<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طفل معانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B7%D9%81%D9%84-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D9%86%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 03 Jul 2022 00:46:15 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>طفل معانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خلق کی ابتدا کا بیان مقدمہ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 06:29:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[انسان کا اصلی وطن]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[طفل معانی]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت ذات]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت صفات]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت کی قسمیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4928</guid>

					<description><![CDATA[تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو قادر علیم ،بصیر ، حلیم، وہاب، رحمن اور رحیم ہے۔ وہ ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ اسی ذات اقدس نے اپنے نبی کریم پر قرآن جیسی عظیم اور پُرحکمت کتاب نازل فرمائی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو قادر علیم ،بصیر ، حلیم، وہاب، رحمن اور رحیم ہے۔ وہ ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ اسی ذات اقدس نے اپنے نبی کریم پر قرآن جیسی عظیم اور پُرحکمت کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس کتاب میں دین قویم(درست) اور صراط مستقیم ہے۔&nbsp;</p>



<p>بے حدوبے حساب صلاة و سلام ہوں خاتم رسالت،ہادی برحق،&nbsp;صاحب عزت و تکریم ، صادق و امین ذات اقدس پر جو نبی امی، عربی الاصل ہیں اور عرب و عجم کی طرف بہترین کتاب لانے والے ہیں۔ جن کا اسم گرامی محمد ہے اور صلاة و سلام ہوں آپ کی آل اطہار پر اور عظمت کردار کے مالک فخر انسانیت صحابہ کرام پر۔&nbsp;</p>



<p>حمد و صلاۃ کے بعد عرض ہے کہ :۔&nbsp;</p>



<p>علم ایک عالی مرتبت ، قابل فخر، نفع اندوز اور بزرگ ترین دولت ہے۔ اسی دولت کے ذریعے انسان رب العالمین تک پہنچتا ہے اور انبیاء مرسلین صلوة اللہ و سلامہ علیہم کی تصدیق کر تا ہے۔&nbsp;</p>



<p>الله تعالی نے اپنے فضل و کرم سے بندگان خدا کی ہدایت و رہنمائی کیلئے جن برگزیده اشخاص کو منتخب فرمایا ان میں علماء کرام کو خصوصیت حاصل ہے۔ یہ لوگ انسانیت کے سرخیل اور ہادیان عالم کے چنیدہ ہیں۔ علماء انبیاء کرام کے وارث اور نائب ہیں۔ وہ مسلمانوں کے آقاو مولا ہیں۔ رب قدوس کا ارشاد پاک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَالَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ</strong> (فاطر:22)پھر ہم نے وارث بنایا اس کتاب کا ان کو جنہیں ہم نے چن لیا تھا اپنے بندوں سے۔ پس بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض درمیانہ رو ہیں اور بعض سبقت لے جانے والے ہیں نیکیوں میں حضورﷺکارشاد گرامی ہے :&nbsp;</p>



<p><strong>الْعُلَمَاءَ ‌وَرَثَةُ ‌الْأَنْبِيَاءِ بِالْعِلْم،ِ ‌يُحِبُّهُمْ ‌أَهْلُ ‌السَّمَاءِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ </strong>علماءعلم میں انبیاء کے وارث ہیں۔ آسمان والے ان سے محبت کرتے ہیں اور سمندر کی مچھلیاں قیامت تک ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی رہیں گی“ حضور اکر مﷺکا اور ارشاد مبارک ہے: <strong>يَبْعَثُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يُمَيِّزُ الْعُلَمَاءَ ، فَيَقُولُ : يَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ ، إِنِّي لَمْ أَضَعْ عِلْمِي فِيكُمْ إِلا لِعِلْمِي بِكُمْ ، وَلَمْ أَضَعْ عِلْمِي فِيكُمْ لأُعَذَّبَكُمُ ، انْطَلِقُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ</strong></p>



<p>قیامت کے دن اللہ تعالی جب اپنے بندوں کو دوباره زنده فرمائے گا تو علماء کرام کو ان سے الگ کرلے گا۔ اور فرمائے گا۔ اے علماء کے گروہ میں نے اپنا علم تمہارے سینوں میں ودیعت فرمایا کیونکہ میں تمہیں جانتا تھا۔ یہ نور تمہارے سینوں میں اس لیے تو نہیں رکھا کہ تمہیں عذاب دوں جاؤ تم سب جنتی ہو۔ میں نے تمہارے قصور معاف فرمادیئے&nbsp;</p>



<p>تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے جنت کو عابدوں کے لیئے&nbsp;انعام کی جگہ بنایا اور عارفوں کے لیے قربت(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے) کا محل۔&nbsp;</p>



<p>اس ( تمہید) کے بعد ابتداء میں جب اللہ تعالی نے اپنے نور جمال سے&nbsp;محمدﷺکو پیدا فرمایا جیسا کہ حدیث قدسی ہے:&nbsp;</p>



<p><strong>خَلَقْتُ مُحَمَّداً أوّلاً منْ نُورِ وَجْهِي</strong> میں نے سب سے پہلے اپنی ذات کے نور سے محمد ﷺکو&nbsp;پیدا کیا‘‘&nbsp;</p>



<p><strong>أوّلُ ماخلقَ الله ُروحِي ، وأوّلُ ماخلقَ اللهُ نوري ، وأوَّلُ ماخلقَ اللهُ القلمَ ، وأوّلُ ماخلقَ اللهُ العَقلَ</strong> سب سے پہلے اللہ تعالی نے میری روح کو پیدا فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ تعالی نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔ سب <strong>سے </strong>پہلے الله تعالی<strong> نے </strong>قلم کو پیدا فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ تعالی نے عقل کو پیدا فرمایا </p>



<p>ان تمام چیزوں کا مصداق ایک ہی ہے۔ یعنی سب سے پہلے اللہ تعالی نے&nbsp;حقیقت محمدیہ (اس سے مراد حیات روی اور حیات حیوی کا مصدر ہے۔ یہ اہل ایمان کے دلوں کی زندگی ہے۔ حقیقت محمد یہ خلق کی پیدائش کا سبب اور ماسوای اللہ کی&nbsp;</p>



<p>اصل ہے)کو پیدا فرمایا۔&nbsp;</p>



<p>اسے نور کہا گیا ہے اس لیے کہ یہ ظلمانیت جلالیت سے پاک ہے۔ جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے : . </p>



<p><strong>قدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ </strong>(المائدہ :15 ( بیشک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک&nbsp;نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی حقیقت محمدیہ کو عقل کہا گیا ہے کیونکہ وہ تمام کلیات کا ادراک رکھتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>اے قلم کہا گیا ہے کیونکہ یہ علم کی منتقلی کا سبب ہے۔ جس طرح عالم حروفات میں قلم انتقال علم کا سبب ہے۔پس روح میں ان تمام چیزوں کا خلاصہ&nbsp;ہے کائنات کی ابتداء اور اصل ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>أناَ مِنَ الله ، والمُؤمِنونَ مِنِّي</strong> میں اللہ سے ہوں اور مومن مجھ سے ہیں“&nbsp;</p>



<p>عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی  کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ نہیں پہنچ سکتے) میں تمام ارواح نور محمدی سے بہترین اعتدال پر پید اہوئیں عالم لاہوت میں اسی کا نام حجلۃ الانس(دلہن کا کمرہ) ہے اور یہی عالم انسان کا وطن اصلی ہے۔ </p>



<p>جب ذات محمدی کی تخلیق پر چار ہزار سال کا عرصہ بیت گیا تو اللہ تعالی نے نور پاک مصطفیﷺسے عرش اور دوسری تمام کلیات کو پیدا فرمایا اور اس کے بعد ارواح کو عالم اسفل کی طرف لوٹا دیا۔ اور اس عالم میں یہ روحیں جسموں میں منتقل ہو گئیں جیسا ارشادباری تعالی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ </strong>(التین :5)پھر ہم نے لوٹادیا اس کو پست ترین حالت کی طرف&nbsp;</p>



<p>یعنی پہلے اسے عالم لاہوت سے عالم جبروت(عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں) کی طرف لوٹایا اور اسے ان دونوں حرموں کے در میان جبروت کے نور سے ایک لباس پہنایا۔ اس لباس کا نام <a>روح سلطانی</a> (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت اور عالم جبروت&nbsp;کے در میان ارواح کو عطا فرمایا&nbsp;)ہے۔ پھر روح کو اس لباس کے ساتھ عالم ملکوت کی طرف لوٹایا اور یہاں اسے نور ملکوت کا لباس پہنا دیا گیا۔ اس کا نام روح روانی (عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح سیر انی بھی کہتے ہیں)ہے۔ اس&nbsp;کے بعد روح عالم الملک(عالم شہادت یا عالم اجسام واعراض۔ اسی عالم میں روحیں جسموں میں&nbsp;داخل ہوتی ہیں۔ اس کا دوسرا نام عالم سفلی ہے) کو لوٹی۔ الملک کے نور کا لباس پہنا اور روح جسمانی کا نام&nbsp;پایا۔ اس عالم میں اجساد تخلیق ہوئے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ </strong>(طہ:55(&nbsp;اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا&nbsp;۔</p>



<p>روح بحکم ایزدی اجساد میں داخل ہوئی۔ رب قدوس کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ونَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي</strong> (الحجر:29(&nbsp;اور پھونک دی اس میں اپنے فضل سے روح“&nbsp;</p>



<p>پس جب اجساد سے روحوں کا تعلق قائم ہو گیا تو وہ وعدہ الست کو بھول گئیں جو وعدہ انہوں نے اپنے رب سے عالم ارواح میں کیا تھا اور کہا تھا کہ ہاں تو&nbsp;ہمارارب ہے جیسا کہ اللہ تعالی اس کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;<strong>أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ </strong>(الاعراف :172)کیا میں نہیں ہوں تمہارارب ؟&nbsp;</p>



<p>پس وہ نسیان کی وجہ سےیہیں کی ہو کر رہ گئیں اور اپنے وطن اصلی کونہ لوٹیں۔ اللہ جو کہ بے حد رحم فرمانے والا اور انسان کا حاجت روا ہے اسے اپنی مخلوق پر رحم آگیا اور اس نے اپنی جناب سے ایک کتاب نازل کی تاکہ اسے پڑھ کر انسان کو وطن اصلی یاد آجائے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ</strong>(ابراہیم :5)ور یاد د لاؤا نہیں اللہ کے دن“&nbsp;</p>



<p>یعنی وہ دن جب وہ واصل بحق تھے۔ نبوت ورسالت کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا بہت سارے انبیاء ، رسل اور کتابیں اپنے اپنے وقت پر آئیں تمام انبیاء ورسل کی بعثت اور تمام کتابوں کے نزول کی غرض و غایت ایک ہی تھی کہ بنی آدم کی روح کو وطن اصلی یاد آجائے۔ مگر بہت کم لوگوں کو وہ وطن یاد آیا معدودے چند روحیں تھیں جنہیں اس دنیا میں رہ کر یہ اشتیاق پیدا ہوا کہ وہ وطن اصلی کو لوٹ جائیں اور اپنے رب سے ملاقات کریں۔ نبوت ورسالت کا یہ سلسلہ روح اعظم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی پر اختتام پذیر ہوا۔ آپ کسی ایک دوریا ایک خطے کے نبی نہیں تھے۔ پوری انسانیت کےبخت خفتہ کو بیدار کرنے کے لیے تشریف لائے اور ہر علاقے کے لوگوں کو خواب غفلت سے جگانا آپ کا منصب قرار پایا آپ کوحکم دیا گیا کہ دلوں کوبصیرت (وہ قوت جو اولیاء کے دل سے پھوٹتی ہے اور نور قدس سے منور ہوتی ہے۔ اس سے انسان اشیاء کی حقیقت اور ان کے باطن کو دیکھتا ہے۔ اسے قوت قدسیہ بھی کہتے ہیں)کا نور دیں اور روحوں کے سامنے تنے پردوں کو منکشف کریں جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي </strong>(يوسف:108)آپ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے میں تو بلاتا ہوں صرف اللہ کی طرف۔ واضح دلیل پرہوں میں اور وہ بھی جو میری&nbsp;پیروی کرتے ہیں&nbsp;۔</p>



<p>بصیرت روح کی آنکھ ہے جو اولیاء کے لیے مقام جان میں کھلتی ہے۔ یہ&nbsp;آنکھ ظاہری علم سےوا نہیں ہوتی اس کے لیے عالم لدنی چاہیئے جو باطن سے تعلق رکھتا ہے۔ رب قدوس کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَعَلَّمْناهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْماً</strong> (الكہف :65)اور ہم نے سکھایا تھا اسے اپنے پاس سے (خاص) علم&nbsp;۔</p>



<p>انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل بصیرت کی یہ آنکھ کسی ولی صاحب&nbsp;تلقین عالم لاہوت سے باخبر مرشد کامل کے ذریعے حاصل کرے۔&nbsp;</p>



<p>اے بھائیو ! ہوش میں آؤ اور توبہ کر کے اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو۔ اس راہ سلوک میں داخل ہو جاؤ اور روحانی قافلوں کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ۔ قریب ہے کہ راستہ منقطع ہو جائے اور کوئی ہم سفر نہ رہے۔یاد رکھو! ہم اس کمینی دنیا کو بسانے نہیں آئے ہمیں اس خرابات سے آخر کوچ کرنا&nbsp;ہے۔ دوستو ! ہمیں خواہشات نفس کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے۔ دیکھو ! تمہارے نبی کریم علیہ الصلوة والسلام تمہارے لیے چشم براہ ہیں۔ حضور ﷺنے فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>غُمّيَ لأَجْلِ أُمَّتِي الّذينَ في آخِرِ الزَّمَانِ</strong>&#8211; میں اپنی امت کے ان لوگوں کے لیےغمگین ہوں جو آخری&nbsp;</p>



<p>زمانہ میں ہوں گے“&nbsp;</p>



<p>جو علم ہمیں بارگاہ خداوندی سے عطا فرمایا گیا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ علم ظاہر اور علم باطن(دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ&nbsp;کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔&nbsp;)۔ یعنی شریعت اور معرفت۔ شریعت کا حکم ظاہر پر لاگو ہوتا&nbsp;ہے اور معرفت کا علم باطن پر۔ ان دونوں علوم کو نازل کرنے کا مقصد علم حقیقت (اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں)کو پانا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ</strong> ( الرحمن:19،20( اس نے رواں کیا ہے دونوں دریاؤں کو جو آپس میں مل رہے&nbsp;ہیں۔ ان کے در میان آڑہے آپس میں گڈمڈ نہیں ہوتے&nbsp;۔</p>



<p>صرف علم ظاہر ی سے علم حقیقت تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ اور نہ ہی مقصود آسکتا ہے کامل عبادت کے لیے علم ظاہری اور علم باطنی کی تحصیل ضروری&nbsp;ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرائی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ </strong>(زاریات :56(&nbsp;</p>



<p>اور نہیں پیدا فرمایا میں نے جن و انس کو مگر اس لیے کہ وہ&nbsp;میری عبادت کریں&nbsp;۔</p>



<p>میری عبادت کریں“ سے مراد یہ ہے کہ میری معرفت حاصل&nbsp;کریں کیونکہ معرفت کے بغیر عبادت ممکن ہی نہیں۔&nbsp;</p>



<p>معرفت(یہ ولی اللہ کی صفت ہے جو حق سبحانہ تعالی کو اس کے اسماء صفات سے<strong> </strong>پہچانتا ہے۔ اور الله تعالی اس کے معاملات میں سچائی پیدا کر دیتا ہے۔ اور اس کو اخلاق رذیلہ اور اس کی آفات سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔ اس تزکیہ کے بعد وہ اللہ تعالی کا ہو کر رہ جاتا ہے وہ سر میں اللہ تعالی کے ساتھ مناجات کر تا ہے اور یہاں اس کی حاضری دائمی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسے میں وہ وقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس کے اسرار قدرت  کو بیان کر تا ہے۔ اور تصرفات کے بارے گفتگو کرتا ہے۔ معرفت کے حامل شخص کو عارف کہتے ہیں) کے حصول کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ انسان آئینہ دل سے حجاب نفس کو ہٹا دے۔ جب حجاب سرک جاتا ہے تو انسان دل کی گہرائیوں میں چھپے راز کے حسن کو اس آئینے میں عیاں دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے۔ </p>



<p><strong>&nbsp;كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِأَنْ أُعْرَفَ</strong></p>



<p>میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا کہ میری معرفت حاصل ہو جائے&nbsp;۔</p>



<p>جب اللہ تعالی نے خود ہی بتادیا کہ تخلیق آدم کی وجہ معرفت خداوندی&nbsp;ہے تو پھر انسان پر لازم ہے کہ وہ معرفت حاصل کرے۔&nbsp;</p>



<p>معرفت کی دو قسمیں ہیں۔ معرفت صفات اور معرفت ذات معرفت صفات دارین میں جسم کیلئے خیر و فضل ہے اور معرفت ذات آخرت میں <a>روح</a> قدسی(عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کے لیے نعمت ثابت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ</strong> (البقرة : 87.) اور ہم نے تقویت دی ا سے روح القد س سے“&nbsp;</p>



<p>عارفین روح القدس سے مؤید(تائید کنندہ) ہوتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;معرفت کی یہ دونوں قسمیں صرف اسی وقت حاصل ہو سکتی ہیں کہ انسان دونوں علم، علم ظاہر اور علم باطن کو حاصل کرے۔ حضورﷺکارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الْعِلْمُ عِلْمَانِ : عِلْمٌ باللّسان ، وذَلِكَ حُجَّةُ اللَّهِ تعالى عَلَى ابن آدمَ وعلم بالجنانِ ؛ فذلك العِلْمُ النّافِعُ</strong> علم کی دو قسمیں ہیں، علم لسانی اور علم کی یہ قسم الله تعالی کی طرف سے ابن آدم پر حجت ہے اور دوسری قسم علم جنانی ہے۔ اور یہ دوسری قسم ہی علم نافع ہے“ </p>



<p>سب سے پہلے انسان کو علم شریعت کی ضرورت ہے۔ روح اس علم کے ساتھ جوارح کے کسب کو حاصل کرتی ہے۔ جوارح کا کسب درجات(شریعت &nbsp;کےعلم ظاہری پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ثواب&nbsp;ملتا ہے اسے درجات کہا جاتا ہے) ہیں اس کے بعد اسے علم باطن کی ضرورت پڑتی ہے اور اس علم کے ذریعے روح علم معرفت میں معرفت خداوندی کے کسب کو حاصل کرتی ہے۔ علم معرفت کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان ان رسوم کو ترک کر دے جو شریعت اور <a>طریقت(سالکین</a> کی راہ جو انہیں واصل بحق کرتی ہے۔ مثلا منازل سلوک کا طے&nbsp;کرنا اور مقامات میں ترقی کرنا) کے مخالف ہیں اور نمود و نمائش سے بچتے ہوئے صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے نفسانی اور روحانی ریاضتوں کو قبول کرلے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا&nbsp;ارشاد گرامی ہے۔</p>



<p><strong>فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا </strong>(الكہف:110(&nbsp;</p>



<p>پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیئے کہ وہ نیک عمل کرے اور نہ شریک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو۔</p>



<p>&nbsp;عالم معرفت یعنی عالم لاہوت انسان کا اصلی وطن ہے جیسا کہ پہلے ذکر&nbsp;ہو چکا ہے۔ اس عالم میں روح قدسی کی بہتر ین اعتدال پر تخلیق ہوئی۔&nbsp;</p>



<p>روح قدسی سے مراد انسان حقیقی ہے۔ انسان حقیقی کا اظہار صرف اسی&nbsp;وقت ہوتا ہے جب توبہ کی جائے اور تلقین پر عمل کیا جائے۔&nbsp;</p>



<p>کلمہ لا الہ الا اللہ کا لزوم انسان حقیقی کے وجود کو ظاہر کر سکتا ہے بشرطیکہ یہ ذکر پہلے زبان سے، پھر حیات قلبی سے اور پھر لسان جنان(ہر شے کا جوف، اندرونی حصہ ،جِس سے انسان اپنی اصلیت کو پہچانے) سے کیا جائے۔ انسان حقیقی یاروح قدسی کا دوسرا نام طفل معانی (انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق قدسی معنویات&nbsp;سے ہے۔ اسے طفل کہنے کی کئی وجوہات ہیں۔</p>



<p>1 ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ روح قدسی قلب سے تولد ہوتی ہے جس طرح بچہ&nbsp;ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ ماں کی طرح اس کی پرورش قلب کر تا&nbsp;ہے۔ پھر بچے کی طرح روح قدسی پرورش پاتی ہے حتی کہ بلوغت کی عمر&nbsp;کوپہنچ جاتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>2۔&nbsp;دوسری وجہ یہ ہے کہ تعلیم کا سلسلہ اکثر بچپن میں ہو تا ہے۔ بچوں کی طرح روح قدسی کو معرفت کی اکثر تعلیم دی جاتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;3۔&nbsp;جس طرح بچہ گناہ کی آلائشوں سے پاک ہو تا ہے اسی طرح روح قدسی&nbsp;بھی گناه ، شرک غفلت اور جسمانیت سے پاک ہوتی ہے۔</p>



<p>4۔ جس طرح بچہ پاکیزہ صورت ہے اسی طرح روح قدسی بھی پاکیزہ صورت&nbsp;ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواب میں ملا ئکہ یا دوسری پاک چیزیں بچے کی&nbsp;مثالی صورت میں نظر آتی ہیں۔&nbsp;</p>



<p>5۔&nbsp;اللہ تعالی نے ابنائے جنت کو طفولیت کے وصف سے متصف فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد گرامی ہے۔ <strong>يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ </strong>(الواقعہ:17)&nbsp;گردش کرتے ہوں گے ان کے اردگرد نو خیز لڑ کے جو ہمیشہ&nbsp;ایک جیسے ر ہیں گے“ <strong>غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُونٌ</strong> (طور :24)ان کے غلام (بچے )حسن کے باعث یوں معلوم&nbsp;ہوں گے گویاوہ چھپے موتی ہیں“&nbsp;</p>



<p>6۔&nbsp;روح قدسی کو یہ نام لطافت اور نظافت کی وجہ سے دیا گیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>7۔&nbsp;یہ اطلاق مجازی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق بدن سے ہے اور یہ انسان کے ساتھ صورت میں مماثلت رکھتا ہے۔ اب روح قدسی کا طفل معانی پر اطلاق اس بنا پر ہے کہ بچے میں ملاحت ہوتی ہے ۔ یہ اطلاق صغر سنی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اور اس اطلاق کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے شروع میں روح قدسی کی صورت اس سے ملتی ہے۔ بہر حال روح قدسی یا طفل معانی انسان حقیقی ہے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالی&nbsp;کے ساتھ انسیت(دل کے مشاہدہ سے روح کا لطف اندوز ہونا) حاصل ہے۔ جسم اور جسمانی طفل معانی کے محرم نہیں ہیں۔ جیسا کہ حضورﷺکا&nbsp;ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>لِي‌ مَعَ اللَهِ وَقْتٌ لاَ يَسَعُنِي‌ فِيهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِي‌ٌّ مُرْسَلٌ</strong> بارگاہ خداوندی میں مجھے ایک ایسا وقت بھی حاصل ہو تا ہے کہ جس میں نہ تو کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ نبی مرسل کی‘‘ </p>



<p>نبی مرسل سے مراد نبی کریمﷺکی بشریت اور مقرب فرشتے سے مراد حضور ﷺکی روحانیت جو کہ نور جبروت سے تخلیق ہوئی ہے۔ جیسے فرشتے نور جبروت سے ہیں اسی لیے یہ فرشتے نور لاہوت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا:&nbsp;</p>



<p><strong>إن لله جنة لا فيها حور ولا قصور ولا جنان ولا عسل ولا لبن</strong> بیشک اللہ تعالی کے ہاں ایک ایسی جنت بھی ہے جس میں نہ تو حور و قصور ہیں اور نہ باغ و بہارنہ شہد( کی نہریں) ہیں اور نہ دودھ( کے چشمے) وہاں صرف دیدار الہٰی کی دولت ہے“ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: </p>



<p><strong>وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ </strong>(القيامۃ : 22 ، 23 ( کئی چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کے(انوار جمال) کی طرف دیکھ رہے ہوں گے“ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا : <strong>ستَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ القَمَرَ لَيْلَةَ البَدْرِ</strong>عنقریب تم اپنے رب کو اسی طرح (عیاں) دیکھو گے جس&nbsp;طرح چودھویں رات کے اس چاند کو دیکھ رہے ہو“&nbsp;</p>



<p>اگر فرشتہ اور جسمانیت اس عالم میں داخل ہوں تو جل جائیں جیسا کہ&nbsp;حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>لو كشفت سبحات وجهي جلالي لاحترق كل ما مد بصري</strong> اسی طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا : <strong>لو دنوت أنملة لاحترقت</strong></p>



<p>اگر میں انگلی کے پورے کے برابر بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا“&nbsp;</p>



<p>یہ کتاب کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے حروف کے عدد کے برابر چوبیس فصلوں پر مشتمل ہے۔ رات دن کی بھی چوبیس گھڑیاں ہیں۔ اس مناسبت سے کتاب کی فصلیں بھی چوبیس ہیں۔&nbsp;</p>



<p>           <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ16 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>           </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&#038;title=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/" data-a2a-title="خلق کی ابتدا کا بیان مقدمہ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اجساد میں روحوں کی دکانیں فصل3</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 04:47:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[روح جسمانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح روانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح سلطانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح قدسی]]></category>
		<category><![CDATA[طفل معانی]]></category>
		<category><![CDATA[ظاہر و باطن کا فرق]]></category>
		<category><![CDATA[علم باطن چشمہ]]></category>
		<category><![CDATA[علم ظاہر پاک پانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4920</guid>

					<description><![CDATA[روح جسمانی کی دکان پورا جسم ظاہری جوارح کے ساتھ ہے۔ اس کا سامان تجارت شریعت ہے۔ اور اس کا کاروبار شرک سے بچتے ہوئے اللہ تعالی کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>روح جسمانی کی دکان پورا جسم ظاہری جوارح کے ساتھ ہے۔ اس کا سامان تجارت شریعت ہے۔ اور اس کا کاروبار شرک سے بچتے ہوئے اللہ تعالی کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ </p>



<p><strong>وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدَاَ</strong> (الکہف:110(&nbsp;اور نہ شر یک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو“&nbsp;</p>



<p>حضور ﷺ نے فرمایا : <strong>‌إِنَّ ‌اللَّهَ ‌طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا</strong>اللہ تعالی پاک ہے اور صرف پاک ہی کو قبول فرماتا ہے“&nbsp;</p>



<p>اسی طرح حضورﷺکا ایک اور ارشاد گرامی ہے۔ <strong>إنَّ الله وتر يحبُّ الوتر</strong>اللہ تعالی و تر(واحد) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے&nbsp;۔</p>



<p>لفظ وتر سے مراد نمود و نمائش سے بلند تر ہوتا ہے (یعنی اللہ تعالی بناوٹ&nbsp;سے پاک ہے اور اعمال میں اخلاص کو پسند فرماتا ہے)&nbsp;</p>



<p><strong>روح</strong><strong> </strong><strong>جسمانی</strong> کا نفع ولایت، مکاشفہ (اتصال یا تعلق باللہ کا نام مکاشفہ ہے۔ مکاشفہ سے چھپے راز عیاں ہو جاتے&nbsp;ہیں اور انسان باطن کی آنکھ سے سب کچھ دیکھنے لگتا ہے)اور تحت الثری سے آسمان بالاتک پوری کائنات کا مشاہدہ <a>(دل</a> کی آنکھ سے حق کو دیکھنا) ہے۔ اس کی مثال کرامات کونیہ( &nbsp;جس کا تعلق خلق و ایجاد سے ہے اورجو تمام موجودات و حوادث کو شامل ہے۔ اس کائنات میں خیر و شر، کفر و ایمان اوراطاعت و معصیت جو کچھ بھی ہو رہا ہے کونیہ کہلاتا ہے) جو مراتب رہبانیت سے ہے۔ مثلا پانی پر چلانا، ہوا میں اڑنا۔ طے مکانی ، دور سے سننا اور باطن میں جھانکنا&nbsp;اور اس قسم کی دوسری کرامات۔ آخرت میں اس کا نفع جنت، حور و قصور ، غلمان، شراب طہور۔ تمام نعمتیں، جنت الاولی میں گھر جو جنت الماوی ہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>روح</strong><strong> </strong><strong>روانی</strong>(عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح سیر انی بھی کہتے ہیں) کی دکان قلب ہے۔ ان کی متاع علم طریقت(سالکین کی راہ جو انہیں واصل بحق کرتی ہے۔ مثلا منازل سلوک کا طے&nbsp;کرنا اور مقامات میں ترقی کرنا) اور اس کا کاروبار اللہ تعالی کے بارہ ، اصولی اسماء میں سے پہلے چار اسماء میں مشغول ہو تا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرائی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا </strong>(الاعراف:180(&nbsp;</p>



<p>اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے۔ سو پکارو اسے&nbsp;انہیں نا موں سے&nbsp;اور یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ اسماء مشغول ہونے کامحل ہیں۔ اور یہی علم باطن( دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ&nbsp;کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔&nbsp;) ہے۔ معرفت اسمائے توحید(اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>)) کا نتیجہ ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‌تِسْعَةً ‌وَتِسْعِينَ اسْمًا، مَنْ ‌أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ</strong>بیشک اللہ تعالی کےنناویں نام ہیں جس نے ان کا ورد کیاوہ جنت میں داخل ہوا&nbsp;</p>



<p>حدیث میں لفظ احصاءسے مرادان اسماء سے متصف ہوتا ہے۔ اور ان اخلاق خداوندی کو اپنی ذات میں جاری کرنا ہے۔ یہ بارہ اسماء اللہ تعالی کے تمام اسماء کی بنیاد اور اصول ہیں۔ جن کے عدد کلمہ لا الہ الا اللہ کے حروف کے برابر ہیں۔ پس اللہ تعالی نے قلوب کی گہرائیوں میں ہر ایک حرف کے لیے ایک اسم کو ثبت فرما دیا ہے۔ ہر ایک عالم کے لیے تین اسماء ہیں۔ اللہ تعالی انہیں اسماء کے ذریعے محسنین کے دلوں کو اثبات بخشتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَة </strong>(الابراہیم:27(&nbsp;</p>



<p>ثابت قدم رکھتا ہے اللہ تعالی اہل ایمان کو اس پختہ قول (کی&nbsp;برکت سے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی&nbsp;اللہ تعالی ایسے لوگوں پر انسیت(دل کے مشاہدہ سے روح کا لطف اندوز ہونا) کی خاص کیفیت نازل فرماتا ہے جسے سکینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں شجر توحید پروان چڑھتا ہے جس کی جڑ ساتویں زمین میں بلکہ تحت الثری میں ہے اور ٹہنیاں ساتویں آسمان تک بلند ہیں ۔ بلکہ عرش کے اوپر تک بچھی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے<strong> كَشَجَرَةٍ طَيِبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ</strong></p>



<p>(ابراہیم:24( پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں“&nbsp;</p>



<p>روح روانی کو اس کاروبار سے جو نفع ہو تا ہے وہ دل کی زندگی ہے۔ عالم الملكوت کو وہ اپنی دل کی آنکھ سے عیاں دیکھتا ہے۔ جنت کے باغ اسے دکھائی دینے&nbsp;لگتے ہیں۔ اہل جنت، جنت کے انوار اور فرشتے اس کے روبرو ہوتے ہیں۔ اور جب وہ اسمائے باطن کا مشاہدہ کر تا ہے تو اپنی زبان سے باطنی گفتگو کر تا ہے جو بلا حرف و صوت ہوتی ہے۔ اس کاروبار کی وجہ سے اس کا ٹھکانا دوسری جنت یعنی جنت النعیم قرار یا تاہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>روح سلطانی</strong> (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت (روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ&nbsp;نہیں پہنچ سکتے) اور عالم جبروت (عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں) کے در میان ارواح کو عطا فرمایا )کی دکان جان ہے۔ اس کا سامان تجارت معرفت اور کاروبار&nbsp;باره اسماء میں سے در میان چار اسماء کادل کی زبان سے ورد ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا :&nbsp;</p>



<p>&#8220;<strong> الْعِلْمُ ‌عِلْمَانِ: وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَاكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ آدَمَ. وَعِلْمٌ ب</strong><strong>ِا</strong><strong>لْجَنَانِ فَذَاكَ ‌الْعِلْمُ ‌النَّافِعُ</strong>، &#8221; علم کی دو قسمیں ہیں (1( علم لسانی (2( علم جنانی علم لسانی الله تعالی کی ابن آدم پر حجت ہے اور علم جنانی ہی علم نافع ہے“ کیونکہ علم کے تمام فائدے اسی دائرہ میں ہیں۔ حضور ﷺکا ارشاد ہے۔<strong> </strong><strong>إنَّ للقرآن ظهراً وبطناً ولبطنه بطناً إلى سبعة أبطن</strong><strong>&#8221;&nbsp;</strong></p>



<p>قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ اور ہر باطن کا پھر&nbsp;ایک باطن ہے (یہ سلسلہ سات باطنوں تک (دراز) ہے“ آپﷺ کا ارشاد ہے: <strong>إنَّ الله أنزل القرآن على عشرة أبطن فكل ما هو أبطن فهو أنفع وأربح لأنه مِفَنٌ</strong> بیشک اللہ تعالی نے قرآن کو دس بطنوں پر نازل فرمایا۔ پس ہر باطن پہلے باطن سے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ کیونکہ اس میں پہلے کی نسبت زیادہ عجائب ہیں۔</p>



<p>&nbsp;یہ اسماء ان بارہ چشموں کی مانند ہیں جو عصائے موسی کی ضرب سےپھوٹے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادالہی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ </strong>(البقرہ:60(&nbsp;</p>



<p>اور یاد کروجب پانی کی دعامانگی موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے فرمایاماروا پنا عصا فلاں چٹان پر تو فور ابہہ نکلے اس چٹان&nbsp;سے بارہ چشمے۔ پہچان لیا ہر گروہ نے اپنا اپناگھاٹ&nbsp;</p>



<p>علم ظاہری اس پاک پانی کی مانند ہے جو عارضی ہو جبکہ علم باطن(دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ&nbsp;کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔&nbsp;) چشمے کے اصلی پانی جیسا ہے( جوکبھی ختم نہیں ہوتا) علم باطنی ، علم ظاہری کی نسبت&nbsp;زیادہ نفع بخش ہے۔ اور علم کا یہ چشمہ ابد ی ہےکبھی خشک نہیں ہو تا۔</p>



<p>ارشاد ربانی ہے: <strong>وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ </strong>(یس:33( اور ایک نشانی ان کے لیے یہ مردہ زمین ہے۔ ہم نے اسے زندہ کر دیا اور ہم نے نکالا اس سے غلہ پس وہ اس سے کھاتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی نے روئے زمین سے ایک دانا نکالا جو حیوانات نفسانیہ کی خوراک ہے، زمین انفس سے ایک دانا پیدا کیا جو ارواح روحانیہ کی خوراک ٹھہرا جیسا کہ حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>من أخلص لله تعالى أربعين صباحاً ظهرت ينابيع الحكمة من قلبه على لسانه</strong> جس نے چالیس صبحیں اللہ کے خلوص میں کیں تو اللہ نے اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری کر دئیے“ </p>



<p>رہاروح سلطانی کا نفع تو انسان اس سے جمال خداوندی کا عکس دیکھتا ہے&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَا كَذّبْ الفُؤاد مَا رَأى </strong>(النجم:11(&nbsp;نہ جھٹلایادل نے جو دیکھ ( چشم مصطفی)نے&nbsp;</p>



<p>اسی طرح حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے : <strong>المُؤْمِنُ مِرْ</strong><strong>آ</strong><strong>ةُ المُؤمِن</strong>”ایک مؤمن دوسرے مؤمن کا آئینہ ہے“&nbsp;</p>



<p>پہلے مؤمن سے مراد ، بندہ کادل ہے اور دوسرے سے مراد اللہ تعالی کی&nbsp;ذات بابرکات ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا صفاتی نام مؤمن آیا ہے&nbsp;</p>



<p><strong>المُّؤْمِن المُهَيمِن العَزِيز الْجَبَّار المُتَكَبِر </strong>(الحشر:23(&nbsp;مانگنے والا، نگہبان، عزت والا، ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا متکبر۔</p>



<p>صاحب المرصاد فرماتے ہیں کہ اس طائفہ کا مسکن تیسری جنت یعنی&nbsp;جنت الفردوس ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>روح قدسی</strong>(عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کی دکان باطن ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے<strong>الإنسان سرِّي وأنا سِرُّهْ</strong> انسان میر اراز اور میں اس کا راز ہوں‘‘ </p>



<p>روح قدسی کی متاع علم الحقیقت(اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں) ہے جسے علم التوحيد کہتے ہیں۔ اور اس کا معاملہ (کاروبار ( اسمائے توحید(اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>) کا ورد ہے۔ یعنی آخر چار اسماء کا ورد۔ مگر یہ وظیفہ ظاہری زبان سے نہیں باطن کی زبان سے بغیر نطق کے کرنا ہو تا ہے اور اس کے لیے وقت مقرر نہیں دائمی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:&nbsp;</p>



<p><strong>وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى </strong>(طہ:7(&nbsp;</p>



<p>اور اگر توبلند آواز سے بات کرے تو تیری مرضی وہ تو&nbsp;بلا شبہ جانتا ہے رازوں کو بھی اور دل کے بھیدوں کو بھی“&nbsp;</p>



<p>اس کاروبار کا فائدہ یہ ہے کہ طفل معانی(انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) کا ظہور ہو جاتا ہے۔ اور وہ باطن کی آنکھ سے جلال و جمال خداوندی کوروبرو بغیر کا پردہ کے دیکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ </strong>(القیامۃ:22،23(&nbsp;</p>



<p>کئی چہرے اس روز تر و تازہ ہوں گے اور اپنے رب کے انوار جمال( کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ دیدار بلا کیف و کیفیت اور بلا تشبیہ ہو گا جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ <strong>لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ </strong>(الشوری:11(&nbsp;نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز اور وہی سب کچھ سننے والا ۔&nbsp;دیکھنے والا ہے“&nbsp;</p>



<p>جب انسان اپنے مقصود کو پالیتا ہے تو عقلیں سوچنے سے قاصر ، دل عالم تحیر میں سر گرداں اور زبانیں گنگ ہوتی ہیں۔ حتی کہ صاحب مقام( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا) خود بھی کوئی خبر نہیں دے سکتاوہ کہے بھی تو کیا کہے۔ الله تعالی مثال سے پاک ہے۔ اگر علماء تک ایسی چیزیں&nbsp;پہنچیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ ان مقامات قلوب کو خوب سمجھیں ان کے حقائق کو جاننے کی کوشش کریں۔ اور کسی اعتراض کے بغیر اعلی علیین کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ اس طرح انہیں بارگاہ خداوندی سے علم لدنی حاصل ہو گا اور ذات احدیت<a>( اللہ</a> تعالی کی ذات یکتا) کی معرفت تک رسائی ہو گی۔ وہ ہر گز ہر گز اس مقام کا انکارنہ کریں اور تعرض کی روش سے بچیں۔&nbsp;</p>



<p>        <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ35 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>        </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&#038;title=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/" data-a2a-title="اجساد میں روحوں کی دکانیں فصل3"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علوم کی تعداد کا بیان فصل4</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 04:15:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[اسمائے توحید]]></category>
		<category><![CDATA[طفل معانی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[علم شریعت]]></category>
		<category><![CDATA[علم طریقت]]></category>
		<category><![CDATA[علم معرفت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4915</guid>

					<description><![CDATA[علم ظاہر بارہ فنون پر مشتمل ہے۔ اسی طرح علم باطن کی بھی بارہ شاخیں ہیں۔ اس علم کو عوام، خواص اور اخص الخواص کی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے تقسیم کیا گیا ہے۔  جملہ علوم چار اقسام ہیں 1۔ شریعت <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>علم ظاہر بارہ فنون پر مشتمل ہے۔ اسی طرح علم باطن کی بھی بارہ شاخیں ہیں۔ اس علم کو عوام، خواص اور اخص الخواص کی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے تقسیم کیا گیا ہے۔ </p>



<p>جملہ علوم چار اقسام ہیں</p>



<p>1۔ شریعت کا ظاہری علم مثلاً امر، نہی اور دوسرے احکام۔</p>



<p>&nbsp;2۔۔شریعت کا باطنی علم۔ اسے علم طریقت کہتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;3۔ &nbsp;علم طریقت کاباطن۔ اسے علم معرفت کہتے ہیں۔</p>



<p>4 باطنی علوم کاباطن اسے علم حقیقت کا نام دیا جاتا ہے۔</p>



<p>ان تمام علوم کا حصول ضروری ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان <strong>ہے۔</strong><strong> </strong><strong>الش</strong><strong>ر</strong><strong>يعۃ</strong><strong> </strong><strong>شجرة</strong><strong> </strong><strong>والطريق</strong><strong> </strong><strong>أغصانها</strong><strong> </strong><strong>والمعرفة</strong><strong> </strong><strong>أوراقها</strong><strong> </strong><strong>والحقيقة</strong><strong> </strong><strong>ثمارها</strong><strong> </strong><strong>والقرآن</strong><strong> </strong><strong>جامع بجميعها</strong><strong> </strong><strong>بالدلالة</strong><strong> </strong><strong>والإشارة</strong><strong> </strong><strong>تفسيرا</strong><strong> </strong><strong>وتأويلا</strong>&nbsp;</p>



<p>شریعت ایک درخت ہے۔ طریقت اس کی ٹہنیاں ہیں، معرفت اس کے پتے ہیں اور حقیقت اس کا پھل ہے۔ قرآن &nbsp;تمام دلائل ، اشارات ،تفاسیراور تاویلات &nbsp;کا جامع ہے“</p>



<p>المجمع کے مصنف فرماتے ہیں کہ تفسیر عوام کے لیے ہے اور تاویل خواص کے لیے کیو نکہ خواص ہی رسوخ فی العلم کے حامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ رسوخ کا معنی ہے علم میں ثبات ، استقرار اور استحکام جیسا کہ مضبوط تنے کابلند ترین درخت جس کی شاخیں آسمان تک جا پہنچی ہوں۔ رسوخ فی العلم کلمہ طیبہ کا نتیجہ&nbsp;ہے جو دل کی زمین کو پاک کر کے اس میں کاشت کیا جاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق الراسخون في العلم‘ کا عطف الا الله“ پر ہے (آل عمران:7)&nbsp;</p>



<p>صاحب تفسیر کبیر (امام رازی رحمۃالله عليہ ( فرماتے ہیں کہ کہ اگر یہ(علم باطن)&nbsp;دروازہ کھل جائے توباطن کے سب دروازے کھل جاتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>انسان اللہ تعالی کے امر و نہی کا پابند ہے۔ اسے بارگاہ خداوندی سےیہ حکم&nbsp;مل چکا ہے کہ ان چار دائروں میں سے ہر ایک دائرہ میں نفس کی مخالفت کرے۔&nbsp;</p>



<p>نفس دائرہ شریعت میں مخالف شریعت کاموں کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ دائرہ طریقت میں موافقات کی تلبیس(کسی شخص کا یہ گمان کرتا کہ میں نے استقامت، توحید اور اخلاص کا لباس پہن رکھا ہے لہذا میں اللہ کا ولی ہوں لیکن حقیقت میں وہ لباس شیطانی دھوکہ ہو۔ اسےتلبیس کہتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسے مدعی ولایت کے ہاتھ پر خرق عادت کا ظہور ہو جاتا ہے وہ کرامت نہیں ہوتی بلکہ اسے مخادعہ (استدراج) کہتے ہیں) کا وسوسہ ڈالتا ہے مثلا دعوی نبوت و ولایت اور دائرہ معرفت میں شرک خفی کا وسوسہ ڈالتا ہے جسے وہ اپنے تئیں نورانیات کے دائرے کی چیز سمجھ رہا ہوتا ہے مثلا وہ ربوبیت کے دعوی کے لیے وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ جیسا کہ رب قدوس نے فرمایا</p>



<p><strong>أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ</strong> (الجاثیہ :23 )ذرا اس کی طرف تو دیکھو جس نے بنا لیا ہے اپنا خدا اپنی خواہش کو“ </p>



<p>رہا حقیقت کا دائرہ تو اس میں شیطان، نفس اور ملائکہ داخل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس دائرے میں غیر خدا جل کر خاکستر ہو جاتا ہے۔ جبرائیل آمین نے بارگاہ نبوت میں عرض کی تھی۔&nbsp;</p>



<p><strong>لو دنوت أنملة لاحترقت</strong> اگر میں انگلی کے پورے کے برابر بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا“&nbsp;</p>



<p>&nbsp;اس مقام( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا) پر پہنچ کر بندہ مؤمن اپنے دونوں دشمنوں، نفس اور شیطان سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے۔ اور مخلص شمار ہونے لگتا ہے جیسا کہ رب قدوس&nbsp;کا فرمان مبارک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ </strong>(ص:82-83 ) تیری عزت کی قسم! میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو&nbsp;سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے تو نے چن لیا ہے&nbsp;اور جو بنده حقیقت کے دائرے تک نہیں پہنچ سکتاوہ مخلص نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ بشر ی صفات کی فناء(بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا) بجز تجلی(غیبی انوار جو دلوں پر منکشف ہوتے ہیں) ذات کے ممکن نہیں۔ اور جہولیت معرفت ذات سبحانہ کے بغیر مرتفع نہیں ہوسکتی۔ جب بندہ حقیقت کے دائرے میں پہنچ جاتا ہے توجہولیت مکمل ختم ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں تو اللہ تعالی بندے کو علم لدنی سے نوازتا&nbsp;ہے۔ بغیر کسی واسطہ کے اپنی معرفت عطا کر تا ہے اور بندہ خضر علیہ السلام کی طرح&nbsp;اللہ تعالی کی تعلیم کے مطابق اس کی عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہی مقام مشاہدہ(دل کی آنکھ سے حق کو دیکھنا) ہے جہاں انسان ارواح قدسیہ (عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کو دیکھتا ہے۔ اپنے محبوب نبی کریم محمد مصطفیﷺکو پہچانتا ہے۔ اس کی انتہاء ابتداء کے ساتھ منطبق ہو جاتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام اسے ابدی وصال (اتصال بالحق کا دوسرا نام ہے وصال مخلوق سے انقطع کی قدر ہوتا ہے۔ ادنی وصال دل کی آنکھ سے مشاہدہ ہے۔ جب حجاب اٹھ جاتا ہے اورتجلی پڑتی ہے تو سالک کو اس وقت واصل کہاجاتا ہے&nbsp;)کی خوشخبری دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا </strong>(النساء: 69&nbsp;)اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی“&nbsp;</p>



<p>اور جو اس علم حقیقت(اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں) تک نہیں پہنچاوہ حقیقت میں عالم ہی نہیں&nbsp;اگرچہ اس نے ہزاروں کتب پڑھی ہوں۔&nbsp;</p>



<p>جسمانیت جب ظاہری علوم پر عمل پیرا ہوتی ہے تو جزاء میں اسے صرف جنت ملتی ہے جہاں وہ تجلی صفات(بندے کا صفات خداوندی سے متصف ہونے کو قبول کر لیا بجلی صفات ہے) کاعکس پاتا ہے مگر وہ حریم قدس اور قربت(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے)&nbsp;میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ظاہری علم کا کام نہیں ہے۔ حریم قدس اور&nbsp;قربت پرواز کا عالم ہے۔ پرندہ بغیر پروں کے اڑ نہیں سکتا۔ صرف وہی بندہ ان علوم تک پہنچ سکتا ہے جو علم ظاہر کی اور علم باطنی کے دونوں پر رکھتا ہو جیسا کہ حدیث قدسی ہے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>یا عبدی اذا اردت ان تدخل حرمی فلا تلتفت الی ا</strong><strong>ل</strong><strong>ملک والملکوت والجبروت لان الملک شیطان العالم والملکوت شیطان العارف والجبروت شیطان الواقف من رضی باحدٍ منھا فھو مطرودعندی </strong>اے میرے بندے !جب تو میرے حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو ملک ، ملکوت اور جبروت کی طرف متوجہ نہ ہو۔ کیونکہ ملک عالم کا شیطان ہے۔ ملکوت عارف کا شیطان&nbsp;ہے اور جبروت واقف کا جو ان میں سے کسی ایک عالم سے راضی ہو گیا تو وہ میرے نزدیک مردود ہے“&nbsp;</p>



<p>مقصد یہ ہے کہ اسے قربت حاصل نہیں ہو گی۔ ہاں وہ مطرود الدرجات نہیں ہو گا (یعنی ثواب سے محروم نہیں ہو گا) چھوٹی منزلوں پر قناعت کرنے والے قربت حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مقصد کی پوری لگن نہیں رکھتے۔ گویاوہ ایک پر سے اڑنا چاہتے ہیں۔ (وہ ملک ، ملکوت اور جبروت کی نعمتیں بھی چاہتے ہیں) جب کہ اہل قربت کو تو وہاں تک رسائی ہوتی ہے جہاں وہ کچھ ہو تا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا ‌أُذُنٌ ‌سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ </strong>جونہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے۔ نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی&nbsp;انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے وہ جنت القربت ہے اس جنت میں نہ تو حورو قصور ہیں اور نہ شہد اور&nbsp;دودھ کی نہریں( انسان کو اپنی حیثیت پہچاننی چاہیئے۔ کسی ایسی چیز کا دعوی نہیں کرنا چاہیئے جس کا اسے حق نہیں پہنچتا۔&nbsp;</p>



<p>امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی ایسے آدمی پر رحم فرمائے جس نے اپنی حیثیت کا اندازہ لگایا اور اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھا، اپنی زبان کی حفاظت کی اور اپنی عمر کو ضائع نہیں کیا&nbsp;</p>



<p>عالم کو چاہیئے کہ انسان حقیقی یعنی طفل معانی(انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) کا مطلب سمجھے اور اسمائے توحید( اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>)پر مواظبت اختیار کر کے اس کی تربیت کرے۔ اسے عالم جسمانیت سے نکل کر عالم روحانیت میں آنا چاہیئے۔ عالم روحانیت ، باطن کی دنیا ہے جہاں اللہ تعالی&nbsp;کے علاوہ کوئی نہیں رہتا۔ یہ دنیانور کا گویا ایک صحراء ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ اور طفل معانی اس میں محو پرواز ہے۔ اس کے عجائب و غرائب کو دیکھتا پھر رہا ہے اگر کسی کو خبر دینے کا امکان نہیں۔ یہ ان موحدین کا مقام ہے جو اپنی ذات کو عین وحدت میں فناء کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کے باطن میں جمال خداوندی کا نور ہو تا ہے&nbsp;جسے وہ دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا وہ صرف اللہ ہی کو دیکھتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس یوں سمجھیئے کہ جس طرح انسان سورج کو دیکھے تو دوسری کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح جب انسان مشاہدہ حق میں مستغرق ہو جاتا ہے تو جمال خداوندی کے مقابلے میں وہ کسی اور کو کیسے دیکھ سکتا ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات سے محو ہو جاتا ہے اور سراپا حیرت بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا عیسی ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا : .&nbsp;</p>



<p>انسان انسانوں کی بادشاہی میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا جب&nbsp;تک وہ پرندوں کی طرح دوسری مرتبہ پیدا نہیں ہوتا&nbsp;</p>



<p>یہاں دوسری پیدائش سے مراد طفل معانی کی پیدائش ہے۔ یہ پیدائش روحانی ہے اور یہ پیدائش انسان کی حقیقی قابلیت سے ہوتی ہے۔ اور وہ ہے انسان کا&nbsp;باطن طفل معانی کا وجود صرف اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب علم شریعت اور علم حقیقت یکجا ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچہ والدین کے نطفوں کے اجتماع سے پیدا ہوتاہے جیسا کہ قرآن میں ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ </strong>(الدهر:2&nbsp;)بلاشبہ ہم ہی نے انسان کو پیدا فرمایا ایک مخلوط نطفہ سے“&nbsp;</p>



<p>اس معنی کے ظہور کے بعد بنده عالم خلق سے عالم امر کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ بلکہ تمام عالم عالم الروح کے سامنے ایسے ہی ہیں جیسے قطرہ سمندر کے سامنے۔ اس ظہور کے بعد علوم لدنی روحانی کا فیض با حرف و صوت پہنچتارہتاہے۔</p>



<p>       <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ41 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>       </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/" data-a2a-title="علوم کی تعداد کا بیان فصل4"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
