<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اعیان ثابتہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%A7%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%86-%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 23 Nov 2021 04:54:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>اعیان ثابتہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>واجب الوجود کی حقیقت مکتوب نمبر 234 دفتراول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Nov 2021 04:54:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[اعیان ثابتہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفات حقیقیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ظل و اصل کا فرق]]></category>
		<category><![CDATA[ماہیئت عدمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4397</guid>

					<description><![CDATA[. اس بیان میں کہ واجب الوجود کی حقیقت وجود محض ہے جو ہر چیز و کمال کا منشا ہے اورممکنات کی حقیقی عدم محض ہیں جو ہر شر ونقص کا مبدأ ہیں اور مَن عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَد عَرَفَ رَبَّہٗ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>. اس بیان میں کہ واجب الوجود کی حقیقت وجود محض ہے جو ہر چیز و کمال کا منشا ہے اورممکنات کی حقیقی عدم محض ہیں جو ہر شر ونقص کا مبدأ ہیں او<strong>ر</strong><strong> </strong><strong>مَن عَرَفَ نَفسَہٗ فَقَد عَرَفَ رَبَّہٗ </strong>کے معنی میں اورتجلی ذات(مکاشفہ، اس کا مبدأ ذات خداوندی ہے) کے بیان میں جوتمام نسبتوں اور اعتباروں سے بڑھ کر ہے اور آیت کریمہ <strong>اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ</strong><strong> کے</strong><strong> </strong>تاویلی معنوں اور اس کے مناسب بیان میں مع سوالوں اور جوابوں کے جواس مقام کی توضیح کے متعلق ہیں اور مع تنبیہات کے جواس مطلب کی تشریح کے لائق ہیں۔ حقائق کو جاننے والے معارف کے پانے والے عالم ربانی عارف سبحانی مخدوم زاده کلاں یعنی شیخ محمد صادق (خدا اس کو سلامت اور باقی رکھے اور اعلی مقصود تک پہنچائے)کی طرف صادر فرمایا ہے&nbsp;۔</p>



<p><strong>بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ</strong>&nbsp; خداوند بیچون(بے مثال) کی حمد اور پیغمبر رہنما درودوسلام کے بعد میرے فرزند کومعلوم ہو کہ حق سبحانہ کی حقیقت وجودمحض ہے کہ اور کوئی اور اس کے ساتھ ملا ہوانہیں ہے اور وہ وجود تعالیٰ ہر جزو کمال کا منشا<a>(پیدا ہونے کی جگہ)</a> اور ہر حسن و جمال کامبدأ ہے اور جزئی حقیقی اور بسیطی ہے ۔ جس کی طرف ترکیب ہرگز راہ نہیں ہے نہ ذہنی طور پر نہ خارجی طور پر اور حقیقت کے اعتبار سے اس کا تصور میں آنا محال ہے اور ذات تعالیٰ پر از روئے مواطات(موافقت) کے محمول ہے نہ از روئے اشتقاق کے اگر حمل&nbsp;کی نسبت کو بھی اس مقام میں فی الحقیقت گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ تمام نسبتیں وہاں ساقط ہوگئی ہیں اور وہ و جود جو عام ومشترک ہے وہ اس وجود خاص کے ظلوں میں سے ایک ظل ہے اور یہ ظل ذات تعالیٰ و تقدس پر محمول ہے اور اشیاء پر تشکیک کے طور پر ازروئے اشتقاق کے نہ&nbsp;از روے مواطات کے اور اس ظل سے مرادتنز لات کے مرتبوں میں حضرت وجودتعالیٰ و تقدس کا ظہور ہے اور اس ظل کے افراد میں سے اولی و اقدم و اشرف وہ فرد ہے جوذات تعالیٰ پر از روئے اشتقاق کے محمول ہے۔ پس اصالت کے ہر مرتبہ میں اَ<strong>للهُ</strong><strong> </strong><strong>تَعَالیٰ وُجُوْدٌ</strong><strong>&#8221; </strong>کہہ سکتے ہیں نہ کہ اَ<strong>للهُ</strong><strong> </strong><strong>تَعَالیٰ مَوْجُوْدٌ</strong><strong>&#8221; </strong>اور اس ظل کے مرتبہ میں اَ<strong>للهُ</strong><strong> </strong><strong>تَعَالیٰ وُجُوْدٌ</strong><strong>&#8221; </strong><strong>صادق</strong><strong> </strong><strong>ہے</strong><strong> </strong><strong>نہ</strong><strong> </strong>کہ کہ اَ<strong>للهُ</strong><strong> </strong><strong>تَعَالیٰ مَوْجُوْدٌ</strong> اور چونکہ حکماء اور صوفیہ کے ایک گروہ نے جو وجود کی غیبت کے قائل ہیں اور اس فرق کی حقیقت سے واقف نہیں ہوئے اورظل کو اصل سے جدا نہیں کیا حمل اشتقاق اور حمل مواطات(موافقت) دونوں کو ایک مرتبہ میں ثابت کیا ہے۔ اورحمل اشتقاق کے کرنے میں بے جاتکلف<strong> </strong>اور حیلے کے محتاج ہوئے ہیں اورحق وہی ہے جو میں نے الله تعالیٰ کے الہام سے ثابت تحقیق کیا ہے اور یہ اصالت وظليت تام حقیقی صفات کی اصالت وظلیت کی طرح ہے۔ کیونکہ ہر مرتبہ اصالت میں جو اجمال اورغیب الغیب کا مقام ہے۔ ان صفات کاحمل کرنا مواطات کے طریق پر ہے نہ اشتقاق میں مغائرت ظلیت کے مرتبوں میں ہوتی ہے اور اس جگہ کوئی ظلیت نہیں ۔ کیونکہ وہ تعین اول (ذات احدیت)سے کئی درجے برتر ہے۔ اس لئے نسبتیں اس تعین میں اجمالی طور پرملحوظ ہیں اور اس مقام میں اشیاء میں سے کسی شے کا کسی طرح کا ملاحظہ نہیں ہے اور مرتبہ ظل میں جو اس اجمال کی تفصیل ہے۔ حمل اشتقاق صادق ہے نہ حمل مواطات۔ لیکن ان صفات کی عینیت اس مرتبہ میں وجود تعالیٰ کی عینیت کی فرع ہے جو ہر خیر و کمال کا مبدأاور ہر حسن و جمال کامنشاء &nbsp;&nbsp;ہے اور اس فقیر نے اپنی کتابوں اور رسالوں میں جس جگہ وجود کی عینیت کی نفی کی ہے ۔ اس سے وجودظلی مرادلینی چاہیئے۔ جو حمل اشتقاق کاصحیح کرنے والا ہے اور یہ وجودظلی بھی آثار خارجی کامبدأ ہے۔ پس وہ ماہیتیں جو مراتب موجودات میں سے ہر مرتبہ میں اس وجود کے متصف ہوں خارجیہ ہونگے ۔ فا<strong>فھم</strong><strong> </strong><strong>فإنه</strong><strong> </strong><strong>ينفعك</strong><strong> </strong><strong>في</strong><strong> </strong><strong>كثير</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>المواقع</strong><strong> </strong>پس سمجھ لے&nbsp;کیونکہ بہت جگہ تجھے نفع دے گا ۔ پس صفات حقیقیہ بھی موجودات خارجیہ ہونگی اورممکنات بھی خارج میں موجود ہوں گی۔&nbsp;</p>



<p>اے فرزند!اس پوشیده سر کوسن کہ کمالات ذاتیہ حضرت ذات تعالیٰ کے مرتبہ میں حضرت ذات کا عین ہیں۔ مثلا علم کی صفت اس مقام میں حضرت ذات کا عین ہے اور ایسے ہی قدرت اور ارادہ اور تمام صفات کا حال ہے اور نیز اس مقام میں حضرت ذات بتما مہ علم ہے اور ایسے ہی&nbsp;بتمامہ قدرت ہے نہ یہ کہ حضرت ذات کا بعض علم ہے اوربعض قدرت کیونکہ وہاں بعض ہونا اور جز وہونا محال ہے اور ان کمالات نے جو گویا حضرت ذات سے منتزع اور الگ ہیں حضرت علم کے مرتبہ میں تفصیل پائی ہے اور تمیز پیدا کی ہے اور حضرت ذات تعالیٰ و تقدس اپنی <strong>وحدا</strong>نیت کی اس اجمالی صرافت(پرکھ) پر باقی ہے۔ بعد ازاں اس مقام میں کوئی چیز نہیں رہی جو اس تفصیل میں داخل نہ ہوئی ہو اور متمیز نہ ہوئی ہو۔ بلکہ تمام و کمالات جن میں سے ہر ایک ذات تعالیٰ کا عین ہے مرتبہ علم میں آگئی ہیں اور ان مفصلہ<strong> </strong>کمالات نے دوسرے مرتبہ میں وجودظلی <strong>پیدا</strong><strong> </strong><strong>کر</strong><strong> </strong><strong>کے</strong><strong> </strong>صفات نام حاصل کیا ہے اور حضرت ذات کے ساتھ جو ان کا اصل ہے قیام پیدا کیا&nbsp;ہے اور اعیان ثابتہ صاحب فصوص علیہ الرحمتہ کے نزدیک انہی مفصلہ کمالات سے مراد ہے جنہوں نے خانہ علم میں وجودعلمی حاصل کیا ہے اور فقیر کے نزدیک ممکنات کے حقائق عدم محض ہیں ۔ جوبمع ان کمالات کے جوان میں منعکس ہوئے ہیں ۔ ہر شرونقص کا مبدأ و ماوی ہیں۔ . یہ بات تفصیل چاہتی ہے کہ گوش ہوش سے سننا چاہیئے ۔ خدا تجھے ہدایت دیدے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>جان لے کہ عدم وجود کے مقابل ہے اور اس کی نقیض ہے ۔ پس عدم بالذات ہر شر ونقص کا منشا &nbsp;&nbsp;بلکہ ہر شر و فساد کا عین ہوگا ۔ جس طرح وجودمرتبہ اجمال میں ہر چیز و کمال کا عین&nbsp;ہے اور جس طرح حضرت وجود اصل الاصل مقام ذات تعالیٰ پر اشتقاق کے طور پر محمول نہیں ہے۔ اس طرح عدم بھی اس وجود کے مقابل ہے۔ ہیت عدمیہ پر اشتقاقی کے طریق پرمحمول نہیں ہے۔ اس مرتبہ میں اس ماہیت کو معدوم نہیں کہہ سکتے بلکہ وہ عدم محض ہے اور تفصیل علمی کے مرتبوں میں کہ جس کے ساتھ عدمیہ میں تعلق پایا ہے اس ماہیت کی جزئیات عدم سےمتصف ہو جاتی ہیں اور حمل اشتقاق ان میں ماہیت درست آتا ہے اور عدم کا مفہوم کہ گویا اس اجمالیہ عدمیہ ماہیت سے منتزع اور الگ ہے اور اس ماہیت عدمیہ کے لئے ظل کی مانند ہے ۔ اس ماہیت عدمیہ کے تمام مفصلہ افراد پر اشتقاق کے طریق پر حمل پاتا ہے۔ جیسے کہ آگے آئے گا۔ اور چونکہ وہ عدم مرتبہ ا جمال شروفسادکا عین تھا اور الله تعالیٰ کے علم میں ہر شر دوسرے شر سے جدا اور ہر فساد دوسرے فساد سے الگ ہو گیا ۔ جیسے کہ وجود کی جانب میں اجمال کے مرتبہ میں حضرت وجود ہر چیز و کمال کا عین تھا اور تفصیل علمی کے مرتبہ میں ہر کمال سے الگ اور ہر چیز دوسری چیز سے جدا ہوگی۔ پس ان وجودیہ کمالات میں سے ہر ایک کمال ان نقائص عد میہ میں سے ہر ایک نقص میں جو اس کے مقابل ہے خانہ علم میں منعکس ہوا ہے اور ایک دوسرے کی علمیہ صورتیں باہم مل جل گئی ہیں اور وہ عد مات جوشرو نقائص سے مراد ہیں بمع ان کمالات منعکس کے ممکنات کی ماہیتیں ہیں ۔ حاصل کلام یہ کہ وہ عد مات ان باتوں کے اصول و مواد ہیں اور وہ کمالات ان میں حلول کی ہوئی صورتوں کی مانند ہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس اعیان ثابتہ (ممکنہ حقائق) اس فقیر کے نزدیک ان عد مات اور کمالات سے مراد ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ باہم مل جل گئے ہیں اور جب قادر مختار جل شانہ نے چاہا ان عدمیہ ماہیات<strong> </strong>کو بمع ان کے لوازم اور وجود یہ ظلال کے کمالات کے جوان میں حضرت علم میں منعکس ہو کر ممکنات کی ماہیات نام پایا ہے ۔ اس وجود ظلی کے رنگ میں کہ موجودات خارجیہ بنایا اور آثار خارجی کا مبدأ کر دیا۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ صور علمیہ کا جو ممکنات کے اعيان ثابتہ اور ان کی ماہیات سے مراد ہیں رنگدار کرنا ان معنوں میں نہیں ہے کہ صور علمیہ نے خانہ علم سے نکل کر وجود خارجی(وجود جس کا خارج میں ادراک ہو سکے) پیدا کیا ہے کیونکہ یہ محال ہے اور جہل کومستلزم ہے<strong> تَعَالَى </strong><strong>اللہُ </strong><strong>عَنْ ذَالِکَ ‌عُلُوًّا ‌كَبِيرًا</strong> ( الله تعالیٰ اس سے بہت ہی برتر اور بلند ہے )بلکہ ان معنوں میں ہے کہ ممکنات نے خارج میں ان صور عملیہ کے مطابق وجود پیرا کیا ہے اور وجودعلمی کے سوائے اس و جود خارجی کے موافق وجود خارجی حاصل کیا ہے۔ جیسے کہ کاریگر نجار (بڑھئی)کی صورت کو ذہن میں تصور کر کے خارج میں اس کا اختراع(من گھڑت) &nbsp;کرتا ہے۔ اس صورت میں تخت کو وہ ذہنیہ صورت جو حقیقت میں اس تخت کی ماہیت ہے۔ اس نجار کے خانہ علم سے باہر نہیں نکلی ۔ بلکہ خارج میں اس تخت نے اس صورت ذہنیہ کے مطابق وجود پیدا کیا ہے۔ <strong>فَاَفْھَمْ</strong>&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ ہر عدم نے کمالات وجودیہ کے ظلال میں سے ایک عمل کے ساتھ جو اس&nbsp;کے مقابل ہے اور اس میں منعکس اور منصبغ ہے۔ خارج میں وجودذہنی پیدا کیا ہے۔ بخلاف عدم صرف کے کہ وہ ان ظلال سے متاثر نہیں ہوا اور ان کا رنگ نہیں پکڑا۔اور وہ کیسے رنگ پکڑے جب کہ وہ ان ظلال کے مقابل(حضوری) نہیں ہے۔اگر مقابلہ رکھتا ہے تو حضرت وجود سے صرف رکھتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس عارف تام المعرفت(کامل معرفت) جب حضرت وجود سے ترقی کر کے عدم صرف کے مقام میں نزول کرتا ہے تو اس کے وسیلہ سے یہ عدم بھی اس حضرت سے انصباغ پیدا کر کے مزین ومستحسن ہو جاتا ہے ۔ اس وقت اس عارف کے تمام عدم کے مراتب نے جو فی الحقیقت اس کی تمام اجمالی اورتفصیلی ذاتیہ مراتب ہیں ۔ حسن و حیزیت(حد،رسائی) پیدا کی ہے اور کمال حاصل کیا ہے اور یہ حیزیت جو تمام ذاتیہ میں سرایت کرتی ہے۔ اس قسم کے عارف سے مخصوص ہے اور اس کے غیر&nbsp;کے لئے اگر خیریت نے سرایت کی ہے تو وہ اس کے اعدام ذاتیہ کے بعض تفصيلہ مراتب تک ہی منحصر ہے یا بلحاظ اختلاف درجات کے اس کے تمام تفصیلی مراتب میں پھیلی ہوتی ہے اور یہ قسم اخیر بھی نادر الوجود ہے۔ لیکن عدم کے مرتبہ اجمال میں جوشر و نقص کا عین ہے۔ اس عارف کے سوا اور کسی نے حیزیت کی بونہیں پائی اور نہ ہی حسن کا کوئی رنگ پیدا کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس ناچار ایسے عارف کا جو حیز یت تام سے متصف ہے شیطان بھی حسن اسلام پیدا کر لیتا ہے اور اس کا نفس امارہ(برائی کی طرف بہت امر کرنے والا) مطمئنہ ہو کر اپنے مولی سے راضی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سید المرسلین علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسلیمات نے فرمایا ہے کہ<strong> </strong><strong>اَسْلَمَ</strong><strong> </strong><strong>شَیْطَانِیْ</strong><strong> </strong><strong>میرا</strong><strong> </strong>شیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>سبحان اللہ !وہ معارف جواس فقیر حقیر سے بے ارادہ و بے تکلف ظاہر ہورہے ہیں ۔ اگر بہت سے لوگ جمع ہو کر ان کی تصویر میں کوشش کریں تو معلوم نہیں کہ میسر ہو سکے ۔ فقیر کا یقین&nbsp;ہے کہ ان معارف کا بہت سا حصہ حضرت مہدی موعود علیہ الرضوان کے نصیب ہوگا۔&nbsp;</p>



<p><strong>اگر</strong><strong> </strong><strong>پادشاه</strong><strong> </strong><strong>بر</strong><strong> </strong><strong>در پیرزن&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; </strong><strong></strong><strong>بیاید</strong><strong> </strong><strong>تو</strong><strong> </strong><strong>اسے</strong><strong> </strong><strong>خواجہ</strong><strong> </strong><strong>سبلت</strong><strong> </strong><strong>مکن</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ: اگر بڑھیا کے در پر آنے سلطاں تو اسے خواجہ نہ ہو ہرگز پریشاں</p>



<p><strong>&nbsp;فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ وَ<a>الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ</a></strong> پس کیا ہی بزرگ اور بابرکت ہے وہ اللہ تعالیٰ جو بہتر پیدا کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس ثابت ہوا کہ ممکنات ذوات اور اصل عد مات ہیں کہ وجودی کمالات کے ظلال نے ان میں منعکس ہو کر ان کو مزین کر دیا ہے۔ پس نا چارممکنات بالذات ہر شروفساد کا ماوی اور ہر سود نقص کی جائے پناہ ہوئیں اور ہر خیر و کمال جوان میں تعبیر اور پوشیدہ فرمایا ہے، وہ عاریتی ہے جو&nbsp;حضرت وجود سے جو خیرمحض (سراسر بھلائی) ہے فائز ہوا ہے۔ <strong>مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ</strong><strong> </strong>(جو تجھے بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو تجھے برائی پہنچے وہ تیرے نفس سے ہے ، اس مضمون کی شاہد ہے اور جب خداوند تعالیٰ کے فضل سے یہ دید غلبہ پا جاتی ہے اور اپنے کمالات کو ٹھیک اسی طرف دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو شرمحض معلوم کرتا ہے اور خالص نقص جانتا ہے اور کوئی کمال اپنے آپ میں مشاہدہ نہیں کرتا۔ اگرچہ انعکاس کے طریق پر ہو۔ اس شخص کی طرح جو کہ ننگا ہو اور اس نے عاریت کا لباس پہنا ہو اور یہ دیدعاریت اس پر اس قدر غالب آجائے کہ وہ اپنے خیال میں اپنا سارا لباس اس لباس کے مالک کا سمجھے تو بالضرور وہ شخص اپنے آپ کو ذوق میں ننگا معلوم کرے گا۔ اگر چہ عاریت در میان واسطہ ہے۔ اس دید کا صاحب مقام عبدیت سے مشرف ہوتا ہے جو تمام کمالات ولایت سے برتر ہے۔</p>



<p>&nbsp;تنبیہ: یہ خیر وشر او رنقص و کمال کا اجتماع جو درحقیقت و جودعدم کا اجتماع ہے جمیع نقیضین کی قسم&nbsp;سے ہے کہ تو اس کو محال جانے کیونکہ وجود صرف کی نقيض عدم صرف ہے اور ان ظلی مراتب نے جس طرح وجود کی جانب میں اصل کی بلندی سے تنزلات کی پستی میں نزول فرمایا ہے۔ اس طرح عدم کی جانب میں بھی ان ظلی مراتب نے عدم صرف کی پستی سے اوپر کی طرف عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالیٰ کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) کیا&nbsp;ہے۔ ان کا اجتماع عناصر متضاد کے اجتماع کی طرح ہے کہ ہر ایک کے ضد یہ غلبہ اور تیزی کو توڑ کر ان کو جمع فرمایا ہے۔ <strong>فَسُبْحَانَ</strong><strong> </strong><strong>مَنْ</strong><strong> </strong><strong>جَمَعَ</strong><strong> </strong><strong>بَيْنَ</strong><strong> </strong><strong>الظُّلْمَۃِ</strong><strong> </strong><strong>وَالنُّوْرِ</strong> پس پاک ہے وہ ذات جس نے اندھیرے اور نور کوجمع کر دیا۔&nbsp;</p>



<p>اگر کہا جائے کہ تو نے اوپر عدم صرف کے لئے بھی وجود صرف کے ساتھ جو اس کی ضد&nbsp;ہے منصبغ اور رہ گزار ہونے کا حکم کیا ہے۔ پس اجتماع نقیضین پیدا ہوا۔&nbsp;</p>



<p>اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ دونقیضوں کا جمع ہونا ایک محل میں محال ہے لیکن ایک نقیض کا دوسرے نقیض کے ساتھ قیام کرنا اور ایک دوسرے سے متصف ہونا محال نہیں&nbsp;ہے۔ جیسا کہ معقول والوں نے کہا ہے کہ وجودمعدوم اور وجود کا عدم کے ساتھ متصف ہونا محال نہیں ہے۔ پس اگر عدم موجود ہو اور وجود کے ساتھ رنگا جائے تو کیوں محال ہوگا تو اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ عدم کے مفہوم کو معقولات ثانیہ سے کہا ہے لیکن اگر عدم کے افراد میں سے کوئی فرد وجود سے متصف ہوجائے تو کیا فساد ہے جس طرح معقول والوں نے وجود&nbsp;</p>



<p>کے بارے میں اشکال کے طریق پر کہا ہے کہ وجود کو چا ہئیے کہ واجب الوجود کی ذات کا عین نہ ہو کیونکہ وجود معقولات ثانیہ سے ہے جو وجود خار جی نہیں رکھتا اور واجب الوجود کی ذات خارج میں موجود ہے پس عین نہ ہو گا اور اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وجد کا مفہوم معقولات ثانیہ سے ہے نہ کہ اس کی جز ئیات۔ پس اس کی جزئیات میں سے جزئی وجود خارجی کے منافی نہ ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ خارج میں موجود ہو۔</p>



<p>&nbsp;سوال: پہلی تحقیق سے معلوم ہوا کہ صفات حقیقیہ کا وجود ظلال کے مرتبوں میں ہے اور مرتبہ اصل میں ان کا کوئی وجود حاصل نہیں ہے۔ یہ بات اہل حق شکراللہ تعالیٰ سعیہم کی رائے کے مخالف ہے کیونکہ وہ صفات کوئی وقت ذات مقدس سے جدا نہیں جانتے اورممتنع الانفکاک یعنی ان کا ذات سے جدا ہونا محال تصور کرتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;جواب: اس کا یہ ہے کہ اس بیان سے انفکاک کا جواز لازم نہیں آتا۔ کیونکہ یہ ظل اس اصل&nbsp;کے لازم ہے۔ پس انفکاک نہ رہا۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے کہ وہ عارف جس کی توجہ کا قبلہ احدیت ذات ہے اور اسماء و صفات میں سے کچھ اس کے مد نظرنہیں ہے۔ اس مقام میں ذات تعالیٰ ہی کو پاتا ہے اور صفات سے کچھ ملحوظہ نہیں ہوتا نہ یہ کہ صفات اس وقت حاصل نہیں ہیں ۔ پس حضرت ذات تعالیٰ و تقدس&nbsp;سے صفات کا الگ ہونا نہ ہی عارف کے ملاحظہ کے اعتبار سے ثابت ہوا ہے اور نہ ہی حقیقت&nbsp;امر کے اعتبار سے تا کہ اہلسنت و جماعت کے مخالف ہو۔فافھم۔&nbsp;</p>



<p>اس بیان سے <strong>مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ</strong><strong> </strong>(جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے رب کو پہچان لیا) کے معنی بھی ظاہر ہوگئے کیونکہ جس نے اپنی حقیقت کو شرارت نقص کے ساتھ پہچان لیا اور جان لیا کہ ہر خیر وکمال جو اس میں پوشیدہ کیا گیا ہے۔ وہ حضرت واجب الوجود کی طرف سے عاریت کے طور پر ہے۔ پس وہ ضرور ہی حق سبحانه کوخیر و کمال اور حسن و جمال سے پہچان لے گا۔ اس تحقیقات سے آیت کریمہ <strong>اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ</strong> کے تادیلی معنی بھی واضح ہوگئے کیونکہ جب ظاہر ہو چکا کہ ممکنات سب کے سب عد مات ہیں جو سراسر ظلمت و شرارت ہیں اور ان میں خیر و کمال اور حسن و جمال حضرت وجود کی طرف سے جونفس ذات تعالیٰ ہے اور ہر خیر و کمال اور حسن و جمال کا عین ہے تو بالضرور آسمانوں اور زمینوں کا نور حضرت و جودہی ہوگا جو واجب تعالیٰ و تقدس کی حقیقت ہے اور چونکہ یہ نور آسمانوں اور زمین میں ظلال کے واسطہ سے ہے اس لئے ان وہم کرنے والوں کے وہم کو دور کرنے کے لئے جو بے واسطہ سمجھتے&nbsp;ہیں ۔ اس نور کے لئے مثال بیان کی اور اس طرح فرمایا <strong>مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ</strong> إلى آخر الآية &nbsp;تا کے واسطوں کا ثبوت ہو جائے اور اس آیت&nbsp;کریمہ کے او بی معنی مفصل طور پر انشاء اللہ تعالیٰ کسی اور جگہ پر لکھے جائیں گے کیونکہ اس میں سخن کی بہت مجال ہے اور یہ مکتوب اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں رکھتا اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ آیت کریمہ کے تاویلی معنی ہیں اس لئے کہا ہے کہ تفسیری معنی نقل وسماع پرمشروط ہیں <strong>مَنْ فَسَّرَ الْقُرْآنَ &nbsp;بِرَأْيِهِ فَقَدْ كَفَر</strong><strong>َ</strong> (جس نے قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کی وہ کافر ہو گیا) تم&nbsp;نے سنا ہوگا اور تاویل میں صرف احتمال کافی ہے۔ بشرطیکہ کتاب و سنت کے مخالف نہ ہو پس ثابت ہوا کہ ممکنات کے ذوات و اصول عد مات ہیں اور ان کی ناقص اورذیل صفات ان عد مات کی مقتضی ہیں جو قادر مختارجل سلطانہ کے ایجاد سے وجود میں آئی ہیں اور صفات کا ملہ ان میں حضرت وجودتعالیٰ کے کمالات کے ظل سے عاریت کے طور پر ہیں جو انعکاس کے طریق&nbsp;ظہور پا کر قادرمختار جل شانہ کی ایجاد سے موجود ہوئی ہیں اور اشیاء کے حسن وقبیح کا مصداق یہ ہے کہ جو چیز آخرت سے تعلق رکھتی ہے اور دنیا کے لئے ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وہ حسن ہے اگرچہ بظاہراچھی دکھائی نہ دے اور جو چیز دنیا سے تعلق رکھتی ہے اور دنیا کے لئے وسیلہ وذریعہ ہے وہ&nbsp;قبیح ہے اگر چہ بظاہر حسن و خوب دکھائی دے اور حلاوت و طراوت سے ظاہر ہو۔ دنیا کی مزخرفات یعنی بیہودہ زیب و زینت کا یہی حال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت مصطفوی علی صاحبہا الصلوة والسلام والتحیت میں امردوں یعنی بے ریشوں اور بیگانی عورتوں کے حسن اور دنیاوی زیب و زینت کی طرف رغبت و خواہش سے نظر کرنا منع فرمایا گیا ہے کیونکہ یہ حسن و طراوت عدم مقتضیات(ضروریات) سے ہے جو ہر فساد کامحل ہے اور اگر حسن و جمال کا منشا کمالات و جو دیہ ہوتے تو اس سے منع نہ فرماتے مگر اس سبب سے کہ اصل کے ہوتے ظل کی طرف توجہ کرنا برا&nbsp;ہے۔ یہ منع منع استحسانی ہے۔ نہ وجوبی بر خلاف پہلے منع کے پس وہ حسن جو دنیا کے مظاہر جملہ میں ظاہر ہے۔ وہ اس ذات تعالیٰ کے حسن ظلال سے نہیں ہے بلکہ لوازم عدم سے ہے جس نے حسن کی مجاورت(پڑوسی) کے باعث ظاہر میں حسن پیدا کر لیا ہے اور حقیقت میں قبيح و ناقص ہے جس طرح زہر کوشکر سے غلافی کریں اور نجاست کو زر سے منڈھیں اور یہ جومنکوحہ خوبصورت عورتوں اور لونڈیوں سے نکاح &nbsp;کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ وہ اولاد کے حاصل کرنے اورنسل کے باقی رکھنے کے لئے ہے جو انتظام عالم کے باقی رکھنے کے لئے مطلوب ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس بعض صوفیہ جو مظاہر جمیلہ اورعمدہ عمدہ نغموں میں اس خیال سے گرفتار(مشغولیت) ہیں کہ یہ حسن و جمال حضرت واجب الوجود تعالیٰ کے کمالات سے مستعار ہے جو ان مظاہر میں ظاہر ہوا ہے اور اس گرفتاری اور تعلق کو نیک اور بہتر سمجھتے ہیں بلکہ راہ وصول تصور کرتے ہیں۔ اس فقیر کے نزدیک ان کے بر خلاف صادق و ثابت ہوا ہے چنانچہ اس قسم کا تھوڑا سا مضمون او پر مذکور ہو چکا ہے بڑے تعجب کی بات ہے کہ ان میں سے بعض اپنے مطلب کے لئے اس قول کو بطور سند پیش کرتے ہیں جو کہا گیا ہے کہ <strong>اِیَّاکُمّ</strong><strong> </strong><strong>وَالْمُرْدَ</strong><strong> </strong><strong>فَإِنَّ</strong><strong> </strong><strong>فِيْهِمْ</strong><strong> </strong><strong>لُوْنًا</strong><strong> </strong><strong>کَلَوْنِ اللهِ</strong> تم بے ریشوں سے بچو کیونکہ ان میں رنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رنگ کی طرح کلمہ <strong>کَلَوْنِ اللهِ</strong> ان کو شبہ میں ڈال دیا ہے اور نہیں جانتے کہ یہ قول ان کی طلب کے منافی ہے اور اس فقیر کی معرفت کی تائید کرتا ہے کیونکہ کلمہ تحذير(بچنے کی تاکید) لایا گیا ہے جس سے ان کی طرف توجہ کرنے سے ان کو منع کیا گیا ہے اور اس غلط فہمی کا منشاء بیان فرمایا ہے کہاں کا حسن حق سبحانہ کے حسن و جمال کے مشابہ اور ماخذ ہے نہ کہ بعینہ اس کا حسن تا کہ غلطی میں نہ پڑ جائیں۔&nbsp;</p>



<p>آنحضرت علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے<strong> مَثَلُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ ‌ضَرَّتَانِ، إِنْ أَرْضَى إِحْدَاهُمَا أَسْخَطَ الْأُخْرَى</strong> دنیا اور آخرت دوسوکنیں ہیں یعنی دو عورتیں جو ایک مرد&nbsp;کے نکاح میں ہوں اگر ایک راضی ہو تو دوسری ناراض۔&nbsp;</p>



<p>اس حدیث میں بھی اس امر کی تصریح ہے کہ دنیا و آخرت کا حسن و جمال ایک دوسرے کا نقیض اور ضد ہے اور مقرر ہے(قرآن و حدیث سے ثابت ہے) کہ دنیاوی حسن ناپسند ہے اور حسن اخروی پسند ۔ پس شر دنیاوی حسن کے لازم ہو گا اور خیر حسن آخرت کے لازم۔ پس ناچار اول کا منشاء عدم ہوگا اور دوسرے کامنشاء وجود ہاں بعض چیزیں ایسی ہیں جو ایک وجہ سے دنیا کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ایک وجہ سے آخرت کے ساتھ یہ اشیاء پہلی وجہ کے لحاظ سےقبیح ہیں اور دوسری وجہ کے اعتبار سے حسن اور ان ہر دو وجہ کے درمیان اور ہر ایک کے حسن وقبح کے درمیان تمیز کرناعلم شرعیت پر موقوف ہے۔&nbsp;</p>



<p>الله تعالیٰ فرماتا ہے <strong>وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا </strong>جو کچھ رسول&nbsp;تمہارے پاس لائے اس کو پکڑ لو اور جس سے منع کرے اس سے ہٹ جاؤ۔&nbsp;</p>



<p>حدیث میں آیا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے حضرت حق سبحانہ نے اس پرنظرنہیں کی اور اس پر حق تعالیٰ کا غضب ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہ سب کچھ اس کی قباحت اور شرارت اور فساد کے باعث ہے جو عدم کے مقتضيات ہے۔ جو ہر شر و فساد کامادیٰ ہے۔ دنیاوی حسن و جمال اور اس کی حلاوت و طراوت رستے میں پھینکے ہوئے کوڑے کرکٹ کی طرح ہیں اور منظور نظر نہیں ہیں۔ وہ آخرت کا جمال ہی ہے جو نظر کے لائق اور حق تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>الله تعالیٰ دنیاداروں کا حال بیان کرتے ہوئے فر<strong>ماتا</strong><strong> </strong><strong>ہے</strong><strong>۔ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ</strong> وہ دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آخرت <strong>چاہتا</strong><strong> </strong><strong>ہے۔</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>اَللّٰهُمَّ صَغِّرِ</strong><strong> </strong><strong>الدُّنْيَا</strong><strong> </strong><strong>بِأَعْيُنِنَا</strong><strong> </strong><strong>وَكَبِّرِ</strong><strong> </strong><strong>الْأٰخِرَةَ</strong><strong> </strong><strong>فِيْ</strong><strong> </strong><strong>قُلُوْبِنَا</strong><strong> </strong><strong>بِحُرْمِتِ مَنِ</strong><strong> </strong><strong>افْتَخَرَ</strong><strong> </strong><strong>بِالْفَقْرِ</strong><strong> </strong><strong>وَتَجْنَّبَ</strong><strong> </strong><strong>عَنِ</strong><strong> </strong><strong>الْغِنَاءِ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ اَتَمُّهَا</strong><strong> </strong><strong>وَاَکْمَلُھَا</strong> یا اللہ تو دنیا کو ہماری آنکھوں میں حقیر کر دے اور آخرت کو ہمارے دلوں میں بزرگ بنااس رسول کے طفیل جس نے فقر کے ساتھ فخر کیا اور دولتمندی سے الگ رہا اس پر اور اس کی آل پراتم واکمل والصلوۃ و سلام ہو۔&nbsp;</p>



<p>اور چونکہ شیخ اجل شیخ محی الدین بن عربی رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی شرارت اورنقص اور&nbsp;فساد کی حقیقت پر نظر نہیں ڈالی اور ممکنات کے حقائق کوحق جل وعلا کی عملیہ صورتیں مقرر کی ہیں کیونکہ ان کی صورتوں نے حضرت ذات تعالیٰ و تقدس کے آئینہ میں کہ خارج میں اس کے سوا&nbsp;کچھ موجود نہیں جانتا۔ انعکاس پیدا کر کے خارجی نمود وظہور حاصل کیا ہے اور ان علمیہ صورتوں کو واجب تعالیٰ کی صفات اور شیون کی صورتوں کے غیر نہیں سمجھا ہے۔ اس لئے وحدت وجود کا حکم&nbsp;کیا ہے اور ممکنات کے وجود کو واجب تعالیٰ و تقدس کے وجود کا عین کہا ہے اورشرونقص کو اضافی اور نسبتی کہہ کر شرارت مطلق اونقص محض کی نفی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی چیز کوفی نفسہ قبیح نہیں جانتا کہ کفر وضلالت کو ایمان و ہدایت کی نسبت برانہیں جانتا نہ اپنی ذات کی نسبت کہ اس کو عین صلاح و خیر سمجھتا ہے اور اپنے ارباب کی نسبت ان کے لئے استقامات کا حکم کرتا ہے اور آیت کریمہ <strong>مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ</strong> <strong>کوئی</strong><strong> </strong>زمین پر چلنے والا نہیں جس کو وہ اس کی پیشانی سے پکڑنے والا نہیں ہے۔ بیشک میرارب صراط مستقیم پر ہے) کو ان معنی پر شاہد کرتا ہے۔ ہاں جو کوئی وحدت وجود کے سوا حکم نہ پائے وہ اس قسم کی باتوں سے کیوں کنارہ کر ے۔&nbsp;</p>



<p>اور جو کچھ اس فقیر پر ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ممکنات کی ماہیتیں بمع ان کےکمالیات وجود یہ کے جو ان میں منعکس ہو کر ان سے مل گئی ہیں، عد مات ہیں جیسا کہ مفصل طور پر گزر چکا <strong>وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ</strong> الله تعالیٰ حق ظاہر کرتا اور وہی راہ راست کی ہدایت دیتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اے فرزندیہ علوم و معارف جن کی نسبت کسی اہل اللہ نے نہ ہی صراحت ہے اور نہ ہی اشارہ سے گفتگو کی ہے۔ بڑے اعلی معارف اور اکمل علوم ہیں جو ہزار سال کے بعد ظہور میں آئے ہیں اور واجب تعالیٰ وممکنات کی حقیقت کو جیسا کہ ممکن اور لائق ہے۔ بیان فرمایا اور جو نہ ہی کتاب و سنت کی مخالفت رکھتے ہیں اور نہ ہی اہل حق کے اقوال کے مخالف ہیں۔&nbsp;</p>



<p>معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺاس دعا میں جو آپ نے گویاتعلیم کے لئے فرمائی ہے <strong>اللَّهُمَّ ‌أَرِنَا</strong> <strong>‌حَقَائِقِ الْأَشْيَاءَ كَمَا هِيَ</strong> (یا الله تو اشیاء کی حقیقتیں کما حقہ وکھا) حقائق سے مرادیہی حقائق ہیں جو ان علوم کےضمن میں بیان ہوئے ہیں اور جو کہ مقام عبودیت (بندگی) کے مناسب ہیں اور جو کے نقص و ذلت و انکسار پر جو بندگی کے حال کے مناسب ہے، دلالت کرتی ہیں ۔ بندہ عاجز جو اپنے آپ کو اپنے مولا ئے قادر کا عین جانے ، کمال بے ادبی ہے۔&nbsp;</p>



<p>اے فرزند! یہ وہ وقت ہے جبکہ پہلی امتوں میں سے اسی ظلمت سے بھرے ہوئے وقت میں الوالعزم پیغمبر مبعوث ہوتا تھا اور نبی شریعت کو زندہ کرتا تھا اور اس امت میں جو خیر الامم ہے اور اس امت کا پیغمبر خاتم الرسل ﷺہے۔ اس کے علماء کو انبیاء بنی اسرائیل کا مرتبہ دیا ہے اور علماء کے وجود کے ساتھ انبیاء کے وجود سے کفایت کی ہے۔ اسی واسطےہرصدی&nbsp;کے بعد اس امت کے علماء میں سے ایک مجدد مقرر کرتے ہیں تا کہ شریعت کو زندہ کرے۔ خاص کر ہزار سال کے بعد جو کہ اولوالعزم پیغمبر کے پیدا ہونے کا وقت ہے اور ہر پیغمبر پر اس وقت کفایت نہیں کی ہے۔ اسی طرح اس وقت ایک تام المعرفت عالم و عارف درکار ہے جو گزشتہ امتوں کے اولوالعزم پیغمبر کے قائم مقام ہو ۔&nbsp;</p>



<p><strong>فیض</strong><strong> </strong><strong>روح</strong><strong> </strong><strong>القدس</strong><strong> </strong><strong>ارباز</strong><strong> </strong><strong>مدد</strong><strong> </strong><strong>فرماید</strong><strong> </strong><strong>دیگران</strong><strong> </strong><strong>نیز</strong><strong> </strong><strong>کنند آنچه</strong><strong> </strong><strong>مسیحا</strong><strong> </strong><strong>میکرد</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: فیض روح القدس کا گرد نے مد دتو اور بھی&nbsp;کر دکھا میں کام وہ جو کچھ جو سجانے کیا&nbsp;</p>



<p>اے فرزند! وجودصرف عدم صرف کے مقابل ہے اور اوپر گزر چکا کہ وہ صرف واجب الوجود تعالیٰ و تقدس کی حقیقت اور ہر خیر و کمال کا عین ہے۔ اگرچہ یہ عینیت بھی خواه اجمال کے طور پر ہی ہو اس مقام میں گنجائش نہیں رکھتی۔ اور عدم جوصرف اس وجود کے مقابل ہے وہ عدم ہے جس کی طرف کسی نسبت اور اضافت نے راہ نہیں پایا اور وہ ہر شر نقص کا عین ہے۔ اگرچہ یہ عینیت بھی وہاں گنجائش نہیں رکھتی کیونکہ احنافت کی بورکھتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>اور معلوم ہے کہ کسی نے کا ظہور پورے پورے طور پر اس شے کے حقیقی مقابل میں ظاہر <strong>ہوتا</strong><strong> </strong><strong>ہے۔</strong><strong> </strong><strong>وَبِضِدِّھَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ</strong> (اور چیزیں اپنی ضدوں ہی سے پہچانی جاتی ہیں) پس بالضرور وجود صرف کا ظہور پورے طور پر عدم صرف کے آئینہ میں حاصل ہوگا اور مقرر ہے کہ نزول عروج &nbsp;&nbsp;کے اندازہ سے ہے۔ پس جس کا عروج&nbsp; اللہ تعالیٰ کی عنایت سے وجود صرف تک ثابت ہو۔ناچار اس کا نزول عدم صرف میں ہوگا جو اس کے مقابل ہے لیکن عروج&nbsp; کے وقت وہاں عارف کا استہلا ک ہے جس کو جہل لازم ہے اور نزول کے وقت سے صحو(ہوشیاری) متحقق ہے جوعلم ومعرفت کا مقام&nbsp;ہے اس وقت اس کے صحو کو اس تجلی ذاتی سے جو ظلیت کی آمیزش سے منزہ اور ذاتیہ شیون و اعتبارات کے ظلال میں کسی ظل کے پردہ میں تھی اگر چہ عارف اس کو اسماء وشیون کے ملاحظہ&nbsp;کے بغیر جانتا ہے اور حضرت وجود صرف کی تجلی گنتا ہے سبحان الله! اس عدم نے جو ہر شرو نقص کاماویٰ ہے۔ حضرت وجود تعالیٰ کے ظہور تام کے باعث حسن کے معنی پیدا کئے اور وہ کچھ پایا جو کسی نے نہ پایا اور جو فی نفسہ قبیح تھا حس عارضی کے سبب مستحسن ہو گیا۔ نفس اماره انسانی جو بالذات شرارت کی طرف مائل ہے۔ اس عدم کے ساتھ سب سے زیادہ کامل مناسبت رکھتا ہے۔ اسی واسطےتجلی خاص میں سب سے فائق ہو گیا اور سب پر ترقی پا گیا۔ع&nbsp;</p>



<p>کہ مستحق کرامت گنہگار انند ترجمہ : کرامت کے مستحق گناہگار ہیں۔</p>



<p>&nbsp;جاننا چاہیئے کہ تمام المعرفت عارف جب عروج &nbsp;&nbsp;کے مقامات اور نزول کے مراتب کو مفصل طور پر طے کرنے کے بعد عدم صرف میں نزول فرمائے گا اور حضرت وجود کی آئینہ داری کرے گا تو اس وقت تمام اسمائی و صفاتی کمالات اس میں ظہور پائیں گے اور مفصل طور پر سب کو ایسے لطائف کے ساتھ ظاہر کرے گا کہ مقام اجمال جن کا متضمن ہے اور یہ دولت اس کے سوا کسی دوسرے کو میسر نہیں ہے اور یہ آئینہ داری ایک قیمتی لباس ہے جو اس کے قد پر سیا ہوا ہے۔ اس تفصیل نے اگر چہ حضرت علم کے خزینہ میں صورت حاصل کی ہے لیکن وہ آئینہ داری مرتبہ علم میں ہے جس نے خارج میں تمام کمالات کو ظاہر کیا ہے۔</p>



<p>&nbsp;سوال: مرآ تیت عدم کے کیا معنی ہیں اور عدم کو جولاشےمحض ہے کسی اعتبار سے وجود کا آئینہ&nbsp;کہا ہے؟</p>



<p>&nbsp;جواب: عدم باعتبار خارج کے لاشےمحض ہے لیکن اس نے علم میں امتیاز پیدا کی ہے بلکہ وجود&nbsp;ذہنی کے ثابت کرنے والوں کے نزدیک اس نے وجودعلمی بھی حاصل کیا ہے اور اس کو وجود کا آئینہ اس اعتبار سے کہا ہے کہ مرتبہ عدم میں ہرنقص و شرارت جو وجود سے جو اس کے نقیض ہے، ثابت ہو۔ ضرور مسلوب ہوگا اور ہر کمال جو مرتبہ عدم میں مسلوب ہو۔ وہ حضرت وجود میں مثبت ہوگا۔ پس ناچار عدم کمالات وجودی کے ظہور کا سبب ہوا اور آئینہ ہونے کے یہ معنی ہیں اس کے سوا اور معنی کچھ <strong>نہیں</strong><strong> </strong><strong>۔</strong><strong> </strong><strong>فَاَفْھَمْ</strong><strong> </strong><strong>فَاِنَّهٗ</strong><strong> </strong><strong>دَقِيْقٌ</strong><strong> </strong><strong>وَاللَّهُ ‌سُبْحَانَهُ الْمُلْهَمُ </strong>(پس سمجھ سے کیونکہ یہ بار یک مطلب ہے اور الله تعالى الہام&nbsp;کرنے والا ہے۔)</p>



<p>&nbsp;اے فرزند! یہ جو معارف لکھے گئے ہیں ۔ امید ہے کہ رحمانی الہامات سے ہوں گے جن میں ہرگز شیطانی وسوسوں کی آمیزش نہیں ہے اور اس مطلب پر دلیل یہ ہے کہ جب فقیران علوم&nbsp;کے لکھنے کے در پے ہوا اور اللہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں التجا کی تو دیکھا کہ گویاملائکہ کرام علی نبیناوعلیہم الصلوة والسلام اس مقام کے گردونواح سے شیطان کو دفع کرتے ہیں اور اس مکان کے گردنہیں آنے د<strong>یتے</strong><strong> وَاللَّهُ سُبحَانَه أَعْلَمُ ‌بِحَقِيقَةِ ‌الْحَالِ</strong> (حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا <strong>ہے</strong><strong> </strong><strong>او</strong>ر چونکہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمتوں کا ظاہر کرنا بڑی اعلی درجہ کی شکر گزاری ہے اس لئے اس نعمت عظمی کے ظاہر کرنے کی دلیری کی امید ہے کہ یہ بات عجب اور خود بینی کے گمان سے پاک ہوگی اور خود بینی کی گنجائش&nbsp;کیسے ہو سکے جبکہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے اپنا ذاتی نقص و شرارت ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے ہے اور کمالات سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب ہیں۔</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ</strong> <strong>عَلٰى رَسُوْلِهٖ دَائِمًا</strong><strong> </strong><strong>وَّسَرْمَدًا</strong><strong> </strong><strong>وَعَلىٰ</strong><strong> </strong><strong>اٰلِهٖ</strong><strong> </strong><strong>الْكِرَامِ</strong><strong> </strong><strong>وَأَصْحَابِهٖ</strong><strong> </strong><strong>الْعِظَامِ</strong><strong> وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong><strong>وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ اَتَمَّهَا وَاَدْوَمَهَا</strong><strong></strong></p>



<p> اول آخر میں اللہ رب العالمین کی حمد ہے اور اس کے رسول اور اس کی آل بزرگوار اور اصحاب عظام پر ہمیشہ صلوۃ وسلام ہو اور سلام ہوان سب پر جو ہدایت کے رستے پر چلے اور حضرت مصطفى ﷺ کی متابعت کو لازم پکڑا۔ </p>



<p> <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"><span class="has-inline-color has-vivid-red-color">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ143 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</span></a></strong> </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-234-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&#038;title=%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20234%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/" data-a2a-title="واجب الوجود کی حقیقت مکتوب نمبر 234 دفتراول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شیخ عبد العزیز جونپوری کے تشکیکات مکتوب نمبر 27دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b2%db%8c%d8%b2-%d8%ac%d9%88%d9%86%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b4%da%a9%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b2%db%8c%d8%b2-%d8%ac%d9%88%d9%86%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b4%da%a9%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 29 Sep 2021 23:15:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اعیان ثابتہ]]></category>
		<category><![CDATA[صور علمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[ہمہ اوست]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=2948</guid>

					<description><![CDATA[&#160;شیخ عبد العزیز جونپوری کے ان تشکیکات و سوالات کے جواب میں جو مکتوب اول میں جو اس کے نام پر ہے، کیے گئے ہیں ۔ مولانا محمد طاہر بدخشی کی طرف ارسال فرمایا ہے۔&#160; حمد و صلوة اورتبلیغ دعوات <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b2%db%8c%d8%b2-%d8%ac%d9%88%d9%86%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b4%da%a9%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;شیخ عبد العزیز جونپوری کے ان تشکیکات و سوالات کے جواب میں جو مکتوب اول میں جو اس کے نام پر ہے، کیے گئے ہیں ۔ مولانا محمد طاہر بدخشی کی طرف ارسال فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p>حمد و صلوة اورتبلیغ دعوات کے بعد واضح ہو کہ آپ کا مکتوب شريف جو آپ نے بڑی مدت کے بعد ارسال کیا تھا، پہنچا۔ بڑی خوشی ہوئی حضرت حق سبحانہ تعالی آپ کو ظاہری باطنی جمعیت   (دل کو طمینان حاصل ہونا) کے ساتھ آراستہ پیراستہ رکھے۔ فقیر نے اس مدت میں تین مکتوب آپ کی طرف بھیجے ہیں جن میں سے صرف ایک مکتوب آ<em>پ کوملا</em> ہے۔ دور دراز فاصلہ کے باعث امید ہے کہ معذور فرمائیں گے۔&nbsp;</p>



<p>مشیخت مآب شخ عبدالعزیز کا مکتوب بھی آپ کے مکتوب کے ساتھ پہنچا اور جو کچھ اس&nbsp;میں لکھا ہوا تھا۔ واضح ہوا۔</p>



<p>&nbsp;سوال: وہاں درج تھا کہ اگرممکنات کے حقائق جوصور عملیہ ہیں، عد مات ہوں جو صفات کے اضداد ہیں تو لازم آتا ہے کہ حق تعالی کی ذات میں عدمات حاصل ہیں۔ حالانکہ حق تعالی ان باتوں سے منزه و برتر ہے۔</p>



<p>جواب: عجب شبہ و اعتراض ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ حضرت حق سبحانہ وتعالی تمام شریف اور كثيف اشیاء کو جانتا ہے مگر حق تعالی کی ذات میں ان میں سے کسی کا حصول نہیں اور ان میں&nbsp;سے کسی کے ساتھ متصف نہیں تو اس صورت میں حصول کہاں سے پیدا ہو جائے گا۔</p>



<p>سوال دوم: وہاں درج تھا کہ ممکنات کے حقائق وجودی اور ثبوت ہونے چاہئیں نہ کہ عدمی&nbsp;کیونکہ حقائق سے مرادممکنات کے ارواح ونفوس ہیں۔</p>



<p>&nbsp;جواب: ہاں وجود ثبوت علمی رکھتے ہیں جوحقائق میں درکار ہیں۔ یہ اعتراض پہلے شیخ محی الدین ابن عربی پہ کرنا چاہیئے تھا جس نے کہا ہے<strong>الاعيان ماشمت رائحة الوجود</strong><strong> </strong><strong>(</strong>اعیان نے وجود کی بو بھی نہیں سونگھی)عجب معاملہ ہے کہ یہاں حقائق سے ارواح ونفوس مراد لیتے ہیں اور اعیان ثابتہ اور معلومات اللہ پر چھوڑ دیا ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong></strong></p>



<p>سو<em>ال سوم</em><em> </em>: اس میں درج تھا کہ انبیا علیہم الصلوة والسلام اور اولیاءعلیہم الرضوان اور تمام افراد انسان جوممکنات سے ہیں، اگر ان سب کے حقائق عد مات ہوں تو اس گروہ بلند سے شرف وکرامت مسلوب ومعدوم ہوگی۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>. </strong>جواب : کیوں مسلوب و معدوم ہوگی۔ جب کہ حق تعالی نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ سے ان مقدمات کو اپنے حسن تربیت کے ساتھ اپنے اسماء و صفات کے عکسوں کا آئینہ بنا کر نبوت و ولایت کے شرف سے مشرف کیا ہے اور اپنے کمالات کے ظلال سے آراستہ کر کے معزز ومکرم فرمایا ہے جس طرح کہ انسان کو <strong>ماءمھین </strong>یعنی ناپاک پانی سے پیدا کر کے اعلی درجہ تک پہنچایا۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ انسان کی شرف و کرامت کو نظر میں لے آئے ہیں اور حق تعالی کی تنزیہ و تقدیس کو ہاتھ سے دے کر کہتے ہیں کہ ہمہ اوست(سب کچھ وہی ہے)   اشیاء رذیلہ و خسیسہ کو حق تعالی کا عین کہنے سے کنارہ نہیں کرتے اور انسان کے لیے حقائق عدمیہ کے تجویز کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ حق تعالی آپ کو انصاف دے۔</p>



<p> سوال چہارم: لکھا تھا کہ سخن اجماعی یعنی ہمہ اوست کوسخن ابداع یعنی ہمہ از وست <a>(ہر شے کا وجود حق(اللہ) سے ہے)</a>سے رفع نہیں کر سکتے۔</p>



<p>جواب: سخن مبدع یعنی نئی بات ہم مقولہ ہمہ اوست کو جانتے ہیں ۔ مقولہ ہمہ از وست پر تمام علماء کا اتفاق و اجماع ہے۔ اب تک جوملامت و شناعت جوصاحب فصوص پر ہوتی چلی آئی ہے، صرف اسی ایک مقولہ ہمہ اوست کے باعث ہے اور فقیر نے جس قدر معارف لکھے ہیں ، ان کا حاصل ہمہ از وست ہے جو شرع وعقل کے نزدیک مقبول ہے بھلا کیونکر مقبول نہ ہو جب کہ کشف و الہام سے بھی اس کی تائید ہوتی ہو۔&nbsp;</p>



<p>شیخ مشار الیہ (عبد العزیز)نے اعتراضات کو ذکر کر کے شفقت کے مقام میں آ کر لکھا ہے کہ اگر ممکنات کے حقائق سے مراد ارواح انسانی ہوں تو جمہور کے موافق ہے۔ معلوم نہیں جمہور سے کونسا گروہ مراد ہے اور نہ آج تک سنا گیا ہے کہ حقائق ممکنات کو کسی نے ارواح انسانی کہا ہو۔&nbsp; افسوس صد افسوس شیخ نے کیا خیال کیا ہے کہ ہر ایک شخص صرف قیاس تخمینہ سے بات کہتا ہے اور اس کے تفکر تخیل میں جو کچھ آئے بکواس کر دیتا ہے، ہرگز ہرگز ایسا نہیں۔&nbsp;</p>



<p>وہ معارف جو کشف و الہام کے بغیر کہے اور لکھے جائیں یا شہود(مشاہدہ) &nbsp;و مشاہدہ کے بغیر تحریر تقریر میں آئیں، سراسر بہتان وافترا ہیں۔ خاص کر جبکہ قوم کے مخالف ہوں ۔ معلوم نہیں شیخ مشار الیہ کا کیا اعتقاد ہے اور ان معارف کو کیا کہتے ہیں<strong>۔ </strong><strong>رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا ‌وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ</strong>یا اللہ توہمارے گناہوں کو اور امور میں&nbsp;ہمارے اسراف کو معاف فرما اور ہمارے قدموں کو ثابت رکھ اور کافروں پرہمیں مدددے&nbsp;۔</p>



<p>            <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ89 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>            </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25b2%25db%258c%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2588%25d9%2586%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d8%25b4%25da%25a9%25db%258c%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&#038;title=%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2%20%D8%AC%D9%88%D9%86%D9%BE%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2027%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b2%db%8c%d8%b2-%d8%ac%d9%88%d9%86%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b4%da%a9%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/" data-a2a-title="شیخ عبد العزیز جونپوری کے تشکیکات مکتوب نمبر 27دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%b2%db%8c%d8%b2-%d8%ac%d9%88%d9%86%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b4%da%a9%db%8c%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسئلہ وحدت الوجود مکتوب نمبر1 دفتردوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 08 Aug 2021 13:59:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اعیان ثابتہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ محی الدین ابن عربی]]></category>
		<category><![CDATA[صور علمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظواہر]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت الوجود]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1185</guid>

					<description><![CDATA[&#160;مسئلہ وحدت الوجودمیں شیخ محی الدین ابن عربی کے مذہب کے بیان میں جو حضرت ایشان سلمہ الله تعالی کے نزدیک مختار ہے۔شیخ عبد العزیزجونپوری کی طرف صادر فرمایا: ۔&#160; اللہ تعالی کی حمد ہے جس نے امکان کووجوب کا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;مسئلہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">وحدت الوجود</span></strong>میں <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>شیخ محی الدین ابن عربی</strong></span> کے مذہب کے بیان میں جو حضرت ایشان سلمہ الله تعالی کے نزدیک مختار ہے۔شیخ عبد العزیزجونپوری کی طرف صادر فرمایا: ۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی کی حمد ہے جس نے امکان کووجوب <strong>کا آئینہ اور عدم کو وجود کا مظہر بنایا وجوب اور </strong>وجود اگر چہ حق تعالی کے کمال کی دوصفتیں ہیں لیکن حق &nbsp;تعالی تمام ا<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سماء و صفات</span> اور تمام <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">شیون </span>(اس کا مُفرد شان ہے &nbsp;&nbsp;شان کا معنیٰ حال اور امر ہے) و <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">اعتبارات </span>اور <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ظہور</span></strong><span class="has-inline-color has-black-color">(ظاہر)</span><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> </span>و<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بطون</span></strong><span class="has-inline-color has-black-color">(باطن)</span><strong> اور<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بروز</span></strong> (کسی شخصیت کی جگہ کوئی اور ظاہر ہوجائے &nbsp;یا اسکی شکل اختیار کرلے)<strong> و<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">کمو</span></strong><em><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ن</span> </em>( ضم یاپوشیدہ ہونا)اور تمام <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>تجلیات </strong></span>و <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ظہورات </span></strong>اور تمام <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مشاہدات </span></strong>و <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مکاشفات </span>اور تمام محسوس </strong>ومعقول اورتمام <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">موہوم </span></strong>و <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>متخیل </strong></span>سے وراء الوراءثم وراء الوراءثم وراء الوراءہے&nbsp;</p>



<p>چوں گویم باتواز مرغ نشانہ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; کہ باعنقا بود ہم آشیانہ</p>



<p>زعنقا ہست نامے پیش مردم&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; زمرغ من بود آں نام ہم گم</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: میں تجھے کیا بتاؤں کہ وہ کہاں ہےدراصل وہ عنقا کی طرح بے نشان ہے جس طرح عنقا کانام تو سب کو معلوم ہےمگر اس کا تو نام بھی کسی کو &nbsp;پتہ نہیں</p>



<p><strong>&nbsp;</strong>کسی حمد کرنے والے کاحمد اس کی ذات بلند کی پاک بارگاہ تک نہیں پہنچتابلکہ اس کی عزت و جلال کے پر<strong>دوں</strong><strong> </strong><strong>سے ورے</strong><strong> </strong><strong>ہی ورے</strong><strong> </strong><strong>جاتا</strong><strong> </strong><strong>ہے۔</strong></p>



<p><strong>&nbsp;</strong><strong>&nbsp;</strong>اس ذات پاک نے اپنی تعریف آپ ہی کی ہے اور اپنی حمد کو آپ ہی بیان کیا ہے بس وہ ذات تعالی آپ ہیں حامد اور آپ ہی محمودہے اس کے علاوہ تمام کائنات اس کی حمد مقصود کے ادا کرنے سے عاجز ہے ہے اور عاجز کیوں نہ ہو جبکہ اس سبحانہ و تعالی کی حمد سے وہ بزرگ ہستی حضور اکرم ﷺ بھی عاجز ہے جو قیامت کے دن لواء الحمد حمد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگی</p>



<p>جس کے نیچے حضرت آدم اور تمام انبیاء علیہ الصلاۃ و السلام ہوں گے آپ ﷺ ظہور میں تمام مخلوقات سے افضل و اکمل مرتبے میں سب سے زیادہ قریب کمال میں سب سے زیادہ جامع، جمال میں سب سے زیادہ کامل، حسن و جمال کا چاند ہونے میں سب سے زیادہ اکمل،قدر میں سب سے زیادہ بلند، بزرگی اور شان میں سب سے زیادہ عظیم ،دین میں سب سے زیادہ مضبوط،ملت میں سب سے زیادہ عادل،حسب میں سب سے زیادہ کریم &nbsp;وبزرگ،نسب &nbsp;میں سب سے زیادہ شریف اور خاندان میں سب سے زیادہ معزز ہیں اگر اللہ تعالی ان کو پیدا نہ کرتا تو مخلوق کو بھی پیدا نہ کرتا اور نہ ہی اپنی ربوبیت ظاہر فرماتا آپ اس وقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے کے لیے ابھی گوندھی ہوئی مٹی تیار ہوئی تھی اور قیامت کے دن آپ تمام نبیوں کے امام اور خطیب اور صاحب شفاعت ہوں گے اور آپ نے اپنے حق میں یہ فرمایا کہ ظہور کے اعتبار سے ہم دنیا میں سب سے آخر میں ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے سابق اول ہوں گے اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہتا اور میں اللہ تعالی کا حبیب اور خاتم النبیین ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہیں اور جب قیامت کے دن لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو سب سے اول میں ہی اٹھوں گا اور جب لوگ بارگاہ خداوندی میں گروہ در گروہ حاضر ہوں گے تو میں ہی ان کا قائد ہونگا اور جب وہ خاموش کیے جائیں گے تو ان کی طرف سے &nbsp;میں ہی خطیب اور کلام کرنے والا ہونگا اور جب وہ روک لیے جائیں گے تو میں ہی ان کی شفاعت کروں گا اور جب لوگ رحمت و کرامت سے مایوس ہو جائیں گے تو میں ہی ان کو خوشخبری دوں گا اس روز تمام کرامت اور بزرگی کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہو نگی</p>



<p>در قافلہ کہ اوست دانم نرسم ایں بس کہ رسد زدو ربانگ جرسم</p>



<p>ترجمہ &nbsp;&nbsp;جس قافلہ میں یار ہے &nbsp;اس تک&nbsp; میں جا نہیں سکتا میں</p>



<p>&nbsp;بس دور سے قافلے کی گھنٹیوں کی آواز سنتا ہوں&nbsp;</p>



<p>اللہ سبحان اللہ کی طرف سے صلوۃ و سلام اور تحائف وبرکتیں آن &nbsp;سرورعلیہ الصلوۃ والسلام پر اور آپ کے تمام بھائیوں &nbsp;انبیاء والمرسلین &nbsp;ملائکہ المقربین اورتمام اہل طاعت پر نازل ہوتے رہیں جو آپ کی شان کے لائق ہیں اور جن کے وہ اہل ہیں جب تک آپ کا ذکر کرنے والے ذکر میں مشغول رہیں اور جب تک غفلت والے آپ کے ذکر سے غافل رہیں۔</p>



<p>حمد و صلاۃ کے تبلیغ دعوات اور ارسال تحیات کے بعد واضح&nbsp; ہو کہ آپ کا مکتوب گرامی جو اس فقیر کے نام تحریر کیا تھا میرے عزیز بھائی&nbsp; شیخ محمد طاہر نے پہنچایا اس کی وجہ سے خوشی حاصل ہویہ&nbsp; گرامی نامہ چونکہ ارباب کشف و شہود کے حقائق و معارف پر مشتمل تھا اس لئے فرحت پر فرحت حاصل ہوئی اللہ سبحانہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آپ کے صحیفہ کی موافقت میں اس بزرگ جماعت صوفیائے کرام کے ذوق ومذاق کی چند باتیں تحریر کرکے آپ کو تکلیف دیتا ہے</p>



<p>میرے مخدوم یہ بات آپ کے علم شریف میں ہے کہ وجود ہر خیر و کمال کا مبدا ہے اور عدم ہر نقص و شرارت اور زوال کا منشاء ہے لہذا وجود واجب جل سلطانہ کے لیے ثابت ہے اور عدم ممکن کے نصیب ہے تاکہ تمام خیر &nbsp;وکمال حق تعالی کی طرف عائد ہو اور تمام شر نقص ممکن کی طرف راجع ،ممکن کے لئے وجود ثابت کرنا اورخیرو کمال &nbsp;کواس کی طرف منسوب درحقیقت حق تعالی شانہ کے مِلک و مُلک&nbsp; میں اس کا شریک بنانا ہےاور اسی طرح ممکن &nbsp;&nbsp;کو حق تعالیٰ &nbsp;کہنااور ممکن کے صفات و افعالحق تعالی کے صفات وافعال &nbsp;کاعین قرار دینا بڑی بے ادبی اور حق تعالیٰ کے اسماء و صفات میں شرک ہے بیچارا کمینہ خاکروب جو ذاتی نقص و خبائث سے داغدار ہےکیا مجال کہ اپنے آپ کو اس سلطان عظیم الشان کا عین تصور کرے &nbsp;جو تمام خوبیوں اور کمالات کا منبع و منشا ہے اور اپنی بری صفات و افعال اس ذات عالی کی صفات و افعال جمیلہ کے عیں&nbsp; ہونے کا وہم کرے علمائے ظواہر نے ممکن کے لئے وجود ثابت کیا ہے اور واجب تعالی کے وجود اور ممکن کے وجود کووجود کے افراد مطلق سے سمجھا ہے</p>



<p>&nbsp;خلاصہ کلام یہ کہ اس بحث کی وجہ سےحق تعالی کے وجود کو قضیہ تشکیک (ایک منطقی اصطلاح) کے قاعدہ کے مطابق علمائے ظاہر نے اولی واقدم کہا ہے حالانکہ یہ معنی ممکن کو واجب تعالی کے ساتھ ان کمالات و فضائل میں جو اس وجود سے پیدا ہوئے ہیں شریک کرنے کا باعث ہے</p>



<h3 class="wp-block-heading">تعالی&nbsp; اللہ عن ذالک&nbsp; علوا کبیرا</h3>



<p>اللہ تعالی اس بات سے بہت بلند و برتر ہے</p>



<p>اور حدیث قدسی میں وارد ہے</p>



<h3 class="wp-block-heading">الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری</h3>



<p>کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا آزار ہے</p>



<p>اگر <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>علمائے ظوا ہر</strong></span> اس نکتہ سے آگاہ ہوتے تو ہرگز ممکن کے لئے وجود ثابت نہ کرتے اور جو خیر و کمال حضرت جل وعلا &nbsp;کے ساتھ مخصوص ہے وجود کی خصوصیت کے اعتبار سے ممکن کے لئے ثابت نہ کرتے۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا</h3>



<p>اے رب ہمارے تو ہماری بھول چوک اور خطاب پر مواخذہ نہ کرنا</p>



<p>&nbsp;اور اکثر صوفیاء بالخصوص ان کے متاخرین نے ممکن کو ہی واجب تعالی سمجھا ہے اور ان کے صفات و افعال کو حق تعالی کے صفات و افعال کا عین سمجھ لیا ہے اور کہتے ہیں</p>



<p>ہمسایہ وہم نشین و ہمراہ ہمہ اوست &nbsp;دردلق گدا واطلس شاہ ہمہ اوست</p>



<p>&nbsp;در انجمن فرق و نہان خانہ جمع &nbsp;&nbsp;باللہ ہمہ اوست&nbsp; ثم باللہ ہمہ اوست</p>



<p>ہمسائیگی اور ہمراہی اسی کے ساتھ ہے گدڑی والا ہو یا شہنشاہ ہو اسی کے ساتھ ہے فرق اور جمع کے مقامات&nbsp; الگ الگ ہیں لیکن صرف وہی ہے اور اسی کے ساتھ ہر ایک چیز ہے۔</p>



<p>اگرچہ یہ بزرگوار وجود کے شریک کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور دوئی سے گریز کرتے ہیں لیکن غیر وجود کو وجود مانتے ہیں اور نقائص کو کمالات سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی چیز کی ذات میں شرارت اور نقص نہیں ہے اگر ہے تو صرف نسبی اور اضافی ہے مثلا زہر قاتل انسان کی نسبت سے شرارت رکھتا ہے کہ اس کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے اور اس حیوان کی نسبت آب حیات ہے جس میں یہ زہر پیدا ہوتا ہے اور اس کے لیے تریاق نافع ہے اس معاملہ میں ان کا مقتدا اور راہنما ان کا کشف و شہود ہے جو کچھ ان پر ظاہر ہوا ہے انہوں نے اس کو ظاہر کر دیا</p>



<h3 class="wp-block-heading">اللھم ارنا حقائق الاشیاءکما ھی</h3>



<p>اے اللہ ہم کو اشیاء کی حقیقتیں جیسی کے وہ ہیں دکھا دے۔</p>



<p>اس باب میں فقیر پر جو کچھ ظاہر ہوا ہے اس کو تفصیل سے بیان کرتا ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;سب سے پہلے <span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color"><strong>شیخ محی الدین ابن العربی</strong></span> &nbsp;جوصوفياء متاخرین کے امام ومقتدا ہیں اس مسئلہ میں ان کامذ ہب بیان کیا جاتا ہے اس کے بعد جو کچھ اس فقیر پر مکشوف ہوا ہے تحریرکیاجائے گا تاکہ دونوں مذہبوں کے درمیان پورے طورپرفرق ظاہر ہوجائے اور باریک دقائق &nbsp;کی وجہ سے ایک دوسر &nbsp;ےکے ساتھ خلط ملط نہ ہوں شیخ &nbsp;محی الدین اوران کےمتبعین فرماتے ہیں کہ حق تعالی جل وعلا کے اسماء وصفات ذات واجب تعالى وتقدس کا بھی عین ہیں اوراسی طرح ایک دوسرے کے بھی عین ہیں۔ مثلا علم وقدرت جس طرح حق تعالی کی عین ذات ہیں اسی طرح ایک دوسرے کے بھی عین ہیں &nbsp;لہذا&nbsp; اس مقام میں کسی اسم اور رسم ( نشان) &nbsp;کی کوئی تعداد اور کثرت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تمایز و تباین (تمیز وفرق) ہے۔</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے کہ ان اسماء و صفات اورشیون واعتبارات نے حضرت علم میں اجمالی اور تفصیلی طورپر تمایز و تباین (تمیز وفرق) &nbsp;پیدا کیا ہے۔ &nbsp;</p>



<p>اگر اجمالی تمیز ہے تو وہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>تعین اول</strong></span> سے تعبیر کی جاتی ہے اور اگر وہ تفصیلی تمیز ہے تو وہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تعین ثانی</span></strong> سے موسوم ہے تعین اول کو وحدت کہتے ہیں اور اسی کو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت محمدی</span></strong> سمجھتے ہیں اور تعین ثانی کو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>واحدیت&nbsp; </strong></span>کہتے ہیں اور تمام ممکنات کے حقائق گمان کرتے ہیں اور ان حقائق ممکنات کو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اعیان ثابتہ </strong></span>جانتے ہیں اور یہ دو علمی تعین جو کہ وحدت اور واحدیت ہے ان کو مرتبہ وجوب میں ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بو تک نہیں پائی اور خارج میں احدیت مجردہ کے سوا کچھ بھی موجود نہیں ہے اور یہ کثرت جو خارج میں ظاہر ہوتی ہے ان<strong> اعیان ثابتہ</strong> کا عکس ہے</p>



<p>&nbsp;جو ظاہر وجود کے آئینے میں منعکس ہوا ہے جس کا کوئی جز بھی خارج میں موجود نہیں ہے اور خیالی وجود پیدا کرلیا ہے جس طرح ایک شخص کی صورت آئینے میں منعکس ہو کر وجود تخیلی پیدا کر لے اس عکس کا وجود صرف تخیل میں ثابت ہے اور آئینے میں کسی شے نے حلول نہیں کیا ہے اور نہ ہی آئینے کی سطح پر کوئی چیز منقش ہوئی ہے بلکہ اگر کچھ منقش ہے تو صرف خیال میں ہے جو آئینے کی سطح پر&nbsp; متوہم ہوگیا ہے اور یہ خیالی اور وہمی شے خدا وند جل سلطانہ کی ایک صنعت ہے جو بڑا استحکام اور ا ثبات کی حامل ہے اور وہم اور تخیل کے زوال کی وجہ سے زائل نہیں ہوتی اور آخرت کا دائمی ثواب و عذاب اسی پر مرتب ہوتا ہے</p>



<p>یہ کثرت جو خارج میں ظاہر ہوتی ہے تین قسموں میں منقسم ہے</p>



<p> قسم اول تعین روحی ہے ہے اور قسم دوم تعین مثالی اور قسم سو م تعین جسدی جس کا تعلق عالم شہادت سے ہے ان تینوں تعینات کو تعینات خارجیہ کہتے ہیں اور امکان کے مرتبہ میں ثابت کرتے ہیں تنز لات خمسہ سے مراد یہی تعینات پنجگانہ  ہیں اور ان تنزلات خمسہ کو  حضرات خمس بھی کہتے  ہیں اور چونکہ علم اور خارج میں سوائے ذات واجب تعالی اور اسماء و صفات واجبی جل سلطانہ کے جوعین  ذات تعالی و تقدس ہیں ان کے نزدیک ثابت نہیں اور انہوں نے صورت علمیہ  کو ذی صورت  کا عین گمان کیا ہے نہ کہ شبہ )جسم( اور مثال  اور اسی طرح اعیا ن ثابتہ کو صورت منعکسہ کو جو ظاہری وجود کے آئینے میں پیدا ہوئی ہے انہوں نے ان اعیان کا عین تصور کرلیا ہے ہے نہ کہ ان کی شبہ  اس لیے انہوں نے اتحاد کا حکم لگا دیا اور ہمہ اوست(سب کچھ وہی ہے)   کہا ہے</p>



<p class="has-vivid-purple-color has-text-color">یہ ہے مسئلہ وحدت الوجود میں شیخ محی الدین ابن العربی کے مذہب کا اجمالی بیان&nbsp; اور یہی وہ علوم ہیں جن کو شیخ نے خاتم الو لایت کے ساتھ مخصوص جانا ہے اور کہا ہے کہ خاتم النبوۃ ایں علوم راہ از خاتم الولایۃ اخذ می نماید</p>



<p>خاتم النبوت نے ان علوم کو خاتم الولایت سے اخذ کیا ہے</p>



<p>اور فصوص کے شارحین اس قول کی وضاحت میں بڑے تکلفات کا اظہار کرتے ہیں</p>



<p>مختصر یہ کہ شیخ سے پہلے اس گروہ صوفیہ میں سے کسی نے ان علوم و اسرار میں زبان نہیں کھولی اس بات کو کسی نے بھی اس انداز میں بیان نہیں کیا اگرچہ توحید و اتحاد کی باتیں غلبہ سکر کی وجہ سے ان سے بھی ظاہر ہوئی ہیں اور انا الحق و سبحانی&nbsp; جیسے الفاظ کہے ہیں لیکن یہ حضرات اتحاد کی وجہ اور منشائے توحید معلوم نہیں کر سکے۔ لہذا شیخ ہیں اس گروہ کے متقدمین کی برہان اورگروہ متاخرین کے لئے حجت اور دلیل&nbsp; ہیں لیکن ابھی اس مسئلہ کے بہت سے دقیق نکات پوشیدہ رہ گئے ہیں اور اس باب میں بہت سے پوشیدہ اسرار منصہ شہود پر نہیں آئے ہیں کہ فقیر کو ان کے اظہار کی توفیق اور ان کے قید تحریر میں آنے کی بشارت ملی</p>



<p>وَاللَّهُ يَحقُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ</p>



<p>اللہ تعالی ہی حق کو حق ثابت کرتا ہے اور وہی ہدایت کی راہ دکھاتا ہے</p>



<p>میرے مخدوم واجب الوجود تعالی و تقدس کی صفات ثمانیہ ( آٹھ صفات )جو اہل حق شکر اللہ تعالی سعیہم کے نزدیک خارج میں موجود ہیں لازمی طور پر ذات تعالی و تقدس سے خارج میں متمیز ہیں اور تمیز بھی ذات و صفات کی طرح بیچونی (بے مثال)اور بیچگونی (بے کیف ہونا)قسم سے متمیز &nbsp;ہے اور اسی طرح یہ صفات &nbsp;بھی بیچونی &nbsp;کے ساتھ ایک دوسرے سے متمیز ہیں بلکہ بیچونی کی تمیز حضرت ذات تعالی و تقدس کے مرتبہ میں بھی ثابت ہے لانہ الواسع&nbsp; بالوسع المجھول&nbsp; الکیفیۃ</p>



<p>کیونکہ واجب تعالی مجہول الکیفیت وسعت کے ساتھ واسع ہے یعنی وہ ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی کیفیت معلوم نہیں&nbsp; اور وہ تمیز جو ہماری فہم و ادراک میں آسکے اس جناب&nbsp; قدس سے مسلوب ہے کیونکہ وہاں تبعض و تجزی (بعض ہونا اور جزو جزوہونا) متصور نہیں اور تحلیل و ترکیب کو حضرت جل سلطانہ کی بارگاہ میں کچھ دخل نہیں اور حالیت (اس کا کسی میں سرائیت کرنا )اور محلولیت( اس میں کسی کا سرایت کرنا )کی بھی وہاں گنجائش نہیں&nbsp; مختصر یہ کہ جو کچھ ممکن کی صفات و اعراض ہیں وہ سب اس جناب قدس سے مسلوب ہیں لیس کمثلہ&nbsp; شئی فی الذات&nbsp; ولا فی الصفات ولا فی الافعال کوئی اس کی مثل یا مانند نہیں ہے نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ افعال میں&nbsp; اس بے چونی (بے مثال)&nbsp; &nbsp;تمیز اور بے کیفی وسعت کے باوجود واجب جل سلطانہ کے اسماء و صفات خانہ علم میں بھی تفصیل اور تمیز رکھتے ہیں اور منعکس ہو گئے ہیں اور ہر اس صفت کی تمیز کے لیے مرتبہ عدم میں ایک مقا بل اور ایک نقیض ہے مثلا مرتبہ عدم میں صفت علم کا مقابل اور نقیض عدم علم ہے&nbsp; جس کو جہل سے تعبیر کرتے ہیں اور صفت قدرت کے مقابل میں عجز ہے جس کو عدم قدرت کہتے ہیں اور علیٰ ہٰذا القیاس ان عدمات&nbsp; متقابلہ نے بھی علم واجبی جل شانہٗ میں تفصیل و تمیز پیدا کی ہوئی ہے اور اپنے متقابلہ اسماء و صفات کے آئینے اور ان کے عکسوں کے ظہور کے جلوہ گاہ بن گئے&nbsp; ہیں فقیر کے نزدیک وہ عدمات ان اسماء و صفات کے عکوس کے ساتھ ممکنات کے حقائق ہیں۔</p>



<p>خلاصہ کلام یہ کہ وہ عدمات ان ماہیتوں کے لیے اصول اور مواد کے رنگ میں ہیں اور وہ عکوس ان مواد حلول کرنے والی صورتوں کی مانند ہیں</p>



<p>شیخ محی الدین کے نزدیک ممکنات کے حقائق وہ تمام اسماء و صفات ہیں جو مرتبہ علم میں امتیازی کیفیت رکھتے ہیں ہیں اور فقیر کے نزدیک ممکنات کے حقائق وہ عدمات ہیں جو اسماء و صفات کے نقائض ( ضد برعکس) ہیں اسماء و صفات کے ان عکوس کے ساتھ جوان عدمات کے آئینوں میں خانہ علم میں ظاہر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ متمزج (باہم مل گئے) ہیں اور قادر مختار جل سلطانہ &nbsp;نے جب چاہا کے ان ملی جلی ما ہیتوں میں سے کسی ایک ماہیت (حقیقت) &nbsp;کو وجود ظلی کے ساتھ جو کہ حضرت وجود کا پرتو ہے متصف کرکے موجود خارجی بنا دیا یا مختصر یہ کہ حضرت وجود نے اس ماہیت ممتزجہ&nbsp; پر پر تو ڈال کر خارجی آثار کا مبداء بنا دیا لہذا ممکن کا وجود علم میں اور خارج میں اس کی تمام صفات کے رنگ میں حضرت وجود کا ایک پرتو ہے اور اس کے کمالات کا تابع ہے مثلا ً ممکن کا علم واجب تعالی و تقدس کے علم کا پر تو اور ایک ظل ہے جو اپنے مقابل میں منعکس ہوا ہے اورممکن کی قدرت بھی ایک ظل ہے جو عجزمیں اس کے مقابل ہو کر منعکس ہوگئی ہے اور اسی طرح ممکن کا وجود حضرت وجود کا ایک ظل ہے جو عدم کے آئینے میں اس کے مقابل ہو کر منعکس ہو گیا ہے</p>



<p>نیا وردم از خانہ چیزے نخست تو دادی ھمہ چیز ومن چیز تست</p>



<p>میں نے اپنے گھر سے تو کچھ بھی نہیں لیا جب کہ میں تیرا ہوں تو سب کچھ تیرا ہے</p>



<p>لیکن فقیر کے نزدیک شے کا ظل اس شے کا عین نہیں بلکہ اس کا شبہ و مثال ہے اور ایک دوسرے کے ثبوت میں پیش کرنا ممتنع اور محال ہے  لہذا فقیر کے نزدیک ممکن واجب کا عین نہیں ہے اور ممکن اور واجب کے درمیان حمل کرنا ثابت نہیں ہے کیونکہ ممکن کی حقیقت عدم ہے اور اسماء و صفات کا وہ عکس ہے جو اس عدم  میں منعکس ہو گیا ہے اور ان اسماء و صفات کی شبہ و مثال ہے نہ کہ ان صفات کا عین لہذا ہمہ اوست کہنا درست نہیں ہوگا بلکہ ہمہ از اوست<a>(ہر شے کا وجود حق(اللہ) سے ہے)</a>  کہنا درست ہے۔</p>



<p>&nbsp;کیوں کہ جو کچھ ممکن ذات میں ہے وہ عدم ہے&nbsp; جو شرارت نقص اور خبث کامنشا&nbsp; ہے اور جو کچھ ممکن میں کمالات کے قسم سے پیدا ہوا ہے وہ سب حضرت جل سلطانہ کے وجود اور اس کے توابع سے مستفاد ہیں اور اس پاک ذات سبحانہ کے کمالات ذاتیہ کا پرتو ہے پس لازمی طور پر وہ سبحانہ و تعالی آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور اس کے سوا سب ظلمت ہی ظلمت ہے اور کیوں کر ظلمت نہ ہو جب کہ عدم تمام ظلمتوں سے بڑھ کر ظلمت ہے&nbsp; اس بحث کی کما حقہٗ تحقیق&nbsp; اس <strong><a href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234/">مکتوب نمبر 234 دفتر اول</a></strong> میں میں تحریر کی گئی ہے جو فرزندی اعظمی مرحومی خواجہ محمد صادق کے نام حقیقت وجود کے بیان میں اور ماہیات ممکنات کی تحقیق میں لکھا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیے</p>



<p>پس شیخ محی الدین کے نزدیک عالم تمام کا تمام اسماء و صفات سے مراد ہے جنہوں نے خانہ علم میں تمیز پیدا کرکے خارج میں ظہور کے آئینے میں نمود و نمائش حاصل کر لی ہے</p>



<p>اور فقیر کے نزدیک عالم سے مرادعد مات ہیں جو کہ حضرت واجب جل سلطانہ کے اسماء و صفات خانہ علم میں منعکس ہو گئے&nbsp; ہیں اور خارج میں حق سبحانہ کی ایجاد سے وہ عدمات مع&nbsp; ان عکوس &nbsp;&nbsp;&nbsp;کے وجود ظلی کے ساتھ موجود ہو گئے ہیں لہذا عالم میں ذاتی &nbsp;خبث &nbsp;پیدا ہو گیا اور جبلی شرارت ظاہر ہو گئی اور تمام خیر و کمال جناب قدس جل و علا &nbsp;کی طرف راجع ہوگیا آیہ کریمہ</p>



<p>مَّآ أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَ</p>



<p>اے انسان جو کچھ بھلائی تجھے پہنچتی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھ کو پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے</p>



<p>اس معرفت کی تائید میں ہے اور اللہ سبحانہ&nbsp; ہی صحیح الہام کرنے والا ہے</p>



<p>لہذا ذرا اس تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ عالم خارج میں وجود ظلی کے ساتھ موجود ہے جس طرح حضرت حق سبحانہ وجود اصلی کے ساتھ بلکہ اپنی ذات کے ساتھ خارج میں موجود ہے خلاصہ یہ ہے کہ یہ خارج بھی وجود و صفات کے رنگ میں اس خارج کا ظل ہے لہذا عالم کو حق جل ؤ علا سلطانہ کا عین نہیں کہہ سکتے اور ایک کو دوسرے پر حمل کرنا جائز نہیں ہوگا کسی شخص کے ذہن کو اس کا عین نہیں کہا جا سکتا&nbsp; کیونکہ خارج میں دونوں متغائر ہیں اس لیے کہ دو چیزیں ایک دوسرے کی متغائر ہوتی ہیں اور اگر کوئی شخص کسی کے سائے کو اس کا آئین کہے تو وہ تسامح اور تجوز&nbsp; )چشم پوشی اور مجاز (کے طور پر ہوگا جو اس بحث سے خارج ہے.</p>



<p>گر کہا جائے کہ شیخ محی الدین اور ان کے متبعین بھی عالم کو حق تعالی کا ظل &nbsp;جانتے ہیں تو پھر فرق &nbsp;کیا ہوا؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ اس کے وجود &nbsp;کے ظل کو صرف وہم کے درجے میں نہیں سمجھتے اور وجود خارجی&nbsp; کی بو بھی اس ظل کے حق میں تجویز نہیں کرتے مختصر یہ کہ کثرت موہومہ کو وحدت موجودہ کے ظل سے تعبیر کرتے ہیں اور خارج میں واحد تعالی ہی کو موجود جانتے ہیں۔شتان مابینھما &nbsp;</p>



<p>&nbsp;دونوں میں بڑا فرق ہے لہذا اصل پر ظل کے حمل کا منشا اور اس حمل کا عدم ظل کے لیے وجود خارجی کا ثابت کرنا ہے یہ لوگ چونکہ&nbsp; ظل کے لیے وجود خارجی ثابت نہیں کرتے اس لیے اصل پر محمول کرتے ہیں اور یہ فقیر چونکہ ظل کو خارج میں موجود جانتا ہے اس لئے اس پر حمل کرنے کی پیش قدمی نہیں کرتا ظل&nbsp; سے اصلی وجود کی نفی میں وہ سب شریک ہیں اور وجودظلی ا ثبات میں بھی متفق ہیں لیکن یہ فقیر&nbsp; وجو دظلی خارج میں&nbsp; ثابت کرتا ہے اوروہ &nbsp;وجود ظلی کو وہم اور تخیل میں گمان کرتے&nbsp; ہیں اور خارج&nbsp; میں احدیت مجردہ کے سوا کچھ موجود نہیں جانتے اور صفات ثمانیہ کو بھی جن کا وجود اہل سنت و جماعت رضی اللہ تعالی عنہم کی آراء کے موافق خارج میں ثابت ہو چکا ہے ان کو بھی علم کے سوا ثابت نہیں کرتے علما ئے ظواہر اور&nbsp; ان رضی اللہ عنہم&nbsp; اعتدال اور میانہ روی کی دونوں طرفوں یعنی( افراط و تفریط) کو اختیار فرمایا ہے اور حق کا درمیانی درجہ اس فقیر کو نصیب ہوا ہے جس کی توفیق&nbsp; فقیر کو دی گئی ہےاگر یہ لوگ بھی اس خارج کو اس خارج کا ظل مان لیتے تو عالم کے وجود خارجی کا انکار نہ کرتے اور وہم&nbsp; وتخیل پر کفایت نہ فرماتے۔اور واجب الوجود کی صفات کے وجود خارجی کا بھی انکار نہ کرتے اگر ظاہری علماء بھی اس راز سے واقف ہوجاتے تو ہرگز ممکن کے لئے وجود اصلی کا اثبات نہ کرتے بلکہ وجود ظلی پر اکتفا کرتے اور جو کچھ فقیر نے بعض مکتوبات میں لکھا ہے کہ ممکن پر وجود کا اطلاق بطریق حقیقت ہے &nbsp;نہ کہ بطریق مجاز وہ بھی اس تحقیق کے منافی نہیں ہے کیونکہ ممکن خارج میں ظلی وجود کے ساتھ بطریق حقیقت موجود ہے نہ کہ توہم &nbsp;اور تخیل کے طور پر جیسا کہ یہ گمان کرتے ہیں ۔</p>



<p>سوال صاحب فتوحات مکیہ شیخ محی الدین نے اعیان ثابتہ( <strong>صور علمیہ</strong>) کے وجود و عدم کے درمیان برزخ کہا ہے ان کے مطابق ممکنات کے حقائق میں داخل ہوگیا بس اس تحقیق اور اس قول کے درمیان کیا فرق ہو گا؟</p>



<p>جواب برزخ ا س اعتبار سے کہا ہے کہ صورعلمیہ کی دو جہتیں ہیں ایک جہت یہ ہے کہ جو ثبوت علمی کے واسطے سے وجود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور دوسری جہت وہ ہے جو عدم خارجی کے واسطے سے عدم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک اعیان ثابتہ کو وجود خارجی کی بو تک نہیں پہنچی اور وہ عدم جو اس تحقیق میں درج کیا گیا ہے وہ دوسری حقیقت رکھتا ہے اور اسی طرح جو کچھ بعض عزیزوں کی باتوں میں عدم کا اطلاق ممکن پر ہوا اس سے ان کی مراد معدوم خارجی ہے نہ کہ وہ عدم جس کی تحقیق مندرجہ بالا عبارت میں ہوچکی ہے اور وہ بلند و برتر ذات ان اسماء و صفات سے جنہوں نے تفصیل و تمیز حاصل کرلی ہے اور عدمات کے آئینوں میں منعکس ہوکر ممکنات کے حقائق ہوگئے ہیں وہ ذات ان سب سے ورا ءالورا ءہے۔</p>



<p>پس عالم کے ساتھ اُس سبحانہ و تعالی کو (خالق اور مخلوق ہونے کے علاوہ) کسی قسم کی بھی مناسبت نہیں</p>



<p>إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ &nbsp; &nbsp;بے شک اللہ تعالی تمام جہانوں سے بے نیاز ہے</p>



<p>حق تعالی کو عالم کا عین کہنا اور اس کے ساتھ متحد جاننا بلکہ ایسی کوئی بھی نسبت دینا اس فقیر پر بہت گراں ہے</p>



<p>آں ایشا نند و من چنینم&nbsp; یا رب اے اللہ وہ وہی ہے اور میں ہوں</p>



<h3 class="wp-block-heading">سُبۡحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ &nbsp;وَسَلَٰمٌ عَلَى ٱلۡمُرۡسَلِينَ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ &nbsp;والسلام علیکم وعلی من لدیکم</h3>



<p>تمہارا رب ان اوصاف سے جو یہ بیان کر رہے ہیں پاک ومنزہ ہے اور سلام ہو مرسلین پر اور اللہ رب العالمین کا بے حد شکر و احسان ہے آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر سلام ہو۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ16 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></strong></span></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&#038;title=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/" data-a2a-title="مسئلہ وحدت الوجود مکتوب نمبر1 دفتردوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
