<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مجدد الف ثانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%81-%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%8C%DA%A9%D9%88%DA%88-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%DA%BA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Thu, 05 Jun 2025 09:14:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>مجدد الف ثانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>رسالہ معارف لدنیہ از امام ربانی مجددالف ثانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d8%af%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d8%af%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af%d8%a7%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 25 May 2023 10:33:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[مجدد الف ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[بندہ کی قدرت و اختیار اور اس پر جزا کا مرتب ہوتا]]></category>
		<category><![CDATA[حروف تعریف کی کثرت کی وجہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت مجدد کا جذب و سلوک]]></category>
		<category><![CDATA[حضور انور ﷺ کے فضائل]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدی سے مراد]]></category>
		<category><![CDATA[خارجی صورتوں اور اشکال کا علمی صورتوں کے ساتھ تعلق]]></category>
		<category><![CDATA[ذات حق میں یقین کے تین مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[ذات وصفات حق میں مماثلت کی نفی]]></category>
		<category><![CDATA[ذات وصفات کا بے چون ہونا]]></category>
		<category><![CDATA[سابقین اور محبوبین میں فرق]]></category>
		<category><![CDATA[سالک کی سیر کے انواع و مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[سالک مجذوب اور مجذوب سالک کے مراتب میں فرق]]></category>
		<category><![CDATA[سیر کی حقیقت اور اس کی اقسام]]></category>
		<category><![CDATA[شیون وصفات میں فرق]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کا وجود ذات پر زائد ہے]]></category>
		<category><![CDATA[صورت ایمان اور حقیقت ایمان]]></category>
		<category><![CDATA[صوفیہ اور متکلمین میں معرفت کے متعلق اختلافات]]></category>
		<category><![CDATA[طریقت اور حقیقت سے شریعت کا تعلق]]></category>
		<category><![CDATA[علم کے دو حروف تعریف سے مرکب ہونے کی وجہ]]></category>
		<category><![CDATA[فضائل سلسلہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[قدرت اور ارادہ]]></category>
		<category><![CDATA[کسی توجہ کی برتری طبعی وجہ پر]]></category>
		<category><![CDATA[کفار کے واصل ہونے کی تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[کفر شریعت اور کفر حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[لفظ اللہ میں حروف تعریف کے اجتماع کی حکمت]]></category>
		<category><![CDATA[ما سوی سے قطع تعلق]]></category>
		<category><![CDATA[معرفہ پر حروف تعریف لگانے کی وجہ]]></category>
		<category><![CDATA[معلوم کے ساتھ علم حق کا یقین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام تکمیل اور جمع در تشبیه و تنزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مقام صدیقیت کا منتہی]]></category>
		<category><![CDATA[مکان و زمان اور ان کے لوازم سے تنزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ممکنات کا وجود اور ان کے حقائق]]></category>
		<category><![CDATA[موہوب حقانی کا وجود]]></category>
		<category><![CDATA[واجب تعالی کے ساتھ روح کا اشتباہ]]></category>
		<category><![CDATA[واجب تعالی کے وجود کی تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[وجود صفات سے بعض لوگوں کے انکار کی وجہ]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت ذاتی وصفاتی وافعالی]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت ، شہادت اور صد یقیت]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت خاصه محمدیہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6685</guid>

					<description><![CDATA[رسالہ معارف لدنیہ مصنف حضور امام ربانی مجددالف ثانی اکتالیس متفرق مضامین پر مشتمل رسالہ معارف لدنیہ جس میں اسرار و رموز کا ایک جہاں آباد ہے حقائق و دقائق آنکھوں کو روشن اور دل کو معرفت خدا سے بیداری <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d8%af%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af%d8%a7%d9%84/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1><span style="font-size: 24pt; color: #800080;">رسالہ معارف لدنیہ</span></h1>
<p><span style="font-size: 24pt; color: #800080;">مصنف حضور امام ربانی مجددالف ثانی</span><br />
<span style="font-size: 16px;"><strong><span style="color: #000080; font-family: helvetica;">اکتالیس متفرق مضامین پر مشتمل رسالہ معارف لدنیہ جس میں اسرار و رموز کا ایک جہاں آباد ہے حقائق و دقائق آنکھوں کو روشن اور دل کو معرفت خدا سے بیداری عطا کرنے والے ہیں</span></strong></span><br />
<span style="font-size: 18pt; color: #333333;">بسم الله الرحمن الرحيم</span><br />
<span style="font-size: 18pt; color: #333333;">الحَمدُ للهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الذِينَ اصْطَفَے سِيِّمَا عَلَى نَبِيِّهِ الْمُجْتَىٰ وَرَسُولِهِ المُصطَفٰى محمد المَبْعُوثِ إِلَى كَافَّةِ الوَرىٰ وَعَلَى اٰلِهِ وَأَصْحَابه البَرَرة التقى وَالصَّلوةُ والتَحِيَّةُ عَلَيهِ وَعَلَيهِم فِي الآخِرَةِ وَالأولى اَمَّا بَعدُ . فَهَذِهِ عُلُومٌ الهَامِيَّةٌ وَمَعَارِفُ لَدُنْيَّةٌ سَوْدَهَا الفَقِير الرَّاحِي إِلَى رَحمَةِ اللهِ الغَنِيُّ الوَلِيُّ أحمدُ بن عَبدِ الأَحدِ الفَارُوقِي النَّفَشَبَندِي رَحِمَهُ اللهُ وَرَضِيَ عَنهُ وأوصله إلى غايَةِ مَا يَتَمَنَّاهُ –</span><br />
ترجمہ: سب تعریف اللہ تعالی کیلئے ہے اور اللہ کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو خصوصا اللہ تعالی کے برگزید ہ ر سول احمد مجتبی محمد مصطفی ﷺ پر صلوۃ وسلام ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی طرف رسول بنا کر بھیجا اور آپ کی آل اور تمام . اصحاب پر جو نیک اور پرہیز گار ہیں، دنیا اور آخرت میں صلوۃ و سلام اور تحیتہ ہو ، حمد وصلوٰۃ کے بعد واضح ہو کہ یہ وہ الہامی علوم اور علم لدنی کی معرفتیں ہیں جن کو خدائے بے نیاز و کارساز کی رحمت کے امیدوار، احمد بن عبدالاحد فاروقی نقشبندی نے تحریر کیا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت ورضا کے ساتھ اس کو سرفراز فرمائے اور اس کی آرزؤں کو پورا فرمائے</p>
<h2><span style="color: #ff0000;">معرفت :نمبر 1۔</span><br />
<span style="font-size: 24pt; color: #800080;">لفظ اللہ میں حروف تعریف کے اجتماع کی حکمت  </span></h2>
<p>&#8220;اللہ&#8221; کا مبارک لفظ الف اور لام سے منجملہ آلات و حروف کی تعریف کے ہے اور لفظ &#8216;ہ&#8217; سے کہ وہ بھی منجملہ معرفوں ہی کے ہے، مرکب ہے اور یہ مجموعہ ( یعنی الف اور لام اور ہامل کر) ذات واجب الوجود عز سلطانہ کا علَم( یعنی ذاتی نام) ہے، لہذا اس اسم مبارک میں تین قسم کے معرفہ بنا دینے والے اسباب جمع ہو گئے ہیں، باوجود یکہ ان میں سے ہر سبب اسماء کو معرفہ بنانے کیلئے کافی ہوتا ہے، لیکن یہاں ان تینوں اسباب کے جمع ہو جانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس اسم اعظم کا مسمٰی ( جس کا یہ نام ہے) جل شانہ اپنی کمال بزرگی، درجہ کی بلندی اور مرتبہ کی بڑائی کی وجہ سے کسی طریقے پر بھی معرف ( جانا پہچانا) نہیں ہو سکتا اور کسی طرح بھی معلوم نہیں ہوسکتا، کیونکہ اگر اسے معرفہ بنایا جاسکتا تو ایک آلہ تعریف (معرفہ بنانے کا ذریعہ )ہی اس کیلئے کافی ہو جاتا، کیونکہ مسبب کو موجود کرنے میں کثرت اسباب کا کوئی دخل نہیں ہوا کرتا، بلاشبہ وہ تو کسی ایک سبب کے پائے جانے ہی سے موجود ہو جاتا ہے، پس مسبب ان اسباب میں سے کسی ایک سبب کے پائے جانے سے موجود ہو سکا تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ ان دونوں (ا سم اور مسمٰی) کے درمیان سببیت کا تعلق ہی نہیں ہے، اس لئے جب اللہ تعالی کی شان میں معروف اور معلوم ہونے کا تصور ختم ہو گیا تو اس بارگاہ اقدس تک کسی عالم کا علم نہیں پہنچ سکتا اور اسے کسی معرفہ ساز کی معرفہ سازی مفید نہیں ہوسکتی لہذا حق تعالی کی ذات اس سے کہیں بزرگ تر ہے کہ اس کا ادراک کیا جائے اور اس سے کہیں عظیم تر ہے کہ اسے پہچانا جاسکے اور اس سے کہیں بلند تر ہے کہ اسے جانا جا سکے۔ اس وضاحت سے سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ یہ اسم مبارک اللہ جل شانہ دوسرے اسماء سے الگ ہی ہے اور باقی تمام اسما کیلئے جو احکام ہوتے ہیں یہ ان احکام میں شریک نہیں ہے، پس لا محالہ اسی امتیاز و یکتائی کی وجہ سے یہ اسم حق تعالی و تقدس کی بارگاہ قدس کے لائق ہے۔<br />
یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ جب یہ اسم مبارک اپنےمسمیٰ پر دلالت ہی نہیں کرتا تو یہ نام رکھنے کا فائدہ ہی کیا ہوا؟ اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ نام کیلئے اس لفظ کو مقرر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جس ذات کا اس کے ساتھ نام رکھا گیا ہے، یہ اسم اپنے ماسوا سے ممتاز اور الگ کر دیتا ہے، تا ہم ایسا نہیں ہے کہ اس کے ذریعے سے اس ذات کا علم ہو سکے جس کا وہ نام ہے، لہذا اس مبارک اسم اور دوسرے اسماء کے درمیان ایک دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ وہ اسماء اپنے مسمیات پر دلالت کرتے ہیں اور وہ مسمیات (ان ناموں کے ذریعے سے ) معلوم ہو جاتے ہیں اور یہ علم ( شخصی نام ) اپنے ماسوا سے ممتاز کر دیتا ہے اور اس اسم مقدس میں کسی کا علم تو نہیں پایا جاتا لیکن وہ اپنےمسمٰی کو تمام ماسوا سے ممتاز اور الگ کر دیتا ہے یعنی علم مسمٰی تو نا پید ہے مگر امتیاز از جمیع ما سوا موجود ہے۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر2۔</span><br />
<span style="font-size: 24pt; color: #800080;">معرفہ پر حروف تعریف لگانے کی وجہ </span><br />
الف ولام کے داخل ہونے سے اسم نکرہ اسم معرفہ بن جاتا ہے کیونکہ اس آلہ تعریف( یعنی حرف تعریف) سے وہ معرفہ بن جاتا ہے اور اس اسم مقدس میں الف ولام خود معرفہ پر آیا ہے اور وہ معرفہ &#8221;ہ&#8221; یعنی ضمیر غائب ہے ، جیسا کہ بعض محققین نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام صرف &#8221;ہ&#8221; ہے جو غیب ہو یت پر دلالت کرتا ہے اور الف ولام تعریف کیلئے آیا ہے۔<br />
گو یا اس حرف تعریف کو لانے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مشار الیہ کے تعین میں ضمیر کے ذریعے سے معرفہ ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ایک دوسرا آلہ تعریف ( حرف تعریف ) بھی درکار ہے جو الف اور لام ہے اور لام پر تشدید تعریف میں مبالغہ کیلئے لائی گئی ہے اور جب یہ حرف تعریف باوجود اس مبالغہ کے بھی کافی نہ ہوا اور جس کو معرفہ بنانا تھا اس کا تعین حاصل نہ ہو سکا تو لا محالہ اس پورے مجموعے کو تعریف علمی میں لے گئے( یعنی اس تمام مجموعے کو ذات حق کا نام اور علم قرار دیا )کہ شاید وہاں جا کر وہ تعین پیدا کر سکے مگر یہاں بھی کوئی ایسا تعین جو ذات حق کے معلوم ہونے کا باعث بن سکے، حاصل نہ ہو سکا، زیادہ سے زیادہ بس یہ ہو سکا کہ ماسوٰی سے ایک طرف کا امتیاز حاصل ہو گیا ، پس پاک ہے وہ ذات جس نے مخلوق کیلئے سوائے معرفت سے عاجز ہونے کے اپنی طرف سے کوئی راہ نہیں بنائی ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 3</span><br />
<span style="font-size: 24pt; color: #800080;">علم کے دو حروف تعریف سے مرکب ہونے کی وجہ  </span><br />
اس مقدس علم ( ذاتی نام) کا دو قسم کے حروف تعریف سے مرکب ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کمال عظمت والا اور عقول و افہام کے ادراک سے بالا تر ہونے کی وجہ سے مسمٰی( جس کا وہ نام ہے ) کے تعین میں صرف علمیت اور ذاتی نام ہونا ہے ہی کافی نہیں ہے، لہذا تعریف مذکور کیلئے متعدد اسباب کی ضرورت ہوئی ، اس کے باوجود پھر بھی وہ بالکل معلوم نہ ہو سکا اور قعطا نہ پہچانا جا سکا۔</p>
<p><span style="color: #ff0000;"> معرفت : :نمبر 4</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">حروف تعریف کی کثرت کی وجہ  </span><br />
اگر چہ معرفہ کے وجود میں آلات تعریف ( حروف تعریف) کی کثرت کوکوئی دخل نہیں ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اور صرف ایک آلہ تعریف ( حرف تعریف ) بھی کافی ہوتا ہے لیکن آلات تعریف کو کثرت کے ساتھ لانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا مسمیٰ مبہم و نا معلوم ہے اور وہ سبحانہ وتعالیٰ اور اک سے بہت بعید اور بالاتر ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 5</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ممکنات کا وجود اور ان کے حقائق  </span><br />
حق سبحانہ وتعالی نے اپنی ذاتی شیون( شان کی جمع ) کو جو کہ اس کی ذات کا عین ہیں ، خارج کے اندر واحدیت کے مرتبہ میں الگ الگ جان لیا اور چونکہ علم (یعنی جاننا ) اس بات کا مقتضی ہے کہ وہ( معلومات) ایک دوسرے سے ممتاز ہوں، لہذا ان شیونات نے علم کے خانہ میں تمیز ( ممتاز ہونا) پیدا کیا (یعنی ہرشان ایک دوسرے سے ممتاز ہوگئی ) اور ہر ایک شان خاص امتیاز اور علیحدہ تشخص کی مقتضی ہوگئی اور خانہ علم کے اندران تمیز یافتہ شیونات نے ممکنات کا نام پایا، کیونکہ ممکن اس کو کہتے ہیں جس میں وجود اور عدم دونوں برابر ہوں اور ان شیونات کا بھی یہی حال ہے کیونکہ یہ سب بھی ، وجود اور عدم کے درمیان برزخ ہیں، اپنی ذات کی طرف نسبت رکھتے ہوئے ان کا رخ وجود کی طرف ہوتا ہے کیونکہ شیون خارج میں ذات کاعین ہیں اور تمیز اورتشخص کی طرف نسبت رکھتے ہوئے ان کا رخ عدم کی طرف ہے، کیونکہ وجود کی تمیز عدم سے ہوتی ہے و بضدها تبين الاشیاءکہ ہر شے ہے ممیز اپنی ضد سے( یعنی ہر چیز اپنی اضدادسے پہچانی جاتی ہے ) اور یہ علمی صورتیں خارج میں قطعاً کوئی وجود نہیں رکھتیں اور علم کے خانے سے باہر نہیں آئیں ، بلکہ حق سبحانہ و تعالی ان کے آثار و احکام کے ساتھ خارج میں پہچانا جاتا ہے ، لہذا یہ صورتیں محض علم میں موجود ہوتی ہیں البتہ ان کے احکام و آثار خارج میں پائے جاتے ہیں، لیکن یہ آثار و احکام خارج میں حق تعالی کی ذات کا عین ہیں، کیونکہ خارج میں احدیت مجردہ کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے لہذا عین ذات کے اعتبار سے مطلق ظہور محض وجود کیلئے اور حکمی طور پر یعنی احکام کی ترتیب کے لحاظ سے مطلق ظہور اشیاء کیلئے ہے اور وہ جو نظر آتا ہے کہ یہ صورتیں خارج میں بھی (موجود )ہیں تو محض ایک تو ہم ہے اور غلط قسم کا تصور ہے، جیسا کہ ارباب کشف و عرفان کا ذوق شہادت ( گواہی ) دیتا ہے اور اس تو ہم کا باعث یہ ہے کہ حق سبحانہ وتعالی نے اپنی قدرت کاملہ سے ان علمی صورتوں کو ظاہر وجود کے ساتھ ایسی نسبت عطا فرمادی ہے جس کی کیفیت نا معلوم ہے اور خلق( پیدا کرنے ) سے مراد اس نسبت کو وجود بخشا ہے اور یہ نسبت خارج میں ان کے نظر آنے کا باعث بن گئی ہے جیسا کہ ایک شخص کی صورت کو اس آئینے کے ساتھ جو اس کے سامنے ہو ایک نسبت پیدا ہو جاتی ہے جو کہ اس آئینے میں اس شخص کی صورت نظر آنے کا سبب بن جاتی ہے ، حالانکہ( آئینہ تو کسی کی صورت بھی نہیں ہوتی وہ ) تو اسی طرح اپنی بے رنگی اور صفائی پر قائم ہے (جیسی کہ اس سے پہلے تھی ) پس حق تعالی سبحانہ اب بھی اسی طرح موجود ہے جیسا کہ ازل میں موجود تھا اور اس کے ساتھ کوئی چیز بھی نہیں ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 6</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">سالک کی سیر کے انواع و مراتب  </span><br />
شیون ( شان کی جمع ) نے علم کے خانہ میں ایک دوسرے سے با ہم ممتاز ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا رنگ قبول نہیں کیا اور خارج میں جو کچھ ان کے باہمی امتیاز کے علاوہ نظر آتا ہے وہ ان کے خارجی لوازم اور احکام میں سے ہے، یہی وجہ ہے کہ سالک جب اپنے عین ثابتہ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور وہ عین ثابت اس پر منکشف ہو جاتا ہے تو وہ اس میں خارجی شکلوں کی نوعیت کی کوئی چیز نہیں پاتا اور متمیز شے کے علاوہ کوئی دوسری شے اس پر ظاہر نہیں ہوتی ، اگر اس باہمی امتیاز کے علاوہ کوئی دوسرا رنگ بھی موجود ہوتا ہے تو وہ ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کا جو انبساط (پھیلاؤ) نظر آتا ہے تو وہ اس کی وجہ سے ہے کہ وہ متعدد شیونات پر مشتمل ہے اور اس کا کروی ( کرہ کی شکل کا گول ہونا ) اس وجہ سے ہے کہ بسیط (غیر مرکب ) کی طبیعی صورت کر وی ہی ہوا کرتی ہے۔<br />
اور بعض مشائخ قدس الله اسرار ہم نے جو یہ فرمایا کہ سالک کی سیر کا آخری نقطہ وہی اسم ہے جو اس کے تعین کا مبدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سیر کا آخری نقطہ اس کا عین ثابتہ ہوتا ہے اور اس کے تعین سے مراد اس کا خارجی امتیاز (یعنی خارج میں متمیز ہونا ) ہے اور اس تعین اور تمیز کا نقطہ آغاز( مبدا )اس کا یہی عین ثابتہ ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ تعین سے مراد علمی تعین ہو اور مبدا سے مرادشان الہی ہو ، چونکہ شان خارج کے اندر عین ذات ہوتی ہے اور وہ ذات سے متمیز نہیں ہوتی کہ جس سے وہ کسی چیز کا مبدا بن سکتی ہے اور سیر اس پر ختم ہو سکتی ہے۔<br />
اور عین ثابتہ تک رسائی حاصل کر لینے کے بعد اس کی سیراسی عین ثابتہ ہی میں ہوتی ہے کیونکہ وہ شیونات پر مشتمل ہے جن کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے، اس سیر کو ( صوفیہ کی اصطلاح میں ) سیر فی اللہ کہتے ہیں ، چونکہ اس کا علمی تعین ایک ایسا تعین ہے جو مرتبہ جمع میں پایا جاتا ہے اور جن صفات پر وہ مشتمل ہے وہ صفات الہی ہیں، صفات کوئی نہیں ہیں لہذا یہ در حقیقت سیر فی اللہ ہی ہوتی ہیں، کیونکہ لفظ اللہ سے مراد ذات مع صفات کے ہے، صرف ذات احدیت نہیں ہے اور چونکہ ان شیونات الہی نے علم کے خانہ میں تعین اور تمیز کا رنگ حاصل کر لیا ہے اور اس نسبت سے وہ موجود اور معدوم کے درمیان برزخ ( درمیانی واسطہ )بن گئی ہیں ، لہذا سیر فی الاشیاء ( اشیاء میں سیر ) کو اگر سیر در عالم کہہ دیں تو یہ بھی صحیح ہو سکتا ہے، اسی وجہ سے صوفیا کرام نے فرمایا کہ آخری نقطہ تک رسائی حاصل کر لینے کے بعد بھی نقطہ اول کی طرف واپسی ہوتی ہے اور اس سیر کو صوفیہ کی اصطلاح میں ہے سیر فی الاشیاء باللہ (خدا کےساتھ اشیاء کی سیر کرنا ) کہتے ہیں۔ اور جس کو صوفیہ نے سیر فی اللہ کہا ہے وہ( دراصل ) عاشق کے اندر معشوق کی سیر ہوتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عاشق کو جو کچھ بھی اوصاف اور افعال حاصل تھے چونکہ اس نے ان سب کو معشوق کے حوالے کر دیا ہے اور اپنے آپ کو بالکل خالی کر لیا ہے تو اس کے بعد جو فعل بھی اس سے واقع ہوگا وہ اس کی طرف منسوب نہیں ہوگا بلکہ اس کی نسبت معشوق ہی کی طرف ہوگی اس لئے سیر بھی اسی طرف منسوب ہوگی عاشق کا وجود تو اب بجز ایک مکان کے جس سے مراد محض خلا ہے اور کوئی چیز نہیں ہے، لہذا الا محالہ یہ عاشق کے اندر معشوق ہی کی سیر ہوگی۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 7</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">مقام تکمیل اور جمع در تشبیه و تنزیہ </span><br />
وہ تشبیہ جو تنزیہ کے بعد ظاہر ہوتی ہے ( در اصل )اس کی اپنی عین ثابتہ کا انکشاف ہی ہے اور جو تشبیہ تنزیہ کے ساتھ جمع ہو جاتی ہے وہ یہی تشبیہ ہوتی ہے جو مرتبہ جمع سے تعلق رکھتی ہے اور جو تشبیہ، ظہور تنزیہ سے پہلے پیش آتی ہے اور مرتبہ فرق و امتیاز سے تعلق رکھتی ہے وہ تنزیہ کے ظہور کے وقت محو اور معدوم ہو جاتی ہے اور تنزیہ کے ساتھ جمع ہونے کی قابلیت نہیں ہوتی ۔<br />
اور تشبیہ و تنزیہ کے درمیان جمع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ادراک بسیط کا متعلق (یعنی ادراک بسیط جس سے تعلق رکھتا ہے )جو کہ تنزیہ ہی ہے صفات الہیہ کے پردہ میں( جن پر عین ثابتہ مشتمل ہے ) نزول کرنے کے بعد تشبیہ بن کر علم میں آتا ہے اور وہ ادراک مرکب کا متعلق بن جاتا ہے( یعنی ادراک مرکب اس سے متعلق ہو جاتا ہے )، لہذا تکمیل کا مقام یہی جمع بین التشبیہ والتنزیہ کا مقام ہوتا ہے، کیونکہ صرف تنزیہ والا شخص اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ اپنی قوت مدرکہ میں ذات کو حاضر کر سکے کیونکہ ذات کا علم ان صفات الہیہ کے پردہ کے بغیر جن پر عین ثابتہ مشتمل ہے ہو ہی نہیں سکتا اور عین ثابتہ کا انکشاف اس پر ہوا ہی نہیں ، لہذا وہ شخص جسے مطلوب کا علم ہی نہیں وہ دوسروں کو کس طرح اس کی اطلاع دے سکتا ہے اور ہم مطلوب حقیقی کو صفات کو نیہ کے پردے میں نہیں جان سکتے ، کیونکہ صفات کو نیہ میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اس کا آئینہ بن سکیں ، شاہی عطیات تو شاہی سواریاں ہی اٹھا سکتی ہیں۔<br />
فنافی اللہ اسی شخص کو میسر آتی ہے جو اپنے وجود کے ذرہ ذرہ کو تمام چیزوں کا آئینہ سمجھے اور اس میں اشیاء کا مطالعہ کرے اور اس کا ہرذرہ تمام اشیاء کے رنگ میں رنگا جائے، کیونکہ ذات الہیہ کے مرتبہ میں ہرشان، جو فنا فی اللہ میں معتبر ہے،تمام شیو بات پر مشتمل ہے، کیونکہ وہ ذات سے متمیز اور الگ نہیں ہیں لہذا جس طرح ذات ،سب پر مشتمل ہے اسی طرح اس کی شان بھی سب پر مشتمل ہے، لہذا سالک اپنے ہر ذرہ جامعہ کو ہرشان جامع میں فانی کر دیتا ہے اور وہ ہر ذرہ کی بجائے شیون الہیہ میں سے کسی ایک شان کو موجود پاتا ہے اگر چہ وہ اس کی تفصیل سے واقف نہ ہو سکے، لہذا جب تک اس کا ہر ذرہ جامعیت کی صفت پیدا نہ کر لے اس کو اس فنا کی قابلیت حاصل نہیں ہوتی اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی قدرت مدرکہ کی کمزوری کی بنا پر اپنی جامعیت کا اور اک نہیں کر سکتے ، اگر چہ ان میں در حقیقت یہ کمال موجود ہوتا ہے اور وہ فنافی اللہ کے ساتھ مشرف ہو جاتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جو کوئی بھی اس جامعیت کو حاصل کرلے وہ ضروری ہی فنافی اللہ ہو جائے اور یہ اللہ کا فضل و انعام ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت :نمبر 8</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">وحدت ذاتی وصفاتی وافعالی </span><br />
حق تعالی وسبحانہ کا فضل اور صفت بھی اس کی ذات کی طرح یگانہ ہے جس میں کثرت کی گنجائش قطعا نہیں ہے، حاصل کلام یہ ہے کہ چونکہ حق تعالی و تقدس کی ذات نے بہت سے ایسے امور کے ساتھ جو ایک دوسرے سےمتمیز ہیں تعلق پیدا کر لیا ہے اس لئے اس کے فعل اور صفت نے بھی ان کے ساتھ تعلق پیدا کر لیا ہے کیونکہ یہ دونوں خارج میں عین ذات ہیں ، لہذا جس طرح حق تعالی کی ذات متعد داشیاء کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے متعدد اور مکثر دکھائی دیتی ہے اس طرح اس کا فعل اور صفت بھی اسی تعلق کی بنا پر متعدداور مکثر نظر آتا ہے، مثلاحق تعالی و سبحانہ کا فعل ازل سے لیکر ابد تک ایک ہی فعل ہے وَمَآ أَمۡرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَة ‌كَلَمۡحِۭ بِٱلۡبَصَرِ اور ہمارا امر صرف ایک ہی ہے جیسا کہ آنکھ کا جھپکنا لیکن چونکہ اس فعل کا تعلق متعدد اشیاء کے ساتھ ہوتا ہے، لہذا وہ فعل بھی متعد د نظر آتا ہے اور جیسا کہ حق تعالی کی ذات تمام اضداد کی جامع ہے اسی طرح اس کا فضل اور صفت بھی جامع اضداد ہیں ، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے لہذا وہی ایک فعل کسی مقام پر حیات بخشی کی صورت میں ظہور فرماتا ہے اور دوسری جگہ میں موت طاری کرنے کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور کسی مقام میں اس فعل کو اکرام و انعام کہتے ہیں اور دوسرے مقام میں الم رسانی اور انتقام کے نام سے پکارتے ہیں۔<br />
اسی طرح کلام جو حق تعالی سبحانہ کی صفت ہے وہ بھی یگانہ ہے اور ازل سے لیکر ابد تک وہ اسی ایک کلام کے ساتھ متکلم ہے کیونکہ گونگا ہونا یا خاموش ہونا تو اس کی بارگاہ جل ذکرہ کیلئے جائز نہیں ہو سکتا اور وہی ایک کلام مختلف مواقع کی صورت میں نظر آتا ہے کبھی اسے امر کہتے ہیں اور کبھی نہی کہتے ہیں اورکبھی اسم اور کبھی حرف کہتے ہیں ، وعلی ہذا القیاس۔<br />
اور وہ جو علما نے کہا کہ لا یجری علیہ تعالی زمان یعنی حق تعالی پر زمانے کے احکام جاری نہیں ہوتے اس صورت میں یہی ہے کہ کیونکہ حق تعالی و سبحانہ کے سامنے تو ازل سے ابد تک آن واحد ہے جو حاضر ہے اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے ماضی اور مستقبل کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن چونکہ اسی ایک آن( گھڑی )میں متعدد امور کا ظہور ہوتا ہے اور لوح ہستی پر مختلف چیزیں نظر آتی ہیں لہذا اس تعلق کی وجہ سے وہی ایک آن( گھڑی) بیشمار آنوں اور متعدد زمانوں کی صورت میں نظر آتی ہے۔<br />
اسی طرح حق تعالی و سبحانہ کا وجود جو اس کی ذات کا عین ہے، بسیط حقیقی ،ہے جس میں مرکب ہونے کا کوئی شائبہ بھی نہیں ہو سکتا اور نقطہ کی طرح اس میں بالکل بھی تجزی اور تقسیم جاری نہیں ہو سکتی لیکن بیشمار اشیاء کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے منبسط (پھیلاؤ والی) اور مسطح (سطح کی طرح فراخ اور وسیع )نظر آتا ہے۔<br />
یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے جب کہ یہ علمی صورتیں اس وجہ سے کہ ان کے ساتھ ذات کی نسبت کا ثبوت ہو جاتا ہے تو اس طرح نظر آنے لگتی ہیں کہ گویا ذات کے آئینے میں مقیم اور ثابت ہیں اور اسی طرح یہ علمی صورتیں اسماء اور صفات کے آئینے بھی ہیں اور یہ اسماء اور صفات جو ان میں سے ہر ایک کے آئینے میں ظاہر ہوتی ہیں اور اسی چیز کی ایک خالص صورت ہوتی ہیں لہذ اس سے لازم آتا ہے کہ ذات میں شے کو غیر شے فرض کیا جائے اور انقسام (تقسیم ہو جانے )اور تجزی (اجزاء بن جانے )کے بھی یہی معنی ہوتے ہیں ، اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس اشکال کا جواب چند مقدمات پر مبنی ہے۔<br />
پہلا مقدمہ: تو یہ ہے کہ نقطہ موجود ہوتا ہے اور وہ کسی طریقہ پر بھی انقسام اور تجزی (تقسیم ہو جانے اور جزو جزو بن جانے) کے قابل نہیں ہوتا ، جیسا کہ حکمائے محققین اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے فرمایا ہے۔<br />
دوسرا مقدمہ:دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ دلائل سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دائرہ کا مرکز( ہمیشہ) کے نقطہ ہی ہوتا ہے جو کسی طرح بھی انقسام (تقسیم ہو جانے ) کو قبول نہیں کرتا ہے۔<br />
تیسرا مقدمہ:تیسرا مقدمہ یہ ہے کہ دلائل سے یہ بات بھی ثابت ہو چکی ہے کہ دائرہ کے مرکز میں ایسے خطوط کا نکالناممکن ہے جو دائرہ کے محیط تک جا کرختم ہوں ، بلکہ یوں کہئے کہ وہ محیط کے نقطوں پر جا کر ختم ہوں، کیونکہ جس طرح خط کا مبدا نقطہ ہوا کرتا ہے اسی طرح خط کا منتہا بھی نقطہ ہی ہوا کرتا ہے ۔ پس جب تینوں مقدمات معلوم ہو گئے تو اب سمجھئے کہ جب نقطہ سے بیشمار خطوط نکل سکتے اور حقیقی کثرت کا مبدا بن سکنے کے باوجود نقص نہیں آسکتا اور وہ اسی طرح اپنے غیر منقسم ہونے کی کیفیت پر باقی رہتا ہے تو اگر حق تعالی وسبحانہ کا وجود بھی کثرت وہمی کا مبدا بن جائے اور اس کی ذات کے آئینوں میں کثیر اشیا موجود اور ثابت محسوس ہوں تو اس کی بساطت (غیر مرکب) ہونے میں کوئی نقص لازم نہیں آتا اور وہ بطریق اولی اپنی وحدت محضہ پر برقرار رہتا ہے، پاک ہے وہ ذات جو اپنی ذات، صفات اور اپنے اسماء میں موجودات کے حادث ہونے کی وجہ سے کسی تغیر کو قبول نہیں کرتی ۔ حضرت شیخ اکبر نے فتوحات مکیہ میں فرمایا ہے کہ ہر وہ خط جو ہر مرکز کے کا نقطہ سے محیط کی طرف نکلتا ہے وہ اپنی طرح کے دوسرے تمام خطوط کے برابر ہوتا ہے اور محیط کے نقطہ کی طرف ہی ختم ہوتا ہے اور نقطہ( یعنی مرکز کا نقطہ جس سے یہ تمام مخطوط نکلتے ہیں) باوجود ان خطوط کی کثرت کے جو اس سے محیط کی طرف نکل رہے ہیں ، اپنی ذات میں زیادت و کثرت قبول نہیں کرتا لہذا اس سے ثابت ہو گیا کہ ایک شے سے جو واحد متعین شے اپنی ذات میں کثرت کو قبول نہیں کرتی اس سے کثرت صادر ہو سکتی ہے، پس جس کسی نے یہ بات کہی ہے کہ واحد چیز سے واحد چیز ہی صادر ہوسکتی ہے۔ وہ غلط ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت: :نمبر 9</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">موہوب حقانی کا وجود  </span><br />
موہوب حقانی کے وجود سے مراد اس کےعین ثابتہ کا منکشف ہوتا ہے۔ یعنی محض حق سبحانہ کے فضل اور مہربانی سے کوئی تعینات کے فنا ہو جانے کے بعد اس پر یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ اس کا تعین وہی بسیط ( غیرمرکب ) تعین ہے جس کا تعلق مرتبہ جمع ہے ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 10</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">حقیقت محمدی سے مراد  </span><br />
ذات کی تجلی سے مراد، ذات کا ظہور ہے اور کسی چیز کا ظہور بغیر تعین اور متمیز ہونے کے ناممکن ہے، لہذاذات کی تجلی اور ظہور تعین ہی کے ساتھ ہو سکتا ہے اور یہ تعین اول ہی ہے جو تمام تعینات میں سب سے وسیع تر اور عظیم تر ہے اور اس کو وحدت کہتے ہیں اور وہ اسم جو آں سرور کائناتﷺ آپ پر کامل ترین درود ہوں اور مکمل ترین سلام ہوں کا مبدا تعین ہے،وہ یہی وحدت ہے اور چونکہ سا لک کی سیر کی انتہا سے مراد ا سکا اس اسم تک رسائی حاصل کرنا ہے جو اس کا مبداتعین ہوا ، لہذا تجلی ذات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا خصوصی امتیاز ہوگی اور وہ تعین جو تمام اسماء نسبتوں اور اعتبارات کے بغیر کسی باہمی امتیاز کے اجمالی طور پر مشتمل ہے اس نے واحدنیت کے مرتبہ میں تفصیل اور تمیز پیدا کر لی ہے اور اس کی وہ اقسام پیدا ہوگئی ہیں جو تمام مخلوقات کے تعینات کا مبداء ہیں اور وہ اسکا جو تمام مخلوقات کے تعینات کا مبدا ہیں ان سے مراد وہ صفات اور اسماء ہیں جو اس تعین کے تحت مندرج رہی ہیں وہ جنہوں نے واحدیت کے مرتبہ میں تفصیل حاصل کرلی ہے لہذا دو سرے سالکوں کی سیر کی انتہا انہی اسما اور صفات تک ہوتی ہے، اس لئے دوسروں کو صفاتی اور اسمائی تجلی حاصل ہوتی ہے اور یہ بات کہ تجلی ذاتی اسی اسم کے پردے میں ہوا کرتی ہے جو صاحب تجلی کا مبدا تعین ہوا کرتا ہے، اس کا یہی مطلب ہے۔<br />
لہذا حقیقت محمدی کل ہوگی اور باقی موجودات کے حقائق اس کے اجزا ہونگے اور جو جماعت اطاعت مصطفوی ﷺ کی سعادت سے بہرہ مند ہو چکی ہو اور اتباع کے کمال تک پہنچ چکی ہوا سے بھی اس مناسبت اور متابعت کی و جہ سے تجلی ذاتی سے کچھ حصہ نصیب ہو جاتا ہے، چونکہ ان پر یہ بات منکشف ہوگئی ہے کہ ان کی حقیقت خود تمام موجودات کی حقیقتوں کا عین ہے لہذا انہیں اقسام کے تمایز ( باہمی امتیاز ) اور تفصیل کی تنگی سے رہائی حاصل ہوگئی ہے، گویا کہ ان کا مشہود بھی اقسام کے پردہ کے بغیرہی مقسم ہے اور ان کے مبادی تعینات بھی وہی مقسم ہے اقسام نہیں ہیں ۔<br />
مثال کے طور پر اسم کو لیجئے جو اس کے پردہ میں کہ وہ فی نفسہ ( خود بخود ) اپنے مفہوم پر دلالت کرتا ہے اور وہ کسی زمانے کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا ایک خاص انداز کا کلمہ ہوتا ہے اور یہی وہ پردہ کلمہ کی باقی تمام اقسام سے اس کے تعین اور تمیز کا مبدا ہوا کرتا ہے لیکن جب اس نے اپنے آپ کو فعل اور حرف کا عین پایا اور تفصیل اقسام اور باہمی امتیاز کی تنگی سے اسے نجات حاصل ہو گئی تو اب اس نے اپنا مبداء تعین خوداسی کلمہ کو پایا نہ کہ اس کی کسی قسم کو ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 11</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">خارجی صورتوں اور اشکال کا علمی صورتوں کے ساتھ تعلق  </span><br />
اشیاء کی علمی صورتوں سے مطلب ان کا بارگاہ علم میں ایک دوسرے سے ممتاز ہوتا ہے اور وہ جو متقین صوفیہ نے خدا تعالی ان کی تعداد کو بڑھائے ) فرمایا ہے کہ اشیاء کی صورتیں محض علم ہی میں ہوتی ہیں اور ان کے احکام اور آثار خارج میں پائے جاتے ہیں تو اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا باہمی امتیاز علم ہی میں ہوتا ہے اور خارج میں حضرت حق سبحانہ و تعالی اپنی وحدت ذاتیہ پر ہے، جو ان چیزوں کے احکام و آثار میں ظاہر ہوا ہے اور یہ مطلب نہیں ہے کہ علمی صورتوں سے مراد یہی صورتیں اور شکلیں ہیں جو خارج میں ظاہر ہوتی ہیں کیونکہ یہ صورتیں بھی ان علمی صورتوں کے مقتضیات میں سے ہیں، ان کا عین نہیں ہیں۔<br />
مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ ہر علمی تمیز (دوسرے سے ممتاز ہوتا ) ایک خاص شکل کا مقتضی ہوتا ہے کہ وہ چیز سیدھی ہے یا ٹیڑھی ہے، سیدھی کھڑی ہے یا کبڑی ہو کر کھڑی ہے اور یہ چیزیں ان علمی صورتوں کے آثار ہیں جیسا کہ گرم ہو نا۔ ٹھنڈا ہونا ، خشک ہونا تر ہوتا ، ہلکا ہونا ، بھاری ہونا ،لطیف ہونا اور کثیف ہونا یہ سب ان کے احکام و آثار ہیں اور چونکہ ہر شان جو علم کے اندر تمیز حاصل کرتی ہے وہ بے انتہا شیونات پر مشتمل ہوتی ہے اس لئے لامحالہ علمی صورتوں میں ہرشان کے مطابق بے انتہا تمیزات پیدا ہو گئے اور ہر تمیز ایک الگ حکم اور الگ اثر کا مقتضی ہو گیا اور خارج میں ایک ایسی نا معلوم الکیفیت نسبت کی وجہ سے جو ان چیزوں کو ذات کے ساتھ حاصل ہو گئی ہے ایسا نظر آتا ہے کہ ان کا یہ باہمی امتیاز خارج میں ہے چنانچہ قوت بینائی ، قوت سماعت سے الگ ہوئی اور خارج میں ممتاز ہو گئی اور اسی طرح قوت ذائقہ چکھنے کی طاقت ، قوت شامہ سونگھنے کی طاقت سے اور اسی طرح دوسری قوتیں بھی ایک دوسرے سے ممتاز ہو گئیں۔<br />
لہذا یہ تعین اور تمیز جو علم کے درجے میں ہے اور اس کو ممکن کی حقیقت اور اس کا عین ثابتہ کہہ دیتے ہیں اس کا تعلق مرتبہ جمع سے ہوتا ہے اور ان کے یہ احکام و آثار جو شکلوں وغیرہ کی قسم سے خارج میں پائے جاتے ہیں ان کا تعلق مرتبہ فرق سے ہے کیونکہ وہ اسی تمیز کے ذریعے سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کے ظہور کا منشا یہی فرق ہے جو کچھ مرتبہ جمع سے تعلق رکھتا ہے، وہ حقائق کونی سے متعلق ہے اگر چہ یہ دونوں مرتبے خود ذات ہی میں مندرج ہیں لیکن ان میں سے دوسرے مرتبہ کا اندراج پہلے مرتبے کے واسطے سے ہوتا ہے، بالذات نہیں ہوتا ، لہذا اول مرتبہ چیز کی قسم کے طور پر ہے اور دوسرا چیز کی قسم کی قسم کے طور پر ہے، جب سالک فرق کے تمام مراتب کو طے کر کے جمع کے مرتبہ میں یعنی اپنی عین ثابتہ کے مرتبہ میں پہنچتا ہے تو اس وقت تجلی ذاتی اس کے حق میں اس کے عین ہی کا انکشاف ہوا کرتی ہے، والله سبحانه تعالی اعلم<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت :نمبر 12</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ذات حق میں یقین کے تین مراتب  </span><br />
حق سبحانہ کی ذات کے بارے میں علم الیقین حاصل ہونے سے مرادان آیات ( نشانیوں ) کا شہود ہے جو حق جل جلالہ کی ذات پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ ذات کا شہود و حضور تو صرف اس نفس میں ہوتا ہے جس کیلئے تجلی ہوئی ہو اس کے سوا کہیں اور نہیں ہو سکتا سالک جو کچھ اپنے خارج میں مشاہدہ کرتا ہے وہ سب آثار اور دلائل ہی ہوتے ہیں ، کیونکہ تعینات ذات حق جل جلالہ پر دلالت کرتے ہیں لہذا وہ تجلیات جو صورتوں اور انوار کی شکل میں ہوتی ہیں متجلی لہ (جس کیلئے تجلی ہوئی ہو ) صورت کے سوا ہوتی ہیں ، وہ علم الیقین میں داخل ہیں، جو صورت بھی ہو اور جو نور بھی ظاہر ہو اور جوانوار خواہ وہ نور رنگین ہوں یا بے رنگ اس سلسلے میں سب برابر ہیں، حضرت مخدومی مولوی عبد الرحمن جامی قدس سرہ لمعات میں اس شعر کی تشریح میں فرماتے ہیں ۔<br />
اے دوست ترابہ ہر مکاں می جستم ہر دم خبرت از این و آن می جستم<br />
ڈھونڈتا پھرتا تھا میں اے دوست تجھے کوجابجا اور تھا ہر ایک سے تیری خبر میں پوچھتا<br />
یہ شعر مشاہدہ آفاقی کی طرف اشارہ ہے جو علم الیقین کا فائدہ دیتا ہے اور یہ شہود آفاقی چونکہ خود مقصود سے کوئی خبر نہیں دیتا اور اس کا حضور عطا نہیں کرتا، صرف آثار و علامات ہی کے ذریعہ سے اس کا علم بخشتا ہے جیسا کہ دھواں اور حرارت استدلال اور آثار علامات ہونے کے سوا آگ کے موجود ہونے کا فائدہ نہیں دیتے تو لامحالہ یہ شہود علم کے دائرہ سے باہر نہیں ہے اور عین الیقین کا فا ئدہ نہیں دے سکتا ۔ حضرت قطب الاقطاب ناصر الدین خواجہ عبید اللہ قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ سیر دوطرح کی ہوتی ہے، ایک سیر مستطیل اور دوسری سیر مستد یر سیر مستطیل دوری در دوری ( بہت ہی دور کی سیر ) ہے اور سیر مستدیر قریب در قریب ہو (یعنی بہت ہی قریب کی سیر) سیر مستطیل تو یہ ہے کہ مقصود کو اپنے وائر سے باہر تلاش کیا جائے اور سیر مستد یر خود اپنے دل کے گرد گھومنا اور اپنے ہی اندر سے مقصور کو تلاش کرتا ہے۔<br />
عین الیقین سے مراد بندہ کو اس کے اپنے تعین کا حجاب اٹھ جانے کے بعد حق سبحانہ وتعالی کا شہود حاصل ہوتا ہے اور اس بلند مرتبہ جماعت ( صوفیہ ) کے نزدیک اس شہود کو ادراک بسیط(حق تعالی کے وجود کا ادراک)  سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، یہ ادراک عام لوگوں کو بھی حاصل ہوتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ خواص کیلئے حق سبحانہ وتعالی کے غیر کا وجود انکی آگاہی میں رکاوٹ نہیں ہے اور ان کے شہود کی آنکھوں میں حق سبحانہ وتعالی کے سوا کوئی چیز مشہود نہیں ہوتی ہے عوام کی حالت اس کے بر عکس ہوتی ہے اوریہ ادر اک علم کے منافی ہے وہاں تو حیرت ہی حیرت ہے جیسا کہ علم اس شہود(عین الیقین ) کے منافی ہے، اس طرح عین الیقین اس علم الیقین کا حجاب ہے جیسا کہ شیخ اکبررضی اللہ عنہ نے کتاب الحجب میں بیان فرمایا ہے کہ علم الیقین عین الیقین کا حجاب ہے اور عین الیقین علم الیقین کا حجاب ہے اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ اس شخص کی نشانی جسے کما حقہ معرفت حاصل ہو چکی ہے کہ جب وہ اپنے سر کی طرف رجوع کرتا ہے تو اسے اس کا کوئی علم حاصل نہیں ہوتا ایساہی شخص معرفت میں کامل ہوتا ہے۔ جس کے اوپر معرفت کا کوئی وجہ نہیں ہے۔<br />
حق الیقین سے مراد حق تعالی جل شانہ کا اس کی ذات کے ساتھ شہود ہے اور حق سبحانہ کو اپنا عین جاننا ہے اور یہ حق الیقین بقا باللہ کی صورت میں حاصل ہوتا ہے کہ فنائے حقیقی کے متحقق ہو جانے کے بعدحق سبحانہ اسے اپنے پاس سے موہوب حقانی کے وجود سے مشرف فرما دیتا ہے۔ یہاں پہنش کرعلم اورعین ایک وسرے کے حجاب نہیں رہتے وہ عین شہود میں عالم ہوتا ہے اور عین علم میں شاہد ( صاحب شہودہوتا ہے ) اور یہ تعین جسے (صوفیہ ) عین حق سمجھتے ہیں۔ اس مرتبہ میں تعین کونی نہیں ہے کیونکہ اس کا تو کوئی نشان ہی باقی نہیں رہا بلکہ تعیین حقانی ہوتا ہے جسے اکابر کے ہاں وجود موہوب حقانی کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ او پر گذر چکا ہے اور جو صوری تجلیات والے حضرات اپنی صورتوں اور تعینات کو حق مانتے ہیں وہ تعینات کونی ہوتے ہیں کیونکہ ان پر کوئی فنا طاری نہیں ہوتی اور یہ فرق چونکہ بعض متوسطین راہ پر واضح نہیں ہو سکا تو انہوں نے خیال کر لیا کہ اکا بر صوفیہ حق الیقین میں بھی انہی تعینات کونی کو حق جانتے ہیں اور ان کی یہ جہالت اکا بر قدس اللہ اسرار هم پر طعن کرنے کا باعث بن گئی ہے اور انہوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہمیں پہلے ہی قدم میں جو تجلی صوری کا مقام ہے اور جسے کشف ملکوت سے تعبیر کرتے ہیں ، یہ حق الیقین حاصل ہو جاتا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 13</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">صوفیہ اور متکلمین میں معرفت کے متعلق اختلافات </span><br />
معرفت خداوندی عز و جل صوفیا کرام اور اکثر متکلمین کے نزدیک بالاتفاق واجب ہے، خدا تعالی ان کی مساعی کو مشکور فرمائے لیکن (صوفیہ ومتکلمین کا )ہے اس طریقہ میں اختلاف ہے جو معرفت کی طرف پہنچانے والا ہے، صوفیا کرام فرماتے ہیں کہ معرفت کا طریقہ ریاضت اور تصفیہ باطن ہے اور متکلمین جن کا تعلق اشاعرہ اور معتزلہ سے ہے فرماتے ہیں، اس کا طریقہ غور وفکر اور استدلال ہے۔ اور اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان جو جھگڑا ہے وہ صرف لفظی ہے یعنی اختلاف محض لفظ معرفت کی تفسیر پر مبنی ہے، صوفیا کرام تو معرفت سے ایسی بسیط ذات کی دریافت مراد لیتے ہیں جس کا تعلق وجدان سے ہے (اور ظاہر ہے) کہ یہ تصدیق ایمانی کی صورت سے مختلف چیز ہے اور متکلمین معرفت سے تصدیق ایمانی کی صورت مراد لیتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے معنی کے لحاظ سے معرفت حاصل کرنے کا طریقہ ریا ضت اور تصفیہ باطن ہی ہے اور تصدیق ایمانی کی صورت کے حاصل کرنے کا طریقہ غور و فکر اور استدلال ہی ہو سکتا ہے اور جو علما نے فرمایا ہے کہ سب سے پہلی چیز جو ایک مکلف آدمی پر واجب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے تو وہاں معرفت سے مراد دوسرے معنی کی معرفت ہی ہے پہلے معنی کی نہیں ، کیونکہ پہلے معنی کے لحاظ سے معرفت کا حصول حق الیقین میں ہوتا ہے جو اہل اللہ کے کمال کا آخری نقطہ ہے،<br />
نیز ان دونوں معرفتوں کا فرق ایک دوسری عبارت میں بیان کرتا ہوں ۔ صوفیا کرام کی معرفت کو حق تعالیٰ وسبحانہ کے ساتھ علم حضوری سے تعبیر کرتے ہیں اور جو کہ فنا اور بقا کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے، اس معرفت کو پہچاننے اور پالینے (شناختن اور یافتن )سے تعبیر کرتے ہیں اور متکلمین کی معرفت سے مراد حق تعالی وسبحانہ کا علم حصولی ہے اور جو غور وفکر اور استدلال کا نتیجہ ہوتا ہے، اس کی توضیح یہ ہے کہ ہر وہ علم جو خارج سے حاصل ہو اس سے مراد شے معلوم کی صورت کا حصول ہوتا ہے، یوں کہئے کہ صاحب علم کی قوت مدر کہ میں اس کی جو صورت حاصل ہوتی ہے۔ اس علم کو علم حصولی کہتے ہیں اور جس علم کی یہ کیفیت نہ ہو یعنی وہ خارج سے حاصل نہ ہو بلکہ خود صاحب علم کی ذات سے متعلق ہو اس علم کو علم حضوری کہتے ہیں اور جب عارف اپنی ذات وصفات کی فنا کے بعد بقا باللہ سے مشرف ہو جاتا ہے اور اس کی انا یعنی ہستی اس کے وجود کونی سے بالکل ہی بے تعلق ہو جاتی ہے اور حقیقت پر مطلع ہو جاتی ہے تو وہ لا محالہ علم حصولی سے علم حضوری کے مرتبہ میں منتقل ہو جاتا ہے اور دانستن ( جاننے سے) یافتن( پالینے ) کے درجہ میں رسائی حاصل کر لیتا ہے، کیونکہ یافت ( پالینا ) یا بندہ (پانے والے ) کی ذات سے باہر نہیں ہوتی ۔<br />
ازالہ و ہم:معاذ اللہ ! اس جگہ کوئی سادہ لوح آدمی حلول اور اتحاد کا مفہوم نہ کچھ لے اور اکابرین کے ساتھ کسی قسم کی بدگمانی ظاہر نہ کرے یا بد اعتقادی کے حضور میں پھنس کر ہلاک نہ ہو جائے ، معلوم ہونا چاہئے کہ ولایت کا انداز عقل اور فکر کے انداز سے بلند ہے اور اس کا طریقہ کشف صحیح ہے، غور وفکر اور استدلال کی اس مقام میں گنجائش نہیں ہے۔<br />
پائے استدلالیاں چوبیں بود پائے چوبین سخت بے تمکیں بود<br />
پاؤں استدلال کے ہیں چوب کے کوئی ان پر کب بھروسا کر سکے<br />
حکما اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے حق سبحانہ وتعالی کی ذات کی معرفت کے انکار کے سلسلہ میں جو کچھ کہا ہے تو وہ معرفت تصدیق ایمانی کی صورت میں ہے چنانچہ ان کے انکار کے دلائل سے یہی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ حق تعالی کی ذات کی معرفت خواہ بداہت کے ساتھ ہو یا غور وفکر کے ساتھ دونوں کی دونوں باطل ہیں ۔‘“<br />
اس مبحث کی تفصیل علم کلام کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے نیز انہوں نے معرفت ذات کے انکار سے ذات کی کنہ اور حقیقت مراد لی ہے اور نہ کہ معرفت بوجہ (کسی ایک طرح کی معرفت ) کیونکہ معرفت ذات بوجہ تو سب ہی کو حاصل ہے جیسا کہ ( مثلا )ذات کی معرفت وصف خالقیت کے ساتھ یا رزاقیت کے ساتھ جانتے ہیں ، جیسا کہ ان حضرات نے کہا ہے. واضح رہے کہ کسی چیز کی ایک گونہ معرفت (معرفت بوجہ ) اور وجہ شے( حقیقت شے ) کی معرفت میں بڑا فرق ہے اور یہاں جو ہم بحث کر رہے ہیں وہ درجہ ذات کی معرفت میں کر رہے ہیں ، نہ کہ معرفت ذات بوجہ (یک گونہ معرفت) میں، اگر کوئی کہے کہ یہ توجیہ فعل خلق اور فعل رزق میں تو مسلم ہے کیونکہ کہہ سکتے ہیں کہ معلوم فعل خلق ہے نہ کہ ذات مع فعل خلق، لیکن یہ بات خالقیت میں صحیح نہیں ہو سکتی کیونکہ خالقیت کے معنی تو اس ذات کے ہوتے ہیں جس کے لئے فعل خلق ثابت ہے تو ذات بھی اس صفت کے ساتھ معلوم ہو گئی۔<br />
میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ ذات سے مراد یا تو ذات کا مفہوم ہے یا مصداق ، اگر مفہوم ہے تو وہ عرض عام ہے، لہذ ا معلوم ہونے والی چیز وہی وجہ ہے نہ کہ ذات، اگر مراد مصداق ہے تو اس کا علم کنہ ذات کے علم کو مستلزم ہے، کیونکہ چیز کی حقیقت اور کنہ سے مراد خود وہی چیز ہے لہذا بالفرض اگر اس علم کا تعلق حق تعالی کی ذات سے ہو تو لازمی طور پر وہ حق تعالی کی ذات کی کنہ( حقیقت )کا علم ہو گا ، کیونکہ ذات نہ متجزی ہے نہ متبعض ہے (یعنی نہ اس کے جزو ہو سکتے ہیں نہ ٹکڑے ہو سکتے ہیں ) کہ اس کا کچھ حصہ معلوم ہوا اور دوسرا کچھ حصہ معلوم نہ ہوابلکہ وہ تو بسیط حقیقی (حقیقا غیر مرکب) ہے، لہذا جب فرض کر لیا جائے کہ علم اس کی ذات سے متعلق ہے تو اس سے اس کی ذات کی کنہ ( یعنی حقیقت ) کا علم لازم آتا ہے بر خلاف مخلوقات کے کہ ان کایک گونہ علم (علم بوجہ)ان کی کنہ (حقیقت ) کے علم کو مستلزم نہیں ہے، بلکہ ان کی حقیقت میں سے کچھ اس وجہ( ایک گونہ علم )کے ضمن میں معلوم ہو جاتا ہے اور کنه و حقیقت سے مراد تو پوری حقیقت ہوا کرتی ہے مثلاً انسان کو ایسی چیز کی وجہ سے جان لینا جو اس کی حرکت ہو اس سے انسان کی حقیقت کا کچھ حصہ ہی معلوم ہوسکتا ہے نہ کہ اس کی وہ کنہ اور حقیقت جس سے مراد اس کی پوری حقیقت ہے ، ایسے ہی مثلا اس کا ہنسنا جس کا منشا اس کا تعجب ہے وہ عجیب امور کے ادر اک کر لینے پر دلالت کرتا ہے اس سے بھی انسان کی حقیقت کا ایک جزو ہی معلوم ہو سکتا ہے۔<br />
حاصل یہ کہ جہاں کہیں حقیقت اجزا ء بننے اور حصے ہونے (تبعض وتجزی ) کے قائل ہو وہاں کسی چیز کا ایک گونہ علم کنہ (حقیقت ) کے علم کو مستلزم نہیں ہوتا اور جہاں کہیں وہ چیز بسیط حقیقی(حقیقت غیر مرکب )ہو جو کسی طرح پر بھی حصے ہونے کو قبول نہ کر سکے تو اگر علم اس سے متعلق ہوگا وہ کیسا ہی علم کیوں نہ ہواس کی کہنہ معلوم ہو جائے گی جیسا کہ ذات واجب تعالٰی ہے اور کنہ( ذات حق کی حقیقت ) کی معرفت محال ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، لہذا حق جل وعلا کی ذات کی معرفت مذکورہ معنی میں مطلقا ممنوع ہوگی ، خواہ وہ معرفت کنہ (حقیقت) کی ہو یا بوجہ ( یک گونہ ) ہو کیونکہ حقیقت تو اس بات کی مقتضی ہے کہ وہ شے معلوم کا احاطہ کر لے اور ماسوا سے اسے الگ کر کے پہچان لے، لیکن حق تعالی عز شانہ کی ذات تو کسی شخص کے بھی احاطہ میں نہیں آسکتی وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيۡءٖ مِّنۡ عِلۡمِهِۦٓ اور علم کی رو سے وہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے ہے کیونکہ احاطہ اور تمیز کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چیز محدود ہو جس کا احاطہ اور تمیز حاصل ہورہی ہے اور باری تعالی کی شان میں یہ ممکن نہیں ہے ، لہذا اس کے ساتھ تو علم متعلق ہی نہیں ہو سکتا اور حق تعالی کی ذات کسی کی معلوم نہیں بن سکتی ، الغرض جب اس کی وجوہ کا علم حاصل ہوتا ہے تو لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ان وجوہ کے ذریعے سے ان کو حق تعالیٰ کی ذات کا علم بھی حاصل ہو گیا ہے لیکن اس دقیق فرق کو سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔<br />
بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ جل شانہ کی صفات بھی اس کی ذات ہی کی طرح غیر معلوم ہیں، کسی طرح سے بھی علم کے احاطہ میں نہیں آتیں اور وہ کسی مخلوق کیلئے معلوم بھی نہیں بنتیں ، مثلا حق تعالی کی صفت علم کا انداز ہ وہ نہیں ہے جو مخلوقات کے علوم کا ہوتا ہے، کیونکہ اس صفت کا علم جو مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔ معلوم کے انکشاف میں کوئی دخل نہیں ہوتا ، سوائے اس کے کہ حق تعالی وسبحانہ جیسا کہ اس کا قانون جاری ہے اس صفت کو پیدا فرمانے کے بعد اس کے موصوف میں انکشاف کو بھی خود ہی پیدا فرما دیتا ہے ، اگر اس انکشاف میں صفت علم کی اثر اندازی کے ہم کچھ قائل بھی ہو جا ئیں خواہ فی الجملہ ہی سہی جیسا کہ بعض متکلمین نے کہا ہے اور انہوں نے اس اثر اندازی کو اس میں پیدا کیا ہے، (تو یہ اثر اندازی بھی اس میں اپنی ذاتی نہیں ہے بلکہ خدا ہی کی پیدا کردہ ہے ) اسے موثر ہونے میں کوئی دخل نہیں ہے صرف اتنا ہے کہ اس نام کا اس پر اطلاق کر دیتے ہیں ، اس کے برعکس خالق تعالی شانہ میں صفت علم کی یہ کیفیت نہیں ہے بلکہ اس کو مخلوق کی صفت علم کے ساتھ سوائے نام کے اشتراک اور رسمی اطلاق کے کوئی مناسبت ہی نہیں ہے ، اس طرح بارگاہ حق عز شانہ میں قدرت اور ارادہ کی صفات، تمام افعال کے صادر ہونے کا سر چشمہ (مبدا) کے اور وجود مخلوقات کا منشاء ہیں لیکن یہی قدرت اور ارادہ کی صفات جو مخلوقات میں پائی جاتی ہیں ان کی کیفیت نہیں ہے، بلکہ کسی چیز کے ساتھ اس کی قدرت اور ارادہ کے متعلق ہو جانے کے بعد حق تعالی و سبحانہ ہی قانون قدرت کے طور پر اس چیز کو پیدا کر دیتا ہے اور خود ان کی قدرت کو اس چیز کے وجود میں کوئی دخل نہیں ہوتا ، بجز اس کے کہ ان صفات کا تعلق اس چیز کے ساتھ قائم ہو جانے کے بعد خدا تعالی اس چیز کو پیدا کر دیتا ہے، یہی حال باقی تمام صفات کا ہے اور ہر معلوم جو صاحب علم سے مناسبت نہ رکھتا ہو اس کے علم کی قید میں نہیں آسکتا اور اسے معلوم نہیں ہو سکتا ، یہ علمائے معقول کے نزدیک ایک مسلمہ اصول ہے، لہذاس کی صفات بھی کسی طرح معلوم نہیں ہو سکتیں ، جیسا کہ حق تعالی کی ذات ہے چون اور بیچگون( بے مثل و بے مثال )ہے اسی طرح اس کی صفات بھی بے چون و بیچگون ہیں، چون کو بے چون کی دنیا میں راستہ کیسے مل سکتا ہے۔<br />
سوال:یہاں ایک زبر دست اشکال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب حق تعالی کی ذات اور صفات کا علم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے تو ان کی معرفت بھی محال ہو گی ، پھر معرفت کے واجب ہونے کے کیا معنی ہوں گے؟۔<br />
جواب: میں کہتا ہوں کہ ذات اور صفات میں معرفت سے مراد ذات سے نقیضوں( اس کی ضد بالمقابل) چیزوں کا سلب کر نا نفی کرنا نہ کہ ذات کا علم حاصل کرنا ، مثلاً ذات میں معرفت سے مراد یہ ہے کہ( ہم یہ جان لیں کہ ) وہ جسم نہیں ہے وہ جو ہر نہیں ہے ، وہ عرض نہیں ہے اور مثلاً صفات میں معرفت سے مراد یہ ہے کہ ہم جان لیں کہ کہ اس میں جہالت نہیں ہے، عاجزی نہیں ہے، اندھا پن نہیں ہے، گونگا پن نہیں ہے غرضیکہ ان ہی اضداد کے سلب ہونے( یعنی نفیوں )سے حق تعالی عز سلطانہ کی ذات اور صفات کا وجوب سمجھا جا سکتا ہے ۔<br />
پیش ازیں پے نبرده اند که هست ترجمہ: اس کی ہستی سے زیادہ کچھ نہیں اس کا پتا<br />
سوال اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ حق تعالی کی ذات پر حکم کیا جاتا ہے کہ وہ عالم ہے ، وہ قادر ہے، وغیرہ ذالک اور یہ حکم لگا نا اس بات کو مستلزم ہے کہ ذات کا تصور ہوتا ہے، کیونکہ حکم خواہ ایجابی ہو یا سلبی بغیر موضوع کے تصور کے ہو ہی نہیں سکتا ۔<br />
جواب: تو میں (اس کے جواب میں )کہوں گا کہ ہاں اس قضیہ میں موضوع کا تصور ضروری ور متحقق ہے، لیکن جس چیز کا تصور ہوتا ہے وہ ذات نہیں ہے، حق تعالٰی عز شانہ کی ذات اس سے منزہ اور برتر ہے، لیکن چونکہ یہ متصور تنزیہی ہے جو کہ ذات سے ہی نکلا ہوا ہے، وہ غیر تنزیہی تصور کردہ چیزوں کی بہ نسبت ذات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے، اس کے تصور کو ذات ہی کا تصورسمجھ لیا گیا ہے یہ سمجھ لینا مبنی بر ضرورت ہے، کیونکہ قوت بشریہ حق تعالی شانہ کی ذات کے ادراک سے قاصر ہے مگر اس کے باوجودلوگوں کو احکام کی معرفت کی ضرورت ہے جن کے ذریعے سے اس کی ذات سے تمیز دی جاتی ہے۔بعض محققین متکلمین نے فرمایا ہے کہ معرفت سے مراد یہ ہے کہ حادث اور قدیم کے درمیان امتیاز حاصل ہو جائے ، حضرت امام المسلمین ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد بھی اس معنی میں ہو سکتا ہے کہ سبحانك ما عبدناك حق عبادتك ولكن عرفناك حق معرفتك( خدایا! تیری ذات پاک ہے، جیسا کہ تیری عبادت کا حق تھا ہم عبادت تو نہیں کر سکے لیکن جیسا کہ تیری معرفت کا حق تھا ہم نے معرفت حاصل کرلی ہے پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی طرف مخلوق کیلئے کوئی راستہ ہی نہیں رکھا بجز اس کی معرفت سے عاجز رہ جانے کے لیکن جو معرفت اہل اللہ کے ساتھ مخصوص ہے اس کا ن تحقق (اظہار )طالب کی استعداد کے آئینے کے انداز کے مطابق ہی ہوتا ہے۔<br />
بقدر آئینه تو می نمایدرو ترجمه ترا جلوه بقدر آئینہ ہے<br />
اور اس آئینے کی تنگی اور وسعت صاحب آئینہ کی تنگی اور وسعت کے مطابق ہی ہوتی ہے اور ہر چیز کا رب (تربیت کرنے والا )ہے اس چیز کا ایک خاص سبب اور اس کا قیوم ہوا کرتا ہے، اپنے خاص سبب کے سوا کسی اور میں معرفت نہیں ہوا کرتی اور اپنی حقیقت سے باہر حصول کی کوئی صورت نہیں بنتی<br />
ذر و گر بس نیک و ربس بدبود گرچہ عمر سے تگ زند در خود بود<br />
ہو نیک یا کہ بدہو کوئی ذرہ حقیر بھاگا تمام عمر رہا خود میں وہ اسیر<br />
حضرت خواجہ خواجگان خواجہ بہاؤ الدین نقشبند ی نے اس مضمون کی طرف اشارہ فرمایا کہ فنا اور بقا کے بعد اہل اللہ جو کچھ دیکھتے ہیں وہ اپنے ہی میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ پہچانتے ہیں وہ اپنے ہی میں پہنچانتے ہیں اور ان کی قیمت خود اپنے ہی میں موجود ہوتی وَفِيٓ أَنفُسِكُمۡۚ ‌أَفَلَا ‌تُبۡصِرُونَ اور تمہارے نفسوں ہی میں موجود ہے تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو<br />
اور یہ معرفت خود حیرت ہی ہوتی ہے۔ حضرت ذوالنون مصری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ المعرفة في ذات الله حيرة ، اللہ تعالی کی ذات میں معرفت محض حیرت ہے ) ایک دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ &#8221; اعرفهم بالله اشد تحیر فیہ یعنی اللہ تعالی کے ساتھ عارف تر وہی شخص ہے جس کا تحیر اس ذات میں شدید تر ہو اس کی صراحت فرمائی ہے لیکن اس فقیر یعنی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک معرفت صفات سے مراد بھی صفات کے اندر حیرت ہی ہے جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 14</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">واجب تعالی کے وجود کی تحقیق  </span><br />
واجب تعالی کا وجود جمہور مسلمین کے نزدیک اس کی ذات عز شانہ پر زائد ہے اور حکماء اور شیخ ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ علیہ اور بعض صوفیا کے نزدیک یہ وجود عین ذات ہے اور اس فقیر کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ واجب تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ موجود ہے نہ کہ وجود کے ساتھ. . بر خلاف باقی موجودات کے کہ وہ سب وجود کے ساتھ موجود ہیں اور جو وجود ذات پر محمول ہے وہ عقل کی منترعات( الگ کی ہوئی اورنکالی ہوئی چیزوں )میں سے ہے یعنی عقل وجود کی ذات سے موجود کے وصف کو الگ نکال کر ذات پر محمول کر دیتی ہے اور اگر متکلمین کی مراد وجود زائد سے یہی الگ نکالا ہوا وجود ہے تو ان کی بات درست ہے اور مخالف کے لیے اس میں انکار یا نزع کی کوئی مجال نہیں رہتی اور اگر وہ ایسا وجود مراد لیتے ہیں کہ اس وجود کے ساتھ واجب تعالی موجود ہے جیسا کہ بظاہر ان کی عبارت سے مفہوم ہوتا ہے تو پھر خدشے اور تردد کا مقام ہے اور اگر حکماء اور شیخ ابوالحسن اشعری رحمہ اللہ علیہ اور بعض صوفیا بھی واجب تعالی کو اپنی ذات کے ساتھ موجود کہتے ہوں ، بغیر اس کے کہ وہ وجود کے قائل ہوں اور اسے عین ذات ثابت کریں اور بغیر اس کے کہ وہ دلائل و براہین کے محتاج ہوں اور بیکار مقدمات کا ارتکاب فرما ئیں تو یہ بات زیادہ اقرب اور صحیح ہوگی۔<br />
صوفیوں کے حال پر تعجب : اور ان صوفیوں پر تعجب ہوتا ہے کہ باوجود یکہ وہ ذات حق عز شانہ میں تمام نسبتوں اور تمام اعتبارات کو تو ساقط کر دیتے ہیں اور تنزلات کے مراتب میں انکو درج کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ وجود کو بھی ذات کے مرتبہ میں ثابت کر دیتے ہیں، یہ تو بجز تناقض کے اور کچھ بھی نہیں ہے، اس کے جواب میں یہ نہ کہہ دیا جائے کہ وہ حضرات وجود کو بھی عین ذات تو کہتے ہیں لیکن اس سے وہ نسبتوں اور اعتبارات میں سے شمار نہیں کرتے ، کیونکہ اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ غیبت خارج کے اعتبار سے ہے ذہن کے اعتبار سے نہیں ہے اور ان حضرات کے نزدیک تمام صفات اسی قسم کی ہیں کہ تعقل( سمجھنے )میں تو ذات سے الگ اور مغائر ہیں لیکن خارج میں عین ذات ہیں کیونکہ سوائے ایک ذات احدیت کے ان کے نزدیک کوئی اور چیز موجود نہیں ہے لہذ الازم آتا ہے کہ وہ تمام اعتبارات کو ذات کے مرتبہ میں ہی ثابت کریں اور یہ غلط ہے اور وہ خود بھی اس کے بر عکس کے ہی معترف ہیں، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔<br />
سوال: اگر یہ حضرات فرمائیں کہ ذات سے مراد و حدت ہے جو کہ تعین اول ہے اور اس مرتبہ میں انہوں نے متعین پر تعین کے زائد ہونے کا لحاظ نہیں کیا ہے ، اس مرتبہ میں وہ صرف وجود کا اثبات کرتے ہیں بر خلاف باقی تمام نسبتوں اور اعتبارات کے کیونکہ ان کا لحاظ واحدیت کے درجہ میں ہوتا ہے جو اس سے ایک قدم نیچے کا درجہ ہے۔<br />
جواب: میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ اس تقدیر پر ان کی یہ ساری گفتگو متکلمین کے ساتھ نہیں ملتی ، کیونکہ متکلمین تو ذات سے مراد ذات محض لیتے ہیں جو تمام تعینات سے اوپر ہے اور وجود کو اس ذات پر زائدہ جانتے ہیں اور جو فرق او پر بیان کیا گیا ہے وہ زیادتی کو دور کرنے میں کوئی فائدہ نہیں بخشتا، زائد بہر حال زائد ہے خواہ مرتبہ ادلی میں یا مرتبہ ثانیہ میں، ابوالمکارم رکن الدین شیخ علاؤ الدولہ سمنانی رحمہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ فوق عالم الوجود عالم الملك الودود &#8221; محبت فرمانے والے بادشاہ ( خدا ) کا عالم وجود کے عالم سے اوپر ہے ) اس عبارت کی تصریح یہ ہے کہ وجود ذات سے الگ ہے، مختصر یہ ہے کہ اگر واجب تعالی کو خو داپنی ذات ہی کے ساتھ موجود نہیں اور کسی نئے وجود کے قائل نہ ہوں تو یہ زیادہ بہتر اور مناسب ہے اور اگر وجود کے قائل ہوتے ہیں تو پھر یقینا ذات اور وجود دونوں میں مغایرت ماننی پڑے گی اور ذات حق عز سلطانہ پر اس کے زیادہ ہونے کا قائل ہونا پڑے گا لہذا اس تقدیر پر متکلمین کی بات اس نظریہ کے مخالفین کی بات کے مقابلہ میں صحیح اور درستگی سے زیادہ قریب ہے۔<br />
وجود کا بدیہی اور نظری ہونا :<br />
رہ گئی یہ بات کہ واجب تعالی کا وجود بدیہی ہے یا نظری؟ تو جمہور متکلمین اس کے نظری ہونے کے قائل ہیں اور امام غزالی اور امام رازی رحمہ اللہ علیہما اس کے بدیہی ہونے کا جزم اور یقین رکھتے ہیں ، بعض متاخرین نے ان دونوں قولوں کو جمع کرنے کے لیے کہا ہے کہ یہ بعض لوگوں کی نسبت سے بد یہی ہوتا ہے اور بعض دوسرے لوگوں کی نسبت سے نظری ہوتا ہے اور اس فقیر کے نزدیک صحیح یہی ہے کہ وہ مطلقاً بدیہی ہے اور بعض لوگوں پر اس کا مخفی رہ جانا اس کے بدیہی ہونے کے منافی نہیں ہے، کیونکہ بدیہی ہونا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ سب لوگ اسے جان لیں بلکہ بہت سے اہل عقل نے تو بعض کھلی بدیہی چیزوں کا بھی انکار کر دیا ہے اور یہ حضرات واجب تعالی کے وجود پر دلیلیں لائے ہیں، وہ سب اس کے بدیہی ہونے پر متنبہ کرتی ہیں جس طرح محسوسات کے ادراک میں یہ شرط ہے کہ حس ظاہری آفات سے صحیح سالم اور محفوظ ہو اور جس طرح ان آفات کے پائے جانے کی وجہ سے ان کا ادراک نہ کر سکتا محسوسات کے بد یہی ہونے کے منافی نہیں ہوتا بالکل اسی طرح عقلی معاملات کے ادراک میں قوت مدرکہ کا آفات معنویہ اور امراض خفیہ پوشیدہ سے سلامت اور محفوظ ہونا بھی شرط ہے اور بوجہ آفات کے ان کا ادراک نہ کر سکنا ان کے بدیہی ہونے کے منافی نہیں ہوگا، جو جماعت اس کے بدیہی ہونے پر یقین رکھتی ہے حق سبحانہ نے اس کے حال کی خبر دیتے ہوئے فرمایا قَالَتۡ ‌رُسُلُهُمۡ أَفِي ٱللَّهِ شَكّیعنی ان کے رسولوں نے کہا کہ کیا تمہیں خدا کے بارے میں شک ہے چونکہ یہ مضمون بعض کم فہم لوگوں کے لیے واضح نہیں تھا لہذا اس کے بعد ان الفاظ کے ساتھ تنبیہ فرمادی فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ کیا تمہیں اس خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 15</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">صفات کا وجود ذات پر زائد ہے </span><br />
اہل حق صفات کے وجود کے قائل ہیں اور ان کے وجود کو ذات کے وجود پر زائد لکھتے ہیں، وہ حق تعالی سبحانہ کو علم کے ساتھ عالم اور قدرت کے ساتھ قادر جانتے ہیں وعلی ہذا القیاس اور معتزلہ وشیعہ اور حکما ءصفات کی نفی کے قائل ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جو چیز صفات پر مترتب ہوتی ہے وہ خود ذات پر ہی مترتب ہوتی ہے، مثلا مخلوقات میں (چیزوں کا) انکشاف کو ذات حق عز سلطانہ پر مترتب کہتے ہیں لہذا اس اعتبار سے ذات علم کی حقیقت ہے اور اس طرح قدر ت اور وحدت الوجود کے قائل بھی صفات کی نفی کے مسئلہ میں معتزلہ اور حکما ءکے ساتھ متفق ہیں۔<br />
سوال اگر کوئی شخص یہ کہے کہ صوفیہ مذکورہ صفات کو مفہوم اور تعقل عقل اور سمجھےمیں آنے ) کے اعتبار سے غیر ذات کہتے ہیں اور تحقق یعنی وجود خارجی کے اعتبار سے عین ذات کہتے ہیں لہذا ان کا مذہب حکما اور متکلمین کے مذاہب کے درمیان ایک واسطہ ہوگا کیونکہ حکما صفات کو مطلقا عین کہتے ہیں اور متکلمین مطلقا غیر کہتے ہیں اور یہ لوگ خارج کے اعتبار سے عین کہتے ہیں اور مفہوم کے اعتبار سے غیر کہتے ہیں ۔<br />
جواب:تو میں اس کا یہ جواب دوں گا کہ ہم یہ بات تسلیم نہیں کرتے کہ حکما ء(خارج کی طرح ) تعقل اور مفہوم کے اعتبار سے بھی (صفات کو) عین ذات کہتے ہیں، بلکہ سارا جھگڑا وجود خارجی ہی میں ہے ، وجود ذہنی میں نہیں ہے، صاحب مواقف نے اس کی وضاحت فرمائی ہے، متکلمین صفات کو ذات پر ایک زائد وجود کے ساتھ خارج میں اور حکما اور معتزلہ خارج میں (صفات کو)عین سمجھتے ہیں، مذکورہ صوفیہ بھی ۔ اس مسئلہ میں حکما اور معتزلہ کے ساتھ قطعا متفق ہیں لیکن یہ حضرات اس مسئلہ کے مذکورہ فرق سے اپنے آپ کو حکما اور معتزلہ سے الگ کر لیتے ہیں اور صفات کی نفی سے انکار کر دیتے ہیں لیکن آپ جانتے ہیں کہ اس فرق سے انہیں کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔<br />
ان کے شیخ اور رئیس نے کہا ہے کہ کچھ لوگ صفات کی نفی کی طرف گئے ہیں لیکن انبیا اور اولیا کا ذوق اس کے خلاف شہادت دیتا ہے اور کچھ لوگوں نے صفات کا اثبات کیا ہے اور انہوں نے صفات کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ذات سے پوری طرح بالکل غیر ہوتی ہیں لیکن یہ کفر محض ہے اور خالص شرک ہے۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جو شخص ذات کے اثبات کا قائل ہو اور صفات کا اثبات نہ کرتا ہو وہ جاہل اور بدعتی ہے اور جو شخص ایسی صفات کے اثبات کا قائل ہو جو ذات سے بالکلیہ( پوری طرح ) مغائر ہوں تو ایسا شخص ثنوی ہے( یعنی دو خداؤں کو مانے والا) کافر ہے اور اپنے کفر کے ساتھ ساتھ جاہل بھی ہے۔<br />
یہ گفتگو مطلق نفی اور مطلق اثبات کے درمیان واسطہ کو ثابت کرتی ہے، مطلقا نفی کرنے والوں سے مراد حکما کو لیا ہے اور مطلقاً اثبات کرنے والوں سے مراد متکلمین کو لیا ہے، حالانکہ آپ معلوم کر چکے ہیں کہ یہ مذ ہب ( ان دونوں مذ ہبوں کےدرمیان )واسطہ نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ بھی نفی کرنے والوں میں داخل ہیں۔<br />
صوفیوں کے قول کی تردید :<br />
ان لوگوں کی جسارتوں( دلیریوں) پر تعجب ہوتا ہے کہ محض اپنے کشف پر اعتماد کرتے ہوئے ایک ایسے اعتقاد کو جس پر اہل سنت و جماعت کا اجماع ہو غلط قرار دیتے ہیں اور اس اعتقاد کے رکھنے والوں کو کافر اور ثنوی (دو خداؤں کا قائل ) کہہ دیتے ہیں ، اگر چہ انہوں نے کفر اور ثنویت (کے الفاظ ) سے حقیقی کفر اور حقیقی معنویت مراد نہ بھی لی ہو لیکن ایک درست اعتقاد کے بارے میں ایسا لفظ زبان سے نکال دینا بہت ہی ناپسندیدہ اور بڑی ہی خراب بات ہے، کشف میں یہ لوگ کتنی غلطیاں کرتے ہیں لیکن اتنا نہیں سمجھتے کہ شاید کشف بھی اس قسم کا ہو اور دو اعتقاد صحیح کے ساتھ ٹکرانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔<br />
جدا گانہ مقالہ:<br />
اس فقیر کا اس مسئلہ پر جدا گانہ قول ہے اور وہ یہ ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ہی ان تمام امور میں جو صفات پر مترتب ہوتے ہیں کافی ہے اس معنی میں نہیں جو علما معقول نے کہا ہے کہ (چیزوں کا) انکشاف مثلا (مخلوقات میں ) صفت علم پر مترتب ہوتا ہے اور وہ ( واجب تعالی میں ) ذات ہی پر مترتب ہوتا ہے ، بلکہ اس معنی میں کہ ذات حق عز سلطانہ اس انداز پر مکمل اور مستقل ہے کہ وہی سب کا کام کر لیتی ہے، یعنی جو کام علم و دانش سے کرنا چاہیے ذات حق عز سلطانہ بغیر صفت علم ہی کے وہ کام کر لیتی ہے، ایسے ہی جو چیز صفت قدرت کی اثر اندازی سے ظہور پذیر ہوتی ہے، ذات حق تعالی اس چیز کے ظہور پذیر ہونے میں بغیر اس صفت کےبھی کافی ہے۔<br />
ایک مثال: میں ایک مثال بیان کرتا ہوں جو جلدی سمجھ میں آنے والی ہے کہ جو پتھر خوداپنے طبیعی تقاضے سے اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے اس کی ذات ہی علم ، قدرت اور ارادہ کا کام کر لیتی ہے بغیر اس کے کہ اس میں علم ، قدرت اور ارادہ کی صفتیں پائی جائیں ، یعنی علم کا تقاضا یہ ہے کہ پھر ثقل( بھاری) ہونے کی وجہ سے نیچے کی طرف متوجہ ہو اور اوپر کی طرف متوجہ نہ ہو، ارادہ علم کے تابع ہے، ارادے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نیچے کی جانب کو ترجیح دے اور حرکت مقتضائے قدرت ہے ، پس پتھر کی اپنی طبیعت خودان تینوں صفتوں کا کام بغیر ان صفات کا لحاظ کیے ہوئے کر لیتی ہے۔<br />
لہذ او ا جب تعالی میں وَلِلَّهِ ‌ٱلۡمَثَلُ ٱلۡأَعۡلَىٰۚ “ اور اللہ تعالی کے لیے تو بلندترین مثال ہونا ثابت ہے<br />
اس کی ذات بھی اسی طرح تمام صفات کا کام کر لیتی ہے اور ان امور کے مترتب ہونے میں اسے صفات کی کوئی احتیاج لاحق نہیں ہوتی لیکن انکشاف، تاثیر اور تخصیص مثلا علم ، قدرت اور ارادہ کی صفت پر مترتب ہوتے ہیں، وہ دانا ہے علم کے ساتھ نہ کہ ذات کے ساتھ ، وہ موثر ہے قدرت کے ساتھ، مخصص ہے، ارادہ کے ساتھ ، اگر چہ یہ بات ہے کہ جو کچھ ان صفات کے ساتھ کیا جانا چاہیے ذات حق تعالیٰ ہی اس میں کافی ہے لیکن یہ معانی صفات پر ہی مترتب ہیں ، ذات کو بغیر معانی کے پائے جانے کے عالم قادر اور صاحب ارادہ نہیں کہہ سکتے ، مثال کے طور پر اس پتھر میں اگر علم ، قدرت اور ارادہ کی صفت کو وجود بخش دیں تو پتھر کو صاحب علم اور صاحب قدرت اور صاحب ارادہ کہہ سکتے ہیں لیکن ان زائد معانی کے وجود کے بغیر وہ ان صفات کے ساتھ متصف نہیں ہوتا اگر چہ وہ خود ہی ان صفات کا کام کر لیتا ہے اور اس میں شبہ بھی نہیں کہ اس میں ان معانی کا وجود اس کے کمال کا باعث ہے، لہذ اوا جب تعالی میں بھی اگر چہ ذات عز سلطانہ ہی ان تمام اشیا میں جو صفات پر مترتب ہوتی ہیں کافی ہے لیکن خود ان معانی کاملہ کے ثبوت میں صفات درکار ہیں اور ذات حق عز سلطانہ ان معانی کے پائے جانے سے صفات کمال کے ساتھ متصف ہو جاتی ہے۔<br />
اعتراض:یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ اس تقدیر پر تو ان صفات کے ساتھ جو ذات کی مغائر ہیں حق کی تعمیل پذیری لازم آتی ہے اور اس بات سے ذات میں نقص ہونا اور غیر ذات کے ساتھ مل کر اس کا تکمیل پذیر ہونا لازم آتا ہے اور یہ بات نا ممکن ہے۔<br />
جواب :میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ حق تعالیٰ کے لیے اپنے غیر سے صفت کمال کا استفادہ کرنا محال ہے اس کا بذات خود صفت کمال کے ساتھ متصف ہونا محال نہیں ہے ، اگر چہ وہ صفت (ذات کا ) غیر ہو اور متکلمین کے مذہب سے دوسری شق لازم آتی ہے پہلی شق لازم نہیں آتی ، جیسا کہ سید السند رحمۃ اللہ علیہ نے شرح مواقف میں تحقیق کے ساتھ بیان فرمادیا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 16</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ذات وصفات کا بے چون ہونا </span><br />
حق تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بالکل یگانہ ہے ،اس کی ذات اورصفات مخلوقات کی ذات اور صفات سے قطعاً مختلف ہیں اور کسی طرح بھی ان سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی ہیں، لہذ ا حق سبحانہ مثل سے یعنی مماثل موافق سے بھی منزہ و پاک ہے اور ند یعنی مماثل مخالف سے بھی حق تعالی شانہ کے معبود ہونے ، صانع ہونے اور واجب ہونے میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ بعض صوفیا جو وحدت الوجود کے قائل ہیں ، تو وہ موجود ہونے میں بھی شریک کی نفی کرتے ہیں اور حق تعالیٰ کے سوا کسی چیز کو موجود نہیں مانتے ، جس چیز سے وہ اس سلسلہ میں استشہاد (دلیل ) کرتے ہیں، وہ کشف ہے اور یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس قول سے بہت سے اصول دین کا انہدام لازم آتا ہےاور بعض اصول دین کو ا(س قول )سے تطبیق دینے میں انہوں نے تکلفات سے کام لیا ہے لیکن اس کی پوری پوری مطابقت میں کلام ہے، بعض دوسرے اصول ایسے بھی ہیں جو بالکل ہی تطبیق کے قابل ہی نہیں ہیں، مثلاً واجب تعالی جل و علا کی صفات کی نفی کا مبحث۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 17</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">مکان و زمان اور ان کے لوازم سے تنزیہ </span><br />
حق تعالی سبحانہ کسی جہت میں نہیں ہے، وہ مکانی اور زمانی نہیں ہے، حق تعالی کا یہ ارشاد ٱلرَّحۡمَٰنُ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ ‌ٱسۡتَوَىٰ &#8221; خدائے مہربان عرش پر ممکن ہو گیا ہے اگر چہ بظاہر ثبوت جہت اور ثبوت مکان کا وہم پیدا کرنے والا ہے، لیکن در حقیقت اس سے جہت اور مکان کی نفی ہو جاتی ہے، کیونکہ آیہ کریمہ سے جہت و مکان کا اثبات ایسے مقام( عرش ) کے لیے کیا ہے جہاں نہ کوئی جہت ہے ، نہ کوئی مکان ، یہ تو خدا تعالی کی بے جہتی اور بے مکانی ہی سے کنایہ ہے اسے اچھی طرح سمجھ لیجئے اور وہ جسمانی بھی نہیں ہے ، جو ہر اور عرض بھی نہیں ہے ، وہ کسی قسم کے اشارہ کے قابل بھی نہیں (یعنی اس کی طرف بھی اشارہ نہیں کیا جا سکتا ) حرکت اور تبدیلی کے تصورات بھی اس پر درست نہیں بیٹھتے ، اس کی ذات قدیم کے ساتھ حوادث کا قیام بھی جائز نہیں ہے ، اعراض محسوسہ اور اعراض معقولہ میں سے وہ کسی عرض کے ساتھ متصف نہیں ہے ، نہ وہ عالم میں داخل ہے اور نہ ہی عالم سے خارج ہے ، نہ وہ عالم( کائنات ) کے ساتھ متصل ہے اور نہ عالم سے متصل (جدا) ہے ، عالم کے ساتھ اس کی معیت علمی ہے ، ذاتی نہیں ہے، اس کا عالم کو محیط ہو نا علم ہی کے ساتھ ہے ، ذات کے ساتھ نہیں ہے ، وہ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا ، وہ کسی چیز کے ساتھ مل کر کے متحد( یک جان ) نہیں ہوتا۔<br />
سوال: اگر کوئی شخص دریافت کرے کہ بعض صوفیہ جو ذاتی معیت اور احاطہ کے قائل ہیں اس سے ان کی مراد کیا ہے؟<br />
جواب:میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ ان حضرات نے ذات سے مراد اس کا تعین لیا ہے جس کو وحدت کہتے ہیں کیونکہ وہ حضرات اس مرتبہ میں تعین کو حق عزسلطانہ پر زائد ہونے کا اعتبار نہیں کرتے لہذا اس مرتبہ کے ظہور کو تجلی ذاتی کہتے میں اور اس کی اسی سرایت کو وہ ذاتی معیت اور احاطہ کہہ دیتے ہیں اور حضرات متکلمین ، خدا تعالی ان کی کوششوں کو مشکور فرمائے ، ذات سے ذات محض مراد لیتے ہیں جو کہ تمام تعینات سے بالا تر ہے اور خواہ کوئی تعین بھی ہوا سے وہ ذات حق عز شانہ پر زائد لکھتے ہیں اور اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اس ذات کو عالم کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہے، کیا احاطہ کیا معیت ، کیا اتصال اور کیا انفصال (یعنی نہ نسبت احاطہ ہے۔ نہ نسبت معیت ہے۔ یہ نسبت اتصال ہے اور نہ نسبت انفصال ) حق تعالی شانہ کی ذات کسی طور پر بھی علم میں نہیں آسکتی وہ مطلق ہر لحاظ سے نا معلوم الکیفیت ہے، اسی طرح عالم کے ساتھ اس کی نسبت بھی ہر لحاظ سے نا معلوم الکیفیت ہےاسے متصل منفصل محیط اور ساری (سرایت کرنے والا ) کہنا محض جہالت کی وجہ سے ہے متکلمین اور دوسرے بزرگ اس فیصلہ سے متفق ہیں لیکن متکلمین کی نظر جو حضرت محمد مصطفی سﷺ کی پیروی کے نور کا سرمہ لگائے ہوئے ہے صوفیہ کرام کی نظر کے مقابلے میں جو کہ احاطہ ذاتی کے قائل ہیں بہت ہی باریک بین واقع ہوئی ہے اور ان لوگوں کے ادراک کا سر چشمہ کشف ہے ہر شخص نے اپنے اپنے ادراک کے انداز کے مطابق ہی فیصلہ دیا ہے، وہ تمام اختلافات جو متکلمین اور بعض متاخرین صوفیہ کے درمیان واقع ہوئے ہیں اسی طرح کے ہیں ، ان میں حق متکلمین کے ساتھ ہے اور صوفیہ کی نظر نے کوتاہی کی ہے اور متکلمین کی بات کی حقیقت کو یہ لوگ دریافت<br />
ہی نہیں کر سکتے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 18</span><br />
<span style="font-size: 24pt;">معلوم کے ساتھ علم حق کا یقین  </span><br />
حق سبحانہ وتعالی ایک ایسے علم کے ساتھ جو اس کی ذات پر زائد ہے تمام معلومات کا عالم ہے خواہ وہ معلوم واجب ہو یا ممکن اور علم ایک حقیقی صفت ہے جو کہ ذات پر زائد ہے اور اس کا تعلق معلوم کے ساتھ ہوتا ہے، جس طرح یہ بات معلوم نہیں کہ واجب تعالیٰ میں اس کی صفت کی کیا کیفیت ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ معلومات کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے، صرف اتنا ہی ادر اک میں آتا ہے کہ یہ تعلق معلوم کے انکشاف کا سبب ہوا ہے، بہت سے لوگ چونکہ اس حقیقت پر مطلع نہیں ہو سکے اور انہوں نے غائب کو حاضر پر قیاس کر لیا ہے اس لیے وہ اضطراب اور حیرت میں گرفتار ہو گئے ہیں<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت: :نمبر 18</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">قدرت اور ارادہ </span><br />
قدرت اور ارادہ حق تعالی شانہ کی ذات پر زائد صفات ہیں، قدرت سے مراد یہ ہے کہ حق تعالی کے لیے عالم کی ایجاد(پیدا کرنا) بھی درست ہے اور اس ایجاد عالم (دنیا کے پیدا کرنے)کو چھوڑ دینا ( پیدا نہ کرنا )بھی درست ہے، اس ایجاد اور ترک ایجاد میں سے کوئی چیز بھی حق تعالیٰ کی ذات پر لازم نہیں ہے، تمام اہل مذاہب اس بات پر متفق ہیں۔ لیکن فلاسفہ کہتے ہیں کہ عالم ( کائنات ) کی اس موجودہ نظام پر ایجادجس پر اب وہ واقع ہے حق تعالٰی وسبحانہ کی ذات کے لوازم میں سے ہے، اس طرح انہوں نے قدرت کے اس معنی کا جو اوپر بیان ہو چکا ہے انکار کیا ہے، وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مذکورہ معنی کے لحاظ سے قدرت ایک شخص ہے اور انہوں نے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ایجاب (یعنی خدا کے لیے عالم کی ایجاد واجب اور ضروری ہونا) ہی کمال ہے، ایجاب کو ثابت کر دیا ہے ، قدرت کے اس معنی میں قائل ہیں کہ اگر وہ چاہے تو کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے اور اس مضمون میں وہ اہل اسلام کے ساتھ متفق ہیں لیکن پہلے جملہ شرطیہ (اگر چاہے )تو نہ کرے ہے کے مقدم یعنی شرط (اگر چاہے) کو تو واجب الصدق سمجھتے ہیں (یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا صادق آنا ضروری ہے )اور دوسرے جملہ شرطیہ اگر نہ چاہے تو نہ کرے ہے کے مقدم یعنی شرط ( اگر نہ چاہے ) کو ممتنع الصدق جانتے ہیں (یعنی یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا صادق آنا محال ہے ) اور دونوں شرطیہ جملوں کو وہ واجب تعالی کے حق میں صادق کہتے ہیں، نیز یہ فلاسفہ ارادہ کو بھی علم پر زائد نہیں سمجھے وہ کہتے ہیں کہ ارادہ کامل ترین نظام کے طریق پر خود علم ہی کا نام ہے، اسے وہ( اپنی اصطلاح میں ) عنایت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔<br />
بعض متاخرین صوفیہ بھی قدرت کے اس معنی میں فلاسفہ کے ساتھ متفق ہیں اور وہ بھی دوسرے جملہ شرطیہ( اگر نہ چاہے تونہ کرے) کے مقدم( اگر نہ چاہے )ممتنع الصدق کہتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ اس کا صادق آنا محال ہے ہے اور اپنے مذہب کو فلاسفہ کے مذہب کی طرح الگ کرتے ہیں کہ فلاسفہ ارادہ کے قائل نہیں ہیں، وہ اسے نفس علم ہی سمجھتے ہیں اور یہ لوگ صوفیہ کے باوجود یکہ قدرت کو مذکورہ معنی میں لیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ارادہ کا علم پر زائد ہونا بھی ثابت کرتے ہیں اور اس طرح یہ حق سبحانہ وتعالیٰ کو صاحب ارادہ تسلیم کرتے ہیں اور اسے موجب نہیں کہتے( جس پر عالم کی ایجاد واجب ہو ) برخلاف حکما کے کہ وہ ایجاب کے قائل ہیں اور ارادہ کی نفی کرتے ہیں ۔<br />
ایک شبہ اور اس کا ازالہ :<br />
اس فقیر کو اس مقام پر ایک شبہ ہے اور وہ یہ ہے کہ دو ایسی چیزوں میں جن پر قدرت حاصل ہو کسی ایک کو وجود یا عدم کے ساتھ خاص کر لینے کا نام ارادہ ہے اور جب جز و ثانی ممتنع الصدق ہے اور جز واول واجب الصدق تو پھر ارادہ کا اثبات کس مقصد کے لیے ہوگا ، کیونکہ تخصیص اور ترجیح جو کہ ارادہ کا ماحصل ہے ،وہ برابر کی چیزوں ہی میں ہو سکتی ہے، اس لیے جب حکمانے طرفین کی برابری سے ہی انکار کر دیا تو انہوں نے ارادہ کو بھی ثابت نہیں کیا اور انہوں نے ارادہ کو لاحصل اور بے فائدہ سمجھا ہے ، اس مسئلے میں حکما حق پر ہیں، لہذا مذکورہ صوفیائے کرام جو عالم کے وجود اور عدم (دونوں پہلوؤں ) کے برابر نہ ہونے کے باوجو دارادہ کا اثبات کرتے ہیں اور اس اثبات کے ذریعے حکما سے الگ ہو جاتے ہیں اور اتنی سی بات کی وجہ سے وہ حق سبحانہ کو صاحب ارادہ اور مختار کہتے ہیں تو اس فرق کے سلسلہ میں ان کی گفتگو کا حاصل و نتیجہ کا ظاہر نہیں ہے، ان کا مذہب واجب تعالی کے اختیار کی نفی کے بارے میں بعینہ وہی ہے ، جو حکما کا مذہب ہے اور اس کے ارادہ کو ثابت کرنا محض زبردستی کی بات اور صرف منہ زوری ہی ہے اور اللہ تعالیٰ حق بات ثابت کرتا اور وہی صحیح راہ کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔<br />
سوال: اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مذکورہ صوفیا کرام عالم کے وجود کوحق سبحانہ کی ذات پر لازم نہیں سمجھتے بلکہ وہ تو عالم کا صدور ظہور کے واجب تعالی سے ارادہ ہی کے ساتھ کہتے ہیں۔<br />
جواب: اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ جب دوسر سے جملہ شرطیہ کا مقدم یعنی وجود عالم کا ارادہ نہ کرنا ممتنع ( محال ) ہوتا ہے اور وجود عالم کا ارادہ کرنا واجب قرار پا گیا ہے تو ارادہ کے لیے جو کہ دو برابر کی جہتوں میں سے ایک جہت کو تر جیح دینے کا نام ہے ، وجود عالم میں کوئی دخل ہی باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ اس پر خواہ مخواہ کے ارادہ کے لفظ کا اطلاق کر دیا گیا ہے اور اتنے ارادہ کے تو حکما بھی قائل ہیں لہذا اس قسم کے ارادہ کا اثبات ایجاب کے دفع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا اور وجود و عدم کی دونوں جہتوں کے برابر نہ ہونے کی وجہ سے حق سبحانہ وتعالیٰ پر ایجاب لازم آتا ہے، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 20</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">شیون وصفات میں فرق </span><br />
شیونات الہی حق سبحانہ کی ذات فرع میں اور حق سبحانہ وتعالیٰ کی صفات شیونات پر متفرع ہیں اور اسماء( الہی ) جیسے خالق اور رازق(وغیرہ ) وہ صفات پر متفرع ہیں اور افعال ان اسما پر متفرع ہیں اور تمام موجودات افعال کے نتائج ہیں اور افعال پر متفرع ہیں والله سبحانه و تعالیٰ اعلم اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے )<br />
لہذا معلوم ہو گیا کہ شیون اور چیز ہے اور صفات اور چیز اور شیون خارج میں عین ذات ہیں اور صفات خارج میں ذات پر زائدہ ہیں۔<br />
جو لوگ اس فرق پر مطلع نہیں ہو سکے وہ یہ خیال کر بیٹھے کہ شیون ہی صفات ہوتی ہیں ، چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ بھی کر دیا کہ جس طرح شیون خارج میں عین ذات ہوتی ہیں اسی طرح صفات بھی ذات کے ساتھ اس کا عین ہوتی ہیں، چنانچہ ان پر صفات کا انکار لازم آگیا اور جس مسئلہ پر اہل حق کا اجتماع تھا کہ صفات کا وجود خارج میں ذات پر زائد ہوتا ہے اس کا انکار بھی لازم آ گیا اور اللہ تعالی ہی حق کو ثابت کرتا ہے اور وہی صحیح راستہ کی رہنمائی فرماتا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 21</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ذات وصفات حق میں مماثلت کی نفی </span><br />
لَيۡسَ ‌كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ اس کی طرح کی سی کوئی چیز بھی نہیں ہے اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے )حق سبحانہ و تعالی نے بلیغ ترین انداز پر اپنی ذات سے مماثلت کی نفی فرمادی ہے کیونکہ اس آیت میں اپنی مشل مثل( یعنی مثل جیسی چیز ) کی نفی فرمائی گئی ہے حالانکہ مقصودا اپنے مثل کی نفی کرنا تھا، مطلب یہ ہے کہ جب اس کے مثل کا بھی مثل نہیں ہو سکتا تو اس کا مثل تو بطریق اولی نہیں ہوگا ، لہذا کنایہ کے طور اصل مثل کی نفی ہو گئی، کیونکہ یہ ( کنایہ ) صریح کے مقابلے میں بلیغ ترین ہے، جیسا کہ علمائے بیان نے اس کو ثابت کیا ہے اور اس کے متصل ہی وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ فرمایا ہے جس سے مقصود صفاتی مماثلت کی بھی نفی کر دیتا ہے جیسا کہ پہلے حصے لَيۡسَ ‌كَمِثۡلِه شَيۡۖ سے ذاتی مماشات کی نفی کی گئی ہے۔<br />
اس کی توضیح یہ ہے کہ حق تعالی و سبحانہ ہی سمیع اور بصیر ہے، کسی دوسرے کو سمع اور بصر حاصل نہیں ہے، یہی حال باقی صفات یعنی حیات علم ، قدرت ، ارادہ اور کلام وغیرہ کا ہے، پس مخلوقات میں صفات کی صورت پائی جاتی ہے ، ان کی حقیقت نہیں پائی جاتی کیونکہ مثال کے طور پر علم ایک صفت ہے جس کی وجہ سے ( اشیا کا ) انکشاف حاصل ہو جاتا ہے اور قدرت بھی ایک صفت ہے کہ اس صفت کی وجہ سے افعال اور آثار صادر ہوتے ہیں اور مخلوقات میں یہ صفت نہیں پائی جاتی بلکہ حق سبحانہ و تعالی اپنے کمال قدرت سے ان مخلوقات میں انکشاف کو پیدا کر دیتا ہے بغیر اس کے کہ انکشاف کا اصل سرچشمہ جو صفت علم ہے خود ان کے اندر موجود ہو اور اسی طرح وہی افعال کو بھی ان کے اندر پیدا کر دیتا ہے بغیر اس کے کہ قدرت خود ان کے اندر ثابت ہو، سنے اور دیکھنے کو بھی اس پر قیاس کر لیجئے یعنی خدا ہی مخلوق کے اندر سننے اور دیکھنے کو پیدا کرتا ہے بغیر اس کے کہ خود ان کے اندر سننے اور دیکھنے کی قوتیں موجود ہوں اور اسی طرح حس و حرکت ارادی وغیرہ کی قسم کے آثار حیات بھی ان میں ظاہر ہو جاتے ہیں بغیر اس کے کہ وہ خود حیات رکھتے ہوں ، وہ مخلوقات میں کلام پیدا کرتا ہے بغیر اس کے کہ خود قوت تکلم پیدا کریں، مختصر یہ ہے کہ صفات کے آثار جو حق سبحانہ و تعالی کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان میں ظاہر ہو گئے ہیں محض ان آثار کے پائے جانے کی وجہ سے ان پر صفات کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، بغیر اس کے کہ ان صفات کی حقیقت ان کے اندر تحقق ہو ورنہ وہ تو چند بے حس وحرکت جمادات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہیں، آیت مبارکہ إِنَّكَ مَيِّت وَإِنَّهُم ‌مَّيِّتُونَ &#8221; بے شک آپ کو مرنا ہے اور وہ بھی مرجائیں گے ، اس بات کی تصدیق کرتی ہے( گو یا مخلوق کے جملہ کمالات حق تعالی کی عطا سے ہیں، ذاتی کمالات کا مالک فقط حق تعالی ہے)<br />
ایک مثال:یہ مبحث ایک مثال سے بالکل واضح ہو جاتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ کوئی شعبدہ باز لکڑی یا کاغذ کی کوئی تصویر (مورتی )بناتا ہے خود پس پردہ بیٹھ کر اس کی تصویر کو حرکت دیتا ہے اور عجیب و غریب حرکات اس سے ظاہر کرتا ہے، سادہ لوح لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ تصویر اپنی قدرت اور اختیار سے حرکت کر رہی ہے ، چنانچہ بظاہر حرکات اس سے صادر ہونا اس بات کا وہم پیدا کر دیتا ہے کہ خود اس میں قدرت بھی موجود ہے اور ارادہ بھی ، حالانکہ در حقیقت وہاں نہ قدرت ہوتی ہے اور نہ ارادہ ہوتا ہے، اسی طرح یہ بھی وہم ہو جاتا ہے کہ وہ زندگی بھی رکھتی ہے کیونکہ اس میں زندگی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں نیز یہ و ہم بھی ہو جاتا ہے کہ وہ علم بھی رکھتی ہے کیونکہ ارادہ تو علم ہی کے تابع ہے اور اگر بالفرض وہ شعبدہ باز اس میں بولنے اور بات کرنے کو بھی ایجاد کر دے تو لوگ کہنے لگیں کہ وہ باتیں بھی کرتی ہے اور اس کا وہی حال ہو گا جو سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کا تھا جو بغیر اس کے کہ کلام کرنے کی صفت اپنے اندر رکھتا ہو، اس نے آواز نکالی تھی لیکن ایسے لوگ جن کی چشم بصیرت دو بینی ( ایک کو دو یکھنے ) کے پردہ سے چاک ہو چکی ہے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ تصویر محض ایک بے جان چیز (جماد) ہے ، ان میں سے کوئی صفت بھی اس میں موجود نہیں ہے اور اس کا ایک بنانے والا ہے، جو ان تمام حرکات و آثار کو اس میں ایجاد کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان افعال و حرکات کو اسی تصویر کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کے بنانے والے کی طرف منسوب نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ تصویر حرکت کر رہی ہے، یوں نہیں کہتے کہ بنانے والا حرکت پیدا کر رہا ہے (مگر حرکت تصویر ہی کر رہی ہے )<br />
اس کے بعد کہنے کی گنجائش نہیں رہتی کہ (خدا تعالی ہی )لذت حاصل کرتا ہے اور خدا تعالی ہی الم محسوس کرتا ہے (العیاذ باللہ ) جیسا کہ بعض صوفیہ نے کہہ دیا ہے اور انہوں نے لذت اور الم کو بھی حق سبحانہ کی طرف ہی منسوب کر دیا ہے، حاشا و کلا ( یعنی ایسا ہر گز بھی نہیں ہے )حق تعالی تو لذت والم کو پیدا کرنے والا ہے، وہ خود لذت حاصل کرنے والا اور الم محسوس کرنے والا نہیں ہے، لہذا (ظاہر ہے کہ) جب صفات کی حقیقت مخلوقات سے منتفی ہوگئی تو ذات کی حقیقت بھی ان سے منتفی ہو گئی ، کیونکہ ذات تو اس کو کہتے ہیں جو خود اپنے نفس کے ساتھ قائم ہو اور صفات اس کو کہتے ہیں جو ذات کے ساتھ قائم ہوں، ذات ہی ان صفات کے آثار کا سر چشمہ ہوا کرتی ہے اور مذکورہ بالا تحقیق سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ صفات کے واسطہ کے بغیر ان صفات کے آثار کا خالق حق تعالی شانہ ہی ہے لہذا ذات کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ ان آثار کی ایجاد اور تخلیق کا مل ہوتی ہے اور بس اس بنا پر ذات کی حقیقت بھی ان سے منتفی ہوگئی ‌أَنَّ ‌اللَّهَ، ‌خَلَقَ ‌آدَمَ عَلَى ‌صُورَتِهِ(الحدیث) یقینا خدا تعالی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے ) سے اس مضمون کی طرف اشارہ ہے یعنی خدا تعالی نے آدم کو اپنی ذات وصفات کی صورت پر پیدا فرمایا لہذا ثابت ہو گیا ہے کہ نہ خدا تعالی کی ذات کا کوئی مثل ہے اور نہ ہی اس کی صفات کا، اس لیے حق تعالی کا ارشاد ہے و هو السميع البصير تنزیہ کا پورا کرنے والا اور نفی مماثلت کی تکمیل کرنے والا ہے، یہ بات نہیں ہے کہ تنزیہ کے منافی اور تشبیہ کو ثابت کرنے والا ہو، یعنی آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جو سمع و بصر (سننے اور دیکھنے کی قوتیں )مخلوقات کے لیے ثابت ہیں اسی طرح خدا تعالی کی سمع اور بصر ہوں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ مخلوقات کو نہ سمع کی قوت حاصل ہے، نہ بصر کی، بلکہ ان کا سننا اور دیکھنا محض اس وجہ سے ہے کہ حق تعالی سبحانہ ان کو مخلوقات کی صفت سمع اور بصر کے کسی واسطہ کے بغیر مخلوقات میں خودہی پیدا کرتا ہے اللہ تعالی نے صرف سمع اور بصر ہی کا ذکر فرمایا ہے، حالانکہ تمام صفات کی صورت یہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کی نفی کر دینے سے جب کہ یہ دونوں صفتیں بہت ہی ظاہر ہیں اور مخلوقات میں ان کا ثبوت واضح طور پر نظر آتا ہے، باقی صفات کی خود، خودنفی ہو جاتی ہے، جیسا کہ ظاہر ہے، اس سے ثابت ہو گیا کہ نہ خدا کی ذات کو پہچانا جا سکتا ہے۔ اس کی صفات کو آدمی جس طرح حق تعالی کی ذات کی معرفت میں عاجز ہے اسی طرح اس کی صفات کی معرفت میں عاجز ہے، (خاک کو رب الارباب سے کیا نسبت)چه نسبت خاک را با عالم پاک<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 22</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ولایت خاصه محمدیہ </span><br />
جاننا چاہیے کہ خاص ولایت محمدیہ ( آپ ﷺ پر درود و سلام ہوں ) مجذوبوں ، سالکوں کے ساتھ مخصوص ہے جن کو &#8220;مرا دین &#8221; کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مریدین کو ان کی ذاتی استعدادوں کے مطابق ولایت میں کوئی حصہ نہیں ملتا مریدین سے ہماری مراد وہ حضرات ہیں جن کا سلوک ان کے جذب پر مقدم ہو بجز اس کے کہ مراد محبوب کسی مرید محبت کی خصوصی تربیت فرمائے اور اس میں تعریف سے کام لے اور اسے اپنے کمال تصرف سے ایسا جذب عطا کر دے جو خود اس مراد کے جذب کے مثل ہو جیسا کہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ کا معاملہ تھا، کیونکہ بے شک وہ بھی سالک مجذوب تھے لیکن وہ آنحضرت سرکار کی تربیت اور ان میں آپ ﷺ کے کمال تصرف کی وجہ سے نیز اس وجہ سے کہ آپ ﷺ نے ان کو جذب فرمالیا تھا ، ولایت خاصہ کے درجہ تک پہنچ گئے تھے، بر خلاف خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم کے جو حضرت علی کرم اللہ وجہ سے پہلے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا جذب ان کے سلوک پر مقدم ہے ، بعینہ اس طرح جیسا کہ حضرت رسالت مآب ﷺ کا حال ہے کیونکہ آپ کا جذب بھی سلوک سے مقدم ہے اور اس سے یہ و ہم نہ کیا جائے کہ ہر مجذوب سالک اس ولایت خاصہ تک پہنچ سکتا ہے ، ایسا ہر گز نہیں ہے، بلکہ اگر ان ہزار ہا مجذوب سائلین میں سے ایک آدمی بھی کئی صدیوں کے بعد ایسا ہو جائے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے، یہ تو اللہ تعالی ہی کا فضل و انعام ہے ، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے ہی فضل والا ہے اور حق تعالیٰ ہمارے سردار حضرت محمد مصطفے ﷺ اور آپ کی آل پر رحمتیں اور سلامتیاں نازل فرمائے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 23</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">سالک مجذوب اور مجذوب سالک کے مراتب میں فرق  </span><br />
سالک مجذوب کو معرفت میں مجذوب سالک پر فضیلت ( پیش تری)حاصل ہوتی ہے اور محبت کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ حق تعالی و سبحانہ مجذوب سالک کی تربیت اس کی ابتدائی حالت سے آخر تک اپنی خصوصی محبت سے فرماتا ہے اور اس کو اپنی عنایت کا ملہ سے اپنی بارگاہ کی طرف جذب فرمالیتا ہے۔ یہاں معرفت سے ہماری مراد وہ معرفت ہے جس کا تعلق تجلیات افعالیہ یعنی اشیا کونیہ کی معرفت اور اللہ تعالیٰ کی صفات اضافیہ سے ہے لیکن وہ معرفت جس کا تعلق حق سبحانہ و تعالی کی ذات سے ہے، جس کو جہل سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس طرح وہ معرفت جس کا تعلق صفات سلبیہ تنزیہ سے ہے جو کہ محض حیرت پر مشتمل ہوتی ہے اسی طرح وہ معرفت جس کا تعلق صفات ذاتیہ موجودہ سے ہے اور وہ معرفت جس کا تعلق شیون ذاتیہ اعتبار یہ سے ہے تو مجذوب سالک ان چاروں معرفتوں کا زیادہ مستحق ہوتا ہے اور وہ ان کی تفصیلات کے زیادہ مناسب ہوتا ہے۔ رہ گئیں وہ معرفتیں جن کا تعلق مقامات عشرہ یعنی زہد، توکل، صبر ورضاد غیرہ سے ہوتا ہے تو سالک مجذوب ہی ان معرفتوں اور ان کی تفصیلات کے قابل ہوا کرتا ہے کیونکہ وہ تفصیل کے ساتھ ان مقامات کو طے کرتا ہے اور درجہ بدرجہ پر سے گزرتا ہے ، وہ ہر مقام کی باریکیوں کو تفصیلی طور پر پہچانتا ہے جنہیں مجذوب سالک نہیں پہچانتا، کیونکہ اس کے حق میں یہ تمام مقام سمیٹ دئے جاتے ہیں اور ہر مقام کا جو ہر اور خلاصہ اسے حاصل ہوتا ہے جو سالک مجذوب کو حاصل نہیں ہوتا ، لہذا سالک مجذوب ان مقامات میں ظاہر اور صورت کے اعتبار سے زیادہ کامل ہوتا ہے اور مجذوب سالک ان مقامات میں جواہر اور خلاصہ کے اعتبار سے زیادہ کامل ہوتا ہے۔ اس لیے عوام نے جو صورتوں کی طرف دیکھتے ہیں یہ سمجھ لیا ہے کہ مقام زہد، توکل، صبر و رضا وغیرہ میں اول یعنی سالک مجذوب کے بہ نسبت دوسرے یعنی مجذوب سالک کے زیادہ کامل ہوتا ہے ، وہ یہ بات نہیں جانتے کہ دوسرے گروہ یعنی مجذوب سالک میں رغبت کا پایا جانا اس کے کمال زہد کے منافی نہیں ہوتا اور اسی طرح اسباب کے ساتھ تعلق کمال توکل کے منافی نہیں ہوتا اور اس میں نا پسندیدگی کا پایا جانا رضا کے منافی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی یہ رغبت بھی اللہ تعالی کی وجہ سے ہوتی ہے ، اسکا اسباب کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہوا ہے اور اس میں ناپسندیدگی کا پایا جانا بھی اللہ عزوجل ہی کی وجہ سے ہوتا ہے، باوجود یکہ اس میں یہ تمام اوصاف خالص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہی ہوتے ہیں ، وہ دنیا کی طرف رغبت کرتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی وجہ سے کرتا ہے، کسی غیر کی وجہ سے نہیں کرتا، اگر اس کی رغبت اپنے نفس کے لیے ہو تو چونکہ اس کا نفس بھی اس کے پروردگار کا فرمانبردار ہو چکا ہے، لہذا یہ رغبت بھی در حقیقت اپنے پروردگار عز و جل ہی کے لیے ہوگی ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 24</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">صورت ایمان اور حقیقت ایمان </span><br />
لا الہ الا اللہ کے ذکر سے مقصود باطل معبودوں کی نفی کرنا ہے، خواہ وہ آفاقی ہوں اور خواہ انفسی ، آفاقی معبودوں سے مراد کافروں اور فاجروں کے باطل معبود ہیں مثلا، لات اور عزی اور معبودان انفسی سے مراد نفسانی خواہشات ہیں جیسا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ‌أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ تو کیا آپ نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اپنی خواہشات کو ہی اپنا خدا بنالیا ) ایمان یعنی تصدیق قلبی جس نے ہمیں ظاہر شریعت کا مکلف بنا دیا ہے، آفاقی معبودان باطل کی نفی کے لیے کافی ہے لیکن انفسی معبودان باطل کی نفی کے لیے نفس امارہ کا تزکیہ درکار ہے جو اہل اللہ کے راستے پر چلنے( سلوک ) کا حاصل ہے، ایمان حقیقی ان دونوں قسم کے معبودان باطل کی نفی سے وابستہ ہے لیکن ایمان کے متعلق شریعت کا حکم محض معبودان آفاقی کے ابطال و نفی سے بھی ثابت ہو جاتا ہے، یہ صورت ایمان کی قسم ہے مگر حقیقت ایمان انفسی معبودوں کے ابطال سے ہی میسر آتی ہم بھی تم کا ایمان ابطال پر ہی منحصر ہے، صورت ایمان کے تو زائل ہونے کا احتمال ہے لیکن حقیقت ایمان اس احتمال سے محفوظ ہے کیونکہ صورت ایمان میں اول تو نفس امارہ ہی اپنے انکار و کفر سے باز نہیں رہتا (صورت ایمان میں ) اس سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ نفس امارہ کی مخالفت کے باوجود قلب میں ایک گونہ تصدیق پیدا ہو جاتی ہے، لیکن ایمان حقیقی میں خود نفس امارہ جو اپنی ذات کے اعتبار سے سرکش ہے مطیع وفرمانبردار ہو کر سرکشی سے باز آجاتا ہے اور شرف ایمان سے مشرف ہو جاتا ہے ، ان تکلیفات شرعیہ سے مقصود بھی نفس کو عاجز کرنا اور خراب کرنا ہے کیونکہ قلب تو بذات خود احکام الہی کا مطیع وفرمانبردار ہی ہوتا ہے، اگر قلب میں کسی قسم کی خباثت پیدا ہوتی ہے تو وہ نفس کی ہمسائیگی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے<br />
تواضع زگردن فرازاں نکوست گدا گر تواضع کند خوئے ادست<br />
بہت اچھی ہے عادت سر بلندی میں تواضع کی گدا مجبور ہے عادت سے گر اس نے تواضع کی<br />
لہذا تزکیہ نفس ضروری ٹھہرایا تا کہ ایمان کی حقیقت حاصل ہو سکے اور وہ زوال سے محفوظ ہو جائے ، تزکیہ نفس کا تعلق درجہ ولایت سے ہوتا ہے جس سے مراد فتا اور بقا ہے، جب تک کوئی آدمی درجہ ولایت تک نہ پہنچ جائے اطمینان نفس ممکن نہیں ہے اور جب تک نفس اطمینان سے وابستہ نہ ہو جائے حقیقت ایمان کی بو بھی مشام جان تک نہیں پہنچ سکتی اور وہ زوال کے اندیشہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا أَلَآ إِنَّ ‌أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ یا درکھو جولوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں<br />
از پئے ایں عیش و عشرت ساختن صد ہزاراں جا بیاید یا ختن<br />
اس جہاں کے عیش وعشرت کے لیے چاہئیں تحفے ہزاروں جان کے</p>
<p><span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 25</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">طریقت اور حقیقت سے شریعت کا تعلق  </span><br />
حقیقت سے مراد شریعت کی حقیقت ہے، یہ نہیں کہ حقیقت شریعت سے الگ کوئی چیز ہے، طریقت سے مراد حقیقت شریعت تک پہنچنے کا طریقہ ہے شریعت اور حقیقت کوئی الگ چیز نہیں ہے، شریعت کی حقیقت صحیح طور پر حاصل ہونے سے پہلے صرف شریعت کی صورت کا حصول ہوتا ہے اور شریعت کی حقیقت کا حصول اطمینان نفس کے مقام میں ہوتا ہے، جب آدمی کو درجہ ولایت تک رسائی ہوتی ہے، درجہ ولایت میں رسائی اور اطمینان نفس حاصل ہونے سے پہلے شریعت کی صورت ہوتی ہے جیسا کہ ایمان کے سلسلے میں بیان ہوا ہے کہ اطمینان نفس سے پہلے ایمان کی صورت حاصل ہوتی ہے اور اطمینان کے بعد ایمان کی حقیقت حاصل ہوتی ہے۔ معرفت : 26مراتب فنا:<br />
فنا سے مراد حق تعالیٰ کی ہستی کے شہود کے غلبہ کی وجہ سے ماسوائے حق سبحانہ کو بھول جانا ، اس کی وضاحت یہ ہے کہ روح انسانی مع سر خفی اور اخفیٰ کےبدن کے ساتھ تعلق پیدا ہونے سے پہلے اپنے صانع حقیقی جل سلطانہ کا یک گونہ علم رکھتی ہے اور بارگاہ قدس کے ساتھ اسے ایک طرح کی توجہ حاصل ہوتی ہے اور چونکہ اس کی فطرت میں ترقیات کی استعداد رکھدی گئی ہے اور ان استعدادوں کا ظہور بدن عنصری کے ساتھ تعلق ہونے پر منحصر تھا اس لیے لامحالہ اولاً اسے تعشق فریفتگی ہے اور محبت کی صفت عطا فرمائی گئی ، پھر اس کے بعد کے درجہ میں اس کی توجہ کو اس مادی جسم کی طرف پھیر دیا گیا اور ان دونوں ( روح اور جسم ) میں محبت کا ارتباط اور تعلق بدرجہ کمال پیدا کر دیا گیا، چنانچہ روح نے اس تعلق کی بنا پر اپنے کمال لطافت کے باوجود اپنے آپ کو محبوب ظلمانی( جسم) میں گم کر دیا اور اپنے وجود کو مع اس کے توابع (سر خفی اور اخفیٰ ) کے اس ظلمانی محبوب یعنی جسم میں فنا کر دیا یہی وجہ ہے کہ بہت سے عقل مند لوگ اپنے آپ کو جسم کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتے اور جسم کے علاوہ کسی اور بات کا اثبات نہیں کرتے ۔<br />
فنائے جسمی: حضرت حق سبحانہ جو ارحم الراحمین( سب سے زیادہ رحمت کرنے والا )ہے نے اپنے کمال رحمت سے انبیا کرام علیہم السلام کی زبانی جو کہ تمام جہانوں کی رحمت میں صلوات اللہ علىھم و تسلیماتہ علی جميعهم عموماً وعلى افضلهم و خاتمهم خصوصاً (ان سب پر اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوں اور خصوصیت کے ساتھ ان میں سے افضل ترین اور ان کے خاتم پر )لوگوں کو اپنی بارگاہ قدس کی طرف بلایا اور اس تعلق ظلمانی سے منع فرمایا، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے قُلِ ٱللَّهُۖ ثُمَّ ‌ذَرۡهُمۡ اے پیغمبر! کہ دیجئے کہ (موسی علیہ پر کتاب) اللہ ہی نے اتاری تھی ، پھر آپ ان کو چھوڑ دیجئے ، جس کسی کو سعادت از لی حاصل ہو گئی اس نے الٹے پیروں واپس ہو کر علم سفلی کی محبت کو الوداع کہا اور عالم بالا کی طرف متوجہ ہو گیا اور آہستہ آہستہ پرانی محبت نے غلبہ کیا اور نئی پیدا شدہ دوستی نے زوال کی راہ اختیار کی، یہاں تک کہ اس محبوب ظلمانی (یعنی جسد عنصری ) کے ساتھ عمل نسیان میسر آ گیا اور اس محبت کا کوئی اثر باقی نہ رہا، اس وقت فنائے جسدی حاصل ہوگئی اور دو قدم جس کا اس راہ طریقت میں اعتبار کیا گیا جیسا کہ کہا ہے خطوتان وقد وصلت &#8221; دو قدم ہی تو ہیں اور بس تم پہنچ گئے کہ ان دو قدموں میں سے اس نے ایک قدم کو انجام تک پہنچا دیا۔<br />
فنائے روحی : اس کے بعد اگر محض فضل خداوندی جل سلطانہ کی بنا پر اس مقام سے ترقی حاصل ہو جائے تو آدمی خود روح کے وجود اور اس روح کے کے توابع کو بھی بھولنا شروع کر دیتا ہے اور آنا فا نا یہ بھول بھی بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے آپ کو بالکل ہی بھلا دیتا ہے اور بجز بارگاہ واجب الوجود جل سلطانہ کے شہود کے اور کچھ باقی نہیں رہتا ، اس نسیان کو فنائے روحی سے تعبیر کرتے ہیں ، جو ان دو قدموں میں سے دوسرا قدم ہے اور روح کے عالم سفلی کی طرف نیچے اترنے کا مقصود فنا کی اسی دوسری قسم کا حاصل کرنا تھا، اس کے بغیر یہ دولت میسر نہیں آسکتی تھی ۔<br />
ایک دقیق راز :اس میں جو دقیق راز ہے ، وہ با کمال اہل اللہ پر مخی نہیں ہے اور وہ راز یہ ہے کہ روح کے واسطے اپنے آپ کو بھول جانے کے لیے کسی غیر کے ساتھ شدید محبت اور کمال مودت حاصل ہونا ضروری ہے اور محبت کا غلبہ جیسا کہ حاضر کے حق میں ہوتا ہے اس کے مثل غائب کے حق میں نہیں ہوا کرتا ، لہذا اولاً تو روح نے حاضر میں کمال محبت کو حاصل کیا جو خو د روح کو فنا کر دینے والا تھا پھر دوسرے درجہ میں اپنے آپ کو فنا کرنے کے لیے عالم کے غیب میں اسی محبت سے کام لیا ، یہ وہ دقیق راز ہے جسے اکا بر عارفین کے علاوہ دوسرے لوگ نہیں جانتے۔<br />
فنائے قلبی :رہ گیا قلب جسے حقیقت جامعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے تو وہ اس وقت روح ہی کے تابع ہوتا ہے، لہذا جب وہ ترقی کر کے اپنے مقام سے روح کے مقام میں پہنچ گیا تو اسے بھی روح کی متابعت میں یہی نسیان حاصل ہو گیا اور اس کی فنا کے ساتھ خود بھی فنا ہو گیا۔<br />
فنائے نفس: رہ گیا نفس تو اس کا تزکیہ مقام قلب میں پہنچ جانے کے بعد ہوتا ہے اور یہ اس کے بعد پیش آتا ہے، جب قلب ترقی کر کے خود مقام روح میں پہنچ جاتا ہے، صاحب عوارف جو شیخ الشیوخ ہیں نسیان مذکورہ کو مادہ نفس میں ثابت نہیں کرتے وہ نفس کی کمال پاکیزگی اسی میں بتاتے ہیں کہ نفس مقام قلب میں رسائی حاصل کر لے لیکن یہ حقیر کہتا ہے کہ نسیان مذکور مادہ نفس میں بھی حاصل ہوتا ہے لیکن نفس کی ترقی کر کے مقام قلب اور مقام روح میں پہنچ جانے کے بعد ہوتا ہے، لہذ انفس کے لیے بھی فنا محقق ہوتی ہے جیسی کہ قلب کی ہوتی ہے، یہ نفس ہی تو ہے جو حصول اطمینان کے بعد اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتا ہے اور مقام قلب سے مقلب قلب ( دل کو پھیر نے والی ہستی یعنی خدا تعالی )کے ساتھ تعلق استوار کر کے راضی و مرضی( پسندیدہ) بن جاتا ہے، حق سبحانہ و تعالی نے اس کی شان میں فرمایا ہے: يَٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفۡسُ ٱلۡمُطۡمَئِنَّة ٱرۡجِعِيٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةٗ مَّرۡضِيَّةٗ (اےنفس مطمئنہ اب تو اپنے رب کی طرف راضی اور پسندیدہ بنکر واپس آجا ) البتہ جب تک وہ مقام قلب میں رہتا ہے جس کی شیخ الشیوخ نے خبر دی ہے اور جس کا نام انہوں نے مقام مطمئنہ رکھا ہے اس وقت تک نسیان مذکورہ اس کے حق میں مفقود ہوتا ہے، بلکہ اس مقام میں تو اسے اطمینان کا نام بھی زیب نہیں دیتا ہے ، وہ تزکیہ یافتہ تو ہو گیا ہے لیکن ابھی تک اطمینان کے ساتھ اسے وابستگی حاصل نہیں ہوئی ، مقام قلب تغیر و تبدل کا مقام ہے، اطمینان اس کی ضد ہے، لہذا اس مقام سے نکل جانا اطمینان کی شرط ہے، ہر آدمی کا فہم اس مقام تک نہیں پہنچتا ‌ذَٰلِكَ ‌فَضۡلُ ٱللَّهِ يُؤۡتِيهِ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلۡفَضۡلِ ٱلۡعَظِيمِ ( تو یہ ا للہ تعالی کا فضل و انعام ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے ہی فضل والا ہے )<br />
معامله قالب:رہ گیا وہ معاملہ جو قالب (جسم ) کے ساتھ ہے تو سوائے ان اعمال جوارح ( اعضائے بدن کے اعمال ) کے جن کو شریعت مصطفویہ نے بیان فرما دیا ہے، سب کچھ ولایت معلومہ کے دائر ہ خارج اور جذب وسلوک کے دونوں طریقوں سے باہر کی بات ہے، کیونکہ اس کا معاملہ تصفیہ قلب اور تزکیہ نفس کے علاوہ ہے، اکابر اولیا اللہ میں سے قلیل ترین حضرات کے سوا کسی کو اس مقام کے علوم و معارف کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ، چونکہ کسی نے بھی اس سلسلہ میں تفصیل سے بات نہیں فرمائی اور کلام ربانی و قرآن پاک اور احادیث نبوی علیہ الصلوت میں اگر چہ ذکر آیا ہے لیکن محض اشارات ورموز میں آیا ہے لہذا یہ ضعیف بھی اس مبحث کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا اور ولایت معرفہ کے مرتبہ میں جو فنا کے مراتب ہوتےہیں انہیں کے بیان پر اکتفا کرتا ہے ، اگر اس کے بعد بھی سامعین میں اس بات کو سمجھنے کی استعداد معلوم ہوئی تو اپنی معلومات اور سامعین کےفہم کے اندازے کے مطابق اس سلسلے میں لب کشائی کروں گا، ان شاء اللہ تعالی اور حق سبحانہ و تعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا اور درست بات دل میں ڈالنے والا ہے۔<br />
تنبیہ:جاننا چاہیے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ جسے فتائے روحی میسر ہو جائے اسے فنائے قلبی بھی نصیب ہو جاتی ہے اتنی بات ضرور ہے کہ قلب کو روح کی طرف جو اس کے لیے بھی بمنزلہ باپ کے ہے، ایک طرح کا میلان پیدا ہو جاتا ہے اور نفس سے جو قلب کے بمنزلہ ماں کے ہے روگردانی اور اعراض حاصل ہوتا ہے، اگر اس کا میلان غلبہ کرے اور اسے پوری طرح باپ کی جانب کھینچ لے اور اس (روح ) کے مقام میں اسے پہنچا دے تو اس وقت وہ باپ کی صفت یعنی فنا کے ساتھ متصف ہو جاتا ہے نفس کا حال بھی اسی طرح کا ہے کہ فنائے روحی اور فنائے قلبی سے اس کی فنالازم نہیں آتی مختصر یہ ہے کہ نفس کو اپنے لڑکے یعنی قلب کی طرف ایک قسم کا میلان اور کشش پیدا ہو جاتی ہے ، اگر یہ میلان غالب آجائے تو اسے لڑکے کی مرتبہ میں جو خود صالح باپ کے مقام میں پہنچ چکا ہے، پہنچادے تو لا محالہ لڑکے کی صفت کے ساتھ جو اپنے باپ کے خلق کے ساتھ تخلق( آراستہ) ہو چکا ہے، متصف ہو جاتا ہے اور فنا کو حاصل کر لیتا ہے۔<br />
فنائے سرو خفی و اخفی:نیز وہ تینوں مراتب جو روح سے اوپر ہیں ان کا بھی یہی حال ہے کہ روح کے فنا ہو جانے سے ان کی فنا لازم نہیں آتی ، البتہ اگر روح کے ہبوط (نیچے اترنے )کے وقت ان تینوں مرتبوں نے بھی کلی طور پر یا جزوی طور پر روح کی موافقت میں اسی وقت ہبوط کیا ہو (نیچے اتر آئے ہوں ) اور روح کی محبت کا غلبہ ان میں سرایت کر گیا ہو اور اپنی ذاتوں کے نسیان کے مرتبہ تک انہیں پہنچادیا ہو تو ہو سکتا ہے کہ واپس لوٹتے وقت ان تینوں کو بھی کلی طور پر یا جزوی طور پر فنا حاصل ہو جائے اور روح کی طرح وہ سب بھی فانی ہو جائیں۔<br />
علامت فنائے قلب :واضح رہے کہ خطرات کا قلب سے بالکلیہ اٹھ جانا اس کے ماسوائے حق سبحانہ وتعالیٰ کو بھول جانے کی علامت ہے کیونکہ خود خطرہ قلبی سے مراد دل میں کسی چیز کا حاصل ہونا اور اس چیز کا خیال دل میں گزرنا ہے، خواہ ابتدا یعنی خود بخود وہ خیال آیا ہو یا ذکر کرنے سے آیا ہو اور یہ کسی چیز کا خیال دل میں آنا اور اس کے خیال کا دل میں گزرنا ہی علم ہے، کسی چیز کے خیال کا دل میں آنا جب بالکل منتفی (مٹ)ہو جائے یعنی اس حد تک کہ اگر اسے یہ تکلیف بھی لانا چاہیں تو نہ آئے اور اگر اسے یاد کرا ئیں تب بھی یاد نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ علم بالکلیہ زائل ہو گیا، یہ زوال علم و ہی نسیان ہے جو فنا میں معتبر ہے۔<br />
یہ ہے وہ مقام فنا کی وضاحت کا آخری بیان ، مشائخ میں سے کسی نے بھی اس تفصیل کے ساتھ اس مقام میں گفتگو نہیں فرمائی اور حق سبحانہ و تعالی کے سوا ہر چیز کو بھول جانے سے زیادہ فنا کے کوئی اور معنی نہیں بتائے ، اب بھی اس موضوع پر مزید گفتگو کی بڑی گنجائش ہے، اگر توفیق خداوندی جل سلطانہ مددفرمائے تو یہ فقیر اس سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ گفتگو کرے گا، کیونکہ یہ مقام طالبین کے غلطی میں مبتلا ہونے کا مقام ہے، واللہ اعلم بالصواب<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 27</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">واجب تعالی کے ساتھ روح کا اشتباہ</span><br />
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سالک کی نظر عالم ارواح پر پڑتی ہے اور اس وجہ سے کہ عالم ارواح کو مرتبہ وجوب کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے ، اگر چہ یہ مناسبت محض صورت کے اعتبار سے ہی ہوتی ہے تو سالک اس عالم ہی کو حق سمجھتا ہے اور اس عالم کے مشاہدہ کو حق جل سلطانہ تصور کر لیتا ہے اور اس سے محظوظ اور لذت اندوز ہونے لگتا ہے اور چونکہ عالم ارواح کو عالم اجساد کے ساتھ بھی ایک طرح کا تعلق حاصل ہوتا ہے لہذا اس عالم کے شہود کو اس عالم میں کثرت کے اندر وحدت شہود سمجھ لیتا ہے اور احاطہ ذاتیہ اور معیت ذاتیہ کا حکم لگانے لگتا ہے اور ان تخیلات کی وجہ سے ترقی اور مطلوب حقیقی تک پہنچنے کی راہ سالک پر بند ہو جاتی ہے اگر اس مرتبہ سے اسے آگے نہ بڑھا ئیں اور باطل سے حق تک نہ پہنچا ئیں تو افسوس صد افسوس ہے، بعض مشائخ اس مقام پر تیس سال تک روح کو خدا سمجھ کر اس کی پرستش کرتے رہے ہیں اور جب ( توفیق حق نے) انہیں اس مقام سے گزار دیا تو اس کی برائی کا انہیں علم ہوا، اس خدا کا شکر ہے کہ جس نے ہمیں اس کی راہنمائی فرمائی، اگر خدا تعالی نے ہماری راہنمائی نہ فرمائی ہوئی تو ہم راہ نہ پا سکتے یقیناً ہمارے پروردگار کے تمام رسول حق لے کر آئے ہیں ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 28</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">وجود صفات سے بعض لوگوں کے انکار کی وجہ </span><br />
بعض مشائخ نے جو واجب تعالیٰ جل شانہ کی صفات کے( الگ) وجود سے ا نکار کر دیا ہے اور انہوں نے صفات کو خارج میں عین ذات کہہ دیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات تجلیات صفاتیہ کے مرتبہ میں ہیں ،صفات ان کے لیے ذات جل کے مشاہدے کے آئینے بن گئی ہیں اور آئینہ کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو دیکھنے والے کی نظر سے مخفی ہو جاتا ہے (اور وہی چیز نظر آتی ہے جو آئینے کے بالمقابل ہوتی )لہذ اصفات لا محالہ آئینہ بن جانے کے حکم کی وجہ سے ان کی نگاہوں سے پوشید ہ ہوگئیں اور چونکہ صفات انہیں نظر نہیں آتیں اس لیے وہ فیصلہ دے دیتے ہیں کہ وہ خارج میں عین ذات اور علم کے مرتبہ ہیں ، جو انہوں نے ذات تعالی و تقدس کے صفات کی مغائرت (غیر ہونا ) ثابت کی ہے تو وہ محض اس بنا پر ہے کہ تا کہ بالکلیہ صفات کی نفی لازم نہ آئے ، اگر یہ بعض حضرات اس مقام سے اوراو پر پہنچ جاتے اور ان کا شہود صفات کے ان آئینوں سے باہر نکل جاتا تو وہ حقیقت حال کو جو کچھ کہ ہے جان اور سمجھ جاتے کہ علمائے اہل سنت کا یہ فیصلہ صحیح اور واقع کے مطابق اور فانوس نبوت سے ماخوذ ہے کہ صفات الگ موجود ہیں اور وہ ذات پر زائد ہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 29</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">کفر شریعت اور کفر حقیقت  </span><br />
کارکنان جس کسی کو محض اپنے فضل سے ترقیات کی دولت سے مشرف فرمانا چاہتے ہیں تو ہر مقام میں اسے فنا اور بقا عطا فرما دیتے ہیں، جب تک اس کو نزول کے میں فنا اور بقا میسر نہ آجائے اس مقام سے اوپر کی طرف عروج کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ، یہی اللہ کا طریقہ ہے جو اس سے پہلے بھی گزر رہا ہےاور تم اللہ تعالیٰ کے طریقے میں کسی قسم کی تبدیلی ہر گز نہیں پاؤ گے، ایک عزیز فرماتے ہیں<br />
بکفر و با سلام یکساں نگر کہ ہر یک زدیوان او دفتری ست<br />
کفر اور اسلام کو یوں جانتے ہیں وہ دفتر اس کے ہی دیوان کے<br />
کفر اور اسلام کو ایک ہی نظر سے دیکھنا غلبہ توحید اور افراط سکر کے وقت ہوا کرتا ہے جو جمع محض کے مقام میں حاصل ہوتا ہے اور یہ فنا اور ہلاک ہو جانے کا مقام ہے اور یہ دیکھنا سالک کے اپنے اختیار سے نہیں ہوتا لہذا وہ قطعا معذور ہوتا ہے، جس سالک کو اس مقام سے گزرنا نصیب نہ ہو اور فرق بعد الجمع کے مقام تک اور سائی نہ حاصل کر سکے حقیقی اسلام کی بو اس کے مشام جان تک کبھی نہیں پہنچ سکے گی اور وہ تا ابد کفر حقیقی میں گرفتار رہے گا اور حق سبحانہ کی رضا مندی کو اس کی ناراضگی سے جدا نہیں کر سکے گا۔<br />
ہر کس کہ کشته گشت ازاں خال هندوش گرچه شهید رفت مسلمان نمی رود<br />
اس کے سیاہ تل پہ جو قربان ہو گیا ہو کر شہید بھی وہ مسلماں نہیں رہا<br />
خال ہندوی (سیاه تل) تاریخی اور پوشیدگی کی خبر دیتا ہے جو کہ مقام کفر ہی کے مناسب ہے ، مسلمانی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا اور جس طرح مرتبہ شریعت میں اسلام اور کفر کے درمیان امتیاز نہ کرنا کفر شریعت ہے اسی طرح حقیقت کے مرتبہ میں ان دونوں کے درمیان امتیاز نہ کرنا کفر حقیقت ہے، نیز غلبہ حال کے ظہور سے پہلے اسلام اور کفر کے درمیان امتیاز نہ کرنا جس طرح اہل شریعت کے نزدیک کفر ہے اہل حقیقت کے درمیان بھی کفر اور قابل مذمت ہے، اہل شریعت اور اہل حقیقت کے درمیان اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ غلبہ حال کی صورت میں ہے، جیسا کہ منصور حلاج کا معاملہ ہوا جو کہ مغلوب الحال تھا ، اہل شریعت نے اس کے کفر کا حکم دیا ہے، اہل حقیقت نے نہیں تا ہم اہل حقیقت کے نزدیک بھی کوتا ہی اس کے دامن گیر ہے، وہ اسے کاملین میں سے شمار نہیں کرتے ، حقیقی مسلمانوں میں سے نہیں سمجھتے منصور کا یہ شعر اسی مضمون کا شاہد ہے ۔<br />
کفرت بدين الله والكفر واجب لدى و عند المسلمين قبيح<br />
ہوا کافر میں دین حق سے مجھ پر کفر واجب ہے اگر چہ سب مسلمانوں کے ہاں یہ کفر بد تر ہے<br />
تنبیہ:لہذا غلبہ حال کے ظہور سے پہلے اصحاب احوال کی پیروی کرنا اور فرق نہ کرنا بد تمیزی ہے اور الحاد و زندقہ ہے اور کفر شریعت و حقیقت ہے ، اللہ سبحانہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو ایسی تقلیدات سے محفوظ رکھے تقلید کے شایان شان علوم شرعیہ ہی ہیں نجات ابدی حنفی اور شافعی کی تقلید ہی میں منحصر ہے ، جنید کی اور شیلی کے اقوال دو مصلحتوں سے کار آمد ہوتے ہیں ظہور احوال سے پہلے ان اقوال کا سننا طالبین کے لیے ان احوال کی طرف شوق دلانے کا باعث بنتا ہے اور ایک قسم کا وجد پیدا کر دیتا ہے ، ظہور احوال کے بعد وہ انہی اقوال کو اپنے احوال کی کسوٹی اور مصداق بنا لیتے ہیں، ان دونوں مصلحتوں کے بغیر ان حضرات کے اقوال کو جاننا اور ان میں غور و فکر کرنا ممنوع ہے، اس میں نقصان کا احتمال ہے اور جس مقام میں ضرر کا ذرا بھی و ہم پایا جاتا ہوعقلمند لوگ اس کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکتے تو جہاں ظن غالب ہو وہاں کیسے ممکن ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 30</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 18pt;">کفار کے واصل ہونے کی تحقیق </span><br />
بعض مشائخ طریقت نے سکر اور غلبہ حال میں فرمایا ہے کہ کافر بھی مومن کی طرح مقصود سے واصل ہو جاتا ہے ، اگر چہ اس کے وصل کی راہ مختلف اور جدا واقع ہوئی ہے، کیونکہ کفار خدا کے نام المضل ( راہ سے گمراہ کر دینے والا ہے ) راہ سے واصل ہوتے ہیں اور اہل اسلام خدا کے نام الھادی ( راہنمائی دیتے والا ہے )کی راہ سے ، ان حضرات نے اس مقام میں اس جیسی بہت سی باتیں کہی ہیں کچھ دوسرے لوگوں نے بھی جو اس بلند مرتبہ جماعت کے ساتھ تشبیہ اختیار کیے ہوئے ہیں اس بارے میں محض تقلید کے طور پر یا تو حید صوری کے انوار کے ظہور کے وقت بہت کی باتیں کہہ ڈالی ہیں اور سادہ دل لوگوں کو راہ سے بھٹکا گئے ہیں۔ اس بات کی حقیقت ایک دوسرے انداز پر ہے جسے اکابر اہل اللہ پر جو استقامت حال سے مشرف ہیں منکشف فرمایا گیا ہے، اس میں سے مختصر کچھ یہاں تحریر کر دیا جاتا ہے۔<br />
ایک شبہ اور اس کا ازالہ :جاننا چاہیے کہ سالک پر اثنائے راہ میں قرب اور معیت حق سبحانہ کو چیزوں کے ساتھ خواہ وہ چیز کوئی سی اور کیسی بھی ہو ظاہر کیا جاتا ہے اور سالک اس وقت ذات حق سبحانہ کو ہر چیز کے ساتھ موجود پاتا ہے اور معیت ذاتی ، قرب ذاتی احاطہ اور سریان ذاتی کا حکم لگاتا ہے ، وہ اس قرب ومعیت میں ساری چیزوں کو یکساں جانتا ہے ، وہ چیز خواہ مومن ہو یا کافر، قرب اور معیت کا شہود اس جماعت کے لیے سابقہ حکم لگانے کا باعث ہوا ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ارباب صحو( ہوش والے ) اور اصحاب تمیز جانتے ہیں کہ اس بارگاہ حق سبحانہ و تعالیٰ سے قرب اور معیت فرض کر لینے کے باوجود یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس سے قریب ہیں اور اس کے ساتھ ہیں کیونکہ قرب اور فصل تو علم کے اعتبار ہے ہوتا ہے اور علم کافر میں مفقود ہے بلکہ عام مومن کے بارے میں بھی لفظ وصل کا اطلاق نہیں کرتے ، جب تک کہ وہ درجہ ولایت تک نہ پہنچ جائے اور اس کو بقا باللہ کا مقام حاصل نہ ہو جائے وہ و اصل نہیں ہے، اکا بر اولیاء اللہ کا یہی مذہب ہے ، ایک بزرگ فرماتے ہیں<br />
دوست نزدیک تر از من نزدیک تر دین ست مشکل که من از وے دورم<br />
دوست مجھ سے بھی زیادہ ہے مرے نزدیک تر پر یہ مشکل ہے کہ میں ہی خود ہوں اس سے دور تر<br />
یہ دوری حق تعالیٰ کے قرب کو ذوقی طور پر نہ جاننے کے اعتبار سے ہے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ گمراہی کا منشا اور غباوت (کند ذہنی ) کا سر چشمہ خود یہی بندہ ہے اور بس ، بارگا و حق تعالی و تقدس سے تو تمام خیر و ہدایت ہی کی فیض رسانی ہو رہی ہے، لیکن وہی ہدایت محل خباثت کی وجہ سے گمراہی اور ضلالت کے معنی پیدا کر لیتی ہے اگر چہ یہ معنی بھی حق سبحانہ وتعالی کے پیدا کرنے سے ہی پیدا ہوئے ہیں ، اس کی مثال صالح غذا کی طرح ہے کہ بیماروں میں بوجہ ردی اغلاط اور فاسد مواد کے وہی صالح غذا فساد مزاج کا سبب اور بدن کی خرابی کا باعث بن جاتی ہے لہذا اس بارگاہ حق جل وعلی پر المصیل نام کا اطلاق اس اعتبار سے ہے کہ وہی ان میں گمراہی کو پیدا کرتا ہے مگر یہ گمراہی خودان ہی کی ذاتوں کا تقاضا ہوتی ہے جو حق سبحانہ و تعالیٰ کے پیدا کرنے سے وجود میں آگئی ہے، اس لیے کہ لوگوں کو خدا کے نام المضل سے بجز اس کے اور کوئی مناسبت نہیں ہے کہ اس نے ان میں گمراہی کو پیدا فرما دیا ہے۔ اس نام کو بھی مذکورہ فعل پیدائش سے قطع نظر کرتے ہوئے حق سبحانہ کی بارگاہ سے کوئی مناسبت نہیں ہے بر خلاف خدا تعالی کے نام الھادی کے باوجود اس سے قطع نظر کرنے کے وہی ان میں ہدایت کو پیدا کرتا ہے، اس نام کو ذات تعالیٰ و تقدس کے ساتھ مناسبت ہے کیونکہ ہدایت کا منشا خیر اور کمال ہوتا ہے اور ضلالت گمراہی کا منشا شر اور نقصان ہوا کرتا ہے اور اول یعنی ہدایت حق تعالی کی بارگاہ قدس کے لائق ہے اور دوسری یعنی ضلالت اس کے لائق نہیں ہے، کیونکہ حق تعالیٰ تو خیر محض ہے، نیز ضلالت( گمراہی ) کو فضل کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں ہے بجز اس کے کہ وہ حق تعالی کی پیدا کردہ ہے کیونکہ وہ شرارت محض ہے اور اس کے برعکس حق تعالی کی ذات کمال محض ہے۔<br />
ہدایت کو ھادی کے ساتھ مخلوق ہونے کی مناسبت کے علاوہ ایک دوسری مناسبت بھی ہے اور وہ ان دنوں میں خیریت (خیر ہونا ) اور کمال کا پایا جاتا ہے جیسا کہ ابھی ابھی اس کی طرف اشارہ گزر چکا ہے، لہذا گمراہ آدمی کے لیے تو مضل تک راہ ہی نہیں ہے اور ہدایت پانے والے آدمی کے لیے الھادی تک راہ ہے، کیونکہ اول یعنی ضلالت و گمراہی کے میں اس جہت کی مناسبت نہیں پائی جاتی جو ان دونوں کے درمیان مشترک ہو اور دوسری یعنی ہدایت میں جہت مشترک کی مناسبت پائی جاتی ہے لہذا ہدایت پانے والا آدمی تو ہدایت کے واسطے سے ہی ہادی تک پہنچ جاتا ہے اور گمراہ آدمی ضلالت کے واسطے مضل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ، جیسا کہ ظاہر ہے۔<br />
پہلی مثال: یہ بات ایک مثال سے واضح ہو جاتی ہے، صفرا کے مریض کے لیے اس کے فساد مزاج کی وجہ سے شرینی تلخ ہوتی ہے چنانچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صفرا کا مریض اس تلخی کے ذریعہ سے شرینی سے واصل ہوا ہے کیونکہ شرینی میں تلخی تو بالکل بھی موجود نہیں ہے وہی شرینی بوجہ اس کے کہ صفرا کے مریض کا مزاج بگڑا ہوا ہے تلخی کے معنی پیدا کر لیتی ہے اور یہ تلخی اگر چہ ایک عارض کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے لیکن صفرا کے مریض کے لیے شرینی تک وصول سے مانع بن گئی ہے لہذا گمراہی درحقیقت گمراہ آدمی کے لیے مضل تک رسائی کی مانع ہے ، رسائی کا باعث نہیں ہے۔<br />
دوسری مثال:دوسری مثال یہ ہے کہ آدمی قلبی بیماری اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کے غلبے کی وجہ سے دریائے نیل کے پانی کو خون پاتا تھا، کوئی عقل مند آدمی نہیں کہتا کہ وہ قبطی خون کے واسطے سے پانی سے واصل تھا، یہ خون اس کے لیے پانی تک واصل ہونے سے مانع بن گیا تھا، پانی میں خون ہونے کی بالکل کوئی بات نہیں تھی وہ تو اس قبطی کے مزاج کے فساد کی وجہ سے حادث ہوا تھا اور اس کے لیے پانی تک پہنچنے کا مانع بن گیا تھا اسے خود سمجھ لو ،<br />
لہذا اس جماعت نے حق سبحانہ وتعالی کے قریب ہونے کا تو لحاظ کیا اور بندہ کی جہت کا کوئی لحاظ نہ کرتے ہوئے حق سبحانہ و تعالیٰ کے ساتھ بندہ کے قرب کا فیصلہ دے دیا ، انہوں نے غائب اور حاضر میں کوئی فرق نہیں کیا ہے لیکن ارباب صحوو تمیز (ہوش اور تمیز والے)حضرات فرق کرنے والے لوگ نہیں ، انہوں نے ایسا فیصلہ دیا ہے جو واقعہ کے مطابق ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم اور وہی حق کو ثابت کرتا ہے اور راستہ کی راہنمائی فرماتا ہے۔<br />
تنبیہ:اور وہ جو ہم نے کہا تھا کہ اثنائے راہ میں سالک پر حق سبحانہ وتعالیٰ کا قرب ظاہر ہوتا ہے اور وہ اس لیے کہا تھا کہ منتہی حضرات اشیا کے ساتھ حق سبحانہ و تعالیٰ کے قرب کو قرب علمی سمجھتے ہیں اور معیت اور احاطہ اور سریان بھی علمی ہوتا ہے اور وہ اس مسئلہ میں علمائے اہل حق کے موافق ہیں اور علم سابق سے استغفار کرتے ہیں ، وہ حق تعالی و تقدس کی ذات کو عالم (کائنات) کے ساتھ کوئی نسبت بھی نہیں دیتے اور ہر وہ نسبت جو واقع ہوتی ہے اسے حق سبحانہ کی صفات کے ساتھ نیچے لے آتے ہیں ، وہ ذات حق کو بے چون و چگون جانتے ہیں، کسی نسبت کو ثابت کرنا اس مقصد کے منافی و خلاف کا ہے ،لہذا وہ قرب اور معیت جو ذات کے اعتبار سے ہو، اسے وہ دونوں طرف سے مسلوب (منفی)سمجھتے ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 31</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">سیر کی حقیقت اور اس کی اقسام  </span><br />
سیر اور سلوک سے مراد وہ حرکت ہے جو علم میں ہوتی ہے اور مقولہ کیف سے تعلق رکھتی ہے ، حرکت اَینَ کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ سیر اول:لہذا سیر الی اللہ ( خدا کی طرف سیر) سے مراد حرکت علمیہ ہے ، جو اسفل سے اعلیٰ تک جاتی ہے اور اس اعلیٰ سے دوسرے اعلیٰ تک یہاں تک سالک آخر تمام علوم ممکنات کو طے کر لینے اور ان کے بالکلیہ زوال پذیر ہو جانے کے بعد علم واجب تک پہنچ جاتا ہے، اس حالت کو فنا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔<br />
سیر دوم:اور سیر فی اللہ ( اللہ میں سیر ) سے مراد وہ حرکت علمیہ ہے جو مراتب و جوب میں ہوتی ہے اور جس کا تعلق اسم وصفات اور شیون و اعتبارات اور تقدیسات و تنزیہات سے ہوتا ہے ، یہاں تک کہ آخر میں وہ اس مرتبہ تک پہنچ جاتا ہے ، جسے کسی عبارت سے تعبیر کرنا اور کسی اشارہ سے اس کی طرف اشارت کر نا ممکن نہیں ہے ، نہ کوئی جاننے والا اسے جان سکتا ہے اور نہ کوئی ادراک کرنے والا اس کا ادر اک کر سکتا ہے، اس سیر کو بقا کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔<br />
سیر سوم:اور سیر عن الله باللہ( اللہ کی طرف سے اللہ کے ساتھ سیر) جو تیسری سیر ہوئی ہے، اس سے مراد وہ حرکت علمیہ ہے جو علم اعلی سے علم اسفل کی طرف نیچے اترتی ہے اور اسفل سے پھر اسفل کی طرف، یہاں تک کہ سالک ممکنات کی طرف واپس لوٹ آتا ہے اور مراتب وجوب کے تمام علوم سے نیچے اتر آتا ہے، یہی سالک ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو فراموش کرتا ہے (یعنی اس کے ساتھ ہو کر بھی اس کا اور اک نہیں کر سکتا ) اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واپس آجاتا ہے، یہی پانے والا اور گم کرنے والا ہے، یہی واصل ومہجور ہے اور یہی قریب و بعید ہے۔<br />
سیر چہارم:اور چوتھی سیر جسے سیر در اشیا کہتے ہیں ، اس سے مراد علم اشیا کا حصول ۔ جو علوم اشیا کے زوال کے بعد درجہ بدرجہ ہر ایک چیز کے متعلق حاصل ہوتا ہے (یعنی سیر اول میں تمام اشیا کے علوم زوال پذیر ہو جاتے ہیں پھر اس کے بعد چوتھی سیر میں درجہ بدرجہ ایک ایک چیز کا علم حاصل ہوتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ تمام اشیا کا علم حاصل ہو جاتا ہے) لہذا چوتھی سیر سیر اول کے مقابلے میں اور تیسری سیر سیر دوم کے مقابلے میں ہے، جیسا کہ تم دیکھ چکے ہو۔<br />
حاصل کلام :اور سیر الی اللہ اور سیر فی اللہ خود ولایت کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس سے مراد فنا اور بقا ہے اور تیسری اور چوتھی سیر مقام دعوت کے حصول کے لیے ہوتی ہے جو انبیا اور مرسلین کے ساتھ مخصوص ہے ، خدا تعالی کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں ان سب پر عموماً اور ان کے افضل ترین پر خصوصاً اور انبیا کرام ﷺ کے کامل ترین متبعین کا بھی مقام دعوت میں کچھ حصہ ہوتا ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے قُلۡ هَٰذِهِۦ ‌سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِياے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ یہی میری راہ ہے کہ میں خدا کی طرف بصیرت کے ساتھ دعوت دیتا ہوں اور میرے متبعین بھی یہی دعوت دیتے ہیں ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 32</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">کسی توجہ کی برتری طبعی وجہ پر  </span><br />
کچھ لوگ جو فطری طور پر ہی حضور اور توجہ کا ملکہ رکھتے ہیں اور ان کی اس توجہ میں کسب کو کوئی دخل نہیں ہوتا تو اس کا راز یہ ہے کہ روح کو بدن کے ساتھ تعلق پیدا ہونے سے پہلے ایک قسم کی توجہ اور حضور حاصل ہوتا ہے، جب اسے بدن عنصری کے ساتھ تعلق کر دیا جاتا ہے اور عشق و محبت کی نسبت درمیان میں آجاتی ہے تو پوری طرح سے بدن کی طرف ایسے متوجہ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے گزشتہ احوال کو بالکل فراموش کر دیتی ہے، ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کی دوسرے امر کی طرف توجہ غالب ہونے کی وجہ سے سابقہ توجہ بالکل فراموش نہیں ہوتی اور بدن کے ساتھ تعلق ہو جانے کے باوجود اس کا اثر باقی رہ جاتا ہے،لہذا لامحالہ ان کی یہ توجہ عمل اور کسب کی محتاج نہیں ہوتی لیکن یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جو لوگ( احوال سابق ) پوری طرح سے فراموش کر چکے ہوں اگر بدن کے ساتھ تعلق قائم ہو جانے کے بعد انہیں کوئی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ پہلی جماعت سے سبقت لے جاتے میں اگر چہ پہلی جماعت بھی ترقی کرتی ہے، کیونکہ ان کا (احوال سابق کو ) بالکل فراموش کر دینا اور پھر اپنے معشوق یعنی بدن کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا ان کی لطافت استعداد کو بتاتا ہے کہ وہ جس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں وہی بن جاتے ہیں اور اس کے سوا کو بالکلیہ فراموش کر دیتے ہیں بر خلاف اس صورت کے جس میں آدمی احوال سابقہ کو نہیں بھولتا کیونکہ اس سے معشوق کی طرف متوجہ ہونے میں نقص سمجھا جاتا ہے، والله سبحانه وتعالى اعلم<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت: :نمبر 33</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">سابقین اور محبوبین میں فرق </span><br />
سابقین میں چونکہ حضور اول ہی سے حاصل ہے اس لیے ممکن ہے کہ یہ حضور ان کی کلیت (ظاہر و باطن ) میں سرایت کر جائے اور ان کی بصارت اور بصیرت کا حکم اختیار کرلے اور ان کا ظاہر باطن کے رنگ میں رنگ جائے لیکن وہ سرایت جو محبوبوں میں ہوتی ہے وہ دوسری چیز ہے، کیونکہ محبوب حضرات بالکلیہ اپنے آپ سے نکل کر اس کے ساتھ باقی ہو گئے ہیں اور ان کے وجود کے ذرات میں سے ہر ذرہ اسی کے ساتھ باقی بن گیا ہے، برخلاف سابقین کے کہ ان کے وجود کا بقایا اپنے حال پر ہے ،وہ خود اپنے ساتھ باقی ہیں اس کے ساتھ باقی نہیں ہیں ،زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 34</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">بندہ کی قدرت و اختیار اور اس پر جزا کا مرتب ہوتا </span><br />
حق تعالی و سبحانہ سے زیادہ کچی بات کہنے والا اور کون ہو سکتا ہے کہ وَمَا ‌ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنۡ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا وہ تو خود ہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے ) اس آیت کریمہ میں حق سبحانہ وتعالی سے ظلم کی نفی اور ان لوگوں کے لیے ظلم کا ثابت ہونا ظاہر ہے، کیونکہ (خدا کی جانب سے)ظلم کی تخلیق ان کے ارادہ کے بعد ہوئی ہے اور ان کا ارادہ اس علم کے بعد صادر ہوا ہے جو انہیں بھلائی اور برائی کے متعلق حاصل ہے اور بھلائی اور برائی دونوں کا شریعت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے اور یہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں طور پر ان کی قدرت میں ہوتی ہیں، لہذا پہلے( بندے) خود ہی اس برائی کا ارادہ کرتے ہیں، جس کا برا ہونا شریعت میں واضح کر دیا گیا ہے، اس کے بعد جیسا کہ وہ ارادہ کرتے ہیں، حق تعالی اس برائی کو پیدا کر دیتا ہے اور وہ خود ہی اس خیر اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں جو ان کی قدرت میں ہوتی ہے اور جس کا بھلا ہونا شریعت کی رو سے انہیں معلوم ہے، لہذا خدا نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں ۔<br />
اب یہ بات باقی رہ گئی ہے کہ ان کی قدرت اور ارادہ بھی تو اللہ سبحانہ و تعالی کا ہی پیدا کیا ہوا ہے تو یہ بات بھی ان بندوں سے ظلم کی نفی نہیں کرتی کیونکہ حق سبحانہ و تعالی نے جو قدرت پیدا فرمائی ہے اس کی نسبت بھلائی اور برائی دونوں کی طرف ہے، یہ بات نہیں ہے کہ خدا نے ان میں برائی ہی کی قدرت پیدا کی ہو اور بھلائی کی قدرت پیدا نہ فرمائی ہو جس سے وہ برائی کے کرنے پر مجبور ہو گئے ہوں، یہی حال تخلیق کردہ ارادہ کا ہے کہ جب اسے خیر اور شر دونوں کا علم ہو چکا ہے تو اب وہ ان دونوں میں سے جس جہت کو چاہے ترجیح دے سکتا ہے ، پس بندہ شریعت کی رو سے بھلائی اور شر کو جانتے ہوئے بھی شر ہی کو اختیار کرتا ہے حالانکہ اس کی قدرت کی نسبت بھلائی اور برائی دونوں کی طرف یکساں طور پر تھی ، اس طرح ارادہ کے اعتبار سے بھی دونوں زیر قدرت صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو دوسری کی بجائے مخصوص کر لینا اس کے لیے درست تھا، اس سے ظاہر ہے کہ اس پر جو کچھ ظلم ہوا ہے وہ خود اس کے نفس ہی نے کیا ہے اور حق سبحانہ نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا ۔ یہی حال از لی علم اور ازلی قضا ( تقدیر ) کا بھی ہے کہ وہ دونوں بھی بندوں سے ظلم کی نفی نہیں کرتے کیونکہ حق سبحانہ وتعالی نے جان لیا اور ازل میں فیصلہ کر دیا کہ فلاں بندہ عمل کرنے میں اس کے شر کے پہلو کو اختیار کرے گا اور خیر کو چھوڑ دے گا اور وہ سب کچھ اپنے اختیار سے کرے گا لہذا علم اور قضا( تقدیر فیصلہ ) بندے کے مختار ہونے کو مضبوط کرتے ہیں ، اس کی نفی نہیں کرتے ، یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو بذریعہ کشف کے بعض غیب کی باتوں کا علم حاصل ہو جائے ، وہ معلوم کر لے اور فیصلہ کر لے کہ فلاں آدمی عنقریب اپنے اختیار سے یہ کام کرے گا ( تو اس شخص کا ) یہ علم اور فیصلہ بندہ کے اختیار کی نفی نہیں کرتے ، اسی طرح علم الہی اور قضائے الہی جل شانہ بھی اس کی نفی نہیں کرتے ، والله سبحانه اعلم بحقيقة الحال وصلى الله تعالى على سيدنا محمد و آله وسلم اور یہ مسئلہ علم کلام کے پیچیدہ ترین مسائل میں سے ہے، اس پر کچھ راسخ علما کے سوا دوسرے لوگ واقف نہیں ہو سکتے اور اللہ سبحانہ وتعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 35</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">قطب ابدال اور قطب ارشاد کا فیض </span><br />
قطب ابدال ان فیوض و برکات کے پہنچنے کا واسطہ ہوتا ہے جو عالم کے وجود اور بقا سے تعلق رکھتے ہیں اور قطب ارشادان فیوض و برکات کے پہنچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جو دنیا کے ارشاد و ہدایت سے تعلق رکھتے ہیں، لہذا پیدائش ، رزق سانی ازالہ بلیات ( مصائب کو دور کرنا)بیماریوں کو دور کرنا اور صحت و عافیت کا حصول قطب ابدال کے مخصوص فیوض سے تعلق رکھتے ہیں اور ایمان و ہدایت توفیق حسنات اور گناہوں سے رجوع اور تو بہ قطب ارشاد کے فیوض کا نتیجہ ہوتا ہے، قطب ابدال ہمہ وقت کام میں مشغول رہتا ہے اور اس سے دنیا کے خالی ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دنیا کا انتظام اس سے وابستہ ہے، اگر اس قسم کے قطب میں سے کوئی قطب چلا جائے (فوت ہو جائے ) تو دوسرا آدمی اس کی جگہ پر مقرر کر دیا تا ہے، لیکن قطب ارشاد کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمہ وقت موجود ہو ایک وقت ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا ایمان و ہدایت سے بالکل خالی ہی ہو جائے ۔<br />
کمال کے اعتبار سے ان قطبوں کے افراد میں بڑا فرق ہے لیکن یہ فرق ان سب کے درجہ ولایت تک واصل ہونے کے بعد ہے ، اقطاب ارشاد میں سے جو شخص کامل ترین ہوتا ہے وہ حضرت خاتم الرسل ﷺ قدم پر ہوتا ہے اور فرد (شخص ) کمال حضور اکرم ﷺکے کمال کے مطابق ہوتا ہے، ان دونوں میں فرق اصل ہونے اور تابع ہونے کا ہی ہوتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور فرق نہیں ہوتااور حضوراکرم ﷺ قطب ارشاد ہی تھے اور اس وقت میں قطب ابدال حضرت عمر حضرت اویس قرنی تھے ۔<br />
قطب ارشاد سے فیض پہنچنے کا طریقہ، قطب سے دنیا کو فیض پہنچنے کا طریقہ یہ ہے کہ قطب بوجہ اپنی حاصل کردہ جامعیت کے مبداء فیاض کے لیے مثل صورت اور محل سایہ کے بن گیا ہے اور دنیا تمام کی تمام خود اس قطب جامع کی تفصیل ہے، چنانچہ بغیر کسی تکلیف کے حقیقت سے صورت تک فیض پہنچتا ہے اور صورت جامعہ ( قلب ) سے عالم تک بغیر کسی رکاوٹ کے فیض پہنچتا ہے جو کہ اس کی تفصیل کے مثل ہے لہذ افیاض مطلق تو حق تعالی ہی ہے اور خود واسطہ ( یعنی قطب ) کی اس فیض رسانی میں کوئی کاری گری نہیں ہے بلکہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ واسطہ کو اس فیض رسانی کی اطلاع بھی نہیں ہوتی<br />
از ما و شما بہانہ برساتہ اند ہمارا اور تمہارا درمیاں میں ایک بہانہ ہے<br />
سوال:اگر کوئی شخص کہے کہ ایمان و ہدایت کی نسبت تو عام خلائق کے ساتھ نہیں ہے لہذا قطب ارشاد کے فیوض عام نہیں ہوں گے بلکہ اہل ایمان و ہدایت کے ساتھ مخصوص ہوں گے اور حضرت رسالت مآب ﷺ رحمت عالمیان ہیں اور اس کے ساتھ ہی( جیسا کہ آپ نے کہا ہے وہ )قطب ارشاد بھی ہیں تو اس کا مطلب کیا ہوگا ؟<br />
جواب: میں اس کا جواب یہ دوں گا کہ مبداء فیاض سے جو کچھ بھی فیض پہنچتا ہے اور تحصیل پاتا ہے وہ تو سب خیر و برکت اور ایمان و ہدایت ہی ہے شر اور نقص کی تو اس مقام میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، خواہ وہ فیض اہل سعادت تک پہنچے یا اہل شقاوت تک لیکن وہی ہدایت و ارشاد بوجہ محل کی خباثت کے فساد پیشہ لوگوں میں گمراہی اور شرارت کے معنی پیدا کر لیتا ہے اس انداز پر جس طرح غذا صالح بیمار آدمی میں مکمل خراب ہونے کی بنا پر اخلاط ردئیہ اور امراض مہلکہ کا باعث بن جاتی ہے، الہذا فساد پیشہ لوگوں میں وہی ہدایت ان کے قلبی امراض کی وجہ سے گمراہی کے معنی پیدا کر لیتی ہے جیسا کہ دریائے نیل کا پانی پسندیدہ اور محبوب لوگوں کے لیے پانی ہوتا ہے اور محجو بین (مخالفین) کے لیے ایک مصیبت اور آزمائش بن جاتا ہے۔ حقیقت میں وہ پانی ہے لیکن قبطی اسے خون پاتا ہے اور اس کا اسے خون پانا بوجہ اس کی اپنی خباثت کے ہے نہ کہ پانی کی کسی خرابی کے باعث سے صفراء کا مریض جسے شرینی بھی تلخ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے اپنے مزاج میں خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے، شرینی کی ذات میں کوئی تلخی پیدا نہیں ہوتی بلکہ محل کے فساد کی وجہ ہی تلخی کے معنی اس محل میں پیدا ہو گئے ہیں جیسا کہ پہلے تفصیل سے گزر چکا ہے ، لہذا ثابت ہو گیا کہ جو کچھ حق تعالی و تقدس کی جانب سے پہنچتا ہے وہ خیر و برکت اور اصلاح ور شدہی ہے لیکن وہی خیریت ( بھلائی ) فساد کی جگہ فساد کے معنی پیدا کر لیتی ہے لہذا حق سبحانہ پر مفصل کا اطلاق اس معنی میں ہوتا ہے کہ خباثت کا محل جس فساد کا مقتضی ہوتا ہے وہ حق سبحانہ و تعالی کے پیدا کرنے سے وجود میں آجاتا ہے۔ اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہو وَمَا ‌ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنۡ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ خداتعالی نے ان پر کوئی ظلم نہیں فرمایا وہ تو خودہی اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے ) قضا اور قدر کاازالہ : اگر لوگ یہ کہیں کہ خباثت محل کہاں سے آگئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی بدن مثلاً عناصر اربعہ سے مرکب ہے اور ہر عضو جو جسم انسانی کا جزو ہے وہ ایک قسم کی خصوصیت کا مقتضی ہے، مثلاً جزو ناری بلندی اور سرکشی چاہتا ہے اور جزو خا کی پستی اور نیچائی چاہتا ہے ، وعلی ہذا القیاس ، لہذا ان عناصر کے اجماع میں ہر وہ شخص جو اعتدال سے زیادہ نزدیک ہے اسے بسیط حقیقی (ذات حق تعالی )سے زیادہ مناسب ہوتی ہے اور اس مناسبت کی بنا پر ایسا آدمی خیر و برکت اور رشد و ہدایت کے زیادہ لائق ہوتا ہے اور جو شخص اعتدال سے زیادہ دور ہے اس میں بعض اجزا کی خصوصیات زیادہ غالب ہوتی ہیں اور بعض دوسری( اجزائی خصوصیات )زیادہ مغلوب ہو جاتی ہیں اور اس اختلال کی وجہ سے اسے بسیط حقیقی (ذات حق تعالی ) سے مناسبت بھی کم رہ جاتی ہے لہذا لامحالہ خیر و برکت اور ان جیسی باتوں سے اسے بہت کم حصہ نصیب ہوتا ہے ، فساد محل سے مراد اس نظام (جسم ) کا خلل آجانا اور اسی اعتدال کا بگڑ جانا ہے اور جو روح ان اجزائے مجتمعہ پر فائض ہوتی ہے اگر چہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس قسم کے اختلال سے خالی ہوتی ہے کیونکہ وہ بسیط ہے اور یہ اختلال مرکب ہی میں صورت پذیر ہوتا ہے لیکن حق تعالی نے اسے اس انداز پر پیدا فرمایا ہے کہ وہ اپنی انتہائی لطافت کی وجہ سے اپنے پڑوسی کا اثر قبول کر لیتی ہے بلکہ اپنے آپ کو اس میں کم کر کے خود کو اس کا عین بنا لیتی ہے لہذا وہ خباثت ہمسائیگی کی وجہ سے (جسم سے) روح میں بھی سرایت کر جاتی ہے۔ فرشتے اپنے بسیط (یعنی غیر مرکب ) ہونے کی وجہ سے شرارت اور اس جیسی چیزوں سے منزہ و پاک ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ انہیں ایسے مرکبات سے جن کے انتظام میں خلل آگیا ہو کوئی مناسبت نہیں ہے اور اگر بالفرض بعض فرشتوں میں شر کا وجود صحیح مان لیا جائے تو اس کے جواز کی وجہ سے بعض اُن افراد ملائکہ میں بعض مرکبات کے ساتھ ان کی مناسبت ہو سکتی ہے اگر چہ وہ مناسبت فی الجملہ بہت کم ہی کیوں نہ ہوں اور اس مناسبت کا مطلق طور پر انکار کر دینا محض ضد اور ہٹ دھرمی ہے، اس کے بعد میں کہتا ہوں کہ حق سبحانہ و تعالی نے پیدا کردہ یعنی غیر حقیقی بسیط چیزوں میں ترکیب اجتماع کو بھی پیدا فرما دیا ہے اگر چہ اس ترکیب و اجتماع کے درجے مختلف ہیں اور جس طرح سے کہ ان بسائط میں سے ہر بسیط کسی نہ کسی امر کا مقتضی تھا ، ہر اجتماع بھی کسی نہ کسی امر کا مقتضی ہو گیا ، اس کے بعد حق تعالی نے اس اجتماع کا جو تقاضا تھا اس کو پیدا فرمایا لہذا وہ فساد اس مرکب کی ذات کو لازم آتا ہے اور اس لازم کا پیدا کرنا بھی حق تعالی ہی کی طرف سے ہے اور اس میں کوئی برائی کی بات نہیں ہے اور حق تعالی کی ذات کی طرف کسی قسم کا کوئی شریا نقص منسوب نہیں ہو سکتا بلکہ بات صرف اتنی ہے کہ حق تعالی اس شر اور نقص کا خالق اور موجد ہے اور کسی بری چیز کو پیدا کر دینا برائی نہیں ہے، لہذ ا شرارت اور فساد خود ان چیزوں کی طرف لوٹتا ہے اور خیر و اصلاح حق سبحانہ و تعالی کی طرف یہ ہے قضاء قدر کے مسئلہ کا راز اور اس بات کے مان لینے اور اس فیصلہ کو (پہچان لینے ) پر کوئی برائی لازم نہیں آتی اور یہ فیصلہ شائبہ ایجاب سے جو حق تعالی و سبحانہ کے اختیار کے منافی ہے پاک ہے( یعنی اس بات کی آمیزش سے پاک ہے کہ حق تعالی کے ذمہ کوئی بات ضروری قرار دی جاۓ )<br />
لہذا اس پر غور کرنا تمہارے لیے ضروری ہے تا کہ تم پر اس کا راز واضح ہوجائے اور تمہیں اہل بدعت اور ضلالت کے بہت سے اعتقادات سے نجات حاصل ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ہی حق کو ثابت کرتا ہے اور وہی صحیح راستہ کی راہنمائی فرماتا ہے، یہ راز ان رازوں میں سے ہے جن کے متعلق حق تعالیٰ نے مجھے الہام فرمایا بلکہ مجھے اس کے ساتھ مخصوص فرمایا، سوحق سبحانہ کے لیے حمد ہے اور اس کا احسان ہے اس انعام پر بھی اور باقی تمام انعامات پر بھی ۔<br />
سوال:اگر لوگ دریافت کریں کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کو اپنے قدیم علم میں یہ معلوم تھا کہ اس انداز کی ترکیب فساد اور خباثت کا باعث ہوگی تو اس نے اس ترکیب کو پیدا ہی کیوں فرمایا ؟<br />
جواب:اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اس گروہ پر وارد ہوتا ہے جو حق سبحانہ و تعالی پر اس بات کو واجب سمجھتے ہیں کہ وہ صالح ترین چیز ہی پیدا فرمائے لیکن ہم تو حق سبحانہ و تعالی پرکسی چیز کو بھی واجب اور لازم نہیں سمجھتے، اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، جو کچھ کرتا ہے وہ اس کا جواب دہ نہیں ہے ، البتہ سب لوگ جواب دہ ہیں اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پیدا ہونے کے بعد وہ مرکب ہی اس قسم کے خبث اور فساد کو مستلزم ہوگا اور اس لازم آنے والی چیز کو بھی حق سبحانہ وتعالی نے ہی خود اپنے ارادہ سے پیدا فرمایا ہے، بطور ایجاب اور محکومیت کے نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے خیال کر لیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر پورا غلبہ اور تسلط رکھتا ہے، لہذا بندوں کا اس پر کوئی حکم نہیں چلتا جس سے و ہ ان کا محکوم ہو جائے اور بندہ محکوم اس کا حاکم بن جائے ، حاصل یہ ہے کہ سر چشمہ فساد صرف مخلوق ہی ہے اور بس ، اس کا پیدا کرنے والا حق تعالیٰ جس کی شان بہت ہی بلند ہے، وہ ظلم کی آمیزشوں ، ایجاب کے لوازم اور محکومیت کے نقائص سے منزہ اور مبراء ہے ، جو کچھ عام لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے پاک اور بہت ہی بلند ہے، واللــه ســـــبحـانــه اعـلـم بحقيقة الحال<br />
(یہاں واضح ہو جانا چاہے کہ واقعی حق تعالی کو معلوم تھا کہ اس انداز کی ترکیب فسادو خباثت کا باعث ہو گی تو اس نے انسان کو نور عقل عطا کیا اور ہدایت کی راہنمائی فرمائی ، انبیا کرام بھیجے اور کتا ہیں ارسال کیں ، اچھے انجام اور برے انجام سے خبر دار کیا اور کفر و اسلام میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا تو اس اہتمام کے ہوتے ہوئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس نے ظلم کیا ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 36</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ولایت ، شہادت اور صد یقیت  </span><br />
جاننا چاہیے کہ ولایت ، شہادت اور صدیقیت کے مقامات میں سے ہر مقام کے علوم و معارف الگ الگ ہیں جو اسی مقام سے مناسبت رکھتے ہیں، مرتبہ ولایت میں علوم زیادہ تر سکر آمیز ہوتے ہیں کیونکہ اس مرتبہ میں سکر غالب ہے اور ہوش مغلوب اور مرتبہ شہادت میں جو درجات ولایت کا دوسرا درجہ ہے، سکر مغلوب ہو جاتا ہے اور درجہ صدیقیت جو مراتب ولایت میں تیسرا درجہ ہے اور درجات ولایت کی آخری حد ہے کہ اس کے اوپر ولایت کا کوئی درجہ نہیں بلکہ اس سے اوپر نبوت کا مرتبہ ہے، اس درجہ کے علوم سکر سے بالکل آزاد ہوتے ہیں اور علوم شریعت کے مطابق ہو جاتے ہیں ، صدیق انہی علوم شرعیہ کو الہام کے ذریعے حاصل کرتا ہے جیسا کہ نبی وحی کے ذریعے حاصل فرماتے ہیں ،صدیق اور نبی کا فرق حاصل کرنے کے طریقے میں ہے، ماخذ میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں حق تعالی سے ہی حاصل کرتے ہیں لیکن صدیق نبی کی پیروی کی وجہ سے اس درجہ تک پہنچتا ہے کہ نبی اصل ہے اور صدیق اس کی فرع ہے، نیز یہ کہ نبی کے علوم قطعی ہوتے ہیں اور صدیق کے علوم ظنی ہوتے ہیں، نیز یہ بھی کہ نبی کے علوم دوسروں پر حجت ہوتے ہیں اور صدیق کے علوم دوسروں پر حجت نہیں ہوتے ۔<br />
در قافله که ادست دانم نرسم این بس که رسد زدور بانگ جرسم<br />
وہ ہے جس قافلہ میں جانتا ہوں میں نہ پہنچوں گا غنیمت ہے کہ آواز جرس تو مجھ تک آتی ہے<br />
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور سلامتیاں نازل ہوں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفے ﷺ پر اور تمام انبیاء مرسلین پر اور ملائکہ مقربین پر اور تمام فرمابردار بندوں پر ۔<br />
لہذا اگر اس رسالہ میں کچھ علوم و معارف بطور تنافی یا تعارض کے آگئے ہوں تو ان علوم کے اختلاف کو درجات ولایت کے اختلاف پر محمول کرنا چاہیے کیونکہ ہر درجہ کے علوم الگ ہوتے ہیں جیسا کہ میں نے تحقیق کے ساتھ بیان کر دیا ہے، علوم توحید درجہ ولایت سے مناسبت رکھتے ہیں اور درجہ شہادت کے علوم و معارف کو اگر معلوم کرنا چاہتے ہو تو اس معرفت کو جو آیت کریمہ لَيۡسَ ‌كَمِثۡلِهِۦ شَيۡء میں مذکور ہوئی ہے، اچھی طرح حاصل کر لو کیونکہ اس مقام کے علوم مرتبہ شہادت کے علوم میں سے ہیں، چونکہ سالک اس مقام میں اپنے آپ کو اور اپنی صفات کو بالکل مردہ پاتا ہے اس لیے البتہ اس مقام کو شہادت کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے اور علوم صدیقیہ خود بعینہ علوم شرعیہ ہیں جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے اورصحیح اور قابل اعتبار علوم وہی ہیں جو علوم شرعیہ کے مطابق ہوں، حق تعالی و سبحانہ ہمیں روشن شریعت پر ، صاحب شریعت عليه وعلى آله الصلواة والسلام کے طفیل میں ثابت قدم رکھے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 37</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">ما سوی سے قطع تعلق </span><br />
جو کچھ ہم پر واجب ہے وہ ما سوائے حق سبحانہ کی گرفتاری سے اپنے دل سلامت اور محفوظ رکھنا ہے اور یہ سلامتی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کہ غیر حق سبحانہ کا دل پر کوئی گزر نہ رہے، اگر بالفرض ہزار سال تک بھی زندگی وفا کرے تو اس نسیان کے باعث جو دل کو ماسوا سے حاصل ہو گیا ہے غیر کا دل پر گزر نہ ہو سکے ۔<br />
کا را ین ست غیر ایں ہمہ ہیچ کام یہ ہے اور سب کچھ ہیچ ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 38</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">مقام صدیقیت کا منتہی </span><br />
بعض اکا بر مشائخ نے فرمایا ہے کہ صدیقین کے دماغوں سے جو چیز سب سے آخر میں نکلتی ہے وہ حب جاہ اور حب ریاست ہے، بعض لوگوں نے اس جاہ و ریاست کے متعارف و مشہور معنی کے خلاف معنی مراد لیتے ہیں اور کہا ہے کہ حب جاہ و ریاست کا نکل جانا صدیقیت کے پہلے قدم میں ہوا کرتا ہے لیکن اس حقیر کے نزدیک جو بات تحقیق کو پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ حب جاہ اور حب ریاست کی ایک قسم ایسی ہے کہ اس کا تعلق نفس سے ہوتا ہے۔ اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ جب تک یہ برائی نفس سے دور نہ ہو جائے وہ تزکیہ یافتہ نہیں ہو سکتا اور جب تک وہ تزکیہ حاصل نہ کرلے مقام ولایت تک نہیں پہنچ سکتا مقام صدیق تک پہنچنا تو بڑی بات ہے، کہنے والے سے مراد اس قسم کی جاہ وریاست نہیں ہے، جاہ کی ایک اور قسم بھی ہے جس کا تعلق لطیفہ قالب سے ہوتا ہے اور اس کی فطرت سے أَنَا۠ ‌خَيۡر ‌مِّنۡهُ میں اس سے بہتر ہوں ) کی صدائیں بلند ہوتی رہتی ہیں، اس قسم کی جاہ( کا دماغ سے نکل جانا) اطمینان نفس کے حاصل ہو جانے اور مرتبہ ولایت تک پہنچ جانے بلکہ صدیقیت کے حاصل ہو جانے کے بعدمتحقق ( ثابت ) ہوا کرتا ہے اور کہنے والے کی مراد جاہ و ریاست کی یہی قسم ہوگی کہ اس کا ( ماغ سے) نکل جانا صدیقیت کے مقام کی آخری حد ہے اور محمدی المشرب اولیا کرام کے ساتھ مخصوص ہے۔<br />
جس شیطان کے اسلام کے متعلق سید الا نبیاء نے اپنے اس ارشاد میں خبر دی ہے کہ اسلم شیطانی میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے کے اس کا تعلق اسی بلند مقام سے ہے جیسا کہ ارباب سلوک پر مخفی نہیں ہے، یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے اور اللہ تعالی کی برکتیں اور سلامتیاں نازل ہوں ، ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی سلام پر اور آپ کے تمام آل و اصحاب پر۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت: :نمبر 39</span></p>
<p><span style="color: #800080; font-size: 24pt;">حضرت مجدد کا جذب و <span style="font-size: 16px;">سلوک  </span></span></p>
<blockquote><p><span style="color: #0000ff; font-size: 16px;">جذبه وسلوک</span></p></blockquote>
<p><span style="color: #0000ff; font-size: 16px;">جذبہ به سیرانفسی کانام ہےاللہ تعالی کے فضل اور مرشد کامل کی تو جہات سے سیر انفسی میں عالم امر کے لطائف کا تزکیہ ہوجاتا ہے اور لطائف اپنی اصل میں فنا ہو جاتے ہیں یہ کیفیت جذب ہے اور اس تربیت کے حاصل کرنے والے کو مجذوب کہتے ہیں ۔</span></p>
<p><span style="color: #0000ff; font-size: 16px;">سلوک سلوک سیر آفاقی کا نام ہے۔ مرشد کامل کی ہدایت کے مطابق، اتباع سنت و شریعت اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے طہارت نفس عناصر حاصل کرنا سیر آفاقی ہے۔ اس کو سلوک کہتے ہیں اور اس کی قسم کی تربیت </span><span style="color: #0000ff;">حاصل کرنے والے کو سالک کہا جاتا ہے</span></p>
<p>معلوم ہونا چاہیے کہ عنایت الہی جل سلطانہ نے اولا مجھے اپنی طرف کھینچا جیسا کہ مقام مراد پر فائز لوگوں کو کھینچا جاتا ہے ، اس کے بعد دوسرے درجہ میں میرے لیے اس جذبہ نے سلوک کی منزلوں کو طے کرنا نہایت ہی آسان کر دیا چنانچہ میں نے شروع شروع میں حق تعالی کی ذات کو اشیا کا عین پایا جیسا کہ متاخرین صوفیہ میں سے تو حید وجودی کے مقام پر فائز حضرات نے ارشاد فرمایا ہے ، پھر میں نے حق تعالی کو تمام چیزوں میں پایا بغیر اس کے کہ وہ ان اشیا میں حلول دسرایت کیے ہوئے ہو ، پھر میں نے حق تعالٰی کو معیت ذاتیہ کے طور پر تمام چیزوں کے ساتھ مخصوص ( مشاہدہ ) کیا ، اس کے بعد حق تعالی وسبحانہ کو تمام چیزوں کے بعد پایا ، پھر تمام چیزوں سے پہلے پایا ، پھر میں نے حق سبحانہ وتعالیٰ کو دیکھا اور کوئی ایک چیز بھی مجھے وہاں نظر نہیں آئی ، توحید شہودی کا سب یہی مطلب ہے جسے فنا سے تعبیر کرتے ہیں، یہ پہلا قدم ہوتا ہے جو ولایت کے درجات میں رکھا جاتا ہے اور یہی وہ سابق ترین کمال ہے جو ابتدا میں حاصل ہوتا ہے اور یہ رویت مراتب مذکورہ میں سے کسی مرتبہ میں بھی کیوں نہ پیش آئے اولاً آفاق میں ہوا کرتی ہے اور دوسرے درجہ میں انفس میں ہوا کرتی ہے، پھر اس کے بعد میں نے بقا کی طرف ترقی کی جو ولایت میں دوسرا قدم ہوا کرتا ہے پس میں نے ان اشیا کو دوبارہ دیکھا اور میں نے حق تعالی و سبحانہ کو ان اشیا کا عین پایا بلکہ خود اپنا عین پایا۔</p>
<p>اس کے بعد میں نے اللہ تعالی کو تمام اشیا میں دیکھا بلکہ خود اپنے نفس میں دیکھا اس کے بعد اشیا کے ساتھ بلکہ خود اپنے ساتھ دیکھا، پھر اشیا سے پہلے بلکہ اپنے سے بھی پہلے دیکھا ، پھر میں نے حق سبحانہ کو اشیا کے بعد بلکہ خود اپنے بھی بعد دیکھا، پھر میں نے اشیا کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ کو بالکل نہیں دیکھا اوریہ وہ آخری قدم تھا جس میں ابتدائی قدم کی طرف لوٹنا ہوتا ہے اور مرتبہ عوام کی طرف واپس آ جانا ہوتا ہے اور یہ مقام مخلوق کو حق سبحانہ وتعالی کی طرف دعوت اور بلانے کا کامل ترین مقام ہوا کرتا ہے اور یہی منزل تکمیل وارشاد کی کامل ترین منزل ہوا کرتی ہے، تا کہ مخلوق کی طرف مناسبت مکمل ترین طریقے پر حاصل ہو سکے ، کیونکہ کمال درجہ کا فائدہ پہنچانے اور فائدہ حاصل کرنے کا یہی تقاضا ہوتا ہے، یہ اللہ تعالی کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ تعالی بڑے ہی فضل والا ہے اور یہ تمام مذکورہ احوال اور تحریر کردہ کمالات مجھے حاصل ہوئے ہیں بلکہ ہر اس شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو افضل الانبیا اور اکمل البشر ﷺکے طفیل سے واصل ہوتا ہے، اے اللہ ہمیں آپ کی پیروی پر ثابت قدم رکھ اور ہمارا حشر آپ ہی کے زمرہ میں فرما اور اللہ سبحانہ و تعالٰی اس بندہ پر رحم فرمائے جو میری اس دعا میں آمین کہے اور سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 40</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">فضائل سلسلہ نقشبندیہ</span><br />
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ چند فضیلتوں کے اعتبار سے باقی تمام سلسلوں سے ممتاز ہے اور اس طریقہ عالیہ کو باقی تمام طریقوں پر ترجیح ہونا ظاہر ہے، یہ سلسلہ عالیہ بر خلاف دوسرے سلاسل کے حضرت ابو بکر صدیق پر ختم ہوتا ہے جو انبیا ء علیہم السلام کے بعد تمام بنی آدم میں سے سب سے افضل ہیں اس طریقے میں ہر خلاف باقی طریقوں کے آغاز ہی میں انجام مندرج ہوتا ہے (اندراج نہایت در ہدایت )علاوہ ازیں بر خلاف دوسرے سلسلوں کے ان بزرگوں کے نزدیک جو شہود معتبر ہے وہ شہود دائمی ہے جسے ان حضرات نے یاداشت سے تعبیر فرمایا ہے اور جو شہود دوام پذیر نہ ہو وہ ان حضرات کے نزدیک نا قابل اعتبار ہے اور اس طریق کی منزلوں کو طے کرنا صاحب شریعت ﷺکی مکمل پیروی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا بر خلاف دوسرے سلسلوں اور طریقوں کے کہ کسی قدر پیروی کے ساتھ لوگ ریاضتوں اور مجاہدوں کی مدد سے انقطاع( دنیا سے بے تعلقی )کے مقام تک پہنچ جاتے ہیں، اس دعوے کے لیے دلیل کی ضرورت ہے اور دلیل یہ ہے کہ یہ بزرگ محض جذبہ کی مدد سے راہ کو طے کرتے ہیں اور دوسرے طریقوں میں یہ مشقت ریاضتوں اور شدید مجاہدوں کے ذریعے سے منزلیں قطع کرتے ہیں اور جذبہ محبوبیت کی صفت کو چاہتا ہے ، جب تک آدمی محبوب نہ بن جائے اسے جذب نہیں کرتے اور محبوبیت کی حقیقت محبوب رب العالمین ﷺ کی متابعت اور پیروی سے وابستہ ہے، آیت کریمہ فَٱتَّبِعُونِي ‌يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ لہذا میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت فرمائے گا )اس مضمون پر شاہد ہے، لہذا جس قدر متابعت کامل تر ہو گی اسی قدر جذ بہ زیادہ ہوگا، لہذا کامل متابعت اور پیروی ان بزرگوں کے طریقہ کی شرط ہے، اس لیے جہاں تک ممکن ہو سکا ان حضرات نے عزیمت ہی پر عمل فرمایاحتی کہ ذکر بالجھر سے بھی جو اس راہ میں بڑی عمدہ چیز ہے ان حضرات نے منع کر دیا اور سماع اور رقص سے بھی جوار باب احوال کا مرغوب ترین خلاصہ ہے ان حضرات نے اجتناب فرمایا ہے ، نیز ظاہر ہے کہ جو کمال متابعت پر مرتب ہو گا وہ تمام دوسرے کمالات سے بلند درجہ پر ہوگا، یہی وجہ ہے کہ ان بزرگوں نے فرمایا ہے ، ہماری نسبت تمام نسبتوں سے بلند ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ بڑے ہی فضل والا ہے، لہذا طالبان حق کے لیے اس طریق کو اختیار کرنا زیادہ بہتر اور زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ راستہ انتہائی نزدیک تر ہے اور مطلوب انتہائی طور پر بلند ہے اور اللہ سجا نہ ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">معرفت : :نمبر 41</span><br />
<span style="color: #800080; font-size: 24pt;">حضور انور ﷺ کے فضائل </span><br />
حضرت محمد مصطفےﷺ اولاد آدم کے سردار اور آقاہیں اور قیامت کے دن سب سے زیادہ تعداد آپ ﷺ کے پیروکاروں کی ہوگی ، آپ ﷺ اللہ کے نزدیک اولین و آخرین میں سب سے زیادہ معزز ہیں، (قیامت کے روز ) آپ ﷺ سب سے پہلے قبر شریف سے باہر تشریف لائیں گے ، آپ ﷺسب سے پہلے شفاعت فرمانے والے ہوں گے اور سب سے پہلے آپ ﷺ کی شفاعت قبول ہو گی ، سب سے پہلے آپ ہی جنت کا درواز کھنکھنا ئیں گے اور دروازہ آپ کیلئے کھول دیا جائے گا، قیامت کے دن حمد کا جھنڈا آپ ﷺکے ہاتھ میں ہو گا اور اس جھنڈے کے نیچے آدم اور تمام انبیاء علیہم السلام ہوں گے اور تمام لوگ ہوں گے، آپ سﷺ کی وہ ہستی مبارک ہے جس کے متعلق آپ ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ ہم( دنیا میں ) سب سے بعد میں آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے۔<br />
اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بغیر کسی فخر کے یہ بات کہتا ہوں کہ میں اللہ کا حبیب ہوں، میں رسولوں کا امام و پیشوا ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہے، میں خاتم النہین ہوں ، مجھے اس پر بھی کوئی فخر نہیں ہے، میں محمد ابن عبد اللہ ابن عبد المطلب ہوں، (یعنی انسانوں )میں بنایا گیا ہوں پھر ان (انسانوں ) کی دو جماعتیں بنا ئیں تو مجھے ان کی بہترین جماعت میں سے بنایا ، پھر ان کے خاندان اور قبیلے بنائے گئے تو مجھے ان میں سے بہترین خاندان سے بنایا ، پھر ان کے گھرانے بنائے تو مجھے بہترین گھرانے میں سے بہترین انسان بنایا ، لہذا میں ان کے گھرانوں کے اعتبار سے بہترین اور اپنی ذات کے اعتبار سے بہترین ہوں ، جب لوگ (قیامت میں )اٹھائے جائیں گے تو میں سب سے پہلا (قبر مبارک سے ) باہر آنے والا ہوں گا ، جب وہ ( حق تعالی حضوری میں )وفد کے طور پر جائیں گے تو میں ان کا پیشوا ہوں گا ، جب دو سب خاموش رہیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا ، جب وہ سب روک دیئے جائیں گے تو میری ہی سفارش قبول کی جائے گی ، جب وہ سب مایوس ہو جائیں گے تو میں ہی ان کو بشارت دینے والا ہوں گا، عظمت و بزرگی اور نجات کی کنجیاں اس روز میرے ہی ہاتھ میں ہوں گی ، حمد کا جھنڈا (لوائے حمد ) اس دن میرے ہی ہاتھ میں ہو گا، میں اپنے پروردگار کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے زیادہ معزز و محترم ہوں گا ، میرے گرد ایک ہزار خادم طواف کر رہے ہوں گے جو روشن موتیوں کی طرح ہوں گے ، جب قیامت کا دن ہوگا تو میں ہی انبیا کرام کا امام اور خطیب اور صاحب شفاعت ہوں گا اور مجھے اس پر کوئی فخر نا ز نہیں ہے، (واقعی ) اگر آپ نہ ہوتے تو حق تعالی و سبحانہ مخلوق کو پیدا نہ کرتا اور نہ اپنی ربوبیت کا اظہار فرماتا اور آپ اس وقت بھی نبی تھے جب کہ حضرت آدم ہنوز مٹی اور پانی کے درمیان تھے ۔<br />
نما ند بعصیاں کسے در گرو که و ارد چنیں سید پیشرو<br />
کب گناہوں میں رہے وہ مبتلا جس کے رہبر ہوں محمد مصطفے ﷺ<br />
خسران مخالفین :لہذا اس روشن شریعت والی ہستی( حضور پر نور ﷺ) کے منکر اور اس ملت زہرا کے بانی رسول اکرم ﷺکے مخالف ساری مخلوقات میں بد بخت ترین لوگ ہیں &#8216; ٱلۡأَعۡرَابُ أَشَدُّ كُفۡرٗا ‌وَنِفَاقٗا ( بدوی لوگ کفر ونفاق کے اعتبار سے سخت ترین آدمی ہیں) یہ فرمان الہی ان کی حالت کا پتا دیتا ہے، تعجب ہے کہ بعض پختہ اور ناقص در ویش جو اپنے خیالی کشف کو معتبر سمجھتے ہیں اور اس روشن شریعت کی مخالفت اور انکار میں پیش قدمی کرتے ہیں اور حال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اس کلیمی اور قرب کے باوجود دنیا میں زندہ ہوتے تو اس شریعت کی متابعت کے بغیر عمل نہ کرتے اس فقیر بے برگ و سر کو ان کی مخالفت سے کیا غرض ؟ وہ خود پنے آپ کو خراب کرتے ہیں اور الحاد و زندقہ سے متہم ہیں ، یہ بھی عجیب تر ہے کہ اہل عقل اور اہل تمیز حضرات بھی ان کی پیروی کرتے ہیں اور شریعت کی جانب اصلا نہیں دیکھتے حالانکہ وہ ان( صوفیا خام ) کا نقصان مکمل طور پر جانتے ہیں یاپھر ان کی نظر میں وہ باتیں شریعت کی مخالف نہیں ہیں تو کیا جس کے لیے اس کا برا عمل اچھا ظاہر کیا گیا ہے وہ اسے اچھا ہی گمان کرتا ہے یا پھر وہ ان کی باتوں کو شریعت کے مخالف سمجھتے ہیں لیکن خیال کرتے ہیں کہ حقیقت شریعت کے مخالف ہے اور یہ عین الحاد اور زندقہ ہے ، ہر وہ حقیقت جسے شریعت رد کر دے زندقہ ہی ہوتی ہے۔ یہ فقیر اس جماعت کے بعض کشفی عقائد کا یہاں ذکر کرتا ہے ، انصاف کرنا چاہئے کہ آیا وہ اس قدر شریعت کے مخالف ہیں یا کسی صحیح تاویل کے قابل بھی نہیں ہیں یا مخالف نہیں ہیں ، اس جماعت کا شیخ اور رئیس اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ روح انسانی خصوصیت کے ساتھ حق تعالی وتقدس کی عین ذات ہے اور ان دو آیات کریمہ کو اس پر بطور استدلال کے پیش کرتا ہے۔<br />
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلۡمَلَكُ ‌صَفّٗا ‌صَفّٗا ، اور تیرا پروردگار آئے گا اور فرشتے صف بستہ آئیں گے۔<br />
يَوۡمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ ‌صَفّٗاۖ ، جس دن روح کھڑی ہوگی اور فرشتے صف بستہ ہوں گے ۔<br />
ان میں سے ایک آیت میں فرشتوں کے ساتھ کے رب( کا آنا ) فرمایا ہے اور دوسری آیت میں روح( کا آنا ) فرمایا ہے، لہذا رب اور روح ایک ہی چیز ہوں گے اور یہ اتحاد تو حید وجودی کی قسم سے نہیں ہوا کیونکہ وہ روح کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام عالم اس میں برابر کا حصہ دار ہے۔<br />
اس کتاب میں وہ دوسری جگہ کہتا ہے کہ ابدال میں سے کچھ لوگ جو غاروں میں رہتے ہیں اور وہ کل ستر فرد ہوتے ہیں، قیامت قائم ہونے تک رہیں گے اور انہیں موت نہیں آتی ، وہ طبائعی وجو در کھتے ہیں اور یہ بات نص قرآنی كُلُّ نَفۡسٖ ‌ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۗ ، ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے کچھ کے خلاف ہے، ایک دوسری جگہ آخرت کے حالات میں لکھتا ہے کہ مبداء سے معاد تک دو عالم ہیں، دنیا اور آخرت اور ان دونوں عالموں میں ہر ایک نے چھ مرتبہ تر تیب پائی ہے، دنیا میں نزول کے انداز پر اور آخرت میں ترقی کے انداز پر ۔<br />
اور ترقی کی ترتیب کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ زمین پارہ پارہ ہو کر اس کے اجزا پانی میں منتشر ہو جائیں گے ، اس کے بعد تمام مخلوقات پانی میں غرق ہو جائے گی اور یہ جو صاحب شریعت فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن تمام مخلوق پیسنے میں غرق ہو جائے گی پیسنے سے مراد یہی طوفان ہے، وہ وقت ترقی کا وقت ہوگا کہ سب کے سب ذات احدیت کی جانب جو حیات دنیوی کے مراتب کا سر چشمہ اور عزت الہی جل شانہ کا سرا (پردہ ) بارگاہ کی ہے متوجہ ہو جائیں گے لیکن ہر شخص اپنی اپنی شناخت اور دریافت کی مقدار کے مطابق ان تمام مراتب میں سے ہر مرتبہ میں ہوگا اور تمام مخلوق کی تین جماعتیں بن جائیں گی سابقین ، اصحاب یمین ، اصحاب شمال۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ پانی بھی جو آگ کی حرارت کی وجہ سے آیا ہوا ہو گا خشک ہو جائے گا اور سب کا سب ہو ا بن جائے گا اور قیامت کی ہولنا کی سے یہی مرتبہ مراد ہے کہ اکثر خلائق تشنہ لب اور پیاسی ہو گی ، اس کے بعد وہ ہوا بھی کرہ آتشی کی حرارت سے آگ بن جائے گی اور سب کو اسی آگ پر سے گزرنا ہوگا ، دوزخ سے مراد یہی عالم عنصری ہے جو سب کا سب آگ بن جائے گا، یہ دوزخ قمر( چاند ) آسمان کے نیچے واقع ہوگی ، دوزخ کے درجات میں سے ہر درجہ میں اپنے عمل اور حجاب کی مقدار کے مطابق ایک گروہ عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گا ، باقی لوگ جو اس مقام سے گزر گئے ہوں گے وہ عالم نور میں رہیں گے اور بہشت سے مراد یہی عالم نور ہے کہ افلاک کے طبقات میں سے ہر طبقہ مراتب بہشت ہی کا ایک مرتبہ ہوگا اور یہ بہشت فلک قمر سے لیکر عرش کے نیچے تک آٹھ آسمانوں پر مشتمل ہوگی ، لہذا آٹھ بہشتیں ہوں گی، کچھ لوگ اس مرتبہ میں سکونت رکھیں گے اور ان کی راحتوں میں وہ راضی ، خوش اور خرم ہوں گے، یہ ان کے عمل کی مقدار کے مطابق ہو گا اور کچھ دوسرے حضرات جو انبیا عظام اور اولیا کرام کے گروہ سے ہوں گے وہ اس مرتبہ سے بھی آگے نکل جائیں گے اور لقا (دیدار ) الہی کی طرف متوجہ اور وصال کے منتظر ہوں گے، ان حضرات پر نہ آگ کی گرمی کا کوئی اثر ہوگا اور نہ راحت نور کی کوئی تاثیر ہوگی ، یہ حضرات دیدار حق میں مستغرق ہوں گے ، مقام محمود ان کا مقام ہوگا قَابَ قَوۡسَيۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ پھر رہ گیا فرق دو کمانوں کے برابر یا اس سے زیادہ قریب تر ) سے اس مرتبہ کی طرف اشارہ ہے، یہ مقام عرش کے اوپر ہو گا ، ان ہی حضرات کی شان میں یہ حدیث وارد ہوتی ہے ان لله تعالى جنة ليس فيها حور ولا قصور وفيها يتجلى ربنا ضاحكا (یعنی اللہ تعالیٰ کی ایک جنت ایسی بھی ہے جس میں حوریں ہوں گی نہ محلات ہوں گے اس میں ہمارا پروردگار ہنستا ہوا تجلی فرمائے گا )<br />
ہر اس شخص پر جو ادنی سی تمیز بھی رکھتا ہو یہ بات پوشید ہ نہیں رہتی کہ یہ تمام باتیں شریعت کے خلاف ہیں یا نہیں ہے دوزخ کو اس نے ایک آتشی کرہ سے تعبیر کیا اور زمین ، پانی اور ہوا کو اس میں گم کر دیا، بہشت سے عالم نور مرا دلیا جو فلک قمر سے لیکر عرش کے نیچے تک ہوگا ، انبیا اور اولیا کیلئے عرش سے اوپر جگہ ثابت کر دی نہ کہ بہشت میں، یہ ساری باتیں شریعت کی کا صریح مخالفت کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہیں ، اہل سنت و جماعت کا اعتقاد یہ ہے کہ دوزخ اس وقت موجود ہے اور جنت بھی اور انبیا و اولیا اور تمام مومنین اپنے درجوں اور مرتبوں کے تفاوت کے مطابق جنت میں ہی ہوں گے، یہ نہیں کہ وہ جنت سے گزر کر عرش کے اوپر چلے جائیں گے اور وہیں قیام کریں گے ، یہ سب خیالی ڈھکوسلے ہیں ، کنایہ سے بھی ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ، ان باتوں میں بہشت کے اندر دیدار الہی کے وجود کا انکار ہے کیونکہ اس نے کہا ہے کہ عرش کے اوپر پہنچ کر لقا ہوگا اور عرش کے اوپر اس نے ایک الگ جنت دیدار بنائی جس میں نہ حور یں ہوں گی نہ محلات ہوں گے ، لہذا عام مومنین( لقاء دیدار الہی) سے بے نصیب ہوں گے، اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں اس قسم کے تخیلات فاسدہ سے محفوظ رکھے ۔ مقام محمود کو جو حضرت محمد مصطفے ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی طرح اوادنی کے مقام کو اس شخص نے تمام انبیا اور اولیا کا حصہ قرار دیا ہے، یہ بلا شبہ ایک بہتان کے سوا کچھ نہیں ہے، اس کی ان مذکورہ باتوں سے یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ وہ کفار کیلئے عذاب کو بھی ابدی نہیں سمجھتا ، اسی طرح جنت کی نعمتوں کو بھی دائمی اور ابدی نہیں مانتا اور یہ خود صریح کفر ہے اور جو چیز اس معنی پر دلالت کرتی ہے خود اس کی عبارت ہے جو عذاب وثواب کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے کہ وہ عمل کی مقدار کے مطابق ہوگا، سیاق (آگے آنے والی عبارت) میں بھی اس کی تصریح ہے، اسے خوب سمجھ لو ، صاحب فصوص نے جو عذاب ابدی کے بارے میں کلام کیا ہے وہ اس کی وجہ سے مطعون خلائق ہو گیا ہے تو وہ لوگ مطعون کیوں نہیں ہوں گے جو ثواب ابدی ہی کا انکار کرتے ہیں ۔<br />
اور آخر میں وہ یہ بات لکھتا ہے کہ اس کے بعد جب ہائے ہویت سے ذات احدیت کے دریچہ سے ان کے اوپر آفتاب ذات چھلکے گا تو اولین و آخرین تمام مخلوقات یعنی جو مراتب نار میں محجوب ہوں گے وہ بھی اور جو مقام نور میں مستور ہوں گے وہ بھی اور جن لوگوں کی نشیمن گاہ مقام محمود و گا وہ بھی سب کے سب اس جمال کے پرتو میں گم ہو جائیں گے اور دریائے لاہوت میں فنا ہو جائیں گے، نہ بہشت کا کوئی اثر باقی رہے گا اور نہ دوزخ کا کوئی شرارہ، اس مقام پر نہ جلنا ہو گا نہ کسی طرح کا بناؤ سنوار ہوگا، نہ حیرانی ہوگی نہ انتظار ہوگا، نہ زندگی ہو گی نہ موت ہو گی ، کیونکہ سب کے سب ذات بن جائیں گے اور جیسا کہ ازل میں تھا اسی طرح ابدی ہو جائیگا، اس کے بعد وہی دونوں عالم یعنی ایک عالم نور جس میں بہشت کے طبقات ہیں اور دوسرا عالم نار جس میں دوزخ کے درجات میں جمال و جلال کی تجلی سے ظہور میں آئیں گے، کیونکہ ابتدائے عالم میں بھی ان ہی دونوں صفتوں کی تجلی سے ظہور میں آئے تھے، لیکن وہ وہاں بالا مکان ممکن ہونے کے ساتھ کم تھے اور یہاں بالوجوب ( واجب ہونے کے ساتھ) ہوں گے ، اہل بہشت اپنے مرتبہ میں سکونت کریں گے اور ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اہل دوزخ اپنے او پر محجوب رہیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان دو تجلیوں کے بعد کوئی اور تجلی محمود نہیں اور ذات کسی تعین کے ساتھ منسوب نہیں تھی۔ ان باتوں سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جنت اور دوزخ با وجود یکہ آخرت میں داخل ہیں فنا ہو جائیں گے غور کرنا چاہئے کہ یہ بات کفر تک پہنچا دیتی ہے یا نہیں، جو ظہور ان کے زوال کے بعد حاصل ہوا اس ظہور کو وہ بالوجوب (و اجب الوجود ) کہتا ہے اورظہور دنیا کو بالا مکان ( ممکن الوجود) سجھتا ہے کا غور کرنا چاہئے کہ اہل بہشت اور اہل دوزخ کو واجب کہنا کفر ہے یا نہیں؟ نیز اسی عبارت سے یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ انبیا اور اولیا ہمیشہ ذات( احدیت ) میں عدم کے اندر زوال پذیر اور مضمحل رہیں گے اور انہیں ہرگز وجود حاصل نہیں ہوگا۔ یہ بھی صریح کفر ہے۔ انبیاء اور اولیا ہمیشہ بہشت میں رہیں گے بغیر عدم اور بغیر زوال کے اور اس کی عبارت سے یہ بھی مفہوم ہوتا ہے کہ انبیا کرام گروہ سابقین میں سے ہیں اور سابقین عرش کے اوپر رہیں گے جہاں نہ حوریں ہیں نہ محلات نہ تنعم ہے نہ راحت یہ بات بھی نص قطعی کے خلاف ہے، حق سبحانہ و تعالی سابقین کے بارے میں تنعمات کا اثبات فرماتا ہے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا بھی اثبات فرما ہے ہے تو اس کا یہ قول نص کی مخالفت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس شخص نے ان تمام نعمتوں کو جو قرآن مجید میں سابقین کے بارے میں واقع ہوئی ہیں اہل یمین کے بارے میں ثابت کیا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، آیت کریمہ عَلَىٰ سُرُرٖ ‌مَّوۡضُونَةٖ ١٥ مُّتَّكِـِٔينَ وہ جڑاؤ تختوں پر بیٹھے ہوں گے تکیہ لگائے ہوئے سابقین کے بارے میں ہے اور یہ شخص اس آیت کریمہ کو بھی اہل یمین کے بارے میں بیان کرتا ہے اور سابقین کو نعمتوں سے محروم کرتا ہے کیونکہ یہ شخص قرآن مجید سے بالکل جاہل ہے اور اس کتاب کے آخر میں ایک اور اضافہ کرتا ہے اور تو حید وجودی میں شیخ عطار اور مولوی رومی کی تقلید کرتا ہے اور اضافہ میں لکھتا ہے کہ وہ خود بھی شیطان ہوگا ( نعوذ باللہ من ذالک کے اس کلمہ کی قباحت سے ہم حق سبحانہ و تعالی کی پناہ مانگتے ہیں حق سبحانہ و تعالی کو اس کلمہ سے یاد کر نا صحیح ترین قباحت ہے اور شدید ترین کفر ہے۔<br />
ارباب توحید اگر چہ ہمہ اوست کہتے ہیں لیکن اس قسم کے قبیح الفاظ کے اطلاق کو وہ بھی جائز نہیں رکھتے ، حق سبحانہ وتعالی کو شریعت میں خالق کل شی ء ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے کہتے ہیں لیکن &#8216; خالق النجس والقاذور، ناپاک اور گندی چیزوں کو پیدا کرنے والا )کہنا جائز قرار نہیں دیتے ، اس عبارت میں اس قسم کی باتیں اگر کوئی شخص تلاش کرے تو بہت سی باتیں ظاہر ہوں گی لیکن ان تھوڑی سی باتوں ہی سے بہت سی باتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،<br />
سالے کہ نکوست از بهارش پیداست وه سال اچھا ہے جس کی بہار اچھی ہے<br />
اس فقیر نے اس کی بیہودہ باتوں میں سے چند باتیں اس رسالے میں بیان کی ہیں تاکہ لوگ اس کے کام کی برائی ( برے عقائد ) سے واقف ہوئیں اور اس کی تقلید کر کے اہل الحاد کے گروہ میں شامل نہ ہوں ، اگر وہ اس کے باوجود بھی اس جماعت کی تقلید ہی کو اختیار کریں گے تو حجت ان لوگوں پر ہو چکی ہوگی۔<br />
الحمد لله اولا و آخر أو الصلوة والسلام على رسوله محمد واله دائماً سرمداً و السلام على من اتبع الهدى اور اول و آخر اللہ تعالیٰ کی حمد اور محمد رسول اللہ ﷺ پر دائمی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں اور سلام اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d8%25af%25d9%2586%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d8%25af%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2584%2F&#038;title=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D8%AF%D9%86%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d8%af%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af%d8%a7%d9%84/" data-a2a-title="رسالہ معارف لدنیہ از امام ربانی مجددالف ثانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d8%af%d9%86%db%8c%db%81-%d8%a7%d8%b2-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مبدأ و معاد تصنیف حضرت مجدد الف ثانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Feb 2022 10:39:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[مبدا و معاد]]></category>
		<category><![CDATA[مجدد الف ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[، حضور ﷺ کا رب]]></category>
		<category><![CDATA[اپنے احوال کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[ارادے کی فنا]]></category>
		<category><![CDATA[اس طریقے میں بے حاصلی]]></category>
		<category><![CDATA[اسما ءاور صفات کی سیر]]></category>
		<category><![CDATA[انبیا کے درجات اور تجلی ذات]]></category>
		<category><![CDATA[اندراج النہایہ فی البدایہ]]></category>
		<category><![CDATA[انسان افضل ہے یا فرشتہ؟]]></category>
		<category><![CDATA[باری تعالی کا دیدار]]></category>
		<category><![CDATA[بدعت اعتقادی کا نقصان]]></category>
		<category><![CDATA[پیغمبر اعظمﷺ کا امتیاز خاص]]></category>
		<category><![CDATA[تحدیث نعمت اور اظہار واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم طریقہ کی اجازت]]></category>
		<category><![CDATA[تکوین صفت حقیقی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[جنوں کے بارے میں کشف]]></category>
		<category><![CDATA[حق تعالی بے مثل و بے مثال ہے]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق ثلاثہ کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[حواس کے بغیر مرتبہ یقین]]></category>
		<category><![CDATA[خداتخیل وتصور سے ماوراء]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ نقشبند ک فرمان]]></category>
		<category><![CDATA[راہ سلوک میں پیش آنے والے حالات]]></category>
		<category><![CDATA[روحانی سیروں کی داستان]]></category>
		<category><![CDATA[سنت اور بدعت]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ کامل کی اتباع]]></category>
		<category><![CDATA[صرافت مطلق کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[صفات باری کا تعارف]]></category>
		<category><![CDATA[طریق توبہ کی ابتدا]]></category>
		<category><![CDATA[عرفان مجدد  کو سمجھنے کا اسلوب]]></category>
		<category><![CDATA[علم اشیاء کار جوع]]></category>
		<category><![CDATA[علم باطن کی علم ظاہر پر فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[علوم امکانی اور معارف و جوبی]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن اور مقام ہدایت]]></category>
		<category><![CDATA[قطب الارشاد کا فیض]]></category>
		<category><![CDATA[کلام الہی کا سر بستہ راز]]></category>
		<category><![CDATA[کلمہ طیبہ کی فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[کمالات نبوت]]></category>
		<category><![CDATA[کمالات ولایت کے مدارج]]></category>
		<category><![CDATA[متشابہات کی تاویل]]></category>
		<category><![CDATA[محبت ذاتی اور محبت صفاتی]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب ثلاثہ اور یادداشت]]></category>
		<category><![CDATA[مقام رضا کا حصول اور اطمینان نفس]]></category>
		<category><![CDATA[مقام رضا کی برتری]]></category>
		<category><![CDATA[مقام روح اور کمال عروج]]></category>
		<category><![CDATA[مقام کمال و تکمیل]]></category>
		<category><![CDATA[مقامات عشرہ کے بغیر وصول نہایت]]></category>
		<category><![CDATA[موت قبل از موت کی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[نبی کی کلی فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[نزول تام کا بیان]]></category>
		<category><![CDATA[نفسی اور آفاقی مشاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفی و اثبات کا ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[وجود باری کے متعلق معرفت خاص]]></category>
		<category><![CDATA[ولی کی جزئی فضیلت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=5947</guid>

					<description><![CDATA[مبدأ و معاد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَحْمَدُ اللهَ فيِ الْمَبْدَأِ وَالْمَعَادِوَاُصَلِّیْ عَلىٰ حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِهِ الْاَمْجَادِ یعنی میں ابتدا، اور انتہا میں اللہ تبارک و تعالی کی حمد کرتا ہوں اور اس کےحبیب محمد &#160;مصطفے ﷺ اور آپ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p class="wp-block-paragraph"><h1>مبدأ و معاد</h1>
</p><p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ</strong> <strong>اَحْمَدُ اللهَ فيِ الْمَبْدَأِ وَالْمَعَادِوَاُصَلِّیْ عَلىٰ حَبِیْبِہٖ مُحَمَّدٍ وَاٰلِهِ الْاَمْجَادِ</strong> یعنی میں ابتدا، اور انتہا میں اللہ تبارک و تعالی کی حمد کرتا ہوں اور اس کےحبیب محمد &nbsp;مصطفے ﷺ اور آپ کی بزرگ اولادپر درود بھیجتا ہوں ۔ حمد و صلاۃ کے بعد عرض ہے کہ یہ ایک پر فضیلت رسالہ ہے جولطیف و خوش آئندا شارات اور دقیق وبلند مرتبہ اسرار پرمشتمل ہے۔ اس کے مصنف بہت بڑے امام، بندوں پر اللہ &nbsp;کی حجت، اقطاب اور اوتاد کے پیشواء ابدال اورافراد کے قبلہ سبع مثانی (یعنی سورۂ فاتحہ) کے اسرار ورموز کو وضاحت کے ساتھ بیان فرمانے والے ، حضرت مجدد الف ثانی، اویسی رحمانی، عارف ربانی اسلام اور مسلمانوں کے شیخ ہمارے شیخ اور ہمارے امام شیخ احمدجونسبا فاروقی ، مذہبا حنفی اور مشربا نقشبندی ہیں، حق سبحانہ و تعالی ان کی ہدایت کے آفتاہوں کو بلندی کے افق پر ہمیشہ تاباں رکھے اور لوگ ان کے فیوض وبرکات کے چمنستان میں ہمیشہ مصروف گلگشت رہیں۔ <strong>وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْهِ التُّكْلَانُ۔ </strong>&nbsp;</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-1-اپنے-احوال-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 1۔اپنے احوال کا بیان :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جب مجھے راہ سلوک کی ہوس پیدا ہوئی تو اللہ تعالی جل شانہ کی عنایت نے مجھے خانوادہ نقشبندیہ کے ایک خلیفہ کی خدمت میں پہنچایا جن کی توجہ کی کرامت سے خواجگان کرام کا جذبہ جو بلحاظ &nbsp;فنا صفت قومیت میں جا ملتا ہے ، حاصل ہوا اور اندراج النہایہ فی البدایۃ کے طریقے سے بھی ایک گھونٹ حاصل ہوا ، اس جذ بہ کے&nbsp; حاصل ہو جانے کے بعد سلوک شروع ہوا اور یہ راہ میں نے اسد اللہ الغالب حضرت علی کرم اللہ وجہ کی روحانیت کی تربیت سے اس انجام تک طے کی ، یعنی اس اسم سے جو میرا پرورش کنندہ ہے بعد ازاں اس اسم سے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ کی روحانیت کی مدد سے قابلیت اولی تک جس کو حقیقت محمدیہ سے تعبیر کرتے ہیں ترقی کی ، وہاں سے اوپر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی روحانیت کی مدد سے عروج حاصل ہوا، وہاں سے آگے حضرت ختم المرسلین ﷺ کی روحانیت کی مدد سے مقام اقطاب محمدیہ تک ترقی کی، یہ مقام قابلیت کے مقام سے اوپر ہے اور یوں سمجھو کہ یہ مقام قابلیت اولی کا اجمال ہے اور قابلیت اولی اس کی تفصیل ہے، اس مقام میں پہنچتے وقت حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ کے خلیفہ حضرت خواجہ علاؤ الدین عطار قدس اللہ اسرار ہ کی روحانیت سے بھی ایک طرح کی مدد مجھے ملی ، قطب کا انتہائی عروج اسی مقام و اقطاب محمد یہ تک ہوتا ہے، دائرہ ظلیت بھی اس مقام پر ختم ہو جا تا ہے ، بعد ازاں یا تو خالص اصل ہے یا اصل اور ظل ملے ہوئے ہیں، یہ مقام افراد کیلئے مخصوص ہے، ہاں بعض قطب بھی افراد کی ہمنشینی کے سبب مقام ممتزج ( جہاں اصل اور ظل ملے جلے ہیں)&nbsp; تک ترقی کرتے ہیں اور اس اصل و سا یہ کو ملے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن محض اصل خالص تک پہنچنا یا اسے دیکھنا حسب درجہ افراد کا خاصہ ہے کہ اللہ تعالی کا فضل ہے جسے چاہے عنایت کرے، اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے ، اور مقام اقطاب پر پہنچ کر جناب سرور کائنات ﷺ سے مجھے قطبیت ارشاد کی خدمت عنایت ہوئی اور اس منصب سے مجھے سرفراز فرمایا، بعدازاں پھر عنایت الہی جل شانہ میرے شامل حال ہوئی اور اس مقام سے اوپر کی طرف ترقی نصیب ہوئی حتی کہ مجھے عنایت الہی نے اصل ممتزج( اصل وسا یہ ملا ہوا ) تک پہنچایا اور وہاں بھی فناو بقا نصیب ہوئی جیسا کہ گذشتہ مقامات میں ہوتی آئی تھی ، وہاں سے آگے مقامات اصل میں ترقی عنایت فرمائی اور اصل الاصل تک پہنچادیا ، اس آخری عروج میں جو مقامات اصل کا عروج ہے ، حضرت غوث اعظم محی الدین شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت کی مد دنصیب ہوئی جس نے اپنی قوت تصرف سے ان مقامات سے عبور کرا کے اصل الاصل میں پہنچادیا ، وہاں سے پھر جہان کی طرف لوٹایا، چنانچہ لوٹتے وقت ہر مقام سے عبور حاصل ہوا۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">مجھےیہ نسبت فرد یہ جس سے عروج اخیر مخصوص ہے اپنے والد ماجد(شیخ عبدالاحد بن زین العابدین علیہما الرحمہ )سے حاصل ہوئی ، انہیں ایک بزرگ ( حضرت شاہ کمال قادری رحمۃ اللہ &nbsp;علیہ ) سے جن کو جذ بہ قوی حاصل تھا اور جو خوارق عادات میں شہرہ آفاق تھے، ہاتھ آئی لیکن مجھے شروع میں ضعف بصیرت اور اس نسبت کی قلت کے ظہور کے باعث اپنے آپ میں اس نسبت فردیہ کا ہونا معلوم نہ تھا ، جب سلوک کی منزلیں طے کیں تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ نسبت شروع ہی سے مجھ میں تھی ، نیز عبادات نافلہ کی توفیق خصوصاً نماز نافلہ کا ادا کر نا بھی اپنے والد ماجد سے حاصل ہوا اور انہیں یہ سعادت اپنے شیخ ( شیخ عبد القدوس رحمۃ اللہ علیہ) سے جو سلسلہ چشتیہ سے منسوب تھے حاصل ہوئی ، جب تک میں مقام اقطاب سے عبور نہ کر چکا مجھے علوم لدنی حضرت خضر علیہ السلام کی روحانیت سے حاصل ہو تے رہے،جب اس مقام سے عبور کر کے مقامات عالیہ میں ترقی کی تو پھر اپنی حقیقت سے علوم اخذ کر نے لگا ، اس وقت کسی غیر کی مجال نہ تھی کہ بیچ میں دخل دیتا نیز مجھے نزول کے وقت جس سے مراد سیر عن الله باللہ ہے دوسرے سلسلوں کے مشائخ کے مقامات میں عبور واقع ہوا اور ہر ایک مقام سے کافی حصہ لیا اور ان مقامات کے مشائخ نے میرے کام میں میری مد دواعانت کی اور اپنی نسبتوں کے خلاصے مجھے عنایت فرماۓ ، پہلے پہل اکابر چشتیہ &nbsp;رحمۃ اللہ علیہم &nbsp;کے مقام میں عبور واقع ہوا، اس مقام سے کافی حصہ حاصل ہوا، ان مشائخ عظام میں سے حضرت خواجہ قطب الدین &nbsp;رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت نے دوسروں کی نسبت زیادہ امدادفرمائی ، واقعی اس مقام میں ان کی شان نہایت اعلی ہے اور آپ اس مقام کے سردار ہیں ، بعد ازاں اکابر کبرویہ رحمۃ اللہ علیہہم کے مقام میں گزر ہوا، یہ دنوں مقام یعنی چشتیہ و کبرویہ بلحاظ عروج برابر ہیں لیکن یہ مقام ( کبرویہ ) نزول کے وقت شاہراہ کی دائیں طرف پڑتا ہے اور پہلا (چشتیہ ) بائیں طرف ، یہ شاہراہ وہی ہے جس سے بعض بڑے بڑے اقطاب ارشاد ہوکر مقام فردیت میں جاتے ہیں اور وہاں سے نہایت النہایہ میں پہنچتے ہیں ،صرف افراد کی راہ اور ہے بغیر قطبیت کے اس راہ سے نہیں گزر سکتے یہ مقام( کبرویہ ) مقام صفات اور اس شاہراہ کے مابین واقع ہے گو یا یہ دونوں مقاموں کا رخ ہے ، دونوں طرف سے اسے حصہ ملتا ہے ، پہلا مقام( چشتیہ ) شاہراہ کی دوسری طرف واقع ہے جو صفات سے بہت کم مناسبت رکھتا ہے، اس کے بعد مجھے اکابر سہروردیہ کے مقام میں جو شیخ شہاب الدین رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرف ہیں ،عبور واقع ہوا، یہ مقام سنت نبویﷺ کی اتباع کے نور سے آراستہ اور مشاہدہ فوق الفوق(برتر از برتر) کی نورانیت سے مزین ہے ، توفیق عبادات اس مقام کی رفیق ہے، بعض سا لک جو ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے اور عبادات نافلہ میں مشغول ہیں اور اس سے مطمئن ہیں ، انہیں بھی اس مقام کی مناسبت کی وجہ سے اس مقام سے کچھ حصہ نصیب ہوتا ہے ، عبادات نافلہ اصالتاً اس مقام کے مناسب ہیں ، دوسرے کیا مبتدی اور کیا منتہی سب اس مقام کی مناسبت کی وجہ سے بہرہ ور ہیں، یہ مقام و سہروردیہ کے نہایت عجیب و بزرگ ہے ، جونورانیت اس مقام میں دیکھنے کو آئی ہے ، دوسرے مقامات میں بہت کم دکھائی دیتی ہے، اس مقام کے مشائخ بہ سبب کمال اتباع عظیم الشان اور رفیع القدر ہیں ، اپنے ہم جنسوں میں پورے طور پر ممتاز ہیں ، جو کچھ ان بزرگوں کو اس مقام میں نصیب ہوا ہے ، دوسرے مقامات میں گو وہ بلحاظ عروج اوپر ہی ہیں ، میسر نہیں ہوتا ، بعد ازاں مجھے مقام جذ بہ میں اتار لاۓ ، اس مقام میں بیشمار جزئیات کے مقامات شامل ہیں ، پھر وہاں سے بھی نیچے لاۓ ، نزول کا آخری مرتبہ و مقام قلب ہے جو حقیقت جامع ہے اور ارشاد و تکمیل اس مقام پر نزول کر نے کے متعلق ہے ، جب اس مقام میں لائے تو پیشتر اس کے کہ مجھے اس مقام پر استقرار حاصل ہو پھر عروج نصیب ہوا ، اس وقت اصل کو سائے کی طرح پیچھے چھوڑا اور اس عروج سے جو مقامات قلب میں ہوا استقرار حاصل ہوا۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-2-قطب-الارشاد-کا-فیض"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">. منها:2 قطب الارشاد کا فیض:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">قطب ارشاد جس میں فردیت کے جامع کمالات بھی پائے جاتے ہیں قلیل الوجود ہوتا ہے، کئی صدیوں بلکہ بے شمار زمانوں کے بعد اس قسم کا موتی ظاہر ہوتا ہے ، جس کے نورظہور سے تاریک دنیاروشن ہو جاتی ہے ، اس کی ہدایت وارشاد محیط عرش سے لے کر مرکز زمین تک تمام جہان کو حاصل ہوتا ہے ، جس شخص کو رشد و ہدایت اور ایمان ومعرفت حاصل ہوتے ہیں ، اس کی وساطت سے ہوتے ہیں اس کے وسیلے کے بغیر براہ راست کسی کو یہ نعمت حاصل نہیں ہو سکتی گویا اس کا نور ہدایت سمندر کی طرح تمام جہان کو گھیرے ہوتا ہے اور وہ ایک منجمد سمندر ہے جو بالکل حرکت نہیں کرتا ، جوشخص اس بزرگ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کا مخلص ہوتا ہے یاوہ بزرگ کسی طالب کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو توجہ کے وقت طالب کے دل میں گویا ایک سوراخ کھل جا تا ہے جس کی راہ سے وہ اس دریا سے توجہ اور اخلاص کے مواقف سیراب ہوتا ہے ، اسی طرح جوشخص ذکر الہی میں مشغول ہے لیکن اس بزرگ( قطب ارشاد ) کی طرف متوجہ نہیں مگر انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ اس واسطے کہ وہ اسے جانتا نہیں تو بھی اسے اس قسم کا فائدہ پہنچتا ہے مگر پہلی صورت میں بہ نسبت دوسرے کے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے، لیکن جوشخص قطب ارشاد کا منکر ہے یا وہ بزرگ اس سے ناراض ہے خواہ وہ کتنا ہی ذکر الہی میں مشغول رہے پھر بھی رشد و ہدایت کی حقیقت سے محروم رہتا ہے اور اسکا انکار اس کے فیض کا سد راہ ہوتا ہے، خواہ قطب ارشادا سے فائدہ نہ پہنچانے کیلئے یا نقصان پہنچانے کیلئے توجہ نہ ہی کرے، ایسے شخص کو ہدایت کی حقیقت میسر نہیں ہوسکتی گویا اسے رشد کی صورت حاصل ہوتی ہے لیکن محض صورت سے کیا کام نکل سکتا ہے ،بصورت بے معنی سے بہت تھوڑ افائدہ حاصل ہوتا ہے ، جولوگ قطب ارشاد کے محب ومخلص ہوتے ہیں گو وہ ذکر الہی اور توجہ مذکور سے خالی ہی ہوں تو بھی محض محبت کی وجہ سے رشد و ہدایت کا نور پالیتے ہیں، <a><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong></a> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-3-مقام-کمال-و-تکمیل"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:3۔مقام کمال و تکمیل :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">پہلے پہل جو دروازہ میرے لئے کھولا گیا وہ یافت کا ذوق تھا نہ کہ یافت ، بعد ازاں دوسرے درجے پر یافت نصیب ہوئی تو ذوق یافت(پالینے کا ذوق) مفقود ہو گیا، تیسرےدر جے پر یافت(پالینا) بھی ذوق یافت کی طرح مفقود ہوگئی ، دوسری حالت حالت کمال اور ولایت خاصہ کے درجے کا حاصل کرنا ہے، تیسرا مقام تکمیل اور دعوت کیلئے خلقت کی طرف لوٹنا ہے، پہلی حالت صرف بلحاظ جذ بہ کمال ہے ، جب اس کے سلوک کو پورے طور پر حاصل کر لیا جا تا ہے تو دوسری حالت حاصل ہوتی ہے، بعد ازاں تیسری حالت ، لیکن مجذوب کو سلوک سے یہ دوسری اور تیسری حالت بالکل نصیب نہیں ہوتی جو کامل مکمل ہے وہ مجذوب سالک ہے ، اس سے دوسرے درجے پر سالک مجذوب ہے، جو ان دونوں کے بغیر ہے وہ نہ کامل ہے نہ مکمل ہے، تم کم ہمت نہ بننا ۔والسلام على خير البشر سيد نا محمد و آله الاطهر</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-4اندراج-النہامی-فی-البدائي"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:4اندراج النہایہ فی البدایہ:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;ماہ ربیع الآخر کے آخری حصے میں بزرگ خانوادہ کے ایک بزرگ خلیفہ(خواجہ باقی باللہ ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان بزرگوں کا طریقہ اخذ کیا ، اس سال ماہ رجب کے نصف کے قریب حضور نقشبندیہ کی سعادت جو اس مقام میں اندراج نہایت در بدایت ہے حاصل ہوئی ، ان بزرگ نے فرمایا کہ نسبت نقشبندیہ سے مراد یہی حضور ہے ، پورے دس سال کچھ مہینے اوپر ماہ ذوالقعدہ کے نصف میں وہ نہایت جو بدایت میں بدایات(ابتداء) واوساط(درمیانی درجوں) کے اتنے پردوں کے پیچھے سے جلوہ گر ہوئی تھی ، نقاب اتار کر نمودار ہوئی ، اس وقت یقین ہو گیا کہ بدایت میں اس اسم کی صورت تھی اور اس پیکر کا سخن تھا اور اس مسنمی کا اسم تھا، ان دونوں میں بڑا بھاری فرق ہے، کام کی حقیقت یہاں آ کر کھلی اور معاملہ راز اس جگہ ظاہر ہوا ، جس نے چکھا نہیں اسے معلوم نہیں ہوا والصلوة والسلام على سيد الانام و آله الكرام واصحابه العظام ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-5تحدیث-نعمت-اور-اظہار-واقعہ"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:5تحدیث نعمت اور اظہار واقعہ:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ</strong><strong>اپنے</strong> پروردگار کی نعمت کا ذکر &nbsp;کرو (کے حکم کے&nbsp; تحت بیان کرتا ہوں کہ )میں ایک روز اپنے یاروں کے حلقے میں بیٹھا تھا اور اپنی خرابیوں کو دیکھ رہا تھا ، &nbsp;اوریہ دید یہاں تک غالب آئی کہ میں نے اپنے آپ کو اس وضع سے بالکل مناسب نہ پایا اسی اثنا میں <strong>‌مَنْ ‌تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ</strong>جس نے اللہ تعالی کی خاطر تواضع کی اللہ تعالی نے اس کا درجہ بلند کر دیا، کے موافق اس دور پڑے ہوۓ کو رسوائی کی خاک سے اٹھا کر یہ آواز سر میں دی ، غفرت لك ولمن توسل بك الي بواسطة او بغير واسطة الى يوم القيمة، میں نے تجھے اور اس شخص کو بھی جو تجھے میری بارگاہ کا وسیلہ با لواسطہ یا بلا واسطہ بنائے گا بخشا اور یہ سلسلہ قیامت تک یونہی جاری رہے گا اور از راہ بندہ نواز ی بار بار مجھے یہ فرمایا حتی کہ شک وشبہ کی گنجائش نہ رہی ، اس بات کیلئے اللہ تعالی کا بہت بہت شکر ہے ، اللہ تعالی اس میں برکت دے، <strong>والصلوة والسلام على رسوله سيدنا محمد واله كمایجری</strong> بعد ازاں اس واقعہ کے ظاہر کرنے کا مجھے حکم ہوا</p>



<p class="wp-block-paragraph">اگر بادشاه بر دپیر زن بیاید تواے خواجہ سبلت مکن</p>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>إِنَّ رَبَّكَ ‌وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ </strong>، بے شک تیرے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها6-روحانی-سیروں-کی-داستان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها6 &nbsp;روحانی سیروں کی داستان :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">سیر الی اللہ (اللہ کی طرف سیر)سے مراد کسی ایک اسم الہی تک کی سیر ہے جو سا لک کا مبدأتعین (جہاں سے متعین طور پر سالک کے متعلق فیصلہ کیا جاتا&nbsp; ہے کہ وہ حق تعالیٰ&nbsp; کی کونسی صفت میں سیر کررہا ہے)ہے اور سیر فی اللہ سے مراد اس اسم میں یہاں تک سیر کرنا ہے کہ اسماء وصفات اور شیون واعتبارات کے لحاظ سے مجردذات احدیت کی بارگاہ میں پہنچ جاۓ ، یہ تقریر اس وقت درست معلوم ہوتی ہے جب کہ اسم مبارک اللہ سے مراد مرتبہ وجوب لیا جاۓ جو اسماء وصفات کا جامع ہے لیکن اگر اس اسم مبارک سے مراد ذات محض لی جاۓ تو پھر سیر فی اللہ بھی سیر الی اللہ میں داخل ہوتی ہے اور اس طرح سیر فی اللہ بالکل حاصل نہیں ہوتی کیونکہ آخری سے آخری نقطہ میں سیر کرنا وہم و خیال میں بھی نہیں آ سکتا، اس نقطے پر پہنچ کر بلا توقف جہان کی طرف لوٹنا ہوتا ہے جسے(اصطلاح صوفیہ میں ) سیر عن الله باللہ کہتے ہیں ، یہ شناخت آخری سے آخری نقطہ تک واصلوں کیلئے مخصوص ہے، میرے سوا کسی ولی اللہ نے اس شناخت کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی طرف چن لیتا ہے، اللہ تعالی کا شکر ہے، والسلام علی سيد المرسلين محمد و آله اجمعین۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-7-کمالات-ولایت-کے-مدارج"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:7۔کمالات ولایت کے مدارج:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">کمالات ولایت کی سیر میں اولیاۓ کرام کے مختلف مراتب ہیں ، بعض میں صرف ایک درجہ ولایت کی استعداد ہوتی ہے بعض میں دو کی بعض میں تین کی اور بعض میں چار کی ، خال خال ایسے ہوتے ہیں جو ولایت کے پانچویں درجے کو حاصل کرتے ہیں ،ان پانچ درجوں میں سے پہلا درجہ تجلی افعال سے وابستہ ہے،دوسراتجلی صفات سے اور باقی کے تین حسب مرتبہ تجلیات ذاتی سے وابستہ ہوتے ہیں ، میرے اکثر یار تیسرے درجہ سے مناسبت رکھتے ہیں اور ان میں تھوڑے ایسے ہیں جو چو تھے درجے کے قابل ہیں اور خال خال ایسے بھی ہیں جو ولایت کے آخری یعنی پانچو یں درجے سے &nbsp;مناسبت رکھتے ہیں لیکن جس کمال کو میں معتبر سمجھتا ہوں وہ ان پانچوں سے بڑھ کر ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے کے بعد اس کمال کا ظہور نہیں ہوا جو جذ بہ وسلوک کے کمال سے بڑھ کر ہے ، انشاء اللہ یہ کمال آخری زمانے میں حضرت مہدی موعود ہی میں ظاہر ہوگا ، و الصلوة والسلام على خير البريۃ</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-8نزول-تام-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 8نزول تام کا بیان :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">نہایت النہایت ( آخری مقام ) کے اصل رجوع قہقری (الٹے پاؤں واپس آتے ) وقت نچلے سے نچلے مقام میں اتر آتے ہیں ، یہی نچلے سے نچلے مقام میں اتر آنا ہی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ اعلی سے اعلی اور آخری سے آخری مقام تک ترقی کر چکے ہیں، جب نزول اس خصوصیت سے وقوع میں آتا ہے تو صاحب رجوع ہمہ تن عالم اسباب کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، یہ نہیں ہوتا کہ اس کا کچھ حصہ بارگاہ الہی کی طرف متوجہ ہو اور کچھ خلقت کی طرف، کیونکہ ایسی حالت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ آخری سے آخری مقام تک نہیں پہنچا، نیز اسے نچلے سے نچلے مقام تک نزول بھی حاصل نہیں ہوا، اب میں اصل بات کو بیان کرتا ہوں وہ یہ کہ نماز پڑھتے وقت جو کہ مومن کیلئے معراج ہے صاحب رجوع کے تمام لطائف بارگاہ الہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نماز سے فارغ ہو کر بالکل خلقت کی طرف لیکن فرائض وسنن ادا کر تے وقت چھ لطیفے بارگاہ والہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نفل ادا کر تے وقت صرف عمدہ سے عمدہ لطیفے متوجہ ہوتے ہیں ممکن ہے کہ حدیث <strong>لِي ‌مَعَ ‌اللَّهِ وَقْتٌ</strong><strong>کا</strong> اشار ہ اس خاص وقت کی طرف ہو جو نماز سے مخصوص ہے اور اس اشارہ کے تعین پرقرینہ حدیث <strong>‌قُرَّةَ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ</strong>ہے یعنی مجھے نماز میں آنکھوں کی ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے ، اس قرینے کے علاوہ کشف صحیح اور الہام صریح بھی اس بارے میں مجھے ہوا ہے، یہ جو معارف مجھ سے ہی مخصوص ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے، دوسرے مشائخ نے اس کمال کو جمع بین التوجہین(دونوں توجہوں کو جمع کرنے) میں جانا ہے، میں اپنا کام اور معاملہ اللہ تعالی کے سپردکرتا ہوں ، اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی اور جناب سرور کائنات ﷺ کی فرمانبرداری اور تابعداری کی ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-9-نفسی-اور-آفاقی-مشاہدہ"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: &nbsp;9،نفسی اور آفاقی مشاہدہ:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">مشائخ نے فرمایا ہے کہ اہل اللہ مرتبہ ولایت پر پہنچ &nbsp;کر اپنے اندر ہی مشاہدہ کرتے ہیں، بیرونی مشاہدہ جو سیر الی اللہ کے وقت اثناۓ راہ میں حاصل ہوتا ہے ، معتبر نہیں ، جو کچھ مجھ پر منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مشاہدہ اندرونی بھی مشاہد ہ بیرونی کی طرح قابل اعتبار نہیں ، اس واسطے کہ وہ مشاہد ہ دراصل حقیقت حق سبحانہ و تعالی کا مشاہدہ نہیں کیونکہ جب حق تعالی بیچون و بیچگون ہے تو پھر چون کے آئینہ میں کیونکر سما سکتا ہے ، خواہ آئینہ اندرونی ہو یا بیرونی ، اللہ تعالی نہ جہان کے اندر ہے اور نہ اس سے باہر ہے ، نہ جہان سے ملا ہوا ہے ، نہ ہی الگ ہے ، اسی واسطے جو رؤیت حق آخرت میں حاصل ہوتی ہے ، اسے بھی بلا کیف ہی لکھا ہے جو عقل و وہم کے احاطہ سے باہر ہے ، دنیا میں بھی یہ بھید خواص الخواص پر منکشف کیا ہے ، اگر چہ اسے رؤیت تو نہیں کہہ سکتے پھر بھی رؤیت ہی کی طرح ہے ، یہ دولت عظمی ایسی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم &nbsp;کے زمانے کے بعد بہت کم اشخاص کو نصیب ہوئی ہے، گویا یہ بات آج کل بعید از قیاس معلوم ہوتی ہے اور اکثر لوگ اس پر یقین نہیں کرتے لیکن میں اس نعمت عظمی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ خوا و کوتاہ اندیش لوگ اسے مانیں یا نہ مانیں ، یہ &nbsp;نسبت اس خصوصیت سے انشاء اللہ آخری زمانے میں حضرت مہدی موعود ہی میں ظاہر ہو گی ، اس شخص پر سلامتی ہو جس نے ہدایت کی پیروی کی اور جناب سرور کائنات ﷺ کی فرمانبرداری کی اور آنحضرت ﷺ کی متابعت کو لا زم جانا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-10-طریق-توبہ-کی-ابتدا"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:10۔طریق توبہ کی ابتدا :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جب کوئی طالب کسی شیخ کی خدمت میں حاضر ہو تو شیخ پہلے اس سے تین سے لے کر سات &nbsp;دن تک استخارہ کرائے اگر استخاروں کے بعد طالب میں کسی قسم کا تذبذب پیدا نہ ہو تو اس کے کام کو شروع کرے، سب سے پہلے اسے توجہ کا طریقہ سکھلائے اور دورکعت نماز تو بہ پڑھنے کیلئے کہے، کیونک تو بہ کیے بغیر اس راہ میں قدم رکھنا مفیدنہیں پڑتا لیکن توبہ کے حصول میں مجمل پر ہی اکتفا کرے، یہ نہ کرے کہ طالب اسی وقت ہی تو بہ نصوحی کرے بلکہ یہ کرے کہ طالب آہستہ آہستہ تمام بری باتوں سے تو بہ کر سکے گا کیونکہ آج کل ہمتیں بالکل پست ہو گئیں ہیں ، اگر پہلے ہی مفصل تو بہ کی تکلیف دی جاۓ تو اس کیلئے عرصہ درکار ہے ممکن ہے اس عرصہ میں طالب اس کام سے ہمت ہار جاۓ بلکہ تو بہ ہی کو سرانجام نہ دے سکے جب تو بہ مجملا ہو چکے تو پھر طالب کی استعداد کے موافق خاص طریقہ کی تعلیم کرے اور جو ذ کر اس کی قابلیت کے مناسب ہوتلقین کرے اور اس کے کام میں اپنی توجہ صرف کرے اور اس کے حال کو مد نظر رکھے اور راستے کے آداب وقواعد اور شرائط اسے بتادے، کتاب وسنت کی اور آثار سلف صالحین کی متابعت کی ترغیب دلائے اور اس کے ذہن نشین کر دے کہ اس متابعت کے بغیر مطلوب حاصل نہیں ہوتا اور اس کو جتلا دے کہ جو کشف و خواب کتاب وسنت سے بال بھر بھی اختلاف رکھتا ہو وہ قابل اعتبار نہیں بلکہ اس سے استغفار کرنی چاہیئے اور اس بات کی نصیحت کرے کہ عقائد کو فرقہ ناجیہ یعنی اہل سنت و جماعت کی رائے کے موافق صحیح &nbsp;کرے اور اس بات کی تاکید کرے کہ وہ فقہ کے ضروری احکام دیکھ کران پرعمل کرے کیونکہ اس راہ میں بغیران دو بازوؤں یعنی اعتقاد اور علم کے اڑ نا محال ہے، نیز اس بات کی سخت تاکید کرے کہ مشتبہ اورحرام لقمہ میں نہایت احتیاط سے کام لے جو کچھ یا جہاں سے مل جاۓ نہ کھاۓ ، تاوقتیکہ اس کا کھانا شرعاً جائز نہ ہو مختصر یہ کہ تمام کاموں میں اس آیت کریمہ کوملحوظ ومد نظر رکھے وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا جوکچھ رسول خداﷺ نے کر نے کیلئے فرمایا ہے اسے کرواور جس سے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ، طالب دو حالتوں سے خالی نہیں ، یا اہل کشف و کرامت ہے یا صاحب جہل و حیرت لیکن جب پردے اٹھ جاتے ہیں اور منزلیں طے ہو جاتی ہیں تو اس وقت دونوں برابر ہوتے ہیں ، یعنی پہنچ جانے میں یکساں ہوتے ہیں ، مثلا دو شخص دور دراز کی منزلیں طے کر کے جب کعبے پہنچ جائیں ، ایک راہ میں ہر منزل پر نظارے دیکھتا آۓ اور دوسرا آنکھوں پرٹھیکری رکھ کر آۓ تو دونوں شخص کعبہ پہنچنے میں برابر ہیں کسی کو دوسرے پر فوقیت نہیں ، گوراہ کے نظاروں کے لحاظ سے ان میں فرق ہے، مطلوب کے پاس پہنچ جانے کے بعد دونوں کیلئے جہل لازم ہے کیونکہ ذات الہی کی معرفت یہی ہے کہ اس کی معرفت سے جہل وعجز کیا جائے۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ سلوک کی منزلیں طے کرنے سے مراد دس مقامات کا طے کرنا ہے اور ان دس مقامات کا طے کر نا ان تین قسم کی تجلیات سے وابستہ ہے، یعنی افعال ، تجلی صفات اور تجلی ذات، ان مقامات سے سواۓ مقام رضا کے سب تجلی افعال اور تجلی صفات کے متعلق ہیں ، مقام رضا تجلی ذات سے وابستہ ہے، نیز محبت ذاتیہ کے متعلق ہے جس میں محب کی یہ حالت ہوتی ہے کہ محبوب کی طرف سے خواہ اسے تکلیف ہو یا آرام دونوں کو برابر سمجھے، جب ایسی حالت ہو جاتی ہے تو فی الواقع رضا حاصل ہوتی ہے اور کراہت اٹھ جاتی ہے ،اسی طرح باقی مقامات پر بدرجہ کمال ۔ پہنچنا بھی تجلی ذات کے وقت نصیب ہوتا ہے جس سے فناۓ اتم وابستہ ہے لیکن نو مقامات کا نفس حصول تجلی افعال اورتجلی صفات میں ہو جا تا ہے، مثلاً جب یہ د یکھتا ہے کہ اللہ تعالی مجھ پر اور تمام اشیا پر قادر ہے تو بے اختیارتو بہ کرتا ہے ، ڈرتا ہے اور تقوی کو اپنی عادت بنالیتا ہے، اس کی تقدیروں پر صبر کرنے لگتا ہے، بے طاقتی و بے صبری چھوڑ دیتا ہے اور کسی نعمت کا دینایا روکنا اس سے یقین کرتا ہے ، جب جانتا ہے کہ نعمتوں کا مولا وہی ہے اور چاہے دے چا ہے نہ دے تو نا چار شکر گزار بنتا ہے اور تو کل میں راسخ قدم ہو جا تا ہے، جب مہربانی اور نرمی متجلی ہوتی ہے تو مقام رضا آ جا تا ہے، جب اس کی عظمت اور کبریائی کا مشاہدہ کرتا ہے اور دنیاۓ دوں اس کی نگاہوں میں خوار و بے اعتبار دکھائی دینے لگتی ہے تو مجبوراً دنیا سے دل ہٹالیتا ہے، فقر اختیار کرتا ہے اور زہد کو اپنا طریقہ بنالیتا ہے، یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ مقامات مفصل وترتیب وار صرف سالک مجذوب کو حاصل ہوتے ہیں مجذوب سا لک ان مقامات کو مجمل طور پر طے کرتا ہے کیونکہ عنایت الہی نے اسے ایسی محبت میں گرفتار کیا ہے کہ وہ بالتفصیل ان مقامات میں مشغول نہیں ہوسکتا، اس محبت کے ضمن میں اسے ان مقامات کا وہ لب لباب اور ان منازل کا وہ خلاصہ پورا پورا حاصل ہو جا تا ہے جو صاحب تفصیل کو بھی نصیب نہیں ہوتا ، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-11-اس-طریقے-میں-بے-حاصلی"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 11۔اس طریقے میں بے حاصلی :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;طالب کو چاہیئے کہ اندرونی و بیرونی باطل معبودوں کی نفی کی کوشش کرے&nbsp; معبود حقیقی کے اثبات کیلئے جو کچھ اس کے وہم و خیال میں آئے اسے بھی برطرف کر دے ، صرف اس کی موجودیت پر اکتفا کرے اگر چہ اس مکان میں وجود کی بھی گنجائش نہیں ، اسے وجود کے علاوہ تلاش کر نا چاہیئے ،اہل سنت نے کیا خوب کہا ہے کہ واجب تعالی کا وجوداس کی ذات اقدس پر زائد ہے ، وجودکوعین ذات کہنا اور وجود کے سوائے کسی اور بات کا ثابت نہ کر نا نظر کی کوتاہی کی وجہ سے ہے، شیخ علاوؤالدولہ رحمۃ اللہ &nbsp;فرماتے ہیں کہ عالم وجود کے اوپر ملک و دود کا عالم ہے، میں( حضرت مجدد الف ثانی) عالم وجود سے اوپر گزرا تو کچھ عرصہ میں مغلوب الحال رہا اور اپنے آپ کو علم تقلید کی رو سے مسلم خیال کرتا رہا مختصر یہ کہ جو کچھ ممکن کے حوصلہ میں آتا ہے وہ بدرجہ اولی ممکن ہوتا ہے ، وہ ذات پاک ہے جس نے اپنی طرف خلقت کی راہ سواۓ اس کے اور کوئی نہیں بنائی کہ اس کی معرفت سے عاجزی ظاہر کی جاۓ اس سے یہ خیال نہ کرنا اس فنافی اللہ اور بقا باللہ سے ممکن واجب ہو جا تا ہے کیونکہ ایک تو ایسا ہونا محال ہے اور دوسرا اس سے قلب حقائق لازم آتا ہے ، پس جب ممکن واجب نہیں ہو سکتا تو ممکن کو واجب تعالی کے ادراک سے سوائے عجز کے اور کیا حاصل ہوسکتا ہے ۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">عنقا شکار کس نشود دام باز چین کایں جاہمیشہ باد بدست است دام را</p>



<p class="wp-block-paragraph">اٹھا لے جا ل عنقا بھلا&nbsp; کب کسی کے ہاتھ آتا ہے یہاں&nbsp; ہر جال لگانے والا خالی ہاتھ جاتا ہے۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">بلند ہمت اشخاص اس طرح مطلب کو چاہتے ہیں کہ اس سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا اور اس کا نام ونشان تک پیدا نہیں ہوتا، بعض ایسے ہیں کہ کسی خاص مطلب کے متوالے ہوتے ہیں تو اس کو اپناعین پا کر اس سے قرب ومعیت پیدا کرتے ہیں</p>



<p class="wp-block-paragraph">آن ایشانندمن چنینم یارب&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وہ کہاں میں کہاں اے رب</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-12-خواجہ-نقشبند-کے-فرمان-کی-تشریح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 12۔خواجہ نقشبند کے فرمان کی تشریح :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر ایک شیخ کے آئینے کے دورخ ہوتے ہیں لیکن میرے آئینے کے چھ رخ ہیں، اس میں کلام نہیں کہ آج تک اس بزرگ خانوادے کے کسی خلیفے نے اس کلمہ قدسیہ کی شرح بیان نہیں کی ، بلکہ اشارتاً اور کنایتاً بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ، مجھے حقیر قلیل البضاعت کی کیا حیثیت کہ اس کی شرح کی جرات کر سکے اور اس کے کشف کیلئے زبان کھولے لیکن چونکہ حق تعالی نے محض اپنے فضل و کرم سے اس معما کا بھید بھی منکشف فرمایا ہے اور کما حقہ اس کی حقیقت مجھ پر ظاہر فرمائی ہے، اس واسطے اس پوشیدہ بھید کو بیان کی انگلیوں سے رشتہ تحریر میں پروتا ہوں اور زبان ترجمان سے بھی تقریر میں لاتا ہوں ، استخارہ کے بعد اور اللہ تعالی سے غلطی سے بچنے اور توفیق کی دعا کر کے شروع کرتا ہوں ، واضح رہے کہ آئینہ سے مراد عارف کا دل ہے جو روح اور نفس کے مابین برزخ ( وسیلہ ) ہے ، آئینے کے دورخوں سے مراد ایک رخ روح کا اور دوسرا رخ نفس کا لیا ہے، جس وقت مشائخ مقام قلب پر پہنچتے ہیں تو ان پر دونوں رخوں سے وہ علوم و معارف جو قلب کے مناسب ہوتے ہیں منکشف ہونے لگتے ہیں برخلاف &nbsp;اس کے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کے طریقہ میں بدایت ہی میں نہایت مندرج ہے، اس طریقہ میں آئینہ کے چھ رخ ہو جاتے ہیں ، اس کی مفصل حقیقت یہ ہے کہ اس طریقہ عالیہ کے بزرگوں پر منکشف ہوا کہ جو کچھ تمام افراد انسانی میں ثابت ہے وہ چھ لطیفوں سے اکیلے دل میں متحقق ہے، ان چھ طرفوں سے مرادنفس ، قلب ،روح ، سرخفی ، اخفی لئے ہیں ، باقی تمام مشائخ کی سیر قلب کے ظاہر تک محدود ہے لیکن نقشبندی بزرگوں کی سیر قلب کے باطن تک بلکہ اس سیر کے ذریعے اس کے اندرونی سے اندرونی نقطے تک ہے اور انہیں ان چھ لطیفوں کے علوم و معارف مقام قلب میں منکشف ہوتے ہیں لیکن وہ علوم منکشف ہوتے ہیں جو مقام قلب کے مناسب ہیں یہ ہے حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کے کلمہ قدسیہ کا بیان ، مجھ حقیر کو ان بزرگوں کی برکت سے اور زیادہ تحقیق وتدقیق معلوم ہوئی ،سو میں اس تحقیق و تدقیق میں سے کچھ اشارتا اس آیہ کریمہ کے بموجب،<strong> وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ</strong><strong>اپنے</strong> پروردگار کی نعمت کا ذکر &nbsp;کرو بيان کرتا ہوں ، واضح رہے کہ قلبِ قلب میں بھی قلب کی طرح لطائف پاۓ جاتے ہیں لیکن قلبِ قلب میں یا دائرہ کی تنگی یا کسی اوربھید کی وجہ سے مذکورہ بالا چھ لطیفوں میں سے دو لطیفے بطریق جز ویعنی لطیفہ نفس اور لطیفہ اخفی ظاہر نہیں ہوتے اور یہی حالت اس دل کی ہے جو تیسرے مرتبے میں ہو کیونکہ اس میں خفی بھی ظاہر نہیں ہوتا اور یہی حالت اس دل کی ہے جو چوتھے رتبہ میں ہو کیونکہ اس میں صرف قلب و روح کا ظہور ہوتا ہے ، سر کا نہیں ہوتا، پانچویں مرتبے میں لطیفہ روح کا بھی ظہور نہیں ہوتا صرف قلب ہی قلب رہ جا تا ہے جو بسیط محض اور نا قابل اعتبار ہے ، اس موقع&nbsp; پر بعض معارف عالی معلوم کرنا ضروری ہے، تا کہ ان کے ذریعے واضح ہو جائے کہ نہایت النہایت اور غایت الغایت سے کیا مراد ہے، میں ان معارف کو بتو فیق الہی بیان کرتا ہوں ، وہ یہ کہ جو کچھ عالم کبیر میں مفصل طور پر ظاہر کیا گیا ہے وہ عالم صغیر میں مجمل طور پر ظاہر ہوتا ہے، عالم صغیر کو صیقل کر کے منور کر لیا جا تا ہے تو اس میں آئینے کی طرح عالم کبیر کی تمام چیز یں مفصل دکھائی دینے لگتی ہیں کیونکہ صیقل اور منور کرنے سے اس کا احاطہ وسیع ہو جا تا ہے ، اس وقت صغیر کا لفظ اس پر عائد نہیں ہوتا اور یہی حالت اس دل کی ہے جس کو عالم صغیر سے وہی نسبت ہے جو عالم صغیر کو عالم کبیر سے ہے ، جب دل کو صیقل کیا جا تا ہے اور اس سے تاریکی دور ہو جاتی ہے تو اس میں بطریق آئینہ عالم صغیر کی تمام چیز یں مفصل دکھائی دینے لگتی ہیں اور یہی نسبت قلب القلب اور قلب میں ہوتی ہے جو قلب اور عالم صغیر میں ہوتی ہے، جب قلب القلب کا تصفیہ کر لیا جا تا ہے تو اس میں تمام چیزیں مفصل طور پر دکھائی دینے لگتی ہیں علی ہذا القیاس دل تیسرے اور چوتھے اور پانچویں مرتبے میں بہ سبب صقالت و نورانیت سابقہ مراتب کی تمام چیزوں کو مفصلا دکھلانے لگتا ہے ، اس طرح جو دل پانچو یں مرتبے میں بسیط محض اور نا قابل اعتبار ہوتا ہے ، جب اسے پورے طور پر منتقل کیا جا تا ہے تو اس میں عالم کبیر ، عالم صغیر اوراصغر اور بعد کے باقی تمام عوالم کی چیزیں مفصلا دکھائی دینے لگتے ہیں ، سو وہ تنگ لیکن سب سے فراخ اور بسیط سے بسیط ہے، نہایت چھوٹا لیکن سب سے بڑا ہے، اس وصف کی کوئی اور چیز اللہ تعالی نے پیدا نہیں کی ، اس لطیفہ بدیعہ سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ تعالی سے مناسبت نہیں رکھتی ، اس واسطے اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا ہے، ‌لَا ‌يَسَعُنِي ‌أَرْضِي، وَلَا سَمَائِي، وَلَكِنْ يَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ ، میرے آسمان اور میری زمین میں میری گنجائش نہیں، میں صرف اپنے مومن بندے کے دل میں سما سکتا ہوں ۔ عالم کبیر اگر چہ بلحاظ ظہور نہایت وسیع ہے اور اس کی کثرت و تفصیل کی وجہ سے اسے اس چیز کے ساتھ جس میں کثرت وتفصیل بالکل نہ ہو کوئی مناسبت نہیں ، وہ تنگ لیکن بہت وسیع ہے اور بسیط الابسط ہے، بہت ہی تھوڑا ہے لیکن ساتھ ہی بہت ہی کثیر بھی ہے ، جب وہ عارف جو بلحاظ معرفت مکمل اور از روۓ شہود اکمل ہو اس مقام پر پہنچتا ہے جوعزیز الوجود اور شریف الرتبہ ہے تو وہ عارف تمام جہان اور اس کے ظہورات کیلئے بمنزلہ دل ہو جا تا ہے ، تب اسے ولایت محمدیہ حاصل ہوتی ہے اور دعوت مصطفویہ سے مشرف ہوتا ہے ، قطب ، اوتا داور ابدال بھی اس کی ولایت کے دائرہ کے تحت داخل ہوتے ہیں اور ہر قسم کے اولیاء اللہ مثلا افراد و آحاد بھی اس کے انوار ہدایت کے تحت مندرج ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ جناب رسول خدا ﷺ کا نائب مناب اور حبیب الہی کی ہدایت سے ہدایت یافتہ ہوتا ہے، یہ عزیز الوجود اور شریف النسبۃ مرادوں میں سے کسی ایک سے مخصوص ہوتی ہے ، مریدین کو یہ کمال نصیب نہیں ہوتا ، یہ بڑی نہایت اور آخری غایت ہے ، اس کے اوپر کوئی کمال نہیں اور اس سے عمد و کوئی بخشش نہیں خواہ اس قسم کا عارف ہزار سال بعد پا یا جاۓ تو بھی غنیمت ہے ، اس کی برکت مدت مدید اور عرصہ بعید تک جاری رہتی ہے، ایسے عارف کا کلام بمنزلہ دوا اور اس کی نظر بمنزلہ شفا ہوتی ہے ، اس آخری امت میں سے انشاء اللہ حضرت مہدی موعود ہی اس نسبت شریفہ پر پائے جائیں گے ، یہ اللہ تعالی کا فضل ہے، جسے چاہے عطا فرماۓ اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے ، یہ دولت عظمی سلوک و جذبہ کے دونوں راستے بالترتیب اور بالتفصیل طے کرنے سے وابستہ ہے، نیز فناۓ اتم اور بقاۓ اکمل کو ایک ایک درجہ کر کے حاصل کر نے پر منحصر ہے ،سو یہ باتیں جناب سرور کائنات ﷺ کی فرمانبرداری کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتیں ، اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے ہمیں آنحضرت ﷺ کی فرمانبرداری و پیروی عنایت فرمائی ، ہم اللہ تعالی سے آنحضرت ﷺ کی متابعت کا کمال ، اس پر ثابت قدم رہنا اور آنحضرت ﷺ کی شریعت کی استقامت مانگتے ہیں ، آمین کہنے والے بندے پر اللہ تعالی رحم کرے ، یہ معارف پوشید و اسرار اور مخفی رموز سے ہیں، بڑے بڑے اولیا میں سے کسی نے بھی ان کا ذکر نہیں کیا اور بڑے بڑے اصفیاء میں سے کسی نے بھی ان کی طرف اشارہ نہیں کیا ، اللہ تعالی نے اپنے اس بندے کو اپنے حبیب اکرم ﷺ کے صدقے ان اسرار سے مطلع فرما کران کے ظاہر کر دینے کا حکم فرمایا کسی نے کیا اچھا کہا ہے</p>



<p class="wp-block-paragraph">اگر بادشاه بر در پیر زن&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; بیاید تو اے خواجہ سبلت مکن</p>



<p class="wp-block-paragraph">اللہ تعالی کی قبولیت کسی شے یا سبب پر منحصر نہیں ، جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہتا ہے حکم کرتا ہے، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کر تا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے، <strong>وصـلـى الـلـه تـعـالـى عـلـى سيدنا محمد و اله واصحابه وسلم وبارك على جميع الانبياء والمرسلين وعلى الملئكة المقربين وعلى عباده الصالحين والسلام على من اتبع الهدى والتزم متابعة المصطفى عليه الصلوة والسلام۔</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-13-مقام-روح-اور-کمال-عروج"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:13۔مقام روح اور کمال عروج:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">روح بھی چونکہ عالم بیچونی (عالم بے کیف)سے ہے اس واسطے اس کیلئے بھی لا مکان ہونا متحقق ہے، لیکن اس کی بیچونی (بے کیفی )بمقابلہ وجوب ذات حق عین چون(کیف) ہے اور اسکا لامکان ہو نا حقیقی لامکان کی لامکانیت کے سامنے عین مکانیت ہے، گویا عالم ارواح اس عالم اور مرتبہ بیچونی کے مابین برزخ ہے ، چونکہ روح میں دونوں رنگ پاۓ جاتے ہیں ،اس واسطے عالم بیچون&nbsp; کی نسبت سے&nbsp; اسے بے چون جانتے ہیں لیکن اصلی بیچون کے مقابلہ میں عین چون ہے، یہ برزخ ہونے کی نسبت اسے اس کی اصلی فطرت کے اعتبار سے حاصل ہے لیکن جب اس روح کا تعلق اس کے ایک ہیکل اور قفس عنصری سے ہو جاتا ہے تو عام برزخیت سے نکل کر بالتمام عالم چون میں اتر آ تا ہے ، اس واسطے بچونی کا رنگ اس سے نکل جاتا ہے ، اس کی مثال ہاروت و ماروت &nbsp;کی سی ہے جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ارواح ملائکہ بعض خاص مصلحت کیلئے بشریت کی پستی میں اترے ہیں ، پس اگر عنایت الہی مددکرے اور اس سفر سے لوٹ کر اپنی اصلی جگہ جاۓ جو درحقیقت تنزل سے عروج ہے تو تاریک نفس اور بدن عنصری بھی اس کی متابعت سے ضرور عروج حاصل کر لیں گے اور منزلیں طے کر لیں گے ، اس ضمن میں وہ مقصود بھی ظاہر ہو جاۓ گا جوروح کے تعلق اور اس کے نزول سے مطلوب تھا نفس امارہ نفس مطمئنہ بن جائے گا اور ظلمانی نورانی سے بدل جاۓ گا ، جب روح اس سفر کوختم کر لیتا ہے اور نزول کے مقصود کو انجام تک پہنچا لیتا ہے تو اصلی برزخیت پر پہنچتا ہے اور نہایت بدائیت کی طرف لوٹتے وقت حاصل کرتا ہے، چونکہ قلب بھی عالم ارواح سے ہے اس واسطے اسے بھی برزخیت میں وطن نصیب ہوتا ہے اور نفس مطمئنہ بھی جو عالم امر کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ وہ قلب و بدن کے مابین برزخ ہے اس جگہ ا قامت کرتا ہے اور بدن عنصری جوار بعہ عناصر کا بنا ہوا ہے عالم کون و مکان میں قرار پکڑتا ہے اور اطاعت وعبادت میں مشغول ہو جا تا ہے ، بعد ازاں اگر سرکشی اور مخالفت واقع ہوتی ہے تو اسے عناصر کی طبیعتوں سے منسوب کیا جا تا ہے ،مثلا جز و ناری جو بالذات سرکش اور مخالفت طلب ہے ابلیس لعین کی طرح <strong>انا خیر منہ</strong> میں اس سے اچھاہوں پکارے گا نفس مطمئنہ سرکشی سے باز آ چکا ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی سے راضی ہوتا ہے اور اللہ تعالی اس سے ، سو جو ایک دوسرے سے راضی ہوں ان میں سرکشی کا خیال تک نہیں ہوتا ،اگر سرکشی ہے بھی تو قالب سے، شاید جناب سرور کائنات ﷺ نے اس شیطانی سر کشی کے خلاف جہاد کو جہادا کبر سے تعبیر فرمایا ہو کیونکہ اس کی پیدائش بھی جزو قالبی ہے اور یہ جوفر مایا، اسلم شیطانی ، اس سے مراد ہے میرے شیطان نے اسلام قبول کیا (حضور اکرم ﷺ کی شان تخصیص ہے کہ آپ کا شیطان( قرین) مسلمان ہو گیا اس لیے اس کے اثرات و تصرفات کا آپ ﷺ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔)، یا تو مرادشیطان آفاقی ہے جو آنحضرت ﷺ کا قرین ہے لیکن جہادا کبر والی حدیث میں انفسی شیطان مراد ہے ،اگر چہ سالک نے&nbsp; اس شیطان کی شان وشوکت کو بھی تو ڑا ہوا ہے اور وہ سرکشی سے باز آیا ہوا ہے لیکن پھر بھی جو شے کسی کی ذات میں داخل ہواس سے جدا نہیں ہوسکتی ،</p>



<p class="wp-block-paragraph">سیاسی از حبشی کے رود که خودر نگ است</p>



<p class="wp-block-paragraph">حبشی کے رنگ سے سیاہی کیسے دور ہوسکتی ہے</p>



<p class="wp-block-paragraph">یا اس سے مراد انفسی شیطان ہے ،اس کے اسلام قبول کرنے سے لازم نہیں آتا ہے کہ اس نے سرکشی بالکل ترک کر دی ہو، باوجوداسلام کے اگر عزیمت کو ترک کر کے رخصت کا مرتکب ہو تو جائز ہے اور اگر کوئی ایسا صغیرہ سرزد ہو جس میں نیکی نہ ہوتو بھی اس کی گنجاش ہے، بلکہ نیکوں کی نیکیاں مقربوں کے نزدیک برائی میں داخل ہیں، بھی اسی قسم سے ہے ، یہ سب سرکشی کی قسمیں ہیں، یہ سرکشی جو تھوڑی بہت اس میں باقی رہتی ہے وہ اس کی اصلاح وترقی کیلئے ہے کیونکہ ان امور کے حاصل ہو جانے کے بعد جن میں کمی کا انتہائی درجہ ترک کے حصول سے بہتر ہے ایسی ، پشیمانی ، تو بہ اور استغفار ہاتھ آتی ہے جو بے نہایت ترقیوں کا موجب ہوتی ہے، جب بدن عنصری اپنی جاۓ قرار میں آجاتا ہے تو لطائف ستہ کی جدائی اور ان کے عالم امر میں چلے جانے کے بعد اس جہان میں ان کا خلیفہ بلاشک وشبہ یہی بدن رہ جا تا ہے اور یہی ان سب کے کام کرتا ہے ، بعدازاں اگر الہام ہوتا ہے تو گوشت کے اس ٹکڑے کو جو حقیقت جامعہ قلبیہ کا خلیفہ ہے اور اس حدیث نبوی ، مَنْ أَخْلَصَ لِلَّهِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ظَهَرَتْ ‌يَنَابِيعُ ‌الْحِكْمَةِ مِنْ قَلْبِهِ عَلَى لِسَانِهِجوشخص اخلاص سے چالیس دن اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہے حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں ، میں قلب سے مراد اللہ اعلم یہی گوشت کا ٹکڑا ہے، دوسری حدیثوں میں بھی یہی مراد مقرر ہے جیسا کہ جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں ، <strong>أَنَّهُ ‌لَيُعَانُ ‌عَلَى ‌قَلْبِي</strong> ، بے شک میرے دل پر پردہ کیا جا تا ہے(قلب پر غبار آنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ امت کے حال پر انتہائی شفقت و مہربانی سے پیش آنے کی وجہ سے ان کی کثافت کو اپنی طرف کھینچ لیتے جو غبار کی طرح نظر آتا تھا، جیسے غین سے تعبیر فرمایا گیا ، یہاں قلب سے مراد قلب القلب نہیں وہ تو ہمہ وقت لاہوتی جلووں میں محورہتا ہے اور غبار سے محفوظ ہے غین جس قلب آتا ہے اس سے مرادمضغہ گوشت ہے جوغم &nbsp;امت میں بے قرار ہوتا ہے۔)، اس سے صاف ظاہر ہے کہ پردہ اگر ڈھانپا ہوا ہے تو اس گوشت کے ٹکڑے پر نہ کہ حقیقت جامعہ پر کیونکہ وہ تو بالکل پردے سے بری ہے، دوسری حدیثوں میں دل کے پلٹنے کا ذکر آیا ہے، چنانچہ جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے میں قَلْبُ ‌الْمُؤْمِنِ ‌بَيْنَ ‌أُصْبُعَيْنِ ‌مِنْ ‌أَصَابِعِ ‌الرَّحْمَنِ مؤمن کا دل اللہ تعالی کی دوانگلیوں کے مابین ہے نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے، مثلُ القلب ‌كريشة ‌في ‌أرض ‌فلاة تُقَلِّبُها الرياحُ ظهرًا لبطنِ، مؤمن کا دل بیابان کے گھاس کی طرح ہے ، نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ، <strong>اللهُمَّ ‌ثَبِّتْ ‌قَلْبِي ‌عَلَى طَاعَتِكَ </strong>،اے معبود میرے دل کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھنا ، پلٹنا اور عدم اس گوشت کے ٹکڑے کیلئے ہے کیونکہ حقیقت جامعہ ہرگز نہیں پلٹتی ،اس واسطے کہ وہ راسخ ومطمئن ہے، جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ &nbsp;نے دل کے واسطے اطمینان کی درخواست کی تو اس وقت آپ کی مراداسی گوشت کے ٹکرے سے تھی نہ کہ کسی اور چیز سے کیونکہ آپ کا حقیقی دل تو بلا شک و شبہ مطمئن تھا بلکہ آپ کا نفس بھی آپ کے حقیقی قلب کی سیاست کی وجہ سے مطمئن تھا ،عوارف المعارف کے مصنف شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;فرماتے ہیں کہ الہام اسی نفس مطمئنہ کی صفت ہے جو مقام قلب تک عروج کر گیا ہو بے شک تلون وتقلب نفس مطمئنہ کی صفات ہیں اور یہ قول جیسا کہ تم دیکھتے ہو مذکورہ &nbsp;بالا حدیثوں کے خلاف ہے، اگر شیخ کو اس وقت&nbsp; اس مقام نفس مطمئنہ&nbsp; سے اوپر عروج میسر ہوتا ہے تو حقیقت معاملہ کو جان لیتے اور میری دی ہوئی خبر کا صدق ظاہر ہو جا تا اور کشف و الہام احادیث نبویہ سے مطابقت پیدا کر لیتے اور پھر یہ بھی تمہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس گوشت کے ٹکڑے پر الہام ہوتے ہیں اور یہی خلیفہ ہے اور اس کے احوال بدلتے رہتے ہیں، اگر میرا کہنا بالفرض ہٹ دھرم اور اصل حقیقت سے قاصر و جاہل لوگوں کو نا گوار گزرے تو حدیث نبوی ﷺ کا ان کے پاس کیا جواب ہے ،خود جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ. ‌أَلَا ‌وَهِيَ ‌الْقَلْبُ اس میں شک نہیں کہ بنی آدم کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ سنورا ہوا ہوتو سارا جسم سنورا ہوتا ہے &nbsp;جب اس میں بگاڑ ہو تو تمام جسم میں بگاڑ ہو تا ہے اور وہ دل ہے ، آنحضرت ﷺ نے مبالغہ کے طور پر فرمایا ہے کہ دل وہ ہے اور سارے جسم کا سنورنا بگڑ نا اسی کے سنور نے بگڑ نے پر منحصر ہے ،سوسنوار بگاڑ گوشت کے ٹکرے کے لیے ہے نہ کہ قلب حقیقی کیلئے خواہ نیابت اور خلافت کے طریق پر ہی ہو، واضح رہے کہ جب روح جسم سے <strong>موتـو اقبل ان تموتوا</strong> مرنے سے پہلے مر جاؤ والی موت کے سبب جدا ہو جاتی ہے تو عارف کامل اپنی روح کو نہ جسم میں داخل اور نہ اس سے خارج ، نہ ملی ہوئی اور نہ اس سے جدا پا تا ہے ،اسے اتنا معلوم ہو جا تا ہے کہ روح اور جسم کا تعلق اس واسطے ہے کہ جسم کی بھی اصلاح ہو جائے اور روح بھی اپنے اصلی کمال پر پہنچ جاۓ اور اس تعلق کا منشا یہی ہے کہ نیکی اور بہتری ہو جاۓ ، اگر تعلق نہ ہوتا تو جسم سارے کا سارا شریر اور ناقص رہ جا تا اور یہی حالت ہے واجب تعالی کی روح وغیرہ کے ساتھ کہ ذات حق نہ عالم میں داخل ہے اور نہ خارج ہے، نہ اس سے ملی ہوئی ہے اور نہ اس سے جدا ہے، اللہ تعالی کا جہان کو پیدا کرنے ، باقی رکھنے، کمالات کا فیض پہنچانے اور نعمت اور نیکیوں کے لئے مستعد بنانے کا تعلق ہے ،اگر تم یہ کہو کہ علماء اہل حق نے روح کے بارے میں اس قسم کا کلام نہیں کیا بلکہ ایسا کرنے کو جائز ہی نہیں فرمایا اور آپ ہر چھوٹی بڑی بات میں ان کی موافقت کو لازم جانتے ہیں پھر آ پکے اس طرح کلام کرنے کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ روح کی حقیقت جاننے والے عالم بہت کم ہیں، انہوں نے کمالات روح کے کشف کے متعلق مفصل کچھ نہیں لکھا، بلکہ مجمل طور پر لکھنے پر اس واسطے اکتفا کی ہے &nbsp;کہ عوام الناس چونکہ اس کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتے ،ایسا نہ ہو کہ الٹا گمراہی میں پڑ جائیں، بیشک کمالات روحی کمالات و جوبی کی شبیہ اور صورت ہیں ، ان میں ایک بار یک فرق ہے، جسے صرف علماۓ راسخ ہی جانتے ہیں ،اس لئے انہوں نے مصلحت اس میں دیکھی کہ اس کی حقیقت کو مجمل بیان کیا جائے یا بالکل بیان نہ کیا جاۓ ، لیکن وہ روح کے مذکورہ بالا کمالات کے منکرنہیں ، میں نے جو روح کے بعض خواص منکشف کیے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالی کی مد د وتو فیق اور جناب سرور کائنات ﷺ کے صدقے کشف صریح اور علم صحیح حاصل ہے اور ساتھ ہی مجھ سے وہ شبہ دور کر دیا گیا ہے جو بیان کرنے سے روکتا ہے ، اب غوروفکر کرو، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جس طرح جسم کو روح سے بے شمار فوائد حاصل ہوئے ہیں اسی طرح روح کو بھی جسم سے بڑے بڑے فوائد پہنچے ہیں ، چنانچہ جسم ہی کی برکت سے اسے سننے، دیکھنے ، بات کرنے مجسم ہونے مختلف افعال کرنے اور عالم اجساد سے مناسب ہونے کی طاقت نصیب ہوئی ، جب نفس مطمئنہ روحانیوں سے مل جاتا ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے تو عقل اس کے بجاۓ اس کا خلیفہ بن کر عالم اجساد میں بیٹھتی ہے اور اس کا نام عقل معاد ہو جا تا ہے ،اس وقت اس کی تمام سوچ بیچارصرف آخرت کیلئے محدود ہو جاتی ہے ، دنیاوی زندگی کے اسباب کی طرف سے فارغ ہو جاتی ہے اور جونو را سے عطا ہوا ہے اس کے سبب فراست کے لائق ہو جاتی ہے، یہ مرتبہ کمالات عقل کا انتہائی مرتبہ ہے، ناقص یہاں پر یہ اعتراض نہ کرے کہ کمالات عقل کا انتہائی مرتبہ نسیان معاش و معاد میں متحقق ہونا چاہیئے کیونکہ شروع میں اسے سواۓ حق سبحانہ وتعالی کے اور کسی کا خیال واندیشہ نہیں ہوتا وہ کیا دنیا کیا آخرت دونوں کی طرف سے فارغ ہوتی ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نسیان و فراموشی اسے اثنائے راہ میں مرتبہ فنا فی اللہ پر پہنچ کر حاصل ہوئی اور یہ کمال اس سے بدر جہا متجاوز ہے، یہاں حصول جہل کے بعد رجوع علم ہے اور تحقق جمع کے بعد فرق کا لوٹ آتا ہے اور مرتبہ جمع کے کفر طریقت کے بعد اسلام حقیقی کا حاصل ہوتا ہے ،کوتاہ اندیش اور احمق فلسفیوں نے عقل کے چار مراتب ثابت کر کے انہیں پر اس کے کمالات کا انحصار رکھا ہے ، یہ ان کی کمال نادانی ہےعقل کی حقیقت اور اس کے کمالات کا اندازہ عقل و و ہم سے نہیں ہوسکتا بلکہ اس مطلب کیلئے کشف صحیح اور الہام صریح درکار ہے جوانوار نبوت کی مشکوۃ سے مقتبس(لیا گیا) ہو، اگر یہ پوچھیں کہ مشائخ نے جوعقل کو روح کا تر جمان لکھا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ علوم و معارف جو روحانی تلقی (لینے، اخذ کرنے)کے باعث مبدا فیاض سے حاصل ہوتے ہیں انہیں قلب جو کہ عالم ارواح سے ہے ،اخذ کرتا ہے ، ان کا ترجمان عقل ہے کہ ان کو چھانٹ کر عالم خلق کے گرفتاروں کی سمجھ کے لائق بنا تا ہے، کیونکہ اگر وہ ترجمانی نہ کرے تو ان کا سمجھنا مشکل بلکہ محال ہو جا تا ہے، چونکہ دل گوشت کا لوتھڑا قلبی حقیقت جامعہ کا خلیفہ ہے اس واسطے وہ اصل کی طرح ہو گیا ہے، اس کی تلقی بھی روحانی تلقی ہوگئی ہے، اس واسطے اسے تر جمان کی ضرورت ہوئی ہے، واضح رہے کہ عقل معاد پر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جو نفس مطمئنہ کی ہمسائیگی کے شوق کا باعث ہوتا ہے، یہاں تک کا نفس مطمئنہ کو اس کے مقام تک پہنچاتا ہے اور جسم کو خالی &nbsp;چھوڑتا ہے ، اس وقت تعلق تذکر وتعقل بھی قلبی ٹکڑے میں قرار پکڑتا ہے <strong>إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ ‌لَهُ ‌قَلْبٌ </strong>صاحب قلب کیلئے اس میں ذکر ہے، وہی قلب خود آپ ہی اپنا تر جمان ہو جا تا ہے، اس وقت عارف کو قالب سے پالا پڑتا ہے، ناری جز وجس کے وجود سے <strong>ا</strong><strong>ن</strong><strong>اخیر منہ</strong> میں اس سے اچھا ہوں کی آواز نکلتی تھی فرمانبردار ہونے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے اسلام حقیقی کے شرف سے مشرف ہو جا تا ہے ، تب ابلیسی جامہ اس سے اتار کر نفس مطمئنہ کے اصلی مقام میں پہنچاتے ہیں اور اس کا نائب مناب بنا دیتے ہیں ، پس قالب میں قلب حقیقی کا خلیفہ یہی گوشت کا ٹکڑا ہے اور نفس مطمئنہ کا نائب مناب جز و ناری ہے ۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">مصرع زرشدمس و جو دمن از کیمیاۓ عشق (کیمیائے عشق کے چھونے سے وجود کی خاک زر بن گئی)</p>



<p class="wp-block-paragraph">جز و ہوائی روح سے مناسبت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ سالک جب مقام ہوا تک عروج کر جاتا ہے تو اس ہوا کو حقانیت کا عنوان جاننے لگتا ہے اور اسی میں گرفتار رہتا ہے، چنانچہ مقام روح میں بھی شہود ہاتھ آتا ہے اور اس میں گرفتار رہتا ہے ،ایک شیخ نے فرمایا ہے کہ میں تیس سال روح کو خدا سمجھ کر اس کی پرستش کرتا رہا لیکن جب اس مقام سے مجھے عبور حاصل ہوا تو حق و باطل میں تمیز ہوگئی ، یہ جز و ہوائی مقام روحی کی مناسبت کے سبب اس قالب میں روح کا قائم مقام ہوتا ہے اور بعض امور میں روح ہی کا کام دیتا ہے، جز و آبی حقیقت جامعہ قلبیہ سے مناسبت رکھتا ہے ، اسی واسطے اس کا فیض تمام اشیاء کو پہنچتا ہے، وَجَعَلْنَا ‌مِنَ ‌الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ &nbsp;ہم نے پانی سے تمام چیزوں کو زندہ کیا ہے ، اس کی بازگشت بھی یہی قلبی گوشت کا لوتھڑا ہے ، جزو خا کی جو اس قالب کا جزو اعظم ہے اپنی ذات صفات کی آلودگی کمینگی اور خست سے پاک ہوکر اس قالب میں غالب و حاکم بن جا تا ہے ، قالب میں ہر طرح کا حکم اس کو حاصل ہوتا ہے اور اس کا رنگ اختیار کرتا ہے، یہ بات اسے خاک کی جامعیت تامہ کے سبب حاصل ہوتی ہے ، تمام اجزاۓ قالب در حقیقت اس کے اجزاء ہیں ، یہی وجہ ہے کہ کرہ زمین تمام عناصر افلاک کا مرکز ہے اور کرہ زمین کا مرکز تمام جہان کا مرکز ہے، اس وقت قالب کا معاملہ بھی انجام تک پہنچ جاتا ہے اور عروج ونزول کا انتہائی درجہ حاصل ہو جا تا ہے اور اعلی درجہ کی تکمیل نصیب ہو جاتی ہے، یہ ہے وہ نہایت جو ہدایت کی طرف رجوع رکھتی ہے، واضح رہے کہ روح مع اپنے توابع و مراتب کے گوبطریق عروج اپنی جاۓ قرار پر پہنچ &nbsp;چکی ہولیکن چونکہ ابھی اسے قالب کی تربیت کرنا ہوتی ہے اس واسطے اس جہان کی طرف اس کیلئے متوجہ ہونا ضروری تھا سو جب قالب کا معاملہ انجام تک پہنچ جا تا ہے تو روح معہ سرخفی ،اخفی ، قلب نفس اور عقل جناب باری کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اس قالب سے بالکل منہ پھیر لیتی ہے ، اس وقت قالب بھی ہمہ تن مقام عبود یت کی طرف متوجہ ہو جا تا ہے ، پس روح مع اپنے مراتب کے شہود و حضور کے مقام میں جگہ پکڑتی ہے اور غیر حق کی دید و دانش سے بالکل منہ پھیر لیتی ہے اور قالب سر بسر مقام اطاعت و بندگی میں راسخ ہو جا تا ہے ، اس مقام کو’’ فرق بعد الجمع‘‘ وصال کے بعدجدائی کہتے ہیں، اللہ تعالی اس کی لذت کی توفیق عنایت کرتا ہے، مجھے اس مقام میں خاص قدم حاصل ہے اور اس خاص قدم سے مراد روح کا مع اپنے مراتب کے عالم خلق کی طرف لوٹنا ہے تا کہ حق سبحانہ و تعالی کی طرف بلاۓ ، اس وقت روح بمنزلہ قالب ہوتی ہے اور اس کی تابع ہوتی ہے ، یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ اگر قالب حاضر ہے تو روح بھی حاضر ہے ، اگر قالب غافل ہے تو روح بھی غافل ہے مگر نماز کے وقت خواہ قالب غافل ہی ہوروح مع اپنے مراتب کے بارگاہ قدس کی طرف متوجہ ہوتی ہے، اس واسطے نماز مومن کی معراج ہے، واضح رہے کہ یہ ر جوع واصل جو بالتمام واقع ہوتا ہے دعوت کا سب سے کامل مقام ہے ، یہ غفلت جمع کثیر کے حضور کا سبب ہے، غافلوں کو اس غفلت کی خبر نہیں اور حاضروں کو اس رجعت کا علم نہیں ، یہ مقام بظاہر برالیکن باطن اچھا ہے، ہر ایک کوتاہ اندیش اسے نہیں سمجھ سکتا ،اگر میں اس غفلت کے کمالات بیان کروں تو کوئی شخص بھی حضور کی آرزو نہ کرے ، یہ غفلت ہے جس نے خواص بشر کو خواص ملک پر فضیلت دی ، یہ غفلت ہے جس کے سبب جناب سرور کائنات کی رحمت عالمیان ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو ولایت سے نبوت تک پہنچاتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو نبوت سے رسالت تک لے جاتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو اولیاۓ عشرت کو اولیاۓ عزلت پر زیادتی بخشتی ہے، یہ وہ غفلت ہے جو جناب سرور کائنات ﷺ کوصدیق اکبر &nbsp;رضی اللہ عنہ &nbsp;پر سبقت دیتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جو ہوش کو مستی پرترجیح دیتی ہے، یہ وہ غفلت ہے جو نبوت کو ولایت سے افضل بناتی ہے ، یہ وہ غفلت ہے جس کے سبب قطب ارشاد قلب ابدال سے افضل سمجھا جا تا ہے ، یہ وہ غفلت ہے ہے جس کی آرزو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے، چنانچہ فرما تے ہیں یا<strong> ليتني كنت ‌سهو ‌محمد صلى الله تعالى عليه وسلم</strong> کاش محمد مصطفی ﷺ جیسا سہو مجھے نصیب ہوتا ، یہ وہ غفلت ہے کہ حضور اسکا ایک ادنی خادم ہے ، یہ وہ غفلت ہے کہ وصول اس کے حصول کا پیش خیمہ ہے، یہ وہ غفلت ہے کہ بظاہر تنزل ہے لیکن حقیقت میں عروج ہے، یہ وہ غفلت ہے جس سے خواص پر عوام کا شبہ پڑتا ہے اور وہ ان کے کمالات کے قبوں میں پھرتی &nbsp;ہے&#8230;&#8230;&#8230;.. اگر بگویم شرح این بیحد شود&#8230; یہ مشتے نمونه از خروارے اور سمندر سے قطرہ کیمطابق لکھا گیا ہے، <strong>والسـلام عـلـى مـن اتبـع الهـدى والتـزم متـابـعـة الـمـصـطـفـى عليـه ،وعلى الله من الصلوات و التسليمات اتمها وأكملها</strong>.</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-14-حضور-پیغمبر-اعظمﷺ-کا-امتیاز-خاص"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:14۔حضور پیغمبر اعظمﷺ کا امتیاز خاص:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">حضرت ختم المرسلین ﷺ تمام انبیاء کرام&nbsp; میں تجلی ذاتی سے ممتاز ہیں اور اس دولت سے جو تمام کمالات سے بڑھ کر ہے مخصوص ہیں، آنحضرت ﷺ کے کامل تابعین کو بھی اس خاص مقام سے مفاد حاصل ہوتا ہے لیکن یا درکھنا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ امت محمدی کے کامل باقی تمام انبیاء سے افضل ہیں ، یہ اہل سنت و جماعت کے اعتقاد کے سراسر خلاف ہے، یہ فضیلت جزئی نہیں کہ اس سے شبہ رفع ہو سکے بلکہ کلی ہے کیونکہ مردان خدا کو بسبب قرب الہی فضیات حاصل ہوتی ہے اور جوفضیلت بھی ہے اس فضلیت سے کم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کہنے سے کہ اس امت کے کامل آدمیوں کو اس فضیلت سے نصیبہ حاصل ہے یہ لازم نہیں آتا کہ و واس مقام کے واصل ہیں کیونکہ نصیبہ حاصل ہونے اور واصل ہونے میں بڑافرق ہے، فضیلت واصل ہونے پر حاصل ہوتی ہے، اس امت کے کاملوں کا انتہائی عروج اقدام انبیاء ﷺ کے نیچے تک ہے ، چنانچہ امیر المومنین صدیق اکبر ﷺ جو انبیاء کے بعد تمام بنی نوع انسان سے افضل ہیں کا انتہائی عروج قدم نبی کے تلے تک ہے ، جو تمام انبیاء سے ادنی ہے ، آمد بر سر مطلب، اس امت کے کامل تابعین کو مقام تحت میں پیغمبروں کے مخصوصہ مقام فوق الفوق کے کمالات سے نصیبہ حاصل ہوتا ہے ، خادم خواہ کہیں ہوا سے مخدوم کا پس خوردہ پہنچ &nbsp;رہتا ہے ، دور کا خادم مخدوم کے طفیل سے وہ چیز حاصل کر سکتا ہے جو خدمت کی دولت کے بغیر نز دیکوں کے بھی ہاتھ نہیں آتی</p>



<p class="wp-block-paragraph">درقافله که اوست دانم نرسم این بس که رسد ز دور بانگ جرسم</p>



<p class="wp-block-paragraph">اس قافلہ تک میں جانتا ہوں کہ نہیں پہنچ سکتا یہی کافی ہے کہ گھنٹیوں کی آواز آتی رہے</p>



<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ کبھی مریدوں کو اپنے پیروں کے حق میں و ہم پیدا ہوتا ہے ، چنانچہ جب وہ پیروں کے مقامات حاصل کر لیتے ہیں تو خیال کرنے لگتے ہیں کہ ہم اور ہمارے پیر برابر ہیں لیکن معاملہ کی اصل حقیقت وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے، برابری اس واسطے ہوئی جب ان مقامات واصل ہو &nbsp;جائیں نہ کہ حصول &nbsp;سے برابر ہو جائیں گے کیونکہ حصول &nbsp;تو خود طفیلی ہے اس سے یہ بھی خیال کرنا چاہیئے کہ مرید اپنے پیر کے مساوی نہیں ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا بلکہ مساوی ہونا جائز ہے اور ایسا ہوتا ہے لیکن کسی خاص مقام کے حصول اور اس کے وصول میں بڑا بار یک فرق ہے ہر مرید کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی ، اس فرق کو معلوم کرنے کیلئے کشف صیح اور الہام صریح درکار ہے،<strong>واللہ سبحانه الملهم بالصواب وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> ۔</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-15راہ-سلوک-میں-پیش-آنے-والے-حالات"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 15راہ سلوک میں پیش آنے والے حالات:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">ایک درویش نے پوچھا، اس کا کیا سبب ہے کہ سالک طریقت پرایسی حالت بھی آتی ہے کہ عرصہ نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے ہٹتا ہے ، بعد ازاں پوشیدہ ہو جاتا ہے ، مدت بعد پھر وہی حالت ظاہر ہوتی ہے، پھر عرصے بعد پوشیدہ ہو جا تا ہے اور جب تک اللہ تعالی کو منظور ہوتا ہے ایسا ہی ہوتا رہتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی میں سات لطیفے ہیں ، ہر ایک لطیفے کی مدت سلطنت جدا جدا ہے ، پس اگر کوئی قوی حالت ان میں سے نہایت لطیف پر نزول فرماۓ تو سالک کی کلیت اس لطیفے کے رنگ میں رنگی جاتی ہے اور وہ حال تمام لطائف میں سرایت کر جا تا ہے اور جتنی اس لطیفے کی مدت سلطنت مقرر ہوتی ہے اتنا عرصہ وہ حالت قائم رہتی ہے، جب وہ عرصہ گز رجا تا ہے تو وہ حالت بھی زائل ہو جاتی ہے، مدت بعد اگر پھر وہی حالت طاری ہو جاۓ تو دوحال سے خالی نہیں ، یا پھر اسی پہلے لطیفے پر لوٹ آتا ہے، اس وقت راہ ترقی سالک کیلئے مسدود ہو جاتی ہے ، یا دوسرے لطیفے پر وارد ہو تو اس صورت میں ترقی کی راہ کھل جاتی ہے اور دوسرے لطیفے میں بھی پہلے لطیفے کی سی &nbsp;حالت طاری ہوتی ہے، پھر اس حالت کے زائل ہونے کے بعد اگر وہی حالت طاری ہوتو مذکورہ بالا دو حالتوں سے خالی نہیں ، اسی طرح سارے لطائف میں یہ حالت ہوتی ہے، پس اگر وہ&nbsp; وارد تمام لطائف میں بطریق اصالت سرایت کرے تو ایک مقام سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے اور زوال سے محفوظ رہتا ہے، اللہ تعالی حقیقت حال کو اچھی طرح جانتا ہے ، والسلام على سيد البشر واله الاطهر</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-16آیت-قرآنی-کی-تعبیر-لطیف"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها : 16آیت قرآنی کی تعبیر لطیف:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>قـال الـلـه تـعـالى: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ </strong>اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تمہارارزق مقرر کیا اس میں سے پاکیزہ کھاؤ اور اللہ تعالی کا شکر بجالاؤ، اگر تم اس کی پرستش کرتے ہو ممکن ہے کہ یہ کھانے کے حکم کی قید من طيبات مارزقنا کم یعنی لذيذ چیز یں کھاؤ جو ہم نے تمہارے لئے بطور رزق مقرر کی ہیں ، بشرطیکہ تم بذر یعہ عبادت اسے مخصوص اور درست کرلو ، اگر تم اسے درست نہ کرو بلکہ لہوولعب میں مشغول ہوتو ملذذ اشیاء کا استعمال نہ کرو کیونکہ تم مرض باطنی میں مبتلا ہو اور ملذذ اشیاء تمہارے لئے زہر قاتل ہیں ، جب تم سے باطنی مرض زائل ہو جاۓ تو پھر تمہارے لئے ملذذ اشیاء کا استعمال درست ہوسکتا ہے ، صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ طلب شکر کوملحوظ رکھتے ہوۓ طیبات سے مرادلذ یذاشیاء ہیں ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-17-مشائخ-کے-ایک-قول-کی-تشریح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 17۔مشائخ کے ایک قول کی تشریح:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">بعض مشائخ رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا ہے مـن عـرف الله لا يضره ذنب جوشخص اللہ تعالی کو پہچان لیتا ہے اسے گناہ نقصان نہیں پہنچا سکتا ، یعنی وہ گناہ جو خدا شناسی حاصل ہونے سے پہلے سرزدہوۓ تھے کیونکہ اسلام تمام ان باتوں کو قطع کر دیتا ہے جو اس سے پہلے ظہور میں آئی ہوں ، اسلام کی حقیقت سے مراد صوفیا کے طریقے کے موافق فنا و بقا حاصل ہونے کے بعد اللہ تعالی کی شناخت کا حاصل ہونا ہے، سو ایسی خدا شناسی ان تمام گناہوں کو جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہیں ، زائل کر دیتی ہے ، یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہوں جو اس معرفت کے بعد سرزد ہوۓ ہوں اور ان سے مراد گناہ صغیرہ ہوں کیونکہ اولیاءاللہ کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں صغیرہ گناہ اس واسطے نقصان نہیں دے سکتے کہ ان پر اصرارنہیں کر تا ہے ۔ اور جس وقت کوئی صغیر ہ ظہور میں آتا ہے اسی &nbsp;وقت تو بہ واستغفار سے اس کا تدارک کیا جا تا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کے معنی ہوں کہ خداشناسی کے بعد اس سے کوئی گناہ سرزدہی نہیں ہوتا کیونکہ جب گناہ صادر ہی نہ ہوگا تو نقصان کیونکر پہنچے گا ، یوں سمجھو کہ لازم کا ذکر کر کے ملزوم مرادلیا ہے ملحدوں نے اس عبارت کے جو معنی نکالے ہیں کہ عارف کیلئے گناہوں کا ارتکاب وسیع ہو جا تا ہے کیونکہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے یہ محض باطل اور صریح بے دینی ہے، یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں ،سنو شیطانی گروہ ہمیشہ نقصان اٹھاتے ہیں ،اے پروردگار ہدایت عطا کر نے کے بعد ہمارے دلوں کو معرفت عنایت فرما اور اپنی طرف سے رحمت عطا کر واقعی تو بہت بخشنے والا ہے صلى الله تعالى على سيدنا محمد واله وسلم و بارك وسيع مغفرت والے کریم اللہ تعالی سے امید کرتے ہیں کہ حقیقت اسلام سے واقف عارف کو خداشناسی حاصل ہونے سے پہلے کے گناہ نقصان و تکلیف نہیں پہنچاسکیں گے خواہ گناہ مظالم وحقوق العباد کے متعلق ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالی مالک علی الاطلاق ہے اور بندوں کے دل اس کی دوانگلیوں کے مابین ہیں جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹنا پلٹتا ہے ، ظاہر ہے کہ مطلق اسلام سے مظالم وحقوق العباد کے سوا باقی گناہ منقطع ہو جاتے ہیں کسی چیز کی حقیقت اور اس کی کمالیت کیلئے زیادتی ہوتی ہے نہ کہ اس کے مطلق کیلئے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-18-وجود-باری-کے-متعلق-معرفت-خاص"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 18۔وجود باری کے متعلق معرفت خاص:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">حق سبحانہ و تعالی اپنی ذات سے موجود ہے نہ کہ وجود سے، اس کے برخلاف تمام موجودات وجود سے موجود ہیں ، پس اللہ تعالی کے موجود ہونے کیلئے وجود کا ہونا لازم نہیں ، اگر حق سبحانہ و تعالی اپنی موجودیت کیلئے وجود کا محتاج ہوتا تو ہمیں وجود کی عینیت کا قائل ہونا پڑتا اور اس کے ثبوت کیلئے بڑی لمبی چوڑی دلیلیں دینی پڑتیں اور ایسا کرنے میں ہم جمہور اہل سنت و جماعت کی مخالفت کرتے ، کیونکہ یہ بزرگ عینیت وجود کے قائل نہیں بلکہ وجودکوزائد خیال کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ وجود کی زیادتی سے واجب الوجود کو غیر احتیاج لازم آتی ہے، اگر زائد وجود سے واجب تعالی کو موجود کہیں اور خواہ بذات خود موجودکہیں اور اس وجود کوعرض عام فرض کریں تو بھی اہل حق جمہورمتکلمین کی بات درست ہوتی ہے اور احتیاج کا اعتراض جو مخالف لوگ کرتے ہیں بالکل دور ہو جا تا ہے ، واجب تعالی کو اپنی ذات سے موجودرکھنے اور اس میں وجود کو بالکل دخل نہ دینے میں اور اس وجودکوعین ذات ثابت کر نے میں بڑا واضح فرق ہے، یہ معرفت وہ ہے جس سے اللہ تعالی نے مجھے مخصوص فرمایا ، اس بات کیلئے اللہ تعالی کا شکر ہے،والصلوة والسلام علی رسولہ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-19-وجود-باری-تعالی-کی-مزید-توضیح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:19۔وجود باری تعالیٰ کی مزید توضیح:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">حضرت واجب الوجود کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ وہ اپنی ذات سے موجود ہے اور اس موجودیت میں وجود کا مطلق محتاج نہیں خواہ وجود کو عین ذات فرض کریں، خواہ ذات پر زائد، برابر ہے ، دونوں طرح ہی عینیت اور زیادتی خطرناک لازم آتی ہے، چونکہ اللہ تعالی کی عادت یونہی جاری ہے کہ جو چیز مرتبہ وجوب میں ہے اس کا نمونہ ہر مرتبہ امکان میں ظاہر کرتا ہے، خواہ وہ کسی کو معلوم ہو یا نہ ہو، اسی طرح اس خاصہ کانمونہ عالم امکان میں وجود کو بنایا ہے کیونکہ وجود گوموجود نہیں لیکن تا ہم معقولات ثانویہ سے ضرور ہے لیکن اگر ہم اس کے وجود کو فرض کر بھی لیں تو بھی وہ اپنی ذات سے موجود ہوگا نہ کہ کسی اور وجود سے ، جیسا کہ عام طور پر مخلوق ہے، یعنی عام مخلوق موجودیت کیلئے وجود کی محتاج ہے کیونکہ مخلوق کی موجود بیت کیلئے اس کی ذات ہی کافی نہیں بلکہ وجود کی ضرورت پڑتی ہے پس جبکہ ایساوجود جسے چیزوں کی موجودیت میں دخیل بنایا ہے اگر وہ موجود ہو گا تو اپنی ذات سے موجود ہوگا اور کسی اور وجود کا محتاج نہ ہوگا تو کیا تعجب ہے کہ موجودات کا خالق مستقل طور پر اپنی ذات سے موجود ہو اور وجود کا بالکل محتاج نہ ہو، دور افتادوں کا اس بات کو بعید از عقل خیال کرنا خارج از بحث ہے،و اللہ تعالی ملہم بالصواب ہے۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">ایک اعتراض:۔ اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابوالحسن اشعری کے پیرو وحکماء اور بعض صوفی ذات الہی کیلئے عینیت وجود کے قائل نہیں ان کی مراد بھی وہی ہے جو آپ نے بیان فرمائی ہے کہ واجب الوجود اپنی ذات سے موجود ہے نہ کہ وجود سے تو اس کا جواب میں دوں گا کہ اس لحاظ سے تو وہ اہلسنت سے متنفق الرائے ہیں کیونکہ اگر مخالف ہوتے تو اہل حق یہ کہتے کہ حق تعالی وجود سے موجود ہے نہ کہ ذات سے ، اس پہلو سے تو زیادتی وجود کا اثبات زائد ہے ، اس زیادتی وجود کا اثبات اس پر دلالت کرتا ہے کہ دونوں فریق نفس وجود کے بارے میں مختلف الراۓ ہیں مگر ان کا اختلاف راۓ ہے تو حق تعالی کے وصف کے بارے میں ہے جو عینیت وزیادتی ہے ، یعنی دونوں فریق اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالی وجود سے موجود ہے ، صرف اختلاف ہے تو عینیت وزیادتی کا ہے ،اگریہ نہیں کہ جب واجب الوجود اپنی ذات سے موجود ہے تو پھر واجب تعالی کو موجود کہنے کے کیا معنی ،موجوداسی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ وجود قائم ہواور یہاں وجود ہر گز نہیں ، جواب یہ ہے کہ واقعی وہ وجود جس سے ذات حق موجود ہو واجب تعالی میں مفقود ہے لیکن جو وجود بطور عرض عام ذات حق کیلئے کہا جا تا ہے اور بطریق اشتقاق گمان کیا جا تا ہے اگر اس کے قیام کے لحاظ سے واجب الوجود کو موجود کہیں تو اس میں گنجائش ہے اور اس سے کسی قسم کا استحالہ(ناممکن) لازم نہیں آتا، والسلام .</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-20-خداتخیل-وتصور-سے-ماوراء-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها:20۔خداتخیل وتصور سے ماوراء ہے:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;ہم ایسے خدا کی ہرگز پرستش نہیں کرتے جو شہود کے احاطہ میں آجاۓ ، دکھائی دے ، معلوم ہوجاۓ، اور وہم و خیال میں سما سکے کیونکہ ظاہر ہو نے والا ، دکھائی دینے والا ، معلوم ہو جانے والا ، وہم و قیاس اور خیال میں آنے والا دیکھنے والے اور جاننے والے اور وہم و خیال کرنے والے کی طرح مخلوق ومحدث ہوتا ہے۔آں &nbsp;لقمہ کہ در دہاں گنجد طلبم میں وہ لقمہ طلب کر رہا ہوں جو منہ میں نہ سما سکے کے سیر وسلوک کی اصلی غرض پر دوں کا چاک کرتا ہے، خواہ وہ حجاب وجوبی ہوں یا امکانی حتی کہ بلا پردہ وصل میسر ہو جاۓ نہ یہ کہ مطلوب کوقید میں لا کرشکارکریں۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">عنقا شکار کس نشود دام باز چین کایں جاہمیشہ باد بدست است دام را</p>



<p class="wp-block-paragraph">اٹھا لے جا ل عنقا بھلا&nbsp; کب کسی کے ہاتھ آتا ہے یہاں ہر جال لگانے والا خالی ہاتھ جاتا ہے۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">باقی رہا کہ آخرت میں دیدارحق ہوگا سواس پر ہمارا ایمان ہے لیکن ہم اس کی کیفیت اس واسطے بیان نہیں کر تے کہ عوام الناس اسے نہیں سمجھ سکتے ،خواص اسے سمجھ سکتے ہیں کیونکہ انہیں اس مقام سے دنیا میں بھی کچھ نصیب ہوتا ہے گواسے دیدار نہ ہی کہا جاۓ ، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-21-اس-مطلب-کی-مزید-توضیح"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 21۔اس مطلب کی مزید توضیح :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جو چیز دید و دانش میں آسکتی ہے وہ مقید ہے اور اطلاق کے معیار سے گری ہوئی ہے لیکن مطلوب وہ ہے جو تمام قیود سے منزہ اور مبرا ہو، بس اسے دید و دانش کے علاوہ ڈھونڈ نا چاہیئے ، یہ معاملہ نظر عقل کے طور سے پرے ہے کیونکہ عقل دید و دانش کے پرے ڈھونڈ نا محال جانتی ہے</p>



<p class="wp-block-paragraph">راز درون پرده زرندان مست پرس کیں حال نیست صوفی عالی مقام را</p>



<p class="wp-block-paragraph">اندر کےپردہ&nbsp; کاراز تو مستوںسے پوچھو&nbsp; یہ حال عالی مقام صوفی کوکب میسر ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-22-صرافت-مطلق-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 22۔صرافت مطلق کا بیان :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">مطلق اپنے اطلاق کے معیار پر ہے کسی قسم کی قید کا اس میں دخل نہیں لیکن چونکہ مقید کے آئینے میں ظاہر ہوتا ہے اس واسطے اس کا عکس اس آئینے کے موافق رنگا جا تا ہے اور مقید و محدود دکھائی دیتا ہے ، اس واسطے وہ دید و دانش میں آتا ہے اگر ہم دید و دانش پر اکتفا کریں تو گویا ہم اس مطلوب کے ایک عکس پر اکتفا کرتے ہیں ، بلند اشخاص اخروٹ اور منقے سے سیر نہیں ہوتے ،اللہ تعالی عالی ہمت آدمیوں سے پیار کرتا ہے، اے پروردگار! ہمیں بھی جناب سید البشر ﷺ کے صدقے عالی ہمت بنا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-23-انسان-افضل-ہے-یا-فرشتہ"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:23۔انسان افضل ہے یا فرشتہ؟:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;شروع حال میں ایک روز میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک مکان میں طواف کر رہا ہوں اور کچھ اور لوگ بھی میرے ساتھ اس طواف میں شریک ہیں لیکن وہ اس قدرسست رو ہیں کہ جتنے عرصہ میں ، میں ایک دفعہ طواف کرتا ہوں وہ صرف دو تین قدم اٹھاتے ہیں ،اس اثنا میں معلوم ہوا کہ یہ مکان فوق العرش ہے اور باقی کے طواف کرنے والے ملائکہ کرام ہیں ، صلى الله على نبينا و عليهم اجمعين ، الله تعالى جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کرتا ہے، واقعی اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-24-عوام-کے-ساتھ-اولیا-کی-ہم-رنگی-کی-حقیقت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 24۔عوام کے ساتھ اولیا کی ہم رنگی کی حقیقت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">اولیاء اللہ کے حجاب( پردے ) ان کی بشری صفات ہیں جن چیزوں کی باقی تمام لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے ، ان بزرگوں کو بھی ہوتی ہے ، ان کا ولی ہونا انہیں احتیاج سے بری نہیں کر سکتا ، ان کی ناراضگی بھی عام آدمیوں کی ناراضگی کی طرح ہوتی ہے اور تو اور خود جناب سید الانبیاء ﷺ فرماتے ہیں أَغْضَبُ ‌كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، میں بھی عام انسانوں کی طرح ناراض ہوتا ہوں ، جب آنحضرت ﷺ کی یہ کیفیت ہے تو اولیاء اللہ کیونکر اس سے بری ہو سکتے ہیں ، کھانے پینے اور اہل وعیال سے زندگی بسر کر نے اور ان سے انس کرنے میں اولیاء اللہ اور باقی آدمی شریک ہیں ، مختلف تعلقات جو لازمہ بشریت میں خواص و عوام سے زائل نہیں ہو سکتے ، اللہ تعالی جل شانہ نے انبیا کرام ﷺ کے حق میں فرمایا ہے وَمَا جَعَلْنَاهُمْ ‌جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ ہم نے ان کے جسم بھی کھانا کھانے والے بناۓ ہیں ، ظاہر میں کفار کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے کہ کھانا کھا تا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، پس جس کی نگاہ اولیاء اللہ کے صرف ظاہر پر پڑتی ہے وہ نعمت الہی سے محروم رہتا ہے اور دنیا و آخرت کا نقصان اٹھا تا ہے ، اس ظاہر بینی نے ابوجہل اور ابو لہب کو دولت اسلام سے محروم رکھا اور ابدی نقصان میں ڈالا ، با سعادت وہی شخص ہے جو اہل رتبہ کے ظاہر کا چنداں خیال نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر کی تیزی ان بزرگوں کے باطنی اوصاف تک پہنچتی ہے اور صرف ان کے باطن کو ہی دیکھتا ہے ، اولیا اللہ در یاۓ نیل کی طرح ہیں کہ محجوبوں کیلئے بلا اور محبوبوں کیلئے پانی ہیں ، یہ عجیب معاملہ ہے کہ جس قد رصفات بشریت کا ظہور اہل اللہ میں ہوتا ہے باقی آدمیوں میں نہیں ہوتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہموار اور مصفا مقام پر میل کچیل اور تاریکی خواہ تھوڑی بھی ہو تو بھی زیادہ ظاہر ہوتی ہے اور نا ہموار اور غیر مصفا مقام پر میل کچیل اور تاریکی خواہ زیادہ &nbsp;ہی ہو کم دکھائی دیتی ہے ، صفات بشریت کی تاریکی عوام الناس کے قلب و قالب اور روح ونفس میں سرایت کرتی ہے لیکن خواص میں صرف قالب اور نفس تک محدود رہتی ہے اور خواص الخاص میں نفس بھی اس تاریکی سے بری ہوتا ہے صرف قالب تک محد و درہتی ہے، نیز یہ تار یکی عوام الناس کیلئے باعث نقصان و خسارہ ہے خواص میں موجب کمال و تر و تازگی ہے ،خواص ہی کی تاریکی عوام الناس کی تاریکیوں کو زائل کرتی ہے ، ان کے دلوں کو صاف اور ان کے نفوس کو پاک کرتی ہے اگر یہ تاریکی نہ ہوتی تو خواص کو عوام سے کوئی مناسبت نہ ہوتی اور فائدہ اٹھانے اور پہنچانے کی راہ بند ہو جاتی ،یہ تار یکی خواص میں اتنا عرصہ نہیں رہتی کہ انہیں میلا کر دے بلکہ اس کے بعد جو ندامت واستغفار ہاتھ آتی ہے وہ کئی کدورتوں اور تاریکیوں کو زائل کرتی ہے اور ترقی دیتی ہے ، یہی تاریکی ہے جو فرشتوں میں نہ ہونے کے باعث وہ ترقی نہیں کر سکتے ، اس تاریکی پر لفظ تاریکی کا اطلاق ایسا ہے جو بظاہر باعث مذمت ہے لیکن حقیقت موجب مدح ہے ،عوام الناس جو ڈھور ڈنگروں کی طرح ہیں ، وہ اہل اللہ کی صفات بشری کو اپنی صفات بشریت کی طرح خیال کرتے ہیں ، اس واسطے محروم و خوار رہتے ہیں ، یوں سمجھو کہ وہ غائب کو باطل موجود پر قیاس کرتے ہیں لیکن یاد رکھو ہر مقام کی خصوصیتیں علیحدہ ہوتی ہیں اور ہرمحل کے لوازمات جداء والسـلام عـلـى مـن اتبع الهـدى والتـزم متابعة المصطفى عليه، وعلى اله الصلوات والتسليمات</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-25-علوم-امکانی-اور-معارف-و-جوبی"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 25۔علوم امکانی اور معارف و جوبی:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جب تک انسان علم و دانش میں گرفتار ہے اور ماسوا اللہ کے نقوش سے منقش ہے تب تک خوار و بے اعتبار ہے، ماسوا اللہ کو بھلا دینا راہ سلوک کی شرط ہے اور ماسوا کافنا کر دینا قدم بڑھانا ہے، جب تک باطنی آئینہ امکان کے زنگار سے صاف نہ ہو جاۓ حضرت وجوب کا ظہور محال ہے، کیونکہ علوم امکانی اور معارف و جوبی کا جمع ہونا گو یا جمع اضداد ہے ، یہاں پر ایک زبردست سوال پیدا ہوتا ہے ، وہ یہ کہ جب عارف کو بقا سے مشرف کر کے ناقصوں کی تعلیم کیلئے واپس لوٹاتے ہیں تو جو علوم زائل ہو گئے تھے وہ پھر عود کر آتے ہیں تو اس صورت میں علوم امکانی اور معارف و جوبی باہم جمع ہو جاتے ہیں ، حالانکہ یہ جمع ضدین ہیں ، اس کا جواب یہ ہے کہ عارف باقی باللہ اس وقت بز رخ ہوتا ہے، گویا وجوب اور امکان کے مابین وسیلہ ہے اور دونوں مقام کے رنگ سے رنگا ہوا ہوتا ہے گو ایسی صورت میں اگر دونوں مقاموں کے علوم و معارف جمع ہوجائیں تو کوئی مشکل نہیں کیونکہ ضدین کے اجتماع کا مقام ایک نہیں رہتا بلکہ کئی مقام ہو جاتے ہیں ،سودونوں جمع نہیں کہلا سکتے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-26-علم-اشیاء-کار-جوع"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:26۔علم اشیاء کار جوع :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">چیزوں کے علوم جو مرتبہ فنا میں زائل ہو گئے تھے، بقا کے بعد اگر پھرلوٹ آئیں تو اس سے عارف کے کمال میں نقص لازم نہیں آتا بلکہ ان کا لوٹ آنا کمال پر دلالت کرتا ہے بلکہ اس کا کمال اس لوٹ آنے سے وابستہ ہے کیونکہ عارف بقا کے بعد اخلاق الہی سے متخلق ہو جاتا ہے، اس واجب تعالی میں اشیاء کا علم عین کمال ہے اور اس کی ضد موجب نقصان ہے سو یہی حال عارف کا ہے جو تخلق با خلاق اللہ ہوتا ہے ، اس میں بھید یہ ہے کہ ممکن کا علم معلوم کی صورت میں موجود ہونے سے حاصل ہوتا ہے، پس ضروری ہے کہ معلوم کی صورت کا حصول عالم پر اثر کرتا ہے، جس قدر علم زیادہ ہوگا اسی قدر عالم میں تاثر بھی زیادہ ہوگا اور اس میں تغیر وتلون بھی زیادہ وسیع و بسیط ہوگا ، یہ واقعی نقص ہے ، اس واسطے طالب کیلئے زیادہ ضروری ہے کہ ان تمام علوم کی نفی کرے اور تمام چیزوں کو فراموش کر دے لیکن واجب تعالی کے علم کی یہ کیفیت نہیں ، کیونکہ ذات الہی اس بات سے منزہ ہے کہ اس میں اشیاۓ معلومہ کی صورتیں حلول کریں ، ان کے ساتھ مجرد تعلق علم ہی سے اللہ تعالی پر وہ (اشیاء) منکشف ہیں ، پس وہ ذات پاک ہے جو حدوث مخلوق سے بلحاظ ذات وصفات اور افعال بالکل نہیں بدلتی جو عارف متخلق باخلاق اللہ ہو جا تا ہے ، اس کا علم بھی اسی طرح کا مظہر ہوتا ہے ، اس میں بھی اشیا کے معلومات کی صورتیں حلول نہیں کرسکتیں ، نہ اس کے حق میں تاثر ہوتا ہے نہ تغیر و تبدل اور نہ ہی یہ بات اس کیلئے نقصان کا باعث ہوتی ہے بلکہ موجب کمال ہوتی ہے، یہ اسرارالہی میں سے ایک پوشیدہ راز ہے ، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اپنے حبیب اکرم ﷺ کی حرمت سے اس سے مخصوص کرتا ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-27-مقام-رضا-کا-حصول-اور-اطمینان-نفس"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:27۔مقام رضا کا حصول اور اطمینان نفس:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جب میں اپنے پیر کے وسیلے سے راہ حق کی طرف متوجہ ہوا تو بار ہویں سال مجھے مقام رضا سے مشرف فرمایا گیا، پہلے نفس کو اطمینان عنایت فرمایا ، بعد ازاں بتدریج فضل الہی سے یہ سعادت و مقام رضا نصیب کی اور اس دولت سے اس وقت تک مشرف نہ ہوا جب تک رضاۓ الہی حاصل نہ ہوئی ، پس نفس مطمئنہ اپنے مولی سے راضی ہوا اور اس کا مولی اس سے راضی ہوا ، اس بات کے لیے اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے،مبارک مبارک ،والصلوة والسلام على رسوله محمد و آله ، اگر یہ کہیں کہ جب نفس اپنے مولی سے راضی ہو گیا تو پھر دعا اور دفع بلا کی طلب کا کیا مطلب ، اس کا جواب یہ ہے کہ مولی کے راضی ہونے سے اس کی مخلوق کی رضا لازم نہیں آتی بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مخلوق سے رضا بصورت کفر و معاصی بری ہوتی ہے ، پس خلق قبیح سے راضی ہونالازم اور نفس قبیح سے کراہت کرنا واجب ہے ،مولی نفس قبیح &nbsp;سے راضی نہیں ہوسکتا بلکہ بندہ اس صورت میں شدت وغلظت کے لیے مامور ہے ، پس مخلوق سے کراہت کرنا اس کے خلق کی رضا کا منافی نہیں ہوسکتا ،اسی واسطے دفع بلا کی طلب ضروری ہے ، جن لوگوں نے رضا حاصل ہوجانے کے بعد وجود کراہت میں مفعول سے کراہت اور فعل سے راضی ہونے میں فرق نہیں کیا وہ شبہ میں رہے ہیں ،اسی شبہ کو دور کرنے کے لیے انہوں نے طرح طرح کے تکلفات سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ وجود کراہت حال رضا کا منافی ہے نہ مقام رضا کا سوحال اور مقام میں بڑا فرق ہے حق بات وہی ہے جو میں نے بذریعہ الہام الہی تحقیق کر دی ہے، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-28-امام-کے-پیچھے-قرأت-کا-کیا-حکم-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 28۔امام کے پیچھے قرأت کا کیا حکم ہے:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">مدت تک میری ی آ رز ور ہی کہ حنفی مذہب میں کوئی معقول وجہ ہوتا کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھی جاۓ کیوں کہ نماز میں قرآن شریف کا پڑھنا فرض ہے تو حقیقی قرأت سے اعراض کر کے حکمی قرأت قرار دینا قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا ، حالانکہ حدیث نبوی ﷺ میں بھی ہے، لا صلوة الا بفاتحة الكتب الحمد کے بغیر نماز نہیں ہوتی لیکن بپاس مذہب مجبورا ترک کرتا رہا اور اس ترک کور یاض و مجاہدہ خیال کرتا رہا، آخر کار اللہ تعالی نے مذہب کے پاس کی برکت سے کہ مذہب سے خروج الحاد ہے، اس بات کی حقیقت مجھ پر ظاہر کر دی کہ مذہب حنفی میں مقتدی کو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ کیوں نہیں پڑھنی چاہیئے نیز مجھے قرأت حقیقی سے قرأت حکمی زیادہ اہم معلوم ہوئی ،حقیقت یہ ہے کہ امام اور مقتدی دونوں مقام مناجات میں کھڑے ہوتے ہیں جیسا کہ &#8216; <strong>لان المصلى يناجي ربه</strong> نمازی اپنے پروردگار سے مناجات کرتا ہے سے ظاہر ہے، امام کو اس کام میں پیشوا بناتے ہیں ، پس جو کچھ لوگ کسی عظیم الشان بادشاہ کی خدمت میں کسی ضرورت کیلئے حاضر ہوں اور ایک کوا پنا پیشوا بنائیں تا کہ سب کی طرف سے وہ بادشاہ کی خدمت میں صورت حال عرض کرے، اس صورت میں اگر دوسرے پیشوا کے ساتھ ہی بولنے لگ جائیں تو سخت بے ادبی ہے اور بادشاہ کی ناراضگی کا باعث ہے ، پس ان لوگوں کی حکمی بات چیت پیشوا کی زبانی عرض کر نا حقیقی بات چیت سے بہتر ہے، بعینہ یہی حال ہے ، امام اور مقتدیوں کا کہ امام کی قرأت کے وقت مقتدیوں کا پڑھنا شور وفساد میں داخل اور دور از ادب ہے اور جدائی کا موجب ہے جو اجتماع کے منافی ہے، اکثر مسائل حنفی و شافعی جن میں اختلاف ہے اس قسم کے ہیں کہ ظاہر میں شافعی پہلوکوتر جیح ہوتی ہے لیکن باطن وحقیقت میں حنفی پہلوز بردست ہوتا ہے ، مجھ پر یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کلام حق میں جہاں جہاں فریقین کا اختلاف ہے اس میں حنفی حق بجانب ہیں بہت کم مسائل ایسے ہیں جن میں فریق ثانی کو ترجیح حاصل ہے، مجھے تو سط حال میں ایک رات جناب پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ تم علم کلام کے ایک مجتہد ہو ، اس وقت سے لے کر مسائل کلامیہ میں میری رائے خاص اور میر اعلم مخصوص ہے ، اکثر مسائل خلافیہ جن میں ماتر ید یہ اوراشاعرہ کا خلاف ہے شروع مسئلہ میں اشاعرہ حق بجانب معلوم ہوتے ہیں لیکن جب نورفراست سے دیکھا جاۓ تو واضح ہو جا تا ہے کہ ماترید &nbsp;یہ حق بجانب ہیں علم کلام کے متعلق تمام مسائل خلافیہ میں میری راۓ علماۓ ماتریدیہ کی رائے کے موافق ہے ، واقعی ان بزرگوں کی شان بہ سبب پیروی سنت نبوی ﷺ نہایت عظیم ہے ، ان کے مخالفوں کوفلسفی مسائل میں مشغول ہونے کے سبب وہ شان حاصل نہیں ، گو دونوں فریق&nbsp; اہل حق ہیں ، دیکھوان بزرگوں میں سے سب سے بڑے بزرگ اور سب سے بڑے پیشوا ابوحنیفہ ﷺ کی بابت کیا شافعی کیا مالک اور کیا احمد بن حنبل ، بھی اعلی رائے رکھتے ہیں ، چنانچہ امام شافعی فرماتے ہیں الـفـقـهـاء كـلـهـم عيال ابی حنيفة ، تمام فقہا ابوحنیفہ کے عیال میں منقول ہے کہ جب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;انکی قبر کی زیارت کرنے جاتے تو اپنے اجتہادکوترک کر دیتے اور ان کے مذہب پر عمل کرتے اور فرماتے مجھے شرم آتی ہے کہ ان کے حضور میں اپنے لئے ایساعمل کروں جوان کی راۓ کے خلاف ہو ، چنانچہ آپ نہ ہی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھا کرتے اور نہ ہی فجر کے وقت قنوت ، واقعی امام ابوحنیفہ ان کی شان کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;ہی اچھی طرح جانتے ہیں ، آخری زمانے میں جب حضرت عیسی علیہ السلام &nbsp;نزول فرمائیں گے تو مذہب حنفی کے مطابق عمل کر یں گے ، جیسا کہ خواجہ محمد پارسا فصول ستہ میں فرماتے ہیں اور یہی ان کی بزرگی کی کافی علامت ہے کہ ایک پیغمبر اولوالعزم ان کے مذہب پر عمل کرے گا، کسی اور کی سینکڑوں بزرگیاں بھی اس ایک بزرگی کے برابر نہیں ہوسکتیں ، ہمارے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;فرماتے تھے کہ میں بھی کچھ عرصہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھا کرتا تھا ، آخر ایک رات خواب میں ، میں نے امام اعظم &nbsp;رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ اپنی مدح میں ایک نہایت اعلی درجے کا قصیدہ پڑ ھار ہے ہیں جس کے مضمون سے ظاہر ہوا کہ بہت سے اولیا میرے مذہب کے پابند ہوۓ ہیں ،تب سے میں نے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کا پڑھنا ترک کر دیا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-29-تعلیم-طریقہ-کی-اجازت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 29۔تعلیم طریقہ کی اجازت:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی کامل کسی ناقص کو تعلیم طریقہ کی اجازت دے دیتا ہے اور جب اس کے مرید بہت ہو جاتے ہیں تو اس ناقص کے مریداس کا کام مکمل کر دیتے ہیں، چنانچہ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;نے مولانا یعقوب چرخی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کو درجہ کمال پر پہنچنے سے پیشتر تعلیم طریقہ کی اجازت عنایت فرمائی اور حکم دیا کہ یعقوب جو کچھ مجھ سے تجھے ملا ہے وہ لوگوں کو پہنچا دینا ،مولا نا یعقوب کا کام بعد ازاں خواجہ علاء الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;کی خدمت میں سرانجام ہوا، اس واسطے مولانا عبدالرحمن جامی نفحات الانس میں لکھتے ہیں کہ مولانا یعقوب پہلے خواجہ علاالدین عطار کے مرید تھے بعد میں خواجہ نقشبند کے مرید ہوئے ،اسی طرح جب کوئی کامل اپنے مرید کو جس نے ولایت کا ایک درجہ طے کر لیا تعلیم طریقہ کی اجازت دے تو وہ مریدا ایک لحاظ سے کامل ہے اور ایک لحاظ سے ناقص ، یہی حال اس مرید کا ہے جس نے ولایت کے دو یا تین درجے طے کئے ہوں ، وہ ناقص بھی ہے اور کامل بھی کیونکہ جب تک آخری درجہ طے نہ کر لے وہ کامل بھی ہوتا ہے اور ناقص بھی ، جب کامل اپنے مرید کوتعلیم طریقت کی اجازت دینے کا مختار ہے تو یہ ضروری نہیں کہ مرید انتہائی درجہ طے کر چکا ہو، واضح رہے کہ گو نقص اجازت کا منافی ہے لیکن جب کوئی کامل ومکمل کسی ناقص کو نائب بنا تا ہے اور اس کے ہاتھ کواپنا ہاتھ جانتا ہے تو نقص کا ضرر تجاوزنہیں کرسکتا، واللہ اعلم بالصواب۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-30-مراتب-ثلا-خداور-یادداشت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 30۔مراتب ثلاثہ اور یادداشت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;یادداشت سے مراد دائمی حضور ذات حق ہے اور یہ بات کبھی ارباب قلوب کو بھی دل کی جمعیت کی وجہ سے خیال میں آ جاتی ہے ، اس واسطے کہ جو کچھ سارے انسان میں ہے وہ اکیلے دل میں ہے ، گوان میں مجمل ومفصل کا فرق ہے، پس مرتبہ قلب میں بھی حضور ذات دائمی طور پر حاصل ہوسکتا ہے لیکن یہ بات یادداشت کے طور پر ہے نہ کہ یادداشت کی حقیقت ، ہوسکتا ہے کہ بزرگوں نے جسے بدایت میں نہایت فرمایا ہے ، اس سے مراد یہی یادداشت ہولیکن یادداشت کی حقیقت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ ہو سکے، اگر ان کی مراد ذات حق کے مرتبہ وجوب سے ہو کیونکہ ذات اس مرتبہ میں صفات وجو بیہ کی جامع ہے تو پھر تمام مراتب امکانی طے کرنے کے بعد اس مرتبہ کے شہود میں پہنچتے ہی یا داشت حاصل ہو جاتی ہے تجلیات صفاتی میں بھی یہ بات حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ اشارے میں صفات کا ملاحظہ حضور ذات حق کا منافی نہیں ہوتا اگر ان کی مراد حضرت ذات تعالی سے مرتبہ احدیت مجردہ ہو جو اسماء وصفات اور نسبت و اعتبارات سے مبرا ہے تو پھر اسمائے صفاتی نسبتی اور اعتباری تمام مراتب طے کرنے کے بعد یادداشت حاصل ہوتی ہے، میں نے جہاں کہیں یا دداشت کا بیان کیا ہے اس سے مراد آخری معنی لئے ہیں گو اس مرتبہ میں حضور کا اطلاق کچھ&nbsp; نا مناسب معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ارباب یا داشت سے مخفی نہیں ، کیونکہ وہ غیبت و حضور سے اعلی و ارفع ہے،حضور کے اطلاق کیلئے کسی ایک صفت کا ملاحظہ درکار ہے جو کچھ لفظ حضور کے مناسب ہے یادداشت کی تفسیر دوسرے معنوں میں ہے، اس لحاظ سے یادداشت کو نہایت کہنا باعتبار شہود وحضور ہے کہ اس مرتبہ کے آگے شہودو حضور کی گنجائش نہیں ، وہاں یا حیرت ہے یا جہل یا معرفت لیکن وہ معرفت نہیں جسے تم معرفت جانتے ہو کیونکہ جس کو تم معرفت خیال کر تے ہو وہ افعالی و صفاتی معرفت ہے اور یہ مقام اسماء وصفات سے بدر جہا اوپر ہے، <strong>والصلوة والسلام على سيدالبشر وعلى اله الاطهر</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-31-مقامات-عشرہ-کے-بغیر-وصول-نہایت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 31۔مقامات عشرہ کے بغیر وصول نہایت:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">یہ راستہ طے کرنا اور نہایت النہایت پر پہنچنا دس مقامات مشہورہ کے طے کرنے سے وابستہ ہے جن میں سے پہلا تو بہ ہے اور آخری رضا ، مراتب کمال میں کوئی مرتبہ ومقام مقام رضا سے بڑھ کر نہیں حتی کہ آخرت میں رؤیت اخروی بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،مقام رضا کی اصلی حقیقت پورے طور پر آخرت میں ظاہر ہوگی ، باقی مقامات آخرت میں سیر نہیں ہو سکتے ،تو بہ کے وہاں کچھ معنی نہیں ، زہد کی وہاں گنجائش نہیں تو کل ہو ہی نہیں سکتا،صبر کا احتمال نہیں ، ہاں شکر وہاں سیر ہوسکتا ہے لیکن وہ شکر بھی رضا کی ایک شاخ ہے، رضا سے علیحدہ نہیں، اگر یہ پوچھیں کہ کبھی&nbsp; کامل ومکمل میں دنیاوی رغبت پائی جاتی ہے اور بعض ایسی باتیں دیکھنے میں آتی ہیں جو تو کل کی منافی ہیں اور بے طاقتی جومنافی صبر ہے ظاہر ہوتی ہے اور کراہت جورضا کی ضد ہے پائی جاتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان مقامات کا حاصل ہونا قلب وروح سے مخصوص ہے ، خاص الخاص کو یہ مقامات نفس مطمئنہ میں بھی حاصل ہو جاتے ہیں لیکن قالب اس بات سے محروم و بے نصیب ہے ،اگر چہ جسم تیزی اور قوت کی وجہ سے مقتضی ہوتا ہے ، ایک شخص نے شیخ شبلی رحمۃ اللہ علیہ &nbsp;سے پوچھا کہ آپ محبت کا دعوی کرتے ہیں لیکن آپ کا موٹا پا منافی محبت ہے ، آپ نے جواب میں یہ شعر پڑھا</p>



<p class="wp-block-paragraph">احـب قـلبـي ومـا درى بـدنـی ولـــودرى مـاقـام فـي الـسـمـن محبوب سے میرے دل نے محبت کی میرے بدن کو دہ معلوم نہ ہوا ۔اگر وہ بھی جانتا تو اتنا موٹا نہ ہو جا تا ۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;پس اگر کوئی ایسی بات جو مقامات مذکورہ کے منافی ہو کسی کامل کے قالب میں ظاہر ہوتو د وضرر نہیں دے سکتی اور وہ اس بزرگ کے باطن کیلئے ان مقامات کے حصول میں حارج نہیں ہوسکتی، غیر کامل میں ان مقامات کے نقائص پورے طور پر ظاہر و باطن میں ظہور کر تے ہیں ، اس لئے وہ ظاہر و باطن میں دنیا کی طرف راغب ہو جا تا ہے اور وہ صورت وحقیقت میں منافی تو کل ہوتا ہے، اس قلب و قالب میں بے طاقتی اور گھبراہٹ ظاہر ہوتی ہے ، روح اور بدن میں کراہت کا ظہور ہوتا ہے ، یہی باتیں ہیں جنہیں حق تعالی نے اپنے اولیا کا پردہ بنایا ہے اور انہیں باتوں کی وجہ سے اکثر لوگ ان بزرگوں کے کمالات سے محروم رہتے ہیں ۔ اولیاء اللہ میں جو یہ باتیں پائی جاتی ہیں تو اس میں یہ حکمت ہے کہ ان کے بغیر حق و باطل میں تمیز نہیں ہوسکتی جو اس دنیا کی لازم بات ہے، جو امتحان کا مقام ہے ، دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ ان کیلئے ترقی کا باعث ہے، اگر اولیاء اللہ سے یہ باتیں بالکل مفقود ہو جائیں تو ان کی ترقی مسدود ہو جائے اور فرشتوں کی طرح مقید رہ جا ئیں، <strong>والسلام عـلـى مـن اتبع والتـزم متابعة المصطفى عليه ، وعلى اله الصلوات والتعليمات اتمها وأكملها</strong>۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-32-اولیاۓ-باری-اور-اسباب-کی-گرفتاری"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:32۔اولیاۓ باری اور اسباب کی گرفتاری:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">الہی یہ کیا بات ہے کہ تو نے اپنے اولیاء کے باطن کو آب حیات بنارکھا ہے کہ جس نے ایک قطرہ چکھا اسے حیات ابدی نصیب ہوگئی اور ان کے ظاہرکوز ہر قاتل بنارکھا ہے کہ جس نے اس کو دیکھا وہ ابدی موت میں گرفتار ہو گیا یہ ا یسے لوگ ہیں کہ ان کا باطن رحمت اور ان کا ظاہر زحمت ہے ان کے باطن کو دیکھنے والا انہیں میں سے ہے اوران کے ظاہر کو دیکھنے والا بدکیش ہے، بظاہر جو ہیں اور حقیقت گیہوں بظاہر عوام بشر ہیں اور باطن خواص ملک، ظاہر میں زمین پر ہیں اور حقیقت میں آسمان پر ان کا ہم نشین بدبختی سے بچا ہوا ہے اوران کا غم خوار سعادت مند ہے، یہ لوگ گروہ الہی ہیں اور یہی لوگ اہل نجات و&nbsp; فلاح میں وصلى الله تعالى على سيدنا محمد واله وسلم</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-33-شان-اولیا-پوشیدہ-کیوں-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 33 ۔شان اولیا پوشیدہ کیوں ہے؟</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">حق سبحانہ وتعالی نے اپنے اولیا ء کو اس طرح پوشید ہ کیا ہے کہ ان کے ظاہر کو بھی ان کے باطنی کمالات کی خبر نہیں ، چہ جاۓ کہ غیران سے واقف ہوں ، ان کے باطن کو جونسبت بے چونی و بے چگونی کے مرتبہ سے حاصل ہے وہ بھی چون ہے ، ان کا باطن چونکہ عالم امر سے ہے، اس واسطے پیچونی سے انہیں بھی حصہ حاصل ہے اور ظاہر جو سراسر چون ہے ان کے باطن سے کیونکر واقف ہوسکتا ہے ، بلکہ قریب ہے کہ بسبب نہایت جہالت اور عدم مناسبت اس نسبت کے نفس حصول سے بھی انکار کر لے، ہوسکتا ہے کہ حصول نسبت کے نفس کو جانے لیکن یہ نہ جانے کہ اس کا متعلق کون ہے، بلکہ بہت دفعہ ایسا ہوا ہے کہ اس کے حقیقی متعلق کی نفی کرتا ہے اور یہ ساری باتیں اس واسطے ہیں کہ یہ نسبت بہت اعلی ہے اور ظاہر بہت ادنی ہے، خود باطن اس نسبت کا مغلوب ہوتا ہے اور دید و دانش سے گیا گزرا ہوتا ہے ،اسے کیا معلوم کہ کون رکھتا ہے اور کس سے رکھتا ہے، اس واسطے معرفت سے بجز کے سوا اور کوئی معرفت کی راہ نہیں ، یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین صدیق اکبر ﷺﷺ نے فرمایا : العجز عن درک الا دراک ادرک معلوم کرنے سے عاجز آنا ہی معلوم کرنا ہے اور ادراک کے نفس سے مراد وہ نسبت خاصہ ہے کہ جس کے ادراک سے عجز لازم ہے، کیونکہ صاحب ادراک مغلوب ہوتا ہے، نہ ا سے ادراک معلوم ہوتا ہے اور نہ اس کا غیر معلوم ہوتا ہے اور نہ ا سے حال کی خبر ہوتی ہے ، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-34-بدعت-اعتقادی-کا-نقصان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 34۔بدعت اعتقادی کا نقصان :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">ایک شخص صوفیوں کے لباس میں رہ کر بدعت اعتقادی میں مبتلا تھا، مجھے اس کے حق میں ترددتھا، اتفاقا کیا دیکھتا ہوں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام &nbsp;جمع ہیں اورمتفق ہوکر اس شخص کے حق میں فرماتے ہیں کہ وہ ہم سے نہیں ، اس اثنا میں مجھے ایک اور شخص کا بھی خیال آیا جس کے بارے میں میں متر دد تھا ، اس کے بارے میں تمام نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے ہے، اللہ تعالی انبیا کرام عالم کے طعن اور ان کے حق میں بداعتقاد ہونے سے بچاۓ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-35-متشابہات-کی-تاویل"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 35 ۔متشابہات کی تاویل:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">مجھ پر ظاہر کیا گیا کہ قرآن شریف میں جو قرب معیت اور احاطہ حق سبحانہ وتعالی کے الفاظ آتے ہیں یہ متشابہات قرآنی ہیں ، جیسے ہاتھ اور چہرہ وغیرہ، اسی طرح لفظ اول و آخر ، ظاہر و باطن وغیرہ کو اللہ تعالی کو قریب کہتے ہیں لیکن قریب کے معنی نہیں جانتے کہ قرب کیا ہے ،اسی طرح ہم اسے اول کہتے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ اول سے کیا مراد ہے ،قرب واولیت کے جو معنی ہمارے علم وفہم میں آتے ہیں اللہ تعالی ان سے منزہ و برتر ہے اور جو کچھ ہمارے کشف و شہود میں آ سکتا ہے اللہ تعالی اس سے پاک ہے، اللہ کا قرب ومعیت جو بعض صوفیا نے بطریق کشف دریافت کیا ہے اور ان کشفی معنوں کے لحاظ سے اللہ تعالی کو قریب ومع جانتے ہیں ٹھیک نہیں ، بلکہ وہ مذہب مجسمہ میں قدم رکھتے ہیں بعض علما نے جو اس کی تاویل کی ہے اور قرب سے مرادعلمی قرب لی ہے یہ ایسے ہے جیسے ید کی تاویل قدرت و وجہ سے کریں گو یہ مجوز ان تاویل کے نزدیک جائز ہے لیکن ہم تاویل کو جائز قرارنہیں دیتے ، اس کی تاویل علم حق کے حوالے کرتے ہیں ، اس کا علم اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے،<strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-36-متابعت-پیغمبر-خداﷺ-کی-نیت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها:36۔متابعت پیغمبر خداﷺ کی نیت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">میں وتر کی نماز بھی رات کے پہلے حصے میں ادا کر تا تھا اورکبھی پچھلے حصے میں ، ایک رات مجھ پر ظاہر کیا کہ تاخیر کی صورت میں ادائے وتر کی نیت سے جو نمازی سوجا تا ہے کہ رات کے آخری حصہ میں ادا کروں گا تو کراماً کاتین رات بھروتر ادا کرنے تک اس کی نیکیاں درج کرتے رہتے ہیں ، پس وتر کی نماز جتنی دیر سے ادا کر یں گے اتناہی اچھا ہے باوجوداس بات کے مجھے وتر کی قبل و تاخیر سے سواۓ متابعت نبوی ﷺ کے اور کچھ مقصود نہیں ، میں کسی فضیلت کو متابعت نبوی ﷺ کے برابر نہیں سمجھتا ، جناب سرور کائناتﷺ وتر کی نماز بھی رات کے پہلے حصے میں ادا کر تے&nbsp; تھے اور کبھی آخری حصے میں ، میں اپنی سعادت اس بات میں جانتا ہوں کہ کسی کام میں آنحضرت ﷺ سے تشبیہ حاصل کروں ،اگر چہ تشبیہ بحسب صورت ہی ہو ، لوگ بعض سنتوں میں شب بیداری کی نیت کر تے ہیں اور دوسری باتوں کو دخل دیتے ہیں مجھے ان کی کوتاہ اندیشی پر تعجب آتا ہے، ہم تو جو بھر متابعت کے بدلے ہزار شب بیداری کو بھی نہ خریدیں ، جب ہم ماہ ر مضان کے آخری دس دنوں میں معتکف ہوۓ تو یاروں کو بلا کر کہا کہ سواۓ متابعت کے اور کچھ نیت نہ کرنا کیونکہ ہماری قطع تعلقی کچھ وقعت نہیں رکھتی ، ہم ایک متابعت کوسوگرفتاری سے قبول کرتے ہیں لیکن غیر متابعت سے ہزار قطع تعلق کو بھی قبول نہیں کرتے</p>



<p class="wp-block-paragraph">آن را که در سراۓ نگاریست فارغ است از باغ و بوستان و تماشائے لالہ زار</p>



<p class="wp-block-paragraph">اللہ تعالی جناب سرور کائنات ﷺ کی متابعت ہمارے نصیب کرے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-37-محبت-ذاتی-اور-محبت-صفاتی"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 37۔محبت ذاتی اور محبت صفاتی :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">ایک دفعہ میں چند درویشوں سمیت بیٹھا تھا، میں نے اس محبت کے غلبہ کی وجہ سے جو مجھے جناب سرور کائنات ﷺ سے ہے کہا کہ آنحضرت ﷺ کی محبت مجھ پر اس طرح غالب ہے کہ میں حق تعالی کو صرف اس واسطے پیار کرتا ہوں کہ وہ محمد مصطفے ﷺ کا رب ہے، حاضر ین یہ سن کر حیران رہ گئے لیکن مخالفت نہ کر سکتے تھے ، یہ بات رابعہ بصری کی بات کا بالکل نقیض ہے کہ فرماتی ہیں کہ میں نے جناب سرور کائنات ﷺ کی خدمت میں خواب میں عرض کیا کہ اللہ تعالی کی محبت مجھ پر اس درجہ غالب ہے کہ آپ کی محبت کی گنجائش نہیں رہی ، میں دونوں باتیں سکر سے ہیں لیکن میری بات اصلیت رکھتی ہے مگر رابعہ نے محض سکر ہی کی حالت میں کہی ہے اور میں نے ہوش کے آغاز میں ، ان کی بات صفات کے مرتبہ کے متعلق ہے اور میری بات مرتبہ ذات سے رجوع کرنے کے بعد کی ،اس واسطے کہ مرتبہ ذات میں اس قسم کی محبت کی گنجائش نہیں ،تمام نسبتیں اس مرتبہ سے نیچے ہی رہ جاتی ہیں ، وہاں پر سر پسر یا حیرت ہے یا جہل ، بلکہ اس مرتبہ میں سالک کے بڑے ذوق سے محبت کی نفی کرتا ہے اور کسی طرح سے بھی اپنے آپ کو اس محبت کے لائق نہیں جانتا، محبت اور معرفت صرف صفات میں ہوتی ہے، جسے محبت ذاتی کہتے ہیں اس سے مراد ذات احدیت نہیں بلکہ ذات معہ بعض اعتبارات ذات ہے، پس رابعہ بصری پیا کی محبت مرتبہ صفات میں ہے، <strong>والـلـه اعـلـم بـالـصـواب ، والصلوة والسلام على سيد البشر واله الاطهر</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-38-علم-باطن-کی-علم-ظاہر-پر-فضیلت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 38۔علم باطن کی علم ظاہر پر فضیلت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">علم کی شرافت معلوم کے شرف ورتبہ کے موافق ہوا کرتی ہے ،معلوم جس قد رشریف ہو گا علم اسی قدر عالی ہوگا ، پس باطنی علم جس سے صوفیا ممتاز ہیں ، ظاہری علم سے جوعلا ظاہر کے نصیب ہے اشرف ہے ، جس طرح کہ علم ظاہری علم حجامت اور کپڑا بننے سے اشرف ہے، پس پیر کے آداب کاملحوظ رکھنا جس سے علم باطن اخذ کیا ہو علم ظاہری کے استاد کے آداب ملحوظ رکھنے سے بدر جہاز یادہ ہے، اسی طرح ظاہری علم کے استاد کا ادب نجام اور جولا ہے سے بدر جہا زیادہ کرنا چاہیئے ، یہی فرق ظاہری علوم میں باہمی ہے، چنانچہ صرف ونحو کے استاد سے علم کلام اور فقہ کا استاد افضل ہے اور علوم فلسفہ کے استاد سے صرف ونحو کا استاد افضل ہے کیونکہ علوم فلسفی معتبر علوم میں داخل نہیں ، اس واسطے کہ ان کے اکثر مسائل بیہودہ اور بے حاصل ہیں اور جوتھوڑے مسائل اسلامی کتابوں سے اخذ کئے ہیں ان میں بھی ایسے تصرفات کئے ہیں جو جہل مرکب سے خالی نہیں ،عقل میں ان کی بو تک نہیں ، نبوت کا طور اور ہے اور عقل نظری کا اور واضح رہے کہ پیر کے حقوق تمام حقوق سے فائق ہیں بلکہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے حقوق کو چھوڑ کر دوسرے حقوق کو پیر کے حقوق سے کوئی نسبت ہی نہیں بلکہ سب کے حقیقی پیر جناب پیغمبر خدا ﷺ ہیں ۔ ظاہری ولادت اگر چہ والدین سے ہوتی ہے لیکن معنوی پیدائش پیرسے مخصوص ہے، ظاہری ولادت کی زندگی چند روزہ ہوتی ہے اور حقیقی ولادت کی زندگی ابدی ہوتی ہے ،مرید کی باطنی پلیدی کو صاف کرنے والا پیرہی ہے جو اپنے قلب وروح سے مرید کے باطن کی پلیدی کو صاف کرتا ہے اور اس کے معدے کو پاکیزہ بنا تا ہے ، بعض طالبوں کو جب توجہ دی جاتی ہو تو واقعی محسوس ہوتا ہے کہ ان کی باطنی نجاستوں کو صاف کرتے ہوۓ صاحب توجہ پر بھی آلودگی اثر کرتی ہے اور دیر تک مکد رکھتی&nbsp; ہے، پیر ہی کے وسیلے سے انسان خدارسیدہ ہوتا ہے، بی خدارسیدگی تمام دنیاوی اور اخروی سعادتوں سے افضل ہے، پیراہی کے وسیلے سے نفس امارہ جو بالذات خبیث ہے پا کیزہ ہو جا تا ہے اور امارگی کو چھوڑ کر اطمینان حاصل کرتا ہے اور ذاتی کفر ترک کر کے حقیقی اسلام اختیار کرتا ہے &#8230;&#8230;. گر گویم شرح ای بی و&#8230;&#8230;&#8230;.پس اپنی سعادت پیر کی قبولیت میں خیال کرنی چاہیئے اور اپنی بدبختی اس کے ردکر نے میں نعوذ بالله سبحانه من ذالك رضاۓ حق پیر کے پردہ کے پیچھے رکھی ہوئی ہے، جب تک مرید اپنے آپ کو پیر کی مرضیات میں گم نہیں کر تا حق تعالی کی مرضیات تک نہیں پہنچتا،مرید کی آفت پیر کو ناراض کر نے میں ہے ،اس کے بغیر جو خواری ہے اس کا تدارک ہوسکتا ہے لیکن پیر کی ناراضگی کا تدارک ناممکن ہے، پیر کی نا رائسگی مرید کیلئے بدبختی کی جڑ ہے نعوذ باللہ سبحانہ من ذالک اس ناراضگی سے اسلامی معتقدات میں خلل اور احکام شرعیہ کے بجالانے میں فتور آ جا تا ہے، باطنی احوال ومواجید کا تو کچھ پوچھو ہی نہیں ، اگر پیر کوستانے کے بعد بھی احوال کا کچھ اثر رہے تو اسے استدراج سمجھنا چاہیئے کیونکہ آخر اس کا نتیجہ خراب ہوتا ہے، سواۓ نقصان کے اور کچھ نتی نہیں نکلتا، <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى</strong> ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-39-موت-قبل-از-موت-کی-حقیقت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها : 39۔موت قبل از موت کی حقیقت:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">قلب عالم امر سے ہے ، اسے عالم خلق سے تعلق اور تعشق دے کر عالم کی طرف نیچے لایا گیا اور گوشت کے ٹکڑے سے جو بائیں طرف ہے خاص تعلق بخشا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے بادشاہ کسی خاکروب پر عاشق ہو اور اس کے سبب سے اس خاکروب کے گھر رہے اور روح جو قلب سے زیادہ لطیف ہے اصحاب کمین سے ہے اور تین لطیفوں سے جواطیفہ روح سے اوپر ہیں ، خیر الامور اوسطھا کے شرف سے مشرف ہیں ، جتنے زیادہ لطیف ہیں ، اتنے ہی وسط سے زیاد و مناسب ہیں ،صرف اتنی بات ہے کہ سر اور فی اخفی کے دونوں طرف ہیں ، ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف واقع ہے نفس حواس کا محاسبہ مجاور ہے، اس کا تعلق دماغ سے ہے ، قلب کو ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہ مقام روح اور اس کے روبرو کے مقام میں پہنچتا ہے ، اسی طرح روح اور اس کے مافوق کی ترقی ان سے بالائی مقامات سے وابستہ ہے لیکن ابتدا میں یہ وصول بطریق احوال ہوتا ہے اور انتہا میں بطریق مقام نفس کو اس وقت ترقی ہوتی ہے جب وہ مقام قلب میں ابتدا میں بطریق احوال اور انتہا میں بطریق مقام پہنچ &nbsp;جاۓ ، آخر کار یہ چھ لطائف مقام اخفی میں پہنچ جاتے ہیں اور تمام مل کر عالم قدس کی طرف پرواز کر نے کا قصد کر تے ہیں اور لطیفہ قلب کو خالی چھوڑ جاتے ہیں لیکن پرواز بھی ابتدا میں بطریق احوال ہوتی ہے اور انتہا میں بطریق مقام ہوتی ہے اور اس وقت فنا حاصل ہوتی ہے ،مرنے سے پہلے جس موت کی بابت کہا ہے اس سے مراد قلب سے انہیں کچھ لطائف کی جدائی ہے ، قالب میں ان کی مفارقت کے بعد بھی حس وحرکت رہتی ہے ، اس بات کا بیان اور جگہ لکھا گیا ہے وہاں سے مطالعہ کرنا چاہیئے اس کتاب میں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں ، اس کتاب میں صرف اشارتا اور کتابیتا باتیں درج ہیں، یہ ضروری نہیں کہ تمام لطائف ایک مقام میں جمع ہو کر وہاں سے پرواز کر میں بھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قلب اور روح دونوں متفق ہو کر یہ کام کرتے ہیں، کبھی تین بھی چارمل کر یہ کام کرتے ہیں لیکن جب چھیل کر پرواز کر میں تو یہ نہایت اعلی و اکمل درجہ ہے اور ولایت محمدی ﷺ سے مخصوص ہے ، اس کے سوا جو ہے وہ ولایت کی ایک قسم ہے، اگر وہ کچھ لطائف قالب سے جدا ہونے کے بعد مقام وصول میں پہنچ کر اسی رنگ سے رنگے جائیں اور پھر قالب میں لوٹ آئیں اور جبی تعلق کے سوا اور کوئی تعلق پیدا کریں ، قالب کا حکم پیدا کر یں ، ملنے کے بعد ایک قسم کی فنا پیدا کریں اور بطور مردہ ہو جائیں تو اس وقت خاص تجلی سے متجلی ہو جاتے ہیں ، از سرنو زندگی پیدا کر کے مقام بقاء باللہ حاصل کرتے ہیں اور اخلاق الہی سے متعلق ہو جاتے ہیں ، ایسے وقت میں اگر وہ ضلعت بخش کر پھر عالم میں بھیجے جائیں تو معاملہ نزد یک سے دور جا پڑتا ہے اور مقدمہ تکمیل پیدا ہوتا ہے ، اگر پھر جہان میں نہ بھیجیں اور قرب کے بعد بعد حاصل نہ ہو تو وہ اولیاۓ عزلت سے شمار ہوگا اور اس کے ہاتھ سے طالبوں کی تربیت اور ناقصوں کی تعمیل نہ ہو گی ، یہ ہے کہانی ہدایت ونہایت کی طریق رمز و اشارہ سے لیکن اس کا سمجھنا بغیر ان منزلوں کو ملے کئے محال ہے،<strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى &nbsp;والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوة والسلام</strong>۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-40-کلام-الہی-کا-سر-بستہ-راز"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:40۔کلام الہی کا سر بستہ راز :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;حضرت حق سبحانہ وتعالی ازل سے ابد تک ایک ہی کلام سے متکلم ہے ، اس کلام کے اجز انہیں ہیں کیونکہ حق تعالی کے حق میں خاموشی یا گونگا پن کا ہونا محال ہے ، کوئی عجب نہیں کہ ازل سے ابد تک وہاں ایک ہی ساعت ہو کیونکہ وہاں زمانے کا دخل نہیں ، ایک گھڑی میں سواۓ کلام واحد اور بسیط کے اور کیا وقوع میں آ سکتا ہے، اس کلام واحد سے کئی قسم کے کلام پیدا ہوتے ہیں جو بلحاظ تعلقات مختلف قسم کے ہیں ، مثلا اگر مامور کے متعلق ہے تو امر پیدا ہوا ہے اور اگر رکاوٹ کے متعلق ہے تو نہی نام پایا ہے، اگر رضا کے متعلق ہے تو خبر ہوگئی ہے، آمدم بر سر مطلب، ماضی و مستقبل کی خبر دینا بہت سارے لوگوں کو شک میں ڈال دیتا ہے ، دلالت کرنے والے کا تقدم و تاخر مدلول کے تقدم و تاخر کو ظاہر کرتا ہے، سو یہ کوئی شبہ نہیں کیونکہ ماضی مستقبل دلالت کرنے والوں کی مخصوصہ صفات ہیں جواس گھڑی کے انبساط کے لحاظ سے پیدا ہوئی ہیں ، جب مرتبہ مدلول میں وہ گھڑی اپنی اصلی حالت پر ہے اور کسی قسم کا انبساط اس میں نہیں آیا تو پھر ماضی ومستقبل کی گنجائش کیسے ہوسکتی ہے ، ار باب معقول نے کہا ہے کہ ایک ہی ماہیت کیلئے بلحاظ وجود خارجی لوازمات علیحدہ ہیں اور بلحاظ وجود پانی صفات جدا ، پس جبکہ ایک ہی شے میں صفات ولوازمات کا فرق بلحاظ وجود وہو میت کے تخائر کے جائز ہے تو دال و مدلول میں جو فی الحقیقت &nbsp;ایک دوسرے سے جدا میں بطریق اولی جائز ہے اور یہ جو کہا ہے کہ ازل سے ابد تک ایک ہی گھڑی ہے یہ عبارت کی تنگی کی وجہ سے کہا گیا ہے ورنہ وہاں تو اس کی بھی گنجائش نہیں ، وہ بھی زمانے کی طرح یہاں ثقیل ہے۔ واضح رہے کہ جوممکن مقامات قرب الہی میں دائرہ امکان سے قدم باہر رکھتا ہے تو ازل ابد کو ملا ہوا پاتا ہے ، جناب سرور کائنات ﷺ نے شب معراج مقامات عروج میں حضرت یونس علی کو مچھلی کے پیٹ میں پایا اور نوح علیہ کے طوفان کوموجودد یکھتا، اہل بہشت کو بہشت میں دیکھا اور اہل دوزخ کو دوزخ میں، پانچ سوسال بعد جو آدھے دن کے برابر ہے بہشت میں داخل ہونے کے بعد ایک غنی صحابی عبد الرحمن بن عوف ﷺ کو بہشت میں آتے ہوۓ دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے اس سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنے دشوار گزار راستوں کا ذکر کیا، یہ سب کچھ ایک گھڑی میں مشہود ہوا ، اس میں ماضی ومستقبل کی گنجائش نہ تھی ، مجھ پر بھی حبیب خدا ﷺ کے صدقے ایک وقت میں یہ حالت طاری ہوئی تھی کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ حضرت آدم عالم کوسجدہ کر رہے ہیں اور ابھی انہوں نے سجدہ سے سرنہیں اٹھاۓ کہ ملائکہ علمین کو ان سجدہ کرنے والوں سے الگ دیکھا، جنہیں سجدے کا حکم نہیں ہوا تھا، وہ اپنے مشہود میں مستغرق تھے اور جن حالات آخرت میں گزرنے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بھی اس گھڑی میں دکھائی دیئے ، چونکہ اس واقعہ کو مدت گزرچکی ہے اس احوال آخرت کو فصل بیان نہیں کیا کیونکہ مجھے اپنی قوت حافظہ پر پورا بھروسا نہیں رہا لیکن اتناسمجھ لینا چاہیئے کہ یہ حالت آنحضرت ﷺ کے وجودا در روح دونوں پر طاری ہوئی تھی اور آپ نے بصارت و بصیرت دونوں سے دیکھا تھا، دوسرے جوفیلی ہیں ان پراگر بطریق تبعیت می حالت طاری ہو تو فقط روح پر ہوگی اور صرف بصیرت سے مشاہدہ کر یں گے ،ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھیں گے قافله که اوست دانم نریم این بسکہ رسد زوار با تگ جرم علیه و على اله من الصلوات والتسليمات اتمها واكملها</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-41-تکوین-صفت-حقیقی-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:41۔ تکوین صفت حقیقی ہے:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">محکومین واجب الوجود کی ایک حقیقی صفت ہے ،امام ابو الحسن اشعری پینے کے پیرو کار تکوین کو ایک اضافی صفت جانتے ہیں ، جہان کو وجود میں لانے کیلئے قدرت اور ارادہ ہی کو کافی خیال کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ تکوین ایک الگ صفت ہے جو قدرت اور ارادت کے علاوہ ہے، اس کا بیان یہ ہے کہ قدرت در حقیقت فعل وترک کی صحت ہے اور ارادہ قدرت کے دونوں پہلوؤں مینی فعل وترک کی تخصیص ہے، پس قدرت کا مرتبہ ارادہ کے مرتبہ سے مقدم ہے، تکوین کا مرتبہ جسے ہم ایک حقیقی صفت خیال کرتے ہیں قدرت دارادت کے مرتبہ کے بعد ہے، اس کا کام طرف تخصیص شدہ کو وجود میں لانا ہے ، پس قدرت فعل کی مصحیح ہے اور ارادت اس کی تخصیص کر نے والی ہے اور تکوین اس کی موجود ہے ، پس قدرت اور ارادت کے علاوہ تکوین بھی ضروری ہے ، اس کی مثال استطاعت مع الفعل کی طرح ہے جسے اہل سنت کے علماء نے بندوں میں ثابت کیا ہے ، اس میں شک نہیں کہ یہ استطاعت قدرت کے ثبوت کے بعد ہے بلکہ ارادت کے متعلق اور ایجاد کی تحقیق کے بعد اسی استطاعت سے وابستہ ہے بلکہ وہ استطاعت ہی موجب فعل ہے اور ترک کا پہلو وہاں مفقود ہے ،صفت تکوین کی بھی یہی حالت ہے کہ ایجاد اس کے ساتھ بطریق ایجاب ہے لیکن یہ ایجاب واجب تعالی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ وہ قدرت کے حاصل ہونے کے بعد ثابت ہوتا ہے، اصل میں قدرت ہی فعل و ترک کی صحت ہے نیز ارادہ کی تخصیص کے بعد تکوین ہے اور یہ بات حکماۓ فلسفہ کی راۓ کے خلاف ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ پہلا شرطیہ (اگر چا ہے تو پیدا کر سکتا ہے ، واجب الصدق ہے اور دوسرا شرطیہ ( اگر نہ چاہے تو نہیں پیدا کرتا ممتنع الصدق ہے ،انہوں نے ارادت کی نفی کی ہے ، جوصر بیجا ایجاب میں ہے، اللہ تعالی اس سے بہت برتر ہے، وہ ایجاب جوارادت کے تعلق اور دونوں مقدوروں میں سے ایک کی تخصیص کے بعد پیدا ہوا ہے اس کیلئے اختیار لازمی امر ہے ، اس کی تاکید کرنے والا اختیار کا منافی نہیں ، صاحب فتوحات یعنی شیخ محی الدین ابن عربی ﷺ کا کشف بھی حکما کی رائے کے موافق واقع ہوا ہے یعنی قدرت میں پہلے شرطیہ کو واجب الصدق اور دوسرے شرطیہ کو متنع الصدق جاتا ہے اور یہ جانتا ایجاب ہے ایسی صورت میں ارادہ فضول معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہاں فعل با ترک کی تخصیص کوئی بھی نہیں، ہاں اگر تکوین میں اس بات کو ثابت کر میں تو گنجائش ہے کیونکہ وہ ایجاب کی ملاوٹ سے مبرا ہے، میفرق بہت ہی بار یک ہے، اس کے بیان کی جرات وسبقت بہت کم اشخاص نے کی ہے ، گو علمائے ماتریدیہ نے اس صفت کو ثابت کیا ہے لیکن اس قد رغور وخوض سے کام نہیں لیا ، سنت نبوی ﷺ کی پیروی کے سبب وہ تمام متکلمین میں اس معرفت سے ممتاز ہیں، یہ حقیر بھی ان بزرگوں کا خوشہ چین ہے ، اے اللہ! ہمیں اپنے حبیب اکرم ﷺ کے صدقے ان کے معتقدات پر ثابت قدم رکھنا ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-42-باری-تعالی-کا-دیدار"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: 42۔باری تعالی کا دیدار :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">اللہ تعالی جل شانہ کا دیدار آخرت میں مومنوں کو نصیب ہوناحق بات ہے، یہ وہ مسئلہ ہے جس کو سواۓ اہلسنت و جماعت کے کسی اسلامی فرقہ یا حکماۓ فلسفہ نے جائز نہیں مانا ، ان کے انکار کا باعث حاضر پر غائب کا قیاس ہے اور ایسا قیاس برا ہے، دکھائی دینے والی چیز جب بے مثل و بے مانند ہو گی تو اس کی متعلقہ رؤیت بھی بے مثل و بے مانند ہوگی ، اس پر ایمان لانا چاہیئے ، اس کی کیفیتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہیئے ، یہ بھید دنیا میں بھی خاص خاص اولیا پر ظاہر کیا گیا ہے اگرچہ اسے رؤیت تو نہیں کہہ سکتے لیکن پھر بھی رؤیت ہی ہے گویا کہ تو اسے دیکھتا ہے، انشاء اللہ قیامت کے دن تمام مومن اسے ظاہری آنکھوں سے دیکھ لیں گے لیکن انہیں ادراک نہ ہوگا کیونکہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں ، صرف دو چیزیں دریافت کریں گے، ایک علم یقین کہ دیکھتے ہیں اور دوسرا حظ ولذت جو رؤیت سے حاصل ہوگا سواۓ ان دو چیزوں کے باقی تمام لوازمات دید مفقود ہوں گے ، یہ مسئلہ علم عقائد کا نہایت ہی دقیق مسئلہ ہے ،عقل اس کے اثبات و تصور میں عاجز ہے ، صرف انبیا کرام&nbsp; کے پیرو کار علما و صوفیا نے اس نورفراست سے جو انوار نبوت سے مقتبس (لیا گیا) ہے دریافت کیا ہے ، اسی طرح سے علم کلام کے اور مسائل کا حل ہے جن کے ثابت کرنے میں عقل عاجز ومتحیر ہے&nbsp; ان میں&nbsp; علمائے اہل سنت کو صرف نور فراست حاصل ہے، صوفیا کو نور فراست بھی ہے اور کشف و شہود بھی ، کشف و فراست میں وہی فرق ہے جو بدیہی(بغیر غور و فکر) اور حدسی(اندازہ اور تخمینہ&nbsp; کے متعلق چیزیں) میں ہے ،فراست نظریات کو جن کیلئے دلیل کی ضرورت ہے بد یہات بناتی ہے اور کشف نظریات کو حدسیات بنا تا ہے اور جن مسائل کے اہلسنت قائل ہیں اور ان کے مخالف جن کا دار و مدار صرف عقل پر ہے ان مسائل کے منکر ہیں ، وہ تمام مسائل اسی قسم کے ہیں جو نور فراست سے معلوم ہوتے ہیں اور کشف صحیح سے دیکھنے میں آتے ہیں مگر ان مسائل کو واضح طور پر بیان کیا جاۓ تو اس سے مقصود تصویر و تنبیہ ہے نہ کہ نظر و دلیل سے ان کا اثبات ، کیونکہ عقلی نظر ان کے اثبات و تصویر میں اندھی ہے ، مجھے ان علماء پر تعجب آتا ہے جو ان مسائل کو دلائل سے ثابت کرنا اور مخالفوں کیلئے حجت قائم کرنا چاہتے ہیں ، نہ ہی یہ ان سے ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ اسے سرانجام دے سکتے ہیں ، اس واسطے مخالف خیال کر تے ہیں کہ ان کے مسائل بھی ان کے استدلات کی طرح بود ے اور ادھورے ہیں مثلا علمائے اہلسنت نے استطاعت مع الفعل(فعل کے ساتھ طاقت بھی رکھنا) کو ثابت کیا ہے ، یہ&nbsp; مسئلہ ایک سچا مسئلہ ہے جونو رفراست اور کشف صیح سے معلوم ہوتا ہے لیکن جو دلائل اس کے ثبوت میں بیان کئے ہیں وہ سراسر بودے اور نامکمل ہیں ، ان کی سب سے ز بر دست دلیل یہ ہے کہ جو ہر کے مقابلہ میں عرض کو دوز مانوں میں عدم بقا ہے کیونکہ اگر عرض باقی ہوتو لازم آتا ہے کہ عرض عرض سے قائم ہو اور یہ حال ہے چونکہ اس دلیل کو مخالفوں نے بودی او را دھوری خیال کیا ہے اس واسطے ان کا یقین ہو گیا ہے کہ یہ مسئلہ بھی ادھورا ہے لیکن مخالفوں کو یہ معلوم نہیں کہ اہل سنت کا رہنما اس مسئلہ اور اسی قسم کے اور مسائل میں نورفراست ہے جو انوار نبوت سے حاصل کیا گیا ہے لیکن یہ ہماری کو تا ہی ہے کہ ہم حدسی و بد یہی کو مخالفوں کی نظروں میں نظری بناتے ہیں اور تکلف سے اس کے ثابت کر نے کی کوشش کر تے ہیں ، آمدم بر سر مطلب ، ہماری حدسی و بدیہی مخالفوں کیلئے حجت نہیں اور نہ بھی ہو تو بھی مضائقہ نہیں ، ہمارا کام صرف اطلاع دینا اور پہنچانا ہے ، جس میں مسلمانی کی علامات ہیں وہ خود بخود اختیار اور قبول کرے گا اور جو بے نصیب ہے وہ انکار کرے گا ، علماء اہلسنت میں شیخ الاسلام شیخ ابومنصور ماتریدی ﷺ کے اصحاب کا طریقہ کیا ہی عمد ہ &nbsp;ہے جنہوں نے صرف مقاصد پر اکتفا کیا ہے اور فلسفی باریکیوں اور نکتہ چینیوں سے بالکل روگردانی کر لی ہے فلسفیوں کی طرح نظر واستدلال کا طریقہ علماء اہل سنت و جماعت میں شیخ ابوالحسن اشعری ﷺ سے شروع ہوا ہے ، ان کا یہ مدعا تھا کہ کسی طرح اہل سنت کے معتقدات کو فلسفی دلائل سے ثابت کر یں ، ایسا کرنا مشکل ہے بلکہ ایک طرح سے مخالفوں کوا کا بر دین پر طعن کرنے کی جرات دلانا اور طریق سلف کو ترک کرنا ہے، اللہ تعالی ہمیں اہل حق کے معتقدات کی متابعت پر ثابت قدم رکھے، جنہوں نے انوار نبوت على صاحبها الصلوات والتسليمات اتمها و اکملھا سے نور حاصل کیا ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-43-حواس-کے-بغیر-مرتبہ-یقین"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها : 43۔حواس کے بغیر مرتبہ یقین:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">میں اس آمد کریمہ <strong>وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ</strong>(اور بہر حال&nbsp; اپنے پروردگار کی نعمت کو بیان&nbsp; کیا کریں) کے مطابق اس نعمت عظمی کا اظہار کرتا ہوں کہ مجھے علم کلام کے متعلقہ معتقدات کا یقین اہل سنت و جماعت کی رائے کے موافق عطا ہوا ہے اور یقین آ گیا ہے کہ اس کے مقابلے میں یقینی یقین بھی جوسب سے بہتر اور ظاہرتر بدیہیات کی نسبت حاصل ہوا ہے ظن بلکہ و ہم معلوم ہوتا ہے ،مثلا جب میں علم عقائد کے مسائل سے متعلق حاصل شدہ یقین کا مقابلہ اس یقین سے کرتا ہوں جو وجود آفتاب کی نسبت مجھے حاصل ہے تو اول الذکر کو موخر الذکر کی نسبت یقینی جانتا ہوں ، ارباب عقل خواہ اس بات کو قبول کر یں یا نہ کر یں بلکہ بالضر ورقبول نہیں کر یں گے کیونکہ یہ بات عقل سے پرے ہے، ظاہر میں عقل کو اس مقام سے سواۓ انکار کے اور کچھ حاصل نہیں ، اس معاملہ کی حقیقت یہ ہے کہ یقین دل کا کام ہے اور وہ یقین جو دل کو آفتاب کے وجود کی طرح حاصل ہوتا ہے وہ حواس خمسہ کے وسیلے سے ہوتا ہے جو بمنزلہ جاسوس ہیں اور جو یقین دل کو علم عقائد کے مسائل کے متعلق حاصل ہوا ہے اس میں ان حواس خمسہ میں سے کسی ایک کا بھی دخل نہیں بلکہ یہ یقین جناب باری تعالی سے بطریق الہام بلا واسطہ ہوا ہے ، پس پہلا یقین بمنز لہ علم الیقین ہے اور دوسرا بمنز لہ عین الیقین ،سوعلم الیقین اور عین الیقین میں بڑا فرق ہے</p>



<p class="wp-block-paragraph">۔ شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔دیکھے ہوئے کے برابر سنا کیسے ہوسکتا ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منھا-44ارادے-کی-فنا"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منھا 44:ارادے کی فنا :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جب محض فضل الہی سے طالب کا سینہ تمام مرادات سے خالی ہو جا تا ہے اور سواۓ حق کے اور کوئی اسے خواہش نہیں رہتی تو اس وقت وہ مقصود حاصل ہو جا تا ہے جو اس کے پیدا کرنے سے تھا اور وہ حقیقی بندگی بجالاتا ہے ، بعد ازاں اگر چاہتے ہیں تو اسے ناقصوں کی تربیت کیلئے واپس کرتے ہیں اور اپنے پاس سے اسے ارادہ عطافرماتے ہیں اور اختیار عنایت کرتے ہیں جس کے سبب سے وہ قولی اور فعلی تصرفات میں مجاز ومختار ہوتا ہے جیسا کہ اذن دیا ہوا غلام، مقام خلق با خلاق اللہ میں صاحب ارادہ جو کچھ چاہتا ہے دوسروں کے واسطے چاہتا ہے نہ کہ اپنے لئے اور دوسروں کی مصلحتیں اس کے مدنظر ہوتی ہیں نہ کہ اپنے نفس کی جیسا کہ واجب تعالی کے ارادے کا حال ہے کہ جو کچھ کرتا ہے مخلوق کی خاطر کرتا ہے، بلکہ بلند ترین مثال اللہ کے لیے ہے، یہ نہ ضروری ہے اور نہ جائز کہ جو کچھ یہ صاحب ارادہ چاہے ظہور میں آۓ کیونکہ ایسا ہونا شرک ہے اور بندگی اس کی برداشت نہیں کر سکتی چنانچہ اللہ تعالی جل شانہ نے اپنے حبیب کریم ﷺ کو فرمایا: إِنَّكَ ‌لَا ‌تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ، جسے تو چاہے(بالذات) ہدایت نہیں کر سکتا جسے اللہ تعالی چاہے اسے ہدایت کرتا ہے ، جب آنحضرت ﷺ کا ارادہ توقف میں پڑے تو دوسروں کی کیا ہستی ہے نیز یہ بھی ضروری نہیں کہ صاحب ارادہ کی تمام مراد یں(جنکا وہ رادہ کرے) مرضی حق کے مطابق ہوں اگر ایسا ہوتا تو جناب باری تعالی سے آنحضرت ﷺ پر اعتراض نازل نہ ہوتا جیسا کہ فرمایا <strong>مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ</strong> ور معافی کی گنجائش نہ ہوتی <strong>عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ </strong>، اللہ تعالی نے تجھے معاف کیا، معافی ہمیشہ <a>تقصیرات </a>&nbsp;(یہاں تقصیرات سے مراد اگر اولیا کرام کی تقصیرات &nbsp;&nbsp;ہیں تو بات اور ہے اور اگر ان کی نسبت حضور سراپا نور ﷺ کی طرف ہے تو ان کا مطلب گناہ کبیر اور صغیرہ نہیں کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ انبیا کرام&nbsp; کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ، یہاں تقصیرات سے مراد وہ د نیوی احکام ہیں جن میں آپ کو اجتہاد کا اختیار دیا جاتا تھا اور بسا اوقات امت کی بہتری کے لیے آپ افضل اور اولی کام کو ترک کر کے امر فاضل کا اکتساب کر تے تھے،بنا بریں اللہ تعالی کی طرف سے صورتا عتاب ہوتا تھا جو حقیقی محبت الہی کا ایک حسین باب ہوتا تھا کیونکہ انبیا کرام کا ترک افضل غیر انبیا کے ترک واجب کےبمنزلہ ہے ، ( شرح فقہ اکبر ۲) حدیث پاک میں ہے کہ حضور سراپا نور ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم کی آمد پر فرمایا <strong>مرحبا بمن عاتبني فيه ربی</strong> و مرحبا اس کی وجہ سے میر ےرب نےمجھ پر عتاب فرمایا &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;)میں ہوتی ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی تمام مرادات حق بھی مرضیات حق نہیں ،مثال کفرو گناہ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-45-قرآن-اور-مقام-ہدایت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:45۔قرآن اور مقام ہدایت:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;اس کام میں میرا امام کلام اللہ اور میرا پیر قرآن مجید ہے ،اگر قرآن شریف کی ہدایت نہ ہوتی تو حقیقی معبود کی عبادت کی راہ نہ کھلتی ، اس راہ میں ہر ایک لطیف و الطف انا اللہ پکار کر سالک راہ کو اپنی پرستش میں مصروف کر لیتا ہے اگر چون ہے تو اپنے آپ کوبیچون ظاہر کرتا ہے ، اگر تشبیہ ہے تو تنزیہ کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے ، یہاں امکان و وجوب آپس میں خلط ملط دکھائی دیتے ہیں اور حدوث و قدم گڈمڈ محسوس ہوتے ہے ہیں ،اگر باطل ہے تو حق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اگر گمراہی ہے تو ہدایت کی شکل میں نمودار ہوتی ہے، بیچارہ سالک اند ھے مسافر کی طرح ہے کہ ہر ایک کو ھذار بی یہی میرا پروردگار ہے، کہتا آتا ہے، اللہ تعالی جل شانہ اپنے آپ کو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا اور مشرق ومغرب کا پروردگار بتا تا ہے، جب مجھے عروج کے وقت یہ خیالی معبود پیش کئے گئے تو میں نے سب سے انکار کیا اور سب زائل ہو گئے ،اس واسطے میں نے الا احب الافلین میں غروب وزائل ہونے والوں سے پیار نہیں کرتا ، کہتے ہوۓ سب سے منہ پھیرا اور سواۓ ذات واجب الوجود کے اور کسی کو قبلہ توجہ نہ بنایا، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس بات کی ہدایت کی ،اگر اللہ تعالی ہمیں ہدایت نہ کرتا تو کبھی سیدھی راہ پر نہ آتے ، ہمارے پروردگار کے رسول سب&nbsp; سچے ہیں جو کچھ وہ اللہ تعالی کی طرف سے لاۓ ہیں سچ اور حق ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-46-خواجہ-باقی-رحمۃ-اللہ-علیہ-سے-عقیدت-مجدد"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها : 46۔خواجہ باقی رحمۃ اللہ علیہ سے عقیدت مجدد:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;ہم چار شخص اپنے خواجہ صاحب ﷺ کی ملازمت میں باقی تمام یاروں سے ممتاز تھے، ہم چاروں کا اعتقادخواجہ صاحب ﷺ کی نسبت الگ الگ تھا اور ہمارا معاملہ بھی ایک دوسرے سے نرالا تھا ، میرا یہ یقین تھا کہ اس قسم کی صحبت و اجتماع اور اس طرح کی تربیت اور ارشاد جناب سرور کائنات ﷺ کے زمانے کے بعد کبھی میسر نہیں ہوئی، اس نعمت کا شکر بجا لا یا کرتا تھا کہ مجھے جناب سرور کائنات ﷺ کی صحبت کا شرف تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس صحبت کی سعادت سے محروم نہیں رہا ، ہمارے خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے باقی تین کے احوال کی نسبت یوں فرمایا کہ فلاں شخص مجھے صاحب تکمیل جانتا ہے لیکن صاحب ارشاد خیال نہیں کرتا ۔ اس کے نزدیک ارشاد کا مرتبہ تکمیل کے مرتبے سے زیادہ ہے ، دوسرے کی نسبت فرمایا کہ اس کا ہم سے کچھ سروکار نہیں ، تیسرے کی نسبت فرمایا کہ وہ ہمارا منکر ہے ، ہم میں سے ہر ایک کو اعتقاد کے موافق حصہ ملا ، واضح رہے کہ مرید کو اپنے پیر سے جو محبت ہوتی ہے اور فائدہ اٹھانے اور پہنچانے کے سبب کی مناسبت کا نتیجہ پیر کو فضل اور اکمل جانتا ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ پیر کو ان لوگوں سے افضل نہ جانے جن کی فضیلت شرع میں مقرر ہے کیونکہ ایسا کرنا افراط میں داخل ہے اور اچھا نہیں ، شیعہ لوگوں کی خرابی محض اہل بیت سے محبت کی افراط سے ہوئی ہے اور عیسائیوں کو حضرت عیسی علیہ السلام کی افراط محبت سےیہ خرابی ملی ہے کہ انہیں اللہ تعالی کا بیٹا کہتے ہیں ، اس واسطے ابدی نقصان میں مبتلا ہیں لیکن اگر ان کے سوا فضیلت دے تو جائز ہے بلکہ طریقت میں واجب ہے، یہ فضیلت دینا مرید کے اختیار میں نہیں بلکہ اگر مرید سعادت مند ہے تو خود بخود بے اختیار اس میں یہ اعتقاد پیدا ہو جا تا ہے اور اس کے وسیلے سے پیر کے کمالات کو حاصل کرتا ہے، اگر یہ فضیلت دینا مر یداپنے اختیار وتکلف سے پیدا کرے تو جائز نہیں اور نہ اس کا کچھ نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-47-نفی-و-اثبات-کا-ذکر"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها: &nbsp;47۔نفی و اثبات کا ذکر :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">نفی واثبات میں اعلی درجہ لا الہ الا اللہ کے کلمہ طیبہ میں یہ ہے کہ جو کچھ دیدو دانش اور کشف و شہود میں آۓ خواہ وہ محض تنز یہ دبے کیف ہوسب کچھ لا کے تحت میں داخل ہو اور اثبات کی جانب میں سواۓ اللہ کہنے کے جو دل کی موافقت سے کہا جاۓ اور کچھ نصیب نہ ہو</p>



<p class="wp-block-paragraph">عنقا شکار کس نشود دام باز چین کایں جاہمیشہ باد بدست است دام را</p>



<p class="wp-block-paragraph">اٹھا لے جا ل عنقا بھلا&nbsp; کب کسی کے ہاتھ آتا ہے یہا ہر جال لگانے والا خالی ہاتھ جاتا ہے۔</p>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوت والتسليمات </strong><strong>–</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-48-حقائق-ثلاثہ-کا-بیان"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 48 ۔حقائق ثلاثہ کا بیان :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;قرآنی حقیقت اور کعبہ ربانی کی حقیقت دونوں حقیقت محمدی سے اوپر ہیں ، یہی وجہ ہے کہ قرآنی حقیقت حقیقت محمدی کی امام اور کعبہ ربانی کی حقیقت حقیقت محمدی کا مسجود ہے، باوجود اس بات کے کہ کعبہ ر بانی کی حقیقت قرآنی حقیقت سے بڑھ کر ہے، وہاں سر بسر بے صفتی اور بے رنگی ہے اور شیون واعتبارات کی وہاں گنجائش نہیں، تنزیہ و تقدیس کی وہاں مجال نہیں&#8230;&#8230;&#8230;. آنجا ہمہ آنست کہ برتر زبان است(وہاں ہر چیز ایسی ہےجو بیان سے بالا تر ہے)..یہ ایسی معرفت ہے جس کے بارے میں کسی اہل اللہ نے لب کشائی نہیں کی اور رمز اور اشارہ کے طور پر بھی اس کے متعلق بات نہیں کی ، مجھے اس معرفت عظمی سے مشرف کیا ہے اورا بناۓ جنس میں ممتاز فرمایا ہے ، یہ سب کچھ حبیب خدا ﷺ کے صدقے نصیب ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ جس طرح چیزوں کی صورتوں کا مسجودصورت کعبہ ہے اسی طرح ان اشیاء کے حقائق کا مسجود حقیقت کعبہ ہے، میں ایسی عجیب بات بیان کرتا ہوں کہ جسے نہ کسی نے کہا نہ سنا، مجھے اللہ تعالی نے خبر دی اس واسطے میں لوگوں کو اس سے آگاہ کرتا ہوں، یہ سب کچھ اس کے فضل و کرم سے ہے، جناب سرور کائنات ﷺکے عہد مبارک سے کچھ اوپر ہزار سال بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج فرماۓ اور حقیقت کعبہ کے مقام سے مل کر ایک ہو جاۓ ، اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہواور وہ ذات احد کا مظہر بنے اور دونوں مبارک نام مسمی (مجموعہ حقیقت محمدی و حقیقت کعبہ)کو حاصل ہوں اور پہلا مقام حقیقت محمدی سے خالی ہو جاۓ جب تک حضرت عیسی علیہ السلام &nbsp;نزول فرمائیں اور شریعت محمدی پر عمل کریں ، اس وقت حقیقت عیسوی اپنے مقام سے عروج کر کے حقیقت محمدی کے خالی شدہ مقام میں قرار کرے گی۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-49-کلمہ-طیبہ-کی-فضیلت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:49۔کلمہ طیبہ کی فضیلت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">اگر کلمہ لا الہ الا اللہ نہ ہوتا تو جناب باری کی راہ کون دکھا تا اور توحید کے چہرہ پر سے نقاب کون اٹھا تا اور جنت کے دروازے کون کھولتا ،&nbsp; صفات بشریت کے پہاڑ اس لا کے کدال سے اکھیٹرے جاتے ہیں اور بے شمار تعلقات اس نفی کے تکرار کی برکت سے دور ہوتے ہیں ، اس کلمہ کی نفی باطل معبودوں کو مات کرتی ہے اور اس کلمہ کا اثبات معبود حقیقی کو ثابت کرتا ہے ، سالک اس کی مدد سے امکانی مدارج طے کرتا ہے اور عارف اس کی برکت سے وجوبی معارج پر چڑھتا ہے ، یہ کلمہ طیبہ ہی ہے جو تجلیات صفات میں پہنچا تا ہے اور پھر تجلیات صفات سے تجلیات ذات تک لے جاتا ہے ۔</p>



<p class="wp-block-paragraph">تا بجا روب لا نروبی راہ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; نرسی &nbsp;در سراۓ الا اللہ</p>



<p class="wp-block-paragraph">لا کے جھاڑو سے جب تک اس راہ کی صفائی نہ ہو گی&nbsp; اس وقت تک تو الا اللہ کی سرائے تک نہ پہنچے گا</p>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى ‌مَنِ ‌اتَّبَعَ الْهُدَى والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوات والتسليمات</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-50-کیا-معوذتین-داخل-قرآن-نہیں"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:50۔کیا معوذتین داخل قرآن نہیں</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;مخددی شیخ شرف الدین منیری&nbsp; اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ معوذ تین کو نماز میں نہیں پڑھنا چاہیئے ، کیونکہ ابن مسعود ان دونوں سورتوں کی قرآنیت میں جمہور کے مخالف ہیں، پس ان دونوں سورتوں کی قرأت کو فرض قطعی میں شمار نہیں کرنا چاہیئے ، میں بھی نہیں پڑھتا تھاحتی کہ ایک روز اس فقیر پر ظاہر کیا گیا کہ گویا معوذتین موجود ہیں اور مخدوم شرف الدین کی شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرض میں ان کی قرأت کو کیوں ترک کیا گویا ہمیں قرآن شریف سے نکالا ہے، تب سے میں نے ان کا پڑھنا شروع کیا، چنانچہ نماز فریضہ میں پڑھنے لگا، جب ان دونوں سورتوں کو نماز فریضہ میں پڑھتا ہوں تو عجیب وغریب احوال کا مشاہدہ کرتا ہوں ، واقعی جب علم شریعت کی طرف رجوع کیا جائے تو ان دوسورتوں کو نماز فریضہ میں نہ پڑھنے کیلئے کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی بلکہ اس متفق علیہ حکم کی قطعیت میں شبہ ڈالنا ہے کہ جو کچھ دفتین (دو جلدوں)کے اندر ہے وہ قرآن ہے ، جب سورۂ فاتحہ سے سورہ کا ملانا واجب ہے تو پس دونوں سورتوں کا پڑھنا خواہ وہ بالفرض المحال خوا ہ ظنی ہی ہوں کوئی وجہ نہیں کہ انہیں فاتحہ کے ساتھ ملا کر نہ پڑھا جائے ، مجھے تو شیخ منیری&nbsp; کے اس کلام پرسخت تعجب آتا ہے( شرح مواقف میں ہے کہ قرآن کریم کی بعض سورتوں میں بعض صحابہ کرام کا جو اختلاف منقول ہے دو اخبار آحاد سے ہے اور ان سورتوں کا قرآن ہونا تو اتر سے ثابت ہے ، آحاد میں اتنا قوت نہیں کہ وہ تواتر کے معارض ہوسکیں اور نہ ہی ظن یقین سے مزاحم ہو سکتا ہے ( تفسیر روح المعانی ) امام نووی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود&nbsp; سے جومعوذتین کی عدم قرآنیت کی نقل منقول ہے دوباطل ہے اور امام رازی نے بھی اس کو باطل قرار دیا ہے ۔)، والسلام علی سیدالبشر واله الاطهر –</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-51-شیخ-کامل-کی-اتباع"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:51۔شیخ کامل کی اتباع :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">صوفیوں کے طریق بلکہ مذہب اسلام سے حظ وافراسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جس میں تقلید کی فطرت اور متابعت کی جبلت زیادہ ہو، یہاں کام کا دارومدار تقلید پر ہے، اس مقام پر کام متابعت سے وابستہ ہے ، انبیا کرام کی تقلید اعلی درجات پر پہنچاتی ہے اور نیک لوگوں کی متابعت اعلی عروج پر پہنچاتی ہے، امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق&nbsp; میں چونکہ یہ فطرت زیادہ تھی اس لئے بلا توقف تصدیق نبوت کی سعادت حاصل کی اور صدیقوں کے سردار بن گئے ، ابو جہل لعین میں چونکہ تقلید اور متابعت کا مادہ کم بلکہ نا پید&nbsp; تھا اس واسطے اس سعادت سے مشرف نہ ہوا اور ملعونوں کا پیشوا بن گیا ،مرید کو جو کمال حاصل ہوتا ہے اپنے پیر کی تقلید سے حاصل ہوتا ہے، پیر کی خطامر ید کے صواب سے بہتر ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق جناب سرور کائنات ﷺ کےسہو کوطلب کرتے&nbsp; تھے&#8217; باليتني كنت سهو محمد ،( حدیث پاک ہے کہ میں بھولتا نہیں بھلا یا جا تا ہوں تاکہ امت کے لیے بہت سے احکام وسیع کر دئیےجائیں قرآن پاک میں بھی ہے ہم آپ کو پڑھائیں گے، پس آپ نہ بھولیں گے مگر اس کے &nbsp;جواللہ چاہے یادر ہے کہ عوام کا پ سہو مبنی برغفلت ہوتا ہے اور خواص کا سہومبنی بر حکمت ہوتا ہے۔) کاش! میں حضرت محمدمصطفی ﷺﷺ کا سہو بن جاتا ، جناب سرور کائنات ﷺ نے حضرت بلال کے حق میں فرمایا ہے۔ سین بلال عند الله شین حضرت بلال عجمی تھے، اس لئے اذان میں بجاۓ اشھد کے اسہد کہا کرتے تھے ، اللہ تعالی کے ہاں ان کا اسہد اشہد ہے، پس حضرت بلال کی خطا دوسروں کی درستی سے بہتر ہے۔. براشہد تو خندہ زند اسہد بلال میں نے ایک بزرگ سے سنا ہے جو فرماتے تھے کہ بعض دعائیں جو مشائخ سے منقول ہیں اور جن میں مشائخ سے اتفاقا غلطی ہوگئی ہے اور تلفظ بگڑ گیا ہے اگر ان کے تابعین اور پیروکار اپنے مشائخ کی طرح پڑھیں تو تاثیر ہوتی ہے اگر درست کر کے پڑھیں تو تاثیر نہیں ہوتی ، یا اللہ ہمیں انبیا کرام کی تقلید اور اولیا کرام کی متابعت پر بحرمت حبیب خداﷺ ثابت قدم رکھنا۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-52-انبیا-کے-درجات-اور-تجلی-ذات"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها:52۔انبیا کے درجات اور تجلی ذات:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">عوام الناس تو در کنار تمام مرسلوں کے جناب سرور کائنات ﷺ سردار ہیں ، اگر چہ حضرت عیسی اور حضرت موسی علیہما السلام کو حسب درجہ مقام تجلی ذات سے کچھ &nbsp;حاصل ہے، اللہ تعالی نے حضرت موسی کومخاطب کر کے فرمایا ہے اصطنعتك لنفسى اى لـذاتـی اور حضرت عیسی روح اللہ ہیں اور اس کا کلمہ ہیں اور آنحضرت ﷺ سے بہت زیادہ مناسبت رکھتے ہیں لیکن حضرت ابراہیم حالانکہ مقام تجلی صفات میں ہیں ، پھر بھی تیز چشم اور دور بین ہیں ، جو خاص شان ہمارے پیغمبر ﷺ کوتجلی ذات کے مقام میں نصیب ہوئی وہ حضرت ابراہیم کو تجلی صفات کے مقام میں حاصل ہوگئی لیکن استعداد دونوں کی مختلف ہے ، پس اس لحاظ سے حضرت ابراہیم&nbsp; دونوں یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی &nbsp;&nbsp;سے افضل ہیں اور حضرت عیسی &nbsp;&nbsp;حضرت موسی &nbsp;سے افضل ہیں ، حضرت عیسی &nbsp;کا رتبہ حضرت موسی&nbsp; سے بڑھ کر ہے،( مکتوبات کی عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت موسی افضل ہیں ان دوقولوں کے درمیان تطبیق اس طرح ہے کہ حضرت عیسی&nbsp; نزول کے بعد حضورﷺ کی اتباع فرمائیں گے تو یہ ان کی جامعیت حضرت موسی کی نسبت زیادہ ظاہر ہے۔ مجموعہ ر سائل 129) آپ ان کی نسبت تیز نظر اور دور بین ہیں ، ان کے بعد حضرت نوح ہیں ، آپ کا مقام مقام صفات میں اگر چہ حضرت ابراہیم&nbsp; کے مقام سے اوپر ہے لیکن حضرت ابراہیم&nbsp; کو اس مقام میں خاص شان حاصل ہے اور آپ کی نظر کو وہ تیزی حاصل ہے جو دوسروں کو میسر نہیں لیکن آپ کی اولاد کرام کو بھی بطورتبعیت وفرعیت اس مقام سے حصہ حاصل ہے ، حضرت نوح&nbsp; کے بعد حضرت آدم ہیں، اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے مجھے ان باتوں کے الہام سے سرفراز فرمایا علم اللہ تعالی ہی کو حاصل ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-53-اسما-ءاور-صفات-کی-سیر"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها:53۔اسما ءاور صفات کی سیر :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">جس سالک کی سیر اسما اور صفات کی تفصیل میں ہو اس کا ذات حق تک پہنچنا بند ہو جا تا ہے کیونکہ اسما اور صفات کی کوئی انتہانہیں ، نہ یہ ختم ہوتے ہیں نہ وہ منزل مقصود پر پہنچتا ہے ، مشائخ نے اس مقام کی خبر دی ہے کہ مراتب وصول کی کوئی انتہا نہیں اس واسطے کہ محبوب کے کمالات کی کوئی انتہا نہیں ، یہاں وصول سے مراداسمائی وصفاقی وصول ہے ، سعادت مند وہ شخص ہے جس کی سیرا سما اور صفات میں بطریق اجمال واقع ہوئی ہے اور جلدی خدا رسیدہ ہو گیا ہے ، واصلان ذات جب نہایت النہایت پر پہنچتے ہیں تو دعوت کیلئے ان کا واپس آنا لازم ہے اور وہاں سے واپس نہ آ نا محال ہے برخلاف اس کے متوسط جب اپنی استعداد کے موافق آخری مقام پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کیلئے واپس آنا لازم نہیں ، ہوسکتا ہے کہ واپس آئیں یاوہیں ٹھہرے رہیں ، پس منتہی کے وصول کے مراتب ختم ہو جاتے ہیں بلکہ لازم ہے کہ پورے ہو جائیں لیکن متوسطوں کے وصول کے مراتب کی جوا سمائی وصفاتی تفصیل میں سیر کرتے ہیں کوئی انتہا نہیں ، یہ علم بھی میرا مخصوص علم ہے، والعلم عند الله سبحانه –</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-54-مقام-رضا-کی-برتری"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها :54۔مقام رضا کی برتری:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">مقام رضا مقامات و لایت سے بڑھ کر ہے ، یہ مقام تمام سلوک و جذ بہ طے کر لینے کے بعد حاصل ہوتا ہے، اگر یہ پوچھیں کہ اللہ تعالی کی ذات، اس کی صفات اور اس کے افعال سے رضا واجب ہے اور نفس ایمان میں ماخوذ ہے لہذا جس سے عام مومنوں کو چارہ نہیں تو پھر سلوک و جذ بہ کے تمام پر اس کے حصول کے کیا معنی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح ہر رکن ایمان کی صورت وحقیقت ہے اسی طرح رضا کی بھی صورت و حقیقت ہے،شروع میں صورت کا وجود ہوتا ہے اور آخر میں حقیقت حاصل ہوتی ہے، جب منافی رضا ظاہر نہ ہوتو ظاہر شریعت حصول رضا کا حکم فرماتی ہے لیکن تصد یق قلبی کے طور پر کہ جب کوئی بات منافی تصدیق نہ پائی جاۓ تو تصدیق حاصل ہو جاتی ہے اور ہم حقیقت رضا کے حصول کے در پے ہیں نہ کہ صورت رضا کے اللہ سبحانہ اعلم۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-55-سنت-اور-بدعت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 55۔سنت اور بدعت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ سنت نبوی ﷺ کے موافق عمل حاصل ہو اور بدعت سے بچنا نصیب ہو، خاص کر ایسی بدعت سے جس سے سنت رفع ہوتی ہو، جناب سرور کائنات ﷺ فرماتے ہیں <strong>مَنْ ‌أَحْدَثَ فِي ‌دِينِنَا&nbsp; فَهُوَ رَدٌّ </strong>جونئی بات اس دین میں نکالی جاۓ وہ رد ہے، ان لوگوں پر مجھے تعجب آ تا ہے کہ دین میں حالانکہ وہ مکمل اور پورا ہے نئی شاخیں نکالتے ہیں اور ان سے دین متین کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں اور اس بات سے نہیں ڈرتے کہ کہیں ان بدعتوں سے سنت رفع نہ ہو جاۓ مثلا شملہ دونوں کندھوں کے نیچے رکھنا سنت ہے لیکن بہت سے لوگوں نے شملے کو بائیں طرف لٹکانا اختیار کیا ہے، اس عمل سے وہ مردوں سے مشابہت پیدا کرنا چاہتے ہیں ، بہت سے لوگوں نے اس معاملہ میں ان کی پیروی کی ہے، یہ فعل سنت سے بدعت اور بدعت سے حرمت تک پہنچا تا ہے ، کیا جناب سرور کائنات ﷺ سے مشابہ ہونا اچھا ہے یا مردوں سے ، جناب سرور کائنات ﷺ موت سے پہلے موت سے مشرف ہوئے ہیں ،اگر فوت شدہ ہی سے تشبیہ درکار ہے تو پھر بھی ) آنحضرت ﷺ سے کرو اور عجب بات یہ ہے کہ مردے کو عمامہ پہنانا ہی بدعت ہے چہ جاۓ کہ شملہ چھوڑ اجاۓ بعض متاخرین نے جو عالم کی میت کیلئے عمامہ کو جائز قرار دیا ہے ، میری راۓ میں زیادتی ہے اور زیادتی نسخ سے ہے اور نسخ عین رفع ہے، اللہ تعالی ہمیں متابعت سنت نبوی ﷺ پر ثابت قدم رکھے اور . آمین کہنے والے بندے پر رحم کرے۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-56-جنوں-کے-بارے-میں-کشف"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 56۔جنوں کے بارے میں کشف :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;ایک روز جنوں کا حال مجھ پر منکشف فرما یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جن گلی کوچوں میں عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے ہیں اور ہر ایک جن کے سر پر ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے کہ وہ جن اس موکل کے ڈر کے مارے سرنہیں اٹھا سکتا اور دائیں بائیں نہیں دیکھ سکتا ، قیدیوں اور گرفتاروں کی طرح چل رہے ہیں ، ان میں مخالفت کی مجال بالکل نہیں ، ہاں جب اللہ تعالی چاہے تو ان سے کچھ ظہور میں آتا ہے ،اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ گویا موکل کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہے کہ اگر رجن ذرا بھی مخالفت کرے تو ایک ہی چوٹ سے اس کا کام تمام کر دے</p>



<p class="wp-block-paragraph">خدائے کہ بالا وپست آفرید&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; زبردست ہر دست دست آفرید .</p>



<p class="wp-block-paragraph">خدا تعالیٰ نے بلند و بست&nbsp; کو بنایا ہر زبردست کے اوپرہے جس کے زیر دست بنا رکھا</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-57-ولی-کی-جزئی-فضیلت"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها: 57۔ولی کی جزئی فضیلت :</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">ولی کو جو کمال حاصل ہوتا ہے یا جس درجے پر پہنچتا ہے اپنے نبی کے طفیل پہنچتا ہے ،اگر متابعت نبوی نہ ہوتی تو نفس ایمان ظاہر نہ ہوتا اور اعلی درجات کی راہ نہ کھلتی ، پس اگر ولی کوکوئی جزوی فضل حاصل ہو جو نبی کو حاصل نہیں تھا اور کوئی ایسا خاص درجہ مل جاۓ جو نبی کو میسر نہیں تھا تو نبی کو بھی اس جزوی فضل اور اس خاص درجہ سے حصہ ملتا ہے کیونکہ ولی کو وہ کمال اس نبی کی متابعت سے حاصل ہوا ہے اور یہ اس کی سنت کی پیروی کا نتیجہ ہے، پس لامحالہ نبی کو اس کمال سے پورا حصہ حاصل ہوتا ہے جیسا کہ سرور کائنات ﷺﷺ فرماتے ہیں <strong>مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا</strong> جس نے کوئی نیک طریقہ جاری کیا اسے اس طریقے پرعمل کرنے والے کا بھی اجر ملتا ہے، لیکن ولی اس کمال کےحصول میں سابق ہے اور اس درجہ کے وصول میں مقدم ہے اس قسم کی فضیلت ولی کو نبی پر جائز ہے جو جزئی ہو ، جو کلیتاً معارض نہ ہو، صاحب فصوص شیخ محی الدین ابن العربی ﷺ نے جوفر مایا ہے کہ خاتم النبوت علوم و معارف کو خاتم الولایت سے اخذ کرتا ہے اس سے مراد یہی معرفت ہے جس سے مجھے ممتاز فرمایا گیا ہے اور جو سراسر شریعت کے موافق ہے ،فصوص کے شارحین نے اس کی تصحیح میں تکلف سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ خاتم ولایت خاتم نبوت کا خزانچی ہوتا ہے اگر بادشاہ اپنے خزانچی سے کچھ لے تو نقص لازم نہیں آتا، اصل حقیقت وہی ہے جو میں نے تحقیق کی ہے ،انہوں نے یہ تکلف اس واسطے کیا ہے کہ معاملہ کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکے ،اللہ تعالی امور کی اصل حقیقت سے اچھی طرح واقف ہے، والصلوۃ والسلام على سيد البشر واله الاطهر ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-58-نبی-کی-کلی-فضیلت">منها: 58۔نبی کی کلی فضیلت :</h1>



<p class="wp-block-paragraph">ولی کی ولایت اس کے نبی کی ولایت کا جزو ہوتی ہے ، ولی کو خواہ کتنے ہی اعلی درجات حاصل ہو جائیں پھر بھی وہ درجات اس نبی کے درجات کا جزو ہوتے ہیں، جزو خواہ کتنا ہی بڑا ہو جائے پھر بھی کل سے کم ہی رہے گا کیونکہ(الکل&nbsp; اعظم من الجزء) کل ہمیشہ اپنے جز وسے بڑا ہے ایک بدیہی قضیہ ہے، وہ شخص احمق ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ جز وکل سے بڑا ہوتا ہے حالانکہ کل دیگر اجزا کے علاوہ اس جزو سے بھی عبارت ہے ۔</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-59-صفات-باری-کا-تعارف"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">منها 59۔صفات باری کا تعارف:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">اللہ تعالی کی صفات واجبی تین قسم کی ہیں ، پہلی قسم کی صفات اضافی ہیں ، مثلا خالقیت اور رازقیت ، دوسری حقیقی لیکن اضافت کی جھلک لیے ہوۓ ہیں مثلاًعلم، قدرت ،ارادہ ، سمع ، بصر، کلام ، تیسری محض حقیقی مثلا حیات ، اس میں اضافی ہرگز ملاوٹ نہیں ، اضافت سے ہماری مراد ہے جہان کا لگاؤ تیسری قسم تمام اقسام سے افضل ہے اور اس میں تمام اقسام جمع ہیں ، یہ امہات صفات سے ہے علم کی صفت باوجود جامعیت کے صفت حیات کی تابع ہے، صفات وشیونات کا دائرہ حیات پر جا ختم ہوتا ہے، وصول مطلوب کا دروازہ یہی ہے چونکہ صفت حیات صفت علم سے بڑھ کر ہے اس واسطے ضروری ہے کہ مراتب علم طے کرنے کے بعد اس تک پہنچیں علم یا ظاہری ہوتا ہے یا باطنی یا شریعت کا ہوتا ہے یا طریقت کا بہت ہی کم اشخاص اس دروازے میں داخل ہوئے ہیں صرف گلی کو چوں کے پیچھے سے اندر دیکھتے ہیں ایسے دیکھنے والے بھی نہایت ہی کم ہیں اگر اس بھید کی رمز ظاہر کر دوں تو گلا کٹ جاۓ ۔</p>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>ومن بعد هذا مايدق صفاته&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وما كتمه احظى لدى اجمل</strong></p>



<p class="wp-block-paragraph">بیان کرنا ہی ان اسرار کا مشکل ہےاور ان کا چھپانا ہی زیادہ صحیح ہے</p>



<p class="wp-block-paragraph"><strong>&nbsp;والسلام على من اتبع الهدى والتزم متابعة المصطفى عليه وعلى اله الصلوة والسلام</strong></p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-60-حق-تعالی-بے-مثل-و-بے-مثال-ہے"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها :60۔حق تعالی بے مثل و بے مثال ہے:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">حضرت حق سبحانہ تعالی مثل سے منزہ ہے ، کوئی چیز اس کی مانندنہیں لیکن مثال کو جائز قرار دیا ہے اور مثل تجویز کی ہے، اللہ تعالی کیلئے مثل اعلی ہے، ارباب سلوک اور اصحاب کشوف کو مثال سے تسلی دیتے ہیں اور خیال سے آرام بخشتے ہیں ،بیچون کو چون کی مثال سے دکھاتے ہیں اور وجوب کو امکان کی صورت میں جلوہ گر کرتے ہیں ، بے چارہ سالک مثال کو عین صاحب مثال خیال کرتا ہے اور صورت کوعین ذی صورت سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حق سبحانہ وتعالی کے احاطہ کی صورت کو چیزوں میں دیکھتا ہے اور اس احاطہ کی مثال کو جہان میں مشاہدہ کرتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ احاطہ میں حق کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے لیکن در اصل ایسا نہیں بلکہ حق تعالی کا احاطہ بیچون و بیچگون ہے اور نہ وہ شہود میں آ سکتا ہے اور نہ کسی پر ظاہر ہوسکتا ہے، اس بات پر ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی ہر شے پر محیط ہے لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ اس کا احاطہ کیا ہے اور جو کچھ ہمیں معلوم ہے وہ اس احاطہ کی شبہ اور مثال ہے نہ کہ حقیقت بلکہ اس کی حقیقت کی کیفیت نا معلوم ہے، یہ ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالی قریب ہے اور ہمارے ساتھ ہے لیکن یہ ہم نہیں جانتے کہ اس کا قرب ومعیت کس طرح کے ہیں ممکن ہے کہ جو حدیث نبوی ﷺ میں آیا ہے &nbsp;<strong>یتجـلـى ربنا ضاحكا</strong> ہمارا پروردگار ہنستا ہوا ظا ہر ہوا، یہ ممکن ہے کہ&nbsp; آنحضرت ﷺ نے بلحاظ صورت مثالی فرمایا ہو یعنی کمال رضا کے حصول کو مثال میں بصورت خندہ &nbsp;دکھایا ہو اور ہاتھ ، چہرے، قدم اور انگلیوں کا اطلاق بھی صورت مثالی کے لحاظ سے ہو، مجھے اللہ تعالی نے اسی طرح سکھایا ہے، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مخصوص کر تا ہے اور اللہ تعالی صاحب فضل عظیم ہے ، وصـلی الله تعالى على سيدنا محمد واله وسلم وبارك</p>



<h1 class="wp-block-heading" id="منها-61-عرفان-مجدد-ﷺ-کو-سمجھنے-کا-اسلوب"><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">&nbsp;منها : 61۔عرفان مجدد&nbsp; کو سمجھنے کا اسلوب:</mark></h1>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;اگر حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہ کی عبارات میں جو آپ نے احوال و مواجید اور علوم و معارف کے بیان میں لکھی ہیں کسی قسم کا تناقض(ضد) یا اختلاف معلوم ہو تویہ گمان نہیں کرنا چاہیئے کہ واقعی ایک دوسرے کے نقیض ہیں بلکہ یہ خیال کرنا چاہیئے کہ مختلف اوقات میں مختلف وضع پر یہ عبارات لکھی گئی ہیں کیونکہ ہر وقت احوال و مواجید مختلف ہوا کر تے ہیں اور ہر ایک وضع میں علوم و معارف جدا ہیں ، پس در حقیقت یہ تناقض اور تدافع نہیں ، اس کی مثال احکام شرعیہ کی طرح ہے کہ نسخ و تبدیل کے بعد متناقض احکام جاری ہوتے ہیں، جب اوقات و اوضاع (طریقے)کے اختلاف کوملحوظ رکھا جائے تو وہ تناقض وتدافع اٹھ جا تا ہے، اللہ تعالی ہی کیلئے حکمت &nbsp;عملی ہے، اس میں عین حکمت ومصلحت ہے تو کسی قسم کا شک نہ کرنا وصلى الله تعالى على سيدنا محمد والہ وسلم وبارك، ان عجیب وغریب بلندنکات کا جامع محمدصدیق &nbsp;بدخشی کشمی ملقب بہ ہدایت کہتا ہے کہ مبدأ و معاد کے ان معارف شریفہ عالیہ کی تسوید سے مجھے ماہ رمضان المبارک 1019 ھ کے آخر میں دوران اعتکاف فراغت ہوئی</p>



<p class="wp-block-paragraph">این نسخه که مبدأء و معاد است بنام</p>



<p class="wp-block-paragraph">زانفاس نفیس حضرت فخر کرام</p>



<p class="wp-block-paragraph">چوں کرد ہدایت اقتباس از سر صدق</p>



<p class="wp-block-paragraph">در سال ہزار و نوز ده گشت و تمام</p>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;قاضی ثنا اللہ ﷺ پانی پتی کا ارشاد</p>



<p class="wp-block-paragraph">&nbsp;جب پہلا ہزارہ گزر گیا اور ایک اولوالعزم مرد کامل کی باری آئی تو اللہ تعالی نے اپنی عادت قدیمہ کے تحت دوسرے ہزارے کے لیے ایک مجدد پیدا فرمایا کہ تمام اولیا کرام میں ان حیسا اولوالعزم مجد دکوئی نہ ہو گا اس کو نبیوں رسولوں اور رسول کریم ﷺ کی طینت سے پیدا فرمایا ، وہ مقامات وکمالات عطا فرمائے گئے جو کسی نے نہ دیکھے تھے اور آخر زمانے میں اس کے طفیل یہ کمالات عام اور ظاہر کئے گئے ۔ (ارشادالطالبین: 63)</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af%2F&#038;title=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%D8%AA%D8%B5%D9%86%DB%8C%D9%81%20%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%D9%85%D8%AC%D8%AF%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D9%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/" data-a2a-title="مبدأ و معاد تصنیف حضرت مجدد الف ثانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
