<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حلال دل کی صفائی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84-%D8%AF%D9%84-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%A6%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Fri, 15 Apr 2022 03:29:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>حلال دل کی صفائی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پچیسویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 14 Mar 2022 03:02:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[حلال دل کی صفائی]]></category>
		<category><![CDATA[رزق حلال، علم، عمل اور اخلاص فرض ہے]]></category>
		<category><![CDATA[زاہدوں جیسا لباس زہدنہیں]]></category>
		<category><![CDATA[مصائب چھپانا ایک خزانہ ہے]]></category>
		<category><![CDATA[نفس اور خواہشات کا ساتھی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6149</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پچیسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الخامس والعشرون فی الزہد فی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پچیسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الخامس والعشرون فی الزہد فی الدنیا<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color">   منعقدہ 19ذی الحج 545بمقام مدرسہ قادریہ</mark></p>



<p><strong>زاہدوں جیسا لباس پہننے سے زہد حاصل نہیں ہوتا:</strong><strong></strong></p>



<p>حضرت عیسی علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب کوئی خوشبو آپ کے ناک میں پہنچتی تھی تو آپ اپنی ناک بند کر لیتے اور فرماتے: یہ بھی دنیا ہی سے ہے ۔ اپنے اقوال وافعال میں زہد کا دعوی کرنے والو! یہ تم پر تہمت ہے، زاہدوں جیسا لباس تو پہن لیا جبکہ تمہارے باطن دنیا کی رغبت اور حسرت سے پر ہیں۔ اگر تم یہ کپڑے اتارڈ الواور تمہارے دلوں میں جو رغبت ہے،اسے ظاہر کرو تو تمہارے لئے اچھا ہو، اور ایسا کرنا تمہیں نفاق سے دور لے جا تا ۔ جو شخص اپنے زہد میں سچا ہے، اس کا نصیب اسے ملتا ہے، اسے حاصل کر کے اپنے ظاہر کو اس سے آراستہ کرتا ہے، اس حال میں اس کا دل دنیاوی زہد اور اس کے سوا دوسری چیزوں سے بے رغبتی سے بھرا ہوا ہوتا ہے، اس لئے ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی&nbsp; ﷺ حضرت عیسی علیہ السلام اور تمام دوسرے انبیاء کرام سے زیادہ زاہد تھےسوائے اس کےکہ آپ&nbsp; ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>إِنَّمَا ‌حُبِّبَ ‌إِلَيَّ مِنْ ‌دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ، وَالطِّيبُ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ</strong> تین چیز یں تمہاری دنیا سے میری محبوب بنائی گئیں: خوشبو عورتیں،&nbsp; میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں کی گئی۔“ یہ &nbsp;چیز یں باوجود آپ&nbsp; ﷺ کی بے رغبتی کے ( ان چیزوں میں اور دوسری چیزوں میں آپ کی محبوب بنائی گئیں۔ کیونکہ یہ آپ کے نصیب میں پہلے ہی علم الہی میں مقرر ہو چکا تھا، آپ&nbsp; ﷺ ان کو اتباع امر کے لئے حاصل کرتے تھے۔ اور امر کا بجالا نا اطاعت و عبادت ہے، جو شخص اس صفت پر اپنا نصیب حاصل کرے، عبادت ہی میں ہے، اگر چہ ساری دنیا سے نفع حاصل کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔</p>



<p>&nbsp;اے جہالت کے قدموں پر زاہد بننے والو! سنو اور تصدیق کرو، جھٹلاؤ نہیں ،اس زہد کو یکھوتا کہ اپنی جہالت کی بنا پر تقدیر کا رد نہ کرنے لگو ۔جوشخص علم سے جاہل ہے اور اپنی رائے کے ساتھ بے پرواہ ہو رہا ہے، اور اپنے نفس اور حرص اور شیطان کے کلام کوقبول کرتا ہے، وہ ابلیس کا بندہ اور اس کا تابعدار ہے۔اس لئے ابلیس کو اپنا پیر بنا رکھا ہے، اے جاہلو! اے منافقوا &#8211;</p>



<p>کس چیز نے تمہارے دل سیاہ کر دیئے ہیں ، اور کس چیز نے تمہاری ہوا گندی کر دی اور تمہاری زبان درازی اور لہجے کی سختی کتنی بڑھ گئی ہے، جن فضول باتوں میں تم مبتلا ہو، ان سب سے تو بہ کرو، اللہ اور اس کے خاص بندوں میں طعن نہ کرو، جو اللہ کو دوست رکھتے ہیں اور اللہ ان کو دوست رکھتا ہے، اور ان پر دنیا میں جو نصیب لکھ دیا گیا ہے، اسے حاصل کرنے پر ۔ ان پر اعتراض نہ کرو، کیونکہ وہ امر سے حاصل کرتے ہیں اپنے خواہش سے نہیں ، اولیاء اللہ کے پاس محبت الہی اور اس کا شوق ہے، ماسوی اللہ سے بے رغبتی ہے، اور ظاہر باطن سب سے منہ پھیر کر بے قرار ہیں ۔ لیکن نصیب لکھنے والے نے ازل سے ان کا نصیب لکھ دیا ہے جن کا کھانا ان کے لئے ضروری ہو گیا ہے۔ ان کے لئے دنیا میں قیام ، دنیا کی رہائش اور دنیاوی چیزوں کا استعمال اورجھٹلانے والوں کو دیکھنا بہت ہی سخت مصیبت ہے۔ <strong>ظاہری نیت کو چھوڑ کر باطن میں مشغول ہو:</strong></p>



<p>اے بیٹا! جب تک تو اپنے نفس اور خواہشوں کے گھیرے میں ہے ،خلقت سے کلام کرنا چھوڑ دے، بولنے سے مرجا&nbsp;کیونکہ اللہ تعالی تم سے جب کسی امر کا ارادہ کرے گا تو تمہیں اس کے لئے تیار کر دے گا، جب چاہے گا تجھے زندگی بخش دے گا اور تجھے ثابت قدم کر دے گا اور تجھے کلام کرنے کے لائق بنا دے گا ، اس صورت میں وہی ظاہر کرنے والا ہے تو نہیں ، تو اپنی جان اور کلام اور سب احوال اس کی قدر کے سپرد کر دے اور اس کے عمل میں مشغول ہو، تو عمل بغیر کلام، اخلاص بغیر ریاء -توحید بغیر شرک گمنامی بغیر ذکر خلوت اخیر جلوت، باطن بغیر ظاہر ہو جا۔ ظاہری نیت کو چھوڑ کر باطن میں مشغول ہو تو اللہ تعالی کو مخاطب کرتا ہے، اور<strong>إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ </strong>(ہم تیری، &nbsp; ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں ۔ میں تو اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، یہ حاضر کے لئے خطاب ہے ۔ گویا تو کہتا ہے:</p>



<p>اے میرے نزدیک! اے مجھے جاننے والے!،اے مجھ سے قریب! اے میرے اوپر گواہ!، اپنی نمازوں اور دیگر حالات میں اسے اس نیت اور اس صفت سے مخاطب کرو۔ اس لئے رسول اکرم&nbsp; ﷺ نےارشاد فرمایا: أَنْ ‌تَعْبُدَ ‌اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ’’اللہ کی عبادت کرو گویا کرتم اسے دیکھتے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھتے ، وہ توتجھے دیکھتا ہے۔</p>



<p><strong>&nbsp;رب کی پہچان کے لئے رزق حلال ضروری ہے:</strong></p>



<p>بیٹا ! رزق حلال سے اپنے دل کی صفائی کرو،تو بے شک اپنے رب کو پہچان لو گے۔ اپنے لقمے ،اپنے کپڑے اور اپنے دل کو صاف کر دتو صفائی والے ہو جاؤ گے، تصوف لفظ صفا سے نکلا ہے، نہ کہ صوف کے پہننے والے سے ، سچا صوفی جو اپنے دعوی تصوف میں صادق ہوتا ہے، وہ اپنے دل کو ماسوا اللہ سے صاف کر لیتا ہے، یہ بات لباس بدلنے سے ، اور چہرے زرد کرنے سے اور میل کچیل جمع کرنے اور نیک لوگوں کی حکایتیں بیان کرنے سے ، اورتسبیح و تہلیل میں انگلیاں ہلانے سے حاصل نہیں ہوتی ہے ۔ اس کا حصول طلب صادق اور دنیا سے بے رغبتی اور خلقت کو دل سے نکال دینے اور اسے ماسوی اللہ سے خالی کر کے ہوتا ہے ۔</p>



<p>ایک اہل اللہ سے روایت ہے، انہوں نے ارشادفرمایا: بعض راتوں میں میں نے سوال کیا: ”اے اللہ ! جو چیز میرے لئے نفع بخش ہے، اور مجھے نقصان نہ دے، اس سے محروم نہ کر ‘‘۔ اس کو بار بار دہرا تارہا، پھر میں سو گیا اور خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا مجھے کہتا ہے: جوبھی عمل تیرے لئے نفع بخش ہے اسے کئے جا، اور جو نقصان دہ ہے، اسے نہ کر ‘‘ اپنی نسبتوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صحیح  کرو، جس کی تابعداری صحیح  ہوئی اس کی نسبت صحیح  ہوئی اورتمہارا یہ کہنا کہ میں آپ کی امت سے ہوں ، تابعداری کے بغیر کچھ نفع نہ دے گا۔ جب تم رسول الله ﷺکے اقوال وافعال میں تابعداری کرو گے تو دار آخرت میں آپ  ﷺ کی صحبت میں رہوگے۔ کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد  نہیں سنا</p>



<p>وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ ‌فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا &nbsp;اور رسول اللہ جو چیز تمہیں عنایت فرمائیں، لے لو، اور جس چیز سے منع کر میں رک جاؤ۔“جس چیز کے کرنے کا حکم ہے اسے بجالاؤ، اور جس چیز سے منع کیا ہے منع ہو جاؤ ، اس صورت میں اپنے دلوں کے ساتھ دنیا میں قریب ہو جاؤ گے، اور آخرت میں اپنے نفسوں اور جسموں کے ساتھ قریب ہوگے۔ اے زاہدو! اپنے نفسوں اور خواہشوں سے زہد کر کے اپنی رائے پر ضد کئے بیٹھے ہو، اسے مستقل سمجھتے ہو، تابعداری کرو اور ان مشائخ و عارفان الہی کی صحبت اختیار کرو جو عالمان باعمل ہیں، اور نصیحت کے لئے خلقت کی طرف توجہ رکھتے ہیں، وہ اپنے دلوں سے دنیا کی طمع کو زائل کر چکے ہیں ، اور اپنے دلوں کو تم سے پھیر کر اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ۔ و ہ خود بھی اللہ ہی پر توجہ کرنے والے ہیں، اور غیر سے نفرت رکھتے ہیں۔</p>



<p><strong>&nbsp;خوف اور امید کی کشمکش اور سلامتی :</strong><strong></strong></p>



<p>بیٹا! اپنی ہستی کے مٹ جانے سے پیشتر اپنے دل کے ساتھ رب کی طرف رجوع کر، تو تو صالحین کے حالات میں اور ان کے تذکره اور ان کی تمنا پر قناعت کر بیٹھا ہے، اور تیری مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص پانی کومٹھی میں لے کر اپنا ہاتھ کھولے تو کچھ بھی نہ پائے ، ایسانہ بن۔ تجھ پرافسوس ہے کہ تو سمجھتا نہیں ) آرزوتو حماقت کا جنگل ہے، رسول اللہ&nbsp; ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>إياك والتمنى فإنه وادى الحمق </strong>&nbsp;’’اپنے آپ کو آ رزو سے بچاؤ کیونکہ وہ حماقت کا جنگل ہے ۔‘‘ شریروں کے کام کرتے ہو اور بھلائی والوں کے درجات کی آرزو رکھتے ہو، جس کی امید خوف پر غالب آئی وہ بے ین بنا اور جس کا خوف امید پر غالب آ یا ، وہ مایوس ہوا، سلامتی ،خوف اور امید کے درمیان ہے ۔ رسول کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:</p>



<p><strong>لو وزن حرف المؤمن ورجاله لاعتدلا</strong> ”اگر ایمان والے کا خوف اور امید تو لے جائیں تو دونوں برابر اتر یں گئے ۔“ ایک ولی اللہ نے ارشادفرمایا کہ میں نے حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو وصال کے بعد خواب میں دیکھا۔ میں نےعر ض کیا کہ اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا برتا ؤ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے ایک قدم پل صراط پر رکھا، دوسرا جنت میں۔ اللہ کا آپ پر سلام ہو، آپ فقیہ اور زاہداور پرہیز گار تھے، آپ نے علم پڑھا اور اس پر عمل کیا، علم کا حق عمل سے پورا کیا ، اور عمل کا حق اخلاص سے ادا کیا ۔ اور اللہ نے ان کا حق اپنی رضا کی صورت میں ادا کیا، جوان کا مقصود تھا ،ر سول اکرم&nbsp; ﷺ کی تابع داری کے باعث آپ کی خوشنودی نصیب ہوئی۔ اسی لئے حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ&nbsp; ﷺ کی متابعت کی ، ان پر اور تمام صالحین پر اور ہم سب پر بھی اللہ کی رحمت نازل ہو ۔ جوشخص رسول اللہ&nbsp; ﷺ کی اتباع نہ کرے اور شریعت کو ایک ہاتھ میں اور قرآن مجید کو دوسرے ہاتھ میں نہ پکڑے، اور ان کے طریقے سے اللہ کی طرف نہ پہنچے تو خود بھی گمراہ اور ہلاک ہو گا ، اور دوسروں کو بھی گمراہ اور ہلاک کرے (خود بہکا ہے اور دوسرے کو بہکاتا ہے )۔ قرآن وحدیث دونوں حق تعالی کی طرف راستے ہیں ۔ قرآن مجید اللہ کا پتہ دیتا ہے اور سنت رسول اللہﷺکی طرف راستہ دکھاتی ہے۔</p>



<p>دعا یہی ہے اللهم باعد بيننا وبين نفوسنا ‌رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الہی ہم میں اور ہمارے نفسوں میں دوری ڈال دے اور ہم کو دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ۔ آمین!</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 182،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/108" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/108" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ  108</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25da%2586%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D9%BE%DA%86%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="پچیسویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%be%da%86%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چھبیسویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 14 Mar 2022 03:01:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[اچھی نیت سے کلام کرنا]]></category>
		<category><![CDATA[بیمار کی دوا توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[حلال دل کی صفائی]]></category>
		<category><![CDATA[رزق حلال، علم، عمل اور اخلاص فرض ہے]]></category>
		<category><![CDATA[زاہدوں جیسا لباس زہدنہیں]]></category>
		<category><![CDATA[مصائب چھپانا ایک خزانہ ہے]]></category>
		<category><![CDATA[نفس اور خواہشات کا ساتھی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6148</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے چھبیسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس السادس والعشرون فی عدم الشکوی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے چھبیسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس السادس والعشرون فی عدم الشکوی الی الخلق<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color">  منعقدہ 20ذی الحجہ545ھ بمقام خانقاہ شریف</mark></p>



<p><strong>م</strong><strong>ص</strong><strong>یبتوں کو چھپانا عرش کا ایک خزانہ ہے:</strong></p>



<p>&nbsp;رسول اکرم&nbsp; ﷺ نے ارشادفرمایا ز <strong>من كنوز العرش كتمان المصائب يا من يشكوا</strong> مصیبتوں کو چھپانا عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ اے خلقت کی طرف اپنی مصیبتوں کا شکوہ کرنے والے! خلقت کے پاس شکوہ &nbsp;کا کرنا تجھے کیا نفع دے گا ۔ جو نہ تجھے نفع دے سکتی ہے اور نہ نقصان ، &nbsp;اگرتوان پر بھروسہ کرے گا تو حق تعالی سے شرک کرے گا، وہ تجھے اللہ کے دروازے سے دور کریں گے اور غضب الہی میں ڈال دیں گے اورتجھے اس سے حجاب میں ڈال دیں گے &nbsp;اے جاہل! تو علم کا دعوی کرتا ہے، اور دنیا کو ماسوی اللہ سے طلب کرتا ہے، یہ تیری جہالتوں کی ایک مثال ہے، تو</p>



<p>خلقت سے شکایت کر کے مصیبتوں سے خلاصی چاہتا ہے۔ تجھ پر افسوس ہے! حریص کتا شکار کی حفاظت کرنا سیکھتا ہے اور اپنی سابقہ عادت اور حرص کو چھوڑ دیتا ہے۔ اسی طرح شکاری پرنده باز باشکراتعلیم کے باعث اپنی عادت کے خلاف کرتا ہے، &nbsp;پہلے جن شکاروں کو خود کھا تا تھا ان سے رک جاتا ہے تمہارے نفس کو اس طرح سے سکھانا چاہتا ہے، اسے سکھاؤ اور سمجھاؤ تاکہ تمہارے دین اور جسم کو نہ کھائے ، اللہ تعالی کی جوامانتیں اس کے پاس رکھی ہوئی ہیں ان میں خیانت نہ کرے، ایمان والے کے پاس دین اس کا گوشت اور خون ہے، تعلیم سے پہلے نفس کی مصاحبت نہ کرو ۔ جب سیکھ لے اور سمجھ جائے اور اطمینان کا اظہار کرے تو اس وقت اس کا ساتھ دے، اور جدھر کومتوجہ کرے، ہر حال میں اس کا ساتھ دے، اس سے الگ نہ ہو ۔ جب مطمئن ہوگا تو برد بار &nbsp;علم والا ہو گا، جو کچھ مقدر سے ملے گا اپنے نصیب پر راضی رہے گا ، تب میدے کی روٹی اور جو کی روٹی میں فرق نہ کرے گا ، نفسانی خواہشیں اس سے دور ہو جائیں گی ، کھانے سے، نہ کھانا اس کے نزدیک محبوب ہوگا۔ نیکی کے کام اور اطاعت اور خیرات میں تمہاری موافقت کرے گا۔ اس کی عادت بدل جائے گی بھی ، کریم ، تارک الدنیا اور آخرت کی رغبت کرنے والا ہو جائے گا، جب آخرت کو بھی ترک کر کے مولی کی طلب کرو گے تو وہ بھی طلب کرےگا، اس کے دروازے کی طرف تمہارے دل کے ساتھ چلے گا ۔ اس موقع پر تیرے پاس سابقہ امرالہی آئے گا اور کہے گا: نفس جو نہیں کھاتا تھا اب کھالے، اور جونہیں پیتا تھا اب پی لے۔“ عقل والا مریض طبیب کے ہاتھ کے سوا نہیں کھا تا اور نہ اس کے امر سے باہر ہوتا ہے، ہمیشہ اس کا حکم مانا اور ادب کرتا ہے، اس کی بات قبول کرتا ہے ، اس کی موجودگی اور رغبت میں اپنی حرص کو چھوڑ دیتا ہے۔ اے حریص! &#8211; اے جلد باز ! &#8211; جو کچھ تیرے لئے پیدا کیا گیا ہے ، تیرے سوا کون کھا سکتا ہے۔ تیرا لباس اور تیرا مکان اور تیری &nbsp;&nbsp;عورت منکوحہ جو تیرے نصیب کے ہیں، کیا کوئی پہن سکتا ہے، یارہ سکتا ہے، یا اپنے نکاح میں لاسکتا ہے، یہ کیسی جہالت ہے کہ نہ تجھے قرار ہے، نہ سمجھ ہے نہ ایمان ہے اور نہ اللہ کے وعدے پر تصدیق ہے، نادان! جب کسی کریم شخص &nbsp;سے معاملہ کرے&nbsp; تو ادب سےرہ، اجرت اور غنا طلب نہ کر بے ادبی کے بغیر اور بے مانگے دونوں چیزیں مل جائیں گی، جب اسے معلوم گا کہ تو نے حرص اور طلب اوربے ادبی ترک&nbsp; کر دیئے ہیں، تو دوسرے لوگ تجھ سے معاملہ &nbsp;رکھنے والے ہیں ان کو الگ کر دے گا اورتجھے ان سے بلند جگہ پر بٹھائے گا اورتجھے خوش کر دے گا ۔ اللہ تعالی اعتراض اور جھگڑا کرنے والے کی مصاحبت نہیں کرتا، &nbsp;جوشخص حسن ادب کو ملحوظ رکھ کر ظاہری اور باطنی سکون اختیار کرے اور ہمیشہ موافقت کرے، اس کا ساتھ دیتا ہے ۔ جوشخص تقدیر الہی کی موافقت کرے اسے ہمیشہ اللہ تعالی کے ساتھ مصاحبت رہتی ہے، عارف باللہ اللہ کو چاہنے والا اور اس کے ساتھ قائم رہنے والا ہے اس کے غیر کے ساتھ نہیں ۔ اس کی موافقت کرنے والا ہے، غیر کا نہیں، اس کے ساتھ زندہ ہے، اس کے غیر سے مردہ!</p>



<p><strong>ہر عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔</strong></p>



<p>اے بیٹا جب تو کلام کرے تو نیک نیتی سے کرو، اور خاموش رہو تو نیک نیتی سے خاموش رہو، جو شخص عمل سے پہلے نیت نیک نہ کرے اس کا عمل نہیں ہے، &nbsp;نیک نیت کے بغیر اگر کلام کر و یا خاموش رہوتو گناہ میں مبتلا رہے گا۔ کیونکہ نیت ٹھیک نہیں ہوتی&nbsp; تیری خاموشی اور کلام سنت نبوی کے خلاف ہیں، حالات میں تبدیلی اور رزق کی تنگی پر ایک لقمہ کی وجہ سے تم اللہ تعالی سے بددل ہو جاتے ہو، ایک نعمت کے زوال سے تمام نعمتوں کی ناشکری کرنے لگتے ہو، &nbsp;گو یا تم بڑے زوروالے ہو کہ اللہ پر حکم چلاتے ہو کہ یہ کر ، اوریہ نہ کر ۔ اور ایسا کیوں کیا ، اور ایسا کرنا چاہئے تھا: کہتے ہو۔ ایسا کلام اللہ سے دوری اس کو غصہ کرنے اور رانده درگاہ ہونے کا باعث ہے۔اے فرزند آدم! تو ہے کون ، تیری حقیقت کیا ہے، تو ایک ذلیل وحقیر پانی سے پیدا کیا گیا ہے، اپنے رب کے سامنے ذلیل رہ اور اس کی تواضع کر، اگر توپرہیزگارنہیں تو اللہ کے ہاں تیری کوئی عزت نہیں ، اور اس کے نیک بندوں کے نزدیک تیری کوئی وقعت نہیں، دنیا حکمت سے بھری پڑی ہے جبکہ آخرت سب کی سب قدرت سے قائم ہے۔</p>



<p><strong>&nbsp;رزق حلال علم ضروری اورئیل میں اخلاص فرض ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو!تم پر نگہبان مقرر ہیں، اور تم اللہ تعالی کی وکالت میں رہتے ہو تمہیں کچھ خبر نہیں ، عقل مند بنو اور اپنے دل کی آنکھیں کھولو، جب تمہارے گھر میں بہت سے لوگوں کی جماعت آئے تو پہلے خود کلام نہ کر، بلکہ اس کا کلام جواب ہو ، اور غیرضروری سوال نہ کرو۔توحیدفرض ہے، طلب حلال فرض ہے، ضروری علم کی طلب فرض ہے، علم میں اخلاص فرض ہے، عمل پر معاوضہ کا چھوڑ نافرض ہے،کوئی بھی عمل بدلے کی نیت سے نہ کر ، فاستوں اور منافقوں سے دور بھاگ نیکوکاروں اور صدیقوں سے میل جول رکھو، اگر یہ مشکل در پیش آئے کہ صالح اور منافق میں فرق نہ کر سکو تو رات کو اٹھو اور دورکعت نفل ادا کرو ۔ پھر بارگاہ الہی میں دعا مانگو <strong>يا رب دلنى عـلـى الـصـالحين من خلقك دلني على من يدلني عليك ويطعمني من طعامك يسقيني من شرابك و يكحل عين قلبي بنور قربك و يخبرني بما رأى عيانا تقليدا</strong> (یہ &nbsp;رفع مشکل کاعمل ہے)</p>



<p>”اے اللہ! اپنی مخلوق میں سے صالحین کی طرف میری رہنمائی فرما، ایسا شخص ظاہر کر جو تجھ پر میرے لئے رہبری کرے، &nbsp;تیرے کھانے سے کھانا کھلائے ، اور تیرے پانی سے پانی پلائے ، ، اور میرے دل کی آنکھوں میں تیرے قرب کے نور کا سرمہ لگائے ، اور جس چیز کا خودمشاہدہ کرتا ہے اس کی مجھے خبر دے۔ اور سنی سنائی بات نہ بتائے ۔</p>



<p><strong>اولیاء اللہ تمام موجودات پر خبر دار ہوتے ہیں:</strong><strong></strong></p>



<p>اہل اللہ اللہ تعالی کے فضل سے کھاتے ہیں ، اور انس الہی کا شربت پیتے ہیں اور اس کے قرب کے دروازے کا مشاہدہ کرتے ہیں، صرف خبر پر قناعت نہیں کرتے بلکہ کوشش کرتے ہیں (مسلسل مجاہدہ اور ریاضت کرتے ہیں ، اور صبر کے ساتھ اپنے آپ اور مخلوق سے سفر کرتے ہیں، یہاں تک کہ سنی ہوئی خبران کے نزدیک آنکھوں دیکھی ( مشاہدہ) بن گئی اورجب و ہ رب تعالی کے پاس پہنچتے ہیں تو اس نے انہیں ادب اور تہذیب سکھائی اور حکمتیں اور اپنے علوم سکھائے ،اور اپنے امور مملکت پر انہیں مطلع فرمایا، اور انہیں بتایا کہ زمین و آسمان میں اس کے سوا کوئی معبودنہیں ہے، اور اس کے سوا نہ کوئی عطا کر نے والا ہے ۔ نہ ہی روکنے والا ہے،</p>



<p>دعا یہی ہے اللهم ارنا كما اريتهم مع العفو والعافية ‌رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الہی! ہمیں بھی عفو و عافیت کے ساتھ ویسا ہی دکھادے کھلایا ہے، اور ہمیں دنیا کی بھلائی عطا نہ اس کے سوا کوئی حرکت دینے والا ہے، نہ ہی سکون دینے والا ہے، نہ کوئی اندازہ کرنے والا ہے &#8211; نہ ہی کوئی حکم لگانے والا ہے،نہ کوئی عزت دینے والا ہے ،نہ ہی کوئی ذلت دینے والا ہے۔ نہ کوئی غلبے والا ہے ۔ نہ کوئی اپنے بس میں رکھنے والا ہے،نہ اس کے سوا کوئی زبردست قدرت والا ہے ، نہ کوئی قہر والا ہے۔ جو کچھ اللہ کے پاس ہے سب دکھا تا ہے ، چنانچہ وہ ان کو اپنے دل اور باطن کی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا اور دنیا کی سلطنت کی ان کی نزدیک نہ کوئی قدر اور نہ وزن رہتا ہے ۔</p>



<p>دعا یہی ہے</p>



<p>اللهم ارنا كما اريتهم مع العفو والعافية واتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النّار</p>



<p>الہی ! ہمیں بھی عفوو عافیت کے ساتھ ویسا ہی دکھا دے جیسا کہ ان کو دکھلایا ہے، اور ہمیں دنیا کی بھلائی عطا فرما، اور آخرت کی بھلائی عطا فر ما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچاۓ رکھ‘‘</p>



<p><strong>تقوی دوا ہے اور اسے چھوڑ دینا بیماری ہے:</strong></p>



<p>اے لوگو! تقوی کو چھوڑ دینے سے تو بہ کرو، تقوی دوا ہے اور اسے چھوڑ دینا بیماری ہے، تو بہ کرو، کیونکہ تو بہ دوا ہے اور گناہ بیماری ہے، رسول اکرم&nbsp; ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کرام سے ارشادفرمایا: &#8221; کیا میں تم کو یہ بات نہ بتاؤں کہ تمہاری بیماری کیا ہے، اور تمہاری دوا کیا؟ ۔‘‘</p>



<p>صحابہ کرام نے عرض کیا: ’’ہاں یارسول اللہ&nbsp; ﷺ !‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>”تمہاری بیماری گناہ ہیں اور تمہاری دوا تو بہ ہے۔“</p>



<p>تو بہ ایک درخت ہے، ذکر کی مجلسیں اور اللہ تعالی کی اطاعت اس کے لئے شفا ہے، تم ایمان کی زبان سے توبہ کرو، یقینا تمہیں نجات حاصل ہو جائے گی ، تم توحید اور اخلاص کی زبان سے کلام کرو تو بے شک تمہیں نجات حاصل ہو جائے گی اللہ کی طرف سے تم پر مصیبتیں آئیں تو ایمان کے ہتھیار سے مقابلہ کرو، ایمان ہی تمہیں بچانے والا ہے۔</p>



<p><strong>خطبہ غوثیہ</strong><strong></strong></p>



<p>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو ہر مجلس میں خطبہ شروع میں تین بار <strong>الـحـمـد لله رب العالمین</strong> فرماتے ، ہر بارتھوڑی دیر کے لئے سکوت فرماتے ، پھر خطبہ ارشاد فرماتے۔ (نوٹ: یہ خطبہ زیر نظر کتاب کے شروع میں پیش کیا گیا ہے۔) ۔ پھر آپ وعظ شروع فرماتے اور غیبی فتوحات سے جو کچھ اللہ تعالی آپ کی زبان مبارک پر جاری فرماتا ،بغیر تقریر اور بغیر کسی تمہید کے وعظ شروع فرمادیتے ۔ اپنی مجالس میں حدیث شریف یا حکماء کے کلام میں سے کوئی کلمہ حکمت جو آپ کو یاد ہوتا اولا اسے تبر کا اپنے کلام میں پڑھا کرتے اور وعظ شروع کرتے اور اپنے وعظ کواس پر جاری کرتے تھے۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 188،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/111" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/111" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ  111</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25da%25be%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%DA%86%DA%BE%D8%A8%DB%8C%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="چھبیسویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
