<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تعرفات جلالیہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA-%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sat, 25 Nov 2023 19:45:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>تعرفات جلالیہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>تعرفات جلالیہ (باب اول)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%ac%d9%84%d8%a7%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d9%84/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%ac%d9%84%d8%a7%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 25 Nov 2023 19:45:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[تعرفات جلالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جھوٹے دعویدار]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت سے بھاگنے والے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8443</guid>

					<description><![CDATA[تعرفات جلالیہ حکمت نمبر08 تعرفات جلالیہ کے عنوان سے  باب اول میں  حکمت نمبر08 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%ac%d9%84%d8%a7%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d9%84/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1><span style="color: #000000;">تعرفات جلالیہ حکمت نمبر08</span></h1>
<p><span style="color: #ff00ff;">تعرفات جلالیہ کے عنوان سے  باب اول میں  حکمت نمبر08 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمدعبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔</span></p>
<h2>جھوٹے دعویدار</h2>
<p>یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ تعرفات جلالیہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے۔ اور انسان کے پرکھنے کے لئے کسوٹی ہے۔ اور کسوٹی ہی کے ذریعے چاندی اور سونا پرکھ کر پیتل اور تانبہ سے الگ کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بہت سے جھوٹا دعوی کرنے والے ہیں جو اپنی زبان سے معرفت اور یقین کا دعوی کرتے ہیں۔ لیکن جب قضا و قدر کی آندھیاں ان کے اوپر پہنچ جاتی ہیں تو ان کو مایوسی اور انکار کے گڑ ھوں میں ڈال دیتی ہیں۔ جس نے بھی ایسی شےکا دعوی کیا جو اس میں نہیں ہے تو امتحان کے گواہوں نے اس کو ذلیل ورسوا کر دیا ۔<br />
ہمارے شیخ الشیوخ حضرت مولائے عربی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے۔ ان لوگوں کے حال پر بہت سخت تعجب ہے جو اللہ تعالیٰ کی معرفت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی صفات جلالی کی تجلی سے ان کو بلاؤں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے اپنی معرفت ان کو عطا کرنا چاہتا ہے تو وہ بھاگتے اور انکار کرتے ہیں۔ ہمارے شیخ حضرت بوزیدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔ تعرفات جلالیہ کی تین قسمیں ہیں۔<br />
پہلی قسم :- سزا دینی اور ہٹا دینا ہے۔ دوسری قسم : ادب سکھانا اور خبر دار کرنا ہے۔ تیسری قسم : زیادتی اور ترقی دینی ہے۔</p>
<h2>پہلی قسم</h2>
<p>سزا دینی اور ہٹا دینا: وہ یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کیسا تھ بے ادبی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سزا دینے کے لئے بلا میں مبتلا کرتا ہے۔ پس وہ اس میں مبتلا ہو کر جہالت و نادانی کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ناراض ہوتا ہے۔ مایوس ہوتا ہے اور منکر ہو جاتا ہے۔ لہذا وہ شخص اللہ تعالیٰ سے دور ہو جاتا اور اس کی بارگاہ قدس سے ہٹادیا جاتا ہے۔</p>
<h2>دوسری قسم</h2>
<p>ادب سکھانا اور خبردار کرنا:۔ وہ یہ ہے کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ بے ادبی کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو ادب سکھانے اور تنبیہ کرنے کے لئے بلا میں مبتلا کرتا ہے۔ پس وہ اس بلا میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہے۔ اور اپنی بے ادبی سے خبردار، اور اپنی غفلت سے ہوشیار ہو جاتا ہے۔ لہذا بلا اور مصیبت کے مظہر میں یہ تصرف جلالی اس کے حق میں نعمت ہے۔</p>
<h2>تیسری قسم</h2>
<p>زیادتی اور ترقی دینا: وہ یہ ہے کہ اس کے اوپر تعرفات جلالی یعنی بلا ئیں بغیر کسی سبب کے نازل ہوتی ہیں ۔ پس وہ ان بلاؤں میں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ اور اس کے آداب کا پورا لحاظ رکھتا ہے۔ اور اس کے ذریعے رسوخ و تمکین (معرفت الہٰی میں مضبوطی کے ساتھ قائم ہونے )کے مقام پر ترقی کرتا ہے۔<br />
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں اسی وجہ سے بزرگوں نے فرمایا ہے:<br />
بِقَدْرِ الْأَمْتِحَانِ يَكُونُ الْإِمْتِكَانُ امتحان کے مطابق درجات کی بلندی ہوتی ہے<br />
نیز فرمایا ہے: اخْتِبارُ الْبَاقِي يَقْطَعُ التباقِی اللہ باقی کا امتحان بندے کے باقی رہنےکو ختم کر دیتا ہے ۔<br />
فائدہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے او پر جلال آسان ہو جائے تو تم اس کی ضد کے ساتھ اس کا مقابلہ (سامنا) کرو ۔ اور اس کی ضد جمال ہے۔ تو جلال فورا ًجمال سے بدل جائے گا۔ یعنی جمال کی صورت اختیار کر لے گا ۔ اور اس کی صورت یہ ہے:۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے اسم پاک قابض کے ساتھ تمہارے ظاہر میں تجلی کرے۔ تو تم اپنے باطن میں بسط پیدا کر کے اس کا مقابلہ کرو ۔ اور جب وہ اپنے اسم پاک عزیز تمہارے ظاہر میں تجلی کرے تو تم اپنے باطن میں ذلت پیدا کر کے اس کا مقابلہ کرو۔ اور جب وہ اپنے اسم پاک قوی کے ساتھ تمہارے ظاہر میں تجلی کرے تو تم اپنے باطن میں کمزوری کی کیفیت پیدا کر کے اس کا سامنا کرو۔ اسی طرح ہر صفت کی تجلی کا مقابلہ اس کی ضد سے قدرت اور حکمت کے ساتھ قائم رہتے ہوئے کرو۔ ہمارے شیخ الشیوخ حضرت مولائے عربی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے۔ حقیقت صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر تم نے شہد سمجھ کر پیا ہے تو تم اس کو شہد پاؤ گے۔ اور اگر دودھ سمجھ کر پیا ہے تو تم اس کو دودھ پاؤ گے۔ اور اگر اندرائن (بہت تلخ اور بدمزہ پھل) سمجھ کر پیا ہے تو تم اس کو اندرائن پاؤگے۔ تو اے بر ادر ! تم اس کو اچھا سمجھ کر پئو ۔ تا کہ وہ تمہارے حق میں اچھا ہو۔ اور برا سمجھ کر نہ پئو۔ (یعنی اگر تم نے تعرفات جلالیہ یعنی بلاؤں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت تصور کر کے تسلیم و رضا کے ساتھ قبول کیا ہے تو وہ تمہارے حق میں نعمت ثابت ہوں گے۔ اور اگر تم نے انہیں سزا سمجھ کر برا تصور کیا ہے تو وہ تمہارے حق میں عذاب ثابت ہوں گے) لہذا اس کو اچھاسمجھو برا نہ سمجھو ۔ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے قول:<br />
كَما تقابله يُقابِلكَ جس طرح تم اللہ تعالیٰ سے پیش آؤ گے اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے پیش آئے گا کا مفہوم یہی ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%2F&#038;title=%D8%AA%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D8%AC%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C%DB%81%20%28%D8%A8%D8%A7%D8%A8%C2%A0%D8%A7%D9%88%D9%84%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%ac%d9%84%d8%a7%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d9%84/" data-a2a-title="تعرفات جلالیہ (باب اول)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d8%b9%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d8%ac%d9%84%d8%a7%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سختیاں بھی رحمت ہیں (چوبیسواں باب)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 01 Nov 2023 21:15:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[ائنات کا ظاہر دھوکا]]></category>
		<category><![CDATA[تعرفات جلالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سختیاں بھی رحمت ہیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7295</guid>

					<description><![CDATA[سختیاں بھی رحمت ہیں کے عنوان سےچوبیسویں باب میں  حکمت نمبر 230 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #ff00ff;">سختیاں بھی رحمت ہیں کے عنوان سےچوبیسویں باب میں  حکمت نمبر 230 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔</span><br />
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">230) عَلِمَ أَنَّكَ لا تَقْبَلُ النُّصْحَ (المجرّد) لِمُجَرَّدِ القَوْلِ ، فَذَوَّقَكَ مِنْ ذَوَاقِهَا مَا سَهَّلَ عَلَيْكَ فِرَاقَهَا.</span><br />
اللہ تعالیٰ نے معلوم کیا کہ صرف کہنے سے تم نصیحت کو نہ قبول کرو گے۔ تو اس نے تم کو دنیا کی سختیوں کا مزہ چکھایاتا کہ اس کا چھوڑ نا تمہارے لئے آسان ہو۔<br />
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے یہ معلوم کیا کہ اس کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں، جو صرف کہنے سے نصیحت نہ قبول کریں گے۔نہ وہ وعظ ونصیحت سن کرد نیا میں زہد اختیار کریں گے ۔ اس لئے کہ ا کثر علم اور سمجھ والے قرآن کریم سنتے ہیں۔ جو ان کو دنیا کی برائی پرتنبیہ کرتا اور اس کےفریب سے ڈراتا ہے۔ لیکن وہ اس نصیحت سے غافل رہتے ہیں۔ اور انہی چیزوں میں مشغول رہتے ہیں، جن کی وجہ سے ان کے قلوب کے لئے نصیحت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا جب اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنی بارگاہ اقدس کے لئے اپنے بندوں میں سے جس کو مناسب سمجھے منتخب کرے ۔ تو اس نے ان کے لئے دنیا کو خراب اور تلخ بنا دیا۔ اور ان کے اوپر سخت بلا ئیں اور تکلیفیں نازل کیں اور ان کے ظاہری اعضائے جسمانی کو آزمائشوں کی جگہ بنائی اور یہ سب اللہ سبحانہ تعالیٰ کی عنایت اور احسان ہے۔ تا کہ وہ دنیا کے باطن کی تلخی کو چکھیں اور وہ اس کی ظاہری خوبصورتی اور لذت سے فریب نہ کھا ئیں ۔<br />
حضرت نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے دریافت کیا گیا:-<br />
‌مَنْ ‌أَوْلِيَاءِ ‌اللَّهِ ‌الَّذِينَ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ فَقَالَ: الَّذِينَ نَظَرُوا إِلَى بَاطِنِ الدُّنْيَا حِينَ نَظَرَ النَّاسُ إِلَى ظَاهِرِهَا، وَاهْتَمُّوا بِآجِلِ الدُّنْيَا حِينَ اهْتَمَّ النَّاسُ بِعَاجِلِهَا. وہ اولیاء اللہ کون لوگ ہیں، جن کے لئے نہ کوئی خوف ہے، اور نہ غم میں مبتلا ہوں گے ۔ (نہ دنیا میں نہ آخرت میں ) حضرت ﷺ نے فرمایا :- اولیاء اللہ وہ لوگ ہیں ، جنھوں نے دنیا کے باطن کو دیکھا۔ جبکہ لوگوں نے اس کے ظاہر کو دیکھا۔ اور انہوں نے دنیاوی اعمال کے مقررہ وقت پر ملنے والے اجر اور نفع کا اہتمام کیا۔ جبکہ لوگوں نے اس کے فورا ملنے والے اجر ونفع کا اہتمام کیا ۔<br />
اور اس سے پہلے حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے اس موضوع میں :۔ کائنات کا ظاہر دھوکا وفریب ہے اور اس کا باطن عبرت اور نصیحت ہے یہ بحث گزر چکی ہے۔ لہذا ان تعرفات جلالیہ میں سے جو اس کے نفس کو متغیر اور مغلوب کرتے ہیں، جو کچھ ولی کے اوپر نازل ہوتا ہے۔ وہ ولی کے حق میں بہت ہی بہتر ہوتا ہے۔ عارفین نے فرمایا ہے : ۔ امتحان ، طاقت کے مطابق ہوتا ہے اور ہر تکلیف مرتبہ کوبڑھاتا ہے اور باقی رہنے والے اللہ تعالیٰ کا امتحان ، بندے کے باقی رہنے کو ختم کر دیتا ہے ۔ لہذا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ولی کے قلب میں اس دنیا کے کسی شے کی محبت کا کچھ حصہ ، یا اس دنیا کی کسی شے پر بھروسہ باقی رہ جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے او پرایسی شے کو مسلط کر دیتا ہے۔ جو اس کو اس محبت اور بھروسہ کی بنا پر پریشان کر دیتا ہے۔ اور اس شے کو اس کے لئے تلخ بنادیتا ہے۔ یہ سب اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی عنایت اور احسان ہے۔ تا کہ وہ اس عالم سے عالم ملکوت کی طرف سیر کرے۔ پھر جب اس کی سیر ثابت و قائم ہو جاتی ہے، تو اس کے نزدیک شیرین وو تلخ عزت وذلت غناو فقر برابر ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اس حقیقت تک پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ بھی آتا ہے، سب اس کے ماسوی ہیں۔ اور سب برابر ہیں۔ اور یہی حقیقی علم ہے۔ اور اسی کو علم نافع کہتے ہیں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25ae%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25aa-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25da%2586%25d9%2588%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&#038;title=%D8%B3%D8%AE%D8%AA%DB%8C%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%20%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%20%28%DA%86%D9%88%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/" data-a2a-title="سختیاں بھی رحمت ہیں (چوبیسواں باب)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%aa-%db%81%db%8c%da%ba-%da%86%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
