو تو جائز ہے اور اگر کوئی ایسا صغیرہ سرزد ہو جس میں نیکی نہ ہوتو بھی اس کی گنجاش ہے، بلکہ نیکوں کی نیکیاں مقربوں کے نزدیک برائی میں داخل ہیں، بھی اسی قسم سے ہے ، یہ سب سرکشی کی قسمیں ہیں، یہ سرکشی جو تھوڑی بہت اس میں باقی رہتی ہے وہ اس کی اصلاح وترقی کیلئے ہے کیونکہ ان امور کے حاصل ہو جانے کے بعد جن میں کمی کا انتہائی درجہ ترک کے حصول سے بہتر ہے ایسی ، پشیمانی ، تو بہ اور استغفار ہاتھ آتی ہے جو بے نہایت ترقیوں کا موجب ہوتی ہے، جب بدن عنصری اپنی جاۓ قرار میں آجاتا ہے تو لطائف ستہ کی جدائی اور ان کے عالم امر میں چلے جانے کے بعد اس جہان میں ان کا خلیفہ بلاشک وشبہ یہی بدن رہ جا تا ہے اور یہی ان سب کے کام کرتا ہے ، بعدازاں اگر الہام ہوتا ہے تو گوشت کے اس ٹکڑے کو جو حقیقت جامعہ قلبیہ کا خلیفہ ہے اور اس حدیث نبوی ، مَنْ أَخْلَصَ لِلَّهِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ظَهَرَتْ ‌يَنَابِيعُ ‌الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِجوشخص اخلاص سے چالیس دن اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہے حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں ، میں قلب سے مراد اللہ اعلم یہی گوشت کا ٹکڑا ہے، دوسری حدیثوں میں بھی یہی مراد مقرر ہے جیسا کہ جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں ، <strong>أَنَّهُ ‌لَيُعَانُ ‌عَلَى ‌قَلْبِي</strong> ، بے شک میرے دل پر پردہ کیا جا تا ہے(قلب پر غبار آنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ امت کے حال پر انتہائی شفقت و مہربانی سے پیش آنے کی وجہ سے ان کی کثافت کو اپنی طرف کھینچ لیتے جو غبار کی طرح نظر آتا تھا، جیسے غین سے تعبیر فرمایا گیا ، یہاں قلب سے مراد قلب القلب نہیں وہ تو ہمہ وقت لاہوتی جلووں میں محورہتا ہے اور غبار سے محفوظ ہے غین جس قلب آتا ہے اس سے مرادمضغہ گوشت ہے جوغم &nbsp;امت میں بے قرار ہوتا ہے۔)، اس سے صاف ظاہر ہے کہ پردہ اگر ڈھانپا ہوا ہے تو اس گوشت کے ٹکڑے پر نہ کہ حقیقت جامعہ پر کیونکہ وہ تو بالکل پردے سے بری ہے، دوسری حدیثوں میں دل کے پلٹنے کا ذکر آیا ہے، چنانچہ جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے میں قَلْبُ ‌الْمُؤْمِنِ ‌بَيْنَ ‌أُصْبُعَيْنِ ‌مِنْ ‌أَصَابِعِ ‌الرَّحْمَنِ مؤمن کا دل اللہ تعالی کی دوانگلیوں کے مابین ہے نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے، مثلُ القلب ‌كريشة ‌في ‌أرض ‌فلاة تُقَلِّبُها الرياحُ ظهرًا لبطنِ، مؤمن کا دل بیابان کے گھاس کی طرح ہے ، نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ، <strong>اللهُمَّ ‌ثَبِّتْ ‌قَلْبِي ‌عَلَى طَاعَتِكَ </strong>،اے معبود میرے دل کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھنا ، پلٹنا اور عدم اس گوشت کے ٹکڑے کیلئے ہے کیونکہ حقیقت جامعہ ہرگز نہیں پلٹتی ،اس واسطے کہ وہ راسخ ومطمئن ہے، جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ &nbsp;نے دل کے واسطے اطمینان کی درخواست کی تو اس وقت آپ کی مراداسی گوشت کے ٹکرے سے تھی نہ کہ کسی اور چیز سے کیونکہ آپ کا حقیقی دل تو بلا شک و شبہ مطمئن تھا بلکہ آپ کا نفس بھی آپ کے حقیقی قلب کی سیاست کی وجہ سے مطمئن تھا ،عوارف المعارف کے مصنف شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;فرماتے ہیں کہ الہام اسی نفس مطمئنہ کی صفت ہے جو مقام قلب تک عروج کر گیا ہو بے شک تلون وتقلب نفس مطمئنہ کی صفات ہیں اور یہ قول جیسا کہ تم دیکھتے ہو مذکورہ &nbsp;بالا حدیثوں کے خلاف ہے، اگر شیخ کو اس وقت&nbsp; اس مقام نفس مطمئنہ&nbsp; سے اوپر عروج میسر ہوتا ہے تو حقیقت معاملہ کو جان لیتے اور میری دی ہوئی خبر کا صدق ظاہر ہو جا تا اور کشف و الہام احادیث نبویہ سے مطابقت پیدا کر لیتے اور پھر یہ بھی تمہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس گوشت کے ٹکڑے پر الہام ہوتے ہیں اور یہی خلیفہ ہے اور اس کے احوال بدلتے رہتے ہیں، اگر میرا کہنا بالفرض ہٹ دھرم اور اصل حقیقت سے قاصر و جاہل لوگوں کو نا گوار گزرے تو حدیث نبوی ﷺ کا ان کے پاس کیا جواب ہے ،خود جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ. ‌أَلَا ‌وَهِيَ ‌الْقَلْبُ اس میں شک نہیں کہ بنی آدم کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ سنورا ہوا ہوتو سارا جسم سنورا ہوتا ہے &nbsp;جب اس میں بگاڑ ہو تو تمام جسم میں بگاڑ ہو تا ہے اور وہ دل ہے ، آنحضرت ﷺ نے مبالغہ کے طور پر فرمایا ہے کہ دل وہ ہے اور سارے جسم کا سنورنا بگڑ نا اسی کے سنور نے بگڑ نے پر منحصر ہے ،سوسنوار بگاڑ گوشت کے ٹکرے کے لیے ہے نہ کہ قلب حقیقی کیلئے خواہ نیابت اور خلافت کے طریق پر ہی ہو، واضح رہے کہ جب روح جسم سے <strong>موتـو اقبل ان تموتوا</strong> مرنے سے پہلے مر جاؤ والی موت کے سبب جدا ہو جاتی ہے تو عارف کامل اپنی روح کو نہ جسم میں داخل اور نہ اس سے خارج ، نہ ملی ہوئی اور نہ اس سے جدا پا تا ہے ،اسے اتنا معلوم ہو جا تا ہے کہ روح اور جسم کا تعلق اس واسطے ہے کہ جسم کی بھی اصلاح ہو جائے اور روح بھی اپنے اصلی کمال پر پہنچ جاۓ اور اس تعلق کا منشا یہی ہے کہ نیکی اور بہتری ہو جاۓ ، اگر تعلق نہ ہوتا تو جسم سارے کا سارا شریر اور ناقص رہ جا تا اور یہی حالت ہے واجب تعالی کی روح وغیرہ کے ساتھ کہ ذات حق نہ عالم میں داخل ہے اور نہ خارج ہے، نہ اس سے ملی ہوئی ہے اور نہ اس سے جدا ہے، اللہ تعالی کا جہان کو پیدا کرنے ، باقی رکھنے، کمالات کا فیض پہنچانے اور نعمت اور نیکیوں کے لئے مستعد بنانے کا تعلق ہے ،اگر تم یہ کہو کہ علماء اہل حق نے روح کے بارے میں اس قسم کا کلام نہیں کیا بلکہ ایسا کرنے کو جائز ہی نہیں فرمایا اور آپ ہر چھوٹی بڑی بات میں ان کی موافقت کو لازم جانتے ہیں پھر آ پکے اس طرح کلام کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ روح کی حقیقت جاننے والے عالم بہت کم ہیں، انہوں نے کمالات روح کے کشف کے متعلق مفصل کچھ نہیں لکھا، بلکہ مجمل طور پر لکھنے پر اس واسطے اکتفا کی ہے &nbsp;کہ عوام الناس چونکہ اس کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے ،ایسا نہ ہو کہ الٹا گمراہی میں پڑ جائیں، بیشک کمالات روحی کمالات و جوبی کی شبیہ اور صورت ہیں ، ان میں ایک بار یک فرق ہے، جسے صرف علماۓ راسخ ہی جانتے ہیں ،اس لئے انہوں نے مصلحت اس میں دیکھی کہ اس کی حقیقت کو مجمل بیان کیا جائے یا بالکل بیان نہ کیا جاۓ ، لیکن وہ روح کے مذکورہ بالا کمالات کے منکرنہیں ، میں نے جو روح کے بعض خواص منکشف کیے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالی کی مد د وتو فیق اور جناب سرور کائنات ﷺ کے صدقے کشف صریح اور علم صحیح حاصل ہے اور ساتھ ہی مجھ سے وہ شبہ دور کر دیا گیا ہے جو بیان کرنے سے روکتا ہے ، اب غوروفکر کرو، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جس طرح جسم کو روح سے بے شمار فوائد حاصل ہوئے ہیں اسی طرح روح کو بھی جسم سے بڑے بڑے فوائد پہنچے ہیں ، چنانچہ جسم ہی کی برکت سے اسے سننے، دیکھنے ، بات کرنے مجسم ہونے مختلف افعال کرنے اور عالم اجساد سے مناسب ہونے کی طاقت نصیب ہوئی ، جب نفس مطمئنہ روحانیوں سے مل جاتا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے تو عقل اس کے بجاۓ اس کا خلیفہ بن کر عالم اجساد میں بیٹھتی ہے اور اس کا نام عقل معاد ہو جا تا ہے ،اس وقت اس کی تمام سوچ بیچارصرف آخرت کیلئے محدود ہو جاتی ہے ، دنیاوی زندگی کے اسباب کی طرف سے فارغ ہو جاتی ہے اور جونو را سے عطا ہوا ہے اس کے سبب فراست کے لائق ہو جاتی ہے، یہ مرتبہ کمالات عقل کا انتہائی مرتبہ ہے، ناقص یہاں پر یہ اعتراض نہ کرے کہ کمالات عقل کا انتہائی مرتبہ نسیان معاش و معاد میں متحقق ہونا چاہیئے کیونکہ شروع میں اسے سواۓ حق سبحانہ وتعالی کے اور کسی کا خیال واندیشہ نہیں ہوتا وہ کیا دنیا کیا آخرت دونوں کی طرف سے فارغ ہوتی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نسیان و فراموشی اسے اثنائے راہ میں مرتبہ فنا فی اللہ پر پہنچ کر حاصل ہوئی اور یہ کمال اس سے بدر جہا متجاوز ہے، یہاں حصول جہل کے بعد رجوع علم ہے اور تحقق جمع کے بعد فرق کا لوٹ آتا ہے اور مرتبہ جمع کے کفر طریقت کے بعد اسلام حقیقی کا حاصل ہوتا ہے ،کوتاہ اندیش اور احمق فلسفیوں نے عقل کے چار مراتب ثابت کر کے انہیں پر اس کے کمالات کا انحصار رکھا ہے ، یہ ان کی کمال نادانی ہےعقل کی حقیقت اور اس کے کمالات کا اندازہ عقل و و ہم سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس مطلب کیلئے کشف صحیح اور الہام صریح درکار ہے جوانوار نبوت کی مشکوۃ سے مقتبس(لیا گیا) ہو، اگر یہ پوچھیں کہ مشائخ نے جوعقل کو روح کا تر جمان لکھا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ علوم و معارف جو روحانی تلقی (لینے، اخذ کرنے)کے باعث مبدا فیاض سے حاصل ہوتے ہیں انہیں قلب جو کہ عالم ارواح سے ہے ،اخذ کرتا ہے ، ان کا ترجمان عقل ہے کہ ان کو چھانٹ کر عالم خلق کے گرفتاروں کی سمجھ کے لائق بنا تا ہے، کیونکہ اگر وہ ترجمانی نہ کرے تو ان کا سمجھنا مشکل بلکہ محال ہو جا تا ہے، چونکہ دل گوشت کا لوتھڑا قلبی حقیقت جامعہ کا خلیفہ ہے اس واسطے وہ اصل کی طرح ہو گیا ہے، اس کی تلقی بھی روحانی تلقی ہوگئی ہے، اس واسطے اسے تر جمان کی ضرورت ہوئی ہے، واضح رہے کہ عقل معاد پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جو نفس مطمئنہ کی ہمسائیگی کے شوق کا باعث ہوتا ہے، یہاں تک کا نفس مطمئنہ کو اس کے مقام تک پہنچاتا ہے اور جسم کو خالی &nbsp;چھوڑتا ہے ، اس وقت تعلق تذکر وتعقل بھی قلبی ٹکڑے میں قرار پکڑتا ہے <strong>إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ ‌لَهُ ‌قَلْبٌ </strong>صاحب قلب کیلئے اس میں ذکر ہے، وہی قلب خود آپ ہی اپنا تر جمان ہو جا تا ہے، اس وقت عارف کو قالب سے پالا پڑتا ہے، ناری جز وجس کے وجود سے <strong>ا</strong><strong>ن</strong><strong>اخیر منہ</strong> میں اس سے اچھا ہوں کی آواز نکلتی تھی فرمانبردار ہونے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے اسلام حقیقی کے شرف سے مشرف ہو جا تا ہے ، تب ابلیسی جامہ اس سے اتار کر نفس مطمئنہ کے اصلی مقام میں پہنچاتے ہیں اور اس کا نائب مناب بنا دیتے ہیں ، پس قالب میں قلب حقیقی کا خلیفہ یہی گوشت کا ٹکڑا ہے اور نفس مطمئنہ کا نائب مناب جز و ناری ہے ۔</p>



<p>مصرع زرشدمس و جو دمن از کیمیاۓ عشق (کیمیائے عشق کے چھونے سے وجود کی خاک زر بن گئی)</p>



<p>جز و ہوائی روح سے مناسبت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ سالک جب مقام ہوا تک عروج کر جاتا ہے تو اس ہوا کو حقانیت کا عنوان جاننے لگتا ہے اور اسی میں گرفتار رہتا ہے، چنانچہ مقام روح میں بھی شہود ہاتھ آتا ہے اور اس میں گرفتار رہتا ہے ،ایک شیخ نے فرمایا ہے کہ میں تیس سال روح کو خدا سمجھ کر اس کی پرستش کرتا رہا لیکن جب اس مقام سے مجھے عبور حاصل ہوا تو حق و باطل میں تمیز ہوگئی ، یہ جز و ہوائی مقام روحی کی مناسبت کے سبب اس قالب میں روح کا قائم مقام ہوتا ہے اور بعض امور میں روح ہی کا کام دیتا ہے، جز و آبی حقیقت جامعہ قلبیہ سے مناسبت رکھتا ہے ، اسی واسطے اس کا فیض تمام اشیاء کو پہنچتا ہے، وَجَعَلْنَا ‌مِنَ ‌الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ &nbsp;ہم نے پانی سے تمام چیزوں کو زندہ کیا ہے ، اس کی بازگشت بھی یہی قلبی گوشت کا لوتھڑا ہے ، جزو خا کی جو اس قالب کا جزو اعظم ہے اپنی ذات صفات کی آلودگی کمینگی اور خست سے پاک ہوکر اس قالب میں غالب و حاکم بن جا تا ہے ، قالب میں ہر طرح کا حکم اس کو حاصل ہوتا ہے اور اس کا رنگ اختیار کرتا ہے، یہ بات اسے خاک کی جامعیت تامہ کے سبب حاصل ہوتی ہے ، تمام اجزاۓ قالب در حقیقت اس کے اجزاء ہیں ، یہی وجہ ہے کہ کرہ زمین تمام عناصر افلاک کا مرکز ہے اور کرہ زمین کا مرکز تمام جہان کا مرکز ہے، اس وقت قالب کا معاملہ بھی انجام تک پہنچ جاتا ہے اور عروج ونزول کا انتہائی درجہ حاصل ہو جا تا ہے اور اعلی درجہ کی تکمیل نصیب ہو جاتی ہے، یہ ہے وہ نہایت جو ہدایت کی طرف رجوع رکھتی ہے، واضح رہے کہ روح مع اپنے توابع و مراتب کے گوبطریق عروج اپنی جاۓ قرار پر پہنچ &nbsp;چکی ہولیکن چونکہ ابھی اسے قالب کی تربیت کرنا ہوتی ہے اس واسطے اس جہان کی طرف اس کیلئے متوجہ ہونا ضروری تھا سو جب قالب کا معاملہ انجام تک پہنچ جا تا ہے تو روح معہ سرخفی ،اخفی ، قلب نفس اور عقل جناب باری کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اس قالب سے بالکل منہ پھیر لیتی ہے ، اس وقت قالب بھی ہمہ تن مقام عبود یت کی طرف متوجہ ہو جا تا ہے ، پس روح مع اپنے مراتب کے شہود و حضور کے مقام میں جگہ پکڑتی ہے اور غیر حق کی دید و دانش سے بالکل منہ پھیر لیتی ہے اور قالب سر بسر مقام اطاعت و بندگی میں راسخ ہو جا تا ہے ، اس مقام کو’’ فرق بعد الجمع‘‘ وصال کے بعدجدائی کہتے ہیں، اللہ تعالی اس کی لذت کی توفیق عنایت کرتا ہے، مجھے اس مقام میں خاص قدم حاصل ہے اور اس خاص قدم سے مراد روح کا مع اپنے مراتب کے عالم خلق کی طرف لوٹنا ہے تا کہ حق سبحانہ و تعالی کی طرف بلاۓ ، اس وقت روح بمنزلہ قالب ہوتی ہے اور اس کی تابع ہوتی ہے ، یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ اگر قالب حاضر ہے تو روح بھی حاضر ہے ، اگر قالب غافل ہے تو روح بھی غافل ہے مگر نماز کے وقت خواہ قالب غافل ہی ہوروح مع اپنے مراتب کے بارگاہ قدس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اس واسطے نماز مومن کی معراج ہے، واضح رہے کہ یہ ر جوع واصل جو بالتمام واقع ہوتا ہے دعوت کا سب سے کامل مقام ہے ، یہ غفلت جمع کثیر کے حضور کا سبب ہے، غافلوں کو اس غفلت کی خبر نہیں اور حاضروں کو اس رجعت کا علم نہیں ، یہ مقام بظاہر برالیکن باطن اچھا ہے، ہر ایک کوتاہ اندیش اسے نہیں سمجھ سکتا ،اگر میں اس غفلت کے کمالات بیان کروں تو کوئی شخص بھی حضور کی آرزو نہ کرے ، یہ غفلت ہے جس نے خواص بشر کو خواص ملک پر فضیلت دی ، یہ غفلت ہے جس کے سبب جناب سرور کائنات کی رحمت عالمیان ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو ولایت سے نبوت تک پہنچاتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو نبوت سے رسالت تک لے جاتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو اولیاۓ عشرت کو اولیاۓ عزلت پر زیادتی بخشتی ہے، یہ وہ غفلت ہے جو جناب سرور کائنات ﷺ کوصدیق اکبر &nbsp;رضی اللہ عنہ &nbsp;پر سبقت دیتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو ہوش کو مستی پرترجیح دیتی ہے، یہ وہ غفلت ہے جو نبوت کو ولایت سے افضل بناتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جس کے سبب قطب ارشاد قلب ابدال سے افضل سمجھا جا تا ہے ، یہ وہ غفلت ہے ہے جس کی آرزو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، چنانچہ فرما تے ہیں یا<strong> ليتني كنت ‌سهو ‌محمد صلى الله تعالى عليه وسلم</strong> کاش محمد مصطفی ﷺ جیسا سہو مجھے نصیب ہوتا ، یہ وہ غفلت ہے کہ حضور اسکا ایک ادنی خادم ہے ، یہ وہ غفلت ہے کہ وصول اس کے حصول کا پیش خیمہ ہے، یہ وہ غفلت ہے کہ بظاہر تنزل ہے لیکن حقیقت میں عروج ہے، یہ وہ غفلت ہے جس سے خواص پر عوام کا شبہ پڑتا ہے اور وہ ان کے کمالات کے قبوں میں پھرتی &nbsp;ہے&#8230;&#8230;&#8230;.. اگر بگویم شرح این بیحد شود&#8230; یہ مشتے نمونه از خروارے اور سمندر سے قطرہ کیمطابق لکھا گیا ہے، <strong>والسـلام عـلـى مـن اتبـع الهـدى والتـزم متـابـعـة الـمـصـطـفـى عليـه ،وعلى الله من الصلوات و التسليمات اتمها وأكملها</strong>.</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-14-حضور-پیغمبر-اعظمﷺ-کا-امتیاز-خاص"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:14۔حضور پیغمبر اعظمﷺ کا امتیاز خاص:</mark></h1>



<p>حضرت ختم المرسلین ﷺ تمام انبیاء کرام&nbsp; میں تجلی ذاتی سے ممتاز ہیں اور اس دولت سے جو تمام کمالات سے بڑھ کر ہے مخصوص ہیں، آنحضرت ﷺ کے کامل تابعین کو بھی اس خاص مقام سے مفاد حاصل ہوتا ہے لیکن یا درکھنا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ امت محمدی کے کامل باقی تمام انبیاء سے افضل ہیں ، یہ اہل سنت و جماعت کے اعتقاد کے سراسر خلاف ہے، یہ فضیلت جزئی نہیں کہ اس سے شبہ رفع ہو سکے بلکہ کلی ہے کیونکہ مردان خدا کو بسبب قرب الہی فضیات حاصل ہوتی ہے اور جوفضیلت بھی ہے اس فضلیت سے کم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کہنے سے کہ اس امت کے کامل آدمیوں کو اس فضیلت سے نصیبہ حاصل ہے یہ لازم نہیں آتا کہ و واس مقام کے واصل ہیں کیونکہ نصیبہ حاصل ہونے اور واصل ہونے میں بڑافرق ہے، فضیلت واصل ہونے پر حاصل ہوتی ہے، اس امت کے کاملوں کا انتہائی عروج اقدام انبیاء ﷺ کے نیچے تک ہے ، چنانچہ امیر المومنین صدیق اکبر ﷺ جو انبیاء کے بعد تمام بنی نوع انسان سے افضل ہیں کا انتہائی عروج قدم نبی کے تلے تک ہے ، جو تمام انبیاء سے ادنی ہے ، آمد بر سر مطلب، اس امت کے کامل تابعین کو مقام تحت میں پیغمبروں کے مخصوصہ مقام فوق الفوق کے کمالات سے نصیبہ حاصل ہوتا ہے ، خادم خواہ کہیں ہوا سے مخدوم کا پس خوردہ پہنچ &nbsp;رہتا ہے ، دور کا خادم مخدوم کے طفیل سے وہ چیز حاصل کر سکتا ہے جو خدمت کی دولت کے بغیر نز دیکوں کے بھی ہاتھ نہیں آتی</p>



<p>درقافله که اوست دانم نرسم این بس که رسد ز دور بانگ جرسم</p>



<p>اس قافلہ تک میں جانتا ہوں کہ نہیں پہنچ سکتا یہی کافی ہے کہ گھنٹیوں کی آواز آتی رہے</p>



<p>واضح رہے کہ کبھی مریدوں کو اپنے پیروں کے حق میں و ہم پیدا ہوتا ہے ، چنانچہ جب وہ پیروں کے مقامات حاصل کر لیتے ہیں تو خیال کرنے لگتے ہیں کہ ہم اور ہمارے پیر برابر ہیں لیکن معاملہ کی اصل حقیقت وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے، برابری اس واسطے ہوئی جب ان مقامات واصل ہو &nbsp;جائیں نہ کہ حصول &nbsp;سے برابر ہو جائیں گے کیونکہ حصول &nbsp;تو خود طفیلی ہے اس سے یہ بھی خیال کرنا چاہیئے کہ مرید اپنے پیر کے مساوی نہیں ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا بلکہ مساوی ہونا جائز ہے اور ایسا ہوتا ہے لیکن کسی خاص مقام کے حصول اور اس کے وصول میں بڑا بار یک فرق ہے ہر مرید کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی ، اس فرق کو معلوم کرنے کیلئے کشف صیح اور الہام صریح درکار ہے،<strong>واللہ سبحانه الملهم بالصواب وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> ۔</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-15راہ-سلوک-میں-پیش-آنے-والے-حالات"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 15راہ سلوک میں پیش آنے والے حالات:</mark></h1>



<p>ایک درویش نے پوچھا، اس کا کیا سبب ہے کہ سالک طریقت پرایسی حالت بھی آتی ہے کہ عرصہ نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے ہٹتا ہے ، بعد ازاں پوشیدہ ہو جاتا ہے ، مدت بعد پھر وہی حالت ظاہر ہوتی ہے، پھر عرصے بعد پوشیدہ ہو جا تا ہے اور جب تک اللہ تعالی کو منظور ہوتا ہے ایسا ہی ہوتا رہتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی میں سات لطیفے ہیں ، ہر ایک لطیفے کی مدت سلطنت جدا جدا ہے ، پس اگر کوئی قوی حالت ان میں سے نہایت لطیف پر نزول فرماۓ تو سالک کی کلیت اس لطیفے کے رنگ میں رنگی جاتی ہے اور وہ حال تمام لطائف میں سرایت کر جا تا ہے اور جتنی اس لطیفے کی مدت سلطنت مقرر ہوتی ہے اتنا عرصہ وہ حالت قائم رہتی ہے، جب وہ عرصہ گز رجا تا ہے تو وہ حالت بھی زائل ہو جاتی ہے، مدت بعد اگر پھر وہی حالت طاری ہو جاۓ تو دوحال سے خالی نہیں ، یا پھر اسی پہلے لطیفے پر لوٹ آتا ہے، اس وقت راہ ترقی سالک کیلئے مسدود ہو جاتی ہے ، یا دوسرے لطیفے پر وارد ہو تو اس صورت میں ترقی کی راہ کھل جاتی ہے اور دوسرے لطیفے میں بھی پہلے لطیفے کی سی &nbsp;حالت طاری ہوتی ہے، پھر اس حالت کے زائل ہونے کے بعد اگر وہی حالت طاری ہوتو مذکورہ بالا دو حالتوں سے خالی نہیں ، اسی طرح سارے لطائف میں یہ حالت ہوتی ہے، پس اگر وہ&nbsp; وارد تمام لطائف میں بطریق اصالت سرایت کرے تو ایک مقام سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے اور زوال سے محفوظ رہتا ہے، اللہ تعالی حقیقت حال کو اچھی طرح جانتا ہے ، والسلام على سيد البشر واله الاطهر</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-16آیت-قرآنی-کی-تعبیر-لطیف"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها : 16آیت قرآنی کی تعبیر لطیف:</mark></h1>



<p><strong>قـال الـلـه تـعـالى: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ </strong>اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہارارزق مقرر کیا اس میں سے پاکیزہ کھاؤ اور اللہ تعالی کا شکر بجالاؤ، اگر تم اس کی پرستش کرتے ہو ممکن ہے کہ یہ کھانے کے حکم کی قید من طيبات مارزقنا کم یعنی لذيذ چیز یں کھاؤ جو ہم نے تمہارے لئے بطور رزق مقرر کی ہیں ، بشرطیکہ تم بذر یعہ عبادت اسے مخصوص اور درست کرلو ، اگر تم اسے درست نہ کرو بلکہ لہوولعب میں مشغول ہوتو ملذذ اشیاء کا استعمال نہ کرو کیونکہ تم مرض باطنی میں مبتلا ہو اور ملذذ اشیاء تمہارے لئے زہر قاتل ہیں ، جب تم سے باطنی مرض زائل ہو جاۓ تو پھر تمہارے لئے ملذذ اشیاء کا استعمال درست ہوسکتا ہے ، صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ طلب شکر کوملحوظ رکھتے ہوۓ طیبات سے مرادلذ یذاشیاء ہیں ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-17-مشائخ-کے-ایک-قول-کی-تشریح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 17۔مشائخ کے ایک قول کی تشریح:</mark></h1>



<p>بعض مشائخ رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا ہے مـن عـرف الله لا يضره ذنب جوشخص اللہ تعالی کو پہچان لیتا ہے اسے گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا ، یعنی وہ گناہ جو خدا شناسی حاصل ہونے سے پہلے سرزدہوۓ تھے کیونکہ اسلام تمام ان باتوں کو قطع کر دیتا ہے جو اس سے پہلے ظہور میں آئی ہوں ، اسلام کی حقیقت سے مراد صوفیا کے طریقے کے موافق فنا و بقا حاصل ہونے کے بعد اللہ تعالی کی شناخت کا حاصل ہونا ہے، سو ایسی خدا شناسی ان تمام گناہوں کو جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہیں ، زائل کر دیتی ہے ، یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہوں جو اس معرفت کے بعد سرزد ہوۓ ہوں اور ان سے مراد گناہ صغیرہ ہوں کیونکہ اولیاءاللہ کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں صغیرہ گناہ اس واسطے نقصان نہیں دے سکتے کہ ان پر اصرارنہیں کر تا ہے ۔ اور جس وقت کوئی صغیر ہ ظہور میں آتا ہے اسی &nbsp;وقت تو بہ واستغفار سے اس کا تدارک کیا جا تا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کے معنی ہوں کہ خداشناسی کے بعد اس سے کوئی گناہ سرزدہی نہیں ہوتا کیونکہ جب گناہ صادر ہی نہ ہوگا تو نقصان کیونکر پہنچے گا ، یوں سمجھو کہ لازم کا ذکر کر کے ملزوم مرادلیا ہے ملحدوں نے اس عبارت کے جو معنی نکالے ہیں کہ عارف کیلئے گناہوں کا ارتکاب وسیع ہو جا تا ہے کیونکہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے یہ محض باطل اور صریح بے دینی ہے، یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں ،سنو شیطانی گروہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں ،اے پروردگار ہدایت عطا کر نے کے بعد ہمارے دلوں کو معرفت عنایت فرما اور اپنی طرف سے رحمت عطا کر واقعی تو بہت بخشنے والا ہے صلى الله تعالى على سيدنا محمد واله وسلم و بارك وسيع مغفرت والے کریم اللہ تعالی سے امید کرتے ہیں کہ حقیقت اسلام سے واقف عارف کو خداشناسی حاصل ہونے سے پہلے کے گناہ نقصان و تکلیف نہیں پہنچاسکیں گے خواہ گناہ مظالم وحقوق العباد کے متعلق ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالی مالک علی الاطلاق ہے اور بندوں کے دل اس کی دوانگلیوں کے مابین ہیں جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹنا پلٹتا ہے ، ظاہر ہے کہ مطلق اسلام سے مظالم وحقوق العباد کے سوا باقی گناہ منقطع ہو جاتے ہیں کسی چیز کی حقیقت اور اس کی کمالیت کیلئے زیادتی ہوتی ہے نہ کہ اس کے مطلق کیلئے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-18-وجود-باری-کے-متعلق-معرفت-خاص"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 18۔وجود باری کے متعلق معرفت خاص:</mark></h1>



<p>حق سبحانہ و تعالی اپنی ذات سے موجود ہے نہ کہ وجود سے، اس کے برخلاف تمام موجودات وجود سے موجود ہیں ، پس اللہ تعالی کے موجود ہونے کیلئے وجود کا ہونا لازم نہیں ، اگر حق سبحانہ و تعالی اپنی موجودیت کیلئے وجود کا محتاج ہوتا تو ہمیں وجود کی عینیت کا قائل ہونا پڑتا اور اس کے ثبوت کیلئے بڑی لمبی چوڑی دلیلیں دینی پڑتیں اور ایسا کرنے میں ہم جمہور اہل سنت و جماعت کی مخالفت کرتے ، کیونکہ یہ بزرگ عینیت وجود کے قائل نہیں بلکہ وجودکوزائد خیال کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ وجود کی زیادتی سے واجب الوجود کو غیر احتیاج لازم آتی ہے، اگر زائد وجود سے واجب تعالی کو موجود کہیں اور خواہ بذات خود موجودکہیں اور اس وجود کوعرض عام فرض کریں تو بھی اہل حق جمہورمتکلمین کی بات درست ہوتی ہے اور احتیاج کا اعتراض جو مخالف لوگ کرتے ہیں بالکل دور ہو جا تا ہے ، واجب تعالی کو اپنی ذات سے موجودرکھنے اور اس میں وجود کو بالکل دخل نہ دینے میں اور اس وجودکوعین ذات ثابت کر نے میں بڑا واضح فرق ہے، یہ معرفت وہ ہے جس سے اللہ تعالی نے مجھے مخصوص فرمایا ، اس بات کیلئے اللہ تعالی کا شکر ہے،والصلوة والسلام علی رسولہ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-19-وجود-باری-تعالی-کی-مزید-توضیح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:19۔وجود باری تعالیٰ کی مزید توضیح:</mark></h1>



<p>حضرت واجب الوجود کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ اپنی ذات سے موجود ہے اور اس موجودیت میں وجود کا مطلق محتاج نہیں خواہ وجود کو عین ذات فرض کریں، خواہ ذات پر زائد، برابر ہے ، دونوں طرح ہی عینیت اور زیادتی خطرناک لازم آتی ہے، چونکہ اللہ تعالی کی عادت یونہی جاری ہے کہ جو چیز مرتبہ وجوب میں ہے اس کا نمونہ ہر مرتبہ امکان میں ظاہر کرتا ہے، خواہ وہ کسی کو معلوم ہو یا نہ ہو، اسی طرح اس خاصہ کانمونہ عالم امکان میں وجود کو بنایا ہے کیونکہ وجود گوموجود نہیں لیکن تا ہم معقولات ثانویہ سے ضرور ہے لیکن اگر ہم اس کے وجود کو فرض کر بھی لیں تو بھی وہ اپنی ذات سے موجود ہوگا نہ کہ کسی اور وجود سے ، جیسا کہ عام طور پر مخلوق ہے، یعنی عام مخلوق موجودیت کیلئے وجود کی محتاج ہے کیونکہ مخلوق کی موجود بیت کیلئے اس کی ذات ہی کافی نہیں بلکہ وجود کی ضرورت پڑتی ہے پس جبکہ ایساوجود جسے چیزوں کی موجودیت میں دخیل بنایا ہے اگر وہ موجود ہو گا تو اپنی ذات سے موجود ہوگا اور کسی اور وجود کا محتاج نہ ہوگا تو کیا تعجب ہے کہ موجودات کا خالق مستقل طور پر اپنی ذات سے موجود ہو اور وجود کا بالکل محتاج نہ ہو، دور افتادوں کا اس بات کو بعید از عقل خیال کرنا خارج از بحث ہے،و اللہ تعالی ملہم بالصواب ہے۔</p>



<p>ایک اعتراض:۔ اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابوالحسن اشعری کے پیرو وحکماء اور بعض صوفی ذات الہی کیلئے عینیت وجود کے قائل نہیں ان کی مراد بھی وہی ہے جو آپ نے بیان فرمائی ہے کہ واجب الوجود اپنی ذات سے موجود ہے نہ کہ وجود سے تو اس کا جواب میں دوں گا کہ اس لحاظ سے تو وہ اہلسنت سے متنفق الرائے ہیں کیونکہ اگر مخالف ہوتے تو اہل حق یہ کہتے کہ حق تعالی وجود سے موجود ہے نہ کہ ذات سے ، اس پہلو سے تو زیادتی وجود کا اثبات زائد ہے ، اس زیادتی وجود کا اثبات اس پر دلالت کرتا ہے کہ دونوں فریق نفس وجود کے بارے میں مختلف الراۓ ہیں مگر ان کا اختلاف راۓ ہے تو حق تعالی کے وصف کے بارے میں ہے جو عینیت وزیادتی ہے ، یعنی دونوں فریق اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالی وجود سے موجود ہے ، صرف اختلاف ہے تو عینیت وزیادتی کا ہے ،اگریہ نہیں کہ جب واجب الوجود اپنی ذات سے موجود ہے تو پھر واجب تعالی کو موجود کہنے کے کیا معنی ،موجوداسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ وجود قائم ہواور یہاں وجود ہر گز نہیں ، جواب یہ ہے کہ واقعی وہ وجود جس سے ذات حق موجود ہو واجب تعالی میں مفقود ہے لیکن جو وجود بطور عرض عام ذات حق کیلئے کہا جا تا ہے اور بطریق اشتقاق گمان کیا جا تا ہے اگر اس کے قیام کے لحاظ سے واجب الوجود کو موجود کہیں تو اس میں گنجائش ہے اور اس سے کسی قسم کا استحالہ(ناممکن) لازم نہیں آتا، والسلام .</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-20-خداتخیل-وتصور-سے-ماوراء-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها:20۔خداتخیل وتصور سے ماوراء ہے:</mark></h1>



<p>&nbsp;ہم ایسے خدا کی ہرگز پرستش نہیں کرتے جو شہود کے احاطہ میں آجاۓ ، دکھائی دے ، معلوم ہوجاۓ، اور وہم و خیال میں سما سکے کیونکہ ظاہر ہو نے والا ، دکھائی دینے والا ، معلوم ہو جانے والا ، وہم و قیاس اور خیال میں آنے والا دیکھنے والے اور جاننے والے اور وہم و خیال کرنے والے کی طرح مخلوق ومحدث ہوتا ہے۔آں &nbsp;لقمہ کہ در دہاں گنجد طلبم میں وہ لقمہ طلب کر رہا ہوں جو منہ میں نہ سما سکے کے سیر وسلوک کی اصلی غرض پر دوں کا چاک کرتا ہے، خواہ وہ حجاب وجوبی ہوں یا امکانی حتی کہ بلا پردہ وصل میسر ہو جاۓ نہ یہ کہ مطلوب کوقید میں لا کرشکارکریں۔</p>



<p>عنقا شکار کس نشود دام باز چین کایں جاہمیشہ باد بدست است دام را</p>



<p>اٹھا لے جا ل عنقا بھلا&nbsp; کب کسی کے ہاتھ آتا ہے یہاں ہر جال لگانے والا خالی ہاتھ جاتا ہے۔</p>



<p>باقی رہا کہ آخرت میں دیدارحق ہوگا سواس پر ہمارا ایمان ہے لیکن ہم اس کی کیفیت اس واسطے بیان نہیں کر تے کہ عوام الناس اسے نہیں سمجھ سکتے ،خواص اسے سمجھ سکتے ہیں کیونکہ انہیں اس مقام سے دنیا میں بھی کچھ نصیب ہوتا ہے گواسے دیدار نہ ہی کہا جاۓ ، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-21-اس-مطلب-کی-مزید-توضیح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 21۔اس مطلب کی مزید توضیح :</mark></h1>



<p>جو چیز دید و دانش میں آسکتی ہے وہ مقید ہے اور اطلاق کے معیار سے گری ہوئی ہے لیکن مطلوب وہ ہے جو تمام قیود سے منزہ اور مبرا ہو، بس اسے دید و دانش کے علاوہ ڈھونڈ نا چاہیئے ، یہ معاملہ نظر عقل کے طور سے پرے ہے کیونکہ عقل دید و دانش کے پرے ڈھونڈ نا محال جانتی ہے</p>



<p>راز درون پرده زرندان مست پرس کیں حال نیست صوفی عالی مقام را</p>



<p>اندر کےپردہ&nbsp; کاراز تو مستوںسے پوچھو&nbsp; یہ حال عالی مقام صوفی کوکب میسر ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-22-صرافت-مطلق-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 22۔صرافت مطلق کا بیان :</mark></h1>



<p>مطلق اپنے اطلاق کے معیار پر ہے کسی قسم کی قید کا اس میں دخل نہیں لیکن چونکہ مقید کے آئینے میں ظاہر ہوتا ہے اس واسطے اس کا عکس اس آئینے کے موافق رنگا جا تا ہے اور مقید و محدود دکھائی دیتا ہے ، اس واسطے وہ دید و دانش میں آتا ہے اگر ہم دید و دانش پر اکتفا کریں تو گویا ہم اس مطلوب کے ایک عکس پر اکتفا کرتے ہیں ، بلند اشخاص اخروٹ اور منقے سے سیر نہیں ہوتے ،اللہ تعالی عالی ہمت آدمیوں سے پیار کرتا ہے، اے پروردگار! ہمیں بھی جناب سید البشر ﷺ کے صدقے عالی ہمت بنا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-23-انسان-افضل-ہے-یا-فرشتہ"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:23۔انسان افضل ہے یا فرشتہ؟:</mark></h1>



<p>&nbsp;شروع حال میں ایک روز میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک مکان میں طواف کر رہا ہوں اور کچھ اور لوگ بھی میرے ساتھ اس طواف میں شریک ہیں لیکن وہ اس قدرسست رو ہیں کہ جتنے عرصہ میں ، میں ایک دفعہ طواف کرتا ہوں وہ صرف دو تین قدم اٹھاتے ہیں ،اس اثنا میں معلوم ہوا کہ یہ مکان فوق العرش ہے اور باقی کے طواف کرنے والے ملائکہ کرام ہیں ، صلى الله على نبينا و عليهم اجمعين ، الله تعالى جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کرتا ہے، واقعی اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-24-عوام-کے-ساتھ-اولیا-کی-ہم-رنگی-کی-حقیقت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 24۔عوام کے ساتھ اولیا کی ہم رنگی کی حقیقت :</mark></h1>



<p>اولیاء اللہ کے حجاب( پردے ) ان کی بشری صفات ہیں جن چیزوں کی باقی تمام لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے ، ان بزرگوں کو بھی ہوتی ہے ، ان کا ولی ہونا انہیں احتیاج سے بری نہیں کر سکتا ، ان کی ناراضگی بھی عام آدمیوں کی ناراضگی کی طرح ہوتی ہے اور تو اور خود جناب سید الانبیاء ﷺ فرماتے ہیں أَغْضَبُ ‌كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، میں بھی عام انسانوں کی طرح ناراض ہوتا ہوں ، جب آنحضرت ﷺ کی یہ کیفیت ہے تو اولیاء اللہ کیونکر اس سے بری ہو سکتے ہیں ، کھانے پینے اور اہل وعیال سے زندگی بسر کر نے اور ان سے انس کرنے میں اولیاء اللہ اور باقی آدمی شریک ہیں ، مختلف تعلقات جو لازمہ بشریت میں خواص و عوام سے زائل نہیں ہو سکتے ، اللہ تعالی جل شانہ نے انبیا کرام ﷺ کے حق میں فرمایا ہے وَمَا جَعَلْنَاهُمْ ‌جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ ہم نے ان کے جسم بھی کھانا کھانے والے بناۓ ہیں ، ظاہر میں کفار کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھا تا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، پس جس کی نگاہ اولیاء اللہ کے صرف ظاہر پر پڑتی ہے وہ نعمت الہی سے محروم رہتا ہے اور دنیا و آخرت کا نقصان اٹھا تا ہے ، اس ظاہر بینی نے ابوجہل اور ابو لہب کو دولت اسلام سے محروم رکھا اور ابدی نقصان میں ڈالا ، با سعادت وہی شخص ہے جو اہل رتبہ کے ظاہر کا چنداں خیال نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر کی تیزی ان بزرگوں کے باطنی اوصاف تک پہنچتی ہے اور صرف ان کے باطن کو ہی دیکھتا ہے ، اولیا اللہ در یاۓ نیل کی طرح ہیں کہ محجوبوں کیلئے بلا اور محبوبوں کیلئے پانی ہیں ، یہ عجیب معاملہ ہے کہ جس قد رصفات بشریت کا ظہور اہل اللہ میں ہوتا ہے باقی آدمیوں میں نہیں ہوتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہموار اور مصفا مقام پر میل کچیل اور تاریکی خواہ تھوڑی بھی ہو تو بھی زیادہ ظاہر ہوتی ہے اور نا ہموار اور غیر مصفا مقام پر میل کچیل اور تاریکی خواہ زیادہ &nbsp;ہی ہو کم دکھائی دیتی ہے ، صفات بشریت کی تاریکی عوام الناس کے قلب و قالب اور روح ونفس میں سرایت کرتی ہے لیکن خواص میں صرف قالب اور نفس تک محدود رہتی ہے اور خواص الخاص میں نفس بھی اس تاریکی سے بری ہوتا ہے صرف قالب تک محد و درہتی ہے، نیز یہ تار یکی عوام الناس کیلئے باعث نقصان و خسارہ ہے خواص میں موجب کمال و تر و تازگی ہے ،خواص ہی کی تاریکی عوام الناس کی تاریکیوں کو زائل کرتی ہے ، ان کے دلوں کو صاف اور ان کے نفوس کو پاک کرتی ہے اگر یہ تاریکی نہ ہوتی تو خواص کو عوام سے کوئی مناسبت نہ ہوتی اور فائدہ اٹھانے اور پہنچانے کی راہ بند ہو جاتی ،یہ تار یکی خواص میں اتنا عرصہ نہیں رہتی کہ انہیں میلا کر دے بلکہ اس کے بعد جو ندامت واستغفار ہاتھ آتی ہے وہ کئی کدورتوں اور تاریکیوں کو زائل کرتی ہے اور ترقی دیتی ہے ، یہی تاریکی ہے جو فرشتوں میں نہ ہونے کے باعث وہ ترقی نہیں کر سکتے ، اس تاریکی پر لفظ تاریکی کا اطلاق ایسا ہے جو بظاہر باعث مذمت ہے لیکن حقیقت موجب مدح ہے ،عوام الناس جو ڈھور ڈنگروں کی طرح ہیں ، وہ اہل اللہ کی صفات بشری کو اپنی صفات بشریت کی طرح خیال کرتے ہیں ، اس واسطے محروم و خوار رہتے ہیں ، یوں سمجھو کہ وہ غائب کو باطل موجود پر قیاس کرتے ہیں لیکن یاد رکھو ہر مقام کی خصوصیتیں علیحدہ ہوتی ہیں اور ہرمحل کے لوازمات جداء والسـلام عـلـى مـن اتبع الهـدى والتـزم متابعة المصطفى عليه، وعلى اله الصلوات والتسليمات</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-25-علوم-امکانی-اور-معارف-و-جوبی"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 25۔علوم امکانی اور معارف و جوبی:</mark></h1>



<p>جب تک انسان علم و دانش میں گرفتار ہے اور ماسوا اللہ کے نقوش سے منقش ہے تب تک خوار و بے اعتبار ہے، ماسوا اللہ کو بھلا دینا راہ سلوک کی شرط ہے اور ماسوا کافنا کر دینا قدم بڑھانا ہے، جب تک باطنی آئینہ امکان کے زنگار سے صاف نہ ہو جاۓ حضرت وجوب کا ظہور محال ہے، کیونکہ علوم امکانی اور معارف و جوبی کا جمع ہونا گو یا جمع اضداد ہے ، یہاں پر ایک زبردست سوال پیدا ہوتا ہے ، وہ یہ کہ جب عارف کو بقا سے مشرف کر کے ناقصوں کی تعلیم کیلئے واپس لوٹاتے ہیں تو جو علوم زائل ہو گئے تھے وہ پھر عود کر آتے ہیں تو اس صورت میں علوم امکانی اور معارف و جوبی باہم جمع ہو جاتے ہیں ، حالانکہ یہ جمع ضدین ہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ عارف باقی باللہ اس وقت بز رخ ہوتا ہے، گویا وجوب اور امکان کے مابین وسیلہ ہے اور دونوں مقام کے رنگ سے رنگا ہوا ہوتا ہے گو ایسی صورت میں اگر دونوں مقاموں کے علوم و معارف جمع ہوجائیں تو کوئی مشکل نہیں کیونکہ ضدین کے اجتماع کا مقام ایک نہیں رہتا بلکہ کئی مقام ہو جاتے ہیں ،سودونوں جمع نہیں کہلا سکتے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-26-علم-اشیاء-کار-جوع"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:26۔علم اشیاء کار جوع :</mark></h1>



<p>چیزوں کے علوم جو مرتبہ فنا میں زائل ہو گئے تھے، بقا کے بعد اگر پھرلوٹ آئیں تو اس سے عارف کے کمال میں نقص لازم نہیں آتا بلکہ ان کا لوٹ آنا کمال پر دلالت کرتا ہے بلکہ اس کا کمال اس لوٹ آنے سے وابستہ ہے کیونکہ عارف بقا کے بعد اخلاق الہی سے متخلق ہو جاتا ہے، اس واجب تعالی میں اشیاء کا علم عین کمال ہے اور اس کی ضد موجب نقصان ہے سو یہی حال عارف کا ہے جو تخلق با خلاق اللہ ہوتا ہے ، اس میں بھید یہ ہے کہ ممکن کا علم معلوم کی صورت میں موجود ہونے سے حاصل ہوتا ہے، پس ضروری ہے کہ معلوم کی صورت کا حصول عالم پر اثر کرتا ہے، جس قدر علم زیادہ ہوگا اسی قدر عالم میں تاثر بھی زیادہ ہوگا اور اس میں تغیر وتلون بھی زیادہ وسیع و بسیط ہوگا ، یہ واقعی نقص ہے ، اس واسطے طالب کیلئے زیادہ ضروری ہے کہ ان تمام علوم کی نفی کرے اور تمام چیزوں کو فراموش کر دے لیکن واجب تعالی کے علم کی یہ کیفیت نہیں ، کیونکہ ذات الہی اس بات سے منزہ ہے کہ اس میں اشیاۓ معلومہ کی صورتیں حلول کریں ، ان کے ساتھ مجرد تعلق علم ہی سے اللہ تعالی پر وہ (اشیاء) منکشف ہیں ، پس وہ ذات پاک ہے جو حدوث مخلوق سے بلحاظ ذات وصفات اور افعال بالکل نہیں بدلتی جو عارف متخلق باخلاق اللہ ہو جا تا ہے ، اس کا علم بھی اسی طرح کا مظہر ہوتا ہے ، اس میں بھی اشیا کے معلومات کی صورتیں حلول نہیں کرسکتیں ، نہ اس کے حق میں تاثر ہوتا ہے نہ تغیر و تبدل اور نہ ہی یہ بات اس کیلئے نقصان کا باعث ہوتی ہے بلکہ موجب کمال ہوتی ہے، یہ اسرارالہی میں سے ایک پوشیدہ راز ہے ، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اپنے حبیب اکرم ﷺ کی حرمت سے اس سے مخصوص کرتا ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-27-مقام-رضا-کا-حصول-اور-اطمینان-نفس"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:27۔مقام رضا کا حصول اور اطمینان نفس:</mark></h1>



<p>جب میں اپنے پیر کے وسیلے سے راہ حق کی طرف متوجہ ہوا تو بار ہویں سال مجھے مقام رضا سے مشرف فرمایا گیا، پہلے نفس کو اطمینان عنایت فرمایا ، بعد ازاں بتدریج فضل الہی سے یہ سعادت و مقام رضا نصیب کی اور اس دولت سے اس وقت تک مشرف نہ ہوا جب تک رضاۓ الہی حاصل نہ ہوئی ، پس نفس مطمئنہ اپنے مولی سے راضی ہوا اور اس کا مولی اس سے راضی ہوا ، اس بات کے لیے اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے،مبارک مبارک ،والصلوة والسلام على رسوله محمد و آله ، اگر یہ کہیں کہ جب نفس اپنے مولی سے راضی ہو گیا تو پھر دعا اور دفع بلا کی طلب کا کیا مطلب ، اس کا جواب یہ ہے کہ مولی کے راضی ہونے سے اس کی مخلوق کی رضا لازم نہیں آتی بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مخلوق سے رضا بصورت کفر و معاصی بری ہوتی ہے ، پس خلق قبیح سے راضی ہونالازم اور نفس قبیح سے کراہت کرنا واجب ہے ،مولی نفس قبیح &nbsp;سے راضی نہیں ہوسکتا بلکہ بندہ اس صورت میں شدت وغلظت کے لیے مامور ہے ، پس مخلوق سے کراہت کرنا اس کے خلق کی رضا کا منافی نہیں ہوسکتا ،اسی واسطے دفع بلا کی طلب ضروری ہے ، جن لوگوں نے رضا حاصل ہوجانے کے بعد وجود کراہت میں مفعول سے کراہت اور فعل سے راضی ہونے میں فرق نہیں کیا وہ شبہ میں رہے ہیں ،اسی شبہ کو دور کرنے کے لیے انہوں نے طرح طرح کے تکلفات سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ وجود کراہت حال رضا کا منافی ہے نہ مقام رضا کا سوحال اور مقام میں بڑا فرق ہے حق بات وہی ہے جو میں نے بذریعہ الہام الہی تحقیق کر دی ہے، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-28-امام-کے-پیچھے-قرأت-کا-کیا-حکم-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 28۔امام کے پیچھے قرأت کا کیا حکم ہے:</mark></h1>



<p>مدت تک میری ی آ رز ور ہی کہ حنفی مذہب میں کوئی معقول وجہ ہوتا کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھی جاۓ کیوں کہ نماز میں قرآن شریف کا پڑھنا فرض ہے تو حقیقی قرأت سے اعراض کر کے حکمی قرأت قرار دینا قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا ، حالانکہ حدیث نبوی ﷺ میں بھی ہے، لا صلوة الا بفاتحة الكتب الحمد کے بغیر نماز نہیں ہوتی لیکن بپاس مذہب مجبورا ترک کرتا رہا اور اس ترک کور یاض و مجاہدہ خیال کرتا رہا، آخر کار اللہ تعالی نے مذہب کے پاس کی برکت سے کہ مذہب سے خروج الحاد ہے، اس بات کی حقیقت مجھ پر ظاہر کر دی کہ مذہب حنفی میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ کیوں نہیں پڑھنی چاہیئے نیز مجھے قرأت حقیقی سے قرأت حکمی زیادہ اہم معلوم ہوئی ،حقیقت یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں مقام مناجات میں کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ &#8216; <strong>لان المصلى يناجي ربه</strong> نمازی اپنے پروردگار سے مناجات کرتا ہے سے ظاہر ہے، امام کو اس کام میں پیشوا بناتے ہیں ، پس جو کچھ لوگ کسی عظیم الشان بادشاہ کی خدمت میں کسی ضرورت کیلئے حاضر ہوں اور ایک کوا پنا پیشوا بنائیں تا کہ سب کی طرف سے وہ بادشاہ کی خدمت میں صورت حال عرض کرے، اس صورت میں اگر دوسرے پیشوا کے ساتھ ہی بولنے لگ جائیں تو سخت بے ادبی ہے اور بادشاہ کی ناراضگی کا باعث ہے ، پس ان لوگوں کی حکمی بات چیت پیشوا کی زبانی عرض کر نا حقیقی بات چیت سے بہتر ہے، بعینہ یہی حال ہے ، امام اور مقتدیوں کا کہ امام کی قرأت کے وقت مقتدیوں کا پڑھنا شور وفساد میں داخل اور دور از ادب ہے اور جدائی کا موجب ہے جو اجتماع کے منافی ہے، اکثر مسائل حنفی و شافعی جن میں اختلاف ہے اس قسم کے ہیں کہ ظاہر میں شافعی پہلوکوتر جیح ہوتی ہے لیکن باطن وحقیقت میں حنفی پہلوز بردست ہوتا ہے ، مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کلام حق میں جہاں جہاں فریقین کا اختلاف ہے اس میں حنفی حق بجانب ہیں بہت کم مسائل ایسے ہیں جن میں فریق ثانی کو ترجیح حاصل ہے، مجھے تو سط حال میں ایک رات جناب پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ تم علم کلام کے ایک مجتہد ہو ، اس وقت سے لے کر مسائل کلامیہ میں میری رائے خاص اور میر اعلم مخصوص ہے ، اکثر مسائل خلافیہ جن میں ماتر ید یہ اوراشاعرہ کا خلاف ہے شروع مسئلہ میں اشاعرہ حق بجانب معلوم ہوتے ہیں لیکن جب نورفراست سے دیکھا جاۓ تو واضح ہو جا تا ہے کہ ماترید &nbsp;یہ حق بجانب ہیں علم کلام کے متعلق تمام مسائل خلافیہ میں میری راۓ علماۓ ماتریدیہ کی رائے کے موافق ہے ، واقعی ان بزرگوں کی شان بہ سبب پیروی سنت نبوی ﷺ نہایت عظیم ہے ، ان کے مخالفوں کوفلسفی مسائل میں مشغول ہونے کے سبب وہ شان حاصل نہیں ، گو دونوں فریق&nbsp; اہل حق ہیں ، دیکھوان بزرگوں میں سے سب سے بڑے بزرگ اور سب سے بڑے پیشوا ابوحنیفہ ﷺ کی بابت کیا شافعی کیا مالک اور کیا احمد بن حنبل ، بھی اعلی رائے رکھتے ہیں ، چنانچہ امام شافعی فرماتے ہیں الـفـقـهـاء كـلـهـم عيال ابی حنيفة ، تمام فقہا ابوحنیفہ کے عیال میں منقول ہے کہ جب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;انکی قبر کی زیارت کرنے جاتے تو اپنے اجتہادکوترک کر دیتے اور ان کے مذہب پر عمل کرتے اور فرماتے مجھے شرم آتی ہے کہ ان کے حضور میں اپنے لئے ایساعمل کروں جوان کی راۓ کے خلاف ہو ، چنانچہ آپ نہ ہی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھا کرتے اور نہ ہی فجر کے وقت قنوت ، واقعی امام ابوحنیفہ ان کی شان کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;ہی اچھی طرح جانتے ہیں ، آخری زمانے میں جب حضرت عیسی علیہ السلام &nbsp;نزول فرمائیں گے تو مذہب حنفی کے مطابق عمل کر یں گے ، جیسا کہ خواجہ محمد پارسا فصول ستہ میں فرماتے ہیں اور یہی ان کی بزرگی کی کافی علامت ہے کہ ایک پیغمبر اولوالعزم ان کے مذہب پر عمل کرے گا، کسی اور کی سینکڑوں بزرگیاں بھی اس ایک بزرگی کے برابر نہیں ہوسکتیں ، ہمارے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;فرماتے تھے کہ میں بھی کچھ عرصہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھا کرتا تھا ، آخر ایک رات خواب میں ، میں نے امام اعظم &nbsp;رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ اپنی مدح میں ایک نہایت اعلی درجے کا قصیدہ پڑ ھار ہے ہیں جس کے مضمون سے ظاہر ہوا کہ بہت سے اولیا میرے مذہب کے پابند ہوۓ ہیں ،تب سے میں نے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کا پڑھنا ترک کر دیا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-29-تعلیم-طریقہ-کی-اجازت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 29۔تعلیم طریقہ کی اجازت:</mark></h1>



<p>کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی کامل کسی ناقص کو تعلیم طریقہ کی اجازت دے دیتا ہے اور جب اس کے مرید بہت ہو جاتے ہیں تو اس ناقص کے مریداس کا کام مکمل کر دیتے ہیں، چنانچہ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;نے مولانا یعقوب چرخی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کو درجہ کمال پر پہنچنے سے پیشتر تعلیم طریقہ کی اجازت عنایت فرمائی اور حکم دیا کہ یعقوب جو کچھ مجھ سے تجھے ملا ہے وہ لوگوں کو پہنچا دینا ،مولا نا یعقوب کا کام بعد ازاں خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کی خدمت میں سرانجام ہوا، اس واسطے مولانا عبدالرحمن جامی نفحات الانس میں لکھتے ہیں کہ مولانا یعقوب پہلے خواجہ علاالدین عطار کے مرید تھے بعد میں خواجہ نقشبند کے مرید ہوئے ،اسی طرح جب کوئی کامل اپنے مرید کو جس نے ولایت کا ایک درجہ طے کر لیا تعلیم طریقہ کی اجازت دے تو وہ مریدا ایک لحاظ سے کامل ہے اور ایک لحاظ سے ناقص ، یہی حال اس مرید کا ہے جس نے ولایت کے دو یا تین درجے طے کئے ہوں ، وہ ناقص بھی ہے اور کامل بھی کیونکہ جب تک آخری درجہ طے نہ کر لے وہ کامل بھی ہوتا ہے اور ناقص بھی ، جب کامل اپنے مرید کوتعلیم طریقت کی اجازت دینے کا مختار ہے تو یہ ضروری نہیں کہ مرید انتہائی درجہ طے کر چکا ہو، واضح رہے کہ گو نقص اجازت کا منافی ہے لیکن جب کوئی کامل ومکمل کسی ناقص کو نائب بنا تا ہے اور اس کے ہاتھ کواپنا ہاتھ جانتا ہے تو نقص کا ضرر تجاوزنہیں کرسکتا، واللہ اعلم بالصواب۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-30-مراتب-ثلا-خداور-یادداشت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 30۔مراتب ثلاثہ اور یادداشت :</mark></h1>



<p>&nbsp;یادداشت سے مراد دائمی حضور ذات حق ہے اور یہ بات کبھی ارباب قلوب کو بھی دل کی جمعیت کی وجہ سے خیال میں آ جاتی ہے ، اس واسطے کہ جو کچھ سارے انسان میں ہے وہ اکیلے دل میں ہے ، گوان میں مجمل ومفصل کا فرق ہے، پس مرتبہ قلب میں بھی حضور ذات دائمی طور پر حاصل ہوسکتا ہے لیکن یہ بات یادداشت کے طور پر ہے نہ کہ یادداشت کی حقیقت ، ہوسکتا ہے کہ بزرگوں نے جسے بدایت میں نہایت فرمایا ہے ، اس سے مراد یہی یادداشت ہولیکن یادداشت کی حقیقت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ ہو سکے، اگر ان کی مراد ذات حق کے مرتبہ وجوب سے ہو کیونکہ ذات اس مرتبہ میں صفات وجو بیہ کی جامع ہے تو پھر تمام مراتب امکانی طے کرنے کے بعد اس مرتبہ کے شہود میں پہنچتے ہی یا داشت حاصل ہو جاتی ہے تجلیات صفاتی میں بھی یہ بات حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ اشارے میں صفات کا ملاحظہ حضور ذات حق کا منافی نہیں ہوتا اگر ان کی مراد حضرت ذات تعالی سے مرتبہ احدیت مجردہ ہو جو اسماء وصفات اور نسبت و اعتبارات سے مبرا ہے تو پھر اسمائے صفاتی نسبتی اور اعتباری تمام مراتب طے کرنے کے بعد یادداشت حاصل ہوتی ہے، میں نے جہاں کہیں یا دداشت کا بیان کیا ہے اس سے مراد آخری معنی لئے ہیں گو اس مرتبہ میں حضور کا اطلاق کچھ&nbsp; نا مناسب معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ارباب یا داشت سے مخفی نہیں ، کیونکہ وہ غیبت و حضور سے اعلی و ارفع ہے،حضور کے اطلاق کیلئے کسی ایک صفت کا ملاحظہ درکار ہے جو کچھ لفظ حضور کے مناسب ہے یادداشت کی تفسیر دوسرے معنوں میں ہے، اس لحاظ سے یادداشت کو نہایت کہنا باعتبار شہود وحضور ہے کہ اس مرتبہ کے آگے شہودو حضور کی گنجائش نہیں ، وہاں یا حیرت ہے یا جہل یا معرفت لیکن وہ معرفت نہیں جسے تم معرفت جانتے ہو کیونکہ جس کو تم معرفت خیال کر تے ہو وہ افعالی و صفاتی معرفت ہے اور یہ مقام اسماء وصفات سے بدر جہا اوپر ہے، <strong>والصلوة والسلام على سيدالبشر وعلى اله الاطهر</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-31-مقامات-عشرہ-کے-بغیر-وصول-نہایت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 31۔مقامات عشرہ کے بغیر وصول نہایت:</mark></h1>



<p>یہ راستہ طے کرنا اور نہایت النہایت پر پہنچنا دس مقامات مشہورہ کے طے کرنے سے وابستہ ہے جن میں سے پہلا تو بہ ہے اور آخری رضا ، مراتب کمال میں کوئی مرتبہ ومقام مقام رضا سے بڑھ کر نہیں حتی کہ آخرت میں رؤیت اخروی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،مقام رضا کی اصلی حقیقت پورے طور پر آخرت میں ظاہر ہوگی ، باقی مقامات آخرت میں سیر نہیں ہو سکتے ،تو بہ کے وہاں کچھ معنی نہیں ، زہد کی وہاں گنجائش نہیں تو کل ہو ہی نہیں سکتا،صبر کا احتمال نہیں ، ہاں شکر وہاں سیر ہوسکتا ہے لیکن وہ شکر بھی رضا کی ایک شاخ ہے، رضا سے علیحدہ نہیں، اگر یہ پوچھیں کہ کبھی&nbsp; کامل ومکمل میں دنیاوی رغبت پائی جاتی ہے اور بعض ایسی باتیں دیکھنے میں آتی ہیں جو تو کل کی منافی ہیں اور بے طاقتی جومنافی صبر ہے ظاہر ہوتی ہے اور کراہت جورضا کی ضد ہے پائی جاتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان مقامات کا حاصل ہونا قلب وروح سے مخصوص ہے ، خاص الخاص کو یہ مقامات نفس مطمئنہ میں بھی حاصل ہو جاتے ہیں لیکن قالب اس بات سے محروم و بے نصیب ہے ،اگر چہ جسم تیزی اور قوت کی وجہ سے مقتضی ہوتا ہے ، ایک شخص نے شیخ شبلی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;سے پوچھا کہ آپ محبت کا دعوی کرتے ہیں لیکن آپ کا موٹا پا منافی محبت ہے ، آپ نے جواب میں یہ شعر پڑھا</p>



<p>احـب قـلبـي ومـا درى بـدنـی ولـــودرى مـاقـام فـي الـسـمـن محبوب سے میرے دل نے محبت کی میرے بدن کو دہ معلوم نہ ہوا ۔اگر وہ بھی جانتا تو اتنا موٹا نہ ہو جا تا ۔</p>



<p>&nbsp;پس اگر کوئی ایسی بات جو مقامات مذکورہ کے منافی ہو کسی کامل کے قالب میں ظاہر ہوتو د وضرر نہیں دے سکتی اور وہ اس بزرگ کے باطن کیلئے ان مقامات کے حصول میں حارج نہیں ہوسکتی، غیر کامل میں ان مقامات کے نقائص پورے طور پر ظاہر و باطن میں ظہور کر تے ہیں ، اس لئے وہ ظاہر و باطن میں دنیا کی طرف راغب ہو جا تا ہے اور وہ صورت وحقیقت میں منافی تو کل ہوتا ہے، اس قلب و قالب میں بے طاقتی اور گھبراہٹ ظاہر ہوتی ہے ، روح اور بدن میں کراہت کا ظہور ہوتا ہے ، یہی باتیں ہیں جنہیں حق تعالی نے اپنے اولیا کا پردہ بنایا ہے اور انہیں باتوں کی وجہ سے اکثر لوگ ان بزرگوں کے کمالات سے محروم رہتے ہیں ۔ اولیاء اللہ میں جو یہ باتیں پائی جاتی ہیں تو اس میں یہ حکمت ہے کہ ان کے بغیر حق و باطل میں تمیز نہیں ہوسکتی جو اس دنیا کی لازم بات ہے، جو امتحان کا مقام ہے ، دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ ان کیلئے ترقی کا باعث ہے، اگر اولیاء اللہ سے یہ باتیں بالکل مفقود ہو جائیں تو ان کی ترقی مسدود ہو جائے اور فرشتوں کی طرح مقید رہ جا ئیں، <strong>والسلام عـلـى مـن اتبع والتـزم متابعة المصطفى عليه ، وعلى اله الصلوات والتعليمات اتمها وأكملها</strong>۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-32-اولیاۓ-باری-اور-اسباب-کی-گرفتاری"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:32۔اولیاۓ باری اور اسباب کی گرفتاری:</mark></h1>



<p>الہی یہ کیا بات ہے کہ تو نے اپنے اولیاء کے باطن کو آب حیات بنارکھا ہے کہ جس نے ایک قطرہ چکھا اسے حیات ابدی نصیب ہوگئی اور ان کے ظاہرکوز ہر قاتل بنارکھا ہے کہ جس نے اس کو دیکھا وہ ابدی موت میں گرفتار ہو گیا یہ ا یسے لوگ ہیں کہ ان کا باطن رحمت اور ان کا ظاہر زحمت ہے ان کے باطن کو دیکھنے والا انہیں میں سے ہے اوران کے ظاہر کو دیکھنے والا بدکیش ہے، بظاہر جو ہیں اور حقیقت گیہوں بظاہر عوام بشر ہیں اور باطن خواص ملک، ظاہر میں زمین پر ہیں اور حقیقت میں آسمان پر ان کا ہم نشین بدبختی سے بچا ہوا ہے اوران کا غم خوار سعادت مند ہے، یہ لوگ گروہ الہی ہیں اور یہی لوگ اہل نجات و&nbsp; فلاح میں وصلى الله تعالى على سيدنا محمد واله وسلم</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-33-شان-اولیا-پوشیدہ-کیوں-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 33 ۔شان اولیا پوشیدہ کیوں ہے؟</mark></h1>



<p>حق سبحانہ وتعالی نے اپنے اولیا ء کو اس طرح پوشید ہ کیا ہے کہ ان کے ظاہر کو بھی ان کے باطنی کمالات کی خبر نہیں ، چہ جاۓ کہ غیران سے واقف ہوں ، ان کے باطن کو جونسبت بے چونی و بے چگونی کے مرتبہ سے حاصل ہے وہ بھی چون ہے ، ان کا باطن چونکہ عالم امر سے ہے، اس واسطے پیچونی سے انہیں بھی حصہ حاصل ہے اور ظاہر جو سراسر چون ہے ان کے باطن سے کیونکر واقف ہوسکتا ہے ، بلکہ قریب ہے کہ بسبب نہایت جہالت اور عدم مناسبت اس نسبت کے نفس حصول سے بھی انکار کر لے، ہوسکتا ہے کہ حصول نسبت کے نفس کو جانے لیکن یہ نہ جانے کہ اس کا متعلق کون ہے، بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ اس کے حقیقی متعلق کی نفی کرتا ہے اور یہ ساری باتیں اس واسطے ہیں کہ یہ نسبت بہت اعلی ہے اور ظاہر بہت ادنی ہے، خود باطن اس نسبت کا مغلوب ہوتا ہے اور دید و دانش سے گیا گزرا ہوتا ہے ،اسے کیا معلوم کہ کون رکھتا ہے اور کس سے رکھتا ہے، اس واسطے معرفت سے بجز کے سوا اور کوئی معرفت کی راہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین صدیق اکبر ﷺﷺ نے فرمایا : العجز عن درک الا دراک ادرک معلوم کرنے سے عاجز آنا ہی معلوم کرنا ہے اور ادراک کے نفس سے مراد وہ نسبت خاصہ ہے کہ جس کے ادراک سے عجز لازم ہے، کیونکہ صاحب ادراک مغلوب ہوتا ہے، نہ ا سے ادراک معلوم ہوتا ہے اور نہ اس کا غیر معلوم ہوتا ہے اور نہ ا سے حال کی خبر ہوتی ہے ، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-34-بدعت-اعتقادی-کا-نقصان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 34۔بدعت اعتقادی کا نقصان :</mark></h1>



<p>ایک شخص صوفیوں کے لباس میں رہ کر بدعت اعتقادی میں مبتلا تھا، مجھے اس کے حق میں ترددتھا، اتفاقا کیا دیکھتا ہوں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام &nbsp;جمع ہیں اورمتفق ہوکر اس شخص کے حق میں فرماتے ہیں کہ وہ ہم سے نہیں ، اس اثنا میں مجھے ایک اور شخص کا بھی خیال آیا جس کے بارے میں میں متر دد تھا ، اس کے بارے میں تمام نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے ہے، اللہ تعالی انبیا کرام عالم کے طعن اور ان کے حق میں بداعتقاد ہونے سے بچاۓ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-35-متشابہات-کی-تاویل"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 35 ۔متشابہات کی تاویل:</mark></h1>



<p>مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ قرآن شریف میں جو قرب معیت اور احاطہ حق سبحانہ وتعالی کے الفاظ آتے ہیں یہ متشابہات قرآنی ہیں ، جیسے ہاتھ اور چہرہ وغیرہ، اسی طرح لفظ اول و آخر ، ظاہر و باطن وغیرہ کو اللہ تعالی کو قریب کہتے ہیں لیکن قریب کے معنی نہیں جانتے کہ قرب کیا ہے ،اسی طرح ہم اسے اول کہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ اول سے کیا مراد ہے ،قرب واولیت کے جو معنی ہمارے علم وفہم میں آتے ہیں اللہ تعالی ان سے منزہ و برتر ہے اور جو کچھ ہمارے کشف و شہود میں آ سکتا ہے اللہ تعالی اس سے پاک ہے، اللہ کا قرب ومعیت جو بعض صوفیا نے بطریق کشف دریافت کیا ہے اور ان کشفی معنوں کے لحاظ سے اللہ تعالی کو قریب ومع جانتے ہیں ٹھیک نہیں ، بلکہ وہ مذہب مجسمہ میں قدم رکھتے ہیں بعض علما نے جو اس کی تاویل کی ہے اور قرب سے مرادعلمی قرب لی ہے یہ ایسے ہے جیسے ید کی تاویل قدرت و وجہ سے کریں گو یہ مجوز ان تاویل کے نزدیک جائز ہے لیکن ہم تاویل کو جائز قرارنہیں دیتے ، اس کی تاویل علم حق کے حوالے کرتے ہیں ، اس کا علم اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے،<strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-36-متابعت-پیغمبر-خداﷺ-کی-نیت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها:36۔متابعت پیغمبر خداﷺ کی نیت :</mark></h1>



<p>میں وتر کی نماز بھی رات کے پہلے حصے میں ادا کر تا تھا اورکبھی پچھلے حصے میں ، ایک رات مجھ پر ظاہر کیا کہ تاخیر کی صورت میں ادائے وتر کی نیت سے جو نمازی سوجا تا ہے کہ رات کے آخری حصہ میں ادا کروں گا تو کراماً کاتین رات بھروتر ادا کرنے تک اس کی نیکیاں درج کرتے رہتے ہیں ، پس وتر کی نماز جتنی دیر سے ادا کر یں گے اتناہی اچھا ہے باوجوداس بات کے مجھے وتر کی قبل و تاخیر سے سواۓ متابعت نبوی ﷺ کے اور کچھ مقصود نہیں ، میں کسی فضیلت کو متابعت نبوی ﷺ کے برابر نہیں سمجھتا ، جناب سرور کائناتﷺ وتر کی نماز بھی رات کے پہلے حصے میں ادا کر تے&nbsp; تھے اور کبھی آخری حصے میں ، میں اپنی سعادت اس بات میں جانتا ہوں کہ کسی کام میں آنحضرت ﷺ سے تشبیہ حاصل کروں ،اگر چہ تشبیہ بحسب صورت ہی ہو ، لوگ بعض سنتوں میں شب بیداری کی نیت کر تے ہیں اور دوسری باتوں کو دخل دیتے ہیں مجھے ان کی کوتاہ اندیشی پر تعجب آتا ہے، ہم تو جو بھر متابعت کے بدلے ہزار شب بیداری کو بھی نہ خریدیں ، جب ہم ماہ ر مضان کے آخری دس دنوں میں معتکف ہوۓ تو یاروں کو بلا کر کہا کہ سواۓ متابعت کے اور کچھ نیت نہ کرنا کیونکہ ہماری قطع تعلقی کچھ وقعت نہیں رکھتی ، ہم ایک متابعت کوسوگرفتاری سے قبول کرتے ہیں لیکن غیر متابعت سے ہزار قطع تعلق کو بھی قبول نہیں کرتے</p>



<p>آن را که در سراۓ نگاریست فارغ است از باغ و بوستان و تماشائے لالہ زار</p>



<p>اللہ تعالی جناب سرور کائنات ﷺ کی متابعت ہمارے نصیب کرے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-37-محبت-ذاتی-اور-محبت-صفاتی"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 37۔محبت ذاتی اور محبت صفاتی :</mark></h1>



<p>ایک دفعہ میں چند درویشوں سمیت بیٹھا تھا، میں نے اس محبت کے غلبہ کی وجہ سے جو مجھے جناب سرور کائنات ﷺ سے ہے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی محبت مجھ پر اس طرح غالب ہے کہ میں حق تعالی کو صرف اس واسطے پیار کرتا ہوں کہ وہ محمد مصطفے ﷺ کا رب ہے، حاضر ین یہ سن کر حیران رہ گئے لیکن مخالفت نہ کر سکتے تھے ، یہ بات رابعہ بصری کی بات کا بالکل نقیض ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں نے جناب سرور کائنات ﷺ کی خدمت میں خواب میں عرض کیا کہ اللہ تعالی کی محبت مجھ پر اس درجہ غالب ہے کہ آپ کی محبت کی گنجائش نہیں رہی ، میں دونوں باتیں سکر سے ہیں لیکن میری بات اصلیت رکھتی ہے مگر رابعہ نے محض سکر ہی کی حالت میں کہی ہے اور میں نے ہوش کے آغاز میں ، ان کی بات صفات کے مرتبہ کے متعلق ہے اور میری بات مرتبہ ذات سے رجوع کرنے کے بعد کی ،اس واسطے کہ مرتبہ ذات میں اس قسم کی محبت کی گنجائش نہیں ،تمام نسبتیں اس مرتبہ سے نیچے ہی رہ جاتی ہیں ، وہاں پر سر پسر یا حیرت ہے یا جہل ، بلکہ اس مرتبہ میں سالک کے بڑے ذوق سے محبت کی نفی کرتا ہے اور کسی طرح سے بھی اپنے آپ کو اس محبت کے لائق نہیں جانتا، محبت اور معرفت صرف صفات میں ہوتی ہے، جسے محبت ذاتی کہتے ہیں اس سے مراد ذات احدیت نہیں بلکہ ذات معہ بعض اعتبارات ذات ہے، پس رابعہ بصری پیا کی محبت مرتبہ صفات میں ہے، <strong>والـلـه اعـلـم بـالـصـواب ، والصلوة والسلام على سيد البشر واله الاطهر</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-38-علم-باطن-کی-علم-ظاہر-پر-فضیلت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 38۔علم باطن کی علم ظاہر پر فضیلت :</mark></h1>



<p>علم کی شرافت معلوم کے شرف ورتبہ کے موافق ہوا کرتی ہے ،معلوم جس قد رشریف ہو گا علم اسی قدر عالی ہوگا ، پس باطنی علم جس سے صوفیا ممتاز ہیں ، ظاہری علم سے جوعلا ظاہر کے نصیب ہے اشرف ہے ، جس طرح کہ علم ظاہری علم حجامت اور کپڑا بننے سے اشرف ہے، پس پیر کے آداب کاملحوظ رکھنا جس سے علم باطن اخذ کیا ہو علم ظاہری کے استاد کے آداب ملحوظ رکھنے سے بدر جہاز یادہ ہے، اسی طرح ظاہری علم کے استاد کا ادب نجام اور جولا ہے سے بدر جہا زیادہ کرنا چاہیئے ، یہی فرق ظاہری علوم میں باہمی ہے، چنانچہ صرف ونحو کے استاد سے علم کلام اور فقہ کا استاد افضل ہے اور علوم فلسفہ کے استاد سے صرف ونحو کا استاد افضل ہے کیونکہ علوم فلسفی معتبر علوم میں داخل نہیں ، اس واسطے کہ ان کے اکثر مسائل بیہودہ اور بے حاصل ہیں اور جوتھوڑے مسائل اسلامی کتابوں سے اخذ کئے ہیں ان میں بھی ایسے تصرفات کئے ہیں جو جہل مرکب سے خالی نہیں ،عقل میں ان کی بو تک نہیں ، نبوت کا طور اور ہے اور عقل نظری کا اور واضح رہے کہ پیر کے حقوق تمام حقوق سے فائق ہیں بلکہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے حقوق کو چھوڑ کر دوسرے حقوق کو پیر کے حقوق سے کوئی نسبت ہی نہیں بلکہ سب کے حقیقی پیر جناب پیغمبر خدا ﷺ ہیں ۔ ظاہری ولادت اگر چہ والدین سے ہوتی ہے لیکن معنوی پیدائش پیرسے مخصوص ہے، ظاہری ولادت کی زندگی چند روزہ ہوتی ہے اور حقیقی ولادت کی زندگی ابدی ہوتی ہے ،مرید کی باطنی پلیدی کو صاف کرنے والا پیرہی ہے جو اپنے قلب وروح سے مرید کے باطن کی پلیدی کو صاف کرتا ہے اور اس کے معدے کو پاکیزہ بنا تا ہے ، بعض طالبوں کو جب توجہ دی جاتی ہو تو واقعی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی باطنی نجاستوں کو صاف کرتے ہوۓ صاحب توجہ پر بھی آلودگی اثر کرتی ہے اور دیر تک مکد رکھتی&nbsp; ہے، پیر ہی کے وسیلے سے انسان خدارسیدہ ہوتا ہے، بی خدارسیدگی تمام دنیاوی اور اخروی سعادتوں سے افضل ہے، پیراہی کے وسیلے سے نفس امارہ جو بالذات خبیث ہے پا کیزہ ہو جا تا ہے اور امارگی کو چھوڑ کر اطمینان حاصل کرتا ہے اور ذاتی کفر ترک کر کے حقیقی اسلام اختیار کرتا ہے &#8230;&#8230;. گر گویم شرح ای بی و&#8230;&#8230;&#8230;.پس اپنی سعادت پیر کی قبولیت میں خیال کرنی چاہیئے اور اپنی بدبختی اس کے ردکر نے میں نعوذ بالله سبحانه من ذالك رضاۓ حق پیر کے پردہ کے پیچھے رکھی ہوئی ہے، جب تک مرید اپنے آپ کو پیر کی مرضیات میں گم نہیں کر تا حق تعالی کی مرضیات تک نہیں پہنچتا،مرید کی آفت پیر کو ناراض کر نے میں ہے ،اس کے بغیر جو خواری ہے اس کا تدارک ہوسکتا ہے لیکن پیر کی ناراضگی کا تدارک ناممکن ہے، پیر کی نا رائسگی مرید کیلئے بدبختی کی جڑ ہے نعوذ باللہ سبحانہ من ذالک اس ناراضگی سے اسلامی معتقدات میں خلل اور احکام شرعیہ کے بجالانے میں فتور آ جا تا ہے، باطنی احوال ومواجید کا تو کچھ پوچھو ہی نہیں ، اگر پیر کوستانے کے بعد بھی احوال کا کچھ اثر رہے تو اسے استدراج سمجھنا چاہیئے کیونکہ آخر اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے، سواۓ نقصان کے اور کچھ نتی نہیں نکلتا، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-39-موت-قبل-از-موت-کی-حقیقت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها : 39۔موت قبل از موت کی حقیقت:</mark></h1>



<p>قلب عالم امر سے ہے ، اسے عالم خلق سے تعلق اور تعشق دے کر عالم کی طرف نیچے لایا گیا اور گوشت کے ٹکڑے سے جو بائیں طرف ہے خاص تعلق بخشا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے بادشاہ کسی خاکروب پر عاشق ہو اور اس کے سبب سے اس خاکروب کے گھر رہے اور روح جو قلب سے زیادہ لطیف ہے اصحاب کمین سے ہے اور تین لطیفوں سے جواطیفہ روح سے اوپر ہیں ، خیر الامور اوسطھا کے شرف سے مشرف ہیں ، جتنے زیادہ لطیف ہیں ، اتنے ہی وسط سے زیاد و مناسب ہیں ،صرف اتنی بات ہے کہ سر اور فی اخفی کے دونوں طرف ہیں ، ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف واقع ہے نفس حواس کا محاسبہ مجاور ہے، اس کا تعلق دماغ سے ہے ، قلب کو ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہ مقام روح اور اس کے روبرو کے مقام میں پہنچتا ہے ، اسی طرح روح اور اس کے مافوق کی ترقی ان سے بالائی مقامات سے وابستہ ہے لیکن ابتدا میں یہ وصول بطریق احوال ہوتا ہے اور انتہا میں بطریق مقام نفس کو اس وقت ترقی ہوتی ہے جب وہ مقام قلب میں ابتدا میں بطریق احوال اور انتہا میں بطریق مقام پہنچ &nbsp;جاۓ ، آخر کار یہ چھ لطائف مقام اخفی میں پہنچ جاتے ہیں اور تمام مل کر عالم قدس کی طرف پرواز کر نے کا قصد کر تے ہیں اور لطیفہ قلب کو خالی چھوڑ جاتے ہیں لیکن پرواز بھی ابتدا میں بطریق احوال ہوتی ہے اور انتہا میں بطریق مقام ہوتی ہے اور اس وقت فنا حاصل ہوتی ہے ،مرنے سے پہلے جس موت کی بابت کہا ہے اس سے مراد قلب سے انہیں کچھ لطائف کی جدائی ہے ، قالب میں ان کی مفارقت کے بعد بھی حس وحرکت رہتی ہے ، اس بات کا بیان اور جگہ لکھا گیا ہے وہاں سے مطالعہ کرنا چاہیئے اس کتاب میں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں ، اس کتاب میں صرف اشارتا اور کتابیتا باتیں درج ہیں، یہ ضروری نہیں کہ تمام لطائف ایک مقام میں جمع ہو کر وہاں سے پرواز کر میں بھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قلب اور روح دونوں متفق ہو کر یہ کام کرتے ہیں، کبھی تین بھی چارمل کر یہ کام کرتے ہیں لیکن جب چھیل کر پرواز کر میں تو یہ نہایت اعلی و اکمل درجہ ہے اور ولایت محمدی ﷺ سے مخصوص ہے ، اس کے سوا جو ہے وہ ولایت کی ایک قسم ہے، اگر وہ کچھ لطائف قالب سے جدا ہونے کے بعد مقام وصول میں پہنچ کر اسی رنگ سے رنگے جائیں اور پھر قالب میں لوٹ آئیں اور جبی تعلق کے سوا اور کوئی تعلق پیدا کریں ، قالب کا حکم پیدا کر یں ، ملنے کے بعد ایک قسم کی فنا پیدا کریں اور بطور مردہ ہو جائیں تو اس وقت خاص تجلی سے متجلی ہو جاتے ہیں ، از سرنو زندگی پیدا کر کے مقام بقاء باللہ حاصل کرتے ہیں اور اخلاق الہی سے متعلق ہو جاتے ہیں ، ایسے وقت میں اگر وہ ضلعت بخش کر پھر عالم میں بھیجے جائیں تو معاملہ نزد یک سے دور جا پڑتا ہے اور مقدمہ تکمیل پیدا ہوتا ہے ، اگر پھر جہان میں نہ بھیجیں اور قرب کے بعد بعد حاصل نہ ہو تو وہ اولیاۓ عزلت سے شمار ہوگا اور اس کے ہاتھ سے طالبوں کی تربیت اور ناقصوں کی تعمیل نہ ہو گی ، یہ ہے کہانی ہدایت ونہایت کی طریق رمز و اشارہ سے لیکن اس کا سمجھنا بغیر ان منزلوں کو ملے کئے محال ہے،<strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى &nbsp;والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوة والسلام</strong>۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-40-کلام-الہی-کا-سر-بستہ-راز"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:40۔کلام الہی کا سر بستہ راز :</mark></h1>



<p>&nbsp;حضرت حق سبحانہ وتعالی ازل سے ابد تک ایک ہی کلام سے متکلم ہے ، اس کلام کے اجز انہیں ہیں کیونکہ حق تعالی کے حق میں خاموشی یا گونگا پن کا ہونا محال ہے ، کوئی عجب نہیں کہ ازل سے ابد تک وہاں ایک ہی ساعت ہو کیونکہ وہاں زمانے کا دخل نہیں ، ایک گھڑی میں سواۓ کلام واحد اور بسیط کے اور کیا وقوع میں آ سکتا ہے، اس کلام واحد سے کئی قسم کے کلام پیدا ہوتے ہیں جو بلحاظ تعلقات مختلف قسم کے ہیں ، مثلا اگر مامور کے متعلق ہے تو امر پیدا ہوا ہے اور اگر رکاوٹ کے متعلق ہے تو نہی نام پایا ہے، اگر رضا کے متعلق ہے تو خبر ہوگئی ہے، آمدم بر سر مطلب، ماضی و مستقبل کی خبر دینا بہت سارے لوگوں کو شک میں ڈال دیتا ہے ، دلالت کرنے والے کا تقدم و تاخر مدلول کے تقدم و تاخر کو ظاہر کرتا ہے، سو یہ کوئی شبہ نہیں کیونکہ ماضی مستقبل دلالت کرنے والوں کی مخصوصہ صفات ہیں جواس گھڑی کے انبساط کے لحاظ سے پیدا ہوئی ہیں ، جب مرتبہ مدلول میں وہ گھڑی اپنی اصلی حالت پر ہے اور کسی قسم کا انبساط اس میں نہیں آیا تو پھر ماضی ومستقبل کی گنجائش کیسے ہوسکتی ہے ، ار باب معقول نے کہا ہے کہ ایک ہی ماہیت کیلئے بلحاظ وجود خارجی لوازمات علیحدہ ہیں اور بلحاظ وجود پانی صفات جدا ، پس جبکہ ایک ہی شے میں صفات ولوازمات کا فرق بلحاظ وجود وہو میت کے تخائر کے جائز ہے تو دال و مدلول میں جو فی الحقیقت &nbsp;ایک دوسرے سے جدا میں بطریق اولی جائز ہے اور یہ جو کہا ہے کہ ازل سے ابد تک ایک ہی گھڑی ہے یہ عبارت کی تنگی کی وجہ سے کہا گیا ہے ورنہ وہاں تو اس کی بھی گنجائش نہیں ، وہ بھی زمانے کی طرح یہاں ثقیل ہے۔ واضح رہے کہ جوممکن مقامات قرب الہی میں دائرہ امکان سے قدم باہر رکھتا ہے تو ازل ابد کو ملا ہوا پاتا ہے ، جناب سرور کائنات ﷺ نے شب معراج مقامات عروج میں حضرت یونس علی کو مچھلی کے پیٹ میں پایا اور نوح علیہ کے طوفان کوموجودد یکھتا، اہل بہشت کو بہشت میں دیکھا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں، پانچ سوسال بعد جو آدھے دن کے برابر ہے بہشت میں داخل ہونے کے بعد ایک غنی صحابی عبد الرحمن بن عوف ﷺ کو بہشت میں آتے ہوۓ دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے اس سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنے دشوار گزار راستوں کا ذکر کیا، یہ سب کچھ ایک گھڑی میں مشہود ہوا ، اس میں ماضی ومستقبل کی گنجائش نہ تھی ، مجھ پر بھی حبیب خدا ﷺ کے صدقے ایک وقت میں یہ حالت طاری ہوئی تھی کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ حضرت آدم عالم کوسجدہ کر رہے ہیں اور ابھی انہوں نے سجدہ سے سرنہیں اٹھاۓ کہ ملائکہ علمین کو ان سجدہ کرنے والوں سے الگ دیکھا، جنہیں سجدے کا حکم نہیں ہوا تھا، وہ اپنے مشہود میں مستغرق تھے اور جن حالات آخرت میں گزرنے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بھی اس گھڑی میں دکھائی دیئے ، چونکہ اس واقعہ کو مدت گزرچکی ہے اس احوال آخرت کو فصل بیان نہیں کیا کیونکہ مجھے اپنی قوت حافظہ پر پورا بھروسا نہیں رہا لیکن اتناسمجھ لینا چاہیئے کہ یہ حالت آنحضرت ﷺ کے وجودا در روح دونوں پر طاری ہوئی تھی اور آپ نے بصارت و بصیرت دونوں سے دیکھا تھا، دوسرے جوفیلی ہیں ان پراگر بطریق تبعیت می حالت طاری ہو تو فقط روح پر ہوگی اور صرف بصیرت سے مشاہدہ کر یں گے ،ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھیں گے قافله که اوست دانم نریم این بسکہ رسد زوار با تگ جرم علیه و على اله من الصلوات والتسليمات اتمها واكملها</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-41-تکوین-صفت-حقیقی-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:41۔ تکوین صفت حقیقی ہے:</mark></h1>



<p>محکومین واجب الوجود کی ایک حقیقی صفت ہے ،امام ابو الحسن اشعری پینے کے پیرو کار تکوین کو ایک اضافی صفت جانتے ہیں ، جہان کو وجود میں لانے کیلئے قدرت اور ارادہ ہی کو کافی خیال کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ تکوین ایک الگ صفت ہے جو قدرت اور ارادت کے علاوہ ہے، اس کا بیان یہ ہے کہ قدرت در حقیقت فعل وترک کی صحت ہے اور ارادہ قدرت کے دونوں پہلوؤں مینی فعل وترک کی تخصیص ہے، پس قدرت کا مرتبہ ارادہ کے مرتبہ سے مقدم ہے، تکوین کا مرتبہ جسے ہم ایک حقیقی صفت خیال کرتے ہیں قدرت دارادت کے مرتبہ کے بعد ہے، اس کا کام طرف تخصیص شدہ کو وجود میں لانا ہے ، پس قدرت فعل کی مصحیح ہے اور ارادت اس کی تخصیص کر نے والی ہے اور تکوین اس کی موجود ہے ، پس قدرت اور ارادت کے علاوہ تکوین بھی ضروری ہے ، اس کی مثال استطاعت مع الفعل کی طرح ہے جسے اہل سنت کے علماء نے بندوں میں ثابت کیا ہے ، اس میں شک نہیں کہ یہ استطاعت قدرت کے ثبوت کے بعد ہے بلکہ ارادت کے متعلق اور ایجاد کی تحقیق کے بعد اسی استطاعت سے وابستہ ہے بلکہ وہ استطاعت ہی موجب فعل ہے اور ترک کا پہلو وہاں مفقود ہے ،صفت تکوین کی بھی یہی حالت ہے کہ ایجاد اس کے ساتھ بطریق ایجاب ہے لیکن یہ ایجاب واجب تعالی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ وہ قدرت کے حاصل ہونے کے بعد ثابت ہوتا ہے، اصل میں قدرت ہی فعل و ترک کی صحت ہے نیز ارادہ کی تخصیص کے بعد تکوین ہے اور یہ بات حکماۓ فلسفہ کی راۓ کے خلاف ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ پہلا شرطیہ (اگر چا ہے تو پیدا کر سکتا ہے ، واجب الصدق ہے اور دوسرا شرطیہ ( اگر نہ چاہے تو نہیں پیدا کرتا ممتنع الصدق ہے ،انہوں نے ارادت کی نفی کی ہے ، جوصر بیجا ایجاب میں ہے، اللہ تعالی اس سے بہت برتر ہے، وہ ایجاب جوارادت کے تعلق اور دونوں مقدوروں میں سے ایک کی تخصیص کے بعد پیدا ہوا ہے اس کیلئے اختیار لازمی امر ہے ، اس کی تاکید کرنے والا اختیار کا منافی نہیں ، صاحب فتوحات یعنی شیخ محی الدین ابن عربی ﷺ کا کشف بھی حکما کی رائے کے موافق واقع ہوا ہے یعنی قدرت میں پہلے شرطیہ کو واجب الصدق اور دوسرے شرطیہ کو متنع الصدق جاتا ہے اور یہ جانتا ایجاب ہے ایسی صورت میں ارادہ فضول معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہاں فعل با ترک کی تخصیص کوئی بھی نہیں، ہاں اگر تکوین میں اس بات کو ثابت کر میں تو گنجائش ہے کیونکہ وہ ایجاب کی ملاوٹ سے مبرا ہے، میفرق بہت ہی بار یک ہے، اس کے بیان کی جرات وسبقت بہت کم اشخاص نے کی ہے ، گو علمائے ماتریدیہ نے اس صفت کو ثابت کیا ہے لیکن اس قد رغور وخوض سے کام نہیں لیا ، سنت نبوی ﷺ کی پیروی کے سبب وہ تمام متکلمین میں اس معرفت سے ممتاز ہیں، یہ حقیر بھی ان بزرگوں کا خوشہ چین ہے ، اے اللہ! ہمیں اپنے حبیب اکرم ﷺ کے صدقے ان کے معتقدات پر ثابت قدم رکھنا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-42-باری-تعالی-کا-دیدار"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 42۔باری تعالی کا دیدار :</mark></h1>



<p>اللہ تعالی جل شانہ کا دیدار آخرت میں مومنوں کو نصیب ہوناحق بات ہے، یہ وہ مسئلہ ہے جس کو سواۓ اہلسنت و جماعت کے کسی اسلامی فرقہ یا حکماۓ فلسفہ نے جائز نہیں مانا ، ان کے انکار کا باعث حاضر پر غائب کا قیاس ہے اور ایسا قیاس برا ہے، دکھائی دینے والی چیز جب بے مثل و بے مانند ہو گی تو اس کی متعلقہ رؤیت بھی بے مثل و بے مانند ہوگی ، اس پر ایمان لانا چاہیئے ، اس کی کیفیتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیئے ، یہ بھید دنیا میں بھی خاص خاص اولیا پر ظاہر کیا گیا ہے اگرچہ اسے رؤیت تو نہیں کہہ سکتے لیکن پھر بھی رؤیت ہی ہے گویا کہ تو اسے دیکھتا ہے، انشاء اللہ قیامت کے دن تمام مومن اسے ظاہری آنکھوں سے دیکھ لیں گے لیکن انہیں ادراک نہ ہوگا کیونکہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں ، صرف دو چیزیں دریافت کریں گے، ایک علم یقین کہ دیکھتے ہیں اور دوسرا حظ ولذت جو رؤیت سے حاصل ہوگا سواۓ ان دو چیزوں کے باقی تمام لوازمات دید مفقود ہوں گے ، یہ مسئلہ علم عقائد کا نہایت ہی دقیق مسئلہ ہے ،عقل اس کے اثبات و تصور میں عاجز ہے ، صرف انبیا کرام&nbsp; کے پیرو کار علما و صوفیا نے اس نورفراست سے جو انوار نبوت سے مقتبس (لیا گیا) ہے دریافت کیا ہے ، اسی طرح سے علم کلام کے اور مسائل کا حل ہے جن کے ثابت کرنے میں عقل عاجز ومتحیر ہے&nbsp; ان میں&nbsp; علمائے اہل سنت کو صرف نور فراست حاصل ہے، صوفیا کو نور فراست بھی ہے اور کشف و شہود بھی ، کشف و فراست میں وہی فرق ہے جو بدیہی(بغیر غور و فکر) اور حدسی(اندازہ اور تخمینہ&nbsp; کے متعلق چیزیں) میں ہے ،فراست نظریات کو جن کیلئے دلیل کی ضرورت ہے بد یہات بناتی ہے اور کشف نظریات کو حدسیات بنا تا ہے اور جن مسائل کے اہلسنت قائل ہیں اور ان کے مخالف جن کا دار و مدار صرف عقل پر ہے ان مسائل کے منکر ہیں ، وہ تمام مسائل اسی قسم کے ہیں جو نور فراست سے معلوم ہوتے ہیں اور کشف صحیح سے دیکھنے میں آتے ہیں مگر ان مسائل کو واضح طور پر بیان کیا جاۓ تو اس سے مقصود تصویر و تنبیہ ہے نہ کہ نظر و دلیل سے ان کا اثبات ، کیونکہ عقلی نظر ان کے اثبات و تصویر میں اندھی ہے ، مجھے ان علماء پر تعجب آتا ہے جو ان مسائل کو دلائل سے ثابت کرنا اور مخالفوں کیلئے حجت قائم کرنا چاہتے ہیں ، نہ ہی یہ ان سے ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ اسے سرانجام دے سکتے ہیں ، اس واسطے مخالف خیال کر تے ہیں کہ ان کے مسائل بھی ان کے استدلات کی طرح بود ے اور ادھورے ہیں مثلا علمائے اہلسنت نے استطاعت مع الفعل(فعل کے ساتھ طاقت بھی رکھنا) کو ثابت کیا ہے ، یہ&nbsp; مسئلہ ایک سچا مسئلہ ہے جونو رفراست اور کشف صیح سے معلوم ہوتا ہے لیکن جو دلائل اس کے ثبوت میں بیان کئے ہیں وہ سراسر بودے اور نامکمل ہیں ، ان کی سب سے ز بر دست دلیل یہ ہے کہ جو ہر کے مقابلہ میں عرض کو دوز مانوں میں عدم بقا ہے کیونکہ اگر عرض باقی ہوتو لازم آتا ہے کہ عرض عرض سے قائم ہو اور یہ حال ہے چونکہ اس دلیل کو مخالفوں نے بودی او را دھوری خیال کیا ہے اس واسطے ان کا یقین ہو گیا ہے کہ یہ مسئلہ بھی ادھورا ہے لیکن مخالفوں کو یہ معلوم نہیں کہ اہل سنت کا رہنما اس مسئلہ اور اسی قسم کے اور مسائل میں نورفراست ہے جو انوار نبوت سے حاصل کیا گیا ہے لیکن یہ ہماری کو تا ہی ہے کہ ہم حدسی و بد یہی کو مخالفوں کی نظروں میں نظری بناتے ہیں اور تکلف سے اس کے ثابت کر نے کی کوشش کر تے ہیں ، آمدم بر سر مطلب ، ہماری حدسی و بدیہی مخالفوں کیلئے حجت نہیں اور نہ بھی ہو تو بھی مضائقہ نہیں ، ہمارا کام صرف اطلاع دینا اور پہنچانا ہے ، جس میں مسلمانی کی علامات ہیں وہ خود بخود اختیار اور قبول کرے گا اور جو بے نصیب ہے وہ انکار کرے گا ، علماء اہلسنت میں شیخ الاسلام شیخ ابومنصور ماتریدی ﷺ کے اصحاب کا طریقہ کیا ہی عمد ہ &nbsp;ہے جنہوں نے صرف مقاصد پر اکتفا کیا ہے اور فلسفی باریکیوں اور نکتہ چینیوں سے بالکل روگردانی کر لی ہے فلسفیوں کی طرح نظر واستدلال کا طریقہ علماء اہل سنت و جماعت میں شیخ ابوالحسن اشعری ﷺ سے شروع ہوا ہے ، ان کا یہ مدعا تھا کہ کسی طرح اہل سنت کے معتقدات کو فلسفی دلائل سے ثابت کر یں ، ایسا کرنا مشکل ہے بلکہ ایک طرح سے مخالفوں کوا کا بر دین پر طعن کرنے کی جرات دلانا اور طریق سلف کو ترک کرنا ہے، اللہ تعالی ہمیں اہل حق کے معتقدات کی متابعت پر ثابت قدم رکھے، جنہوں نے انوار نبوت على صاحبها الصلوات والتسليمات اتمها و اکملھا سے نور حاصل کیا ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-43-حواس-کے-بغیر-مرتبہ-یقین"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها : 43۔حواس کے بغیر مرتبہ یقین:</mark></h1>



<p>میں اس آمد کریمہ <strong>وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ</strong>(اور بہر حال&nbsp; اپنے پروردگار کی نعمت کو بیان&nbsp; کیا کریں) کے مطابق اس نعمت عظمی کا اظہار کرتا ہوں کہ مجھے علم کلام کے متعلقہ معتقدات کا یقین اہل سنت و جماعت کی رائے کے موافق عطا ہوا ہے اور یقین آ گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں یقینی یقین بھی جوسب سے بہتر اور ظاہرتر بدیہیات کی نسبت حاصل ہوا ہے ظن بلکہ و ہم معلوم ہوتا ہے ،مثلا جب میں علم عقائد کے مسائل سے متعلق حاصل شدہ یقین کا مقابلہ اس یقین سے کرتا ہوں جو وجود آفتاب کی نسبت مجھے حاصل ہے تو اول الذکر کو موخر الذکر کی نسبت یقینی جانتا ہوں ، ارباب عقل خواہ اس بات کو قبول کر یں یا نہ کر یں بلکہ بالضر ورقبول نہیں کر یں گے کیونکہ یہ بات عقل سے پرے ہے، ظاہر میں عقل کو اس مقام سے سواۓ انکار کے اور کچھ حاصل نہیں ، اس معاملہ کی حقیقت یہ ہے کہ یقین دل کا کام ہے اور وہ یقین جو دل کو آفتاب کے وجود کی طرح حاصل ہوتا ہے وہ حواس خمسہ کے وسیلے سے ہوتا ہے جو بمنزلہ جاسوس ہیں اور جو یقین دل کو علم عقائد کے مسائل کے متعلق حاصل ہوا ہے اس میں ان حواس خمسہ میں سے کسی ایک کا بھی دخل نہیں بلکہ یہ یقین جناب باری تعالی سے بطریق الہام بلا واسطہ ہوا ہے ، پس پہلا یقین بمنز لہ علم الیقین ہے اور دوسرا بمنز لہ عین الیقین ،سوعلم الیقین اور عین الیقین میں بڑا فرق ہے</p>



<p>۔ شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔دیکھے ہوئے کے برابر سنا کیسے ہوسکتا ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منھا-44ارادے-کی-فنا"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منھا 44:ارادے کی فنا :</mark></h1>



<p>جب محض فضل الہی سے طالب کا سینہ تمام مرادات سے خالی ہو جا تا ہے اور سواۓ حق کے اور کوئی اسے خواہش نہیں رہتی تو اس وقت وہ مقصود حاصل ہو جا تا ہے جو اس کے پیدا کرنے سے تھا اور وہ حقیقی بندگی بجالاتا ہے ، بعد ازاں اگر چاہتے ہیں تو اسے ناقصوں کی تربیت کیلئے واپس کرتے ہیں اور اپنے پاس سے اسے ارادہ عطافرماتے ہیں اور اختیار عنایت کرتے ہیں جس کے سبب سے وہ قولی اور فعلی تصرفات میں مجاز ومختار ہوتا ہے جیسا کہ اذن دیا ہوا غلام، مقام خلق با خلاق اللہ میں صاحب ارادہ جو کچھ چاہتا ہے دوسروں کے واسطے چاہتا ہے نہ کہ اپنے لئے اور دوسروں کی مصلحتیں اس کے مدنظر ہوتی ہیں نہ کہ اپنے نفس کی جیسا کہ واجب تعالی کے ارادے کا حال ہے کہ جو کچھ کرتا ہے مخلوق کی خاطر کرتا ہے، بلکہ بلند ترین مثال اللہ کے لیے ہے، یہ نہ ضروری ہے اور نہ جائز کہ جو کچھ یہ صاحب ارادہ چاہے ظہور میں آۓ کیونکہ ایسا ہونا شرک ہے اور بندگی اس کی برداشت نہیں کر سکتی چنانچہ اللہ تعالی جل شانہ نے اپنے حبیب کریم ﷺ کو فرمایا: إِنَّكَ ‌لَا ‌تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ، جسے تو چاہے(بالذات) ہدایت نہیں کر سکتا جسے اللہ تعالی چاہے اسے ہدایت کرتا ہے ، جب آنحضرت ﷺ کا ارادہ توقف میں پڑے تو دوسروں کی کیا ہستی ہے نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ صاحب ارادہ کی تمام مراد یں(جنکا وہ رادہ کرے) مرضی حق کے مطابق ہوں اگر ایسا ہوتا تو جناب باری تعالی سے آنحضرت ﷺ پر اعتراض نازل نہ ہوتا جیسا کہ فرمایا <strong>مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ</strong> ور معافی کی گنجائش نہ ہوتی <strong>عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ </strong>، اللہ تعالی نے تجھے معاف کیا، معافی ہمیشہ <a>تقصیرات </a>&nbsp;(یہاں تقصیرات سے مراد اگر اولیا کرام کی تقصیرات &nbsp;&nbsp;ہیں تو بات اور ہے اور اگر ان کی نسبت حضور سراپا نور ﷺ کی طرف ہے تو ان کا مطلب گناہ کبیر اور صغیرہ نہیں کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ انبیا کرام&nbsp; کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ، یہاں تقصیرات سے مراد وہ د نیوی احکام ہیں جن میں آپ کو اجتہاد کا اختیار دیا جاتا تھا اور بسا اوقات امت کی بہتری کے لیے آپ افضل اور اولی کام کو ترک کر کے امر فاضل کا اکتساب کر تے تھے،بنا بریں اللہ تعالی کی طرف سے صورتا عتاب ہوتا تھا جو حقیقی محبت الہی کا ایک حسین باب ہوتا تھا کیونکہ انبیا کرام کا ترک افضل غیر انبیا کے ترک واجب کےبمنزلہ ہے ، ( شرح فقہ اکبر ۲) حدیث پاک میں ہے کہ حضور سراپا نور ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کی آمد پر فرمایا <strong>مرحبا بمن عاتبني فيه ربی</strong> و مرحبا اس کی وجہ سے میر ےرب نےمجھ پر عتاب فرمایا &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;)میں ہوتی ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی تمام مرادات حق بھی مرضیات حق نہیں ،مثال کفرو گناہ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-45-قرآن-اور-مقام-ہدایت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:45۔قرآن اور مقام ہدایت:</mark></h1>



<p>&nbsp;اس کام میں میرا امام کلام اللہ اور میرا پیر قرآن مجید ہے ،اگر قرآن شریف کی ہدایت نہ ہوتی تو حقیقی معبود کی عبادت کی راہ نہ کھلتی ، اس راہ میں ہر ایک لطیف و الطف انا اللہ پکار کر سالک راہ کو اپنی پرستش میں مصروف کر لیتا ہے اگر چون ہے تو اپنے آپ کوبیچون ظاہر کرتا ہے ، اگر تشبیہ ہے تو تنزیہ کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے ، یہاں امکان و وجوب آپس میں خلط ملط دکھائی دیتے ہیں اور حدوث و قدم گڈمڈ محسوس ہوتے ہے ہیں ،اگر باطل ہے تو حق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اگر گمراہی ہے تو ہدایت کی شکل میں نمودار ہوتی ہے، بیچارہ سالک اند ھے مسافر کی طرح ہے کہ ہر ایک کو ھذار بی یہی میرا پروردگار ہے، کہتا آتا ہے، اللہ تعالی جل شانہ اپنے آپ کو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مشرق ومغرب کا پروردگار بتا تا ہے، جب مجھے عروج کے وقت یہ خیالی معبود پیش کئے گئے تو میں نے سب سے انکار کیا اور سب زائل ہو گئے ،اس واسطے میں نے الا احب الافلین میں غروب وزائل ہونے والوں سے پیار نہیں کرتا ، کہتے ہوۓ سب سے منہ پھیرا اور سواۓ ذات واجب الوجود کے اور کسی کو قبلہ توجہ نہ بنایا، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس بات کی ہدایت کی ،اگر اللہ تعالی ہمیں ہدایت نہ کرتا تو کبھی سیدھی راہ پر نہ آتے ، ہمارے پروردگار کے رسول سب&nbsp; سچے ہیں جو کچھ وہ اللہ تعالی کی طرف سے لاۓ ہیں سچ اور حق ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-46-خواجہ-باقی-رحمۃ-اللہ-علیہ-سے-عقیدت-مجدد"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها : 46۔خواجہ باقی رحمۃ اللہ علیہ سے عقیدت مجدد:</mark></h1>



<p>&nbsp;ہم چار شخص اپنے خواجہ صاحب ﷺ کی ملازمت میں باقی تمام یاروں سے ممتاز تھے، ہم چاروں کا اعتقادخواجہ صاحب ﷺ کی نسبت الگ الگ تھا اور ہمارا معاملہ بھی ایک دوسرے سے نرالا تھا ، میرا یہ یقین تھا کہ اس قسم کی صحبت و اجتماع اور اس طرح کی تربیت اور ارشاد جناب سرور کائنات ﷺ کے زمانے کے بعد کبھی میسر نہیں ہوئی، اس نعمت کا شکر بجا لا یا کرتا تھا کہ مجھے جناب سرور کائنات ﷺ کی صحبت کا شرف تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس صحبت کی سعادت سے محروم نہیں رہا ، ہمارے خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے باقی تین کے احوال کی نسبت یوں فرمایا کہ فلاں شخص مجھے صاحب تکمیل جانتا ہے لیکن صاحب ارشاد خیال نہیں کرتا ۔ اس کے نزدیک ارشاد کا مرتبہ تکمیل کے مرتبے سے زیادہ ہے ، دوسرے کی نسبت فرمایا کہ اس کا ہم سے کچھ سروکار نہیں ، تیسرے کی نسبت فرمایا کہ وہ ہمارا منکر ہے ، ہم میں سے ہر ایک کو اعتقاد کے موافق حصہ ملا ، واضح رہے کہ مرید کو اپنے پیر سے جو محبت ہوتی ہے اور فائدہ اٹھانے اور پہنچانے کے سبب کی مناسبت کا نتیجہ پیر کو فضل اور اکمل جانتا ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ پیر کو ان لوگوں سے افضل نہ جانے جن کی فضیلت شرع میں مقرر ہے کیونکہ ایسا کرنا افراط میں داخل ہے اور اچھا نہیں ، شیعہ لوگوں کی خرابی محض اہل بیت سے محبت کی افراط سے ہوئی ہے اور عیسائیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کی افراط محبت سےیہ خرابی ملی ہے کہ انہیں اللہ تعالی کا بیٹا کہتے ہیں ، اس واسطے ابدی نقصان میں مبتلا ہیں لیکن اگر ان کے سوا فضیلت دے تو جائز ہے بلکہ طریقت میں واجب ہے، یہ فضیلت دینا مرید کے اختیار میں نہیں بلکہ اگر مرید سعادت مند ہے تو خود بخود بے اختیار اس میں یہ اعتقاد پیدا ہو جا تا ہے اور اس کے وسیلے سے پیر کے کمالات کو حاصل کرتا ہے، اگر یہ فضیلت دینا مر یداپنے اختیار وتکلف سے پیدا کرے تو جائز نہیں اور نہ اس کا کچھ نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-47-نفی-و-اثبات-کا-ذکر"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: &nbsp;47۔نفی و اثبات کا ذکر :</mark></h1>



<p>نفی واثبات میں اعلی درجہ لا الہ الا اللہ کے کلمہ طیبہ میں یہ ہے کہ جو کچھ دیدو دانش اور کشف و شہود میں آۓ خواہ وہ محض تنز یہ دبے کیف ہوسب کچھ لا کے تحت میں داخل ہو اور اثبات کی جانب میں سواۓ اللہ کہنے کے جو دل کی موافقت سے کہا جاۓ اور کچھ نصیب نہ ہو</p>



<p>عنقا شکار کس نشود دام باز چین کایں جاہمیشہ باد بدست است دام را</p>



<p>اٹھا لے جا ل عنقا بھلا&nbsp; کب کسی کے ہاتھ آتا ہے یہا ہر جال لگانے والا خالی ہاتھ جاتا ہے۔</p>



<p><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوت والتسليمات </strong><strong>–</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-48-حقائق-ثلاثہ-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 48 ۔حقائق ثلاثہ کا بیان :</mark></h1>



<p>&nbsp;قرآنی حقیقت اور کعبہ ربانی کی حقیقت دونوں حقیقت محمدی سے اوپر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآنی حقیقت حقیقت محمدی کی امام اور کعبہ ربانی کی حقیقت حقیقت محمدی کا مسجود ہے، باوجود اس بات کے کہ کعبہ ر بانی کی حقیقت قرآنی حقیقت سے بڑھ کر ہے، وہاں سر بسر بے صفتی اور بے رنگی ہے اور شیون واعتبارات کی وہاں گنجائش نہیں، تنزیہ و تقدیس کی وہاں مجال نہیں&#8230;&#8230;&#8230;. آنجا ہمہ آنست کہ برتر زبان است(وہاں ہر چیز ایسی ہےجو بیان سے بالا تر ہے)..یہ ایسی معرفت ہے جس کے بارے میں کسی اہل اللہ نے لب کشائی نہیں کی اور رمز اور اشارہ کے طور پر بھی اس کے متعلق بات نہیں کی ، مجھے اس معرفت عظمی سے مشرف کیا ہے اورا بناۓ جنس میں ممتاز فرمایا ہے ، یہ سب کچھ حبیب خدا ﷺ کے صدقے نصیب ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ جس طرح چیزوں کی صورتوں کا مسجودصورت کعبہ ہے اسی طرح ان اشیاء کے حقائق کا مسجود حقیقت کعبہ ہے، میں ایسی عجیب بات بیان کرتا ہوں کہ جسے نہ کسی نے کہا نہ سنا، مجھے اللہ تعالی نے خبر دی اس واسطے میں لوگوں کو اس سے آگاہ کرتا ہوں، یہ سب کچھ اس کے فضل و کرم سے ہے، جناب سرور کائنات ﷺکے عہد مبارک سے کچھ اوپر ہزار سال بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج فرماۓ اور حقیقت کعبہ کے مقام سے مل کر ایک ہو جاۓ ، اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہواور وہ ذات احد کا مظہر بنے اور دونوں مبارک نام مسمی (مجموعہ حقیقت محمدی و حقیقت کعبہ)کو حاصل ہوں اور پہلا مقام حقیقت محمدی سے خالی ہو جاۓ جب تک حضرت عیسی علیہ السلام &nbsp;نزول فرمائیں اور شریعت محمدی پر عمل کریں ، اس وقت حقیقت عیسوی اپنے مقام سے عروج کر کے حقیقت محمدی کے خالی شدہ مقام میں قرار کرے گی۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-49-کلمہ-طیبہ-کی-فضیلت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:49۔کلمہ طیبہ کی فضیلت :</mark></h1>



<p>اگر کلمہ لا الہ الا اللہ نہ ہوتا تو جناب باری کی راہ کون دکھا تا اور توحید کے چہرہ پر سے نقاب کون اٹھا تا اور جنت کے دروازے کون کھولتا ،&nbsp; صفات بشریت کے پہاڑ اس لا کے کدال سے اکھیٹرے جاتے ہیں اور بے شمار تعلقات اس نفی کے تکرار کی برکت سے دور ہوتے ہیں ، اس کلمہ کی نفی باطل معبودوں کو مات کرتی ہے اور اس کلمہ کا اثبات معبود حقیقی کو ثابت کرتا ہے ، سالک اس کی مدد سے امکانی مدارج طے کرتا ہے اور عارف اس کی برکت سے وجوبی معارج پر چڑھتا ہے ، یہ کلمہ طیبہ ہی ہے جو تجلیات صفات میں پہنچا تا ہے اور پھر تجلیات صفات سے تجلیات ذات تک لے جاتا ہے ۔</p>



<p>تا بجا روب لا نروبی راہ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; نرسی &nbsp;در سراۓ الا اللہ</p>



<p>لا کے جھاڑو سے جب تک اس راہ کی صفائی نہ ہو گی&nbsp; اس وقت تک تو الا اللہ کی سرائے تک نہ پہنچے گا</p>



<p><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوات والتسليمات</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-50-کیا-معوذتین-داخل-قرآن-نہیں"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:50۔کیا معوذتین داخل قرآن نہیں</mark></h1>



<p>&nbsp;مخددی شیخ شرف الدین منیری&nbsp; اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ معوذ تین کو نماز میں نہیں پڑھنا چاہیئے ، کیونکہ ابن مسعود ان دونوں سورتوں کی قرآنیت میں جمہور کے مخالف ہیں، پس ان دونوں سورتوں کی قرأت کو فرض قطعی میں شمار نہیں کرنا چاہیئے ، میں بھی نہیں پڑھتا تھاحتی کہ ایک روز اس فقیر پر ظاہر کیا گیا کہ گویا معوذتین موجود ہیں اور مخدوم شرف الدین کی شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرض میں ان کی قرأت کو کیوں ترک کیا گویا ہمیں قرآن شریف سے نکالا ہے، تب سے میں نے ان کا پڑھنا شروع کیا، چنانچہ نماز فریضہ میں پڑھنے لگا، جب ان دونوں سورتوں کو نماز فریضہ میں پڑھتا ہوں تو عجیب وغریب احوال کا مشاہدہ کرتا ہوں ، واقعی جب علم شریعت کی طرف رجوع کیا جائے تو ان دوسورتوں کو نماز فریضہ میں نہ پڑھنے کیلئے کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی بلکہ اس متفق علیہ حکم کی قطعیت میں شبہ ڈالنا ہے کہ جو کچھ دفتین (دو جلدوں)کے اندر ہے وہ قرآن ہے ، جب سورۂ فاتحہ سے سورہ کا ملانا واجب ہے تو پس دونوں سورتوں کا پڑھنا خواہ وہ بالفرض المحال خوا ہ ظنی ہی ہوں کوئی وجہ نہیں کہ انہیں فاتحہ کے ساتھ ملا کر نہ پڑھا جائے ، مجھے تو شیخ منیری&nbsp; کے اس کلام پرسخت تعجب آتا ہے( شرح مواقف میں ہے کہ قرآن کریم کی بعض سورتوں میں بعض صحابہ کرام کا جو اختلاف منقول ہے دو اخبار آحاد سے ہے اور ان سورتوں کا قرآن ہونا تو اتر سے ثابت ہے ، آحاد میں اتنا قوت نہیں کہ وہ تواتر کے معارض ہوسکیں اور نہ ہی ظن یقین سے مزاحم ہو سکتا ہے ( تفسیر روح المعانی ) امام نووی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود&nbsp; سے جومعوذتین کی عدم قرآنیت کی نقل منقول ہے دوباطل ہے اور امام رازی نے بھی اس کو باطل قرار دیا ہے ۔)، والسلام علی سیدالبشر واله الاطهر –</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-51-شیخ-کامل-کی-اتباع"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:51۔شیخ کامل کی اتباع :</mark></h1>



<p>صوفیوں کے طریق بلکہ مذہب اسلام سے حظ وافراسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جس میں تقلید کی فطرت اور متابعت کی جبلت زیادہ ہو، یہاں کام کا دارومدار تقلید پر ہے، اس مقام پر کام متابعت سے وابستہ ہے ، انبیا کرام کی تقلید اعلی درجات پر پہنچاتی ہے اور نیک لوگوں کی متابعت اعلی عروج پر پہنچاتی ہے، امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق&nbsp; میں چونکہ یہ فطرت زیادہ تھی اس لئے بلا توقف تصدیق نبوت کی سعادت حاصل کی اور صدیقوں کے سردار بن گئے ، ابو جہل لعین میں چونکہ تقلید اور متابعت کا مادہ کم بلکہ نا پید&nbsp; تھا اس واسطے اس سعادت سے مشرف نہ ہوا اور ملعونوں کا پیشوا بن گیا ،مرید کو جو کمال حاصل ہوتا ہے اپنے پیر کی تقلید سے حاصل ہوتا ہے، پیر کی خطامر ید کے صواب سے بہتر ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق جناب سرور کائنات ﷺ کےسہو کوطلب کرتے&nbsp; تھے&#8217; باليتني كنت سهو محمد ،( حدیث پاک ہے کہ میں بھولتا نہیں بھلا یا جا تا ہوں تاکہ امت کے لیے بہت سے احکام وسیع کر دئیےجائیں قرآن پاک میں بھی ہے ہم آپ کو پڑھائیں گے، پس آپ نہ بھولیں گے مگر اس کے &nbsp;جواللہ چاہے یادر ہے کہ عوام کا پ سہو مبنی برغفلت ہوتا ہے اور خواص کا سہومبنی بر حکمت ہوتا ہے۔) کاش! میں حضرت محمدمصطفی ﷺﷺ کا سہو بن جاتا ، جناب سرور کائنات ﷺ نے حضرت بلال کے حق میں فرمایا ہے۔ سین بلال عند الله شین حضرت بلال عجمی تھے، اس لئے اذان میں بجاۓ اشھد کے اسہد کہا کرتے تھے ، اللہ تعالی کے ہاں ان کا اسہد اشہد ہے، پس حضرت بلال کی خطا دوسروں کی درستی سے بہتر ہے۔. براشہد تو خندہ زند اسہد بلال میں نے ایک بزرگ سے سنا ہے جو فرماتے تھے کہ بعض دعائیں جو مشائخ سے منقول ہیں اور جن میں مشائخ سے اتفاقا غلطی ہوگئی ہے اور تلفظ بگڑ گیا ہے اگر ان کے تابعین اور پیروکار اپنے مشائخ کی طرح پڑھیں تو تاثیر ہوتی ہے اگر درست کر کے پڑھیں تو تاثیر نہیں ہوتی ، یا اللہ ہمیں انبیا کرام کی تقلید اور اولیا کرام کی متابعت پر بحرمت حبیب خداﷺ ثابت قدم رکھنا۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-52-انبیا-کے-درجات-اور-تجلی-ذات"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها:52۔انبیا کے درجات اور تجلی ذات:</mark></h1>



<p>عوام الناس تو در کنار تمام مرسلوں کے جناب سرور کائنات ﷺ سردار ہیں ، اگر چہ حضرت عیسی اور حضرت موسی علیہما السلام کو حسب درجہ مقام تجلی ذات سے کچھ &nbsp;حاصل ہے، اللہ تعالی نے حضرت موسی کومخاطب کر کے فرمایا ہے اصطنعتك لنفسى اى لـذاتـی اور حضرت عیسی روح اللہ ہیں اور اس کا کلمہ ہیں اور آنحضرت ﷺ سے بہت زیادہ مناسبت رکھتے ہیں لیکن حضرت ابراہیم حالانکہ مقام تجلی صفات میں ہیں ، پھر بھی تیز چشم اور دور بین ہیں ، جو خاص شان ہمارے پیغمبر ﷺ کوتجلی ذات کے مقام میں نصیب ہوئی وہ حضرت ابراہیم کو تجلی صفات کے مقام میں حاصل ہوگئی لیکن استعداد دونوں کی مختلف ہے ، پس اس لحاظ سے حضرت ابراہیم&nbsp; دونوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی &nbsp;&nbsp;سے افضل ہیں اور حضرت عیسی &nbsp;&nbsp;حضرت موسی &nbsp;سے افضل ہیں ، حضرت عیسی &nbsp;کا رتبہ حضرت موسی&nbsp; سے بڑھ کر ہے،( مکتوبات کی عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسی افضل ہیں ان دوقولوں کے درمیان تطبیق اس طرح ہے کہ حضرت عیسی&nbsp; نزول کے بعد حضورﷺ کی اتباع فرمائیں گے تو یہ ان کی جامعیت حضرت موسی کی نسبت زیادہ ظاہر ہے۔ مجموعہ ر سائل 129) آپ ان کی نسبت تیز نظر اور دور بین ہیں ، ان کے بعد حضرت نوح ہیں ، آپ کا مقام مقام صفات میں اگر چہ حضرت ابراہیم&nbsp; کے مقام سے اوپر ہے لیکن حضرت ابراہیم&nbsp; کو اس مقام میں خاص شان حاصل ہے اور آپ کی نظر کو وہ تیزی حاصل ہے جو دوسروں کو میسر نہیں لیکن آپ کی اولاد کرام کو بھی بطورتبعیت وفرعیت اس مقام سے حصہ حاصل ہے ، حضرت نوح&nbsp; کے بعد حضرت آدم ہیں، اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے مجھے ان باتوں کے الہام سے سرفراز فرمایا علم اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-53-اسما-ءاور-صفات-کی-سیر"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:53۔اسما ءاور صفات کی سیر :</mark></h1>



<p>جس سالک کی سیر اسما اور صفات کی تفصیل میں ہو اس کا ذات حق تک پہنچنا بند ہو جا تا ہے کیونکہ اسما اور صفات کی کوئی انتہانہیں ، نہ یہ ختم ہوتے ہیں نہ وہ منزل مقصود پر پہنچتا ہے ، مشائخ نے اس مقام کی خبر دی ہے کہ مراتب وصول کی کوئی انتہا نہیں اس واسطے کہ محبوب کے کمالات کی کوئی انتہا نہیں ، یہاں وصول سے مراداسمائی وصفاقی وصول ہے ، سعادت مند وہ شخص ہے جس کی سیرا سما اور صفات میں بطریق اجمال واقع ہوئی ہے اور جلدی خدا رسیدہ ہو گیا ہے ، واصلان ذات جب نہایت النہایت پر پہنچتے ہیں تو دعوت کیلئے ان کا واپس آنا لازم ہے اور وہاں سے واپس نہ آ نا محال ہے برخلاف اس کے متوسط جب اپنی استعداد کے موافق آخری مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کیلئے واپس آنا لازم نہیں ، ہوسکتا ہے کہ واپس آئیں یاوہیں ٹھہرے رہیں ، پس منتہی کے وصول کے مراتب ختم ہو جاتے ہیں بلکہ لازم ہے کہ پورے ہو جائیں لیکن متوسطوں کے وصول کے مراتب کی جوا سمائی وصفاتی تفصیل میں سیر کرتے ہیں کوئی انتہا نہیں ، یہ علم بھی میرا مخصوص علم ہے، والعلم عند الله سبحانه –</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-54-مقام-رضا-کی-برتری"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها :54۔مقام رضا کی برتری:</mark></h1>



<p>مقام رضا مقامات و لایت سے بڑھ کر ہے ، یہ مقام تمام سلوک و جذ بہ طے کر لینے کے بعد حاصل ہوتا ہے، اگر یہ پوچھیں کہ اللہ تعالی کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال سے رضا واجب ہے اور نفس ایمان میں ماخوذ ہے لہذا جس سے عام مومنوں کو چارہ نہیں تو پھر سلوک و جذ بہ کے تمام پر اس کے حصول کے کیا معنی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ہر رکن ایمان کی صورت وحقیقت ہے اسی طرح رضا کی بھی صورت و حقیقت ہے،شروع میں صورت کا وجود ہوتا ہے اور آخر میں حقیقت حاصل ہوتی ہے، جب منافی رضا ظاہر نہ ہوتو ظاہر شریعت حصول رضا کا حکم فرماتی ہے لیکن تصد یق قلبی کے طور پر کہ جب کوئی بات منافی تصدیق نہ پائی جاۓ تو تصدیق حاصل ہو جاتی ہے اور ہم حقیقت رضا کے حصول کے در پے ہیں نہ کہ صورت رضا کے اللہ سبحانہ اعلم۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-55-سنت-اور-بدعت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 55۔سنت اور بدعت :</mark></h1>



<p>اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ سنت نبوی ﷺ کے موافق عمل حاصل ہو اور بدعت سے بچنا نصیب ہو، خاص کر ایسی بدعت سے جس سے سنت رفع ہوتی ہو، جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں <strong>مَنْ ‌أَحْدَثَ فِي ‌دِينِنَا&nbsp; فَهُوَ رَدٌّ </strong>جونئی بات اس دین میں نکالی جاۓ وہ رد ہے، ان لوگوں پر مجھے تعجب آ تا ہے کہ دین میں حالانکہ وہ مکمل اور پورا ہے نئی شاخیں نکالتے ہیں اور ان سے دین متین کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں اور اس بات سے نہیں ڈرتے کہ کہیں ان بدعتوں سے سنت رفع نہ ہو جاۓ مثلا شملہ دونوں کندھوں کے نیچے رکھنا سنت ہے لیکن بہت سے لوگوں نے شملے کو بائیں طرف لٹکانا اختیار کیا ہے، اس عمل سے وہ مردوں سے مشابہت پیدا کرنا چاہتے ہیں ، بہت سے لوگوں نے اس معاملہ میں ان کی پیروی کی ہے، یہ فعل سنت سے بدعت اور بدعت سے حرمت تک پہنچا تا ہے ، کیا جناب سرور کائنات ﷺ سے مشابہ ہونا اچھا ہے یا مردوں سے ، جناب سرور کائنات ﷺ موت سے پہلے موت سے مشرف ہوئے ہیں ،اگر فوت شدہ ہی سے تشبیہ درکار ہے تو پھر بھی ) آنحضرت ﷺ سے کرو اور عجب بات یہ ہے کہ مردے کو عمامہ پہنانا ہی بدعت ہے چہ جاۓ کہ شملہ چھوڑ اجاۓ بعض متاخرین نے جو عالم کی میت کیلئے عمامہ کو جائز قرار دیا ہے ، میری راۓ میں زیادتی ہے اور زیادتی نسخ سے ہے اور نسخ عین رفع ہے، اللہ تعالی ہمیں متابعت سنت نبوی ﷺ پر ثابت قدم رکھے اور . آمین کہنے والے بندے پر رحم کرے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-56-جنوں-کے-بارے-میں-کشف"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 56۔جنوں کے بارے میں کشف :</mark></h1>



<p>&nbsp;ایک روز جنوں کا حال مجھ پر منکشف فرما یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جن گلی کوچوں میں عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے ہیں اور ہر ایک جن کے سر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے کہ وہ جن اس موکل کے ڈر کے مارے سرنہیں اٹھا سکتا اور دائیں بائیں نہیں دیکھ سکتا ، قیدیوں اور گرفتاروں کی طرح چل رہے ہیں ، ان میں مخالفت کی مجال بالکل نہیں ، ہاں جب اللہ تعالی چاہے تو ان سے کچھ ظہور میں آتا ہے ،اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا موکل کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہے کہ اگر رجن ذرا بھی مخالفت کرے تو ایک ہی چوٹ سے اس کا کام تمام کر دے</p>



<p>خدائے کہ بالا وپست آفرید&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; زبردست ہر دست دست آفرید .</p>



<p>خدا تعالیٰ نے بلند و بست&nbsp; کو بنایا ہر زبردست کے اوپرہے جس کے زیر دست بنا رکھا</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-57-ولی-کی-جزئی-فضیلت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 57۔ولی کی جزئی فضیلت :</mark></h1>



<p>ولی کو جو کمال حاصل ہوتا ہے یا جس درجے پر پہنچتا ہے اپنے نبی کے طفیل پہنچتا ہے ،اگر متابعت نبوی نہ ہوتی تو نفس ایمان ظاہر نہ ہوتا اور اعلی درجات کی راہ نہ کھلتی ، پس اگر ولی کوکوئی جزوی فضل حاصل ہو جو نبی کو حاصل نہیں تھا اور کوئی ایسا خاص درجہ مل جاۓ جو نبی کو میسر نہیں تھا تو نبی کو بھی اس جزوی فضل اور اس خاص درجہ سے حصہ ملتا ہے کیونکہ ولی کو وہ کمال اس نبی کی متابعت سے حاصل ہوا ہے اور یہ اس کی سنت کی پیروی کا نتیجہ ہے، پس لامحالہ نبی کو اس کمال سے پورا حصہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ سرور کائنات ﷺﷺ فرماتے ہیں <strong>مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا</strong> جس نے کوئی نیک طریقہ جاری کیا اسے اس طریقے پرعمل کرنے والے کا بھی اجر ملتا ہے، لیکن ولی اس کمال کےحصول میں سابق ہے اور اس درجہ کے وصول میں مقدم ہے اس قسم کی فضیلت ولی کو نبی پر جائز ہے جو جزئی ہو ، جو کلیتاً معارض نہ ہو، صاحب فصوص شیخ محی الدین ابن العربی ﷺ نے جوفر مایا ہے کہ خاتم النبوت علوم و معارف کو خاتم الولایت سے اخذ کرتا ہے اس سے مراد یہی معرفت ہے جس سے مجھے ممتاز فرمایا گیا ہے اور جو سراسر شریعت کے موافق ہے ،فصوص کے شارحین نے اس کی تصحیح میں تکلف سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ خاتم ولایت خاتم نبوت کا خزانچی ہوتا ہے اگر بادشاہ اپنے خزانچی سے کچھ لے تو نقص لازم نہیں آتا، اصل حقیقت وہی ہے جو میں نے تحقیق کی ہے ،انہوں نے یہ تکلف اس واسطے کیا ہے کہ معاملہ کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکے ،اللہ تعالی امور کی اصل حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے، والصلوۃ والسلام على سيد البشر واله الاطهر ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-58-نبی-کی-کلی-فضیلت">منها: 58۔نبی کی کلی فضیلت :</h1>



<p>ولی کی ولایت اس کے نبی کی ولایت کا جزو ہوتی ہے ، ولی کو خواہ کتنے ہی اعلی درجات حاصل ہو جائیں پھر بھی وہ درجات اس نبی کے درجات کا جزو ہوتے ہیں، جزو خواہ کتنا ہی بڑا ہو جائے پھر بھی کل سے کم ہی رہے گا کیونکہ(الکل&nbsp; اعظم من الجزء) کل ہمیشہ اپنے جز وسے بڑا ہے ایک بدیہی قضیہ ہے، وہ شخص احمق ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ جز وکل سے بڑا ہوتا ہے حالانکہ کل دیگر اجزا کے علاوہ اس جزو سے بھی عبارت ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-59-صفات-باری-کا-تعارف"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها 59۔صفات باری کا تعارف:</mark></h1>



<p>اللہ تعالی کی صفات واجبی تین قسم کی ہیں ، پہلی قسم کی صفات اضافی ہیں ، مثلا خالقیت اور رازقیت ، دوسری حقیقی لیکن اضافت کی جھلک لیے ہوۓ ہیں مثلاًعلم، قدرت ،ارادہ ، سمع ، بصر، کلام ، تیسری محض حقیقی مثلا حیات ، اس میں اضافی ہرگز ملاوٹ نہیں ، اضافت سے ہماری مراد ہے جہان کا لگاؤ تیسری قسم تمام اقسام سے افضل ہے اور اس میں تمام اقسام جمع ہیں ، یہ امہات صفات سے ہے علم کی صفت باوجود جامعیت کے صفت حیات کی تابع ہے، صفات وشیونات کا دائرہ حیات پر جا ختم ہوتا ہے، وصول مطلوب کا دروازہ یہی ہے چونکہ صفت حیات صفت علم سے بڑھ کر ہے اس واسطے ضروری ہے کہ مراتب علم طے کرنے کے بعد اس تک پہنچیں علم یا ظاہری ہوتا ہے یا باطنی یا شریعت کا ہوتا ہے یا طریقت کا بہت ہی کم اشخاص اس دروازے میں داخل ہوئے ہیں صرف گلی کو چوں کے پیچھے سے اندر دیکھتے ہیں ایسے دیکھنے والے بھی نہایت ہی کم ہیں اگر اس بھید کی رمز ظاہر کر دوں تو گلا کٹ جاۓ ۔</p>



<p><strong>ومن بعد هذا مايدق صفاته&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وما كتمه احظى لدى اجمل</strong></p>



<p>بیان کرنا ہی ان اسرار کا مشکل ہےاور ان کا چھپانا ہی زیادہ صحیح ہے</p>



<p><strong>&nbsp;والسلام على من اتبع الهدى والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوة والسلام</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-60-حق-تعالی-بے-مثل-و-بے-مثال-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها :60۔حق تعالی بے مثل و بے مثال ہے:</mark></h1>



<p>حضرت حق سبحانہ تعالی مثل سے منزہ ہے ، کوئی چیز اس کی مانندنہیں لیکن مثال کو جائز قرار دیا ہے اور مثل تجویز کی ہے، اللہ تعالی کیلئے مثل اعلی ہے، ارباب سلوک اور اصحاب کشوف کو مثال سے تسلی دیتے ہیں اور خیال سے آرام بخشتے ہیں ،بیچون کو چون کی مثال سے دکھاتے ہیں اور وجوب کو امکان کی صورت میں جلوہ گر کرتے ہیں ، بے چارہ سالک مثال کو عین صاحب مثال خیال کرتا ہے اور صورت کوعین ذی صورت سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حق سبحانہ وتعالی کے احاطہ کی صورت کو چیزوں میں دیکھتا ہے اور اس احاطہ کی مثال کو جہان میں مشاہدہ کرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ احاطہ میں حق کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے لیکن در اصل ایسا نہیں بلکہ حق تعالی کا احاطہ بیچون و بیچگون ہے اور نہ وہ شہود میں آ سکتا ہے اور نہ کسی پر ظاہر ہوسکتا ہے، اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی ہر شے پر محیط ہے لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ اس کا احاطہ کیا ہے اور جو کچھ ہمیں معلوم ہے وہ اس احاطہ کی شبہ اور مثال ہے نہ کہ حقیقت بلکہ اس کی حقیقت کی کیفیت نا معلوم ہے، یہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی قریب ہے اور ہمارے ساتھ ہے لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ اس کا قرب ومعیت کس طرح کے ہیں ممکن ہے کہ جو حدیث نبوی ﷺ میں آیا ہے &nbsp;<strong>یتجـلـى ربنا ضاحكا</strong> ہمارا پروردگار ہنستا ہوا ظا ہر ہوا، یہ ممکن ہے کہ&nbsp; آنحضرت ﷺ نے بلحاظ صورت مثالی فرمایا ہو یعنی کمال رضا کے حصول کو مثال میں بصورت خندہ &nbsp;دکھایا ہو اور ہاتھ ، چہرے، قدم اور انگلیوں کا اطلاق بھی صورت مثالی کے لحاظ سے ہو، مجھے اللہ تعالی نے اسی طرح سکھایا ہے، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کر تا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے ، وصـلی الله تعالى على سيدنا محمد واله وسلم وبارك</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-61-عرفان-مجدد-ﷺ-کو-سمجھنے-کا-اسلوب"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها : 61۔عرفان مجدد&nbsp; کو سمجھنے کا اسلوب:</mark></h1>



<p>&nbsp;اگر حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کی عبارات میں جو آپ نے احوال و مواجید اور علوم و معارف کے بیان میں لکھی ہیں کسی قسم کا تناقض(ضد) یا اختلاف معلوم ہو تویہ گمان نہیں کرنا چاہیئے کہ واقعی ایک دوسرے کے نقیض ہیں بلکہ یہ خیال کرنا چاہیئے کہ مختلف اوقات میں مختلف وضع پر یہ عبارات لکھی گئی ہیں کیونکہ ہر وقت احوال و مواجید مختلف ہوا کر تے ہیں اور ہر ایک وضع میں علوم و معارف جدا ہیں ، پس در حقیقت یہ تناقض اور تدافع نہیں ، اس کی مثال احکام شرعیہ کی طرح ہے کہ نسخ و تبدیل کے بعد متناقض احکام جاری ہوتے ہیں، جب اوقات و اوضاع (طریقے)کے اختلاف کوملحوظ رکھا جائے تو وہ تناقض وتدافع اٹھ جا تا ہے، اللہ تعالی ہی کیلئے حکمت &nbsp;عملی ہے، اس میں عین حکمت ومصلحت ہے تو کسی قسم کا شک نہ کرنا وصلى الله تعالى على سيدنا محمد والہ وسلم وبارك، ان عجیب وغریب بلندنکات کا جامع محمدصدیق &nbsp;بدخشی کشمی ملقب بہ ہدایت کہتا ہے کہ مبدأ و معاد کے ان معارف شریفہ عالیہ کی تسوید سے مجھے ماہ رمضان المبارک 1019 ھ کے آخر میں دوران اعتکاف فراغت ہوئی</p>



<p>این نسخه که مبدأء و معاد است بنام</p>



<p>زانفاس نفیس حضرت فخر کرام</p>



<p>چوں کرد ہدایت اقتباس از سر صدق</p>



<p>در سال ہزار و نوز ده گشت و تمام</p>



<p>&nbsp;قاضی ثنا اللہ ﷺ پانی پتی کا ارشاد</p>



<p>&nbsp;جب پہلا ہزارہ گزر گیا اور ایک اولوالعزم مرد کامل کی باری آئی تو اللہ تعالی نے اپنی عادت قدیمہ کے تحت دوسرے ہزارے کے لیے ایک مجدد پیدا فرمایا کہ تمام اولیا کرام میں ان حیسا اولوالعزم مجد دکوئی نہ ہو گا اس کو نبیوں رسولوں اور رسول کریم ﷺ کی طینت سے پیدا فرمایا ، وہ مقامات وکمالات عطا فرمائے گئے جو کسی نے نہ دیکھے تھے اور آخر زمانے میں اس کے طفیل یہ کمالات عام اور ظاہر کئے گئے ۔ (ارشادالطالبین: 63)</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&#038;title=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/" data-a2a-title="مبدأ و معاد تصنیف حضرت مجدد الف ثانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرمودات مجدد الف ثانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%84%d9%81%d9%88%d8%b8%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%84%d9%81%d9%88%d8%b8%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Aug 2021 10:03:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مجدد الف ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[،حضور ﷺ کا رب]]></category>
		<category><![CDATA[اخروی نجات]]></category>
		<category><![CDATA[بدترین فرقہ]]></category>
		<category><![CDATA[بدعتی کی صحبت]]></category>
		<category><![CDATA[پیدائش کا مقصود]]></category>
		<category><![CDATA[پیروی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجودی]]></category>
		<category><![CDATA[جمیع سعادتیں]]></category>
		<category><![CDATA[خطرناک مخالفت]]></category>
		<category><![CDATA[خلق عظیم]]></category>
		<category><![CDATA[سم قاتل]]></category>
		<category><![CDATA[شریعت کا مقصود]]></category>
		<category><![CDATA[شریعت و طریقت]]></category>
		<category><![CDATA[شکران نعمت]]></category>
		<category><![CDATA[ضرورت دین]]></category>
		<category><![CDATA[طعن صحابہ]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے اہلسنت]]></category>
		<category><![CDATA[عیوب صحابہ]]></category>
		<category><![CDATA[فتو حات مدنیہ]]></category>
		<category><![CDATA[قلبی بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[کمالات نبوت]]></category>
		<category><![CDATA[گمراہی]]></category>
		<category><![CDATA[متابعت رسول]]></category>
		<category><![CDATA[متابعت سے محرومی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد کا رب]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ولایت]]></category>
		<category><![CDATA[مقصد حیات]]></category>
		<category><![CDATA[مکاشفہ]]></category>
		<category><![CDATA[ناجی گروہ]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت معبود]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1723</guid>

					<description><![CDATA[مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی  کی حکمت بھری باتیں]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;امام ربانی نے بے شمار ایسی حکمت بھری باتیں ارشاد فرمائیں کہ چند لفظوں میں بہت کچھ فرما گئے&nbsp; کوزے میں دریا کو سمو دیا &nbsp;، شریعت و طریقت کے مسائل کو پندونصائح کی شکل میں جتنے فصیح و بلیغ انداز سے پیش کیا اس کی نظیر شاید ہی کسی دوسرے بزرگ کی تصانیف میں پائی جاتی ہو ں.</p>


<div class="wp-block-image is-style-rounded">
<figure class="aligncenter size-full is-resized"><img fetchpriority="high" decoding="async" width="500" height="300" src="https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/12/ضروریات-دین.png" alt="" class="wp-image-4951" style="width:834px;height:500px" srcset="https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/12/ضروریات-دین.png 500w, https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/12/ضروریات-دین-300x180.png 300w" sizes="(max-width: 500px) 100vw, 500px" /></figure>
</div>


<p><a href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%da%a9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1266%d8%af%d9%81-2/" data-type="URL" data-id="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%da%a9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1266%d8%af%d9%81-2/">عقائد کلامیہ کے بیان میں مکتوب نمبر266دفتر اول</a></p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بدعتی کی صحبت</span></strong></p>



<p>اس بات پر یقین رکھیں کہ بدعتی یعنی ( بد مذہب) کی صحبت کی خرابی کافر ، کی ، صحبت کی خرابی اور نقصان سے زیادہ ہے. اور تمام بدعتی فرقوں میں سے بدترین وہ گروہ ہے جو پیغمبر علیہ الصلاۃ واسلام کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے بغض و عناد رکھتا ہے ”( حضرت مجدد الف ثانی , مکتوب نمبر 54)</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مکاشفہ</span></strong></p>



<p>جو شخص بھی ہمارے طریقے میں داخل ہوا اور داخل ہو گا، قیامت تک بالواسطہ اور بلاواسطہ، مردوں میں سے یا عورتوں میں سے، وہ سب میری نظر میں لائے گئے اور ان کا نام و نسب، مولد اور مسکن بھی مجھے بتایا گیا، اگر چاہوں تو سب کو بیان کر سکتا ہوں (حضرات القدس)۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">خلق عظیم</span></strong></p>



<p>”کفار سے سخت رویہ اختیار کر نا بھی خلق عظیم میں داخل ہے۔ ثابت ہوا کہ اسلام کی عزت کفر، اور اہل کفر کی خواری اور ذلت میں ہے۔ جس نے کفار کو عزت دی اس نے اسلام کو ذلیل کیا۔ عزت سے یہ مراد نہیں کہ ان کی خواہ مخواہ تعظیم کی جائے اور انہیں اونچی جگہ بٹھایا جائے۔ بلکہ انہیں اپنی مجالس میں جگہ دینا۔ ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا، گفتگو کر نا بھی ان کے اعزاز میں شامل ہے۔ انہیں کتوں کی طرح دور رکھنا چاہئے ۔ اور کمال اسلام تو یہ ہے کہ دینوی غرض سے بھی ان سے رابطہ نہ کیا جاۓ اور ان سے میل جول ندر کھا جاۓ۔“ (مکتوبات امام ربانی، جلد اول، مکتوب نمبر 173)</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مرتبہ ولایت</span></strong></p>



<p>ولی کی ولایت اس کے نبی علیہ الصلواۃ و السلام کی اجزااء ولایت کا حصہ ہوتا ہے۔ ولی کو کتنے ہی اعلی درجات میسر ہو جائیں وہ درجات اس نبی کے اجزاء درجات کا ایک جزو ہی ہونگے۔ جزءکتنی ہی عظمت پیدا کر لے کل سے کمتر ہو گا کیونکہ کل جز سے بڑا ہوتا ہے بد یہی قضیہ (کوئی دو رائے ہی نہیں ہے) ہے۔ احمق ہے وہ شخص جو جز کی بڑائی کا خیال کر کےکل سے زیادہ جانے کیونکہ کل دیگر اجزاء کے علاوہ اس جز سے بھی عبارت ہے۔(رسالہ مبدا و معاد، منہا58)</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">پیدائش کا مقصود</span></strong></p>



<p>انسان کی پیدائش سے مقصود اس کی عاجزی اور انکساری ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">قلبی بیماری</span></strong></p>



<p>جب تک انسان قلبی مرض میں مبتلا ہے اس کی کوئی عبادت نافع نہیں ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">وحدت معبود </span></strong></p>



<p>انبیائے کرام نے وحدت وجود کی نہیں بلکہ وحدت معبود کی دعوت دی تھی۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">جمیع سعادتیں</span></strong></p>



<p>شریعت تمام دنیاوی و اخروی سعادتوں &nbsp;کی ضامن ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> شریعت کا مقصود </span></strong></p>



<p>شریعت کا مقصود نفسانی خواہشات کو زائل کرنا ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> متابعت رسول</span></strong></p>



<p>سعادت دارین کی دولت سرورکونین کی متابعت پر موقوف ہیں۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>مقصد حیات</strong></span></p>



<p>آدمی کو کھانے پینے کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اخروی نجات</strong></span></p>



<p>شریعت کی پیروی اور نبی کی اطاعت نجات اخروی کی ضامن ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> ضرورت دین </strong></span></p>



<p>دین متین سے فساد کے لزومات کو دفع کرنا ضرورت دین سے ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> شریعت و طریقت </strong></span></p>



<p>شریعت و طریقت میں بال برابر بھی مخالفت نہیں ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> شریعت و طریقت کا تعلق</strong></span></p>



<p>شریعت و طریقت ایک دوسرے کا عین ہیں۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> توحید وجودی </strong></span></p>



<p>توحید وجودی تنگ کو چہ ہے جب کہ شاہراہ اور ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> فتو حات مدنیہ </strong></span></p>



<p>فتو حات مدنیہ نے ہمیں فتوحات مکیہ سے بے نیاز کر دیا ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>دلالت نصوص</strong></span></p>



<p>دلالت فصوص سے نہیں نصوص سے ہوتی ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>خطرناک مخالفت</strong></span></p>



<p>مذہب اہل سنت و جماعت کی بال برابر مخالفت بھی خطرناک ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">گمراہی</span></strong></p>



<p>جو مذہب اہل سنت سے جدا ہوئے وہ گمراہی اور خرابی میں جا پڑے ہیں۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>پیروی</strong></span></p>



<p>صاحب&nbsp; شریعت کی پیروی کے بغیر نجات محال ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>علمائے اہلسنت </strong></span></p>



<p>کتاب وسنت کے وہی معنی معتبر ہے جو علمائے اہلسنت نے سمجھے ہیں۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> سم قاتل </strong></span></p>



<p>اہل سنت و جماعت کے خلاف عقیدہ رکھنا بد اعتقادی اور سم قاتل ہے۔</p>



<p><strong> <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ناجی گروہ</span> </strong></p>



<p>اہل سنت وجماعت ہیں ناجی گروہ ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>شکران نعمت</strong></span></p>



<p>اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ناجی گروہ میں داخل فرمایا۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> بدترین فرقہ </strong></span></p>



<p>سب سے بدترین فرقہ وہ ہے جو صحابہ کرام سے بغض و عناد رکھتا ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>طعن صحابہ</strong></span></p>



<p>صحابہ کرام پر طعن کرنا قرآن مجید اور شریعت محمدیہ پر طعن کرنا۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>محمد کا رب</strong></span></p>



<p>محبت آں سرور ﷺ بر نہجے متولی شدہ است کہ حق سبحانہ وتعالیٰ را بواسطہ آن دوست می دارد کہ رب محمد ﷺ است۔</p>



<p>یعنی میں نے حضور پرنور ﷺ کی محبت میں سرشار ہوکر یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالٰی سے دوستی اسی وجہ سے ہی حضور ﷺ کا رب ہے۔</p>



<p>(مبدأ و معاد:منها: 37۔محبت ذاتی اور محبت صفاتی)</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">عیوب صحابہ</span></strong></p>



<p>صحابہ میں عیب نکالنا حضور پیغمبر خدا ﷺمیں عیب نکالنے کے مترادف ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> متابعت سے محرومی</strong></span></p>



<p>بعض صحابہ میں عیب نکالنا سب کی متابعت سے محروم ہونا ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>زبان کی سنبھال</strong></span></p>



<p>صحابہ کے معاملے میں زبان کو سنبھالنا اور انہیں اچھے لفظوں سے یاد کرنا چاہیے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اصول میں متفق</strong></span></p>



<p>تمام صحابہ کرام کی پیروی ضروری ہے کیونکہ اصول میں وہ سب متفق ہیں۔</p>
<p><strong><span style="font-size: 16px;">ریاضت ‌</span></strong></p>
<p>:- لوگ سمجھتےہیں کہ ریاضت ‌کےمعنی بھوکا رہنا اور روزہ رکھنا ہےلیکن حقیقت یہ ہےکہ کھانےمیں میانہ ‌روی اور توازن ہمیشہ روزہ رکھنے سے بہتر ہے۔ جب لذیذ کھانا سامنے ہو تو آدمی کا بھوک تک کھانا پھرکھانا سےہاتھ کھینچ لینا بہت بڑی ریاضت ہے اور ان لوگوں کی ریاضتوں سے بدرجہا بہتر ہے جنہوں نے کھانا دیکھا نہیں اور اس سے بازرہے۔</p>
<p><strong><span style="font-size: 16px;">آداب شریعت</span></strong></p>
<p>&nbsp; لوگ ریاضتوں اور مجاہدوں کی ہوس کرتے ہیں لیکن آداب شریعت کی رعایت کے برابر کوئی ریاضت اورمجاہدہ نہیں ہے خصوصاً فرض، واجب اور سنت نمازوں کا پورے ارکان اورآداب کےساتھ ادا کرنا مشکل ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ٫٫وہ نماز بھاری ہے مگر ڈرنے والوں پر،،</p>
<p><strong>اتباع شریعت</strong></p>
<p><b>&nbsp;</b> معرفت وطریقت کےاحوال شریعت کے تابع ہیں۔ شریعت احوال کے تابع نہیں۔ کیوں کہ شریعت بالکل قطعی ہےاور وحی الہی سے ثابت ہے اور احوال ظنی ہیں جو کشف اور الہام سے ثابت کرتاہو۔</p>
<p><strong>خام درویش</strong></p>
<p><b>&nbsp;</b> بڑے تعجب اورافسوس کا مقام ہے کہ بعض ناقص اورخام قسم کےدرویش اپنےکشف پر اعتماد کرکے شریعت الہی کےانکار اورمخالفت کی جرأت کرتے ہیں‌۔ حالانکہ اگر موسی کلیم اللہ (علیہ السلام) بھی یہ زمانہ پاتےتو وہ بھی اس شریعت کی پیروی کرتے تو پھر ایسے کور باطن درویش کی کیا حیثیت ہے۔&nbsp;</p>
<p><strong>متکبر کاعمل</strong></p>
<p>&nbsp;تکبر نیک عمل کو اس طرح تباہ کردیتا ہےجس طرح آگ لکڑی کو جلاکر خاکستر کر دیتی ہے۔ متکبر کو اپنا عمل بہت اچھا لگتاہے حالانکہ اسے چاہیے کہ وہ اپنی پوشیدہ برائیوں اور خامیوں کو یاد کرتا رہےاور نیکیوں پرپردہ ڈالے رکھے۔ اپنی عبادت کی ادائیگی پرشرمندگی محسوس کرتا رہےکیوں کہ ان کی ادائیگی کاکامل حق ادانہ ہوسکا۔</p>
<p><strong>ظاہری علوم</strong></p>
<p><b>&nbsp;</b> جب تک کسی شخص کوظاہری علوم میں مہارت حاصل نہ ہو وہ اہل تصوف کی باتوں کےاسرارونکات سےفائدہ نہیں اٹُھا سکتا۔</p>
<p><strong>دنیا دارالعمل</strong></p>
<p>&nbsp; آپ فرماتےتھےکہ یہ دنیا دارالعمل ہے اور کھیتی بونے اوراس کے لیےکام کرنےکی جگہ ہے، اس لیے حضورباطن کوشریعت کےظاہری آداب اوراعمال کےساتھ لگائے رکھو۔ اسی لیے آپ اپنے مریدوں کوکثرت ذکر، دوام حضوراورمراقبےکی تلقین فرماتے رہے تھے۔</p>
<p><strong>قرآن و رمضان</strong></p>
<p>&nbsp; قرآن جامع جمیع کمالات ہے اور رمضان جامع جمیع حسنات ہے۔ اس مہینے کی برکات قرآن مجید کے کمالات کے نتائج ہے۔ اسی مناسبت باطنی کی وجہ سے قرآن مجید کے نزول کا آغاز اس مہینے میں ہوا۔ شب قدراس مہینے کاخلاصہ یوں سمجھوکہ شب قدر ماہ رمضان کا مغز ہےاورماہ رمضان اس کا پوست، بس جس شخص کا یہ مہینہ دل جمعی سے گزرا وہ مہینےکی برکات&nbsp;</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اجتہادی اختلاف</strong></span></p>



<p>صحابہ کرام شریعت کے تابع تھے اور ان کا اجتہادی اختلاف حق کی سر بلندی کے لئے تھا۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> افضلیت صدیق </strong></span></p>



<p>تمام صحابہ کرام افضلیت صدیق اکبر پر متفق تھے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> خلفائے راشدین کی افضلیت </strong></span></p>



<p>خلفائے راشدین کی افضلیت کی ترتیب خلافت کے لحاظ سے ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> حضور ﷺ کی قرابت </strong></span></p>



<p>سادات سے حضور ﷺ کی قرابت کے باعث محبت رکھنی چاہیے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> علماء کی سیاہی </strong></span></p>



<p>علماء کی سیاہی قیامت میں شہیدوں کے خون سے زیادہ وزنی ہوگی۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> علماء حق </strong></span></p>



<p>علماء حق کی نظر صوفیہ کی نظر سے بلند تر ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> <strong>شریعت کے حامل </strong></span></p>



<p>علماء ہی شریعت کے حامل ہے انہیں ترجیح دینے میں شریعت کا احترام ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">لوگوں کی نجات</span> </strong></p>



<p>لوگوں کی نجات علماء کے ساتھ وابستہ ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> توفیق عمل </strong></span></p>



<p>علمائے آخرت کے کلام کی برکت سے توفیق عمل&nbsp; بھی مل جاتی ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت سے واقف </span></strong></p>



<p>حقیقت سے واقف کار علماء کی دعا و توجہ کا طالب رہنا چاہیے۔</p>



<p><strong> <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">دیندار علماء</span> </strong></p>



<p>حلا ل وحرام کے معاملے میں ہمیشہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>دیندار علماء</strong></span> کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">پابندی شریعت</span></strong></p>



<p>&nbsp;تمام نصیحتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ دیندار اور شریعت کی پابندی کرنے والوں سے میل جول رکھا جائے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>بد نما داغ </strong></span></p>



<p>دنیا کی رغبت رکھنا علماء کے چہرے کا بد نما داغ ہے۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> دنیادار علماء </span></strong></p>



<p>دولت کی حریص یعنی دنیادار علماء کی صحبت زہر قاتل ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2584%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25b8%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&#038;title=%D9%81%D8%B1%D9%85%D9%88%D8%AF%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%84%d9%81%d9%88%d8%b8%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/" data-a2a-title="فرمودات مجدد الف ثانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%84%d9%81%d9%88%d8%b8%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
