<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>دیگر &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D8%AF%DB%8C%DA%AF%D8%B1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Wed, 13 Aug 2025 10:50:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>دیگر &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ابن عربی صوفی علامہ ملا علی قاری حنفی کی نظر میں</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%a8%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%ad%d9%86%d9%81%db%8c-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%a8%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%ad%d9%86%d9%81%db%8c-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 13 Aug 2025 10:50:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9202</guid>

					<description><![CDATA[علامہ علی قاری حنفی نے ابن عربی کے نظریات کا اور جو صوفیاء اس کے کلام کی تاویلیں اور توجیہیں کرتے ہیں ان کا خوب رد لکھا ہے ، چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں &#8221; الرد علی القائلین بوحدتہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%a8%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%ad%d9%86%d9%81%db%8c-%da%a9%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>علامہ علی قاری حنفی نے ابن عربی کے نظریات کا اور جو صوفیاء اس کے کلام کی تاویلیں اور توجیہیں کرتے ہیں ان کا خوب رد لکھا ہے ، چنانچہ انہوں نے اس سلسلے میں &#8221; الرد علی القائلین بوحدتہ والجود &#8221; نامی ایک کتاب لکھی ہے ـ</p>



<p>اس کتاب میں علامہ علی قاری حنفی نے ابن عربی کی کتاب &#8221; فصوص الحکم &#8221; سے چوبیس مقامات سے مختلف نظریات ذکر کیے ہیں ، پھر ان کی ترید کی ہے اور ان کی تاویل کرنے والوں کی بھی خوب خبر لی ہے ـ نیز انہوں نے اس وجودی گروہ کی <a></a>تکفیر پر بہت سے علمائے اسلام کے اقوال نقل کئے ہیں ـ یہ کتاب دراصل ایک سوال کا جواب ہے ـ</p>



<p>ہم مذکورہ کتاب کے چند مقامات ذیل میں نقل کریں گے جن میں علامہ علی قاری حنفی نے پہلے ابن عربی کا باطل عقیدہ نقل کیا پھر اس پر تبصرہ فرمایا ، ملاحظہ فرمائیں :</p>



<p>1- انہوں نے اس کتاب میں وحدتہ الوجود یا اتحاد کو اہل الحاد کا مذہب قرار دیا ہے (ص: 13،س :8)</p>



<p>2-وجودی فرقے کو اسلام فرقوں سے خارج قرار دیا ہے ـ (ص: 15،س:7)</p>



<p>3- تمام اشیائے کائنات باعتبار باطن اللہ تعالٰی کے ساتھ متحد ہیں ـ یہ نظریہ فلاسفہ کا ہے ـ(ص:16،س:1)</p>



<p>4- (الف) ابن عربی کے نزدیک جو شخص الوہیت کا دعویٰ کرے وہ اپنے دعوے میں سچا ہے ـ (ص :31 ،32)</p>



<p>(ب)، یہ عالم جہاں قدیم ہے ـ (ص : 32 ، س :2) اور یہ باجماع علماء کفر ہے ـ ( ص :49 ، س:7،ص :17، س :9)</p>



<p>(ج) ـ ابن ابی کبشہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل توحید پر دنیا کا امرتنگ کردیا ہے (ص:32،س:2،3)</p>



<p>(د)ـ فرعون دنیا سے طاہر و مطہر ہو کر گیا ہے ـ (ص:87،س :5،6)</p>



<p>علامہ علی قاری نے ابن عربی کے اس نظریے (د) کے رد کے لیے ایک مستقل کتاب لکھی جس کا نام &#8221; فرعون ممن یدی ایمان فرعون &#8221; ہے (ص :32 س:4 مع الحاشیہ ـ ص 37 ، س 6)</p>



<p>(ر) ، صاحب ریاضت کا ناسوت اللہ تعالٰی کے لاوت کے ساتھ مخلوط ہو گیا ہے ـ</p>



<p>یہ بعینہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے ـ انہوں نے بھی یہی عقیدہ کرھا ہے کہ عسی علیہ السلام کا ناسوت اللہ تعالٰی کے لاہوت میں مل گیا ہے ـ (س:7 تا 9 ـ ص 38 ، س اخیر ـ ص:45 ، س :6)</p>



<p>5-ابن عربی کی کتب کا مطالعہ حرام ہے (ص:94 آخری سطر) کیونکہ عقائد مسلمین کے خلاف ہیں یعنی ایمان و تصدیق میں بھی مخالف ہیں ـ (ص:38،س 2)</p>



<p>6- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے محل کی چاندی کی ایک اینٹ کی جگہ ہیں ـ اور ابن عربی کہتے ہیں کہ میں دو اینٹوں کی جگہ ہوں اور وہ بھی باطن میں سونے کی اینٹیں ہیں ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور ابن عربی خاتم الاولیاء (ص :60 ، س:1تا 8-ص:75،76)اور اس میں کفر کی کئی انواع ہیں ـ(ص:76، س:4)</p>



<p>7- ابن عربی کا کفر تو ان سے بھی بڑا ہے جنہوں نے کہا تھا :</p>



<p>لن نومن حتنی نوتی مثل مااوتی رسل اللہ ـ</p>



<p>بلکہ ابن عربی اور ان جیسے منافقین زندیق اور اتحادی ہیں اور یہ لوگ آگے کے نچلے طبقے میں داخل ہونگے ـ (ص:60 آخری سطر)</p>



<p>8- انسان کی ذات اور صفت اللہ کی ذات اور صفت ہے ، یہ صریح کفر ہے ـ (ص &#8220;72 ، س :15)</p>



<p>9- خاتم الرسل والانبیاء اور تماما رسل اور اصفیاء وہ خاص علم جو کہ خواص کے ساتھ مختص ہے خاتم الاولیا کے مشکوتہ (سینے ) سے اخذ کرتے ہیں ـ کیونکہ وہ رسول اور نبی اولیاء بھی ہیں اور یہ صریح کفر ہےـ (ص:138، س:1-ص:78،س:3تا 6)</p>



<p>10- کافر جہنم میں آخرکار جہنم کے عذاب سے اسی لذت اٹھانے لگ جائیں گئے جس طرح کہ اہل جنت جنت کی تعمتوں سے لذت اٹھائیں گئے اور یہ صریح کفر ہے (ص:83 ، س:8)</p>



<p>11- ابن عرب کاقول ہے</p>



<p>سبحان من اوجد الاشیا وھو عینھا &#8221;</p>



<p>پاک ہے وہ اللہ جو اشیاء کا موجد ہے حالانکہ وہ ان اشاء کا عین ہے &#8221;</p>



<p>اور یہ صریح کفر ہے (ص :90 ، س :4)</p>



<p>12: ابن عربی نے نوح علیہ السام پر اعتراض کیا ہے جسے علامہ علی قاری نے کفر ظاہر کیا ہے ـ (ص:107 ، س :4،5)</p>



<p>13: اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینا یہ مدعوین کے ساتھ ایک مکر ہے ـ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دے کر ان سے مکر کیا تو انہوں نے بھی آگے سے مکر کیا ـ کہنے لگے : اپنے الٰہوں کو نہ چھوڑو کیونکہ اگر وہ اپنے معبودوں کو چھوڑ دیتے تو حق سے جاہل ہو جاتے ـ علامہ علی قاری فرماتے ہیں : اس سے زیادہ صریح کفر اور کوئی نہیں ـ (ص:109 ،س2تا 4)</p>



<p>14- نوح علیہ السلام کی قوم کے متعللق قرآن میں آیاہے کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے غرق کر دیے گئے ، پھر آگ میں داخل کردیے گئے تو انہوں نے اللہ کے علاوہ مددگار نہ پائے ـ (سورہ نوح &#8217;25)ابن عربی نے کہا ہے کہ وہ اللہ کی معرفت کے سمندروں میں غرق کیے گئے تھے ـ ان کی اللہ کے علاوہ کسی نے مدد نہ کی تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی تھی تو وہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی ذات میں ہلاک ہو گئے(ص:110،س1تا 3)یہ موقف صریحا قرآن کے خلاف ہے</p>



<p>15- و ہ یعنی اللہ میری عبادت کرتا ہے اور میں اس کی عبادت کرتا ہوں ـ یہ ظاہرا کفر ہے جیسا کہ اہل صفا پر محفی نہیں َ (ص :11، س:12)</p>



<p>16- فرعون کا &#8221; انا ربکم الاعلی &#8221; کہنا درست تھا (ص :126)</p>



<p>انہوں نے ابن عربی کے اس کے علاوہ بھی کئی فاسد عقائد و نظریات اس کتاب میں ذکر کیے ہیں پھر فرماتے ہیں :&#8221; وہ یہ ابن عربی کے کفریات کی انواع پر مشتم کلمات پر وارد ہونے والے اعتراضات میں سے آخری اعتراض ہے اور سب سے بڑا اس کا کفر یہ ہے ہ وہ عینیت کا دعویٰ کرتا ہے یعنی خالق اور مخلق ایک دوسرے کے عین ہیں ـ (ص :126 ، س:15- ص :127 ، س:7)</p>



<p>ابن عربی کے متعلق علامہ علی قاری نے لکھا ہے کہ وہ خاتم الاولیاء نہیں بلکہ وہ خاتم الاولیاء من الشیاطین الاغبیاء ہے کیونکہ اس کے مذہب کا نقصان دجال کے نقصان سے بھی زیادہ ہے اور اس کی کتابیں عیسائیوں کی کتابوں سے بھی زیادہ بری ہیں ـ (ص:128 ، آخری سطو)</p>



<p>ابن عربی کی کتاب &#8221; فصوص الحکم &#8221; اور فتوحات مکیہ &#8221; میں یہ کفریات اور بکواسات ہیں (ص:129 ، س :7،8)</p>



<p>بلاشک طائفہ وجودیہ کفر زیادہ ظاہر ہے اور اسلامی فرقوں پر ان کا نقصان بہت زیادہ ہے ـ(ص:133 ، س:11،12)</p>



<p>کسی مسلمان کے لیے حلال ہیں کہ وہ کتاب و سنت کو ترک کر کے اس طائفہ کے کلام کی طرف مائل ہو ـ (ص:134 ، س :11،12)</p>



<p>یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں کہ ابن عربی اولیاء میں سہے ہے ـ اس لیے کہ اس سے اس طرح کے (کفریہ کلمات ) صادر ہوئے ہیں ـ</p>



<p>(ص:153 ـ س:3)</p>



<p>حافظ ابن حجر عسقلانی صاحب فتح الباری اور ابن عربی کے کسی عقیدت مند اور محب کے درمیان رمضان المبارک کے مہینے میں مباہلہ ہوا ، اس نے کہا : ائے اللہ ! اگر ابن عربی گمراہ ہے تو مجھ پر اپنی لعنت کردے ـ</p>



<p>حافظ ابن حجر نے کہا : ائے اللہ ! اگر ابن عربی ہدایت پر تھا تو تو مجھ پر اپنی لعنت کردے (ص : 154)</p>



<p>اس کے حاشیے میں ہے کہ ابن عربی کا معتقد ذوالقعدہ 490 ھ میں فوت ہو گیا تھا ـ یعنی مبالہ کے دو ماہ بعد ( دیکھیے تنبیہ الغبی الی تکفیر ابن عربی للبرھان البقاعی )</p>



<p>ملا علی قاری کہتے ہیں :</p>



<p>&#8221; جان رکھو ! جو ابن عربی کے عقیدے کے صحیح ہونے کا قائل و معتقد ہے وہ بالاجماع کافر ہے ، اس میں کوئی نزاع نہیں ـ ہاں ، اس میں نزاع ہے کہ اس کے کلام کی تاویل کر لی جائے ـ&#8221;</p>



<p>اور تاویلات کا جواب خود علامہ علی قاری نے دیا ہے ـ</p>



<p>علامہ ابن مقری نے کہا ہے :</p>



<p>&#8221; جو شخص یہود و نصاریٰ اور ابن عربی کے کفر میں شک کرے تو وہ کافر ہے ـ &#8216;(ص :154،155،س: 1 تا 5)</p>



<p>ابن عربی کے عقیدے کے حاملین کو سلام کہنا جائز نہیں ـ نہ ہی ان کے سلام کا جواب دینا جائز ہے ـ بلکہ انہیں &#8221; وعلیکم&#8221; کہ کر جواب دینا درست ہے ، کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں ـ ان کا حکم مرتدوں والا ہے ان می کوئی چھینک کے وقت الحمد للہ کہے تو اسے یرحمک اللہ بھی نہیں کہ سکتے ـ ان میں سے کسی کا جنازہ بھی نہیں پڑھ سکتے ـ اگر وہ انہی اعتقادات پر رہیں تو ان کی سابقہ عبادات باطل ہیں ـ حکمران پر ضروری ہے کہ اس طرح کے فاسد نظریات رکھنے والے لوگوں کو جلا دیں ،کیونکہ یہ پلید تر ہیں بلکہ یہ ان لوگوں سے بھی زیادہ نجس ہیں جو علی رضی اللہ عنہ کو اللہ کہتے ہیں ـ</p>



<p>علی رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کو جلا دیا تھا ، جو رب کہتے تھے ـ اور ان کی کتب کو جلانا بھی واجب ہے ـ اور ہر مسلمان پر ، بالخصوص علماء پر فرض ہے کہ ان کے فاسد عقائد لوگوں پر واضح کریں تاکہ لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہوں ـ ہم اللہ تعالٰی سے حسن خاتمہ کا سوال کرتے ہیں ـ (ص :156)</p>



<p>سبحان اللہ ۔</p>



<p>بڑی سخت جرح کی ہے ۔ حنفیوں اور دیوبندیوں اور جو ان کے ہم عقیدہ ہیں‌ سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو محی الدین ابن عربی کو شیخ اکبر کہتے ہیں‌۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2586-%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2586%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%2F&#038;title=%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%B9%D8%B1%D8%A8%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81%20%D9%85%D9%84%D8%A7%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%20%D9%82%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%D8%AD%D9%86%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D8%B8%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%a8%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%ad%d9%86%d9%81%db%8c-%da%a9%db%8c/" data-a2a-title="ابن عربی صوفی علامہ ملا علی قاری حنفی کی نظر میں"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%a8%d9%86-%d8%b9%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%85%d9%84%d8%a7-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%ad%d9%86%d9%81%db%8c-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اللہ سے حسن ظن رکھو  (باب چہارم)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b8%d9%86-%d8%b1%da%a9%da%be%d9%88-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b8%d9%86-%d8%b1%da%a9%da%be%d9%88-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 19 Nov 2023 23:53:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر]]></category>
		<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ سے حسن ظن رکھو]]></category>
		<category><![CDATA[خواص اور عوام کا حسن ظن]]></category>
		<category><![CDATA[وسواس کا شر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8219</guid>

					<description><![CDATA[اللہ سے حسن ظن رکھو حکمت نمبر40 اللہ سے حسن ظن رکھو کے عنوان سے  باب  چہارم میں  حکمت نمبر40 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b8%d9%86-%d8%b1%da%a9%da%be%d9%88-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1><span style="color: #000000;"> اللہ سے حسن ظن رکھو حکمت نمبر40</span></h1>
<p><span style="color: #ff00ff;"> اللہ سے حسن ظن رکھو کے عنوان سے  باب  چہارم میں  حکمت نمبر40 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمدعبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔</span><br />
<span style="color: #ff0000;">40) إنْ لم تحسِّنْ ظنَّكَ بهِ لأجلِ وَصْفِهِ، فحَسِّنْ ظنَّكَ بهِ لأجْلِ معاملتِهِ مَعَكَ، فهَلْ عوَّدكَ إلاَّ حَسَنًا؟ وهَلْ أسدى إليْكَ إلاّ مِننًا؟.</span><br />
اگر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی صفات کی بناء پر حسن ظن نہیں رکھتے ہو تو تمہارے ساتھ جو اچھے سلوک اس نے کیا ہے اس کی بنا پر اس کے ساتھ حسن ظن رکھو ۔ تو کیا اس نے تمہیں اچھے حال کے سوا کبھی برے حال میں رکھا۔ اور کیا تمہارے پاس احسان کے سوا کچھ اور بھیجا؟</p>
<h2>خواص اور عوام کا حسن ظن</h2>
<p>میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن کے معاملہ میں انسانوں کی دو قسم ہے:۔<br />
ایک قسم، خواص : اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا حسن ظن اس کے جمال اور کمال کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے، ان کیلئے دونوں برابر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رحمت و رافت اور جو دو کرم سے موصوف ہو نا ختم نہیں ہوتا ہے تو جب ان کے سامنے اپنے جلال یا قہر کے ساتھ تجلی کرتا ہے تو اس کے پردے میں جو کچھ اس کی نعمت کا کمال اور اس کی رحمت کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس کو سمجھ لیتے ہیں۔ اور ان کے اوپر رحمت اور جمال کا مشاہدہ غالب ہو جاتا ہے۔ پس ان کا حسن ظن ہر حال میں ہمیشہ قائم رہتا ہے۔<br />
دوسری قسم عوام : اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا حسن ظن اس کے احسان اور اس کے اچھے سلوک، اور اس کے انعام کے مشاہدے سے پیدا ہوتا ہے۔ پس جب ان کے اوپر قہریت یاسختی نازل ہوتی ہے تو وہ اس کے سابقہ احسان اور اس مہربانی اور انعام پر نظر کرتے ہیں۔ جو اس نے ان کو پہلےعطا کیا ہے۔ تو جو کچھ ان کے اوپر اب وارد ہوتا ہے اس کو ماضی پر قیاس کرتے ہیں اور قبولیت اور رضا مندی کے ساتھ اس کو گوارا کرتے ہیں۔ اور یہ حسن ظن نظر اور نظر کی کمزوری اور طاقت کے مطابق کمزور اور طاقتور ہوتا ہے بخلاف پہلے حسن ظن کے کہ وہ یعنی خواص کا حسن ظن وصف کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے اور وصف بھی مختلف نہیں ہوتا ہے اور دوسرا یعنی عوام کا حسن ظن فعل کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے اور فعل مختلف ہوتا رہتا ہے۔ پس اے مرید! اگر تم کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا حسن ظن رکھنے کی طاقت نہیں ہے جو اس کے مختلف نہ ہونے والے وصف رحمت و رافت کے مشاہدہ سے پیدا ہوتا ہے تو تم اس کے اس مہربانی اور احسان کی بنا پر جو اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے اس کے ساتھ حسن ظن رکھو۔ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ بھلائی اور لطف وکرم کے سوا کچھ اور کیا ہے۔ اور کیا اس نے تمہارے پاس بڑے احسانات اور زیادہ نعمتوں کے سوا کچھ اور بھیجا ہے؟<br />
حضرت رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:۔<br />
احِبُّوا اللهَ لِمَا يُغَذِیْكُمْ بِهِ مِنْ نِعْمَةٍ ، وَاَحِبُونِي بِحُبِ اللَّهِ تم لوگ الله تعالیٰ کی محبت اس لئے کرو کہ وہ تم کو اپنی نعمت سے غذا دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی محبت کیلئے مجھ سے محبت کرو۔<br />
حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ میں صرف اللہ تعالیٰ کو محبت کرتا ہوں تو ایک شخص نے کہا: اے میرے سردار! آپ کے جد معظم حضرت رسول اکرم ﷺ نے اپنے مندرجہ ذیل قول مبارک سے آپ کے قول کا انکار فرمایا ہے:۔<br />
جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحْسَنَ إِليها قلوب اس کی محبت پر پیدا کئے گئے ہیں جس نے اس کے ساتھ احسان کیا ہے۔</p>
<h2>وسواس کا شر</h2>
<p>حضرت شیخ ابوالحسن نے جواب دیا، بیشک جب ہم نے اللہ تعالیٰ کے سواکسی کو احسان کرنے والا نہیں دیکھا تو ہم نے صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کی ۔<br />
نیز حضرت شیخ ابوالحسن نے فرمایا:۔ ایک رات کو میں نے سورہ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ پڑھنا شروع کیا۔ جب میں مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ تک پہنچا۔ تو مجھ سے کہا گیا وسواس کا شر:۔ وہ وسوسہ ہے جو تمہارے اور تمہارے دوست کے درمیان داخل ہوتا ہے تم کو تمہارے برے افعال یاد دلاتا ہے اور تم کو تمہارے نیک افعال بھلا دیتا ہے اور تمہارے نزدیک بائیں ہاتھ والے یعنی برائی کے اعمالنامے کو زیادہ کرتا ہے۔ اور داہنے ہاتھ والے یعنی نیکی کے اعمالنا مے کو تمہارے نزدیک کم کرتا ہے تا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کی بخشش کے حسن ظن سے پھیر کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بدظنی میں مبتلا کر دے پس اس وسوسہ سے بچو اور عابدین و زاہدین اور اطاعت کرنے والے صالحین نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔<br />
نیز حضرت شیخ ابو الحسن نے فرمایا:۔ عارف وہ ہے جو زمانہ کی سختیوں اور مصیبتوں کو ، اپنے او پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی مہربانیاں تصور کرتا ہے۔ اور زمانہ کی برائیوں کو اپنی طرف اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتا ہے۔فَاذْكُرُوا الَآءَ اللهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ الآية . تم لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو تا کہ تم کو کامیابی حاصل ہو</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b8%25d9%2586-%25d8%25b1%25da%25a9%25da%25be%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25da%2586%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2585%2F&#038;title=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%B3%DB%92%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B8%D9%86%20%D8%B1%DA%A9%DA%BE%D9%88%20%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%DA%86%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%85%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b8%d9%86-%d8%b1%da%a9%da%be%d9%88-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/" data-a2a-title="اللہ سے حسن ظن رکھو  (باب چہارم)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b3%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b8%d9%86-%d8%b1%da%a9%da%be%d9%88-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نماز میں سترہ کی تحقیق</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%aa%d8%b1%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%aa%d8%b1%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Sep 2023 03:25:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7120</guid>

					<description><![CDATA[نماز میں سترہ کی تحقیق سُترہ کے احکام نماز دین اسلا م کا اہم ترین رکن ہے اور اس کی بجاآوری کے لئے بہت سے احکامات کی پابندی ضروری ہے۔ لیکن اکثر نمازی یا تو ان سے غافل ہیں یا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%aa%d8%b1%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>نماز میں سترہ کی تحقیق<br />
سُترہ کے احکام نماز دین اسلا م کا اہم ترین رکن ہے اور اس کی بجاآوری کے لئے بہت سے احکامات کی پابندی ضروری ہے۔ لیکن اکثر نمازی یا تو ان سے غافل ہیں یا سستی کا شکار ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم مسئلہ ’’سترہ‘‘ کا بھی ہے کہ جس کے بارہ میں لوگ افراط یاتفریط کا شکار ہیں یعنی کچھ تو سترہ کو فرض و واجب قرار دے کر بغیرسترہ پڑھی جانے والی نماز کے بطلان کے قائلین ہیں جبکہ دیگر سترہ کی عدم فرضیت کا اعتقاد رکھنے کی بناءپر سترہ کو اہمیت دینے سے قاصرہیں جس کے نتیجہ میں ان کی اکثر نمازیں سترہ کے بغیر ادا ہوتی ہیں جو کہ خلاف سنت ہے۔ذیل میں ہم ان دلائل کو پیش کر یں گے جن کے ذریعہ سے حق بات کا علم ہو سکے کہ سترہ رکھنا نمازی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ مگر یہ فرض یا واجب بھی نہیں کہ بغیر سترہ کے نماز ہی نہ ہو۔ بلکہ اگر کو ئی شخص کبھی سترہ کے بغیر نماز پڑھ لے تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر اس کو معمول بنانا خلاف سنت ہے۔ سترہ کی اہمیت سیدنا عبد اللہ بن عمر ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «لَا تُصَلِّ إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ؛ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ». ’’سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو اور کسی کو اپنے آگے سے نہ گزرنے دو۔ اگر وہ انکا ر کر دے تو اس سے لڑو کیونکہ اس کے ساتھ یقیناً شیطان ہے ۔‘‘ [صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب النھي عن الصلاۃ إلی غیر سترۃ، (800)، صحیح مسلم (506)] ابوسعیدخدری ﷜ فر ماتے ہیں كہ رسول ﷺ نے فرمایا : «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا». ’’جب تم میں سے کو ئی ایک نماز پڑھے تو وہ ستر ے کی طرف نماز ادا کرے اور اس کے قریب ہو۔‘‘ [سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، تفریع أبواب السترۃ، باب ما یؤمر المصلي أن یدرأ عن الممر بین یدیہ، (698)] قرہ بن ایاس کہتے ہیں کہ عمر ﷜ نے مجھے دو ستونوں کے درمیا ن نمازپڑھتے ہو ئے دیکھا تو مجھے پکڑ کر سترہ کے قریب کر دیا اور فرمایا: «صَلِّ إِلَيْهَا» ’’اس کی طرف نماز ادا کر ۔ ‘‘ [مصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب صلاۃ التطوع والإمامۃ وأبواب متفرقۃ، باب من کان یکرہ الصلاۃ بین السواري، (7502)] انس ﷜بیان فرماتے ہیں: «لَقَدْ رَأَيْتُ كِبَارَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ عِنْدَ المَغْرِبِ»، وَزَادَ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَنَسٍ، حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» میں نے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ مغرب کے وقت ستونوں کی طرف جلدی کر تے تھے [یعنی مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے لئے ان کو اپنا سترہ بناتے ۔(بخاری: 625)] [صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب الصلوۃ إلی الأسطوانۃ، (503)(481)] یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ «رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، قَدْ نَصَبَ عَصًا يُصَلِّي إِلَيْهَا». میں نے انس بن مالك ﷜ كو مسجد حرام میں د یكها كہ وه لاٹهی گاڑ كر اس كی طرف نماز اداكر رہے تھے ۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب الصلوات، باب قدر کم یستر المصلي؟ (2853)] نافع ﷫ فرماتے ہیں: «كَانَ ابْنُ عُمَرَ إذَا لَمْ يَجِدْ سَبِيلاً إلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ لِي : وَلِّنِي ظَهْرَك». عبداللہ بن عمر ﷜ جب مسجد کے ستون میں سےکسی ستون کی جانب کوئی جگہ نہ پاتے تو مجھے کہتے کہ میری طرف اپنی پشت کر دو ۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب الصلوات، باب الرجل یستر الرجل إذاصلی إلیہ أم لا؟ (2878)] مندرجہ با لا ادلہ سے معلوم ہوا کہ 1 رسول ﷺ نے بغیر سترہ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ 2 آپﷺ نے سترہ کا اہتمام کرنے کی تاکید فرمائی ہیں۔ 3 اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم دیا ہے ۔ 4 صحابہ کرام ﷢ سترہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ۔ 5 کسی کو بغیر ستر ہ نماز پڑھتے دیکھ کر اس کو ستر ے کے قریب کر دیتے ۔ 6 مسجد میں بھی سترہ کا اہتما م فرماتے ۔ 7 دیوار یا ستون کے پیچھے جگہ نہ ملتی تو لاٹھی وغیرہ کا ستر ہ اپنے آگے رکھ لیتے۔ 8 اور اس کی عدم موجو دگی میں کسی شخص کو سترہ بنا کر نماز ادا کر تے ۔ سترہ مستحب ہے تو گویا سترہ کی اس قدر اہمیت ہے کہ بغیر سترہ نماز پڑھنے کا تصور خیر القرون میں تقر یباً نا پید تھا۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ سترہ رکھنا فرض ہے۔ بغیر سترہ بھی رسول ﷺ نے نماز ادا کی ہے ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ﷜ بیان فرماتے ہیں: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ». رسول اللہ ﷺ نے کھلی جگہ میں نماز پڑھی اور آپﷺ کے سا منے کو ئی چیز (بطور سترہ) نہ تھی۔ [مصنف ابن أبی شیبۃ، کتاب الصلوات، باب من رخص فی الفضاء أن یصلی بھا، (2866)، مسند أحمد، (1965)، مسند أبی یعلی، (2601)] سیدنا عبدالله بن عباس ﷜عنہ فرماتے ہیں: «أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ» میں گدھی پر سوار ہو کر آیا۔ ان دنو ں میں قریب البلوغت تھا اور رسول اللہ ﷺ منی میں بغیر دیوار کے نماز پڑھ رہے تھے ۔ [صحیح البخاري، كتاب العلم، باب متی یصح سماع الصغیر؟ (76)] اس باب میں حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں مسند بزار کے حو الے سے تائیداً یہ روایت ذکر کی ہے: «وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ لَيْسَ لِشَيْءٍ يَسْتُرُهُ». نبی ﷺ فرض نماز ادا کر رہے تھے۔ آپﷺ کے آگے کو ئی ایسی چیز نہ تھی جو آپﷺ کا سترہ بنتی۔ [فتح الباری: 1/171، طبع: دار المعرفۃ، بیروت، مسند البزار، مسند ابن عباس رضی اللہ عنھما (4951)] ابن بطال نے شرح بخاری 2/129 میں اس کی سند ذکر کی ہے جو کہ حسن ہے۔ سیدنا ابن عباس ﷜ فرماتے ہیں كہ: «جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ ” فَمَرَرْنَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَنَزَلْنَا عَنْهُ وَتَرَكْنَا الْحِمَارَ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلِ الْأَرْضِ أَوْ قَالَ: مِنْ نَبَاتِ الْأَرْضِ فَدَخَلْنَا مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ رَجُلٌ: أَكَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ؟ قَالَ: لَا» میں اور بنی ہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر آئے ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرے تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو ہم (گدھے سے) اترے اور اس کو زمین کی نباتا ت کھانے کے لئے چھوڑدیا اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں داخل ہو گئے۔ ایک آدمی نے (ابن عباس ﷜سے ) پو چھا کیا آپﷺ کے آگے لاٹھی یا نیزہ (بطور سترہ)تھا؟ تو فرمایا: نہیں ۔ [مسند أبي یعلی، أول مسند ابن عباس: 4/311 (2423)] اس حدیث کے تمام رجال صحیح کے ہیں اور صحیح میں بھی یہ حدیث مختصراً آئی ہے۔ [صحیح البخاري، کتاب العلم، باب متی یصح سماع الصغیر؟ (76)] مذکو رہ بالا دلائل سے یہ واضح ہوا کہ سترہ فرض یا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔ کیونکہ اصول یہ ہے کہ جس کا م کے کرنے کا رسول اللہﷺ حکم دیں، وہ فرض و واجب ہو تا ہے۔ لیکن جب کوئی قرینہ صارفہ مو جود ہو تو آپ ﷺ کا امر وجوب و فر ضیت کے لئے نہیں، بلکہ استحباب کے لئے ہو تا ہے۔ زیر بحث مسألہ میں رسول اکرم ﷺ کا حکم موجود ہے کہ سترہ کا اہتمام کرو اور سترہ کے بغیر نماز ادا کی ہے۔ جس سے معلوم ہو تا ہے کہ فرض و واجب نہیں ہے۔ بلکہ مستحب ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ چو نکہ ستر ہ مستحب ہے، لہٰذا اس کااس قدر اہتما م کرنا بھی ضروری نہیں، جیسا کہ سمجھ لیا گیا ہے۔ بلکہ کسی فعل کا مستحب ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس کو ضرور بالضرور کیا جائے۔ لیکن اگر کبھی زندگی میں ایسا مر حلہ آجائے کہ بندہ اس پر عمل نہ کر ے تو وہ گناہگار نہ ہو گا ۔لیکن اگر وہ مستحب کو پس پشت ڈالناہی اپنا اکثر کا معمو ل بنالے تو یہ جائز نہیں ۔اس کی مثال یو ں سمجھیے کہ رسول اللہ ﷺ نے بغیر عذر کے زندگی میں ایک با ر دو نمازوں کو صورۃً جمع کر کے ادا کیا ہے، جس سے جمع بین الصلوتین بغیر عذر کا جواز نکلتا ہے۔ لیکن اگر کو ئی اس کو معمول ہی بنا لے اور اکثر دو نمازوں کو جمع کر تا رہے تو وہ مخالف سنت ہو گا۔ وھلم جراً لہٰذا ستر ہ کا اہتمام کرنے کی ہر ممکن کو شش کی جائے۔ لیکن اس کے باوجود اگر کبھی سترہ نہ مل سکے یا کو ئی شے سترہ بنانے کی نظرنہ آئے تو بغیر سترہ بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ سترہ اور نمازی کے درمیان فاصلہ ابو سعید خدری ﷜ بیان فر ماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا». جب تم میں سےکو ئی ایک نماز پڑھے تو وہ سترہ کی طرف نماز پڑھے اور اس کے قریب ہو جائے۔ [سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یؤمر المصلي أن یدرأ عن الممر بین یدیہ، (698)] سہل بن سعد ﷜ فرماتے ہیں: «کَانَ بَيْنَ مُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ». رسول اللہ ﷺ کی نماز والی جگہ اور دیوار کے درمیان بکری کے گزرنے کی جگہ تھی۔ [صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب قدر کم ینبغی أن یکون بین المصلی والسترۃ؟ (496)] درج بالا ادلہ سے معلوم ہوا کہ 1 نمازی سترہ کا اہتمام کر ے اور اس کے قریب کھڑا ہو ۔ 2 سترہ اور نمازی کے سجدہ والی جگہ کے درمیا ن زیادہ سے زیادہ بکری کے گزر سکنے کی جگہ ہو ۔ سترہ کی مقدار طلحہ بن عبید اللہ ﷜ بیان فر ماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: «إذَا جَعَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ مِثْلَ مُؤَخَّرَةِ الرَّحْلِ فَلاَ يَضُرُّكَ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْكَ». جب تو اپنے آگے اونٹ کے کجاوے کے پچھلے حصہ کے برابر کو ئی چیز کر لے تو تیرے آگے سے گزرنے والا تجھے کو ئی نقصان نہ دیگا۔ [سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلي، (685)] عطاء بن ابی رباح ﷫ فرماتے ہیں: «آخِرَةُ الرَّحْلِ ذِرَاعٌ فَمَا فَوْقَهُ» اونٹ کے کجاوے کا پچھلا حصہ ذراع یا اس سے زیادہ (اونچا)ہوتا ہے ۔ [سنن أبي داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلي، (686)] ذراع : ہتھیلی کو کھول کر کہنی تک کا حصہ ذراع کہلاتا ہے۔ اور یہ تقریباً ڈیڑھ فٹ بلند چیز رکھے تو وہ اس کا سترہ بن سکے گی۔ اس سے کم اونچائی والی چیز سترہ کا کا م نہیں دیتی۔رہی وہ روایت جس میں خط کھینچنے کا ذکر ہے کہ اگر سترہ میسر نہ آئے تو خط کھینچ لیا جائے۔ [سنن أبي داؤد، (689)] تو ا س کی سند میں ابو عمر وبن محمد بن حرُیث اور اس کا دادا حُریث مجہول ہیں ۔ لہٰذا یہ روایت ساقط الاعتبار ہے۔ اس لیے خط کھینچنا سترہ سے کفایت نہ کرے گا۔اور جو لو گ بطور سترہ اینٹ یا کوئی اور چیز جو ڈیڑھ فٹ سے چھوٹی ہو، رکھ کر نماز پڑھتے ہیں، ان کی نماز بغیر سترہ ہے کیو نکہ سترہ کی شرعی مقدار «الذراع فما فوقہ» بیان کی گئی ہے ۔ نمازی کے آگے سے گزرنا: ابو جہیم عبداللہ بن حارث الأنصاری ﷜فر ماتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: «لَوْ يَعْلَمُ المَارُّ بَيْنَ يَدَيِ المُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ».اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو علم ہو جائے کہ اس پر کتنا گنا ہ ہے تو اس کے لئے چالیس ( دن ،مہینے ،یا سال ) تک کھڑا ر ہنا گزرنے سے بہتر ہو گا۔ [صحیح البخاري، کتاب الصلاۃ، باب إثم المار بین یدي المصلي، (510)] دج بالا حدیث سے معلو م ہو تا ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی حالت میں نمازی اور سترہ کے درمیان سے یا اگر سترہ موجود نہ ہو تو نمازی کے آگے سے نہ گزرا جائے ۔ یا د رہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی یہ ممانعت مطلقاً ہے۔ گزرنے والا خواہ کئی میلوں کے فاصلے سے بھی گزرے، اسے اتنا گناہ ہے جتنا کہ قریب سے گزرنے والے کےلئے ہے ۔اس طرح امام اور مقتدیوں کے درمیا ن گزرنا بھی سترہ اور نمازی کے درمیان سے گزرنا ہی ہے۔ کیو نکہ امام کا سترہ ہی مقتدیوں کیا سترہ ہے۔ لہٰذا اس سے بھی اجتناب کیا جائے . هذا ما عندي والله أعلم بالصواب .</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%2F&#038;title=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B3%D8%AA%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%aa%d8%b1%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/" data-a2a-title="نماز میں سترہ کی تحقیق"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%aa%d8%b1%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وجود خارجی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 05 Nov 2021 04:04:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3870</guid>

					<description><![CDATA[وہ وجودہ ہے جو خارج از ذہن موجود سے متصف ہو یعنی صرف ذہنی وجود نہیں بلکہ خارج میں بھی اس کا وجود ہو جیسے زید عمر آسمان و غیرہ یعنی جس وجود کے لیے خارج ظرف(جگہ یا مکان) ہو <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> وہ وجودہ  ہے جو  خارج از ذہن موجود سے متصف ہو یعنی صرف ذہنی وجود نہیں بلکہ خارج میں بھی اس کا وجود ہو جیسے زید عمر آسمان و غیرہ یعنی جس وجود کے لیے خارج ظرف(جگہ یا مکان) ہو موجود خارجی جب تک خارج میں ہوتا ہے وہ شخص اور ہویت عینیہ کہلاتا ہے اور عوارض خارجیہ شخصیہ کے ساتھ متصف ہوتا ہے اور ان ہی کی وجہ سے متشخص(ممتاز) ہوتا ہے </p>



<p>ہویت لفظ ھو سے مشتق ہے جو غائب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال میں آتا ہے  ہویت سے حق تعالی کی کُنْہ( ماہیتِ الٰہی جو ادراک سے پرے ہے۔انتہا، غایت) ذات  کی طرف اشارہ ہے باعتبار اس کے اسماء و صفات اور اس  کی غیوبت  حق تعالیٰ کی غیبت  عین اس کی شہات ہے  اس متن ہویت میں  اسما و صفات پوشیدہ ہیں  ان اسماء و صفات کا  اظہار اگر کسی  ذات اقدس میں ہوتا ہے تو وہ ذات صرف سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہی ہے</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25ac%25db%258c%2F&#038;title=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%8c/" data-a2a-title="وجود خارجی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کیف کیا ہے؟</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%a9%db%8c%d9%81-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%a9%db%8c%d9%81-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 04 Nov 2021 04:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3845</guid>

					<description><![CDATA[کیف یا کیفیت در اصل اس عرض کا نام ہے جس کا تصور و تعقل غیر کے تصور و تعقل پر منحصر نہ ہو اور جو اقتضائے اولیٰ کے لحاظ سے تقسیم یا عدم تقسیم کی متقاضی نہیں ان کے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%a9%db%8c%d9%81-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>کیف یا کیفیت  در اصل اس عرض کا نام ہے جس کا تصور و تعقل  غیر کے تصور و تعقل پر منحصر نہ ہو اور جو اقتضائے اولیٰ کے لحاظ سے  تقسیم یا عدم تقسیم کی متقاضی نہیں  ان کے علاوہ بھی کئی اقسام ہیں جیسے کیفیت راسخہ  و غیر راسخہ  اور کیفیت نفسانیہ  اور علم صحیح مذہب کے مطابق  مقولہ کیف سے ہے۔</p>



<p>کیف سے بھرا ہو ، سرور و مستی بھرا ، (مجازاََ) دلچسپ،رن٘گین،پُر لطف </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%2592%25d8%259f%2F&#038;title=%DA%A9%DB%8C%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%92%D8%9F" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%a9%db%8c%d9%81-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/" data-a2a-title="کیف کیا ہے؟"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%a9%db%8c%d9%81-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
