<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C/%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1-%D8%AF%D9%88%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%AE%D9%84%D8%A7%D8%A6%D9%82/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sat, 13 Nov 2021 22:26:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مختلف سوالوں کے جواب مکتوب نمبر 99 دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-99-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-99-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Nov 2021 22:26:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت عدم]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت مصیبت و اضطراب]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4166</guid>

					<description><![CDATA[مختلف سوالوں کے جواب میں میرمحمد نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى (الله تعالی کے لیے ہے اور اس&#160;کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)۔&#160; آپ نے پوچھا تھا کہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-99-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>مختلف سوالوں کے جواب میں میرمحمد نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى </strong>(الله تعالی کے لیے ہے اور اس&nbsp;کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)۔&nbsp;</p>



<p>آپ نے پوچھا تھا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سالک عروج کے وقت اپنے آ<em>پ</em><em> </em><em>کو</em><em> </em>انبیاء کے اصحاب کرام کے مقامات میں پاتا ہے جو انبیاء کے بعد بالاتفاق تمام بنی آدم سے افضل ہیں، بلکہ بسا اوقات اپنے آپ کو انبیاء کے مقامات میں پاتا ہے۔ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے۔ اس امر سے بعض لوگ وہم کرتے ہیں کہ وہ سالک ان مقامات والوں کے ساتھ برابر اور شر یک&nbsp;ہے اور اس وہم وخیال سےسالک کور دوطعن کرتے ہیں اور اس کے حق میں ملامت و شکایت کی&nbsp;زبان دراز کرتے ہیں۔ اس معما کو بخوبی حل کرنا چاہئے۔&nbsp;</p>



<p>اس کا جواب یہ ہے کہ ادنی شخص کا اعلى لوگوں کے مقامات میں پہنچنا بھی اس طرح ہوتا ہے جس طرح فقیر اور محتاج دولتمندوں کے دروازوں اور منعموں کے خاص مکانوں میں جانکلتے ہیں۔ تا کہ ان سے اپنی حاجت طلب کریں اور ان کی دولت ونعمت سے کچھ مانگیں۔ وہ بہت ہی بیوقوف ہے جو اس طرح کے جانے کو برابری اور شر کت خیال کرے۔ کبھی یہ وصول تماشا کے طور پر ہوتا ہے تا کہ کسی واسطہ اور وسیلہ سے امیروں اور بادشاہوں کے خاص مکانوں کی سیر کریں اور اعتبار کی نظر سے تماشا کریں تا کہ بلندی کی رغبت پیدا ہو۔ اس وصول سے برابری کا وہم کس طرح ہوسکتا ہے اور اس سیر تماشا سے شرکت کا خیال کس طرح پیدا ہوسکتا ہے اور خادموں کا اپنے مخدوموں کے اصل مکانوں میں اس غرض کے لیے جانا کہ خدمت بجا لائیں۔ ہر ایک ادنی واعلی کو معلوم ہے۔ وہ بیوقوف ہی ہوگا جو اس وصول سے برابری و شرکت کا وہم کرے گا۔ فراش (فرش بچھانے والا)ومگس ران (مکھیاں اڑانے والا)اور شمشیر برادر ہر وقت بادشاہوں کے ہمراہ رہتے ہیں اوران&nbsp;کے خاص خاص مکانوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ وہ بھی اور دیوانہ ہے جو اس سے شرکت و&nbsp;مساوات کا وہم کرے ۔&nbsp;</p>



<p>بلائے درد منداں از در و دیوار مے آید&nbsp; ترجمہ: درودیوار سے آتی بلا ہے دردمندوں کی</p>



<p>&nbsp;لوگ بیچارےسالک کی ملامت کے لیے بہانہ طلب کرتے ہیں اور اس کی طعن وتشنیع&nbsp; کے لیے کوئی نہ کوئی وجہ تلاش کرتے ہیں۔ حق تعالی ان کو انصاف دے ان کو چاہئے تھا کہ اس بیچارہ کے حق میں کوئی ایسی وجہ ڈھونڈ تے جس سے شر وملامت اس سے دور ہوتی اور مسلمان کی عزت محفوظ رہتی ۔ طعن کرنے والوں کا حال دوامر سے خالی نہیں۔ اگر ان کا یہ اعتقاد ہے کہ اس حال والا شخص ان مقامات عالیہ والے لوگوں کے ساتھ شرکت و مساوات کا معتقد ہے۔ واقعی اس کو کافر زندیق (بے دین) &nbsp;خیال کریں اور مسلمانوں کے گروہ سے خارج تصورکریں، کیونکہ نبوت میں شریک ہونا اور انبیا علیہم السلام کے ساتھ برابری کرنا کفر ہے۔ ایسے ہی شیخین کی افضلیت کا حال ہے۔ جو صحابہ اور تابعین کے اجماع سے ثابت ہو چکی ہے۔ چنانچہ اس کو بہت سے آئمہ بزرگواران نے جن میں سے ایک امام شافعی ہیں نقل کیا ہے بلکہ تمام صحابہ کرام کو باقی تمام امت پر فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت کی فضیلت کے برابر کوئی فضیلت نہیں۔ وہ تھوڑا سافعل جو اسلام کے ضعف اور مسلمانوں کی کمی کے وقت دین متین کی تائید اور حضرت سید المرسلین ﷺ کی مدد کے لیے اصحاب کرام سے صادر ہوا ہے دوسرے لوگ عمر بھر ریاضتوں اور مجاہدوں سے طاعتیں بجالائیں تو بھی اس فعل یسیر کے برابر نہیں ہوسکتیں۔</p>



<p> اس واسطے آنحضرت ﷺنے فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی کوہ احد جتنا سونا اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرے۔ تو اصحاب کے ایک آدھ مد(سیر) جو کے خرچ کرنے&nbsp;کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ اسی واسطے افضل ہیں کہ ایمان میں تمام سابقین میں سے اسبق اور بڑھے ہوئے ہیں اور خدمات لائقہ میں اپنے مال و جان کو بکثرت خرچ کیا ہے اسی واسطے آپ کی شان میں نازل ہوا ہے۔<strong> لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى</strong> <strong>(</strong>نہیں برابر تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے فتح سے اول خرچ کیا اور لڑائی کی&nbsp;لوگ زیادہ درجہ والے ہیں اور ان لوگوں سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور لڑائی کی اور اللہ&nbsp;تعالی نے سب کے لیےحسنی یعنی جنت کا وعدہ دیا ہے) بھی لوگ دوسروں کے بکثرت مناقب و فضائل پر نظر کر کے حضرت صدیق کی افضلیت میں توقف کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اگر افضلیت کا سبب مناقب و فضائل کا بکثرت ہونا ہوتا۔ تو امت کے بعض لوگ جو بہت سے فضائل رکھتے ہیں اپنے نبی سے افضل ہوتے۔ جس میں یہ فضائل نہیں پس معلوم ہوا کہ افضلیت کا باعث ان فضائل اور مناقب کے سوا کچھ اور امر ہے اور وہ امر اس فقیر کے خیال میں&nbsp; دین کی سب سے بڑھ کر تائید کرنی اور دین رب العلمین کے احکام کی مدد میں سب سے زیادہ مال و جان کا خرچ کرنا ہے۔ چونکہ پیغمبر ﷺ تمام امت سے اسبق ہے۔ تمام مسبوقو<em>ں </em>سے&nbsp;افضل ہے۔ اسی طرح جوشخص ان امور میں اسبق ہے تمام مسبوقوں سے افضل ہے سابق یعنی پہلا شخص گویا امر دین میں لاحقوں یعنی پچھلوں کا استاد و معلم ہے۔ لاحقین سابقین کے انوار&nbsp;سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور ان کی برکات سے فیض پاتے ہیں۔ اس امر میں چونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کے بعد اس دولت اعلی کے مالک حضرت صدیق ہی ہیں جو دین کی تائید اور حضرت سید المرسلین ﷺ کی مدد اور فساد کے رفع کرنے کے لیے لڑائی جھگڑے کرنے اور مال و جان کے خرچ کرنے اور اپنی عزت و جاہ کی پروا نہ کرنے میں تمام سابقین میں سے اسبق اور بڑھے ہوئے ہیں۔ اس لیے دوسروں سے افضلیت انہی پرمسلم ہوگی اور چونکہ حضرت پیغمبر علیہ الصلوة والسلام نے اسلام کی عزت و غلبہ کے لیے حضرت فاروق کی مدد طلب کی ہے اورحق تعالی نے عالم اسباب میں اپنے حبیب کی مدد کے لیے انہی کو کافی سمجھا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اور فرمایا ہے۔ <strong>يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ</strong> (اے نبی ﷺ تجھے اللہ تعالی اور تابعدار مومن کافی ہیں۔) حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اس آیت&nbsp;</p>



<p>کا سبب نزول حضرت فاروق کا اسلام ہے۔ اس لیے حضرت صدیق کے بعد حضرت فاروق کی افضلیت مقرر ہے۔ اس واسطے ان دو بزرگواروں کی افضلیت پر صحابہ و تابعین کا اجماع ہو چکا&nbsp;ہے۔ جیسے کہ گزر چکا۔ حضرت امیر(علی) رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ حضرت ابو بکر و عمر اسلام میں سب سے افضل ہیں۔ جو کوئی مجھے ان پرفضیلت دے وہ مفتری ہے میں اس کو اتنے تازیانہ لگاؤں گا جتنے مفتری کو لگاتے ہیں۔ اس بحث کی تحقیق فقیر کی کتابوں و رسالوں میں بارہا مفصل درج ہو چکی ہے۔ اس مقام میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں۔ وہ شخص بہت ہی بیوقوف ہے جو اپنے آپ کو حضرت خیرالبشرﷺ کے اصحاب کے برابر سمجھے اور وہ شخص اخبار و آثار سے جاہل&nbsp;ہے جو اپنے آپ کو سابقین میں سے تصور کرے لیکن اتنا جاننا ضروری ہے کہ یہ سبقت کی دولت جو افضلیت کا باعث ہے۔ قرن اول ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ جو حضرت خیر البشر&nbsp;کی شرف محبت سے مشرف ہے۔ دوسرے قرنوں میں یہ امر مفقود ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ بعض قرنوں کے لاحق دوسرے قرنوں کے سابقین سےا فضل ہوں۔ بلکہ ایک قرن میں بھی ہو سکتا&nbsp; ہے کہ قرن کا لاحق اس قرن کے سابق سے افضل ہو حق تعالی طعن لگانے والوں کو بینائی عطا کرے تا کہ ان کو معلوم ہو جائے کہ صرف وہم و خیال سے کسی مومن ومسلم کو طعن و ملامت کرنا اور تعصب و کجروی سے اس کی تکفیر تضلیل کا حکم کرنا کیسا برا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اور اگر وہ شخص تکفیر تضلیل کے قابل نہ ہوا تو پھر کیا علاج کریں گے۔ جبکہ وہ کفروضلال کہنے والے کی طرف راجع ہو گا اور تہمت زدہ کی طرف سے ہٹ کر تہمت لگانے والے پر جا پڑے گا۔ جیسا کہ حدیث نبوی میں آ چکا ہے<strong>رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ</strong> (یا اللہ تو ہمارے گناہوں اور کام میں ہماری زیادتیوں کو بخش اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھے اور کافروں پر ہمیں مدد دے) اب ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں اورشق ثانی کو بیان کرتے اور کہتے ہیں کہ اگر اس حال والے کے حق میں طعن لگانے والوں کا یہ اعتقاد اور اعتماد نہ ہو اور اس کا معاملہ کفر تک نہ پہنچائیں۔ تو پھر بھی دو حال سے خالی نہیں۔ لیکن اگر اس کے واقعہ کو کذب و بہتان پرعمل کرتے ہیں تو یہ بھی ایک مسلمان کی نسبت بدظنی ہے۔ جوشرع میں منع ہے اور اگر اس کو کاذب بھی نہیں جانتے اور اس کو شرکت مساوات کا معتقد بھی نہیں سمجھتے تو پر طعن و ملامت کی وجہ کیا ہے۔ پھر اس کی تشنیع وعيب جوئی حرام ہے۔</p>



<p>واقعہ صادقہ کو نیک وجہ پرمحمول کرنا چاہئے۔ نہ یہ کہ صاحب واقعہ کی قباحت و برائی بیان کی جائے اور اگر یہ ہیں کہ اس قسم کے شرانگیز احوال کے اظہار کرنے کی وجہ کیا ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ اس قسم کے احوال مشائخ طریقت سے بہت ظاہر ہوئے ہیں۔ حتی کہ ان کی عادت مستمرہ ہو چکی ہے۔ <strong>لیس هذا أول قارورة كسرت في الإسلا</strong>م (یہ پہلا شیشہ نہیں جو اسلام میں توڑا گیا ہے) ان سے اس قسم کے احوال کا ظاہر ہونا ارادۂ صادقہ اور حقانی نیت کے بغیر نہ ہوگا۔کبھی ان احوال کے لکھنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ شیخ طریقت کے سامنے اپنے احوال موہوم کا اظہار ہوتا کہ وہ حال کاصحت وسقم بیان فرمائے اور اس کی تاویل وتعبیر پر اطلاع بخشے۔ کبھی ان احوال کے لکھنے سے طالبوں اور شاگردوں کی ترغیب و تحریص مطلوب ہوتی ہے۔ کبھی ان سے مقصود نہ یہ ہوتا ہے نہ وہ بلکہ مجردسکر(مستی) &nbsp;اور غلبہ حال اس گفتگو پر لے آتا ہے تا کہ چند باتیں کر کےنفس کو راست کرے جس شخص کا مقصود ان احوال کے اظہار سے شہرت وقبول خلق ہو تو وہ جھوٹامدعی ہے اور یہ احوال اس کے لیے وبال اور استدراج ہیں جس میں اس کی سراسر خرابی ہے<strong>رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (یا اللہ </strong>تو ہدایت دے کر ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما تو بڑا بخشنے والا ہے<strong>وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ</strong> (میں اپنے نفس کو پاک بیان نہیں کرتا۔ اس برائی کی طرف بہت امر کرنے والا ہے۔ ہاں جس پر اللہ تعالی رحم فرمائے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا اور مہربان ہے)۔&nbsp;</p>



<p>آپ نے پوچھا تھا کہ کیا باعث ہے۔ کہ انبیا علیہم الصلوة والسلام اور اولیاءعلیہم الرضوان&nbsp;دنیا میں اکثر بلا و مصائب اور رنج و تکلیف میں مبتلا و گرفتار رہے ہیں۔ جیسے کہ کہا گیا ہے۔ <strong>&nbsp;أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ &nbsp;بَلَاءً قَالَ:الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ</strong> (لوگوں میں زیادہ بلاو آزمائش میں مبتلا ہونے والے انبیاء ہیں پھر اولیاء پر ان کے ہم مشل پھر ان کے ہم مشل) اور حق تعالی اپنی کتاب مجید میں فرما<strong>تا </strong>ہے <strong>وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ &nbsp;(</strong>جو مصیبت<strong> </strong>تم پر آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے) اس آیت سے مفہوم ہوتا ہے کہ جوشخص زیادہ برائیاں کرے اس پرزیادہ مصیبتیں آتی ہیں تو چاہئے کہ پہلے انبیاء اور اولیاء کے سوا اور لوگ بلا و مصیبت میں گرفتار ہوں اور پھر اولیاء وانبیاء اور نیز یہ بزرگوار اصالت و تبعیت کے طور پر حق تعالی کے محبوب اور ان کے خاص مقر بین ہیں ۔ حق تعالی اپنے محبوبوں اور خواص مقربوں کو بلیات ورنج کے حوالے کیوں کرتا ہے اور دشمنوں کو نازنعمت میں اور دوستوں <em>کو رنج </em>و مصیبت میں کیوں رکھتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;جواب: الله تعالی آپ کو سعادت مند کرے اور سیدھے راستے کی ہدایت دے آپ کو واضح ہو کہ دنیانعمت ولذت کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ آخرت ہی ہے۔ جونعمت ولذت کے لیے تیار کی گئی ہے۔ چونکہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کی سوکن اور ضد اور نقیض (مخالف)ہیں ۔ اور ایک کی رضامندی میں دوسرے کی ناراضگی ہے۔ اس لیے ایک میں لذت پانا دوسرے میں رنج و الم کا باعث ہو گا۔ پس انسان جس قدر دنیا میں لذت ونعمت کے ساتھ رہے گا اسی قدر زیادہ رنج والم آخرت میں اٹھائے گا۔ ایسے ہی جوشخص دنیا میں زیادہ تر رنج و الم میں مبتلا ہوگیا آخرت میں اسی قدر زیادہ ناز و نعمت میں ہو گا۔ کاش دنیا کی بقا کو آخرت کی بقا کے ساتھ وہی نسبت ہوتی جو قطره&nbsp;کو دریائے محیط کے ساتھ ہے۔ ہاں متنا ہی کو غیر متناہی کے ساتھ کیا نسبت ہو گی۔ اسی لیے دوستوں کو اپنے فضل و کرم سے اس جگہ کی چند روز ہ محنت و مصیبت میں مبتلا کیا تا کہ دائمی نازونعمت میں محظوظ مسرور فرمائے اور دشمنوں کو مکر و استدراج کے بموجب تھوڑی کی لذتوں کے ساتھ محظوظ کر دیا تا کہ آخرت میں بیشمار رنج و الم میں گرفتار ہیں۔</p>



<p>&nbsp;سوال: کافر فقیر جو دنیا و آخرت میں محروم ہے دنیا میں اس کا درد مند و مصیبت زدہ رہنا آخرت میں لذت ونعمت پانے کا باعث نہ ہوا۔ اس کی کیا وجہ ہے۔&nbsp;</p>



<p>جواب: کافر خدا کا دشمن اور دائمی عذاب کا مستحق ہے۔ دنیا میں اس سے عذاب کا دور رکھنا اور اس کو اپنی وضع پر چھوڑ دینا اس کے حق میں عین ناز نعمت ولذت ہے۔ اسی واسطے کافر کے&nbsp;حق میں دنیا پر جنت کا اطلاق کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ دنیا میں بعض کفار سے عذاب بھی رفع کر دیتے ہیں اور لذت بھی دیتے ہیں اور لذت ونعمت بھی دیتے ہیں اور بعض سے صرف عذاب ہی ہٹا رکھتے ہیں اور لذت ونعمت کچھ نہیں دیتے۔ بلکہ فرصت و مہلت کی لذت اور عذاب کے دور ہونے پر کفایت کرتے ہیں۔ <strong>لکل</strong><strong> </strong><strong>ذالک حکم</strong><strong> </strong><strong>و</strong><strong> </strong><strong>مصالح</strong> (ہر ایک کے لیے کوئی نہ کوئی حکمت و بہتری ہے)۔</p>



<p>&nbsp;سوال: حق تعالی سب چیزوں پر قادر ہے اور توانا ہے کہ دوستوں کو دنیا میں بھی لذت ونعمت بخشے اور آخرت میں بھی ناز نعمت کرامت فرمائے اور ان کے میں ایک کا لذت پانا دوسرے میں دردمند ہونے کا باعث نہ ہو۔ اس کے جواب کئی ہیں۔&nbsp;</p>



<p>ایک یہ کہ دنیا میں جب تک چند روزہ محنت و بلیات کو برداشت نہ کرتے تو آخرت کی لذت ونعمت کی قدر نہ جانتے اور دائمی صحت و عافیت کی نعمت کی قدر نہ جانتے اور دائمی صحت و عافیت کی نعمت کو کماحقہ معلوم نہ کر سکتے، کیونکہ جب تک بھوک نہ ہو طعام کی لذت نہیں آتی اور جب تک مصیبت میں مبتلا نہ ہوں فراغت و آرام کی قدر معلوم نہیں ہوتی۔ گویا ان کی چند روزه مصیبتوں سے مقصود یہ ہے کہ ان کو دائمی نازو نعمت کامل طور پر حاصل ہو۔ یہ ان لوگوں کے حق میں سراسر جمال ہے۔ جو عوام کی آزمائش کے لیے جلال کی صورت میں ظاہر ہوا ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا</strong> اکثر کو گمراہ کرتا ہے اور اکثر کو ہدایت دیتا ہے)</p>



<p>&nbsp;جواب دوم : بلیات ومحن اگر چہ عوام کے نزدیک تکلیف کے اسباب ہیں، لیکن ان بزرگواروں&nbsp;کے نزدیک جو کچھ جمیل مطلق کی طرف سے آئے۔ ان کی لذت ونعمت کا سبب ہے۔ یہ لوگ بلیتوں سے ویسے ہی لذت حاصل کرتے ہیں جیسے کہ نعمتوں سے بلکہ بلایا سے زیادہ محظوظ ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں محبوب کی خالص مراد ہے اور نعمتوں میں خلوص نہیں ہے کیونکہ نفس نعمتوں کو چاہتا ہے اور بلا و مصیبتوں سے بھاگتا ہے۔ پس بلا ان بزرگواروں کے نزدیک عین نعمت ہے اور اس میں نعمت سے بڑھ کر لذت ہے۔ وہ حظ جوان کو دنیا میں حاصل ہے۔ وہ بلیات و مصائب ہی کے باعث ہے۔ اگر دنیا میں یہ نمک بھی نہ ہوتا تو ان کے نزدیک جو کے برابر بھی قیمت نہ رکھتی اور اگر اس میں یہ حلاوت نہ ہوتی تو ان کو عبث و بے فائدہ دکھائی دیتی۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>غرض از عشق توام چاشنئے در دوغم است ورنہ زیر فلک اسباب تنعم چہ کم است </strong></p>



<p>ترجمه عشق سے تیرے غرض ہے چاشنی در دوغم ورنہ نیچے آسمان کے کونسی نعمت ہےکم</p>



<p>&nbsp;. حق تعالی کے دوست دنیا میں بھی متلذذ ہیں اور آخرت میں بھی محظوظ ومسرور ہیں۔ ان&nbsp;کی یہ دنیاوی لذت ان کی آخرت کی لذت کے مخالف نہیں وہ حظ جو آخرت کے حظ کے مخالف ہے اس سے مختلف ہے جو عوام کو حاصل ہے۔ الہی یہ کیا ہے۔ جو تو نے اپنے دوستوں کو عطا فرمایا ہے کہ جو کچھ دوسرے کے رنج و الم کا سبب ہے وہ ان کی لذت کا باعث ہے اور جو کچھ دوسروں کے لیے زحمت ہے ان کے واسطے رحمت ہے۔ دوسروں کی نقمت ان کی نعمت ہے لوگ شادی میں خوش ہیں اورغمی میں غمناک۔ یہ لوگ شادی میں بھی اورغم میں بھی خوش و خرم ہیں کیونکہ ان کی نظر افعال جمیلہ و رذیلہ کی خصوصیتوں سے اٹھ کر ان افعال کے فاعل یعنی جمیل مطلق کے جمال پر جا لگی ہے اور فاعل کی محبت کے باعث اس کے افعال بھی ان کی نظروں میں محبوب اورلذت بخش ہو گئے ہیں۔ جو کچھ جہان میں فاعل جمیل کی مراد کے موافق صادر ہو۔ خواہ رنج و ضرر کی قسم سے ہو۔ وہ ان کےمحبوب کی عین مراد ہے اور ان کی لذت کا موجب ہے خداوندایہ&nbsp;کیسی فضل و کرامت ہے کہ ایسی پوشیده دولت اور خوشگوارنعمت اغیار کی نظر بد سے چھپا کر اپنے دوستوں کو تو نے عطا فرمائی ہے اور ہمیشہ ان کو اپنی مراد پر قائم رکھ کر محظوظ و متلذذ کیا ہے اور کراہت و تامل جو دوسروں کا نصیب ہے۔ ان بزرگواروں سے دور کر دیا ہے۔ اورننگ و&nbsp; رسوائی کو جو دوسروں کا عیب ہے اس گروہ کا جمال و کمال بنایا ہے۔ یہ نامرادی ان کی عین مراد ہے اور ان کا یہ دنیاوی التذاذ و سرور دوسروں کے برعکس آخرت کےحظوظ کی ترقیوں کا باعث <strong>ہے۔</strong>۔ <strong>ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ</strong> ( یہ الله تعالی کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور الله تعالی بڑے فضل والا ہے۔)</p>



<p>)۔ جواب سوم : یہ ہے کہ یہ دار دار ابتلاء و آزمائش ہے۔ جس میں(بظاہر) حق باطل کے ساتھ اور جھوٹا&nbsp;سچے کے ساتھ ملا جلا ہے۔ اگر دوستوں کو بلاو محنت نہ دیتے اور صرف دشمنوں <em>کو</em><em> </em>دیتے تو دوست دشمن کی تمیز نہ ہوتی اور اختیار و آزمائش کی حکمت باطل ہوتی۔ یہ امر ایمان غیب کے منافی ہے۔ جس میں دنیا و آخرت کی سعادتیں شامل ہیں۔ آیت کریمہ <strong>يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ</strong><strong> </strong>(غیب پر ایمان لاتے ہیں) اور آیت کریمہ&nbsp;<strong>وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ</strong><strong> </strong>الله تعالی جانتا ہے جو شخص اس کی اور اس کے رسول کی غائبانہ مدد کرتا ہے۔ بیشک اللہ تعالی طاقتور اور غالب ہے) اس مضمون کی رمز ہے۔ پس دشمنوں کی آنکھ میں خاک ڈال کر دوستوں کو بھی محنت و بلا میں مبتلا کیا ہے تا کہ ابتلا و آزمائش کی حکمت تمام ہو اور دوست عین بلا میں لذت پائیں اوردشمن دل کے اندھے خسارہ اورگھاٹا کھائیں<strong> </strong><strong>يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا</strong> اکثر کو گمراہ کرتا ہے اور اکثر کو ہدایت دیتا ہے) انبیاءعلیہم السلام کا معاملہ کفار کے ساتھ اسی طرح ہوا ہے کہ کبھی اس طرف کا غلبہ ہوا ہے اورکبھی اس طرف کا جنگ بدر میں اہل اسلام کو &nbsp;فتح ہوئی اور جنگ احد میں کافروں کو غلبہ ہوا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے<strong> </strong><strong>إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ</strong> (اگرتم کو زخم لگا ہے تو پہلے بھی لوگوں کو ایسے ہی زخم لگے ہیں اور ان دونوں کو اللہ تعالی لوگوں میں بدلاتے رہتے ہیں تا کہ الله تعالی ایمانداروں کو جدا کر لے اورتم میں سے گواہ بنالے اور اللہ تعالی ظالموں کو نہیں دوست رکھتا اور اس لیے کہ الله تعالی ایمانداروں کو خالص کرے اور کافروں کو مٹادے)۔</p>



<p>&nbsp;جواب چہارم : یہ ہے کہ حق تعالی سب چیزوں پر قادر ہے اور طاقت رکھتا ہے کہ دوستو<em>ں</em><em> </em>کو یہاں بھی نازونعمت عطا فرمائے اور وہاں بھی۔ لیکن یہ بات حق تعالی کی حکمت و عادت کے&nbsp; برخلاف ہے۔ حق تعالی دوست رکھتا ہے کہ اپنی قدرت کو اپنی حکمت و عادت کے نیچے پوشیده رکھے اور اسباب وعلل کو اپنے جناب پاک کا روپوش بنائے پس دنیا و آخرت کے باہم نقیض ہونے کے باعث دوستوں کے لیے دنیا کی محنت و بلا ہونا ضروری ہے تا کہ آخرت کی نعمتیں ان&nbsp;کے حق میں خوشگوار ہوں یہی مضمون اصل سوال کے جواب میں پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ اب ہم پھر اصل بات کو بیان کرتے ہیں اور اصل سوال کا جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ درد و بلاو مصیبت کا سبب اگر چہ گناہوں اور برائیوں کا کرنا ہے، لیکن در حقیقت بلا و مصیبت ان برائیوں کا کفارہ اور ان گناہوں کے ظلمات کو دور کرنے والی ہیں۔ پس کرم یہی ہے کہ دوستوں کو زیادہ زیادہ بلا ومحنت دیں تا کہ ان کے گناہوں کا کفارہ اور ازالہ ہو۔ دوستوں کے گناہوں اور برائیوں کو دشمنوں کے گناہوں اور برائیوں کی طرح نہ خیال کریں۔&nbsp;</p>



<p>آپ نے <strong>حَسَنَاتُ الْاَبْرار سَیّئاتُ المُقربین</strong> (ابراروں کی نیکیاں مقربین کیلئے خطا ہیں)سنا ہوگا اور اگر ان سے گناه و عصیان بھی صادر ہو تو اور لوگوں کے گناہ و عصیان کی طرح نہ ہوگا بلکہ وہ سہو ونسیان کی قسم سے ہو گا اور عزم وجد سے پاک ہوگا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے<strong> </strong><strong>وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا</strong> (ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد کیا تھا، لیکن اس نے بھلا دیا اور ہم نے اس کا کوئی علام وقصد نہ پایا) پس دردو مصائب کا زیادہ ہونا برائیوں کے زیادہ کفارہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ نہ کہ برائیوں کے زیادہ کمانے پر۔ دوستوں کو زیادہ بلا دیتے ہیں تا کہ ان کے گناہوں کا کفارہ کر کے ان کو پاکیزہ لے جائیں اور آخرت کی محنت سے ان کو محفوظ رکھیں۔ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سکرات موت کے وقت جب حضرت فاطمہ نے ان کی بیقراری و بے آرامی دیکھی تو حضرت فاطمہ زہرا بھی جن کو آنحضرت ﷺ نے <strong>فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي</strong> (فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے) فرمایا تھا۔ کمال شفقت و مہربانی سے جوآنحضرت ﷺ کے ساتھ رکھتی تھیں ۔ نہایت بے قرار و بے آرام ہو گئیں۔ جب آنحضرت نے ان کی اس بیقراری و بے آرامی کو دیکھا تو حضرت زہرا کی تسلی کے لیے فرمایا کہ تیرے باپ کے لیے ہی ایک محنت و تکلیف ہے اس سے آگے کوئی تکلیف و مصیبت نہیں۔ یہ کس قدر اعلی دولت ہے کہ چند روز محنت کے عوض دائمی سخت عذاب دور ہو جائے۔ ایسا معاملہ دوستوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ اس طرح نہیں کرتے اور ان کے گناہوں کا کفارہ کما حقہ اس&nbsp; جگہ نہیں فرماتے بلکہ ان کی جزا آخرت پر ڈال دیتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس ثابت ہوا کہ دوست ہی دنیاوی رنج و بلا کے زیادہ مستحق ہیں اور دوسرے لوگ اس دولت کے لائق نہیں کیونکہ ان کے گناہ کبیرہ ہیں اور التجا وتضرع و استغفار وانکسار سے بے بہرہ ہیں اور گناہوں کے کرنے پر دلیر ہیں اور ارادہ وقصد سے گناہ کرتے ہیں جوتمر دوسرکشی سے خالی نہیں اور عجب نہیں کہ اللہ تعالی کی آیات پر ہنسی اڑائیں اور انکار کریں اور جزا گناہ کے اندازه&nbsp;کے موافق ہے۔ اگر گناه دنیاوی خفیف ہے اور گناہ کرنے والا بھی التجاوزاری کرنے والا ہے تو اس گناہ کا کفارہ دنیاوی بلاورنج سے ہو جائے گا اور اگر گناه غلیظ &nbsp;وشدید وثقیل ہے اور گناہ کرنے والا سرکش ومتکبر بھی ہے تو وہ جرم آخرت کی جزا کے لائق ہے جو گناہ کی طرح شدید اور دائمی&nbsp;</p>



<p><strong>ہے وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ</strong> الله تعالی نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پرظلم کرتے تھے۔ </p>



<p>آپ نے لکھا تھا کہ لوگ ہنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حق تعالی اپنے دوستوں کو بلاو محنت کیوں دیتا ہے اور ہمیشہ نازونعمت میں کیوں نہیں رکھتا اور اس گفتگو سے اس گروہ کی نفی کرنا چاہتے ہیں ۔ کفار بھی آنحضرت ﷺکے حق میں اس قسم کی باتیں کہا&nbsp;کرتے تھے <strong>وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ لَوْلَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا أَوْ يُلْقَى إِلَيْهِ كَنْزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا </strong>(یہ رسول کیا ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے کیوں نہیں اس پر فرشتہ اتر تا تا کہ اس&nbsp;کے ساتھ ہو کر لوگوں کو ڈراتا۔ یا اس کو خزانہ دیا جاتا۔ یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس سے کھایا کرتا) ایسی باتیں وہی شخص کرتا ہے جس کو آخرت اور اس کے دائمی عذاب و ثواب کا انکار ہو اور دنیا کی چند روزه فانی لذتیں ان کی نظر میں بڑی عزیز اور شاندار دکھائی دیتی ہیں ۔ کیونکہ جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے ثواب و عذاب کو دائمی جانتا ہے۔ دنیاوی چند روزہ فانی بلاومحنت اس کوہیچ نظر آتی ہیں ۔ بلکہ اس چند روزہ محنت کو جس سے ہمیشہ کی راحت حاصل ہو، عین راحت تصور کرتا ہے اور لوگوں کی گفتگو پرنہیں جاتا ۔ در دو بلاو محنت کا نازل ہونا محبت کا گواہ عادل ہے کور باطن اور بیوقوف لوگ اگر اس کو محبت کے منافی جانیں تو جانیں۔ جاہلوں اور ان کی گفتگو سے روگردانی کے سوا اور کوئی علاج نہیں<strong> فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا</strong>پس<strong> </strong>اچھا صبر کر) اصل سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ بلا تازیانہ محبوب ہے جس کے ذریے محب&nbsp; اپنے محبوب کے ماسواء کی التفات سے ہٹ کر کلی طور پرمحبوب کی پاکی بارگاہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ پس درد و بلا کے لائق دوست ہی ہیں اور یہ بلا اس برائی کا کفارہ ہے کہ ان کا التفات ماسوا کی طرف ہے اور دوسرے لوگ اس دولت کے لائق نہیں ان کو زور سے محبوب کی طرف کیوں لائیں جس کو چاہتے ہیں مار لوٹ کر بھی محبوب کی طرف لے آ تے ہیں اور اس کو محبوبیت سے سرفراز فرماتے ہیں اور جس کو محبوب کی طرف لانا نہیں چاہتے اس کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اگر سعادت ابدی اس کے شامل حال ہوگئی تو توبہ وانابت کی راہ سے ہاتھ پاؤں مار کر فضل و عنایت کی امداد سے مقصد تک جائے گا ورنہ وہ جانے اور اس کا کام <strong>ولاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ</strong> (یا اللہ تو مجھے ایک لمحہ بھی اپنے حال پر نہ چھوڑ ) پس معلو<em>م </em>ہوا کہ &nbsp;مریدوں کی نسبت مرادوں پر زیادہ بلا آتی ہے۔ اس واسطے آنحضرت نے جو مرادوں اورمحبوبوں کے رئیس ہیں۔ فرمایا ہے <strong>وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ</strong>کسی ایک کو اتنی ایذ انہیں&nbsp;پہنچی جتنی مجھے پہنچی ہے۔ گویا بلادلالہ اور رہنما ہے۔ جو اپنی حسن دلالت سے ایک دوست کو دوسرے دوست تک پہنچا دیتی ہے اور دوست کو ماسوی کے التفات سے پاک کر دیتی ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ دوست کروڑ ہا دیکر بلاکو خریدتے ہیں اور دوسرے لوگ کروڑ ہا دیکر بلا کو دفع&nbsp;کرنا چاہتے ہیں۔</p>



<p>سوال : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دردو بلا کے وقت دوستوں سے بھی اضطراب وکراہت مفہوم ہوتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے۔</p>



<p>&nbsp;جواب: یہ اضطراب و کراہت تقاضائے بشری ضروری ہے اور اس کے باقی رکھنے میں کئی طرح کی حکمتیں اورمصلحتیں ہیں ۔ کیونکہ اس کے بغیرنفس کے ساتھ جہاد و مقابلہ نہیں ہوسکتا۔&nbsp;</p>



<p>آپ نے سنا ہو گا کہ دین و دنیا کے سردار علیہ الصلوة والسلام سے سکرات موت کے وقت کس قسم کی بیقراری و بے آرامی ظاہر ہوئی تھی۔ وہ گویانفس کے جہادکا بقیہ تھا تاکہ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کا خاتمہ خدا کے دشمنوں کے جہاد پر ہو۔ شدت مجاہدہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ صفات بشریت کے تمام مادے دور ہو جائیں اورنفس کو کامل فرمانبردار بنا کر اطمینان کی حقیقت تک پہنچائیں اور پاک و پاکیزه رکھیں۔ گویا بلا بازار محبت کی دلالہ ہے اور جو کوئی محبت نہیں رکھتا اس کو دلالہ سے کیا کام ہے اور دل لگی اس کے کسی کام آئے گی اور اس&nbsp;کے نزدیک کیا قدر و قیمت رکھے گی در دو بلا کی دوسری وجہ یہ ہے کہ محب صادق اور محب کاذب&nbsp; کے درمیان تمیز ہو جائے اگر صادق ہے۔ تو بلا کے آنے سے متلذز ومحظوظ ہوگا اور اگر مدعی کاذب ہے تو بلا سے کراہت ورنج اس کو نصیب ہوگا۔ سوائے صادق کے اس تمیز کو کوئی نہیں معلوم کر سکتا۔ صادق ہی کراہت والم کی حقیقت کو کراہت والم کی صورت سے جدا کر سکتا ہے اور صفات بشریت کی حقیقت کو صفات بشریت کی صورت سے الگ کر سکتا ہے۔ <strong>والله</strong><strong> </strong><strong>سبحانہ</strong><strong> </strong><strong>الهادي</strong><strong> </strong><strong>إلى</strong><strong> </strong><strong>سبيل</strong><strong> </strong><strong>الرشاد</strong><strong> </strong><strong>(</strong>اللہ تعالی ہی راہ راست کی طرف ہدایت کرنے والا ہے)۔&nbsp;</p>



<p>نیز آپ نے پوچھا ہے۔ کو عدم کو لاشےمحض کہتے ہیں پس اس کا وجود نہ ہوگا اور جب اس کا وجود نہ ہوا تو پھر اس وجود کیساتھ جو ذہن میں پیدا ہو۔ اس کے آثار وترقیاں کس طرح ہوں گی اور اگر ہوں گی بھی توذہنی ہونگی۔ دائرہ خیال سے کسی طرح نکل سکتی ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اس کا جواب یہ ہے کہ عدم اگر چہ لاشے ہے لیکن اشیاء کا یہ سب کارخانہ اسی عدم کے ساتھ قائم ہے اور اشیاء کی تفصیل و کثرت کا منشاء اسی کا آئینہ ہے۔ اسماء الہی کی علمیہ صورتوں نے جوعدم کے آئینہ میں منعکس ہوتی ہیں اس کومتمیز کر دیا ہے اور ثبوت علمی بخشا ہے اور اس کو محض لاشے ہونے سے نکال کر آ ثار واحکام کا مبدأ &nbsp;بنا دیا ہے۔ یہ آثار واحکام خانہ علم کے باہر بھی موجود ہیں اور مرتبہ حس و وہم میں بھی ثابت ہیں۔ چونکہ انہوں نے حق تعالی کی مضبوط صنعت ہونے کے باعث اس مرتبہ میں ایسا ثبات و استقرار پیدا کر لیا ہے کہ حس و وہم کے زوال سے بھی زائل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے کہہ سکتے ہیں کہ یہ آثار و احکام خارجی ہیں۔ آپ عدم کی ترقیوں سے کیوں تعجب کرتے ہیں۔ موجودات کا یہ سب کروفر زیب وزینت عدم پرمبنی&nbsp;ہے۔ آپ کو حق تعالی کی کمال قدرت کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ جس نے عدم سے اس قسم کا لمبا چوڑا کارخانہ بنا دیا ہے اور وجود کے کمالات کو اس کی نقیضوں اور ضدوں سے ظاہر فرمایا ہے۔ عدم کی ترقی کا راستہ کامل طور پر واضح ہے کہ اسماء الہی کی علمیہ صورتیں اس کی حجر میں متمکن اور اس کے ساتھ ہم بستر اور ہم بغل ہیں ۔ صورت سے حقیقت کی طرف اور ظلال سے اصل کی طرف سیدھی شاہراہ جاتی ہے کوئی اندھاہی ہوگا جس کو نظر نہ آتا ہوگا۔ <strong>إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا</strong> (یہ بڑی نعمت ہے۔ اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف راستہ نکال لے) ذہن و خیال کا لفظ آپ کو شبہ میں نہ ڈال دے اورآثار و تر قیات کو آپ کی نظر میں مشکل نہ کر دے کیونکہ کوئی معاملہ علم وخیال سے باہر نہیں ہے۔ ہاں خیال خیال میں فرق&nbsp; ہے مرتبہ وہم و خیال میں خلق ہونا اور امر ہے اور وہم و خیال کا اختراع اور امر صورت اول نفس الامری اور حقیقی ہے اور کہہ سکتے ہیں کہ موجود خارجی بھی ہے اور صورت د<em>وم</em><em> </em><em>ا</em>س دولت اور اس ثبات و استقرار سے بے بہرہ ہے۔ عدم کے بعض ہنر معرفت کے بیان میں علیحدہ لکھے ہیں۔ جن کی نقل محب اللہ لے گیا ہے۔ اگر زیادہ ذوق ہو تو وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔&nbsp;</p>



<p>نیز آپ نے فنا و بقا کی نسبت پوچھا تھا۔ اس فقیر نے ان کلمات کے معنی اپنی کتابوں اور رسالوں میں جا بجا لکھے ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد بھی اگر کچھ پوشیدگی رہ گئی ہو تو اس کا علاج حضور و شفاه ہے (خدمت میں حاضر ہونا اور سامنے گفتگوکرنا) پوری پوری حقیقت لکھی نہیں جاسکتی کیونکہ اس کا اظہار صلاح و بہتری سے دور نظر آتا ہے اور اگر پوری پوری حقیقت لکھی جائے اور ظاہر کی جائے تو کوئی اس کو کیا جانے گا اور کیا سمجھے گا۔ فنا و بقا شہودی ہے وجودی نہیں، کیونکہ بندہ ناچیز نہیں ہوتا اور حق تعالی کے ساتھ متحد نہیں ہوتا <strong>العبد عبد</strong><strong> </strong><strong>دائما والرب</strong><strong> </strong><strong>رب</strong><strong> </strong><strong>سرمدا</strong><strong> (</strong>بنده بندہ اور خدا خدا ہے) وہ زندیق (بے دین) &nbsp;ہیں جو فنا و بقا کو وجودی تصور کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ بندہ اپنے وجودی تعینات کو رفع کر کے اپنے اصل کے ساتھ جو تعینات و قیود سے منزہ ہے متحد ہو جاتا ہے اور اپنے آپ سے فانی ہو کر اپنے رب کے ساتھ بقا حاصل کر لیتا ہے جیسے قطرہ اپنے آپ سے فانی ہو کر دریا سے مل جاتا ہے اور اپنی قید کو رفع کر کے مطلق کے ساتھ متحد ہو جاتا ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>اعاذنا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>س</strong><strong>بحانه</strong><strong> </strong><strong>عن</strong><strong> </strong><strong>معتقد</strong><strong> </strong><strong>اتهم</strong><strong> </strong><strong>السؤء</strong><strong> (</strong>اللہ تعالی ہم کو ان کے ایسے برے عقیدے سے بچائے) فنا کی حقیقت یہ ہے کہ ماسوی اللہ بھول جائے اورحق تعالی کے سوا غیر کی گرفتاری اورتعلق دور ہو جائے اور سینے اور دل کا میدان اپنی تمام مرادوں اور خواہشوں سے پاک و صاف ہوجائے یہی مقام بندگی کے مناسب ہے اور بقا یہ ہے کہ ایسی آیات کے مشاہدہ کے بعد بندہ اپنے مولا جل شانہ کی مرادوں پر قائم رہے اور حق تعالی کی مرادوں کو عین اپنی مرادیں معلوم کرے&nbsp;۔ نیز آپ نے پوچھا تھا کہ وہ سیر جوانفس کے باہر ہے وہ کونسا ہے۔ کیونکہ عالم خلق اور عالم امر کے دسوں مرتبوں کا سیر اور ہیئت وحدانی(تمام لطائف اورجسم) کا سیر جب انفس میں داخل ہے پھر اس کے ماوراء کونسا سیر ہے۔</p>



<p>&nbsp;جواب : واضح ہو کہ انفس بھی آفاق کی طرح اسماءالہی کےظلال ہیں۔ جب ظل فضل خداوندی&nbsp; سے اپنے آپ کوفراموش کر کے اپنے اصل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنے اصل کی محبت پیدا کر لیتا ہے تو <strong>المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ</strong> (آدمی &nbsp;اسی کے ساتھ ہو گا۔ جس کے ساتھ اس کو محبت ہوگی) کے موافق اپنے آپ کو بعینہ وہی اصل معلوم کریگا اور اپنے انا کو اسی اپنے اصل پر ڈالے گا۔ اسی طرح چونکہ اس اصل کا اور اصل ہے۔ پس اصل سے اس اصل تک پہنچ جائے گا۔ بلکہ اپنے آپ کو اس اصل کا عین معلوم کرے گا۔ <strong>و ھلم جرا إلى أن يبلغ الكتاب أجله&nbsp;</strong>یہاں تک کہ کتاب اپنی اجل تک پہنچ جائے) یہ سیرانفس و آفاق کے ماوراء ہے۔&nbsp;</p>



<p>واضح ہو کہ بعض لوگ سیرانفسی کوسیر فی اللہ کہتے ہیں، لیکن وہ سیرجس کا ابھی بیان ہو چکا&nbsp;ہے۔ یہ سیرفی اللہ اور سیرانفسی کے ماوراء ہے، کیونکہ یہ سیر حصولی ہے اور وہ سیر وصولی اور حصول ووصول کے درمیان جو فرق ہے وہ متعدد مکتوبات میں لکھا جا چکا ہے۔ اس سے معلوم کر لیں۔&nbsp;</p>



<p>نیز آپ نے حق تعالی کی ذات وصفات و افعال کے اقرب ہونے کی نسبت دریافت کیا تھا۔ اس کا بیان بھی حضور کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اس کا لکھنا اچھا نہیں اور اگر لکھا بھی جائے تو پھر بھی اس کاسمجھنا مشکل ہے اور اگر حضور میں یعنی سامنے بیان کرنے سے بھی سمجھ میں آ جائے تو غنیمت ہے۔&nbsp;</p>



<p>نیز آپ نے مرتبہ نبوت کے کمالات کی نسبت پوچھا تھا کہ فناو بقا تجلی اور تعین کا مبداء&nbsp;ہونا سب کمالات ولايات ثلاثہ کے مراتب میں ہیں۔ کمالات نبوت کے مراتب میں سیرکس طرح ہے۔</p>



<p>&nbsp;جواب: واضح ہو کہ مراتب عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالی کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) &nbsp;میں جب تک کہ مراتب ایک دوسرے سے متمیز ہیں اور ان میں ایک اصل سے دوسرے اصل کی طرف جانا پڑتا ہے۔ یہ سب کمالات دائرہ ولایات میں داخل ہیں جب یہ تمیز برطرف ہو جاتی ہے اور تفصیل کم ہو جاتی ہے اور معاملہ محض اجمال و بساطت محض سے جا پڑتا ہے تو پھر مرتبہ نبوت کے کمالات شروع ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ میں بھی اگر چہ وسعت ہے۔ <strong>إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ</strong><strong> </strong><strong>(</strong><strong>الله</strong><strong> </strong>تعالی گھیرنے والا اور جانے والا ہے لیکن وہ وسعت اور ہی وسعت ہے اور وہ تمیز اوری تمیز ہے۔ اس سے زیادہ کیا کہیں اور کیا سمجھائیں۔ <strong>رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا</strong><strong> </strong>(یا اللہ تو اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کام سے ہدایت و بھلائی ہمارے نصیب کر)&nbsp;نماز کے بعض اسرار جو آپ نے دریافت کیے تھے۔ اس کا جواب کسی دوسرے وقت پر موقوف رکھا ہے۔ کیونکہ اب وقت بہت تنگ ہے۔ زمانہ اور اہل زمانہ سے سرقہ کر کے یعنی چوری چوری اور پوشیدہ کچھ نہ کچھ لکھا جاتا ہے۔ آپ فقیر کے حال پررحم کریں اور استفسار پر دلیر نہ ہوتے جائیں۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>ہےرَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ </strong>(یا اللہ تو ہمارے گناہوں اور کام میں ہماری زیادتیوں کو بخش اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھے اور کافروں پر ہمیں مدد دے) ۔ <strong>والحمد لله رب العلمين أولا و اخرا والصلوة والسلام والتحية على رسوله دائما و سرمدا و على الہ الكرام وصحبہ العظام إلى </strong>يوم القيامة اول وآخر اللہ رب العلمین کاحمد اور اس کا احسان ہے اور اس کے رسول اور ان کی آل بزرگوار اور اصحاب کرام پر قیامت تک ہمیشہ صلوۃ والسلام وتحیت ہو۔ </p>



<p>الحمد للہ و المنتہ کے دریں ایام فرخنده فرجام کتاب مستطاب ہادی شیخ و شاب منبع فیوض و برکات یعنی مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت خواجہ خواجگان شاه باز لامکان مقبول بارگاہ صمد حضرت شیخ احمد فاروقی نقشبندی سرہندی رحمتہ الله علیہ دفتر دوم بوقت سعید باتمام رسید<strong>۔ </strong></p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ327 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></span></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25ae%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2581-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-99-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af-2%2F&#038;title=%D9%85%D8%AE%D8%AA%D9%84%D9%81%20%D8%B3%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2099%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-99-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af-2/" data-a2a-title="مختلف سوالوں کے جواب مکتوب نمبر 99 دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-99-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قرب ومعیت کے  راز مکتوب نمبر 98 دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%b1%d8%a8-%d9%88%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-98-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%b1%d8%a8-%d9%88%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-98-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af%d9%88%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Nov 2021 22:17:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اتصال و انفصال کی نسبت]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ تعالی عالم کے متصل اوت منفصل نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ تعالی عالم میں نہ داخل ہے نہ خارج]]></category>
		<category><![CDATA[دخول و خروج کی نسبت]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4163</guid>

					<description><![CDATA[&#160;اس قرب ومعیت کے راز میں جو اللہ تعالی کو عالم کے ساتھ ہے اور شرارت عدم اور شرارت اہلیس کے درمیان فرق کے بیان میں جامع علوم و اسرار مخدوم زاده&#160;خواجہ محمد &#160;سعید وخواجہ محمد معصوم کی طرف صادر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%b1%d8%a8-%d9%88%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-98-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af%d9%88%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;اس قرب ومعیت کے  راز میں جو اللہ تعالی کو عالم کے ساتھ ہے اور شرارت عدم اور شرارت اہلیس کے درمیان فرق کے بیان میں جامع علوم و اسرار مخدوم زاده&nbsp;خواجہ محمد &nbsp;سعید وخواجہ محمد معصوم کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی</strong><strong> </strong>(الله تعالی کا حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)</p>



<p>&nbsp;تم نے سوال کیا کہ علماء نے کہا ہے کہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حق تعالی نے عالَم میں داخل</span></strong> ہے۔ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>نہ اس سے خارج</strong></span>&nbsp;نہ عالم کے ساتھ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">متصل </span></strong>ہےاور نہ اس سے <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>منفصل</strong></span>۔ اس بحث کی تحقیق کیا ہے:۔</p>



<p>جواب: اس <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">دخول وخروج</span></strong> <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">اتصال وانفصال </span></strong>کی نسبت کا حاصل ہونا دو وجود کے دیکھنے پر متصور ہے کہ ایک موجود دوسرے موجود کے مقابلہ میں اس نسبت سے خالی نہ ہو اور صورت مذکورہ بالا&nbsp;میں دو موجود کائن( ثابت) نہیں ہیں تا کہ یہ نسبت حاصل ہو سکے۔ کیونکہ حق تعالی موجود ہے اور اس کے ماسوا عالم سب موہوم(تصوراتی) ومتخیل ہے۔ عالم نے اگر چہ حق تعالی کے بنانے سے اس قسم کا استحکام اور مضبوطی حاصل کی ہے۔ کہ وہم و خیال کے اٹھنے سے اٹھ نہیں سکتا اور دائمی ر<em>نج و </em>راحت کا معاملہ اس پر وابستہ ہے، لیکن اس کا ثبوت حس و وہم کا درجہ ہے اورحس و وہم سے بڑھ کر اس کا کوئی رتبہ نہیں۔ یہ حق تعالی کی ہی کمال قدرت ہے کہ جس نے موہوم ومتخیل کو ثبت و استقرار دے کر موجود کا علم عطا فرمایا ہے اور موجود کے احکام اس پر جاری کیے ہیں، لیکن موجود موجود <em>ہے </em>اور موہوم موہوم گو ظاہربین موہوم و متخیل کو اس کے ثبات و استقرار پرنظر کر کے اس کو&nbsp;بھی موجودتصورکرتے ہیں اور دو موجود جانتے ہیں۔ اس مضمون کی تحقیق میں نے اپنی کتابوں اور رسالوں میں مفصل طور پر لکھی ہے۔ اگر حاجت ہو تو وہاں رجوع کریں۔ پس موجود کی موہوم کے ساتھ اس قسم کی کوئی نسبت ثابت نہ ہوگی۔ تو اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجود نہ موہوم میں داخل ہے نہ اس سے خارج نہ وہ موہوم کے ساتھ متصل ہے نہ اس سےمنفصل کیونکہ جہاں موجود ہے وہاں موہوم کا نام ونشان نہیں تا کہ اس کے ساتھ اس نسبت کا تصور کیا جائے۔&nbsp;</p>



<p>اس بحث کو ایک مثال سے واضح کرتا ہوں۔ نقطہ جوالہ(گھومنے والا) جو سرعت سیر کے باعث دائرہ کی صورت میں متوہم ہوتا ہے۔ یہاں موجود صرف وہی نقطہ ہے اور دائرہ کی صورت سواۓ وہم&nbsp;کے ثابت نہیں اور جہاں نقطہ موجود ہے وہاں دائرہ &nbsp;موہومہ کا نام ونشان تک نہیں۔ اس صورت میں نہیں کہہ سکتے کہ نقطہ دائرہ میں داخل ہے یا دائرہ سے خارج ہے۔ اسی طرح اتصال و انفصال بھی ان کے درمیان متصورنہیں، کیونکہ اس مرتبہ میں کوئی دائرہ نہیں تاکہ نسبت تصور ہو&nbsp;سکے<strong>۔ثبت الجدار أولا ثم النقش </strong>اول دیوار ثابت ہو تو پھر اس نقش ظاہر ہونگے۔</p>



<p>سوال:حق تعالی نے عالم کے ساتھ اپنے قرب واحاط کی نسبت ثابت کی ہے۔ حالانکہ موجود&nbsp;کو موہوم کے ساتھ کسی طرح قرب و احاطہ کی نسبت نہیں ۔ کیونکہ جہاں موجود ہے وہاں موہوم کا نام و نشان تک نہیں تا کہ محیط ومحاط(حفاظت گاہ) تصور کیا جائے۔</p>



<p>جواب: یہ قرب و احاطہ اس قسم کانہیں ہے جیسے کہ ایک جسم دوسرے جسم کے قریب ہوتا ہے یا ایک جسم دوسرے جسم کو محیط ہوتا ہے بلکہ اس قرب و احاطہ کی نسبت مجہول الکیفیت اور معلوم الانیت بھی ہے اس کے ساتھ ایمان لاتے ہیں۔ مگر اس کی کیفیت کو نہیں جانتے کہ کیسی ہے۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;برخلاف پہلی چار نسبتوں(دخول و خروج اتصال و انفصال) کے جن کی پہلے نفی ہو چکی ہے کیونکہ وہ مجہول الکیفیت بھی ہیں اور غیر معلوم الانیت(وہ ماہیت جو برہان و دلیل سے مسلم ہو) بھی۔ اس لیے کہ شرع میں ان نسبتوں کے ثبوت کے لیے کچھ وارد نہیں ہوا تا کہ ان کو ثابت کریں اور ان کی کیفیت کو مجہول جانیں ۔ اگر چہ حق تعالی کی بارگاہ میں بے کیفی قرب و احاطہ کی نسبت کی طرح بے کیفی اتصال کی نسبت بھی تجویز کر سکتے ہیں، لیکن چونکہ لفظ اتصال کا اطلاق نہیں آیا اور قرب و احاطہ کا آیا ہے اس لیے متصل نہ کہنا چاہئے اور قریب ومحيط&nbsp;<strong>کہنا </strong>چاہئے اور انفصال وخردج و دخول کا اطلاق بھی اتصال کی طرح جونہیں آیا۔ مثال مذکور میں اگر نقطہ جوالہ کے لیے دائرہ موہومہ کے ساتھ احاطہ و قرب ومعیت کی نسبت ثابت کریں تو وہ بھی مجہول الکیفیت ہوگی، کیونکہ نسبت کے لیے ہر دومنتسب (جس کے در میان نسبت ہو) کا ہونا ضروری ہے ، لیکن وہاں سوائے نقطہ جوالہ کے کچھ موجود ہیں۔ ایسے ہی اتصال و انفصال و دخول وخروج بے کیفی مثال مذکور میں متصور ہے اگر چہ منتسبین ثابت نہیں۔ کیونکہ طرفین کا وجود معلوم الکیفیت نسبت کے لیے ضروری ہے جیسے کہ متعارف و معتاد ہے، لیکن جو مجہول الکیفیت ہے وہ احاطہ عقل سے باہر ہے۔ وہاں وجودطرفین کا حکم کرنا احکام وہمیہ سے ہو گا۔ جو اعتبار سے ساقط ہے۔ گویا غیب کا قیاس حاضر پر ہے۔</p>



<p>&nbsp;تنبیہ : عالم کو جو موہم ومتخیل کہا ہے اس اعتبار سے کہا ہے کہ عالم کی پیدائش مرتبہ وہم و خیال میں واقع ہے اور اس کی صنع حس و ارائت(دکھاوا) کے درجہ میں حاصل ہوئی ہے جس طرح قادر اپنی کمال قدرت سے دائرہ موہومہ کو جس کا وہم و خیال کے اختراع کے سوا کچھ ثبوت نہیں ۔ مرتبہ وہم و خیال میں پیدا فرمائے اور اپنی کمال صفت سے اس کو اس مرتبہ میں اس قسم کا استحکا<em>م</em><em> </em>اور اتفاق بخشے۔ کہ اگر وہم و خیال سب کا سب دور ہو جائے۔ تو اس کے ثبوت میں کوئی خلل نہ آئے اور اس کے بقا میں کوئی قصور پیدا نہ ہو۔ یہ دائرہ &nbsp;مصنوعہ موہومہ اگر چہ خارج میں ثبوت نہیں رکھتا اور خارج میں صرف وہی نقطہ موجود ہے لیکن وجود خارجی کے ساتھ انتساب و استناد رکھتا ہے کیونکہ اگر نقطہ نہ ہوتا دائرہ کہاں سے پیدا ہوتا۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>خوشتر آن باشد که سردلبراں گفته آید در حدیث دیگراں</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ: ہے یہ بہتر که راز دلبراں دوسروں کی گفتگو میں ہو عیاں</p>



<p>اگر اس دائرہ کو اس نقطہ کا روپوش کہیں تو ہوسکتا ہے اور اگر اس نقطہ کے شہود(مشاہدہ) &nbsp;کا آئینہ کہیں تو بھی گنجائش رکھتا ہے اور اگر اس نقطہ کی طرف ہادی اور دلیل کہیں تو بھی بجا ہے۔ روپوش کہنا عوام کی نظر کے اعتبار سے ہے اور اس نقطہ کے شہودظہور کا آئینہ جاننا مقام ولایت&nbsp;کے مناسب اور ایمان شہودی کے ملائم ہے اور دلیل و ہادی کہنا مرتبہ کمالات نبوت کے مناسب اور ایمان بالغیب کے ملائم ہے۔ جو ایمان شہودی سے اتم واکمل ہے، کیونکہ شہود(مشاہدہ) &nbsp;میں ظل کی گرفتاری سے چارہ نہیں۔&nbsp;</p>



<p>اورغیب میں اس گرفتاری سے آزاد ہوتے ہیں۔ غیب میں سالک اگر چہ بالفعل کچھ حاصل نہیں رکھتا، لیکن واصل ہے اور اصل کا گرفتار ہے اور شہود(مشاہدہ) &nbsp;میں اگر چہ کچھ حاصل رکھتا ہے، لیکن غیر واصل ہے۔ کیونکہ غیریعنی اس اصل کے ظل کے ساتھ گرفتار ہے۔&nbsp;</p>



<p>غرض حصول سراسر نقص ہے اور وصول سراسر کمال یہ بات بے سروسامان کی سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ عجب نہیں کہ حصول کو وصول سے بہتر جانیں۔ سوفسطائی(&nbsp;فلسفیوں کا گروہ جس کے اصول کی بنیاد وہم پر ہے) اپنی بیوقوفی کے باعث عالم <em>کو موہوم ومتخیل</em> اس اعتبار سے کہتا ہے کہ وہم کے اختراع اور خیال کی تراش کے سوا اس کا کچھ ثبوت و تحقق نہیں ۔ اگر وہم و خیال بدل جائے تو وہ ثبوت وتحقق بھی متغیر ہو جائے ۔ مثلا اگرو ہم نے کسی چیز کے شیریں ہونے کا حکم کیا تو وہ شیریں ہے اور اگر وہم نے دوسرے وقت اسی شے کےتلخ &nbsp;ہونے کا حکم کیا تو تلخ ہے۔ یہ بد بخت لوگ حق تعالی کی صنعت وخلقت سے غافل نہیں بلکہ منکر ہیں اور اس انتساب و استناد سے جو موجود خارجی کے وجود کے ساتھ رکھتا ہے۔ جاہل ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنی نادانی سے ان احکام خارجیہ کو جو عالم سے وابستہ ہیں رفع کریں اور آخرت کے دائمی عذاب و ثواب کورفع کریں۔ جس کی نسبت مخبرصادق علیہ الصلوة نے خبر دی ہے اور اس میں کسی قسم کا خلاف نہیں ہے۔ <strong>أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ</strong> یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ خبردار شیطان کا گروہ ہی خسارہ پانے والا ہے۔</p>



<p>سوال: جب عالم کے لیے ثبات و استقرار ثابت ہوا۔ اگر چہ مرتبہ وہم و خیال ہی میں ہو اوردائمی رنج و راحت کا معاملہ بھی اس کے حق میں ثابت ہو گیا۔ تو پھر وجود کا اطلاق اس پر کیوں تجویز نہیں کرتے اور اس کو موجود کیوں نہیں جانتے۔ حالانکہ ثبوت و وجود ایک دوسرے کے مترادف اور ہم معنی ہیں ۔ جیسے کہ متکلمین کے نزدیک مقرر ہے۔</p>



<p>&nbsp;جواب: وجود اس گروہ کے نزدیک تمام اشیاء میں سے اشرف واکرم اور اعز ہے اور اس کو ہرخیر وکمال کا مبداء جانتے ہیں ۔ اس قسم کے جو ہرنفیس کو ماسوائے حق کے لیے جو سراسر نقص و شرارت ہے تجویز نہیں کر سکتے اور اشرف کو اخص کے حوالہ نہیں کر سکتے۔ اس امر میں ان کا مقتدا ان کا اپنا کشف وفراست ہے۔ ان کے ہاں مکشوف ومحسوس ہے کہ وجود حق تعالی کے ساتھ مخصوص ہے اور وہی موجود ہے اور اس کے غیر کو جو موجود کہتے ہیں تو اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ اس غیر کو نسبت وارتباط گو مجہول الکیفیت ہو اس وجود کے ساتھ ثابت ہے اورظل کی طرح جو اپنی اصل سے قیام رکھتا ہے وہ غیر بھی اس وجود کے ساتھ قائم ہے اور وہ ثبوت بھی جو مرتبہ وہم و خیال میں پیدا ہے۔ اس وجود کے ظلال میں سے ایک ظل ہے اور چونکہ وہ وجود خارجی ہے اورحق تعالی خارج میں موجود ہے۔ اس لیے اگر مرتبہ وہم کو حق تعالی کی صنعت و استحکام کے بعد اس خارج کے ظلال میں ظل بھی ہیں تو ہوسکتا ہے۔ اگر اس ثبوت وہمی کو ان دوظلیت کے اعتبار سے وجود خارجی بھی جانیں تو جائز ہے۔ بلکہ عالم کو بھی اگر ظلیت کے اس اعتبار سے موجود خارجی تصور کریں تو بھی بجا ہے۔&nbsp;</p>



<p>غرض ممکن جو کچھ رکھتا ہے۔ سب مرتبہ حضرت وجود تعالی سے رکھتا ہے۔ اپنے باپ کے گھر سے کچھ نہیں ہے۔ ظلیت کے ملاحظہ کے بغیر اس کو موجود خارجی کہنا دشوار ہے۔ گویا خاص خاص اوصاف میں اس کو حق تعالی کے ساتھ شریک بناتا ہے۔ تعالی الله عن ذلك علوا کبیرا اللہ تعالی اس قسم کی باتوں سے برتر و بزرگ ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس فقیر نے بعض مکتوبات اور رسالوں میں جو عالم کو موجود خارجی کہا ہے۔ اس کو بھی اس بیان کی طرف راجع کرنا چاہئے اور ظلیت کے اعتبار پرحمل کرنا چاہئے اور وجودکوجومتکلمین&nbsp;نے ثبوت وتحقق کا مترادف کہا ہے۔ لغوی معنوں کے اعتبار سے ہو گا۔ ورنہ وجود کجا اور ثبوت کجا۔ ارباب کشف و شہود(مشاہدہ) &nbsp;اور اہل نظر و استدلال میں سے جم غفیر نے وجود کو واجب الوجود کی عین حقیقت کہا ہے اور ثبوت معقولات ثانویہ میں سے ہے۔ <strong></strong><strong>۔ شَتَّانِ مَا بَيْنَهُمَا</strong> (ان دونوں میں بہت فرق ہے)</p>



<p>&nbsp;فائدہ: جس طرح وجود ہر خیر وکمال کا مبداء اور ہر حسن و جمال کامنشا ہے۔ اسی طرح عدم جو اس کے مقابل ہے۔ بیشک ہر شرو نقص کا مبداء اور ہر قبح وفساد کا منشاء ہوگا۔ اگر وبال ہے وہ بھی اس سے پیدا ہے اور اگر گمراہی ہے تو وہ بھی اس سے ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ کئی قسم کے ہنر بھی اس میں رکھے گئے ہیں اور کئی قسم کی خوبیاں اس میں پوشیدہ ہیں۔ وجود کے مقابلے میں اپنے آپ کومطلق نیست و نابود اور لاشے محض کرنا عدم ہی کی خوبی ہے اور اپنے آپ کو وجود کا محافظ بنانا اور تمام شرو نقص کو اپنے ذمے لینا اس کے ہنر کی خوبی ہے اور وجود کا آئینہ بننا اور اس کے کمالات کا اظہار کرنا اور ان کمالات کو خانہ علم کے باہر ایک دوسرے سے ممتاز کرنا اور اجمال&nbsp;سے تفصیل میں لانا اس کی پسند یدہ صفتوں میں سے ہے۔ غرض وجود کی خدمتگاری اور کارگزاری اس سے قائم ہے اور اس کا حسن و جمال اس کےقبح وشرونقص سے ظاہر ہے۔ وجود کا استغناء عدم ہی کی محتاجی کے باعث ہے اور وجود کی عزت اس کی ذلت کے سبب سے ہے۔ وجود کی عظمت و کبر یا اس کے ادنے اور اسفل ہونے کے باعث ہے اور وجود کی شرافت اسی کی خست&nbsp;سے پیدا ہے اور وجودکی خواجگی اس کی بندگی سے ہویدا ہے۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>منم استاد را استاد کر دم غلامم خواجہ را آزاد کردم&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: کیا استاد کو میں نے ہی استاد کیا خواجہ کو بندہ بن کے آزاد&nbsp;</p>



<p>ابلیس لعین جو ہرفساد و گمراہی کا مبداء ہے۔ عدم سے بھی زیادہ شریر ہے اور بدبخت ان ہنروں سے بھی جوعدم میں پائے جاتے ہیں۔ بے نصیب ہے۔ اناخير منه(میں اس سے بہتر ہوں) جواس سے صادر ہوا ہے۔ اس نے تمام خیریت و بہتری کا مادہ اس سے دور کر دیا ہے اورمحض شرارت پر دلالت&nbsp;کی ہے۔ عدم نے چونکہ اپنے نیست ولاشے ہونے سے وجود کا مقابلہ کیا اس لیے وجود کے حسن و جمال کا آئینہ بن گیا اور لعین نے چونکہ اپنی ہستی و خیر یت کے باعث وجودکا معارضہ کیا۔ اس&nbsp;لیے مردود و مطرود ہوگیا۔ تقابل کی خوبی عدم سےسیکھنی چاہئے کہ ہستی کے مقابل نیستی &nbsp;&nbsp;&nbsp;دکھا تا ہے اور کمال کے مقابل نقص ظاہر کرتا ہے اور جب عزت و جلال کے مقابلہ آتا ہے تو ذلت و انکسار&nbsp;ظاہر کرتا ہے۔ گویا لعین مردود و مطرود نے اپنے تکبر دسرکشی کے باعث عدم کی تمام شرارتوں کو اپنے ذمے لے لیا ہے اور خیال میں آتا ہے کہ اس نے خیر یت کے سوا عدم میں کچھ نہیں چھوڑا۔ ہاں جب تک خیر نہ ہو۔ خیر کا آئینہ اورمظہر نہیں بن سکتا۔ <strong>لَا يَحْمِلُ عَطَايَا الْمَلِکِ إِلَّا مَطَايَاهُ</strong> بادشاہ کے عطیوں کو اسی کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔مثل مشہور ہے اور معلوم ہوا کہ ابلیس کارخانہ عالی میں کام کرتا رہا ہے جس نے کناسی و خاکروبی کر کے سب کا کوڑا کرکٹ اپنے سر پر اٹھالیا ہے اور اوروں کو پاک و صاف کر دیا ہے لیکن چونکہ وہ بد بخت تکبرو برائی سے پیش آیا اور اپنی بہتری دخیریت کو نظر میں لایا اس لیے اس نے اپنے عمل کو ضائع کر دیا اور اجر سے محروم ہو گیا۔ درحقیقت خسرالدنيا والاخره اسی کے حال کا نشان ہے۔ برخلاف عدم کے جو باوجود ذاتی شرارت ونقص ونیستی &nbsp;کے مقام حرمان و محرومی سے نکل کر حضرت وجود کے مرآتیت یعنی آئینہ بننے سے مشرف ہوا۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>نے گفت کہ من نیم شکر خورد شاخےکہ بلند شد تبرخورد&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: نے نے کہا نہیں میں پایا شکر کواس نے&nbsp; کی شاخ نے بلندی کھایا تبر کو اس نے</p>



<p>سوال:ابلیس لعین میں اتنی شرارت کہاں سے پیدا ہوگئی۔ کیونکہ عدم سے ماوراء وجودہی ہے۔ جس کی طرف شرارت نےراہ نہیں پائی۔&nbsp;</p>



<p>جواب: جس طرح عدم وجود کا آئینہ اور خیر و کمال کا مظہر ہے اسی طرح وجودبھی عدم کا آئینہ اورشروقص کا مظہر ہے۔ ابلیس علیہ اللعنت نے عدم کی جانب میں شرارت کو عدم ہی سے لیا ہے جو شر کا موطن و مقام ہے اور وجود کی جانب میں بھی اس شرارت متوہمہ کو اخذ کیا ہے۔ جو اس کے وجود کے آئینہ میں عدم کے آئینہ اور مظہر بننے کے باعث ظاہر ہوئی تھی۔ گویا دونوں طرفوں کی شرارت یعنی ذاتی دعرضی اور اصلی وظلی شرارت کا اٹھانے والا۔&nbsp;</p>



<p>پس اس کے شرارت نما وجود کے مالی خولیا نے اس کو نیست و لاشے ہونے سے جو عدم کی نیک صفتوں میں سے ہے۔ محروم رکھا اور وجود کی جانب میں بھی وہ شرارت جو عدم کے آئینہ&nbsp;بنے سےمتو ہم ہوئی تھی وہ بھی اسی کے نصیب ہوئی اس لیے ابدی خسارہ اور دائمی گھاٹا اس کے ہاتھ آیا۔</p>



<p> <strong>رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ </strong>(یا اللہ تو ہدایت دے کر ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما تو بڑا بخشنے والا ہے</p>



<p><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ العُلیٰاَتَمَّهَا وَاَدْوَمَهَا</strong></p>



<p><strong>&nbsp;</strong>اور سلام ہو آپ پر اوران &nbsp;لوگوں پر جو ہدایت کے رستہ پر چلے اور جنہوں نے حضرت محمدﷺکی متابعت کو لازم پکڑا۔ &nbsp;</p>



<p><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ320 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8-%25d9%2588%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-98-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2588%25d9%2585%2F&#038;title=%D9%82%D8%B1%D8%A8%20%D9%88%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%20%D8%B1%D8%A7%D8%B2%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2098%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%b1%d8%a8-%d9%88%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-98-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af%d9%88%d9%85/" data-a2a-title="قرب ومعیت کے  راز مکتوب نمبر 98 دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%b1%d8%a8-%d9%88%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%a7%d8%b2-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-98-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%af%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حسن ملاحت اور حسن صباحت مکتوب نمبر97دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b5%d8%a8%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b197%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b5%d8%a8%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b197%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Oct 2021 02:09:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[شاہوں کی شان و شوکت]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3726</guid>

					<description><![CDATA[&#160;ایک سوال کے جواب میں جس میں اسی دفتر کے چھٹے مکتوب کاحل طلب کیا گیا تھا۔&#160;&#160; خواجہ ہاشم کشمی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (الله تعالیٰ &#160;کی حمد ہے اور اس کے&#160;برگزیدہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b5%d8%a8%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b197%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;ایک سوال کے جواب میں جس میں اسی دفتر کے چھٹے مکتوب کاحل طلب کیا گیا تھا۔&nbsp;&nbsp;</p>



<p>خواجہ ہاشم کشمی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ &nbsp;کی حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&nbsp;آپ نے پوچھا تھا کہ اس عبارت کے کیا معنی ہیں جو چھٹے مکتوب(دفتر دوم) میں واقع ہے کہ میں خیال کرتا ہوں کہ میری پیدائش سے مقصود <em>یہ</em><em> </em>ہے کہ ولایت محمدی ﷺ ولایت ابرا ہیمی علیہ الصلوة والسلام کے رنگ میں رنگی جائے اور ولایت محمدیﷺ کا حسن ملاحت ولایت ابرا ہیمی کے جمال صباحت کیساتھ مل جائے اور اس انصباغ و امتزاج سےمحبو بیت محمدیہ کا مقام درجہ بلندی تک بن جائے۔&nbsp;</p>



<p>آپ کو واضح ہو کہ دلالگی(رہنمائی کرنا) اور مشاطگی(آرائش کرنا) کا منصب کسی طرح ممنوع <em>ومحضور</em> نہیں ہے۔ دلالہ جو اپنی دلالت کی خوبی سے دو صاحب جمال و کمال محبوب کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دے اور ایک کے حسن کو دوسرے کے حسن کے ساتھ خلط ملط کر دے تو اس کی کمال خدمتگاری ہے اور اس میں اس کی اپنی شرافت و سعادت <em>ہے</em><em> </em>ان دونوں صاحب جمال کے شان میں کسی قسم کا نقص وقصور لازم نہیں آتا۔ اسی طرح اگر مشاطگی کر کے ان دونوں صاحب کمال کے حسن و جمال کو بڑھانے اور زیادہ طراوت وزینت پیدا کردے۔ تو اس کی شرافت و سعادت ہے ان میں کسی قسم کا نقص و قصورلازم نہیں آتا۔</p>



<p><strong> ازاں طرف نپذ یرد کمال تو نقصاں وزیں طرف شرف روزگار من باشد </strong></p>



<p>ترجمہ: تیرے کمال میں سے ایک ذرہ کم نہ ہوگا&nbsp;لیکن میری سعادت ہو جائیگی دو بالا</p>



<p>&nbsp;غرض وہ انتفاع واستفاده جوصاحب دولتوں کو غلاموں اور خادموں کی جہت سے میسر ہوتا&nbsp;ہے۔ کوئی ممنوع ومحذور نہیں اور نہ ہی اس میں ان کا کسی قسم کا قصور نقصان ہے۔ بلکہ صاحب دولتوں کا کمال غلاموں اور خادموں کی خدمت ہی میں ہے۔ وہ شیخ بہت ہی بے نصیب ہے جو اپنے خادموں سے فائدہ اور نفع حاصل نہ کرے۔ ہاں ہم رتبه شخصوں سے نفع اور فائدہ طلب کرنا نقصان کا موجب ہے اورہمسروں سے استمد ادو استفادہ کرنا سراسر قصور ہے۔&nbsp;</p>



<p>الله تعالیٰ &nbsp;فرماتا ہے۔ &nbsp;<strong>يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ ‌حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ</strong> یا رسول اللہ&nbsp; تجھے اللہ تعالی&nbsp; اور تابعدار مومن کافی ہیں)</p>



<p>حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ اس آیت کریمہ کےنزول کا سبب حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام ہے۔ یہ بات بدیہی اور ظاہر ہے کہ ادنے اور کم درجہ والے لوگوں کی خدمت سے بزرگوں اور اعلے درجہ والے لوگوں کا مرتبہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس ظاہر اور بدیہی امر کو معلوم نہ کر سکے تو عبارت کا کیا قصور ہے۔ بادشاہ اور امیر اپنی شان و شوکت وسلطنت میں خادموں اور نوکروں چاکروں کے محتاج ہیں اور اپنے کمال کو انہی پر موقوف جانتے ہیں اور اس امر سے کوئی قصورو نقصان ان کے مرتبہ میں نہیں آتا۔ چنانچہ ہر ایک ادنے واعلے اس امر کو جانتا ہے۔ اس اشتباه کا باعث یہ ہے کہ اس انتفاع و تمتع کے (جوادنےٰ کی طرف سے آتا ہے) اور اس انتفاع تمتع <em>کے </em>(جواعلیٰ کی طرف حاصل ہوتا ہے)۔ درمیان فرق نہیں کر سکتے اور جب ظاہر ہو چکا کہ اول سے کمال بڑھتا ہے اور دوسرے سے نقصان پیدا ہوتا ہے تو اول جائز ہوگا اور دوسراممتنع <strong>وَاللَّهُ ‌سُبْحَانَهُ الْمُلْهَمُ ‌الصَّوَابَ</strong> اللہ تعالیٰ  بہتری کا الہام کرنے والا ہے۔ </p>



<p><strong>رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا</strong><strong> </strong>(یا اللہ تو اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کام سے ہدایت و بھلائی ہمارے نصیب کر) <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong>(سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p>                                            <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ318ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                                 </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d8%25b3%25d9%2586-%25d8%25b5%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b197%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&#038;title=%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D8%B3%D9%86%20%D8%B5%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B197%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b5%d8%a8%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b197%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/" data-a2a-title="حسن ملاحت اور حسن صباحت مکتوب نمبر97دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%b5%d8%a8%d8%a7%d8%ad%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b197%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رسول اللہ ﷺکا مرض موت میں کاغذ طلب کرنامکتوب نمبر96دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%ef%b7%ba%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%ba%d8%b0-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%ef%b7%ba%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%ba%d8%b0-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 29 Oct 2021 01:56:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اکابر صحابہ کی گستاخی]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3723</guid>

					<description><![CDATA[اس مضمون کےحل میں کہ پیمبر ﷺنے مرض موت میں کاغذ طلب کیا تا کہ کچھ لکھیں اور حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے مع چند اصحاب کے اس سے منع کیا خواجہ ابوالحسن بدخشی کشمی کی طرف صادر فرمایا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%ef%b7%ba%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%ba%d8%b0-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اس مضمون کےحل میں کہ پیمبر ﷺنے مرض موت میں کاغذ طلب کیا تا کہ کچھ لکھیں اور حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے مع چند اصحاب کے اس سے منع کیا خواجہ ابوالحسن بدخشی کشمی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ &nbsp;کا حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&nbsp;۔</p>



<p> سوال: حضرت رسالت خاتمیت علیہ الصلوة والسلام نے مرض موت میں کاغذ طلب کیا اور فرمایا کہ<strong> آتُونِي ‌أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا ‌لَنْ ‌تَضِلُّوا ‌بَعْدِي أبد</strong>ا كاغذ لاؤ کہ میں کچھ لکھوں تا کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو( اور حضرت فاروق رضی اللہ عنہ اور چند اور اصحاب نے منع کیا اور کہا کہ <strong>كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا</strong> (ہمیں کتاب اللہ کافی ہے اور کہا <strong>أَهَجَرَ: اسْتَفْهِمُوهُ </strong>(کیاغشی سے ایسی کلام کرتے ہیں اچھی طرح پوچھو) حالانکہ حضرت رسالت خاتمیت علیہ الصلوة والسلام جو کچھ فرمایا کرتے تھے۔ وحی سے فرمایا کرتے تھے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ  فرماتا </p>



<p><strong>ہے۔</strong><strong> </strong><strong>وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى&nbsp; إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى </strong>(وہ خواہش سے کلام نہیں کرتے بلکہ جو کچھ بولتے ہیں وحی کے مطابق بولتے ہیں) اور وحی کاردومنع کرنا کفر ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ &nbsp;فرماتا ہے۔<strong> </strong><strong>‌وَمَنْ ‌لَمْ ‌يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ </strong>جو لوگ اللہ تعالیٰ &nbsp;کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔&nbsp;</p>



<p>نیز پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام پرہجر وہذیان(بے مقصد بلا اختیار) کی کیفیت جائز کرنے سے تمام احکام شرعیہ کا&nbsp;اعتماد دور ہو جاتا ہے اور یہ کفروالحا دوزندقہ ہے۔ اس شبہ قویہ کا حل کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>جواب:خدا آپ کو سعادتمند کرے اور سیدھے راستہ کی ہدایت دے۔ آپ کو واضح ہو کہ یہ شبہ اور اس قم کے اور شبہے جو بعض لوگ حضرات خلفاء ثلاثہ رضی الله تعالیٰ  عنہم اور باقی تمام اصحاب کرام رضی اللہ عنہم پر وارد کرتے ہیں اور اس قسم کی تشکیکات اور شبہات سے ان کو رد کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر انصاف کی نظر سے دیکھیں اور حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت کے شرف ورتبہ کوقبول کریں تو ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کےنفس حضرت خیرالبشر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت میں ہوا اور ہوس سے پاک وصاف ہو چکے تھے اور ان کے سینوں سے عداوت وکینہ نکل چکا تھا تو ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی وہ اسلام اور دین کے بزرگوار ہیں جنہوں نے کلمہ اسلام کے بلند کرنے اور حضرت سیدنا ﷺ کی مدد اور دین متین کی تائید کے لیے رات دن اور ظاہر و باطن میں اپنی طاقتوں اورمالوں کو خرچ کیا ہے اور اپنے خویش و قبیلہ اور اولاد وازواج اور وطن وگھربارکھیتی کیاری باغ اور انہار وغیرہ سب کچھ رسول الله ﷺکی محبت میں چھوڑ دیا تھا اور اپنی جان اور مال و اولاد کی محبت پر رسول اللہ کی محبت کو ترجیح دی تھی۔ ان بزرگواروں نے وحی وفرشتہ کا مشاہدہ کیا تھا اورمعجزات و خوارق کو دیکھا تھا۔ ان کا غیب شہادت سے اور ان کا علم عین سے بدل چکا تھا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی تعریف اللہ تعالیٰ  قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ فرماتا ہے <strong>‌رَضِيَ ‌اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ</strong>.. <strong>ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ</strong> (اللہ تعالیٰ  ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالی سے راضی ہو گئے ۔ توریت و انجیل میں ان کی یہی مثال ہے) جب تمام صحابہ کرام ان کرامات اور فضائل میں شریک ہیں تو خلفاء راشدین جو تمام صحابہ سے افضل و اعلی ہیں۔ ان کی فضیلت و بزرگی کس قدر ہوگی۔ یہی وہ فاروق رضی الله عنہ ہیں جن کی شان میں اللہ تعالیٰ  اپنے رسول کو <strong>فرماتا ہے۔ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ </strong>اےنبی تجھ کو الله تعالى اور تیری اتباع کرنے والے مومن کافی ہیں۔ </p>



<p>حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ اس آیت کریمہ کا شان نزول حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ &nbsp;عنہ کا اسلام ہے۔ نظر انصاف کے ساتھ دیکھنے اور حضرت خیر البشر کی شرف محبت قبول کرنے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درجات کی بلند اور بزرگی معلوم کرنے&nbsp;کے بعد امید ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے اور تشکیکات کی پیروی کرنے والے لوگ ان شبہات کو مغالطوں اور زر سے منڈھی ہوئی خیالی باتوں کی طرح بے اعتبار اور خوار خیال کریں گے اور اگر ان شبہات میں غلطی کو تجویز نہ کریں اور ان کووہمی اور خیالی باتوں کی طرح نہ سمجھیں تو&nbsp; کم از کم اتنا تو ضرور جان لیں گے کہ ان شبہات اورتشکیکات کاماحاصل ہیچ و پوچ ہے۔ بلکہ اسلامی ہدایت اور ضرورت کے برخلاف ہے اور کتاب وسنت کے مقابلہ میں مردود اور مطرود(رد کیا ہوا،دھتکارا ہوا)ہے۔ اس کے علاوہ اس سوال کے جواب اور اس شبہ کی غلط فہمی کے بیان کو الله تعالیٰ &nbsp;کی مدد سے چند مقدموں میں لکھا جاتا ہے۔ غور سے سنیں۔ اس شبہ واشکال کا کامل طور پر حل کرنا چند مقدموں پہنی ہے۔ جن میں سے ہر ایک مقدمہ بجاے خود علیحدہ علیحدہ جواب مبنی ہے:۔</p>



<p> مقدمہ اول: یہ ہے کہ آنحضرت ﷺکے نام منطوقات و معقولات یعنی <em>ا</em>قوال و گفتار وحی کے مطابق نہ تھے۔ آیت کریمه <strong>وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى  </strong>نص قرآنی سے مخصوص ہے جیسے کہ مفسرین نے بیان کیا ہے۔ اگر آنحضرت ﷺکے تمام اقوال و گفتار وحی کے موافق ہوتے تو حق تعالیٰ  کی طرف سے بعض اقوال پر اعتراض وارد نہ ہوتا اور ان سے معافی کی گنجائش نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ  اپنے نبی ﷺکو مخاطب کرکے فرماتا ہے <strong>عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ</strong> <strong>(</strong>اللہ تعالیٰ  تجھے معاف کرے تو نے ان کو کیوں اذن دیا)</p>



<p> مقدمہ دوم: یہ کہ احکام اجتہادیہ اور امور عقلیہ میں آیت کریمہ ‌<strong>فَاعْتَبِرُوا يَاأُولِي الْأَبْصَارِ</strong> اے دانا ؤ عبرت پکڑو( اور آیت کریمہ<strong>‌وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ </strong>( کام میں ان سے مشورہ کرليا کرو) کے بموجب اصحاب کرام رضی الله عنہم کوحضرت ﷺکے ساتھ گفتگو کی گنجائش اور ردوبدل کی مجال تھی۔ کیونکہ اعتبار ومشورہ کا امر کرنا ردوبدل کے حاصل ہونے کے بغیرمتصورنہیں۔ جنگ بدر کے قیدیوں کے قتل اور فدیہ کے بارے میں جب اختلاف واقع ہوا تھا تو حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے قتل کا مشورہ دیا تھا اور وحی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مشورہ کے موافق آئی اور فدیہ لینے پروعید نازل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔<strong> لَوْ نَزَلَ من السماء عذاب ما نجا منهم غَيْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ</strong> (اگر عذاب نازل ہوتا تو عمرو سعد بن معاذ رضی الله عنہما کے بغیر کوئی نجات نہ پاتا) کیونکہ سعد رضی الله عنہ نے بھی ان قیدیوں کےقتل کا مشورہ دیا تھا۔</p>



<p>مقدمہ سوم: یہ کہ سہو ونسیان پیغمبر پر جائز بلکہ واقع ہے۔ حدیث ذوالید ین میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺنے چار رکعت نماز میں دورکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ذوالیدین نے عر<strong>ض</strong> <strong>‌أَقَصُرَتِ الصَّلاةُ أَمْ نَسِيتَ </strong><strong>کیا</strong><strong> </strong>آپ نے نماز کو قصر کیا ہے یا آپ بھول&nbsp; گئے۔ ذوالیدین کی صداقت ثابت ہونے کے بعد آنحضرت ﷺنے اٹھ کر دو رکعت اور ادا کیں اورسجدہ سہو ادا کیا۔ جب صحت و فراغت کی حالت میں سہو ونسيان بمقتضائے بشریت جائز ہے تو مرض موت میں درد کے غلبہ کے وقت بمقتضائے بشری حضرت ﷺسے بے قصد دبے اختیار کام کا صادر ہوا کیونکر جائز نہ ہوا اوراحکام شرعیہ سے کیوں اعتماد رفع ہوگا۔ جبکہ حق تعالیٰ &nbsp;نے نبی ﷺکو وحی قطعی سے سہو ونسیان پر اطلاع فرمائی ہے اور صواب کو خطا سے الگ کیا ہے۔ کیونکہ نبی کا خطا پر برقرار رہناجائز نہیں۔ اس لیے کہ اس سے احکام شریعت کا اعتما د &nbsp;رفع ہوتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس ثابت ہوا کہ نفس سہو و نسیان اعتماد کے رفع ہونے کا موجب نہیں ہے بلکہ سہو و نسیان پر برقرار رہنا احکام شرعیہ کے اعتماد کے رفع ہونے کا باعث ہے اور وہ تقریر علماء کے نزدیک مقررہ ثابت ہے کہ جائز نہیں۔</p>



<p>&nbsp;مقدمہ چہارم: یہ کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بلکہ خلفاءثلاثہ رضی الله عنہم کے لیے کتاب وسنت میں جنت کی خوشخبری ہے اور وہ احادیث جن میں خاص طور پران کے لیے جنت کی بشارت ہے ثقہ راویوں کی کثرت سے شہرت بلکہ تواتر معنی کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔ جن کا انکار کرنا سراسر جہالت ہے یا بغض و عناد۔ ان صحیح وحسن حدیثوں کے راوی اہل سنت ہیں۔ جنہوں نے اپنے استادوں سے جو سب کے سب اصحاب و تابعین ہیں ۔ اخذ کی ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اگر تمام مخالف فرقوں کے راویوں کو جمع کریں۔ تو اہل سنت کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔ <strong>كما</strong><strong> </strong><strong>لا</strong><strong> </strong><strong>يخفى</strong><strong> </strong><strong>على</strong><strong> </strong><strong>المتتبع المتفحص</strong><strong> </strong><strong>المنصف</strong><strong> (</strong><strong>جیسے</strong><strong> </strong><strong>کہ</strong><strong> </strong><strong>منصف</strong><strong> </strong>تابعدار اور جستجو کرنے والے پر پوشیدہ نہیں) اہل سنت کی تمام کتب احادیث ان بزرگواروں کی بشارات سے بھری ہوئی ہیں۔ اگر بعض مخالف فرقوں کی کتب احادیث میں بشارات کی روایت نہ بھی ہو تو کچھ نہیں کیونکہ بشارات کی روایت کا نہ ہونا بشارات کے نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ ان بزرگواروں کی بشارت کے لیے قرآن مجید کافی ہے۔ جس کی بہت سی آیات میں ان کے لیے جنت کی خوشخبری آگئی ہے۔</p>



<p>اللہ تعالیٰ &nbsp;فرماتا ہے۔ <strong>‌وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ</strong></p>



<p>مہاجرین اور انصار میں سابقین اولین اور وہ لوگ جنہوں نے احسان سے ان کی تابعداری کی۔ ان سب پر اللہ تعالیٰ &nbsp;راضی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ &nbsp;سے راضی ہیں اور ان کے لیے جنات تیار کی گئی ہیں۔ جن میں نہریں بہتی ہیں۔ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے۔&nbsp;</p>



<p>اور فرماتا <strong>ہے</strong><strong> </strong><strong>‌لَا ‌يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى </strong>نہیں برابرتم میں سے وہ شخص جس نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی کی۔ یہ زیادہ درجے والے ہیں۔ ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور لڑائی کی اور سب کو الله تعالیٰ &nbsp;نےحسنی میں بہشت کا وعدہ دیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>جب ان تمام صحابہ کے لیے جنہوں&nbsp;نے فتح سے پہلے اور بعد انفاق و مقاتلہ کیا ہے۔&nbsp;بہشت کی خوشخبری ہے۔ تو پھر ان بزرگ اصحاب کی نسبت جو انفاق و مقاتلہ و مہاجرت میں سب سے بڑھ کر ہیں کیا کہا جائے اور ان کے درجات کی بلند کو کس طرح معلوم کیا جائے۔&nbsp;</p>



<p>تمام اہل تفسیر کہتے ہیں کہ آیت کریمہ لا یستوی حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ &nbsp;عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے جو انفاق ومقاتلہ میں سب سابقین سے بڑھے ہوئے ہیں۔ الله تعالى فرماتا ہے <strong>لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ‌الشَّجَرَةِ</strong> يعنی الله تعالیٰ &nbsp;راضی ہو گیا۔ مومنین سے جب انہوں نے درخت کے نیچے تیری بیعت کی۔&nbsp;</p>



<p>امام محی السنہ نے معالم تنزیل میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر علیہ&nbsp;الصلوة والسلام نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ہے۔ ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا۔ اس بیعت کو بیعت رضوان کہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ &nbsp;ان لوگوں سے خوش ہوا ہے اور شک نہیں کہ اس شخص کو کافر کہنا جس کو کتاب وسنت میں بہشت کی&nbsp;خوشخبری مل چکی ہوں نہایت ہی برا ہے۔</p>



<p>مقدمہ پنجم : یہ ہے کہ کاغذ کے لانے میں حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ کا توقف کرناردو انکار کے باعث نہ تھا۔ پناه بخدا۔ ایسے پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کے وزیروں اورہم نشینوں سے&nbsp;جوخلق عظیم کے ساتھ متصف ہے۔ اس قسم کی بے ادبی تصور بھی کس طرح ہوسکتی ہے۔ بلکہ ادنی صحابی سے جو ایک یا دو بار حضرت خیرالبشر ﷺکی شرف محبت سے مشرف ہو چکا ہو۔ اس قسم کی بے ادبی کی امید نہیں ہوسکتی۔ بلکہ آنحضرت ﷺکی امت کے&nbsp;عام لوگوں سے جو دولت اسلام سے مشرف ہو چکے ہیں۔ اس قسم کے ردوا نکار کا گمان نہیں ہو سکتا۔ تو پھر ان لوگوں سے جو بزرگ اور وزیر اور ندیم اور تمام مہاجرین اور انصار میں سے اعلی درجہ والے ہوں، کس طرح اس امر کا خیال پیدا ہوسکتا ہے۔ حق تعالیٰ &nbsp;ان لوگوں کو انصاف دے تا کہ بزرگان دین پر اس طرح کی بدظنی نہ کریں اور بے سوچے سمجھے ہر کلمہ وکلام پر مواخذہ نہ کریں۔&nbsp;</p>



<p>حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا مطلب استفہام اور استفساریعنی<strong> اسْتَفْهِمُوهُ</strong> سے یہ تھا کہ اگر یہ آپ کوشش و اہتمام کے ساتھ کاغذ طلب فرمائیں تو لایا جائے۔ اگر آپ اس باره میں کوشش نہ فرمائیں تو ایسے نازک وقت میں آپ کو تکلیف نہ دینی چاہیئے ، کیونکہ اگر امرووحی&nbsp;سے آپ نے کاغذ طلب فرمایا ہے تو تا کید و مبالغہ سے کاغذ طلب فرمائیں گے اور جو کچھ آپ کوحکم ہوگا لکھیں گے۔ کیونکہ وحی کی تبلیغ نبی پر واجب ہے۔ اگر یہ مطلب امرووحی سے نہیں ہے بلکہ چاہتے ہیں کہ فکرواجتہاد کی رو سے لکھیں تو وقت یاوری نہیں کرتا ۔ کیونکہ پایہ اجتہاد آپ کے رحلت فرما جانے کے بعد بھی باقی ہے۔ آپ کی امت کے مستنبط اورمجتہد لوگ کتاب اللہ&nbsp;سے جو دین کا اصل اصول ہے۔احکام اجتہادیہ کو نکال لیں گے اور جب حضور کی موجودگی میں جو وحی کے نزول کا وقت تھا۔ مستنبطوں اورمجتہدوں کے استنباط واجتہاد کی گنجائش تھی۔ تو آپ&nbsp;کے رحلت فرمانے کے بعد جودحی کے ختم ہونے کا زمانہ ہے علماء کا اجتہاد و استنباط بطریق اولے مقبول ہوگا۔ جب آنحضرت ﷺنے اس بارہ میں جدو اہتمام نہ فرمایا بلکہ اس امر سے اعراض فرمایا تو معلوم ہوا کہ آپ کا فرمانا وحی کی رو سے نہ تھا اور وہ توقف جو مجرد استفسار کے لیے ہو۔مذموم نہیں ہے۔&nbsp;</p>



<p>ملائکہ کرام نے حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کی وجہ دریافت کرنے کے لیے عرض <strong>کیا</strong> <strong>أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ ‌يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ </strong>کیا تو ایسے شخص کوخلیفہ بنانا چاہتا ہے جو اس میں فساد کرے گا اور خون گرائے گا اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ </p>



<p>اور حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت یحی علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری کے وقت <strong>کہا</strong> <strong>أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي ‌عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا </strong>میرے  ہاں کسی طرح لڑ کا ہوگا جبکہ میری عورت با نجھ ہے اور میں از حد بوڑھا ہوں۔ </p>



<p>اور حضرت مریم علیہا الصلوة والسلام نے کہا <strong>أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا</strong> میرے ہاں کس طرح لڑکا ہو گا جب کہ مجھے کسی بشر نے ہاتھ نہیں لگایا اور میں نافرمان یعنی بدکار بھی نہیں ہوں۔</p>



<p>اگر حضرت فاروق رضی اللہ عنہ نے بھی استفسار اور استفہام کے لیے کاغذ کے لانے میں&nbsp;توقف کیا ہو تو کیا مضائقہ ہے اور کیاشور وشبہ ہے۔</p>



<p>&nbsp;مقدمہ ششم:یہ ہے کہ آنحضرت ﷺکی شرف محبت کے حاصل ہونے کے باعث صحابہ کرام کے ساتھ حسن ظن ضروری ہے اور اس امر کا جاننا بھی ضروری ہے کہ تمام زمانوں سے بہتر زمانہ نبی ﷺکا زمانہ تھا اور نبی ﷺکے اصحاب انبیا علیہم السلام کے بعد تمام بنی آدم سے بہتر تھے تا کہ یقین ہو جائے کہ نبی ﷺکے رحلت فرمانے کے بعد بہترین زمانہ میں وہ لوگ جو انبیا علیہم الصلوة والسلام&nbsp;کے بعد تمام بنی آدم سے بہتر ہیں۔ باطل عمل پر اجتماع نہ کریں گے اور کافروں اور فاسقوں کو حضرت خیرالبشر علیہ الصلوة والسلام کے جانشین نہ بنائیں گے اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ اصحاب تمام بنی آدم سے بہتر ہیں اس لیے کہا ہے کہ کہ یہ امت نص قرآنی کے ساتھ خیرالامم تمام امتوں میں سے بہتر ثابت ہوچکی ہے اور تمام امت میں سے بہتر اصحاب کرام رضی الله عنہم ہیں۔ کیونکہ کوئی ولی صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔&nbsp;</p>



<p>پس کچھ انصاف کرنا چاہیئے کہ اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا کاغذ لانے سے منع کرنا کفر کا باعث ہوتا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ جونص قرآن کے ساتھ اس بہترین امت میں سے سب سے زیادہ متقی ثابت ہو چکے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تنصیص تصریح نہ کرتے اور مہاجرین و انصار جن کی تعریف حق تعالیٰ &nbsp;نے اپنے قرآن مجید میں فرمائی&nbsp;</p>



<p>ہے اور ان سے راضی ہوا ہے اور ان کو جنت کا وعدہ دیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے اور پیغمبر ﷺکا جانشین نہ بناتے۔ جب آنحضرت ﷺکی صحبت اور اصحاب کے ساتھ حسن ظن جو محبت کا مقدمہ ہے حاصل ہوجائے تو اس قسم کے شبہات کی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے اور ان تشکیکات کا باطل ہونا صاف طور پر نظرآ جاتا ہے اور اگر <strong>نَعُوذُ ‌بِاَللَّهِ ‌منہ</strong> نبی ﷺکی صحبت اور اصحاب کے ساتھ حسن ظن پیدا  نہ ہواور بد ظنی تک نوبت آ جائے تو یہ بد ظنی اس صحبت کے صاحب یعنی صحاب کرام اوران اصحاب کے صاحب یعنی پیغمبر علیہ الصلوة والسلام تک پہنچ جائے گی بلکہ اس صاحب کے صاحب جل<strong> </strong>شانہ تک چلی جائے گی۔ اس امر کی برائی کو اچھی طرح معلوم کرنا چاہیئے<strong>۔ ما امن برسول من لم يوقر أصحابه</strong> (جس نے اصحاب کی عزت نہ کی وہ رسول کے ساتھ ایمان نہیں لایا )۔ رسول الله ﷺنے اصحاب کی شان میں فر<strong>مایا ہے۔ فَمَنْ ‌أَحَبَّهُمْ، فَبِحُبِّي ‌أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ، فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ</strong>جس نے ان کو دوست رکھا، اس نے میری محبت کے باعث ان کو دوست رکھا اور جس نے ان سے بغض کیا، اس نے میرے بغض کے باعث ان سے بغض رکھا۔ </p>



<p><strong>&nbsp;</strong>&nbsp;اصحاب کی محبت رسول الله ﷺکی محبت کا باعث اور اصحاب کا بغض رسول الله ﷺکے بغض کا موجب ہے۔&nbsp;</p>



<p>جب یہ مقدمات معلوم ہو چکے تو بے تکلف اس شبہ کا اور اس قسم کے اور شبہوں کا جواب حاصل ہو گیا۔ بلکہ متعدد اورکئی قسم کے جوابات حاصل ہو گئے ۔ کیونکہ ان مقدمات سے ہر ایک مقدمہ متعدد جوابوں میں سے ایک جواب ہے۔ جیسے کہ گزر چکا ہے اور یہ مقدمات سب کے سب اس شبہ کے مادہ کو توڑ دیتے ہیں اور اس تشکیک کے دفع کرنے میں نظر یعنی دلیل سے حدس یعنی فراست و باریک بینی میں لے آتے ہیں۔<strong>کما</strong><strong> </strong><strong>لا</strong><strong> </strong><strong>يخفى على</strong><strong> </strong><strong>الفطين</strong><strong> </strong><strong>المنصف</strong><strong> (</strong>جیسے کہ دانا منصف پر پوشیدہ نہیں ہے۔)حدس کا لفظ صرف زبان پر لایا گیا ہے۔ ورنہ اس قسم کی تشکیکات بدیہی البطلان ہیں اور وہ مقدمات جوان شبہات کے باطل کرنے میں لائے گئے ہیں۔ اس بداہت پرتنبیہات کی قسم سے ہیں۔ بلکہ اس قسم کی تشکیکات و شبہات اس فقیر کے نزدیک اس طرح ہیں ۔ جس طرح کوئی پر فن شخص چند بیوقوفوں کے پاس آ کر ایک پتھر&nbsp;کو جو ان کا محسوس ہےملمع اور جھوٹی دلیلوں اور مقدمات سے ان کے سامنے ثابت کردے کہ یہ سونا ہے اور چونکہ یہ بچارے ان وہمی مقدمات کے دفع کرنے میں عاجز ہیں اور ان کے غلط ثابت کرنے میں قاصر ہیں اس لیے شبہ میں پڑ جائیں بلکہ یقین کر لیں کہ یہ سونا ہے اور اپنی حس&nbsp;کو فراموش کر دیں بلکہ متہم جانیں۔ اس مقام پر دانا کی ضرورت ہے۔ جو اس کی ضرورت پر اعتماد کرے اور وہمی مقدمات کو غلط ثابت کرے۔مذکورہ بالا صورت میں بھی خلفاے ثلاثہ بلکہ تمام اصحاب کرام کی بزرگی اور بلندی درجات کتاب وسنت کی رو سے محسوس و مشاہد ہے اور ان بزرگواروں پر طعن کرنے والے جو جھوٹی اورملمع دلیلوں کے ساتھ ان پرطعن وقدح کرتے ہیں&nbsp; اس پتھر کے حق میں طعن و ملامت کرنے والوں کی طرح بھٹک رہے ہیں اور گمراہ ہورہے ہیں اور اوروں کو بھی گمراہ کررہے ہیں۔&nbsp;</p>



<p><strong>َبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ </strong>(یااللہ تو ہدایت دے کر ہمارے دلوں کی ٹیڑھانہ کر اور اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما۔ تو بڑا بخشنے والا ہے۔)ہائے افسوس ان لوگوں کو کس نے آمادہ کیا کہ اکابر دین کو گالی نکالیں اور اسلام کے بزرگوں پرطعن لگائیں۔ حالانکہ فاسقوں اورفاجروں میں سے کسی کو گالی نکالنا اور طعن لگانا یہ درجہ&nbsp;نہیں رکھتا کہ شرع میں عبادت و کرامت و فضیلت اور نجات کا وسیلہ سمجھا جائے۔ تو پھردین کے ہادیوں کو گالی نکالنا اور اسلام کے حامیوں کو طعن لگانا کیا کچھ درجہ رکھتا ہوگا۔ شرع میں کہیں نہیں کہ رسول اللہ ﷺکے دشمنوں میں ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کو گالی نکالنا اورطعن لگانا عبادت و کرامت میں داخل ہے۔ بلکہ ان سے اور ان کے احوال سے اعراض کرنا اچھا ہے&nbsp;</p>



<p>اور اس قسم کے بیہودہ امور میں مشغول ہونے اور وقت کے ضائع کرنے سے بہتر ہے <strong>تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ ‌خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ</strong><strong>یہ</strong><strong> </strong>لوگ گزر گئے۔ ان کے لیے اپنے اعمال اور تمہارے لیے اپنےعمل کام آئیں گے اور تم سے نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کیا کرتے تھے۔&nbsp;</p>



<p>حق تعالیٰ  قرآن مجید میں اصحاب پیغمبر کی صف میں ‌<strong>رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ</strong> فرماتا ہے پس ان بزرگواروں کے حق میں ایک دوسرے کے ساتھ عداوت رکھنے کا گمان کرنا نص قرآنی کے برخلاف ہے نیز ان بزرگواروں میں عداوت و کینہ کا ثابت کرنا فریقین میں قدح وندامت پیدا کرتا ہے اور دونوں گروہوں سے امان کو رفع کرتا ہے۔ جس سے اصحاب کے دونوں گروہوں کا مطعون ہونا لازم آتا ہے۔ <strong>‌نَعُوذُ ‌بِاللَّهِ ‌مِنْ ‌ذَلِكَ</strong> اور اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ انبیاءعلیہم الصلوة والسلام کے بعد جو لوگ تمام بنی آدم سے بہتر تھے۔ وہ گویا بدترین مردم تھے اور ان کا بہترین زمانہ بدترین زمانہ تھا اور اس قرن وزمانہ کے لوگ عداوت و کینہ سے موصوف تھے۔ کوئی مسلمان اس بات پر دلیری نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس امر کو پسند کر سکتا ہے۔ کتنی بڑی گستاخی اور جرات ہے خلفاء ثلاثہ رضی الله عنہم کو حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دشمنی ہو اور حضرت امیران کے پوشیده دشمن ہیں۔ اس امر میں طرفین کی ندامت و ملامت ہے۔ </p>



<p>کیوں نہ ہم یوں کہیں کہ آپس میں شیروشکر اور ایک دوسرے میں فانی تھے۔ خلافت کا معاملہ بھی ان کے نزدیک مرغوب و مطبوع نہ تھا۔ جس کو کینہ و عداوت کا موجب قرار دیا جائے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے <strong>أَقِيلُونِي</strong> ایعنی مجھ سے بیعت موڑ کر خلافت واپس&nbsp;نے لو) کا ظاہر ہونا مشہور ومعروف ہے اور حضرت فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی خریدارمل جائے تو اس خلافت کو ایک دینار کے بدلے بیچ ڈالوں اور حضرت امیر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی خواہش کے لیے معاویہ کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں کیا بلکہ باغیوں کے ساتھ لڑائی کرنا فرض سمجھ کر ان کا مقابلہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ &nbsp;فرماتا ہے۔ <strong>فَقَاتِلُوا الَّتِي ‌تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ </strong>تم باغی گروہ سے یہاں تک لڑو کہ الله تعالیٰ &nbsp;کی طرف پھر آئے۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑائی کرنے والے باغی ہیں۔ جو سب کے سب صاحب تاویل اور صاحب رائے واجتہاد تھے۔ اگر اس اجتہاد میں خطا کاربھی ہوں تو بھی طعن وملامت او تفسیق و تکفیر سے دور اور پاک ہیں۔&nbsp;</p>



<p>حضرت امیر رضی اللہ عنہ ان کے حق میں فرماتے ہیں <strong>‌إِخْوَانُنَا ‌بَغَوْا عَلَيْنَا</strong><strong>ولیسوا</strong><strong> </strong><strong>کفرة</strong><strong> </strong><strong>ولا</strong><strong> </strong><strong>فسقة</strong><strong> </strong><strong>لما لهم</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>التاويل</strong> (ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی حالانکہ نہ ہی وہ کافر ہیں اور نہ ہی فاسق کیونکہ ان کے لئے تاویل ہے) امام شافعی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ <strong>تلک د</strong><strong> </strong><strong>ماه</strong><strong> </strong><strong>طهرالله</strong><strong> </strong><strong>عنها</strong><strong> </strong><strong>ایدینا فلنطھر</strong><strong> </strong><strong>عنها</strong><strong> </strong><strong>السنتنا </strong>یہ وہ خون ہیں جن سے ہمارے ہاتھوں کو الله تعالیٰ &nbsp;نے پاک رکھا۔ پس ہم اپنی زبانوں کو ان سے پاک رکھتے ہیں۔</p>



<p><strong>رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ ‌سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ </strong>ياللہ ہم اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ایمان لے کر ہم سے چلے گئے بخش اور ایمانداروں کے لیے ہمارے دلوں میں کوئی غل وغش نہ چھوڑ یا اللہ توہی مہربان اوررحم کرنے والا ہے۔ <strong>والصلوة والسلام على سيد الأنام و على اله وأصحابہ الكرام إلى يوم القيام. </strong></p>



<p>                                           <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ308ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                                </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d9%2588%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25ef%25b7%25ba%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25aa-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25ba%25d8%25b0-%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a8-%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2586%25d8%25a7%2F&#038;title=%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%EF%B7%BA%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%B6%20%D9%85%D9%88%D8%AA%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0%20%D8%B7%D9%84%D8%A8%20%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B196%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%ef%b7%ba%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%ba%d8%b0-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/" data-a2a-title="رسول اللہ ﷺکا مرض موت میں کاغذ طلب کرنامکتوب نمبر96دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%ef%b7%ba%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%ba%d8%b0-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کفرحقیقی و اسلام حقیقی مکتوب نمبر95دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%81%d8%b1%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b195%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%81%d8%b1%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b195%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Oct 2021 15:31:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[صورت شریعت]]></category>
		<category><![CDATA[کفر طریقت]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3719</guid>

					<description><![CDATA[کفرحقیقی و اسلام حقیقی کے سوال کے جواب میں مقصودعلی تبریزی کی طرف صادر&#160;فرمایا ہے:۔&#160; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (الله تعالیٰ &#160;کی حمد ہے اور اس کے&#160;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&#160;آپ کاصحیفہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%81%d8%b1%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b195%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>کفرحقیقی و اسلام حقیقی کے سوال کے جواب میں مقصودعلی تبریزی کی طرف صادر&nbsp;فرمایا ہے:۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ </strong><strong>.</strong><strong> </strong><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ &nbsp;کی حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&nbsp;آپ کاصحیفہ شریفہ پہنچا۔ جس میں صوفیاء کی بعض باتوں کی نسبت استفسار درج تھا۔&nbsp;</p>



<p>میرے مخدوم ! وقت و مکان اگر چہ گفت ونوشت کا تقاضا نہیں کرتا، لیکن سوال کا جواب&nbsp;دینا ضروری ہے۔ اس لیے چند کلمے لکھے جاتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>ان تمام سوالوں کے حق میں مجمل کلام یہ ہے کہ جس طرح شریعت میں کفرواسلام ہے۔ طریقت میں بھی کفرواسلام ہے۔ جس طرح شریعت میں کفر سراسر شرارت و نقص ہے اور اسلام سراسر کمال ہے۔ طریقت میں بھی کفر سراسرنقص ہے اور اسلام سراسرکمال ہے۔ کفر طریقت مقام&nbsp;جمع سے مراد ہے۔ جواستتار یعنی پوشیدہ ہونے کامحل ہے۔ اس مقام میں حق و باطل کی تمیز مفقود ہوتی ہے، کیونکہ اس مقام میں سالک کا مشہود(مشاہدہ) &nbsp;اچھے برے آئینوں میں وحدت محبوب(حق جل و علا) کا جمال ہوتا ہے۔ پس خیر وشر نقص و کمال کو اس وحدت کے ظلال اور مظاہر کے سوا نہیں پاتا۔ اس لیے انکار کی نظر جو تمیز سے پیدا ہوتی ہے اس کےحق میں معدوم ہے جس کے باعث سب کے ساتھ مقام صلح میں ہے اور سب کو راہ راست پر معلوم کرتا ہے اور اس آیت کے مضمون کے مطابق گیت گاتا ہے مَا مِنْ ‌دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ( کوئی جانور روئے زمین &nbsp;پر چلنے والا نہیں ہے۔ جس کو اس نے پیشانی سے پکڑا ہوا نہیں۔ بیشک میرارب سیدھے راستہ پر ہے) کبھی مظہر کوعین ظاہر جان کر خلق کو عین حق خیال کرتا ہے اور مربوب کو عین رب جانتا ہے۔ اس قسم کے سب پھول مر تبہ ہی سے کھلتے ہیں ۔ منصوراسی مقام میں کہتا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>‌كفرت ‌بدين الله والكفر واجب &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;لدي وعند المسلمين قبيح</strong></p>



<p><strong>&nbsp;</strong>ترجمہ: ہوا کافر میں دین حق سے مجھ کو کفر بہتر ہے ۔&nbsp;اگر چہ سب مسلمانوں کے ہاں وہ کفر بدتر ہے</p>



<p>یہ کفر طریقت کفر شریعت کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتا ہے لیکن شریعت کا کافر مردود اور عذاب کا مستحق ہے اور کافر طریقت مقبول اور اعلی درجات کے لائق ہے، کیونکہ یہ کفر و استتار محبوب حقیقی کے غلبہ محبت سے پیدا ہوا ہے۔ جس کے باعث محبوب حقیقی کے سوا سب کچھ فراموش ہو جاتا ہے۔ اس لیے مقبول ہے اور وہ کفر چونکہ تمردیعنی سرکشی اورجہل کے غلبہ سے پیدا ہوتاہے۔ اس لیے مردود ہے اور اسلام طریقت مقام فرق بعد الجمع سے مراد ہے جو تمیز کا مقام ہے جہاں حق باطل سے اور خیر شر سے متمیز ہے۔ اس اسلام طریقت کو اسلام شریعت کے ساتھ بڑی مناسبت ہے۔ جب اسلام شریعت کمال تک پہنچ جاتا ہے تو اس اسلام طریقت کے ساتھ اتحاد کی نسبت پیدا ہو جاتی ہے۔ بلکہ ہر دوا سلام اسلام شریعت ہیں۔ اس کے درمیان فرق ظاہر شریعت اور باطن شریعت اور صورت شریعت اور حقیقت شریعت کا ہے۔ کفر طریقت کا مرتبہ صورت شریعت کے اسلام سے بلند تر ہے۔ اگرچہ حقیقت شریعت کے اسلام کی نسبت کمتر ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>آسمان نسبت بعرش آمد فرود ورنہ بس عالی ست پیش خاک تود</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ : عرش&nbsp; سے نیچے ہے بیشک آسمان&nbsp; ہے مگر اس زمیں سے بہت بلند</p>



<p>مشائخ قدس اسرار ہم سے جنہوں نے شطحیات(وہ کلمات جو واصلین کاملین سے حالت مستی و غلبہ شوق میں  بے اختیار نکلےظاہر شریعت کے خلاف ) نکالی ہیں اورمخالف شریعت باتیں کہی ہیں سب کفر طریقت کے مقام میں رہے۔ جو سکر(مستی) و بے تمیزی کا مقام ہے، لیکن وہ بزرگ جوحقیقی اسلام کی دولت سے مشرف ہوئے ہیں۔ اس قسم کی باتوں سے پاک وصاف ہیں اور ظاہر و باطن میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اقتداء کرتے ہیں اور انہی کے تابع رہتے ہیں۔ پس جوشخص کلام شطحيات کرتا ہے اور سب کے ساتھ صلح  رکھتا ہے اور سب کو راہ راست پر خیال کرتا ہے اور حق و خلق کے درمیان تمیز نہیں کرتا اور دوئی کے وجود کا قائل نہیں ہوتا۔ اگر ایساشخص مقام جمع تک پہنچ چکا ہے اور کفر طریقت سےمتحقق ہو چکا ہے اور ماسوی کا نسيان حاصل کر چکا ہے تو وہ مقبول ہے اور اس کی باتیں جو سکر سے پیدا ہیں،ظاہر کی طرف سے پھری ہوئی ہیں اور اگر وہ شخص اس حال کے حاصل  ہونے اور درجہ کمال اول تک پہنچنے کے بغیر اس قسم کی کلام کرتا ہے اور سب کو حق اور صراط مستقیم پر جانتا ہے اور حق و باطل میں تمیز نہیں کرتا۔ تو ایسا شخص زندیق (بے دین)  وملحد ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ شریعت باطل ہو جائے اور انبیا علیہم الصلوۃ والسلام جو رحمت عالمیان ہیں ان کی دعوت رفع ہو جائے پس اس قسم  کے خلاف شریعت کلمات سچے سے بھی صادر ہوتے ہیں اور جھوٹے سے بھی سچے کے لیے آب حیات ہیں اور جھوٹے کے لیے زہر قاتل۔ جس طرح کہ دریائے نیل کا پانی بنی اسرائیل کے حق میں آب خوشگوار تھا اورقبطی کے  حق میں خون۔ </p>



<p>اس مقام پر اکثرسالکوں کے قدم پھسل جاتے ہیں۔ بہت سے مسلمان ارباب سکر(مستی) &nbsp;کی باتوں کی تقلید کر کے راہ راست سے ہٹ کر گمراہی اور خسارہ میں جا پڑے ہیں اور اپنے دین کو برباد کر بیٹھے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ اس قسم کی باتوں کا قبول ہونا چند شرائط پرمشروط ہے۔ جو ارباب سکر(مستی) &nbsp;میں موجود ہیں اور ان میں مفقود۔ ان شرائط میں سے اعلی شرط ماسوی اللہ کا نسيان&nbsp;ہے۔ جو اس قبولیت کی دہلیز ہے۔سچے اور جھوٹے کے درمیان شریعت کی استقامت اور عدم استقامت سے فرق ظاہر ہوسکتا ہے یعنی جوسچاہے وہ باوجودسکرو مستی کے اور بے &nbsp;تمیزی کے بال بھر بھی شریعت کے برخلاف نہیں کرتا۔ منصور باوجودقول اناالحق کے قید خانہ میں زنجیروں کے ساتھ جکڑا ہوا ہر رات پانچ سو رکعت نماز نفل ادا کرتا تھا اور وہ کھانا جو اس کو ظالموں کے ہاتھ سے ملتاتھا۔ اگر چہ وجہ حلال سے ہوتا ہے۔ نہ کھاتا تھا اور جو شخص جھوٹا ہے اس پراحکام شریعہ کا بجالانا کوہ قاف کی طرح بھاری ہوتا ہے۔ <strong>‌كَبُرَ ‌عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ </strong>(مشرکوں پردہ &nbsp;امر بہت بھاری ہے۔ جس کی طرف تو ان کو بلاتا ہے ان کے حال کا نشان ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>رَبَّنَا ‌أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ </strong>یا اللہ ہمارے نور کو کامل کر اور ہم کو بخش۔ تو سب شے پر قادر ہے) <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى </strong>(سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p>                                          <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ305ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                               </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b195%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&#038;title=%DA%A9%D9%81%D8%B1%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B195%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%81%d8%b1%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b195%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/" data-a2a-title="کفرحقیقی و اسلام حقیقی مکتوب نمبر95دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%81%d8%b1%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b195%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فنا و بقا کی حقیقت اور عارف کی حقیقت و صورت مکتوب نمبر 94دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%86%d8%a7-%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%88-%d8%b5%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%86%d8%a7-%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%88-%d8%b5%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Oct 2021 10:38:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[عدمات و عکوس]]></category>
		<category><![CDATA[کپڑے کی تاثیر کی مثال]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3716</guid>

					<description><![CDATA[&#160;فنا و بقا کی حقیقت اور عارف کی حقیقت و صورت سے عدم کے جدا ہونے اور مجاورت(ہمسائیگی) کی نسبت بہم پہنچانے کے بیان میں مولانا عبدالقادر انبالوی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ .  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%86%d8%a7-%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%88-%d8%b5%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;فنا و بقا کی حقیقت اور عارف کی حقیقت و صورت سے عدم کے جدا ہونے اور مجاورت(ہمسائیگی) کی نسبت بہم پہنچانے کے بیان میں مولانا عبدالقادر انبالوی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ .  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ</strong> اللہ رب العلمین کے لیے ہے اور حضرت سید المرسلین پر صلوۃ وسلام۔ </p>



<p>اس فقیر کے علم میں حقائق ممکنات جیسے کہ بعض مکتوبات میں لکھا جا چکا ہے۔ ان عدمات سے مراد ہیں۔ جو ہرشرونقص کا موجب ہیں۔بمع حق تعالیٰ &nbsp;کے اسماء و صفات کی علمیہ صورتوں کے عکوس کے جوان عد مات میں ظاہر ہوئے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ کہ وہ عدمات ہیولی(جسم) کی طرح ہیں( یعنی وہ مادہ اقسام  جو صورت اختیار کرنے کے قابل ہے) اور وہ(عدمات) عکوس صورت کی طرح جو ہیولی میں حلول کیے ہوئے ہیں۔ عدمات کی تشخیص وتمیزان عکوس ظاہرہ کے ساتھ ہے اور ان عکوس کا قیام ان عد مات متمیزہ کے ساتھ ہے۔ یہ قیام عرض و جوہر کے قیام کی طرح نہیں ہے بلکہ جس طرح صورت کا قیام ہیولی کے ساتھ اورہیولی کا قیام صورت کے ساتھ ہوتا ہے جیسے کہ حکماء نے کہا ہے۔ جب سالک الله تعالیٰ  کی توفیق سے ذکر و مراقبہ کے ساتھ حق تعالیٰ  کی بارگاہ  کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور دم بدم ماسوی(غیر حق) سے منہ پھیرتا جاتا ہے تو حق تعالیٰ  کے اسماء وصفات کی علمیہ صورتوں کے عکوس ہرآن میں قوت و غلبہ پاتے جاتے ہیں اور اپنے قرین یعنی ساتھی پر جو عدمات<strong> </strong>ہیں غالب آتے جاتے ہیں۔ <strong>فَإِنَّ ‌حِزْبَ ‌اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ</strong> (خبر دار اللہ تعالیٰ  کا گروه غالب ہے) معاملہ یہاں تک جاتا ہے کہ عد مات جوان عکوس کے لیے اصل ومادہ کی طرح ہیں سب پوشیدہ ہونے لگتے ہیں بلکہ سب کے سب سالک کی نظر سے چھپ جاتے ہیں اور اپنے اصول کے عکوس کے بغیر اس کی نظر میں کچھ نہیں رہتا۔ بلکہ وہ عکوس بھی جو اپنے اصول کے آئینے ہیں۔ نظر سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس مقام میں آئینوں کامخفی ہونا ضروری ہے۔ یہ مقام مقام فنا ہے اور بہت بلند(مقام) ہے۔ اگر اس سالک فانی کو بقا بخشیں اور عالم کی طرف واپس لائیں تو اپنے عدم کو باریک پوست کی طرح جو بدن کا محافظ ہے۔ معلوم کرے گا اور نزدیک ہے کہ نہایت بے مناسبتی سے جو اس کو عدم کے ساتھ پیدا ہے۔ اس کی تعبیر پیراہن شعر( بالوں کے باریک کرتہ) سے کرے اور اپنے آپ سے الگ معلوم کرے لیکن درحقیقت اس مقام میں عدم اس سے الگ نہیں ہوا۔ بلکہ اس مقام میں انانیت(میں پن) کا ظن غالب ہے۔ غرض عدم اس مقام میں سالک کی مستور اور مغلوب جزو ہے اور اس اصالت سے جو اس کو حاصل تھی نیچے آ گیا ہے اور ان عکوس کے تابع بلکہ ان کے ساتھ قائم ہوا ہے جو اس کے ساتھ قیام رکھتے تھے۔ یہ فقیرکئی سال تک اس مقام میں رہا ہے اور اپنے عدم کو پیراہن شعرکی طرح اپنے سے جدا معلوم کیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ  کی عنایت بیغایت اس کے شامل حال ہوئی ۔ دیکھا کہ وہ جزو مغلوب اس انحلال (کشادہ)یافتہ ترکیب سے جدا ہو گیا ہے اور وہ تشخیص جوان عکوس کے حاصل ہونے سے پیدا کی تھی مفقود کردی ہے اور گویا عدم مطلق کے ساتھ  ملحق ہو گیا ہے۔ جس طرح کسی صورت کو سانچے پر درست کریں اور اس کو اس سانچے پر قائم رکھیں۔ جب صورت درست اور ثابت اور راسخ ہو جائے تو اس سانچے کو توڑ ڈالیں اور اس کے قیام کو سانچے سے دور کر کے اپنے آپ کے ساتھ قائم رکھیں ۔ صورت مذکورہ بالا میں بھی فقیر نے معلوم کیا کہ ان عکسوں نےجو اس کے ساتھ قیام رکھتے تھے۔ اپنے ساتھ بلکہ اپنے اصول کے ساتھ قیام پیدا کیا ہے۔ اس وقت انا(میں پن) کا لفظ ان عکوس اور ان عکوس کے اصول کے سواکسی پر اطلاق نہیں کرتا۔ گویا جز وعدم کو اس کے ساتھ کچھ مس تھا اور معلوم کیا کہ حقیقت فنااسی  صورت کے مقام میں ہے سابقہ فناگویا اس فنا کی صورت تھی۔ اس مقام سے جب بقا میں لائے اور عالم کی طرف واپس لائے تو اس عدم کو جو جزئیت کی نسبت رکھتا تھا اور اصالت و غلبہ اس کے لیےتھا۔ واپس لا کر اس کا مجاور اور ساتھی بنا دیا۔ اس کی صورت و حقیقت سے الگ کر کے اس کو لفظ انا کے اطلاق سے باہر کر دیا اور حکمتوں اور مصلحتوں کے لیے اس کو پھر پیرا ہن شعر کی طرح پہنا دیا۔ اس حالت میں اگر چہ عدم کو واپس لے آ ئے ، لیکن ان عکوس کا قیام اس سے وابستہ نہ کیا۔ بلکہ عدم کو اس معکوس کے ساتھ قیام بخشا۔ جیسے کہ بقائے سابق میں گزر چکا۔ جب اس بقا میں یہ نسبت ہوتو اس جگہ جو بقا کی حقیقت ہےیہ نسبت کامل طور پر ہوگی۔ </p>



<p>حاصل کلام یہ کہ کپڑا پہننے والے کو کپڑے کی تاثیر ہوتی ہے۔ یعنی اگر کپڑا گرم ہو تو پہننے والے کو اس کی گرمی پہنچتی ہے۔ اگرسرد ہو تو اس کی سردی سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح کپڑے کی مانند اس عدم کا تاثر اپنے آپ میں پایا اور اس کا اثر تمام بدن میں جاری و ساری دیکھا لیکن جانتا ہے کہ یہ تا ثیر دسرایت بیرونی ہے نہ درونی۔ عارضی ہے نہ ذاتی۔ خارجی ہمنشین کی طرف سے آئی ہے نہ داخل کے ہم جنس کی طرف سے اور شرونقص بھی جو اس عدم سے پیدا ہوا&nbsp;ہے۔ عرضی اور خارجی ہے نہ ذاتی و اصلی۔ اس مقام والا اگر چہ بشریت میں تمام لوگوں کے ساتھ مشارکت رکھتا ہے اور صفات بشریت کے صادر ہونے میں سب کے ساتھ شریک ہے۔ لیکن اس سے اور اس کی ابنائے جنس سے صفات بشریت کا صادر ہو تا عارضی ہے جو ہم نشین و مجاور کی طرف سے ہے اور دوسروں سے صفات بشریت کا صادر ہونا ذاتی ہے۔ <strong>شَتَّانِ</strong><strong> </strong><strong>مَا</strong><strong> </strong><strong>بَيْنَهُمَا</strong><strong> </strong>ان<strong> </strong>دونوں کے درمیان بہت فرق ہے۔&nbsp;عوام لوگ ظاہری مشارکت کو ملاحظہ کر کے خواص بلکہ اخص&nbsp;خواص کواپنی طرح تصور کرکے مقام انکارو اعتراف میں آ جاتے ہیں اور محروم رہ جاتے ہیں۔ آیت کریمہ <strong>فَقَالُوا ‌أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا فَكَفَرُوا </strong>(ان لوگوں نے کہا کہ کیا یہ انسان ہم کو ہدایت دے گا پس وہ منکر ہو گئے ) اور آیت کریمہ وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي ‌الْأَسْوَاقِ &nbsp;(انہوں نے کہا کہ اس رسول کو کیا ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ان کے حال کا نشان ہے۔</p>



<p>یہ فقیر صفات بشریت سے جو کچھ اپنے آپ میں دیکھتا ہے۔ معلوم کرتا ہے کہ ان صفات کا حاصل &nbsp;وہی عدم مجاور ہے جوکلیت &nbsp;یعنی تمام بدن میں اثر سرایت کیے ہوئے ہے اور اپنے آپ کو تمام و کمال طور پر ان صفات سے پاک و صاف معلوم کرتا ہے اور ان کا کچھ حصہ بھی اپنے آپ میں محسوس نہیں کرتا۔ اس پر الله تعالیٰ &nbsp;کی حمد اور اس کا احسان ہے۔ یہ صفات جومجاورت کے سبب سے ظاہر ہوتے ہیں اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے سرخ لباس پہنا ہو اورلباس کی سرخی سے سرخ نظر آتا ہو۔ بیوقوف لوگ چونکہ تمیز نہیں کر سکتے ۔ لباسی سرخی کو اس شخص کی سرخی جان کر اس پر خلاف واقع حکم لگاتے ہیں۔مثنوی&nbsp;</p>



<p><strong>ہر کہ افسانه بخواند افسانه است وانکہ نقدش وید خود مردانه است </strong></p>



<p><strong>آب نیل است و قبطی خوں نمود قوم موسی زانہ خوں بود آب بود</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمه مثنوی: جس نے افسانہ کہا افسانہ ہے جس نے دیکھا نقد وہ مردانہ ہے&nbsp;خو<em>ن</em><em> </em>تھاقبطی کے حق میں آب نیل . موسویوں <em>کو</em><em> </em>اب تھا بے قال و قیل&nbsp;</p>



<p><strong>رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ </strong>(یااللہ تو ہدایت دے کر ہمارے دلوں کی ٹیڑھانہ کر اور اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما۔ تو بڑا بخشنے والا ہے۔) &nbsp;<strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong>&nbsp;سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p>                                         <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ301ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                              </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2588%2F&#038;title=%D9%81%D9%86%D8%A7%20%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%88%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2094%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%86%d8%a7-%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%88-%d8%b5%d9%88/" data-a2a-title="فنا و بقا کی حقیقت اور عارف کی حقیقت و صورت مکتوب نمبر 94دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%86%d8%a7-%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%88-%d8%b5%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالم خلق اور عالم امر کے لطائف کا ذکر مکتوب نمبر 93دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%85%da%a9/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%85%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Oct 2021 10:30:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اسم قیوم کا ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[صاحب تکمیل عارف]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3713</guid>

					<description><![CDATA[اس بیان میں کہ عالم خلق اور عالم امر کے لطیفوں میں سے ہر ایک لطیفہ ظاہر(صورت)بھی رکھتا ہے اور باطن بھی اور یہ باطن عارف کے اسم قیوم سے ملا ہوا ہے اور اس بیان میں کہ عارف نزول <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%85%da%a9/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اس بیان میں کہ عالم خلق اور عالم امر کے لطیفوں میں سے ہر ایک لطیفہ ظاہر(صورت)بھی رکھتا ہے اور باطن بھی اور یہ باطن عارف کے اسم قیوم سے ملا ہوا ہے اور اس بیان میں کہ عارف نزول کے وقت کلی طور پر ظاہر و باطن کے ساتھ دعوت و&nbsp;عبادت کی طرف متوجہ ہے۔ خواجہ ہاشم بدخشی کشمی کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p>عارف تام المعرفت کے عالم خلق و عالم امر دونوں اگر چہ اس اسم قیوم کی نسبت جو اس عارف کا وجہ خاص ہے اور درحقیقت عارف کا باطن اورحقیقت یہی ہے۔ ظاہر و صورت میں داخل ہیں۔ جیسے کہ اس کی تحقیق کسی مکتوب میں تحریر ہو چکی ہے لیکن جب اس ظا ہر صورت کو تیز نظر سے جو اللہ تعالیٰ &nbsp;نےمحض فضل سے بخشی ہے ملاحظہ کرتا ہوں۔ تو یہاں بھی ظاہر و باطن اور صورت و حقیقت پیدا ہو جاتے ہیں۔ نہ یہ کہ عالم خلق کو ظاہر پاتا ہوں اور عالم امر کو باطن جیسے کہ بعض لوگوں کا گمان ہے۔ بلکہ عالم خالق اور عالم امر کے لطائف میں ہر ایک لطیفہ کی صورت بھی ہے اور حقیقت بھی لیکن جس طرح عنصر خاک ظاہر رکھتا ہے اور باطن بھی۔ اسی طرح اخفٰی صورت بھی رکھتا ہے اور حقیقت بھی اور یہ باطن جو عالم خلق اور عالم امر سے تعلق رکھتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;دن بدن اعمال صالحہ کے ذریعے بلکہ محض حق تعالیٰ &nbsp;کی بخشش سے تھوڑا تھوڑا اس باطن سے جو اسم قیوم پر وابستہ ہے ملتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس باطن کا کچھ اثر باقی نہیں رہتا اور سوائے ظاہر کے سب کچھ پوشیدہ ہو جاتا ہے۔ اس اسم قیوم کیساتھ اس باطن کے ملنے سے یہ مراد نہیں کہ یہ باطن اس اسم میں حلول کر جاتا ہے۔ یا اس اسم قیوم کے ساتھ اس باطن کےملنے سے یہ مرادنہیں کہ یہ باطن اس اسم میں حلول کر جاتا ہے۔ یا اس اسم کے ساتھ اتحاد پیدا کر لیتا&nbsp;ہے۔ کیونکہ یہ الحاد ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>فسبحان من لا يتغير بذاته ولا بصفاته ولا باسمائه بحدوث ألأكوان </strong><strong>(</strong>پاک ہے وہ ذات پاک جو موجودات کی حدوث سے اس کی ذات و اسماء و صفات میں تغیر نہیں آتا بلکہ اس باطن کو اس اسم کے ساتھ ایک مجہول الكفيت نسبت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس سےحلول واتحادکا وہم گزرتا ہے۔ درحقیقت وہاں نہ اتحاد ہےنہ حلول کیونکہ اس سے حقیقت امکان کا حقیقت وجوب کے ساتھ بدلنا لازم آتا ہے۔ جومحال عقلی ہے اور شریعت میں زندقہ ہے اور وہ ظاہرمحض جو باقی رہ جاتا ہے۔ اگر چہ عالم شہادت سے ہے اور مشہود(مشاہدہ) &nbsp;مرئی (جس کو دیکھیں )ہے۔ لیکن باطن کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ اگرچہ باطن شہود(مشاہدہ) &nbsp;و ادراک کے احاطہ&nbsp;سے باہر نکل چکا ہے اور غیب سے &nbsp;ملحق ہو کر بیچونی کا رنگ حاصل کر چکا ہے، کیونکہ چون(مثل) جب تک بیچون(بیچون) کا رنگ نہ پڑے اور چون کے احاطہ ادراک سے باہر نہ جائے اور شہادت سے غیب کی طرف اسباب نہ لے جائے۔ بیچون حقیقی سے کچھ حصہ حاصل نہیں کرتا اورغیب الغیب سے مطلع نہیں ہوتا۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ اس ظاہر باقی ماندہ کی توجہ بالکل خلق کی طرف ہے اور طاعات و عبادات شرعیہ اسی کے متعلق ہیں اور دعوت و تکمیل کا معاملہ بھی ان پر وابستہ ہے اور اس عارف صاحب تکمیل کا باطن بھی خواه مراتب امکانی کیساتھ تعلق رکھے۔ خواہ مقامات وجوب کے ساتھ ظاہر کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور جس چیز کی طرف ظاہر توجہ رکھتا ہے۔ باطن بھی اسی کی طرف توجہ رکھتا ہے تا کہ عبادت کی تکمیل وتربیت کامل طور پر ہو۔ کیونکہ یہ داردارعمل ہے اور یہ مقام مقام دعوت شہود و مشاہدہ کی حقیقت آخرت میں ہے اور کشف و معائنہ کا معاملہ ابھی عاقبت میں ہے۔ اس مقام میں معبود کی عبادت معبود میں مستغرق ہونے سے بہتر ہے اور اس جگہ مطلوب کا انتظار کرنا جس کا باعث محبت ہو۔ مطلوب میں فانی ہونے سے اچھا ہے ارباب سکر(مستی) &nbsp;اس بات کا یقین کریں یانہ کریں۔ عارف صاحب تکمیل کی یہ ظاہری و باطنی توجہ جو اس کوخلق &nbsp;کی طرف پیداہوئی ہوئی ہے۔ موت کے وقت تک ہے جو مقام دعوت کا منتہا ہے جب موت آ جائے گی۔ موت&nbsp;کے پل پر سے گزر کر محبوب کے کوچے میں قدم رکھ لے گا اور کسی مزاحمت کے بغیروصل و&nbsp;اتصال کی دولت سے مشرف ہو جائے گا۔</p>



<p><strong>&nbsp;</strong><strong>ھَنِیئًا لأربَابِ النَعِیمِ ِنَعِيمُهَا&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وَلِلعَاشِقِ ِالمِسكِين ِمَا يَتَجَرَّعُ</strong></p>



<p>ارباب نعمت کو یہ نعمت مبارک اور عاشقوں کو یہ رنج و حسرت مبارک</p>



<p><strong>رَبَّنَا ‌أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ</strong><strong> </strong>یا اللہ ہمارے نور کو کامل کر اور ہم کو بخش۔ تو سب شے پر قادر ہے<strong>&nbsp;</strong><strong>والصلوة</strong><strong> </strong><strong>والسلام</strong><strong> </strong><strong>والتحية</strong><strong> </strong><strong>والبركة على</strong><strong> </strong><strong>خير</strong><strong> </strong><strong>خلق الله</strong><strong> </strong><strong>و</strong><strong> </strong><strong>علی</strong><strong> </strong><strong>اخوانہ</strong><strong> </strong><strong>الكرام</strong><strong> </strong><strong>و</strong><strong> </strong><strong>أصحابه</strong><strong> </strong><strong>العظام</strong><strong> </strong><strong>إلى</strong><strong> </strong><strong>يوم</strong><strong> </strong><strong>القيام</strong><strong>.&nbsp;</strong></p>



<p>                                        <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ299ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                             </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&#038;title=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%85%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2093%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%85%da%a9/" data-a2a-title="عالم خلق اور عالم امر کے لطائف کا ذکر مکتوب نمبر 93دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%85%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%85%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خوارق و کرامات ولایت کی شرط نہیں مکتوب نمبر 92دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Oct 2021 06:58:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اہل استدراج]]></category>
		<category><![CDATA[سجدہ تحیت]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت قرب الہی کا نام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3708</guid>

					<description><![CDATA[اس بیان میں کہ ولایت قرب الہی سے مراد ہے اور خوارق و کرامات ولایت کی شرط نہیں اور اس بیان میں کہ بادشاہوں کے لیےسجدہ تحیت کا کیا حکم ہے۔ میر&#160;نعمان کی طرف صادرفرمایاہے:۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اس بیان میں کہ ولایت قرب الہی سے مراد ہے اور خوارق و کرامات ولایت کی شرط نہیں اور اس بیان میں کہ بادشاہوں کے لیےسجدہ تحیت کا کیا حکم ہے۔ میر&nbsp;نعمان کی طرف صادرفرمایاہے:۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ &nbsp;کی حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&nbsp;برادرم عزیز سیادت پناه میرمحمدنعمان خوشحال ر ہیں۔ آپ کو واضح ہو کہ خوارق و کرامات کا&nbsp;ظاہر ہونا ولایت کی شرط نہیں۔ جس طرح علماء خوارق کے حاصل کرنے کے مکلف نہیں ہیں اسی طرح اولیا ء خوارق کے ظہور پر مکلف نہیں ہیں کیونکہ ولایت قرب الہٰی سے مراد ہے جو ماسوائے&nbsp;کے نسیان کے بعد اللہ تعالیٰ &nbsp;اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ بعض کو یہ قرب عطا فرماتے ہیں، لیکن غائبانہ حالات پر اطلاع نہیں بخشتے اور بعض کو یہ قرب بھی دیتے ہیں اور غائبانہ اشیاء کی اطلاع بھی بخشتے ہیں اور بعض کو قریب کچھ نہیں دیتے، لیکن غائبانہ حالات پر اطلاع دے دیتے ہیں۔ یہ تیسری قسم کے لوگ اہل استدراج ہیں ۔ نفس کی صفائی نے ان کو غائبانہ کشف میں مبتلا&nbsp;کر کے گمراہی میں ڈالا <strong>ہے</strong><strong>۔</strong> <strong>وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ</strong><strong> </strong><strong>‌اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ </strong>( گمان کرتے ہیں کہ ہم کچھ ہیں۔ خبرداریہ لوگ جھوٹے ہیں۔ ان پر شیطان نے غلبہ پا کر ان کو الله تعالیٰ &nbsp;کی یاد سے غافل کر دیا ہے۔ یہی لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ خبردار یہ شیطان کا گروہ گھاٹا اٹھانے والا ہے) ان لوگوں کا نشان حال ہے۔ پہلی اور دوسری قسم کے لوگ جو دولت قرب سے مشرف ہیں۔ اولیاء اللہ ہیں۔ نہ غائبانہ امور کا کشف ان کی ولایت کو بڑھاتا ہے نہ عدم کشف ان کی ولایت کو گھٹاتا ہے۔ ان کے درمیان درجات قرب کے اعتبار سے فرق ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ عدم كشف والابباعث زیاد و قرب کے جو اس کو حاصل ہوتا ہے کشف والے شخص سے افضل و پیش قدم ہوتا ہے۔ صاحب عوارف(شیخ شہاب الدین &nbsp;سہروردی) جوشیخ الشیوخ ہے اور تمام گروہوں میں مقبول ہے۔ اپنی کتاب عوارف المعارف میں اس امر کی تصریح کرتا ہے۔ اگر کسی کو میری بات کا یقین نہ ہو تو اس کتاب میں دیکھ لے۔ وہاں کرامات و خوارق کے ذکر کے بعد لکھا ہے کہ کرامات وخوارق الله تعالیٰ &nbsp;کی بخشش ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض کو کشف و کرامات کیساتھ شرف فرماتے ہیں اور یہ دولت عطا فرماتے ہیں اورکبھی ایسا ہوتا&nbsp;ہے کہ ان میں سے ایک شخص زیادہ اعلی رتبہ رکھتا ہے، لیکن خوارق و کرامات اس کو کچھ حاصل نہیں ہوتے۔ کیونکہ کرامات یقین کی زیادہ تقویت کے لیے عطا فرماتے ہیں اور جب کسی کو خالص یقین حاصل ہو چکا ہو تو اس کو کرامات کی کیا حاجت ہے۔ یہ سب کرامت ذکر ذات اور اس میں قلب کے فانی ہونے کے ماسوا ہیں۔ جو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ انتہی کلام،</p>



<p>&nbsp;شیخ اور اس گروہ کے امام خواجہ عبدالله انصاری(ہروی) نے جو شیخ الاسلام کے لقب سے ملقب ہے۔ اپنی کتاب منازل السائرین میں فرمایا ہے کہ فراست کی دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل معرفت کی فراست، دوسری اہل جوع و ریاضت کی فراست۔ اہل معرفت کی فراست طالبوں کی استعداداور ان اولیاء اللہ کو پہچاننے سے تعلق رکھتی ہے۔ جو حضرت جمع کے ساتھ واصل ہو چکے ہیں اور اہل ریاست واہل جوع کی فراست غائبانہ صورتوں اور احوال کے کشف پرمخصوص ہے جومخلوقات&nbsp;سے تعلق رکھتے ہیں، چونکہ اکثر لوگ جوحق تعالیٰ &nbsp;کی بارگاہ سے جدا ہوتے ہیں اور دنیا کے ساتھ اشتغال رکھتے ہیں اور جن کے دل صورتوں کے کشف اورمخلوقات کی غابئانہ خبروں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ امر بڑا بھاری معلوم ہوتا ہے اور گمان کرتے ہیں کہ یہی لوگ اہل اللہ اورحق تعالیٰ &nbsp;کے خاص بندے ہیں اور اہل حقیقت کے کشف سے انکار کرتے ہیں اور اہل حقیقت کو ان احوال میں جو اللہ تعالیٰ &nbsp;کی طرف سے بیان کرتے ہیں۔ تہمت لگاتے&nbsp; اور کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ اہل حق ہوتے جیسے کہ لوگوں کا گمان ہے تو یہ لوگ بھی ہمارے اور تمام مخلوق کے غیبی احوال بتلاتے۔ جب ان کو کشف احوال پر قدرت نہیں ہے تو ان امور کے کشف پر جومخلوقات کے احوال سے اعلی ہیں کس طرح قدرت رکھیں گے اور اہل معرفت کی فراست کو جوحق تعالیٰ &nbsp;کی ذات و صفات و افعال سے تعلق رکھتی ہے۔ اپنے اس قیاس فاسد سے جھوٹا جانتے ہیں اور ان بزرگوں کے علوم و معارف صحیحہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور نہیں جانتے&nbsp;کہ حق تعالیٰ &nbsp;نے ان لوگوں کو خلق کے ملا حظہ سے محفوظ رکھا ہے اور ان کو اپنی جناب پاک کے ساتھ ہی مخصوص کر لیا ہے اور ان کی حمایت و غیرت کے باعث ان کو ملاقات کی طرف سے ہٹا رکھا ہے۔ اگر یہ لوگ خلق کے احوال کے درپے ہوتے تو بارگاہ الہی کے حضور کی صلاحیت ان میں نہ رہتی۔ا نتھی کلام۔&nbsp;</p>



<p>اس قسم &nbsp;کی اور بھی بہت سی باتیں فرمائی ہیں اور میں نے اپنے خواجہ (باقی باللہ)قدس سرہ سے سنا ہے کہ فرمایا کرتے تھے کہ شیخ محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ بعض اوليا جن سے خوارق و کرامات ظاہر ہوئے ہیں۔ آخر دم میں ان کرامات کے ظہور سے نام ہوئے ہیں اور یہ خواہش کرتے رہے ہیں کہ کاش ہم سے ہی خوارق و کرامات ظاہر نہ ہوتے۔ اگر فضيلت خوارق کے بکثرت ظاہر ہونے کے باعث ہوتی تو اس طرح ندامت کیوں کرتے۔&nbsp;</p>



<p>سوال:۔ جب خوارق کا ظاہر ہونا ولایت میں شرط نہیں تو پھر ولی غیر ولی سے کس طرح&nbsp;متمیز ہوسکتا ہے اور سچا جھوٹے سے کس طرح جدا ہو سکتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>جواب :۔ گو تمیز نہ ہو اور جھوٹاسچے کے ہاتھ ملارہے، کیونکہ ان کا باطل کے ساتھ ملا رہنا اس جہان کے لوازم میں ہے۔ ولی کو اپنی ولایت کا علم ہونا ضروری نہیں۔ بہت سے اولیاء اللہ ایسے ہیں کہ اپنی ولایت کا علم نہیں رکھتے۔ تو پھر دوسروں کو ان کی ولایت کا علم کس طرح ہو گا۔ ہاں نبی ﷺ کے لیے خوارق کا ہونا ضروری ہے۔ تاکہ نبی اور غیر نبی میں تمیز ہو سکے۔ کیونکہ نبی&nbsp;کے لیے اپنی نبوت کا علم ہونا ضروری ہے اور ولی چونکہ اپنے نبی کی شریعت کے موافق دعوت کرتا ہے اس لیے نبی کا معجزہ اس کے لیے کافی ہے اور اگر ولی اپنے پیغمبر کی شریعت کے سوا دعوت کرتا تو اس کے لیے خوارق کا ہونا ضروری تھا، لیکن جب اس کی دعوت اپنے نبی کی شریعت مخصوص ہے تو پھر اس کے لیے خوارق کی حاجت نہیں۔ علماء صرف ظاہر شریعت کے موافق&nbsp;دعوت کرتے ہیں اور اولیاء شریعت کے ظاہر اور باطن کے موافق دعوت کرتے ہیں اور اول مریدوں اور طالبوں &nbsp;کی توبہ اور انابت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں اور احکام شرعیہ کے بجا لانے کی ترغیب دیتے ہیں پھر ذکر الہی بتلاتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ تمام اوقات ذکر میں مشغول رہیں تا کہ ذکر غالب آجائے اورمذکور کے سوا دل میں کچھ نہ رہے اور مذکور کے ماسوا کا نسیان یہاں تک ہو جائے کہ اگر تکلف کے ساتھ ہی اس کو یاد دلائیں تو اس کو یاد نہ آ ئے ۔ ظاہر&nbsp;ہے کہ ولی کو اس دعوت کے لیے جو شریعت کے ظاہر و باطن سے تعلق رکھتی ہے خواری کی کیا ضرورت ہے۔ پیری مریدی اس دعوت سے مراد ہے جس کا خوارق و کرامت سے تعلق و واسطے نہیں۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ مرید رشید اور طالب مستعد ہرگھڑی سلوک طریق میں اپنے پیار سے خوارق و کرامات محسوس کرتا ہے اور معاملہ میں ہر دم اس سے مدد لیتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی نسبت خوارق کا ظاہر ہونا ضروری نہیں، لیکن مردوں کی نسبت کرامات ہی کرامات اور خوارق ہی خوارق ہیں۔ مریدکس طرح پیر کے خوارق کیو ں محسوس نہ کرے&nbsp;</p>



<p>۔ جبکہ پیر نے مردہ دل کو زندہ کر دیا ہے اور مشاہدہ و مکاشفہ تک پہنچا دیا ہے۔ عوام کے نزدیک بدنوں کا زندہ کرنا عظیم الشان ہے اور خواص کے نزدیک قلب و روح کا زندہ کرنا اعلی درجہ کی بر ہان ہے۔&nbsp;</p>



<p>خواب محمد پارسا قدس سرہ رسالہ قدسیہ میں فرماتے ہیں کہ جسد کا زندہ کرنا چونکہ اکثر لوگوں کے نزدیک بڑا اعتبار رکھتا تھا اس لیے اہل اللہ اس طرف سے منہ پھیر کر روح و قلب کے زندہ کرنے میں مشغول ہوئے ہیں۔ واقعی جسدی زندگی قلبی و روحانی زندگی کے مقابلہ میں راستہ میں پھینکے ہوئے کوڑے کرکٹ کی طرح ہے اور اس کی طرف نظر کرنا عبث و بے فائدہ ہے، کیونکہ جسدی زندگی چند روزہ زندگی کا باعث ہے اور روحانی و قلبی زندگی دائمی حیات کا موجب ہے۔&nbsp;</p>



<p>بلکہ ہم کہتے ہیں کہ درحقیقت اہل اللہ کا وجود کرامت ہے اور خلق کوحق تعالیٰ &nbsp;کی طرف دعوت کرنا اللہ تعالیٰ &nbsp;کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے اور مردہ دلوں کا زندہ کرنا الله تعالیٰ &nbsp;کی آیات میں سے آیت عظمی &nbsp;ہے۔ یہی لوگ اہل زمین &nbsp;کا امن اور غنیمت روزگار ہیں <strong>بِهِمْ ‌يُرْزَقُونَ وَبِهِمْ يُمْطَرُونَ</strong> (انہی کے طفیل لوگوں پر بارش اترتی ہے اور انہی کے طفیل ان کو&nbsp;رزق ملتا ہے) انہیں کی شان میں وارد ہے ان کی کلام دوام ہے اور ان کی نظر شفا یہی &nbsp;وہ لوگ ہیں جو الله تعالیٰ &nbsp;کے ہم نشین ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہم نشین بد بخت نہیں ہوتا اور ان کا دوست رحمت سے ناامید نہیں ہوتا۔&nbsp;</p>



<p>وہ علامت جس سے اس گروہ کا جھوٹا اورسچا جدا ہو سکے یہ ہے کہ جو شخص شریعت پر استقامت رکھتا ہو اور اس کی مجلس میں دل کو حق تعالیٰ &nbsp;کی طرف رغبت و توجہ پیدا ہو جائے اور ماسوا کی طرف سے دل سرد ہو جائے۔ وہ شخص سچا ہے اور درجات کے اختلاف کے بموجب اولیاء کے شمار میں ہے۔ مگر یہ بھی ان لوگوں کے لیے ہے جو اس گروہ کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور جن کو اس گروہ کے ساتھ مناسبت نہیں ۔ وہ محروم مطلق ہیں۔&nbsp;</p>



<p>ہر کراروئے بہ بہبود نداشت دیدن روئے نبی سود نداشت</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: نہ تھی جس کی قسمت میں کچھ بہتری .&nbsp;تھابے سوداس کو لقائے نبیﷺ مکتوب شریف میں سلطان وقت کی خدا پرستی اور احکام شریعت کے موافق عدل و انتظام کا حال لکھا ہوا تھا۔ اس کے مطالعہ سے بہت خوشی حاصل ہوئی اور کمال ذوق پیدا ہوا۔ اللہ تعالیٰ &nbsp;نے جس طرح بادشاہ وقت کو عدل و عدالت کے نور سے منور کیا ہوا ہے اسی طرح ملت محمدیہ کوبھی&nbsp;بادشاہ کے حسن انتظام سے نصرت و عزت بخشے&nbsp;۔</p>



<p>۔ اےشریت کے نشان والے۔ <strong>الشرع تحت السيف</strong> شریعت تلوار کے نیچے ہے) کے موافق شریعت غرا کی ترقی و رواج شاہان بزرگ کے حسن انتظام پر موقوف ہے۔ جب سے یہ امرضعیف ہو گیا ہے اسی دن سے اسلام بھی ضعیف ہو گیا ہے۔ کفار ہند بے تحاشا مسجدوں کو&nbsp;گرا کر وہاں اپنے معبد ومندر تعمیر کر رہے ہیں۔ چنانچہ تھانسیر میں حوض کر کھیت کے درمیان ایک مسجد اور ایک بزرگ کا مقبرہ تھا۔ اس کو گرا کر اس کی جگہ بڑا بھاری مندر بنایا ہے۔ نیز کفار اپنی رسموں کو کھلم کھلا بجالا رہے ہیں اورمسلمان اکثر اسلامی احکام کے جاری کرنے میں عاجز ہیں۔ ایکا دشی کے دن ہندو کھانا ترک کر دیتے ہیں۔ بڑی کوشش کرتے ہیں کہ اسلامی شہروں میں کوئی مسلمان اس دن نہ روٹی پکائے اورنہ بیچے اور ماه مبارک رمضان میں برملا نان طعام پکاتے اوربیچتے ہیں مگر اسلام کے &nbsp;مغلوب ہونے کے باعث کوئی روک نہیں سکتا۔ ہائے افسوس۔ بادشاہ وقت ہم میں سے ہو اور پھر ہم فقیروں کا اس طرح خستہ اور خراب حال ہو۔ بادشاہوں کے اعزاز و اکرام ہی سے اسلام کی رونق تھی اور انہی کی بدولت علماء وصوفياء معزز محترم تھے اور انہی کی تقویت سے شریعت کے احکام کو جاری کرتے تھے۔&nbsp;</p>



<p>میں نے سنا ہے کہ ایک دن صاحب قرآن امیر تیمور علیہ الرحمتہ بخارا کی گلی سے گزر رہا تھا۔ اتفاقا اس وقت حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کی خانقاہ کے درویش خانقاہ کی دریوں اور بستروں کو جھاڑو دے رہے تھے اور گرد سے پاک کر رہے تھے۔ امیر مذکور مسلمانی کے حسن خلق سے جو اس کو حاصل تھا&nbsp;</p>



<p>، اس کو چہ میں ٹھہر گیا۔ تا کہ خانقاہ کی گرد کو اپنا صندل وعنبر بنا کر درویشوں کی برکات فیض سے مشرف ہو۔ شاید اسی تواضع اور فروتنی کے باعث جو اس کو اہل اللہ کے ساتھ حاصل تھی۔ حسن خاتمہ سے مشرف ہوا۔&nbsp;</p>



<p>منقول ہے کہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ امیر کے مر جانے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ&nbsp;تیمور مر گیا اور ایمان لے گیا۔&nbsp;</p>



<p>آپ کو معلوم ہے کہ جمعہ کے دن خطبہ میں بادشاہوں کے نام جو ایک درجہ نیچے لا کر پڑھتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اسی کی وجہ یہی تواضع ہے جو شاہان بزرگ نے آنحضرت ﷺاور خلفاء راشدین رضی الله عنہم کی نسبت ظاہر کی ہے اور جائز نہیں رکھتے کہ ان&nbsp;کے نام دین کے بزرگواروں کے نام کے ساتھ ایک درجہ میں مذکور ہوں۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">تذییل&nbsp;</h2>



<p>اے بردارسجده جو پیشانی کو زمین &nbsp;پر رکھنے سے مراد ہے۔ اس میں نہایت ذلت و انکسار اور کمال تواضع و عاجزی ہے۔ اسی واسطے اس قسم کی تواضع حق تعالیٰ &nbsp;کی عبادت کے ساتھ مخصوص&nbsp;ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔&nbsp;</p>



<p>منقول ہے کہ ایک دن پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی راستہ میں جارہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کر معجزہ طلب کیا تا کہ ایمان لائے ۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ اس درخت کو جا کر کہہ تجھ کو پیغمبر بلاتا ہے درخت یہ سن کر اپنی جگہ سے ہلا اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اعرابی یہ حال دیکھ کر اسلام لے آیا۔ پھر عرض کی یا رسول اللہ اگر اجازت ہو تو میں آپ کو سجدہ کروں ۔ فرمایا خدا کے سوا کسی کوسجدہ جائز نہیں ہے اگر تعالیٰ &nbsp;کے سوا کسی غیر کو سجدہ جائز ہوتا تو میں عورتوں کو کہتا کہ مردوں کو سجدہ کریں۔&nbsp;</p>



<p>بعض فقہا نے اگرچہ بادشاہوں کے لیے سجدہ تحیت یعنی سجدہ &nbsp;تعظیم جائز رکھا ہے لیکن&nbsp; بادشاہوں کے لیے بھی مناسب ہے کہ اس امر میں حق تعالیٰ &nbsp;کی بارگاہ میں تواضع کریں اور اس قسم کی ذلت و انکسارحق تعالیٰ &nbsp;کے سوا کسی غیر کے لیے پسند نہ کریں۔ حق تعالیٰ &nbsp;نے تمام جہان کو ان کے تابع اوران کامحتاج بنایا ہے۔ اس نعمت کا شکر بجالا کر اس قسم &nbsp;کی تواضع کو جس سے کمال عجز و انکسار ظاہر ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ &nbsp;کی پاک بارگاہ کے ساتھ ہی مسلم رکھیں اور اس امر میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ بنائیں۔ اگر چہ بعض نے اس امر کو جائز رکھا ہے۔ مگر مناسب ہے کہ ان کا حسن تواضع اس امر کو پسند نہ کرے&nbsp;۔ <strong>هَلْ ‌جَزَاءُ ‌الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ</strong> (احسان کا بدلہ احسان ہی ہے)&nbsp;</p>



<p>جب بادشاہ وقت اپنے ممالک کی سیر سے دارالخلافہ میں واپس آئے گا تو امید ہے کہ فقیر بھی حق تعالیٰ &nbsp;کے ارادہ سے عنقریب دارالخلافہ میں حاضر ہوگا۔ <strong>وَالبَاقِى</strong><strong> </strong><strong>عَندَ</strong><strong> </strong><strong>التَّلَاقِی</strong><strong>&nbsp;</strong> (باقی بوقت ملاقات)</p>



<p><a><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong></a><strong> </strong><strong>وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ العُلیٰ</strong><strong></strong></p>



<p>&nbsp;اور سلام ہو آپ پر اوران &nbsp;لوگوں پر جو ہدایت کے رستہ پر چلے اور جنہوں نے حضرت محمدﷺکی متابعت کو لازم پکڑا۔</p>



<p>                                       <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ293ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                            </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2588-%25da%25a9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b7-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%2F&#038;title=%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%B1%D9%82%20%D9%88%20%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D9%84%D8%A7%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B4%D8%B1%D8%B7%20%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2092%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86/" data-a2a-title="خوارق و کرامات ولایت کی شرط نہیں مکتوب نمبر 92دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d9%84%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%b7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قاب قوسین او ادنی کے اسرار مکتوب نمبر91دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%a7%d8%a8-%d9%82%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88-%d8%a7%d8%af%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b191%d8%af/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%a7%d8%a8-%d9%82%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88-%d8%a7%d8%af%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b191%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Oct 2021 06:42:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[سیر الی اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر فی اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3705</guid>

					<description><![CDATA[&#160;&#160;ایک استفسار کے جواب میں جس میں قاب قوسین او ادنی کے اسرار دریافت کیے&#160;گئے تھے مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید کی طرف صادر فرمایا:۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (الله تعالیٰ &#160;کی حمد ہے اور اس کے&#160;برگزیدہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%a7%d8%a8-%d9%82%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88-%d8%a7%d8%af%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b191%d8%af/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;&nbsp;ایک استفسار کے جواب میں جس میں قاب قوسین او ادنی کے اسرار دریافت کیے&nbsp;گئے تھے مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید کی طرف صادر فرمایا:۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ &nbsp;کی حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&nbsp;مقام<strong> </strong><strong>قَابَ ‌قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى </strong>میں سر عظیم یہ ہے کہ جب انسان کاسیرالی اللہ کے تمام ہونے کے بعد سیر فی اللہ(اس سے مراد اَسماء و صفات، شیونات اور اعتبارات اور تقدیسات و تنزیہات کے مراتبِ وجوب میں حرکت علمی یا سیر علمی ہے اس سیر کو بقا باللہ بھی کہتے ہیں یہ سیر ولایتِ کُبریٰ میں واقع ہوتی ہے جو انبیاء علیہم السلام کی ولایت ہے۔) کے ساتھ محقق ہو جاتا ہے۔ تو اخلاق الہی سےمتخلق ہو جاتا ہے اور جب مجمل طور پر اس سیر کو بھی نام کر لیتا ہے اور اسماء و صفات کے عکسوں کے ظہور کا دائره جو سیرفی اللہ کے ساتھ وابستہ ہے۔تمام کر لیتا ہے۔ تو اس امر کے لائق ہو جاتا ہے کہ محبوب ظلیت کی آمیزش اور حالیت ومحلیت کے وہم کے بغیر اصالت کے طور پر اس میں ظہور فرمائے۔ چونکہ محبوب کی صفات ذاتیہ اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں اس لیے عاشق کی نظروں میں ذات کے ظہور کے ساتھ صفات کا ظہور بھی ہو گا اور دو قوسین یعنی قوس ذات ا &nbsp;<strong>ور</strong><strong> </strong>قوس صفات حاصل ہو جائیں گی۔ یہ مقام اعلی قاب قوسین ہے۔ جو ظہور اصلی کے متعلق ہے جس میں ظلیت کی آمیزش نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ &nbsp;کی عنایت سے عاشق صادق کا تعلق و گرفتاری معشوق ذات کے ساتھ یہاں تک ہو جائے کہ اسم وصفت سے گزر جائے تو اس وقت اسم وصفت بالکل اسی کی نظر سے دور ہو جاتے ہیں اورذات کے سوا اس کو کچھ ملحوظ و مشہود نہیں ہوتا۔ اگرچہ صفات موجود ہوں، لیکن اس کو مشہودنہیں ہوتے۔ تب او ادنے کا ستر ظاہر ہوتا ہے اور قوسین کا کچھ اثر نہیں رہتا۔ اس مقام اعلی سے جب ہبوط واقع ہوتو قدم اول عالم خلق میں بلکہ عنصر خاک میں آ پڑتا&nbsp;</p>



<p>ہے جو باوجود دوری اورمہجوری(جدائی) کے تمام موجودات کی نسبت عالم قدس سے زیادہ قریب ہے۔ عجب معاملہ ہے کہ اگر عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالیٰ  کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے)  وصعود کا اعتبار کریں تو عالم امر کو بلکہ عالم امر کےا خفی کو تمام موجودات کی نسبت عالم قدس سے زیادہ قریب معلوم کرتے ہیں اور جب نزول و ہبوط کی طرف نظر کرتے ہیں تو قرب کی دولت عالم خلق بلکہ عنصر خاک کے نصیب<strong> </strong>جانتے ہیں۔ ہاں<strong> </strong>جب عروج    کی جانب میں دائرہ کے نقطہ اول کو ملاحظہ کریں تو جانب عروج میں اس نقطہ سے زیادہ قریب اس دائرہ  کا دوسرا نقطہ ہے اور جب ہبوط کی جانب میں ملاحظہ کیا جاتا ہے تو اس نقطہ اول سے زیادہ قریب دائرہ  کا اخیر نقطہ معلو<em>م ہو</em>تا ہے۔ اس قدرفرق ہے کہ نقطہ ثانی عروج میں نقطہ اول سے معرض یعنی روگرداں(مخالف سمت) ہے اور یہ نقطہ اخیر نقطہ اول کی طرف مقبل یعنی متوجہ ہے اور معرض ومقبل میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ نقطہ ثانیہ نقطہ ادنے کے ظہورات کی خواہش رکھتا ہے اور نقطہ اخیر ظہورات کی طرف پشت کر کے ظاہر کی ذات کا خواہاں ہے۔<strong>فاین ھو من ذاک</strong> پھر دونوں کس طرح آپس میں برابر ہو سکتے ہیں۔ </p>



<p><strong>رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا </strong>(یا اللہ تو اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کام سے ہدایت و بھلائی ہمارے نصیب کر<strong> وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى </strong>(سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p>                                      <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ291ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                           </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2582%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b191%25d8%25af%2F&#038;title=%D9%82%D8%A7%D8%A8%20%D9%82%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%20%D8%A7%D8%AF%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B191%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%a7%d8%a8-%d9%82%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88-%d8%a7%d8%af%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b191%d8%af/" data-a2a-title="قاب قوسین او ادنی کے اسرار مکتوب نمبر91دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%82%d8%a7%d8%a8-%d9%82%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88-%d8%a7%d8%af%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b191%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خلق اللہ تعالیٰ  کی عیال ہے مکتوب نمبر90دفتردوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%8c-%d8%b9%db%8c%d8%a7%d9%84-%db%81%db%92-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b190/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%8c-%d8%b9%db%8c%d8%a7%d9%84-%db%81%db%92-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b190/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 27 Oct 2021 22:43:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[عیال کی غمخواری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3702</guid>

					<description><![CDATA[&#160;سفارش میں مرزا عرب خاں کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; اللہ تعالیٰ &#160;آپ کو آفاقی اورا نفسی دشمنوں پرفتح دے اور ظاہری و باطنی آفات و بلیات&#160;سے بچائے۔&#160; رسول الله ﷺنے فرمایا ہے۔ الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%8c-%d8%b9%db%8c%d8%a7%d9%84-%db%81%db%92-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b190/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;سفارش میں مرزا عرب خاں کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالیٰ &nbsp;آپ کو آفاقی اورا نفسی دشمنوں پرفتح دے اور ظاہری و باطنی آفات و بلیات&nbsp;سے بچائے۔&nbsp;</p>



<p>رسول الله ﷺنے فرمایا ہے۔ <strong>الْخَلْقُ عِيَالُ اللَّهِ فَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَى اللَّهِ مَنْ أَحْسَنَ إِلَى عِيَالِهِ </strong>، خلق اللہ تعالیٰ  کی عیال ہے اورمخلوقات میں سب سے زیادہ پیارا اللہ تعالیٰ  کے نزدیک وہ شخص ہے جو اس کے عیال کے ساتھ احسان کرے۔ حق تعالیٰ  بندوں کے رزق کا متکفل ہے اورمخلوقات اس کے عیال کی طرح ہے جو شخص کسی کے عیال کے ساتھ غمخواری کرے اور اس کے بوجھ کو اٹھائے تو وہ شخص اس عيال والے شخص کے نزدیک بہت محبوب ہوگا۔ کیونکہ اس نے اس کو سبکسار کر دیا ہے اور اس  کی محنت و مشقت اپنےذمے لے گیا ہے۔ اسی سبب سے آپ کو تکلیف دی جاتی ہے کہ حافظ حامد مردصالح اور قرآن مجید کا قاری ہے۔ کثرت عیالداری کے باعث حیران و پریشان ہے کیونکہ ان کے حقوق سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا۔ آپ کے کرم اور بخشش سے امید ہے کہ آپ اس کی مدد و اعانت فرمائیں گے۔ کریموں  کوشش کے لیے ایک بات کافی ہے۔ والسلام۔ </p>



<p>                                     <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ290ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                          </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2584-%25db%2581%25db%2592-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b190%2F&#038;title=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%84%20%DB%81%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B190%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%8c-%d8%b9%db%8c%d8%a7%d9%84-%db%81%db%92-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b190/" data-a2a-title="خلق اللہ تعالیٰ  کی عیال ہے مکتوب نمبر90دفتردوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%8c-%d8%b9%db%8c%d8%a7%d9%84-%db%81%db%92-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b190/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
