<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>الہام &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%A7%D9%84%DB%81%D8%A7%D9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 23 Dec 2025 07:18:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>الہام &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>علم وہبی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:06:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[احوال]]></category>
		<category><![CDATA[الہام]]></category>
		<category><![CDATA[علم عطائی]]></category>
		<category><![CDATA[علم لدنی]]></category>
		<category><![CDATA[علم وہبی]]></category>
		<category><![CDATA[فراست کی قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[ماء القدس]]></category>
		<category><![CDATA[مواہب ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7021</guid>

					<description><![CDATA[اصطلاح تصوف میں علم وہبی (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اصطلاح تصوف میں <strong>علم وہبی</strong> (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں،۔</p>
<p>علم وہبی کی تفصیلات درج ذیل نکات میں بیان کی گئی ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>تعریف اور ماہیت:</strong> علم وہبی وہ غیبی معانی ہیں جو <strong>بغیر کسب کے وہبی طور پر</strong> سالک کے دل پر نازل ہوتے ہیں۔ اسے <strong>&#8220;علمِ لدنی&#8221;</strong> یا <strong>&#8220;علمِ عطائی&#8221;</strong> بھی کہا جاتا ہے، جو صرف اولیاءِ کاملین اور مقربین کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ علم براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ سے حاصل ہونے والا عرفان اور حقائق کا نام ہے۔</li>
<li><strong>ذرائع حصول:</strong> یہ علم کتابوں کے مطالعے یا بحث و مباحثے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا طریقہ <strong>الہامات، تجلیات، فتوحات، مکشوفات اور مشاہدات</strong> ہے۔ جب سالک کا باطن صاف ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں وہ علمی راز ودیعت فرما دیتا ہے جس سے حقیقت کے جمال کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔</li>
<li><strong>احوال اور مواہبِ ربانی:</strong> تصوف میں سالک پر طاری ہونے والی خوشگوار روحانی کیفیات کو <strong>&#8220;احوال&#8221;</strong> کہا جاتا ہے، جنہیں &#8220;مواہبِ ربانی&#8221; (اللہ کے عطیات) بھی کہتے ہیں۔ یہ فیوضات اللہ کی طرف سے وہبی طور پر نازل ہوتے ہیں تاکہ بندے کا باطن صاف ہو اور وہ اپنے مولیٰ کے قریب ہو سکے۔</li>
<li><strong>علمِ کسبی سے فرق:</strong> علمِ کسبی یا استدلالی وہ ہے جو انسانی عقل اور دلیل کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، علمِ وہبی <strong>بلا استدلال</strong> حاصل ہوتا ہے اور اس پر سالک کو کامل یقین ہوتا ہے۔ یہ علم دل کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان خیر و شر اور حقائقِ اشیاء کو گہرائی تک دیکھ سکتا ہے،۔</li>
<li><strong>ماءُ القدس:</strong> علمِ وہبی کو <strong>&#8220;ماءُ القدس&#8221;</strong> (مقدس پانی) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک نورانی علم ہے جو سالک کو جسمانی کثافتوں سے پاک کر کے تجلیِ حقیقی اور نورِ قدیم سے مزین کر دیتا ہے۔</li>
</ul>
<p>خلاصہ یہ کہ علم وہبی وہ نورانی فیض ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کے قلب پر القاء فرماتا ہے، جس کے بعد انہیں کائنات کے مخفی اسرار اور الٰہی حقائق کا ادراک بغیر کسی ظاہری وسیلے کے حاصل ہو جاتا ہے،۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> علمِ وہبی کی مثال اس <strong>بارش</strong> جیسی ہے جو بنجر زمین (دل) پر قدرت کی طرف سے برستی ہے اور اسے خود بخود سرسبز و شاداب کر دیتی ہے، جبکہ علمِ کسبی اس محنت اور کنویں کے پانی کی طرح ہے جسے انسان خود کھود کر اور مشقت کر کے زمین تک پہنچاتا ہے۔</p>
<p>علم لدنی<br />
علم وہبی، عطائی اورعلم ربانی کہا جاتا ہے جو بغیر کسی خارجی سبب کے خود بخود قلب میں من جانب اللہ آتا ہو۔<br />
قرآن میں ہے<br />
اٰتَٰینہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً۔( القرآن 18/ 65 ) (تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔<br />
علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں &#8220;یہ آیت علم لدنی کے اثبات میں اصل ہے۔ علم لدنی کو علم الحقیقتہ اور علم الباطن بھی کہتے ہیں<br />
۔[1] حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں۔<br />
والعلم اللدنی وھو الذی لا واسطۃ فی حصولہ بین النفس وبین الباری وانما ھو کالضوء من سراج الغیب یقع علی قلب صاف فارغ لطیف (کذا فی الرسالۃ اللدنیہ ص 28) علم لدنی وہ ہے کہ جس کے حصول میں نفس اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، علم لدنی بمنزلہ روشنی کے ہے کہ سراج غیب سے قلب صاف وشفاف پر واقع ہوتی ہے<br />
۔[2]صوفیائے کرام کی اصطلاح میں ایسے ہی علم کو علم لدنی کہتے ہیں جس میں اسباب ظاہری کا دخل اور واسطہ نہ ہو اور عالم غیب سے براہ راست علم اس کے قلب میں داخل ہو ملائکہ پر جو منجانب اللہ علوم فائض ہوتے ہیں وہ اسی قسم کے ہوتے ہیں قلب میں عام طور پر جو علم داخل ہوتا ہیوہ حواس ظاہری کے دروازوں سے داخل ہوتا ہے ایسے علم کو علم حصولی اور علم اکتسابی کہتے ہیں اور جب کسی کے قلب میں کوئی دروازہ عالم ملکوت کی طرف کھل جائے اور بلا ان ظاہری دروازوں کے کوئی علم قلب میں پہنچ جائے تو ایسے علم کو علم لدنی کہتے ہیں جو علم قلب کے باہر کے دروازہ سے داخل اور حاصل ہو وہ علم حصولی ہے اور جو علم قلب کے اندر کسی باطنی دروازہ سے آئے وہ ” علم لدنی“ اور ” علم وہبی“ اور ” علم حضوری“ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو اسرار غیبی اور باطنی حکمتوں اور مصلحتوں کا علم عطا فرمایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام شریعت کا علم عطا فرمایا تھا<br />
[3]علم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کے ادراک کا نام ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال اور اس کے احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے، اگر یہ علم کسی بشر کے واسطے سے حاصل ہو تو کسبی ہے اور اگر بلاواسطہ حاصل ہو تو علم لدنی ہے۔ علم لدنی کی تین قسمیں ہیں : وحی، الہام اور فراست<br />
[4] اولیاء کا علم حضوری بلکہ حضور سے بھی زیادہ کاشف۔ جس کو علم لدنی کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق اللہ کی ذات و صفات سے ہوتا ہے تو اس میں خطا کا امکان نہیں ہوتا ہے وہ وجدانی اور قطعی ہوتا ہے بلکہ اس علم کا درجہ عام قطعی علوم سے اونچا ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کا علم حضوری و وجدانی ہوتا ہے کیونکہ خود ہی عالم ہے اور خود ہی معلوم۔ اپنی ذات کو جاننے کے لیے کسی تصور کی ضرورت نہیں پڑتی اور اللہ کی ذات سے تعلق رکھنے والے صوفی کا وجدانی علم اس سے بھی بالاتر ہوتا ہے۔ اللہ تو آدمی سے اتنا قریب ہے کہ وہ خود بھی اپنی ذات سے اتنا قرب نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : نحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ یعنی ہم تم سے اتنا قرب رکھتے ہیں کہ تم خود اپنے سے اتنا قرب نہیں رکھتے‘ مگر اے عوامی نظر رکھنے والو! ہم تم کو نظر نہیں آتے۔ پس یہ لدنی علم اولیاء کو پیغمبروں کے توسل سے حاصل ہوتا ہے اگرچہ پیغمبر تک پہنچنے کے درمیانی وسائل کتنے ہی زیادہ ہوں<br />
۔[5]*وحی</p>
<p>اللہ تعالی کا کلام مع الفاظ و معانی بواسطہ جبریل علیہ السلام قلب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے تو وہ وحی اور قرآن کہلاتا ہے.</p>
<p>اگر بغیر واسطہ جبریل علیہ السلام کے صرف معانی کا القاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر ہوتا ہے وہ ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم.</p>
<p>اور کبھی بغیر واسطہ حضرت جبریل علیہ السلام کے دیدار باری تعالی کے حصول پر علم عطا ہوا ہے.</p>
<p>جسے رب تعالی نے:</p>
<p>فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہ مَآ اَوْحٰی(القرآن پ۲۷ ,النجم,آیت۱۰)</p>
<p>&#8220;اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی.&#8221;</p>
<p>سے تعبیر فرمایا.</p>
<p>*الہام</p>
<p>الہام کا لغوی معنی ہے پہنچانا</p>
<p>الہام وہ علم حق ہے جو اللہ تعالی غیبی طور پر اپنے بندوں کے دلوں پر القاء کرتا ہے.</p>
<p>جس طرح رب تعالی نے فرمایا:</p>
<p>قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ(القرآن پ۲۲,سبا,آیت۴۸)</p>
<p>&#8220;فرما دیجیے! بے شک میرا رب حق(دلوں پر) القاء کرتا ہے.&#8221;</p>
<p>*فراست</p>
<p>فراست اس علم کو کہتے ہیں جو صورتوں کے آثار و علامت کو عقلمندی سے دیکھنے کی وجہ سے غیبی طور پر حاصل ہوتا ہے.</p>
<p>قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:</p>
<p>&#8220;اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ&#8221;</p>
<p>مومن کی فراست سے ڈرو بےشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے.(الحدیث, مفہوما)</p>
<p>*الہام اور فراست دونوں سے ہی غیبی چیزوں پر اطلاع حاصل ہوتی ہے.</p>
<p>لیکن فراست میں کچھ چیزوں کی صورتوں کی علامات سے وہ علم حاصل ہوتا ہے</p>
<p>اور الہام میں یہ واسطہ نہیں ہوتا بلکہ قدرتی طور پر اللہ تعالی کی طرف سے فیضان ہوتا ہے.</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/" data-a2a-title="علم وہبی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توفیق کا مفہوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d9%81%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d9%81%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 07 May 2022 07:36:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[الہام]]></category>
		<category><![CDATA[توفیق کا مفہوم]]></category>
		<category><![CDATA[صفت وہبی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6375</guid>

					<description><![CDATA[توفیق کا مفہوم توفیق کے لغوی معنی توفیق باب تفعیل کا مصدر ہے جس کا مادہ اشتقاق و،ف، ق ہے لغت میں جس کا معنی درست کرنا ، اصلاح کرنا ،موافق کرنا اور الہام کرنا کے آتے ہیں ، وَفَّقَ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d9%81%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>توفیق کا مفہوم</h1>
<h3>توفیق کے لغوی معنی</h3>
<p>توفیق باب تفعیل کا مصدر ہے جس کا مادہ اشتقاق و،ف، ق ہے لغت میں جس کا معنی درست کرنا ، اصلاح کرنا ،موافق کرنا اور الہام کرنا کے آتے ہیں ، <mark class="has-inline-color" style="background-color: #f78da7;">وَفَّقَ اللہُ امرَ فُلانٍ</mark> کا مطلب ہے خدا کا کسی کے کام اس کے منشأ کے مطابق بنادینا۔ </p>
<h3>شرعی مفہوم</h3>
<p>اور توفیق کاشرعی مفہوم یہ ہے <strong>تَوْجِیْہُ الْاَسْبَابِ نَحْوَ الْمَطْلُوْبِ الْخَیْرِ</strong> یعنی اسباب کو مطلوب خیر کی طرف متوجہ کرنا توفیق ہے۔ علامہ شریف جرجانی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے توفیق کی تعریف یوں کی ہے ، <strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #f78da7;">جعل الله فعل عباده موافقا لما يحبه ويرضاه</mark> </strong>( التعریفات: 13 ) اللہ تعالی کا بندوں کے افعال کو اپنی پسند اور رضا کے موافق بنادینا توفیق کہلا تا ہے در حقیقت تو فیق موہبت رہائی اور نعمت یزدانی ہے جو ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ مخصوص افراد ہی اس کے حقدار ہیں کشف المحجوب میں ہے تو فیق منجانب اللہ ہے حصول طاعت توفیق کے بغیر ممکن نہیں اور توفیق بغیر طاعت حاصل نہیں ہوتی قدوۃ الابرار حضرت خواجہ علاؤ الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ نے یوں <mark class="has-inline-color" style="background-color: #ffffff;">کہا</mark><mark class="has-inline-color" style="background-color: #f78da7;">التوفيق مع السعی</mark> توفیق کوشش کے ساتھ ہے</p>
<h3>توفیق کی تین تعریفیں ہیں </h3>
<p>1) خیروعملِ خیر کے اسباب جمع ہوجائیں۔ جیسے کہیں ملازم تھا جہاں اس کو دینی نقصانات تھےاور پھرکہیں اچھی جگہ یعنی دینی ماحول میں نوکری مل جائے یا ساری زندگی کسی اور کام میں تھا آخر میں خانقاہوں سے،اللہ والوں سےیااللہ والوں کےغلاموں سے جڑ گیا،اسباب پیدا ہوگئے،تَوْجِیْہُ الْاَسْبَابِ، تَوْجِیْہْ وَجْہٌ سے ہے یعنی سامنے آجانا۔<br />2)توفیق کے دوسرے معنیٰ ہیں خَلْقُ الْقُدْرَۃِ عَلَی الطَّاعَۃِ۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کی قدرت پیدا ہوجائے۔<br />3) توفیق کی تیسری تعریف ہے<br />تَسْھِیْلُ طَرِیْقِ الْخَیْرِ ،وَتَسْدِیْدُ طَرِیْقِ الشَّرِّ خیر کے راستے آسان ہوجائیں اور بُرائیوں کے راستے مسدود ہوجائیں۔<br />اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے اور اس کے لطف و کرم اور احسان کے ساتھ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنا صرف اور صرف ہمارے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D9%81%DB%8C%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d9%81%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/" data-a2a-title="توفیق کا مفہوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d9%81%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
