<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>فراست کی قسمیں &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 23 Dec 2025 07:18:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>فراست کی قسمیں &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>علم وہبی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:06:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[احوال]]></category>
		<category><![CDATA[الہام]]></category>
		<category><![CDATA[علم عطائی]]></category>
		<category><![CDATA[علم لدنی]]></category>
		<category><![CDATA[علم وہبی]]></category>
		<category><![CDATA[فراست کی قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[ماء القدس]]></category>
		<category><![CDATA[مواہب ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7021</guid>

					<description><![CDATA[اصطلاح تصوف میں علم وہبی (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اصطلاح تصوف میں <strong>علم وہبی</strong> (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں،۔</p>
<p>علم وہبی کی تفصیلات درج ذیل نکات میں بیان کی گئی ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>تعریف اور ماہیت:</strong> علم وہبی وہ غیبی معانی ہیں جو <strong>بغیر کسب کے وہبی طور پر</strong> سالک کے دل پر نازل ہوتے ہیں۔ اسے <strong>&#8220;علمِ لدنی&#8221;</strong> یا <strong>&#8220;علمِ عطائی&#8221;</strong> بھی کہا جاتا ہے، جو صرف اولیاءِ کاملین اور مقربین کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ علم براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ سے حاصل ہونے والا عرفان اور حقائق کا نام ہے۔</li>
<li><strong>ذرائع حصول:</strong> یہ علم کتابوں کے مطالعے یا بحث و مباحثے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا طریقہ <strong>الہامات، تجلیات، فتوحات، مکشوفات اور مشاہدات</strong> ہے۔ جب سالک کا باطن صاف ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں وہ علمی راز ودیعت فرما دیتا ہے جس سے حقیقت کے جمال کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔</li>
<li><strong>احوال اور مواہبِ ربانی:</strong> تصوف میں سالک پر طاری ہونے والی خوشگوار روحانی کیفیات کو <strong>&#8220;احوال&#8221;</strong> کہا جاتا ہے، جنہیں &#8220;مواہبِ ربانی&#8221; (اللہ کے عطیات) بھی کہتے ہیں۔ یہ فیوضات اللہ کی طرف سے وہبی طور پر نازل ہوتے ہیں تاکہ بندے کا باطن صاف ہو اور وہ اپنے مولیٰ کے قریب ہو سکے۔</li>
<li><strong>علمِ کسبی سے فرق:</strong> علمِ کسبی یا استدلالی وہ ہے جو انسانی عقل اور دلیل کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، علمِ وہبی <strong>بلا استدلال</strong> حاصل ہوتا ہے اور اس پر سالک کو کامل یقین ہوتا ہے۔ یہ علم دل کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان خیر و شر اور حقائقِ اشیاء کو گہرائی تک دیکھ سکتا ہے،۔</li>
<li><strong>ماءُ القدس:</strong> علمِ وہبی کو <strong>&#8220;ماءُ القدس&#8221;</strong> (مقدس پانی) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک نورانی علم ہے جو سالک کو جسمانی کثافتوں سے پاک کر کے تجلیِ حقیقی اور نورِ قدیم سے مزین کر دیتا ہے۔</li>
</ul>
<p>خلاصہ یہ کہ علم وہبی وہ نورانی فیض ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کے قلب پر القاء فرماتا ہے، جس کے بعد انہیں کائنات کے مخفی اسرار اور الٰہی حقائق کا ادراک بغیر کسی ظاہری وسیلے کے حاصل ہو جاتا ہے،۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> علمِ وہبی کی مثال اس <strong>بارش</strong> جیسی ہے جو بنجر زمین (دل) پر قدرت کی طرف سے برستی ہے اور اسے خود بخود سرسبز و شاداب کر دیتی ہے، جبکہ علمِ کسبی اس محنت اور کنویں کے پانی کی طرح ہے جسے انسان خود کھود کر اور مشقت کر کے زمین تک پہنچاتا ہے۔</p>
<p>علم لدنی<br />
علم وہبی، عطائی اورعلم ربانی کہا جاتا ہے جو بغیر کسی خارجی سبب کے خود بخود قلب میں من جانب اللہ آتا ہو۔<br />
قرآن میں ہے<br />
اٰتَٰینہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً۔( القرآن 18/ 65 ) (تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔<br />
علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں &#8220;یہ آیت علم لدنی کے اثبات میں اصل ہے۔ علم لدنی کو علم الحقیقتہ اور علم الباطن بھی کہتے ہیں<br />
۔[1] حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں۔<br />
والعلم اللدنی وھو الذی لا واسطۃ فی حصولہ بین النفس وبین الباری وانما ھو کالضوء من سراج الغیب یقع علی قلب صاف فارغ لطیف (کذا فی الرسالۃ اللدنیہ ص 28) علم لدنی وہ ہے کہ جس کے حصول میں نفس اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، علم لدنی بمنزلہ روشنی کے ہے کہ سراج غیب سے قلب صاف وشفاف پر واقع ہوتی ہے<br />
۔[2]صوفیائے کرام کی اصطلاح میں ایسے ہی علم کو علم لدنی کہتے ہیں جس میں اسباب ظاہری کا دخل اور واسطہ نہ ہو اور عالم غیب سے براہ راست علم اس کے قلب میں داخل ہو ملائکہ پر جو منجانب اللہ علوم فائض ہوتے ہیں وہ اسی قسم کے ہوتے ہیں قلب میں عام طور پر جو علم داخل ہوتا ہیوہ حواس ظاہری کے دروازوں سے داخل ہوتا ہے ایسے علم کو علم حصولی اور علم اکتسابی کہتے ہیں اور جب کسی کے قلب میں کوئی دروازہ عالم ملکوت کی طرف کھل جائے اور بلا ان ظاہری دروازوں کے کوئی علم قلب میں پہنچ جائے تو ایسے علم کو علم لدنی کہتے ہیں جو علم قلب کے باہر کے دروازہ سے داخل اور حاصل ہو وہ علم حصولی ہے اور جو علم قلب کے اندر کسی باطنی دروازہ سے آئے وہ ” علم لدنی“ اور ” علم وہبی“ اور ” علم حضوری“ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو اسرار غیبی اور باطنی حکمتوں اور مصلحتوں کا علم عطا فرمایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام شریعت کا علم عطا فرمایا تھا<br />
[3]علم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کے ادراک کا نام ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال اور اس کے احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے، اگر یہ علم کسی بشر کے واسطے سے حاصل ہو تو کسبی ہے اور اگر بلاواسطہ حاصل ہو تو علم لدنی ہے۔ علم لدنی کی تین قسمیں ہیں : وحی، الہام اور فراست<br />
[4] اولیاء کا علم حضوری بلکہ حضور سے بھی زیادہ کاشف۔ جس کو علم لدنی کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق اللہ کی ذات و صفات سے ہوتا ہے تو اس میں خطا کا امکان نہیں ہوتا ہے وہ وجدانی اور قطعی ہوتا ہے بلکہ اس علم کا درجہ عام قطعی علوم سے اونچا ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کا علم حضوری و وجدانی ہوتا ہے کیونکہ خود ہی عالم ہے اور خود ہی معلوم۔ اپنی ذات کو جاننے کے لیے کسی تصور کی ضرورت نہیں پڑتی اور اللہ کی ذات سے تعلق رکھنے والے صوفی کا وجدانی علم اس سے بھی بالاتر ہوتا ہے۔ اللہ تو آدمی سے اتنا قریب ہے کہ وہ خود بھی اپنی ذات سے اتنا قرب نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : نحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ یعنی ہم تم سے اتنا قرب رکھتے ہیں کہ تم خود اپنے سے اتنا قرب نہیں رکھتے‘ مگر اے عوامی نظر رکھنے والو! ہم تم کو نظر نہیں آتے۔ پس یہ لدنی علم اولیاء کو پیغمبروں کے توسل سے حاصل ہوتا ہے اگرچہ پیغمبر تک پہنچنے کے درمیانی وسائل کتنے ہی زیادہ ہوں<br />
۔[5]*وحی</p>
<p>اللہ تعالی کا کلام مع الفاظ و معانی بواسطہ جبریل علیہ السلام قلب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے تو وہ وحی اور قرآن کہلاتا ہے.</p>
<p>اگر بغیر واسطہ جبریل علیہ السلام کے صرف معانی کا القاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر ہوتا ہے وہ ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم.</p>
<p>اور کبھی بغیر واسطہ حضرت جبریل علیہ السلام کے دیدار باری تعالی کے حصول پر علم عطا ہوا ہے.</p>
<p>جسے رب تعالی نے:</p>
<p>فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہ مَآ اَوْحٰی(القرآن پ۲۷ ,النجم,آیت۱۰)</p>
<p>&#8220;اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی.&#8221;</p>
<p>سے تعبیر فرمایا.</p>
<p>*الہام</p>
<p>الہام کا لغوی معنی ہے پہنچانا</p>
<p>الہام وہ علم حق ہے جو اللہ تعالی غیبی طور پر اپنے بندوں کے دلوں پر القاء کرتا ہے.</p>
<p>جس طرح رب تعالی نے فرمایا:</p>
<p>قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ(القرآن پ۲۲,سبا,آیت۴۸)</p>
<p>&#8220;فرما دیجیے! بے شک میرا رب حق(دلوں پر) القاء کرتا ہے.&#8221;</p>
<p>*فراست</p>
<p>فراست اس علم کو کہتے ہیں جو صورتوں کے آثار و علامت کو عقلمندی سے دیکھنے کی وجہ سے غیبی طور پر حاصل ہوتا ہے.</p>
<p>قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:</p>
<p>&#8220;اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ&#8221;</p>
<p>مومن کی فراست سے ڈرو بےشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے.(الحدیث, مفہوما)</p>
<p>*الہام اور فراست دونوں سے ہی غیبی چیزوں پر اطلاع حاصل ہوتی ہے.</p>
<p>لیکن فراست میں کچھ چیزوں کی صورتوں کی علامات سے وہ علم حاصل ہوتا ہے</p>
<p>اور الہام میں یہ واسطہ نہیں ہوتا بلکہ قدرتی طور پر اللہ تعالی کی طرف سے فیضان ہوتا ہے.</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/" data-a2a-title="علم وہبی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فراست کی قسمیں(تیئسواں باب)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b3%d9%85%db%8c%da%ba%d8%aa%db%8c%d8%a6%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b3%d9%85%db%8c%da%ba%d8%aa%db%8c%d8%a6%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 02 Nov 2023 10:48:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[اولیا اللہ کی فراست]]></category>
		<category><![CDATA[صدیقین کی فراست]]></category>
		<category><![CDATA[علوم کا فیضان]]></category>
		<category><![CDATA[فراست کی قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[موقنین کی فراست]]></category>
		<category><![CDATA[مومنین کی فراست]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7352</guid>

					<description><![CDATA[فراست کی قسمیں کے عنوان سےتیئسویں باب میں  حکمت نمبر 215 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b3%d9%85%db%8c%da%ba%d8%aa%db%8c%d8%a6%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #ff00ff;">فراست کی قسمیں کے عنوان سےتیئسویں باب میں  حکمت نمبر 215 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔</span><br />
حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ جب بیان میں مستغرق ہو جاتے تھے۔ اور ان کے اوپر علوم کا فیضان ہوتا تھا۔ تو وہ فرماتے تھے ۔ کیا کوئی شخص ہے، جو ہماری زبان سے نکلے ہوئے ان اسرار کو یاد کرے، یا لکھ لے۔ تم لوگ ایک ایسے شخص کے پاس (یعنی میرے پاس ) آؤ۔ جس کو اللہ تعالیٰ  نے علم کا سمندر بنایا ہے۔ یا اس قسم کی بات فرمایا کرتے تھے ۔ اور ان کی مجلس میں ان کے زمانے کے اکابر اور مشہور علماء و صوفیائے کرام حاضر ہوتے تھے ۔ مثلا حضرت عز الدین بن عبد السلام اور ابن حاجب، اور ابن عصفور اور ابن دقیق العبد اور عبدالعظیم منذری و غیر هم &#8211; حضرت عزالدین بن عبد السلام جب حضرت کا کلام سنتے تھے تو فرماتے تھے ۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ  کے ساتھ کئے ہوئے اقرار سے قریب ہے۔<br />
اور حضرت شیخ تقی الدین بن دقیق العبد فرماتے تھے ۔ اللہ کی قسم، میں نے ابوالحسن شاذلی سے زیادہ کوئی عارف باللہ نہیں دیکھا۔ حضرت شیخ ابوالحسن ہر سال قاہرہ تشریف لے جاتے تھے۔ ان کی مجلس میں قاہرہ اور مصر کے اطراف کے لوگ جمع ہوتے تھے ۔ اور وہ لوگوں کو علوم و مواہب ،ر ہانی اور اسرار لدنی سے فیض یاب فرماتے تھے ۔ جب حضرت شیخ ابوالحسن وفات فرما گئے ۔ اور حضرت ابوالعباس مرسی ان کے خلیفہ ہوئے ، تو وہ بھی اس طرح قاہرہ تشریف لے جاتے تھے، جس طرح کہ ان کے شیخ تشریف لے جاتے تھے۔ ان کے پاس مصر کے اکابر اور علمائے کرام کی ایک جماعت جمع ہوئی ۔ ان لوگوں نے کہا &#8211; اے شیخ حضرت شیخ ابواالحسن جب یہاں تشریف لاتے تھے ۔ اور ہم ان کی تشریف آوری سے برکت حاصل کرتے تھے۔ تو ہم ان سے اللہ تعالیٰ  کی معارف واسرار سنتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ  نے آپ کو ان کا قائم مقام اور خلیفہ بنایا ہے۔ لہذا ہم لوگوں کی خواہش ہے، کہ آپ کے بیان سے برکت حاصل کریں۔ حضرت ابو العباس نے ان لوگوں سے فرمایا :- انشاء اللہ کل صبح کے وقت ہم آپ لوگوں کے یہاں آئیں گے ۔ جب صبح ہوئی تو انہوں  نے اپنے مریدین کو مصر کی طرف چلنے کا حکم دیا اور حضرت امام قشیری رضی اللہ عنہ کے رسالہ  قشیریہ کو ساتھ لے چلنے کا حکم دیا۔ ابن صباغ نے فرمایا ہے :۔ ہم رسالہ قشیریہ لے کر حضرت عمرو بن العاص کی جامع مسجد میں پہنچے ۔ ہم نے جامع مسجد کو اہل مصر کے اکابر اور علمائے کرام سے بھری ہوئی پایا۔ حضرت نے فرمایا ۔ اس مجلس میں نقد لینے والے بھی ہیں اور معتقد بھی۔ ابن صباغ نے فرمایا ہے :۔ ہم جامع مسجد کے مشرقی حصہ میں بیٹھ گئے ۔ حضرت نے فرمایا :- رسالہ قشیریہ نکالو۔ میں نے رسالہ نکالا۔ حضرت نے فرمایا ۔ پڑھو ۔ میں نے کہا ۔ کیا پڑھوں؟ حضرت نے فرمایا:- جو  تمہارے  سامنے کھل جائے ۔ لہذا ہم نے کتاب کھولی تو فراست کا باب ہمارے سامنے کھلا۔ میں نے باب فراست کے ابتدائی حصے کو پڑھا۔ جب میں حضرت رسول اللہ ﷺ کی حدیث شریف کو پڑھ کر فارغ ہوا۔ تو حضرت نے فرمایا ۔ کتاب بند کردو۔ پھر فرمایا:۔ فراست کی چار قسمیں ہیں:۔ پہلی قسم ۔ مومنین کی فراست ۔ دوسری قسم &#8211; موقنین کی فراست &#8211; تیسری قسم : اولیا اللہ کی فراست -چوتھی قسم :- صدیقین کی فراست ۔<br />
پہلی قسم مومنین کی فراست :۔ اس کا حال ایسا ایسا ہے۔ اور اس کی مدد اس اس جگہ سے آتی ہے۔ پھر حضرت نے اس موضوع پر بہت بڑی تقریر فرمائی۔ پھر وہ اس موضوع سے موقنین کی فراست کی طرف منتقل ہوئے ۔ اور نہایت اعلیٰ درجے کی تقریر فرمائی ۔ پھر حضرت نے اولیائے کرام کی فراست بیان کرتے ہوئے فرمایا :- اولیائے کرام کی فراست کو فلاں فلاں مقام سے مددملتی ہے اور اس کا حال ایسا ایسا ہے۔ اور اس موضوع پر حضرت نے وہبی یعنی اللہ تعالیٰ  کی طرف سے عطا کی ہوئی تقریر فرمائی۔ جو قطعا غیر کسبی تھا۔ یعنی کتابوں سے اس کا کچھ تعلق نہیں تھا۔ حاضرین مجلس کی عقل گم ہوگئی ۔ اور حضرت اس موضوع میں ظہر کی اذان تک مستغرق رہے۔ اور لوگ روتے رہے اور میں ان کی پیشانی سے پسینہ بہہ کر ان کی ڈاڑھی پر گرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اور ان کی داڑھی لمبی تھی۔<br />
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے لطائف المنن میں بیان فرمایا ہے :۔ کہ میں حضرت شیخ ابوالحسن کے معاملے میں انکار کرنے والوں اور ان کے اوپر اعتراض کرنے والوں میں سے تھا۔ اور یہ انکار اور اعتراض &#8211; کسی ایسی شے کی بنا پر نہ تھا۔ جو میں نے ان سے سنی ہو۔ اور نہ کسی ایسی شے کی بنا پر تھا ، جس کی روایت ان کے بارے میں صحیح ہو ۔ یہاں تک کہ میرے اور ان کے بعض مریدین کے درمیان بحث کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ اور یہ واقعہ ان کی صحبت سے میرے فیض یاب ہونے کے پہلے کا ہے۔ اور میں نے اس مرید سے کہا ۔ صرف علم ظاہر رکھنے والے علم ہی کامل ہیں۔ اور یہ لوگ یعنی صوفیا ئے کرام بڑی بڑی باتوں کا دعوی کرتے ہیں۔ حالانکہ ظاہری شریعت ان کا انکار کرتی ہے۔ اس مرید نے کہا ۔ جب تم شیخ کی خدمت میں حاضر ہو گے ۔ تب تم کو وہ بات معلوم ہو گی ۔ جو شیخ نے مجھ سے اس روز فرمایا ، جس روز تم نے مجھ سے بحث شروع کی ہے۔ پھر اس مرید نے کہا ۔ میں حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو حضرت شیخ نے پہلے ہی مجھ سے فرمایا ۔ یہ لوگ پتھر کے مثل ہیں جو تم سے خطا کر جائے ، وہ اس سے بہتر ہے جو تم کو لگ جائے ۔ یہ سن کر میں نے یہ سمجھا ، کہ میری بات شیخ کو کشف سے معلوم ہوگئی ۔ پھر اس مرید نے کہا :- میری زندگی کی قسم میں بارہ سال سے حضرت شیخ کی خدمت میں ہوں۔ میں نے ان سے کوئی شے ایسی نہیں سنی ، جس کا انکار علم ظاہر کرتا ہو۔ ہاں ، ان لوگوں کے علم کے خلاف ہو سکتا ہے۔ ان کی ایذا رسانی کے لئے ان کی طرف سے کچھ فرضی باتیں نقل کرتے ہیں۔<br />
پھر حضرت شیخ ابوالحسن کے ساتھ میری صحبت کا سبب یہ ہوا ۔ میرے اور اس مرید کے درمیان بحث ہونے کے بعد میں نے اپنے دل میں کہا ۔ اس بحث کو چھوڑو ۔ میں خود جا کر شیخ ابوالحسن کو دیکھونگا ۔ کیونکہ اہل حق کی ایک امارت (امیری) ہوتی ہے، جس کی شان پوشید ہ نہیں رہتی ہے۔ لہذا میں شیخ موصوف کی مجلس میں حاضر ہوا، تو میں نے ان کو وہی باتیں کہتے ہوئے پایا ، جنکا حکم حضرت شارع علیہ السلام نے دیا ہے۔ چنانچہ انہوں  نے فرمایا :- اول :- اسلام ہے۔ اور دوسرا ۔ ایمان ہے۔ اور تیسرا :- احسان ہے۔ اور اگر تم چاہو تو اس طرح کہو :- اول :- عبادت ہے ۔ اوردوسرا: &#8211; عبودیت ہے۔ اور تیسرا یہ عبودت ہے۔ اور اگر تم چاہو تو اس طرح کہو :- اول :- شریعت ہے اور دوسرا: یہ حقیقت ہے ۔ اور تیسرا: تحقق ہے، یا اس کے مثل ۔<br />
اور وہ برابر یہی کہتے رہے۔ اگر تم چاہو تو اس طرح کہو۔ اگر تم چاہو تو اس طرح کہو۔<br />
یہاں تک کہ انہوں  نے میری عقل کو مبہوت کر دیا۔ اور میں نے یہ جان لیا کہ در حقیقت یہ شخص بحر الہٰی اور مد در بانی سے چلو بھر رہا ہے۔ یعنی فیضیاب ہو رہا ہے۔ لہذا میرے دل میں جو کچھ بھی اعتراضات اور شک و شبہات تھے ، سب کو اللہ تعالیٰ  نے دور کر دیا۔ لہذا حقائق ، جو اللہ تعالیٰ  اپنے اولیائے کرام کے قلوب پر فیضان کرتا ہے۔ پھر وہ اس کو بیان کرتے ہیں۔ پہلے وہ مجمل ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ یاد دلاتے ہیں تب ان کے معانی واضح ہوتے ہیں، ان حقائق میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو عقلیں سمجھتی ہیں ۔ اور وہ منقول کے مطابق ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جن کو عقلیں نہیں سمجھتی ہیں۔ لہذا تم ان کو ان کے اہل کے سپرد کر دو اور ان کو سننے کے ساتھ ہی ان پر تنقید نہ کرو ۔ اور حضرت ابن فارض رضی اللہ عنہ کے کلام میں غور کرو :-<br />
فَثَمَّ وَرَاءُ النَّقْلِ عِلْمٌ يَدِقُ عَنْ	 مَدَارِكِ غَايَاتِ الْعُقُولِ السَّلِيمَةِ<br />
 وہاں کتاب کے علاوہ بھی ایک علم ہے۔ جو صحیح عقلوں کی انتہائی سمجھ سے بھی باریک ہے<br />
اس کے باوجود حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ۔ جب  تمہارا صحیح کشف بھی قرآن وسنت کے خلاف ہو تو تم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر عمل کرو اور اپنے کشف کو چھوڑ دو۔ اور تم اپنے نفس سے کہو۔ اللہ تعالیٰ  نے کتاب وسنت میں میری حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔ کشف دالہام میں اس نے میری ذمہ داری نہیں لی ہے۔<br />
اسی طرح حضرت جنید رضی اللہ عنہ نے بھی فرمایا ہے :۔ جب میرے قلب میں کشف سے کوئی نکتہ پیدا ہوتا ہے۔ تو میں اس کو کتاب وسنت کی شہادت کے بغیر قبول نہیں کرتا ہوں ۔ اور اس پر عمل نہ کرنے سے اس کے اہل پر تنقید لازم نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ علم وسیع ہے اور اس کے لئےظاہر اور باطن ہے۔ لہذا اگر تم ان کو نہ سمجھ سکو تو بھی تم ان کو تسلیم کرو۔ اور جن کو تم سمجھتے ہیں ۔ ان کو بھی انہیں  میں شامل کردو جن کو تم نہیں سمجھتے ہو۔ (یعنی تم اپنے علم سمجھ کو چھوڑ کر بے علم اور نا سمجھ بن جاؤ ) حضرت شیخ ابوالحسن رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ۔<br />
صدیقین کے مجلس کے آداب میں سے یہ ہے کہ جو تم جانتے ہو، اس کو بھی چھوڑ دو۔ تا کہ تم پوشید ہ سر کے حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرو۔<br />
یعنی صد یقین ( عارفین ) کے پاس جو پوشیدہ علم ہے۔ اگر تم اس کے حاصل کرنے میں کامیاب ہونا چاہتے ہو۔ تو ان کے اقوال وافعال و احوال کو پرکھنا چھوڑ دو ۔ کیونکہ جب تک تم اپنے علم کے ترازو سے ان کو تولتے اور پر کھتے رہو گے۔ اس وقت تک تم ان کے پوشیدہ علم کی خوشبو کو نہ سونگھ سکو گے۔<br />
 ہمارے شیخ الشیوخ سیدی علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے یہ ہمارے طریقت میں سے وہی شخص کچھ پا سکتا ہے، جو محال کی بھی تصدیق کرے۔ لہذا اے میرے بھائی اگر تم چاہتے ہو کہ عارفین کے اسرار و عطیات کی ہلکی اور خوشبودار ہوا  تمہارے  پاس پہنچے۔ تو تم جو کچھ جانتے ہو اس کوبھی نہ جانی ہوئی چیز وں کی طرح چھوڑ کر لاعلم  بن جاؤ۔ اور اپنے علم وعمل سے ہاتھ دھولو اور صرف ان علوم و معارف کے  محتاج بن جاؤ جو ان کے ہاں ہیں ۔ جیسا کہ ہمارے شیخ طریقت حضرت ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھ سے ایک ایسے شخص نے بیان کیا ، جس پر مجھ کو پورا اعتماد ہے۔ کہ حضرت شیخ ابو الحسن رضی اللہ عنہ حضرت شیخ ابن مشیش رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنے علم کا ترازو لے کر گئے ۔ تو ان کو ولایت کی خوشبو نہیں ملی۔ پھر وہ واپس چلے آئے ۔ پھر اسی طرح وہ دوبارہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ لیکن جیسے گئے تھے ۔ ویسے ہی خالی ہاتھ واپس آئے۔ لیکن جب انہوں  نے ترازو کو چھوڑ دیا۔ اور اپنے علم و عمل سے ہاتھ دھو کر ، ان کے پاس محتاج بن کر گئے ۔ تو اللہ تعالیٰ  نے ان کو علوم و معارف سے مالا مال کر دیا۔ حضرت شیخ ابن مشیش نے ان سے فرمایا: اے ابوالحسن! تم اپنے علم و عمل سے خالی ہو کر اور محتاج بن کر ہمارے پاس آئے۔ تو تم نے ہم سے دنیا و آخرت کی بے نیازی حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ  ہمیں ان کے ذکر سے فائدہ پہنچائے ۔ اور ان علوم و اسرار سے ہم کو فیضیاب فرمائے ۔ جن سے ان کو فیضیاب فرمایا۔ یہاں تک کہ ہم ان کے وسیلے سے ایسی دولت سے مالا مال ہو جائیں ۔ جس کے ساتھ کوئی محتا جی نہیں ہوتی ہے ۔ آمین۔<br />
 اور وہ واردات جو حقائق اور علوم کے ساتھ تجلی کرتے ہیں۔ وہ انتہائی درجہ والوں کے واردات ہیں۔ لیکن ابتدائی درجہ والوں کے واردات &#8212; تو وہ طاقت ور قہاری ہوتے ہیں۔ یا ہلا دینے والے خوف کے ساتھ یا بے قرار کر دینے والے شوق کے ساتھ ، تا کہ ان کو ان کی خواہشات اور عادات سے علیحدہ کر دیں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b3%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a6%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25da%25ba-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%2F&#038;title=%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B3%D9%85%DB%8C%DA%BA%28%D8%AA%DB%8C%D8%A6%D8%B3%D9%88%D8%A7%DA%BA%20%D8%A8%D8%A7%D8%A8%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b3%d9%85%db%8c%da%ba%d8%aa%db%8c%d8%a6%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/" data-a2a-title="فراست کی قسمیں(تیئسواں باب)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b3%d9%85%db%8c%da%ba%d8%aa%db%8c%d8%a6%d8%b3%d9%88%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
