<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Wed, 24 Dec 2025 21:17:02 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>التشوف الی حقائق التصوف دوسری فصل</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 08:02:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سلسلہ سیفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[آداب شریعت]]></category>
		<category><![CDATA[ابدی سعادت]]></category>
		<category><![CDATA[التشوف الی حقائق التصوف]]></category>
		<category><![CDATA[بادشاہوں کے بادشاہ کی حاضری]]></category>
		<category><![CDATA[باطن کی پاکیزگی]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف کی علمی اور اصطلاحی تعریف]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف کی لغوی اور اصطلاحی تعریف]]></category>
		<category><![CDATA[دعووں کا ترک]]></category>
		<category><![CDATA[دلوں کی اصلاح]]></category>
		<category><![CDATA[سراسر اخلاق]]></category>
		<category><![CDATA[صفِ اول کی حاضری]]></category>
		<category><![CDATA[صفتِ حق]]></category>
		<category><![CDATA[ظاہری تعریف ممکن نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[گفتگو اور خاموشی کا حاصل]]></category>
		<category><![CDATA[ہمت اور ارادہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9324</guid>

					<description><![CDATA[کتاب &#8220;التشوف الی حقائق التصوف&#8221; کی دوسری فصل کا عنوان &#8220;تصوف کی لغوی اور اصطلاحی تعریف&#8221; (الفصل الثانی فی تعریف التصوف لغتاً واصطلاحاً) ہے۔ اس فصل میں تصوف کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیےشیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء پیر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>کتاب <strong>&#8220;التشوف الی حقائق التصوف&#8221;</strong> کی <strong>دوسری فصل</strong> کا عنوان <strong>&#8220;تصوف کی لغوی اور اصطلاحی تعریف&#8221;</strong> (الفصل الثانی فی تعریف التصوف لغتاً واصطلاحاً) ہے۔ اس فصل میں تصوف کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیےشیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد حمید جان سیفی نے مختلف ائمہ اور صوفیائے کرام کے اقوال جمع کیے گئے ہیں۔ :</p>



<h3 class="wp-block-heading">تصوف کی علمی اور اصطلاحی تعریف</h3>



<p>۱. <strong>شیخ الاسلام زکریا الانصاری (متوفی 926ھ):</strong> تصوف وہ علم ہے جس کے ذریعے نفس کے تزکیہ، اخلاق کی پاکیزگی، اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال معلوم ہوتے ہیں تاکہ ابدی سعادت حاصل کی جا سکے،۔</p>



<p> ۲. <strong>شیخ احمد زروق (متوفی 899ھ):</strong> تصوف وہ علم ہے جس کا مقصد دلوں کی اصلاح اور ان کو اللہ کے لیے خالص کرنا ہے۔ یہ علم ایسے ہی ہے جیسے فقہ اعمال کی اصلاح کے لیے، طب بدن کی حفاظت کے لیے اور نحو زبان کی درستی کے لیے ضروری ہے،۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی (متوفی 297ھ) کے اقوال</h3>



<p>۳. تصوف ایک ایسی صفت ہے جس میں بندے کو قائم کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہ صفتِ حق ہے، تاہم ظاہری رسم اور حالت کے اعتبار سے یہ بندے کی صفت شمار ہوتی ہے،۔</p>



<p> ۴. تصوف ہر بلند اور اچھے اخلاق کو اپنانے اور ہر پست و برے اخلاق کو ترک کر دینے کا نام ہے،۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">دیگر ائمہ کے ارشادات</h3>



<p>۵. <strong>حضرت ذوالنون مصری:</strong> صوفی وہ ہوتا ہے جو کچھ کہے تو اس کی گفتگو حقائق کے بارے میں ہو، اور جب خاموش ہو تو اس کے اعضاء دنیا سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہوں،۔</p>



<p> ۶. <strong>شیخ ابن عجیبہ:</strong> تصوف وہ علم ہے جس کے ذریعے بادشاہوں کے بادشاہ (اللہ تعالی) کے حضور حاضری کے طریقے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا اول علم ہے، وسط عمل ہے اور اس کا آخر اللہ کی طرف سے خاص عطا (موہبہ) ہے،۔</p>



<p> ۷. <strong>صاحبِ کشف الظنون (حاجی خلیفہ):</strong> تصوف وہ علم ہے جس سے انسانی کمالات کے درجات اور ابدی سعادت تک پہنچنے کے طریقے معلوم ہوتے ہیں،۔</p>



<p> ۸. <strong>شیخ ابوالحسن نوری:</strong> تصوف ظاہر اور باطن کی تعمیر کا نام ہے،۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ تصوف نفس کے تمام حصوں اور خواہشات کو ترک کرنے کا نام ہے،۔ صوفی وہ ہے جس کی روح پاک ہو گئی اور وہ اللہ کی بارگاہ میں صفِ اول میں شامل ہو گیا،۔ صوفی نہ تو کسی چیز کا مالک ہوتا ہے اور نہ کسی کی ملکیت میں آتا ہے،۔</p>



<p> ۹. <strong>شیخ ابن الجلاء:</strong> تصوف ایک ایسی حقیقت ہے جس کی کوئی ظاہری تعریف (رسم) نہیں کی جا سکتی،۔</p>



<p> ۱۰. <strong>شیخ ابوعمرو دمشقی:</strong> تصوف یہ ہے کہ آپ کائنات کو نقص کی آنکھ سے نہ دیکھیں بلکہ کائنات سے اپنی نظریں پھیر کر خالقِ کائنات کی طرف متوجہ ہو جائیں،۔</p>



<p> ۱۱. <strong>شیخ ابوالحسن حصری:</strong> تصوف باطن کو مخالفت (نافرمانی) کی کدورتوں سے پاک کرنے کا نام ہے،۔</p>



<p> ۱۲. <strong>امام کتانی:</strong> تصوف سراسر اخلاق کا نام ہے۔ جو شخص اخلاق میں تم سے آگے بڑھ گیا، وہ تصوف میں بھی تم سے آگے نکل گیا،۔ ۱۳</p>



<p>. <strong>شیخ مرتِعش:</strong> صوفی وہ ہے جس کی ہمت اور ارادہ اس کے قدم سے پیچھے نہ رہے (یعنی وہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے)،۔</p>



<p> ۱۴. <strong>قاضی عبدُ الرسول الاحمد نگری:</strong> تصوف دل کو اللہ کے لیے خالی کر لینے اور غیر اللہ سے تعلق توڑ لینے کا نام ہے،۔ ۱۵. <strong>شیخ عبدالرحمن جامی (نفحات الانس):</strong> حضرت ابراہیم بن شہریار نے خواب میں نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ تصوف کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: &#8220;دعووں کو ترک کرنا اور معانی (حقائق) کو چھپانا تصوف ہے&#8221;،۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">امام علی بن محمد الجرجانی کی جامع تعریف</h3>



<p>۱۶. حضرت جرجانی کے مطابق تصوف شریعت کے آداب کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، یعنی ظاہر میں احکام کی پابندی اور باطن میں ان کی حقیقت کا مشاہدہ کرنا،۔ اس میں نفسانی دعووں کو چھوڑنا، اخلاقِ بشریہ کی کدورتوں کو ختم کرنا، حقائق کے علوم کے ساتھ تعلق قائم کرنا اور امتِ مسلمہ کی خیر خواہی شامل ہے،۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">متاخرین صوفیاء کے اقوال</h3>



<p>۱۷. <strong>امام ابن قیم الجوزیہ:</strong> تصوف رذائل (بری صفات) سے خالی ہونا اور فضائل (اچھی صفات) سے آراستہ ہونا ہے،۔ ۱۸. <strong>حضرت سری سقطی:</strong> تصوف کے تین معانی ہیں: معرفت کا نور پرہیزگاری کے نور کو بجھانے نہ پائے، باطن کی گفتگو کتاب اللہ کے ظاہر کے خلاف نہ ہو، اور کرامات اسے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کی خلاف ورزی پر نہ اکسائیں،۔</p>



<p> ۱۹. <strong>حضرت ابونعیم اصبہانی (حلیۃ الاولیاء):</strong> حضرت شبلی سے عارف کی علامت پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ عارف وہ ہے جس کا سینہ کشادہ ہو، دل زخمی ہو اور جسم دنیا سے لاتعلق ہو۔ صوفی وہ ہے جس نے اپنے دل کو صاف کیا اور مصطفیٰ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلا،۔</p>



<p> ۲۰. <strong>حضرت ابوبکر شبلی:</strong> جب ان سے صوفی کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: صوفی وہ ہے جو اپنے نفس کو ذبح کرے، اپنی خواہشات کو رسوا کرے، اللہ کے احکام پر سختی سے عمل کرے اور مخلوق کا سچا خیر خواہ ہو،۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">اختتامی نچوڑ</h3>



<p>۲۱. <strong>شیخ ابراہیم مصطفیٰ و دیگر محققین:</strong> تصوف کا علم طریقت، حقیقت اور صوفیاء کے احوال کا علم ہے۔ اس کی سند حضرت جنید بغدادی، سری سقطی اور معروف کرخی جیسے اکابرین سے ہوتی ہوئی نبی کریم ﷺ تک پہنچتی ہے،۔ ۲۲. <strong>حضرت عبدالحمید ابن ابی الحدید:</strong> تصوف کی تقریباً دو ہزار تعریفیں کی گئی ہیں جن کا مرکز و محور اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توجہ ہے۔ تصوف کا اصل ستون دل کی پاکیزگی ہے جو بندے کو اس کے خالقِ عظیم سے جوڑ دیتی ہے،۔</p>



<hr class="wp-block-separator has-alpha-channel-opacity"/>



<p><strong>تمثیل:</strong> تصوف کی ان تمام تعریفوں کی مثال ایک ایسے <strong>ستارے</strong> کی ہے جس کی طرف دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ اشارہ کر رہے ہوں۔ کوئی اس کی <strong>چمک</strong> کا ذکر کرتا ہے، کوئی اس کی <strong>بلندی</strong> کا، اور کوئی اس کی <strong>رہنمائی</strong> کا۔ الفاظ الگ الگ ہیں، لیکن سب کا اشارہ اسی ایک <strong>روشنی</strong> کی طرف ہے جو انسانی دل کو اندھیروں سے نکال کر اللہ کے نور تک پہنچاتی ہے،۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&#038;title=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/" data-a2a-title="التشوف الی حقائق التصوف دوسری فصل"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>التشوف الی حقائق التصوف پہلی فصل</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:47:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سلسلہ سیفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[التشوف الی حقائق التصوف]]></category>
		<category><![CDATA[اہلِ صفہ]]></category>
		<category><![CDATA[اوصافِ حمیدہ]]></category>
		<category><![CDATA[دل کی صفائی]]></category>
		<category><![CDATA[صف اول میں شمار]]></category>
		<category><![CDATA[مکمل استسلام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9322</guid>

					<description><![CDATA[کتاب &#8220;التشوف الی حقائق التصوف&#8221; کی پہلی فصل کا عنوان &#8220;تصوف کے اشتقاق میں&#8221; (الفصل الاول فی اشتقاق التصوف) ہے، جس میں شیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد حمید جان سیفی نے لفظ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>کتاب <strong>&#8220;التشوف الی حقائق التصوف&#8221;</strong> کی پہلی فصل کا عنوان <strong>&#8220;تصوف کے اشتقاق میں&#8221;</strong> (الفصل الاول فی اشتقاق التصوف) ہے، جس میں شیخ القرآن والتفسیر استاذ العلماء  پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا محمد حمید جان سیفی  نے لفظ &#8220;صوفی&#8221; اور &#8220;تصوف&#8221; کے مآخذ اور اس سے متعلق مختلف اقوال کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ :</p>



<h3 class="wp-block-heading">تصوف کے اشتقاق میں مختلف اقوال</h3>



<p> لفظِ صوفی کے اشتقاق کے بارے میں اہل علم کے ہاں کئی آراء پائی جاتی ہیں:</p>



<p>۱. <strong>صوفہ (الصوفة) سے اشتقاق:</strong> بعض حضرات کا خیال ہے کہ صوفی &#8220;صوفہ&#8221; سے مشتق ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جس طرح اون کا ایک لچھا (صوفہ) بے جان اور اللہ کے سامنے مکمل سپردگی کی حالت میں ہوتا ہے، صوفی بھی اللہ کے سامنے اپنی مرضی کو فنا کر کے مکمل استسلام (سپردگی) کی حالت میں ہوتا ہے،۔</p>



<p>۲. <strong>صفہ (الصِفَة) سے اشتقاق:</strong> ایک قول یہ ہے کہ یہ &#8220;صفہ&#8221; سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے اوصافِ حمیدہ (اچھی صفات) کو اپنانا اور اوصافِ مذمومہ (بری صفات) کو ترک کرنا،۔</p>



<p>۳. <strong>صفا (الصفاء) سے اشتقاق:</strong> ابو الفتح البستی رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر محققین کے نزدیک صوفی &#8220;صفا&#8221; (پاکیزگی) سے مشتق ہے۔ اس حوالے سے ایک مشہور شعر کا ذکر کیا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں نے صوفی کے لفظ پر بہت اختلاف کیا اور اسے &#8220;صوف&#8221; (اون) سے مشتق سمجھا، لیکن میں یہ نام صرف اس جوان کو دیتا ہوں جس نے اللہ کے لیے اپنے دل کو پاک (صفا) کیا، یہاں تک کہ اسے &#8220;صوفی&#8221; کہا جانے لگا،۔</p>



<p>۴. <strong>اہلِ صفہ (اہل الصفہ) کی نسبت:</strong> بعض کے نزدیک صوفی وہ ہے جو &#8220;اہلِ صفہ&#8221; کے نقشِ قدم پر چلے۔ یہ وہ صحابہ کرام تھے جنہوں نے دنیا چھوڑ کر اللہ کی یاد کے لیے خود کو وقف کر رکھا تھا۔ قرآن کریم کی سورہ کہف کی آیت ۲۸ میں انہی حضرات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں،۔</p>



<p>۵. <strong>صفِ اول (الصف الاول) سے نسبت:</strong> ایک قول یہ ہے کہ صوفیاء کو صوفی اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے دل اللہ کے حضور صفِ اول میں ہوتے ہیں۔ وہ تمام عبادات اور نیکی کے کاموں میں سب سے آگے رہنے کی کوشش کرتے ہیں،۔</p>



<p>۶. <strong>صوف (الصوف) سے اشتقاق:</strong> لغوی اعتبار سے سب سے مضبوط قول یہ ہے کہ صوفی &#8220;صوف&#8221; (اون) سے بنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں صوفیاء تکلفات کو چھوڑ کر سادہ اور موٹا اونی لباس (صوف) پہننے کو ترجیح دیتے تھے جو کہ ان کے زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی علامت تھا،۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">اصطلاحِ تصوف کی تاریخ اور ضرورت</h3>



<p> اس اعتراض کا جواب کہ لفظِ &#8220;تصوف&#8221; عہدِ صحابہ اور تابعین میں نہیں سنا گیا تھا۔ مصنف فرماتے ہیں کہ:</p>



<ul class="wp-block-list">
<li>تصوف کا لفظ اگرچہ بعد میں مشہور ہوا، لیکن اس سے مراد وہی حقیقت ہے جو صحابہ کے دور میں موجود تھی،۔</li>



<li>جیسے نحو، فقہ اور منطق جیسی اصطلاحات بعد کے ادوار میں فنون کی تدوین کے لیے وضع کی گئیں، اسی طرح تصوف کی اصطلاح بھی روحانی تربیت کے فن کے لیے مقرر کی گئی،۔</li>



<li>تصوف کا اصل مقصد <strong>تزکیہ نفس، صفائے قلب، اخلاق کی اصلاح</strong> اور <strong>مرتبہ احسان</strong> تک پہنچنا ہے۔ اسے چاہے &#8220;اسلام کا روحانی پہلو&#8221; کہہ لیں یا &#8220;جانبِ احسانی&#8221;، اس کی حقیقت وہی ہے جو اسلاف سے چلی آ رہی ہے،۔</li>
</ul>



<h3 class="wp-block-heading">فنی اور لغوی بحث کا نچوڑ</h3>



<p>امام ابوبکر بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کے مطابق صوفیاء سے متعلق تمام اوصاف ان کے مختلف ناموں اور القاب میں جمع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ الفاظ مختلف ہیں (جیسے صفا، صفوت، صوف) مگر ان سب کا روحانی مطلب ایک ہی ہے،۔ لغوی طور پر اگر اسے &#8220;صفا&#8221; سے ماخوذ سمجھا جائے تو نسبت &#8220;صفوی&#8221; ہونی چاہیے تھی، لیکن کثرتِ استعمال کی وجہ سے &#8220;صوفی&#8221; مشہور ہو گیا،۔</p>



<p><strong>خلاصہ یہ کہ تصوف محض ایک نام نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اور اللہ کے ساتھ سچے تعلق کا نام ہے،۔</strong></p>



<hr class="wp-block-separator has-alpha-channel-opacity"/>



<p><strong>مثال:</strong> تصوف کے اشتقاق کی مثال ایسی ہے جیسے کسی پاکیزہ <strong>آئینے</strong> کو مختلف ناموں سے پکارا جائے۔ کوئی اسے اس کی <strong>چمک</strong> (صفا) کی وجہ سے پہچانے، کوئی اس کے <strong>فریم</strong> (لباس/صوف) کی وجہ سے، اور کوئی اس میں نظر آنے والے <strong>عکس</strong> (اوصاف) کی وجہ سے۔ نام جو بھی ہو، اصل مقصود وہ <strong>شفافیت</strong> ہے جو حقیقت کو واضح طور پر دکھا سکے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25db%2581%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%2F&#038;title=%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B4%D9%88%D9%81%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/" data-a2a-title="التشوف الی حقائق التصوف پہلی فصل"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b4%d9%88%d9%81-%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%84%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہفت منزل</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%db%81%d9%81%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%db%81%d9%81%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:24:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[فت اسماء]]></category>
		<category><![CDATA[ہفت مقام]]></category>
		<category><![CDATA[وادی استغنا]]></category>
		<category><![CDATA[وادی توحید]]></category>
		<category><![CDATA[وادی حیرت]]></category>
		<category><![CDATA[وادیِ طلب]]></category>
		<category><![CDATA[وادی عشق]]></category>
		<category><![CDATA[وادی فقر اور فنا]]></category>
		<category><![CDATA[وادی معرفت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4851</guid>

					<description><![CDATA[سات وادیاں، جو سالک کو راہ سلوک میں عبور کرنی پڑتی ہیں، پہلی منزل وادی طلب، دوسری منزل وادی عشق، تیسری منزل وادی معرفت، چوتھی منزل وادی استغنا، پانچویں منزل وادی توحید، چھٹی حیرت منزل وادی اور ساتویں منزل وادی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%db%81%d9%81%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> سات وادیاں، جو سالک کو راہ سلوک میں عبور کرنی پڑتی ہیں، پہلی منزل وادی طلب، دوسری منزل  وادی عشق، تیسری منزل وادی معرفت، چوتھی منزل وادی  استغنا، پانچویں منزل وادی توحید، چھٹی حیرت منزل وادی  اور ساتویں منزل  وادی  فقر اور فنا</p>



<p>تصوف کی اصطلاح میں <strong>ہفت منزل</strong> سے مراد وہ سات وادیاں یا مقامات ہیں جو ایک سالک کو راہِ سلوک طے کرتے ہوئے پیش آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سالکین کیلئے یہ سات منزلیں درج ذیل ہیں:</p>



<ol class="wp-block-list">
<li><strong>وادیِ طلب</strong>: یہ وہ پہلی منزل ہے جہاں سالک کے دل میں حقیقت کی تلاش اور مولیٰ کی تڑپ پیدا ہوتی ہے۔</li>



<li><strong>وادیِ عشق</strong>: اس مقام پر سالک پر محبتِ الہیٰ کا غلبہ ہو جاتا ہے۔</li>



<li><strong>معرفتِ الہیٰ</strong>: یہ وہ منزل ہے جہاں سالک کو اللہ تعالیٰ کی پہچان اور اس کے اسرار و رموز کا ادراک حاصل ہونے لگتا ہے۔</li>



<li><strong>استغنا</strong>: اس مقام پر سالک ماسوی اللہ (اللہ کے سوا ہر چیز) سے بے نیاز اور مستغنی ہو جاتا ہے۔</li>



<li><strong>توحید</strong>: یہ وہ بلند مقام ہے جہاں سالک کو کثرت میں وحدت کا مشاہدہ ہوتا ہے اور وہ ہر شے میں صرف ذاتِ واحد کا جلوہ دیکھتا ہے۔</li>



<li><strong>حیرت</strong>: تجلیاتِ الہیٰ کے مشاہدے اور معرفت کی گہرائی میں پہنچ کر سالک پر ایک حیرت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔</li>



<li><strong>فقر و غنا</strong>: یہ سلوک کی آخری منزل ہے جہاں سالک اپنی ہستی کو مٹا کر (فقر) اللہ کی بقا سے باقی (غنا) ہو جاتا ہے۔</li>
</ol>



<p>ذرائع میں ان سات منزلوں کے علاوہ سالکین کی سہولت کیلئے دیگر &#8220;ہفت&#8221; (سات) اصطلاحات کا بھی ذکر ہے، جو علمِ تصوف میں اہمیت رکھتی ہیں:</p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>ہفت اسماء</strong>: یہ وہ سات اسمائے الہیٰ ہیں جن کا ورد مختلف سلسلوں میں مریدوں کو کرایا جاتا ہے، جیسے: لا الہ الا اللہ، اللہ، ہو، حق، حی، قیوم اور قہار۔</li>



<li><strong>ہفت مقام</strong>: یہ انسانی دل کے وہ سات حصے یا لطیفے ہیں جن کی صفائی سلوک میں ضروری ہے: صدر، قلب، شغاف، فواد، حبۃ القلب، سویدا اور بہجت القلب۔</li>
</ul>



<p><strong>تمثیل:</strong> ان سات منزلوں کو ایک ایسے پہاڑی راستے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس کی ہر منزل پچھلی منزل سے زیادہ کٹھن مگر زیادہ خوبصورت اور بلند ہوتی ہے۔ جس طرح ایک مسافر پہلے منزل کی طلب کرتا ہے، پھر سفر کی سختیوں سے عشق کرتا ہے اور آخر کار چوٹی پر پہنچ کر دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز ہو کر بلندی کے نظارے میں کھو جاتا ہے، سالک بھی اسی طرح فقر و غنا کی چوٹی تک پہنچتا ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25db%2581%25d9%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%2F&#038;title=%DB%81%D9%81%D8%AA%20%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%db%81%d9%81%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84/" data-a2a-title="ہفت منزل"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%db%81%d9%81%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مقامات عالم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:17:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ جبروت]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ لاہوت (عالمِ ذات)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ مثال (عالمِ برزخ)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ ملکوت (عالمِ غیب/امر)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ ناسوت (عالمِ شہادت/ملک)]]></category>
		<category><![CDATA[عالمِ ہاہوت]]></category>
		<category><![CDATA[مراتبِ خارجی (ظہور)]]></category>
		<category><![CDATA[مراتبِ داخلی (بطون)]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب سته]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6670</guid>

					<description><![CDATA[تصوف کی اصطلاحات میں عالم سے مراد ماسوی اللہ (اللہ کے سوا سب کچھ) ہے، جس کا وجود ظلی ہے اور وہ اللہ کی ذات کا آئینہ ہے۔ صوفیائے کرام نے کائنات کی تخلیق اور روحانی سفر کے حوالے سے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تصوف کی اصطلاحات میں <strong>عالم</strong> سے مراد ماسوی اللہ (اللہ کے سوا سب کچھ) ہے، جس کا وجود ظلی ہے اور وہ اللہ کی ذات کا آئینہ ہے۔ صوفیائے کرام نے کائنات کی تخلیق اور روحانی سفر کے حوالے سے عالم کے مختلف مقامات اور درجات بیان کیے ہیں، جنہیں <strong>مراتبِ ستہ</strong> یا <strong>تنزلاتِ ستہ</strong> کہا جاتا ہے  ۔</p>
<p>عالم کے مقامات اور ان کی اقسام کی تشریح درج ذیل ہے:</p>
<h3><strong>1۔ عالم کے بنیادی مراتب (داخلی و خارجی)</strong></h3>
<p>صوفیہ کے نزدیک وجود کے چھ بڑے مرتبے ہیں، جنہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:</p>
<ul>
<li><strong>مراتبِ داخلی (بطون):</strong> یہ وہ مقامات ہیں جن میں ذات اور صفات کا اجمالی و تفصیلی علم ہوتا ہے۔ ان میں <strong>احدیت</strong> (ذاتِ بحت)، <strong>وحدت</strong> (حقیقتِ محمدی ﷺ) اور <strong>واحدیت</strong> (تفصیلِ صفات) شامل ہیں  ۔</li>
<li><strong>مراتبِ خارجی (ظہور):</strong> یہ وہ مقامات ہیں جہاں کائنات خارج میں ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں <strong>عالمِ ارواح</strong>، <strong>عالمِ مثال</strong> اور <strong>عالمِ اجسام</strong> شامل ہیں۔</li>
</ul>
<h3><strong>2۔ عالم کے مشہور مقامات اور اقسام</strong></h3>
<p>تصوف میں کائنات کو پانچ بڑے عوالم یا حضرات (حضراتِ خمسہ) میں تقسیم کیا جاتا ہے:</p>
<ul>
<li><strong>عالمِ لاہوت (عالمِ ذات):</strong> یہ وہ مقام ہے جہاں سالک کو <strong>فنا فی اللہ</strong> کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اسے روحوں کا پہلا وطن اور گنجِ مخفی کا مقام بھی کہا جاتا ہے ۔</li>
<li><strong>عالمِ جبروت:</strong> یہ لاہوت اور ملکوت کے درمیان واقع ہے جہاں احکامِ خداوندی کے مطابق امور سرانجام پاتے ہیں۔ یہ اسماء و صفاتِ الٰہی کی عظمت اور مرتبہِ واحدیت کا مقام ہے۔</li>
<li><strong>عالمِ ملکوت (عالمِ غیب/امر):</strong> یہ فرشتوں، عقول اور نفوس کا عالم ہے جو مادہ اور زمان و مکان سے پاک ہے ۔ اسے عالمِ ارواح بھی کہا جاتا ہے۔</li>
<li><strong>عالمِ مثال (عالمِ برزخ):</strong> یہ عالمِ ارواح اور عالمِ اجسام کے درمیان ایک لطیف عالم ہے۔ یہاں روحیں اپنے اعمال کی مثالی صورتیں اختیار کرتی ہیں۔</li>
<li><strong>عالمِ ناسوت (عالمِ شہادت/ملک):</strong> یہ مادی دنیا ہے جسے عالمِ اجسام اور عالمِ محسوسات بھی کہتے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روحیں جسموں میں داخل ہوتی ہیں۔</li>
<li><strong>عالمِ ہاہوت:</strong> یہ معرفت اور سلوک کے مقامات میں سے بلند ترین مقام ہے، جس کی طرف حدیثِ قدسی &#8220;کنت کنزاً مخفیا&#8221; میں اشارہ کیا گیا ہے ۔</li>
</ul>
<h3><strong>3۔ عالمِ امر اور عالمِ خلق میں فرق</strong></h3>
<p>صوفیہ نے تخلیق کے اعتبار سے عالم کی دو بنیادی اقسام بیان کی ہیں:</p>
<ol>
<li><strong>عالمِ امر:</strong> وہ عالم جو مادہ اور مدت (زمان و مکان) کے بغیر محض اللہ کے حکم &#8220;کُن&#8221; سے وجود میں آیا، جیسے عقول اور ارواح ۔</li>
<li><strong>عالمِ خلق:</strong> وہ عالم جو مادہ سے تخلیق ہوا اور جس میں ناپ تول، مقدار اور کمیت کو دخل ہو، جیسے اجسام اور افلاک۔</li>
</ol>
<h3><strong>4۔ عالمِ صغیر اور عالمِ کبیر</strong></h3>
<p>صوفیہ کی اصطلاح میں <strong>انسان عالمِ صغیر</strong> ہے کیونکہ وہ تمام مراتبِ کائنات کا خلاصہ اور ان پر حاوی ہے ۔ جبکہ پوری کائنات <strong>عالمِ کبیر</strong> ہے۔ عالم کا وجود ظلی ہے، یعنی عالم صورتِ حق ہے اور حق تعالیٰ روحِ عالم ہے ۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> عالم کی حقیقت ایسی ہی ہے جیسے سورج اور اس کا عکس؛ جس طرح آئینہ میں سورج کا عکس نظر تو آتا ہے لیکن وہ اصل سورج نہیں ہوتا، اسی طرح یہ عالم اللہ کی صفات کا مظہر ہے مگر اس کی ذات کا عین نہیں ۔</p>
<p>صوفیاء جہان کو چار حصوں یامقاموں میں تقسیم کرتے ہیں اور ان مقاموں کے نام  رکھے ہیں۔</p>
<p>اول ناسوت۔</p>
<p>ناسوت عالم اجسام یعنی اس دنیا کو کہتےہیں</p>
<p>مفردون ہمیشہ مقام لاہوت میں رہتے ہیں۔اور لفظ مقام اس جگہ مجازًاستعمال ہوتا ہے۔ورنہ لاہوت کوئی مقام نہیں وہاں جہات ستہ نہیں ہیں۔وہ تو صرف ذاتِ الٰہی کانام ہے ۔</p>
<p>دوئم جبروت</p>
<p>جبروت صفات الہیہ کی عظمت و جلال کے مقام کو کہتے ہیں</p>
<p>۔سوئم ملکوت۔</p>
<p>۔ملکوت عالم فرشتگان یا عالم ارواح وعالم غیب وعالم اسماء کانام بتلاتے ہیں۔</p>
<p>چہارم لاہوت۔</p>
<p>۔لاہوت ذاتِ الہٰی کا عالم ہے۔جہاں جا کر سالک فنافی اللہ ہو جاتا ہے۔یعنی مفرد ومجرد ہوتا ہے۔</p>
<p>مراۃالاسرار میں لکھا ہے کہاس کے نیچے جبروت کا مقام ہے۔یعنی جبرو کسر کا مقام اور اس جگہ سے شش جہت کا انتظام شروع ہوتا ہےمعجزات و تصرفات اورتیرا میر بولنااور یہ اور وہ کا لفظ یہاں استعمال ہوتا ہےاور یہ خدا کے تخت کامقام ہے۔اور اس جگہ سے لے کر زمین کی خاک تک قطب عالم کا تصرف مانتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ لاہوت میں جبروت کا خیال کفر ہے۔وہ لوگ جو لاہوت میں پہنچتے ہیں مقام جبروت میں واپس آکر معجزات وغیرہ کیا کرتے ہیں۔اور اس وقت وہ لوگ لاہوت سے گرے ہوتے ہیں۔</p>
<p>عبدالرزاق کاشی سے منقول ہے کہ لاہوت صوفیہ کے نزدیک وہ حیات ہے جو تمام اشیا میں سرایت کیے ہوئے ہے۔اور مقام ناسوت اور روحِ انسانی اس لاہوت کا محل ہے۔اسی مضمون پر کسی صوفی کا یہ شعر ہے۔</p>
<p>روح شمع وشعاع اوست حیات خانہ روشن ازو داو از ذات<br />
میں کہتا ہوں کہ اگرچہ عام صوفی لفظ جبروت سے عالم جبرع کسی مراد لیتے ہیں تو درحقیقت لفظ جبروت جبر سے مبالغہ ہے۔جس کے معنی ہیں بڑی زبر دستی اور بڑی بلندی پس خدا کی وہ شان جس سے وہ سب چیزوں حکومت اور بلندی رکھتا ہے اسی شان کانام جبروت ہے۔اور وہ ذات پاک جس کی وہ شان ہےاسی کا نام لاہوت ہے۔پس لفظ جبروت سے صفات قدیمہ پر اور لفظ لاہوت سے ذات پاک پر اور لفظ ملکوت سے عالمِ بالا پر اور لفظ ناسوت سے عالم ِ اجسام پر اشارہ ہوتا ہے۔اور اس نشان پربظاہر کچھ نقصان نہیں ہے۔البتہ وہ کیفیتیں جو ان مقاموں میں صوفیہ نے اپنی عقل سے اپنے ولیوں کے لیے فرض کی ہیں کہ یہاں یہ ہوتا ہے۔اور وہاں وہ ہوتا ہے۔اس کا ثبوت بدلیل ان کے ذمے ہے۔میں ان کے اس بیان کو محض وہم سمجھتا ہوں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585%2F&#038;title=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/" data-a2a-title="مقامات عالم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علم وہبی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:06:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[احوال]]></category>
		<category><![CDATA[الہام]]></category>
		<category><![CDATA[علم عطائی]]></category>
		<category><![CDATA[علم لدنی]]></category>
		<category><![CDATA[علم وہبی]]></category>
		<category><![CDATA[فراست کی قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[ماء القدس]]></category>
		<category><![CDATA[مواہب ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7021</guid>

					<description><![CDATA[اصطلاح تصوف میں علم وہبی (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اصطلاح تصوف میں <strong>علم وہبی</strong> (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں،۔</p>
<p>علم وہبی کی تفصیلات درج ذیل نکات میں بیان کی گئی ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>تعریف اور ماہیت:</strong> علم وہبی وہ غیبی معانی ہیں جو <strong>بغیر کسب کے وہبی طور پر</strong> سالک کے دل پر نازل ہوتے ہیں۔ اسے <strong>&#8220;علمِ لدنی&#8221;</strong> یا <strong>&#8220;علمِ عطائی&#8221;</strong> بھی کہا جاتا ہے، جو صرف اولیاءِ کاملین اور مقربین کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ علم براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ سے حاصل ہونے والا عرفان اور حقائق کا نام ہے۔</li>
<li><strong>ذرائع حصول:</strong> یہ علم کتابوں کے مطالعے یا بحث و مباحثے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا طریقہ <strong>الہامات، تجلیات، فتوحات، مکشوفات اور مشاہدات</strong> ہے۔ جب سالک کا باطن صاف ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں وہ علمی راز ودیعت فرما دیتا ہے جس سے حقیقت کے جمال کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔</li>
<li><strong>احوال اور مواہبِ ربانی:</strong> تصوف میں سالک پر طاری ہونے والی خوشگوار روحانی کیفیات کو <strong>&#8220;احوال&#8221;</strong> کہا جاتا ہے، جنہیں &#8220;مواہبِ ربانی&#8221; (اللہ کے عطیات) بھی کہتے ہیں۔ یہ فیوضات اللہ کی طرف سے وہبی طور پر نازل ہوتے ہیں تاکہ بندے کا باطن صاف ہو اور وہ اپنے مولیٰ کے قریب ہو سکے۔</li>
<li><strong>علمِ کسبی سے فرق:</strong> علمِ کسبی یا استدلالی وہ ہے جو انسانی عقل اور دلیل کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، علمِ وہبی <strong>بلا استدلال</strong> حاصل ہوتا ہے اور اس پر سالک کو کامل یقین ہوتا ہے۔ یہ علم دل کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان خیر و شر اور حقائقِ اشیاء کو گہرائی تک دیکھ سکتا ہے،۔</li>
<li><strong>ماءُ القدس:</strong> علمِ وہبی کو <strong>&#8220;ماءُ القدس&#8221;</strong> (مقدس پانی) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک نورانی علم ہے جو سالک کو جسمانی کثافتوں سے پاک کر کے تجلیِ حقیقی اور نورِ قدیم سے مزین کر دیتا ہے۔</li>
</ul>
<p>خلاصہ یہ کہ علم وہبی وہ نورانی فیض ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کے قلب پر القاء فرماتا ہے، جس کے بعد انہیں کائنات کے مخفی اسرار اور الٰہی حقائق کا ادراک بغیر کسی ظاہری وسیلے کے حاصل ہو جاتا ہے،۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> علمِ وہبی کی مثال اس <strong>بارش</strong> جیسی ہے جو بنجر زمین (دل) پر قدرت کی طرف سے برستی ہے اور اسے خود بخود سرسبز و شاداب کر دیتی ہے، جبکہ علمِ کسبی اس محنت اور کنویں کے پانی کی طرح ہے جسے انسان خود کھود کر اور مشقت کر کے زمین تک پہنچاتا ہے۔</p>
<p>علم لدنی<br />
علم وہبی، عطائی اورعلم ربانی کہا جاتا ہے جو بغیر کسی خارجی سبب کے خود بخود قلب میں من جانب اللہ آتا ہو۔<br />
قرآن میں ہے<br />
اٰتَٰینہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً۔( القرآن 18/ 65 ) (تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔<br />
علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں &#8220;یہ آیت علم لدنی کے اثبات میں اصل ہے۔ علم لدنی کو علم الحقیقتہ اور علم الباطن بھی کہتے ہیں<br />
۔[1] حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں۔<br />
والعلم اللدنی وھو الذی لا واسطۃ فی حصولہ بین النفس وبین الباری وانما ھو کالضوء من سراج الغیب یقع علی قلب صاف فارغ لطیف (کذا فی الرسالۃ اللدنیہ ص 28) علم لدنی وہ ہے کہ جس کے حصول میں نفس اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، علم لدنی بمنزلہ روشنی کے ہے کہ سراج غیب سے قلب صاف وشفاف پر واقع ہوتی ہے<br />
۔[2]صوفیائے کرام کی اصطلاح میں ایسے ہی علم کو علم لدنی کہتے ہیں جس میں اسباب ظاہری کا دخل اور واسطہ نہ ہو اور عالم غیب سے براہ راست علم اس کے قلب میں داخل ہو ملائکہ پر جو منجانب اللہ علوم فائض ہوتے ہیں وہ اسی قسم کے ہوتے ہیں قلب میں عام طور پر جو علم داخل ہوتا ہیوہ حواس ظاہری کے دروازوں سے داخل ہوتا ہے ایسے علم کو علم حصولی اور علم اکتسابی کہتے ہیں اور جب کسی کے قلب میں کوئی دروازہ عالم ملکوت کی طرف کھل جائے اور بلا ان ظاہری دروازوں کے کوئی علم قلب میں پہنچ جائے تو ایسے علم کو علم لدنی کہتے ہیں جو علم قلب کے باہر کے دروازہ سے داخل اور حاصل ہو وہ علم حصولی ہے اور جو علم قلب کے اندر کسی باطنی دروازہ سے آئے وہ ” علم لدنی“ اور ” علم وہبی“ اور ” علم حضوری“ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو اسرار غیبی اور باطنی حکمتوں اور مصلحتوں کا علم عطا فرمایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام شریعت کا علم عطا فرمایا تھا<br />
[3]علم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کے ادراک کا نام ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال اور اس کے احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے، اگر یہ علم کسی بشر کے واسطے سے حاصل ہو تو کسبی ہے اور اگر بلاواسطہ حاصل ہو تو علم لدنی ہے۔ علم لدنی کی تین قسمیں ہیں : وحی، الہام اور فراست<br />
[4] اولیاء کا علم حضوری بلکہ حضور سے بھی زیادہ کاشف۔ جس کو علم لدنی کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق اللہ کی ذات و صفات سے ہوتا ہے تو اس میں خطا کا امکان نہیں ہوتا ہے وہ وجدانی اور قطعی ہوتا ہے بلکہ اس علم کا درجہ عام قطعی علوم سے اونچا ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کا علم حضوری و وجدانی ہوتا ہے کیونکہ خود ہی عالم ہے اور خود ہی معلوم۔ اپنی ذات کو جاننے کے لیے کسی تصور کی ضرورت نہیں پڑتی اور اللہ کی ذات سے تعلق رکھنے والے صوفی کا وجدانی علم اس سے بھی بالاتر ہوتا ہے۔ اللہ تو آدمی سے اتنا قریب ہے کہ وہ خود بھی اپنی ذات سے اتنا قرب نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : نحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ یعنی ہم تم سے اتنا قرب رکھتے ہیں کہ تم خود اپنے سے اتنا قرب نہیں رکھتے‘ مگر اے عوامی نظر رکھنے والو! ہم تم کو نظر نہیں آتے۔ پس یہ لدنی علم اولیاء کو پیغمبروں کے توسل سے حاصل ہوتا ہے اگرچہ پیغمبر تک پہنچنے کے درمیانی وسائل کتنے ہی زیادہ ہوں<br />
۔[5]*وحی</p>
<p>اللہ تعالی کا کلام مع الفاظ و معانی بواسطہ جبریل علیہ السلام قلب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے تو وہ وحی اور قرآن کہلاتا ہے.</p>
<p>اگر بغیر واسطہ جبریل علیہ السلام کے صرف معانی کا القاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر ہوتا ہے وہ ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم.</p>
<p>اور کبھی بغیر واسطہ حضرت جبریل علیہ السلام کے دیدار باری تعالی کے حصول پر علم عطا ہوا ہے.</p>
<p>جسے رب تعالی نے:</p>
<p>فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہ مَآ اَوْحٰی(القرآن پ۲۷ ,النجم,آیت۱۰)</p>
<p>&#8220;اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی.&#8221;</p>
<p>سے تعبیر فرمایا.</p>
<p>*الہام</p>
<p>الہام کا لغوی معنی ہے پہنچانا</p>
<p>الہام وہ علم حق ہے جو اللہ تعالی غیبی طور پر اپنے بندوں کے دلوں پر القاء کرتا ہے.</p>
<p>جس طرح رب تعالی نے فرمایا:</p>
<p>قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ(القرآن پ۲۲,سبا,آیت۴۸)</p>
<p>&#8220;فرما دیجیے! بے شک میرا رب حق(دلوں پر) القاء کرتا ہے.&#8221;</p>
<p>*فراست</p>
<p>فراست اس علم کو کہتے ہیں جو صورتوں کے آثار و علامت کو عقلمندی سے دیکھنے کی وجہ سے غیبی طور پر حاصل ہوتا ہے.</p>
<p>قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:</p>
<p>&#8220;اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ&#8221;</p>
<p>مومن کی فراست سے ڈرو بےشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے.(الحدیث, مفہوما)</p>
<p>*الہام اور فراست دونوں سے ہی غیبی چیزوں پر اطلاع حاصل ہوتی ہے.</p>
<p>لیکن فراست میں کچھ چیزوں کی صورتوں کی علامات سے وہ علم حاصل ہوتا ہے</p>
<p>اور الہام میں یہ واسطہ نہیں ہوتا بلکہ قدرتی طور پر اللہ تعالی کی طرف سے فیضان ہوتا ہے.</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/" data-a2a-title="علم وہبی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وجدان</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:58:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[حالتِ جذب]]></category>
		<category><![CDATA[ذوقی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[قلبی واردات]]></category>
		<category><![CDATA[وجدان]]></category>
		<category><![CDATA[وجدانیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7024</guid>

					<description><![CDATA[تصوف میں وجدان سے مراد ذاتِ حق کو ہر جگہ اور ہر شے میں پانا، اس میں مکمل طور پر محو اور گم ہو جانا اور اس سے قلبی لذت حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی باطنی کیفیت ہے جسے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تصوف میں <strong>وجدان</strong> سے مراد <strong>ذاتِ حق کو ہر جگہ اور ہر شے میں پانا</strong>، اس میں مکمل طور پر <strong>محو اور گم</strong> ہو جانا اور اس سے قلبی لذت حاصل کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی باطنی کیفیت ہے جسے <strong>حالتِ جذب</strong> بھی کہا جاتا ہے۔</p>
<p>وجدان کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>ذوقی حقیقت:</strong> وجدانی معنی <strong>ذوقی</strong> ہوتے ہیں جنہیں محض کہنے اور سننے سے پوری طرح بیان نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی یہ عقل و فکر کے ذریعے مکمل طور پر واضح ہوتے ہیں۔</li>
<li><strong>حسن سے ماورا:</strong> اسے حسن و جمال سے ماورا ایک ایسی وجدانی کیفیت (ملاحت) قرار دیا گیا ہے جو دلوں کو مسخر کر لیتی ہے اور سالک کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔</li>
<li><strong>قلبی واردات:</strong> وجدان کا تعلق <strong>احوال</strong> سے ہے، جو سالک کے دل پر اللہ کی طرف سے بلا کوشش &#8216;وہبی&#8217; طور پر وارد ہوتے ہیں اور اس کے باطن کو صاف کر کے اسے مولا کے قریب کر دیتے ہیں،۔</li>
<li><strong>وجد و خشوع:</strong> وجدان کی کیفیت میں جب انسان حق کے راز کو پا لیتا ہے تو اس کی روح پر <strong>خشوع</strong> طاری ہو جاتا ہے۔ اس حالت میں عاشق کو محبوبِ حقیقی کے ذکر کے بغیر کہیں چین اور قرار نصیب نہیں ہوتا۔</li>
</ul>
<p>وجدان کی مثال اس <strong>شہد کے ذائقے</strong> جیسی ہے جسے کوئی شخص کتنا ہی بیان کر لے، دوسرا اسے تب تک نہیں سمجھ سکتا جب تک وہ خود اسے چکھ نہ لے؛ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ روح کا ایک اندرونی تجربہ ہے۔</p>
<p>یقین، اعتماد، تیقن، اعتبار، بھروسا، ایقان<br />
قوت یا حس جو غیبی حقائق کے ادراک کا ذریعہ ہوتی ہے، حواس خمسہ یا عقل کی مدد کے بغیر کسی چیز کو دیکھ یا جان لینے کی صلاحیت، چھٹی حس، کشف، الہام، القا، اشراق<br />
جاننے اور دریافت کرنے کی قوت جو فطری طور پر ودیعت ہوتی ہے، ادراک، آگہی، شعور، بوجھ<br />
(تصوف) ذاتِ حق کو ہر جگہ اور ہر شے میں پانا اور اس میں گم اور محو ہونا، حالت ِجذب<br />
(منطق) اپنی حالت یا کیفیت کا وہبی ادراک جو بغیر کسی واسطے کے ہوتا ہے، ایک قسم کی اندرونی بصیرت جس میں حقیقت بلا کسی تحلیل و تجزیے کے پیش ہوتی ہے، قلبی احساس<br />
اسلام علیکم میں ملک سرفراز احمد۔کائنات میں موجود و عدم کی آگہی اور رہنمائی کے لیے جس چیز کا انسان عموماً سہارا لیتا ہے وہ انسانی شعور ہے جبکہ اس کے برعکس جب انسان ایک نظریہ یا عمل کو عدم سے وجود میں لاتا ہے تو پھر اس موقع پر انسانی شعور ہتھیار ڈال دیتا ہے کیونکہ انسانی عقل یا شعور کسی موجود یا عدم کی آگہی اور اس کا تجزیہ کرنے کے کام آتا ہے اس سے بڑھ کر انسانی عقل کا کوئی کام نہیں، وجدان کا کام پھر یہیں سے شروع ہوتا ہے وجدان کی سادہ تعریف یہ کہ وجدان انسان کے اندر موجود ایک ایسی قوت کا نام ہے جو عدم سے وجود کی جانب سفر کرتی ہے اس قوت کا یہ سفر دو قسم کا ہوتا ہے<br />
ایک کو وجدان وہبی کہتے ہیں<br />
جبکہ دوسرے کو وجدان کسبی کہتے ہیں<br />
وجدان عدم سے وجود کی جانب سفر کرکے متنوع دریافت سامنے لاتا ہے گویا اس قوت کا بنیادی کام دریافت ہے۔<br />
[1] وجدان وہبی سے مراد کسی چیز کی ایسی دریافت جس کا تعلق شعور یا عقل سے نہ ہو اسے وہبی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں انسانی جہد کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا یہ خالصتاً خداداد قوت ہے وجدان وہبی کو قدیم زمانوں میں انکشاف، القا اور الہام کے ناموں سے یاد کیا جاتا رہا ہے آج بھی لوگ یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں اکثر شعرا اسی قوت کے تحت انسانی احساسات و جذبات کو الفاظ کی لڑی میں پرو دیتے ہیں اس کے علاوہ مسلمان صوفیاء نے بھی وجدان وہبی کا دعوی کیا ہے وجدان وہبی کا تصور تمام مذاہب میں مختلف النوع اسلوب سے آج بھی موجود ہے۔<br />
2 وجدان کسبی کا تعلق انسانی شعور یا عقل سے ہے سادہ الفاظ میں اس کی تعریف اس طرح کی جائے گی کہ وجدان وہبی ایک ایسی قوت ہے جو انسان وجود و عدم کو پرکھنے کے بعد پیدا کرتا ہے مکاتب اور افکار وجدان کسبی کی پیداوار ہیں وجدان کسبی کو ہم انسانی غور و فکر کا نتیجہ بھی کہہ سکتے ہیں گویا وجدان کسبی ایک خاص حکمت ہے جس کا ظہور گہرے تدبر کے بعد ہی ممکن ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%2F&#038;title=%D9%88%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D9%86" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86/" data-a2a-title="وجدان"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d8%af%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شرح صدر</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%d8%b5%d8%af%d8%b1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%d8%b5%d8%af%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:52:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[انوار الہی کے اثرات]]></category>
		<category><![CDATA[روحانی لطیفہ]]></category>
		<category><![CDATA[مبدأ فیاض]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7026</guid>

					<description><![CDATA[شرح صدر تصوف کی روشنی میں شرح صدر (یا انشراح صدر) ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جس میں سالک کا سینہ حق کی پہچان، قبولیت اور مشاہدہِ الٰہی کے لیے مکمل طور پر کھل جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%d8%b5%d8%af%d8%b1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>شرح صدر</p>
<p>تصوف کی روشنی میں <strong>شرح صدر</strong> (یا انشراح صدر) ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جس میں سالک کا سینہ حق کی پہچان، قبولیت اور مشاہدہِ الٰہی کے لیے مکمل طور پر کھل جاتا ہے ۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق اس کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:</p>
<p><strong>1. لطیفہ صدر کی حقیقت:</strong> اولیاء اللہ کی اصطلاح میں &#8220;صدر&#8221; ایک <strong>روحانی لطیفہ</strong> ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں <strong>انوارِ الٰہی</strong> بندے کے بدن سے متصل ہوتے ہیں۔ یہ انوار &#8220;مبدأ فیاض&#8221; کی جانب سے نازل ہوتے ہیں اور تمام روحانی روشنیوں کا صدور اسی مقام سے ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>2. ایمان اور ہدایت کا ثمرہ:</strong> شرح صدر کا براہِ راست تعلق <strong>حصولِ ایمان</strong> سے ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کے دل میں روشنی پیدا فرما دیتا ہے، جس سے اس کا سینہ ایمان کے لیے کشادہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ہدایت سے محرومی کی علامت سینے کا تنگ ہو جانا ہے، جس میں حق کو قبول کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔</p>
<p><strong>3. شرح صدر کی علامات و اثرات:</strong></p>
<ul>
<li><strong>اعمالِ صالحہ کی رغبت:</strong> شرح صدر کے نتیجے میں سالک میں ایسا روحانی ارتقاء ہوتا ہے کہ <strong>نیک اعمال اس کی عادت</strong> بن جاتے ہیں۔ سالک کو نیکی چھوڑنے سے دلی تکلیف ہوتی ہے اور گناہوں سے فطری نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔</li>
<li><strong>تعلق مع اللہ اور بے نیازی:</strong> حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مطابق، شرح صدر پانے والا صوفی <strong>کشادہ سینہ</strong> رکھتا ہے اور اللہ سے مضبوط تعلق کی وجہ سے دنیا کی تمام اشیاء سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔</li>
<li><strong>آخرت کی طرف رجوع:</strong> شرح صدر کی ایک بنیادی علامت یہ ہے کہ بندہ &#8220;دارِ غرور&#8221; (دنیا) سے کنارہ کش ہو کر <strong>&#8220;دارِ خلود&#8221; (آخرت)</strong> کی طرف رجوع کرتا ہے اور موت سے پہلے اس کی تیاری میں مشغول ہو جاتا ہے۔</li>
</ul>
<p><strong>4. حصول کا طریقہ:</strong> شرح صدر حاصل کرنے کے لیے <strong>تزکیہ نفس، مجاہدہ اور دوامِ ذکر</strong> (مسلسل ذکر) لازمی ہیں ، جب ذکرِ الٰہی کے ذریعے دل کے آئینے سے گناہوں اور دنیاوی خواہشات کا زنگ دور ہوتا ہے، تو وہ انوارِ الٰہی کے نزول کے لیے موزوں بن جاتا ہے اور سینہ کھل جاتا ہے۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> شرح صدر کی مثال ایک ایسی <strong>اندھیری کوٹھڑی</strong> کی ہے جس میں اچانک <strong>روشن چراغ</strong> (نورِ الٰہی) لا کر رکھ دیا جائے؛ جس طرح چراغ کے آنے سے کوٹھڑی میں موجود ہر چھوٹی بڑی شے واضح ہو جاتی ہے، اسی طرح شرح صدر کے بعد سالک پر حقائقِ اشیاء اور خیر و شر کے راستے بغیر کسی دلیل و تفکر کے واضح ہو جاتے ہیں  ۔</p>
<p>سینہ کو کھول دینا یا کھل جانا، (مراد) حقیقت واضح کر دینا، نورِ ایمان سے سینہ کو بھر دینا، عالم بالا کے فیضان یا علم لدنی کے لیے طبیعت کو مستعد اور آمادہ بنا دینا، انشراح قلب<br />
دل کا کھلا ہونا، شک و شبہ سے دور ہونا، فراخدلی (شاذ)<br />
عربی زبان میں &#8220;ضیق الصدر&#8221; یعنی سینہ کا تنگ ہوجانا یعنی نفسیاتی دباو، ذہنی دباو، غم ، فکر، ملال اور قلق اور اس کا علاج شرح الصدر یعنی سینہ کا کھل جانا، موسیٰ علیہ السلام نے دعاء کی (رب الشرح لی صدری) یا اللہ میرا سینہ کھول دے یعنی میری لکنت دور فرمادے اور مجھے اس قابل فرمادے کہ میں فرعون کا سامنا کرسکوں، نبی اکرم (ص) کا انعام عطاء فرمایا گیا (الم نشرح لک صدرک)</p>
<p>اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ(1)<br />
ترجمہ: کنزالعرفان<br />
کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کشادہ نہ کردیا ؟<br />
تفسیر: ‎صراط الجنان<br />
{اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ: کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کشادہ نہ کر دیا؟ } اس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ایک روز سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی:اے اللّٰہ ! عَزَّوَجَلَّ ،تو نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنا خلیل ہونے کا شرف عطا فرمایا،حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے ساتھ کلام کرنے سے سرفراز کیا،حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بلند مکان جنت تک رسائی دی،پہاڑوں اور لوہے کو حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا فرمانبردار کر دیا،جِنّات،انسان اور تمام حیوانات حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تابع کر دئیے، تومجھے کس شرف اور کرامت سے خاص فرمایا ہے؟اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں گویا کہ ارشاد فرمایا گیا ’’اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، اگر ہم نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کواپنا خلیل بنایا ہے تو آپ کی خاطر ہم نے آپ کا سینہ علم و حکمت اور معرفت کے نور سے کھول دیا تاکہ مُناجات کی لذّت،امت کا غم،اپنی بارگاہ میں حاضری کا ذوق اور آخرت کے گھر کا شوق آپ کے دل میں سما جائے،آسمانی وحی کو اٹھانا آپ کے دل پر آسان ہو جائے، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف رغبت دینے کی تبلیغ کرنے پر آنے والے مَصائب کو برداشت کر سکے اور ان خوبیوں اور کرامتوں کی بدولت آپ کو وہ مقام حاصل ہو کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے خلیل ہونے کو اس سے کچھ نسبت نہ رہے اور اگر ہم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے ساتھ ہم کلام ہونے کا شرف عطا کیا اور حضرت ادریس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بلند مکان تک رسائی عطا کی ہے تو آپ کو اس غم سے نجات دی جو آپ کی پُشت پر بہت بھاری تھا اور آپ کو لامکاں میں بلا کر اپنے دیدار سے مشرف کیا یہاں تک کہ ہم میں اور آپ میں (ہماری شایانِ شان)دو کمانوں کے برابر بلکہ ا س سے بھی کم فاصلہ رہ گیا اور آسمانوں کی پوری سلطنت میں آپ کی قربت اور منزلت کا شہرہ ہو گیا۔اگر ہم نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیا کی چند چیزوں پر حکومت بخشی ہے تو آپ کو عالَمِ عُلْوی یعنی آسمانوں پر قدرت دی ہے کہ وہاں کے فرشتے خادموں کی طرح آپ کی بارگاہ میں حاضر رہتے ہیں اور آپ کے سپاہیوں کی طرح آپ کے دشمنوں سے لڑتے ہیں اور آسمانوں میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو آپ کی نبوت و رسالت سے واقف نہ ہو اور آپ کے حکم سے اِنحراف کرے۔( روح البیان، الم نشرح، تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۰ / ۴۶۵، الکلام الاوضح فی تفسیر الم نشرح، ص۱۴، ملتقطاً)</p>
<p>اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :</p>
<p>اصالتِ کُل، امامتِ کل، سیادتِ کل، امارتِ کل</p>
<p>حکومتِ کل ،ولایتِ کل ،خدا کے یہاں تمہارے لئے</p>
<p>فرشتے خِدَم رسول حِشم تمامِ امم غُلامِ کرم</p>
<p>وجود و عدم حدوث و قِدم جہاں میں عیاں تمہارے لئے</p>
<p>یہ طور کجا سپہر تو کیا کہ عرشِ عُلا بھی دور رہا</p>
<p>جہت سے ورا وصال ملا یہ رفعتِ شاں تمہارے لئے</p>
<p>مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ’’یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم نے آپ کی خاطر آپ کے سینۂ اقدس کو ہدایت ، معرفت،نصیحت، نبوت اور علم وحکمت کے لئے کشادہ اور وسیع کر دیا یہاں تک کہ عالَمِ غیب اور عالَمِ شہادت اس کی وسعت میں سما گئے اور جسمانی تعلقات روحانی اَنوار کے لئے مانع نہ ہوسکے اور علومِ لدُنّیہ ، حکمِ الہٰیہ ، معارفِ ربّانیہ اور حقائقِ رحمانیہ آپ کے سینۂ پاک میں جلوہ نُما ہوئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ظاہری طور پر سینۂ مبارک کا کھلنا مراد ہے ۔اَحادیث میں مذکور ہے کہ ظاہری طور پر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے سینۂ مبارک کا کھلنا بھی بار ہا ہوا ،جیسے عمر مبارک کی ابتداء میں سینۂ اَقدس کھلا ، نزولِ وحی کی ابتداء کے وقت اور شبِ معراج سینہ مبارک کھلا اور اس کی شکل یہ تھی کہ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے سینۂ پاک کو چاک کرکے قلب مبارک نکالا اور زریں طَشت میں آبِ زمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔(خزائن العرفان، الم نشرح ، تحت الآیۃ:۱، ص ۱۱۱۰، خازن ، الم نشرح ، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۳۸۸، روح البیان، الم نشرح ، تحت الآیۃ:۱، ۱۰ / ۴۶۱-۴۶۲، ملتقطاً)</p>
<p>آیت ’’ اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:</p>
<p>اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں :</p>
<p>(1)…دنیا کی حقارت اور آخرت کے کمال کے علم سے سینے کا کھل جانا اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:</p>
<p>’’فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ-وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ ‘‘(انعام:۱۲۵)</p>
<p>ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جسے اللّٰہ ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ ،بہت ہی تنگ کردیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔</p>
<p>اورحضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: اس کھولنے سے کیا مراد ہے؟ارشاد فرمایا:’’ اس سے مراد وہ نور ہے جو مومن کے دل میں ڈالا جاتا ہے جس سے اس کا دل کھل جاتا ہے۔عرض کی گئی: کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کی پہچان ہو سکے؟ارشاد فرمایا:’’ہاں ،(ا س کی تین علامتیں ہیں )<br />
(1)آخرت کی طرف رغبت<br />
(2) دنیا سے نفرت ،<br />
(3) موت سے پہلے آخرت کی تیاری۔( مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، ما ذکر عن نبیّنا صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی الزہد ، ۸ / ۱۲۶، الحدیث: ۱۴)</p>
<p>(2)… حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کے ایسے حبیب ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے بن مانگے ان کا مقدس سینہ ہدایت اور معرفت کے لئے کھول کر انہیں یہ نعمت عطا کر دی۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25ad-%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1%2F&#038;title=%D8%B4%D8%B1%D8%AD%20%D8%B5%D8%AF%D8%B1" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%d8%b5%d8%af%d8%b1/" data-a2a-title="شرح صدر"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%d8%b5%d8%af%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>باطنی اصلاح کی ضرورت</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:44:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7122</guid>

					<description><![CDATA[امت مسلمہ کو آج باطنی اصلاح کی ضرورت ہے الحمد للہ! دین اسلام کی تبلیغ اور اشاعت مختلف صورتوں سے ہورہی ہے اور امت کی اصلاح کی جد وجہداور تدبیریں ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ کے فضل وکرم <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>امت مسلمہ کو آج باطنی اصلاح کی ضرورت ہے</p>
<p>الحمد للہ! دین اسلام کی تبلیغ اور اشاعت مختلف صورتوں سے ہورہی ہے اور امت کی اصلاح کی جد وجہداور تدبیریں ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ کے فضل وکرم سے ظاہری صورتیں، مثلاً وضع قطع، لباس، حج، نماز، زکوٰۃ، روزہ وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات زندہ ہورہے ہیں، لیکن اعمال کی روح اور باطنی اصلاح کے بغیر اللہ کا تعلق نصیب نہیں ہوتا اور اسلام کی حقیقت اور قدریں نمایاں نہیں ہوتیں۔ اور قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے  کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ پورے دین میں داخل ہوجاؤ۔</p>
<p>يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً   ۠.</p>
<p>مسلمانوں کی اعانت اور امداد دین کی پختگی میں وابستہ ہے۔ آج حال کا امر ہے کہ مسلمان اپنی روحانی قدریں پہچانیں، تاکہ ہمیں روحانی طاقت وقوت نصیب ہوجائے اور ہم دنیا کے فریب میں ایمان کو نہ چھوڑیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:<br />
’’اللہ رب العزت تمہاری صورتوں اور کھالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘‘۔ تو قلب رب العالمین اور احکم الحاکمین کے نظر فرمانے کا مقام ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو اپنے چہرہ کا اہتمام کرتا ہے جو مخلوق کے دیکھنے کی چیز ہے، اس کو دھوتا اور گندگیوں اور میل سے صاف کرتا اور حتی الوسع اس کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ مخلوق کسی عیب پر نہ مطلع ہو اور اپنے اس قلب کا اہتمام نہیں کرتا جو رب العالمین کے نظر فرمانے کا مقام ہے، کسی عیب اور برائی ، گندگی اور آفت کو اس میں نہ دیکھے، بلکہ اس کو تو فضیحتوں، گندگیوں اور برائیوں میں ڈالے رکھتا ہے، اگر مخلوقات میں سے کوئی اس کو دیکھ لے تو اس سے علیحدگی اور جدائی اختیار کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔<br />
قلب ایسا بادشاہ اور رئیس ہے کہ اطاعت اور فرمانبرداری کے قابل ہے اور تمام اعضاء انسانی اس کے تابع اور ماتحت ہیں، لہذا  جب متبوع میں صلاحیت پیدا ہوگی تو تابع میں یقینی طور پر ظاہر ہوگی اور جب بادشاہ راہ راست اختیار کرے گا تو اس کی رعایا خود راہ راست پر آجائے گی اور اس چیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بخوبی بیان کردیتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<br />
’’إن فی الجسد لمضغۃ اذاصلحت صلح الجسد کلہ وإذا فسدت فسد الجسد کلہ ألا وہی القلب‘‘ ۔ (ابن ماجہ،ج:۵،ص:۴۶۷) ترجمہ:۔’’بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو سارا بدن درست ہوتا ہے اور وہ خراب ہو تو سارا بدن خراب ہوجاتا ہے، ہوشیار رہو کہ وہ قلب ہے‘‘۔<br />
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں کہ طالب حق کو چاہئے کہ پہلے فرقہ ناجیہ (اہل سنت والجماعت) کے عقائد کے موافق اپنے عقائد کی تصحیح کرلے اور اس کے بعد مسائل ضروریہ کو سیکھے اور کتاب وسنت اور آثار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اتباع کرے، اس کے بعد نفس کو رذیل اخلاق وعادات سے پاک اور صاف کرے، چنانچہ ایک بزرگ کا ارشاد ہے۔<br />
                                                                                                                              خواہی کہ شود دل تو چوں آئینہ                 دہ چیز  برون کن  ازدرون  سینہ</p>
<p>                                                                                                                             حرص وامل وغضب دروغ وغیبت             بخل وحسد وریا وکبرو کینہ<br />
                                                                                                                            خواہی کہ شدی منزل قرب مقیم              نہ چیز بنفس خویش فرما تعلیم<br />
                                                                                                                            صبر وشکر وقناعت وعلم ویقین                تفویض وتوکل ورضا وتسلیم</p>
<p>یعنی اگر تو چاہتا ہے کہ دل مثل آئینہ ہوجائے تو دس چیزیں دل سے نکال دے: حرص، امل ،(امید)غضب، دروغ (جھوٹ) ،غیبت، بخل، حسد،ریا ،کبر،کینہ اور چاہتا ہے کہ قرب الٰہی حاصل ہو تونو چیزیں اپنے نفس میں پیدا کر: صبر،شکر، قناعت، علم، یقین، تفویض، توکل،رضااورتسلیم‘‘۔<br />
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:’’قلب ایک قلعہ ہے اور شیطان دشمن ہے۔اور وہ چاہتا ہے کہ قلعہ میں داخل ہوکر اس پر قبضہ کرلے۔ دشمن سے قلعہ کی حفاظت تب ہی ہوسکتی ہے کہ اس کے دروازوں کی حفاظت کی جائے اور تمام گزرگاہوں کو بچایاجائے، جو شخص حفاظت کرنا نہ جانتا ہو، وہ حفاظت بھی نہیں کرسکتا، چنانچہ وسواس شیطانی سے دل کی حفاظت کرنا واجب ہے، بلکہ یہ کام ہر مکلف پر بھی واجب ہوتا ہے، جب تک شیطانی گزرگاہوں سے واقف نہ ہو تب تک شیطان کو دور نہیں کرسکتا، اس لئے ان گزر گاہوں کا علم حاصل کرنا واجب ہے اور ان دروازوں سے آگاہ ہونا بھی واجب ہے، یہی بندے کی صفات ہیں اور یہ کئی ایک ہیں مثلاً:<br />
۱۔ غضب وشہوت، غضب توعقل پر جناتی اثر کی طرح ہے۔ جب عقل کمزور ہو تو شیطانی لشکر حملہ آور ہوتا ہے اور جب انسان غصہ کرتاہے تو شیطان اس کے ذریعہ سے اپنا کھیل کھیلتا ہے، جیساکہ بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔<br />
۲۔حسد وحرص، ان دونوں کی وجہ سے انسان ہرچیز کا حریص بن جاتا ہے، یہ چیزیں اسے لالچی اور اندھا بنادیتی ہیں، اب شیطان کو موقع ملتا ہے، حرص کے وقت وہ شہوت تک پہنچ جاتا ہے، چاہے کس قدر برا اور بے حیائی کا کام ہو۔<br />
۳۔سیر ہوکر کھانا، اگرچہ حلال اور پاک ہو، اس لئے کہ سیر ہو کرکھانے سے شہوات کو قوت حاصل ہوتی ہے اور یہ شیطان کے ہتھیار ہیں۔<br />
۴۔مکان، لباس اور سامان خانہ کے ساتھ زینت کرنا، جب انسان کے دل میں اس کا غلبہ دیکھتا ہے تو اس کو بڑھاتا ہے، وہ ہمیشہ مکان بنانے، اس کی چھتیں، دیوار سجانے اور عمارات کو وسیع کرنے میں لگائے رکھتا ہے، اس کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ تیری عمر بہت لمبی ہوگی، جب وہ ان کاموں میں گھر گیا تو اب دوبارہ اس کے پاس اسے آنے کی ضرورت نہیں رہتی، اب بعض کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اسی حالت میں مرجاتے ہیں کہ وہ شیطان کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، خواہشات کے مطیع ہوتے ہیں، اس سے انجام خراب ہونے کا بھی ڈر ہوتا ہے۔<br />
دنیا دار الامتحان ہے، یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس کو ہم اپنی مرضی کی مطابق نہیں گزارسکتے، مگر ہرکام میں دیکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟ اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریقہ ہے؟۔<br />
زندگی موت ہے اور موت زندگی کی ابتداء ہے جو اصل اور ابدی ہے، لہذا اس دنیا میں انسان کی ابدی زندگی سنوارنے کے لئے دو طریقے ہیں، اول: دل۔ اور دوم: جسم۔<br />
دل جسم کا بادشاہ ہے، اگر وہ سنور گیا تو پورا جسم یا یوں کہئے پوری زندگی سنور گئی اور اگر وہ خراب یا فاسد ہوگیا تو پوری زندگی خراب ہوجائے گی ۔ دل کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے،دل احساسات کی کائنات ہے، دل مسکن الٰہی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، اولیاء کرامؒ نے ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر محنت کی۔ دل میں اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی غیر کو، محبت کی نسبت، خوف کی نسبت، امید اور یقین کی نسبت نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایمان دل کی کیفیت کا نام ہے اور جسم سے اس کا اطاعت الٰہی کی صورت میں ظہور ہوتا ہے۔ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں:<br />
’’جس طرح رات دن کا فرق ہے، اسی طرح نور وظلمت کا فرق ہے۔ نور حقیقی کے ظاہر ہوجانے کے بعد (یعنی اپنے اعمال نظر آجانے کے بعد) رات اور دن کے فرق کی طرح دین اور دنیا کا فرق معلوم ہوگا۔ دن کی روشنی اعمال میں کامیابی دکھاتی ہے اور دنیا کی چیزوں سے متنفر اور صراط مستقیم کا راستہ دکھاتی ہے۔ سورج کی روشنی بغیر محنت آجائے گی ، لیکن اعمال دکھانے والی روشنی محنت سے آتی ہے اور جب یہ روشنی نصیب ہوگئی تو پھر مطلب حاصل ہوگا۔ اس روشنی کے حصول کے بعد نہ سود کے نزدیک جائے گا، نہ کسی کو دھوکہ دینے کا سوال پیدا ہوگا اور نہ رشوت یا دیگر منکرات کے قریب جائے گا، جو کام کرے گا مرضی مولیٰ کی خاطر کرے گا، اگر کسی کو دوست بنائے گا تو بھی اسی کی مرضی مطلوب ہوگی اور اگر کسی کو دشمن سمجھے گا تو بھی اسی کی رضا کے لئے ‘‘۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/" data-a2a-title="باطنی اصلاح کی ضرورت"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توحید شہودی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:29:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[توحید افعال]]></category>
		<category><![CDATA[توحید ذات]]></category>
		<category><![CDATA[توحید شہودی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید صفات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9310</guid>

					<description><![CDATA[ذرائع کے مطابق توحیدِ شہودی (جسے توحیدِ عینی یا وجدانی بھی کہا گیا ہے) سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں ایک موحد ذوق اور مشاہدے کے ذریعے حق تعالیٰ کی وحدانیت کو پاتا ہے۔ اس مقام پر سالک پر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>ذرائع کے مطابق <strong>توحیدِ شہودی</strong> (جسے توحیدِ عینی یا وجدانی بھی کہا گیا ہے) سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں ایک موحد ذوق اور مشاہدے کے ذریعے حق تعالیٰ کی وحدانیت کو پاتا ہے۔ اس مقام پر سالک پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ تمام اشیاء اپنی ہستی میں اللہ کے وجود کے ساتھ قائم ہیں اور وہ اللہ کی واحدانیت کے مشاہدے میں اس طرح مستغرق ہوتا ہے کہ اسے کائنات کی بکھری ہوئی اشیاء میں بھی وحدتِ الہیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے۔</p>



<p>ذرائع میں توحیدِ شہودی کے <strong>تین بنیادی درجات یا اقسام</strong> بیان کی گئی ہیں:</p>



<p>۱. <strong>توحیدِ افعال:</strong> اس درجے میں سالک حق تعالیٰ کے فعل کو غیر کے فعل سے الگ کر کے دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں ہونے والے تمام کاموں کا <strong>حقیقی فاعل</strong> صرف اللہ تعالیٰ کو مانا جائے اور یہ مشاہدہ کیا جائے کہ تمام افعال اسی کی قدرت اور ارادے سے ظہور پذیر ہو رہے ہیں،۔</p>



<p>۲. <strong>توحیدِ صفات:</strong> اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کو غیر کی صفات سے ممتاز کرنا ہے۔ اس مقام پر سالک یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ تمام کمالات اور صفات (جیسے علم، قدرت، سماعت و بصارت وغیرہ) درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں اور کائنات کی دیگر اشیاء میں جو صفات نظر آتی ہیں، وہ اسی کی صفات کا پرتو ہیں،۔</p>



<p>۳. <strong>توحیدِ ذات:</strong> یہ توحید کا سب سے بلند مرتبہ ہے جس میں سالک اللہ کی قدیم ذات کو تمام دیگر ذوات سے الگ اور اکیلا پاتا ہے۔ اس حالت میں سالک پر جب اللہ کی ذات کی تجلی ہوتی ہے، تو اسے تمام ذوات، صفات اور افعال اللہ کی ذات میں فنا ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس مقام پر اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ <strong>فنا فی اللہ</strong> کی کیفیت میں ہوتا ہے،۔</p>



<p>ذرائع کے مطابق، ایک ماہر مرشد سالک کا روحانی علاج پہلے <strong>توحیدِ افعال</strong> سے کرتا ہے، پھر اسے <strong>توحیدِ صفات</strong> کے مشاہدے تک لے جاتا ہے اور آخر میں <strong>توحیدِ ذات</strong> کے نور سے اس کے دل کو منور کرتا ہے تاکہ اس کے حجابات اٹھ جائیں اور وہ قربِ الہیٰ پا سکے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/" data-a2a-title="توحید شہودی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توحید وجودی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:23:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجود علمی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجود عملی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجودی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4013</guid>

					<description><![CDATA[تَوحِیدِ وُجُودی&#160; توحید وجودی کا مفہوم]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1 class="wp-block-heading">تَوحِیدِ وُجُودی&nbsp;  </h1>



<p><strong>توحید وجودی کا مفہوم</strong></p>



<ul class="wp-block-list">
<li>توحید وجودی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کائنات میں <strong>حقیقی وجود صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہے</strong> ۔ امام قسطلانی کے مطابق، اللہ کے سوا ہر چیز اپنی ذات میں معدوم (ہالک) ہے اور اسے جو بھی بقا یا وجود حاصل ہے، وہ صرف اللہ کے پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کی وجہ سے ہے  ۔ تصوف میں اسے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے نور کا عکس اور اس کی صفات کا مظہر ہے  </li>



<li>اس کی دو بنیادی قسمیں درج ذیل ہیں:</li>



<li><strong>۱۔ توحید وجودی علمی (Theoretical/Knowledge-based)</strong></li>



<li>یہ توحید کا وہ درجہ ہے جو <strong>علم، عقل اور نظریاتی ادراک</strong> سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی عام فہم تعریف یہ ہے:</li>



<li><strong>علمی پہچان:</strong> سالک دلائل اور شرعی علم کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق ہے اور وہی حقیقی مؤثر ہے  ۔</li>



<li><strong>مراتبِ وجود کا ادراک:</strong> اس میں سالک علمی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ وجود کے مختلف درجات (جیسے عالمِ ارواح، عالمِ مثال، عالمِ شہادت) دراصل اللہ ہی کی صفات اور اسماء کے تنزلات اور تجلیات ہیں۔</li>



<li><strong>خلاصہ:</strong> یہ صرف <strong>جاننے </strong>کا نام ہے کہ کائنات کی حقیقت اللہ کی وحدت میں پوشیدہ ہے۔</li>



<li><strong>۲۔ توحید وجودی عملی (Experiential/Practical)</strong></li>



<li>یہ توحید کا وہ بلند درجہ ہے جہاں علم محض نظریہ نہیں رہتا بلکہ ایک <strong>باطنی کیفیت اور مشاہدہ</strong> بن جاتا ہے  ۔ اسے &#8220;وحدۃ الشہود&#8221; یا &#8220;فناء&#8221; سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی خصوصیات یہ ہیں:</li>



<li><strong>مشاہدہ و استغراق:</strong> سالک اللہ کی محبت اور ذکر میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی ہستی اور گرد و پیش کی مخلوقات کا احساس ختم ہو جاتا ہے، اسے صرف اللہ ہی کا مشاہدہ ہوتا ہے ۔</li>



<li><strong>فنائے ارادہ:</strong> عملی توحید میں انسان کی <strong>اپنی مرضی اور خواہش ختم ہو جاتی ہے</strong> اور وہ مکمل طور پر اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتا ہے۔</li>



<li><strong>تبدیلیِ صفات:</strong> اس مقام پر بندے کے اوصافِ مذمومہ (برے اخلاق) ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ الٰہی صفات (اوصافِ حمیدہ) جلوہ گر ہوتی ہیں ۔</li>



<li><strong>خلاصہ:</strong> یہ محض جاننا نہیں بلکہ <strong>برتنے اور دیکھنے (Witnessing)</strong> کا نام ہے، جہاں بندہ اللہ کے سوا کسی غیر پر بھروسہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی غیر کو دیکھتا ہے ۔</li>



<li><strong>تمثیل:</strong> توحید وجودی <strong>علمی</strong> ایسے ہے جیسے کوئی شخص کتاب میں پڑھے کہ &#8220;سورج کی روشنی کے سامنے ستارے نظر نہیں آتے&#8221;۔ جبکہ توحید وجودی <strong>عملی</strong> اس شخص کی حالت ہے جو دن کے اجالے میں کھڑا ہو کر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو کہ سورج کی چمک میں تمام ستارے نظروں سے اوجھل (فنا) ہو چکے ہیں، اگرچہ وہ اپنی جگہ موجود ہیں </li>
</ul>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/" data-a2a-title="توحید وجودی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
