<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تجلیات &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%D8%A7%D8%AA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 24 Mar 2024 03:01:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>تجلیات &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اعتبار/اعتبارات</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 07 Dec 2021 23:13:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[اعتبارات اربعہ]]></category>
		<category><![CDATA[تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقی کے مقابل]]></category>
		<category><![CDATA[ظنی وہمی اور فرضی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4616</guid>

					<description><![CDATA[ تصوف میں اعتبار کا لفظ بالعموم حقیقت کے مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ ہر وہ شے اعتباری ہے، جو حقیقی نہیں۔ اور ہروہ چیز اعتباری ہے ظنی اور وہمی ہے۔ ذات حق ہر شے کی حقیقت ہے اور ہر شے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> تصوف میں اعتبار کا لفظ بالعموم حقیقت کے مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ ہر وہ شے اعتباری ہے، جو حقیقی نہیں۔ اور ہروہ چیز اعتباری ہے ظنی اور وہمی ہے۔ ذات حق ہر شے کی حقیقت ہے اور ہر شے کا وجود اعتباری ہے یعنی ہر شے کا وجود وجود حق سے قائم ہے۔</p>
<p>اگر بتی جلا کر تیز گھمائیں، ایک دائرہ سا بن جائے گا۔ کیا یہ دائرہ حقیقی ہے؟ ہرگز نہیں، ظنی ہے ، وہمی ہے اور اسی لیے اس کو اعتباری کہا جائے گا۔ حقیقتاً اگربتی کا جلتا ہوا سرا جو ایک نقطہ روشن ہے، دائرہ کی صورت میں نمودار ہو رہا ہے۔ اسی طرح ایک ذات حق ہی حقیقی ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے اعتباری ہے ۔ ہر تنزل ، ہر تعین ، ہر تقید اعتباری ہے اور ساری کائنات اعتبارات ہی کا مجموعہ ہے ۔</p>
<p style="text-align: center;">وجود اندر کمال خویش ساریست</p>
<p style="text-align: center;">تعينها امور اعتباریست</p>
<p style="text-align: center;">وجود اپنے کمال میں جاری ہے اور تعینات امور اعتباری ہیں </p>
<p>یہ امر لائق توجہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ اب تک ہوا، ہو رہا ہے اور ہونے والا ہے ، وہ باعتبار زمانہ تین حصوں میں ہی منقسم ہو سکتا ہے ۔ ماضی، حال اور مستقبل ۔ ماضی گزر چکا جس کا اب وجود نہیں۔ مستقبل آیا نہیں لہذا وہ بھی غیر موجود رہا حال جس میں ہم اپنے آپ کو پا رہے ہیں، اسی میں ہم مقید ہیں اور اسی پر ہماری ہستی کا دارو مدار ہے ۔ ایک وقت تھا کہ ماضی ماضی نہ تھا بلکہ حال تھا اور ایک وقت ہو گا کہ مستقبل مستقبل نہ ہوگا بلکہ حال ہو گا۔ بس حال ہی ہمارا نقد سرمایہ ہے ۔ اسی پر ہمارا قبضہ ہے اور اسی کی بنا پرہمیں یہ گمان ہے کہ ہماری بھی ایک ہستی ہے لیکن غور کریں اس حال کی حیثیت ہی کیا ہے ۔ ہم اب کہتے ہیں۔ اس کا تجزیہ کریں الف ادا ہوا تو ماضی ہو گیا اور ب ادا نہیں ہوا، مستقبل ہے ۔ حال کہاں ہے؟ ۔</p>
<p>بس یہی موہوم سی حد فاصل جو الف، اور &#8220;ب &#8221; کے درمیان ہے یہ ایک نقطہ وہمی ہی تو ہوا جو صرف اعتباری ہے۔ حقیقت کہاں؟ در حقیقت حال کا وجود ہی نہیں۔ ہم حال پر قائم تھے لکن حال ہی نقطہ وہمی نکلا۔ توپھر ہم کہاں رہے ؟ وہ شاخ ہی نہ رہی جس یہ آشیانہ تھا تصوف ہی میں اعتبار کے ایک اور معنی بھی ہیں جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بڑی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں ۔ اعتبار کے ایک معنی ہیں &#8221; گزر جانا ، ایسی صورت میں اس کا مصدر&#8221; عبور ہوگا۔ دوسرے معنی ہیں &#8221; عبرت لینا &#8221; ایسی صورت میں اس کا مصدر ہوگا عبرت &#8221; عبرت لینا اور نصیحت حاصل کرنا صوفیہ کرام کا طریقہ رہا ہے ۔ وہ ہر بات کو اپنے مطلب پر ڈھال کر عبرت و نصیحت حاصل کر لیتے ہیں۔ قرآن پڑھتے ہیں تو شیطان اور کفار کو اپنے نفس پر منطبق کرتے ہیں ۔ پیغمبروں کا ذکر آتا ہے تو نفس لوامہ مراد لے لیتے ہیں ، قلب سلیم سمجھ لیتے ہیں۔ جتنی کہ قصہ لیلی مجنوں سن کر یا پڑھ کر خود کو مجنوں سمجھ لیتے ہیں ، لیلی سے محبوب حقیقی مواد لے لیتے ہیں۔ اسی طرح ساقی کو شیخ اور شراب کو معرفت سمجھ لیا ۔</p>
<p>اعتبار کے لیے ضروری نہیں کہ پورا قصہ ہی منطبق ہو جائے، بعض حصے سے بھی اعتبار کیا جاتا ہے خواہ دوسرا حصہ نا موافق ہی کیوں نہ ہو ۔۔  </p>
<p>  صوفیائئے کرام اپنے حسب حال معنی (اعتبار) سے لیتے ہیں ۔</p>
<p> کبھی ایسا ہوتاہے کہ عارف کسی وقت کوئی آیتِ قرآنی یا حدیثِ نبوی سنتاہے تو اس کا ذہن کسی معرفت کی جانب منتقل ہوتاہے اگرچہ بظاہر عبارتِ نص اور اشاراتِ نص اور اقتضائے نص سے اس معرفت کی جانب دلالت وضعی نہ پائی جاتی ہو اس انتقالِ ذہنی کو اعتبار کہتے ہیں۔</p>
<p>مثلا کسی نے حدیث بیان کی جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا ۔&#8221; یہ ایک واضح المعنی حدیث ہے جس میں کسی قسم کا ابہام ہے نہ عقدہ ۔ اس کو تشریح کی ضرورت ہے نہ تغیر کی ۔ لیکن ایک صوفی یہ حدیث سنکر بول اٹھتا ہے سچ ہے جس خانہ دل میں حرص کا کتا اور ماسوی اللہ کی تصویر ہو ، اس میں فرشتہ قدس نہیں آتا ہے یہ اعتبار کیوں درست نہیں ؟ آخر اس میں کیا غیر شرعی بات ہے ؟ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ جو اعتبار خلاف شرع نہ ہو ، وہ بالکل جائز اور درست ہے ۔ بلکہ بعض اوقات یہ تغیر سے زیادہ موثر اور مفید مطلب ہوتا ہے ۔ صرف وہی اعتبار ناجائز اور مردود ہوگا جو خلاف شرع ہو ۔ :</p>
<p>  آپ کسی جاہل سے کہیں میں تمہیں حیوان ناطق سمجھتا ہوں ، پھر دیکھئے وہ کس طرح آپ سے لڑ پڑے گا حالانکہ آپ نے کوئی غلط بات نہیں کہی علمی طور پر حیوان ناطق اور انسان میں کوئی فرق نہیں ہر ایک دوسرے کا عین ہے۔ جو انسان ہے وہ حیوان ناطق ہے اور جو حیوان ناطق ہے وہ انسان ہے ۔ مگر بات ایک جاہل چونکہ نہیں سمجھتا وہ تو یس لفظ حیوان ہی پہ پھر جائے گا۔ </p>
<p>وہ حیثیت یا منزل جو خداوند تعالیٰ نے مقرر اور متعین فرمائی ہے اس کا اطلاق تجلیات اور تعینات پر آتا ہے یعنی ان کو اعتبارات کہتے ہیں</p>



<p>تصوف میں اس لفظ کا استعمال عموماً حقیقت کے مقابلہ میں ہوتاہے۔ ہر وہ چیز جو حقیقی نہیں اعتباری ہے۔ ہر وہ چیز جو ظنّی وہمی اور فرضی ہے اعتباری ہے۔</p>









<p>شاہ ولی اللہ تحریر فرماتے ہیں آگاہ رہو کہ آنحضرت ﷺنے صفت کے اعتبار کو تدبر قرآن ان کے وقت نگاہ میں رکھا ہے اور اس کے موافق ایک دریا چھوڑ دیا ہے ہے غرض چھوڑا ہے غرض اعتبار ایک فن ہے بہت بڑا اور عمدہ اور بہت وسیع سب اسی مقولہ اعتبار سے ہے ترتیب موجودت جن منزلوں یا سیڑھیوں پر سے وجود نے نزول فرمائیں حسب موقع کبھی تنزلات کبھی تعینات کبھی تجلیات کبھی تقیدات اور کبھی اعتبارات کہتے ہیں وجود ،علم نور اور شہود کو اعتبارات اربعہ کہا جاتا ہے</p>



<h2 class="wp-block-heading" id="اعتبار-کی-مثال">اعتبار کی مثال</h2>



<p>تعدد صفات سے تعدد حقیقی موصوف کا نہیں آیا کرتا۔ اگر کوئی شخص مثلاً زید چار پیشے (سوت کا تنا۔ کپڑا بننا۔ کپڑے سینا۔ کپڑا رنگنا) جانتا ہے تو کیا ایک زید سے چار زید ہوگئے ؟ کوئی دانا یہ کہے گا ؟ اسی طرح صفات اللہ کریم کا معاملہ ہے ہاں اعتباری تعدد ضرور ہے یعنی اس لحاظ سے کہ اللہ علیم ہے اور ہے اس لحاظ سے کہ اللہ قدیر ہے اور ہے مگر ایسے اعتبارات بالکل اس قصے کے مشابہ ہوں گے جو دو منطقی بھائیوں کا مشہور ہے کہ آپس میں گالی گلوچ ہو پڑے مگر چونکہ دونوں کی ماں بہن ایک تھی اس لیے گالی دیتے ہوئے قید اعتباری لگا دیں کہ تیری ماں کو اس حیثیت سے کہ تیری ماں ہے دوسرا بھی اسی ماں کو گالی دے مگر بقید حیثیت اس حیثیت سے کہ تیری ماں ہے پس جیسا ان کی ماں میں حقیقۃً تعدد نہ تھا بلکہ یہ ان کی جہالت کا ثبوت تھا اسی طرح صفات کے اعتبار سے اللہ میں تعدد پیدا کرنا ایک نادانی کا اظہار ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%2F%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa/" data-a2a-title="اعتبار/اعتبارات"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تعینات</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 26 Oct 2021 05:14:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[تجلی اول]]></category>
		<category><![CDATA[تجلی ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تعین ثالث]]></category>
		<category><![CDATA[تعین ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تعین خامس]]></category>
		<category><![CDATA[تعین رابع]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب العظمت]]></category>
		<category><![CDATA[حضر اسماء الصفات]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت الوہیت]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیب ہویت]]></category>
		<category><![CDATA[وحدۃ الحقیقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3621</guid>

					<description><![CDATA[تعینات فلسفہ اور الہیات میں تعیین کا مطلب وہ چیز ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو الگ الگ کیا جاتا ہے اور اسے دوسری چیزوں پر فوقیت دی جاتی ہے، تاکہ دوسری چیزوں میں کوئی چیز مشترک نہ ہو۔  <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[

<h1>تعینات</h1>
<p>فلسفہ اور الہیات میں تعیین کا مطلب وہ چیز ہے جس کے ساتھ کسی چیز کو الگ الگ کیا جاتا ہے اور اسے دوسری چیزوں پر فوقیت دی جاتی ہے، تاکہ دوسری چیزوں میں کوئی چیز مشترک نہ ہو۔   بالفاظ دیگر تمام مخلوقات سے کسی ایک ہستی کی فضیلت اور امتیاز کو تعین کہتے ہیں</p>

<p>اللہ تعالی کی ذات نے جن مراتب اور جن منزلوں سے نزول فرمایا انہیں صوفیاء کی زبان میں تعینات(تعین کی جمع) تجلیات (تجلی کی جمع)اوراعتبارات (اعتبار کی جمع) کے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔</p>



<p>تعین کے معنی ہیں حق تعالی کا اپنی ذات کو پانا ۔</p>



<p>تعنیات کی دو اقسام ہیں ۔ داخلی اور خارجی</p>



<p>تعینات داخلی کی پھر دو قسمیں ہیں۔ اجمالی اور تفصیلی ۔</p>



<h2>تعینات داخلی اجمالی</h2>



<p>تعتن اول . وحدت جہاں حق تعالی نے اپنے وجود کو پایا  ۔</p>



<h2>تعینات داخلی تفصیلی</h2>



<p>۔ واحدیت جہاں ذات نے ذات میں صفات ذات کو پایا</p>



<h2>تعینات خارجی</h2>



<p>بقیہ تعینات جو کہ ظہور میں اسماء وصفات و افعال کے مثلا ارواح و امثال و اجسام وغیرہ ۔</p>
<p>واضع ہو کہ تعین دو قسم پر ہے. تعیین جسدی اور تعین علمی جب سالک روحانی عروج کے دوران اپنی ذات اور جسم کی قید سے باہر آجاتا ہے اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتا اور اپنے تعین جسدی کو فراموش کر دیتا ہے تو اس وقت وہ دو حال سے خالی نہیں ہوتا۔ یا تو اس کو اپنے سابق وجود( تعین جسدی) کا علم و شعور ہوتا ہے یا اپنے سابق تعین سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے۔ اور اپنے تعیین جسدی و علمی سے گزر کر دائرہ لاتعین میں داخل ہو جاتا ہے جیسے روزه دار شخص دن بھر شدید پیاس محسوس کرتا رہتا ہے لیکن جب افطار کے وقت پانی پی لیتا ہے تو وہ بھی دو حال سے خالی نہیں ہوتا یا تو دن بھر کی پیاس بدستور یاد رکھتا ہے یا بالکل بھول جاتا ہے۔</p>
<p>پہلی حالت میں اگر چہ پیاس کا تعین جسدی معدوم ہے لیکن اس کا تعین علمی باقی ہے</p>
<p>دوسری حالت میں پیاس کا تعین علمی بھی باقی نہ رہا۔ پیاس کا یاد رہنا یہ تعین علمی ہے اور بھول جانا تعیین علمی کی فنا ہے</p>



<h2 class="wp-block-heading">تعین اول</h2>



<p>حق تعالیٰ نے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">غیب ہویت</span></strong> یعنی لاتعین سے جس چیز پر سب سے پہلے تجلی فرمائی اس کو<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> تعین اول یا تنزل اول</span></strong> کہتے ہیں اس کو<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> تجلی اول</span></strong>،<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> وحدت ،الحقیقت</span></strong> ،<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حجاب العظمت ، مرتبہ الجمع والوجود، مرتبہ جامع، احدیت جامعہ،  احدیت جمع، مقام جمع، حقیقت الحقائئق ،برزخ البرازخ برزخ کبریٰ ،عقل اول، قلم اعلیٰ اور روح اعظم </span></strong>وغیرہ کے الفاظ سے بھی یاد کیا جاتا ہے</p>



<h2 class="wp-block-heading">تعین ثانی</h2>



<p>تعین اول کے بعد جس چیز پرظہور اور تجلّی فرمائی اس کے لیے صوفی<strong>اء<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> تعین ثانی یا تنزل ثانی یعنی دوسراعالم</strong> </span></strong> <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>تجلی ثان</strong>ی</span>، <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حضرت الوہیت</span></strong>، <strong>حضرت جمع الوجود</strong>،<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت انسانی</span></strong>، <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حضرت اسماء الصفات منشاء الکمالات قبلہ تو جہات &#8211; عالم معانی، حضرت ارتسام &#8211; علم ازلی۔ علم تفصیلی &#8211; مرتبته العما- قاب قوسین مرتبة الباء،منتهی العابدين &#8211; منشاء، السوى &#8211; منشاء الكثرت &#8211; واحدیت &#8211; مرتبہ اللہ اور لوح محفوظ </span></strong> وغیرہ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔، یہ دونوں تعین داخلی کہلاتے ہیں۔ </p>
<p>  کہتے ہیں</p>
<h2><span style="font-size: 24px;"> تعین ثالث</span></h2>
<p>تنزل ثالث یعنی تعین ثالث  تیسرا مظہرعالم  ارواح کا ہے جو مادہ اور عوارض  اوراجسام سے پاک ہیں اور رنگ اور اشکال نہیں رکھتے ان کے عالم کو عالم افعالی ۔ عالم انوار &#8211; عالم مجردات ۔ عالم مفارق &#8211; عالم ملکوت &#8211; عالم علوی &#8211; عالم غیب &#8211; عالم امر &#8211; عالم غیر مرئی ۔ عالم غیر محسوس عالم ربانی &#8211; عالم الطف &#8211; عالم بے رنگ کہتے ہیں</p>
<p>یہ عالم دو قسم پر ہیں ایک وہ قسم ہیں کہ عالم اجسام سے تعلق تدبیر و تصرف کا نہیں رکھتے ان  کو کروبیاں(مقرب فرشتے) کہتے ہیں دوسرے ویسا تعلق رکھتے ہیں اون کو روحانی کہتے ہیں</p>
<h2><span style="font-size: 24px;"> تعین رابع</span></h2>
<p>تنزل رابع یا تعین رابع  یعنی چوتھا عالم مثال ہے وہ عالم لطیف بزرخ اور واسطہ ہے درمیان ارواح اور اجسام کے اس کو عالم برزخ عالم خیال عالم دل بولتے ہیں یہ عالم روحانی  اور جو ہر نورانی ہے</p>
<p>عالم مثال دو قسم  کے ہیں ایک وہ کہ  جن کیلئے  دماغی قوت شرط نہیں اس کو خیال منفصل &#8211; مثال منفصل ۔ مثال مطلق ۔ خیال مطلق کہتے ہیں</p>
<p>دوسرا وہ ہے کہ جس میں دماغی قوت  شرط ہیں اس کو خیال متصل &#8211; مثال متصل &#8211; مثال مفید اورخیال مقید بولتے ہیں</p>
<h2><span style="font-size: 24px;"> تعین خامس</span></h2>
<p> تنزل خامس یا تعین خامس یعنی پانچواں عالم اجسام ہے اس کو عالم شہادت کہتے ہیں</p>
<p>اجسام دو قسم پر میں علویات سفلیات علویات جیسا عرش و کرسی اور ساتوں آسمان اور ثوابت و سیارے</p>
<p>سفلیات جیسا غیر مرکب عناصر اور آثار علوی جیسا رعد و برق و ابر و باراں اور مرکبات جیسا معدنیات و جنگل حیوانات اوربدن انسانی اور اسی طرح  دوسرے عالم  جو تابع عالم اجسام کے میں جیسا حرکت وسکون اور عقل وخفت اور لطافت و کثافت اور رنگ و نوراور آوازو بو وغیرہ  بوجھہ کہ بیچے عما کے بعد عقل کل اور نفس کل ہیولا کلی جس کو صبا کہتے ہیں اور بیعت پیدا ہوئی ہوئی مادہ جسم کا ہے جو الہ تعالی کھول پہنچے ادس کے صورتیاں عالم کے جہاں کے اور عنقا بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ معلوم ہوتا ہے اور ظاہر نہیں</p>
<p>علویات سفلیات مرکبات یہ تینوں تعین خارجی کہلاتے ہیں</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%AA%D8%B9%DB%8C%D9%86%D8%A7%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%aa/" data-a2a-title="تعینات"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
