<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>کتابیں &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8%DB%8C%DA%BA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Thu, 28 Aug 2025 06:11:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>کتابیں &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>&#8220;دوہرا  اجر پانے والوں کے بیان میں دو چمکتے چاندوں کا آغاز&#8221;</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b7%d9%84%d8%b9-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%af%d8%b1%d9%8a%d9%86-%d9%81%d9%8a%d9%85%d9%86-%d9%8a%d8%a4%d8%aa%d9%89-%d8%a3%d8%ac%d8%b1%d9%87-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d9%8a%d9%86/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b7%d9%84%d8%b9-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%af%d8%b1%d9%8a%d9%86-%d9%81%d9%8a%d9%85%d9%86-%d9%8a%d8%a4%d8%aa%d9%89-%d8%a3%d8%ac%d8%b1%d9%87-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d9%8a%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 13 Aug 2025 10:53:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[امام اور مؤذن کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[تلاوت قرآن کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[حاکم کا امتحان]]></category>
		<category><![CDATA[حج کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[دوہرا اجر پانے والے]]></category>
		<category><![CDATA[رشتہ دار پر صدقہ کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[سردی میں مکمل وضو کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[صفوں کے آداب اور اس کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[علم کے طالب کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن اور دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[مسجد کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[نیک عمل کے خفیہ اور ظاہر ہونے پر دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[وضو اور اجر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9195</guid>

					<description><![CDATA[بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کی حمد اور اس کے برگزیدہ &#160;بندوں پر سلامتی کے بعد، موضوع یہ ہے کہ ایسے افراد کون ہیں جنہیں اللہ دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔ اس حوالے سے دس ایسے افراد یا طبقات کا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b7%d9%84%d8%b9-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%af%d8%b1%d9%8a%d9%86-%d9%81%d9%8a%d9%85%d9%86-%d9%8a%d8%a4%d8%aa%d9%89-%d8%a3%d8%ac%d8%b1%d9%87-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d9%8a%d9%86/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[








<p><strong>بسم اللہ الرحمن الرحیم</strong></p>



<p>اللہ کی حمد اور اس کے برگزیدہ &nbsp;بندوں پر سلامتی کے بعد، موضوع یہ ہے کہ ایسے افراد کون ہیں جنہیں اللہ دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔ اس حوالے سے دس ایسے افراد یا طبقات کا ذکر کئی احادیث میں آیا ہے، اور میں نے انہیں اشعار میں بیان کیا ہے۔ بعد میں کچھ مزید مثالیں سامنے آئیں، تو میں نے انہیں اس مختصر رسالے میں جمع کرنے کا ارادہ کیا، اور اللہ سے مدد کا طلبگار ہوں۔</p>



<p><strong>قرآن میں دوہرا اجر پانے والے افراد کا تذکرہ</strong><strong>:</strong></p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>نبی اکرم ﷺ کی ازواج &nbsp;مطہرات سے </strong>اللہ تعالیٰ نے فرمایا:</li>
</ul>



<p>وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا<br /><em>&#8220;</em><em>اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے، ہم اسے دوہرا اجر عطا کریں گے&#8221; (الاحزاب 31)</em></p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>اہل ایمان کے لیے خطاب</strong><strong>:</strong></li>
</ul>



<p>يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ<br /><em>&#8220;</em><em>اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، تمہیں دوہری رحمت عطا فرمائی جائے گی&#8221; (الحدید 28)</em></p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>اہل کتاب جو ایمان لائیں</strong><strong>:</strong></li>
</ul>



<p>الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ&nbsp; وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ<br /><em>&#8220;</em><em>جنہیں ہم نے کتاب دی اور وہ اس پر ایمان لائے، اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ حق ہے، وہ اپنے دوہرے اجر کے مستحق ہیں&#8221; (القصص 52-54)</em></p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>ایمان اور عمل صالح کے ساتھ</strong><strong>:</strong></li>
</ul>



<p>وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا<br /><em>&#8220;</em><em>تمہارے مال اور اولاد تمہیں ہمارے قریب نہیں کریں گے، سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، انہیں ان کے اعمال کا دوہرا اجر دیا جائے گا&#8221; (سبأ 37)</em></p>



<hr class="wp-block-separator has-alpha-channel-opacity"/>



<p><strong>تین افراد جنہیں دوہرا اجر ملتا ہے</strong></p>



<p>صحیح بخاری و مسلم میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br /><strong>تین افراد ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا</strong><strong>:</strong></p>



<ol class="wp-block-list">
<li><strong>اہل کتاب سےایمان لانے والا</strong><strong>:</strong><br />جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ایمان لاکر آپ کو مانا اور تصدیق کی، اسے دوہرا اجر ملے گا۔</li>



<li><strong>مملوک غلام</strong><strong>:</strong><br />جو اللہ کے حقوق اور اپنے مالک کے حقوق ادا کرے، اسے دوہرا اجر دیا جائے گا۔</li>



<li><strong>وہ شخص جس نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور نکاح کیا</strong><strong>:</strong><br />اگر وہ باندی کو عمدہ تربیت دے، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کرے، تو اسے بھی دوہرا اجر ملے گا۔</li>
</ol>



<p>اہل کتاب کے لیے اسلام قبول کرنے کا اجر:</p>



<p>امام طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبے میں فرمایا:</p>



<p>&#8220;جس نے اہلِ کتاب میں سے اسلام قبول کیا، اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور جو مشرکوں میں سے ایمان لایا، اس کے لیے ایک اجر ہے۔&#8221;</p>



<p>چار افراد جنہیں دوہرا اجر ملے گا:</p>



<p>ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>*&#8221;چار افراد ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا:</p>



<p>نبی اکرم ﷺ کی ازواج۔</p>



<p>اہلِ کتاب میں سے جو ایمان لائے۔</p>



<p>وہ شخص جس نے اپنی باندی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کیا۔</p>



<p>غلام جو اللہ اور اپنے مالک کے حقوق ادا کرے۔&#8221;*</p>



<p>غلام کا اپنے مالک کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا اجر:</p>



<p>صحیح بخاری اور مسلم میں ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>&#8220;جب غلام اپنے مالک کے ساتھ خیرخواہی کرتا ہے اور اللہ کی عبادت کو بہتر طور پر ادا کرتا ہے، اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔&#8221;</p>



<p>ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی یہی مضمون بیان ہوا: &#8220;نیک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے۔&#8221;</p>



<p>قرآن پڑھنے والوں کا اجر:</p>



<p>صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>&#8220;ماہر قاری فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو قرآن پڑھنے میں دقت محسوس کرے، مگر پھر بھی اسے پڑھتا رہے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔&#8221;</p>



<p>امام دارمی نے اپنی &#8220;مسند&#8221; میں وہب ذماری سے روایت کی ہے:</p>



<p>&#8220;جسے اللہ نے قرآن عطا کیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت اور اس پر عمل کرتا رہا اور طاعت پر وفات پائی، تو قیامت کے دن اسے فرشتوں اور انبیاء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور جو قرآن یاد رکھنے میں مشقت برداشت کرے، مگر کوشش جاری رکھے، اسے بھی دوہرا اجر دیا جائے گا۔&#8221;</p>



<p>مجتہد حاکم کا اجر:</p>



<p>صحیح بخاری اور ابوداؤد میں عمرو بن العاص اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>&#8220;جب حاکم اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے، تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے، اور اگر اجتہاد میں خطا کرے، تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔&#8221;</p>



<p>ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور حکمرانی کی مشقت:</p>



<p>بیہقی نے &#8220;شعب الایمان&#8221; میں عبدالرزاق سے، انہوں نے معمر سے، اور انہوں نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطے سے ایک شخص سے روایت کیا، جو خاندانِ ابی ربیعہ سے تھا:</p>



<p>&#8220;جب حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو وہ اپنے گھر میں غمگین ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے شکوہ کیا: کیا آپ نے مجھے یہ ذمہ داری سونپنے پر مجبور کیا؟ ابو بکررضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کی مشکل کا شکوہ کیا۔ اس پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;حاکم جب اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے، اور اگر خطا کرے تو ایک اجر ملتا ہے۔'&#8221;</p>



<p>قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کا اجر:</p>



<p>صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت زینب، زوجہ عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;میں نبی ﷺ کے پاس آئی تو وہاں ایک انصاری عورت بھی اپنی حاجت کے لیے موجود تھی۔ بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پوچھو کہ کیا ہم اپنے شوہروں اور یتیم بچوں (جو ہماری کفالت میں ہیں) پر صدقہ کرسکتی ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: &#8216;ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کا۔'&#8221;</p>



<p>امام طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رشتہ داروں پر صدقہ کا اجر دوگنا ہے۔&#8221;</p>



<p>ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے:</p>



<p>&#8220;ایک عورت نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ کیا اس کے شوہر اور اس کے زیرِ کفالت یتیم بچوں پر صدقہ کا اجر ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: &#8216;ہاں، دو اجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کا۔'&#8221;</p>



<p>جمرة بنت قحافہ کہتی ہیں:</p>



<p>&#8220;میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں اپنے ضرورت مند شوہر کی مدد کرسکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;ہاں، تمہیں دو اجر ملیں گے۔'&#8221;</p>



<p>وضو کے فضائل اور اس کا اجر:</p>



<p>ابن ماجہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور ایک ایک بار وضو کیا، اور فرمایا: &#8216;یہ وضو کا کم از کم طریقہ ہے۔&#8217; پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: &#8216;جو ایسا کرے اسے دوہرا اجر ملے گا۔&#8217; پھر تین تین بار وضو کیا اور فرمایا: &#8216;یہ میرا وضو اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔'&#8221;</p>



<p>سعید بن منصور، احمد، اور حاکم نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;جو شخص مکمل وضو کرے، اللہ اس کا اجر دوگنا کردے گا۔&#8221;</p>



<p>مسجد کے بائیں جانب کھڑا ہونے کا اجر:</p>



<p>ابن ماجہ نے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ مسجد کے بائیں جانب (میسرہ) میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص مسجد کے بائیں جانب کو آباد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوگنا اجر لکھے گا۔'&#8221;</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص مسجد کے بائیں جانب کو، وہاں کم لوگوں کی وجہ سے، آباد کرے، اسے دو اجر ملیں گے۔'&#8221;</p>



<p>صفوں کے آداب اور اس کا اجر:</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الأوسط&#8221; میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص کسی مسلمان کو ایذا پہنچنے کے ڈر سے پہلی صف چھوڑ کر دوسری یا تیسری صف میں نماز پڑھے، اسے پہلی صف کا دوگنا اجر دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<p>نیک عمل کی سنت جاری کرنے کا اجر:</p>



<p>صحیح مسلم میں جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس نے کوئی اچھا طریقہ (سنت) جاری کیا، اسے اس کا اجر اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔'&#8221;</p>



<p>امام اور مؤذن کا اجر:</p>



<p>ابو الشیخ ابن حیان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;امام اور مؤذن کو ان تمام نمازیوں کے برابر اجر ملے گا، جو ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔'&#8221;</p>



<p>تیمم اور وضو کا واقعہ:</p>



<p>ابو داود نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;دو افراد سفر میں تھے، نماز کا وقت آیا مگر پانی موجود نہ تھا، تو انہوں نے تیمم سے نماز ادا کی۔ بعد میں پانی ملنے پر ان میں سے ایک نے وضو کرکے نماز دہرائی جبکہ دوسرے نے نہیں۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پہلے شخص سے فرمایا: &#8216;تم نے سنت کے مطابق عمل کیا، تمہاری نماز کافی ہے۔&#8217; اور دوسرے سے فرمایا: &#8216;تمہیں دوہرا اجر ملے گا۔'&#8221;</p>



<p>علم کے طالب کا اجر:</p>



<p>دارمی، بیہقی، اور طبرانی نے واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو علم حاصل کرے اور اس میں کامیاب ہو، اللہ اسے دوگنا اجر دے گا، اور جو کوشش کرے مگر کامیاب نہ ہو، اسے ایک اجر دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<p>ابو یعلی کی روایت میں مزید وضاحت ہے:</p>



<p>&#8220;جو علم حاصل کرے اور اس پر عمل کرے، اسے اس کے علم اور عمل دونوں کا اجر ملے گا، اور جو کوشش کرے مگر علم حاصل نہ کر سکے، اسے اس کے عمل کا اجر دیا جائے گا، اور جو عمل نہ ہو سکا، اس کا بوجھ اس سے ہٹا دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<p>سردی میں مکمل وضو کا اجر:</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الأوسط&#8221; میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس شخص نے سخت سردی کے موسم میں مکمل وضو کیا، اسے دوہرا اجر دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<p>جنازے کا دوہرا اجر:</p>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جنازے کے لیے (شرکت کرنے والے کو) دو اجر ملیں گے۔'&#8221;</p>



<p>جمعہ کے خطبے اور نماز کا اجر و سزا:</p>



<p>عبد الرزاق نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس نے خطبہ پالیا، اس نے جمعہ کی نماز پالی، اور جو امام کے قریب ہو کر خطبہ سنا اور خاموش رہا، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ لیکن جو نہ سنا اور نہ خاموش رہا، اس پر دوہرا گناہ ہوگا۔'&#8221;</p>



<p>غسل جمعہ کی فضیلت:</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی آئے، امام کے قریب بیٹھے اور خاموشی سے خطبہ سنے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔'&#8221;</p>



<p>احمد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان لوگوں کو بازاروں کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے درجات لکھتے ہیں۔ جو امام کے قریب بیٹھ کر خطبہ سنے اور خاموش رہے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ جو دور بیٹھ کر خاموش رہا، اسے ایک اجر ملے گا۔ اور جو قریب آکر باتوں میں مشغول رہا، اسے دوہرا گناہ ہوگا۔'&#8221;</p>



<p>امام کے قریب بیٹھنے کا اجر:</p>



<p>سعید بن منصور نے &#8220;سنن&#8221; میں مکحول سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;جو جمعہ کے خطبے میں امام کے قریب بیٹھ کر خاموش رہا، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ لیکن جو نہ سنے اور نہ خاموش رہے، اس پر دوہرا گناہ ہوگا۔ جو امام سے دور بیٹھ کر خاموش رہا، اسے ایک اجر ملے گا، اور جو سنے مگر خاموش نہ رہے، اسے دو گناہ ہوں گے۔&#8221;</p>



<p>دو شہیدوں کا اجر:</p>



<p>ابو داود نے حضرت قیس بن شماس سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;ایک خاتون ام خلاد، جو نقاب اوڑھے ہوئے تھیں، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کیا جو قتل ہو گیا تھا۔ صحابہ میں سے کسی نے کہا: &#8216;آپ اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کرنے آئی ہیں اور نقاب پہنے ہوئے ہیں؟&#8217; انہوں نے جواب دیا: &#8216;اگر میں اپنے بیٹے کو کھو چکی ہوں، تو اپنی حیا کو نہیں چھوڑ سکتی۔&#8217; رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;تمہارے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا۔&#8217; انہوں نے پوچھا: &#8216;کیوں؟&#8217; آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;کیونکہ اسے اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔'&#8221;</p>



<p>سمندری شہادت کا اجر:</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں حضرت ابو امامہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;سمندر کا شہید، خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے۔'&#8221;</p>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;جو شخص میرے ساتھ جہاد نہ کر سکا، اسے سمندر میں جہاد کرنا چاہیے، کیونکہ سمندر کا جہاد خشکی کے دو جہادوں سے بہتر ہے، اور سمندر کا شہید، خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے۔'&#8221;</p>



<p>سعید بن منصور نے &#8220;سنن&#8221; میں حضرت کعب الاحبار سے نقل کیا:</p>



<p>&#8220;سمندر کے جہاد میں جو قتل ہو یا غرق ہو جائے، اسے دو شہیدوں کا اجر ملتا ہے۔&#8221;</p>



<p>خیر کے کام میں جلدی کرنے کا اجر:</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الأوسط&#8221; میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جب تم خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے کا ارادہ کرو، تو ننگے پاؤں چلنا بہتر ہے، کیونکہ اللہ ننگے پاؤں چلنے والے کا اجر دوگنا کر دیتا ہے۔'&#8221;</p>



<p>جمعہ کے غسل کا اجر:</p>



<p>سعید بن منصور نے &#8220;سنن&#8221; میں مکحول سے روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;جو شخص جمعہ کے دن جنابت سے غسل کرے، اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔'&#8221;</p>



<p>بیہقی نے &#8220;شعب الإيمان&#8221; میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;کیا تم میں سے کوئی ہر جمعہ اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم نہیں کر سکتا؟ اس میں دو اجر ہیں: ایک غسل کا اور دوسرا اس کی بیوی کے غسل کا۔'&#8221;</p>



<p>قرآن پڑھنے اور سننے کا اجر:</p>



<p>دارمی نے &#8220;مسند&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;قرآن پڑھنے والے کے لیے ایک اجر ہے، اور سننے والے کے لیے دو اجر ہیں۔'&#8221;</p>



<p>اللہ کی راہ میں جہاد کا دوہرا اجر:</p>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>&#8220;یحییٰ بن یونس، امام اوزاعی، اور حسان بن عطیہ سے روایت ہے کہ فروہ اللخمی نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو بھی سریہ (چھوٹا لشکر) اللہ کی راہ میں نکلا اور واپس آیا، حالانکہ اسے کچھ ہاتھ نہ آیا (یعنی غنیمت حاصل نہ ہوئی)، تب بھی اسے دوگنا اجر ملے گا۔'&#8221;</p>



<p>&#8220;أخفق&#8221; کا مطلب ہے ناکام ہونا، جیسا کہ صحاح میں وضاحت ہے:</p>



<p>&#8220;جیسے کوئی جہاد میں گیا اور کچھ نہ پایا، یا شکاری شکار حاصل کئے بغیر واپس آیا۔&#8221;</p>



<p>عصر کی نماز کی فضیلت:</p>



<p>عبد الرزاق نے &#8220;المصنف&#8221; میں حضرت یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: &#8216;یہی وہ نماز ہے جو تم سے پہلے والوں پر فرض کی گئی تھی، یعنی عصر کی نماز۔ لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ جو آج اس کی حفاظت کرے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔'&#8221;</p>



<p>مسلم اور نسائی نے حضرت ابو بصرة الغفاری سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: &#8216;یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی، لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ خبردار! جو بھی اس نماز کو قائم کرے، اس کا اجر دوگنا ہوگا۔'&#8221;</p>



<p>متقی مومن کے لیے دوہرا اجر:</p>



<p>ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;جب ایک مومن پرہیزگار ہو اور اللہ اسے مال دے، تو اللہ اسے دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔&#8221; اور اس کے بعد انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی:</p>



<p>&#8220;اور نہ تمہارے اموال اور نہ تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے قریب کر سکیں گے، مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، ان کے لیے دوگنا اجر ہے۔(سورہ سبأ: 37)</p>



<p>یہ دوگنا اجر نیکیوں کے دوہرے اجر کو بیان کرتا ہے۔</p>



<p>عامر بن الأكوع کا واقعہ:</p>



<p>بخاری اور مسلم میں سلمة بن الأكوع سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف گئے۔ عامر بن الأكوع کا تلوار کا پھل چھوٹا تھا۔ انہوں نے ایک یہودی کی پنڈلی کو مارنے کی کوشش کی، لیکن تلوار الٹ کر ان کے اپنے گھٹنے پر لگی اور وہ وفات پا گئے۔ میں نے کہا: &#8216;یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں کہ عامر کا عمل ضائع ہو گیا؟&#8217; آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس نے یہ کہا، جھوٹ بولا۔ عامر کے لیے دو اجر ہیں؛ وہ مجاہد تھا۔'&#8221;</p>



<p><strong>کھانے سے پہلے اور بعد وضو کی فضیلت</strong><strong>:</strong></p>



<p>حاکم نے &#8220;تاریخ نیشاپور&#8221; میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;کھانے سے پہلے وضو کرنا ایک نیکی ہے، اور کھانے کے بعد وضو کرنا کئی نیکیوں کا سبب ہے۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p>اس حدیث کی تشریح میں ایک نکتہ بیان کیا گیا کہ پہلے وضو کا عمل پچھلی شریعتوں میں تھا، جب کہ بعد کا وضو اسلامی شریعت کا حصہ ہے، جس کی بنا پر اس کا اجر زیادہ ہے۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق بھی تورات میں کھانے کے وضو کی برکت کا ذکر ہے، اور یہ بات اجر میں دوگنا کرنے کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے۔ جیسے <em>یوم عاشوراء</em> کے روزے کو ایک سال کی کفارہ قرار دیا گیا، اور <em>یوم عرفہ</em> کے روزے کو دو سال کا۔</p>



<hr class="wp-block-separator has-alpha-channel-opacity"/>



<p><strong>نیک عمل کے خفیہ اور ظاہر ہونے پر دوہرا اجر</strong><strong>:</strong></p>



<p>ترمذی اور ابو نعیم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: &#8216;اگر کوئی شخص نیک عمل خفیہ کرے اور بعد میں اس کے ظاہر ہونے پر خوش ہو تو کیا یہ عمل قابل قبول ہے؟&#8217; نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: &#8216;اسے دو اجر ملیں گے؛ ایک خفیہ کرنے کا، اور دوسرا علانیہ ظاہر ہونے کا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p>ابن ابی شیبہ نے بھی اسی مفہوم کی روایت نقل کی، جہاں صحابہ نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص خفیہ نیکیاں کرے اور لوگ ان کا تذکرہ کریں، اور یہ بات اس کے لیے خوشی کا باعث ہو، تو کیا وہ اجر پائے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: <em>&#8220;</em><em>تمہیں خفیہ اور علانیہ دونوں کے اجر ملیں گے۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p><strong>زمانے کے بدلنے کے ساتھ اجر کا فرق</strong><strong>:</strong></p>



<p>سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>اے لوگو! تم ایسے زمانے میں ہو کہ جو اللہ کی عبادت کرے، اسے ایک اجر ملتا ہے۔ لیکن تمہارے بعد ایسا زمانہ آئے گا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے کو دو اجر ملیں گے۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p><strong>جنازے میں شرکت کا اجر</strong><strong>:</strong></p>



<p>عبداللہ بن ریاح انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:<br /><em>&#8220;</em><em>جنازے کے ساتھ پیدل چلنے والے کے لیے دو قیراط (نیکیوں کے بڑے حصے) کا اجر ہے، اور سواری پر چلنے والے کے لیے ایک قیراط۔</em><em>&#8220;</em> (ابن ابی شیبہ، &#8220;المصنف&#8221;)</p>



<p>محمد بن سیرین نے بھی جنازے کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا:<br /><em>&#8220;</em><em>اگر کوئی شخص جنازے کے ساتھ محض خاندان کی شرم کی وجہ سے چلے، تو کیا اسے اجر ملے گا؟&#8221; انہوں نے فرمایا: &#8216;ہاں، اسے دو اجر ملیں گے؛ ایک نماز جنازہ کا، اور دوسرا زندہ افراد سے تعلق نبھانے کا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p><strong>جمعہ کے دن نیکیوں اور برائیوں کا دُگنا ہونا</strong><strong>:</strong></p>



<p>ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حضرت کعب سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>جمعہ کے دن صدقہ کا اجر دوگنا ہو جاتا ہے۔ اس دن نیکیوں کے ساتھ برائیوں کا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p>اسی مفہوم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:<br /><em>&#8220;</em><em>جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، اور جب وہ نماز کے لیے قدم اٹھاتا ہے، تو ہر قدم کے بدلے اسے بیس نیکیاں ملتی ہیں۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p><strong>جنازے میں شرکت کا اجر</strong><strong>:</strong></p>



<p>ابن ابی الدنیا نے &#8220;کتاب ذکر الموت&#8221; میں یحییٰ بن عتیق سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>میں نے محمد بن سیرینؒ سے پوچھا: اگر کوئی شخص جنازے میں صرف اہلِ خانہ کے لحاظ سے شرکت کرے، تو کیا اسے اجر ملے گا؟&#8221; محمد بن سیرینؒ نے جواب دیا: &#8216;ہاں، اسے دو اجر ملیں گے؛ ایک بھائی کے لیے نماز جنازہ کا، اور دوسرا زندہ افراد سے تعلق نبھانے کا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p><strong>قرآن مجید کی قرأت کے درجے</strong><strong>:</strong></p>



<p>طبرانی اور بیہقی نے حضرت اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;اگر کوئی شخص بغیر مصحف (یاد سے) قرآن پڑھتا ہے تو اسے ایک ہزار درجے کا اجر ملے گا، اور اگر وہ مصحف سے پڑھتا ہے، تو اجر دگنا ہو کر دو ہزار درجے تک پہنچ جائے گا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p>بیہقی نے ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br /><em>&#8220;</em><em>جو قرآن پڑھ کر اس کے معانی کو سمجھ لے، اسے ہر حرف کے بدلے بیس نیکیاں ملتی ہیں۔ اور جو بغیر سمجھے پڑھے، اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p>اس سے مراد قرآن کے الفاظ کا مفہوم سمجھنا ہے نہ کہ صرف لحن (عربی گرامر) پر مہارت۔ جیسا کہ حدیثِ ابن مسعودرضی اللہ عنہ میں آیا:<br /><em>&#8220;</em><em>جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھائی جاتی ہے۔(</em>ترمذی)</p>



<p><strong>نیک نیت پر دوہرا اجر</strong><strong>:</strong></p>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں امام اوزاعیؒ سے ایک واقعہ نقل کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>میں نے ایک لونڈی خریدی اور شرط رکھی کہ اسے بیچوں گا نہیں، تحفے میں نہیں دوں گا، اور نہ ہی حقِ مہر بناؤں گا؛ اور اگر میں مر گیا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔ میں نے حکم بن عتیبہ اور مکحولؒ سے اس بارے میں دریافت کیا، اور انہوں نے فرمایا: &#8216;یہ عمل درست ہے اور تمہیں اس کا دوہرا اجر ملے گا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p><strong>حج کا اجر</strong><strong>:</strong></p>



<p>احمد نے معتبر سند کے ساتھ ابن عمررضی اللہ عنہماسے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;مجھے معلوم ہے کہ ایک جگہ ہے جسے عمان کہا جاتا ہے، اور وہاں سے حج کا اجر دیگر علاقوں کے حج کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p><strong>حاکم کا امتحان اور جزا</strong><strong>:</strong></p>



<p>طبرانی نے حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br /><em>&#8220;</em><em>قیامت کے دن حاکم کو پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا۔ پل جھٹکے سے لرزے گا، جس سے اس کا ہر جوڑ اپنی جگہ سے ہل جائے گا۔ اگر وہ اطاعت گزار ہوگا، تو اسے دوہرا اجر دیا جائے گا اور پل سے نجات پائے گا۔ لیکن اگر نافرمان ہوا، تو پل اس کے نیچے ٹوٹ جائے گا، اور وہ جہنم میں ستر سال گرتا چلا جائے گا۔</em><em>&#8220;</em><em></em></p>



<p><em>وہ لوگ جو دوہرا اجر پاتے ہیں،</em><em><br /></em><em>سب جمع ہیں ان باتوں کے بیچ، احادیث میں جن کا ذکر آیا،تیس سے زائد یہ اقوال، نظم میں میں نے ان کو سمایا۔</em><em>&#8220;</em><em></em></p>



<p>&nbsp; وجميع آتى فيما رويناه أنهم ۔۔۔۔۔۔۔ يثنى لهم أجر جود محققاً</p>



<p>اور سب ان لوگوں کو آتا ہے جو ہم نے روایت کی ہے کہ وہ (دو) اجر پائیں گے۔ان کے لیے صدقہ دینے کا اجر دوہرا ہوتا ہے۔</p>



<p>&nbsp; فأزواج خير الخلق أولهم ومن ۔۔۔۔۔۔۔ على زوجها أو للقريب تصدقا</p>



<p>اور سب سے پہلے ان کی بیویاں، جو بہترین مخلوق ہیں۔جو اپنے شوہر پر یا قریبیوں پر صدقہ دیتی ہیں۔</p>



<p>&nbsp; وفاز بجهد ذو اجتهاد أصاب ورد ۔۔۔۔۔۔۔ وضوء اثنين والكتابى صدقا</p>



<p>اور محنت کرنے والا کامیاب ہوتا ہے جو کوشش کرتا ہے اور نیکیوں کو حاصل کرتا ہے۔اور دو مرتبہ &nbsp;(وضو ہوتے ہوئے تازہ) وضوکرنے والا، اور کتابی جو صدقہ دیتا ہے۔</p>



<p>&nbsp; وعبد آتى حق الإله وسيد ۔۔۔۔۔۔۔ وعامر يسوى مع غنى له تقى<br />اور وہ غلام جو اپنے خدا کا حق ادا کرتا ہے اور آقا کا بھی اور امیر جو اپنے غنی ہونے کے باوجود تقویٰ اختیار کرتا ہے۔</p>



<p>&nbsp; ومن أمة بسرى فأدب محسناً ۔۔۔۔۔۔۔ وينكحها من بعده حين اعتقا</p>



<p>اور ایک باندی جو اچھے سلوک سے ادب سیکھتی ہے۔اور بعد میں اس سے شادی کرتا ہے جب وہ آزاد ہو جائے۔</p>



<p>&nbsp; ومن سن خيراً أو أعاد صلاته ۔۔۔۔۔۔۔ كذاك جبان إذ بجاهر ذا شقا</p>



<p>اور جو کسی نیکی کی بنیاد رکھتا ہے یا اپنی نماز کو دوبارہ ادا کرتا ہےاسی طرح جو بزدل ہے جب وہ کسی مشکل کا سامنا کرتا ہے۔</p>



<p>&nbsp; كذاك شهيد فى البحر ومن أتى ۔۔۔۔۔۔۔ له القتل من أهل الكتاب فألحقا<br />اسی طرح سمندر میں شہید ہونے والا اور جو آئےجسے اہل کتاب میں سے قتل کیا گیا، تو اسے شامل کر لیا جائے گا۔</p>



<p>وطالب علم مدرك ثم مسبغ ۔۔۔۔۔۔۔ وضوء لدى البرد الشديد فحققا</p>



<p>اور علم کا طالب جو کامیاب ہو اور پھر مکمل وضو کرےسردی میں وضو کرے تو اس کا اجر حق میں ہے۔</p>



<p>ومستمع بخطبة قد دنا ومن ۔۔۔۔۔۔۔ بتأخير صف أول مسلما وقى</p>



<p>اور جو خطبہ سننے کے لیے قریب ہوتا ہے، اورجو صف اول میں مسلمان کی حیثیت سے پیچھے رہتا ہے۔</p>



<p>وحافظ عصر مع إمام مؤذن ۔۔۔۔۔۔۔ ومن كان فى وقت الفساد موفقاً</p>



<p>اور ایک عصر کی نماز کا محافظ جو امام اور مؤذن کے ساتھ ہےاور جو فتنوں کے وقت میں کامیاب ہوتا ہے۔</p>



<p>وكامل خير محسفاً ثم إن بدا ۔۔۔۔۔۔۔ يرى فرحاً مستبشراً بالذى ارتقا</p>



<p>اور ایک بہترین شخص جو پھر جب ظاہر ہو جائےوہ خوشی اور مسرت سے دیکھتا ہے جو اسے حاصل ہوا۔</p>



<p>ومغتسل فى جمعة عن جنابة ۔۔۔۔۔۔۔ ومن فيه حقاً قد غدا متصدقاً</p>



<p>اور جمعہ کے دن جنابت سے غسل کرنے والااور جو اس میں حقیقی طور پر صدقہ دینے والا ہوتا ہے۔</p>



<p>&nbsp; وماش يصلى جمعة ثم من أتى ۔۔۔۔۔۔۔ بهذا اليوم خيراً ما فضعفه مطلقا</p>



<p>اور جو جمعہ کی نماز پڑھتا ہے، پھراس دن نیکی کرتا ہے، تو اس کا اجر کبھی کم نہیں ہوتا۔</p>



<p>&nbsp; ومن حتفه قد جاء من سلاحه ۔۔۔۔۔۔۔ ونازع فعل إن الخير تسبقا</p>



<p>اور جو اپنی ہتھیاروں کے ساتھ آیا ہےاور اگر نیکی کا موقع ملے تو وہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔</p>



<p>وماش لدى تشييع ميت وغاسل ۔۔۔۔۔۔۔ يداً بعد أكل والمجاهد إذ فقا</p>



<p>اور جو میت کو غسل دینے اور دفن کرنے کے وقت ہوتا ہےاور کھانے کے بعد ہاتھ لگا کر اور مجاہد جب برپا ہوتا ہے۔</p>



<p>ومشيع ميتا حياء من أهله ۔۔۔۔۔۔۔ ومستمع القرآن فيما روى التقى</p>



<p>اور میت کو ساتھ لے جانے والا، اپنے اہل کی حیا سےاور قرآن کو سنتے ہوئے، جیسا کہ اس میں علم ہے۔</p>



<p>وفى مصحف يقرأ وقارئه معربا ۔۔۔۔۔۔۔ بتفهيم معناه الشريف محققا</p>



<p>اور ایک مصحف میں پڑھتا ہے، اور پڑھنے والا اس کے معانی کی وضاحت کرتا ہے۔اور اس کے شریف معانی کو سمجھانے والا ہوتا ہے۔</p>



<p>تم بحمد الله</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&amp;linkname=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25b9-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%258a%25d9%2586-%25d9%2581%25d9%258a%25d9%2585%25d9%2586-%25d9%258a%25d8%25a4%25d8%25aa%25d9%2589-%25d8%25a3%25d8%25ac%25d8%25b1%25d9%2587-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%258a%25d9%2586%2F&#038;title=%E2%80%9C%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%AF%D9%88%20%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%AA%DB%92%20%DA%86%D8%A7%D9%86%D8%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A2%D8%BA%D8%A7%D8%B2%E2%80%9D" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b7%d9%84%d8%b9-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%af%d8%b1%d9%8a%d9%86-%d9%81%d9%8a%d9%85%d9%86-%d9%8a%d8%a4%d8%aa%d9%89-%d8%a3%d8%ac%d8%b1%d9%87-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d9%8a%d9%86/" data-a2a-title="“دوہرا  اجر پانے والوں کے بیان میں دو چمکتے چاندوں کا آغاز”"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b7%d9%84%d8%b9-%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%af%d8%b1%d9%8a%d9%86-%d9%81%d9%8a%d9%85%d9%86-%d9%8a%d8%a4%d8%aa%d9%89-%d8%a3%d8%ac%d8%b1%d9%87-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d9%8a%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دوہرا  اجر پانے والے</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%db%81%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%db%81%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Oct 2024 09:40:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[امام اور مؤذن کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[امام کے قریب بیٹھنے کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان اور عمل صالح کے ساتھ]]></category>
		<category><![CDATA[تین افراد دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[جمعہ کے دن نیکیوں اور برائیوں کا دُگنا ہونا]]></category>
		<category><![CDATA[جنازے کا دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[جنازے میں شرکت کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[حاکم کا امتحان اور جزا]]></category>
		<category><![CDATA[حج کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[خیر کے کام میں جلدی کرنے کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[دو شہیدوں کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[زمانے کے بدلنے کے ساتھ اجر کا فرق]]></category>
		<category><![CDATA[سردی میں مکمل وضو کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[سمندری شہادت کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[صفوں کے آداب اور اس کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[علم کے طالب کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن پڑھنے اور سننے کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن پڑھنے کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[کھانے سے پہلے اور بعد وضو کی فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[متقی مومن کے لیے دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[مجتہد حاکم کا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[نیک عمل کے خفیہ اور ظاہر ہونے پر دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[نیک نیت پر دوہرا اجر]]></category>
		<category><![CDATA[وضو کے فضائل اور اس کا اجر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9196</guid>

					<description><![CDATA[&#8220;مطلع البدرين فيمن يؤتى أجره مرتين&#8220; &#8220;دوہرا  اجر پانے والوں کے بیان میں دو چمکتے چاندوں کا آغاز&#8221; بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کی حمد اور اس کے برگزیدہ  بندوں پر سلامتی کے بعد، موضوع یہ ہے کہ ایسے افراد <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%db%81%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><strong>&#8220;</strong><strong>مطلع البدرين فيمن يؤتى أجره مرتين</strong><strong>&#8220;</strong></p>



<h2 class="wp-block-heading">&#8220;دوہرا  اجر پانے والوں کے بیان میں دو چمکتے چاندوں کا آغاز&#8221;</h2>



<p><strong>بسم اللہ الرحمن الرحیم</strong></p>



<p>اللہ کی حمد اور اس کے برگزیدہ  بندوں پر سلامتی کے بعد، موضوع یہ ہے کہ ایسے افراد کون ہیں جنہیں اللہ دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔ اس حوالے سے دس ایسے افراد یا طبقات کا ذکر کئی احادیث میں آیا ہے، اور میں نے انہیں اشعار میں بیان کیا ہے۔ بعد میں کچھ مزید مثالیں سامنے آئیں، تو میں نے انہیں اس مختصر رسالے میں جمع کرنے کا ارادہ کیا، اور اللہ سے مدد کا طلبگار ہوں۔</p>



<h3><strong>قرآن میں دوہرا اجر پانے والے افراد کا تذکرہ </strong></h3>



<h2 class="wp-block-heading"> </h2>



<p><strong>نبی اکرم ﷺ کی ازواج  مطہرات سے </strong>اللہ تعالیٰ نے فرمایا:</p>



<p>وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ وَأَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِيمًا<br /><em>&#8220;</em><em>اور جو تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے، ہم اسے دوہرا اجر عطا کریں گے&#8221; (الاحزاب 31)</em></p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>اہل ایمان کے لیے خطاب</strong><strong>:</strong></li>
</ul>



<p>يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ<br /><em>&#8220;</em><em>اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، تمہیں دوہری رحمت عطا فرمائی جائے گی&#8221; (الحدید 28)</em></p>



<ul class="wp-block-list">
<li><strong>اہل کتاب جو ایمان لائیں</strong><strong>:</strong></li>
</ul>



<p>الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ  وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ                             أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ<br /><em>&#8220;</em><em>جنہیں ہم نے کتاب دی اور وہ اس پر ایمان لائے، اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ حق ہے، وہ اپنے دوہرے اجر کے مستحق ہیں&#8221; (القصص 52-54)</em></p>



<ul class="wp-block-list">
<li>
<h3><strong>ایمان اور عمل صالح کے ساتھ</strong><strong>:</strong></h3>
</li>
</ul>







<p>وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا<br /><em>&#8220;</em><em>تمہارے مال اور اولاد تمہیں ہمارے قریب نہیں کریں گے، سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، انہیں ان کے اعمال کا دوہرا اجر دیا جائے گا&#8221; (سبأ 37)</em></p>


<hr class="wp-block-separator has-alpha-channel-opacity" />


<h2><strong>تین افراد جنہیں دوہرا اجر ملتا ہے</strong></h2>



<p>صحیح بخاری و مسلم میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br /><strong>تین افراد ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا</strong><strong>:</strong></p>



<ol class="wp-block-list">
<li><strong>اہل کتاب سےایمان لانے والا</strong><strong>:</strong><br />جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور پھر نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ایمان لاکر آپ کو مانا اور تصدیق کی، اسے دوہرا اجر ملے گا۔</li>



<li><strong>مملوک غلام</strong><strong>:</strong><br />جو اللہ کے حقوق اور اپنے مالک کے حقوق ادا کرے، اسے دوہرا اجر دیا جائے گا۔</li>



<li><strong>وہ شخص جس نے اپنی باندی کو آزاد کیا اور نکاح کیا</strong><strong>:</strong><br />اگر وہ باندی کو عمدہ تربیت دے، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کرے، تو اسے بھی دوہرا اجر ملے گا۔</li>
</ol>



<p>اہل کتاب کے لیے اسلام قبول کرنے کا اجر:</p>



<p>امام طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبے میں فرمایا:</p>



<p>&#8220;جس نے اہلِ کتاب میں سے اسلام قبول کیا، اس کے لیے دوہرا اجر ہے، اور جو مشرکوں میں سے ایمان لایا، اس کے لیے ایک اجر ہے۔&#8221;</p>



<p>چار افراد جنہیں دوہرا اجر ملے گا:</p>



<p>ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>*&#8221;چار افراد ہیں جنہیں دوہرا اجر ملے گا:</p>



<p>نبی اکرم ﷺ کی ازواج۔</p>



<p>اہلِ کتاب میں سے جو ایمان لائے۔</p>



<p>وہ شخص جس نے اپنی باندی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کیا۔</p>



<p>غلام جو اللہ اور اپنے مالک کے حقوق ادا کرے۔&#8221;*</p>



<p>غلام کا اپنے مالک کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا اجر:</p>



<p>صحیح بخاری اور مسلم میں ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>&#8220;جب غلام اپنے مالک کے ساتھ خیرخواہی کرتا ہے اور اللہ کی عبادت کو بہتر طور پر ادا کرتا ہے، اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔&#8221;</p>



<p>ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی یہی مضمون بیان ہوا: &#8220;نیک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے۔&#8221;</p>



<h3>قرآن پڑھنے والوں کا اجر:</h3>



<p>صحیح بخاری و مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>&#8220;ماہر قاری فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو قرآن پڑھنے میں دقت محسوس کرے، مگر پھر بھی اسے پڑھتا رہے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔&#8221;</p>



<p>امام دارمی نے اپنی &#8220;مسند&#8221; میں وہب ذماری سے روایت کی ہے:</p>



<p>&#8220;جسے اللہ نے قرآن عطا کیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت اور اس پر عمل کرتا رہا اور طاعت پر وفات پائی، تو قیامت کے دن اسے فرشتوں اور انبیاء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور جو قرآن یاد رکھنے میں مشقت برداشت کرے، مگر کوشش جاری رکھے، اسے بھی دوہرا اجر دیا جائے گا۔&#8221;</p>



<h3>مجتہد حاکم کا اجر:</h3>



<p>صحیح بخاری اور ابوداؤد میں عمرو بن العاص اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>&#8220;جب حاکم اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے، تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے، اور اگر اجتہاد میں خطا کرے، تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔&#8221;</p>



<p>ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت اور حکمرانی کی مشقت:</p>



<p>بیہقی نے &#8220;شعب الایمان&#8221; میں عبدالرزاق سے، انہوں نے معمر سے، اور انہوں نے موسیٰ بن ابراہیم کے واسطے سے ایک شخص سے روایت کیا، جو خاندانِ ابی ربیعہ سے تھا:</p>



<p>&#8220;جب حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو وہ اپنے گھر میں غمگین ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ان سے شکوہ کیا: کیا آپ نے مجھے یہ ذمہ داری سونپنے پر مجبور کیا؟ ابو بکررضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے کی مشکل کا شکوہ کیا۔ اس پر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;حاکم جب اجتہاد کرے اور درست فیصلہ کرے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے، اور اگر خطا کرے تو ایک اجر ملتا ہے۔'&#8221;</p>



<h3>قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کا اجر:</h3>



<p>صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت زینب، زوجہ عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;میں نبی ﷺ کے پاس آئی تو وہاں ایک انصاری عورت بھی اپنی حاجت کے لیے موجود تھی۔ بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ہم نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ سے پوچھو کہ کیا ہم اپنے شوہروں اور یتیم بچوں (جو ہماری کفالت میں ہیں) پر صدقہ کرسکتی ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: &#8216;ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کا۔'&#8221;</p>



<p>امام طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رشتہ داروں پر صدقہ کا اجر دوگنا ہے۔&#8221;</p>



<p>ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے:</p>



<p>&#8220;ایک عورت نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ کیا اس کے شوہر اور اس کے زیرِ کفالت یتیم بچوں پر صدقہ کا اجر ہوگا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: &#8216;ہاں، دو اجر ملیں گے، ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقہ کا۔'&#8221;</p>



<p>جمرة بنت قحافہ کہتی ہیں:</p>



<p>&#8220;میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں اپنے ضرورت مند شوہر کی مدد کرسکتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;ہاں، تمہیں دو اجر ملیں گے۔'&#8221;</p>



<h3>وضو کے فضائل اور اس کا اجر:</h3>



<p>ابن ماجہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور ایک ایک بار وضو کیا، اور فرمایا: &#8216;یہ وضو کا کم از کم طریقہ ہے۔&#8217; پھر دو دو بار وضو کیا اور فرمایا: &#8216;جو ایسا کرے اسے دوہرا اجر ملے گا۔&#8217; پھر تین تین بار وضو کیا اور فرمایا: &#8216;یہ میرا وضو اور مجھ سے پہلے انبیاء کا وضو ہے۔'&#8221;</p>



<p>سعید بن منصور، احمد، اور حاکم نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;جو شخص مکمل وضو کرے، اللہ اس کا اجر دوگنا کردے گا۔&#8221;</p>



<p>مسجد کے بائیں جانب کھڑا ہونے کا اجر:</p>



<p>ابن ماجہ نے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا کہ مسجد کے بائیں جانب (میسرہ) میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص مسجد کے بائیں جانب کو آباد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوگنا اجر لکھے گا۔'&#8221;</p>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص مسجد کے بائیں جانب کو، وہاں کم لوگوں کی وجہ سے، آباد کرے، اسے دو اجر ملیں گے۔'&#8221;</p>



<h3>صفوں کے آداب اور اس کا اجر:</h3>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الأوسط&#8221; میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص کسی مسلمان کو ایذا پہنچنے کے ڈر سے پہلی صف چھوڑ کر دوسری یا تیسری صف میں نماز پڑھے، اسے پہلی صف کا دوگنا اجر دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<p>نیک عمل کی سنت جاری کرنے کا اجر:</p>



<p>صحیح مسلم میں جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس نے کوئی اچھا طریقہ (سنت) جاری کیا، اسے اس کا اجر اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی ملے گا، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو۔'&#8221;</p>



<h3>امام اور مؤذن کا اجر:</h3>



<p>ابو الشیخ ابن حیان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;امام اور مؤذن کو ان تمام نمازیوں کے برابر اجر ملے گا، جو ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔'&#8221;</p>



<p>تیمم اور وضو کا واقعہ:</p>



<p>ابو داود نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;دو افراد سفر میں تھے، نماز کا وقت آیا مگر پانی موجود نہ تھا، تو انہوں نے تیمم سے نماز ادا کی۔ بعد میں پانی ملنے پر ان میں سے ایک نے وضو کرکے نماز دہرائی جبکہ دوسرے نے نہیں۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے پہلے شخص سے فرمایا: &#8216;تم نے سنت کے مطابق عمل کیا، تمہاری نماز کافی ہے۔&#8217; اور دوسرے سے فرمایا: &#8216;تمہیں دوہرا اجر ملے گا۔'&#8221;</p>



<h3>علم کے طالب کا اجر:</h3>



<p>دارمی، بیہقی، اور طبرانی نے واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو علم حاصل کرے اور اس میں کامیاب ہو، اللہ اسے دوگنا اجر دے گا، اور جو کوشش کرے مگر کامیاب نہ ہو، اسے ایک اجر دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<p>ابو یعلی کی روایت میں مزید وضاحت ہے:</p>



<p>&#8220;جو علم حاصل کرے اور اس پر عمل کرے، اسے اس کے علم اور عمل دونوں کا اجر ملے گا، اور جو کوشش کرے مگر علم حاصل نہ کر سکے، اسے اس کے عمل کا اجر دیا جائے گا، اور جو عمل نہ ہو سکا، اس کا بوجھ اس سے ہٹا دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<h3>سردی میں مکمل وضو کا اجر:</h3>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الأوسط&#8221; میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس شخص نے سخت سردی کے موسم میں مکمل وضو کیا، اسے دوہرا اجر دیا جائے گا۔'&#8221;</p>



<h3>جنازے کا دوہرا اجر:</h3>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جنازے کے لیے (شرکت کرنے والے کو) دو اجر ملیں گے۔'&#8221;</p>



<p>جمعہ کے خطبے اور نماز کا اجر و سزا:</p>



<p>عبد الرزاق نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس نے خطبہ پالیا، اس نے جمعہ کی نماز پالی، اور جو امام کے قریب ہو کر خطبہ سنا اور خاموش رہا، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ لیکن جو نہ سنا اور نہ خاموش رہا، اس پر دوہرا گناہ ہوگا۔'&#8221;</p>



<h3>غسل جمعہ کی فضیلت:</h3>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی آئے، امام کے قریب بیٹھے اور خاموشی سے خطبہ سنے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔'&#8221;</p>



<p>احمد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;جب جمعہ کا دن آتا ہے تو شیطان لوگوں کو بازاروں کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ فرشتے مسجد کے دروازوں پر کھڑے ہو کر آنے والوں کے درجات لکھتے ہیں۔ جو امام کے قریب بیٹھ کر خطبہ سنے اور خاموش رہے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ جو دور بیٹھ کر خاموش رہا، اسے ایک اجر ملے گا۔ اور جو قریب آکر باتوں میں مشغول رہا، اسے دوہرا گناہ ہوگا۔'&#8221;</p>



<h3>امام کے قریب بیٹھنے کا اجر:</h3>



<p>سعید بن منصور نے &#8220;سنن&#8221; میں مکحول سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;جو جمعہ کے خطبے میں امام کے قریب بیٹھ کر خاموش رہا، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ لیکن جو نہ سنے اور نہ خاموش رہے، اس پر دوہرا گناہ ہوگا۔ جو امام سے دور بیٹھ کر خاموش رہا، اسے ایک اجر ملے گا، اور جو سنے مگر خاموش نہ رہے، اسے دو گناہ ہوں گے۔&#8221;</p>



<h3>دو شہیدوں کا اجر:</h3>



<p>ابو داود نے حضرت قیس بن شماس سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;ایک خاتون ام خلاد، جو نقاب اوڑھے ہوئے تھیں، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کیا جو قتل ہو گیا تھا۔ صحابہ میں سے کسی نے کہا: &#8216;آپ اپنے بیٹے کے بارے میں سوال کرنے آئی ہیں اور نقاب پہنے ہوئے ہیں؟&#8217; انہوں نے جواب دیا: &#8216;اگر میں اپنے بیٹے کو کھو چکی ہوں، تو اپنی حیا کو نہیں چھوڑ سکتی۔&#8217; رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;تمہارے بیٹے کو دو شہیدوں کا اجر ملے گا۔&#8217; انہوں نے پوچھا: &#8216;کیوں؟&#8217; آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;کیونکہ اسے اہل کتاب نے قتل کیا ہے۔'&#8221;</p>



<h3>سمندری شہادت کا اجر:</h3>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الکبیر&#8221; میں حضرت ابو امامہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;سمندر کا شہید، خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے۔'&#8221;</p>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;جو شخص میرے ساتھ جہاد نہ کر سکا، اسے سمندر میں جہاد کرنا چاہیے، کیونکہ سمندر کا جہاد خشکی کے دو جہادوں سے بہتر ہے، اور سمندر کا شہید، خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے۔'&#8221;</p>



<p>سعید بن منصور نے &#8220;سنن&#8221; میں حضرت کعب الاحبار سے نقل کیا:</p>



<p>&#8220;سمندر کے جہاد میں جو قتل ہو یا غرق ہو جائے، اسے دو شہیدوں کا اجر ملتا ہے۔&#8221;</p>



<h3>خیر کے کام میں جلدی کرنے کا اجر:</h3>



<p>طبرانی نے &#8220;المعجم الأوسط&#8221; میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جب تم خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے کا ارادہ کرو، تو ننگے پاؤں چلنا بہتر ہے، کیونکہ اللہ ننگے پاؤں چلنے والے کا اجر دوگنا کر دیتا ہے۔'&#8221;</p>



<h3>جمعہ کے غسل کا اجر:</h3>



<p>سعید بن منصور نے &#8220;سنن&#8221; میں مکحول سے روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;جو شخص جمعہ کے دن جنابت سے غسل کرے، اسے دوہرا اجر ملتا ہے۔'&#8221;</p>



<p>بیہقی نے &#8220;شعب الإيمان&#8221; میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;کیا تم میں سے کوئی ہر جمعہ اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم نہیں کر سکتا؟ اس میں دو اجر ہیں: ایک غسل کا اور دوسرا اس کی بیوی کے غسل کا۔'&#8221;</p>



<h3>قرآن پڑھنے اور سننے کا اجر:</h3>



<p>دارمی نے &#8220;مسند&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;قرآن پڑھنے والے کے لیے ایک اجر ہے، اور سننے والے کے لیے دو اجر ہیں۔'&#8221;</p>



<h3>اللہ کی راہ میں جہاد کا دوہرا اجر:</h3>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں روایت کیا:</p>



<p>&#8220;یحییٰ بن یونس، امام اوزاعی، اور حسان بن عطیہ سے روایت ہے کہ فروہ اللخمی نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو بھی سریہ (چھوٹا لشکر) اللہ کی راہ میں نکلا اور واپس آیا، حالانکہ اسے کچھ ہاتھ نہ آیا (یعنی غنیمت حاصل نہ ہوئی)، تب بھی اسے دوگنا اجر ملے گا۔'&#8221;</p>



<p>&#8220;أخفق&#8221; کا مطلب ہے ناکام ہونا، جیسا کہ صحاح میں وضاحت ہے:</p>



<p>&#8220;جیسے کوئی جہاد میں گیا اور کچھ نہ پایا، یا شکاری شکار حاصل کئے بغیر واپس آیا۔&#8221;</p>



<h3>عصر کی نماز کی فضیلت:</h3>



<p>عبد الرزاق نے &#8220;المصنف&#8221; میں حضرت یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: &#8216;یہی وہ نماز ہے جو تم سے پہلے والوں پر فرض کی گئی تھی، یعنی عصر کی نماز۔ لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ جو آج اس کی حفاظت کرے، اسے دوہرا اجر ملے گا۔ اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔'&#8221;</p>



<p>مسلم اور نسائی نے حضرت ابو بصرة الغفاری سے روایت کیا:</p>



<p>&#8220;رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور فرمایا: &#8216;یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی، لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ خبردار! جو بھی اس نماز کو قائم کرے، اس کا اجر دوگنا ہوگا۔'&#8221;</p>



<h3>متقی مومن کے لیے دوہرا اجر:</h3>



<p>ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا:</p>



<p>*&#8221;جب ایک مومن پرہیزگار ہو اور اللہ اسے مال دے، تو اللہ اسے دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔&#8221; اور اس کے بعد انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی:</p>



<p>&#8220;اور نہ تمہارے اموال اور نہ تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے قریب کر سکیں گے، مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، ان کے لیے دوگنا اجر ہے۔(سورہ سبأ: 37)</p>



<p>یہ دوگنا اجر نیکیوں کے دوہرے اجر کو بیان کرتا ہے۔</p>



<p>عامر بن الأكوع کا واقعہ:</p>



<p>بخاری اور مسلم میں سلمة بن الأكوع سے روایت ہے:</p>



<p>&#8220;ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف گئے۔ عامر بن الأكوع کا تلوار کا پھل چھوٹا تھا۔ انہوں نے ایک یہودی کی پنڈلی کو مارنے کی کوشش کی، لیکن تلوار الٹ کر ان کے اپنے گھٹنے پر لگی اور وہ وفات پا گئے۔ میں نے کہا: &#8216;یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں کہ عامر کا عمل ضائع ہو گیا؟&#8217; آپ ﷺ نے فرمایا: &#8216;جس نے یہ کہا، جھوٹ بولا۔ عامر کے لیے دو اجر ہیں؛ وہ مجاہد تھا۔'&#8221;</p>



<h3><strong>کھانے سے پہلے اور بعد وضو کی فضیلت</strong><strong>:</strong></h3>



<p>حاکم نے &#8220;تاریخ نیشاپور&#8221; میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;کھانے سے پہلے وضو کرنا ایک نیکی ہے، اور کھانے کے بعد وضو کرنا کئی نیکیوں کا سبب ہے۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p>اس حدیث کی تشریح میں ایک نکتہ بیان کیا گیا کہ پہلے وضو کا عمل پچھلی شریعتوں میں تھا، جب کہ بعد کا وضو اسلامی شریعت کا حصہ ہے، جس کی بنا پر اس کا اجر زیادہ ہے۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق بھی تورات میں کھانے کے وضو کی برکت کا ذکر ہے، اور یہ بات اجر میں دوگنا کرنے کے اصول سے مطابقت رکھتی ہے۔ جیسے <em>یوم عاشوراء</em> کے روزے کو ایک سال کی کفارہ قرار دیا گیا، اور <em>یوم عرفہ</em> کے روزے کو دو سال کا۔</p>


<hr class="wp-block-separator has-alpha-channel-opacity" />


<h3><strong>نیک عمل کے خفیہ اور ظاہر ہونے پر دوہرا اجر</strong><strong>:</strong></h3>



<p>ترمذی اور ابو نعیم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: &#8216;اگر کوئی شخص نیک عمل خفیہ کرے اور بعد میں اس کے ظاہر ہونے پر خوش ہو تو کیا یہ عمل قابل قبول ہے؟&#8217; نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: &#8216;اسے دو اجر ملیں گے؛ ایک خفیہ کرنے کا، اور دوسرا علانیہ ظاہر ہونے کا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p>ابن ابی شیبہ نے بھی اسی مفہوم کی روایت نقل کی، جہاں صحابہ نے پوچھا کہ اگر کوئی شخص خفیہ نیکیاں کرے اور لوگ ان کا تذکرہ کریں، اور یہ بات اس کے لیے خوشی کا باعث ہو، تو کیا وہ اجر پائے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: <em>&#8220;</em><em>تمہیں خفیہ اور علانیہ دونوں کے اجر ملیں گے۔</em><em>&#8220;</em></p>



<h3><strong>زمانے کے بدلنے کے ساتھ اجر کا فرق</strong><strong>:</strong></h3>



<p>سعید بن منصور نے اپنی سنن میں ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>اے لوگو! تم ایسے زمانے میں ہو کہ جو اللہ کی عبادت کرے، اسے ایک اجر ملتا ہے۔ لیکن تمہارے بعد ایسا زمانہ آئے گا، جس میں اللہ کی عبادت کرنے والے کو دو اجر ملیں گے۔</em><em>&#8220;</em></p>



<h3><strong>جنازے میں شرکت کا اجر</strong><strong>:</strong></h3>



<p>عبداللہ بن ریاح انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:<br /><em>&#8220;</em><em>جنازے کے ساتھ پیدل چلنے والے کے لیے دو قیراط (نیکیوں کے بڑے حصے) کا اجر ہے، اور سواری پر چلنے والے کے لیے ایک قیراط۔</em><em>&#8220;</em> (ابن ابی شیبہ، &#8220;المصنف&#8221;)</p>



<p>محمد بن سیرین نے بھی جنازے کے سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیا:<br /><em>&#8220;</em><em>اگر کوئی شخص جنازے کے ساتھ محض خاندان کی شرم کی وجہ سے چلے، تو کیا اسے اجر ملے گا؟&#8221; انہوں نے فرمایا: &#8216;ہاں، اسے دو اجر ملیں گے؛ ایک نماز جنازہ کا، اور دوسرا زندہ افراد سے تعلق نبھانے کا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<h3><strong>جمعہ کے دن نیکیوں اور برائیوں کا دُگنا ہونا</strong><strong>:</strong></h3>



<p>ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے حضرت کعب سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>جمعہ کے دن صدقہ کا اجر دوگنا ہو جاتا ہے۔ اس دن نیکیوں کے ساتھ برائیوں کا وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p>اسی مفہوم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:<br /><em>&#8220;</em><em>جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، اور جب وہ نماز کے لیے قدم اٹھاتا ہے، تو ہر قدم کے بدلے اسے بیس نیکیاں ملتی ہیں۔</em><em>&#8220;</em></p>



<h3><strong>جنازے میں شرکت کا اجر</strong><strong>:</strong></h3>



<p>ابن ابی الدنیا نے &#8220;کتاب ذکر الموت&#8221; میں یحییٰ بن عتیق سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>میں نے محمد بن سیرینؒ سے پوچھا: اگر کوئی شخص جنازے میں صرف اہلِ خانہ کے لحاظ سے شرکت کرے، تو کیا اسے اجر ملے گا؟&#8221; محمد بن سیرینؒ نے جواب دیا: &#8216;ہاں، اسے دو اجر ملیں گے؛ ایک بھائی کے لیے نماز جنازہ کا، اور دوسرا زندہ افراد سے تعلق نبھانے کا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<h3><strong>قرآن مجید کی قرأت کے درجے</strong><strong>:</strong></h3>



<p>طبرانی اور بیہقی نے حضرت اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;اگر کوئی شخص بغیر مصحف (یاد سے) قرآن پڑھتا ہے تو اسے ایک ہزار درجے کا اجر ملے گا، اور اگر وہ مصحف سے پڑھتا ہے، تو اجر دگنا ہو کر دو ہزار درجے تک پہنچ جائے گا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<p>بیہقی نے ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br /><em>&#8220;</em><em>جو قرآن پڑھ کر اس کے معانی کو سمجھ لے، اسے ہر حرف کے بدلے بیس نیکیاں ملتی ہیں۔ اور جو بغیر سمجھے پڑھے، اسے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملیں گی۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p>اس سے مراد قرآن کے الفاظ کا مفہوم سمجھنا ہے نہ کہ صرف لحن (عربی گرامر) پر مہارت۔ جیسا کہ حدیثِ ابن مسعودرضی اللہ عنہ میں آیا:<br /><em>&#8220;</em><em>جو شخص اللہ کی کتاب کا ایک حرف پڑھے، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، اور ہر نیکی دس گنا بڑھائی جاتی ہے۔(</em>ترمذی)</p>



<h3><strong>نیک نیت پر دوہرا اجر</strong><strong>:</strong></h3>



<p>ابن ابی شیبہ نے &#8220;المصنف&#8221; میں امام اوزاعیؒ سے ایک واقعہ نقل کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>میں نے ایک لونڈی خریدی اور شرط رکھی کہ اسے بیچوں گا نہیں، تحفے میں نہیں دوں گا، اور نہ ہی حقِ مہر بناؤں گا؛ اور اگر میں مر گیا تو وہ آزاد ہو جائے گی۔ میں نے حکم بن عتیبہ اور مکحولؒ سے اس بارے میں دریافت کیا، اور انہوں نے فرمایا: &#8216;یہ عمل درست ہے اور تمہیں اس کا دوہرا اجر ملے گا۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<h3><strong>حج کا اجر</strong><strong>:</strong></h3>



<p>احمد نے معتبر سند کے ساتھ ابن عمررضی اللہ عنہماسے روایت کیا:<br /><em>&#8220;</em><em>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;مجھے معلوم ہے کہ ایک جگہ ہے جسے عمان کہا جاتا ہے، اور وہاں سے حج کا اجر دیگر علاقوں کے حج کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔</em><em>&#8216;&#8221;</em></p>



<h3><strong>حاکم کا امتحان اور جزا</strong><strong>:</strong></h3>



<p>طبرانی نے حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br /><em>&#8220;</em><em>قیامت کے دن حاکم کو پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا۔ پل جھٹکے سے لرزے گا، جس سے اس کا ہر جوڑ اپنی جگہ سے ہل جائے گا۔ اگر وہ اطاعت گزار ہوگا، تو اسے دوہرا اجر دیا جائے گا اور پل سے نجات پائے گا۔ لیکن اگر نافرمان ہوا، تو پل اس کے نیچے ٹوٹ جائے گا، اور وہ جہنم میں ستر سال گرتا چلا جائے گا۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p><em>وہ لوگ جو دوہرا اجر پاتے ہیں،</em><em><br /></em><em>سب جمع ہیں ان باتوں کے بیچ، احادیث میں جن کا ذکر آیا،تیس سے زائد یہ اقوال، نظم میں میں نے ان کو سمایا۔</em><em>&#8220;</em></p>



<p>  وجميع آتى فيما رويناه أنهم ۔۔۔۔۔۔۔ يثنى لهم أجر جود محققاً</p>



<p>اور سب ان لوگوں کو آتا ہے جو ہم نے روایت کی ہے کہ وہ (دو) اجر پائیں گے۔ان کے لیے صدقہ دینے کا اجر دوہرا ہوتا ہے۔</p>



<p>  فأزواج خير الخلق أولهم ومن ۔۔۔۔۔۔۔ على زوجها أو للقريب تصدقا</p>



<p>اور سب سے پہلے ان کی بیویاں، جو بہترین مخلوق ہیں۔جو اپنے شوہر پر یا قریبیوں پر صدقہ دیتی ہیں۔</p>



<p>  وفاز بجهد ذو اجتهاد أصاب ورد ۔۔۔۔۔۔۔ وضوء اثنين والكتابى صدقا</p>



<p>اور محنت کرنے والا کامیاب ہوتا ہے جو کوشش کرتا ہے اور نیکیوں کو حاصل کرتا ہے۔اور دو مرتبہ  (وضو ہوتے ہوئے تازہ) وضوکرنے والا، اور کتابی جو صدقہ دیتا ہے۔</p>



<p>  وعبد آتى حق الإله وسيد ۔۔۔۔۔۔۔ وعامر يسوى مع غنى له تقى<br />اور وہ غلام جو اپنے خدا کا حق ادا کرتا ہے اور آقا کا بھی اور امیر جو اپنے غنی ہونے کے باوجود تقویٰ اختیار کرتا ہے۔</p>



<p>  ومن أمة بسرى فأدب محسناً ۔۔۔۔۔۔۔ وينكحها من بعده حين اعتقا</p>



<p>اور ایک باندی جو اچھے سلوک سے ادب سیکھتی ہے۔اور بعد میں اس سے شادی کرتا ہے جب وہ آزاد ہو جائے۔</p>



<p>  ومن سن خيراً أو أعاد صلاته ۔۔۔۔۔۔۔ كذاك جبان إذ بجاهر ذا شقا</p>



<p>اور جو کسی نیکی کی بنیاد رکھتا ہے یا اپنی نماز کو دوبارہ ادا کرتا ہےاسی طرح جو بزدل ہے جب وہ کسی مشکل کا سامنا کرتا ہے۔</p>



<p>  كذاك شهيد فى البحر ومن أتى ۔۔۔۔۔۔۔ له القتل من أهل الكتاب فألحقا<br />اسی طرح سمندر میں شہید ہونے والا اور جو آئےجسے اہل کتاب میں سے قتل کیا گیا، تو اسے شامل کر لیا جائے گا۔</p>



<p>وطالب علم مدرك ثم مسبغ ۔۔۔۔۔۔۔ وضوء لدى البرد الشديد فحققا</p>



<p>اور علم کا طالب جو کامیاب ہو اور پھر مکمل وضو کرےسردی میں وضو کرے تو اس کا اجر حق میں ہے۔</p>



<p>ومستمع بخطبة قد دنا ومن ۔۔۔۔۔۔۔ بتأخير صف أول مسلما وقى</p>



<p>اور جو خطبہ سننے کے لیے قریب ہوتا ہے، اورجو صف اول میں مسلمان کی حیثیت سے پیچھے رہتا ہے۔</p>



<p>وحافظ عصر مع إمام مؤذن ۔۔۔۔۔۔۔ ومن كان فى وقت الفساد موفقاً</p>



<p>اور ایک عصر کی نماز کا محافظ جو امام اور مؤذن کے ساتھ ہےاور جو فتنوں کے وقت میں کامیاب ہوتا ہے۔</p>



<p>وكامل خير محسفاً ثم إن بدا ۔۔۔۔۔۔۔ يرى فرحاً مستبشراً بالذى ارتقا</p>



<p>اور ایک بہترین شخص جو پھر جب ظاہر ہو جائےوہ خوشی اور مسرت سے دیکھتا ہے جو اسے حاصل ہوا۔</p>



<p>ومغتسل فى جمعة عن جنابة ۔۔۔۔۔۔۔ ومن فيه حقاً قد غدا متصدقاً</p>



<p>اور جمعہ کے دن جنابت سے غسل کرنے والااور جو اس میں حقیقی طور پر صدقہ دینے والا ہوتا ہے۔</p>



<p>  وماش يصلى جمعة ثم من أتى ۔۔۔۔۔۔۔ بهذا اليوم خيراً ما فضعفه مطلقا</p>



<p>اور جو جمعہ کی نماز پڑھتا ہے، پھراس دن نیکی کرتا ہے، تو اس کا اجر کبھی کم نہیں ہوتا۔</p>



<p>  ومن حتفه قد جاء من سلاحه ۔۔۔۔۔۔۔ ونازع فعل إن الخير تسبقا</p>



<p>اور جو اپنی ہتھیاروں کے ساتھ آیا ہےاور اگر نیکی کا موقع ملے تو وہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔</p>



<p>وماش لدى تشييع ميت وغاسل ۔۔۔۔۔۔۔ يداً بعد أكل والمجاهد إذ فقا</p>



<p>اور جو میت کو غسل دینے اور دفن کرنے کے وقت ہوتا ہےاور کھانے کے بعد ہاتھ لگا کر اور مجاہد جب برپا ہوتا ہے۔</p>



<p>ومشيع ميتا حياء من أهله ۔۔۔۔۔۔۔ ومستمع القرآن فيما روى التقى</p>



<p>اور میت کو ساتھ لے جانے والا، اپنے اہل کی حیا سےاور قرآن کو سنتے ہوئے، جیسا کہ اس میں علم ہے۔</p>



<p>وفى مصحف يقرأ وقارئه معربا ۔۔۔۔۔۔۔ بتفهيم معناه الشريف محققا</p>



<p>اور ایک مصحف میں پڑھتا ہے، اور پڑھنے والا اس کے معانی کی وضاحت کرتا ہے۔اور اس کے شریف معانی کو سمجھانے والا ہوتا ہے۔</p>



<p>تم بحمد الله</p>



<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b1-%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2592%2F&#038;title=%D8%AF%D9%88%DB%81%D8%B1%D8%A7%20%C2%A0%D8%A7%D8%AC%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%db%81%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/" data-a2a-title="دوہرا  اجر پانے والے"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%db%81%d8%b1%d8%a7-%d8%a7%d8%ac%d8%b1-%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سواء السبیل کلیمی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Sep 2024 04:29:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[ابطال مسلک حکماء]]></category>
		<category><![CDATA[اثبات  واجب الوجود]]></category>
		<category><![CDATA[اثبات حقیقت حق سبحانہ و تعالی کی عین وجود مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[اسمائے متضادہ اور صفات متقابلہ]]></category>
		<category><![CDATA[اقسام وجود]]></category>
		<category><![CDATA[الفاظ قرآنیہ اور مصاحف حقیقت کلام اللہ ہیں؟]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ تعالی کا علم جزئی اور کلی]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ تعالی کا علم عین ذات ہے یا غیر ذات]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی صفات اور اسمائے الہیہ کے مظہر کے معنی]]></category>
		<category><![CDATA[ایجاد بلاواسطہ عقل اولی]]></category>
		<category><![CDATA[ایجاد کی طرف توجہ الہی  کی دو قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات الہیہ کی تقسیم و تفصیل اور تعین کی تعریف]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات امکانیہ اور روح کے اقسام]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات میں سے عالم مثال بھی ہے۔]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات میں عالم مثال بھی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[خدا کا فعل صادراور متکلمین و حکماء]]></category>
		<category><![CDATA[ذات باری تعالی کے مظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[ذات کا مظاہر سے تعلق]]></category>
		<category><![CDATA[رؤیت باری تعالی ممکن یا ناممکن]]></category>
		<category><![CDATA[سواء السبیل کلیمی]]></category>
		<category><![CDATA[صفات اور اسماء کے ظہور کی تمثیل]]></category>
		<category><![CDATA[صفات باری تعالی کی عین ہیں غیر نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[صفات باری تعالی میں حکماء کا اختلاف]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کے بارے میں تحقیق زائد]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کے عین ذات یا غیر ذات اورمذہب صوفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کے متجلی ہونے پرشبہ اورجواب]]></category>
		<category><![CDATA[صفت تکوین کی تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[صوفیا اور اشاعرہ کے مذہب میں فرق]]></category>
		<category><![CDATA[ظہور اور بطون کس کا؟]]></category>
		<category><![CDATA[ظہور اور تقید اور تعین کے مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[عالم شہادت کی تفصیل]]></category>
		<category><![CDATA[علم الہی اور صفات میں اشاعرہ کا مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[علم اور یقین کے اقسام]]></category>
		<category><![CDATA[علم باری تعالی کی تحقیق کے اقسام]]></category>
		<category><![CDATA[علم باری تعالی میں فلاسفہ کے مذاہب]]></category>
		<category><![CDATA[علم باری حضوری و حصولی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[علم تفصیلی کے مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[علم ذات باری تعالی اور مخلوق]]></category>
		<category><![CDATA[علم کی تجدید کر سکتے ہیں یا نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[علم کی تعریفات اور اس کی تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[غیر متناہی ہونے کے معنی]]></category>
		<category><![CDATA[فعل اور افعال کی مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[قرب و بعد کےاعتبار سے خلق کی تقسیم]]></category>
		<category><![CDATA[قلوب کی کیفیت با عتبار ذکر اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[کلام الہی حادث یا قدیم؟]]></category>
		<category><![CDATA[ماہیات کا وجود مطلق سے ملنا]]></category>
		<category><![CDATA[ماہیات ممکنہ غیر مجعول یا مجہول]]></category>
		<category><![CDATA[مسئلہ کلام میں متکلمین کی غلطی]]></category>
		<category><![CDATA[مطلق حقیقی اور مطلق اضافی]]></category>
		<category><![CDATA[مطلق حقیقی اور مطلق اضافی کے مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مطلق کا ظہور مقید غیر معین کو مقتضی اور مقید مطلق معین کا حقیقی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت ذات پر زائد نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[واجب الوجود اور خالق اورکموں کے وحدت کے اسباب]]></category>
		<category><![CDATA[واحد سے واحد اور کثیر سے کثیر کا صدور]]></category>
		<category><![CDATA[واحدیت کے کمالات کی تفصیل]]></category>
		<category><![CDATA[وجوب ذاتی اور صفاتی میں قصور فہم]]></category>
		<category><![CDATA[وجود  پراحکام اور آثار مرتب ہونا]]></category>
		<category><![CDATA[وجود بطون کا مقتضی ہیں]]></category>
		<category><![CDATA[وجود بمعنی کون ووجود بمعنی ذات فرق]]></category>
		<category><![CDATA[وجود پر اثر کے خفی معنی]]></category>
		<category><![CDATA[وجود حقیقی کے ممکنات میں ظہورپر سوالات و جوابات]]></category>
		<category><![CDATA[وجود کا حمل ، تفصیل اور سوال و جواب]]></category>
		<category><![CDATA[وجود مطلق کے تنزلات]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت اور کثرت کی حقیقت اور تفصیل]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت حقیقت کے اجمالی و تفصیلی اعتبار]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت کی اقسام]]></category>
		<category><![CDATA[وحی کس طریقے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9173</guid>

					<description><![CDATA[سواء السبیل کلیمی تخلق بخلاق اللہ متصف اوصاف اللہ فناء فی اللہ باقی باللہ حضرت خواجہ شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی معرکۃ الآراءتصنیف ذات وصفات کی جامع تفصیل مسمی بہ سواء السبیل کلیمی اردو ترجمہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>سواء السبیل کلیمی</h1>
<p>تخلق بخلاق اللہ متصف اوصاف اللہ فناء فی اللہ باقی باللہ حضرت خواجہ شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی معرکۃ الآراءتصنیف ذات وصفات کی جامع تفصیل مسمی بہ سواء السبیل کلیمی اردو ترجمہ جس میں سلوک و تصوف اسرار و عرفان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔</p>
<h2>بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
دیباچہ</h2>
<div id="post_tag" class="tagsdiv">
<h3> صفات باری تعالی کی عین ہیں غیر نہیں</h3>
</div>
<p>اور بیان اس کا کہ باری تعالی کے صفات اس کی عین ہیں غیر نہیں۔<br />
تمام محامد اللہ کے لیے ثابت ہیں جو فہم غیر سے برتر اور پاک ہے اور اس سے برتر ہے کہ اس کے شر اور خیر کا راز کوئی دریافت کرے بس اس کی صفات مثل اس کی ذات کے ہیں عقل دونوں کے ادراک سے قاصر ہے حاصل یہ کہ دونوں یعنی ذات و صفات علوم نقلیہ سے سمجھی جاتی ہیں اور رحمت کاملہ نازل ہو ان پر جو فعل اور انفعال کے سبب دو مرتبہ کے جمع کرنے والے ہیں اور جو دائرہ کمال کی دونوں قوسوں کے وتر ہیں اور نیز رحمت ہو ان کی آل اور ان کے اصحاب پر جو تمام کون اور وجوب کے تفاصیل ہیں اور ظاہر امور اور باطن امور کے متون شرح ہیں بعد حمد و صلاۃ کے معلوم ہو کہ یہ کلیم اللہ کی سوا ءالسبیل ہے جو تجھ کو راہ دکھاتی ہے اس طرف کہ مخاطب و مکلف ارواح ہیں اجسام نہیں ہیں کیونکہ جب موت آ جاتی ہے اجسام کی کچھ قدر نہیں بجز اس کے کہ اجسام آلات ترقی میں متصرف روح ہی ہے اور جب متصرف فیہ ہے پس انسان وہ شے ہے کہ جس کی لفظ &#8220;میں&#8221; سے اشارہ کیا جاتا ہے پس جب وہ بدن کے متعلق ہوتی ہے تو یہی حیات ہیں اور جب وہ بدن سے مسلوب ہوتی ہے یہی ممات ہے اور بزرگی جو معتبر ہے وہ روح ہی کی بزرگی ہے اور صفات بھی اسی کی ہیں اور وہ لطیف ہے اور جسم کثیف ہے پس جن لوگوں کے اندر کثافت لطافت پر غالب ہو گئی وہ ارذل ہیں اور جن لوگوں کے اندر لطافت کثافت پر غالب آگئی وہ اشرف و اعلی ہیں اور جو اوسط درجہ کے لوگ ہیں ان کو مجاہدات سے ترقی ممکن ہے کیونکہ نزاہت ( پاکی سے) ان کی ذات میں پائی جاتی ہے اور مجاہدہ حق تعالی کی معرفت کی طرف توجہ کرنے کا نام ہے پھر اس کے در پر ہمیشہ حاضر رہنا ہے اور یہ کام قلب کا ہے نفس کا نہیں کیونکہ نفس کا مقام توجہ تو صرف جسم ہی ہے اور قلب دو طرح سے ہدایت پاتا ہے اور آیات انفسیہ وآ فاقیہ(آیات انفسیہ تو وہ علامات ہیں جو قدرت اور وحدانیت اور ذات پر دلالت کرتی ہیں اور آدمی کی ذات میں موجود ہیں اور آفاقیہ جو ذات انسان سے خارج ہیں کما قال اللہ تعالی سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ) سے استدلال کر کے ہدایت پاتا ہے مثلا کہا جاتا ہے کہ ہمارا وجود بالذات نہیں ہے ورنہ ہم محتاج اور عاجز نہ ہوتے پس ضرور کوئی موجد ہوگا کہ جو ہم میں سے نہیں ہے۔اور وہ ازلی و ابدی واحد ہے وجود اس کا بالذات ہے اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہیں ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ ایسی ذات جو ان صفات مذکورہ سے متصف ہو وجود ہی میں متحقق ہوگی نہ غیر وجود میں پس وہ ذات وجود ہی ہے اور یہ قلب کا ہدایت پانا بھی اس کے فضل ہی سے ہوتا ہے کیونکہ اگر اس کا نور نہ ہوتا تو اس کی طرف عقل راہ یاب نہ ہوتی پس اس کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت کما حقہ اس کی عنایت اور ہدایت سے ہوتی ہے پس اس تقریر سے معلوم ہوا کہ دلیل اللہ کی ذات پر اس کی ذات پاک ہے اور عقل عاجز ہے عقل اس کے مثل کی طرف راہ بتلاتی ہے دیکھو معرفت اکثر اوقات غیر عاقل کو حاصل ہو جاتی ہے اور عقل کو حاصل نہیں ہوتی پس اس کے ذات پاک کا اس بات اور پھر اس کی وحدانیت کا اثبات اس کی ہی تائید اور مدد سے حاصل ہونا ہے علماء نے کہا ہے کہ وجود حقیقت واحد ہے اور اس کے مقابلہ میں عدم محض ہے کہ اس کا ثبوت کسی طرح نہیں نہ عینا ًنہ علماًنہ خارجاً نہ وہماً پس موجودات یا تو عدم محض ہیں لیکن احکام اور آثار کا ثابت ہونا اس کو رد کرتا ہے اور باوجود محض ہے کہ جو امثال موجودات میں متمثل ہو اور وہ وجود اسی طرح ہے جیسا کہ تھا اور وہ وجود ہی اس کثرت میں مع اس کے لوازم کے متمثل ہے پس جس شخص نے مرتبہ اطلاق کو محفوظ نہ رکھا اس نے خطا کی کیونکہ منزل یعنی مقید موصوف بالصفت ہے پس اطلاق کہاں رہا دیکھو حق تعالی فرماتے ہیں یعنی وہ تمہارے ساتھ ہے جس جگہ تم ہو اور فرماتے ہیں یعنی نہیں ہوتی سرگوشی تین آدمیوں کی مگر حق تعالی چوتھے ان کے ہیں پس دونوں مرتبوں کو محفوظ رکھ اور دونوں کو ان کا حق دے پس معلوم ہوا کہ وجود ایک ہے اور اگر اس طرح نہ ہو تو انسان اللہ کی طرف میلان نہ رکھتا اور دونوں طرف کا تجاذب نہ ہوتا اور یہ الحاد کو جنم دیتا ہے اور ہجر و جدائی اور معارف نفیسہ کی یہی اصل ہے اور ظاہر بین اور رسمی لوگ کہتے ہیں کہ واجب الوجود ایک ذات ہے جو اپنے وجود زائد ازذات سے موجود ہے اور صفات غیر متناہیہ کے ساتھ موصوف ہے پس ہم کہتے ہیں کہ موجود موثر یا تو مجموعہ ذات اور وجود کا ہے تو اس وقت موجد میں ترکیب لازم آتی ہے اور یا موثر ذات ہے بغیر اعتبار ووجود کے پس ذات بغیر اعتبار موجود کے کیونکر ممکن کو وجود عطا کر سکتی ہے کیونکہ علت کے لیے وجود ضروری ہے تاکہ وہ موثر اور مفید ہو اور یا موثر وجود ہو بغیر اعتبار ذات کے پاس اس صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ موجد اپنی ذات کے ساتھ قائم نہ ہو کیونکہ وجود بذاتہ قائم نہیں ہے اور نیز واجب کا وجود زائد از ذات ماننے میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ علت وجود کی یا تو ذات ہوگی یا غیر ذات پس اگر محض ذات ہی علت ہو تو وہ کیسے مؤثر ہو سکتی ہے اور اگر غیر ذات ہو پس ذات اپنے تحقق اور وجود میں اس غیر کی محتاج ہوگی اور محتاج واجب نہیں ہوتا اور وجود کے زائد از ذات کے قائل ہونے میں دور (دہرائی)بھی لازم آتا ہے پس معلوم ہوا کہ واجب الوجود خود وجود ہی ہے کوئی دوسری شے نہیں لیکن وجود بمعنی حصول و ثبوت و کون نہیں کیونکہ وجود اس معنی پر تو معقولات ثانیہ (وہ امور کلی جو عقل میں آئیں جن کا ذہن میں وجود ہو خارج میں نہ موجود ہو جس کی طرف نفس کی توجہ دوسرے درجے میں ہوتی ہے)سے ہے پس وجود اس معنی پر واجب نہیں ہو سکتا بلکہ بمعنی ذات مستقلہ جو بذاتہ قائم ہے واجب ہے اور ماسوا اسکے سب اعراض ان کی ہیں اور رہا اتصاف بوجود سو اگر سنت اس کے شاہد نہ ہوتے تو کاملین کا مذاق اس کو نفی کرتا ہے کیونکہ صفت غیر موصوف ہے امیر المومنین ویعسوب موحدین علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اول دین معرفت حق تعالی کی ہے اور کمال معرفت تصدیق اس کے ہے اور کمال تصدیق توحید ہے اور کمال توجہ اخلاص اس کے لیے ہے اور کمال اخلاص صفات اس سے نفی کرتا ہے کیونکہ یہ صفت اس کی ثابت ہے کہ وہ غیر موصوف ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ غیر صفت ہے پس جو شخص صفت ثابت کرے وہ اس کو قریب کرتا ہے اور جو قریب کرتا ہے اس کو دو قرار دیتا ہے اور جو دو قرار دیتا ہے پس وہ اس کو ذی اجزاء کرتا ہے اور جو اسے ذی اجزاء کرتا ہے پس وہ اس سے جاہل ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کلام ختم ہوا<br />
اور یہ کہنا متکلمین کے صفات باری تعالی نہ عین باری ہیں اور نہ غیر ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ صفات مفہوم کے اعتبار سے عین نہیں ہے اور انفکاک(جدائی) کے اعتبار سے غیر نہیں ہے تو اس قول کا حاصل بھی یہی ہے کہ صفات غیر ہیں کیونکہ جو شے لفظ ذات سے سمجھی جاتی ہے وہ بعینہٖ صفت سے نہیں سمجھی جاتی اور جو صفت کا مفہوم ہے وہی بعینہ ذات کا مفہوم نہیں ہے پس اتحاد کہاں رہا کیونکہ ذات و صفت میں تمائر(فخر و ناز) من وجہ بھی عنوان غیریت کا ہے اور لا عین و لا غیر کا قائل ہونا اس کو مستلزم ہے کہ صفات غیر ذات ہیں کیونکہ کسی شے کو اس کی ذات کے اعتبار سے یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ اس کا عین نہیں پس ثابت ہوا کہ صفات غیر ذات ہیں۔</p>
<h2>پہلا مرحلہ</h2>
<h3>اثبات  واجب الوجود اور ابطال مسلک حکماء</h3>
<p>اثبات اس کا کہ واجب وجود یعنی ذات ہے اور ابطال مسلک حکماء کا<br />
وجود بمعنی ذات عین واجب ہے اور وجود بمعنی کون اور تحقق اور حصول کہ جو معنی مصدریہ ہیں پس با اتفاق تمام اہل ملت کے عرض اعتباری اور معقولات ثانیہ سے ہے خارج میں کوئی شے اس کے مقابلہ میں نہیں ہے پس وجود اس معنی کہ با اعتبار ذہن کے کل حقائق پر زائد ہے یعنی عقل کی ماہیت کو وجود سے خالی کر کے ادراک کر سکتی ہے پھر اس کے بعد عقل حکم کرتی ہے کہ وہ ماہیت موجود ہے اور یہ حکم با اعتبار خارج کے نہیں ہے یعنی عقل کی ماہیت مجرد کو اور ایک دوسری شے کو جو وجود ہو خارج میں ادراک نہیں کر سکتی اس ماہیت پر ایسے وجود کا حکم نہیں کر سکتی اور حکماء کا مسلک یہ ہے کہ واجب ایک فرد خاص وجود مطلق کا ہے جو اپنی ذات سے قائم ہے اور تمام ممکنات کا مبدا ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ وجود مطلق معقولات ثانیہ سے ہے پس واجب اس کا فرد کیسے ہو سکتا ہے اور یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وجود بذاتہ قائم ہے۔ کیونکہ وجود ان کے نزدیک بمعنی ذات نہیں ہے اور نیز فرد نام حقیقت مع تعین و التشخص کا ہے پس اگر تعین حقیقت ہو تو فرد اور حقیقت میں فرق نہ رہا پس واجب حقیقت کلیہ ہو گیا حالانکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے اور نیز مسلک حکماء پر ایک محذور(پرہیز) لازم آتا ہے تقریر اس کی یہ ہے کہ اگر واجب وجود خاص ہو تو اس کی ترکیب وجود میں یا عقل میں لازم آتی ہے کیونکہ وہ شے جس سے خصوصیت پیدا ہوئی ہے اگر امر وجودی ہو تو وجود میں ترکیب لازم آتی ہے اور اگر امر عدمی ہو تو عقل میں ترکیب لازم آتی ہے اور ترکیب وجوب کے منافی ہے اور نیز ایک اشکال اور لازم آتا ہے وہ یہ کہ دو حال سے خالی نہیں یا تو واجب حقیقت ایسے وجود کی ہو کہ جو مقید ہو قید اعتباری آدمی کے ساتھ اور یا حقیقت ایسے وجود کی ہوگا جو مقید ہو قید وجودی کے ساتھ پس تقدیر اول پر تو وجود کا عدم کے ساتھ موصوف ہونا لازم آتا ہے کیونکہ جو شے اس میں جز و وجودی ہے وہ حقیقت وجود کی طرف راجع ہوگا پس دو نقیضوں میں سے ایک نقیض کا دوسرے کے ساتھ موصوف ہونا لازم آتا ہے اور یہ جائز نہیں اور تقدیر ثانی پر اگر وہ قید وجودی فصل ہے تو ترکیب لازم آتی ہے اور اگر عرض ہو تو مبدا عروج یا تو نفس حقیقت ہوگا یا جزو حقیقت ہوگا یا کوئی امر خارج اور حقیقت ہوگا اور اول تو ظاہر البطلان ہے کیونکہ قید کا کام تو اخراج ہے اور حقیقت اس معنی کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ اس کا تعلق تمام افراد سے برابر ہے اور دوسری شق پر ترکیب لازم آتی ہے اور تیسری شق احتیاج کو مستلزم ہے اور نیز حکماء کہتے ہیں کہ وجود واجب کا اس کا عین ہے پس ہم دریافت کرتے ہیں کہ وجود سے ان کی کیا مراد ہے اگر حصول و کون مراد ہے تو یہ تو سب میں بالاتفاق زائد ہے اور اگر وجود خاص مراد ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ تمام اشیاء حقائق مختلفہ ہیں اور ہر حقیقت کا وجود خاص ہو تو اس تقدیر جزوی وزائد ماہیت اور حقیقت پر خارج میں زائد ہیں اور رہا عقل میں تو کچھ شک نہیں کہ جو عین ہونے کا قائل ہے اس کے نزدیک وجود زائد ہے۔ نیز اس تقدیر پر ایک اور محذور(پرہیز) لازم آتا ہے تقریر اس کی یہ ہے کہ منشا خصوصیت کا یا تو ذات ہے یا اور کوئی امر خارج از ذات ہے اور ذات بغیر اعتبار کے معنی کے منشا نہیں ہو سکتی پس منشا خصوصیت کا امر خارج ہے یہ بس اس تقدیر پر واجب کا محتاج ہونا لازم آیا اور یہ باطل ہے۔</p>
<h2>دوسرا مرحلہ</h2>
<h3>اثبات حقیقت حق سبحانہ و تعالی کی عین وجود مطلق اور اقسام وجود</h3>
<p>: اثبات اس کا کہ حقیقت حق سبحانہ و تعالی کی عین وجود مطلق ہے اور اقسام وجود<br />
حقیقت حق سبحانہ تعالی کی عین وجود مطلق ہے حتی کہ اس وجود کا حقیقت سے تصور انفکاک (جدائی) متصور نہیں ہے کیونکہ کسی شے سے اس کی ذات منفک نہیں ہو سکتی اور جو سوائے حق سبحانہ و تعالی کے ہے اس میں تصور انفکاک کی گنجائش ہے پس ممکن وجود کا محتاج ہے اور وجود اپنے وجود میں وجود کا محتاج نہیں ہے پس وہ واجب ہے پس وہ وجود مطلق ہے اصلا قید اس میں نہیں ہے یعنی بلا شرط شے ہے پس وہ عدم اعتبار کے ساتھ ہے اعتبار عدم کے ساتھ نہیں پس معلوم ہوا کہ جب وجود کو کہا جائے کہ وہ موجود ہے معنی اس کے یہ ہیں کہ اس پر وجود بمعنی مصدری واقع ہے اور یہ یعنی وجود بمعنی مصدری حقیقتا وجود کے لیے عرض عام ہے اور وجود کی کئی قسم ہیں کیونکہ وجود یا تو با اعتبار فرض کے فارض کرنے والے کے ہو جیسے نسب اور اضافیات اعتباریہ جیسے قرب و بعد اور یہ فقط قوت دراکہ(بڑی سمجھ) میں متحقق ہو سکتا ہے اور یا فرض فارض اور اعتبار معتبر سے خارج ہو اس وقت اس کی دو قسمیں ہیں اول یہ کہ صرف قوت دراکہ اور مشاعر(حواس خمسہ) میں متحقق ہو دوسری یہ کہ قوت درا کہ میں بھی متحقق ہو اور خارج از قوت در ا کہ بھی متحقق ہو پس قسم اول وجود کے یعنی جو با اعتبار فرض فارض کے ہو موجودذہنی ہے جس کا متکلمین نے انکار کیا ہے جیسے نسب اور اضافات حقیقیہ اور الوان اور اس کے سوا جو شے ادراک کے درجہ ثانیہ میں واقع ہو اور تجھ کو یہ شک نہ ہونا چاہیے کہ ذہنی اور فرضی برابر ہے کیونکہ دونوں مدراک اور مشاعر میں حاصل ہوتے ہیں اس واسطے کے اول امور حقیقیہ میں سے ہے اور ثانی امور فرضیہ اعتباریہ سے اور دوسری قسم یعنی وہ وجود قوت مدرکہ سے خارج ہو وجود خارجی کہلاتی ہے پس حاصل تقسیم کا یہ ہوا کہ تحقق اور ثبوت اپنی حد ذات میں یا تو موجود کے لیے ثابت ہوں گے یا موجود کے لیے ثابت نہ ہوں گے پس قسم ثانی تو فرضی ہے اور ان کی دو قسمیں ہیں اول وہ جو مشاعر اور مدارک میں حاصل ہو اور دوسرے وہ خارج میں ہو اول کو ذہنی کہتے ہیں اور دوسری کو خارجی پس یہ دونوں اخیر کی قسمیں نفس الامری ہیں بخلاف اول کے پس بے شک انسانیت زید معدوم کی ذہنی ہے اور نفس الامری ہے اور خارجی نہیں ہے لیکن جب خارج سے اور معنی مراد لیے جائیں یعنی جو نفس امر میں واقع ہو وہ مراد لیا جائے تو انسانیت وہ اس وقت خارجی فرضی کا مرادف ہو گا پس وجود فرضی اور حقیقی متبائن ہیں اور وجود حقیقی اور نفس امری متساوی ہیں اور خارجی حقیقی سے اخص مطلق ہے جیسا کہ ذہنی حقیقی سے اخص مطلق ہے اسی طرح اور خارجی نفس امری سے اخص مطلق ہے اور خارجی ذہنی سے اعم من وجہ ہے۔</p>
<h2>تیسرا مرحلہ</h2>
<h3>  وجود  پراحکام اور آثار مرتب ہونا</h3>
<p>بیان اس وجود کا جس پر احکام اور آثار مرتب ہوتے ہیں۔<br />
وہ وجود کہ اس کی ماہیت کے ساتھ مقترن ہونے سے آثار اور احکام مرتب ہوتے ہیں یا تو فرضی ہیں یا ذہنی یا خارجی فرضی ہونا تو جائز نہیں ہے کیونکہ وہ قوت مدرکہ کے ساتھ خاص ہے اور بعد وجود کسی عقل کے جو تعقل کرے اور بعد اس کے قوی کے ثابت ہوگا پس اگر خود عقل اس پر موقوف ہو تو دور لازم آئے گا اور ذہنی بھی اسی وجہ سے نہیں ہو سکتا پس وجود حقیقی خارجی ہے جو نفس امر میں ثابت ہے اور اعراض کی قسم سے بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ عرض محتاج محل کا ہوتا ہے اور محل محتاج وجود کا ہے کیونکہ محل ایک موجود شے کا نام ہے پس وہ وجود کا محتاج ہوگا پس دور لازم آگیا پس لامحالہ ایک ذات قائم بنفسہٖ ہوگا پس اس تقریر سابق سے معلوم ہوا کہ وجود کی کئی قسمیں ہیں اول عین قائم بذات جیسے موجودات مستقلہ مثل جواہر و ذات کے دوسرے وہ جو عین ہو اور کسی دوسری عین میں ہو جیسے اعراض وجود بمثل رنگ اور اشکال وغیرہ کے تیسری وجود نہ خود عین ہو اور نہ کسی دوسرے عین میں ہو جیسے نسب فرضیہ اور اضافات اعتباریہ (وہ اضافات جن کومضبوط اور پختہ وجود کے بغیر عقل مان لے)مثل قرب وبعد اور دائیں اور بائیں کے پس وہ وجود کے مدار آثار اور احکام کا ہے اور جس کی ماہیت کے ساتھ ملنے سے مبتدا ماہیات ان آثار کو جو ان کے ساتھ خاص ہیں قبول کرتی ہیں وجود مستقل خارجی قائم بالذات ہے نہ وہ عین فی عین ہے اور نہ لا عین فی عین ہے پس نہ اعراض وجودیہ سے ہیں اور نہ نسب فرضیہ سے کیونکہ یہ دونوں قسمیں وجود کی محل کے محتاج ہیں اور محل محتاج ہے وجود کا پس دور لازم آئے گا اور دور سے کل ماہیات کا معدوم ہونا لازم آئے گا ۔<br />
تنبیہ: جو شخص انصاف کرے وہ جانے کہ اقتران خارج میں دو معدوم کے درمیان جب ہی آجاتا ہے کہ جب دونوں موجود باوجود خارجی ہوں یا ایک ان میں سے موجود باوجود خارجی ہو پس اگر وہ وجود کہ جو مدار آثار اور احکام کا ہے خارج میں معدوم ہو تو اقتران اور انضمام ہی نہ حاصل ہوگا۔</p>
<h2>چوتھا مرحلہ</h2>
<h3>واحد سے واحد اور کثیر سے کثیر کا صدور</h3>
<p>: تحقیق اس قول کی کہ واحد سے واحد صادر ہوتا ہے اور کثیر سے کثیر<br />
واحد اس حیثیت سے کہ وہ واحد ہے اس سے ایک ہی صادر ہوگا جیسا کہ کثیر اس حیثیت سے کہ وہ کثیر ہے اس سے کثیر ہی صادر ہوں گے کیونکہ کثرت ضد وحدت کی ہے پس دونوں ضدوں میں سے ایک کا دوسری ضد سے صدور نہیں ہو سکتا لیکن نہ مطلقا بلکہ بحیثیت اس کے ضد ہونے کے البتہ اگر واحد میں نسب کثیرہ کا اعتبار کر لیا جائے تو اس وقت واحد با اعتبار ان نسب کے کثیر ہو جائے گا پس ممکن ہوگا کہ اس سے کثیر صادر ہوں اور اسی طرح اس کا عکس پس ممکن ہوگا کہ اس سے کثیر صادر ہوں اور اسی طرح اس کا عکس یعنی کثیر کے لیے ایک احدیت ہے جو ثابت ہے پس صدور واحد کا بحیثیت اس احدیت کے ممکن ہے کیونکہ تاثیر اور ارتباط ایسے سبب سے ہے جو مشترک ہے اور بحیثیت تنافی کے نہ تاثیر ہے نہ اثر پس اگر وجود مطلق کی ذات کا اعتبار کیا جائے اور اس میں جو معنی پائے جانے ہیں ان کو نہ دیکھا جائے پس وہ واحد ہے لیکن نہ اس حیثیت سے کہ وہ وحدت اس کی صفات میں سے ایک صفت یا یہ کہ اس کے احکام میں سے ایک حکم ہے بلکہ محض ذات کے اعتبار سے واحد ہے یعنی عدم اعتبار ہے نہ اعتبار عدم پس وہ کثرت کی علت نہ ہوگا اور جب اس کے ساتھ صفات اور اسماء کا اعتبار کیا جائے تو وہ کثرت کا موجد ہو جائے گا اور کوئی کثرت ایسے نہیں ہے کہ اس کو وحدت نے ضبط نہ کیا ہو پس وحدت صادر ہوگی وحدت سے اور کثرت کثرت سے اور کثرت کی دو قسمیں ہیں اول کثرت ان اجزاء کے جو ماہیت و حقیقت میں داخل ہیں جیسے جنس اور فصل باعتبار نوع کے اور دوسرے کثرت لوازم کے اور اس کثرت کی دو قسم ہیں اول یہ کہ لوازم کثیر ہوں لیکن ملزوم اپنی ذات کے اعتبار سے واحد ہو یہ کثرت ذات واحد میں نہ ہوگی اور دوسرے یہ کہ لوازم میں بھی کثرت ہو اور خود اس شے یعنی لزوم میں بھی کثرت ہو اور لوازم تصور اور وجود کے اعتبار سے تابع ذات کے ہوتے ہیں اور تعقل یعنی سمجھے جانے میں بھی ذات سے علیحدہ نہیں ہوتے جیسے چھ کی نصف ہوئے اور تہائی ہونے اور چھٹا ہونے کے تصور کے زوجیہ تابع ہے پس یہ کثرت عینیہ اور حکمیہ عالم میں با اعتبار وحدت اطلاقیہ کہ مثل کثرت لوازم کے ہے نہ مثل کثرت اجزاء کے پس وہ وحدت صرفہ ان نسبتوں سے پاک ہے پس وہ وحدت اسی طرح ہے جس طرح کے پہلے ظہور کثرت کی تھی صرف اتنی بات ہے کہ جب اس کثرت کا ظہور ہوا تو نسبتیں اور اضافات اور لوازم پیدا ہو گئے لیکن اپنی ذات کا علم اس کو اولی ہے اور ماسوا کےساتھ لازم بوسیلہ ہے۔</p>
<h2>پانچواں مرحلہ</h2>
<h3>ماہیات کا وجود مطلق سے ملنا</h3>
<p>: ماہیات کے وجود مطلق سے ملنے کے معنی<br />
اگر تو یہ کہے کہ ماہیات کے وجود مطلق سے ملنے کے کیا معنی ہیں یا یہ کہ وجود مطلق کے ماہیات سے ملنے کے کیا معنی ہیں کیونکہ نہ تو وجود ماہیات کے مرتبہ میں ہے اور نہ ماہیات وجود مطلق کے مرتبہ میں ہے میں کہتا ہوں کہ معنی ملنے کے ماہیت ممکنہ کا مشروط بشرائط ہونا ہے پس جب ماہیت ممکنہ کے تحقق اور وجود کی شرائط پائی جاتی ہیں اس وقت ایک نسبت خاصہ وجود مطلق سے پیدا ہوتی ہے کہ دلیل اس کی معلوم ہے اور کیفیت اس کی مجہول ہے پس بواسطہ اس نسبت کے نور وجود کا اس ماہیت پرآتا ہے پس اس پر حکم کیا جاتا ہے کہ وہ ماہیت موجود ہے اور اس کا کوئی نام رکھ دیا جاتا ہے اور وجود مطلق اپنی عزت اور پاکی میں اسی طرح رہتا ہے نہ اس ماہیت کی طرف اس کو نزول ہوتا ہے اور نہ وصول اور نہ ماہیت کو اس کی پاک بارگاہ کی طرف انتقال اور ارتفاع ہوتا ہے پس کل آثار اور احکام اس نسبت سے کہ دلیل اس کی معلوم ہے اور کیفیت اس کی مجہول ہے پیدا ہوتے ہیں خلاصہ یہ کہ وجود ثبوتی بدون اس کے کہ وجود حقیقی اس کا باطن ہو اور بغیر اس کے مظاہر ممکنہ میں وجود حقیقی متجلی ہو حاصل نہیں ہو سکتا پس منشا وجود حصولی ثبوتی کا ممکنات میں وجود حقیقی ہی ہے</p>
<h2>چھٹا مرحلہ</h2>
<h3>وجود مطلق کے تنزلات</h3>
<p>وجود مطلق بحیثیت اطلاق کے نہ معلوم ہو سکتا ہے اور نہ دیکھا جا سکتا ہے اور نہ اس کے اوپر کچھ حکم کیا جاتا ہے سوائے اس کے کہ وہ موجود ہے اور اس وجود مطلق کے لیے تنزلات ہیں کہ ان تنزلات ہیں اور ان کے ہی سبب سے اور ان کے اعتبار سے معلوم ہو سکتا ہے اور مشاہدہ کیا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہےاور تمام اشیاء اس اعتبار سے برابر ہیں کچھ ترتیب اور تعقیب نہیں بس وجود مطلق کی نسبت آخر موجودات کے ساتھ اسی طرح ہے جیسے کہ وہ اول موجودات کے ساتھ ہے پس وجود مطلق پر حدوث کا توہم نہیں ہو سکتا البتہ بعض موجودات ظہور کے اعتبار سے بنسبت بعض موجودات کی حدوث ہے پس تقدم اور تاخر طبعی اور وضعی بعض موجودات کے لیے باعتبار بعض کے ہے جیسے کہ تقدم حیات کا علم پر اور وجود علمی کا وجود عینی پر اور اجمالی علم کا تفصیلی علم پر پس اول حضرت اطلاق کے لیے جو تعینات ہیں وہ علم اپنی ذات کا ہے مع نسبتوں کے اور اعتبارات الہیہ کونیہ ازلیہ ابدیہ کے مجملا بغیر تفصیل اور تمیز کے پس کچھ بعد اور تکثر نہیں بسبب عدم امتیاز کے اور باوجود اس کے کہ کوئی نسبت نسبتوں میں سے اور کوئی حکم احکام میں سے ان کے احاطہ علم اجمالی سے خارج نہیں ہے پس یہ اول پر وہ ہے جو اطلاق کے منہ پر لگایا گیا ہے اور اسی واسطے اس کو تعلق اولی کہتے ہیں اور حقیقت محمدیہ اور وحدت ازلیہ اور مقام اولی بھی اس کا نام ہے اور جو کثرت اس اجمال میں پوشیدہ ہے ان کو شیون ذاتیہ اور حروف عالیہ کہتے ہیں پس وحدت کثرت پر غالب اور متولی ہے پس تمیز معدوم ہو گئی لیکن اس وحدت نے کل کا احاطہ کر لیا ہے اور کوئی نسبت اور حکم اس کے نیچے سے خارج نہیں ہے لیکن احاطہ کا اعتبار نہیں کیا گیا پس کل بغیر اعتبار کلیت کے معدوم ہے پس اس وحدت محضہ کے لیے دو وجہیں ہیں ایک وجہ تجرد کی جانب ہے اور ایک جانب تلبس کے پس پہلے جہت کے رخ کو مرتبہ احدیت ذاتیہ کہتے ہیں اور دوسرے جہت کے رخ کو مرتبہ واحدیہ کہتے ہیں اور وحدت احدیہ اپنی خاصہ کے اعتبار سے اپنی کثرت کے منافی نہیں کیونکہ وہ کثرت اصل احدیت ہے بلکہ وہ عین احدیت ہے پس با لضرور احدیت اپنی اپنی عین وحدت سے کثرت کی عالم ہے اور ثانی میں یعنی مرتبہ واحدیہ میں چار نسبتیں حاصل ہوئیں علم، وجود، نور ،شہود و بغیر تقدم ان کے اضداد کے جو جہل اور فقد اور غیبت ہیں یعنی ان چاروں سے جو کشف تام حاصل ہوتا ہے وہ ان کو حاصل ہے۔</p>
<h2>ساتواں مرحلہ</h2>
<h3>وحدت حقیقت کے اجمالی و تفصیلی اعتبار</h3>
<p>وحدت حقیقت کے لیے دو اعتبار اول اجمالی دوم تفصیلی<br />
وحدت حق تعالی کہ جو حقیقت محمدیہ ہے تعلق اجمالی کے ساتھ متعین ہونے اور متجلی ہونے کے بعد تعین تفصیلی کے ساتھ متنزل اور متجلی ہوئے ہیں کیونکہ تمام موجودات اگرچہ ذات پر علی وجہ الکمال اجمال کے ظاہر ہیں مگر باعتبار اپنی خصوصیات متمیزہ کی غیر ظاہر ہیں پس تمیز ضروری ہے تاکہ با اعتبار خصوصیات کے ظاہر ہو پس ذات نے تمام نسبتوں اور اضافات الہیہ کونیہ ازلیہ ابدیہ کو خود اپنی ذات میں ادراک تفصیلی متعدد سے ادراک کیا اور ایسے طریق پر ادراک کیا کہ ہر نسبت دوسری سے مع احکام اور آثار مخصوصہ کے متمیز ہو گئی پر ہر نسبت کمالات الہیہ کتابیہ میں سے علم تفصیلی میں حقیقت متمائزہ ہو گئی پس اس تقریر سے تجھ کو معلوم ہو گیا کہ وحدت کے لیے دو اعتبار ہیں ایک اعتبار اجمال کا اور دوسرا تفصیل کے حقائق اس میں متمیز ہیں پس قہر اور غلبہ کثرت کو ثابت ہے۔</p>
<h2>آٹھواں مرحلہ</h2>
<h3> واحدیت کے کمالات کی تفصیل</h3>
<p>واحدیت مفصلہ دو کمال والے ہیں کیونکہ واحدیت دو حال سے خالی نہیں یا تو کمالات اور نسبتیں اور اعتبارات ہیں کہ جس کی شان یہ ہے کہ ذات اس کے ساتھ تعدد وجود ی اور تکثر شہودی کے ساتھ متصف ہونا نہیں ہے اور یا یہ کہ ان کی شان متصف ہونے کی ہو پس اول کمالات فعلیہ وجوبیہ ہیں اور ان کا کام فعل اور تاثیر ہے یعنی غیر میں فیضان وجود پیدا کرتے ہیں یعنی واحدیت فی نفسہا اپنے غیر میں یعنی کمالات انفعالیہ میں ظاہر ہوتی ہے پس وہ اسماء اور صفات کے ساتھ نامزد ہوتی ہے اور صورۃ علمیہ جو ان اسماء اور صفات کے سبب سے حاصل ہوتی ہے یعنی ان کمالات کے ساتھ جو اس کو علم ہوتا ہے اس کو حقائق اسماء و صفات کہتے ہیں پس وہ کمالات فعلیہ جبکہ ایسے شے کے یقین میں اعتبار کیے جائیں کہ جو تمام تعینات فعلیہ کو بالاجمال جمع کرنے والی ہو پس یہ الوہیت ہے اور اگر تفصیل اور فرق میں اعتبار کیے جائیں پس اس وقت دو حال ہیں اگر ظہور آثار کا اعیان میں اعتبار کیا جائے پس وہ اسمائے الہیہ ،ربوبیت ا ور صفات ربوبییت ہیں اور اگر عدم ظہور آثار اعتبار کیا جائے تو وہ حقائق الوہیت ور ربوبیت ہیں اور اس کی دو قسم ہیں اگر ان کا تحقق بعض حقائق کونیہ کے ظہور پر موقوف ہوں جیسے خالقیت رازقیت پس یہ حقائق ربوبیت ہیں اور اگر موقوف نہ ہو تو حقائق الوہیت ہیں اور دوسرا کمال واحدیہ کا کمالات انفعالیہ امکانیہ ہیں کہ اول کے شان انفعال اور اثر فعول کرنا فیض وجودی کا فاعل سے ہے جو پس وہ کمال فصول اور خواص اور تعینات متمیزہ ہیں اور یہ کمالات انفعالیہ کے تعین میں اعتبار کیے جائیں کہ جو اجمالا تمام تعینات انفعالیہ کو جامع ہو پس یہ حقیقت امکانیہ ہے اور اگر فرق اور تفصیل میں اعتبار کیے جائیں تو اس وقت دو حال ہیں اگر علم میں عدم ظہور آثار اور احکام کا اعتبار کیا جائے تو وہ حقائق اور اعیان ہیں اور اگر عین میں احکام اور آثار کے ظاہر ہونے کا اعتبار کیا جائے تو وہ موجودات خارجیہ روحانیت سے ہیں اور جسمانیات اور مثالیات اور ان دو کمالوں کے ثابت کرنے میں راز یہ ہے کہ ذات وحدہ کا بحیثیت اپنی وحدت کے با اعتبار وجود کے ایک وقت میں دو کمالوں کے ساتھ متصف ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ تقدم فاعل کا اور تاخر منفعل کا ضروری ہے ورنہ تقدم شے کا اپنی ذات پر لازم آئے گا اور یہ باطل ہے پس ضروری ہوا کہ کمالات انفعالیہ ذات فاعل سے خارج ہوں پس کمالات انفعالیہ کے ساتھ جو انصاف ہے وہ فرق میں ہے اور کمالات فعلیہ کے ساتھ انصاف جمع میں ہے۔</p>
<h2>نواں مرحلہ</h2>
<h3> ذات باری تعالی کے مظاہر</h3>
<p>ذات اجمالا و تفصیلا دونوں طرح متجلی ہوئے ہیں مگر پھر بھی وہ عین میں نہیں بلکہ علم میں ہے اور عین میں وجود و ادراک کی بو تک نہیں بس وہ وجود اور ادراک کے مقتضی ہوئی پس اول موجودات بسیطہ میں جو فرق اور التیام(جڑنا) اور تجزی اور تعیض() سے بری ہیں متجلی ہوئی کیونکہ ایسے موجودات اپنے تمام ماتحت پر شرف رکھتے تھے کیونکہ مادہ اور مدت وغیرہ کہ شرائط پر موقوف نہ تھے اور وہ موجودات ارواح ہیں اور پھر موجودات لطیفہ ہیں کہ وہ بھی فرق و التیام و تجزی و تعیض سے بری تھے متجلی ہوئے اور وہ موجودات مثال کہلاتے ہیں اور پھر تیسری مرتبہ موجودات نے مرکبہ لطیفہ کثیفہ میں کہ جو خیر و التیام و تجزی کو چاہتے ہیں متجلی ہوئی اور وہ عالم شہادت و عالم حس ہے پھر ذات ایک ایسا مظہر چاہا کہ جو تمام مراتب علمیہ عینیہ روحانیہ و جسمانیہ کو جامع ہوتا ہے کہ اور مواضع میں جو مظہریت متفرق تھی اس کی جمع کر لے پھر ایسا مظہر اس کا اجمال اور عین ہے اور یہ احدیت جمیع کا مظہر ہے اور وہ صورۃ انسان کامل کی ہے جو تمام مراتب فوقانیہ کو گھیرنے والا ہے پس جیسے کہ ذات احدیہ کل پر مشتمل ہے اور عین کل ہے اور ہر شان شیون ذات احدیہ کی اور شیون کے حکم پر مشتمل ہے اسی طرح یہ صورۃ عنصرییہ عجیبہ کل پر مشتمل ہے اور عین کل ہے اور ہر شان اس کے شیون سے تمام شیون کے حکم پر مشتمل ہے پس جیسے ذات احدیہ سنتی ہے ساتھ اس شے کے جس سے دیکھتی ہے اور پکڑتی ہے ساتھ اس چیز کے جس سے بولتی ہے اس طرح انسان کامل بھی ہے اس کا نام اتحاد ہے اور حکم اس کا ایجاد ہے۔</p>
<h2>دسواں مرحلہ</h2>
<h3> انسانی صفات اور اسمائے الہیہ کے مظہر کے معنی</h3>
<p>: انسان کے صفات اور اسمائے الہیہ کے مظہر ہونے کے معنی<br />
جامعیت تامہ جو انسان کی صورت میں ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ صورت اسماء اور لطائف اسماء کا اثر اور بو پر مشتمل ہے تاکہ وہ صفات اور اسماء الہیہ قدیمہ ازلیہ ابدیہ واجبیہ کے تصور کے لیے نمونہ ذات کا ہے یہ معنی نہیں کہ ان اسماء و صفات نے اس صورت میں حلول کیا ہے کیونکہ صفات اس کیفیت کے ساتھ یعنی حلول کے ساتھ ذات اقدس حق تعالی کے ساتھ خاص ہے کہ جو اس سے بری ہے کہ اس کی کوئی صفت کسی مخلوق میں حلول کرے اور اسی طرح صورۃ انسانیہ کے تمام موجودات امکانیہ پر مشتمل ہوئے کہ معنی یہ ہیں کہ وہ ان کلیات پر جو امکان کے نمونے ہیں شامل ہے یہ معنی نہیں کہ ممکنات اپنی صورتوں اور اشخاص سے اس میں مرکب ہیں جیسا کہ انہوں نے تشریح انسان میں ذکر کیا ہے پس انسان ایسے اسم سے مستفیض ہے کہ جو لطائف اسمائے الہیہ اور دقائق حقائق امکانیہ کو جامع ہے اور موجودات غیبیہ پر مفیض ہے پس انسان بحیثیت کلیت و جمیعت کے بجز وجوب اور امکان کے درمیان برزخ ہےاور وجوب و حقائق کے درمیان بحیثیت مظہریہ کے برزخ ہے اور اسی سے دائرہ تمام ہوتا ہے اور اسی سے خلافت کا منتظم ہوتا ہے اور اسی سے علت ایجاد کی منتہی ہوتی ہے اور حکم اس کا ظہور ہے۔</p>
<h2>گیارھواں مرحلہ</h2>
<h3>صفات کے متجلی ہونے پرشبہ اورجواب</h3>
<p>صفات کے متجلی ہونے پر ایک شبہ اور اس کا جواب<br />
اگر تو یوں کہے کہ حکیم اگر کسی باعث سے متجلی ہو عجز و نقصان آتا ہے ورنہ سفہ و عبث ثابت ہوتا ہے اور ذات حق دونوں سے برتر ہے اس کے جواب میں میں کہوں گا کہ یہ اعتراض اس حکیم میں وارد ہو سکتا ہے کہ جس کا کمال صفات سے ہو اور ہمارا کلام اس حکیم میں ہے کہ جس کا کمال ذات سے ہے کسی صفت سے نہیں ہے پس افعال اس کے کامل ہیں اور جو اس پر مترتب ہو وہ حکمتیں اور مصلحتیں ہیں اپنی ذات کے کمال حاصل کرنے کے اسباب نہیں ہیں پس اس کا فعل کسی شے کے واسطے نہیں ہے پس ایجاد اس کے کمال کا ثمرہ ہے یہ بات نہیں کہ ایجاد اس میں کمال کو پیدا کرتا ہے پس اس میں کسی وجہ سے نقصان نہیں ہے تاکہ کسی فعل سے کمال حاصل کریں۔</p>
<h2>بارہواں مرحلہ</h2>
<h3>ذات کا مظاہر سے تعلق</h3>
<p>ذات کا اپنے مظاہر سے کیا تعلق ہے؟<br />
وجود حقیقت واحد مستقلہ ہے اور جو اس کے سوا ہے وہ عدم خالص اور لاشے محض ہے پس جو کچھ عالم کون میں ہے وہ اس حقیقت وحدت کا عین نہیں ہے کیونکہ یہ عالم کون میں ہے وہ کثیر ہے اور حقیقت واحد ہے اور نہ عالم کون عدم محض ہے کیونکہ آثار اور احکام اس کے ثابت ہیں پس اب عمدہ مشرب اور مذہب وسیع اس بارے میں یہ ہے کہ جو عالم کون میں ہے وہ حقیقتا تو اس حقیقت وحدت کا عین ہے اور اعتبارا اس کا غیر ہے یعنی بحیثیت تعین اور خصوصیت کے غیر ہے جیسا کہ حقیقت جبرائیلیہ کا بشر کی صورت میں متمثل ہونا پس وہ حقیقت جبرائیلیہ بحیثیت اس کے کہ وہ حقیقت جبرائیلیہ ہے او بحیثیت تشخیص اور تعین کے غیر ہیں پس مخلوق یعنی ظاہر بحیثیت حقیقت کے مجرد ہے اور بحیثیت ظہور کے ملبس یعنی غیر مجرد ہے پس وہ عین تجرد میں ملبس ہے اور عین تعین میں مجرد ہے پس اس کا اطلاق تقید کے ساتھ ہے اور اس کے تقید ایک اطلاق کے ساتھ ہے شیخ نے کہا ہے کہ اگر تو حق کو دیکھے تو خلق کو نہ دیکھے گا اور اگر خلق کو دیکھے گا تو حق کو نہ دیکھے گا پس دونوں اعتباروں کے احکام کے محافظ کو لازم پکڑو۔<br />
فالبحر بحر على ما كان قدم وان الحوادث امواج فانهار<br />
یعنی پس بحر بحر ہے جیسا کہ قدم میں تھا اور حوادث موجیں اور نہری ہیں<br />
پس متمثل بنسبت اپنی تمثلات کی ملبس و مجرد دونوں ہیں یعنی بحیثیت بطون کے مجرد ہے اور بحیثیت ظہور کے ملبس ہے پس وہ بحیثیت دو حکموں کا محکوم علیہ ہے تجرد کا اور تلبس کا اطلاق اور تقید کا پس دحیہ کلبی کی صورت جبرائیل کی عین حقیقت جبرائیلیہ نہیں ہے کہ وہ صورت انسانیہ ہے مگر حقیقت دحیہ جبرائیلیہ ہے کیونکہ اگر حقیقت جبرائیلیہ نہ ہوتی تو غیر حقیقت جبرائیلیہ ہوگی پس اس صورت میں وحی کے پہنچانے کا حال متقلب ہو جائے گا کیونکہ اس صورت میں وہ غیر جبرائیل ہے پس ثابت ہوا کہ حقیقت وہ حقیقت جبرائیلیہ ہے اگرچہ صورت اس کی صورت جبرائیل کی نہ تھی پس معلوم ہوا کہ عینیت بحیثیت حقیقتت کے ہے اور غیریت بحیثیت صورت کے ہے پس انسانیت اور جسمیہ کے احکام صورت بشریہ کی طرف راجع ہیں اور تقدس اور وحی کے پہنچانے کے احکام حقیقت ملکیہ جبرئیلیہ کی طرف راجع ہیں پس اس بات کو جان کے احکام بشریہ حقیقیہ ملکیہ کے ساتھ قائم نہیں ہے بخلاف لطافت وبساطت اور تقدس کے کہ یہ اس کے ساتھ قائم ہے مگر حقیقت ملکیہ کو صورت بشریہ کے ساتھ ایک نسبت خاصہ اور مدد اور توجہ خاص ہے کہ اس نسبت کے واسطہ سے اس صورۃ بشریہ کا اور اس کے احکام ولوازم کا قیام ہے اگر وہ مدد اور توجہ نہ ہوتی تو صورتا معدوم ہو جاتی اور اس نسبت کے ہی نتائج میں سے ہے کہ اس صورت پر یہ حکم کیا جاتا ہے کہ وہ حقیقت جبرائیلیہ ہے اسی طرح موجودات وجود جن کے تمثلات ہیں پس حقائق امکانیہ کے اور اس کے آثار صورت مثالیہ کی طرف بحیثیت اس کے کہ وہ اس کے غیر ہیں راجع ہیں چونکہ وہ بحیثیت عینیت کے وجود محض ہے اور غیر کا کچھ حصہ نہیں بس حلول ثابت نہیں ہوتا اور نہ صورت کا قیام اس کے ساتھ ہے کیونکہ اس تقدیر پر لازم آتا ہے کہ متناہی محل غیر متناہی کا ہو اور ذات قدیمہ محل حوادث ہو اور حق سبحانہ و تعالی نہ حال ہے نہ محل ہے پس اگر حال و محل ہونے کے طور پر ظہور ہو تو یہ لازم آتا ہے کہ جیسا ازل میں ذات تھی اس کے خلاف ظاہر ہو اور یہ تغیر اور حوادث نہیں تو اور کیا ہے بلکہ ذات تمام صورتوں کے ساتھ متمثل ہے باوجود اس کے کہ جس طرح پروہ اپنی ذات میں ہے اسی طرح باقی ہے پس صور امکانیہ میں سے ہر ایک کے لیے ایک نسبت مخصوص ذات سے ہے پس جو توجہ ایک اسم سے ہے وہ غیر ہے اس توجہ کے جو دوسرے اسم سے ہے پس متمثل ایک ہے اور تماثیل مختلف ہیں پس ان صورتوں کو ذات سے ایسی نسبت ہے جیسے کہ لازم کو ملزوم کے ساتھ ہے نہ ایسی نسبت جیسی جزو کو کل کے ساتھ ہے پس تدبیر کر اورشکر کرنے والوں سے ہو۔</p>
<h2>تیرہواں مرحلہ</h2>
<h3>  صفات اور اسماء کے ظہور کی تمثیل</h3>
<p>انسان کی مثلاً چند صورتیں ہیں لڑکپن جوانی بڑھاپا اور باوجود ان صورتوں کے ذات واحد ہے اور ہر صورت مخصوصہ کے لیے ذات سے ایک نسبت مخصوصہ ہے تو با اعتبار اس نسبت کے ذات ان اوصاف کے ساتھ کہ جن کو وہ مقتضی ہے متصف ہے پس ان مظاہر میں نہیں ہے عین ظاہر واحد پس صور اپنے وجود میں ذات کے محتاج ہیں اسی کے ساتھ قائم ہیں اور ذات کے لیے با اعتبار ہر صورت کے ایک فعل خاص اور علیحدہ تاثیر ہے اور یہ فعل اور تاثیر حق تعالی کے اسماء میں اسم سے ہے کہ وہ اس مظہر میں ظاہر ہوا ہے پس ہر صورت اسماء حق میں سے ایک اسم کا مظہر ہے پس انسان صورت لڑکپن میں باعتبار اس نسبت کے کہ وجود کو اپنے نفس سے قبول کرنے والا ہے اور اسی نسبت کے اعتبار سے اس کے لیے صفات ہیں اور اسی طرح جوانی اور بڑھاپے کی صورتوں میں سمجھنا چاہیے پس جو فعل اور تاثیر ایک صورت میں ہے وہ اس فعل اور تاثیر کے مغائر سے جو دوسری صورت میں ہے اور فعل حیات اور علم اور قدرت اور ارادہ کو چاہتا ہے کیونکہ فعل و تاثیر بغیر ان صفات کے نہیں ہو سکتا اور ہر صفت کے ساتھ جو ظہور سے وہ مغائر ہے اس ظہور کے جو دوسری صفت سے ہے اور جو ایک صفت سے تعین ہے اور دوسری صفت کے تعین سے علیحدہ ہے پس کثرت کا منتشر ہونا عین وحدت حقیقیہ میں ہے جو جامع ہے اور صلاحیت کے ساتھ ناعت ہے پھر منتشر ہونا کثرت کا باعتبار تجرد فی العلم کے پھر تعین میں ہے پس کثرت یا تو عین میں ہے یا علم میں اور جو علم میں ہے یا تو بالاجمال ہے یا بالتفصیل یہ تینوں محل ہیں کثرت کی جو وحدت ذاتیہ مطلقہ قاہرہ کے تحت میں ضبط کی گئی ہے پس انسان کی ذات بمنزلہ غیب ہویت کے ہے اور اپنے نفس کو اور اپنے تمام کمالات کو اپنی ذات سے ادراک کرتا ہے مگر ادراک اجمالی ہے بغیر ایسے امتیاز کے جو قابلیات سلبیہ اور ایجابیہ و انفعالیہ کو جامع ہو بمنزلہ تعین اول کے اور اس کی قابلیات بمنزلہ شیون ذاتیہ کے ہے پس وہ مدرکات مجملہ بحیثیت تمام نسبتوں اور اضافات سے مجرد ہونے کے ہے پس وہ بمنزلہ احدیت محضہ کے ہے اور یا قابلیت بحیثیت تلبس کے ہے ساتھ نسبتوں اور اضافتوں کے پس وہ بمنزلہ وحدیت تفصیلیہ کے ہے اور اپنے نفس کو اور تمام کمالات کو خود اپنی ذات سے ادراک کرتا ہے اور ادراک تفصیلی ہوتا ہے اور جو قابلیات ایجابیہ اور سلبیہ اور فعلیہ اور انفعالیہ کے درمیان امتیاز کے ساتھ علی وجہ الفرق ہے اسی طرح پر کہ اس کے لیے خود ہر ایک کی نسبت قابلیت ظہور خاص کے علم میں ہو بمنزلہ تعین ثانی کے اور قابلیت جو اس میں ہیں یا تو ان کی شان فعل ہے یا انفعال ہے اور فعلیات اور انفعالیات کے لیے اجمال اور تفصیل ہے پس فعلیات کا اجمال بمنزلہ الوہیت کے ہیں اور تفصیل اس کی بمنزلہ اسماء اور صفات کی ہے اور اجمال ثانی کا بمنزلہ حقیقت امکانیہ کے ہے اور اس کی تفصیل علم میں بمنزلہ اعیان ثانیہ کے ہے اور عین میں بمنزلہ عالم کے ہیں اور تمام قابلیات انسان کی ذات سے ظاہر ہیں اور اسی کے ساتھ قائم ہیں لیکن قابلیت فعلیہ کے ساتھ اس کا ظہور تعدد وجودی کو واجب نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی وحدت صوریہ میں قابلیات فعلیہ کے ساتھ عین ظہور میں ہے بخلاف قابلیت انفعالیہ کے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ظاہر ہونے کے وقت تعدد وجودی کو واجب کرتا ہے۔</p>
<h2>چودھواں مرحلہ</h2>
<h3>    قرب و بعد کےاعتبار سے خلق کی تقسیم</h3>
<p>با اعتبار قرب و بعد کے خلق کی تقسیم<br />
لوگوں کی دو قسمیں ہیں یا تو محجوب و محروم ہیں پس سوا کثرت اور غیریت کے اور کچھ نہیں دیکھتے اور یا مجذوب ہیں کہ سوائے وحدت اور عینیت کے اور کچھ نہیں دیکھتے بس یہ دونوں اقتداء کے لائق نہیں ہیں کیونکہ دونوں محجوب ہیں پہلا تو کثرت کی ظلمت سے اور دوسرا وحدت کے نور سے، اقتدا کے لائق وہ عارف ہے جو دونوں طریق کا جامع ہو پس اشیاء کے باطن میں تو وحدت کو ثابت کسی اور اور اورونکے ظاہر میں کثرت کو پس اس کی وحدت کی آنکھ کثرت کی آنکھ کے ساتھ کھلی ہے اور کثرت کی آنکھ وحدت کی آنکھ کے ساتھ کھلی ہے پس ربوبیت وعبودیت و عینیت کو جو باطن کے اشیاء میں ثابت کرتا ہے وہ غیریت کو ظاہر اشیاء میں اور ہر دو کے احکام کو محو نہیں کرتا ہے پس ممکنات حقیقیہ اس کے عین ہیں اور اعتبار اس کے غیر ہیں پس بحیثیت تعینات غیریہ کے تو ممکنات مسلمہ ہی ہیں اور بحیثیت حقیقت عینیہ کے محققہ ہیں پس ممکنات تمام وجہات سے اس کے عین نہیں ہیں اور نہ تمام وجوہات سے اس کے غیر ہیں بلکہ باعتبار ذات کے اس کے عین ہیں اور با اعتبار تعین کے غیر جیسا کہ زید عین انسان ہے حقیقتا اور غیر انسان ہے با اعتبار تعین اور تشخص کے کیونکہ امتیاز اور تعین ہونا اطلاق کو مخل ہے شیخ ابو الحسن شاذلی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ فرق تیری زبان پر ہو اور جمع تیرے قلب میں ہو اور یہی کمال ہے پس مقید مطلق کا وجود میں محتاج ہے اور مطلق مقید کا ظہور میں مشتاق ہے اور کچھ کلام اس بحث کے متعلق آگے بھی آئے گا پس ممکنات بحیثیت اطلاق کے متحد ہیں اور بحیثیت تقیدات کے متعدد ہیں پس اطلاق کے احکام تقیدات کے نزدیک باقی ہیں اور تقیدات کے احکام اطلاق کے نزدیک ناقد ہیں اور دونوں کے احکام میں کچھ تعارض و تزاحم اور تناکر نہیں ہے بخلاف ان احکام کے جو ایک ہر ایک کے ساتھ مختص ہیں کیونکہ وہ آپس میں متعارض ہیں جیسا کہ انسان جب زید کی نسبت پر قیاس کیا جائے تو کلیتا کا حکم جزیت کے حکم کے جو زید میں ہے مزاحم و معارض ہے مگر انسان کے جسم و متحرک وبالارادہ ہونے کو زیدیت مزاحم و معارض نہیں ہے اسی طرح وجوب اور امکان اور قدم اور حدوث پس ہر ایک بحیثیت تلبس کے دوسرے سے معارض ہے اور بحیثیت تجرد کے معارض نہیں ہے اور معارضہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ احکام عین تجرد میں ڈوبنے والے ہیں دیکھتے نہیں ہو کہ حضرت موسی علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا سانپ دکھائی دیتا تھا لیکن فی الواقع میں وہ عصا ہی تھا پس وہ عصا تھا سانپ نہ تھا اور سانپ تھا اور عصا نہ تھا اور عصا عین سانپ تھا اور سانپ عین عصا تھا اور عصا غیر سانپ تھا اور سانپ غیر عصا تھا اور اسی طرح ساحرین کے درمیان اور ان کے عصا ہمارے نظر میں سانپ تھے اور سانپ رسیاں اور عصا یہ سب تخیل میں ہے پس حقیقت میں سوائے ایک ذات کے اور کچھ نہیں ہے جو ایسے احکام کے ساتھ متلبس ہے کہ ان احکام کے سبب سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے غیر ہے۔</p>
<h2>پندرھواں مرحلہ</h2>
<h3>  وجود حقیقی کے ممکنات میں ظہورپر سوالات و جوابات</h3>
<p>: وجود حقیقی کے ممکنات میں ظہور کرنے پر سوالات اور ان کے جوابات<br />
جاننا چاہیے کہ یہ مسئلہ با سبب مشکل ہونے جائے لغز ش اور افہام کا ہے اور جگہ پریشان ہونے خیالات کی ہے جو اس میں مشغول ہونے والا ہے اس کو بہت سے اعتراضات ایسے پیش آتے ہیں کہ مطلب کو عقل میں مستقل وراسخ ہونے سے روک دیتے ہیں پھر جو پوری طرح غور کرنے والا ہے تو اس کو جوابات بھی ان اعتراضات کے منکشف ہو جاتے ہیں کہ جس سے دروازہ بستہ کھل جاتا ہے اور قلب مطمئن ہو جاتا ہے پس اب ہم کو چاہیئے کہ کچھ سوالات و جوابات ذکر کریں تاکہ تو بصیرت حاصل کرے اور تحقیقات تیرے سے ذخیرہ ہوں ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود حقیقی واجب ہے اور جب کہ تمام ممکنات میں ساری ہوگا تو لازم آئے گا کہ تمام ممکنات واجب ہوں کیونکہ مقید مطلق کا عین ہوا کرتا ہے حالانکہ ایسا نہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> کسی شے کے وجود سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے لوازم بھی واجب ہوں پس ممکنات وجود کے لوازم ہیں اور نیز وجود کے لیے مختلف حیثیتیں ہیں ورنہ واحد سے کثرت کا صدور نہ ہوتا پس وہ بحیثیت اس کے کہ حقائق ممکنات میں ساری ہے وجوب کے ساتھ متصف نہیں کیونکہ وجوب تجرد کا وصف ہے نہ تلبس کا پس وجود بحیثیت واجب ہونے کے ممکن نہ ہوگا اور بحیثیت ممکن ہونے کے واجب نہ ہوگا پس ہر حیثیت کا ایک حکم ہے جو دوسری حیثیت کے حکم کے مغائر ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود کے اندر محل کی کثرت سے کثرت آجاتی ہے اور واجب کے اندر تکثر نہیں ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب</span> :۔تکثر اس میں نہیں ہے تکثر اس کے شیون میں ہے اور وہ و ہی ہے تعین وجوبی اور امکانی کے ساتھ مکتسب ہونے سے پہلے بھی اور بعد بھی ورنہ تغیر اور انقلاب ضد کے ساتھ اس میں لازم آئے گا مگر وہ با اعتبار ظہور کے حصص متعینہ کے ساتھ نام رکھ دیا گیا ہے پس وہ ازل و ابد میں اسی صفت بساطت پر ہے جیسا کہ تھا اور نیز تکثر تو وجود کی امداد اور توجہ اور تعلق جو اس کو موجودات سے ہے اس میں ہے اور ان میں سے ہر ایک کا تکثر ممد اور متوجہ میں تکثر کو پیدا نہیں کرتا پس واجب میں کچھ بھی تکثر نہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود یا تو واجب ہوگا یا ممکن اور نیز یا قدیم ہوگا یا حادث پس لازم آتا ہے کہ وجود نہ واجب ہو اور نہ قدیم ہو ورنہ انقسام شی کا اپنی طرف اور اپنے غیر کی طرف لازم آتا ہے اور یہ باطل ہے۔<br />
جواب:۔ وجوب اور امکان اور ایسے ہی قدم اور حدوث وجود کی نسبتوں کے اسماء میں سے ہیں اور ان اسماء ذاتیہ میں سے نہیں ہیں کہ کل متقابلات اس کی نسبت برابر ہیں پس تقسیم نسبت وجود کی ہے وجود بحیثیت وحدت اور اطلاق کے نہیں ہیں کیونکہ وہاں تو کوئی نسبت ہی نہیں ہے اور نیز وہاں کسی طرح کی تقسیم ہے تقسیم وہاں کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ تقسیم تام ایک مخصص کو ایک مشترک کے ساتھ ضم کرنے کا ہے اور مخصص مشترک کے غیر ہے تاکہ تمیز اور امتیاز کو مفید ہو پس مطلق جو منقسم ہوا ہے ضم مخصص کے ساتھ اپنے نفس کا غیر ہے تاکہ تقسیم شے اپنے نفس کی طرف اور اپنے غیر کی طرف نہ لازم آئے اور جس امر میں ہم کلام کر رہے ہیں وہ ایسا نہیں ہے کیونکہ ان موجودات کے ساتھ وجود کا ظہور تمثل کی قسم سے ہے جیسے حقیقت ملکیہ کا صورت بشر یہ میں ظاہر ہونا پس یہ نہیں کہا جاتا کہ صورۃ بشریہ حقیقیہ ملکیہ کے غیر ہے پس حقیقت اور ظہور کے اعتبار سے وجود واحد ہے مگر نسبتوں اعتباریہ نے تمیز اور کثرت کو پیدا کر دیا ورنہ تمیز اور کثرت وہمیہ ہے بزرگوں نے اس مقام کو اسی طرح لکھا ہے اور اس میں جو کچھ خدشات ہیں وہ ہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> مطلق کا وجود صرف ذہن ہی میں ہوتا ہے اور واجب الوجود خارج میں موجود ہے پس مطلق واجب الوجود نہ ہوگا ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> مطلق سے مراد وہ معنی نہیں ہے جو عقل کے فہم میں متبادر ہوتے ہیں بلکہ مطلق سے مراد ایسی ذات ہے کہ اس کا تعین اور تعینات کے منافی نہیں ہے بلکہ تمام تعینات کے ساتھ اسی طرح جمع ہو سکتا ہے کہ کوئی تعین تعینات میں سے اس سے نکلتا نہیں پس واجب ایسے تعینات سے متعین ہے کہ وہ تعین اس کا عین ذات ہے پس وہ موجود خارجی ہے اور اطلاق حقیقی سے مطلق ہیں اور ایسے تعین سے متعین ہے کہ وہ تعین عین ذات ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال :</span>۔مطلق کا وجود مقید کے ہی ضمن میں ہوتا ہے اور ایسے ہی عام کا وجود خاص ہی میں ہوتا ہے بس یہ لازم آتا ہے کہ واجب کا وجود ضمن غیر ہی میں ہو اور یہ محال ہے کیونکہ وہ پہلے ہر موجود کے موجود ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:</span>۔ موجود کی دو قسمیں ہیں اول یہ کہ وہ یا تو وجود مقارنت کے ساتھ موجود ہوگا یا نفس وجود ہوگا پس وہ ہیت کہ وجود کی مقارنت کے ساتھ پائی جاتی ہے اول متعین ہوگی اس کی وجوہ کے ساتھ مقترن ہو کر موجود ہوگی اور مطلق اور عام ہی بات سے ہے بخلاف اس ماہیت کے جو خود نفس وجود ہے پس وہ اپنی ذات سے موجود ہے پس وہ موجود ہونے میں غیر کی محتاج نہیں ہے پس واجب ضمن غیر میں موجود نہ ہوگا ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود ہر ایک کو معلوم حتی کہ کہا گیا کہ وجود بدیہی ہے پس اگر واجب تعالی عین وجود ہوتا تو ہر ایک کو معلوم ہوتا بلکہ بداہتا معلوم ہوتا حالانکہ ایسا نہیں ہے پس معلوم ہوا کہ واجب عین وجود نہیں ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> وجود کی کنہ کسی کو معلوم نہیں ہے اگرچہ با اعتبار تحقق ذاتی بدیہی ہو پس معلوم ہوا کہ وجود باعتبار تحقق کے سب اشیاء سے زیادہ ظاہر ہے اور با اعتبار کنہ کے بہت زیادہ مخفی ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود اگر عین واجب ہو پس تو دو حال سے خالی نہیں یا تو اپنے اطلاق سے عین واجب ہوگا اور یا اپنی تقیید سے تقدیر اول پر لازم آتا ہے کہ وجود تخلیق یعنی پیدا کرنے کی صفت اور ایجاد کے ساتھ متصف ہو اس واسطے کہ وا جب ان دونوں صفتوں کے ساتھ متصف ہے کیونکہ جب کوئی شے کسی شے کے ساتھ متحد ہوتی ہے تو یہ ضروری ہے کہ شے اول دوسری شے کے اوصاف کے ساتھ بھی متصف ہو اور جو شے اوصاف کے ساتھ متصف ہوا کرتی ہے وہ مقید ہوتی ہے مطلق نہیں ہوتی اور تقدیر ثانی پر یہ لازم آتا ہے کہ واجب مرکب ہو جیسا کہ تمام مقیدات کی شان ہے کیونکہ جو لوازم کسی شے کے ہوتے ہیں وہ اس شے میں ضرور متحقق ہوتے ہیں جو کہ پہلی شے کے ساتھ متحد ہو۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب :</span>۔اطلاق کی دو قسم ہیں اور اسی طرح وجوب کی دو قسم ہیں اول وہ اطلاق کے تمام نسبتوں سے جیسے فعل اور انفعال اور وجوب و امکان سے خالی ہو اور دوسرا اطلاق کہ وہ تمام نقائص امکانیہ سے مثل تعینات جسمانیہ مثالیہ وروحیہ کے خالی ہو اول اطلاق تو محض ذات ہے اور دوسرا ذات مع اسما و صفات کے ہیں اور واجب کے دو حال ہیں تو ذات محضہ ہو کہ اس میں تعین اور تقید بالکل نہ ہو اور دوسرے ذات جو اسماء و صفات کے ساتھ لی گئی پس واجب حقیقی اول ہے اور وہ عین اولی ہے بمعنی اول ہے اور دوسرا دوسرے کا عین ہے اور اطلاق حقیقی اور اس اطلاق کے درمیان جوخلق اور ایجاد کے ساتھ متصف ہے کچھ منافات نہیں بس اگر تو یہ کہے کہ کسی شے کا خالق اس شے پر محمول نہیں ہوا کرتا اور مطلق مقید پرمحمول ہوتا ہے بس وجود بحیثیت اطلاق کے واجب نہ ہوگا میں کہتا ہوں کہ حمل اتحاد من وجہ اور تغائر من وجہ کو مقتضی ہے اور یہ دو صورتوں میں متحقق ہوگا اول اتحاد با اعتبار صورت کے اور تغایر با اعتبار معنی کے جیسا کہ قول تیرا زید انسان ہے کیونکہ زید و انسان خارج میں ایک ہیں اور ذہن میں متغائر ہیں بسبب اس جزہیئت کے جو تشخص سے پیدا ہو اور کلیت اس تشخص کو اٹھاتا ہے اور دوسرے صورت یہ ہے کہ با اعتبار ظاہر کے تغائر ہو اور با اعتبار باطن کے اتحاد ہو جیسی جبرائیل اور صورت دحیہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اور اگر اتحاد نہ ہوتا تو صورت دحیہ جو ظاہر ہوئی ہے وہ جبرائیل سے ظاہر نہ ہوتی پس جس بات میں ہم کلام کررہے ہیں تغائر با اعتبار صورت کے ہے اور اتحاد با اعتبار معنی کے پس اس معنی کا ظاہر ہونا ایسی صورت میں ہے کہ وہ صورت اس کے لیے کمال ہے نہ نقصان بلکہ اگر ظاہر نہ ہو تو اس میں نقصان لازم آتا ہے کیونکہ ظہور میں اس کی ذات میں اس حالت سے کہ جس پر وہ ہے تغیر تو لازم آتا ہی نہیں پس موجد اور موجد اور فاعل اور قابل کے درمیان حمل جو ممتنع ہوگا تو بحیثیت اسی نسب کی ہے جو اپنی ذات سے متمیز ہیں جیسا کہ ہم نے دحیہ کلبی اور حقیقت ملکیہ میں ذکر کیا ہے پس جب موجد کی طرف اس حیثیت سے نظر کی جائے کہ وہ موجد ہے اور موجد پر وجود کے اعتبار سے متقدم ہے توحمل ممتنع ہے اور جب اس حیثیت سے نظر کی جائے کہ وہ مطلق اس کو یہ بات پہنچتی ہے کہ وہ جس صورت میں چاہے خواہ وہ صور علویہ میں سے خواہ صور سفلیہ میں سے متمثل ہو جائے۔ اور باوجود تمثل کے پھر بھی وہ جیسا کہ پہلے تمثل کے تھا اسی طرح رہے تو اس نظر کے اعتبار سے صحیح ہے جیسا کہ حیوان با عتبار اس کے کہ وہ جزو اور مادہ ہے اور بالذات متقدم ہے حمل اس کا انسان پر ممتنع ہے اورباعتبار اس کے اطلاق کے اس پر محمول ہوتا ہے پس معلوم ہوا کہ ایجاد اور اطلاق جمع نہیں ہوتے کیونکہ ان کے لوازم مختلف ہیں پس اول میں نے اطلاق کے تو اس کو مقتضی ہیں کہ موجد موجد پر محمول نہ ہو اور معنی ثانی اس کو مقتضی کہ مطلق مقیدات محمول ہو پس اس صورت میں لازم آتا ہے کہ وجود اور واجب عین دوسرے کا نہ ہو کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ وجود اگر واجب ہوتا تو اس کا موجد ہونا ممکن نہ تھا کیونکہ مانع اطلاق سے متحقق ہےپس حاصل یہ ہے کہ وجوب ذاتی اور اطلاق حقیقی میں کسی نسبت کی گنجائش نہیں پس وہ ہی وہ ہے کیونکہ اس حیثیت سے وجود میں کوئی غیر نہیں اور رہے وجوب وصفی اور اطلاق غیر حقیقی یعنی وہ اطلاق کہ جو صرف تعینات امکانیہ سے ہے اطلاق ہو تمام اعتبارات سے اطلاق نہ ہو تو ان کے لیے دو اعتبار ہیں اول صفت وجوبیہ کے ساتھ مقید ہونے کا لحاظ پس اس اعتبار سے تو مقید ات امکانیہ پر حمل صحیح نہیں ہے کیونکہ واجب اور ممکن میں سے ہر ایک ایسی خصوصیت کے ساتھ مختص ہے کہ وہ خصوصیت حمل کو مانع ہے اور دوسرا اعتبار اطلاق کا یعنی ذات کا لحاظ کرنا ہے تو اگرچہ اس اطلاق کے لیے بھی ایک تعین خاص ہے مگر وہ ایسا تعین نہیں ہے جو تعینات امکانیہ کے منافی ہو بلکہ ایسا تعین ہے جو تمام تعینات امکانیہ کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے اور ہر ایک تعین کے ساتھ بھی جمع ہو سکتا ہے اور ہر ایک کے ساتھ متمثل ہو سکتا ہے باوجود اس کے کہ وہ اپنے اطلاق اور کمال پر رہتا ہے اس کے اطلاق اور کمال میں کچھ فرق نہیں آتا پس اس صورت میں حمل صحیح ہے ۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود اپنے افراد پر تشکیک کے طور پر محمول ہوتا ہے پس بے شک علت کا وجود معلول پر مقدم ہوتا ہے اور جوہر کا وجود عرض کے وجود سے اولیٰ ہوتا ہے اور وجود قار بالذات کا غیر قار بالذات کے وجود سے اشد ہوتا ہے اور جو شے اپنے اثرات پر تشکیک کے طور پر محمول ہوتی ہے وہ اپنے افراد کے نہ تو عین ماہیت ہوتی ہے اور نہ جز ماہیت بلکہ وہ ماہئیت کو عارض ہوتی ہے پس اس کا واجب ہونا بھی ممتنع ہوگا کیونکہ واجب کسی شے کو عارض نہیں ہوا کرتا اور نہ غیر پر محمول ہوتا ہے خصوصا تشکیک کے ساتھ تو ہوتا ہی نہیں۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> وجود میں بحیثیت اس کے وجود وجود ہے تفاوت نہیں پس تقدم اور اولیت اور شدت اور ان کے جو مقابل ہیں امور اضافیہ ہیں اور وجود میں بحیثیت اس کے کہ وجود وجود ہے کوئی نسبت نہیں ہے اور نیز تشکیک تو با اعتبار کلیت اور عمومیت کے عارض ہوتی ہے اور وجود بحیثیت اس کے کہ وہ وجود ہے نہ عام ہے نہ خاص نہ کلی نہ جزئی بلکہ یہ امور اس کو بحیثیت ماہیات کے عارض ہوتے ہیں اور یہ عارض ہونا اس کے بحیثیت وجود ہونے کے بطور تشکیک کے محمول ہونے کو مستلزم نہیں ہے پس تشکیک با عتبار اس کے ہے کہ وجود ظاہر میں ظہور کر رہا ہے نہ بے اعتبار حقیقت وجود کے پس اختلاف ظہور کی طرف راجع ہے نہ حقیقت کے پس جو حقیقت افراد کی ہے وہی حقیقت وجود ہے نہ وہ حقیقت جو نسب اور اضافات کے ساتھ مجتمع ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> وجود اگر ممکنات میں ساری ہوتا اور حالانکہ وجود ذات باری تعالی ہے تو یہ لازم آتا کہ ذات الہیہ قاذو رات(گندگیاں) کے ساتھ متلطخ (آلودہ ) ہو اور یہ ایسی بات ہے کہ کوئی عاقل آپ کے کہنے کی جرات کر نہیں کر سکتا اورنیز وجود میں بعض ایسے قبا ئح ظاہر ہوئے ہیں کہ جو عقلا ًاور شرعاً قبیح ہیں پس ان کا وجود وجود حق تعالی کی جانب کیسے منسوب ہوگا ؟۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب :</span>۔بے شک ساری ذات ہی ہے تلطخ (آلودہ ہونا)بسبب نہائت لطافت کے لازم نہیں آتا دیکھتے نہیں ہو کہ آفتاب کی دھوپ گندگیوں پر محیط ہوتی ہے اور ان سے بالکل آلودہ نہیں ہوتی اور آنکھ کا نور گندگیوں پر پڑتا ہے لیکن ان میں مخلوط نہیں ہوتا پس کیا خالق کے نور کے ساتھ تیرا گمان ایسا ہو سکتا ہے تلطخ اور اختلاط تو جسم کے جسم کے ساتھ قریب ہونے میں لازم آتا ہے اور موجد تو وہ موجود خالص بمعنی ذات ہےماہیت امکانیہ کے ساتھ اس کو اقتران نہیں ہوتا اور فضلہ اورگندگیاں وغیرہ ایسے ماہیت امکانیہ ہے کہ وجود خالص کے ساتھ مقترن ہے پس اس ماہیت کے لیے اتحاد نہیں ہے جاننا چاہیئے کہ خیر بالذات وجود ہے اور شر بالذات عدم ہے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ شر کی کوئی حقیقت ذوات نہیں ہے کہ شر ایک عدم ہے جو کمال غیر کو مانع ہے کیونکہ وجود کسی شے کا کسی شے کو باطل نہیں کرتا مثلا برد اور ابر پھلوں کو باطل کرنے والے ہیں اور تامل کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ برد فی نفسہ شر نہیں بلکہ وہ کمالات میں سے ایک کمال ہے اور اگر شر ہے تو پھلوں کے اعتبار سے ہے مطلقا ًشر نہیں ہے بلکہ اس حیثیت سے شر ہے کہ اس نے پھلوں کے مزاج کو فاسد کر دیا ہے بس شربذات پھلوں کا معدوم ہونا ہے اور جو کمالات اس کے لائق ہیں ان کا معدوم ہونا اور لفظ شر کا اطلاق اسکے اسباب پر بالغرض ہوتا ہے ورنہ وہ شر نہیں ہے شر واقعی عدم ہے بس خوب غور کر لے کیونکہ یہ بحث بہت ہی مشکلات کے لیے مفتاح ہے ۔</p>
<h2>سولہواں مرحلہ</h2>
<h3>  وجود بمعنی کون ووجود بمعنی ذات فرق</h3>
<p>فرق درمیان وجود بمعنی کون ووجود بمعنی ذات<br />
جو شے خارج میں موجود ہے اس کی دو قسم ہیں اول ممکن دوم واجب کیونکہ وجود اگر کسی ضمیمہ منضمہ کا محتاج ہو اور اس کے بعد اس پر آثار مرتب ہو تو وہ ممکن ہے اور ضمیمہ یہاں وجود بمعنی ذات ہےاور اگر طرف ترتب آثار میں ضمیمہ کی احتیاج نہ ہو بلکہ اس کی ذات مستقل ہو وہ واجب ہے اور یہی واجب ممکن میں ضمیمہ ہے اور جو وجود معقولات ثانیہ سے ہے یعنی وہ جوبمعنی اصول وکون ہے ممکن اور واجب کے لیے عرض عام ہے مگر فرق یہ ہے کہ وجود بمعنی حصول کا عمل واجب پر حمل مواطات (متفق)نہیں ہے بلکہ حمل اشتقاق ہے یعنی واجب موجود ہے حمل واجب پر اس وجود کا کہ جو معنی میں ذات کے ہے تو وہ اشتقاق کا محتاج نہیں ہے بلکہ وجود بمعنی ذات اس پر حمل مواطات سے محمول ہوگا اور اگر اس موجود اس وجود سے جو بمعنی ذات ہے اشتقاق کیا جائے تو اس وقت اس کے معنی ذو وجود یعنی وجود والے کے ہوں گے کیونکہ واجب ذو ذوات ہے اور اسی طرح ممکن بھی ذو ذوات ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ واجب ترتب آثار میں وجود بمعنی حصول کا محتاج نہیں ہے کیونکہ آثار ذات پر مترتب ہیں بلکہ وجود بمعنی کون و حصول ہی منجملہ آثار کے ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:</span>۔ لفظ وجود تقریر بالا کے موافق ذات اور کون اور حصول کے درمیان مشترک ہے پس جو وجود اور واجب کے عین ہونے کا قائل ہے اس نے وجود سے مراد ذات لی ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ عین ذات نہیں ہے اس نے وجود کے معنی کون اور حصول لیے ہیں پس نزاع لفظی ہوا اور نزا ع لفظی میں مشغول ہونا مخلصین کا طریق نہیں ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب</span> ہم کہتے ہیں کہ اختلاف اس میں ہے کہ جو شے ماہیات سے مقترن ہوتی ہے اور اس کے اقتران سے آثار اور احکام اس پر مرتب ہوتے ہیں اور اس کو وجود سے تعبیر کرتے ہیں آیا وہ کوئی امر حقیقی ہے یعنی بمعنی ذات ہے یا امر اعتباری ہے یعنی وجود بمعنی کون ہے پس معلوم ہوا کہ نزا ع حقیقی ہی لفظی نہیں ہے ۔</p>
<h2>سترھواں مرحلہ</h2>
<h3>وجود کا حمل ، تفصیل اور سوال و جواب</h3>
<p>وجود کا حمل اور اس کی تفصیل معہ سوال و جواب<br />
وجود کو جو بمعنی ذات ہے بحیثیت وجود کے بغیر ملاحظہ کسی نسبت اور اعتبار کے خواہ وہ نسبت تجرد کی ہو یا تلبس کی وجود مطلق کہتے ہیں اور ذات خالص اور غیبت ہویت اور احدیت مطلقہ اور احدیت ذاتیہ کے کنہ علم کسی کو نہیں اور نہ کشف کسی مخلوق کا اس کے متعلق ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے ظہور اور تنزل اور تمثل باعتبارعلم اور عین کے ہے پس انہیں اعتبارات سے اس کے ادراک کے متعلق ہو سکتا ہے اول ان اعتبارات میں سے تنزل علمی جو متعلق ایک شان کلی کی ہے جو تمام شیون الہیہ وکیانیہ و ازلیہ و ابدیہ کو جامع ہے یعنی وہ اپنے نفس کو شان کلی جملی کے ساتھ جانتے ہیں بغیر امتیاز کے درمیان شیون ذاتیہ کے اور وہ کثرت ہے جو وحدت کے تحت میں مندرج ہے اور ہر شان کے لیے بنسبت اس کے ان احکام اور آثار کے جو نشاۃ آخرہ میں ظاہر ہوں گے خفا ہے کیونکہ مرتبہ تفصیل کا اجمال میں مختص ہے بلکہ ہر شان کے لیے بہ نسبت دوسری شان خفا ہے باوجود اس کے کہ حضرت وجود پر کوئی شے پوشیدہ نہیں ہے اور شیون اور ان کے احکام وآثار کے ظہور کی نسبت باعتبارعلم کے ایک مرتبہ میں ہے اور یہ وحدت حقیقیہ کے خواص سے ہے پس تعین اول وحدت خالص ہے اور نیز وہ قابلیت مختصیہ کہ جس سے صفات اور اعتبارات سے تجرد کی قابلیت اور ان سے تلبس کی قابلیت پیدا ہوتی ہے اور وہ حقیقت محمدیہ ﷺکے ساتھ موسوم کی جاتی ہے پس ہر صفت سے مجرد کا اعتبار حتی کہ قابلیت تجرد سے بھی تجرد مرتبہ احدیت کا ہے اور اس مرتبہ کی شان بطون اور اولیت اور ازلیت ہے اور تمام صفات واعتبارات کے ساتھ تلبس کا اعتبار مرتبہ واحدیت کا ہے اور اس کی شان ظہور اور آخریت اور ابدیت ہے اور اس مرتبہ کے اعتبارات میں سے بعض اعتبار ایسے ہیں کہ بہ اعتبار مرتبہ جمع کے ذات ان کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور وہ اتصاف حقائق کونیہ پر موقوف نہیں ہے جیسے حیات اور علم اور ارادہ پس یہ الوہیت اور ربوبیت کے اسماء اور صفات ہیں اور ذات کو معلوم ہونے کی صورتیں اسماء اور صفات ہیں اور ذات کے معلوم ہونے کی صورتیں اسماء و صفات کے ساتھ جو حقائق الہیہ میں متلبس ہیں اور بعض صفات کے ساتھ اتصاف حقائق کونیہ پر موقوف ہے جیسے خالقیت اور رازقیت اور ظاہر وجود ان دونوں کے سبب سے متعدد نہ ہوگا اور بعض صفات وہ ہیں کہ ذات ان کے ساتھ باعتبار مرتبہ فرق کے موصوف ہوتی ہے جیسے اجناس اور فصول اور خواص اور وہ تعینات جزئیہ کہ جن کے سبب سے اعیان خارجیہ ایک دوسرے سے متمیز ہیں اور ذات کے معدوم ہونے کی صورتیں ان اعتبارات کے ساتھ کہ جو حقائق کونیہ میں متلبس ہیں اور ظاہر وجود ان صورتوں کی وجہ سے متعدد ہوتا ہے۔<br />
اور جاننا چاہیے کہ بعض حقائق کونیہ بعض ایسی حقیقتیں ہیں کہ جب وجود ان میں ساری ہوتا ہے وہ تمام اسمائے الہیہ کا غالبیت اور مغلوبیت کے ساتھ مظہر ہو جاتی ہیں جیسے کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء قدست اسرارھم کے حقائق بخلاف مظہر اتم کی حقیقت کے کیونکہ وہ اعتدال تام پر ہوتی ہیں اور بعض حقائق حقائق کونیہ میں سے کسی حقیقت میں ہرگز ظاہر نہیں ہوتا اور ذات احدیت جو تمام شیون الہیہ اور کونیہ کو شامل ہے ان تمام حقائق میں ساری ہے کہ وہ تفاصیل مرتبہ واحدیت کا ہے اور وہ حقائق عالم ارواح اور عالم مثال اورعالم حس ہیں کہ جو ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے اور دنیا اور عقبی<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:.</span> تقریر مذکور کے موافق یہ لازم آتا ہے کہ ایک حصہ تو حقیقت کا ایک فرد میں ہو اور ایک حصہ ایک دوسرے فرد میں ہو پس اس صورت میں حقیقت منفصل اور متعدد ہو گئی<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:.</span> ہم دریافت کرتے ہیں کہ حصہ سے تمہاری کیا مراد ہے اگر حصہ سے مراد جزء اور بعض ہے تو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ بعض اور جزء کل کے غیر ہوتا ہے پس حقیقت نے میں افراد میں سے کسی فرد نے کہیں بھی سرایت نہیں کی بلکہ ایک جزء اور بعض حقیقت نے سرائیت کی پس زید حقیقت انسان نہ ہوگا کیونکہ اس میں انسان کی حقیقت نے سرایت نہیں کی اور گر حصہ ہے مراد یہ ہے کہ حقیقت کو کچھ تعینات و تشخصات مخصوصہ عارض ہو گئے پس ان کے عروج سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ وہ دوسرے فرد میں اور ہے تو یہ مسلم ہے لیکن اس قدر سے تعدد اور تجزی نفس حقیقت میں لازم نہیں آتی<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> عالم ارواح اور عالم مثال اور عالم حس میں ذات کی ساری ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ تینوں عالم ازلی اور ابدی ہوں کیونکہ سریان ایک نسبت کا نام ہے کہ جو ساری اور مسری فیہ کو مقتضیٰ ہے اور ساری تو ازلی ہی ہے پس مسری فی کا بھی ازلی ہونا ضروری ہے اور عالم تمام خصوصا یہ نشاۃ دنیاویہ نہ ازلی ہیں نہ ابدی ہیں<br />
جواب:۔ عالم ازلی ہے اس میں کچھ کلام نہیں کلام اس میں ہے کہ جو امتداد مفیض یعنی حق تعالی اور مستفیض یعنی اس عالم کے درمیان متوہم ہے یہ واجب ہے یا ممکن واجب ہونا توجائز نہیں ورنہ واجب متعدد ہوجائیں گے پس متعین ہو گیا کہ ممکن ہے بس اس صورت میں اس کے درمیان اور حق سبحانہ و تعالی کے درمیان کوئی مسافت نہیں ہے یا یہ کہا جائے گا کہ وہ امتداد جو ان کے درمیان میں متوہم ہے ازلی نہ ہو تو تعطیل اسماء اور صفات کے ظہور عالم تک لازم آتی ہے اور تعطیل محال ہے اور اس مقام کی تحقیق یہ ہے کہ واجب تعالی زمانی نہیں ہیں کیونکہ زمان جیسے کہ حکماء نے کہا ہے فلک الافلاک کی حرکت کا نام ہے پس جیسا کہ واجب زمانی نہیں ہے اسی طرح اول عالم بھی زمانی نہیں ہے پس اگر قبلیت اور بعدت عالم اور واجب میں ہوتی تو زمانی ہوتی کیونکہ ہم جو مثلا کہتے ہیں کہ زید عمر کے قبل ہے اور عمر بعد زید کے ہے تو اس کے معنی یہی ہیں کہ زید ایسے زمانہ میں ہے کہ وہ زمانہ عمر کے زمانہ سے پہلے ہے اور عمر ایسے زمانہ میں ہے کہ وہ زمانہ بعد زمانہ زید کے ہے پس جب قبلیت اوربعدیت کے یہ معنی ہوئے تو لازم آتا ہے کہ واجب اور عالم زمانی ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہے ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ واجب اور عالم دونوں ایک ساتھ موجود ہیں مگر اتنا فرق ہے کہ واجب عالم کی علت ہے اور عالم معلول ہے اور واجب معلول پر متقدم بالذات ہے پرسائل پہ نہیں سوال کر سکتا کہ اللہ تعالی نے کیسا ایجاد کیا کیونکہ یہ سوال عالم کے زمانہ دریافت کرنے کے متعلق ہے اور اس کے لیے زمانہ نہیں ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> تعطیل کا ارتفاع اس طرح بھی حاصل ہو سکتا ہے کہ ممکنات میں سے کوئی ممکن ثابت کر دیا جائے اور حالانکہ بعض کا مسلک یہ ہے کہ روح ازلی ہے جیسے کہ ابدی ہے اور تمہاری دلیل کا مقتضی سے تمام عالم کی ازلیت ثابت ہوتی ہے خوا عالم روح ہو یا مثال ہو یا عالم حس ہو اور اس میں شک نہیں ہے کہ یہ نشاۃ دنیاویہ ازلی نہیں ہے جیسا کہ ابدی بھی نہیں ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> موجودات کی ذات کا مقتضی عدم ہے اور اس کا وجود اور لقاء فیض الہی سے ہے اگر فیضی الہی ذرا سی دیر بھی نہ ہو تو اپنے وطن اصلی یعنی عدم میں چلی جائیں اور یہ فیض جو ایک تجلی واحد کا نام ہے کہ جو قوابل (بالمقابل)کے لیے موافق ان کی استعداد کے تعینات متعدد اور صفات متکثرہ متعددہ کو پیدا کرتی ہے اور بات یہ نہیں ہے کہ تجلی متعدد ہے بلکہ اس کا حال تو ایک ہی ہے اور مثل آنکھ کے جھپکنے کی ہوتی ہے پس جیسا کہ موجود اول اس سے امداد حاصل کرتا ہے اسی طرح موجود آخر بھی اسی سے امداد حاصل کرتا ہے اور تجلی اس کے ساتھ قائم ہے اور جو اس کے ساتھ قائم ہے اس میں تعدد نہیں ہے کیونکہ وہ تو ایک ذات اور صفت اور ایک فعل ہے اگرچہ تعلقات کے متعدد ہونے سے اس میں تقدم اور تاخر کا توہم ہوتا ہے دیکھتے نہیں کہ حق تعالی کا علم حقیقت واحد ہے کہ اس سے تمام معلومات ایک مرتبہ معلوم ہو جاتے ہیں پس علم اور اس کا تعلق دونوں قدیم ہے اور اسی طرح ارادہ اور باقی صفات اور ان کے تعلقات کو سمجھنا چاہیے کہ صفات بھی قدیم ہے اور تعلقات بھی قدیم ہیں موجودات کے وجود اور عدم سے ان میں کچھ تفاوت نہیں کیونکہ علم باری تعالی کا وجود میں ہے اور عدم واحد ہے بس اس فیض وجودی میں بھی اگرچہ قابلیات اور استعدادات کے تعدد سے ایک دوسرے کے تقدم اور تاخر سے تعدد اور تجدد متوہم ہوتا ہے لیکن وہ باعتبار ذات اور حقیقت کے واحد مطلق وسیع ہے اور سب کو جامع ہے اور ازل و ابد کو دفعتا شامل ہے موجودات کا تعدد تجدد وحدت کے مخالف و منافی نہیں اور اطلاق میں قادح نہیں ہے اوراس سے مراتب موجودات کی ازلیت لازم نہیں آتی کیونکہ موجودات عدم ذاتی اور حدوث اصلی کے ساتھ مسبوق ہیں کیونکہ وہ خود اپنی ذات سے موجود نہیں ہیں ذات مطلقہ کے محتاج ہیں بلکہ وہاں تو ازل اور ابد ہی نہیں ہے ازلیت اورابدیت تو تیرے میرے اعتبار سے ہے کیونکہ تعدد تیرے میرے لوازم سے ہے اور اللہ سبحانہ و تعالی کے علم کے نزدیک توکون کے ازلی اور ابدی ہونے سے کوئی مانع نہیں ہے تیرے اعتبار سے اور تیری نسبت سے مانع ہے بس اب تو نے جان لیا کہ ذات احدیت علی السواء تینوں عالم میں ساری ہے اور اسی واسطے صوفیہ نے کہا ہے کہ ہر شے ہر شے میں ہے تاکہ اس سے معنی استجلاء کے تمام ہوں یعنی شہود اس کا اپنی ذات کے لیے ان اعتبارات سے ہے جیسا کہ جلاء یعنی ظہور اس کا انہی اعتبارات سے تام ہوا ہے پس جلاء کمال ذاتی ہے جوعلم اور غیب کے اعتبار سے مفصل ہے کہ جو مجمل میں موجود ہے اور غیریت سے مجرد ہے اور استجلاء کمال اسمائی اور عین اور معائنہ میں ایک مجمل ہے کہ جو مفصل میں موجود ہے اور غیریت کے ساتھ متصل و متلبس ہے پس جو کثرت مراتب وجود اور امکان میں یعنی شیون میں متصور ہے وہ سب حضرت ذات میں مندرج ہیں پس وہ بالذات جہان والوں سے غنی ہیں پس وہ علم واحد سے علی وجہ الکمال ہر شے کو جانتے ہیں اور ان کے معلومات کے درمیان کچھ تفاوت نہیں ہے نہ علم میں نہ عین میں نہ بطون میں نہ ظہور میں نہ تقدم میں نہ تاخر میں اور تفاوت تیرے ہی اعتبار سے ہے پس ماضی تیرا اور مستقبل تیرا اور حال تیرا سب اس زمانے الہی سے مستہلک ہے کہ اس میں ماضی عین مستقبل عین ماضی بلکہ ازل اور ابد تمام متقابلات اس کی ذات میں مضمحل اور ہالک ہیں کیونکہ وہ ہر تقید سے مطلق ہے پس ہرمقید کی ذات ان کے ذات کے اعتبار سے معدوم ہے پس اس زمان الہی میں جو شان ظاہر ہے وہ تمام شیون الہیہ کو شامل ہے کیونکہ مظہر کی وسعت ظاہر کی وسعت کو پیدا کر دیتی ہے پس جو کچھ کہ ان عالموں متعددہ میں ہے کہ جو ذات اور صفت اور ثبوت اور تغیر کے اعتبار سے مختلف ہیں ان پر وہ شان شامل ہے اور زمانہ حق تعالی میں کسی طرح تغیر نہیں ہے اور زمانہ کو جو اللہ تعالی کی طرف مضاف کرتے ہیں وہ شرف کی وجہ سے کرتے ہیں جیسا کہ بیت اللہ پس گویا کہ زمانہ کلی میں اللہ نے علم قدیم میں سے ایک آمیزش ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:.</span> حق سبحانہ و تعالی کلیات و جزئیات کو علی وجہ الکلی اور علی وجہ الخبرئی جانتے ہیں اور معلومات حق سبحانہ و تعالی کے سب قدیم ہیں ورنہ حق سبحانہ و تعالی کا محل حوادث ہونا لازم اتا ہے اور ممکنات کا ظہور اپنے نفس کے لیے جو حق تعالی کے علم میں ثابت ہے وہ ظہور یا تو قدیم ہے یا حادث ہے قدیم تو ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ قدم میں اپنے نفس کے اعتبار سے ممکنات کا ظہور نہیں ہے ورنہ وجود علمی و قدیم اور علم عینی حادث میں کچھ فرق نہ ہوتا اور فرق کیونکر نہیں ہے حالانکہ وجود علم عینی کلہ یہی ہے کہ ممکنات کا اپنے نفس کے لیے ظاہر ہوں اور اپنے ذوات اور احوال کے ساتھ اطلاع ہو اور اس کا تحقق حوادث ہی میں ہو سکتا ہے اور حادث بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ حدوث کی دو صورتیں ہیں یا تو حدوث علم قدیم کے متعلق ہو تو اس صورت میں تو تمام موجودات عینیہ کا قدم لازم ازل میں آتا ہے اورعلم حادث کا متعلق ہو تو اللہ تعالی کے علم کا حدوث لازم اتا ہے اور یہ دونوں باطل ہیں<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> جو علم الہی کو ذات باری تعالی کی عین ذات ہے غیر متناہیہ ہے اس نے تمام موجودات کو استہلاک عدمی سے دفعتاً ظاہر کردیا ہے نوبت بہ نوبت اور ایک دوسرے کے بعد ظاہر نہیں کیا ذات اور قائمہ میں کوئی تغیر نہیں ہوا پس موجودات علمیہ وعینیہ خواہ زمانیہ ہوں یا غیرزمانی حضرت ذات کے نزدیک سب برابر ہیں پس موجودات کے لیے حق تعالی کے نزدیک نہ تقدم ہے نہ تاخر بخلاف موجودات کے کہ ان کے نزدیک تقدم و تاخر ہے پس وہاں نہ ماضی ہے نہ مستقبل ہے ماضی و مستقبل ہمارے نزدیک ہے پس بعض کا بعض کے لیے ظاہر ہونا حادث ہے اور حق تعالی کے نزدیک ظہور قدیم ہے اورحق سبحانہ و تعالی زمانہ کے پیدا کرنے سے پہلے ہیں کیونکہ جیسی اور مخلوقات ہے یہ بھی ایک مخلوق ہے اور اس کے پیدا کرنے سے زمانہ کو اس پر جاری نہ تھا اور بعد پیدا کرنے کے وہ اسی طرح ہے جیسا کہ پہلے تھا زمانہ اور زمانیات شہود کے اعتبار سے مثل غیر زمانیات کے ہیں ان کے نزدیک سب ہمیشہ سے دفعتاً ظاہر میں اس تقدیر پر حق تعالی کے نزدیک اشیاء حادثہ کا قدم لازم آتا ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں کہ اشیاء قدیم کے نزدیک قدیم ہوں اور حادث کے نزدیک حادث ہوں پس معلوم ہوا کہ حق تعالی واحد بوحدت حقیقیہ ہیں اور یہ صفت حق تعالی کی ذاتی ہے کوئی امر زائد ان کی ذات پر نہیں ہے بلکہ صفات عین ذات ہیں اور وہ اس صفت پر ازل سے و ابد تک ہیں موجودات کی صورتوں میں ظاہر ہونے سے پہلے بھی وہ ایسے ہی تھے اور بعدظہو کے بھی وہ ایسے ہی ہیں پس وجود ظہور اور بطون میں منحصر ہے پس وحدت حقیقیہ ہے اور کثرت اعتباریہ ہے پس وہ ذوات میں عین ذات ہے اور صفات میں عین صفات ہے اور افعال میں عین افعال ہے اورآثار میں عین آثار ہے اور کل میں عین کل ہے اور بعض میں عین بعض ہے پس کثرت میں اس کا تمثل مثل تمثل حقیقت جبرائیلیہ کی ہے صورۃ بشریہ میں مریم علیہا السلام کے لیے پس امر عرضی اعتباری یعنی کثرت وحدت اصلیہ حقیقیہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا پس اللہ تعالی کا اپنی ذات کا علم بعینہ وہی عالم کا علم ہے اور عالم کا علم بعینہ ذات کا علم ہے</p>
<h2>اٹھارہواں مرحلہ</h2>
<h3>مطلق حقیقی اور مطلق اضافی</h3>
<p>مطلق حقیقی اور مطلق اضافی کی تفصیل<br />
مطلق کے مقید سے منفک نہیں ہوتا ہے اور ہر مقید مطلق سے علیحدہ نہیں ہوتا اور باوجود اس تلازم کے مطلق اپنے غنا ذاتی میں ہے مقید اپنے احتیاج ذاتی میں ہے پس مقید مطلق کا وجود میں محتاج ہے اور مطلق مقید کا ظہور میں مشتاق ہے اور وجود میں احتجاج ایک طرف سے ہونا ضروری ہے تاکہ تقدم شی کا اپنی ذات پر لازم نہ آئے اور اشتیاق طرفین سے ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ایسے امور سے ہے جو کہ وجود پر زائد ہے پس مطلق حقیقی وہ ہے کہ جس میں کسی وجہ سے کوئی قید نہ ہو پس مطلق حقیقی میں نہ کلیت ہے نہ جزئیت ہے نہ نسبت ہے نہ خصوصیت اور نہ فاعلیت ہے نہ قابلیت ہے اور نہ عالمیت ہے نہ معلومیت ہے اور نہ اس کا اسم ہے نہ رسم ہے اور نہ تنزیہہ ہے نہ تشبیہ اور اس کے جانب نہ جمال مضاف ہوتا ہے نہ جلال پس صفات متقابلہ اس کے دروازہ سے علیحدہ ہیں یہاں تک کہ صفت اطلاق بھی وہاں نہیں ہے جیسے کہ تقید ان کے درگاہ سے علیحدہ ہے بس تعاند اس کے مرتبہ میں صورۃ توافق میں ہے اور تغائر لباس تطابق میں ہےاور وحدت اور کثرت دونوں ان کے درمیان دربار سے مسلوب ہیں اور ذات اور صفت دونوں مطرود ہیں اور کبھی مطلق کا اطلاق اس پر بھی آتا ہے کہ جو نسبتوں امکانیہ اور اضافات جسمانیہ و روحانیہ سے متجرد ہو پس اس صورت میں مطلق کا وجود مراتب کونیہ اور تعلقات خلقیہ پر موقوف نہیں ہے اور مطلق بمعنی اول کا حضرت غیب اور غیب ہویت اور احدیت ذاتیہ کہتے ہیں اور بمعنی ثانی کو حضرت الوہیت کہتے ہیں پس دونوں معنی میں عموم مطلق ہے اورمقید وہ ہے جو متعین ہو اور محدود اور متناہی ہو پس اگر اس کا تعین تمام تعینات سے زیادہ وسیع ہو تو وہ اپنے مافوق کے لیے محاط(گھیرا گیا) ہوگا کیونکہ اس کا کوئی مبدا ہونا ضرور ہوگا اور اپنے ماتحت کے لیے محیط ہوگا اور اگر تمام تعینات میں خاص ہو بس محاط ہوگا محیط نہ ہوگا اور ان دونوں کے درمیان میں مختلف مراتب ہیں کہ جو ایک حیثیت سے وسیع ہیں اور ایک دوسری حیثیت سے تنگ ہیں اور جو مقید خواہ کسی قید سے مقید ہو کسی مطلق کے بعد ہوگا وہ مطلق اس سے پہلے ہوگا اور مطلق حقیقی احدیت ذاتیہ ہی ہے اور مقید اس کے مقابل ہے کہ تمام مراتب تنزلات پر تعین اول سے اخیر مراتب تنزلات تک شامل ہے اور مطلق اضافی حضرت الوہیت ہے کیونکہ وہ اپنی ذات سے اگرچہ مقید ہے کیونکہ حضرت الوہیت اس ذات کو کہتے ہیں کہ جو صفات فعلیہ کے ساتھ متصف ہو وہ ذات اپنے ماسوا سے اس تعین سے جو ذات پر زائد ہے ممتاز ہے لیکن وہ بہ نسبت مراتب امکانیہ اور موجودات عینیہ روحانیہ اور مثالیہ اور جسمانیہ کے مطلق ہے اور اس کا مقابل وہ مقید ہے کہ جس کو عالم کہتے ہیں پس مطلق مثل مقید کے اظہار کمالات اور مراتب اور درجات میں دوسرے کا محتاج ہے پس جو تقریر ہم نے بیان کی ہے اس سے تو نے جان لیا کہ مطلق حقیقی اور مطلق اضافی مقید اضافی اور مقید حقیقی سے منفک نہیں ہوتے پس جس جگہ غیب ہویت ہی وہاں تمام مراتب وتنزلات ہیں اور جس جگہ الوہیت ہے وہاں عالم ہے اور کبھی یہ توہم ہوتا ہے کہ الوہیت اور عالم میں جدائی اور مسافت ہے لیکن باعتبار تحقیق کے نہ ان کے درمیان میں جدائی ہے نہ مسافت ہے کیونکہ عالم کمال اسمائی کے ظہور کا نام ہے حق تعالی کے اسماء نے عالم کو چاہا اور مقتضیٰ کا مقتضی سے انفکاک محال ہے اور اگر حضرت الوہیت اورعالم میں جدائی و مفارقت فرض کی جائے تو صفات کو معطل و بیکار کرنا لازم آتا ہے اور نیز یہ لازم آتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے کوئی حالت منتظرہ بالقوۃ ایسی ہو کہ جس کو قوت سے فعل میں لائیں گے اور یہ بھی لازم آتا ہے کہ حق سبحانہ میں بعد وجود عالم کے ایسی صفت پیدا ہو جائے کہ جو پہلے نہ تھی<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> تقریرپر توعالم کے وجود کی ازلیت لازم آتی ہے بس اس صورت میں حق تعالی کے قول واللہ غنی عن العالمین کے کیا معنی ہوں گے اور نیز یہ جو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تھے اور کچھ نہ تھا اس کے کیا معنی ہوں گے شیخ نے قص نودی میں کہا ہے اللہ تعالی اول ہے کیونکہ وہ تھے اور اس وقت مخلوقات نہ تھی اور وہ ہی آخر ہے کیونکہ ظہور موجودات کے وقت اللہ تعالی عین موجودات ہیں اور اہل اختصاص کے اعتقاد کی فصل میں کہا ہے کہ عالم کا ارتباط اللہ تعالی کے ساتھ ایسا ہے جیسے کہ واجب کا ارتباط ممکن کے ساتھ ہے اور جیسا کہ مصنوع کا صانع کے ساتھ ہے بس عالم کے ازل میں کوئی مرتبہ وجودیہ ایسا نہیں کہ وہ مرتبہ واجب بالذات کا نہ ہو پس وہ اللہ ہے کوئی شے اس کے ساتھ نہیں ہے خواہ عالم موجود ہو یا معدوم ہو اور فتوحات کی اڑتالیسویں باب میں کہا ہے پس بے شک حق تعالی ہی تھے اور عالم نہیں تھا اور وہ ان اسماء کے ساتھ مسمیٰ ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> ربوبیت اور اسماء کے ظہور عالم سے ہے اور ذات حق تعالی کے بے شک عالم سے غنی ہے بس ذات کی طرف اگر نظر کی جائے تو عالم کا وجود اورعدم برابر ہے اور یہ قول شیخ کا ہے کہ حق تعالی اول ہیں کیونکہ وہ ہی تھے اور کوئی نہ تھا اس سے مراد اولیت ذاتیہ ہے اور اسی طرح ارتباط ممکن کا یعنی مظاہر کا اور مصنوع کا واجب کے ساتھ یعنی ذات کے ساتھ بحیثیت ذات کے ہے پس عالم کے لیے وہ شرح اسماء کے ازل میں ہے یعنی مرتبہ ذات میں جو مرتبہ وجودیہ ہے وہ مرتبہ واجب کا یعنی ذات کا ہے پس بے شک حق تعالی مرتبہ ذات میں تھے اور وہاں عالم نہ تھا کیونکہ عالم نام اس ذات کا ہے کہ کوئی ان اسماء کے ساتھ مسمیٰ ہے اور حضرت غیب الہویت باوجود عدم مراتب تنزلات کے متحقق نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالی نہایت جمیل ہیں اور نہایت کامل ہیں پس نہایت جمال اور نہایت کمال تکمیل اور تفضیل کو مقتضی ہوئی اور تکمیل اور تفضیل مراتب تنزلات ہی میں متحقق ہو سکتے ہیں پس تکمیل اور تفضیل کو بغیر مفارت اور مسافت کے اپنے ایجاب اور اختیار سےظاہر کیا پس اگر مفارقت اور مسافت ہوتے تو یہ دونوں کمال یعنی تکمیل اور تفصیل ظاہر اور متحقق نہ ہوتے .</p>
<h2>انیسواں مرحلہ</h2>
<h3>مطلق حقیقی اور مطلق اضافی کے مراتب</h3>
<p>مطلق حقیقی اور مطلق اضافی کے مراتب بدون دو مطلق کے متحقق نہیں ہوتے کیونکہ اگر مطلق سے قطع نظر کر لی جائے تو مقید معدوم محض ہے اور نہ مراتب مطلق حقیقی اور اضافی کے بدون دو مقید معدوم محض ہے اور نہ مراتب مطلق حقیقی اور اضافی کے بدون دو مقید کے ظاہر ہو سکتے ہیں مگر احتیاط مقید کی طرف راجع ہے اورغنا مطلق کی طرف راجع ہے پس اسلتزام طرفین سے ہے اور احتیاج ایک طرف ہے جیسا کہ گزر چکا ہے پس عین استلزام میں غنا اور احتیاج بغیر انقطاع کے باقی ہے اور مطلق مقید سے باعتبار اکملیت کے زائد ہے اور مقید مطلق سے ہمیشہ باعتبار کمالیت کے ناقص ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> جبکہ اللہ اور مالوہ میں کچھ انفکاک نہیں ہے تو مناسب یہ ہے کہ عالم بھی قدیم اور ازلی مثل اللہ کے ہو اور جب عالم قدیم اور ازلی ہوا تو عالم اللہ کا محتاج نہ ہوگا<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:</span>۔ جبکہ عالم اور اللہ کے درمیان میں مفارقت فرض کی گئی پس وہ مفارقت اور مسافت یا تو اپنی ذات سے موجودات ہے پس اس صورت میں توعالم واجب ہوگا حالانکہ ایسا نہیں ہے پس موجود بالغیر ہونا ضروری ہے اور واجب موجود بالغیر ہے تو لامحالہ عالم میں سے ہوگی پس یہ بات صحیح ثابت ہوگی کہ عالم اورمبدا میں کوئی مفارقت نہیں اوریہ لازم نہیں آتا کہ قدیم بمعنی مستغنی عن الموثر ہو کیونکہ عالم اپنے وجود میں موثر کا محتاج ہے بس اس معنی کے قدیم نہیں ہے اور شرح شیخ میں ہے کہ ازل اس امتداد کو کہتے ہیں کہ جو مقدم بالزماں ہو خواہ مسبوق بالعدم ہو یا نہ ہو اور قدم اس امتداد کا نام ہے کہ جو غیر مسبوق بالقدم ہو پس ازل قدم سے عام ہے اور عوام کا کام تو یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ جس وقت متاثر مسبوق بالعدم ہو اسی وقت محتاج موثر کا ہوگا لیکن جس کا قلب اللہ تعالی نے منور کر دیا ہے وہ جانتا ہے کہ متاثر محتاج موثر کا ہے اگرچہ متاثر وجود اعتبار کے اعتبار سے موثر کے ساتھ ہو مثل جیسے حرکت کنجی کی اور حرکت ہاتھ کی<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> اگرمبدا سے عالم متاخر ہو تو تم کہتے ہو کہ تعطیل یعنی صفات کا بیکار کرنا لازم آتا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے پس ہم کہتے ہیں کہ تعطیل لازم نہیں آتی کیونکہ عدم مفارقت اورعدم مسافت بھی اسماء اور صفات کی تاثیرات میں سے ہیں کیونکہ اسماء اور صفات کی تاثیر کی دو قسمیں ہیں اول تاثیر ایجاد دوسرے اعدام یعنی معدوم کرنا تاکہ ممکنات کی ماہیات کے لیے خود اپنی ذات سے نہ وجود ہے نہ عدم بلکہ جو کچھ ان میں وجود اور عدم ہے مدبر متصرف کی تاثیر سے ہے پس دونوں صورتوں میں تعطیل لازم نہیں آتی<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب :</span>۔اسماء الہیہ خواہ جمالی ہوں یا جلالی لطیفہ ہوں یا قہریہ دونوں اگرچہ اپنے موصوف کے اعتبار سے متحد ہیں لیکن ان میں آپس میں ایک باعتبار اپنے معنی مخصوصہ کے تقابل تضاد ہے کیونکہ اسماء لطیفہ کا مقتضی اسماء قہریہ کے مقتضی کے خلاف اور ضد ہیں پس جب اسماء قہریہ اور لطیفہ ایک امر کے اعتبار سے دیکھا جاتا ہے اور دونوں اسم اس امر کے تکوین کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو لطف قہر پر سابق ہوتا ہے حق سبحانہ و تعالی نے فرمایا کہ میری رحمت میرے غضب پر بڑھی ہوئی ہے کیونکہ جلال اور قہر اور غضب علم میں بطون کو مقتضی ہیں اور عین میں عدم ظہور کو مقتضی ہیں اور جمال اور لطف اور رحمت عین میں ظہور کو چاہتے ہیں اور عدم بطون کو علم میں پس رحمت کے غضب پر بڑھنے کے سبب سے ظہور کے نوبت بطون کی نوبت سے اجلی ہے اور بعد ظہور کے اگر موثر بطون مزاحمت کرے تو تاثیر ظہور کی مدت کے ختم ہونے سے جلال جمال پرغالب نہ ہوگا کیونکہ غلبہ جمال کا جلال پر یعنی رحمت کا غضب پر ثابت و متحقق ہے اور غلبہ رحمت کے منعمات میں سے یہ امر ہے کہ رحمت اور بطف اور جمال کا اثر تاثیر میں بغیر تاخیر زمانی کے سریع ہو کیونکہ رحمت کے آثار کا تحقق اس کے تحقق و مقابل یعنی غضب کے آثار سے زیادہ سریع ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> اللہ تعالی فاعل مختار ہیں اور مختار کا فعل مسبوق با ارادہ ایجاد ہوتا ہے یعنی ارادہ ایجادہ فعل سے پہلے ہوتا ہے اور ایجاد کا اقتران عدم کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ موجود کا ایجاد محال ہے<br />
جواب:۔ اللہ سبحانہ تعالی کے لیے اس کے حد ذات میں اختیار ہے کیونکہ بحیثیت ذات کے اس کو نہ وجود کی ضرورت ہے نہ عدم کی اوران دونوں کی نسبتیں ذات کے اعتبار سے برابر ہیں اور باعتبار صفات ہر صفت مخصوصہ مقتضی ہے کہ وہ معانی اس صفت سے متخلف نہیں ہوتے اور نیز علم الہی ذاتی جوہر معلوم کے متعلق ہیں اور ایک تعلق ہے اس کے لیے اقتضا نہیں ہے نہ ایجاب کے ساتھ اور نہ سلب کے ساتھ اور مقتضی صفت کا دو امروں میں سے اس کے نزدیک ایک کے متعین ہم نے سے متحقق ہو جائے گا پس باعتبار صفات کے ایک قسم کا ایجاب اختیار ذاتی کے ساتھ متحقق ہوتا اور اللہ تعالی کی قدرت محض توجہ سے شے کو ایجاد کرتی ہے بخلاف اور قادرین کے قدرت کے کیونکہ وہ شے کو اسباب اور آلات اور زمانوں سے حاصل کرتے ہیں اور موانع کے دفع اور شروط کے متحقق ہونے سے حاصل کرتے ہیں پس غائب کو حاضر پر قیاس نہیں کر سکتے پس اس کے ذات اور ارادہ اور قدرت اور مراد اور مقدور سب ازل نہیں ہیں اور باوجود اس کے پھر مقید با سبب اپنی حدوث اصل کے محتاج ہیں اور مطلق باعتبار ذات کے غنی ہیں پس تقدم زمانی کا معدوم ہونا تقدم ذاتی کے معدوم کو واجب نہیں کرتا کیونکہ استغنا اور احتیاج ان کی ذات کا مقتضی ہے اور ذات کا مقتضی ذات سے علیحدہ نہیں ہوا کرتا</p>
<h2>بیسواں مرحلہ</h2>
<h3>مطلق کا ظہور مقید غیر معین کو مقتضی اور مقید مطلق معین کا حقیقی ہے</h3>
<p>مطلق کاظہور کسی مقید کا بغیر تعین کے مقتضی ہے کیونکہ اگر متعین ہو تا تو یہ متعین مطلق کے لیے پہلے ہوتا بس اس صورت میں مطلق کا استغناس ذاتی باطل ہوتا ہے اور مطلق کے مقید کے طرف احتیاج لازم آتی ہے حالانکہ ایسا نہیں کیونکہ استغنا وصف ذاتی ہے استلزام عارضی ہے پس مطلق علی سبیل بدلیت کسی مقید کو مستلزم ہےاور مفید کو پہلے سے ایک امر معین کی احتیاج ہے اور وہ امر معین مطلق ہے اور وجہ اس کی ایک قاعدہ کلیہ ہے یہ مطلق بسیط حقیقی ہے اور مقید مرکب حقیقی ہے اور ترکیب عنوان کثرت کا ہے اور کثرت میں مماثلہ اور ہم شکل ہونا اور مشابہ ہونا پایا جاتا ہے ہر ایک اس کثرت سے دوسرے کا نائب ہو سکتا ہے اور ہر کثرت وحدت کی محتاج ہے بس قبل کثرت کے ایسے وحدت ہے کہ نہ اس کے کوئی ضد ہے نہ کوئی مثل ہے پس کوئی شے اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی بس وحدت کا قبل کثرت ہونا ضروری ہے اور اس کا عکس نہیں ہو سکتا کیونکہ کثرت ترکیبہ میں نیابت پائی جاتی ہے اور وحدت بسیطہ میں نیابت نہیں ہے اور تیرے لیے ایک اور باب کھو لا گیا ہے وہ یہ کہ ظہور مطلق کے لیے باوجود کسی مقید کی طرف احتیاج کے مقید خاص سے استغنا ہے پس وہ عین تشبیہ میں تنزیہ کا بیان ہے۔</p>
<h2>اکیسواں مرحلہ</h2>
<h3>  وحدت اور کثرت کی حقیقت اور تفصیل</h3>
<p>وحدت کے ساتھ وجود متصف ہوتا ہے اور کثرت کا ذکر بھی ضروری ہے تاکہ وحدت اپنی ضد سے ظاہر ہو جائے پس جاننا چاہیے کہ وحدت اور کثرت دونوں امور عامہ میں سے ہیں اور وہ دونوں عقلی ہیں جو اشیاء کے خارج میں موجود ہے ان دونوں سے خالی نہیں ہے اور یہ دونوں یعنی وحدت اور کثرت امر وجودی ہیں پس وحدت ایک ایسے معنی ہیں کہ خارج میں وہ معروض ہو کر حاصل ہوتے ہیں اور ایسی حیثیت سے ہے کہ اس میں تعدد داخل نہیں ہوتا اور کثرت ایسی معنی ہے کہ خارج میں معروض ہو کر حاصل ہوتے ہیں اور اس میں تعدد داخل ہوتا ہے پس وحدت اور کثرت دونوں متضاد ہیں ایک وجہ سے دونوں ایک موضع میں مجتمع نہیں ہو سکتے اگرچہ دو جہت مختلف کہ وحدت و کثرت عدمی میں یہ قول اس بنا پر ہے کہ تعریف وحدت کے اس طرح کی جائے کہ وحدت نفی کرنا کثرت کی ہے اس شے سے کہ وہ اس کے صفت ہے اور کثرت اس کے برعکس ہے تو اگرچہ یہ قول قریب حق ہے لیکن اس نفی کا معنی وجودی کے لیے لازم ہونے کا جواز اس قول کے مزاحم ہے اور اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ ہر ایک ہم میں سے اپنے نفس میں اس کا ذوق پاتا ہے کہ وحدت شخصیہ اور کثرت اجزائیہ دونوں امر عدمی نہیں ہیں بلکہ امر ثبوتی وجودی ہیں اور نیز کثرت تو وجودیہ ہی ہے وہ چند وحدات سے مرکب ہے پس جزء وجودی کا بھی وجودی ہی ہوگا۔<br />
سوال:۔ وحدت ضد کثرت کی ہے اور دو ضدوں میں سے ایک کا دوسرے سے تقوم بدیہی البطلان ہے جیسا کہ دو ضدوں کا ایک جہت سے ایک محل میں جمع ہونا باطل ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> وحدت کے اندر دو اعتبار ہیں ایک اعتبار تو یہ ہے کہ وہ موجب کثرت ہے اور دوسرا اعتبار انقسام کا منع ہونا پس دوسرے اعتبار سے تو وحدت ضد کثرت کی ہے اور پہلے اعتبار سے وحدت جز کثرت کی ہے بلکہ فاعل کثرت ہے اور وحدت اور کثرت دونوں کے ساتھ وجود متصف ہوتا ہے جیسا کہ عدم دونوں کے ساتھ متصف ہوتا ہے لیکن وجود عدم کے ساتھ متصف نہیں ہوتا ہے اور اسی طرح عدم وجود کے ساتھ متصف نہیں ہوتا ہے اور جو کچھ یہ ہم نے ذکر کیا ہے یہ وجود کونیہ میں جاری ہو سکتا ہے اور وحدت ذاتیہ الہیہ میں کہ جس کو ہم بیان کر رہے ہیں یہ تقریر جاری نہیں ہو سکتی اور کثرت کبھی ذات میں ہوتی ہے اور کبھی لوازم میں پہلی کثرت عالم کے ساتھ مختص ہے کیونکہ ذات حق میں تو کسی وجہ سے بھی کثرت نہیں ہے اور ذاتی اور دوسری قسم کثرت کی یعنی کثرت جو لوازم میں ہے علم اور حق تعالی ان میں مشترک ہے کیونکہ حق تعالی کے لیے شیون اور اسماء اور صفات اور افعال اور آثار وغیرہ کہ کوئی کثرت ایسی نہیں ہے جس کو وحدت نے ضبط نہ کیا ہو پس بہت سے کثیر ہیں کہ با اعتبار اشخاص کے ان کے لیے وحدت نوعیہ ہے اور بہت سے انواع کو وحدت جنسیہ ضبط کرتی ہے اور اجناس عالی میں یعنی جوہر میں متحد ہیں اور تمام جواہر حقیقت جو ہریہ کی طرف راجع ہیں اور اسی طرح اعراض باوجود اختلاف انواع اور اجناس حقیقت عرضیہ کی طرف راجع اور وہ دونوں یعنی جواہر اور اعراض حقیقت ممکن کی طرف راجع ہیں اور ممکن واجب کے ساتھ وجوب کی طرف راجع ہے کہ جو تجدید اقسام میں محفوظ ہے پس تمام مبتدا ماہیات امکانیہ صور علمیہ ہیں کہ جو حضرت امکان میں ثابت ہیں اور اس وجود مطلق کے تجلی سے کہ وہ حق لذاتہ اور بذاتہ ہیں اسی کے حضرت علم میں کہ وہ عین ذات ہے حاصل جز ہیں پس تمام ماہیات امکانیات امور متکثرہ جو وجود کے متغائر ہوں کہ حقیقت میں نہیں ہیں تاکہ حق تعالی کا محل کثرت ہونا لازم آئے ۔</p>
<h2>بائیسواں مرحلہ</h2>
<h3>وحدت کی اقسام</h3>
<p>وحدت کبھی تمام وجود سے عین شے ہوتی ہے اور کبھی غیر شے ایک وجہ سے اور عین دوسری وجہ سے ہوتی ہے اور کبھی تمام وجود سے غیر ہی ہوتی ہے پس اول یعنی وہ وحدت جو تمام وجود سے عین ہی ہو حضرت وجود بحیثیت ذات کے ہے کیونکہ وحدت ذات کے عین ذات ہے اور اس وحدت سے لفظ احد کا مشتق ہے اور دوسری قسم یعنی وہ وحدت جو غیر ہو اور ایک درجہ سے اور ایک وجہ سے اور عین ہو دوسری وجہ سے وحدت حضرت وجود کی ہے بحیثیت اس کے کہ وہ ایک صفت ہے صفات میں سے اور صفات ایک وجہ سے عین ہیں اور ایک وجہ سے غیر ہیں اور تیسری وحدت یعنی جو تمام وجوہ سے غیر ہو وحدت انواع اعداد کے ہے کیونکہ مثلا دو اعداد کے ایک نوع ہے اور اسی طرح تین بھی پس ہر ایک ایک نوع جو غیر سے ایک ایسی خصوصیت سے جو اس کو لاحق ہوتی ہے ممتاز ہے اور کبھی قسم ثالث وحدت کی اجناس کو عارض ہوتی ہے پس وہ اجناس جنس عالی واحد تک راجع ہوتی ہے اور کبھی یہ وحدت انواع کو عارض ہوتی ہے تو انواع جنس واحد تک راجع ہوتی ہیں اور کبھی اشخاص کو عارض ہوتی ہے تو اشخاص نوع واحد تک راجع ہوتے ہیں پس محمولات متغائرہ ہیں سافلہ حقیقہ عالیہ متحد ہیں جیسا کہ اسم کہتے ہیں کہ انسان کاتب ہے اور ضاحک ہے اور اسی طرح موضوعات متغائرہ سافلہ موضوع عالی میں متحد ہیں مثلا کہا جائے کہ عاج اور ثلج ابیض ہے تقریر سابق سے تو نے معلوم کیا ہوگا کہ جو وحدت واحد سے حاصل کی گئی وہ حضرت اسماء کی طرف منسوب ہے اور جو احد سے حاصل ہے وہ ذات الہیہ کی طرف منسوب ہے کہ جو تمام صفات کو جامع ہے۔</p>
<h2>تیئسواں مرحلہ</h2>
<h3>واجب الوجود اور خالق اورکموں کے وحدت کے اسباب</h3>
<p>واجب الوجود اور خالق اورکموں کے وحدت کے اسباب دلائل عقلیہ اور نقلیہ سے<br />
وجوب وجود ایک ہی شے میں منحصر ہے کیونکہ اگر دو شے وجوب وجود کے ساتھ موصوف ہوتی تو وجوب دونوں کے درمیان میں ایک امر مشترک ہوگا اور جب وجود دونوں کے درمیان مشترک ہوا تو کوئی امر جو دونوں کے درمیان میں فرق کرنے والا ہونا چاہیے بس دونوں کا وجود اس امر فارق پر موقوف ہوگا کیونکہ امر مشترک ہر ایک کے خصوصیت کے ساتھ تحصیل میں کافی نہیں ہے پس کوئی امر ایسا ہونا چاہیے کہ دونوں کے درمیان میں فرق کرنے والا ہو خواہ وہ امر وجود ہی وجودی ہو یا عدمی پس دونوں اس امر فارق کے محتاج ہوں گے اور جو شے محتاج ہوتی ہے وہ وجوب وجود کے ساتھ موصوف نہیں ہو سکتی اور معبودیت بھی ایک ہی میں منحصر ہے کیونکہ اگر دو معبود ہوں تو دونوں معبود اگر واجب ہوں تو وجوب وجود ایک میں منحصر نہ رہا اور اگر ممکن ہوں تو لازم آتا ہے کہ عابد اور معبود ایک مرتبہ میں ہوں اور وہ امکان ہے بس وہ شے کہ جس کی عبادت کی ہے معبودیت کی صلاحیت نہیں رکھتی اور دلائل نقلیہ اس پر دال ہیں کہ معبودیت ایک ہی میں منحصر ہے اور اجماع انبیاء علیہم السلام کا بھی اس پر منعقد ہے اور خالقیت بھی ایک ہی میں منحصر ہے کیونکہ حق تعالی نے فرمایا ہے کہ لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا یعنی اگر زمین و آسمان میں سوائے اللہ کے کئی معبود ہوں تو زمین و آسمان دونوں فاسد ہو جاتے کیونکہ اللہ یہاں بمعنی غیر ہے پس الہہ اللہ تعالی کے غیر ہونے کے ساتھ موصوف ہیں پس آسمان اور زمین میں الہہ جو اللہ تعالی کے غیر ہونے کے ساتھ متصف ہوں نہیں ہیں اور اگر الہہ ہوتے تو زمین و آسمان فاسد ہو جاتے اور فساد مرفوع ہے پس ایسے الہہ کا عدم جو غیر اللہ کے ساتھ متصف ہوں متحقق ہیں اور کلمہ اللہ کا رفع بنا بر بدلیت کے الہہ سے جائز نہیں ہے کیونکہ لو کلام کے موجب ہونے میں ان شرطیہ کے مثل ہے اور بدل کلام غیر موجب میں ہوتا ہے جیسا کہ حق تعالی کے قول و لا یلتفت منکم احد الا امراتک میں امراتک احد سے بدل ہے اور یہ جو مبتدا بعض نے کہا کہ لو حرف امتناع ہے اور امتناع معنی میں نفی کے ہے پس کلام اس صرف کے ہوتے ہوئے موجب نہ ہوگی یہ خبر وہم ہے اور لفظ اللہ کا بنا پر استثناء کے نصب بھی جائز نہیں ہے کیونکہ جمع منکور عموم سے علیحدہ ہے پس استثنا بلوا اور استثناءمنہ میں نہ داخل ہوگی اور نہ خارج ہوگی اور الا بمعنی غیر ہوگا اور معنی یہ ہیں کہ اگر آسمان اور زمین کا مدبر چند معبود سوا اس واحد کے وہ ان کا پیدا کرنے والا ہے ہوتے تو زمین و آسمان میں انتظام نہ رہتا توضیح اس کے یہ ہے کہ جمع منکر کلام موجب میں بعض افراد غیر معین کو شامل ہوتی ہے پس اس تقدیر پر استثناء جائز نہ ہوگا استثناء منفصل تو اس واسطے جائز نہ ہوگا کہ جمع کا اس فرد معین کو شامل ہونا یقین نہیں ہے اور استثناء منقطع اس واسطے جائز نہیں ہے کہ عدم دخول یقینی نہیں ہے پس الا بمعنی غیر ہونا متعین ہو گیا کیونکہ استثناء کے تو دونوں قسمیں نہیں ہو سکتی اور الہہ اسم کان ہے اور الا کے اعراب اپنے ما بعد میں ظاہر ہوئی ہے اور فیہا جز کان کے ہے اور کان اپنے اسم اور جز سے مل کر شرط ہے اور لفسدتا جزا ہے اور ملازمہ کا حاصل ظاہر ہے پس جب الا کو صفت پر محمول کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ اگر چند ایسے معبود جو غیر اللہ ہیں موجود ہوتے تو زمین نہ آسمان فاسد ہو جاتے اور یہ معنی تین صورتوں میں متصور ہو سکتے ہیں اول یہ کہ اللہ پائے جاتے اور ان کے ساتھ اللہ سبحانہ نہ ہوتے جیسا کہ استثناء کے صورت میں ہے دوسری صورت یہ ہے کہ الہہ موجود ہوتے اور اللہ سبحانہ ان کے ساتھ موجود ہوں اور حق سبحانہ الہہ مفروضہ کے جز ہوں پس فساد کا انتفاء ان تمام صورتوں کے انتفاء سے ہے یہی منطوق اور موافق دعوی کے ہے اور تیسری صورت کہ اللہ واحد اللہ کےسوائے پایا جائے اور یہ احتمال بھی مردود ہے کیونکہ کلام توحید میں بعد حفظ وجود اللہ تعالی کے ہے پس اس صورت میں جبکہ وجود اللہ غیر اللہ کا مانا گیا تو وجود الہ کا بھی لازم آتا ہے کیونکہ جب دو پائے جاتے ہیں تو تین بھی پائے جائیں گے کیونکہ پہلے سے تحقق ہے کہ جو شے دو ہوتی ہیں وہ تین بھی ہو سکتی ہیں یا یہ کہ جمع سے مافوق احد مراد لے لیا جائے اور مقیدات میں محط فائدہ قید ہوتا ہے اس قاعدہ کے موافق حاصل معنی بر تقدیر الا کے صفت ہونے کے یہ ہونگے کہ اگر غیر اللہ موجود ہو تو زمین و آسمان کا انتظام خراب ہو جائے پس وجود الہہ کا اعتماد نہ تو اللہ کے ساتھ رہا اور نہ بدون اللہ کے اور اس توجیہ میں تامل ہے اس کے بعد جاننا چاہیے کہ دو سے ایجاد اس طرح ہوگا کہ ہر ایک ان میں سے ایسی طرح سے تصرف کرے کہ دوسرے سے ممتاز ہو جائے اور اگر امتیاز نہ ہوگا بلکہ اتحاد ہوگا تو اس وقت ایجاد اور تصرف کو ایک کی طرف بغیر دوسرے کی نسبت کرنا ممکن نہ ہوگا کیونکہ ترجیح اور تحکم لازم آتا ہے اور نہ دونوں کی طرف نسبت کرنا ممکن ہے کیونکہ اس صورت میں دو حال ہیں اول یہ کہ ہر ایک ایجاد میں مستقل ہوں تو اس صورت میں تو اجتماع دو علت مستقلہ کا ایک معلول پر لازم آتا ہے اور دوسرے یہ کہ ہر ایک ایجاد میں مستقل نہ ہو بلکہ جمع ہو کر ایجاد کریں ہو تو اس صورت میں نقصان اور عجز لازم آتا ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> ہم یہ صورت لیتے ہیں کہ ہر ایک ان میں سے مستقل ہے لیکن قضا ایجاد پر مشترک ہے پس نقصان لازم نہیں آتا<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب :۔</span> اتفاق تاثیر میں ہر ایک کے تنقیص کا موجب ہے کیونکہ اگر قدرت تامہ کے ساتھ تاثیر کریں تو تاثیر با سبب تعارض مطلقا ممتنع ہوگی پس ہر ایک دوسرے سے ممتنع ہو جائے گا پس معلول معدوم رہے گا اور اگر قدرت ناقصہ سے تاثیر ہو تو ہر ایک کی احتیاج دوسرے کی طرف لازم آتی ہے حالانکہ ہم نے تاثیر مستقل فرض کی ہے ۔</p>
<h2>چوبیسواں مرحلہ</h2>
<h3>ایجاد بلاواسطہ عقل اولی</h3>
<p>ایجاد بلاواسطہ عقل اولی کا ہے اور بواسطہ اور اشیاء کے<br />
ایجاد بلا واسطہ عقل اول میں ہے بس ہر ایک سبب اور زمانہ کے ساتھ مسبوق ہے اور مادہ اور مدت سے بھی مراد ہے پس ہر ایک حقیقت اللہ سبحانہ کی مشیت کا معلول ہے باعتبار توہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ علت متقدمہ سے متاثر ہے پس اسباب کی طرف نسبت مجازی ہے جیسے کہ انبت الربیع البقل اگایا ربیع نے سبزی کو میں اسناد مجازی ہے ۔</p>
<h2>پچیسواں مرحلہ</h2>
<h3> ظہور اور تقید اور تعین کے مراتب</h3>
<p>عالم وجود میں ایک حقیقت مطلقہ مخفیہ ہی ہے کہ جو ان تعینات میں سے کسی تعین کے ساتھ متعین نہیں ہے اور اس حقیقت کے لیے مراتب ظہور اور تعین اور تقید کے ہیں کہ جو غیر بے شمار ہیں مگر باعتبار کلیت کے پانچ مرتبے ہیں دو ان میں سے حق سبحانہ و تعالی کی طرف منسوب ہیں اور تین خلق کی طرف اور ایک مرتبہ ایسا ہے کہ جو سب کا جامع ہے اور مراتب کے با اعتبار کلیت کے پانچ میں منحصر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مظہر یا تو اس شے کا مظہر ہوگا جو حق تعالی کی طرف منسوب ہے یا اس شے کا کہ جو حق تعالی اور خلق دونوں کی طرف مضاف ہے اول تو مرتبہ غیب کا ہے بسبب اس کے کہ خلق اس میں غیب ہیں اور اس مرتبہ غیب کی دو قسمیں ہیں کیونکہ یا تو ایسا غیب کہ اکوان کے عین میں ظاہر ہونے کے ساتھ متلبس اور متصل ہیں اورنیز علم میں بھی اکوان کے ظہور کے ساتھ متلبس ہے بس علم میں تمائز نہیں ہے جیسا کہ عین میں نہیں ہے اور یہ غیب تعین اول اور محضہ اور غیب اول ہے اور یا ایسا غیب ہے کہ اقوام کے اپنی ذات کے لیے ظہور کے ساتھ متلبس ہے باوجود اس کے کہ ان کے ذوات اور ان کا ثبوت علم میں ہے اور اس غیب کو تعین ثانی اور واحدانیہ اور عالم معانی اور حروف عالیات اور غیب ثانی بولتے ہیں اس غیب ثانی میں اکوان ان کے جاننے والے کے لیے ظاہر ہیں اور خود اپنی ذات کے لیے اور انکے مثال کے لیے ظاہر نہیں ہے اور قسم ثانی مرتبہ شہادت کا ہے بسبب اس کے خلق اس میں حاضر ہیں اور اس مرتبہ شہادت کی تین قسمیں ہیں کیونکہ مظاہر بسائط کا ہوگا تو وہ مرتبہ ارواح کا ہوگا اور مرتبہ عالم حسن کا ہے اور عالم اجزاء عرش سے مرکز تک ہے اور مرتبہ جامعہ حضرت انسان کامل ہے اور حقیقت مطلقہ مخفیہ غیر منقویہ غیب الغیب ہے مخلوق کا علم اس کو مفید نہیں ہو سکتا پس بعض نے تو تمام مراتب کی طرف نظر کی ہے تو ان کو سات قرار دیے ہیں کیونکہ لا تعین بھی ایک مرتبہ ہے مگر یہ مرتبہ ہمیشہ غیر منزلہ ہے اور نزول وحدت ہی سے ہے اور بعض نے تنزل کی رعایت کی ہے پس چھ مرتبہ قرار دیے ہیں اور بعض نے اس طرف نظر کی کہ تعین اول اور ثانی اس بات میں مشترک ہیں کہ خلق اس میں اپنے نفس سے اور اپنے مثل سے غیب ہے یا اس طرف نظر کی کہ انسان کامل عالم اجسام سے ہے پس اسے پانچ مراتب قرار دیے اور یہ محل کسی قدر اضطراب سے خالی نہیں</p>
<h2>چھبیسواں مرحلہ</h2>
<h3> نسبت ذات پر زائد نہیں</h3>
<p>وجود ایسے حقیقت وحدہ ہے جو ہر معنی اور نسبت کو جمع کرنے والا ہے اور معنی اور نسبت تعقل ہے میں زائد ہیں وجود ہیں زائد نہیں ہیں جیسے کہ ذات مطلقہ معنی اور نسبت مطلق ہو کر مدرک ہو سکتی ہے اور ان سے مجرد ہو کر وجود میں نہیں ہے پس ذات اعتبارات پر زائد نہیں ہےاور نہ وہ شے جو ذات میں اعتبار کی گئی ہے ذات پر زائد ہے لیکن عقل کو پہنچتا ہے کہ اعتبارات کو علیحدہ اخذ کریں اور ان اعتبار پر حکم کرے کہ وہ ذات پر زائد ہیں اور یہی ممکن ہے کہ عقل ان کو ذات کے ساتھ کثرت کو ذات میں ہلاک کر کے ادراک کرے پس تمائز وجود میں نہیں ہیں بلکہ تعقل میں ہیں اور کبھی عقل ضعیف نحیف غلطی کرتی ہے پس غیریت کا حکم کرتی ہے</p>
<h2>ستائیسواں مرحلہ</h2>
<h3>  فعل اور افعال کی مراتب</h3>
<p>اور اس قطر کو برزخ اکبر اور یقین اول اور مقام اوادنی بھی کہتے ہیں برزخ اکبر تو اس واسطے کہتے ہیں کہ وہ مقام قاب قوسین (احدیت واحدیت )کا باطن ہے تعین اول اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ وحدت اور کثرت کے دوقوس کے باطن کا مقام ہے اور مقام او ادنی اس واسطے کہتے ہیں کہ وہ وجوب اور امکان کے دو قوسوں کے مقام کا باطن ہے اور اس کو بسبب اعتدال کے حقیقت تعدیہ کہتے ہیں کیونکہ کسی اسم یا صفت کا حکم اس کی مثل پر بالکل غالب نہیں ہے اور یہ مقام ان دونوں قرب سے زیادہ قریب ہے کہ اس میں تمیز بالکل ہی محو ہے اور تعین ثانی پہلی کی تفصیل اور اس کی صورت ہے اور وہی حضرت عمائت ہے بسبب اس کے وحدت اور کثرت کے درمیان حائل ہوئے کہ پس اسی حضرت عمائت میں صفات خلق کے حق تعالی کی طرف باعتبار علم کے مضاف ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺسے سوال کیا گیا کہ حق تعالی خلق کے پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھے فرمایا عماء میں تھے نہ اس کے اوپر ہوا تھی اور یہ نیچے ہوا تھی مراد سائل کے یہ تھی کہ بعد پیدا کرنے خلق کے تو حق تعالی وہ ہی ہے لیکن قبل پیدا کرنے کے کہاں تھے تو آپ نے جواب میں جو ارشاد فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ اس وقت مرتبہ اس علم میں تھے جو تمام حقائق کے تفصیل کے متعلق تھا اور اس تعین جامع میں مراتب فعل اور انفعال کے مجملا اور تفصیلا ہیں پس فعل اجمالی مرتبہ الوہیت کا ہے اور پھر تفصیلی مرتبہ اسماء و صفات کا ہے اور انفعال اجمالی مرتبہ عبودیت یعنی کون کا ہے اور انفعالی تفصیل مرتبہ عالم کا مع اس کے اجناس اور انواع اور صفات اور اشخاص کے ہے اور مختلف اعتبارات کی وجہ سے یہ تعین اور اسماء کے ساتھ نام رکھا جاتا ہے بس اس اعتبار سے کہ وہ کلیت اور جزئت کے معنی کو محیط ہے اور معنی کلیہ اور جزئیہ کہ اس میں متمیز ہےاس کا نام عالم معانی رکھا جاتا ہے اور اس اعتبار سے کہ اس میں دونوں کثرتیں یعنی کثرت اسماء کے اور کثرت کون کے مرتسم اور نقش پذیر ہوتے ہیں اس کا نام حضرت ارتسام رکھا جاتا ہے اور اعتبار سے کہ علم ازلی اس کے تمام صفات اور متعلقات کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اس کا نام حضرت علم ازلی رکھا جاتا ہے اور اس اعتبار سے کہ وہ پہلے تعین کی صورت ہے اس کا نام مرتبہ ثانیہ رکھا جاتا ہے اور اس مقام میں ذات کا صفات سے تمیز متحقق ہوتا ہے اور بعض صفات کا بعض سے بھی تمیز متحقق ہوتا ہے اور اصول و صفات وہ ہیں کہ جو ائمہ سبعیہ کے نام سے مشہور ہیں اور وہ حیات، علم ،ارادہ، قدرت ،سماع ، بصر اور کلام اور بعض نے کہا کہ حی اور عالم اور مرید اور قابل اور قادر اور جواد اور مقسط ہیں امام الائمہ شیخین اور اکثر محققین کے نزدیک حیات سے باسبب اس کے تقدم کے اور شیخ کاشی کے نزدیک امام الائمہ علم ہے کیونکہ وہ نسبت ہے اور اس کی شان کے معلوم کا اقتضاء ہے اور وہ ماموم ہے اور اس میں جو کچھ خدشات ہیں وہ معلوم ہیں خلاصہ یہ کہ امر ایجاد ہے ان اسماء کے متعلق ہے ۔</p>
<h2>اٹھائیسواں مرحلہ</h2>
<h3>ایجاد کی طرف توجہ الہی  کی دو قسمیں</h3>
<p>ایجاد کی طرف جو توجہ الہی ہوتی ہے اس کی دو قسمیں<br />
ظہور کی طرف جو توجہ الہی ہے اور اس کا فیض ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں اقدس اور مقدس کیونکہ ایک اعتبار ان اعتبارات میں سے جو غیب ذات میں ہیں اور جن کو شیون ذاتیہ کہتے ہیں کبھی وجود کے ساتھ متجلی ہوجاتا ہے پس وہ متعین ہو جاتا ہے اور دوسرے اسے اعتبار سے متمیز ہو جاتا ہے کہ وجوہ بھی وجود کے ساتھ متجلی ہے پس حقائق اسمائیہ میں سے ایک حقیقت ہو جاتی ہے پس وہ بہت ہے اور وہ ہے عین ثابتہ یعنی صورت اسمائیہ صورۃ ذات سے باعتبار علم کے علم فیض اقدس سے کہ جو خلا کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے فائض ہوتی ہے اور اس صورت کو وجوہ کی بو تک بھی نہیں لگے پھر اس کے بعد موافق اس صورت میں کہ معہ اپنے لوازم خارجییہ فیض مقدس سے کہ جس کو استجلاء کہتے ہیں وہ شے خارج میں سے حاصل ہوجاتی ہے</p>
<h2>انتیسواں مرحلہ</h2>
<h3> ماہیات ممکنہ غیر مجعول یا مجہول</h3>
<p>ماہیات ممکنہ غیر مجعول ہیں یا مجہول ہیں<br />
تمام ماہیات غیر مجعولہ بجعل جاعل ہیں حکماء اور اشراقی بھی اس طرف گئے ہیں اور تحقیق اس بات میں یہ ہے کہ جعل دو شے کے ہی درمیان ہوتا ہے پس بعظ تواثبات جعل کی طرف گئے ہیں اور بعض نے جعل کی بالکل نفی کی ہے لیکن نہ مطلقا بلکہ اس وقت نفی کی ہے کہ جب جعل سے جاعل موجب یا مختار کی طرف احتیاج مرادلی جائے پس اتنی احتیاج ماہیت ممکنہ کے لوازم میں سے ہے پس وہ لوازم خواہ علم میں پائے جائیں یا خارج میں صفت احتیاج ان میں پائی جاتی ہے پس ماہیت علی الاطلاق مجعول ہیں خواہ اتصاف احتیاج کے ساتھ میں ہو یا غیر میں ہو اور اگر جعل فاعل کے احتیاط کے ساتھ وجود خارجی میں مخصوص ہو تو کوئی وجہ تخصیص کی نہیں ہے یہ بیان تو مثبت جعل کا ہے اور جو جعل کی نفی کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ ماہیت کے اندر فی نفسہ مجال جعل کی نہیں ہے اور اسی طرح وجود کے اندر بھی جعل کی مجال نہیں ہے کیونکہ اول گزر چکا کہ جعل دو شے کے درمیان ہوتا ہے پس کوئی کسی ماہیت کو ماہیت نہیں بنا سکتا اور نہ وجود کو وجود بنا سکتا ہے پس فاعل کی مطلقا تاثیر نہیں ہے کیونکہ ماہیت اور اس کے ذات میں کچھ کچھ مغائرت نہیں ہے تاکہ جعل ان کے درمیان متصور ہو اور اسی طرح وجود اور اس کے ذات میں جعل کا واسطہ نہیں ہو سکتا بلکہ جعل( کےمعنی صرف یہ ہے کہ ماہیت وجود کے ساتھ متصف ہے) اگرچہ وہ اتصاف خارج میں موجود نہ ہو پس خارج وجود ماہیات کا ظرف ہے وجود کے ساتھ اتصاف کا ظرف نہیں ہے مثل کپڑے رنگے ہوئے کی پس یہ ہے بیان ان کے اس قول کا کہ ماہیت غیر مجعول ہیں اور شیخ صدر الدین قونوی اور ان کے متبعین کا کلام بھی اعیان ثابتہ کے نفی مجعولیت کی طرف باعتبار انتفاء جعل خارجی کے مشیر ہے یعنی ارادہ اور قدرت خارج میں اعیان کے اثبات کے ساتھ متعلق نہیں ہوا اور ہر ایک شخص کو یہ پہنچتا ہے کہ جیسی چاہے اپنی اصطلاح مقرر کرے</p>
<h2>تیسواں مرحلہ</h2>
<h3> تعینات الہیہ کی تقسیم و تفصیل اور تعین کی تعریف</h3>
<p>تعینات الہیہ کی تقسیم اور تفصیل اور تعین کی تعریف<br />
مبتدا خبر نہ ہونا ظہور وجود کا ہے ایک وجہ معین سے لیکن نہ مطلقا بلکہ باعتبار اقتضاء کے شان کے اس کے شیون ذاتیہ سے پس ممکن وجود متعین ہے پس اس کا امکان بحیثیت اس کے تعین کے ہے اور اس کا وجوب بحیثیت اس کے حقیقت کے ہے اور تعین متعین کے لیے سبب مرجح کے واجب ہے اور ذات وجود کے لیے ایک تعین غیر معین ضروری ہے نہ تعین خاص پس خصوصیت تعین کی تعین کے ان موجبات میں سے ایک موجب کے سبب ہے کہ جو ذات میں پوشیدہ ہیں پس جائز ہے کہ وجود ایک تعین کو چھوڑے اور دوسرے تعین کو بسبب دوسرے موجب کے اختیار کرے کیونکہ وجود عدم سے بدل سکتا ہے اور اس تقریر سے تجھ کو تعین کا امکان معلوم ہوگیا کیونکہ باعتبار ذات وجود کے تعین کا وجود اور عدم برابر ہے پس تعین وجود کے اندر ایک نسبت عقلیہ ہے پس جب تجلی وجودی ترجیح دیتی ہے تعین موجود ہوجاتا ہے اور اگر تجلی وجودی اس سے اعراض کرتی ہے تعین معدوم ہو جاتا ہے اور اپنی اصل کی طرف رجوع ہو جاتا ہے پس وجود کی نسبت اشخاص تعینات کی طرف مثل نسبت واحد عددی کی ہے اور مراتب اعداد کی طرف پس ہر عدد کہ جو ایک اکائی ہے ایسے تعین کا ساتھ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ذات اس تعین کی مقتضی ہے پس ایک جب دو مرتبہ ظاہر ہوگا اس کو دو کہا جاتا ہے اور جب تین مرتبہ ظاہر ہوگا تو اس کو تین کہا جائے گا پس دو مرتبہ یا چند مرتبہ کے ساتھ جو صفت ظہور کے ہے وہ واحد عددی کی ذات میں پوشیدہ ہے پس خارج میں واحد عددی کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور باقی مراتب اعداد کے واحد کے شیون ہیں پس دو اور تین اعتبارً ایک کے غیر ہیں لیکن جب حقیقتا امر کی طرف نظر کی جاتی ہے تو وہ دونوں عین واحد ہیں پس معلوم ہوا کہ عینیت حقیقیہ ہے اور غیریت اعتباریہ ہے اور ہر ظہور ایسے احکام کا مقتضی ہے کہ وہ احکام مرتبہ ظہور کے ساتھ خاص ہوں پس اعیان خارجیہ کے احکام اعیان ثابتہ کے مسخر ہیں اور اعیان ثابتہ اسماء اور صفات کے مسخر ہیں اور اسماء صفات شیون ذاتیہ کے مسخر ہیں کہ جو ذات میں پوشیدہ ہیں پس احدیت ذاتیہ ہر وحدت اور کثرت اور ظہور اور بطون اور ترکیب اور بساطت اور تقدم اور تاخر کو اور جو اشیاء باہم متقابل ہوں ان کو مقتضی ہے پس وہ احدیت مطلقہ جیسا کہ حقیقت واحدہ ہے اسی طرح وہ صورت واحد مصمتہ ہے اور فوصل کثیرہ متعدہ معنی مجرد ہیں کہ ان کے آثار اور احکام تبعیض اور تجزی سے متمائز ہو کر ظاہر ہوتے ہیں اور ان فواصل کی مثال ان دو ابر کی سی ہے جو فلک اطلس میں نقش پذیر ہیں اور یہ دوائر باعتبار تقاسیم فرضیہ کے ہیں غیر منقسم میں ہیں اور باعتبار ہر قسم کے آثار و خواص کے ظہور کے ہیں اور وہ فواصل شیون ہیں جو صورت خواصہ میں پوشیدہ ہیں خواہ وہ ایسے شیون ہوں کہ جن کا احاطہ تام ہو یا ایسے شیون نہ ہوں یا تابع ہوں پس شیون تابعہ اعیان عالم ہیں اور وہ شیون متبوعہ غیر تامہ ہے اجناس عالم اور اس کے اصول وارکان ہیں اور شیون متبوعہ تامہ اسماء اور صفات الہیہ ہیں پس وہ احوال جو حق سبحانہ و تعالی کی ذات کے ساتھ قائم ہے اگر ذات سے ان کو علیحدہ ہونا اعتبار کیا جائے تو وہ ذات ہے اور اگر اس کے شان میں کہ جو ان شیون پر غالب ہیں کہ وہ اس سے پیش آنے والے ہیں احکام اور آثار کا اعتبار کیا جائے تو اس کا نام اللہ ہے اور اگر اس کے وجود مطلق کا انسباط اس کے ان شیون پر اعتبار کیا جائے کہ اس کے ظہور سے ظاہر ہیں تو وہ رحمن ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے کہ عالم کو اپنی رحمت کے ساتھ خاص کیا ہے تو رحیم ہے اور اگر اس کے تعین اول کا بغیر اعتبار کے اور شان کے اعتبار کیا جائے تو وہ واحد ہے اور اگر اس میں کسی شے کے اس کے کمال تک بتدریج پہنچانے کا اعتبار کیا کیا جائے تو وہ رب ہے اور اس پر باقی اسماء اور صفات کو قیاس کرے چنانچہ ظاہر ہونا حق سبحانہ و تعالی کا اطلاع پانے کے ساتھ ان احکام پر کہ جو بعض بعض کے ساتھ متصل ہیں علم ہے اور وہ جو اطلاع پانے والا ہے عالم ہے اور ظاہر ہونا اس کے اس کا ساتھ دوام ادراک کے بغیر غائب ہونے کے اور پوشیدہ ہونے کے تمام شیون سے حیات ہے اور مدرک حی ہے اور بعض شیون کو بعض پر ظہور میں باعتبار مناسبت اور ملاعہ کے ترجیح دینے کے ساتھ ظاہر ہونا ارادہ ہے اور مرجح مرید ہے اور حجالت کو ترجیح دی ہے اس کے ظہور میں تاثیر کرنے کے ساتھ ظاہر ہونا قدرت ہے اور موثر قدیر اور قادر ہے اور شیون مسموعات کے احاطہ کرنے کے ساتھ ظاہر ہونا سمع اور احاطہ کرنے والا سمیع ہے اور شیون مبصرات کے ادراک کے احاطہ کرنے کے ساتھ ظاہر ہونا بصر ہے اور وہ احاطہ کرنے والا بصیر ہے اور جو بات نفس میں ہے اس کو مخاطب کے سامنے بیان کرنے کے ساتھ ظاہر ہونا کلام ہے اور وہ بیان کرنے والا متکلم ہے اور اسی پر اور صفات و اسماء وہ قیاس کرے ۔</p>
<h2>اکتیسواں مرحلہ</h2>
<h3> ظہوراور بطون کس کا</h3>
<p>ظہور کس کس شے کا ہے اور بطون کس کا<br />
وجود حقیقی بحیثیت اس کے کہ وجود حقیقی ہے اور اعیان ثابتہ یہ دونوں ظاہر نہیں ہوئی اور نہ کبھی ازل میں ظاہر ہوئی اور نہ ابد میں ظاہر ہو پس بطون اعیان ثابتہ اور وجود حقیقی کے صفت ذاتیہ ہے ظاہر تو صرف یا تو اعیان کے احکام اور آثار ہیں اور یا اسماء اور صفات شیون اور تجلیات وجود جو ان امور کے سبب سے متعین ہے ظاہر ہیں اور وجہ حصریہ ہے کہ وجود مصمت اطلس کو اگر تو چند مرتبہ اعتبار کرے تو اس میں اعیان ثابتہ کے احکام اور آثار ظاہر ہیں اور اگر اعیان کو چند مرتبہ اعتبار کرے تو شیون اور اسماء اور صفات اور تجلیات وجودی ظاہر ہیں اور یا وجود ہے کہ جو اسماء اور صفات اور تجلیات سے متعین ہے ظاہر ہے۔</p>
<h2>بتیسواں مرحلہ</h2>
<h3>تعینات امکانیہ اور روح کے اقسام</h3>
<p>تعینات امکانیہ اور روح کے اقسام، روح کی حقیقت اور اس میں اختلاف<br />
ان تعینات امکانیہ میں سے تعین اول حضرت ارواح ہے اس کو عالم امر اور عالم ملکوت اور عالم غیب اور عالم علوی بھی کہتے ہیں اور وہ اشارہ حسیہ کو قبول نہیں کرتا جیسے کہ عالم خلق اور عالم ملک اور عالم شہادت اور عالم سفلی جو تعین ثالث ہے اشارہ حسیہ کو قبول کرتا ہے اور یہی دونوں حق تعالی کے قول فلا اقسم بما تبصرون ومالا تبصرون قسم کھاتا ہوں اس شے کی جس کو تم دیکھتے ہو اور جس کو تم نہیں دیکھتے سے مراد ہیں اور عالم غیب میں سے بعض تو وہ ہیں کہ ان کو ملک تدبیر اور تصرف سے کچھ تعلق نہیں ہے اور وہ کروبی ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو فنا فی اللہ حاصل ہو گئی ہے پس ان کو عالم اور اہل عالم اور آدم علیہ السلام اور ابلیس اور جنت اور نار اور طاعت اور معصیت کے پیدا ہونے کا کچھ علم نہیں ہے ان کو بہ سبب ان کے ہیمان یعنی جمال اور جلال میں حیران ہونے کے مہیمہ بولتے ہیں اور بعض ان میں سے اس کے بندوں اور اس کے درمیان میں قاصد اور رسول ہیں اور فیض ربوبیت کے وسائط ہیں اور ان میں باعتبار پیداش کے جو عظیم تر ہے وہ روح اعظم ہے اس کو عقل اول کہتے ہیں اور وہی قلم اعلی ہے اور وہ صف اول میں ہے جیسا کہ جبرائیل ان میں سے صف اخیر میں ہے حق تعالی فرماتے ہیں وما منا الا لہ مقام معلوم یعنی ہم میں سے (فرشتے) ہر ایک کا ایک مرتبہ معلوم ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو تدبیر اور تصرف سے تعلق ہے پھر ان کے بھی دو قسم ہیں اول وہ کہ جن کو علویات کے ساتھ تعلق ہے ان کو ملکوت اعلی کہتے ہیں اور دوسری وہ کہ جنکو سفلیات سے تعلق ہے ان کو ملکوت اسفل کہتے ہیں ہر شے پر خواہ وہ علویات میں سے ہو یا سفلیات میں سے ایک ملک مسلط ہے کہ جو اس شے کو قائم رکھتا ہے اور حق تعالی کا قول بیدہ ملکوت کل شیئ اسی طرف مشیر ہے اور میرے نزدیک یہ ہے کہ ملک میں جو موجود ہے اس کے لیے ایک ملکوت ہے کہ وہ اس کا رب ہے اور اگر وہ شے عام ہے تو وہ بھی عام ہے اگر وہ شے خاص ہے تو وہ رب اسکے خواص ہے اور خصائص کا حفاظت کرنے والا ہے اور کبھی وہ رب مجسم بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ بعض اجسام کبھی روح بن جاتے ہیں اور مراد ہماری روح سے وہ شے ہے کہ جو ملائکہ اور قوی اور معالی اور نفس ناطقہ اور روح حیوانی اور نباتاتی اور جمادی اور ارواح ناریہ یعنی جن اور شیاطین سب کو شامل ہو اور ارواح ناریہ میں سے بعض تو انسان پر مسلط ہیں جیسے کہ ابلیس اور اس کا لشکر اور بعض کھیتوں اور دفینوں اور خزانوں پر مسلط ہیں اور بعض ان میں سے شرائع اور احکام کے مکلف ( اپنے اعمال کا جوابدہ )و مخاطب ہیں تو بعض تو ان میں سے مومن ہیں اور بعض کافر ہیں جاننا چاہیے کہ روح کے بیان میں علماء کے دو فریق ہیں ایک فریق نے تو سکوت کیا ہے انہوں نے نبی ﷺکی اقتداء اور پیروی کی کیونکہ جس وقت نضر ابن الحارث جو کفار قریش سے تھا حضور سے روح کے بارے میں سوال کیا تھا تو اپ نے سکوت فرمایا تھا پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی تھی و یسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی یعنی اے محمد ﷺآپ سے روح کے بارے میں کفار سوال کرتے ہیں اپ کہہ دیں کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے جنید رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ روح ایک ایسی شے ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے اپنے علم کے ساتھ خاص کیا ہے اور کسی کو مخلوق میں سے اس پر مطلع نہیں کیا اور اس سے زیادہ اس کے بارے میں نہیں کہیں گے کہ وہ موجود ہے اور ایک فریق نے روح کے بارے میں کلام کیا ہے پس جمہور متکلمین اور قاضی باقلانی اور نظام معتزلی کا تومسلک یہ ہے کہ روح ایک جسم نورانی ،علوی، خفیف حی، تحرک ہے کہ جوہر اعضا میں نفوذ کرتی ہے اور جیسا کہ گلاب کا پانی گلاب میں سرایت کرتا ہے اسی طرح وہ سرائت کرتی ہے اور بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ روح ایک عرض ہے اور وہ حیات ہے کہ جس کے سبب سے بدن زندہ ہو گیا ہے اور اہل تحقیق اس طرف گئے ہیں کہ روح ایک جوہر ہے جو اپنی ذات کے ساتھ قائم ہے اور غیر متخیر ہے اور مادہ سے مجرد ہے نہ تو ایسا جسم ہے کہ جو بدن سے مقارن ہو اور اس کے لیے تخیر بھی ہو اور نہ عرض ہے کہ جو بدن کے ساتھ قائم ہو اور اس کے لیے تخیر بھی ہو پس وہ نہ بدن میں داخل ہے اور نہ خارج ہے اور نہ متصل ہے اور نہ منفصل ہے نہ جسم ہے نہ جسمانی ہے ہاں بدن سے تعلق تدبیر اور تصرف ہے اور اسی طرف امام حجۃ الاسلام اور ابو زید دبوسی گئے ہیں اور یہاں تک ہی کشف اہل مشاہدہ کا ختم ہوتا ہے ولکل وجہۃ ھو مولیھا ہر ایک کیلئے ایک جہت ہے کہ وہ اس طرف منہ پھینے والا ہے اور اہل تحقیق کہتے ہیں کہ روح انسانی بعد خراب ہونے بدن کے خراب نہیں ہوتی اور بعض معدوم ہونے بدن کے وہ معدوم ہی ہوتی ہے اس کے بعد اہل تحقیق نے ازلیت و ابدیت روح میں اختلاف کیا ہے پس صوفیا کی ایک جماعت تو اس طرف گئی ہے کہ روح سرمدی ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ کو رہے گی اور ایک گروہ صوفیا کا اور فقہاء اور امام حجۃ الاسلام اور اشراقین اور مشائین کا مسلک یہ ہے کہ روح ابدی ہے اور ازلی نہیں ہے اس کے بعد اس میں اختلاف و علماء کا ہے کہ آیا روح ماہیت نوعیہ ہے یا ماہیت جفتیہ تو ارسطو اور ابو علی اس کے نوعیت کی طرف گئے ہیں اور حکماء کا ایک گروہ اور ابو البرکات بغدادی اور امام رازی متکلمین میں سے روح کی جنسیت کے قائل ہیں خلاصہ یہ ہے کہ روح کا عروج اور معاد بعد بدن کے خراب ہونے کے مختلف فیہ ہے اہل شرع کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے ارواح کو اجساد سے ہزاروں برس پہلے پیدا کیا ہے یا چالیس روز پہلے پیدا کیا ہے جیسا کہ احادیث میں واقع ہوا اور ہر روح کے لیے ایک مقام معین کیا ہے کہ بعد بدن کے علیحدہ ہونے کے وہ روح اس مقام تک پہنچ جاتی ہے وما منا الا لہ مقام معلوم پس جو شخص مرتبہ ایمان ہی میں بستیہ ہیں اس کے باز گشت سماء دنیا تک ہے اور جو مرتبہ عبادت میں ہے وہ دوسرے آسمان تک عروج کرتا ہے اور جو زہد میں ہے وہ تیسرے آسمان تک عروج کرتا ہے اور جو معرفت میں ہے وہ چوتھے آسمان تک اور جو ولایت میں ہے وہ پانچویں آسمان تک عروج کرتا ہے اور جو نبوت میں ہے وہ چھٹے آسمان تک اور جو عزم میں ہے ساتویں آسمان تک اور جو ختمیت میں ہے وہ عرش عظیم تک پرواز کرتا ہے صوفیا نے کہا ہے کہ ان مقامات تک اس واسطے ان کو عروج ہوتا ہے کہ انہی مقامات سے نزول بھی ہوتا ہے اور نزول کے دونوں قوسوں سے دائرہ تام ہو جاتا ہے اور جو درجہ ایمان پر نہیں پہنچا اس کا مقام آسمانوں کے نیچے ہے اور ان مدارج اور مہابط کی تعین میں کسب کو کچھ دخل نہیں یہ سب مدارج و مہابط خلقی ہیں کسبیہ نہیں ہے لا تبدیل لخلق اللہ پس اگر اس پر تو یہ کہے کہ جس صورت میں یہ مدارج مہابط خلقیہ ٹھہرے تو سلوک سے کیا حاصل و نفع ہے میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ نفع یہ ہے کہ قبل از موت اس مرتبہ کا علم ہو جائے گا پس پہلے سے تو علم یقین ہے اب عین الیقین ہو جائے گا اور انبیاء کا عروج روح اور جسد دونوں کے ساتھ ہے اور غیر انبیاء کا عروج صرف روح ہی کے ساتھ ہے حکماء نے کہا ہے کہ یہاں محالات سے ہے کہ روح جسم پہلے پیدا ہو کیونکہ اگر اروا ح اجسام سے پہلے پیدا ہوں تو دو حال سے خالی نہیں ہے یا تو ان ارواح میں باہم تمائز ہوگا یا نہیں اگر تمائز نہیں تو ارواح متعددہ ایک روح ہو جائیں گی اور اگر تمائز ہو تو جس شے کے ساتھ تمائز ہے اس شے کے غیر ہے کہ جس کے سبب سے مشارکہ ہے پس ارواح اس صورت میں مرکبہ ہوں گی اور حالانکہ وہ بالاتفاق بسیط ہیں پس معلوم ہوا کہ ارواح اجساد کے ساتھ پیدا ہوئی ہیں اور بعد خراب ہونے بدن کے ابدالاباد تک باقی رہیں گی پھر اگر دنیا میں ارواح کے لیے طہارت اور علم حاصل ہو تو وہ عقول اور نفوس کی طرف رجوع کرتی ہیں اس واسطے عقول اور نفوس ان کو اقتضا جنسی سے جذب کرتے ہیں اور یہی ان کے نزدیک معنی شفاعت کے ہیں پس جو شخص فلک قمر کے نفس سے مناسبت رکھتا ہے پس وہ اس کی طرف لوٹتا ہے اور اسی طرح فلک الافلاک تک عروج ہوتا ہے اور ہر استعداد والس ریاضت شاقہ سے ایسے معارج پر عروج کرتا ہے کہ وہ معرج پہلے معرج سے اعلی ہوتا ہے اور عروج ایک معراج میں معین ہے منحصر نہیں ہے پس ان کے نزدیک معارج کسبیہ ہیں حقیقیہ نہیں ہے اور جس شخص کے لیے طہارت اور علم حاصل نہیں اس کا جائے قیام فلک قمر کے نیچے ہے اور وہ ہی اس کا جہنم ہے اور جس کا نفس فلک اعظم کے نفس سے مناسبت رکھتا ہے وہ خلیفۃ اللہ ہے اور بواسطہ عقل اول کے حق کے ساتھ کلام کرتا اور کبھی بلا واسطہ بھی کلام کرتا ہے پس ابد الاباد اللہ جل جلالہ کے جوار میں مسرور و محفوظ ہے اور یہ مقام اس کے لیے جنت ہے نہ اس میں حور ہے نہ قصور ہے صوفیا نے کہا ہے کہ عروج کی کوئی حد نہیں کیونکہ سالک اللہ تعالی کی میدان علم اور حکمت میں چلتا ہے اور اس کی کوئی حد نہیں ہے پس ممکن ہے کہ بتدریج علوم میں ابد الاباد تک صعود کرتا رہے اور بعض صوفیا نے کہا ہے کہ روح کی دو قسمیں ہیں سراجی اور زجاجی روح سراجی تو مخلوق ہے قائم بذات ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ جسم کے متعلق ہوتی ہے اس کو اور اس کے قوی کو روشن کرتی ہے پس اس کے لیے فی نفسہ اطلاق ہے اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے روشنی سورج کے ہے جرم سورج میں اور زجاجی مخلوق ہے قائم بالغیر ہے پیدا ہونا افعال قلبیہ اور قالبیہ کا اس کی شان سے ہے پس اس کے لیے تقید ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے سورج کی روشنی لوگوں کے گھروں میں پس اول کے لیے صفت ذاتیہ وحدت ہے اور ثانی کے لیے کثرت صفت عارضہ ہے پس نفس ناطقہ ہر انسان کا اس سراج کے لیے زجاج ہے پس وہ بدن کا امیر ہے اور جوارح اس کے خدم و حشم ہیں اور بدن میں وہ جس طرح چاہے تدبیر و تصرف کرتی ہے اور روح حیوانی جو انسان اور باقی حیوانات مشترک ہیں وہ روح جسمانی ہے قلب کے بائیں حصہ مجوف میں ہے اس میں کسی قدر بلغ ہے کہ وہ روح حیوانی کو ترکیب دینے والا ہے اور کسی قدر اس کے اوپر بخار خالص ہے کہ اس کو فارسی میں جان کہتے ہیں اور بعض صوفیا کہتے ہیں کہ نفس ناطقہ روح حیوانی پر ایسے عاشق ہے جیسے زوج زوجہ پر عاشق ہوتا ہے اور اس ایک پسر اور ایک دختر پیدا ہوتے ہیں پس پسر تو قلب ہے اور اس کے لیے بسبب اللہ تعالی کے مقدر فرمانے کے تین خصلتیں ہیں تقوی اور فجور کا الہام اور جس شے سے اللہ تعالی راضی نہیں ہے اس پر ملامت اور اس کے قضا اور قدر کے جاری ہونے کے نیچے مطمئن ہونا اور دختر وہ نفس امارہ بالسو ہے پسر یعنی قلب تو ان اشیاء پر مجبول ہوا ہے کہ جو اللہ کی طرف قریب کرنے والی ہیں اور دختر یعنی نفس امارہ بالسو ان اشیاء پر مجبول ہوا ہے کہ جو بارگاہ الہی سے دور کرنے والے ہیں لیکن اکثر اوقات پسر دختر سے اور دختر پسر سے وارث ہوتے ہیں چنانچہ قلب تو نفس کے افعال کو کرتا ہے اور نفس قلب کے افعال کرتا ہے چنانچہ اسی طرف رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا چنانچہ فرمایا کہ وہ یعنی نفس مجھ پر ایمان لے آیا ہے جاننا چاہیے کہ جو ارواح ابدان کے متعلق ہیں ان کا برزخ اور ہے اور ان ارواح کا برزخ اور ہے جو غیر بدن سے متعلق ہیں اور دوسرے کا کشف پہلے کے کشف سہل تر ہے کیونکہ برزخوں کا تفاوت مکاسب کے تفاوت سے ہے پس مکاسد کے تعدد سے برزخ بھی متعدد ہوں گے بخلاف ان ارواح کے برزخ کے جو بدن سے متعلق نہیں ہے کیونکہ ان کی نسبت برابر ہے ۔</p>
<h2>تینتیسواں مرحلہ</h2>
<h3> تعینات میں عالم مثال بھی ہے</h3>
<p>تعینات میں سے عالم مثال بھی ہے۔<br />
تعینات کیانیہ میں سے تعین ثانی حضرت مثال ہیے اور اصطلاح شرح میں اس کو برزخ کہتے ہیں اور وہ اشارہ حسیہ کو کسی حال میں سوائے نزول کے قبول نہیں کرتا ہے اور عالم مثال کو جو برزخ کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عالم اعلی یعنی عالم ارواح اور عالم اسفل یعنی عالم اشباح میں واسطہ ہے اور عالم مثال ایک عالم روحانی ہے جوہر نورانی سے کہ جو بعض اعراض کے قبول کرنے میں وہ جو ہر وہ جوہر جسمانی کے مشابہ ہے اور نورانی ہونے میں جوہر مجرد عقلی کے مشابہ ہے اور وہ ایک خیال ہے متصل بھی ہے اور منفصل بھی متصل تو وہ ہے کہ جو خواب قوی دماغیہ سے دکھائی دیتا ہے جیسے صورتیں اور شکلیں اور الوان اور روشنیاں کیونکہ کمیت اور کیفیت اور تمام اعراض عالم اسفل سے اکتساب کیے گئے ہیں اور مادہ کا ہونا اور تجردیہ عالم اعلی سے اکتساب کیا گیا ہے اور منفصل وہ ہے کہ اس کو خوابوں سے کچھ تعلق نہیں اور قوی دماغیہ کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے کیونکہ اس عالم میں ہر شے کی خواہ کوئی شے ہو ایک صورت ہے اور مثل افلاطونیہ سے یہی عالم مثال کی صورتیں مراد ہیں اور مشائین نے اس عالم کا انکار کیا ہے اور ارواح کا مجسم ہونا اور اجسام کا ذی روح ہونا اور اعمال اور اخلاق کا مشخص ہونا بھی اسی عالم میں ہے اور اسی عالم میں معانی تناسب کی صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں کہ وہ ان کی مناسب ہیں اور نبی ﷺکا جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام کو دحیہ کلبی کی صورت میں دیکھنا اسی عالم میں واقع ہوا ہے اور اسی طرح اولیاء کا خضر علیہم السلام کو دیکھنا بھی اسی عالم میں ہے اور صورتوں کا عالم میں منعکس ہونا اور ایک شخص کو بہت سی صورتوں لطیفہ وقبیحہ انسیہ و مہیبہ و عظیمہ و حقیرہ میں دیکھنا بھی اسی مقام میں ہے اور اسی طرح ایک پر ایک شے ظاہر ہونا اور دوسرے سے اس شے کا مخفی رہنا بھی اسی عالم میں ہے اور ابدال جو اپنے بدنوں سے علیحدہ ہو جاتے ہیں وہ بھی اسی عالم میں ہوتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ یہ عالم ارواح سے اجسام کی طرف رسول فیض کا واسطہ ہے اور بلاواسطہ فیض اس وجہ سے نہیں ہو سکتا کہ مجرد اپنی وساطت کی وجہ سے اور جسمانیت اپنی ترکیب کی وجہ سے متباین ہیں ۔</p>
<h2>چونتیسواں مرحلہ</h2>
<h3> عالم شہادت کی تفصیل</h3>
<p>عالم شہادت اور عالم شہادت کی تفصیل ۔<br />
تعینات کیانیہ میں سے عالم شہادت و اجسام وحس بھی ہیں کہ جو اشارہ حسیہ کو قبول کرتا ہے اور اس عالم میں بعض تو وہ ہیں کہ جو کون اور فساد کو قبول نہیں کرتے جیسے کہ عرش اور کرسی پس عرش مقعر جنت کی جہت ہے اور کرسی کا محدب جنت کا بچھونا ہے پس عرش و کرسی جنت کا احاطہ کیے ہوئے رہتے ہیں اور عرش و کرسی اہل کشف کے نزدیک طبعی ہیں عنصری نہیں ہیں اور اس عالم میں بعض وہ اشیاء ہیں کہ جو کون و فساد کو قبول کرتی ہیں جیسا کہ سات آسمان اور ثوابت اور سیارہ اور زمینیں اور کائنات جوّ کیونکہ یہ سب عنصری ہیں خواہ تو وہ بسیط ہوں جیسے عناصر ہیں اور رعد اور برق اور سحاب ہیں یا مرکب ہوں جیسے کہ معادن اورنباتات اور حیوان ہیں اور ہر ملک کا ایک ملکوت ہے کہ وہ اس کے روح ہے اور اس پر کسی کو سوائے بعض خواص کے اطلاع نہیں ہے اور اجسام انسان کامل کا بدن ہے کیونکہ وہ عالم صغیر ہے کہ جو شے ان عوالم میں ہے ہر ایک کی مثال اس میں ہے اور شرح اس کی ان اوراق میں نہیں آ سکتی بلکہ صوفیا نے کہا ہے کہ انسان بسبب اپنے مراتب وجوبیہ و امکانیہ پر صورۃ وحدانیہ میں شامل ہونے کے عالم کبیر ہے پس گویا کہ وہ بسبب اپنی امکانیت کے ایک اچھا خاصا جسم ہے اور بسبب اپنی وجوبیت کے ذی روح ہے پس انسان کامل ہو گیا جیسا کہ عالم قبل آدم کے پیدا کرنے کے جسد کامل تھا اور آدم علیہ السلام سے تمام ہو گیا اور یہ عالم یعنی عالم انسان سب مظاہر میں اتم ہیں کیونکہ جیش جوش ہے مراتب عالیہ اور حضرت متقدمہ میں اجمالا ادراک کے جاتے ہیں وہ یہاں تفصیلا ادراک کے جاتے ہیں پس معلوم ہوا کہ عالم اروا عالم معانی یعنی تعین ثانی سے ظہور کے اعتبار سے اتم ہے اور عالم مثال عالم ارواح سے ظہور کے اعتبار سے اتم ہے اور اجسام مثال سے ظہور کے اعتبار سے اتم ہے اور یہ تفصیل کیسے نہ ہوگی کیونکہ لا تعین کا تابع اجمال میں سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اسی طرح جس قدر تعین بڑھتا جائے گا اجمال کم ہوتا جائے گا پس اعلی اجمال میں اسفل سے زیادہ ہے اور اسفل تفصیل میں اعلی سے زیادہ ہے اور اسی طرح صاحب سلوک کے لیے مدارج صعود کے ہیں کیونکہ وہ کثرت چھوڑتا ہے اور وحدت خالصہ میں غائب ہوتا ہے پس مراتب عالیہ میں جس قدر ادراکات کے ملکات ہیں سب کو پوری طور سے حاصل کرتا ہے اور انسان کا حس ظاہری سے جو تعلق ہے یہ تعلق مراتب عالیہ کے ادراک سے مانع نہیں ہے پس انسان ایسی شے ہے کہ اس میں احکام کثرت کے تمام ہوتے ہیں اور وہ احکام کثرت کے جمع معنوی کے مقام میں قہر احادی کے سبب سے محوتھے پس بسط نے چاہا کہ مراتب ظہور موافق ان کے استعدادات کے ظاہر ہوں چنانچہ ایسا ہی ہوا حتی کہ انسان کامل بن گیا پس وہ مرتبہ جمع اور تفریق دونوں کو جامع ہے اور جو شے خزانہ وجود میں ہے اس کا احاطہ کرنے والا تاکہ وہ ایسے مجموعہ کو ادراک کرے کہ جو پارہ پارہ متفرق تھا پس انسان کامل حقائق الہیہ اور حقائق کیانیہ محیط ہے پس عالم کبیر تو اگرچہ وجود متفرق پر شامل اور حاوی ہے لیکن اس کے لیے کوئی اور شے وحدت ذات مثل انسان کامل کے نہیں ہے پس اس کی مثال احدیث حقیقہ میں اور جمعیت میں کہ جو اسم منترج ہے حضرت وجود کی سی ہے پس حق تعالی سبحانہ و تعالی اور انسان کا مل میں کوئی واسطہ نہیں ہے اور دلیل کے لیے تجھ کو لولاک لما خلقت الافلاک کافی ہے کیونکہ حضور ﷺباتفاق اہل کشف کے اکمل کاملین ہیں پس سبب عدالت کاملہ کے آپ ہی رب العالمین کے خلیفہ ہیں بخلاف اور انبیاء کے ان میں غالبیت اور مغلوبیت ہے ۔</p>
<h2>پینتیسواں مرحلہ</h2>
<h3>واجب اور ممکن معہ صفت مخصوصہ</h3>
<p>واجب اور ممکن معہ صفت مخصوصہ اور بیاں اس کا کہ ہر ایک واجب اور ممکن میں سے ایک دوسرے کے صفات کو بالعرض اکتساب کرتا ہے<br />
حقیقت واحدہ مطلقہ میں وجوب اور امکان برابر ہیں پس جب وجوب کے ساتھ ساتھ مقید ہو تو وہ رب اور الہ ہو جاتی ہے اور جب امکان کے ساتھ مقید ہو عبد اور مالوہ ہو جاتی ہے پس وہ دونوں یعنی واجب اور ممکن اپنے مرتبہ میں ایسی اوصاف ذاتیہ مخصوصہ کے ساتھ متصف ہیں کہ وہ اوصاف دوسرے کی طرف متعدی نہیں ہوتے اور نیز ایسے اوصاف عرضیہ کے ساتھ متصف ہیں کہ جو دوسرے سے اکتساب کیے گئے ہیں اور مناسب یہ ہے کہ دونوں کے محل میں ہر ایک وصف حقوق کی رعایت رکھی جائے پس واجب تو سب سے غنی ہے اور ممکن بالذات کل کی طرف فقیر و محتاج ہے یعنی ذات اور صفات ممکن کے محتاج اور فقیر ہے یہ یعنی احتیاج عبد ممکن میں سب مرتبوں میں بزرگ تر ہے کیونکہ مقام عبد کا عدم ہے اور اسی وجہ سے تو نے سنا ہوگا کہ اعیان نے وجود کی بو تک نہیں سونگھی پس اول ارتفاع ممکن کا یہ ہے کہ اس نے وجود علمی کو حضرت واجب سے حاصل کیا پھر ان اوصاف کے ساتھ رنگین ہو گیا کہ وہ عین میں اس کے تابع ہیں اسی واسطے نبی ﷺنے فرمایا ہے کہ کاش رب محمد محمد کو پیدا نہ کرتے کیونکہ امکان کی حیثیت سے مرکزہ اس کا عدم ہے پس ربوبیت تمام اوصاف عبودیت سے تنزہ کا نام ہے اور عبودیت تمام اوصاف ربوبیت سے متنزہ ہونے کو کہتے ہیں پس وہ عبد کہ جو اوصاف ربوبیت سے مقدس ہو وہ حقیقت مالوہ ہے اور اسی طرح رب جو اوصاف عبودیت سے مقدس ہے حقیقت الہ ہے اور عبد کے لیے کوئی مرتبہ عبودیت میں اس سے زیادہ اعلی نہیں ہے اور اسی واسطے جب ابو یزید قدس مرکز عبودیت میں نازل ہوئے ہیں تو فرمایا سبحانی ما اعظم شانی<br />
پھر جاننا چاہیے کہ ان دونوں صفت ذاتیہ یعنی افتقار اور غنی سے غیب مطلق عین مقید کے اوصاف تک نزول کرتا ہے پس یہاں دو سفر ہیں ایک سفر اطلاق سے تقید کی طرف اور دوسرا تقید سے اطلاق کی طرف اور ہر سفر ایک ایسے معنی کے لیے کیا جاتا ہے کہ وہ معنی اس سفر ہی سے حاصل ہوسکتے ہیں پس سفر غیب مطلق کا عین مقید تک تو احدیت مطلقہ میں جو صفات پوشیدہ ہیں ان کے اظہار کے لیے ہے پس یہ سفر سفر لیس کا ہے اور سفر عین مقید کا غیب مطلق تک صفات کے پوشیدہ کرنے کے لیے ہے بس اور وہ صفات وہ ہیں کہ جو منفعلہ متاثرہ حاضرہ ہیں اور ان صفات سے منفعل ہیں کہ جو ان میں موثر ہیں اور حقیقت واحدہ میں حاصل ہیں اور یہ پوشیدہ کرنا اس وجہ سے ہے تاکہ حق اور خلق کے تمام صفات کا احاطہ کامل ہو جائے اور وہ حق تعالی کا خلیفہ ہو جائے اور حضور کے قول خلق ادم علی صورتہ ( پیداکیااللہ نے آدم کو اپنی صورت پر)میں یہی مضمون مراد ہے بس یہ سفر سفر خلع یعنی اپنی صفات سے جدا ہونے کا ہے کیونکہ وہ دونوں یعنی واجب اور ممکن اپنی دونوں صفتوں ذاتی اولی یعنی غنی اور افتقار سے علیحدہ ہو گئے اور بالعرض اور دوسرے مرتبہ میں ہر ایک نے ایک دوسرے اوصاف کو اکتساب کیا ہے اور اس اکتساب میں غیب کو عین کے ساتھ اور عین کو غیب کے ساتھ ملانے کا ایک شائبہ ہے اور یہ غیب کو عین کے ساتھ ملانا اور عین کو غیب کے ساتھ اس واسطے ہیں تاکہ خلع اور لبس سے ان اعمال کی شرح ہو جائے جو غیب الغیب میں پوشیدہ ہیں پس معلوم ہوا کہ وحدت وجود میں اصل ہے اور کثرت جو دکھائی دیتی ہے یہ وہمی ہے یہ توہم ہوتا ہے کہ اعیان ثابتہ عالم وجود میں وجود کے ساتھ ظاہر ہوئی ہے اور حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اعیان تو ہمیشہ بطون کو مقتضی ہیں جیسے کہ وجود ساذج یعنی خالص بطون کو چاہتا ہے اعیان ثابتہ کے نہ صرف آثا اور احکام ظاہر ہوتے ہیں اور احکام اور آثار سے مراد اعیان ثابتہ کی صورتیں امکانیہ اور اعیان ثابتہ کے وہ لوازم مراد ہیں کہ جن کے سبب سے وجود حقائق وجوبیہ یعنی صفات اور اسماء فعلیہ کے ساتھ ظاہر ہوا ہے پس معلوم ہوا کہ وجود کا ظہور کسی تعین کے وجود کے ساتھ مشروط ہیں اور عالم ظاہر میں جو کمی ہے وہ باطن میں مندرج ہے اور جو عالم باطن میں کمی ہے وہ ظاہر میں مندرج ہے</p>
<h2>چھتیسواں مرحلہ</h2>
<h3>وجود پر اثر کے خفی معنی</h3>
<p>موجودہ بحیثیت وجود کے کسی اثر کو مقتضی نہیں پس اثر اسی معنی خفی کی وجہ سے ہے۔<br />
ممکن وہ شے ہے کہ جس کا وجود اور عدم برابر ہوں یعنی اپنی ذات سے نہ وجود کو چاہیے نہ عدم ورنہ واجب یا ممتنع ہو جاتا محققین نے کہا ہے کہ عدم سابق اور عدم لاحق اور ان دونوں کے درمیان میں وجود یہ تینوں کے مزاج اورباعث کے سبب سے ہیں کیونکہ ممکن عدم کے وقت بھی ایسے موثر کا محتاج ہے کہ جو اس کے عدم کو وجود پر ترجیح دے جیسے کہ وجود کا کوئی مرجح ہوتا ہے شیخ رئیس نے اشارات میں کہا ہے کہ اگر ممکن کی ذات کی طرف نظر کی جائے اور مرجح سے قطع نظر کر لی جائے تو اس پر حکم معدوم ہونے کا کیا جائے گا کیونکہ اس کا وجود اس میں کسی فاعل کی تاثیر کا محتاج ہے اور اس کا عدم بسبب عدم تاثیر کے ہے پس معلوم ہوا کہ ممکن کا وجود غیر سے خاص ہوتا ہے اور عدم غیر سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ عدم تو بسبب عدم تاثیر غیر کے ہے جو شے بالذات ہوتی ہے وہ اس شے سے اولی ہوتی ہے جو بالغیر ہو بعض محققین نے کہا ہے کہ یہ جو شیخ نے کہا ہے کہ جو شے بالذات ہوتی ہے وہ اس شے سے اولی ہوتی ہے جو بالغیر ہے معنی اس قول کے یہ ہے کہ اس کا عدم کسی شے کا مثل موجد اورایجاد وغیرہ کا محتاج نہیں بلکہ عدم کے لیے وجود کی علت کا عدم کافی ہے اوریہ معنی نہیں ہے کہ عدم اس کی ذات کے لیے اولی ہے کیونکہ اولیت ذاتیہ تو وہاں موجود ہی نہیں ہے اور شیخ نے اشارات میں یہ بھی لکھا ہے کہ عدم بھی کسی امر خارجی کے اعتبار کا محتاج ہے کچھ بھی نہیں تو یہ ہو ہی گا اسکو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ عدم ہی وجود نہیں ہے پس معلوم ہوا کہ ممکن کے لیے کسی قسم کی اولیت نہیں ہے اور علامہ شیرزی نے تصریح کی ہے کہ ممکن میں وجود اور عدم کے درمیان مساوات اس کے ذات کے اعتبار سے البتہ وجود کے مرجح ہونے کے لیے ایسی شے کی ضرورت ہے کہ جو وجود کوعدم پر ترجیح دے پس بقا کے وقت وجود کا رجحان عدم پر متحقق ہوگا اور اسی طرح وجود کی ترجح عدم پر متحقق ہوگا اور تاثیر کے معنی ترجیح ہی میں ختم ہو ہوئی کلام علامہ شیرازی کی پس معلوم ہوا کہ عدم اور وجود دونوں کے مرجح کے سبب ہیں ۔</p>
<h2>سینتیسواں مرحلہ</h2>
<h3>تعینات میں عالم مثال بھی ہے</h3>
<p>تعینات میں سے عالم مثال بھی ہے۔<br />
ا ثر کا ظاہر ہونا ایک ایسے معنی خفی کی وجہ سے ہے کہ وہ معنی وجود میں اعتبا کیے گئے ہیں کیونکہ وجود بحیثیت وجود کے بغیر اس کے کہ کوئی معنی اس میں اعتبار کیے جائیں اس کو کسی قسم کا اثر نہیں ہے پس وہ معنی خفی مراتبے ہوئے وجود میں سے ایک مرتبہ ہے جب پس جب کسی موجود کے موجدیت وجود کی طرفباعتبار علت یا شرط یا سبب وغیرہ کے مستند نہ ہو سکے تو وہ موجودیت مراتب وجود میں سے کسی مرتبہ کی طرف مستند ہوگی اور ان مراتب میں سے ایک مرتبہ الوہیت ہے پس اس الوہیت اور اس کی نسبتوں یعنی اسماء کی طرف آثار مستند ہوتے ہیں اور مراتب سب کے سب امور عقلی ہیں امور عینیہ نہیں ہیں پس معلوم ہوا کہ کے جب کسی اثر کا ظاہر ہونا کسی ظاہر کی طرف مضاف ہو تو وہ واقع میں باطن کی طرف مضاف ہے ظاہر کی طرف نسبت اسی وجہ سے کر دی گئی ہے کہ باطن کا ادراک مشکل ہے پس ہر صورت کے ایک معنی ہیں کہ وہ معنی اس صورت میں موثر ہے اور ہر صورت اس معنی کے مسخر ہیں بس معلوم ہوا کہ ہر عین کی صورت اپنے معنی کے مسخر اور اثر کا ثبوت اور تحقق واجب اور ممکن کے لیے اور اسی طرح نفی اس اثر کی دوسرے کی طرف مضاف نہیں ہوتی بلکہ واجب کے آثار ہمیشہ سے یا تو مثبت ہیں یا منفی ہیں اور اسی طرح ممکن کے آثار بھی ہمیشہ سے مثبت یا منفی ہیں کیونکہ واجب اور ممکن میں سے ہر ایک ایک دوسرے کا مرآۃ ہے کیونکہ ایک کے احکام دوسرے میں منعکس ہوتے ہیں اور شرح اس مقام کی یہ ہے کہ جو اسم یا صفت حق تعالی کی طرف منسوب ہے اس کو دیکھنا چاہیے کہ اس کے اضافت حق تعالی کی طرف جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو وہ ایسا امر ہوگا کہ واجب اس کو ہمیشہ سے بذاتہ مقتضی ہے لیکن اس کا حکم ممکن کے لیے اب تک ظاہر نہیں ہوا بعد میں ظاہر ہوتا ہے اور اگر اضافت حق تعالی کی طرف جائز نہ ہو تو وہ ایسا امر ہے کہ حق تعالی اس کو بذاتہ مقتضی نہیں ہے اور بعض ممکنات میں اس کے ہونے کو بعض ممکنات مقتضی ہیں لیکن ظہور اس کا حق تعالی سے ہی ہے بس اس تمام تر تقریر سے معلوم کہ ممکن کے لیے علم حادث ہوا ہے اور نفس ممکن اور مثل ممکن کے لیے اس علم کا ظہورحادث ہواہے اور خارج میں اس کے ثابت ہونے نے حق کے لیے یا ممکن کے لیے حکم حادث نہیں ہے بلکہ جو حق کے لیے ہے وہ ہمیشہ سے اس کے ہی لیے ہے صفات اور احکام اور نسبت اور مراتب کی معرفت جس وقت کے وہ ممکنات کے لیے ظاہر ہوں بسبب ممکنات کے حدوث کی حادث ہے اور ان صفات اور احکام اور نسب اور مراتب کا ثبوت اور انتفاء جس کے لیے یہ ثابت ہیں یا جس سے یہ منتفی ہیں حادث نہیں ہے کیونکہ یہ ثبوت اور انتفاء تو ازلی ہے ۔</p>
<h2>اڑتیسواں مرحلہ</h2>
<h3> وجود بطون کا مقتضی ہیں</h3>
<p>وجود ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی شان بطون ہے بس اس پر اور جو اس میں متضمن ہے اس پر کوئی مطلع نہیں ہو سکتا لیکن جب وہ مراتب تنزلات میں ہو اسوقت البتہ اطلاع ممکن ہے بس جو تنزل اس کے خواص اور احکام کو زیادہ شامل ہیں وہ اس کے انیت کے لئےزیادہ ظاہر ہوگا پس اس تقریر سے معلوم ہوا کہ عالم اجسام عالم مثال سے ظہور کے اعتبار سے اتم ہے عالم مثال عالم ارواح سے اتم ہے کیونکہ عالم اجمال بھی ہے اور تفصیل بھی اور اس کے مدرکات حواس ظاہرہ سے بھی مدرک ہیں اور حواس باطنہ سے بھی اور سب مدرکات اادراکات کے ملکات ہیں جو اپنے مراتب میں ہیں پس وحدت حقیقت کے احکام کثرت کے احکام پر غالب ہیں اور کثرت وحدت میں ہالک اور مضمحل ہے اور جب ظاہر متفرقہ میں وحدت ظاہر ہوتی ہے تو کثرت کے احکام سے مغلوب و مقہور ہو جاتی ہے پس حق سبحانہ کی ذات مقام وحدت میں وحدت سے مدرک ہوتی ہے اور مقام کثرت میں کثرت ہی سے مدرک ہوتی ہے اس کے بعد ذات نے ایک حرکت ارادی ایک مظہر کلی کی طرف کہ جو مقام وحدت و کثرت دونوں کو جامع ہو چنانچہ انسان کامل کی صورت میں ظہورہوا کیونکہ انسان کامل وحدت ذاتیہ اور کثرت اسمائیہ اور فعل اور انفعال اور تاثیر اور تاثر سب کو شامل ہیں پس ظہور انسان کامل میں بنسبت دونوں جز متقابل کے تام ہو گیا بس جو شے لا تعین میں باعث ظہور بطون ہے وہ اس تعین میں باعث ظہور ہے اور دونوں کے درمیان میں صرف رب اور مربوب کا فرق ہے ۔</p>
<h2>انتالیسواں مرحلہ</h2>
<h3>مظہر کی خصوصیات</h3>
<p>ہر مظہر کے اندر ایک خصوصیت کے باعتبار اس کے وہ مظہر احکام کو مقتضی ہے۔<br />
جاننا چاہیے کہ ہر مظہر کی خصوصیت کے لیے چند احکام کا اقتضا ہے کہ وہ اقتضا بالتفصیل اور بالفعل اسی مظہر میں ظاہر ہوتا ہے اگرچہ وہ اقتضاء بتدریج ہو اور باعتبار اجمال اور قوت کے ہرمظہر میں احکام ہر مظہر کے ہیں اور اس واسطے تو نے سنا ہوگا کہ صوفیاء کہتے ہیں کہ ہر شے ہر شے میں ہے بس تیرا اس طرف وہم نہ جائے کہ جامیعت انسان کامل کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ جامعیت تو باعتبار اس مقدمہ کے کہ ہر شے ہر شے میں ہے ہر ذرے کو ذرات میں سے شامل ہے کیونکہ ہر شے کی وجودیت ہر شے میں ہے کیونکہ حقیقت واحدہ اجمالا تمام موجودات میں ساری ہیں اور مظاہر کی خصوصیات احکام مفصلہ بالفعل کو مقتضی ہے پس جامعیت جو حضرت انسان کامل کے لیے ثابت ہے بالفعل جامعیت مفصلہ ہے پس وہ اجمال میں مثل تمام اکوان کی ہے اور تفصیل میں تمام اکوان کو جامع تراور شامل تر ہے پس کوئی شے اس کے شریک نہیں ہے<br />
جاننا چاہیے کہ صورۃ کاملہ الہیہ کو باعتبار ان تمام مظاہر کے ظاہر ہے اس کاظہور اس حیثیت میں کہ وہ صورت الہیہ صورۃ الہیہ ہے انسان کامل کے مظہر میں ہو سکتا ہے پس عالم کبیر کو جس کا موضوع اور ہیئت صوریہ اجتماعیہ ایک ہے مثل انسان کامل کے جو لفظ مجردہ اور قوی حساسہ اور بدن اسی سے مرکب نہیں کہا جا سکتا اور اس مقام کی تقریر کسی قدر پہلے بھی گزر چکی ہے ۔</p>
<h2>چالیسواں مرحلہ</h2>
<p>انسان تمام مظاہر کا جامع اور تمام مخلوق سے افضل</p>
<p>انسان تمام مظاہر کا جامع ہے اور تمام مخلوق سے افضل<br />
انسان کامل کی حقیقت میں ذات اور صفات اور ماہیات اور تعینات کا علم اجمالی پایا جاتا ہے علم تفصیلی کا اس میں نشان نہیں ہے اور یہی شان تعین اول کے ہیں اور یہ علوم اس میں تفصیلا بھی پائے جاتے ہیں کہ ان میں نشان اجمال کا نہیں اور یہی شان تعین ثانی کی ہے اور انسان کا مل کی حقیقت میں مرتبہ ارواح کا اور مرتبہ مثال کا اور مرتبہ شہادت کا بھی پایا جاتا ہے پس حقیقت انسان کامل میں جو مراتب خمسہ میں ہے معنی مخزونہ ہیں سب جمع ہیں اور ان کے سوا ایک اور معنی ہے اور وہ احدیت جمیعت حقیقیہ ہے پس انسان کامل کے حقیقت ہر اس شہر پر شامل ہے کہ جس پر صورۃ کاملہ الہیہ کے جو ان مراتب خمسہ کے اعتبار سے ظاہر ہے شامل ہیں پس عالم اگرچہ ان اشیاء کو شامل ہے کہ جو مظاہر خمسہ میں ہیں لیکن جمیعت کمالیہ کی صورت نہیں پس عالم اگرچہ اس اعتبار سے تو بڑا ہے کہ اس میں اصول کے فروع و بسط کیا گیا ہے لیکن اس اعتبار سے چھوٹا ہے کہ اس میں احدیت جمعیت حقیقہ کے یہ مفقود ہے پس اس کو عالم صغیر کہنا لائق ہے اور انسان عالم کو عالم کبیر کہنا لائق ہے پس دونوں جہاں میں انسان کے سوا کوئی شے مرتبہ میں بڑی نہیں ہے اور انسان ہی اللہ کا برحق خلیفہ ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> اللہ تعالی نے فرمایا ہے وفضلناہ علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا یعنی ہم نے انسان کو اکثر مخلوق پر فضیلت دی ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اکثر مخلوق سے افضل ہے کل سے افضل نہیں ہے<br />
جواب:۔ اکثر کبھی بمعنی میں کل کے بھی آتا ہے تفسیر مدارک والے نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے جو یہ فرمایا ہے اکثرھم کاذبون یعنی اکثر ان میں جھوٹے ہیں اس آیت میں مراد یہ ہے کہ سب جھوٹے ہیں اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے وما یتبع اکثرھم الا ظنا یعنی اکثر ان میں سے وہم ہی کا اتباع کرتے ہیں اس آیت کی تفسیر میں صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ اکثر سے مراد اس آیت میں جمع ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ مومن بندہ اللہ کے نزدیک ملائکہ سے افضل اور وجہ اس افضلیت کی یہ ہے کہ ملائکہ ہیں تو اطاعت ہی پر مجبور و مخلوق ہوئے پس ان میں عقل ہی شہوت نہیں ہے اور بہائم میں شہوت ہے عقل نہیں ہے اور آدمی میں دونوں چیزیں ہیں عقل بھی ہے شہوت بھی ہے بس جس کی عقل شہوت پر غالب آگئی وہ ملائکہ سے افضل ہے اور جس کے شہوت عقل پر غالب آگئی وہ بہائم سے بدتر ہے اور دوسری وجہ افضلیت کی یہ ہے کہ اللہ نے ہر شے کو انسان کے لیے پیدا کیا انسان کو اپنے لیے پیدا کیا ہے ایسا ہی مدارک میں لیکن بعض محققین نے ذکر کیا ہے کہ ملا اعلی کے مقربین اس حکم سے مستثنی ہیں وہ ان انسانوں سے افضل ہیں جو ملاء اعلی کے مقربین کے سوا ہیں اور شیخ صدر ملت قدس سرہ کے تبصرہ میں ہے کہ شیخ اکبر نے فتح مکیہ میں لکھا ہے کہ میں نے نبی ﷺسے خواب میں پوچھا کہ لوگ بشر پر ملائکہ کو فضیلت دینے میں اختلاف کرتے ہیں اور اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ خواص بشر خواص ملائکہ سے افضل ہیں اور خواص ملائکہ عوام بشر سے افضل ہیں اور عوام بشر عوام ملائکہ سے افضل ہیں یا رسول اللہ آپ کے نزدیک حق کیا ہے حضور نے فرمایا کہ ملائکہ بشر سے افضل ہیں میں نے عرض کیا کہ اگر مجھ سے اس پر کوئی طلب کرے تو میں کیا کہوں گا پس حضور نے اشارہ فرمایا کہ تم تو جانتے ہی ہو کہ میں افضل البشر ہوں اور تمہارے نزدیک یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ میں نے حق تعالی کی طرف سے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جو شخص مجھ کو اپنے جی میں یاد کرے میں بھی اس کو اپنے جی بندوں کو یاد کیا ہوگا کہ وہ جماعت بہتر ہے اس جماعت سے کہ جس میں میں ہوں اور یہ ثابت ہو چکا کہ میں افضل البشر ہوں بس ثابت ہوا کہ ملائکہ بشر سے افضل ہیں بس جس قدر میں اس مسئلہ سے خوش ہوا اس قدر کسی شے سے خوش نہیں ہوا ختم ہوئی کلام شیخ کی<br />
جان تو خدا تعالی تجھ کو اس خدشہ کی بصیرت دے کہ جو کچھ اس تقریر میں ہے کہ مقصود یہ ہے کہ افراد ملائکہ افراد انسان سے افضل ہیں اور دلیل اس کے اثبات کے لئے بیان کی گئی ہے حالانکہ یہ مدعا اس دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس دلیل سے زیادہ سے زیادہ یہ لازم آتا ہے کہ جماعت ملائکہ جماعت انسان سے افضل ہے افراد کا افراد پر افضل ہونا نہیں نکلتا کیونکہ جائز ہے کہ جس جماعت میں نبی کریم ﷺنے اس کے لیے بیس حصہ ثواب اور جو جماعت اللہ کی بارگاہ میں ہے اس کے لیے پچیس حصہ ثواب ہو کیوں نہیں جائز ہے کہ دس حصہ ثواب تو نبی کریم ﷺکے لیے ایا اور باقی دس حصہ ثواب اس محفل کے باقی لوگوں کے لیے ہو اور جو جماعت ان سے بہتر ہے یعنی جماعت ملائکہ کی ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک حصہ ثواب ہو پس جماعت کی فضیلت جماعت پر مسلم ہے لیکن اس سے مقصود تام نہیں ہوتا بلکہ اس میں کوئی مقدمہ اس دلیل میں ایسا زیادہ ہونا چاہیے کہ جس سے معلوم ہو کہ ملاء اعلی کا ہر فرد اس جماعت کے ہر فرد سے افضل ہے کہ جس میں نبی کریم ﷺہیں تاکہ ملا اعلی کے ہر فرد کی افضلیت ذات نبی ﷺپر ثابت ہو اور پھر اس سے افراد ملائکہ کا افضل تمام افراد بشر پر لازم آئے<br />
اور جاننا چاہیے کہ تمام اہل سنت اس پر متفق ہیں کہ محمد ﷺتمام مخلوقات سے افضل ہیں پھر اہل بدعت و اہل ہوا کا ظہور ہوا انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور اس مقام میں افضلیت سے مراد اللہ کے نزدیک ثواب میں زیادتی ہے مادہ کی افضلیت مراد نہیں ہے کہ بعض کا مادہ وہ نور ہے اور بعض کا نار ہے بعض کے مٹی ہے اور ثواب کی زیادتی عمل کی جزا ہے اور محل جزا جنت ہے اور ملائکہ کو جنت میں عمل کے جزا میں ثواب ملنا محل اختلاف ہے حتی کہعلماء نے کہا ہےکہ اہل جنت جو ثواب دئے جائیں گے یا تو انسان ہوں گے یا جن ہوں گے ملائکہ نہ ہونگے یہی یدو قسم ہوں گے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ افضلیت سے مراد شرافت ذاتیہ اور مبدہا سے زیادت مناسبت ہے تو البتہ ہو سکتا ہے اور افضلیت سے مراد ایسے معنی لیے جائیں کہ جو ہر دو اطلاق سے عام ہوں یعنی خواہ اکثریہ ثواب ہوں خواہ اکثریہ ثواب مبدا کے ساتھ ہوں<br />
جاننا چاہیے کہ تمام اشاعرہ کا اس پر اجماع ہے کہ خواص بشر یعنی انبیاء ملائکہ سے مطلقا افضل ہیںخواہ ملائکہ علویہ ہوں یا سفلیہ قاضی ابوبکر باقلانی اورابو عبد اللہ ہ حلیمی اور استاد ابو اسحاق اسفرائینی اور ابو عبداللہ حاکم اور تمام حکماء اسلامین تمام معتزلہ اس طرف گئے ہیں کہ ملائکہ علویہ انبیاء پر افضل ہیں قاضی عز الدین سے شرح موقف میں کہا ہے کہاکثر اہل مذاہب انبیاء ملائکہ پر مطلقا افضل کہتے ہیں امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرمایا کہ اس پر اجماع ہو گیا محمد ﷺتمام ملائکہ سے افضل ہیں اور خلاف اور نزاع اور انبیاء میں ہیں<br />
جاننا چاہیے کہ انسانی کامل وہ شخص کہلاتا ہے کہ تمام مراتب الہیہ کونیہ کو جسے کے عقول اور نفوس ہیں خواہ کلیہ ہوں یا جزئیہ سب کو اور مراتب طبیعہ کو آخرتنزلات وجود تک جامع ہو اور اس مرتبہ کو مرتبہ عمائیہ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ مرتبہ کونیہ مرتبہ الہیہ یعنی تعین ثانی یعنی وحدیت کے متشابہ ہے اس کو عمائیہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مرتبہ وحدت اور کثرت کے مابین برزخ اور حائل ہے اور اس مرتبہ میں حق نے باعتبار علم کے صفات خلق کے ساتھ ظہور کیا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ حضرت و جوب سے جو مرتبہ خاص حق کا ہے تنزل ہوتا ہے پس اس وقت اللہ تعالی کی طرف دو اشیاء مضاف کی جاتی ہیں کہ جو خلق کی طرف مضاف ہوتی ہیں جیسے تعجب اورضحک وغیرہانقائص اس کی طرف حال میں اور کسی صورت سے بھی مضاف نہ کی جائے گی اسی طرح یہ مرتبہ یعنی انسان کامل مرتبہ عمائیہ ہے کیونکہ وہ حق اور عالم کے درمیان پرزخ ہے اور اس مرتبہ میں حق سبحانہ و تعالی واقع میں صفات خلق کے ساتھ متصف ہے لیکن فرق اتنا ہے کہ پہلےعمائیت مرتبہ ربوبیت کا ہے اور دوسرے عمائیت مرتبہ مربوبیت کا ہے۔</p>
<h2>اکتالیسواں مرحلہ</h2>
<h3> صفات باری تعالی میں حکماء کا اختلاف</h3>
<p>جاننا چاہیے کہ تمام اہل مذہب نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ اللہ تعالی کے لیے صفات ثبوتیہ ہیں بعض صفات تو ایسی ہیں کہ ان پر باری تعالی کے افعال موقوف نہیں ہیں اور حکماء نے صفات کی نفی کی ہے اور حکماء صفات کے بارے میں دو قسم پر منقسم ہیں ایک فرقہ تو قدماء فلاسفہ کا ہے کہ جو قابل شمار بھی نہیں وہ تو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کو عالم کے موجود بہ ہونے میں کچھ اور خبر نہیں بس وجود اور لوازم وجود کا عطا کرنا یہ اس کا لازم ذاتی ہے جیسا کہ روشنی آفتاب کو لازم ہے کیونکہ اس کو بھی کچھ شعور اور علم اس روشنی کا نہیں اورنہ وہ روشنی سے منفک ہو سکتی ہے اور وہ اس سے آگاہ نہ ہوئے کہ اس سے جہل لازم آتا ہے رب تعالی اس سے بہت برتر ہیں اور ایک گروہ نے ان کی طرف سے یہ عذر کیا ہے کہ انہوں نے اس علم کی نفی کی ہے جو اس کے ذات میں تکثر کو مستلزم ہو اور بعض نے اس نفی علم پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اگر باری تعالی کسی شے کا علم ہونا تو تو اپنی ذات کو ضرور علم ہوتا اور اس کا بھی علم ہوتا کہ تجھ کو علم ہے اور علم اس نسبت کو کہتے ہیں جو دو شے کے درمیان میں متصور ہو اور علم باری تعالی میں تعدد کسی طرح بھی نہیں ہے اور جواب اس کا یہ ہے کہ علم نسبت نہیں ہے بلکہ صفت ذات نسبت ہے اور درستی اس نسبت کے لیے ثابت ہوں تاکہ جو عالم اور معلوم کے درمیان ہے اور اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ علم نسبت ہی ہے تو تغائر اعتباری طرفین میں کافی ہے اس جواب پر ایک اعتراض واقع ہوتا ہے وہ یہ کہ اس تقدیر پہ لازم آتا ہے کہ باری تعالی ان دونوں اعتباروں کے عالم نہ ہوں کیونکہ یہ دونوں اعتبار علم پر مقدم ہیں اور متاخرین کے ایک گروہ اور اکثر قدماء نے کہا ہے کہ صفت صفات زائدہ ازذات میں سے مخلوق پر مرتب ہوتی ہے وہ ہی صفت ذات باری تعالی پر بغیر اعتبار کسی صفت کے مرتب ہوتی ہے بس حق تعالی کی ذات باعتبار ظاہر ہونے حیات اور علم اورقدرت ، ارادہ اور سمع اور بصر اور تکلم کے حی علیم قدیر مرید سمیع بصیر متکلم ہے پس ذات واحد کو باعتبار تعلقات مختلفہ کے حی علیم وغیرہ کہتے ہیں اور نہ کوئی صفت وغیرہ تھییں اور تجھ کو یہ وہم نہ ہو کہ انبیاء علیہم السلام کا مذاق اس کے خلاف کی شہادت دیتا ہے کیونکہ صفات کو ثابت کرتے ہیں نفی نہیں کرتے ۔</p>
<h2>بیالیسواں مرحلہ</h2>
<h3> صفات کے بارے میں تحقیق زائد</h3>
<p>صفات باری تعالی کے باب میں علماء بہت اضطراب میں واقع ہوئے ہیں پس تو خوب سن تاکہ کچھ تحقیقات اس باب میں ہم بیان کر دیں تاکہ بصیرت حاصل ہو جائے پس جاننا چاہیے کہ اس میں تو کچھ شبہ نہیں ہے کہ ذات کا مفہوم مفہوم صفات کے مغائر ہے پس جو صفات کا باری تعالی سے غیر ہونے کا قائل ہے اس نے مفہوم کا اعتبار کیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ مفہوم صفات اور مفہوم ذات میں سے ایک دوسرے سے منفک نہیں اور اس واسطے متکلمین دونوں اعتباروں کی طرف نظر کر کے کہتے ہیں کہ صفات نہ عین ذات ہیں نہ غیر ذات بس ذات اور صفت زائدہ کو حقیقت ثابت کرتے ہیں جیسا کہ وہ قوی جو ہمارے اندر قائم ہے قوت نحاویہ عاذیہ جو مادہ غذا ہے تصرف کرتی ہے یعنی غذا کھانے والے کے اجزاء کے مشابہ بدل متحلل بناتی ہے اور دوسری قوت نامیہ یعنی وہ قوت جو اجزا پر زیادتی کو بقدر مناسب تمام اطراف میں واجب کرتی ہے کمل مقدر تک پہنچ جاتا ہے اور تیسری قوت تولدہ یعنی وہ قوت جو مادہ کے فضلہ کو اس سے متعد کر دے تاکہ وہ علت بقاء ونسل کے لیے جوہر بن جائے اور چوتھی قوت جاذبہ جو غذا کی مدد کے لیے ہے اور پانچویں قوت ہاضمہ جو غذا میں تصرف کرتی ہے اور چھٹی قوت ماسکہ یعنی وہ قوت جو غذا کو تاثیر کے تمام ہونے تک حفاظت کرتی ہے اور ساتویں قوت جو ثقل کو دفع کرتی ہے اور یہ قوت دافعہ غاذیہ کی خادم ہے وہ قوت نامیہ کے خادم ہے اور نامیہ مولدہ کی خادم ہے بس مولدہ تمام قوی کی مخدوم ہے یہ مذہب بعض صفات میں سوا ابو الحسن اشعری کے تمام اشاعرہ کا ہے اور ابو حامد غزالی اور تمام اہل کشف تمام صفات کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ صفات عین ذات ہیں یعسوب موحدین امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا اللہ تعالی کے لیے کمال اخلاص بھی ہے اور ایک روایت میں کمال توحید کے لفظ آتا ہے صفات کو کہ باری تعالے سے نفی کیا جائے یعنی بحیثیت وجود کے تمام صفات انسان ہیں صفات موجودات متغائرہ ازذات نہیں ہے جیسے کہ ہماری صفات اور ہمارے قوی بحیثیت وجود اور مفہوم کے حقیقت متغائر ہیں بلکہ ہمارے صفات ذات واجب الوجود کے لیے حالات انتزاعی ہیں کسی صفت کا وجود وجود علیحدہ متغائر ذات کے نہیں ہے بلکہ وجود ذات کے لیے موجودات ہیں صفات بحیثیت وجود کے عین ذات ہے اور وہ باعتبار مفہوم کے مغائر ذات ہیں اور اسی طرح آپس میں بھی ایک دوسرے کے مغائر ہیں شیخ نے فتوحات میں کہا ہے کہ باری تعالی کا حی ،عالم ،قادر ہونا اسی طرح تمام صفات باری تعالی کہ نسب اور اضافات ہے اشیائے مستقل زائد ازذات نہیں ہیں کیونکہ اگر زائد ہوں تو یہ لازم آتا ہے کہ ذات نقص کے ساتھ موصوف ہو کیونکہ جو شے کسی زائد شے سے کمال حاصل کرتی ہے وہ اپنی ذات سے اس کمال سے ناقص ہوتی ہے حالانکہ اللہ تعالی اپنی ذات سے کامل ہیں پس زائد از ذات بزیادت حقیقت محال ہے اور زائد بالاعتبار وبالاضافت محال نہیں ہے اور صفات کے بارے میں بعض کا جو یہ قول ہے کہ صفات نہ ذات ہیں اور نہ صفات ذات کے غیر ہیں تو یہ کلام نہایت بعید ہے کیونکہ یہ کلام زائد کا اثبات کر رہی ہے اور زائد حقیقتاً بلاشک غیر ہے مگر اس پر صرف غیر کے اطلاق کرنے کا اس قابل نے انکار کیا ہے اس کے بعد غیر کی تعریف میں تحکم کہا ہےچنانچہ غیر کی تعریف اس طور سے کی ہے کہ غیریت میں وہ دو شے ہیں کہ ایک کی مفارقت دوسرے سے نہ باعتبار زمانہ کے اور نہ باعتبار مکان کے اورنہ باعتبار وجود کے اور نہ باعتبار عدم ہو سکے بس اس معنی کے صفات سے غیریت کی نفی کی ہے اور تمام علماء کے نزدیک یہ تعریف غیر پن کی نہیں ختم ہوئی کلام کی قائل کی اور بعض علماء نے کہا ہے کہ غیریت ایک شے کے دوسرے شے سے اسی طرح ممتاز ہونے کو کہتے ہیں کہ ان کو دو کہا جا سکے شرح مواقف میں کہا ہے اللہ تعالی کے صفات اضافات ہیں اور اضافہ جیسا کہ نسبت متکررہ کو کہتے ہیں اسی طرح اس نسبت متکررہ کے معروض کو بھی کہتے ہیں اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حق تعالی کے لیے کوئی صفت زائد از ذات نہیں کیونکہ اگر صفت زائد از ذات مانی جائے تو یا تو وجود باری تعالی کا اس صفت سے متقوم ہوگا حتی کہ اگر اس صفت کا عدم فرض کیا جائے تو اس کو وجود باطل ہو جائے تو اس صورت میں تو باری تعالی اجزاء سے مرکب ہونگے ذات بغیر ان اجزاء کے تمام نہ ہو گی اور ہر مرکب معلول ہوتا ہے اور اگر اس صفت کا عدم فرض کرنے سے اس کا عدم نہ لازم آئے تو وہ صفت اس میں عرضی ہوگی جیسے کہ انسان میں علم ہوتا ہے اور یہ محال ہے کیونکہ ہر عرض معلول ہوتی ہے اور ہر دو پر اگر علت اس معلول کی ذات واجب ہوگی یہ لازم آتا ہے کہ ذات فاعل بھی ہو اور قابل بھی ہو اور اس کا فاعل ہونا قابل ہونے کے غیر ہوگا کیونکہ وہ بحیثیت فعل کے قابل نہ ہو نگے اور بحیثیت قبول کے فاعل نہ ہونگے پس اس صورت میں ذات مرکب ہوگی کہ اس میں ایک سے کثرت ہوگی اور پہلے معلوم ہو چکا ہے کہ ذات واجب میں کثرت ہر طرح سے محال ہے کیونکہ اللہ سبحانہ ہر طرح سے واحد ہے اور اگر وہ علت غیر واجب ہے تو اس کا بطلان تو بدیہی ہے ۔</p>
<h2>تینتالیسواں مرحلہ</h2>
<h3> اللہ تعالی کا علم عین ذات ہے یا غیر ذات</h3>
<p>بعض علماء نے علم یا تو عین ذات ہے یا خارج از ذات ہے خارج ہونے کی صورت میں یا تو علم اپنی ذات سے قائم ہے اور یا ذات باری تعالی کے ساتھ قائم ہے اور یا کسی اور شے کے ساتھ قائم ہے اور اس مسئلہ کے اشکال کی وجہ سے ہر احتمال ایک جماعت کا مسلک ہے چنانچہ افلاطون نے کہا کہ اللہ تعالی کا علم ایک صورت ہے جو اپنی ذات سے قائم ہے بس اس تقدیر پر اللہ تعالی کے عالم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالی کو اس صورت سے ایک نسبت اور تعلق ہے اور صورت سے مراد وہ امر مجرد ہے کہ جو مشاہدہ کا آلہ ہو اور اپنی ذات سے قائم ہو جیسے کہ آئینہ اپنی ذات سے قائم ہوتا ہے اور مشاہدہ کا آلہ ہوتا ہے پس جو امر اس سے مشاہدہ کیا جاتا ہے وہ ذات کے اعتبار سے تو اس صورت کے ساتھ متحد ہوتا ہے اور اعتباراً دوبارہ وہ غائب ہوتا ہے اور صورۃ کا اپنی ذات کے ساتھ قائم ہونا اس کے عرض ہونے کے منافی نہیں ہے یا یہ کہ اپنی ذات سے ایک عالم میں قائم ہو اور غیر کے ساتھ دوسرے عالم میں قائم ہو جیسا کہ انسان اپنی ذات سے خارج میں قائم ہے اور غیر کے ساتھ ذہن میں اور جیسے کہ افعال دنیا ہے اعراض ہیں اور دوسرے عالم میں یہ جواہر ہے مثلا وزن میں اور جنت میں اور اسی طرح معدومات ممکنہ کی صورتیں بلکہ ممتنعات کی صورتوں کا اپنی ذات سے عالم انوار میں قائم ہونا جائز ہے اگرچہ خارج میں نہ پائے جائیں بلکہ یہاں تک جائز ہے کہ خارج اور ذہن دونوں میں کوئی شے نہ پائی جائے اور عالم انوار میں وہ شے اپنی ذات سے پائی جائے جیسے کہ معدوم مطلق کا عالم انوار میں ثابت ہونا جائز ہے اور خارج اور ذہن میں جو اس سے آثار مطلوب ہیں جائز ہے کہ وہ مرتب نہ ہو اور اسی مذہب کے مؤید وہ ہے جو کہا گیا کہ شیئۃ کی دو قسمیں ہیں شیئۃ الثبوت اور شیئۃ الوجود شیئۃ الوجودیہ تو ظاہر ہونا ہے نہ کسی امر کا ہے اور وجود عینی میں خوا کسی عالم میں ہو عالموں میں سے اور شیئۃ ثبوتیہ ثابت ہونا کسی امر کا علم میں نہ ہے خارج میں اور معتزلہ بھی شیئۃ ثبوتیہ کے قائل ہیں مگر اتنا فرق ہے ثبوت معتزلہ مذہب پر مبنی ہے اور اس تقریر کے موافق علمی ہے اور معدومات کی تمیز مطلقا معتزلہ کے نزدیک خارج میں ہے اور افلاطون کے نزدیک موجودہت خارجیہ کی تمیز عالم انوار میں ہے پس افلاطون کا مذہب اعیان ثابتہ کے قائل ہونے کے قریب ہے جو مسلک صوفیا کا ہے اور اس کے اثبات کا طریق مشاہدہ ہے اور یہ بات ریاضات شاقہ اور ایسے ہیں جن مجاہدات کاملہ کے کہ ان کے سبب سے مزاج بہت کم باقی رہتا ہے حاصل ہوتا ہے ۔</p>
<h2>چوالیسواں مرحلہ</h2>
<h3>علم باری تعالی میں فلاسفہ کے مذاہب</h3>
<p>جمہور فلاسفہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالی کا علم عین ذات ہے اور محل نزاع علم بمعنی دانش ہے نہ بمعنی دانستن پس علم ایک نور ہے کہ اشیاء اس سے متکشف ہوتی ہیں اور بعض اشیاء بعض سے متمیز ہوتی ہیں پس اللہ تعالی کی ذات نور الانوار ہے اس کی ذات اپنی ذات سے مراتب ظہور میں نہایت جلی تر ہے اور خفا اور غیبت کو اس کی طرف بالکل راہ نہیں ہے پس اس کی ذات ہی عالم ہے اور معلوم ہے اور علم ہے اور اس میں نہ بالذات تکثر ہے اور نہ بالاعتبار شفا میں ہے کہ واجب الوجود عقل محض ہے اس کی ذات ہی عقل بھی ہے اور معقول بھی اور عاقل بھی ہے اور اس کے یہ معنی نہیں کہ وہاں اشیاء متکثرہ ہیں کیونکہ باری تعالی بحیثیت ذات کے مجرد ہے اورعاقل بالذات ہےاور اس اعتبار سے کہ اس کی ہویت مجردہ لذاتہ ہے تو وہ معقول بالذات ہے اور اس اعتبار سے کہ اس کی ذات کے لیے ہویت مجردہ ہے عاقل ہے حتی کہ آخر میں کہا کہ صرف اس کا عقل اور معقول ہونا اس کی ذات میں دو ہونے کو مستلزم نہیں اور نہ اعتبار میں دو ہونا مستلزم ہے بس یہ دو دونوں امر اس کو حاصل نہیں کیونکہ یہ اعتبار کیا گیا ہے کہ ماہیت اس کے لذاتہ مجرد ہے اور نیز اس کے ہیت لیے ذات مجرد ہے اور اس مقام پر ترتیب تقریر میںاور تقریر میں تقدیم و تام ہو گئی ہے لیکن اصل مقصود ایک ہی شے ہے ختم ہوئی کلام شیخ کی<br />
جو عبارات ذکر کیے گئے ہیں یہ اس کے ذات کی عقل اور عقل اور معقول ہونے کی محض تصویر و تفہیم ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ اعتبارات واسطہ فی الثبوت ہے یعنی ترتیب کے بارے میں جو اعتبارات ذکر کیے ہیں یہ اس کے عاقل اور معقول اور عقل ہونے کی تفہیم و تصویر ہے یہ نہیں کہ یہ اعتبارات واسطہ فی الثبوت ہیں پس اعتبار معتبر پر موقوف اور کسبی علم کو تجرد اور عدم غیبت سے تعبیر کرتے ہیں تو اس تعبیر سے یہ وہم ہوتا ہے کہ علم امر عدمی ہے اور کبھی علم کو حضور اور حصول سے بھی تعبیر کرتے ہیں اس سے وہم ہوتا ہے کہ علم اضافت ہے اور کبھی ارتسام اور تمثیل سے تعبیر کرتے ہیں اس سے وہم ہوتا ہے کہ علم انفعال ہے اور کبھی صورۃ حاصلہ سے تعبیر کرتے ہیں اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ علم صفت ذات کی ہے اور اضافت ہے بس یہ تمام تعریفیں اعتبارکے ساتھ ہیں اور باعتبار مقامات مناسبہ کے بغیر ثابت ہیں پس اللہ تعالی کا علم ایسا نور ہے کہ سلسلہ مبدیت میں ہے خواہ کلی ہو یا جزئی اور اس میں ظاہراور متجلی ہے پس اللہ تعالی کے علم بسیط ہے جو تمام اشیاء کو مشتمل ہے جیسا کہ علم بسیط ہوتا ہے کہ جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جائے کہ وہ یہ علم تفصیلا سامنے آ جاتا ہے اور وہ علم اس ملکہ کے سوا ہے کہ جس کے سبب سے جواب پر قادر ہے کیونکہ وہ ملکہ تو سوال سے پہلے بھی حاصل ہے اور یہ حالت بسیط جو سوال کے وقت آتی ہے نہ اس میں ترکیب ہے اور نہ تعدد ہے اور اس تفصیل کا مبدا ہے جو اس کے بعد واقع ہوتی ہے اس قدر تقریر علم کے متعلق طاقت بشریہ کے موافق ہے اور یہ کنہ علم پر اطلاق کا تو کوئی طریق ہی نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کی کنہ ذات کے جاننے پر موقوف ہے اور اس کا بالکل کوئی طریق نہیں اور ابن سینا اور شیخ مقتول نے جو کہا ہے کہ اللہ تعالی علم پر ایسے مشتمل ہے جیسے گٹھلی درخت پر تو اس عبارت کے بھی معنی یہی ہیں اور اسی طرف بہناء نےتحصیل میں اشارہ کیا ہے کیونکہ اس نے کہا کہ اللہ تعالی کا علم ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس سے موجودات کی تفصیل صادر ہوتی ہے جیسا کہ عقول سے بسیط ہمارے نزدیک تفصیل معقولات کےلیکن معقول بسیط ہمارے نزدیک ہمارے عقول میں موجود ہے اور اللہ تعالی نے اعتبار سے معقول اس کا نفس وجود اور بسیط کے معنی یہ ہیں کہ جیسے کہ تیرے درمیان اور اس شخص کے درمیان جو تجھ سے مناظرہ کرے تیرے قلب میں جواب منعکس ہوتا ہے چنانچہ جب مقابل اپنا کلام کرتا ہے تو تیرے قلب میں اس کا جواب آتا ہے اور پھر اس کی تفصیل تھوڑی تھوڑی آ جاتی ہے ختم ہوئی کلام اور فارابی نے کہا کہ واجب الوجود مبدہ فیض کا ہے اور یہ ظاہر ہے پس تمام اشیاء واجب الوجود کے لیے اس حقیقت سے کہ ان میں کثرت نہیں ثابت ہیں پس ذات بحیثیت ذات کے ظاہر ہے پس واجب الوجود کو تمام اشیاء کا علم بعد ذات کے ہیں اور خود اس کو اپنی ذات کا علم نفس ذات اور نام اشیاء کے ساتھ اس کے علم کی کثرت بعد ذات کی ہے اعتبار ذات واجب الوجود کے تمام متحد ہیں پھر چونکہ یہ علم اسباب اور مسببات کے علم کا بحیثیت سبب اور مسببیت کے ہے یہ علم حواس علم بسیط پر مرتب ہے علم فعلی ہوگا اس لیے کہ تمام موجودات جو سلسلہ میں واقع ہیں ایسے طریق پر ہیں کہ جس طرح عنایت ازلی کا مقتضی ہے بس اللہ تعالی کے علم سلسلہ مبتدعیت میں علم حضور پس معلومات کا علم مع ان صفات اور اعتبار کے جو مرتبہ میں اس پر مشتمل ہیں علم تفصیلی حضوری ہے جو اس علم بسیط کا حصہ ہے اور ان مراتب میں سوائے اضافات کوئی شے متجدد نہیں ہوئی اور اضافات کا تعدد اس کی وحدانیت میں مخل نہیں ہے ۔</p>
<h2>پینتالیسواں مرحلہ</h2>
<h3>علم تفصیلی کے مراتب اور تحقیق کے علم باری حضوری و حصولی ہے</h3>
<p>جاننا چاہیے کہ علم تفصیلی کے مراتب چار ہیں اول وہ کہ جو شریعت میں قلم اور نور اور عقل سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے اول قلم پیدا کیا ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے میرے نور کو پیدا کیا اور ایک حدیث میں کہ اول اللہ تعالی نے عقل کو پیدا کیا اور اصطلاح صوفیا میں عقل کل سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اصطلاح حکماء میں اسی کو عقل اول سے تعبیر کرتی ہے پس قلم جو اول مخلوقات ہے اپنی ذات سے معہ اپنی اس شے کے جو اس میں پوشیدہ ہے اللہ تعالی کے نزدیک حاضر ہے پس وہ قلم باعتبار اس علم اجمالی کے جو اس کی عین ذات ہے علم تفصیلی ہے اور باعتبار اس شے کے جو مراتب میں ہے بسیط ہے اور دوسرا مرتبہ علم تفصیلی کا وہ ہے کہ جس کو شریعت میں لوح محفوظ سے تعبیر کرتے ہیں اور اصطلاح صوفیا میں نفس کلی کہتے ہیں اور اصطلاح حکماء میں نفوس کلیہ مجردہ سے تعبیر کرتے ہیں پس شریعت میں اور اصطلاح صوفیہ میں لوح محفوظ اپنی ذات سے معہ ان کی صورتوں کے جو اس میں نقش پذیر ہوتی ہیں اللہ تعالی نزدیک حاضر ہیں پس وہ یہ نسبت ان دو مرتبہ کے جو اس کے اوپر ہے علم تفصیلی ہے اور تیسرا مرتبہ علم تفصیلی کا کتاب محو اور اثبات ہیں اور وہ قوت جسمانیہ ہے کہ اسمیں جزئیات مادیہ کی صورتیں نقش پذیر ہوتی ہیں اور وہ قوت اجسام علویہ اور سفلیہ میں نقش پذیر ہے پس یہ قوی معہ ان کے نقوش کے اللہ تعالی کے نزدیک اپنی ذات سے مرتبہ ایجاد میں حاضر ہیں پس اس تقریر سے تو نے جان لیا کہ یہ تفاصیل امور کی کلیہ ہوں یا جزئیہ صور ادراکیہ ہوں یا عینیہ اپنی ذوات اور لوازم اور اعتبارات سے مرتبہ ایجاد میں اللہ تعالی کے نزدیک حاضر ہیں پس یہ تفاصیل ایک اعتبار سے علوم ہیں اور ایک اعتبار سے معلومات ہیں کیونکہ ان تفاصیل کا وجود اپنی ذات میں ان کا وجود اللہ تعالی کے لیے ہے جیسے کہ کہتے ہیں کہ وہ وجود عرض کا فی نفسہ وہ وجود اس کا ہے جو محل کے لیے ہے مگر فرق اتنا ہے کہ عرض کا وجود محل کے لیے قبول کے ساتھ ہے اور ان تفاصیل کاوجود اللہ تعالی کے لیے باعتبار فعل کے ہے اور یہ معنی ہیں اس قول مشائین کے کہ اللہ تعالی کو اپنی ذات کا علم اپنی معلولات کا علم ہے جان تو کہ جو کچھ ہم نے تحقیقات فائقہ اور تدقیقات نفیسہ ذکر کیے ہیں جب تو نے ان کو خوب سمجھ لیا تو یہ ظاہر ہو گیا کہ اللہ تعالی کا علم باعتبار صدق کے عین ذات ہے اور باعتبار مفہوم کے مغائر ہے اور اس علم کے موافق معلومات کے اعتبارات غیر متناہیہ ہیں پس یہ کہنا صحیح ہے کہ علم ایک صفت ہے یعنی ایک امر ہے جو اس کی ذات کے ساتھ بقیام انتزاعی قائم ہے یا ایک ایسا امر ہے جو ذات پر باعتبار تغائر مفہوم کے محمول ہوتا ہے اور جب وہ اشیاء کے متعلق ہوتا ہے اشیاء منکشف ہو جاتی ہیں یا ایک تعلق ہے جو انکشاف کو واجب کرتا ہے پس بحیثیت اس کے کہ وہ تجلی اور انکشاف کا سبب ہے اور اس کو علم کہتے ہیں اور عالم انوار میں صورۃ مجردہ کے لیے جو اپنی ذات کے ساتھ قائم ہے مبدا ہے اور اس صورۃ مجردہ کا وجود فی نفسہ اس کا وہی وجود ہے فعلاً جو واجب کے لیے ہے جیسا کہ وجود اعراض کافی نفسہ وہی وجود ہے جو ان کے محل میں باعتبار قبول کے ہے پس اس تقریر کے بعد یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ تعالی کا علم صورتیں ہے جو مرتبہ تفصیل میں اپنی ذات کے ساتھ قائم ہے اور یہ بھی کہنا صحیح ہے کہ اللہ تعالی کا علم حضوری ہے یعنی اشیاء اللہ تعالی کے ذات کے لیے بغیر نقش پذیر ہونے کے کسی شے کے منکشف ہیں کیونکہ کے ذات مقدسہ اور جواہر مجردہ معہ ان کے صفات اور اعتبارات کے مرتبہ تفصیل میں اپنی ذات سے حاضر ہیں اور وہ علم حصولی ہے کیونکہ تمام معلومات معہ ان کے اعتبارات اور لواحق کے بذریعہ علم بسیط کے جو مبد تفصیل کا ہے اللہ تعالی کو حاصل ہیں اور نیز یہ کہنا صحیح ہے کہ علم باری تعالی باعتبار صدق کے عین ذات اور باعتبار مفہوم کے غیر ذات ہے اور نیز یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ نہ عین ذات باری تعالی ہے یعنی باعتبار مفہوم کے اور نہ غیر ہے یعنی باعتبار صدق کے ۔</p>
<h2>چھیالیسواں مرحلہ</h2>
<h3>علم الہی اور صفات میں اشاعرہ کا مذہب</h3>
<p>علم اللہ تعالی و دیگر صفات میں اشاعرہ کا مذہب<br />
اشاعرہ نے کہا ہے کہ علم اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ قائم ہے چنانچہ تمام فلاسفہ نے کہا ہے کہ علم ایک صفت حقیقت تعلق والی ہے اور ان میں سے محققین نے کہا ہے کہ علم نفس کا تعلق نام ہے اور ہر دو تقدیر پر ان کو اس بات کا قائل ہونا پڑے گا علم معدوم کے متعلق ہے اور یہ باطل ہے کیونکہ انہوں نے وجود ذہنی کی نفی کی ہے اور علم کے تعلقات کے ازلی ہونے کے قائل ہوئے ہیں اور چونکہ یہ امر نہایت دشوار ہے اسی واسطے امام تو وجود ذہنی کے علم میں قائل ہونے ہیں ہوئے ہیں اور یہ علم نہیں ہے لیکن حصول علم کی شرط ہے اور جواب یہ ہے کہ علم جب معدوم خارجی کے متعلق ہوتا ہے تو معدوم کا ثبوت علمی ہے پس تعلق علم کا معدوم محض کے ساتھ لازم نہیں اتا بلکہ لازم اتا ہے کہ علم معدوم خارجی اور موجود علمی کے متعلق ہو اس میں کچھ استحالہ نہیں اور اس جواب پر یہ اعتراض دور ہوتا ہے کہ ثبوت علمی پر مقدم ہے پس علم کا تعلق معدوم محض کے ساتھ ہے نہ معدوم خارجی اور موجود علمی کے ساتھ جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ تعلق پر مقدم معلوم کی ذات ہے کیونکہ علم اس کے متعلق ہوا ہے اور تعلق اور ثبوت علمی دونوں بالذات ایک زمانہ میں ہیں ایک کو دوسرے پر تقدم نہیں ہے اور ایک اعتراض ان پر یہ واقع ہوتا ہے کہ اگر صفات واجب ممکن ہوں تو صفات کا حدوث لازم آتا ہے کیونکہ ہر ممکن ان کے نزدیک حادث ہے اور اگر واجب ہو تو واجب کا تعدد لازم اتا ہے اور اس کا جواب یہ دیا گیا کہ جو ممکن اختیار سے صادر ہو وہ حادث ہے اور اللہ تعالی صفات باری تعالی کے موجب ہیں اور ایجاب صفات کمال سے ہے نقص نہیں ہے ۔</p>
<h2>سینتالیسواں مرحلہ</h2>
<h3> صفات کے عین ذات یا غیر ذات اورمذہب صوفیہ</h3>
<p>صفات کے عین ذات ہونے یا غیر ذات ہونے میں صوفیہ کا مذہب<br />
صوفیا نے کہا ہے کہ تمام صفات کمالیہ بحیثیت وجود کے عین ذات ہیں پس اس مذہب کے موافق صفات امور عقلیہ انتزاعیہ ہیں اور جس شے کا وجود عینی ہے اس میں ان کے آثار اوراحکام ہیں اور جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ذات بھی قدیم ہے اور صفات بھی قدیم ہے اور صفات معطل بھی نہیں ہیں تو اس لیے وہ عالم کے قدم کے اللہ کے نزدیک قائل ہو گئے ہیں اور حدوث کو کہتے ہیں کہ وہ باعتبار ظہور بعض کی ہیں بعض کے لیے پس اس تقدیر پر صفت کو معدوم مطلق سے کچھ تعلق نہیں ہے اور اللہ کے نزدیک جبکہ عالم حدودث ہے تو اس تقدیر میں بھی لازم آتا ہے کہ اللہ سبحانہ وقت حدوث عالم کے علم محدثات کو حاصل کرے بس اس علم سے کمال حاصل کریں اس پر لازم آتا ہے کہ ان کے لیے ایسی صفت حاصل ہو جو پہلے سے نہ تھی اور یہ ذات و صفات سے صریح جہل ہے</p>
<h2>اڑتالیسواں مرحلہ</h2>
<h3> صوفیا اور اشاعرہ کے مذہب میں فرق</h3>
<p>پہلی تقریرات سے تو نے اس بات کو جان لیا ہے کہ صوفیاء صفات کو ثابت کرتے ہیں اور اسی طرح اشاعرہ بھی ثابت کرتے ہیں اور وہ حکما اور متقدمین فلاسفہ کا ایک گروہ صفات کا بالکل انکار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک ذات ہی ذات ہے صفات کوئی شے نہیں اور ان منکرین صفات کا کچھ اعتبار نہیں ہے لیکن صوفیا اور دیگر مثبتین صفات میں تقریر اثبات کے اعتبار سے فرق ہے صوفیہ تو یہ کہتے ہیں کہ تمام صفات کمالیہ بحیثیت وجود کے عین ذات ہیں اور صفات متغائر بالذات نہیں ہیں یعنی ایسے موجود بالذات نہیں ہیں کہ ان کو علم اور قدرت وغیرہ کہا جائے جیسے کہ ہمارے صفات اور ہمارے قوی جو ہمارے ساتھ قائم ہیں اور بحیثیت وجود اور مفہوم کے مختلف ہیں موجود بالذات ہیں بلکہ اس کی صفات ایسی حالات میں جو ذات واجب کے لیے منتزع کیے گئے ہیں ہر ایک کے لیے مستقل وجود ذات کے لیے مغائر نہیں ہے بلکہ ذات کے ہی موجود ہونے سے موجود ہیں پس معلوم ہوا کہ صفات باعتبار وجود کے عین ذات ہیں اور بحیثیت مفہوم کے ذات کے بھی مغائر ہیں اورآپس میں ایک دوسرے کو بھی مغائر ہیں پس وہ موجودات عقلیہ ہیں عینیہ نہیں ہیں اور باعتبار وجود خارجی کے ذات کا تعدد اور تکثر لازم نہیں آتا اور جس شے کا وجود عینی ہے اس میں ان صفات کے احکام اور آثار ثابت ہیں محقق دوانی نے کہا ہے کہ کسی شے کے کسی شے کے صفت ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خود بھی موجود مستقل ہو مثلا قدم ذاتی اور وجوب ذاتی ذات کے لیے ثابت ہیں مگر ان کا مستقل وجود نہیں ہے ختم ہوئی کلام محقق مذکور کی<br />
اور اس مقام پر ایک دقیقہ ہے وہ یہ ہے کہ انتزاع کی دو قسمیں ہیں اول تو انتزاع معقولات ثانیہ کا جیسے کہ وجود اور وجوب اور دیگر امور عامہ اور دوسرے وہ انتزاع جو ایسا نہیں ہے جیسے انتزاع نابینا ہونے کا جملہ زید نابینا ہے سے تو یہ دونوں یعنی وجود وغیرہ اور نابینا ہونا اور خارجیہ سے انتزاع کیے گئے ہیں اور حالانکہ امور خارجیہ سے نہیں یں لیکن دونوں قسموں میں بھی فرق ہے کہ وجود وغیرہ تو محمولات عقلیہ اور قضایا ذہنیہ سے ہیں اور نابینا ہونا محمولات خارجہ میں سے ہے پس محض انتزاع امر خارجی سے اس کے لیے کافی نہیں ہے کہ قضیہ خارجیہ ہو جائے بلکہ قضیہ کے خارجیہ ہونے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ محمول جانب انتزاع میں موضوع سے مخلوط نہ ہو بلکہ بعد محمول کے انتزاع کے بعد موضوع اپنے حال پر رہے مثلا نابینا کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر اس کو امر خارجی سے منتزع کریں تو انتزاع اس امر خارجی کے موجود خارج ہونے میں مضر نہیں پس جس شے سے نابینا انتزاع کیا جاتا ہے وہ شے بعد انتزاع اپنے حال پر باقی اور موجود ہے بخلاف امور عامہ کے کہ وہ موضوع موجود کے ساتھ مخلوط ہیں پس اللہ تعالی کی صفات اور شیون انتزاع میں مثل امور عامہ کے نہیں ہیں تاکہ قضیہ ذہنیہ ہو اور خارجیہ ہونے سے خارج ہو جائے ۔</p>
<h2>انچاسواں مرحلہ</h2>
<h3> وجوب ذاتی اور صفاتی میں قصور فہم</h3>
<p>وجوب ذاتی اور صفاتی کے ادراک سے لوگوں کے فہم قاصر ہیں کیونکہ فیض ذاتی اور فیض صفاتی ذات اور صفات سے فائض ان دونوں کا اثر اپنے نفس میں دیکھتا ہے پس اس پر ذات اور صفات کا ادراک سہل ہے بخلاف وجوب کے کہ اس کا فیض فائز نہیں ہوتا بس وجوب کا اثر بھی اپنے اندر نہیں دیکھتا ہے پس اسی واسطے وجوب کے بارے میں اشکال میں پڑتا ہے اور اصول صفات سات ہیں حیات، علم ،ارادہ، قوت سمع، بصر کلام اور بعض علماء نے بدلہ سمع اور بصر کے جواد اور مقسط کو ذکر کیا ہے یہ صفات آئمہ سبع کہلاتی ہیں اور امام الائمہ شیخ محی الدین عربی کے نزدیک حیات ہے کیونکہ اور صفات اسی پر موقوف ہیں اور اسی واسطے بعض نے کہا ہے کہ اسم اعظم الحی القیوم ہے اور شیخ کمال الدین عبدالرزاق کاشی کے نزدیک امام الائمہ علم ہے کیونکہ اور صفات پر علم شرف رکھتا ہے اور قیصری کی شرح فصوص میں ہے کہ اللہ تعالی کو اپنی ذات کا علم عین ذات ہے اور عالم کے متعلق جو اس کا علم ہے وہ اشیاء کی صورتیں ہیں جو کلیہ ہوں یا جزئیہ ایک ذرہ کے برابر بھی زمین اور آسمان میں اس سے غائب نہیں ہے اور اس میں کچھ اشکال نہیں کہ ذات باری امور متکثرہ کا محل ہو بس یہ امور متکثرہ بحیثیت وجوب کے عین ذات ہیں اگرچہ بحیثیت تقید اور تعین غیر ہیں پس ذات نہ حال ہے اور نہ محل ہے بلکہ ایک شے ہے صورتوں حالیہ اور محلیہ سے ظاہر ہوئی ہیں پس یہ علم محیط وہ امر ہے کہ علماء کے فہم اس میں حیران ہیں۔</p>
<h2>پچاسواں مرحلہ</h2>
<h3>  علم کی تجدید کر سکتے ہیں یا نہیں</h3>
<p>امام رازی نے محصل میں کہا ہے کہ علم کی حد بیان نہیں کر سکتے کیونکہ علم ایک بدیہی شے ہے اس واسطے کے ماسوا علم کے علم ہی سے منکشف ہوتے ہیں پس یہ محال ہے کہ غیر اس کا کاشف ہو اور امام غزالی اور امام حرمین نے کہا ہے کہ علم نظری ہے اس کی بیان کرنا مشکل ہے علماء کا ایک گروہ اس طرف کیا ہے کہ علم نظری ہے مگر اس کی حد کو بیان کرنا ممکن ہے اور صوفیا نے کہا کہ شدت ظہور کی وجہ سے اس کی تحدید ممکن نہیں ہے کیونکہ معرف کی شرط یہ ہے کہ وہ معرف سے اجلی ہو اور اس پر سابق ہو اور علم سے زیادہ کوئی شے اجلی اور کوئی شے ثابت نہیں ہے سوائے غیب ذات کے کہ کسی کا علم سوائے حق سبحانہ کے اس کو مفید نہیں ہے اور حیات کا تقدم علم پر اس تقدیر پر کہ صفت حیات صفت علم کے مغائر ہو ایسا ہے جیسے کہ شرط کا تقدم مشروط پر ہے تقدم مطلقا نہیں ہے اور باوجود اس کے یہ تقدم بھی علم سے ہی حاصل ہوتا ہے پس علم ایک حقیقت مجردہ کلیہ ہے کہ اس کے لیے نسبت ہیں اور خواص ہیں اور احکام اورعوارض اور لوازم ہیں اور مراتب ہیں اور اس کی حد تمام بیان نہیں ہو سکتی یعسوب العارفین علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا ہے کہ علم ایک نقطہ ہے اس کی جاہلوں نے تکثیر کر دی ہے یعنی علم ان صفات ذاتیہ میں سے ہے کہ جو اپنے موصوف سے بحیثیت تعین کے ممتاز نہیں ہے بلکہ تعقل مستقل سے ممتاز ہے جیسا کہ نقطہ کا خارج میں وجود نہیں ہے بلکہ وہ اس طور سے مستقل ہوتا ہے کہ خط کے ساتھ قائم ہے اور سطح جسم کے ساتھ قائم ہے اور نقطہ سے خط کی انتہا ہوتی ہے اور علم بسیط ہے یعنی حقیقت مجردہ ہے اور جو شخص علم کی حقیقت سے جاہل ہے وہ معلومات کی تعدد سے اس کو متعدد مانتا معلومات کے تکثر سے اس کو متکثر سمجھاہے حالانکہ واحد بسیط ہے فی نفسہ تکثر کا احتمال نہیں کہتا ہے کیونکہ علم صفات ذاتیہ سے ہے متعلقات علم میں البتہ احتمال تکثر کا ہے ۔</p>
<h2>اکیانواں مرحلہ</h2>
<h3>  علم کی تعریفات اور اس کی تحقیق</h3>
<p>جو شخص علم کی تعریف کرتا ہے وہ یا تو اس کے راز کو جانتا ہے اور اس کے مرتبہ پر اس کے لوازم سے تنبیہ کرنا چاہتا ہے اور یا یہ کہ اس سے جاہل ہے کیونکہ علم کی کوئی حد جامع مانع نہیں ہے کیونکہ تعریف اورحد کے اجزاء سے اول علم متعلق ہوتا ہے اور یہ علم اب تک متحقق نہیں ہوا پس اس تحدید میں تقدم اپنے نفس پرلازم آتا ہے اور اہل نظر نے علم کی مختلف تعریفات کی ہیں اور ہرایک پر ان میں سے اعتراض وارد ہوتا ہے اور مختار ان تعریفات میں وہ ہیں جو مواقف میں ہے وہ یہ کہ علم ایک صفت ہے جو معانی کے درمیان تمیز واجب کرتی ہے یعنی وہ صفت اس کے محل میں قائم ہے اور وہ صفت بایجاب عادی اس کو واجب کرتا ہے کہ اس کا محل شے متعلق کو ایسی تمیز دے کہ اس کے سبب سے وہ متعلق اس متمیز کے نقیض کا احتمال نہ رکھیں پس اس تعریف میں محل کا اعتبار ضروری ہے ورنہ تعریف تام نہ ہوگی سید السند نے کہا ہے کہ سب سے عمدہ تعریف یہ ہے کہ علم ایک صفت ہے کہ اس کے سبب سے مذکور اس شخص کے لیے کہ جس میں بھی صفت روشن ہو جائے پس لفظ مذکوراس تعریف میں موجود اور معدوم اور ممکن مستحیل اورمفرد اور مرکب اور کلی اور جزئی سب کو شامل ہے اور معنی اس تعریف کے یہ ہیں کہ علم ایسی صفت ہے کہ اس کے سبب سے ایسی شے کوجسکی شان یہ ہو کہ ذکر کی جائے اس شخص کے لیے جس میں یہ صفت ہے منکشف بانکشاف تام کہ جس میں بالکل اشتباہ نہ ہو جائے پس اس تعریف کے موافق علم سے ظن اور جہل مرکب اور اعتقاد مقلد مصیب کا سب نکل جائے گے اور تعریف جامع مانع ہو جائے گی کیونکہ ان سب میں انکشاف تام اور انشراح کاامل نہیں ہے اور حکماء نے کہا ہے کہ علم عقل میں کسی شے کا حاصل ہونا ہے مراد یہ ہے کہ عقل کے نزدیک حاصل ہو جائے تاکہ ادراک جزئیات کو بھی تعریف علم کی شامل ہو جائے کیونکہ علم جزئیات کا علم عقل کو آلات کے ذریعے سے ہوتا ہے کیونکہ نفس ناطقہ ہی مدرک ہے آلہ ادرک نہیں ہے اور اہل کشف تحقیق کے نزدیک علم کو معلوم کے ساتھ متعلق ہونے سے معلوم کا حاصل ہونا نفس عالم میں اور نہ مثال نفس میں یعنی اس کی صورت میں لازم نہیں آتا پس قوم کے نزدیک تو مسمی علم کا تعلق خاص ہے وہ نسبت ہے جو ذات کے لیے معلوم سے حادث ہو اور یہ ظاہر ہے کہ وہ نسبت معلوم تعقل اور ملاحظہ میں متاخر ہو کیونکہ وہ نسبت تو تابع ہے اور بعض علماء کا قول بھی اس طرف راجع ہے وہ یہ کہ علم کی دو اضافتیں ہیں ایک نسبت تو عالم کی طرف ہے اور دوسری معلوم کی طرف پس جس صورت میں کہ کوئی شے حاضر ہواس وقت علم اور معلوم میں صرف اعتباری مغائرت ہے بلکہ ان مقام پر ان دو اضافتوں کے علاوہ ایک اور اضافت ہے اور وہ اضافت عالم کی معلوم کی طرف ہے اور شاید کہ علماء نے اسی کی طرف اپنے اس قول سے اشارہ کیا ہے کہ علم ایک صفت اضافت والی ہے پس صفت تو علم ہے اور اضافت عالمیت ہے جیسا کہ مقاصد میں اس کی تصریح کی ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ علم اضافت محضہ ہے وہ کہتا ہے کہ علم ایک نسبت علم اور معلوم کے درمیان ہے اور عالم کو معلوم میں بالکل کچھ اثر نہیں ہے پس اگر تجھے پوچھا جائے کہ علم کی حقیقت کیا ہے تو جواب میں کہہ کہ علم دریافت کرنا مدرکات کا ہے جس طرح پر کہ وہ واقع میں ہے جبکہ دریافت کرنا اس کا غیر ممتنع ہو اور جو شے اس قسم کی ہے کہ وہ دریافت نہ ہو سکے تو اس کا علم یہی علم ہے کہ اس کا دریافت کرنا یعنی علم اس بات کا کہ علم اس کے متعلق نہیں ہو سکتا یہی اس کا علم بھی ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی عقول سے حجاب میں ہیں جیسے کہ وہ سے مستتر آنکھوں سےاور ملاء اعلی بھی اللہ تعالی کو اس طرح طلب کرتے ہیں جیسا کہ تم طلب کرتے ہو پس عقول اور افہام اس کی صفت دریافت کرنے سے عاجز ہیں جیسے کہ ابصار عاجز ہیں اور فرمایا کہ اللہ تعالی کی بڑی رحمت ہے اور رافت ہے ویحذرکم اللہ نفسہ واللہ رؤوف بالعباد اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ درک ادراک سے عاجز ادراک ہیں اور مصباح التوحید علی کرم اللہ وجہ الکریم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے رب کو کس شے سے پہچانا فرمایا کہ جس شے سے میرے نفس نے بتلایا اسی سے پہچانا وہ قیاس سے مدرک نہیں ہے اور نہ آدمی پر ان کو قیاس کر سکتے ہیں اپنے بعد میں قریب ہیں اور اپنے قرب میں بعید ہیں اور ہر شے سے عالی ہیں ختم ہوئی کلام علی کرم اللہ وجہ الکریم کی<br />
ابو القاسم قشیری نے اپنے رسالہ میں کہا ہے کہ صدیق اکبر کی مراد یہ نہیں کہ ذات باری پہچانی نہیں جاتی کیونکہ محققین کے نزدیک عجز اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص موجود سے عاجز ہو نہ یہ کہ معدوم سے عاجز مثلاً اپاہج بیٹھنے سے عاجز ہے کیونکہ اس کے اختیار میں نہیں اور بیٹھنا اس میں موجود ہے اسی طرح عارف اس کی معرفت سے عاجز ہے لیکن معرفت اس میں موجود ہے کیونکہ معرفت تو ضروری ہے اور اس گروہ کے نزدیک معرفت اللہ سبحانہ کے انتہا میں ضروری ہے پر معرفت کسبیہ ابتدا میں اگرچہ مذہب صحیح کے موافق معرفت ہے لیکن صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے معرفت ضروریہ کے مقابلے میں اس معرفت کو شمار نہیں کیا جیسے کہ چراغ کا سورج کے نکلنے اور اس کے شعا ع کے پھیلنے کے وقت کچھ اعتبار نہیں ہوتا ختم ہوئی کلام ابوالقاسم قشیری کی پس معلوم ہوا کہ ہمارا اپنی معرفت کے علم سے عاجز ہونا یہی معرفت ہوتا ہے اور یہ علم بغیر حجابات کے اٹھے حاصل نہیں ہوتا اور ان سب حجابوں میں سخت حجاب تیرا نفس ہے ۔</p>
<h2>باونواں مرحلہ</h2>
<h3>اللہ تعالی کا علم جزئی اور کلی</h3>
<p>اللہ تعالی کا علم جزئی اور کلی دونوں کو شامل ہے یا نہیں<br />
نصوص اس بات پر دلالت کرتی کہ حق تعالی کا علم ہر شے کو شامل ہے خواہ وہ شے موجود ہو یا معدوم جزئی ہو یا کلی اور نصوص ہی پر ایسے امور میں اعتماد ہے اور حق تعالی کےقبول علم پر جو یہ دلیل نے لکھی ہے کہ علم کا مقتضی اللہ تعالی کی ذات ہے اور معلومیت کا مصحح معلومیت کی ذات ہے اور علم سے کوئی مانع نہیں تو علم ضروری ہوگا تو اس دلیل پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ نفس امر میں عدم کا معنی ممنوع ہے اور اس کا عدم ہمارے نزدیک نفع نہیں دیتا اور حکماء نے اللہ تعالی کے علم کی کیفیت میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی کہ جس سے عموم علم معلوم ہو اور اس واسطے انہوں نے اس سے کچھ تعرض نہیں کیا لیکن امام حجۃ الاسلام اور شیخ ابوالبرکات بغدادی نے کہا کہ اکثر متقدمین اور متاخرین فلاسفہ نے جزیات کے علم کا انکار کیا ہے اور متاخرین نے بھی ان کا اتباع کیا ہے اب ہم ان کے مذہب کو ان کے اصول کے مطابق تفصیلا بیان کرتے ہیں تاکہ مسئلہ خوب واضح ہو جائے پس جاننا چاہیے کہ امر معلوم یا تو مادی متغیر ہوگا لا مادی لامتمیز ہوگا اور یا مادی لامتغیر ہوگا اور یا متغیر لا ما ہوگا قسم ثانی کو خواہ کلی ہو خواہ جزی ہو اللہ تعالی جانتے ہیں چنانچہ اپنی ذات کو اور عقول کو جانتے ہیں اور قسم ثالث یعنی مادی اجرام علویہ ہیں کیونکہ ان کے مقادیر اور اشکال باقی رہنے والے ہیں تغیرات سے محفوظ ہیں اور اللہ تعالی کو بقول ان سب اشخاص کا علم معلوم نہیں کیونکہ جسمانیات کا بغیر ادراک آلہ جسمانیہ کے نہیں ہیں اورقسم رابع یعنی متغیر لام ما دی مثل صور اور اعراض حادث نفوس ناطقہ ہیں اور اللہ تعالی نے بقول ان کے یہ سب اشیاء معلوم نہیں ہیں کیونکہ یہ سب اشیاء متغیر ہیں اور تغیر سے علم کا تغیر لازم آتا ہے حالانکہ اس کی ذات ان صفات میں کوئی تغیر نہیں ہے اور قسم اول یعنی مادی اجسام کائنہ اور فاصلہ ہیں یہ بھی ان کے نزدیک اللہ کو معلوم نہیں بس تو پہلی دو وجہ ہے اور متاخرین فلاسفہ نے کہا کہ اللہ تعالی نے مادی اور متغیر بحیثیت اس کے کہ وہ مادی اور مادی ہیں متغیر متغیر ہی نہیں جانتے کیونکہ جزئیات مادیہ کا ادراک بحیثیت ان کے مادے کے ساتھ مقترن ہونے کے احساس اور تخئیل(خیال) ہے اور احساس اور تخئیل بغیر آلہ جسمانیہ متجزیہ کے نہیں ہو سکتا اور اسی طرح جزئیات متغیرہ کا علم بحیثیت ان کے ماضی وحال اور مستقبل میں واقع ہونے کے تغیر علم کو واجب کرتا ہے اور جزئیات متغیرہ کا ادراک بغیر اعتبار حیثیت اقتران بالمادہ کے جیسے علم منجم کا کسوف جزئی کے ساتھ اور ایسے ہی ادراک جزئیات بحیثیت ان کے ازمنہ میں واقع ہونے کے بلکہ معہ از منہ کہ اللہ تعالی کے لیے ثابت ہے اور کوئی اشکال ہر دو اشکال میں سے لازم نہیں آتا اور یہ جو انہوں نے کہا ہے کہ ادراک جزئیات کا بحیثیت ان کے مادہ سے مقترن ہونے کے احساس ہے یا تخئیل ہے اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ حصر ممنوع ہے اور نیز قیاس کرنا غائب کا شاہد پر مفید نہیں ہے اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ جزئیات متغیرہ کا علم بحیثیت ان کے ازمنہ معینہ میں واقع ہونے کے تغیر علم کو بحیثیت اس کے کہ وہ متغیرہے واجب کرتا ہے تو اس پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جزئی کی کیا تخصیص ہے جزئی ہو یا کلی تغیر علم تو ہر صورت میں لازم آئے گا اور اس واسطے شقامیں اس حکم کی تعمیم کی ہے اور تحقیق اس بارے میں یہ ہے کہ اللہ تعالی کی ذات چونکہ زمانی یعنی زمانہ میں حادث نہیں ہے اگرچہ ان کے نزدیک زمانہ کے مقارن ہے تمام زمانے ان کے نزدیک حاضر ہیں جیسا کہ خط جو ممتداد ہو اور اپنے تمام اجزاء سے حاضر ہو پس اللہ تعالی اس بات کو جانتے ہیں کہ ہر متغیر اپنے زمانہ میں بغیر اس بات کے کہ تغیر اس کی ذات میں لازم آئے واقع ہے جیسا کہ ہر شے کو اس کے مقام میں جانتے ہیں اور کوئی تغیر اس کی ذات میں لازم نہیں آتا تغیر اور قدم اور تاخر تو حوادث میں بنسبت بعض کے بعض کی طرف ہے اور اللہ تعالی کے اعتبار سے قدم اور تاخر اور تغیر وغیرہ کچھ نہیں اور کہا گیا کہ اللہ تعالی کے علم کے لیے ہر اس شے کے ساتھ جومعلوم ہو سکے تعلقات ازلیہ ہیں اور متجددات کے ساتھ بحیثیت ان کے ازمنہ معینہ میں واقع ہونے کے تعلقات متجددہ ہیں اور متعلقات اور اضافات میں تغیر اس کے کمال کا تغیر نہیں ہے کیونکہ تغیر اور تجدد اس کی ذات میں نقصان نہیں ہے کیونکہ اس کا کمال تام اس کا مقتضی ہے کہ متجدد ازل میں بہ سبب نقصان اس متجدد کے حاصل نہیں ہے جیسا کہ ممتنع کے ساتھ یہ بہ سبب نقصان ممتنع کے قدرت متعلق نہیں ہوتی نہ بہ سبب اس کے ذات قدرت میں نقصان ہے اور اسی طرح تمام محالات عقلیہ ہیں۔</p>
<h1>ترپنواں مرحلہ</h1>
<h3>قلوب کی کیفیت با عتبار ذکر اللہ</h3>
<p>قلوب کی کیفیت با عتبار ذکر اللہ کے<br />
بعض اہل اللہ نے کہا کہ قلب ایک آئینہ سےصیقل کیا ہوا ہے اس میں زنگ بالکل نہیں ہے لیکن کبھی کبھی زنگ آلود ہو جاتا ہے چنانچہ حدیث میں آیا ہے قلوب کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لو ہے کو زنگ لگ جاتا ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ دلوں کو اللہ کا ذکرصیقل ہے اور دل کا زنگ یہ ہے کہ اللہ تعالی کو چھوڑ کر علم غیر کے متعلق ہو ۔بس یہ غیر کا علم قلوب کا زنگ ہے کیونکہ یہی تجلی حق کو قلب تک آنے سے روکتا ہے کیونکہ اس طرف سے تو کوئی مانع موجود نہیں ہے وہ تو ہمیشہ متجلی رہتے ہیں حجاب ان کے حق میں ہو ہی نہیں سکتا بس یہ غیر کا تعلق کن اور غفل اور عماء اوررین کہلاتا ہے لیکن جس شے کے ساتھ کہ قلب مشغول ہوتا ہے وہ واقع میں علماء کے نزدیک حق ہے لیکن اس کا آئینہ قلب میں چمکنا اس نسبت سے نہیں ہے یعنی واقع میں تو وہ شے حق تعالی ہی ہیں مگر اس کا ادراک نہیں ہے اس وجہ سے اس کو غیر اللہ سمجھتے ہیں اور اللہ کے علم سے دور اور مردود ہو کر اپنے علم میں لگ گئے چنانچہ حق تعالی نے فرمایا کہ قلوبنا اکنۃ مما تدعونا الیہ کفار کہتے ہیں کہ ہمارے دل اس شے سے جس کی طرف آپ بلاتے ہیں پردہ میں ہیں یعنی اس امر خاص سے پردہ میں ہیں دوسری اشیاء سے پردوں میں نہیں ہے بس اور اشیاءآئینہ سے صیقل پردہ قلب پر روشن ہے پس قلب ہمیشہ صفائی اور روشنی پر ہی مخلوق ہوئے ہیں اور اس طرح مخلوق ہونا قلوب کا یا تو تجلی ذاتی ہے یا صفاتی ہے یا افعالی سے ہے یا آثار ہی سے پس اگر صاحب دل اس کو جانتا ہے کہ یہ جملہ مراتب اللہ تعالی کی طرف منسوب ہیں تو وہ اپنے تمام احوال میں عارف باللہ ہے اور اگر نہ سمجھا اور نہ جانا تو وہ مردود و مطرود ہے ۔<br />
غزالی قدس روح نے اپنی کتاب المغنون بہ عن غیر اھلہ میں فرمایا ہے کہ اللہ پاک کی ذات مادہ سے مجرد ہے نہ جسم ہے نہ جسمانی اور جو شے ایسی ہوتی ہے وہ ذات سالم ہوتی ہے کیونکہ ہر مجرد کی ہویت مجردہ اس کے نزدیک حاضر ہے پس معلوم ہوا اللہ تعالی عالم بذات ہی ہیں کیونکہ علم ماہیت مجردہ عن اللواحق کے حضور کا نام ہے اور اس مقام میں یہ امر متحقق ہے تو اللہ تعالی عالم بذاتہ بھی ہوں گے اورظاہر ہے کہ اللہ تعالی تمام موجودات کے مبدا ہیں تو علم بھی ان کا تمام موجودات کے متعلق ہوگا کیونکہ جس کو اپنی ذات کا علم ہوگا اس کو غیر کے لیے مبدا ہونے کا بھی علم ہوگا کیونکہ علم بالمبدا علم بذاتہ کا تتمہ ہے اور علم بالمبدا علم با لغیر کو متضمن ہے پس اگر تو یہ کہے کہ جب علم نام حضور کا ہوا اور حضور مغائرہ کو مقتضی ہے کیونکہ شے اپنی ذات کے نزدیک تو حاضر ہو ہی نہیں سکتی باری تعالی کو اپنی ذات کا علم کیسے ہو سکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضور کے معنے غائب نہ ہونے کے ہیں اور غائب نہ ہونا نسبت کو مقتضی نہیں ہے بلکہ نفی نسبت کو مقتضی ہے اور نسبت کی نفی کبھی اس طرح بھی ہوتی ہے کہ وہ شے واحد ہو اور اس میں تعدد نہ ہو پس معلوم ہوا کہ علم مغائرت کو مستدعی نہیں ہے بلکہ باوجود عینیت کے بھی صادق ہے بلکہ یہ تو حضور کا اعلی مرتبہ ہے کہ علم اور معلوم ایک ہی شے ہو اور عالم و معلوم میں کوئی امر متغائر نہ ہو بلکہ خاص اس حضور سے اور اضافت ماخوذ کی جاتی ہے اسی کو علم کہتے ہیں اور اللہ کا علم اس کے عین ہونے پر دلائل بہت ہیں اول تو یہ ہی ہے و فوق کل ذی علم علیم یعنی ہر ذی علم کے اوپر ایک بڑا جاننے والا ہے پس یہ آیت کریمہ اس پر دال ہے کہ علیم ذی علم میں مندرج نہیں ہے اور اس پر بھی دال ہے کہ علیم وہ ہے کہ اس کا علم عین ذات ہے ورنہ علم کا کسی حد پر توقف نہ ہوگا اور تسلسل لازم آئے گا برخلاف ذی علم کے کہ اس کا علم ذات کے مغائر ہے۔</p>
<h2>چونواں مرحلہ</h2>
<h3>علم باری تعالی کی تحقیق کے اقسام</h3>
<p>علم باری تعالی کی تحقیق کے اقسام سے ہے یا کس طریقے سے<br />
امام غزالی کی کتاب لواقع اسرار میں ہے کہ علم ایک صفت ہے کہ اس سے تمام معلومات کا ادراک کیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معلوم کے لیے علم کا علم ہے بلکہ علم نام عالم کے تعلق کا ہے جو کسی شے مغائر کے ساتھ ہو اور خواہ مغائرت بالذات ہو یا بالاعتبار ہو تعلق ایک نسبت عدمیہ ہے کہ اس کا وجود نہیں ہے اور سب معلومات اللہ سبحانہ کے نزدیک حاضر ہیں اللہ تعالی ان کو من کل الوجود جانتے ہیں اور اختلافات معلومات میں ہیں اللہ سبحانہ میں نعوذ باللہ کوئی اختلاف نہیں ہے اور محدث کا علم ایسا نہیں کیونکہ مقید بالزمان نہیں ہے یعنی ماضی یا حال یا مستقبل سے مقید نہیں ہے بلکہ احکام زمانہ کے ساتھ مفید ہے اسی واسطے اکثر علم محدث میں قصور واقع ہو جاتا ہے پس اللہ تعالی کا انکشاف علوم کے حصول یا مثال کے حصول سے نہیں ہے بلکہ معلومات کے ذوات اور لوازم سے ہے اور لوازم سے مراد صفات حقیقت یا اعتباریہ ہیں<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> اس معنی کو تو اللہ تعالی کا علم ممتنعات کے بھی متعلق ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے ذوات نہیں ہیں بلکہ وہ تو عدم محض ہے تو اس صورت میں انکشاف کے کیا معنی ہوں گے اور حالانکہ اہل حق نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ اللہ تعالی کا علم قدرت سے عام ہے کیونکہ علم تو واجب اور ممکن اور ممتنع سب کے متعلق ہوتا ہے بخلاف قدرت کے کہ وہ ممکن کے ہی متعلق ہوتی ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب :۔</span> ممتنعات خارجیہ یہ ہیں شریک باری اور اجتماعی نقیضین اور اسی طرح اللہ سبحانہ کی روایت ایسی صورت کے ساتھ کہ اس کے لیے سوائے قوت متخیلہ کے جس کو خیال متصل کہتے ہیں کوئی مقام نہ ہو یہی محققین کے نزدیک ممتنعات خارجیہ میں سے ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہقوی ا جو بدن میں ہیں اور صورۃ جو ان میں نقش پذیر ہیں یہ سب حق تعالی کو معلوم ہے باوجود اس کے کہ صورتیں فی نفسہ ہیں کیونکہ ان کا کوئی ثبوت نفسی جیسا کہ ممکن معدوم عدم کے وقت ہے نہیں ہے پس اس تقریر سے واضح ہو گیا کہ خیال میں ایسی صورتیں نقش پذیر ہوتی ہیں کہ جن کا نہ خارج میں موجود ہے اور نہ عقل میں کیونکہ عقل شے محال کو اسی وقت کے قوت کے ذریعے سے ادراک کرتی ہے پس یہ قوت محال صورتوں کا مقام ہے پس ان کو عقل قوت خیال کے ذریعے سے ادراک کرتی ہے اس طور سے ادراک نہیں کرتی کہ محال کی کوئی صورت معقولہ ہے یا یہ کہ معقولات کی واقع میں کوئی صورت ثبوتیہ ہے اگرچہ وہ خارج ہے خارج میں ادراک کے وقت موجود نہیں ہے .</p>
<h2>پچپنواں مرحلہ</h2>
<h3>علم ذات باری تعالی اور مخلوق  غیر متناہی ہونے کے معنی</h3>
<p>باری تعالی کا علم مخلوق کا سانہیں اور اللہ کی ذات کے غیر متناہی ہونے کے معنی مع دیگر فوائد<br />
علم ایک نسبت ہے جو عالم اور معلوم کے درمیان ہوتی ہے اور علم اس معنی سے باری تعالی میں متحقق نہیں ہے کیونکہ وہاں تو سوائے ذات کے کوئی شے نہیں ہے اور یہ نسبت باری تعالی کا عین وجود ہے اور باری تعالی کے وجود کی نہ انتہا ہے نہ ابتدا ہے پس اس کے کوئی طرف اور حد بھی نہیں ہے پس جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کی ذات غیر منتہائی ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے کوئی حد اور طرف نہیں ہے پس علم ایک صفت سلبیہ ہے اور معلومات اس کے وجود کے متعلقات ہیں پس جو ذات کے وجود کے اعتبار سے منتہائی نہیں ہے وہ ایسی شے کے متعلق ہے کہ جو باعتبار معلوم اور مقدور اور مراد کے غیر منتہی ہے پس اللہ تعالی کا وجود دخول نے الوجود کے ساتھ متصف ہی ہیں ہے کیونکہ جو شے وجود میں داخل ہے وہ منتہا ہی ہے اور اللہ تعالی عین وجود ہے پس وہ غیر منتہی ہی ہے پس اس سے تو نے یہ بھی سمجھ لیا ہوگا کہ عالم کے موجد کا تقدم عالم پر زمانی نہیں ہے یعنی عالم اور موجد کے درمیان کوئی زمانہ نہیں ہے کہ موجد اس پر متقدم ہو اور عالم متاخر ہو پس عالم کا عدم اور حق کا وجود کسی وقت میں نہیں ہے لیکن وہم اس طرف جاتا ہے کہ عالم اور حق میں فرق اور دوری ہے اور اصلی وجہ اس خیال کی یہ ہے کہ آدمی نے ہمیشہ سے تقدم اور تاخر زمانی کو سمجھا ہے اسی پر سب کو قیاس کرتا ہے اور اس تقریر سے یہ وہم نہ ہو کہ عالم قدیم ہے کیونکہ قدیم اس کو کہتے ہیں کہ جس کی کوئی ابتدا نہ ہو حالانکہ عالم اپنی ذات سے موجود نہ تھا اس کا وجود واحد احد سے ظاہر ہوا ہے اور حدوث عالم کا مطلب یہ ہے کہ بعض اشیاء بعض کے لیے ظاہر ہوئی ہیں جاننا چاہیے کہ عالم کے انتقالات اور حوادث کا متجدد ہونا اور اوصاف کا حادث ہونا علم الہی میں حدوث اور تجدد اور انتقال کو لازم نہیں کرتا کیونکہ جو لوگ راسخ فی العلم ہیں وہ کہتے ہیں کہ عالم مع اپنے تصرفات و تغیرات کے اللہ تعالی کے نزدیک حاضر ہے پس تمام اشیاء اور ان کے احوال جس صورت اور ہیئت پر ہیں اللہ تعالی کو معلوم اور شاہد ہیں پس جب اللہ سبحانہ کسی شے یا اس کے حال کو ایجاد کرتے ہیں تو اس کو اس شے کے اعتبار سے ایجاد کرتے ہیں نہ کہ اپنے اعتبار سے بلکہ اشیاء تو اپنے حال اور زمانہ اور مکان اور اعتبار سے اعتبارات سے اللہ تعالی کو منکشف ہیں اور ایک شے کو بعد دوسری شے کے پے در پے ایجاد کرتے ہیں پس حدوث آپس میں اشیاء کے اعتبار سے ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ آدمی کی ایک صورت لڑکپن میں ہوتی ہے اور ایک صورت جوانی میں اور ایک صورت بڑھاپے میں اور ہر ایک ان صورتوں میں سے ایک دوسرے سے غائب ہے اور ان صورتوں کو ہم فرض کرتے ہیں کہ پردے کے پیچھے ہیں تیری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں پس جب حجاب و نقاب اٹھایا تو سب صورتوں کو ایک نگاہ سے ادراک کر لیا پس ماضی اور مستقبل اور حال سب ان کے نزدیک حاضر ہیں پس اللہ تعالی کا علم ان زمانوں میں سے کسی زمانہ کے ساتھ متصف نہ ہوگا اور علماء کی ایک جماعت اس کی قائل ہے کہ تعلقات حادث ہیں علامہ دوانی نےزوراء میں لکھا ہے کہ متکلم اور حکماء کے علم باری کے بارے میں جس قدر مذاہب ہیں سب قاصر اور کوتاہ ہیں کیونکہ ان کو حقیقت پر اطلاع نہیں ہے کیونکہ جیسا اللہ تعالی کا علم قرآن سے ثابت ہوتا ہے اسی طرح برہان اور دلیل سے ثابت ہوتا ہے حتی کہ یہ صفت یعنی علم اور دیگر صفات عالم میں ہر موجود میں اس کی استعداد کی موافق ساری ہیں دیکھتے نہیں کہ شہد کی مکھی کیسا گھر مسدس بناتی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے پس اس کو یہ علم اللہ تعالی کا ہی عطا کیا ہوا ہے اور اسی طرح تمام حیوانات بلکہ جمادات کو ان کی استعداد کے موافق علم دیا گیا ہے کیونکہ ہر شے تسبیح کرتی ہے اور تسبیح علم سے ہی ممکن ہے</p>
<h2>چھپنواں مرحلہ</h2>
<h3>  معنی علم ظہوراور رفع  اشکال</h3>
<p>رفع ایک اشکال کا اور معنی علم ظہور کے<br />
حق تعالی نے فرمایا ولنبونکم حتی نعلم المجاھدین منکم یعنی ہم تم کو ضرور آزمائیں گے تاکہ تم سے مجاہدہ کرنے والے کو جانیں اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ علم اللہ تعالی کا وعدہ بعد آزمائش کے ہے حالانکہ دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالی سے قبل پیدا کرنے کے اور بعد پیدا ہونے کے کوئی شے ذرہ برابر کے بھی غائب نہیں تو علماء نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جو علم بعد آزمائش ہے اس کو خبر اور اختیار کہتے ہیں اور اس کے عالم کو خبیر کہتے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ یہ اسم یعنی خبیر مرتبہ ابتلا سے متاخر ہو اور اس سے پہلے جو علم تھا وہ محیط تھا قبل اس آزمائش کے ہی تھا اور بعد کو بھی ہے مگر ظہور اس اسم کا یعنی خبیر کا عالم کے لیے اور مخبر کا معلوم کے لیے اور اختیار کا اس آزمائش کے لیے بعد اس آزمائش کے ہی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ علم کی صفت حقیقتا مخلوق کی طرف مضاف نہیں کی جائے اضافہ حقیقت اللہ تعالی سبحانہ کی ہی طرف ہے مظاہر خلقیہ میں اس صفت کا صرف ظہور ہوا ہے اور اسی علاقہ سے مخلوق کی طرف علم منسوب کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر مفسرین نے اس علم کو علم ظہور سے تفسیر کیا ہے ۔</p>
<h2>ستاونواں مرحلہ</h2>
<h3>خدا کا فعل صادراور متکلمین و حکماء</h3>
<p>خدا کا فعل صادر ہونے میں متکلمین اور حکماء کے قول<br />
متکلمین کے نزدیک اللہ تعالی کا فعل اسی ارادہ سے جو اختیار کے ساتھ ہے صادر ہوتا ہے اور اختیار کے معنی یہ ہیں کہ اگر چاہے کرے اور نہ چاہے تو نہ کرے اور حکماء کے نزدیک ایسے ارادے سے صادر ہوتا ہے کہ جو ایجاب کے ساتھ ہو اور ایجاب کے معنی یہ ہیں کہ اگر چاہے کرے اور نہ چاہے تب بھی کرے فعل خیر اس کی ذات کو لازم ہے فرق یہ ہے کہ پہلے شرطیہ کے مقدم کا وقوع ضروری ہے اور دوسرے شرطیہ کا مقدم ممتنع ہے پس ایجاب کے معنی یہ ہیں اور یہ معنی نہیں کہ وہ ارادہ کی نفی کرتے ہیں اور جو افعال ان سے صادر ہوتے ہیں اس کو ایسا کہنے میں جیسے کہ جلانا آگ کا اور روشن ہونا شمس کا یہ دونوں امر آگ اور شمس سے بلا اختیار صادر ہوتے ہیں پس متکلمین تو ارادے کو اسباب کا منتہیٰ قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ترجیح بلا مرجح محال نہیں ہے بلکہ ترجح بلا مرجح محال ہے اور حکماء کہتے ہیں کہ ترجیح بلا مرجح بھی محال ہے اور اسباب کے سلسلہ کا منتہی ذات واجب و تعالی کی ہے جو منشا ارادہ کی ہے امام حجت الاسلام غزالی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جملہ اشیاء کے فیضان کا مبدا علم اللہ تعالی کا ہے جووجہ نظام کے متعلق ہے پس اس کا علم ہی وجود معلوم کا سبب ہے پس اس صورت میں اللہ تعالی کا ارادہ علم ہے جو اس نظام محکم کے متعلق ہے پس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بھی حکماء کے مذہب کی طرف مائل ہیں اور اپنے بعض رسائل میں یہ ذکر بھی کیا ہے کہ حکماء کا ہر ایک مقولہ باطل نہیں بلکہ اگر حق کے موافق ہو تو ہم قبول کر لیں گے اور اگر مخالف ہے تو چھوڑ دیں گے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> علم کیسے وجود معلوم کا سبب بن سکتا ہے حالانکہ علم تابع معلوم کے ہوتا ہے یعنی دونوں مطابق ہوتے ہیں اور اصل یہاں یہی ہے کہ دونوں مطابق ہوں مثلا کسی خاص وقت میں کسی شے کے وقوع کا علم اس کے تابع ہے کہ وہ اس وقت خاص میں واقع بھی ہو کیونکہ وہ علم تو اسی کا ظل اور حکایہ ہے مثلا دیوار پر جو گھوڑے کی تصویر کھینچی ہوئی ہے اس کو جو گھوڑے کی تصویر کہتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ گھوڑا واقعی ایسا ہوتا ہے اور اگر اس کا عکس متصور نہیں ہو سکتا یعنی یہ نہیں کہہ سکتے کہ گھوڑا حقیقی ایک خاص ہیت پر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دیوار پر اس کی ہیئت ایسی ہے اور مثلا زید کے کل آئندہ میں کھڑے ہونے کا علم جب ہی ہو سکتا ہے جب وہ کل کو کھڑا بھی ہو پس معلوم ہوا کہ علم کو کسی فعل کے وجود میں کوئی دخل نہیں اور نہ امتناع میں کوئی دخل ہے بلکہ دونوں سے نسبت برابر ہے<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> تبعیت کے جو معنی بیان کیے ہیں یہ علم انفعالی حصولی میں ہو سکتے ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالی کا علم حضوری اور فعلی ہے اور علم حضوری یہ ہے کہ معلوم بعینہ اپنی ذات اور تمام لوازم وجودیہ اورعدمیہ سے منکشف ہو جائے اور یہ انکشاف ایک نسبت بین العالم والمعلوم نہ ہو توظاہر ہے کہ ایسے علم میں تبعیت بمعنی مذکور متحقق نہیں ہو سکتی ہاں ہمارے علم کو یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ یہ علم ہے کیونکہ علم حکم اذعانی کو کہتے ہیں پس حق تعالی کی شان میں کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا علم مثل تصور کے ہے اور اس کا قائل ہونا اس کو مستلزم ہے کہ حق تعالی کو ممکنات کا قبل از وقوع علم نہ ہو جیسا کہ معتزلہ کا مسلک ہے مگر جمہور معتزلہ اس کے قائل نہیں ہیں ہاں ہم بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ علم تابع معلوم کے ہے لیکن معنی اس کے یہ ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہر شے کو جس طرح پر وہ واقع میں ہے جانتے ہیں اور اس پر موافق اپنے علم کےحالت عدم میں حکم کرتے ہیں ۔ پس ان کے نزدیک شے کے تمام احوال وجود وعدم وغیرہ متعین ہے پس جو شخص کہتا ہے علم باری تعالی سبب وجود معلوم کا ہے یعنی باعتبار اس کے کہ سب اسی کی طرف راجع ہیں صادق ہے اور امام غزالی نے اس کی مثال میں کہا ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ وہ نقاش کہ جو صورت کو اپنی طرف سے تراشتا ہے اور ایجاد کرتا ہے اس کا علم اسی صورت کے متعلق قبل از وجود ہے اور اس کا علم سبب اس کے وجود کا ہے اور اس تقریر سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ صفت قدرت کی معطل ہے جیسا کہ دفعیہ اس اشکال کا ظاہر ہے کچھ اس میں شک نہیں ۔</p>
<h2>اٹھاونواں مرحلہ</h2>
<h3> علم اور یقین کے اقسام</h3>
<p>وہم اور شک اورظن اور علم یہ اقسام شعور کی ہیں اگر وقوع کسی شے کااور عدم وقوع برابر ہوں تو یہ تو شک ہے اور اگر ایک غالب ہو تو ظن ہے اور جانب مغلوب وہم ہے اور اگر ایک کا وقوع یقینی ہو تو یہ علم ہے اور یقین تین قسم پر ہے علم الیقین عین الیقین اور حق الیقین<br />
علم الیقین تو اس علم کو کہتے ہیں جو برہان اور دلیل سے حاصل ہو اور عین الیقین وہ جو بیان سے حاصل ہو اورحق الیقین وہ ہے جو معائنہ سے حاصل ہو اس مضمون کو قشیری نے اپنا رسالہ میں لکھا ہے اور لفظ یقین یقین الماء سے مشتق ہے یقین الماء جب بولتے ہیں جبکہ پانی برتن میں ٹھہر جائے پس معلوم ہوا کہ یقین استقرار اور اطمینان کو کہتے ہیں اور اس مثال سے تجھ پر یہ خوب واضح ہو جائے گا اس کی مثال کوئلے کی سی ہے کہ کوئلے نے مثلا سنا کہ عالم میں آگ بھی ہے حتی کہ تواتر اخبار سے یہ مضمون اس نے سنا تو یہ تو علم الیقین ہے پھر اگر آگ اس کے سامنے لائی جائے تو یہ عین الیقین ہے اور جب اس کو آگ میں گرا دیا جائے حتی کہ مشتعل ہو گیا تو یہ حق الیقین ہے بس اول یعنی علم الیقین والے تو اہل معقول ہیں اور دوسرے یعنی عین الیقین والے اہل علوم ہیں اور تیسرے یعنی حق الیقین والے اہل معرفت ہیں شیخ نے فتوحات میں کہا ہے کہ یقین کے چار مرتبے ہیں اول مرتبہ علم کا پھر مرتبہ عین کا پھر مرتبہ حق کا پھر مرتبہ حقیقت کا پس علم اور عین حق تو کتابی ہیں یعنی کلام باری تعالی میں وارد ہیں اور حقیقت نبوی ہے یعنی حدیث میں وارد ہے ختم نہیں کلام شیخ کی<br />
اور ایمان علم تصدیقی یعنی اذعان کو کہتے ہیں اور ایمان نہ کم ہوتا ہے نہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اگر کم ہوگا قصور ہو جائے گا وہ کافی نہیں اور اگر بڑھے گا تو اس کے صرف صفت بڑھے گی اور وہ صفت تو طمانیت اور استقرار ہے پس معلوم ہوا کہ نفس تصدیق میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے اور نہ کمی پس مرتبہ یقین کو تو لوگ نہیں پہنچ سکتے مگر جو اچھے لوگ ہیں اور وہ بہت کم ہیں ان کی دسترس ہو سکتی ہے اور اسی واسطے ایسی شے میں کہ جس کی نسبت حق تعالی نے قسم کھائی ہے شک کرتے ہیں یعنی رزق میں پس نفس میں نہ یقین کی حقیقت حاصل ہے اور نہ حق اور نہ عین کی اور نہ علم کی انا للہ وانا الیہ راجعون حق تعالی فرماتے ہیں یعنی نہیں ایمان لاتے ہیں اللہ کے ساتھ اکثر ان میں مگر اس حالت میں شریک کرتے ہیں۔ شیخ قدس سرہ نے فرمایا کہ لفظ عین اور علم اور حق مشترک ہیں یقین کی طرف مضاف کر دیئے گئے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ شک خواہ حال ہی سے پیدا ہو یعنی قلب اس کا خواہ ایمان کے ساتھ مطمئن ہو مگر ایمان کی ضد ضرور ہے اور حال اس کا ابھی تک بہ سبب شرارت نفس حیوانیہ اور وسواس شیطانیہ کے مستقیم نہیں ہوا اور اس حالت کو شرک خفی کہتے ہیں اور یہ حالت ایمان شرعی کے منافی نہیں اگرچہ ایمان حقیقی کے منافی ہو حاصل یہ ہے کہ یقین علم سے برتر ہے اور اس کے بہت مراتب ہیں سب سے اعلی مرتبہ حق الیقین ہے اور اوسط عین الیقین ہے جو شخص علم اور یقین میں فرق نہیں کرتا اور دونوں کو ایک سمجھتا ہے اس کے نزدیک اضافت علم کی یقین کی طرف جائز نہ ہوگی اور اس میں وہ تاویل کرے گا اور اللہ تعالی کے قول واعبد ربک حتی یاتیک الیقین میں لفظ یقین میں اختلاف ہے مفسرین تو یقین کی تفسیر موت سے کرتے ہیں اور اصل قلوب دیگر توجیہات کرتے ہیں ۔</p>
<h2>انسٹھواں مرحلہ</h2>
<h3>کلام الہی حادث یا قدیم؟</h3>
<p>اللہ تعالی کے کلام میں اختلاف کی حادث ہے یا قدیم<br />
متکلمین نے اللہ تعالی کے کلام میں اختلاف کیا ہے کہ حادث ہے یا قدیم پس متاخرین نے تو یہ فیصلہ کیا کہ کلام لفظی حادث ہے اور نفسی قدیم ہے اور قاضی عضد الدین کہتے ہیں کہ کلام باری میں دو قیاس ہیں کہ ان دونوں کے نتیجے آپس میں مناقض و منافی ہیں اول تو یہ ہے کہ کلام اللہ کی صفت ہے اورجو اللہ کی صفت ہے وہ قدیم ہے لہذا کلام قدیم ہے اور دوسرا قیاس یہ ہے کہ کلام مترتب الاجزاء ہے بعض اجزاء بعض پر مقدم ہیں اور جو شے ایسی ہوتی ہے وہ حادث ہوتی ہے پس اس اجتماع متنافیین ہی کی وجہ سے ہر ایک گروہ نے ان قیاسوں میں سے ایک ایک مقدمہ پر منع وارد کیا ہے چنانچہ معتزلہ تو پہلے قیاس کی صغری کو تسلیم نہیں کرتے اور کرامیہ پہلے قیاس کی کبری پر منع وارد کرتے ہیں اور اشاعرہ دوسرے قیاس کی صغری کو نہیں مانتے اور حنابلہ دوسرے قیاس کی کبری سے انکار کرتے ہیں اور اکابر حنابلہ سے منقول ہے کہ حروف مبانی یعنی حروف ہجاء قدیم ہیں اور شیخ بازی اشہب سید محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مسلک ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے کلام اصوات اور حروف سے مرکب ہیں اور کلام قائم بالغیر ہے اور اللہ تعالی کے متکلم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان حروف اور اصوات کے کسی خاص جسم میں موجد ہیں خواہ وہ جسم لوح محفوظ ہو خواہ جبریل ہو یا نبی ہوں یا اس کے سوا کوئی شے ہو مثلا شجرہ موسی علیہ السلام اور بعض نے کہا ہے کہ کلام کا اطلاق کلام نفسی پر آتا ہے اس کی ضد و نسیان ہے اور کلام لسانی پر بھی کہ جو متکلم کو ایک خاص قوت کے ذریعے سے حاصل ہوتی ہے اور اس کی ضد خرس یعنی گنگ ہے اور معنی کا اطلاق کبھی تو لفظ کے مدلول پر آتا ہے اور کبھی قائم بالغیر پرآتا ہے اور شیخ اشعری نے جو فرمایا کہ کلام سے معنی نفسی مراد ہے تو اس سے بھی مراد وہ کلام ہے جو قائم بالغیر ہو خواہ وہ غیر معنی ہوں یا لفظ بس یہ دونوں یعنی معنی اور لفظ اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور یہی کلام مصاحف میں لکھی ہوئی اور زبان سے پڑھی جاتی ہے اور سینوں میں محفوظ ہے اور یہ کلام اس قرات اور کتابت اور حفظ حادث کے سوا ہے چنانچہ مشہور ہے کہ قرات مقرو کے غیر ہے تو اس کلام میں نہ ترتیب ہے اور نہ تقدیم اور نہ تاخیر ہے جیسے کہ حافظ کے نفس میں قائم ہے اور اس میں کچھ ترتیب نہیں ہے لیکن ترتیب وقت تکلم اور ادا کے اس سبب سے حاصل ہو جاتی ہے کہ آلہ ادا حادث ہے اور اس میں لیاقت اور ادا کی نہیں ہے اور اگر شیخ کے مراد معنی سے مدلول لفظ معجز ہو تو اس سے مابین کلامیت کے منکر کی عدم تکفیر لازم آتی ہے لیکن قطعا وبداہتا معلوم ہے کہ بین الدفتین کلام اللہ ہے اور اس کا منکر کافر ہے اور نیز یہ بھی لازم آتا ہے کہ معارضہ اور تحری کلام اللہ سے نہ ہو حالانکہ وہ ایک سورت بھی لانے سے عاجز ہو گئے تھے</p>
<h2>ساٹھواں مرحلہ</h2>
<h3>مسئلہ کلام میں متکلمین کی غلطی</h3>
<p>مسئلہ کلام میں متکلمین کی غلطی اور کلام کے متعلق تحقیقات<br />
جاننا چاہیے کہ کلام باری تعالی کا مسئلہ اس قسم کا ہے کہ اس میں اہل کلام نے بہت ٹھوکریں کھائیں ہیں اس پر تو سب کا اجماع ہے کہ اللہ تعالی متکلم ہیں مگر کلام میں اختلاف ہے کہ حادث ہے یا قدیم اور رسول اللہ ﷺسے مروی ہے کہ قران اللہ کا کلام ہے اور غیر مخلوق ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کا کلام حادث ہے کیونکہ وہ اصوات اور حروف سے مرکب ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے متکلم ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالی جسم میں ان حروف اور اسباب کی ایجاد کرتے ہیں خواہ وہ جسم لوح محفوظ ہو یا انبیاء ہوں یا کوئی اور شے ہو جیسے کہ شجرہ موسی علیہ السلام جیسا کہ یہ مضمون اوپر بھی گزر چکا اور اشاعرہ کہتے ہیں کہ اس کلام لفظی کے حدوث کے ہم بھی قائل ہیں لیکن ہم ایک دوسرے کلام کو ثابت کرتے ہیں کہ وہ کلام نفسی ہے اور وہ ہی اللہ تعالی کی صفت ہے اور وہ قدیم ہے اور معنی قدیم ہونے کا جو مضمون نفس متکلم میں ہے کہ عبارات مختلفہ متغیرہ سے ادا کیے جاتا ہے وہ قدیم ہے اور یہ کلام لفظی جو حروف سے مرکب ہے اس کو جو قرآن اور کلام اللہ کہا جاتا ہے وہ بطریق اشتراک ہے قراء اور اصولین اور فقہاء اور دیگر علماء کے نزدیک یہی متعارف و مشہور ہے اور اللہ تعالی نے جو فرمایا ہے یریدون ان یبدلوا کلام اللہ یعنی ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کر دیں تو اس آیت تبدیل سے مراد تبدیل لفظ ہے اور اسی طرح جو یہ فرمایا ہے یحرفون الکلم عن مواضعہ یعنی کلموں کو ان کے معانی اصلیہ سے تبدیل کرتے ہیں اس میں بھی تحریف سے مراد لفظ کا ہی تحریف کرنا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ معنی کلام کے تابع ہیں لفظ میں جبکہ تحریف و تبدیل ہوگی تو معنی اصلیہ مفہوم نہ ہوں گے پس معنی بھی لفظ کی تبدیل تحریف کرنے سے مبدل اور منحرف ہو جائیں گے ۔اس کے بعد جاننا چاہیے کہ لفظ قرآن اور کلام اللہ کو کلام لفظی پر اطلاق کرنا محض اسی وجہ سے ہی نہیں ہے کہ یہ کلام کلام نفسی برداال ہے تاکہ یہ لازم ئے کہ اگر ان الفاظ کو کوئی سوائے اللہ تعالی کے گھڑے تب بھی اس کو کلام اللہ اور قرآن کہنا درست ہو بلکہ وجہ اس اطلاق کی یہ ہے کہ اس کلام میں ایک اختصاص ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اول لوح محفوظ میں اشکال پیدا فرمائے چنانچہ فرمایا ہے بل ھو قران مجید فی لوح محفوظ یعنی بلکہ وہ قرآن بزرگ ہے کہ جو لوح میں محفوظ ہے پھر اصوات کو فرشتہ یا رسول کی زبان پر پیدا کیا چنانچہ فرمایا انہ لقول رسول کریم یعنی بے شک وہ قول رسول بزرگ کا ہے۔<br />
جاننا چاہیئے کہ یہ دونوں اسم یعنی قرآن اور کلام اللہ اس مرکب کلام مخصوص کا نام ہے کہ سب سے اول میں جس زبان پر اللہ تعالی نے اس کو پیدا کیا اگر اور کوئی اپنی زبان سے پڑھے گا تو وہ کلام اس کے مثل ہوگا عین نہ ہوگا اور صحیح تر یہ ہے کہ کلام اللہ اور قرآن اس مرکب کے بغیر محل کی تعین کے نام ہے پس اس تقدیر پر کلام اللہ واحد بالنوع ہوگی اور جو قاری بھی پڑھے گا وہ خود کلام اللہ ہی ہوگی اس کا مثل نہ ہوگا اور پہلے قول کے موافق واحد بالشخص ہے اور اس تقدیر پر قاری اول کے غیر میں رعایت جمیع احکام قرآنیہ کی مماثلت کی وجہ سے ہے اور اسی طرح قاری اول کے سوا اور قاریوں میں یہ بھی اختلاف ہوگا کہ ان کا کلام واحد بالشخص ہے یا بالنوع اگر تجھ کو اس تقدیر پر یہ شبہ ہو کہ جب کلام سے مراد الفاظ مرکبہ لے لیے اور اس میں تعین محل کی نہیں ہے کہ جیسا کہ اصح یہی ہے تو یہ لازم آتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک اللہ کے کلام کو سنتا ہے اور اسی طرح اگر کلام سے مراد معنی ازلی ہوں اور اس کے سننے سے مراد اس کا حرف اور اصوات سے سمجھنا ہو تو اس وقت بھی ہر ایک کا اللہ کے کلام کو سننا لازم آتا ہے پس اس صورت میں موسی علیہ السلام کا کلیم اللہ ہونا کس وجہ سے ہوگا تو جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ ان کو ہی کلیم اللہ کہنے کی چند وجہ ہیں اول وہ ہے جس کو امام غزالی نے پسند کیا ہے وہ یہ کہ موسی علیہ السلام نے بلا صوت و حرف کے کلام باری تعالی کو سنا ہے جیسے کہ ہر مومن بطریق خرق عادت کے اخرت میں سنے گا جیسے چیونٹی کے افعال ہیں کہ وہ سب قوت شامہ سے صادر ہوتے ہیں اور جیسے اس کا اپنی غرض و مقصود کی طرف چلنا اور اپنے سوراخ کی طرف لوٹنا اور اسی طرح معدہ کے افعال مثل ہضم اور جذب اور مسک وغیرہ اسی کے متعلق ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے جس کو شیخ ابو منصور ماتریدی نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے کلام باری تعالی بغیر جہت اور طرف کے سنی ہے اور ایسی آواز سے سنی جو بندوں کی آواز سے علیحدہ ہے اور ایسی کیفیت سے سنی ہے کہ ہمارے سننے کی کیفیت سے علیحدہ اور غیر ہے اور حاصل اس وجہ کا یہ ہے کہ اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کا اکرام فرمایا<br />
پس ان کو اپنا کلام ایک نئی آواز سے سنا دیا اور اس آواز میں کسی کے کسب کو دخل نہیں ہے اور تیسری وجہ کلیم اللہ کہنے کی یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے کلام باری کو ہر طرف سے سنا اور تمام بدن سے سنا فقط قوت سامعہ ہی سے نہیں سنا پس ہر جز موسی علیہ السلام کا اس وقت کان بن گیا تھا اور ابو اسحاق اسفرائینی اور اکثر مفسرین کا یہی مسلک ہے کلام یہ ہے کہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کے کلام ہر مصحف میں لکھی ہوئی ہے اور ہر زبان سے پڑھی جاتی ہے یہ وحدت نوعیہ کے اعتبار سے ہے اور جو یہ کہتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالی کی کلام کی حکایت ہے اور اس کی مثل ہے تو یہ باعتبار وحدت شخصیہ کے ہے کیونکہ کلام تو وہی ہے جو فرشتہ کی زبان پر پیدا کی گئی ہے اور جو کہتے ہیں کہ کلام اللہ کی زبان کے ساتھ قائم نہیں ہے اور نہ کسی مصحف ولوح کی لکھی ہوئی ہے تو اس وقت کلام سے مراد کلام حقیقی نفسی ہے جو صفت ازلیہ ہے پھر جاننا چاہیے کہ معنی سے مراد معنی ازلی ہیں جو اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ قائم ہیں اور وہ معانی جو الفاظ سے وضع لغوی یا شرعی سے نکلتے ہیں مراد نہیں ہیں کیونکہ اس اعتبار سے معنی اور لفظ دال ہمارے ذہنوں اور ہماری زبانوں کے ساتھ قائم ہیں اور پھر دونوں سے دونوں شے حادث ہیں اور اللہ تعالی کی صفت ازلیہ علامات حدوث سے پاک ہیں اور اللہ تعالی کا اپنے کلام کو اتارنے کے معنی یہ ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام کلام باری تعالی کو اپنے مقام میں ادراک کرتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺکی خدمت میں زبان عربی میں معنی کو ادا کرتے ہیں اور لفظ مرادف سے اور یا کسی اور طریق ادا نہ کرتے تھے اور اسی قید کے سبب سے نظم قرآن معجزہ ہے محقق تفتازانی نے مقاصد میں اسی طرح اس کی تحقیق کی ہے اور بعض مجتہدین نے زبان فارسی سے جو قرآن کے مرادف ہو اور معنی قدیم پر دال ہو نماز جائز قرار دی ہے پس کلام حقیقی تو کلام نفسی ہی ہے اور الفاظ اور نقوش اس کے دلائل اور علامات ہیں پس کلام لفظی مترجم با اور کلام نفسی مترجم عنہ ہے اور مترجم پیغمبروں کی زبانی خواہ وہ فرشتہ ہو یا آدمی اللہ تعالی ہیں پس جو یہ وہم کرتا ہے کہ یہ مابین جلد کے اور جو سینہ کے درمیان میں محفوظ ہے اور جو زبان سے پڑھا جاتا ہے یہ کلام اللہ نہیں ہے وہ طریق سنت سے منحرف ہے اور طریق خلاف سنت کا درپے ہے اس کو خبر نہیں کہ بعینہ اللہ ہی کی کلام ہے فرق اتنا ہے کہ یہ مظاہر میں ظاہر ہو گیا ہے اور مرتبہ وجوبیہ محضہ سے اتر کر الفاظ اور حروف کے رنگ میں رنگین ہو گیا ہے پس جو اللہ کے کلام پر ایمان نہیں لاتا ہے وہ تو اللہ کی رویت پر بحیثیت ذات اللہ کے ایمان نہ لائے تو عجیب نہیں ہے کیونکہ ان ظاہری آنکھوں سے وہی شے دکھائی دیتی ہے جو خود رنگ ہو اور یا رنگین ہو اور باری تعالی نہ رنگ ہیں اور نہ رنگین ہیں پس رویت باری تعالی کی محال ہوئی ارے بے وقوف تجھ کو یہ سبھی خبر ہے کہ تو خود بارہا اپنے نفس سے باتیں کرتا ہے اور نہ اس میں صوت ہوتی ہے اور نہ حرف پھر اور وہ تیری مراد نہیں ہوتی اور پھر الفاظ اور حروف سے اور کچھ تعبیر کرتا ہے اور کلام نفسی کے کلام ہونے کے لیے یہ قول شاعر کا کافی ہے<br />
ان الکلام نفی الفواد وانما جعل اللسان علی الفواد دلیل<br />
یعنی بے شک کلام تو دل میں ہے اور زبان محض علامت اور دلیل ہے۔</p>
<h2>اکسٹھواں مرحلہ</h2>
<h3>وحی کس طریقے</h3>
<p>وحی کس طریقے سے ہوتی ہے ؟<br />
بعض محققین نے کہا ہے کہ لاہوت جبروت میں ظاہر ہے اور جبروت ملکوت میں اور ملکوت ناسوت میں پس ہر ایک شخص میں یہ چاروں عالم مندرج ہے بس انسان کا ناسوت اس کے ملکوت سے خارج نہیں اورنہ ملکوت جبروت سے خارج ہے اور جبروت لاہوت سے خارج نہیں ہے پس ایک شے میں یہ چاروں عالم مجتمع ہیں اور یہ معلوم ہے کہ عالم ارواح عالم معنی کی اقسام سے ہے اسی واسطے جب سالک خواب میں یا بیداری میں فرشتہ کو دیکھتا ہے کسی امر خارجی کو نہیں دیکھتا بس انبیاء علیہم السلام میں حضرت لاہوت سے معانی موافق ان کے قلوب کی وسعت کے نازل ہوتے ہیں پھر وہ معانی حضرت مثال سے لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور پیغمبر اس لباس مصور کے ادا کرنے کو تلقین کیے جاتے ہیں کیونکہ عالم معانی ارواح میں نہایت جدی نفوذ کرتا ہے کیونکہ ارواح پیغمبروں کی بہت لطیف ہوتی ہیں پس عارف تو یہ کہتا ہے کہ اس نبی کی لاہوتیت نے بواسطہ اس کے اس ملکوتیت کے کہ وہ معانی ہیں جو حضرت مثال سے اکتساب کیے گئے ہیں اس نبی کی زبان سے خطاب اور تکلم کیا ہے اور پھر کلام وہی اور واسطہ دونوں رسول سے خارج نہیں اور محجوب یعنی جو عارف نہیں ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی اس زبان سے جو اس کے لیے شایان ہے اپنے فرشتہ جبرائیل پر وحی کی اور جبرائیل نے پیغمبر کی طرف اپنی زبان سے وحی کی اور پیغمبر نے اپنی زبان سے لوگوں کو سنایا مثنوی معنی میں مولانا روم فرماتے ہیں<br />
گرچہ قران از لب پیغمبر ست ہر کہ گویا حق نہ گفت او کافر ست<br />
اور اسی طرح انی انا اللہ لا الہ الا انا موسی علیہ السلام کے قلب لا ہوتی نے کہا تھا اور موسی علیہ السلام کے کان ناسوتی نے سنا تھا بس حاکی اور محکی علیہ اور محکی جملہ مراتب کا ایک امر ہے</p>
<h2>باسٹھواں مرحلہ</h2>
<h3>الفاظ قرآنیہ اور مصاحف حقیقت کلام اللہ ہیں؟</h3>
<p>تحقیق اس کی کے الفاظ قرآنیہ اور مصاحف حقیقت کلام اللہ ہیں یا نہیں<br />
حروف منقوشہ حروف ملفوظہ کے اشباح یعنی نقش ہیں اورحروف ملفوظہ ان معانی کے جو الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں نقش ہیں اور معانی اس صفت ازلیہ کے جو اللہ تعالی کے ساتھ قائم ہے اشباح و عکس ہیں پس الفاظ روح ارواح الارواح ہے پس اسی سبب الفاظ کا احترام اور الفاظ کی تعظیم کی جاتی ہے اور اسی واسطے دارالحرب میں قرآن شریف لے جانا منع ہے کیونکہ نقوش اس صفت ازلیہ پر بواسطہ دلالت کرتے ہیں پس مسمی ایک ہے اورتکثر اسماء میں ہے پس لغات کا اختلاف اسماء الاسماء میں اختلاف ہے مثلاً ذات کو جو صفات کی جامع ہے عربی میں اللہ کہتے ہیں اور فارسی میں خدا اور حبشہ میں واق اور افرنجی میں کریطور اور ہندی میں نرسنجن کہتے ہیں<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> جس صورت میں کہ یہ جلد کے درمیان میں مصحف اللہ کے کلام حقیقتا نہیں بلکہ کلام حقیقی پر دال ہے تو جو اس مصحف کے کلام اللہ ہونے سے انکار کرے اس کی کیوں تکفیر کی جاتی ہے حالانکہ اس کے کلام اللہ ہونے کا اقرار ضروریات دین سے ہے اور منکر کی تکفیر کی جاتی ہے۔<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:۔</span> تکفیر منکر کی اس وقت کی جاتی ہے جب یہ اعتقاد رکھے کہ یہ کلام آدمی کا گھڑا ہوا ہے اور جب یہ اعتقاد ہو کہ یہ اللہ تعالی کی صفت حقیقت نہیں ہے بلکہ اس پر دال ہے تو ایسے شخص کی تکفیر جائز نہیں ہے اور تکفیر کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ یہ ہی اکثر اشاعرہ کا مذہب ہے اور شرع سے یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ جامہ میں جو مصحف ہے یہ صفت پر دال ہے عین صفت نہیں ہے امام رازی نے تفسیر کبیر میں کہا ہے کہ جب یہ کہتے ہیں کہ یہ حروف جو ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور یہ آوازیں جو پے در پے سنائی دیتی ہیں اللہ کے کلام ہے تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ الفاظ ہیں جو صفت ازلیہ خداوندی پردال ہیں پس معلوم ہوا کہ ان الفاظ کو کلام کہنا مجاز ہے ختم ہوئی کلام انام کی<br />
اور مجاز سے مراد امام کے کلام میں مجاز لغوی ہے اور یہ اس کے حقیقت شرعیہ ہونے کے منافی نہیں اور حاصل کلام یہ ہے کہ جس کلام نفسی کے ساتھ حق سبحانہ و تعالی موصوف ہیں وہ حدوث کے لوازم سے ہے جیسے کہ تالیف اور اخبار ہونا اور انشاء ہونا اور ماضی اور حال اور استقبال ہونا سب سے منزہ و بری ہے یہ سب مخاطب کے سمجھانے کے لیے ہے پس کلام نفسی اور لفظی کو کلام اللہ کہنا لفظی اشتراک کی وجہ سے ہے پس معلوم ہوا کہ کلام نفسی اور کلام لفظی کو کلام اللہ کہنا حقیقتا ہے مجاز نہیں ہے محققین نے اس مقام کی اس طرح تحقیق کی ہے واللہ اعلم بحقیقت الحال پس پاک ہے وہ ذات کہ عقول اس کی صفات میں حیران ہے جیسا کہ ذات میں حیران ہیں</p>
<h2>تریسٹھواں مرحلہ</h2>
<h3> صفت تکوین کی تحقیق</h3>
<p>تکوین صفت ازلیہ ہے حنفیہ کے نزدیک قدرت کے مغائر ہے اللہ تعالی نے فرمایا ہم کسی شے کی ایجاد کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کو کہہ دیتے ہیں کہ ہو پس وہ شے ہو جاتی ہے پس اللہ تعالی کا کن فرمانا امر ہے جو اس شے کے وجود پر مقدم ہے مقاصد میں کہا ہے کہ یہ قول شیخ ابو منصور ماتریدی اور ان کے متبعین سے مشہور ہوا ہے اور ابو منصور اور ان کے متبعین اس قول کو اپنے متقدمین کی طرف جو شیخ ابوالحسن اشعری سے پہلے ہوئے ہیں نسبت کرتے ہیں ابو جعفر طحاوی نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کے لیے ربوبیت ہے اور مربوب نہیں ہے اور خالقیت ہے مخلوق نہیں ہے اور تکوین ہے اور مکون نہیں ہے پس تکوین معدوم کو عدم سے وجود کی طرف نکالنے کو کہتے ہیں اور باری تعالی کیلئےاس صفت کا ہونا ضروری ہے اور یہ صفت ازلیہ ہے کیونکہ ذات باری تعالی میں حادث کا وجود تو محال ہے خلق کو تکوین کرنا تخلیق ہے اور رزق کی تکوین ترزیق ہے اور صورت کی تکوین تصویر ہے اور حیات کی تکوین احیا ہے اور موت کی تکوین اماتت ہے پس صفت تکوین کی اسمائے آثار کے مختلف ہونے کے سبب سے مختلف ہیں علماء نے کہا ہے کہ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ امر صفات حقیقت میں ہے جیسے علم اور قدرت اور ارادہ ہیں ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ تاثیر اور ایجاد بھی ایسا ہی ہے بلکہ ایجاد اور تاثیر تو ایک معنی میں جو موثر کے اثر کی طرف مضاف کرنے سے سمجھے جاتے ہیں یہ معنی اس شے میں تحقق ہوں گے جو ازلی ہو امام رازی نے کہا ہے کہ جس صفت کا نام تکوین رکھا ہے اس کی تاثیر بذات خود ہی کسی ارادہ کی جود و جانب میں سے فعل کو یا ترک کو ترجیح دے ضرورت نہیں ہے اب وہ تاثیر دو حال سے خالی نہیں یا تو علی سبیل الجواز اثر کرے گی اور یا علی سبیل الوجوب پہلی صورت میں تو وہ عین قدرت ہے اور دوسری صورت میں باری تعالی کا غیر مختار ہونا لازم اتا ہے جمع الجوامع میں کہا ہے کہ افعال کی صفات جیسے کہ خلق اور رزق اور احیا اور اما تت یہ سب ازلی نہیں ہیں اور یہ حنفیہ کے خلاف ہے بلکہ یہ سب حادث ہیں اور متجدد ہیں کیونکہ یہ جملہ صفات محض اضافات ہیں جو قدرت کو عارض ہوتی ہیں اور وہ قدرت وجود مقدور کے ساتھ ان کی اوقات میں قدرت کا تعلق ہے اور اس میں کچھ اشکال نہیں کہ باری تعالی اضافات کے ساتھ موصوف ہو کیونکہ وہ عالم ہے پہلے بھی ہیں اور ساتھ بھی ہیں اور بعد بھی ہیں<br />
<span style="color: #ff0000;">سوال:۔</span> قرآن میں اسماء افعال وارد ہوئے ہیں چنانچہ حق تعالی فرماتے ہیں کہ ھو اللہ الخالق البای المصوراور فرمایا ہے ھو الرزق ذوالقوۃ المتین پس باری تعالی کا موصوف ہونا صفات ازلیہ ہی کے ساتھ کیسے درست ہو جیسا کہ قران اور جو اسماء اس میں واقع ہیں قدیم ہیں اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ تخلیق اور تصویر اور ترزیق سب قدیم ہوں امام غزالی رحمت اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی کے خالق ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ عنقریب پیدا کرنے والے ہیں.<br />
<span style="color: #ff0000;">جواب:</span>۔ مصنف جمع الجوامع کا مسلک یہ ہے کہ جن اسماء کا صفات افعال کی طرف مرجع ہے تو ان کی ازلیت اس حیثیت سے ہے کہ وہ قدرت کی طرف سے راجع ہیں نہ کہ فعل کی طرف پس خالق وہ ہے کہ جس کو قدرت ہے نہ کہ وہ کہ فعل خلق کے ساتھ متصف ہے اور قدرت ظاہر ہے کہ ازلی ہے اسی طرح خلق بھی ازلی ہوگی جیسا کہ اس پانی کو جو پیالہ میں رکھا ہے سیراب کرنے والا کہا جاتا ہے تو معنی اس کے یہ ہیں کہ وہ ایسی حالت کے ساتھ موصوف ہے کہ پیاسے کے پیٹ میں جائے تو اس کو سیرابی حاصل ہو جائے اور جیسا کہ تلوار کو کاٹ کرنے والی کہا جاتا ہے پس محققین نے کہا ہے کہ ضارب اس کو کہتے ہیں جو صفت ضرب کے ساتھ بالفعل متصف ہو اور ان اسماء کی ازلیت صحیح نہیں ہے پس مناسب یہ ہے کہ خالق اسمائے حسنی سے نہ شمار کیا جائے کیونکہ اسماء حسنی سب ازلی ہیں اور کسی شے کی ابتدا نہ ہونے کو ازلیت کہتے ہیں اور ہمارا قول کہ عنقریب پیدا کریں گے مستقبل کو واجب کرتا ہے پس اس کو ازل سے مقابلہ نہیں ہے کیونکہ ماضی وہ حال وہ مستقبل یہ سب زمانہ کی قسمیں ہیں اور ازل زمانہ پر مقدم ہے کیونکہ زمانہ کی طرف اولیت مضاف کی جاتی ہے اور ازل اول کی نفی اور عدم ہے<br />
سوال:. وہ فرق جو خالق اور مخلوق کے درمیان متوہم ہوتا ہے اس کا وجود وہم میں ہوا ہے پس باری خالقیت کے ساتھ ازل میں موصوف ہے اور یہی مقصود ہے<br />
جواب :.کے نزدیک زمانہ ایسا متجدد اور معلوم ہے کہ جسے دوسرا تجدد و مبہم ابہام کی ازالہ کے لیے اندازہ کیا جاتا ہے اور کبھی یہ انداز کرنا برعکس بھی ہوتا ہے پس کبھی یہ اس کے ساتھ انداز کیا جاتا ہے اور کبھی وہ اس کے ساتھ انداز کیے جاتے ہیں پس جب ہم کہتے ہیں کہ زید کب آیا تو جواب میں مثلا جس وقت مخاطب آفتاب نکلنے سے واقف ہو اور زید کے آنے سے واقف نہ ہو کہتے ہیں کہ آفتاب نکلنے کے وقت اور پھر اگر یہ دریافت کیا جاتا ہے کہ آفتاب کب نکلا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ جب زید آیا تھا اور یہ جواب اس وقت دیا جائے گا جبکہ مخاطب زید کے آنے کو جانتا ہو اورآفتاب نکلنے کو نہ جانتا ہو اور اسی واسطے زمانہ ہر قوم کے نزدیک مختلف ہے ہر شخص شے معلوم سے شے مبہم کا اندازہ کرتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ خالق کی زمانہ اور زمانیات سب سے تنزیہہ کی جاتی ہے پس خالق اور مخلوق میں کیسے استعداد ہو سکتا ہے اور اسی واسطے امام حجت الاسلام کا مسلک یہ ہے کہ صفات اور افعال کی ازلیت صفت قدرت کی طرف راجع ہے بس ہمارا یہ کہنا کہ وہ خالق ہے مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ خلق پر قادر ہے اور اس تقدیر پر یہ لازم آتا ہے کہ لفظ خالق کا اطلاق اللہ تعالی پر قبل از خلق مجاز ہو حالانکہ خالق اسماء حسنی سے ہے اور اسماء سب حقیقتا اور بالفعل ثابت ہیں کیونکہ اللہ تعالی اس سے بری ہیں کہ کوئی شے ان کو بالقوت اور بالامکان ثابت ہو اور جس شے کو وجود بالفعل ہے وہ اس شے سے اتم ہیں جس کا وجود بالقوہ اور بالامکان ہے اور اللہ تعالی کی کوئی حالت منتظرہ جس سے وہ تمامی حاصل کرے نہیں ہے اور امام نے اس شکل سے بچنے کے لیے کہا ہے کہ قدرت ازل میں بالفعل اثر کرتی ہے لیکن مقدورات اس وقت ظاہر نہ ہوئے تھے کیونکہ ہر مقدور ایک وقت میں اور اپنی رتبہ میں ظاہر ہوتا ہے پس مقدورات کا ازل میں نہ ہونا اس سبب سے ہے کہ ارادہ ان کے متعلق نہیں ہوا نہ اس سبب سے کہ قدرت نے تاثیر نہیں کی اور بعض نے کہا ہے کہ خلق کی دو قسم ہیں اول خلق تقدیر اور وہ امر پر مقدم ہے جیسا کہ حق تعالی کے قول میں بھی اول ذکر کیا ہے فرماتے ہیں الا لہ الخلق والامر اور دوسرے قسم خلق ایجاد اور وہ امر کے پیچھے ہے اور امر اس سے رتبۃ مقدم ہے پس خالق اسمائے حسنہ میں سے ایک اسم ہے اور ازلی ہے کیونکہ وہ اس خلق سے مشتق ہے جو امر سے مقدم ہے پس اس تقریر سے واضح ہو گیا کہ تکوین کو اکثر متکلمین نے تو قدرت ہی کی طرف رد کیا ہے اور محققین صوفیا نے اس کو صفت کلام کی طرف لوٹایا ہے شیخ نے فصل میں کہا ہے کہ جب باری تعالی نے کسی شے کی تکمیل کا امر کرتے ہیں تو اس شے کا مکون ہونا اپنی ذات سے ہے پس تکوین شے کے لیے ہے حق کے لیے نہیں اور حق کا اس میں صرف امر ہے اور اسی واسطے فرمایا ہے انما قولنا لشی اذا اردناہ پس تقوین کی نسبت نفس شے کی طرف اللہ کے امر سے ہے اور یہ بات خاص باری تعالی کے ہی امر میں ان نقول لہ کن فیکون بس تقوین کی نسبت نفس شے کی طرف اللہ کے امر سے ہے اور یہ بات خاص باری تعالی کے ہی امر میں صادق ہے اور اسی واسطے اپنی طرف نسبت کر کے فرمایا اور یہ بات واقع میں معقول ہے جیسا کہ وہ شخص کہ اس کا خوف کیا جاتا ہے اور اس کی کوئی نافرمانی نہیں کرتا اپنے غلام سے کہے کہ کھڑا ہو پس وہ اپنے آقا کا حکم بجا لانے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے اور خود آقا کو اس غلام کے کھڑے ہونے میں سوائے امر کرنے کی کوئی دخل نہیں ہے اور کھڑا ہونا خود اس غلام کا فیل ہے نہ کہ آقا کا</p>
<h2>چونسٹھواں مرحلہ</h2>
<h3>رؤیت باری تعالی ممکن یا ناممکن</h3>
<p>تحقیق اس کی کہ باری تعالی کی رؤیت ہو سکتی ہے یا نہیں<br />
اللہ سبحانہ و تعالی کی رویت اشاعرہ کے نزدیک تو متحقق ہے اور اکثروں نے اس کو ممتنع کہا ہے سید شریف جرجانی نے کہا ہے کہ رویت سے اگر مراد کشف تام ہے تو اس کا امکان مسلم ہے کیونکہ اس طرف کا پردہ کھلنے اور تعلقات کے قطع ہونے کے وقت اور ملا اعلی میں جا ملنے کے وقت تمام معارف یقینیات مثل مشاہدات کے ہو جاتے ہیں اور اگر رویت سے مراد وہ حالت ہو جو اجسام کے دیکھنے کے وقت مدرک ہوتی ہے تو ایسی رویت کا امکان مسلم نہیں ہے کیونکہ ایسی حالت تو جب ہی متصور ہو سکتی ہے جب کہ اس شے دیکھی ہوئی کی صورت نقش پذیر ہو اور یا شعاع جو آنکھ سے نکلتی ہے وہ اس شے سے ملے اور یہ امر اللہ تعالی کے حق میں محال ہے اور اگر رویت سے مراد وہ حالت ہے وہ جو انسان کسی شے کے دیکھنے کے بعد علم کے پاتا ہے پس ہم کہتے ہیں کہ یہ حالت دوسری ہے جو اس حالت کے جو علم کے وقت حاصل ہوتی ہے مغائر ہے چنانچہ ہم دونوں میں فرق پاتے ہیں اور اس فرق کا مرجع صورت کے نقش پذیر ہونے اور شعاع کے نکلنے کی طرف نہیں ہے کیونکہ باوجود نقش پذیر ہونے کے اور شعاع کے نکلنے کے بھی اس حالت کا حاصل ہونا ممکن ہے پس کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ کی رویت اسی طریق سے ہو لیکن اس کا ثابت ہونا اس پر موقوف ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ یہ کشف تام بہ معنی مذکور کے مغائر ہے محقق دوانی نے کہا ہے کہ دیکھنے سے مراد ادراک تمام اور انکشاف بلیغ ہے جو دنیا میں تو آنکھ کھولنے اور دیکھنے والے میں اور اس شے میں محاذات اور قرب اور شعاع کے نکلنے اور یا نقش پذیر ہونے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے حق میں یہ ادراک آخرت میں بغیر ان شرائط کے حاصل ہو جائے گا اور ان شرائط کے اس دنیا میں ہماری ادراک کے شرط ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہی شرائط آخرت میں بھی شرائط ہوں کیونکہ اللہ تعالی کو قدرت ہے کہ آنکھ میں ایسی قدرت پیدا کر دیں کہ جو بغیر ان شرائط کے بھی حق کا ادراک ہو سکے یا یہ کہا جائے کہ یہ اسباب عادیہ ہیں دیکھنا بدون ان کے بھی ممکن ہے اور اہل حق نے کہا ہے کہ آخرت کی زندگی کا مزاج دنیا کی زندگی کے مزاج کے خلاف ہے ورنہ وجود ہمیشہ ابدالآباد تک کیسے باقی رہ سکتا ہے کیونکہ یہ مزاج ہمیشہ رہنے کے قابل نہیں اور دارآخرت میں محض حیات ہی حیات ہے بس ممکن ہے کہ آنکھ کے دیکھنے کا مزاج متغیر ہو جائے ختم ہوئی کلام اہل حق کی<br />
اور اہل کشف و معائنہ کے نزدیک رویت اپنی حد ذات میں صحیح ہے لیکن رویت بغیر نورانی پردوں یا ظلمانی پردوں کے واقع نہیں ہوتی رسول اللہ ﷺنے فرمایا بے شک اللہ کے لیے ستر پردے نور کے ہیں اور ستر ظلمت کے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے جنت کی رویت کو بیان فرمایا کہ وہ مشابہ رویت چاند اور سورج کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اپنے رب کو دیکھیں گے اس کے درمیان اور لوگوں کے درمیان صرف رداء کبریائی ہوگی پس حجاب وہاں بھی باقی رہے گا اور وہ مرتبہ مظہر کا ہے عارف باللہ نے فرمایا ہے کہ انسان ذات بغیر مظہر کے ادراک نہیں کر سکتا اگرچہ انسان شدت سے ہلاک ہو جائے نبی ﷺسے دریافت کیا گیا کہ حضرت آپ نے اپنے پروردگار کو شب معراج میں دیکھا ہے فرمایا ہے کہ کیا نورانی بھی دیکھا جا سکتا ہے یعنی نور حقیقی مجرد کی رویت ممکن نہیں ہے حق تعالی اپنے نور کے ظہور کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے اور تمثیل کے مراتب جب ذکر کیے تو فرمایا کہ نور پر نور ہے تو ان میں سے ایک نور تو مقید ہے اور دوسرا مطلق ہے اور فرمایا کہ اللہ اپنے نور کی جس کو چاہیں ہدایت کریں یعنی اپنے اس نور سے جو مظاہر میں متعین ہے نور مطلق احادیث کی طرف جس کو چاہے ہدایت کریں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا نے رسول اللہ ﷺکی نسبت دریافت کیا کہ آپ نے پروردگار کو دیکھا یا نہیں فرمایا کہ دیکھا ہے اس سائل سے کسی نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے پوچھا تھا تو فرمایا کہ نورانی کو دیکھ سکتا ہوں سائل نے پھر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے دریافت کیا فرمایا کہ حضور کا یہ فرمانا اس نور کی نسبت ہے کہ جس کا ادراک اس اعتبار سے مظاہر اور نسبت اور اضافات سے تجرد ہو ممکن نہیں ہے اور مظاہر میں اور پردوں کے پیچھے تو ادراک ممکن ہے کیونکہ ہماری بینائی نور حقیقی کی رویت پر قادر نہیں ہے اور کسی شے کو سوائے اللہ تعالی کے نور کہنا مجاز ہے اور نور حقیقی دیکھا نہیں جا سکتا کیونکہ اس کا وصف خاص تو پوشیدگی ہے پس اس کو سوائے اس کے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور باطن بہ سبب غایت ظہور کے ہے جیسے کہ سورج کہ اس کی روشنی آنکھ کو چوندھیاتی ہے بس دیکھی نہیں اور باعتبار مظاہر کے بلاشبہ دیکھ سکتی ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو نہایت اچھی صورت میں دیکھا اور میں نے اپنے رب کو امرد گھنگریالے بال والے کی صورت میں دیکھا اور حدیث میں صورۃ کا اثبات حق تعالی کے لیے وارد ہے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے کیونکہ اللہ تعالی نے مظاہر میں ظاہر ہوئے ہیں جیسا کہ حقیقت جبرئیلیہ بشر کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی اور جب کہ یہ امر فرشتہ کے اندر استحالہ اور انقلاب نہیں ہے بلکہ جبرائیل اپنی حقیقت پر باقی رہے اور اسی طرح دحیہ اپنی صورت پر رہے تو اللہ سبحانہ و تعالی کے حق میں سونا یا جاگنا محال نہیں ہے اور صحیح مسلم میں وارد ہوا ہے کہ حق تعالی نے دن قیامت کے ہرایک کے عقیدے کی صورت میں تجلی فرمائیں گے اور اس کی قدرت ظہور اور بطون میں برابر ہے اور جب امیر المومنین یعسوب الموحدین علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی نسبت سوال کیا تو فرمایا کہ میں ایسے رب کی عبادت نہیں کرتا جس کو دیکھا نہیں ہے تو یہ مظاہر پر تجلی فرمانے پر محمول ہے</p>
<h2>پینسٹھواں مرحلہ</h2>
<h3>اسمائے متضادہ اور صفات متقابلہ</h3>
<p>اسماء الہی میں اسمائے متضادہ اور صفات متقابلہ کا بیان<br />
جاننا چاہیے کہ اللہ تعالی کی بے شمار اسماء ہیں بعض تو ان میں سے متقابل و متضاد ہیں جیسے کہ لطیفہ جمالیہ اور قہریہ جلالیہ پس ایک کا تعین دوسرے کے تعین کے متضاد ہے چنانچہ باطن کا مقتضی ظاہر کے مقتضی کے خلاف ہے اور اسماء متضادہ اور صفات متقابلہ ازل سے ابد تک ان میں سے ایک کا مقتضی ثابت ہوتا ہے اور دوسرے کا منفی ہوتا ہے اور کچھ اس میں تعطیل و تمہیل لازم نہیں آتی کیونکہ تعطیل تو ایک قسم کا عجز اور لغو اور عبث ہے اور صفت قدرت کے منافی ہے اور تعطیل کے نہ ہونے کی صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ عالم ہر آن میں معدوم ہوتا رہے اور نیا پیدا ہوتا ر ہے کیونکہ ایک آن میں دو تجلی متضاد نہیں سما سکتی اور اگر تمام اسماء کی تجلی ہر اسم کی تجلی میں ہو تو یہ لازم آتا ہے کہ ایک ہی آن میں تجلی لطفی ہو اور اسی آن میں تجلی قہری ہو مثلا پس ہر حقیقت امکانیہ کے جب شرائط وجود کے حاصل ہو جائیں تو اس کو رحمت الہیہ کہ جس کا فیض وجود ہے ادراک کرتی ہے پس وجود اس پر بقدر اس استعداد کے جس کو وہ مقتضی ہے فائز ہوتا ہے پس ظاہر وجود کہ جو باطن وجود کا ائینہ ہے عین سابقہ کے احکام کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے پس ایک تعین خاص سے کہ جو اور تعینات سے ممتاز ہے متعین ہو جاتا ہے اور وہ تعین اطلاقی نہیں ہوتا کیونکہ وہ کل مظاہر میں ظہور کی مجال نہیں رکھتا ہے پس یہ تجلی لطفی کا حاصل ہے اس کے بعد صفت قہریہ اس تعین کے اضمحلال کو اور اس کے تمام آثار کے ہلاک کرنے کو مقتضی ہوتی ہے اور لطف کے مقتضی کو اور جمال کے جاتے رہنے کو مقتضی ہوتی ہے اور اسی آن میں رحمت رحمانیہ ایک اور یقین جو پہلے کا مناسب ہے متعین ہو جاتا ہے اور اسی طرح لطف اور جمال سے تعین مقرر ہوتا رہتا ہے اور انعدام بھی ہوتا رہتا ہے جب تک اللہ چاہتے ہیں اور اسی طرف اللہ تعالی نے اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا کل یوم ھو فی شان یعنی وہ ہر دن ایک حال میں ہے اور فرمایا ہے بل ھم فی لبس من خلق جدید یعنی بلکہ وہ التباس میں ہے پیدائش نئی سے پس دونوں صفات متضاد میں سے ہر ایک نوبت بنوبت فعل اور اعدام میں ہے اور تعطیل لازم نہیں آتی بس بطون تو اثر جلال کا ہے اور ظہور علامت جمال کی ہے یا عرض و اعتبار ذات کے عرض ہے کیونکہ جس شے کو ظاہر بین اور کوتا ہ نظر جواہر خیال کرتے ہیں اگر اس میں نظر تدقیق سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ عرض ہے کیونکہ جس شے کو جوہر سمجھتے ہیں اگر اس کی حد میں غور کیا جائے تو سوائے عرض کے کوئی شے ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ ہر شے مرتبہ ذات میں ایسی اوصاف والی ہے کہ اس سے ماہیت دوسرے ماہیت سے ممتاز ہوتی ہے دیکھتے نہیں کہ جب یہ کہا جائے کہ انسان کیا ہے اور جواب میں حیوان ناطق کہا جاتا ہے تو نطق عرض ہے کہ جس سے انسان تمام حیوانات سے ممتاز ہو جاتا ہے اور جب یہ پوچھا جائے کہ حیوان کیا ہے اور جواب میں کہا جاتا ہے کہ ایک جسم نامی حساس متحرک بالارادہ ہے تو اس حد میں ظاہر ہے کہ نمو اور حس اور تحرک سب کے سب عرض ہیں ان سے ہی اور اجسام سے حیوان ممتاز ہوتا ہے اور جب پوچھا جاتا ہے کہ جسم کیا ہے اور جواب میں کہا جاتا ہے کہ جسم ایک جوہر ہے جو ابعاد ثلاثہ کو قبول کرے پس یہ قبول ایک عرض ہے کہ جس سے جسم اور جواہر سے ممتاز ہوتا ہے اور جب یہ پوچھا جائے کہ جوہر کیا ہے اور جواب میں کہا جاتا ہے کہ ایک ایسا موجود ہے جس کا وجود اور عدم برابر ہو پس اس کا اس برابری کے ساتھ موصوف ہونا عرض ہے پس ان مراتب میں سوائے ذات مبہم کے یعنی وجود مطلقہ کے کچھ نہیں ہے اس ذات ہی پر عرض ماہیات میں تمیز دینے کے لیے طاری ہوئے ہیں پس ذات مبہمہ وہ ہی جوہر حقیقی ہے کیونکہ وہی غیر کا مقوم ہے اور ممکن اور جواہر اور جسم اور جسم نامی اور حیوان اور انسان یہ سب اعراض ہیں جو ظاہر وجود کے ساتھ افراد معینہ اور احکام مخصوصہ کے ساتھ اس کو خاص کرنے کے لیے قائم ہے اور اس بات کا قائل ہونا بھی کہ اصحاب کشف اور مشاہدہ کے مشاہدات ہمارے قول کے مؤید ہیں اور بعض اہل نظر کہتے ہیں کہ اعراض دو زمانوں میں باقی نہیں رہ سکتی مگر یہ قائل جواہر کے حال سے غافل رہا کہ ان کی بھی یہی حالت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عالم اپنے تمام اجزاء سے یہ خیال ہے جو دو نامعلوم زمانوں میں باقی نہیں رہ سکتا لیکن یہ قائل ذات مبہمہ مطلقہ سے جو صورت عالم کی مقومہ ہے غافل رہا اور اہل کشف و مشاہدہ نے یہ ادراک کر لیا ہے کہ اللہ تعالی ہر ان میں ایک تجلی خاص میں تجلی فرماتے ہیں تجلیات میں تکرار نہیں پس ہر آن میں اس کا ایک جمال ہے جو پہلے جمال کا غیر ہے کیونکہ تکرار اگر ہو تو اس میں ایک قسم کا نقصان ہے پس دو آن میں ایک تعین کے ساتھ ہونا یا ایک آن میں دو تعین کے ساتھ ہونا دونوں نازیبا ہیں کیونکہ یہ دونوں سبب نقصان ہیں خواہ فاعلیت میں نقصان ہو یا قابلیت میں اور حالانکہ دونوں میں نقصان نہیں ہے اور اب اس کا وقت پہنچ گیا کہ قوت عاقلہ ترتیب امور سے سانس لے اور انگلیاں سطور کے لکھنے سے راحت پائیں اور کاغذ کا چہرہ قلم کی تیزی کی خراش سے متغیر ہو اور قلم اور قلم چاقو کی ضرب سے سر سے قدم تک فنا ہو جائے بس یہ آخر اس مضمون کا ہے جس کو قلم نے لکھا ہے اور میں اس کی تعریف سے 1134 ہجری نبوی ﷺنے فارغ ہوا ختم اللہ لنا بالحسنی آمین۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%258c%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%A1%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%DB%8C%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/" data-a2a-title="سواء السبیل کلیمی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%a1-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8%db%8c%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خاندانِ نبوی ﷺ کے فضائل و برکات   العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86%d9%90-%d9%86%d8%a8%d9%88%db%8c-%ef%b7%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86%d9%90-%d9%86%d8%a8%d9%88%db%8c-%ef%b7%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 26 Sep 2024 04:22:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر]]></category>
		<category><![CDATA[اہلبیت جنت کا ایک درخت]]></category>
		<category><![CDATA[خاندانِ نبوی ﷺ کے فضائل و برکات]]></category>
		<category><![CDATA[رسول اللہ کا رحم دنیا اور آخرت میں جڑا ہوا ہے]]></category>
		<category><![CDATA[رسول اللہ کی رشتہ داری]]></category>
		<category><![CDATA[سب سے پہلے اہل بیت کی شفاعت]]></category>
		<category><![CDATA[سبب اور نسب قیامت کے دن منقطع ہونا]]></category>
		<category><![CDATA[عترت کے ساتھ بھلائی کی وصیت]]></category>
		<category><![CDATA[عمل پہلے نسب بعد]]></category>
		<category><![CDATA[کتاب اللہ اور عترت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9166</guid>

					<description><![CDATA[ خاندانِ نبوی ﷺ کے فضائل و برکات   العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر  علامہ ابن عابدین علیہ الرحمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین، وصلى اللہ تعالیٰ وسلم على أفضل خلقه أجمعین، وعلى آله وصحابته وذريته الطاهرين، <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86%d9%90-%d9%86%d8%a8%d9%88%db%8c-%ef%b7%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1 style="text-align: right;"> خاندانِ نبوی ﷺ کے فضائل و برکات <strong> </strong></h1>
<h2 style="text-align: right;"><strong> العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر </strong></h2>
<p style="text-align: right;">علامہ ابن عابدین علیہ الرحمہ</p>
<p style="text-align: right;">بسم اللہ الرحمن الرحیم<br />
الحمد للہ رب العالمین، وصلى اللہ تعالیٰ وسلم على أفضل خلقه أجمعین، وعلى آله وصحابته وذريته الطاهرين، ومن حافظ على اتباع شريعته، واقتفاء آثاره وسنته، وكان لهديه من التابعين، ولم يتكل على نسب أو عمل، بل كان من الله على خوف ووجل، فكان من الناجين. (وبعد)<br />
کہتے ہیں گناہوں اور خطاؤں کے اسیر، رب العالمین کی رحمت کے محتاج، محمد امین ابن عمر المعروف ابن عابدین۔ اللہ انہیں اور ان کے والدین کو معاف فرمائے، آمین۔<br />
ایک لطیف مجلس میں بحث ہوئی، جو اہل علم کی ایک جماعت پر مشتمل تھی، کہ جو رسول اللہ ﷺ کی صحیح نسبت رکھتے ہیں، کیا ان کا نسب آخرت میں انہیں جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات دلانے میں نفع دے گا، اگرچہ وہ گناہگار ہوں؟ یا اللہ ان کے بارے میں اپنے عدل کے مطابق فیصلہ کرے گا اور انہیں دیگر گناہگاروں کی طرح اپنی مشیت کے سپرد کرے گا؟<br />
بعض نے نفع کو ثابت کیا اور بعض نے اس کا انکار کیا، اور ہر ایک نے اپنے دعوے پر دلائل پیش کیے۔<br />
اس مجلس میں موجود بعض فضلاء نے مجھ سے اس بحث کو تحریر کرنے کی درخواست کی، اور مجھے اہل بیت کے فضائل پر مشتمل ایک کتاب فراہم کی، جو ان کے شیخ، علامہ الحسیب النسیب سید احمد المعروف بجمل اللیل المدنی کی تصنیف تھی، جس میں مقصود واضح تھا۔<br />
میں نے اس میں سے احادیث نبویہ کا انتخاب کیا، جن پر ہزاروں درود و سلام اور بہترین تحیات ہوں، اور ان میں سے ہر ایک فریق کے دلائل کو جمع کیا۔</p>
<p style="text-align: right;"> اور میں نے اس میں وہ چیزیں شامل کیں جو صحیح ثابت ہوئیں اور اس کا نام “العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر” رکھا۔ (پس میں کہتا ہوں) اللہ تعالیٰ کی مدد سے، جو خیر اور جود کا مالک ہے، ان دلائل میں سے جو نفع کے انکار پر دلالت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ} (المؤمنون: 101)۔ قاضی المفسرین نے کہا: “ان کے درمیان نسب نفع نہیں دیں گے کیونکہ شدید حیرت اور دہشت کے باعث تعاطف اور رحم ختم ہو جائے گا، یہاں تک کہ آدمی اپنے بھائی، ماں، باپ، بیوی اور بچوں سے بھاگے گا یا ان پر فخر کرے گا۔” اور دوسرا قول پہلے کے قریب ہے کیونکہ فخر نہ کرنے کی وجہ اس دار میں نفع کا نہ ہونا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} (الحجرات: 13)۔</p>
<p style="text-align: right;">جہاں تک احادیث کا تعلق ہے، امام احمد نے ابو نضرة سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: “مجھے اس شخص نے بتایا جو منیٰ میں نبی ﷺ کا خطبہ سن رہا تھا، جب آپ اونٹ پر تھے، آپ نے فرمایا: ‘اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;"> (مسلم نے اپنی صحیح میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} (الشعراء: 214)، تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا اور فرمایا: “اے بنی کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنی ہاشم! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے بنی عبد المطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، میں اللہ کے سامنے تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، سوائے اس کے کہ تمہارے ساتھ رشتہ داری کو نبھاؤں۔” (بخاری نے بغیر استثناء کے روایت کی ہے)۔</p>
<p style="text-align: right;">ابو شیخ نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے بنی ہاشم! لوگ قیامت کے دن آخرت کو اپنے سینوں پر اٹھائے آئیں گے اور تم دنیا کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے آؤ گے، میں اللہ کے سامنے تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔</p>
<p style="text-align: right;">” (بخاری نے الادب المفرد میں اور ابن ابی دنیا نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میرے اولیاء قیامت کے دن متقی ہوں گے، اگرچہ نسب میں قریب ہوں، لوگ اعمال کے ساتھ آئیں گے اور تم دنیا کو اپنی گردنوں پر اٹھائے آؤ گے، اور کہو گے: ‘یا محمد!’ تو میں کہوں گا: ‘ایسے اور ایسے’ اور اپنے دونوں کندھوں کو جھٹکوں گا۔</p>
<p style="text-align: right;">” (طبرانی نے معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یمن بھیجا تو انہیں نصیحت کی، پھر مدینہ کی طرف مڑ کر فرمایا: “میرے اولیاء تم میں سے متقی ہیں، جہاں کہیں بھی ہوں۔</p>
<p style="text-align: right;">” اور ابو شیخ نے بھی روایت کی ہے اور آخر میں اضافہ کیا: “اے اللہ! میں ان کے لیے فساد کو حلال نہیں کرتا جو میں نے درست کیا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">” (بخاری اور مسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو علانیہ فرماتے سنا: “آل بنی فلاں میرے اولیاء نہیں ہیں، میرا ولی اللہ اور صالح مؤمنین ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>
<p style="text-align: right;">“جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔</p>
<p style="text-align: right;">” اور اس موضوع پر بہت سی مشہور احادیث ہیں۔ ان میں سے ایک حدیث جو ترمذی نے روایت کی اور اسے حسن کہا، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>
<p style="text-align: right;"> “میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، جب تک تم ان سے چمٹے رہو گے، میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے: اللہ کی کتاب، جو آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی رسی ہے، اور میری عترت، میرے اہل بیت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آئیں گے۔ دیکھو، تم ان کے بارے میں میرے بعد کیا کرتے ہو۔”</p>
<p style="text-align: right;">حافظ جمال الدین محمد بن یوسف الزرندی نے اپنی کتاب “نظم درر السمطین” میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا:</p>
<p style="text-align: right;">“میں تمہارے حوض پر پہنچنے سے پہلے تمہارا پیش رو ہوں گا اور تم میرے پیچھے آؤ گے۔ تم جلد ہی حوض پر میرے پاس آؤ گے، تو میں تم سے اپنے دو بھاری چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیا کیا۔” ایک مہاجر نے کھڑے ہو کر کہا: “یہ دو بھاری چیزیں کیا ہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “ان میں سے بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے، جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے، اس سے چمٹے رہو۔ اور چھوٹی چیز میری عترت ہے۔ جو میری (عترت)قبلہ کی طرف رخ کرے اور میری دعوت کو قبول کرے، ان کے ساتھ بھلائی کرو، انہیں قتل نہ کرو، انہیں نہ ستاؤ، اور ان سے دور نہ رہو۔ میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ انہیں حوض پر میرے پاس لائے جیسے یہ دو انگلیاں۔” اور آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔</p>
<p style="text-align: right;">دیلمی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>
<p style="text-align: right;"> “میں تمہیں اپنی عترت کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں، اور ان کا وعدہ حوض پر ہے۔”</p>
<p style="text-align: right;">ابو سعید نے “شرف النبوة” میں حضرت عبدالعزیز سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: “میں اور میرے اہل بیت جنت میں ایک درخت ہیں اور اس کی شاخیں دنیا میں ہیں، جو اس سے چمٹے رہے، اس نے اللہ کی طرف راستہ اختیار کیا۔”</p>
<p style="text-align: right;">طبرانی نے “الاوائل” میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: “سب سے پہلے میرے حوض پر میرے اہل بیت آئیں گے اور میری امت میں سے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔”</p>
<p style="text-align: right;">طبرانی، دارقطنی اور صاحب “کتاب الفردوس” نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: “قیامت کے دن سب سے پہلے میں اپنے اہل بیت کی شفاعت کروں گا، پھر قریب ترین، پھر انصار، پھر جو مجھ پر ایمان لائے اور میری پیروی کی، پھر یمن کے لوگ، پھر باقی عرب، پھر عجمی۔ اور جس کی میں سب سے پہلے شفاعت کروں گا، وہ سب سے افضل ہوگا۔”</p>
<p style="text-align: right;">طبرانی نے “الصغیر” میں حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: “اے بنی ہاشم، میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ وہ تمہیں نیک، رحم دل بنائے، اور میں نے دعا کی ہے کہ وہ تمہارے گمراہوں کو ہدایت دے، تمہارے خوفزدہ کو امن دے، اور تمہارے بھوکے کو سیر کرے۔”</p>
<p style="text-align: right;">“حاکم نے مستدرک میں روایت کیا اور کہا کہ یہ صحیح الاسناد ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میرے اہل بیت میں سے جو توحید کا اقرار کرے گا اور میری تبلیغ کو مانے گا، اللہ اسے عذاب نہیں دے گا۔</p>
<p style="text-align: right;">ابو سعید اور منلا نے اپنی سیرت میں اور دیلمی اور ان کے بیٹے نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میرے اہل بیت میں سے کسی کو جہنم میں نہ ڈالے، تو اللہ نے مجھے یہ عطا کیا۔</p>
<p style="text-align: right;"> امام احمد نے مناقب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے بنی ہاشم کے گروہ، اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا، اگر میں جنت کے دروازے پر پہنچوں تو سب سے پہلے تمہیں داخل کروں گا۔ طبرانی نے کبیر میں اور اس کے رجال ثقہ ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت فاطمہ سے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل تمہیں اور تمہاری اولاد کو عذاب نہیں دے گا۔</p>
<p style="text-align: right;"> امام احمد اور حاکم نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے ابو سعید سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو منبر پر فرماتے سنا:</p>
<p style="text-align: right;"> کیا بات ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکا رحم قیامت کے دن اپنی قوم کو فائدہ نہیں دے گا؟ نہیں، اللہ کی قسم، میرا رحم دنیا اور آخرت میں جڑا ہوا ہے اور میں، اے لوگو، حوض پر تمہارے لئے پیش پیش ہوں گا۔</p>
<p style="text-align: right;">ابو صالح مؤذن نے اپنی اربعین میں اور حافظ عبدالعزیز بن الاخضر اور ابو نعیم نے معرفت الصحابہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:</p>
<p style="text-align: right;"> قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے سبب اور نسب کے، اور ہر اولاد آدم کی عصبت ان کے والد کی طرف ہوگی، سوائے حضرت فاطمہ کی اولاد کے، کیونکہ میں ان کا والد ہوں اور ان کی عصبت ہوں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث ہیں جو ان کی نجات اور حسن حال کی گواہی دیتی ہیں، چاہے ان کی وفات کے وقت ہو۔ اور جو آیت پہلے ذکر کی گئی ہے، وہ کفار کے بارے میں ہے، اس کے سیاق و سباق سے یہ بات واضح ہے کہ یہ عام نہیں ہے، اور اگر اسے عام مانا جائے تو کہا جائے گا کہ یہ خاص کے لئے عام ہے، جیسا کہ پہلے ذکر کی گئی نصوص سے ثابت ہے کہ ان کا نسب ان کی پاکیزہ اولاد کے لئے نافع ہے، اور وہ دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ خوش نصیب ہیں۔ اللہ نے دنیا میں ان کے موالیوں کو بھی عزت دی، یہاں تک کہ ان پر زکوۃ  لینا حرام کر دیا، اور یہ صرف ان سے نسبت کی وجہ سے ہے، اور ان کے طائع اور عاصی میں فرق نہیں کیا۔ تو کیسے نہ ہو، جبکہ وہ ان کی وجہ سے مکرم ہیں، اور ان کے فضل کی وجہ سے دوسروں پر فضیلت رکھتے ہیں، وہ حقیقی نسبت سے اشرف المخلوقات سے منسوب ہیں، جو اللہ نے انہیں ایسی عزت دی جو کسی اور کو نہیں ملی، اور اللہ نے کائنات کو ان کے لئے پیدا کیا، اور انہیں شفاعت دی جو بے شمار لوگوں کے لئے ہے، جو کبیرہ گناہوں پر مصر ہیں، چھوٹے گناہوں کے علاوہ، اور انہیں وسیع جنتوں میں بسایا، اور ان پر عفو و مغفرت کا لباس ڈالا۔ کیا اللہ انہیں عزت نہیں دے گا؟”</p>
<p style="text-align: right;">“اپنی اولاد کو بچانے کے لئے، جو ان کے جسم کا حصہ ہیں، اور انہیں اعلیٰ درجے پر اٹھانے کے لئے، جیسے کہ انہوں نے دنیا میں انسانوں کے درمیان ان کو بلند کیا۔ اور رسول اللہ ﷺکی شان سے بعید ہے کہ وہ دور کے لوگوں کی شفاعت کریں اور اپنے قریبیوں کو ضائع کریں، اور ان کی قرابت کو بھول جائیں اور ان سے قطع تعلق کریں۔ اے اللہ، اے مالک الملک، ہمیں یہ عطا فرما، کیونکہ میں بحمد اللہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کا نسب سید العالمین کی حضوری سے صحیح ہے، حضرت حسین علیہ السلام کی نسل سے۔ اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا، جیسا کہ بزار اور طبرانی نے ایک طویل حدیث میں روایت کیا: ‘کیا بات ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میری قرابت قیامت کے دن فائدہ نہیں دے گی؟ ہر سبب اور نسب قیامت کے دن منقطع ہو جائے گا سوائے میرے سبب اور نسب کے، اور میرا رحم دنیا اور آخرت میں جڑا ہوا ہے۔’ اور کیسے نہ ہو کہ ان کا رحم جڑا ہوا ہو، جبکہ قرآن کی آیت ‘اور دیوار’ کی تفسیر میں روایت ہے کہ ان کے اور اس والد کے درمیان جس کی حفاظت کی گئی تھی، سات آباء تھے۔ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی ذریت اور اہل بیت کی حفاظت کی جائے گی، چاہے ان کے اور ان کے درمیان کتنی ہی وسائط (واسطے) ہوں۔</p>
<p style="text-align: right;"> اسی لئے حضرت جعفر صادق رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جیسا کہ حافظ عبدالعزیز بن الاخضر نے ‘معالم العترة النبوية’ میں روایت کیا: ‘ہماری حفاظت کرو جیسے صالح بندے نے یتیموں کی حفاظت کی تھی، اور ان کا والد صالح تھا۔’</p>
<p style="text-align: right;"> اور اس مقام میں ایک اور بات جو میرے کچھ مشائخ نے مجھے بتائی، ان کے کچھ مشائخ سے، اللہ تعالیٰ سب کو دارالسلام میں جگہ دے، کہ ایک بار وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے اور ایک درس پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا قول ‘بے شک اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی ناپاکی دور کرے، اے اہل بیت، اور تمہیں پاک کرے، جیسا کہ پاک کرنے کا حق ہے’ پر غور کیا۔ کچھ علماء نے اس سے استدلال کیا کہ ان کی ذریت بہترین حالت میں مرے گی۔ انہوں نے دلیل کو مضبوط پایا، لیکن مکہ مکرمہ کے شرفاء (سادات) کے بارے میں جو کچھ سنا، اس سے اسے بعید سمجھا۔ پھر وہ سو گئے اور خواب میں رسول اللہ ﷺکو دیکھا، جو ان سے ناراض تھے۔ انہوں نے فرمایا: ‘کیا تمہیں یہ بعید لگتا ہے کہ میرے اہل بیت بہترین حالت میں مریں گے؟’ یا جیسا کہ انہوں نے فرمایا۔ وہ خوفزدہ ہو کر جاگے اور اس سے رجوع کیا۔ اور یہ اس بات کے بھی خلاف نہیں ہے جو پہلے احادیث میں آیا ہے، جیسے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: &#8216;ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺکسی کے لئے اللہ سے کچھ نہیں کر سکتے، نہ نقصان نہ نفع، لیکن اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اقارب بلکہ پوری امت کے لئے نفع دینے کی طاقت دیتا ہے، عام اور خاص شفاعت کے ذریعے۔ وہ صرف وہی کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ انہیں عطا کرتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا: ‘سوائے میرے سبب اور نسب کے۔’ اور اسی طرح ان کے قول ‘میں تمہارے لئے اللہ سے کچھ نہیں کر سکتا’ کا مطلب ہے کہ صرف اپنی ذات سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شفاعت یا مغفرت کے ذریعے۔ اور یہ مقام تخویف اور عمل کی ترغیب کے لئے تھا، اور ان کے رحم کے حق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ‘لیکن تمہارے لئے ایک رحم ہے جسے میں اس کے ساتھ جوڑوں گا۔’ یہ حکمت اور بلاغت کا بہترین نمونہ ہے، جو ان کی کامل حرص سے پیدا ہوا کہ ان کے اہل بیت تقویٰ اور اللہ کے خوف میں سب سے زیادہ ہوں۔ یہ علماء کی بہترین تشریح ہے جو ہم نے پیش کی ہیں۔”</p>
<p style="text-align: right;">“اور رسول اللہ ﷺکا یہ فرمانا کہ قیامت کے دن میرے اولیاء متقی ہوں گے، چاہے وہ کوئی بھی ہوں، اور ان کا یہ فرمانا کہ اللہ کا ولی اور صالح مومن ہی ہیں، یہ ان کے رحم اور اقارب کے نفع کو نفی نہیں کرتا۔</p>
<p style="text-align: right;"> اسی طرح ان کا یہ فرمانا کہ جسے اس کا عمل پیچھے کر دے، اسے اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا، شاید اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اعلیٰ درجات تک نہیں پہنچا سکتا، لیکن نجات حاصل کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔ اور مجموعی طور پر فضل کا دروازہ وسیع ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی حرمتوں کی خلاف ورزی پر غیرت کرتا ہے، اور ہمارے نبی ﷺاللہ کے بندے ہیں، جو صرف وہی کچھ کر سکتے ہیں جو ان کے مولا نے انہیں دیا ہے، اور وہ سب کچھ نہیں پا سکتے جو وہ چاہتے ہیں، مگر اللہ چاہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ‘بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، لیکن اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے’ اور فرمایا: ‘آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ہے’۔ تو ہر شخص نہیں جانتا کہ اس کی شفاعت کی جائے گی، چاہے وہ ان کے سب سے محبوب شخص ہوں اور ان کا مقام ان کے قریب ہو۔</p>
<p style="text-align: right;"> یہ ابو طالب ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺکی مدد کی، ان کی حمایت کی اور انہیں پناہ دی، حالانکہ وہ ان کے والد کے بھائی تھے، ان کے کفیل اور مربی تھے، تو کیا اس نے انہیں نفع دیا اور انہیں ہلاکت سے بچایا؟ اور یہ نوح علیہ السلام ہیں، جو انسانوں کے والد ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کے بارے میں فرمایا: ‘بے شک وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے، بے شک وہ غیر صالح عمل ہے’۔ تو سب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہیں، ‘اللہ کی تدبیر سے صرف خسارہ پانے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں’۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺاپنے رب سے سب سے زیادہ خوفزدہ تھے، اور ان کے لئے سب سے زیادہ ہیبت اور عظمت رکھتے تھے۔ اسی طرح ان کے پاکیزہ صحابہ اور ان کے نیک پیروکار بھی تھے۔</p>
<p style="text-align: right;"> یہ عمر بن خطاب ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی فوجوں کو تیار کیا، توحید کے علمبرداروں کی مدد کی، ملکوں کو فتح کیا، اور عناد والوں کو مغلوب کیا، اور انہیں جنت کی بشارت دی، اور خیر و برکت کی فراوانی دی۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا: ‘کاش کہ عمر کی ماں نے عمر کو جنم نہ دیا ہوتا’ اور کہا: ‘میں اللہ کی تدبیر سے بے خوف نہیں ہوں’۔ تو انہوں نے اس سبب پر بھروسہ نہیں کیا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عدل کے ساتھ معاملہ کرے تو ہم میں سے نجات پانے والے کم ہوں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">تو کوئی نسب والا اپنے نسب پر فخر نہ کرے، اور اسے اپنا سب سے بڑا سبب نہ بنائے، کیونکہ رسول اللہ ﷺنے اعلیٰ مقام اور بلند مرتبہ حاصل کیا، ربوبیت کے حقوق کو پہچاننے اور عبودیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے ذریعے۔ تو یہ جان لے کہ رسول اللہ ﷺکے نزدیک سیدہ فاطمہ، جو ان کے پاکیزہ جگر کا ٹکڑا ہیں، اور رب العزت کا مقام، جو بلند اور غالب ہے، کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہے۔ وہ اپنے مولا کی محبت کرتے ہیں، اور اس کے غضب پر ناراض ہوتے ہیں، چاہے وہ ان کے سب سے محبوب شخص ہوں۔ بلکہ یہ ان کی محبت سے الگ ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب، عزیز، جلیل اور بڑا ہے، جیسا کہ ہر وہ شخص جانتا ہے جس کے پاس ادنیٰ تمیز ہو، فضلاً عن ذوی الافہام۔ اور ان کا ان لوگوں سے منہ موڑنا جو ان کے لائے ہوئے احکام کی پیروی نہیں کرتے، چاہے وہ ان کے سب سے قریبی رشتہ دار ہوں، اس پر سب سے بڑا گواہ اور سب سے بڑا سند ہے۔ تو کیسے کوئی نسب والا یہ گمان کر سکتا ہے کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی خلاف ورزی کرے اور جو اس پر واجب ہے اس کا خیال نہ رکھے، تو اس کے پاس رسول اللہ ﷺکے نزدیک کوئی حرمت اور مقام باقی رہے گا؟ کیا کوئی نادان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک نبی کے پاس زیادہ حرمت والا ہے؟ ہرگز نہیں، بلکہ اس کا دل غفلت کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہے، اس پر برے خاتمے کا خوف ہے، اللہ کی پناہ۔ تو سلف صالحین، اہل بیت اطہار کے حال پر غور کرے، کہ انہوں نے کس چیز کو اپنایا، کس پر بھروسہ کیا، کس چیز سے متصف ہوئے، اور کس پر انحصار کیا۔ اگر وہ سچے عزم کے ساتھ ان کے ساتھ ملنے کے اسباب حاصل کرنے کی کوشش کرے، تو الہی فتح اس کی طرف آئے گی اور وہ ان کے ساتھ بہترین لاحق ہو گا۔ کیونکہ اہل بیت ملحوظ اور معتنی ہیں، اور وہ اپنے رب تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ جو محنت کرے گا، وہ پائے گا، اور جو کریم کا قصد کرے گا، وہ رد نہیں کیا جائے گا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دوام توفیق، اور سب سے سیدھے راستے کی ہدایت مانگتے ہیں، اور ہمیں اس کی پیروی کرنے اور قرابت اور نسب کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے، اور اسے غرور اور ادب سے باہر نکلنے کا سبب نہ بنائے، اور ہمیں اپنے نبی کے دین پر موت دے، اور اس کی محبت اور اس کے اہل بیت کی محبت پر، جو مکرم اور معزز ہیں۔ بے شک وہ سب سے زیادہ مکرم اور رحم کرنے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمارے سیدنا محمد، ان کے اہل بیت، ان کے صحابہ، اور قیامت تک ان کے پیروکاروں پر درود و سلام بھیجے۔ اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں۔”</p>
<p style="text-align: right;">
</p><p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2590-%25d9%2586%25d8%25a8%25d9%2588%25db%258c-%25ef%25b7%25ba-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2581%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2584-%25d9%2588-%25d8%25a8%25d8%25b1%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%2F&#038;title=%D8%AE%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86%D9%90%20%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%92%20%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%D9%84%20%D9%88%20%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA%20%20%20%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1%20%D9%81%D9%8A%20%D9%86%D9%81%D8%B9%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%B3%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B7%D8%A7%D9%87%D8%B1" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86%d9%90-%d9%86%d8%a8%d9%88%db%8c-%ef%b7%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7/" data-a2a-title="خاندانِ نبوی ﷺ کے فضائل و برکات   العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86%d9%90-%d9%86%d8%a8%d9%88%db%8c-%ef%b7%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b6%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88-%d8%a8%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حیلہ اسقاط ایک جلیل القدر نعمت</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%db%8c%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%82%d8%a7%d8%b7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ac%d9%84%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%82%d8%af%d8%b1-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%db%8c%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%82%d8%a7%d8%b7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ac%d9%84%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%82%d8%af%d8%b1-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Aug 2024 13:41:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[استقراض کی وکالت باطل]]></category>
		<category><![CDATA[استیهاب کی وکالت]]></category>
		<category><![CDATA[اسقاط کیلئے وصیت لازم نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[اسقاط میت کاثبوت]]></category>
		<category><![CDATA[حیلہ اسقاط از فقہ حنفی]]></category>
		<category><![CDATA[حیلہ اسقاط ایک جلیل القدر نعمت]]></category>
		<category><![CDATA[حیلہ اسقاط بطوروسیلہ]]></category>
		<category><![CDATA[حیلہ اسقاط کا فدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حیلہ اسقاط کے شرعی احکام]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر اور ذاکرین کی فضیلت]]></category>
		<category><![CDATA[رسالہ ابن عابدین]]></category>
		<category><![CDATA[رسالہ علامہ شامی]]></category>
		<category><![CDATA[ستر ہزار بار کلمہ دوزخ سے آزاد]]></category>
		<category><![CDATA[کفارہ اور فدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی]]></category>
		<category><![CDATA[موت کے وقت لا الہ الا اللہ کی گواہی جنت کی ضمانت]]></category>
		<category><![CDATA[نماز کا فدیہ احناف کا مذہب منفرد]]></category>
		<category><![CDATA[ورثاء کے ذریعے حجة الاسلام کی ادائیگی]]></category>
		<category><![CDATA[وصیت کی جائز اور ناجائز صورتیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9161</guid>

					<description><![CDATA[حیلہ اسقاط ایک جلیل القدر نعمت منة الجليل لبيان إسقاط ما على الذمة من كثير وقليل تصنیف:محمد علاءالدین ابن عابدین المعروف علامہ شامی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ تمام تعریفیں <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%db%8c%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%82%d8%a7%d8%b7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ac%d9%84%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%82%d8%af%d8%b1-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>حیلہ اسقاط ایک جلیل القدر نعمت</h1>
<h2>منة الجليل لبيان إسقاط ما على الذمة من كثير وقليل</h2>
<p>تصنیف:محمد علاءالدین ابن عابدین المعروف علامہ شامی</p>
<p>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ</p>
<p>اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔</p>
<p>تمام تعریفیں اس قدیم (ازل سے) اور وارث (جو سب کا وارث ہے) اللہ کے لیے ہیں، جو موت دینے والا اور دوبارہ زندہ کرنے والا ہے، جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور جسے حالات تبدیل نہیں کر سکتے۔ میں اسے ہر حال میں پاتا ہوں، اور اپنے اعمال اور اقوال میں لغزش  کے ساتھ  اس سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ اور میں اس سے ان خوفناک مشکلات سے پناہ مانگتا ہوں جو دل کو بے چین کرتی ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ قوموں کو ان کے اعمال کی آزمائش کے لیے مٹاتا ہے، ان کی عمریں پوری ہونے پر انہیں موت دیتا ہے، اور انہیں پہلی بار کی طرح دوبارہ زندہ کرے گا۔ اور وہ انہیں ان کے اعمال کے مطابق جزا دے گا، چاہے وہ رائی کے دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے حدود مقرر کیں اور ایسے فرائض فرض کیے جو ناقابل تردید حکم کے ساتھ ہیں۔ اور جو کوئی ان میں سے کسی میں کوتاہی کرتا ہے، اس کے لیے ایک تلافی کرنے والا مقرر کیا، چاہے وہ تقصیر میں مشغول ہی کیوں نہ رہا ہو۔ اور وہ اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور اسے قضا یا فدیہ کے ذریعے پورا کرے۔</p>
<p>اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اور اس کے محبوب و دوست ہیں۔ انہیں تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا، اور قیامت کے دن شفاعت کرنے والے اور مقبول شفاعت کرنے والے ہوں گے، اور وہ نبیوں اور رسولوں کے سردار ہیں۔ وہ ہمارے پاس صحیح، برحق دین اور نرم و آسان دین، عربی فصیح زبان میں لے کر آئے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے آل و اصحاب پر درود و سلام بھیجے، ایسا درود جو صاحب درود کے لیے عظیم ثواب کا ضامن ہو، اور اس کو رضا کی بہترین پوشاک پہنائے۔</p>
<p>(اما بعد) پس اپنے رب کی مدد کا محتاج، محمد علاء الدین ابن عابدین کہتا ہے کہ یہ رسالہ میں نے اپنے والد محترم کے رسالہ کے ساتھ بطور ذیل(حاشیہ) لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے فوائد کو بہتر بنائے، اور ان کی روح پر رحم کرے، اور ان کی قبر کو ٹھنڈا کرے۔ ان کا رسالہ جس کا نام &#8220;شفاء العلیل و بل الغلیل&#8221; ہے، جس میں ختمات(ختم کی جمع) اور تہالیل (تہلیل کی جمع)کی وصیت کے احکام پر بحث کی گئی ہے۔ میں اس میں خوبصورت فوائد ذکر کروں گا جو آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہیں، جن کا ذکر اس رسالہ میں نہیں کیا گیا تھا، اور میں نے ان کو اختصار میں قلمبند کیا ہے۔ اس کا زیادہ تر ماخذ میرے والد محترم کی باتوں سے ہے، جو ان کی رائے اور مقاصد کے مطابق ہے۔ میں نے جہاں تک مجھے علم ہے، ان مسائل پر کسی نے کوئی کتاب مخصوص نہیں کی، اور نہ ہی ان احکام میں کوئی مؤلف پہلے گزرا ہے، حالانکہ یہ دینی اہم مسائل اور فرض عینی ہیں۔ مجھے اس کے جمع کرنے پر جس شے نے مجبور کیا وہ  جب جاہل اماموں کو دیکھا اور سنا کہ وہ ان مسائل میں غفلت برتتے ہیں جو حیلہ اسقاط کے متعلق ہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں، جو خیر و جود کا فیاض ہے، کہ وہ اسے ہر حاسد کے شر سے محفوظ رکھے۔ اور میں اپنے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں جس کی محبت میں ہم فخر کرتے ہیں، اور جس کی نعمتیں ہم پر ہر لمحہ نازل ہوتی رہتی ہیں، کہ وہ اس سے اسی طرح نفع دے جیسے اس کے اصل سے نفع پہنچا، بے شک وہ جو چاہے کرنے پر قادر ہے، اور دعا کا مستحق ہے۔</p>
<p>(اور میں نے اس کا نام رکھا ہے) &#8220;منة الجليل&#8221; ذیل شفاء العليل وبل الغليل، تاکہ بیان کیا جائے کہ حیلہ سے زیادہ اور کم کیا چیز ساقط ہوتی ہے۔ یہ اس عظیم سلطان حضرت مولانا سلطان عبدالحمید خان ثانی کے مبارک دور کی یادگاروں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں سبع مثانی کی برکتوں سے نوازے، اور ان کی سلطنت کے تخت کوزمانے کے اختتام تک قائم رکھے، جتنا دن اور رات آتے جاتے رہیں۔ آمین، اے اللہ آمین۔</p>
<p>(اور اب) مقصد کو شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے، اس بادشاہ معبود کی مدد کے ساتھ۔ تو میں کہتا ہوں کہ شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) اور عبد بن حمید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:</p>
<p>&#8220;کسی مسلمان کے لیے یہ حق نہیں ہے کہ اس پر تین راتیں گزر جائیں اور اس کی وصیت اس کے پاس نہ ہو۔&#8221;</p>
<p>حضرت ابن عمر نے کہا: &#8220;تو مجھ پر کبھی تین راتیں نہیں گزرتیں مگر یہ کہ میری وصیت میرے پاس ہوتی ہے۔&#8221;</p>
<p>طحاوی نے اپنی حاشیہ میں &#8220;مراقی الفلاح&#8221; پر لکھا: &#8220;جان لو کہ نص (قرآن و حدیث) میں روزے کے بارے میں یہ بات وارد ہوئی ہے کہ اسے فدیہ کے ذریعے ساقط کیا جا سکتا ہے، اور مشائخ کا اتفاق ہے کہ نماز بھی روزے کی طرح ساقط ہو سکتی ہے، استحساناً (یعنی بہتر خیال کرتے ہوئے) کیونکہ وہ (نماز) روزے سے زیادہ اہم ہے۔&#8221;</p>
<p>اصل اختلاف مشائخ کے درمیان یہ ہے کہ کیا ایک دن کی نماز ایک دن کے روزے کے برابر ہے یا ہر فرض نماز ایک دن کے روزے کے برابر ہے؟ اور یہی معتمد (قابل اعتماد) ہے۔ جب تمہیں یہ معلوم ہو گیا تو تمہیں اس شخص کی جہالت کا علم ہوگیا جو کہتا ہے کہ نماز کی اسقاط کی کوئی بنیاد نہیں ہے، کیونکہ یہ اس بات کو باطل قرار دینا ہے جو اہلِ مذہب کے درمیان متفق علیہ ہے، اور یہ کہ روزے سے مراد رمضان کا روزہ، کفارے کا روزہ (قسم توڑنے، قتل کرنے، یا ظہار کی صورت میں) اور حج کے دوران شکار کرنے کا کفارہ ہے۔</p>
<p>(میں کہتا ہوں) جہاں تک &#8220;استحسان&#8221; کا تعلق ہے، تو یہاں اس سے مراد مشائخ کا استحسان ہے، جیسا کہ ان کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے اور &#8220;مستصفى&#8221; (نامی کتاب) میں آنے والا کلام اس کی وضاحت کرتا ہے، نہ کہ مطلق استحسان جو جلی قیاس کے مقابل ہو، کیونکہ یہاں ایسا نہیں ہے، بلکہ مراد پہلا مفہوم ہے۔ جہاں تک اس کے قول کا تعلق ہے کہ &#8220;اس کی کوئی اصل نہیں ہے&#8221; یا مطلق طور پر، چاہے اس کی اصل مشائخ کے استحسان میں ہو یا نص (قرآن و حدیث) یا دلیل میں، تو یہ جہالت ہے جیسا کہ تم نے جانا، اور اگر اس سے دوسرا مفہوم مراد ہو تو یہ علم ہے نہ کہ جہالت۔</p>
<p>اور اس پہلے مفہوم پر اس قول کو محمول کیا جاتا ہے کہ &#8220;نماز کی اسقاط کی کوئی اصل نہیں ہے&#8221; کیونکہ نماز کے بدلے میں کھانا کھلانے کی کوئی اصل کتاب، سنت، اجماع یا قیاس میں نہیں ہے، بلکہ یہ مشائخ کے استحسان کا محتاط حکم ہے، جیسا کہ معتبر کتب میں اس کے اصول و فروع میں ذکر ہوا ہے، جیسا کہ تم نے جانا اور اس کا نص آتا ہے، حتیٰ کہ &#8220;المبسوط&#8221; سے نقل کیا گیا ہے کہ &#8220;نماز کا معاملہ فدیہ کے بدلے میں کسی بھی کتاب میں کھول کر بیان نہیں ہوا۔&#8221; اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ علامہ طحطاوی کا کلام اسی مطلق پر محمول ہے جسے ہم نے بیان کیا تاکہ اس قائل کی جہالت ثابت ہو۔</p>
<p>امام فخر الاسلام البزدوی نے اپنی اصول کی کتاب میں قضا کے بارے میں بحث کرتے ہوئے فرمایا: &#8220;پھر ہم نے نماز میں فدیہ کے جواز کا حکم ویسا نہیں کیا جیسا کہ ہم نے روزے میں کیا ہے، کیونکہ ہم نے روزے میں قطعی طور پر اس کا حکم دیا اور اللہ تعالیٰ سے نماز میں اس کے قبول ہونے کی امید رکھی۔&#8221; تو امام محمد رحمہ اللہ نے &#8220;زیادات&#8221; میں فرمایا: &#8220;فدیہ نماز میں اسے ان شاء اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا، جیسا کہ اگر وارث نے روزے میں یہ کیا ہو۔&#8221;</p>
<p>اور امام جلال الدین الخبازي الخجندی نے اپنی اصول فقہ کی کتاب &#8220;المغنی&#8221; میں فرمایا: &#8220;نماز میں فدیہ کا حکم غیر معقول ہے، جیسے کہ روزے کا فدیہ اور احجاج (حج) کا نفقہ، یہ غیر معقول نص سے ثابت ہوئے ہیں، اور نماز میں فدیہ کا حکم معلولیت کے احتمال کی وجہ سے اور اس کے زیادہ اہم ہونے کی وجہ سے ہم نے اس کا جواز قطعی طور پر نہیں کیا جیسا کہ ہم نے روزے میں کیا۔&#8221;</p>
<p>تو امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا: &#8220;ان شاء اللہ تعالیٰ یہ اسے کافی ہوگا، جیسا کہ اگر وارث نے روزے میں یہ کیا ہو۔&#8221;</p>
<p>تو اس کے شارح ابو منصور الفاغانی نے کلام کے بعد فرمایا: &#8220;اسی لیے ہم نماز کے فدیہ میں نہیں کہتے کہ یہ قطعی طور پر جائز ہے، جیسا کہ ہم نے روزے میں حکم دیا، اگر اس نے خود ادا کیا ہو، لیکن ہم اللہ تعالیٰ سے قبول ہونے کی امید رکھتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>امام محمد نے &#8220;زیادات&#8221; میں فرمایا: &#8220;نماز کا فدیہ ادا کرنا ان شاء اللہ تعالیٰ کافی ہو جائے گا، جیسا کہ انہوں نے فرمایا کہ جب وارث نے اپنے مورث کے حکم کے بغیر فدیہ ادا کیا تو وہ ان شاء اللہ تعالیٰ کافی ہوگا۔ اور اگر یہ قیاس سے ثابت ہوتا تو اسے استثناء کے اضافے کی ضرورت نہ ہوتی، جیسا کہ دیگر احکام میں ہوتا ہے جو قیاس سے ثابت ہیں۔&#8221; اور اسی طرح کی بات سیدی والد نے &#8220;شرح المنار&#8221; للعلائی کے حاشیے میں بھی کہی ہے۔ لیکن جب اس مسئلے کے حوالے سے زیادات کے تین نسخوں کا معائنہ کیا گیا اور باریکی سے تحقیق کی گئی، تو امام محمد سے نماز کے فدیے کے بارے میں کوئی بات ثابت نہ ہو سکی، سوائے اس کے کہ یہ مسئلہ مشائخ کے استحسان سے جاری ہوا، جیسا کہ آپ نے جانا اور آگے آئے گا۔ اور دیگر معتبر نسخوں کا بھی معائنہ کیا جائے، کیونکہ ایسے معتمد ائمہ، جو اسلام کے ناصر ہیں، ان سے یہ بعید ہے کہ وہ کوئی بات بغیر تحقیق اور غور و فکر کے نقل کریں، کیونکہ وہ پاکیزہ شریعت کے امین ہیں، خاص طور پر جبکہ وہ محققین کے ختمہ (مکمل گروہ) ہیں اور ان کے رئیس ابن الہمام ہیں، جنہوں نے مجتہدین کی درجات تک پہنچے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روحوں پر رحم فرمائے، ان کی قبروں اور آرام گاہوں کو منور کرے۔ آمین۔</p>
<p>(پھر) میں کہتا ہوں کہ اسقاط، کفارہ، اور فدیہ کے بیان میں یہ واضح کیا جائے کہ شخص کی وصیت سے اسے ادا کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ اس کا وارث اسے اپنی مرضی سے ادا کرے۔ یہ مسئلہ نماز میں بھی چلتا ہے اور اس میں واجب یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بدلے میں فقیر کو آدھا صاع(پیمان) گندم، یا اس کا آٹا، یا ستو، یا ایک صاع کھجور، یا منقی، یا جو، یا اس کا آٹا، وغیرہ دیا جائے، جیسا کہ باب الفطرہ میں ذکر ہوا ہے۔</p>
<p>پھر یہ جان لیں کہ شرعی درہم چودہ قیراط کا ہوتا ہے، جبکہ موجودہ دور کا درہم سولہ قیراط کا ہے۔ شرعی قیراط پانچ جو کے دانے یا چار گیہوں کے دانے کے برابر ہوتا ہے، اس لحاظ سے شرعی درہم ستر جو کے دانوں کے برابر ہوتا ہے، اور مثقال سو جو کے دانے کے برابر ہے، جو ایک درہم اور تین ساتویں درہم کے برابر ہے۔ ہمارے عرف میں موجودہ قیراط شرعی قیراط کے مطابق ہے، جو &#8220;خرنوب&#8221; (پھلی)کے دانے کے برابر ہے۔ شرعی اور عرفی درہم کے درمیان دو قیراط کا فرق ہے، اور شرعی اور عرفی مثقال کے درمیان چار قیراط کا فرق ہے۔ اور پانچ جو کے دانے اور چار گیہوں کے دانے کا وزن برابر ہے۔ اور ہر دس درہم چاندی کے وزن میں سات مثقال سونے کے برابر ہوتے ہیں۔ پس اگر ایک صاع ایک ہزار چالیس شرعی درہم ہو، تو موجودہ دور کے درہموں میں یہ نو سو دس درہم ہوگا۔ اور نصف صاع کی مقدار 1296 ہجری میں تقریباً &#8220;مسیح ثمنیہ&#8221; کی گئی، بغیر تکمیل کے۔</p>
<p>یہ اس بات کے خلاف نہیں ہے جو مد کی مقدار کے بارے میں ذکر کیا گیا، کیونکہ ہمارے زمانے کا مد پرانے مد سے بڑا ہے۔ مد آٹھ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور ہر حصہ کو &#8220;ثمنیہ&#8221; کہا جاتا ہے۔ ثمنیہ مد دمشقی کا ایک آٹھواں حصہ ہے، اور مد نصف جفت ہے، جو &#8221; استنبول کی پیمائش &#8221; سے دو مٹھیوں کے برابر بڑا ہے۔ اسی طرح ہمارے زمانے میں رطل بھی اب آٹھ سو درہم کا ہوتا ہے۔ یہ سب ماش یا مسور سے صاع کی مقدار کے حساب پر مبنی ہے، لیکن اگر اس کی مقدار گندم یا جو سے کی جائے، جو زیادہ احتیاطی ہے، تو نصف صاع اس مقدار سے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ مکمل دمشقی ثمنیہ گندم سے دی جائے، جو چھنی ہوئی اور صاف ہو، یا اس کی قیمت دی جائے، کیونکہ گندم میں کچھ نہ کچھ پتھر، مٹی، خراب دانے، اور جو شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>&#8220;اور گندم کو اصل ماننا چاہیئے اور قیمت دینا بہتر ہے کیونکہ یہ فقراء کے لیے زیادہ مفید ہے، سوائے قحط اور فاقہ کے زمانے میں، اللہ تعالیٰ کی پناہ۔ روز و شب میں نمازوں کی تعداد چھ ہوتی ہے، وتر کو پانچ فرض نمازوں کے علاوہ فرض عملی مانا جاتا ہے امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک۔ لہٰذا ایک دن اور رات کی نمازوں کا کفارہ چھ ثمنیات(چھ فطرہ برابر)، یعنی تین چوتھائی مد دمشقی بنتا ہے۔ ایک ماہ کی نمازوں کا کفارہ بائیس مد اور نصف مد بنتا ہے۔ اور ایک شمسی سال جو کہ تین سو پینسٹھ دن، پانچ گھنٹے، اور پچپن منٹ یا انچاس منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، اس کا کفارہ دو سو تہتر مد، نصف مد اور ایک چوتھائی مد، یعنی ایک سو سینتیس جفتوں کے برابر ہوگا، سوائے دو ثمنیات کے، یعنی ایک چوتھائی مد۔ یہ تین غرائر اور نصف کے برابر ہوگا، سوائے بارہ مد اور ایک چوتھائی مد گندم کے۔ اور اگر ہم چھ گھنٹے کم کرنے کے لیے ایک چوتھائی مد شامل کریں تو یہ سال کے لیے تین غرائر اور نصف غرائر گندم کے برابر ہوگا، سوائے بارہ مد کے، کیونکہ ایک غرارہ اسی مد کے برابر ہوتا ہے۔ اور ہر سال کے روزوں کے لیے چار مد اور ایک چوتھائی مد ہوں گے۔(ایک نماز کا فدیہ ایک فطرانہ برابر ہوگا )</p>
<p>ولی اس کی قیمت قرض لے کر فقیر کو دے گا، پھر فقیر سے وہ رقم بطور ہبہ لے گا، اور پھر اسے فقیر کو یا کسی دوسرے فقیر کو دے گا۔ اس طرح ہر بار ایک سال کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اگر ولی زیادہ قرض لیتا ہے تو اس کے مطابق کفارہ ادا ہو جائے گا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ کفارے کی صورت میں شروع کرے گا، پھر قربانی، پھر قسموں کے کفارے کے لیے۔ لیکن قسموں کے کفارے کے لیے دس مسکینوں کا ہونا ضروری ہے، اور ایک دن میں ایک مسکین کو آدھے صاع سے زیادہ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں عدد پر زور دیا گیا ہے۔ جبکہ نماز کے فدیے میں ایک شخص کو تمام نمازوں کا فدیہ دینا جائز ہے، اور اسی طرح زکوٰۃ میں بھی بغیر وصیت کے یہ جائز ہے۔ حج کا بھی یہی حکم ہے۔</p>
<p>ہر سجدہ تلاوت کا فدیہ نماز کے فرض کی طرح ادا کرنا احتیاطی طور پر لازم ہے، اور نوافل جنہیں اس نے خراب کر دیا اور ان کی قضا نہیں کی، نیز نذر اور قربانی کا فدیہ بھی دینا چاہیئے۔ زکوٰۃ اور فطرہ جو اس پر واجب ہے اور ان پر جن کی فطرہ اس پر واجب ہے، اور عشر و خراج کا فدیہ دینا چاہیئے۔ حرم یا احرام کی توہین کا کفارہ، قتل خطا کا کفارہ، ظہار کا کفارہ، واجب نفقہ اور مالی کفارات اور نذر کی ہوئی صدقات، اور نذر کا اعتکاف جس کا کفارہ روزے سے ہے، مسجد میں قیام کے لیے نہیں، ہر دن کے لیے گندم کا نصف صاع دینا چاہیئے۔ اور ایسے حقوق العباد جن کے مالکان نامعلوم ہیں، ان کے کفارے کے لیے بھی فدیہ دینا چاہیئے۔</p>
<p>اس کے بعد تمام جسمانی حقوق کے کفارے ادا کیے جائیں، پھر زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کیے جائیں تاکہ نیکیوں کی زیادتی ہو جائے اور مخالف راضی ہوں۔ اس کے لیے مزید وضاحت بھی آئے گی۔</p>
<p>(اور جو چیز) مذہب میں موجود ہے اور جس پر عمل ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ وارث دس ایسے مردوں کو جمع کرے جن میں کوئی امیر، غلام، بچہ، یا دیوانہ نہ ہو۔ پھر میت کی عمر کا تخمینہ لگائے اور اس میں سے بارہ سال نکال دے اگر میت مرد ہو، یا نو سال نکال دے اگر عورت ہو۔ اگر عمر معلوم نہ ہو، تو اندازے کے طور پر عمر کا تعین کیا جائے۔ اگر عمر کا اندازہ نہ ہو سکے تو زیادہ عمر کا اندازہ لگایا جائے کیونکہ یہ زیادہ احتیاطی ہے۔ پھر عمر کے اندازے کے بعد جو باقی بچتی ہے، اس کے لیے کفارہ ادا کیا جائے کیونکہ مرد کم از کم بارہ سال کی عمر میں بالغ ہوتا ہے اور عورت نو سال کی عمر میں۔ یہ احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیئے، حتیٰ کہ اگر شخص اپنی نمازوں کی پابندی کرتا ہو تو بھی، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس سے کوئی کوتاہی ہو گئی ہو اور اسے خبر نہ ہو۔</p>
<p>(اور جو چیز) لوگوں میں معروف ہے اور اہل مذہب نے اسے بیان کیا ہے، وہ یہ ہے کہ جب واجب کی مقدار زیادہ ہو، تو وہ ایک تھیلی جس میں پیسے یا کچھ اور جیسے جواہرات یا زیور یا گھڑی وغیرہ شامل ہو، گردش کرواتے ہیں، اور قیمت کا اعتبار کرتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>اور &#8220;صرة&#8221; (یعنی تھیلی) کو منتقل کرنے کے مختلف طریقے ہیں، اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ وصی (یعنی وصیت پر عمل کرنے والا) اس &#8220;صرة&#8221; کو فقیر کے حوالے کرے اور کہے کہ یہ فلاں بن فلاں کی نمازوں کا کفارہ ہے، مثلاً ایک سال یا دس سال کی نمازوں کا کفارہ، اور فقیر اسے قبول کرے اور اسے اپنا مالک بنائے۔ فقیر کہے کہ میں نے اسے قبول کیا اور اپنے قبضے میں لیا۔ پھر فقیر اس &#8220;صرة&#8221; کو وصی کو ہبہ کے طور پر واپس دے، اور وصی اسے قبضے میں لے کر دوسرے فقیر کو دے دے اور اسی طرح کرتا جائے جب تک کہ تمام فقراء کو شامل نہ کر لے اور جتنی نمازیں میت کے ذمہ ہیں، ان کا کفارہ پورا نہ ہو جائے۔ پھر اسی طرح روزے، قربانی اور دیگر امور کے لیے بھی کیا جائے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔</p>
<p>جب یہ سب مکمل ہو جائے تو بہتر ہے کہ وصی اس مال میں سے یا جو میت نے وصیت کی ہے، اس میں سے کچھ فقراء پر صدقہ کرے۔ ان کی کتب اور حواشی میں بیان کیا گیا ہے کہ جو اس کام کو انجام دے گا، وہ ولی ہو گا، اور ولی سے مراد وہ شخص ہے جو وصیت یا وراثت کے ذریعے میت کے مال میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔ اگر میت کے پاس کوئی مال نہ ہو تو وارث اپنے مال سے یہ عمل کر سکتا ہے اگر وہ چاہے۔ اگر وارث کے پاس بھی مال نہ ہو تو وہ کسی دوسرے سے ہبہ یا قرض لے کر فقیر کو دے سکتا ہے اور پھر فقیر سے وہ مال واپس لے سکتا ہے اور اس عمل کو دہراتا رہے جب تک مقصد پورا نہ ہو جائے۔</p>
<p>&#8220;الدر&#8221; اور اس کی حاشیہ میں سیدی الوالد رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:</p>
<p>&#8220;میت کے ولی کو جو وصیت یا وراثت کے ذریعے اس کے مال میں تصرف کا اختیار رکھتا ہو، چاہیئے کہ وہ اس کے فوت شدہ روزوں کا کفارہ ادا کرے، اگر وہ وصیت کر چکا ہو کہ سفر یا بیماری کی وجہ سے روزے قضا ہو گئے اور وقت قضا پایا گیا لیکن وہ ان کو پورا نہیں کر سکا۔ اگر وصیت نہ کی ہو اور ولی نے تبرعاً کفارہ دیا تو یہ میت کے ذمہ جو کچھ ہے، اس کے لیے جائز ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور اگر وارثوں نے اس کے لیے کفارہ ادا نہ کیا، تو ان پر یہ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ ایک عبادت ہے اور بغیر میت کی اجازت کے انجام نہیں دی جا سکتی۔ تاہم اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یہ جائز ہوگا اور اس کے لیے ثواب ہوگا جیسا کہ &#8220;الاختیار&#8221; میں ہے۔ اگر ولی نے اس کی طرف سے روزہ یا نماز قضا کی، تو یہ میت کے ذمہ واجب نہیں ہوگی، لیکن اگر وہ ان کا ثواب میت کو دیتا ہے، تو یہ جائز ہوگا۔</p>
<p>اس پر، وصی کی طرف سے میت کے روزوں کے فدیے کی مقدار فطرہ کے برابر ہوگی، مقدار اور جنس کے لحاظ سے، اور قیمت کی ادائیگی بھی جائز ہوگی، چاہے وہ فقیر کو مجموعی طور پر دی جائے یا قیمت کے حساب سے۔ تعداد اور مقدار کی کوئی شرط نہیں ہے، لیکن اگر فقیر کو نصف صاع گندم یا اس کی قیمت سے کم دیا جائے تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا، جبکہ فطرہ کے بارے میں ایک قول کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح، ولی اگر قسم کے کفارے کے لیے کپڑے یا کھانے کا تبرع کرے تو یہ جائز ہے، لیکن غلام آزاد کرنے کے لیے نہیں، اور قتل کے کفارے کے لیے بھی نہیں۔ اگر میت نے وصیت کی ہو تو فدیہ کے معاملے میں قسم اور قتل دونوں کا فدیہ دینا درست ہوگا۔</p>
<p>اگر وارث نے زکوٰة، حج، اور کفارہ میں میت کی طرف سے تبرع (اختیاری طور پر) کیا تو یہ بلا اختلاف جائز ہوگا۔ اور اگر میت نے ظہار یا رمضان کے روزے کے کفارے میں، اس کی عمر کے بڑھاپے یا افلاس کے سبب غلام آزاد کرنے یا روزہ رکھنے سے معذور ہونے کی وجہ سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا، تو یہ کفایت کرے گا اور مشہور قول کے مطابق اس فدیہ میں اباحت (اجازت) کافی ہوگی۔ اور اگر میت کے ورثاء نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کی نمازوں کا کفارہ ادا کیا تو یہ جائز نہ ہوگا، اسی طرح روزوں کا کفارہ بھی جائز نہیں ہوگا، لیکن حج کے معاملے میں یہ مختلف ہے۔ ہاں، اگر کوئی روزہ یا نماز میت کی طرف سے رکھے اور اس کا ثواب میت کو دے دے، تو یہ جائز ہوگا، چاہے وہ غیر ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ نسائی کے حدیث کے مطابق کسی کو دوسرے کی طرف سے روزہ نہیں رکھنا چاہیئے اور نہ ہی کسی کو دوسرے کی طرف سے نماز پڑھنی چاہیئے، بلکہ اس کے ولی کو اس کی طرف سے کھانا کھلانا چاہیئے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;لیکن یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ اور بخاری و مسلم میں بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا: &#8216;میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے باقی ہیں، کیا میں ان کی قضا کروں؟&#8217; نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: &#8216;اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟&#8217; اس شخص نے کہا: &#8216;جی ہاں&#8217;، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: &#8216;اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔&#8217; یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ راوی کا فتویٰ اس کے مروی کے خلاف ہے، اور یہ ناسخ روایت کے درجے میں آتی ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: &#8216;میں نے مدینہ کے کسی صحابی یا تابعی سے نہیں سنا کہ انہوں نے کسی کو دوسرے کی طرف سے روزہ رکھنے یا نماز پڑھنے کا حکم دیا ہو۔&#8217; یہ بات نسخ کی تائید کرتی ہے اور یہ حکم شریعت میں مستقر ہو چکا ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور محمد رحمہ اللہ نے فدیہ کی ادائیگی کے بارے میں کہا کہ &#8216;یہ ان شاء اللہ کافی ہوگا&#8217;۔ بعض نے کہا کہ &#8216;ان شاء اللہ&#8217; کا لفظ جواز کے لیے نہیں بلکہ قبولیت کے لیے استعمال ہوا ہے جیسے دیگر عبادات میں ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے، کیونکہ محمد رحمہ اللہ نے بڑے شیخ کے فدیہ میں جزم کے ساتھ کہا ہے اور اس کے برعکس عذر یا بغیر عذر کے روزہ نہ رکھنے والے کے لیے مشیئت کو معلق کیا ہے۔ اور اسی طرح اس نے نماز کے فدیہ کو بھی اسی وجہ سے معلق کیا ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;فتح القدیر میں کہا گیا ہے کہ نماز کا معاملہ روزے کی طرح ہے، کیونکہ مشائخ کا استحسان یہی ہے کہ روزے اور کھانا کھلانے کے درمیان شرعی طور پر مماثلت ثابت ہے اور نماز اور روزے کے درمیان بھی یہی مماثلت پائی جاتی ہے۔ اور جب کسی چیز کی مماثلت ثابت ہو جائے تو اس کے لیے بھی وہی حکم ہوتا ہے، لہذا احتیاط کے طور پر فدیہ واجب ہوگا۔ اگر حقیقت میں یہ مماثلت ثابت ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جائے گا جو کہ فریضہ ساقط ہونا ہے، ورنہ یہ ایک ابتدائی نیکی ہوگی جو گناہوں کا کفارہ بن جائے گی۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور اسی لیے محمد رحمہ اللہ نے کہا: &#8216;یہ ان شاء اللہ کافی ہوگا&#8217; بغیر جزم کے، جیسا کہ اس نے وارث کے تبرع کے بارے میں کہا کہ &#8216;کھانا کھلانے میں کوئی شک نہیں&#8217;۔ اور اسی لیے وصیت کی ادائیگی میں جزم کے ساتھ کہا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;یہ کہنا کہ &#8216;جائز ہے&#8217; اگر اس سے مراد یہ ہے کہ یہ صدقہ ہے اور اپنے مقام پر واقع ہو رہا ہے تو یہ درست ہے، لیکن اگر اس سے مراد یہ ہے کہ میت کے ذمہ واجب وصیت کا خاتمہ ہو گیا ہے، جبکہ وہ اپنی موت کے وقت اس میں کوتاہی پر مصر تھا، تو اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اور جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ مؤول( کئی معانی میں سے ایک معنی کا ترجیح دی جائے) ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اسماعیل نے &#8216;المجتبى&#8217; سے کہا: &#8216;میں یہ نہیں مانع (رکاوٹ)دیکھتا کہ اس سے مراد آخرت میں میت کے ذمہ سے روزے کی مطالبہ کی معافی ہے، اگرچہ اس پر تاخیر کا گناہ باقی رہے گا، جیسا کہ اگر کسی شخص کے ذمہ کسی دوسرے کا قرض ہو اور وہ اسے تاخیر میں ڈالے رکھے یہاں تک کہ وہ مر جائے، پھر اس کا وصی یا کوئی اور اس کا قرض ادا کرے، تو اس کی تاخیر کا گناہ باقی رہے گا، اور جواز کی شرط مشیئت کے ساتھ معلق کی جائے گی، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور اسی طرح علامہ تمرتاشی نے کہا ہے کہ اگر کسی نے میت کی طرف سے روزہ یا نماز ادا کی، تو یہ جائز نہیں ہے کہ میت کے ذمہ واجب روزہ یا نماز کو ادا کیا جائے، البتہ اگر اس نے روزے یا نماز کا ثواب میت کو ہدیہ کیا، تو یہ جائز ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ &#8216;جائز ہے&#8217; کا مطلب میت کے ذمہ سے فرض کا ساقط ہونا ہے تاکہ تقابل بہتر ہو سکے۔</p>
<p>بحر میں ہے کہ ولی میت یا ولی مریض اور مسافر ہر دن کے روزے کی طرف سے فدیہ کے طور پر صدقہ فطر کی طرح کھانا کھلائے، بشرطیکہ انہوں نے وصیت کی ہو، کیونکہ وہ اس وقت روزہ رکھنے سے عاجز تھے اور اسی لیے وہ شیخ فانی کی طرح شمار کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان پر واجب ہے کہ جتنے دنوں کا روزہ ان پر باقی تھا، اتنے دنوں کے فدیہ کی وصیت کریں۔</p>
<p>اگر کہا جائے کہ &#8216;ولی اس شخص کے لیے کھانا کھلائے جو رمضان کے روزے کی قضا کا ذمہ دار ہو کر مر گیا ہو&#8217;، تو یہ زیادہ جامع ہوگا، کیونکہ یہ حکم مریض اور مسافر تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں وہ شخص بھی شامل ہوگا جو بغیر کسی عذر کے روزہ چھوڑ دے اور اس پر قضا واجب ہو۔</p>
<p>ولی سے مراد وہ شخص ہے جو میت کے مال کی تقسیم کے بعد اس کی طرف سے تصرف کا حق رکھتا ہو، اور اس میں اس کا وصی بھی شامل ہے۔ صدقہ فطر کے ساتھ اس کی مشابہت فدیہ کے مقدار کے اعتبار سے ہے، یعنی ہر دن کے روزے کے فدیہ کے طور پر آدھا صاع گیہوں کھلایا جائے، نہ کہ ہر اعتبار سے مشابہت ہو۔ کیونکہ یہاں اباحت (اجازت) کافی ہے، اسی لیے &#8216;کھلانا&#8217; کا لفظ استعمال کیا گیا، نہ کہ &#8216;دینا&#8217;، کیونکہ صدقہ فطر میں تمیلک (ملکیت) شرط ہے اور اباحت کافی نہیں ہے۔</p>
<p>وصیت کا قید اس لیے لگایا گیا ہے کیونکہ اگر میت نے حکم نہ دیا ہو تو ورثاء پر کوئی چیز لازم نہیں آتی، جیسے زکوٰة میں، کیونکہ یہ حقوق اللہ میں سے ہے اور اس میں وصیت کی ضرورت ہے تاکہ اختیار کی تصدیق ہو سکے، سوائے اس کے کہ میت عشر (فصل کی پیداوار کا دسواں حصہ) ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے، تو یہ میت کے ترکہ سے بغیر وصیت کے نکالا جائے گا، کیونکہ عشر کی شدت سے تعلق مال کے ساتھ ہوتا ہے، جیسا کہ بدائع میں ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، اگر ورثاء تبرع (اختیاری طور پر) کریں، تو یہ ان شاء اللہ کافی ہوگا۔ اسی طرح کفارہ قسم اور قتل کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر ورثاء کھانا کھلانے یا کپڑے دینے کا تبرع کریں، تو جائز ہے، لیکن غلام آزاد کرنے کا تبرع جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس میں میت کی رضامندی کے بغیر اس کے لیے ولایت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>اور وصیت کی طرف اشارہ کیا کہ یہ تہائی مال سے معتبر ہے ، اور یہ کہ نماز بھی روزے کی طرح ہے، کیونکہ دونوں حقوق اللہ میں شامل ہیں، بلکہ نماز زیادہ اہم ہے۔ اور یہ کہ حقوق اللہ میں بھی اسی طرح کا معاملہ ہوگا، چاہے وہ مالی ہو یا بدنی، یا محض عبادت ہو، یا اس میں مؤنہ (خرچ) کا معنی شامل ہو، جیسے صدقہ فطر، یا اس کے برعکس، جیسے عشر، یا محض مؤنہ ہو، جیسے نفقات، یا اس میں سزا کا معنی شامل ہو، جیسے کفارات۔</p>
<p>اور یہ کہ ولی نہ میت کی طرف سے روزہ رکھے گا اور نہ نماز پڑھے گا۔ اور ہم نے اس بات کو قید لگائی ہے کہ وہ دونوں نے کچھ دن گزارے ہوں، کیونکہ اگر وہ اس سے پہلے مر گئے تو ان پر وصیت واجب نہیں ہوگی، لیکن اگر وہ وصیت کریں تو ان کی وصیت صحیح ہوگی، کیونکہ اس کی صحت واجب ہونے پر موقوف نہیں ہے۔</p>
<p>یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی شخص نے اعتکاف کو اپنے اوپر واجب کیا، پھر مر گیا، تو اس کی طرف سے ہر دن کے لیے آدھا صاع گیہوں کھلایا جائے گا، کیونکہ اس کی ادائیگی کا امکان ختم ہو گیا، لہٰذا روزے کے فدیہ کی طرح اس کا فدیہ بھی کھانا کھلانا ہوگا۔</p>
<p>خلاصہ یہ کہ جو عبادت بدنی ہے، اس کا ولی میت کے بعد اس کی طرف سے ہر واجب کی قضا کے طور پر کھانا کھلائے گا، جیسے صدقہ فطر، اور جو عبادت مالی ہے، جیسے زکوٰة، اس کا ولی میت کی طرف سے واجب مقدار ادا کرے گا، اور جو عبادت دونوں کا مرکب ہے، جیسے حج، اس کا ولی میت کی طرف سے کسی شخص کو حج کے لیے بھیجے گا اور یہ سب کچھ میت کے مال سے ہوگا۔</p>
<p>&#8220;اور اسی میں علامہ تمرتاشی نے اشارہ کیا ہے کہ اگر مسافر نے رمضان کے روزے نہیں رکھے اور موت سے قبل ان کی قضا نہیں کی، تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہے، کیونکہ شیخ فانی (بوڑھا شخص) اگر مسافر ہو اور اقامت سے پہلے مر جائے تو اس پر فدیہ کی وصیت واجب نہیں ہے، کیونکہ وہ اس معاملے میں دوسروں سے مختلف ہے کہ اس کے لیے تخفیف (آسانی) ہے، نہ کہ تغلیظ (سختی)۔</p>
<p>لیکن شارحین نے اس کو قیل (کہا گیا) کے صیغے میں ذکر کیا ہے، اور یہ کہنا چاہیئے کہ فدیہ واجب نہیں ہے، حالانکہ پہلی بات یہی ہے کہ اس پر جزم کیا جائے، کیونکہ یہ بات پہلے ذکر کی گئی ہے اور یہ فقہاء کے کلام میں صریح نہیں ہے، اس لیے انہوں نے اس پر جزم نہیں کیا۔</p>
<p>اور اس وجہ سے بھی کہ فدیہ صرف اس روزے کا ہو سکتا ہے جو خود واجب ہو، نہ کہ کسی اور چیز کا بدل ہو۔ لہٰذا رمضان اور اس کی قضا کا فدیہ ہو سکتا ہے۔ اور نذر کا بھی فدیہ ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ اگر کسی نے ہمیشہ کے روزے کی نذر کی اور وہ روزے رکھنے سے عاجز ہو گیا، تو اسے اجازت ہے کہ وہ کھانا کھلائے اور روزہ چھوڑ دے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ اس کی قضا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔</p>
<p>اگر وہ اپنی مفلسی کی وجہ سے کھانا کھلانے پر قادر نہیں ہے، تو اسے اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہیئے۔ اور اگر شدید گرمی کی وجہ سے روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے، تو اسے اجازت ہے کہ وہ افطار کرے اور اسے سردی کے موسم میں پورا کرے، بشرطیکہ اس نے ہمیشہ کے روزے کی نذر نہ کی ہو۔ اور اگر کسی نے کسی خاص دن کے روزے کی نذر کی اور وہ روزہ نہ رکھ سکا یہاں تک کہ بوڑھا ہو گیا، تو اس کے لیے فدیہ دینا جائز ہے۔</p>
<p>اور اگر اس پر قسم کا کفارہ یا قتل کا کفارہ واجب ہوا اور وہ اس کفارہ کو ادا کرنے کے قابل نہ ہو اور وہ بوڑھا شخص ہو گیا جو روزہ رکھنے کے قابل نہ ہو، یا وہ روزہ نہ رکھ سکا اور بوڑھا ہو گیا، تو اس کے لیے فدیہ جائز نہیں ہے، کیونکہ یہاں روزہ ایک بدل کے طور پر ہے۔ اور اسی وجہ سے فدیہ دینے کا اختیار نہیں ہے، جب تک کہ مال کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کی عاجزی نہ ہو۔</p>
<p>فتح القدیر میں بھی اسی طرح ذکر کیا گیا ہے۔ اور قاضی خان کے فتاویٰ میں اور غایۃ البیان میں بھی یہی حکم ہے۔ اسی طرح اگر کوئی محرم (احرام باندھے ہوئے شخص) کسی تکلیف کی وجہ سے اپنا سر منڈوائے اور اس کے پاس قربانی کے لیے جانور نہ ہو یا تین صاع گیہوں نہ ہوں تاکہ وہ چھ مسکینوں میں تقسیم کر سکے اور وہ بوڑھا ہو جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو روزے کے بدلے کھانا کھلانا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک بدل ہے۔</p>
<p>فتاویٰ ظہیریہ میں بھی یہ ذکر کیا گیا ہے کہ بدل کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔ اور صدر شہید نے ذکر کیا ہے کہ اگر کسی کے سارے سر میں زخم ہو اور اس نے پٹی باندھی ہو، تو اس پر پٹی پر مسح کرنا واجب نہیں ہے، کیونکہ یہاں اصل حکم موجود ہے، نہ کہ کسی اور چیز کا بدل۔</p>
<p>یہ عبارت بحر الرائق سے ختم ہوتی ہے، اور یہی بات زیلعی، درر، نہر، اور در مختار میں بھی ہے۔ شرنبلالیہ میں کہا گیا ہے: &#8216;میرا کہنا یہ ہے کہ ورثاء کا قتل کے کفارہ میں کوئی چیز تبرع کے طور پر دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں ابتداءً مومن غلام کو آزاد کرنا واجب ہے، اور ورثاء کا غلام آزاد کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، اور قتل کے کفارہ میں روزہ ایک بدل ہے، اس میں فدیہ جائز نہیں ہے، جیسا کہ بعد میں آئے گا۔ اور قتل کے کفارہ میں کھانا کھلانا اور کپڑے دینا شامل نہیں ہے، لہذا اسے قسم کے کفارہ کے ساتھ شامل کرنا سہو (غلط)ہے۔&#8217;</p>
<p>علامہ اقصراوی نے اس کا جواب دیا، جیسا کہ ابو السعود نے مسکین کی حاشیہ میں نقل کیا ہے، کہ ان کی مراد شکار کے قتل سے ہے، نہ کہ انسان کے قتل سے، کیونکہ اس میں کھانا کھلانا شامل نہیں ہے۔</p>
<p>میری رائے ہے کہ اس پر یہ بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ شکار کے قتل میں روزہ اصل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بدل ہے، کیونکہ اس میں واجب یہ ہے کہ اس کی قیمت سے حرم میں قربانی کے لیے جانور خریدے، یا ہر فقیر کو آدھا صاع گیہوں دے، یا ہر آدھے صاع کے بدلے ایک دن کا روزہ رکھے۔ تو سمجھو۔</p>
<p>میں نے کہا کہ زندگی اور موت کے بعد کفارہ ادا کرنے میں فرق ہے، جیسا کہ &#8220;کافی نسفی&#8221; میں مذکور ہے: اگر کوئی شخص قسم توڑنے یا قتل کی کفارہ کے لیے مجبور ہو اور روزہ رکھنے سے عاجز ہو تو فدیہ جائز نہیں، جیسے کہ جو شخص قربانی یا روزے سے عاجز ہو، کیونکہ یہاں روزہ ایک بدل ہے اور بدل کے لیے کوئی دوسرا بدل نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ مر جائے اور کفارہ ادا کرنے کی وصیت کرے تو وہ اس کے مال کے ایک تہائی سے ادا کیا جا سکتا ہے، اور کپڑے یا کھانے میں صدقہ دینا بھی جائز ہے، کیونکہ غلام آزاد کرنے کی وصیت کے بغیر میت پر غلامی کی پابندی عائد ہو جائے گی، جبکہ کپڑے یا کھانے میں کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ لہذا، اگر وہ مر جائے اور کفارہ ادا کرنے کی وصیت کرے تو یہ صحیح ہے، اور یہ حکم قسم اور قتل کی کفارہ دونوں کے لیے شامل ہے، کیونکہ غلام آزاد کرنے کی وصیت جائز ہے، لیکن صدقہ دینے کی صحت کپڑے یا کھانے کے ساتھ مقید ہے اور غلام آزاد کرنے کی عدم صحت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کفارہ دینے کا مطلب صرف قسم کی کفارہ ہے، کیونکہ قتل کی کفارہ میں کپڑے یا کھانے کا ذکر نہیں ہے۔</p>
<p>کافی کے کلام سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص روزہ رکھنے سے عاجز ہو، جو کہ قسم یا قتل کی کفارہ کے طور پر بدل ہو، اس کے لیے زندگی میں فدیہ جائز نہیں، لیکن اگر وصیت کرے تو جائز ہے، اور اگر اس کے ولی نے اس کے بدلے فدیہ دیا تو وہ قتل کی کفارہ میں جائز نہیں کیونکہ اس میں غلام آزاد کرنا واجب ہے، اور ولی کی طرف سے غلام آزاد کرنے کا فدیہ جائز نہیں، لیکن قسم کے کفارہ میں کپڑے یا کھانے میں فدیہ دینا جائز ہے، نہ کہ غلام آزاد کرنے میں۔</p>
<p>علامہ شیخ اسماعیل نے &#8220;درر&#8221; کی شرح میں کہا ہے کہ اگر ولی نے فدیہ دیا تو یہ جائز ہے، کیونکہ قتل کی کفارہ میں بھی کھانا شامل ہو سکتا ہے، اور اگر وہ مر جائے اور وصیت نہ کرے اور اس کے ولی نے کھانے میں فدیہ دیا تو یہ جائز ہے۔ مزید یہ کہ ضعیف اور روزہ رکھنے سے عاجز شخص کے لیے روزہ توڑنا واجب ہے اور فدیہ دینا بھی واجب ہے، چاہے مہینے کے آغاز میں ہی کیوں نہ ہو، اور فدیہ میں فقیر کو دینے کی کوئی قید نہیں، اگر وہ مالدار ہو تو فدیہ واجب ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ اگر روزہ خود ایک فرض ہو اور اس کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہو، تو اگر وہ قسم یا قتل کی کفارہ کے لیے روزہ رکھنے سے عاجز ہو جائے تو فدیہ جائز نہیں، کیونکہ یہاں روزہ ایک بدل ہے۔ اور اگر مسافر ہو اور موت واقع ہو جائے تو وصیت واجب نہیں، اور جب تک وہ عاجز ہے، فدیہ دینے کا حکم برقرار ہے۔</p>
<p>&#8220;کنز&#8221; کی عبارت &#8220;وہ فدیہ دے گا&#8221; اشارہ کرتی ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور پر فدیہ لازم نہیں، کیونکہ بیماری یا سفر میں قضا کی گنجائش ہوتی ہے، اور موت کے بعد فدیہ کی وصیت واجب ہو جاتی ہے۔</p>
<p>قوله &#8220;ولو في أول الشهر&#8221; (یعنی مہینے کے آغاز میں فدیہ دینا) کا مطلب یہ ہے کہ اسے اختیار ہے کہ فدیہ مہینے کے شروع میں دے یا آخر میں، جیسا کہ &#8220;البحر&#8221; میں ہے۔ قوله &#8220;وبلا تعدد فقير&#8221; (یعنی فدیہ ایک فقیر کو دینا ہوگا) کے برعکس، جیسے قسم کے کفارے میں تعدد کا ذکر کیا گیا ہے، اس صورت میں اگر کسی نے یہاں ایک مسکین کو دو دنوں کا فدیہ دیا تو جائز ہے، لیکن &#8220;البحر&#8221; میں &#8220;القنية&#8221; سے منقول ہے کہ امام ابو یوسف سے اس بارے میں دو روایات ہیں، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، جیسے کہ قسم کے کفارے میں۔ اور امام ابو یوسف سے یہ روایت ہے کہ اگر کسی نے ایک دن کا نصف صاع گندم ایک مسکین کو دیا تو جائز ہے۔ حسن نے کہا کہ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں، اور اسی طرح &#8220;القهستانی&#8221; میں بھی ہے۔</p>
<p>قوله &#8220;لو موسرا&#8221; (اگر مالدار ہو) یہ اس بات کی قید ہے کہ فدیہ واجب ہوگا۔ قوله &#8220;وإلا يستغفر الله تعالى&#8221; (اور اگر مالدار نہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے) یہ بات &#8220;الفتح&#8221; اور &#8220;البحر&#8221; میں ذکر کی گئی ہے، نذر کی اس صورت کے بعد جب کوئی شخص روزے کے بجائے اپنی معاش میں مشغول ہو جائے، تو ظاہر ہے کہ یہ بات نذر کے مسئلے کی طرف راجع ہے نہ کہ ضعیف اور روزہ نہ رکھ سکنے والے شیخ کے مسئلے کی طرف، کیونکہ اس نے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، برعکس نذر کرنے والے کے، کیونکہ اس نے روزے کے بجائے اپنی معاش میں مشغول ہو کر کچھ حد تک کوتاہی کی ہے، حالانکہ اس کا مشغول ہونا واجب تھا، کیونکہ اس میں اس نے اپنی ذات کے فائدے کو ترجیح دی ہے، لہذا اس پر غور کرنا چاہیئے۔</p>
<p>قوله &#8220;هذا&#8221; (یعنی ضعیف شیخ پر فدیہ واجب ہے)۔ قوله &#8220;أصلا بنفسه&#8221; (یعنی بذات خود واجب روزہ، جیسے رمضان اور اس کی قضا اور نذر کے روزے)۔ جیسا کہ اس شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جس نے ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر کی ہو، اور اسی طرح اگر کسی نے مخصوص روزہ نذر کیا اور اسے پورا نہ کیا یہاں تک کہ وہ ضعیف ہو گیا، تو اس کے لیے فدیہ دینا جائز ہے، جیسا کہ &#8220;البحر&#8221; میں ہے۔</p>
<p>قوله &#8220;حتى لو لزمه الصوم&#8221; (یہاں تک کہ اگر اس پر روزہ لازم ہو) یہ ایک فرعی مسئلہ ہے جو مذکورہ قاعدے پر مبنی ہے۔ قوله &#8220;أصلا بنفسه&#8221; (بذات خود واجب روزہ) اور اس میں قسم اور قتل کی کفارہ کی قید لگائی گئی ہے تاکہ وہ کفارہ ظہار اور افطار سے ممتاز ہو سکے، اگر وہ غلام آزاد کرنے سے عاجز ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے سے عاجز ہو تو وہ ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا سکتا ہے، کیونکہ یہ روزہ کا بدل بن گیا ہے، اور قسم کی کفارہ میں کھانا کھلانا روزہ کا بدل نہیں ہوتا، بلکہ روزہ کھانے کا بدل ہے، جیسا کہ &#8220;سراج&#8221; میں ہے۔</p>
<p>قوله &#8220;لم تجز الفدية&#8221; (زندگی میں فدیہ جائز نہیں) بخلاف اس کے کہ اگر وصیت کرے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔ قوله &#8220;ولو كان&#8221; (اور اگر وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو) یہ بات اس پر مبنی ہے جو پہلے بیان ہوا کہ روزہ اس پر لازم تھا۔</p>
<p>قوله &#8220;لم يجب الإيصاء&#8221; (وصیت واجب نہیں) شارحین نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ بعض نے کہا کہ وصیت واجب نہیں، کیونکہ ضعیف شخص میں کمی کی گنجائش ہے نہ کہ سختی کی، اور &#8220;البحر&#8221; میں ذکر کیا گیا ہے کہ وصیت کا وجوب اس بات پر مبنی ہے کہ مسافر اگر دوران سفر مر جائے تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ لہذا، اگر فقہاء کے کلام میں یہ بات صریح نہ ہو تو وہ اس پر یقین نہیں کرتے۔</p>
<p>قوله &#8220;ومتى قدر&#8221; (اور جب بھی وہ طاقتور ہو جائے) یعنی ضعیف شخص فدیہ دے گا اور روزہ چھوڑے گا۔</p>
<p>قوله &#8220;شرط الخلفية&#8221; (روزہ کا بدل ہونا)۔ قوله &#8220;المشهور نعم&#8221; (مشہور قول ہے کہ ہاں) یعنی جو حکم کھانا کھلانے کے بارے میں وارد ہوا ہے، اس میں اباحت اور ملکیت دونوں جائز ہیں، بخلاف اس کے جو ادا کرنے اور دینے کے لفظ سے وارد ہوا ہے، کیونکہ وہ ملکیت کے لیے مخصوص ہے، جیسا کہ &#8220;القهستاني&#8221; اور دیگر کتب میں ہے۔</p>
<p>&#8220;اور اگر کسی نے اپنی نمازوں کے بدلے میں مرض کی حالت میں فدیہ دیا تو یہ درست نہیں، بخلاف روزے کے۔ یہ &#8220;التاتارخانية&#8221; میں &#8220;التتمة&#8221; سے منقول ہے۔ حسن بن علی سے سوال کیا گیا کہ کیا مرض الموت میں نمازوں کا فدیہ دیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ اور امام ابو یوسف سے سوال کیا گیا کہ کیا ضعیف بوڑھے پر زندگی میں نمازوں کا فدیہ دینا واجب ہے جیسے کہ روزے کا فدیہ واجب ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: نہیں۔</p>
<p>&#8220;القنية&#8221; میں ہے کہ زندگی میں نماز کا فدیہ نہیں ہے، بخلاف روزے کے۔ میں (مصنف) کہتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ نص (شرعی حکم) میں ضعیف بوڑھے کے بارے میں آیا ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور زندگی میں فدیہ دے۔ حتیٰ کہ اگر مریض یا مسافر روزہ نہ رکھے تو ان پر قضا واجب ہوگی اگر انہوں نے دوسرے دن پائے، ورنہ ان پر کچھ واجب نہیں۔ اگر وہ دن پائیں اور روزہ نہ رکھیں تو ان پر فدیہ کی وصیت واجب ہوگی۔</p>
<p>اس کا تقاضا یہ ہے کہ ضعیف بوڑھے کے علاوہ کسی کے لیے زندگی میں روزے کا فدیہ دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کے لیے کوئی نص موجود نہیں ہے، اور اسی طرح نماز کا بھی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ روزے کی قضا کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں تو ان پر قضا واجب ہوتی ہے، اور ان پر فدیہ واجب نہیں ہوتا جب تک کہ موت کی حالت میں ان کی عاجزی ثابت نہ ہو، اور پھر ان پر وصیت واجب ہوگی۔ بخلاف ضعیف بوڑھے کے کہ ان کی عاجزی موت سے پہلے ہی ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ نہ تو روزہ رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی قضا کر سکتے ہیں، لہذا ان کے لیے زندگی میں فدیہ دینا جائز ہے۔ لیکن نماز کے بارے میں ان کی عاجزی ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ وہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں اس کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں، چاہے وہ صرف سر کے اشارے سے ہو۔ اگر وہ اس سے بھی عاجز ہوں، اور اگر چھ یا زیادہ نمازیں چھوٹ جائیں تو ان پر قضا واجب نہیں ہوگی، اگرچہ وہ بعد میں اس کی استطاعت حاصل کرلیں۔</p>
<p>&#8220;التنویر&#8221; اور &#8220;الدر&#8221; میں ہے کہ اگر کسی کی موت واقع ہو جائے اور اس پر فوت شدہ نمازیں باقی ہوں، اور اس نے کفارہ کی وصیت کی ہو، تو ہر نماز کے لیے آدھا صاع گندم دیا جائے گا، جیسے فطرہ میں دیا جاتا ہے۔ وتر اور روزے کا بھی یہی حکم ہے، اور یہ مال کے ایک تہائی سے دیا جائے گا۔ اگر اس نے کوئی مال نہ چھوڑا ہو، تو اس کا وارث نصف صاع قرض لے اور اسے فقیر کو دے، پھر وہ فقیر اسے وارث کو واپس کرے، اور اسی طرح سلسلہ جاری رہے یہاں تک کہ مکمل ہو جائے۔ اور اگر ورثاء نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے نمازوں کی قضا کی تو یہ جائز نہیں ہوگا، کیونکہ یہ بدنی عبادت ہے، بخلاف حج کے کہ اس میں نیابت (کسی اور کی طرف سے ادا کرنا) جائز ہے۔ اگر فقیر کو نصف صاع سے کم دیا گیا تو یہ جائز نہیں ہوگا، اور اگر پورا دے دیا تو جائز ہوگا، برخلاف قسم، ظہار، اور افطار کے کفارے کے۔</p>
<p>&#8220;متن الملتقى&#8221; اور اس کی شرح &#8220;مجمع الأنهر&#8221; میں شیخ زادہ نے فرمایا کہ &#8220;قضا واجب ہے جتنی نمازیں فوت ہوئی ہوں، اگر مریض ٹھیک ہو جائے، چاہے کم ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ شرط قدرت ہے نہ کہ صحت، اور صحت کا ہونا قدرت کے لیے ضروری نہیں ہے، جیسا کہ &#8220;الاصلاح&#8221; میں ہے۔&#8221; اور اگر مسافر واپس آ جائے تو بھی جتنی نمازیں فوت ہوئیں ہوں اتنی ہی قضا واجب ہوگی، بشرطیکہ اس نے بیماری یا سفر کی مدت کے برابر وقت پایا ہو۔ اور اگر مریض صحت یاب نہ ہو یا مسافر واپس نہ آئے اور اس مدت سے کم وقت پایا اور پھر مر گیا، تو جتنی نمازیں فوت ہوئیں ہوں اتنی ہی قضا واجب ہوگی، اور اس کے وارث کو چاہیئے کہ وہ فدیہ ادا کرے، جیسے فطرہ دیا جاتا ہے، چاہے وہ عین مال ہو یا اس کی قیمت۔ اگر کسی کو بیماری یا سفر کی وجہ سے پانچ دن کے روزے فوت ہو جائیں اور وہ پانچ دن زندہ رہے بغیر قضا کے، پھر مر جائے، تو اس پر پانچ دن کا فدیہ واجب ہوگا۔ اور اگر پانچ دن کے روزے فوت ہوئے اور وہ تین دن زندہ رہا، تو اس پر صرف تین دن کا فدیہ واجب ہوگا۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور (ورثاء کے لیے لازم ہے) یعنی ورثاء پر واجب ہے کہ وہ (فدیہ دیں) مورث کے (مال کے ایک تہائی سے) اگر اس کا کوئی وارث ہو، اور اگر وارث نہ ہو تو پورے مال سے (جبکہ مورث نے) وصیت کی ہو۔ اس میں یہ ہے کہ وصیت کرنا واجب ہے اگر اس کے پاس مال ہو، جیسا کہ &#8220;المنية&#8221; میں ذکر ہے۔ یہ حکم خاص طور پر مریض اور مسافر کے لیے نہیں بلکہ اس میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے عمداً روزہ چھوڑا ہو اور ان پر قضا واجب ہو یا کسی عذر کی بنا پر۔ اسی طرح ہر جسمانی عبادت کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔</p>
<p>اور اگر وصیت نہ کرے (تو ورثاء پر فدیہ لازم نہیں ہے) کیونکہ یہ عبادت ہے، اور اس کے لیے وصیت کا حکم ضروری ہے۔ امام شافعی کے برخلاف، ہمارے نزدیک (اگر وصی) بغیر وصیت کے (فدیہ ادا کرے) تو یہ درست ہے اور اس کو اس کا ثواب ملے گا۔ اس اختلاف کا اطلاق زکوٰۃ اور نماز پر بھی ہوتا ہے۔</p>
<p>فرض نماز ہو یا واجب جیسے وتر، اس میں امام صاحب کا قول ہے اور دونوں شاگردوں (یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد) کے نزدیک وتر سنن کی مانند ہے، اس لیے اس کی وصیت واجب نہیں۔ &#8220;الجوهرة&#8221; میں بھی اسی طرح ذکر کیا گیا ہے۔</p>
<p>(روزہ اور ہر نماز کا فدیہ ایک دن کے روزے کی مانند ہے) یعنی جیسے روزے کا فدیہ دیا جاتا ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ (یہ درست ہے)۔ اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ بعض نے کہا کہ ایک دن اور رات کی نماز کا فدیہ اس دن کے روزے کے برابر ہے، اگر معسر (تنگدست)ہو۔ محمد بن مقاتل نے پہلے بغیر اعسار (تنگی)کے قید کے کہا، پھر رجوع کیا۔ قیاس یہی ہے کہ نماز کا فدیہ جائز نہیں، اور اسی طرف البلخي نے بھی رجوع کیا ہے۔</p>
<p>اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کسی نے نماز کی ادائیگی میں کوتاہی کی، نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور شیطان کے دھوکے میں آ گیا، پھر اپنی عمر کے آخری حصے میں نادم ہوا اور فدیہ کی وصیت کی، تو یہ کافی نہیں ہوگا۔ لیکن &#8220;المستصفى&#8221; میں اس کے جواز کی دلیل ملتی ہے، اور یہ بھی کہ اگر اس نے فدیہ کی وصیت نہ کی ہو اور اس کے وارث نے فدیہ دیا ہو، تو یہ جائز ہے۔</p>
<p>اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ یہ ایک مستحسن عمل ہے اور اس کا ثواب میت کو پہنچے گا، اور فدیہ دفن سے پہلے دینا بہتر ہے، اگرچہ دفن کے بعد بھی جائز ہے، جیسا کہ &#8220;القہستانى&#8221; میں ہے۔</p>
<p>اور اس کے ولی پر لازم نہیں ہے کہ وہ اس کی طرف سے روزہ رکھے یا نماز ادا کرے۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: &#8220;کوئی کسی کی طرف سے روزہ نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی کوئی کسی کی طرف سے نماز ادا کر سکتا ہے، لیکن وہ کھانا کھلا سکتا ہے۔&#8221; امام شافعی کے برخلاف یہ حکم ہے۔</p>
<p>جب تم یہ جان چکے تو معلوم ہو کہ اگر کوئی غیر شخص میت کی طرف سے تبرعاً فدیہ دے تو یہ کافی نہیں ہوگا، کیونکہ ان کی عبارات میں &#8220;ولی&#8221; کا لفظ آیا ہے۔ اور &#8220;ولی&#8221; سے مراد وہ شخص ہے جو وصی ہو یا وراثت کی وجہ سے میت کے مال کا تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہو۔ یہ بات &#8220;سيدي الوالد&#8221; نے &#8220;الدر&#8221; کے حاشیہ میں اور &#8220;شفاء العليل&#8221; میں واضح کی ہے۔</p>
<p>میں نے کسی اور کے بارے میں نہیں پڑھا جو کہ غیر شخص کے تبرع کو جائز قرار دیتا ہو، سوائے علامہ شرنبلالی کے، اور ان کی پیروی علامہ شیخ اسماعیل نے &#8220;شرح الدرر&#8221; میں کی، لیکن انہوں نے اس کی نسبت کسی اور کے ساتھ نہیں کی۔ لیکن دیگر کتب میں، متون، شروح، اور حواشی میں، &#8220;ولی&#8221; کی شرط ذکر کی گئی ہے اور یہ شرط ضروری ہے۔</p>
<p>یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ شرط اتفاقی ہے کیونکہ اس طرح کی بات کو رائے سے بیان نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب سیدنا امام محمد نے صراحت کی ہو کہ اگر کسی پر رمضان کی قضا ہو اور وہ بڑھاپے کی وجہ سے ادا نہ کر سکے، تو اس کے ورثاء اس کی وصیت کے بغیر بھی فدیہ دے سکتے ہیں، جیسا کہ اس کا نص آنے والا ہے۔</p>
<p>البتہ، اگر غیر شخص کے تبرع کو جائز مانا جائے، اور وہ بھی ان علماء میں سے ہو جن پر متأخرین نے اعتماد کیا ہے، تو بھی یہ ظاہر ہے کہ یہ مذهب کی عبارات کے ظاہر کے برخلاف ہے، جنہیں مذهب کی کتابوں میں دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب نص میں ورثاء کی قید ہے، جیسا کہ تم نے دیکھا اور سنا۔ لہذا احتیاط یہی ہے کہ اس عمل کو &#8220;ولی&#8221; کے ذریعے انجام دیا جائے تاکہ ذمہ بری ہو جائے۔ اور اگر &#8220;ولی&#8221; اس عمل کو درست طریقے سے نہیں کر سکتا، تو اس کے سامنے کسی ایسے شخص کو بٹھایا جائے جو اس عمل کو اچھی طرح جانتا ہو، تاکہ &#8220;ولی&#8221; خود اس عمل کو انجام دے سکے۔</p>
<p>سیدنا امام محمد نے <em>الزیادات</em> میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جس شخص پر رمضان کی قضا واجب ہو اور وہ بڑھاپے کی وجہ سے قضا ادا کرنے سے قاصر ہو، تو اس کے لیے فدیہ دینا جائز ہے کیونکہ یہ بذاتِ خود ایک اصل (یعنی بنیاد) ہے۔ اور اگر وہ فوت ہو جائے اور وصیت کرے کہ اس کی طرف سے فدیہ دیا جائے، یا اس کے ورثاء بغیر وصیت کے اس کی طرف سے فدیہ دیں، تو یہ ان شاء اللہ تعالیٰ کافی ہوگا۔ اور عتابی نے وضاحت کی ہے کہ اس میں &#8220;ان شاء اللہ&#8221; کی شرط دو باتوں پر منحصر ہے۔</p>
<p>فقہاء نے &#8220;ان شاء اللہ&#8221; کی شرط لگائی ہے کیونکہ اس بارے میں کوئی واضح نص نہیں ہے۔ اسی طرح، فقہاء نے اگر کوئی شخص نماز کے فدیہ کی وصیت کرے، تو اس کی قبولیت کو بھی &#8220;ان شاء اللہ&#8221; کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے احتیاطاً نماز کو روزے کے ساتھ ملحق کیا ہے، اس احتمال کے پیش نظر کہ شاید اس نص کا تعلق بھی عجز سے ہو، جو کہ نماز کو بھی شامل کر لے، اگرچہ یہ عجز کے ساتھ مشروط نہ ہو، پھر بھی فدیہ ایک نیکی ہوگی جو گناہوں کو مٹانے کے قابل ہو سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح اگر کوئی شخص روزے کے فدیہ کی وصیت نہ کرے اور اس کا ولی تبرعاً اس کی طرف سے فدیہ دے، تو یہ جائز ہے، جیسا کہ ہمارے علمائے کرام نے اس کی نص کی ہے۔</p>
<p>میرے والد صاحب کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ &#8220;ولی&#8221; کی قید کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر کے مال سے فدیہ دینا جائز نہیں ہوگا۔ اس کی مثال اس قول سے بھی ملتی ہے کہ اگر کسی شخص نے فرض حج کی وصیت کی ہو، اور وارث اس کی طرف سے حج کرے، تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر اس نے وصیت نہ کی ہو اور وارث نے خود حج کیا ہو یا کسی دوسرے کو حج کروایا ہو، تو امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ ان شاء اللہ یہ جائز ہوگا، کیونکہ حدیث خثعمیہ میں اس کا موازنہ لوگوں کے قرض کے ساتھ کیا گیا ہے۔</p>
<p>اس میں یہ بھی ہے کہ اگر وارث بغیر وصیت کے قضا کرے، تو یہ بھی کافی ہوگا۔ اسی طرح <em>المبسوط</em> میں ہے کہ اگر وارثوں کے ذریعے حجة الاسلام ادا ہو جائے، تو یہ مکتبہ فقہاء کے نزدیک جائز ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے بندے کے درمیان ایک معاملہ ہے۔ اس لیے جواز کو &#8220;ان شاء اللہ&#8221; کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔</p>
<p>ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی غیر وارث تبرعاً فدیہ دے، تو یہ کافی نہیں ہوگا، اگرچہ اس کا ثواب میت کو پہنچ جائے گا، جیسا کہ <em>شفاء العليل</em> میں بھی ذکر ہے۔</p>
<p>اگر یہ کہا جائے کہ حدیث میں دین کے ساتھ تشبیہ دینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وارث کی قید لازمی نہیں ہے، کیونکہ دین کو اگر کوئی غیر ادا کرے، تو یہ جائز ہوتا ہے۔</p>
<p>تو میں کہوں گا کہ اللہ بہتر جانتا ہے، اس میں صرف اصل جواز کی تشبیہ دی گئی ہے نہ کہ ہر پہلو سے۔ ورنہ دین کو پورے مال سے ادا کرنا واجب ہوتا ہے، چاہے وصیت نہ کی گئی ہو، جبکہ حج ہمارے نزدیک ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ صرف وصیت کے ساتھ واجب ہوتا ہے اور صرف تہائی مال سے ہی ادا کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک عبادت ہے اور اس میں اختیار ضروری ہے، برخلاف حقوق العباد کے، جن میں ضروری ہے کہ وہ حق دار کو پہنچے، اس لیے یہاں ہر پہلو سے تشبیہ نہیں دی گئی، اور تمہاری بات لازم نہیں ہوگی۔</p>
<p>ہاں، بعض متأخرین کے کلام میں آیا ہے کہ &#8220;وارث یا اس کا وکیل&#8221; اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے پہلے بیان کیا ہے، اس کے مطابق یہ درست نہیں ہوگا، کیونکہ وکیل جب فقیر سے مال ہبہ طلب کرے گا، تو یہ اس کا ملک ہو جائے گا نہ کہ وارث کا، اور جب وہ فقیر کو دوبارہ دے گا تو وہ خود ایک غیر ہو جائے گا جو اپنے مال سے دے رہا ہے، جب تک کہ وہ ہر بار اسے ہبہ کرنے اور واپس طلب کرنے کا وکیل نہ ہو۔</p>
<p>اور اگر کوئی شخص کہے &#8220;میں نے آپ کو اپنے والد کے روزے یا نماز کے فدیہ کے اخراج کا وکیل بنایا ہے&#8221; تو یہ کافی ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہبہ اور استہاب(فقیر سے مال مانگنا) کو دہرایا جائے، حتیٰ کہ کام مکمل ہو جائے، اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ کافی نہیں ہوگا جب تک کہ اس کی صراحت نہ کی جائے، کیونکہ عام طور پر وارث نہیں جانتا کہ یہ مال اس کا ہونا چاہیئے، اور اس کو علم نہیں ہوتا کہ وہ اس کے لیے استہاب کے لیے بھی وکیل ہے۔</p>
<p>بلکہ بعض عوام تو یہ بھی نہیں جانتے کہ وکیل کو کیا کرنا ہوتا ہے، خصوصاً خواتین۔</p>
<p>ہاں، اگر یہ کہا جائے کہ &#8220;ولی&#8221; کی قید لازمی نہیں ہے، اور یہ ان کے کلام سے ظاہر نہیں ہوتا بلکہ مراد یہ ہے کہ مال اس کے مال یا دوسرے کے مال سے اس کی اجازت سے دیا جائے، تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔</p>
<p>&#8220;مجھے اپنے زمانے کے بعض مشائخ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ (فدیہ کی) لزومیت کے قائل تھے، اور بعض دوسرے لوگوں نے ان پر اعتراض کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر شخص نے ان دلائل کو اپنی نظر سے دیکھا جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ لیکن یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ احتیاط اسی میں ہے کہ وارث خود اس عمل کو انجام دے یا کسی اور سے یہ کہے کہ &#8216;میں نے تمہیں وکیل بنایا کہ تم ان فقراء کو یہ مال دو تاکہ فلاں شخص کی طرف سے فدیہ ادا ہو سکے، اور پھر ہر فقیر سے مال واپس لے کر اس عمل کو مکمل کرو۔&#8217;</p>
<p>میں کہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا مطلب جو کہا &#8216;اگر آپ کہیں گے&#8230;&#8217;، تو جو کچھ ان کے عبارات سے ظاہر ہوتا ہے، اور جو ولی کی قید سے متبادر(ذہن میں آنا) ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص وصی یا وارث ہو، اس کے علاوہ کسی دوسرے کی اجازت نہیں ہے، جیسا کہ وہ لوگ جو مذہب کی کتب کو غور سے دیکھتے ہیں، سوائے ان دو عظیم اماموں کے جنہوں نے اس کی تائید کی، اور ان کی پیروی الطحطاوی نے اپنی حاشیہ میں کی۔ اگرچہ انہوں نے جو کچھ بیان کیا، اس کا حوالہ مذہب کی کتب سے نہیں دیا، لیکن شاید یہ مذہب کا ایک اور قول یا روایت ہو۔ تو جو شخص اس مسئلے میں کچھ دیکھے، وہ اسے واضح کرے، اور اسے اللہ کی طرف سے انعام ملے۔</p>
<p>اور ان کے اس قول کا مطلب &#8216;ہاں، بعض متاخرین کے کلام میں یہ مسئلہ آیا ہے&#8230;&#8217;، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے مرحلے میں جب وہ مال جو اس کے پاس تھا، وہ اس فقیر کو دے چکا ہو اور مال واپس لے چکا ہو، تو وکالت ختم ہو چکی ہوتی ہے، اور وہ اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو چکا ہوتا ہے۔ اس کے بعد، وہ غیر بن جاتا ہے، اور مال جو فقیر سے لیا تھا، وہ اس کا اپنا مال ہو جاتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ وکیل کو مسلسل وکالت دے، تاکہ وہ ہر بار جب وکالت ختم ہو جائے، وکیل بنا رہے، اور یہ اسقاط اور وکالت کے لئے نہ ہو، بلکہ استہاب(فقیر سے مال مانگنا)  کے لئے ہو، جیسا کہ آگے بیان کیا جائے گا۔</p>
<p>اور ان کا قول &#8216;البتہ، اگر وہ اسے ہبہ کرنے اور واپس لینے کا وکیل بنائے&#8230;&#8217;، اس میں جو سیدھی بات ہے، وہ سیدھی بات وہ ہے جو میرے والد صاحب نے رحمہ اللہ تعالیٰ نے <em>رد المحتار</em> میں ذکر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرض کے قبضے کی وکالت جائز ہے، لیکن استقراض (قرض طلب)کی نہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور اسی بنا پر ان کا کہنا کہ استقراض کی وکالت باطل ہے، کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں یہ رسالت ہے نہ کہ وکالت۔ لہذا اگر بات کو وکالت کے طور پر بیان کیا جائے تو یہ درست نہیں ہوگا، بلکہ اسے رسالت کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے جیسا کہ ہم نے کہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ صرف استقراض کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر وہ معاملہ جو تملیک (ملکیت کی منتقلی) کا ہو، اگر وکیل طالبِ تملیک کی طرف سے ہو نہ کہ مملک کی طرف سے، تو قرض دینے اور عاریہ (عارضی طور پر کوئی چیز دینے) کی وکالت درست ہے، لیکن استقراض اور استعارت (عارضی طور پر مانگنے) کی نہیں، بلکہ یہ رسالت ہے۔ یہی مجھے سمجھ آیا ہے، اس پر غور کرو۔</p>
<p>جب آپ کو یہ بات معلوم ہوگئی، تو آپ کو یہ بھی واضح ہوگا کہ استیھاب (فقیر سے مال مانگنا) میں وکالت کی صحت نہیں ہے، اور جو کچھ انہوں نے استیهاب کی وکالت کا ذکر کیا ہے، وہ رسالت پر مبنی ہے یا اس شرط پر کہ وکیل اپنی بات کو رسالت کے طور پر بیان کرے۔ پس اگر اس نے اپنی بات کو رسالت کے طور پر بیان نہیں کیا تو اس نے مال کو اپنی طرف ملکیت میں لے لیا، اور جب اس نے اسے فقیر کو دیا تو یہ ایسا ہوا جیسے کسی اجنبی نے میت کے حق میں مال دیا ہو، اور ہم اسی چیز سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p>اور ان کا کہنا &#8216;میں نے تمہیں اپنے والد کی طرف سے روزہ یا نماز کا فدیہ دینے کے لیے وکیل بنایا&#8230;&#8217;، اس پر میں کہتا ہوں کہ وکالت کی اس صفت کے بدلے میں ہم نے جو بات پہلے بیان کی ہے، وہی کافی ہے کہ ایک دائرے میں وکالت کی جائے۔</p>
<p>اور جہاں تک استيهاب کی بات ہے، تو تم جان چکے ہو کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وکیل اپنی بات کو رسالت کے طور پر بیان کرے تاکہ وہ درست ہو یا اسے رسول بنا دے، یہی اس کا مطلب ہے۔ اور ان کا کہنا &#8216;یہ کافی نہیں ہوگا&#8230;&#8217;، یعنی احتیاط اسی میں ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں، خصوصاً جب آپ نے سنا کہ احتیاط اسی میں ہے کہ وارث خود یہ کام انجام دے، اگرچہ عمومی وکالت کافی ہوگی، اگر وہ اسے دائرے کی وکالت دے کہ میت کے ذمے جتنے بھی حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں، انہیں مال کے ذریعے ادا کرے جو اس نے اسے دیا ہے اور اسے ہبہ وصول کرنے کے لیے رسول بنا دے۔</p>
<p>ہاں، اگر وارث جاہل ہو تو اس صورت میں ایسے علم اور تقویٰ رکھنے والے شخص کو وکیل بنانا ضروری ہے جو اس کام کو سمجھتا ہو، تاکہ وہ میت کے ذمے جو کچھ ہے، اس سے نجات دلائے اور اللہ کی مدد سے ذمہ داری سے بری ہو جائے۔ اور ان کا کہنا &#8216;ہاں، اگر ہم کہیں کہ ولی کی شرط ضروری نہیں&#8230;&#8217;، یہ مخالف کے ساتھ ایک فرضی صورت کے طور پر نزول ہے، جیسے کہ اگر کوئی دلیل موجود ہو جو اس کے دعوے کی تائید کرتی ہو، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مال کی ادائیگی اس کے مال یا کسی اور کے مال سے اس کی اجازت کے ساتھ ہو، تو ان میں سے کوئی بھی ذکر شدہ امور ضروری نہیں ہوں گے، بشرطیکہ کہ ولی کی شرط ضروری نہ ہو، ورنہ جب کہ یہ واضح ہے کہ یہ خلافِ متبادر اور عبارات کے منطوق کے خلاف ہے، تو معاملہ ظاہر ہوگیا۔</p>
<p>اور ان کا کہنا &#8216;مجھے اپنے زمانے کے بعض مشائخ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ اس کے لزوم کے قائل تھے&#8230;&#8217;، یہ وہ چیز ہے جسے مضبوطی سے پکڑنا چاہیئے اور اس کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔ اور ان کا کہنا &#8216;اور بعض نے اس پر اعتراض کیا&#8230;&#8217;، غالباً ان بعض نے علامہ شرنبلالی کی بات کو دیکھا ہے، اور اس کی دلیل ان کا کہنا ہے &#8216;اور گویا ہر ایک نے ہماری ذکر کردہ چیزوں میں سے کچھ دیکھا ہے&#8217;۔ اور انہوں نے شرح اللباب میں ملّا علی قاری کی شرح میں اس کی تعمیم دیکھی ہوگی، جب کہ متن میں اس کو وارث کے ساتھ مقید کیا گیا تھا، تو انہوں نے کہا کہ وارث اور دیگر اہلِ خیر دونوں شامل ہیں۔ اور شاید بعض لوگوں نے نماز کو حج پر قیاس کیا، حالانکہ یہ قیاس چار سو سال کے بعد منقطع ہوچکا تھا، اور اگرچہ مساوات کے ساتھ تھا لیکن اس میں کوئی فرق نہیں تھا، اور اسی طرح اس شرط کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا لازم آتا ہے۔</p>
<p>میرے والد سید صاحب نے رحمہ اللہ تعالیٰ نے حج کے بارے میں کہا کہ بظاہر اس شرط میں روایت کا اختلاف ہے۔ پس اگر حج نماز کے مشابہ ہوتا تو یہ واضح نہیں ہوگا کہ احتیاط لازم ہے، اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور جہاں تک ان کے قول کا تعلق ہے کہ &#8216;احوط یہ ہے&#8230;&#8217;، تو یہ سب کچھ اس وقت ہے جب اس (معاملے) کو اچھی طرح جانتا ہو، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، اور اگر وہ اس معاملے کو اچھی طرح نہیں جانتا تو اسے کوئی ایسا شخص سکھائے جو اس کو جانتا ہو، یعنی علم والے لوگ، اگر ممکن ہو تو، ورنہ وکالت اس معاملے کے جاننے والے علم والوں میں سے کسی کو دے دی جائے۔ اس معاملے میں کوئی سستی نہیں ہونی چاہیئے، کیونکہ اس سے انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب اور غضب سے نجات پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: &#8220;پس علم والوں سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے ہو&#8221; (النحل: 43)۔</p>
<p>اور جہاں تک ان کے قول &#8216;وتستوهب لی من کل واحد منهم&#8217; کا تعلق ہے، تو تم نے طریقہ کار اور مراد کو جان لیا ہے، لہٰذا اس سے غافل نہ ہونا۔ پھر یہ جان لو کہ نماز کا فدیہ ان چیزوں میں سے ہے جن میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا مذہب منفرد ہے، جس کو ان کے مذہب کے مشائخ نے روزے پر قیاس کیا اور اسے مستحسن سمجھا اور اس کا حکم دیا۔ لہٰذا اگر کوئی شافعی، مالکی، یا حنبلی شخص ہماری تقلید کرتا ہے اور نماز کا فدیہ نکالتا ہے، تو اسے چاہیئے کہ اس بات کا لحاظ رکھے اور اس کے مطابق احتیاط کرے، جس کی وہ تقلید کر رہا ہے، اور ان کے مقلدین رحمہم اللہ تعالیٰ کا بھی خیال رکھے، خصوصاً جب کہ اکثر اوقات عین چیز نکالنا ممکن نہیں ہوتا بلکہ قیمت نکالی جاتی ہے، اور تمام اصناف بھی پوری نہیں ہوتیں، اس لیے اس معاملے کا خیال رکھنا چاہیئے۔</p>
<p>اور جہاں تک ان کے قول &#8216;إلى أن يتم العمل&#8217; کا تعلق ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر موجودہ درہم یا وہ رقم جو مستوهب یا مستقرض (مانگی یا قرض لی گئی) ہو، اس مال کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہو جو میت پر واجب ہے، جیسے درہم، دینار، گندم وغیرہ، تو اسے فقیر سےاستیهاب (مانگنا) کیا جائے، پھر اس سے وصول کرکے ہبہ مکمل کیا جائے، پھر اسے اس فقیر یا کسی دوسرے فقیر کو دے دیا جائے، تو ہر بار مثلاً ایک سال کی کفارہ ساقط ہوجائے گی، اور اسی طرح یہ سلسلہ میت کی عمر کے مطابق بارہ سال کی مدت کو ختم کرنے تک جاری رہے گا، مرد کے لیے اور عورت کے لیے نو سال کی مدت کے بعد۔ اس کے بعد فدیہ کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، پھر قربانی کا، پھر قسموں کا، لیکن قسموں کے کفارہ کے لیے دس مسکین ہونا ضروری ہیں، اور ایک ہی دن میں ایک مسکین کو نصف صاع سے زیادہ دینا درست نہیں، کیونکہ ان میں عدد کی پابندی ہے، برخلاف نماز کے فدیہ کے کہ اس کا فدیہ ایک ہی شخص کو دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>زکوۃ کی ادائیگی بغیر وصیت کے بھی دی جا سکتی ہے، اور اگر ان کی کثرت کی وجہ سے ادائیگی مشکل ہو، تو مذکورہ دور کو اختیار کریں، اگرچہ ان کے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ وصیت کے بغیر یہ ساقط نہیں ہوتی، کیونکہ نیت اس میں شرط ہے، لیکن سراج میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ وارث کے لیے زکوۃ ادا کرنا جائز ہے۔ قتل کا کفارہ، ظہار کا کفارہ، روزے کے افطار کا کفارہ، اور نذر کا کفارہ، اگر ان کی کثرت ہو اور ادائیگی مشکل ہو تو مذکورہ دور کو اختیار کیا جائے۔</p>
<p>اگر کسی شخص نے درہم کی نذر مانی ہو اور اس کے پاس درہم کی رقم ہو، تو اسے نذر کی عین رقم ادا کرنے کا ارادہ کرنا چاہیئے۔ اور اگر نذر دیناروں کی تھی اور رقم درہم کی ہو، تو اس کا ارادہ نذر کی قیمت ادا کرنے کا ہونا چاہیئے۔ اسی طرح اگر اس نے نذر مانی ہو کہ وہ ایک بکری ذبح کرے گا اور اس کا گوشت صدقہ کرے گا، تو یہی معاملہ ہوگا۔ اور اگر نذر روزے یا نماز کی ہو، تو ہر روزے یا نماز کے بدلے نصف صاع نکالنا واجب ہے۔</p>
<p>فطرہ دینا ضروری ہے، اور احتیاطاً اس کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ اسی طرح قربانی کا ارادہ کریں اور اس کی قیمت ادا کریں، اگرچہ واجب میں خون بہانا ہوتا ہے، لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے جب قربانی کے ایام ہوں، اور وہ گزر چکے ہوں۔ سجدہ تلاوت کے بارے میں بھی فطرہ کی طرح نصف صاع گندم احتیاطاً دینا چاہیئے، اگرچہ صحیح بات یہ ہے کہ سجدہ تلاوت پر واجب نہیں ہے، جیسا کہ تاتارخانیہ میں صراحت ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;عشر کی زمینوں میں عشر اور خراجی زمینوں میں خراج دیا جائے، جیسا کہ اس کی جگہ میں وضاحت کی گئی ہے۔ اور حرم یا احرام کی بے حرمتی کے بدلے میں، جو خون یا صدقہ کا متقاضی ہو، نصف صاع یا اس سے کم دیا جائے گا، لہٰذا اسے نکالنے کا اہتمام کرنا چاہیئے، یہ کہتے ہوئے کہ &#8216;یہ حرم یا احرام کی بے حرمتی کے بدلے میں ہے&#8217;۔ اور جو حقوق جن کے مالک معلوم نہ ہوں، ان کے بدلے میں اتنی مقدار صدقہ دی جائے جتنی کہ ان کے حقوق کی قیمت ہو۔ پھر اس کے بعد باقی مالی حقوق کی ادائیگی کی جائے، اور پھر باقی جسمانی حقوق کی ادائیگی کی جائے۔ اس کے بعد نفل عبادات کو زیادہ کیا جائے تاکہ نیکیاں بڑھ جائیں جو مخالفین کو راضی کر سکیں۔ پھر اس مال میں سے کچھ نکالا جائے تاکہ ہر فقیر کو اتنا دیا جائے کہ اس کی طبیعت خوش ہو، اور یہ فقراء اور ان لوگوں کی منازل کے مطابق مختلف ہوتا ہے جن کے لیے اسقاط کیا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ بات معلوم ہے کہ جس شخص کے وارث ہوتے ہیں، اس کی وصیت کا نفاذ صرف تہائی مال سے ہوتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کی تمام نمازوں کا کفارہ ایک ہی فقیر کو دیا جائے تو جائز ہے۔ اور یہی کفارہ وہ ہے جو &#8216;اسقاطِ نماز&#8217; کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سب کچھ نماز کے بارے میں ہے، اور روزے کا معاملہ بھی نماز کی طرح ہے، سوائے اس کے کہ ایک دن کے روزے کا کفارہ ایک فرض نماز کے برابر ہوتا ہے۔ اس لیے ہر دن کے روزے کے بدلے میں نصف صاع گیہوں یا اس کا آٹا یا ستو یا ایک صاع جو یا کھجور یا کشمش دی جاتی ہے۔ اس طرح روزے کا کفارہ نماز کے کفارے سے بہت کم ہوتا ہے۔</p>
<p>ایک اور فرق یہ ہے کہ شخص کو خود اپنی نمازوں کا کفارہ نکالنے کی اجازت نہیں، جیسا کہ پہلے بیان ہوا، بلکہ اسے اپنی وفات کے بعد وصیت کے ذریعے نکالنے کی اجازت ہوتی ہے، برخلاف روزے کے کہ اگر وہ بیمار ہو اور صحت یابی کی امید نہ ہو، تو اسے خود روزے کا کفارہ نکالنے کی اجازت ہے، چاہے وہ فانی نہ ہو، یا اگر اس نے ہمیشہ کے روزے کی نذر مانی ہو اور پھر اس کے لیے روزے رکھنا ممکن نہ ہو۔</p>
<p>کہا گیا ہے کہ اصل میں بوڑھے شخص کو ہر سال کا فدیہ نکالنے کی اجازت ہے، اور جب وہ روزے رکھنے کے قابل ہو جائے تو اس کی ادا کی ہوئی رقم باطل ہو جاتی ہے۔ اور یہ معاملہ روزے اور نماز میں مختلف نہیں ہے، جیسا کہ &#8216;مستصفی&#8217; کے مصنف اور دیگر نے بیان کیا ہے کہ اگر کسی نے بغیر عذر کے روزہ توڑا ہو، تو اس کے لیے وصیت کی جاتی ہے کہ فدیہ نکال دیا جائے اور امید کی جاتی ہے کہ اس کو معاف کر دیا جائے گا۔ اسی طرح نماز کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔</p>
<p>کہا گیا ہے کہ کفارہ اور فدیہ میں، جیسے کہ قسم کا کفارہ، روزے کا فدیہ، اور حج کی غلطیوں کا کفارہ، اس بات کی اجازت ہے کہ فقیر کو اس شرط پر کھانا کھلایا جائے کہ وہ سیر ہو جائے۔ اس کے برعکس زکوٰۃ، فطرہ، اور عشر میں یہ اجازت نہیں۔ اس طرح اگر کوئی شخص کھانا پکائے اور فقیروں کو اس میں مدعو کرے تاکہ اسے قسم کے کفارے، روزے کے فدیہ یا حج کی غلطیوں کے بدلے میں شمار کیا جائے، تو یہ جائز ہے۔ اور تملیک کی شرط نہیں ہے کہ فقیر کو اس کی ملکیت میں کچھ دیا جائے۔</p>
<p>ہاں، شرط یہ ہے کہ ہر فقیر کو دو کھانے ملیں جو اسے سیر کر دیں، اور ان تمام امور میں ایک ہی فقیر کافی ہوتا ہے، سوائے قسم کے کفارے کے، جس کی ادائیگی دس مسکینوں کو کرنی ضروری ہے یا اس کا تکرار دس دن تک کیا جائے۔ اور ایک اہم بات جس پر توجہ دینی چاہیئے، یہ ہے کہ زندگی بھر کی قسمیں اتنی زیادہ ہوتی ہیں کہ ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا جب کفارے کی ادائیگی کا وقت آئے، تو ان قسموں کو بہت زیادہ کیا جائے، اور پھر ایک ہی کفارہ ان باقی ماندہ زندگی کی قسموں کے بدلے میں ادا کیا جائے، جیسا کہ محمدؒ نے کہا ہے کہ یہ کفارے ایک دوسرے میں شامل ہو جاتے ہیں، جیسا کہ سید الوالد نے &#8216;بغیہ&#8217; سے شهاب الأئمة کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ اور اصل کے مصنف نے کہا ہے کہ یہ قول مختار ہے، اور میرے نزدیک بھی یہی ہے، اور یہی قہستانی نے &#8216;منیة&#8217; سے نقل کیا ہے، اور یہی امام احمد بن حنبل کا مذہب ہے۔&#8221;</p>
<p>&#8220;وصیت کی صورت اور اس کی جائز اور ناجائز صورتیں سیدنا والد نے &#8216;شفاء العليل&#8217; میں تفصیل سے بیان کی ہیں۔ اس میں سے کچھ چیزوں پر احتیاط کرنا ضروری ہے:</p>
<ol>
<li><strong>استفسار سے بچنا</strong>: فقیر سے یہ نہ کہیں کہ &#8216;یہ فلاں کی نماز کا کفارہ ہے&#8217; کیونکہ یہ سوال کی صورت میں ہے اور سوال کرنے کا مقصد تصدیق ہوتا ہے، جو کہ غیر موزوں ہے۔ وصیت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ فقیر سے کہے &#8216;یہ فلاں بن فلاں کی نماز کا کفارہ ہے&#8217; یا &#8216;یہ فلاں بن فلاں کی نماز کا کفارہ ہے&#8217;۔</li>
<li><strong>قبول کرنے میں جلدی سے بچنا</strong>: فقیر کو چاہئے کہ وہ قبول کرنے سے پہلے وصیت کرنے والے کے تمام کلام کا انتظار کرے، اور وصیت کرنے والے کو بھی فقیر کے تمام کلام کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔</li>
<li><strong>تھیلی کے دینے میں احتیاط</strong>: ہر بار، جب بھی تسلیم کی جائے، اسے مکمل طور پر وصول کرنا ضروری ہے، تاکہ دینے اور لینے کا عمل مکمل ہو جائے۔</li>
<li><strong>قاصر، معتوه، یا غلام کی موجودگی سے پرہیز</strong>: اگر وصیت کرنے والا قاصر، غیر بالغ، مجنون، یا غلام کو کچھ دے تو وہ تحفہ درست نہیں ہوگا۔ اس لیے قاصر، مجنون، یا غلام کو کوئی چیز نہ دی جائے۔</li>
<li><strong>غنی یا کافر کی موجودگی سے پرہیز</strong>: کسی امیر یا کافر کو اس معاملے میں شامل نہ کریں۔</li>
<li><strong>تھیلی کو غیر مالک یا بغیر اجازت شریک سے استیهاب سے پرہیز</strong>: یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کسی ایسے شخص سے نہ قرض لیں یا نہ ہی استیهاب کریں جو مال کا مالک نہ ہو یا بغیر اجازت کے شریک ہو۔</li>
<li><strong>توكيل میں احتیاط</strong>: استیهاب یا قرض کے لیے توکیل کرنا چاہئے، لیکن صرف پیغام رسانی کی صورت میں۔ اسے اصل توکیل کے طریقے سے نہیں کرنا چاہیئے۔</li>
<li><strong>غیر کی طرف سے عمل سے پرہیز</strong>: اگر کوئی غیر شخص ان معاملات کو بغیر توکیل کے سنبھالے، تو یہ غیر موزوں ہے۔ توکیل یا وصیت کرنے والا ہی ان معاملات کا ذمہ دار ہونا چاہئے۔</li>
<li><strong>سنجیدگی کے ساتھ عمل</strong>: وصیت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ فقیر کو ہنسنے یا دھوکہ دینے کی نیت سے کچھ نہ دے، بلکہ اس کو حقیقت میں مالک بنانے کی نیت سے دے۔ اگر فقیر اس چیز کو قبول کرنے سے انکار کرے، تو اس پر زبردستی نہ کی جائے۔</li>
<li><strong>فقیر کی دل شکنی سے بچنا</strong>: بعد میں فقیر کی دل شکنی سے بچنا چاہئے، اور اسے اس طرح خوش کرنا چاہئے کہ وہ خوش ہو جائے۔</li>
</ol>
<p>سیدنا والد نے &#8216;شفاء العليل&#8217; میں مزید احتیاطی نکات ذکر کیے ہیں جنہیں آپ کو ذہن میں رکھنا چاہیئے۔ ان میں کئی اہم فوائد ہیں جو عام کتب میں شامل نہیں ہیں، اس لیے یہاں ان کا ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>اور لوگوں کے درمیان معروف عتاق، یعنی &#8216;قل هو الله أحد&#8217; پڑھنے کی اہمیت کو نہ بھولیں، کیونکہ اس کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص &#8216;قل هو الله أحد&#8217; کو گیارہ بار پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا&#8217;۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: &#8216;ہم اس کا کثرت کریں گے، یا رسول اللہ!&#8217; تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;اللہ سب سے بڑا ہے اور سب سے بہتر ہے&#8217;۔&#8221;</p>
<p>&#8220;اور اس میں سے ایک روایت ہے جو طبرانی نے فیروز الدیلمی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: &#8216;جو شخص نماز میں یا کسی اور موقع پر سو بار &#8216;قل هو الله أحد&#8217; پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم سے نجات لکھ دیتا ہے&#8217;۔ اس حدیث کا ایک شاہد بھی ہے۔</p>
<p>بزار نے انس بن مالک سے مرفوعاً روایت کی ہے: &#8216;جو شخص ایک لاکھ بار &#8216;قل هو الله أحد&#8217; پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کی جان خرید لیتا ہے، اور اللہ کی طرف سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ فلاں شخص اللہ کا آزاد کردہ ہے، جس کے پاس اس پر کوئی حق ہو، وہ اسے اللہ تعالیٰ سے لے لے&#8217;۔ یہ حدیث اس پر محمول کی جاتی ہے کہ اگر کسی نے اپنی عمر بھر میں یہ تعداد پڑھی ہو یا یہ نیت خالص ہو۔</p>
<p>علماء اور صوفیاء کا کہنا ہے کہ ایسی حدیثوں میں استناب (کہ دوسرے کو کیا جائے) اور براہ راست عمل دونوں شامل ہیں، اور ہم نے اس کو دونوں جماعتوں کے عمل سے سمجھا ہے، جیسا کہ حدیث استخارہ میں ہے۔ اسی طرح لوگوں کا عمل &#8216;لا إله إلا الله&#8217; کے ساتھ ستر ہزار مرتبہ پڑھنے پر بھی ہے، اور علماء نے اس کی تعریف کی ہے۔</p>
<p>شیخ الیافعی اور السنوسی کے اقوال بھی اس کے حق میں ہیں، اور قرآن کے فضائل تو بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے اعمال بر بھی معروف ہیں۔ اگر یہ اعمال صالحہ اپنے اصل مستحقین تک نہ پہنچیں، تو ان میں خرابی کا اندیشہ ہے، چاہے یہ اعمال اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہوں، ریاء اور اجرت سے پاک ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف وہی قبول کرتا ہے جو خالص ہو۔</p>
<p>اجرت لینے کی حرمت پر دلائل موجود ہیں جیسے کہ تلاوت، ذکر، تہلیل، تسبیح، نماز، روزہ وغیرہ پر اجرت لینے کی ممانعت ہے اور اس کی اجرت کا ثواب قاری تک نہیں پہنچتا، صرف تعویذ کی صورت میں اجرت جائز ہے۔ متأخرین نے تعلیمی، اذان اور امامت کو استثنیٰ دیا ہے، اور اس پر دلائل بھی موجود ہیں۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسرے کو دے سکتا ہے، اور ثواب صرف اخلاص کے ساتھ ہی ملتا ہے، جسے &#8216;شفاء العليل&#8217; اور &#8216;بل الغليل&#8217; میں بیان کیا گیا ہے۔</p>
<p>یاد رکھیں کہ ذکر اور ذاکرین کی فضیلت میں بہت سی احادیث ہیں۔ قرآن مجید میں کہا گیا ہے:</p>
<ul>
<li>يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا</li>
<li>وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُنَّ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا</li>
<li>وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ</li>
<li>الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ</li>
</ul>
<p>صحیحین میں ہے: &#8216;اللہ تعالیٰ کے فرشتے سڑکوں پر گھومتے رہتے ہیں، اور اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں، جب وہ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو کہتے ہیں، آؤ اپنی حاجت پوری کرو، پھر وہ ان کے گرد اپنے پر پھیلادیتے ہیں۔&#8217; آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#8216;میں نے ان کو معاف کر دیا ہے&#8217;۔ ایک فرشتہ کہتا ہے، ان میں فلاں بھی ہے جو ان میں شامل نہیں، وہ تو صرف ضرورت کے لیے آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#8216;یہ لوگ ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے والے بھی محروم نہیں رہیں گے۔&#8217;</p>
<p>حاکم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ ایک جماعت کے ساتھ اللہ کا ذکر کر رہے تھے، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا: &#8216;تم کیا کہہ رہے تھے، میں نے رحمت کو تمہارے ساتھ نازل ہوتے دیکھا، میں نے بھی شامل ہونے کی کوشش کی۔&#8217;</p>
<p>بزار نے بھی روایت کی ہے کہ اللہ کے ملائکہ اس ذکر کی مجالس کو تلاش کرتے ہیں، اور جب وہ ان کے پاس پہنچتے ہیں تو ان کے اردگرد گھیرا ڈال دیتے ہیں۔&#8221;</p>
<p>&#8220;پھر وہ کہتے ہیں: &#8216;اے ہمارے رب، ہمارے بندوں میں سے بعض کو انعامات دینے والا، جو تیری نعمتوں کو عظیم سمجھتے ہیں، تیرا کتاب پڑھتے ہیں، تیرے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اور آخرت اور دنیا کے لیے تجھ سے سوال کرتے ہیں&#8217;۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#8216;انہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دو&#8217;۔ وہ کہتے ہیں: &#8216;ان میں فلاں شخص بھی ہے جو خطا کرتا ہے&#8217;۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#8216;انہیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دو&#8217;۔</p>
<p>ترمذی نے روایت کی ہے: &#8216;اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بہتر عبادت کون سی ہے؟&#8217; جواب میں کہا: &#8216;کثرت سے ذکر کرنے والے&#8217;۔ میں نے کہا: &#8216;یا رسول اللہ، کیا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے، وہ بھی اس میں شامل ہے؟&#8217; رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;اگر وہ کافروں اور مشرکوں کے ساتھ لڑتے ہوئے اپنی تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہو جائے، پھر بھی ذکر کرنے والے افضل ہیں&#8217;۔</p>
<p>طبرانی نے روایت کی ہے: &#8216;اگر ایک شخص درہم تقسیم کر رہا ہو اور دوسرا اللہ کا ذکر کر رہا ہو، تو اللہ کا ذکر کرنے والا افضل ہے&#8217;۔ نسائی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام ہانی کو کہا: &#8216;سو بار سبحان اللہ کہو، یہ سو نسلوں سے آزاد کرنے کے برابر ہے، اور سو بار الحمدللہ کہو، یہ سو گھوڑوں کے برابر ہے جن پر سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اور سو بار تکبیر کہو، یہ سو قربانیوں کے برابر ہے جو قبول ہوئی ہوں، اور سو بار لا الہ الا اللہ کہو، یہ آسمان اور زمین کے درمیان جگہ کو بھر دیتی ہے، اور کوئی بھی تمہارے عمل کی مانند عمل لے کر نہ آئے گا، سوائے اس کے کہ وہ بھی ویسا ہی کرے&#8217;۔</p>
<p>احمد اور ترمذی نے روایت کی ہے: &#8216;کیا تمہیں تمہارے بہترین اعمال کی خبر نہ دوں جو تمہارے رب کے نزدیک سب سے زیادہ پاکیزہ، تمہارے درجات میں سب سے زیادہ بلند، سونا اور چاندی خرچ کرنے سے بہتر، اور دشمن کا سامنا کرنے اور ان کے سر اتارنے سے بھی بہتر ہیں؟&#8217; لوگوں نے کہا: &#8216;ہاں، یا رسول اللہ&#8217;۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;اللہ کا ذکر&#8217;۔</p>
<p>حدیث میں ہے: &#8216;اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے، تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرتا ہے، تو میں اسے ایک بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں&#8217;۔</p>
<p>ایک حدیث میں ہے: &#8216;اے لوگوں، جنت کے باغات میں چراؤ&#8217;۔ صحابہ نے پوچھا: &#8216;جنت کے باغات کیا ہیں، یا رسول اللہ؟&#8217; رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;مجالس الذکر&#8217; (اللہ کے ذکر کی مجالس)۔</p>
<p>ایک خبر میں ہے: &#8216;اچھا مجلس مؤمن کو ایک لاکھ برے مجالس سے محفوظ کر دیتی ہے&#8217;۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے: &#8216;جب اللہ چاہتا ہے کہ اپنے بندے کو ولی بنائے، تو اسے ذکر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ پھر ذکر کے ذریعے قرب کا دروازہ کھلتا ہے، پھر اسے انس کی مجالس میں بٹھاتا ہے، پھر توحید کی کرسی پر بٹھاتا ہے، اور پھر پردے اٹھا دیتا ہے اور قرب کی جگہ میں داخل کرتا ہے، اور جلال و عظمت کو ظاہر کرتا ہے، اور اس وقت اسے مقام علم حاصل ہوتا ہے&#8217;۔</p>
<p>ایک شیخ نے کہا: &#8216;جب صالحین کا ذکر مجلس میں ہوتا ہے، تو رحمت نازل ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اس سے ایک بادل پیدا کرتا ہے جو صرف کافروں کی زمین پر بارش کرتا ہے، اور جو بھی اس پانی پیتا ہے، وہ مسلمان ہو جاتا ہے&#8217;۔&#8221;</p>
<p>&#8220;معروف کرخی اکثر کہا کرتے تھے کہ صالحین کا ذکر کرتے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔ ایک دن کسی مرید نے ان سے سوال کیا، &#8216;اے میرے سردار، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے پر کیا نازل ہوتا ہے؟&#8217; تو وہ بے ہوش ہو گئے، پھر ہوش میں آ کر کہا: &#8216;اللہ کا ذکر کرنے پر سکون نازل ہوتا ہے&#8217;۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: {آگاہ رہو! اللہ کے ذکر سے دل سکون پاتے ہیں}۔ یہ عمومی ذکر اللہ کے متعلق ہے۔</p>
<p>جہاں تک خاص طور پر لا الہ الا اللہ کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {پہچان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں}۔ اور فرمایا: {جو شخص دیا اور پرہیزگاری کی، اور اچھے وعدے کو سچ مانا، یعنی کلمہ توحید، تو ہم اسے آسانی کی طرف لے جائیں گے، یعنی جنت کی طرف}، اور فرمایا: {اور جو بخل کرے، اور خود کو بے نیاز سمجھے، اور اچھے وعدے کو جھٹلائے، یعنی کلمہ توحید، تو ہم اسے دشواری کی طرف لے جائیں گے، یعنی دوزخ کی طرف}۔</p>
<p>رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;میں اور مجھ سے پہلے تمام پیغمبروں نے سب سے بہتر کلمہ یہ کہا: لا الہ الا اللہ&#8217;۔ ترمذی اور نسائی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: &#8216;سب سے بہترین ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے بہترین دعا الحمدللہ ہے&#8217;۔ نسائی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: &#8216;موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے رب! مجھے ایسا ذکر سکھا جو میں تجھے یاد کر سکوں اور تجھے دعا دے سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#8216;کہو لا الہ الا اللہ&#8217;۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے رب! تمام بندے یہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#8216;کہو لا الہ الا اللہ&#8217;۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے رب! میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کچھ خاص ملے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: &#8216;اے موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور ان میں موجود سب کچھ ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو لا الہ الا اللہ کا پلڑا بھاری ہو جائے گا&#8217;۔</p>
<p>ترمذی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: &#8216;سبحان اللہ نصف ایمان ہے، الحمدللہ ترازوں کو بھر دیتی ہے، اور لا الہ الا اللہ کے لیے کوئی پردہ نہیں، یہاں تک کہ یہ اللہ کے قریب پہنچ جاتی ہے&#8217;۔ اور حدیث میں ہے: &#8216;میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ جو شخص موت کے وقت لا الہ الا اللہ کی گواہی دے گا، وہ جنت میں جائے گا&#8217;۔ اور کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہوگا جو لا الہ الا اللہ خالص دل سے کہے&#8217;۔ حدیث میں ہے: &#8216;لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی ہے&#8217;۔ اور کہا گیا: &#8216;مردوں کو لا الہ الا اللہ سکھاؤ، کیونکہ یہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے&#8217;۔ صحابہ نے پوچھا: &#8216;اگر کوئی زندگی میں یہ کہے تو؟&#8217; فرمایا: &#8216;زندگی میں بھی یہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے&#8217;۔ احیاء میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہے اور اس کے پاس زمین بھر گناہ ہو، تو اللہ اسے معاف کر دے گا&#8217;۔ اور حدیث میں ہے: &#8216;لا الہ الا اللہ کہنے والوں کو قبروں میں یا قیامت کے دن وحشت نہیں ہوگی، میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ پکار اٹھتے ہیں اور کہتے ہیں: &#8216;الحمدللہ جس نے ہم سے غم دور کیا، ہمارا رب بہت معاف کرنے والا، شکر گزار ہے&#8217;۔</p>
<p>اور فرمایا: &#8216;تم سب جنت میں داخل ہو گے، سوائے اس کے جو انکار کرے&#8217;۔ صحابہ نے پوچھا: &#8216;یا رسول اللہ، انکار کون کرے گا؟&#8217; فرمایا: &#8216;جو لا الہ الا اللہ نہ کہے&#8217;۔</p>
<p>اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {کیا نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوگا؟}۔ کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ دنیا میں نیکی کہنے کا مطلب لا الہ الا اللہ ہے اور آخرت میں نیکی کا بدلہ جنت ہے۔ اور فرمایا: {جن لوگوں نے اچھائی کی، ان کے لیے خوبصورتی اور زیادہ}۔ کہا گیا ہے کہ &#8216;زیادہ&#8217; کا مطلب جنت میں اللہ کے چہرے کا مشاہدہ ہے۔</p>
<p>اور حدیث میں ہے: &#8216;جب بندہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے، تو اس کی صحیفے کے پاس آتی ہے، اور کوئی بھی گناہ اس کے اوپر سے گزر نہیں پاتا، جب تک کہ کوئی نیکی نہ ملے، پھر وہ نیکی بیٹھ جاتی ہے&#8217;۔&#8221;</p>
<p>&#8220;ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کے سامنے نور کا ایک ستون رکھا ہے۔ جب کوئی بندہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے، تو وہ ستون جھوم اٹھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ &#8216;اسے سکونت دو&#8217;۔ پوچھا جاتا ہے: &#8216;کیسے سکونت دوں، جبکہ کہاں نہیں بخشا گیا؟&#8217; اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: &#8216;میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے&#8217;، تو پھر سکونت دی جاتی ہے۔</p>
<p>کعب الاحبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی بھیجی کہ اگر لا الہ الا اللہ کہنے والے نہ ہوتے تو میں دنیا والوں پر جہنم کو مسلط کر دیتا۔</p>
<p>ابو الفضل نے کہا کہ جب اہل جنت داخل ہوں گے، تو وہ اپنے باغات، نہروں اور سب چیزوں کو سنیں گے جو کہ &#8216;لا الہ الا اللہ&#8217; کہہ رہی ہیں، اور وہ ایک دوسرے سے کہیں گے: &#8216;یہ وہ کلمہ ہے جسے ہم دنیا میں غفلت کی حالت میں چھوڑ بیٹھے تھے&#8217;۔</p>
<p>آثار میں ہے کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اور اسے تعظیم کے ساتھ طول دے، اس کے چار ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ کہا گیا کہ اگر اس پر یہ گناہ نہ ہوں، تو یہ گناہ اس کے والدین، اہل خانہ اور ہمسایوں کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کلمہ ستر ہزار بار کہے، تو وہ دوزخ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ شیخ ابو محمد الیافعی الیمنی الشافعی رحمہ اللہ نے کتاب &#8220;ارشاد والتطریز&#8221; میں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے امام ابو زید القرطبی سے سنا تھا کہ جو شخص لا الہ الا اللہ ستر ہزار بار کہے، تو وہ دوزخ سے آزاد ہو جاتا ہے۔ انہوں نے خود یہ عمل کیا اور اپنے اہل خانہ کے لیے بھی کیا۔ ایک بار ایک نوجوان ہمارے ساتھ تھا، جو کبھی کبھار جنت اور دوزخ کے مشاہدات کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس کے دل میں کچھ اعتراض تھا، تو ایک دن ہم ایک دوست کے گھر دعوت پر گئے، نوجوان ہمارے ساتھ تھا۔ اچانک اس نے زبردست چیخ ماری اور کہا: &#8216;چچا، یہ میری ماں دوزخ میں ہے&#8217;۔ جب میں نے اس کی حالت دیکھی تو میں نے دل ہی دل میں یہ ارادہ کیا کہ میں ستر ہزار لا الہ الا اللہ اس کی ماں کے لیے کہوں، اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ: &#8216;اے اللہ، اگر یہ اثر سچ ہے اور جنہوں نے ہمیں یہ روایت دی ہے، وہ سچے ہیں، تو یہ ستر ہزار لا الہ الا اللہ اس نوجوان کی ماں کو دوزخ سے آزاد کر دے&#8217;۔ ابھی یہ خیال میرے دل میں تھا کہ نوجوان نے کہا: &#8216;چچا، میری ماں دوزخ سے نکال دی گئی ہے، کیونکہ میں نے جو کہا تھا، اس کی برکت سے&#8217;۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور مجھے دو فائدے حاصل ہوئے: اثر کی صداقت پر ایمان اور نوجوان کی حالت سے نجات۔</p>
<p>سہل التستری رحمہ اللہ نے فرمایا: &#8216;لا الہ الا اللہ کا کوئی انعام نہیں، سوائے اللہ کے چہرے کو دیکھنے کے، جبکہ جنت اعمال کا انعام ہے&#8217;۔</p>
<p>خبر میں ہے کہ جب بندہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے ہر کافر اور کافرہ کی گنتی کے برابر انعام دیتا ہے، کیونکہ یہ کلمہ ہر کافر اور کافرہ کے جواب میں ہے، اس لیے وہ انعام کا مستحق ہوتا ہے۔</p>
<p>اور کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول {اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو  } کا مطلب یہ ہے کہ &#8216;لا الہ الا اللہ&#8217; کہو، تو عقل مند کو چاہیئے کہ وہ اس ذکر کو کثرت سے کہے۔&#8221;<br />
&#8220;اور اپنے اہل خانہ کے لیے بھی اس عمل کو کرنے کی ترغیب دی جائے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خصوصی توجہ اور رحمت عطا کی جن کی برکتوں سے مشکلات دور ہوئیں اور تاریکیاں ختم ہوئیں۔ کیونکہ یہ کلمہ توحید، اخلاص، تقویٰ، اور اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ یہ جنت کی قیمت، عابدین کی مشق، سالکین کی بنیاد، سیر کرنے والوں  کی تعداد، اور آگے بڑھنے والوں کا تحفہ ہے۔ یہ علوم اور معارف کی چابی ہے۔ جو شخص اس کے مفہوم پر عمل پیرا ہوتا ہے، اسے بڑی جزا ملتی ہے، اور جو زیادہ اس کا ذکر کرتا ہے، وہ اپنی تمام امیدوں کو پاتا ہے۔ یہ اسے قبولیت اور اقبال کی نشانیاں عطا کرتا ہے۔ اس کلمے کو ہر وقت اور ہر حال میں اخلاص کے ساتھ ادا کرنا چاہیئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اور انہیں صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں، اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے}۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قول و عمل میں اخلاص عطا فرمائے، اور ہمارے وقت کے اختتام پر بہترین خاتمہ عطا فرمائے۔ یہ بیان، جو اس مشکل اور پیچیدہ مسئلے کی وضاحت ہے، اسی پر عمل کریں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مکمل معافی، حسن خاتمہ اور اس کی تمام نعمتوں سے نوازے۔ اور درود و سلام ہو ہمارے سید محمد ﷺ پر اور ان کی آل، صحابہ اور تابعین پر، جب تک زمین و آسمان قائم ہیں۔ یہ عبارت، جو مطلوب و پسندیدہ ہے، مکمل کی گئی ہے، پیر کے دن، آٹھویں جمادی الثانی، جو سنہ 999 ہجری کے مہینوں میں ہے، جس نے اختلاف اور نزاع کو ختم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ان پر ہزار بار درود و سلام بھیجے۔&#8221;</p><p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b7-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2582%25d8%25af%25d8%25b1-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%AD%DB%8C%D9%84%DB%81%20%D8%A7%D8%B3%D9%82%D8%A7%D8%B7%20%D8%A7%DB%8C%DA%A9%20%D8%AC%D9%84%DB%8C%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D8%B1%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%db%8c%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%82%d8%a7%d8%b7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ac%d9%84%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%82%d8%af%d8%b1-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa/" data-a2a-title="حیلہ اسقاط ایک جلیل القدر نعمت"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%db%8c%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%82%d8%a7%d8%b7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%ac%d9%84%db%8c%d9%84-%d8%a7%d9%84%d9%82%d8%af%d8%b1-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آداب مرشد</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d9%85%d8%b1%d8%b4%d8%af/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d9%85%d8%b1%d8%b4%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 30 May 2024 22:30:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[آداب مرشد]]></category>
		<category><![CDATA[رہبری شیطان]]></category>
		<category><![CDATA[مرشد کی ضرورت]]></category>
		<category><![CDATA[مرشد کے آداب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9098</guid>

					<description><![CDATA[اَدَّبَنِيْ رَبـِّيْ فَاَحْسَنَ تَاْدِيْبِـيْ یعنی مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔ آداب مرشد جس میں عقلی و نقلی دلائل سے مرشد کی ضرورت اور اس کے آداب سے بحث کی گئی۔ جامع :محمد عبد الغفور <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d9%85%d8%b1%d8%b4%d8%af/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اَدَّبَنِيْ رَبـِّيْ فَاَحْسَنَ تَاْدِيْبِـيْ<br />
یعنی مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔</p>
<h1>آداب مرشد</h1>
<p>جس میں عقلی و نقلی دلائل سے مرشد کی ضرورت اور اس کے آداب سے بحث کی گئی۔<br />
جامع :محمد عبد الغفور عابدی</p>
<h2>مرشد کی ضرورت</h2>
<p>دنیا کی ہر چیز جو ہم دیتے ہیں اس کے دو حصے ہیں<br />
(1)ظاہر (2) باطن</p>
<p>ظاہری حصص کے علم سے صرف ظواہرہی پر عبور ہوتا ہے باطن پر نظرنہیں پڑتی اور جب تک باطنی حصہ پر عبور نہ ہو قدرت کی مخفی حکمتوں کا انکشاف نہیں ہو سکتا ۔ ہر شخص مناظر قدرت اور نظام عالم کو دیکھتا ہے لیکن کتنے ایسے ہیں جو ان مناظر و مظاہر کی پوشیدہ طاقوں کا پتہ لگاتے ہیں ہم کبھی کبھی بجلی کوندتے اور بادل گرجتے دیکھتے ہیں۔ لیکن ہم میں سے کتنے لوگوں نے ان کے حقائق اور مخفی آثار سے روشنی حاصل کی ہے۔ مشاہیر میں سے چند ہی ایسے لوگ نکلتے ہیں جو ان منازل تک پہنچتے ہیں ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ (یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے). ہرشخص ہر ساعت اپنی قوتوں کو( اپنے جذبات کے تحت )کام میں لاتا ہے لیکن کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے کتنے علم الفن والقوی پر بحت کر کے دلائل لانے کے قابل ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو فلسفہ دماغی (مینٹل فلاسفی) کے ماہرین کروڑوں میں سے چند ہی ایسے نکلیں گے اور ہم میں سے تو بہت کم باطن بین ہیں۔<br />
اہل مذاہب اور اہل فلسفہ دونوں بالاتفاق اس امر کو مانتے ہیں کہ انسانی ہستی دو حصے ہیں۔<br />
(1)جسمانی (2) روحانی ۔ اور دونوں حصص کی تعلیمی کیفیات جدا گانہ حیثیت رکھتی ہیں جس طرح ہمیں اپنی ظاہری تربیت کی ضرورت ہے اسی طرح تزکہ روحانی کی بھی حاجت ہے ۔<br />
ہم اپنے اعضا کا ظاہری طور پراندازہ لگاتے ہیں لیکن باطنی جذبات کی نسبت ماہر فن کی مد د کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتے ایک فہیم ا ور ذکی انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ انسان کی اندرونی مشین ان مختلف رنگوں میں کام کرتی ہے لیکن ایک ماہر علم الفن والقوی یا ماہرسایئکالوجی (نفسیات )کی طرح تفصیل اور دلیل کے ساتھ انسان کی اندرونی قوتوں جذبوں پر روشنی نہیں ڈال سکتا ۔<br />
اخلاق حسنی اور اخلاق جلالی ہمیں تہذیب النفس کی تعلیم تودے سکتی ہیں لیکن ان سے تزکیہ نفس کا روحانی سبق ہم کو استاد کے بغیر نہیں مل سکتا ۔ حواس خمسہ ظاہری کی صحت اور اصلاح کی ضرورت ہے تو کیا اسی طرح حواس باطنی کے صحت کی حاجت نہیں ؟ اگر نفسانی اور جسمانی شعبہ میں ہمیں کسی ماہرو استادکی ضر ورت پیش آتی ہے تو کیا روحانی شعبہ میں کسی ماہر کی ضرورت نہیں۔<br />
علمی مراحل کے لئے ہم اُستاد اور ابتدائی قواعد کی تلاش میں رہتے ہیں مگر روحانیت کے نصاب کے مطالعہ کی پروا بھی نہیں کرتے چشم انصاف سے دیکھیں تو ثابت ہو جائیگا کہ ہم کسی صورت میں مرشد اور ر ہبر کے بغیرعلم باطنی پر عبور حاصل نہیں سکتے۔<br />
ایک زنگ آلود برتن کی قلعی کرنے کے واسطے ایک قلعی گر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اسے بازاروں میں تلاش کرتے ہیں لیکن افسوس دل کے صاف کرنے کی واسطے کسی کاریگر کی ضرورت خیال نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ خود بخود صاف ہو جائیگا۔ سخت غلطی ہے جو آج کل عالمگیر ہے میں ایسے لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا اُن کا کوئی کام بغیر شیخ کی مد دکے پورا ہوا کرتا ہے اورکیا روزمرہ کے چھوٹے چھوٹےکاموں میں خارجی امداد کی ضرورت نہیں ہوتی ۔<br />
افلاطون جسں پایہ کا حکیم تھا۔ دنیا جانتی ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ بغیراستاد کے چارہ نہیں تو ارسطو کی شاگردی قبول کرلی علی ہذالقیاس کل فلسفیوں اور نامورحکیموں کایہی حال رہا ہے کہ ہر ایک کو دوسرے کامل کا دروازہ دیکھنا پڑا ہے ۔<br />
دور حاضرہ کے مایہ ناز ایجادات ٹیلیگراف فوٹو گرافی الیکٹر سٹی۔ جیسے فنون دیکھنے کے واسطے ایک ہوشیار کاریگر اور استاد کی تلاش لزومات سے ہے ریاضی کے واسطے ایک مستند ریاضی دان کی شاگردی لازمی لیکن علوم باطنی کے رشد و ہدایات کیلئے مرشد کی ضرورت نہیں۔<br />
جس طرح مادی قوت ہے ایک روحانی قوت بھی ہے روحانی سلسلہ کے و اسطے بھی مادی سلسلے کی طرح آداب وقیود و قوانین کی ضرورت ہے جس طرح بتدریج انسان کاجسم نشو نما پاتا ہے اسی طرح روح بھی نشو و نما پاتی ہے اور اس کے واسطے بھی ایک منتہائے کمال کی ضرورت ہے جب ہر خلقت دو حصے ظاہر اور باطن رکھتی ہے تو دونوں حصوں کے کوائف اور خصوصیات جدا گاہ حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں عارف اور حامل بھی جدا گا نہ ہیں اور خصوصیت ہم رنگ میں دیکھتے ہیں ۔<br />
سیاسی قوانین کم و بیش ساری رعایا پڑھتی ہے اور عدالتوں میں بھی پڑھے جاتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ قانونی نکات سے قانون دان ہی اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اور ان کی شروح اور تعبیرات مستند اور مقبول عام ہوتی ہیں بخلاف اس کے عام لوگ قو انین سیاسیہ کےالفاظ سے تو واقف ہوجاتے ہیں مگران کی تہہ تک نہیں پہنچتے۔<br />
اکثر دیکھاگیاہے کہ اک شخص بظاہراپنے بدن پرکوئی غدود نہیں رکھتا مگرا سکے درد کی تکلیف سے ہمیشہ بے قرار رہتا ہے ڈاکٹر کو دکھاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اندرون جسم کو غدود ہے ۔<br />
یہی حال مرشد کا ہے وہ مریدوں کی اندرونی حسن وقبح سے واقف ہوتا ہے اور تزکیہ نفس کی تعلیم دیتا ہے اور رفتہ رفتہ ان امور و اسرار سے واقف کراتا ہے جس سے اندرونی قوتوں اور جذبوں کی قدر و قیمت کا پتہ لگتا ہے۔<br />
اسلام نے رہبانیت کو خارج کیا ہے مگر اس سے منع نہیں کیا کہ ہم روحانیات میں کسی پیر کامل کے وسیلہ سے ترقی نہ کریں اور وہ راستہ طے نہ کریں جو روحانی منزل کے سفر میں پیش آتے ہیں حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا محترم ارشاد من عرف نفسہ فقد صدیوں سے اثر پذیر ہے کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ بغیر کسی روحانی ڈاکٹر کے کوئی اور بھی نفس کی حقیقت سے آگاہ کر سکتا ہے ہم تو بغیر ڈاکٹر کی مدد کے اپنے ایک ادنی عضو کی تشریح بھی نہیں کر سکتےچہ جایئکہ نفس کی حقیقت پر بغیر کسی روحانی طبیب کے عبور کر جائیں۔<br />
اس دور فلسفہ میں جب ہم ہر بات میں کسی رہبر کے متلاشی رہتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم روحانیت کے رہنماؤں کی ضرورت سے انکار کریں ۔بیعت کی فلاسفی اور طلب رشد کی حکمت سے انکار کرنا ان واقعات سے منکر ہونا ہے جو 1400 سال سے اس رنگ میں اسلامی جماعتوں میں ظہور پذیر ہو رہے ہیں کیا صوفیاء کرام علماء کی فہرست میں داخل نہیں ہیں کیا علماء کرام نے مشائخین کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور ان کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا۔<br />
اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں ایسے نفوس مقدسہ کم و بیش ہر زمانہ میں موجود رہے یہ زمانہ بھی ایسے نفوس مقدسہ سے خالی نہیں ہو سکتا گو تزکیہ اخلاق کے احکام شریعت میں مذکور ہیں لیکن محض احکام کے جاننے سے تزکیہ اخلاق نہیں ہوتا علماء ظاہر اخلاق کی حقیقت و ماہیت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں لیکن خود ان کے اخلاق پاک نہیں ہوتے یہ مرتبہ مجاہدات اور فنائے نفس سے حاصل ہوتا ہے اور اسی کا نام طریقت یا تصوف ہے۔<br />
جس طرح علوم ظاہری کے سیکھنے کا ایک خاص طریقہ مقرر ہے جس کے بغیر وہ علوم حاصل نہیں ہو سکتے اسی طرح اس علم کا بھی ایک خاص طریقہ ہے جب تک اس طریقہ کا تجربہ نہ کیا جائے اس کے انکار کرنے کی وجہ نہیں سینکڑوں بزرگ جن کے فضل و کمال سے کوئی انکار نہیں کر سکتا نہایت وثوق اور اذعان سے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ علم باطن بھی ایک علم ہے تو ان کی شہادت پر کیوں نہ اعتبار کیا جائے سینکڑوں ایسے علماء گزرے ہیں جن کو علم باطن سے قطعا انکار تھا لیکن جب وہ اس کوچے میں آئے اور خود ان پر وہ حالت طاری ہوئی تو وہ سب سے زیادہ اس کے معترف بن گئے ۔<br />
حضرت موسی علیہ السلام جیسے اولو العزم پیغمبر کو بھی روحانیات میں خضر علیہ السلام کی رہبری حاصل کرنی پڑی صحیح بخاری میں ہے حضرت موسی علیہ السلام ایک مرتبہ بنی اسرائیل کے ایک بڑے بہت بڑے مجمع میں کھڑے ہوئے وعظ فرما رہے تھے کہ کسی شخص نے سوال کیا کہ اے موسی علیہ السلام کوئی شخص دنیا میں تم سے زیادہ عالم بھی ہے موسی علیہ السلام نے زمانہ حال کے ارباب ظاہر کی طرح نفی میں جواب دیا خدا تعالی کو حضرت موسی علیہ السلام کا یہ دعوی ہمہ دانی نہایت شاق گزرا وحی آئی کہ<br />
اے موسی ہمارا ایک بندہ اور بھی ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے تم اس کے پاس جاؤ حضرت موسی کو جب حضرت خضر علیہ السلام کا حال معلوم ہوا تو آپ کو ان سے ملنے کا بے حد اشتیاق ہوا چنانچہ اس کا ذکر قرآن پاک میں یوں آیا ۔<br />
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا<br />
موسی علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا کہ میں برابر چلتا رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے جگہ پہنچ جاؤں اور( اگر وہاں پہنچ گیا تو خضر علیہ السلام سے ملاقات ہو جائے گی) یا نہ پہنچا اس طرح ایک مدت دراز تک چلتا رہوں گا ۔<br />
دیکھو موسی علیہ السلام باوجود علم و فضل کہ خضر علیہ السلام کی طلب میں مجمع البحرین تک کا سفر گوارا فرما رہے ہیں واقعی علم ہونے کے بعد بھی ہم کو ایک خضر منش بزرگ کی بڑی ضرورت ہے تاکہ اس کی صحبت میں رہ کر اس کا علم حاصل کیا جائے جیسا کہ اس آیت سے مستنبط ہوتا ہے اب رہا یہ کہ اس علم کا کیا ثبوت ہے سو اس سوال کا حل اس آیت میں موجود ہے۔<br />
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا<br />
موسی علیہ السلام اور ان کے خادم دونوں نے جب بندوں میں سے ایک بندہ کو پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطا کی تھی اور اسے اپنے پاس کا علم سکھایا اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ خضر علیہ السلام کو ایک ایسا علم دیا گیا ہے جس کو خدا اپنے پاس کی رحمت فرماتا ہے رہی یہ بات کہ اس علم کا کیا نام ہے سو اس کے لیے یہ آیت پیش کی جا سکتی ہے ۔<br />
قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا<br />
موسی علیہ السلام نے خضر سے کہا کیا میں اس امید پر آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں کہ آپ مجھے اس میں سے کچھ سکھا دیں جو آپ کو رشد سکھایا گیا ہے یہ آیت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ اس علم کا نام عربی میں رشد ہے اور اسی مناسبت سے اس کے عالم یا معلم کو مرشد کہا جاتا ہے۔<br />
قران شریف میں دوسری جگہ مرشد کا لفظ ولی کی نسبت صفت کے ساتھ بہترین معنوں میں آیا ہے خدا فرماتا ہے<br />
مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِوَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا<br />
جسے اللہ ہدایت کرے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کرے( اے نبی )تم ہرگز اس کا کوئی دوست اور ہدایت کرنے والا نہ پاؤ گے ۔<br />
آیت بالا پر غور کرنے سے یہ اچھی طرح واضح ہو سکتا ہے کہ ہم کو مرشد کی کہاں تک ضرورت ہے اور نیز یہ آیت خاص طور پر بتا رہی ہے کہ بغیر مرشد کی رفاقت کے آدمی گمراہ ہو جاتا ہے۔<br />
صوفیاء کرام نے اسی بنا پر کہا ہے کہ ‌من ‌لَا ‌شيخ ‌لَهُ فشيخه الشَّيْطَان(جس کا کوئی رہبر نہیں ہوتا اس کا رہبر شیطان ہوتا ہے)بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خضر کو علم وغیرہ کچھ بھی نہیں دیا گیا تھا صرف دو تین باتیں معلوم کرا دی گئی تھیں یہ محض ان لوگوں کی مجرد رائے ہے ہم کو دیکھنا یہ ہے کہ اس بارے میں حدیث نبوی کیا کہتی ہے اور حدیث بھی وہ صحیح بخاری کی جسے اصح الکتاب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے اس میں رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا قول صاف طور پر مرقوم ہے کہ جب موسی علیہ السلام نے خضر علیہ السلام سے علم سیکھنے کی درخواست کی تو خضر نے فرمایا موسی خدا نے تم کو ایک علم دیا ہے اور ایک مجھے عنایت فرمایا ہے جو علم تمہیں حاصل ہے وہ مجھے میسر نہیں اور جو مجھے نصیب ہے وہ تم کو نہیں دیا گیا اس حدیث سے صاف طور پر عیاں ہو رہا ہے کہ یہ ایک علیحدہ علم ہے جو موسی علیہ السلام کو اس سے پہلے نہیں دیا گیا تھا رہا یہ کہ یہ علم کیسا ہے اور کیونکر حاصل کیا جاتا ہے اور اس علم سے کیا کیا باتیں ظہور میں آتی ہیں اس کے لیے طوالت چاہیئے بالفعل اس کے مختصر فوائد آپ قرآن ہی میں دیکھیں کہ خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام کو اپنے ہمراہ لے کر کیا کیا کام کیے عملی طور پر علم رشد کا فائدہ پیش کر دیا کہیں تو کشتی توڑ دی اور فرمایا کہ ایک ظالم بادشاہ اس طرف آرہا تھا جو نئی کشتیوں کو اپنے کام میں مفت جبرا ًلیتا تھا حالانکہ کشتی ابھی اس کے ملک کو نہیں پہنچی تھی کہ پہلے سے اسے معلوم کر لیا اور کہیں ایک لڑکے کو مار ڈالا اور فرمایا کہ اس کے ماں باپ نیک بخت اور ایماندار تھے اور اس کی وجہ سے ان پر کفر کا خوف تھا حالانکہ وہ لڑکا نابالغ تھا اس کی آئندہ چل کر جو باتیں ہونے والی تھیں وہ ابھی سے معلوم کر لیں اور کہیں گرتی ہوئی دیوار بغیر اسباب ظاہری کے سیدھی کر دی حالانکہ دیوار ابھی نہیں گری تھی گرنے سے پہلے جان لیا کہ وہ بہت جلد گر جانے والی ہے اور جو مخفی دفینہ اس کے نیچے موجود تھا اسے بھی معلوم کر لیا اور یہ بھی جان لیا کہ یہ مال یتیموں کا ہے جو ان کے ماں باپ نے ان کے لیے رکھ چھوڑا ہے اور یہ بھی معلوم کر لیا کہ دیوار گرنے کے بعد یہ مال دوسرے کے قبضہ میں چلا جائے گا اور یہ حقدار محروم رہیں گے۔<br />
بہرحال خضر نے کسی جگہ وقعات آئندہ کو معلوم کر لیا اس کو غیب سے تعبیر کیاجا سکتا ہے اور بغیر اسباب ظاہری کے گرتی ہوئی دیوار بنا دی جس کو خرق عادت کہا جاتا ہے اور خرق عادت نبی سے ہو تو معجزہ اور ولی سے ہو تو کرامت اور جو کافر سے ہو تو استدراج کہا جاتا ہے اور نیز مخفی دفینہ کو دیکھ لیا جس کو مکاشفہ کہتے ہیں پس یہ وہ ساری باتیں جو خضر علیہ السلام نے علم رشد کے ذریعے سے حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے عملی طور پر ظاہر کر دی اور دوسرے الفاظ میں یہ بات بھی ثابت ہو گئی یہ بغیر اس علم کے ایسی باتیں حاصل بھی نہیں ہو سکتی اسی علم میں رشد کو ہمارے زمانے میں طریقت یا تصوف یا سلوک سے نامزد کیا گیا ہے ۔<br />
اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ علم خضر علیہ السلام کو ہوا اور حضرت موسی علیہ السلام کو بھی ان کے ذریعے نصیب ہوا مگر کیا ہمارے سید المرسلینﷺ کو نہ ہوا اور کیا اس لیے کہ آپ کی امت جو خیر الانام ہے اور آپ کے علماء جو بنی اسرائیل کے انبیاء کی مثیل ہیں محروم رہیں حاشا وکلّا ایسا تو ہرگز نہیں ہو سکتا تمام مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ جو باتیں تمام انبیاء علیہم السلام کو فردا ًفردا ًعطا ہوئی تھیں وہ تمام وکمال آپ کو ملی اسی واسطے آپ کے ورثا علماء ہیں جو ایسی باتیں حاصل کر کے دنیا کی عبرت کے لیے انبیاء سابقین کی طرح حیرت انگیز معاملے ظاہر کرتے ہیں اب ہم اس کے ثبوت میں چند احادیث پیش کرتے ہیں۔<br />
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو علم یاد کیے( یعنی سیکھے) ایک وہ علم ہے جس کو میں نے ہر خاص وعام کو بتایا اور دوسرا علم وہ ہے اگر میں اس کو ظاہر کر دوں تو (بوجہ افشا ئےراز )میری گردن اڑا دی جائے ۔<br />
اس حدیث سے دو امر مستنبط ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ سے دو قسم کے احادیث پائے تھے جن میں بعض علوم ظاہر کے متعلق تھے اور بعض کا تعلق علم باطنی سے تھا<br />
یا یہ کہ جو احادیث سنے تھے ہر حدیث میں دو معنی ظاہر وباطن کے پائے تھے یہ دونوں صورتیں صحیح ہو سکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جن احادیث کا تعلق احکام ظاہر سے تھا اس کی عام طور پر اشاعت کی اور جو احادیث اسرار باطن سے متعلق تھیں یا عام فہم نہ تھے اس کے معنی و مطالب خواص ہی تک محدود رکھے۔<br />
بعض لوگوں نے علم ثانی سے علم باطنی مراد لینے میں دو وجہ سے اختلاف کیا ہے پہلا یہ کہ علم ثانی سے علم باطنی مراد لی جائے تو اس سے حضرت ابوہریرہ کی تخصیص پائی جائے گی اور لازم آئے گا کہ دوسرے صحابہ اس علم سے بے بہرہ تھے حالانکہ یہ صحیح نہیں دوسرے یہ کہ باوجود علم دین کے پوشیدہ کرنے کی مذمت وارد ہونے کے حضرت ابو ہریرہ نے اس علم کو کس طرح پوشیدہ رکھا یہ اعتراضات الفاظ حدیث پر غور کرنے سے خود بخود مرتفع ہو جاتے ہیں کیونکہ آپ نے یہی کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دو ظرف علم کے لیے یعنی دو قسم کے احادیث کو سنا یا جن احادیث کو پایا اس کے دو معنی مجھے بتائے گئے ایک کی میں نے عام طور پر اشاعت کی اور دوسرے کو خواص تک محدود رکھا پس اس سے آپ پر علم باطنی کا حصر لازم نہیں آتا اور ظاہر ہے کہ کسی بات کو عوام پر ظاہر نہ کرنا خواص سے چھپانے کی دلیل نہیں ہو سکتی البتہ یہ دوسرا علم جس کو اشارہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کر رہے ہیں وہ علم باطنی ہے ۔<br />
حسن بصری فرماتے ہیں کہ علم دو ہیں ایک علم تو دل میں ہے اور یہی علم نفع دیتا ہے اور دوسرا علم زبان پر ہے اور یہ اللہ جل شانہ کے ہاں حجت ہے دارمی۔<br />
ملا علی قاری اس روایت کی یوں تشریح فرماتے ہیں کہ اول علم کو علم باطن کہتے ہیں اور دوسرے علم کو علم ظاہر لیکن علم باطن اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ظاہر کی اصلاح نہ کی جائے اور علم ظاہر مکمل نہیں ہوتا جب تک باطن کی اصلاح نہ ہو۔<br />
اَلإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ<br />
ایمان اور اسلام کے بعد نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا ہے کہ احسان یہ ہے کہ اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ ہی رہا ہے اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ علاوہ عقائد ضروریہ اور اعمال ظاہرہ کوئی اور چیز بھی ہے جس کا نام احسان آیا ہے اور پھر اس کی حقیقت بیان کرنے سے معلوم ہوا کہ یہی وہ طریق باطن ہے جس کو علماء باطن نے دنیا کے سامنے پیش کیا کیونکہ بغیر اس طریقے ایسی حضوری ہرگز میسر نہیں آ سکتی چنانچہ اس بارہ میں سینکڑوں معتبر آدمیوں کی شہادت موجود ہے جس کے غلط ہونے کا عقل کو احتمال نہیں ہو سکتا کہ ہم کو اہل باطن کے پاس بیٹھنے سے ایک نئی حالت اپنے باطن میں عقائد فقہ کے علاوہ محسوس ہوتی ہے جو پہلے نہ تھی اور اس حالت کا یہ اثر ہے کہ اطاعت الہی کی رغبت اور معاصی سے نفرت ہو جاتی ہے اور عقائد اسلامیہ روز افزوں پختہ ہو جاتے ہیں یہ اور اس جیسی بہترین باتیں ایسی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ طریق باطن بھی کوئی چیز ہے الغرض جب تک پیر کامل کی ہم نشینی اختیار نہ کی جائے علوم باطنی کا کشف نہیں ہو سکتا ارباب ظاہر اس کیفیت کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔<br />
اس علم کے فوائد میں یہ بھی ہے کہ امراض باطنی مثل کبر و انانیت وغیرہ جو دل میں پیدا ہو جاتے ہیں اس کا ازالہ ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے باطنی مشاغل ایسے ہیں کہ اگر ان کو جاری رکھا جائے تو اس کی جگہ یہ لے لیتے ہیں اور اعلی یہ ہے کہ طالب پر خدا کی ذات کا یقین کامل ہو جاتا ہے اور اسے علم کے ذریعہ جو حیرت انگیز مشاہدے ہوتے ہیں وہ اس کو یقین کامل پر مجبور کر دیتے ہیں بشرطیکہ وہ انصاف کو زیر نظر رکھے یہ امر مسلمہ ہے کہ اسلام ایک مکمل مذہب ہے اس میں ہر قسم کی تعلیم کو ہونا ضروری ہے منجملہ اس کے ایک تعلیم یہ روحانی بھی ہے جس کو ہم نے پیش کر دیا اور اس کے فوائد بھی بتا دیئے گئے ہیں اس کے بعد میں جہاں تک خیال کرتا ہوں ہم کو نہ مسمریزم سیکھنے کی ضرورت اور نہ ہپنٹائزم و فری مشن لاج میں شریک ہونے کی حاجت ہے روحانی تعلیم کا اسلام نے جس انداز میں اہتمام کیا ہے وہ ہر طرح سے طالب کو بے پرواہ کرنے کے لیے کافی ہےاگر خدانخواستہ یہ علم اسلام میں نہ ہوتا تو کل خدا کے سامنے مسلمانوں کو یہ کہنے کا موقع حاصل تھا کہ اسلام میں روحانی تعلیم موجود نہ تھی اس لیے ہم نے مسمریزم و فری مشن لاج وغیرہ میں شرکت کی تھی۔<br />
اب جب کہ اسلام میں روحانی تعلیم موجود ہے تو مسلمانوں کو اس کے حصول کی جانب بہت جلد متوجہ ہو جانا چاہیئے اس پر بھی کوئی مسلمان اس تعلیم کو چھوڑ کر غیر اسلامی تعلیمات سے فائدہ اٹھانے لگے تو یہ اس کی سمجھ ہے جو اس کو گمراہی پر چلانا چاہتی ہے میرے خیال میں مسلمانوں کا اس علم سے بے بہرہ ہونے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعض خشک مولویوں نے اس علم کا سرے سے انکار کر دیا ہے اور بعض تو صاف الفاظ میں برملا یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ اسلامی تعلیم ہرگز نہیں ہے پیری مریدی محض ایک ڈھکوسلہ ہے افسوس ان حضرات نے قرآن و حدیث میں غور نہیں فرمایا اور غور کرتے ہی کیا اسباب نہ دارد ایسے حضرات کا غور کرنا نہ کرنا یکساں ہے ۔<br />
اگر ظاہر بین علماء اس کی قدر کرتے تو وہ لوگ جو روحانیت کی تڑپ اپنے اندر رکھتے ہیں مسمریزم وغیرہ میں ہرگز قدم نہ رکھتے ہماری غفلت کا سبب ہے کہ اس تعلیم سے مسلمان روگردان ہو کر غیر اسلامی تعلیمات میں شریک ہو رہے ہیں یہ ظاہر ہے کہ فری مشن وغیرہ کے حالات کسی پر ظاہر نہیں کیے جا سکتے نہ معلوم اس صورت میں وہاں مسلمانوں کو کس قسم کے شرک اور بدعت کی تعلیم دی جاتی ہے۔<br />
بہرحال میں ان علماء کرام کی خدمت میں دست بدستہ عرض کرتا ہوں کہ وہ براہ کرم میرے معروضہ پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اگر کسی وجہ سے اس علم کو حاصل نہ کر سکیں تو خیر مگر کم سے کم اس کی نفی بھی نہ کریں اور اپنے حلقہ اثر میں اس کی اشاعت کریں کہ ایک علم اسلام میں ایسا بھی ہے جو مسمریزم وغیرہ سے بے پرواہ کر سکتا ہے۔</p>
<h2>مرشد کے آداب</h2>
<p>کردم از عقل سوالے کہ بگو ایمان چیست<br />
عقل در گوش دلم گفت کہ ایمان ادب است<br />
میں نے عقل سے سوال کیا کہ تو یہ بتا کہ &#8220;ایمان&#8221; کیا ہے؟ عقل نے میرے دل کے کانوں میں کہا ایمان ادب کا نام ہے۔<br />
(1)مرشد کے ساتھ احسان کرنا چاہیئے ۔<br />
(2)اس کی بات پر اف تک نہ کریں اگرچہ وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔<br />
(3) شیخ کو جھڑکے نہیں<br />
(4)مرشد کے ساتھ بعجز وا نکسار پیش آئے ۔<br />
(5)تعظیم کے ساتھ گفتگو کریں الفاظ کریمانہ ہوں ۔<br />
(6)شیخ کے حق میں دعائے خیر کرے۔<br />
خدا فرماتا ہے<br />
وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًااِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا<br />
اور ماں باپ کے ساتھ سلوک کرو اگر وہ تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں( ماں ہو یا باپ) ان کو اف تک نہ کہو اور نہ جھڑ کو اور ان سے تعظیم کے ساتھ بات چیت کرو اور ان کے آگے عاجزی سے اپنے بازوں کو ڈالے رکھو اور خدا سے یہ کہو کہ اے میرے پروردگار ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے مجھے چھوٹی سی عمر میں پالا پوسا ہے ۔<br />
اگرچہ کہ اس آیت میں ماں باپ کے آداب بتائے گئے ہیں اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ادب کرے لیکن استاد اور مرشد بھی بجائے ماں باپ کے ہیں ثبوت کے لیے یہ احادیث کافی ہے<br />
چنانچہ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انس رضی اللہ تعالی عنہ کو بیٹا فرمایا حالانکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ کے بیٹے نہ تھے پس ثابت ہوا کہ شاگرد بھی بیٹے کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے استاد کو باپ کہا جاتا ہے۔<br />
(مَا أُصَلِّي صَلَاةًإلَّا وَأَنَا أَدْعُو فِيهَا لِلشَّافِعِيِّ امام احمد حنبل فرماتے ہیں کہ میں 30 برس سے اپنے استاد امام شافعی کے واسطے ہر نماز میں درود کے بعد اپنے والدین کے ساتھ دعا کرتا ہوں)<br />
(7) مرشد کے بازو میں برابر ہو کر نہ کھڑے ہو نہ اس کے برابر ہو کر چلے نہ بازو میں بیٹھے نماز کی صف میں بازو رہنا جائز ہےآنحضرت ﷺ ایک دفعہ اکیلے نماز پڑھ رہے تھے ابن عباس نے پیچھے کھڑے ہو کر اقتدا کر لی آنحضرت انہیں اپنے سیدھی جانب برابر کھڑے کرتے تھے اور وہ پیچھے ہٹتے تھے نماز سے فارغ ہو کر آپ نے پوچھا کہ کیوں میرے بازو سے ہٹتا گیا ابن عباس نے عرض کی کہ حضور کیا میں آپ کے برابر کھڑا ہونے کے قابل ہوں آنحضرت ان کے اس ادب سے خوش ہوئے اور دعا دی کہ خدا تمہیں اس کی جزا دے۔<br />
گو حسب تصریحات بعض محدثین اس روایت میں کسی قدر ضعف ہے لیکن دوسرے احادیث کے مطالعہ سے یہ ضعف کی شکایتیں باقی نہیں رہتی ہیں کیونکہ حضرت صدیق اکبر نے جب عین نماز میں یہ معلوم کیا کہ آنحضرت ﷺ تشریف لا رہے ہیں تو محراب سے پیچھے ہٹ آئے حالانکہ حضرت نے ان کو اتمام نماز کا حکم دیا تھا اس کو پورا نہ کیا جب نماز میں اس طرح ادب کو ملحوظ رکھا تو غیر نماز میں کس قدر ادب ہونا چاہیئے۔<br />
اس روایت سے صوفیہ کے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک بعض مواقع میں امتثال امر پر ادب کو ترجیح دی جاتی ہے۔<br />
(8) مرشد کی تعظیم کے لیے جس وقت وہ آئے سر وقد کھڑا ہو جانا چاہیئے۔<br />
سعدبن معاذ جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انصار سے فرمایا کہ تم اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ سردار دو قسم کے ہوا کرتے ہیں ایک دنیاوی جیسے بادشاہ حاکم وغیرہ دوسرے علماء و صلحاء، مرشد و استاد آنحضرت نے اپنے لیے کھڑے ہونے کی جو ممانعت فرمائی ہے وہ آپ کے کمال انکسار پر محمول ہے اس وجہ سے صرف انکسار کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن یہ عدم جواز کی دلیل نہیں ہو سکتی اکابر محدثین کا طرز عمل بھی اس بات کا مؤید ہے چنانچہ امام یحیی عصر کی نماز کے بعد مسجد کے ستون سے تحیہ لگا کر بیٹھتے اور امام احمد اور یحیی بن معین اور علی بن المدنی اور عمر بن علی نمازمغرب تک ان کی خدمت میں کھڑے رہتے اور حدیث اخذ کرتے تھے اور وہ ان لوگوں میں سے کسی کو بیٹھنے کی اجازت نہ دیتے تھے کسی شخص نے امام احمد سے پوچھا آپ کھڑے کیوں رہتے ہیں بیٹھ کیوں نہیں جاتے فرمایا کہ اورعلماء کی تعظیم کا ہم کو حکم ملا ہے<br />
(9) مرشد کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کرے خدا تعالی فرماتا ہے<br />
لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ<br />
تم اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو گو یہ آیت آنحضرت ﷺ کےآداب میں آئی ہے مگر اس میں ہمارے لیے بھی تعلیم ہے مرشد استاد بھی آپ ہی کےنائب ہیں اس لیے ہم کو چاہیئے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ادب کریں آئمہ حدیث نے بھی ایسا ہی ادب کیا دیکھو امام عبدالرحمن بن عمر کی مجلس میں ایک شخص ہنسا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کون ہے لوگوں نے عرض کیا فلاں ہے آپ اس شخص سے ناراض ہو گئے اور فرمایا علم طلب کرتا ہے اور ہنستا ہے ایک مہینہ تک حدیث بیان نہ کروں گا<br />
امام مالک کے شاگرد ان کی نہایت درجہ تعظیم کیا کرتے تھے ان کی محفل میں بہت پست آواز سے بات کرتے تھے اگر احیاناً کبھی کسی کی آواز بلند ہو جاتی تو اس شخص کو محفل سے باہر کر دیتے تھے۔<br />
(10)اپنے شیخ کو نہایت تعظیم و احترام کے ساتھ خطاب کرے مثلا یا سیدی یا مولائی یا اس جیسے اور الفاظ ۔<br />
صحابہ کا معمول تھا کہ آنحضرت کو نام سے پکارتے تو خدا نے ان کو ادب دینے کے واسطے یہ ایت نازل فرمائی<br />
لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا<br />
یعنی پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے نام اور کنیت سے نہ پکارا کرو جیسا کہ باہم ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہو بلکہ یا رسول اللہ یا نبی اللہ کہہ کر پکارو ۔<br />
علمائے سلف نے اپنے استادوں کو مخاطب بنانے کے لیے یہی الفاظ وضع فرمائے ہیں<br />
(11) مرشد کے ساتھ اس طرح چلّا کر بات نہ کرے جیسے آپس میں ایک دوسرے کیا کرتے ہیں۔ خدا فرماتا ہے<br />
وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ<br />
ایسی آواز سے بات نہ کرو جو تم میں ایک دوسرے سے کیا کرتے ہیں<br />
میں اس جگہ اس بات پر ضرور توجہ دلاؤں گا کہ دنیا کے حاکموں کے ساتھ نہایت عاجزی کے ساتھ گفتگو کی جاتی ہے جہاں تک ہو سکتا ہے آواز پست کی جاتی ہے وہ محض اس خیال سے کہ کہیں ہماری اونچی آواز سے اس کو تکلیف نہ پہنچے مگر استاد و مرشد کے ساتھ پکار پکار کر بات کرنے میں کوتاہی نہیں کی جاتی گویا ان کو باتوں کا آلہ مشق بنا رکھا ہے یہ ہماری دینداری کا ایک نمونہ ہے ۔<br />
(12)مرشد کے سامنے اپنی آواز بالکل دبی رکھے اور اس سے بالکل آہستہ ہم کلام ہو خدا تعالی نے فرمایا<br />
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى<br />
بے شک جو لوگ رسول کے حضور میں اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے جانچ لیا ہے ۔<br />
اس آیت سے ان لوگوں کی تعریف فرمائی گئی جنہوں نے رسول کریم کا ایسا ادب کیا ہے چونکہ مرشد اور استاد رسول کریم کے سچے جانشین ہوا کرتے ہیں ہم کو اس آیت سے سبق لینا چاہیئے کہ ہم بھی ایسا ہی ادب کریں ۔<br />
امام شافعی فرماتے ہیں کہ امام مالک کےپاس میں کتاب کے ورق ایسے الٹتا ہوں کہ ورقوں کی آواز ان کے کانوں میں نہ پہنچے ۔<br />
(13)مرشد یا استاد کی منزل گاہ پر جانے کا اتفاق ہو تو چیخیں مار مار کر نہ پکارے جیسا کہ دوسروں کو پکارا جاتا ہے بلکہ نرم اور ہلکی آواز سے پکارے یا کسی اندر جانے والی کے ذریعے سے اطلاع کر دیں یا دروازہ کھٹکائے یا ایسے وقت جائے جب کہ وہ باہر نکلتا ہو۔<br />
خدا تعالیٰ فرماتا ہے<br />
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ<br />
جو لوگ آپ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں بہت سے بے عقل ہیں کیا اچھا ہوتا کہ یہ لوگ آپ کے باہر نکلنے تک صبر کرتے اور خدا کو غفور اور رحیم پاتے ۔<br />
غور فرمائیے اس میں اکثر پکارنے والوں کو بے عقل فرمایا گیا پس ایسی بے ادبی کی حرکت نہ کرنی چاہیئے اسی بنا پر صحابہ کرام نے بھی اپنے استادوں کے ساتھ ایسا ادب کیا چنانچہ حضرت ابن عباس زید بن ثابت کے دروازہ پر ان کے بیدار ہونے تک بیٹھے رہتے کیونکہ وہ ان کے استاد تھے لوگ کہتے ہیں اے رسول کے چچا زاد بھائی ہم بیدار کر دیں فرماتے نہیں وہ خود بیدار ہو جائیں گے اور کبھی بہت دیر تک دروازہ پر کھڑے رہنے کا اتفاق ہوا ہے اور دوسری جگہ انہی سے منقول ہے کہ میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں حدیث حاصل کرنے کے واسطے دروازہ پر کھڑا رہتا اور اپنے آنے کی ان تک خبر نہ کرتا یہاں تک کہ کثرت انتظار میں چادر سر کے نیچے رکھ کر سو جاتا ۔<br />
اس ادب میں آئمہ حدیث نے بھی صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کی مثال قائم فرمائی ہے چنانچہ امام زہری فرماتے ہیں کہ میں عروہ کے پاس جاتا ان کے دروازہ پر کھڑا رہتا اندر جا سکتا تھا لیکن ان کے اجلال کے خیال سے توقف کرتا اذن مل جانے تک باہر ہی ٹھہرا رہتا ۔<br />
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ جو لوگ دور دور سے آپ کے پاس علم سیکھنے کے لیے آتے ہیں آپ ان پر غصہ نہ ہوا کیجئے ایسا نہ ہو کہ وہ آپ کے پاس آنا جانا موقوف کر دیں فرمایا اگر وہ میرے پاس نہ آیا کریں گے تو احمق ہیں اپنا نفع حاصل کرنے سے رہ جائیں گے۔<br />
(14)مرشد کی خدمت میں حاضر ہونے کا اتفاق ہو تو اسے نہایت ادب و احترام کے ساتھ السلام علیکم کہے اگر اس کے ساتھ رحمۃ اللہ وبرکاتہ مزید کرے تو اچھی بات اور اگر مرشد پہلے سلام کرے تو وعلیکم السلام کے ساتھ جواب ادا کرے سلام کے بعد مصافحہ کرے ہاتھ کو بوسہ دے قدم چومے ۔<br />
ابو امامہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ہاں سب سے بڑھ کر اسی کی عزت ہے جو پہلے السلام علیکم کہتا ہے (مشکوۃ)<br />
اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو دس نیکیوں کا ثواب حاصل ہوا اتنے میں دوسرا شخص پہنچا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا آپ نے فرمایا اسے 20 نیکیوں کا ثواب مل گیا پھر تیسرا شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا حضور نے فرمایا اس سے 30 نیکیوں کا ثواب ملے گا(مشکوۃ)<br />
حدیث شریف میں آیا ہے فرمایاآپ نے مصافحہ کرنے سے دل صاف ہو جاتا ہے اور گناہ معاف ہو جاتے ہیں (مالک ، بیہقی)<br />
ذراع صحابی فرماتے ہیں کہ عبدالقیس کی جماعت جب وہاں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ کے ہاتھ اور پیر کو بوسے دئیے در مختار میں لکھا ہے اگر کوئی شخص کسی عالم سے یہ التماس کرے کہ آپ اپنا پیر دراز کریں تاکہ میں اس کو بوسہ دوں تو عالم پر لازم ہے کہ وہ اپنا پیر لمبا کرے اور بوسہ لینے دے۔<br />
امام مسلم جب امام بخاری کے پاس آتے تو فرماتے کہ آپ اپنا پاؤں پھیلائیں تاکہ میں بوسہ دوں۔(مقدمہ اشعۃ اللمعات)<br />
(15) مرشد کو وضو کرائے اور وضو کے لیے پانی لائے اور ضرورت پر طہارت کے لیے بھی پانی رکھے اسامہ بن زید صحابی فرماتے ہیں جب آنحضرت ﷺ عرفہ سے باہر نکلے تو راستے میں قضائے حاجت کے لیے اتر پڑے فراغت کے بعد آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا اور آپ وضو کرنے لگے(بخاری)<br />
حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ انحضرت ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہونے کو تھے میں پانی رکھ کر علیحدہ ہو گیا آپ نے پوچھا پانی کس نے رکھا میں نے عرض کیا حضور میں نے رکھا ہے آپ نے میرے لیے یہ دعا دی ‌اللَّهُمَّ ‌فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ اللہ اسے دین میں سمجھ دے۔<br />
ابو درداء نے کہا کہ تم میں رسول اللہ ﷺ نعلین اور وضو کا پانی اور تکیہ رکھنے والا نہیں ہے ان باتوں کی خدمت حضرت عبداللہ بن مسعود کو تھی ابو درداءنے اسی وجہ سے ان کی طرف اس روایت میں اشارہ فرمایا ہے جس سے واضح ہوگا کہ یہ امور بھی آداب میں داخل ہیں۔<br />
ہر قل بادشاہ نے کہا تھا کہ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ ‌لَغَسَلْتُ ‌قَدَمَيْهِ اگر میں آنحضرت ﷺکے پاس ہوتا تو آپ کے قدم دھوتا ۔<br />
(16)مرشد کی طلبی پر فورا حاضر ہو جانا چاہیئے<br />
ایک صحابی آنحضرت کی یاد فرمانے پر فورا اپنے گھر سے نکل پڑے اور ان کے بالوں سے اس وقت پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں ۔(بخاری)<br />
مرید کو چاہیئے کہ جب اس کا شیخ یاد کرے تو فورا اس کی خدمت میں حاضر ہونے کی کوشش کرے اور بغیرضرورت عذر نہ کرے۔<br />
(17) شیخ کی موجودگی میں امامت نہ کرے اور نہ اس کی مسند پر بیٹھے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی دوسرے کی حکومت میں امامت نہ کرے اور نہ اس کے مکان میں اس کی بے اجازت اس کی گدی پر جا بیٹھے (مسلم)<br />
آج دنیا میں بھی یہی قاعدہ جاری ہے کہ کوئی شخص بغیر حکومت ملنے کے حکومت نہیں کر سکتا اور نہ کوئی شخص حاکم کی مسند پر بیٹھ سکتا ہے اور نہ کوئی احکام دے سکتا ہے اگر آج عہدہ داروں کے سوا ہر شخص فیصلہ کرنے لگے تو انتظام میں بہت ساری خرابیاں پیدا ہو جائیں علی ھذا اگر کوئی شخص حاکم کی کرسی پر جا بیٹھے تو حاکم کی وقعت جاتی رہے گی اور جو کام حاکم سے نکلتا ہے اس میں خرابیاں پیدا ہو جائیں گی پس اسلام نے کیا اچھا ادب سکھایا کہ کوئی شخص بغیر حکومت ملنے کی حکومت نہ کرے نہ حاکم کے اجلاس پر بیٹھے یہی حال مرشد کا بھی ہے کہ وہ بھی اپنے علم کا حاکم ہے کوئی شخص بغیر خلافت کے مرشدی نہ کرے اور نہ اس کی مسند پر جا بیٹھے۔<br />
(18) مرشد کی بغیر اجازت نہ بیٹھے ایک شخص قوم ثقیف سےآنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا اے ثقیف انصار کا ایک شخص مجھ سے سوال کر چکا ہے تو بیٹھ جا اس کو جواب دینے کے بعد تیری حاجت پوری کروں گا ۔<br />
دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس بات کو دوست رکھے کہ لوگ اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوں اور وہ خود بیٹھا رہے تو اسے کہہ دو کہ دوزخ میں اپنی جگہ بنا لے ۔(ابوداؤد)<br />
(19) مرشد کے آنے کی خبر ہو جائے تو مرید پر لازم ہے کہ اس کے استقبال کے لیے جائے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات مجھے کوئی ایسا نبی نہیں ملا جو میرے استقبال کے لیے چل کرنہ آیا ہو اور مجھے سلام نہ کیا ہو مگر صرف ایک نبی جن کے بابت مجھے جبرائیل نے خبر دی کہ یہ نوح علیہ السلام ہیں اور یہ بہ سبب مُسن اور طویل عمر ہونے کی مجھ پر بزرگی رکھتے ہیں اور ان کو شیخ المرسلین کہا جاتا ہے پس مجھے کہا گیا کہ میں ان کے پاس جا کر سلام کروں ۔(ذکرہ النسفی)<br />
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے لیے استقبال کو جانا چاہیئے اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل علم کو بڈھے بڑوں کی تعظیم و توقیر کرنی چاہیئے<br />
(20)مرشد کے آگے نہ بیڑی نہ سگریٹ حقہ وغیرہ پیئے<br />
آ نحضرت فرماتے ہیں کہ تم کچی پیاز اور لہسن نہ کھایا کرو اور کھا کر مسجد میں نہ جایا کرو اس کی بدبو سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے اس حدیث میں پیاز لہسن کھانے سے اس لیے منع فرمایا گیا کہ اس میں بدبو ہوتی ہے اور یہی بات تمباکو میں بھی ہے اس کا بھی استعمال اسی وجہ سے ناجائز قرار پاتا ہے اور ارشاد ہوا کہ بدبو سے فرشتوں کو تکلیف نہ دی جائے جیسے فرشتے خدا کے مقرب ہیں ایسے شیخ بھی خدا کا مقرب ہوتا ہے اس کو بھی ایسی باتوں سے تکلیف نہ دی جائے۔<br />
(21) مرشد اگر غیر سید یا قریشی یا اس کا نسب ادنی وغیرہ ہو تو اس کے ساتھ بھی ادب کرنا چاہیئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم پر اپنے حاکم کی تابعداری لازم ہے اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ جب مسجد میں جاتے تو زید بن اسلم کے پاس ضرور جاتے لوگوں نے عرض کیا آپ امام ہیں اور امام زادے ہیں اور زید غلام اور غلام زادہ ہیں آپ اس کے پاس نہ جائیے فرمایا (‌إِنَّهُ ‌يَنْبَغِي ‌لِلْعِلْمِ أَنْ يُتْبَعَ حَيْثُ كَانَ)جہاں علم ہو اس کی معیت کی جاتی ہے گویا طلب علم میں نسب کی جانچ پڑتال لازمی نہیں<br />
(بندہٴ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست<br />
اے جامی، تو بندہِ عشق بن جا یعنی تو مسلکِ عشق و محبت اختیار کر لے اور حسب و نسب سے آزاد ہوجا کیونکہ راہ عشق و محبت میں &#8220;فلاں ابن فلاں&#8221;کی کوئی حیثیت نہی ہے۔)<br />
اور مشہور مقولہ ہے<br />
ولی ۔عالم۔ حکیم۔ حاکم کی شرافت کو نسب کی احتیاج نہیں۔<br />
میں اس جگہ اس شبہ کو دور کر دینا چاہتا ہوں کہ حضرت امام علیہ السلام کا زید بن اسلم کے پاس تشریف لے جانا اس لیے نہ تھا کہ آپ کو زید کے علم کی ضرورت تھی بلکہ آپ کی غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں کی نظر میں علم کی و قعت قائم کی جائے ۔<br />
(22)جب کوئی سائل مرشد سے پوچھنے لگے تو چاہیئے کہ خاموش بیٹھا رہے شیخ کے آگے فتوی نہ دیے خدا تعالی فرماتا ہے<br />
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ<br />
اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کے سامنے کسی کام میں پیش قدمی نہ کرو۔<br />
بعض مفسرین نے اس آیت کے نزول کا یہ سبب بتایا ہے کہ جب کوئی سائل آنحضرت سے مسئلہ پوچھتا تو کچھ لوگ مجلس کے بیٹھنے والے جواب دینے سے پہلے ہی فتوی دے دیا کرتے تھے اس لیے خدا نے ان کو ادب دینے کے واسطے اس سبقت سے منع فرمایا ہے حدیث شریف میں آیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے چھوٹے بیٹے نے گفتگو میں مسابقت کرنی چاہی تو آنحضرت ﷺ نے اس کو ٹوک دیا اور فرمایا الْكُبْرَ ‌الْكُبْرَ یعنی پہلے بڑے کو بولنے دو آئمہ اہل حدیث سے بھی یہی آداب مروی ہیں ۔<br />
امام عطا فرماتے ہیں کہ میں کسی وقت کوئی حدیث کسی سے سنتا ہوں تو اس وقت اپنے آپ کو ایسا بنا لیتا ہوں کہ گویا کچھ جانتا ہی نہیں حالانکہ اس حدیث کو میں اس شخص کے پیدا ہونے سے پہلے سے جانتا ہوں دیکھو بزرگان سلف شیخ کی حضوری میں سائل کا جواب دینا تو درکنار خود شیخ سے بھی کوئی بات دہرانا برا سمجھتے ہیں۔<br />
چنانچہ سعید بن جبیر حدیث بیان کرتے تھے کہ ان کے ایک شاگرد نے کوئی مطلب دوسرے بار کھلوانا چاہا رنجیدہ ہو کر فرمایا دودھ ہر وقت دوہا نہیں جاتا ۔<br />
امام زہری فرماتے ہیں کہ کہی ہوئی بات کا دہرانہ بڑے پتھر کے بوجھ سے زیادہ بھاری ہے بعض اگلے بزرگ ایسا فائدہ حاصل کرنے والے کو جھڑک دیا کرتے تھے۔<br />
(23)شیخ کے آگے دو زانوں مؤدب بیٹھے ۔<br />
جبریل علیہ السلام جب آنحضرت کی خدمت میں دین کے مسئلے پوچھنے حاضر ہوئے تو دو زانو ہو کر بیٹھے تھے (مشکوۃ)<br />
مشہور واقعہ ہے کہ مہدی خلیفہ عباسی جو اپنے وقت کا بادشاہ تھا اس کے فرزند نے تحیہ لگا کر امام شریک سے کوئی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کچھ بھی التفات نہ کی اور یہ غصہ میں آگیا اور کہا کہ خلیفہ یعنی بادشاہ کی اولاد کو آپ حقیر جانتے ہیں فرمایا علم خدا کے نزدیک بہت بزرگ ہے اسے میں کیسے ضائع کروں خلیفہ یہ سن کر مؤدب بیٹھ گیا اس پر امام صاحب نے فرمایا علم یوں ہی طلب کیا جاتا ہے ۔<br />
امام وکیع کی مجلس میں لوگ ایسے خاموش بیٹھے رہتے ہیں گویا نماز میں ہیں امام صاحب کسی سے کوئی خلاف بات دیکھتے تو مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے<br />
(24)مرشد کے حکم کی تعمیل کرے اور کسی امر میں اس کی نافرمانی نہ کرے خدا فرماتا ہے<br />
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ<br />
خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں جو اولی الامر میں ان کی بھی تابعداری کرو۔<br />
اُولِی الْاَمْرِ حاکم کو کہتے ہیں حاکم دنیا تو سب کو معلوم ہے لیکن دینی حاکم علماء و صلحا ہیں جیسا کہ اس بارے میں عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے پس استاد مرشد بھی اس میں داخل ہیں لہذا ان سب کی تابعداری بھی ہم پر لازم ہے قرآن شریف میں بھی یہ مذکور ہے کہ جب موسی علیہ السلام خضر سے ملے اور علم رشد سیکھنے کی ان سے درخواست کی تو خضر علیہ السلام نے فرمایا<br />
اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا<br />
تم میرے ہمراہ رہ کر صبر نہ کر سکو گے۔<br />
موسی علیہ السلام نے جواب دیا<br />
سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا<br />
خدا نے چاہا تو آپ مجھ کو صابر پائیں گے اور میں کسی امر میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔<br />
اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرشد کی نافرمانی کسی امر میں بھی نہ کی جائے<br />
(25)مرشد کے کسی بات پر اعتراض نہ کریں گو وہ بظاہر خلاف ہی کیوں نہ معلوم ہوتی ہو ۔<br />
قران شریف میں مذکور ہے کہ خضر علیہ السلام نے کئی کام ایسے کیے جو موسی علیہ السلام کو بظاہر خلاف شرع معلوم ہوتے تھے اس لیے وہ ہر دفعہ ان پر اعتراض کرتے رہے باوجود کہ خضر و موسی علیہما السلام کو ان کا وہ وعدہ یاد دلاتے تھے جس میں اعتراض نہ کرنے اور صبر کرنے کا یقین دلایا گیا تھا بالاخر جب موسی علیہ السلام صبر نہ کر سکے یعنی ان پر برابر اعتراض کرتے رہے تو خضر نے موسی علیہما السلام کو یہ کہہ کر اپنے پاس سے علیحدہ کر دیا هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ<br />
طالب کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے شیخ پر اعتراض نہ کرے کیونکہ اعتراض ہی جدائی کا باعث ہو جاتا ہے ۔<br />
اس وقت تک صبر کرے کہ حقیقت حال خود اس کے روبرو اس کا شیخ بیان کر دے کیونکہ یہ بھی مرشد کے فرائض میں اس لیے داخل ہے کہ مغالطہ نہ ہو جائے خضر علیہ السلام نے آخر ساری حقیقت بیان کر دی موسی علیہ السلام کو تشفی فرما دی تھی صحیح بخاری میں ہے کہ رسول خدا فرماتے ہیں کہ اگر موسی و خضر کے ساتھ رہ کر صبر کرتے اور ان سے کچھ بھی نہ پوچھتے تو آگے چل کر خدا خود ان سے یہ ساری حقیقت بیان کر دیتا ۔<br />
اس حدیث میں بھی شیخ پر اعتراض نہ کرنے کی ترغیب اور پھر آئندہ چل کر یہی باتیں خدا کے ذریعے معلوم ہو جانے کی امید دلائی گئی ہے۔<br />
(26) مرشد کی طرف سے اپنے دل میں کسی قسم کا کینہ نہ رکھنا چاہیئے اور جو بشریت سے دل میں کوئی بات آبھی جائے تو اس کو دور کر دیا جائے خدا تعالی نے قرآن شریف میں ہم کو اس دعا کی تعلیم دی ہے<br />
قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا<br />
اے پروردگار مسلمانوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ نہ رکھ۔<br />
آنحضرت ﷺ نے انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے میرے چھوٹے بیٹے کوئی رات یا کوئی دن تجھ پر ایسا نہ گزرے کہ اس میں کسی مسلمان کی طرف سے تیرے دل میں حسد و بغض کی آگ بھڑک رہی ہو یہ میری سنت ہے جو شخص میری سنت پر عمل کرے گا خدا اس کو میرے ساتھ جنت میں رکھے گا (مشکوۃ)<br />
کسی نے کیا اچھا کہا<br />
کفر است در طریقت ماکینہ داشتن آئین ماست سینہ چو آئینہ داشتن<br />
ہماری طریقت میں کینہ رکھنا کفر ہے اور دل کو آئینے کی طرح (صاف و شفاف) رکھنا ہی ہمارا آئین ہے۔<br />
جب یہ بات عام کے لیے ناجائز ہے تو اپنے شیخ کے لیے کیسے جائز ہو سکے گی حضرت غوث الاعظم فرماتے ہیں کہ اپنے شیخ کی طرف سے دل میں کوئی خطرہ آ جائے تو اس کو فورا نکال دے اور اس کے دفعیہ کے لیے یہ دعا پڑھ لیا کرے ۔<br />
وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ<br />
اور ہمارے دل میں ایمان والوں کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔<br />
(27) مرشد کی نسبت مرید یہ خیال رکھے کہ میری ہدایت کے لیے دنیا میں اس سے بہتر اور کوئی مرشد نہیں مل سکتا۔<br />
اگرچہ یہ بات بظاہر آیت کے خلاف ہے<br />
وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ<br />
اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والا ہے۔<br />
مگر اس میں بڑی مصلحت ہے کیونکہ جب تک طالب ایسا خیال نہ کرے گا اس کا اعتقاد برابر نہ رہے گا اور اس کی کوئی بات نہ مانے گا اور ہم نے اوپر تصفیہ کر دیا ہے کہ گو بعض باتیں بظاہر خلاف معلوم ہوتی ہیں مگر دراصل اس میں کوئی خلاف نہیں ہوتا اس لیے یہ بات وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اور نیک اعمال کئے کے موافق پڑ جاتی ہے کیونکہ جب عمل صالح کا حکم ہوا ہے تو جس کی بدولت عمل صالح پیدا ہوتے ہوں اس کو بھی اختیار کرنے کا حکم بھی نکلتا ہے اور حدیث میں ہے<br />
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ<br />
تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے۔<br />
اس حدیث میں حضور انور ﷺنے ایسی محبت کی ترغیب دلائی ہے جس کا پلہ ساری محبتوں سے بھاری ہو اور یہ ظاہر ہے کہ آنحضرت کی ایسی محبت ایمان میں کمال پیدا کرنے کے لیے ضرور ی ہے کیونکہ آنحضرتﷺ کے ساتھ مبتدی کو ایسی محبت کا پیدا کرنا بغیر آپ کے دیکھے ہوئے دشوار تھا اس لیے صوفیاء نے مرشد کو آپﷺ کا برزخ(واسطہ ) قرار دے کر محبت کا پہلا زینہ تجویز کیا ہے تاکہ آپ سے بھاری اور وزن دار محبت پیدا ہونے میں آسانی ہو۔<br />
(28) مرشد کا دل آزردہ کرنا بہت برا ہے ۔<br />
ہم نے اوپر ظاہر کر دیا ہے کہ مرشد بنص قرانی ولی ہے تو ولی کی عداوت خدا کی عداوت ہے اس کا مقابلہ خدا کا مقابلہ ہے آزردہ کرنے کی مختلف ذرائع ہیں ان میں چند ذرائع نمونتا یہاں پیش کرتا ہوں<br />
جو بات ناپسند ہوتی ہے اس پر دلیری کرنا۔<br />
اس کے حکم کے خلاف کرنا ۔<br />
اس کے ہوتے ہوئے دوسرے مرشد کے پاس بھاگے بھاگے پھرنا۔<br />
دوسرے مرشدوں کی مبالغہ کے ساتھ تعریف کرنا وغیرہ<br />
حدیث میں خدا کا فرمان یوں مذکور ہے<br />
مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ اٰذَنْتُهُ بِالحَرْبِ<br />
جو میرے ولی سے عداوت کرے میں اس کو لڑائی کی اطلاع دیتا ہوں یعنی یہ وہ شخص ہے جس سے خدا لڑنے کے لیے چیلنج دیتا ہے (29)مرشد کے پاس زیادہ دیر تک بیٹھنا نہیں چاہیئے بلا اجازت مرشد کے گھر میں نہ جائے مرشد کو اپنی گزر بسر کا ذریعہ نہ بنائے خدا تعالی فرماتے ہیں<br />
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ وَ لٰـكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ۔<br />
اے ایمان والو نبی کے گھروں میں بھی اجازت نہ جایا کرو اور وہاں کھانے پکنے کا انتظار بھی نہ کرو مگر جب تم کو بلایا جائے تو جاؤ اور جب کھا چکو تو وہاں سے چل نکلو باتوں میں جی لگائے بیٹھے نہ رہو کیونکہ نبی کو ان باتوں سے ایذا ہوتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں اور خدا حق بات سے شرم نہیں کرتا۔<br />
یہ آیہ پاک بھی ہم کو بطور خاص اس بات پر متوجہ کرتی ہے کہ شیخ جو نبی کا نائب ہوتا ہے کے ساتھ ہم کو ایسا ہی ادب کرنا چاہیئے بخلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ بلا ضرورت مرشد کے گھر پر جاتے ہیں اور مہینوں اس کے گھر پڑے رہتے ہیں اور خواہ مخواہ ادھر ادھر کے قصے چھیڑ کر اس کو اپنے سامنے بٹھائے رکھتے ہیں یہ سب امور آداب کے منافی ہیں طالب علم کو اس کی احتیاط رکھنی چاہیئے ۔<br />
(30)مرشد کے حلقہ میں بیٹھے ہوئے ادھر ادھر نہ دیکھا کرے بلکہ ادب سے سر تک نہ اٹھائے عبداللہ بن بریدہ رضی عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں حاضر رہتے تو عظمت کے لحاظ سے کوئی شخص حضرت کی طرف سر نہ اٹھاتا روایت کیا حاکم نے اور کہا یہ حدیث صحیح ہے۔<br />
صحابہ و آئمہ حدیث نے بھی اپنے اپنے شیوخ کا ایسا ہی ادب کیا چنانچہ عبدالرحمن بن قرط کہتے ہیں ایک دفعہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ حلقہ باندھ کر بیٹھے ہیں اور ایسے سر جھکائے ہوئے ہیں کہ گویا ان کی گردنوں پر سر ہی نہیں اور ایک بزرگ حدیث بیان کر رہے ہیں غور سے دیکھا تو وہ حذیفہ تھے۔<br />
(31) مرشد کے پاس ناپاک حالت میں نہیں جانا چاہیئے ۔<br />
صحابہ کرام کا معمول تھا کہ جب آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں حاضر ہوتے تو دربار نبوت کے ادب و عظمت کے لحاظ سے خاص طور پر پاک کپڑے زیب تن کر لیتے اور بغیر طہارت کے آپ کی خدمت میں حاضر ہونا اور آپ سے مصافحہ کرنا گوارا نہ کرتے چنانچہ مدینہ کے کسی راستہ میں آنحضرت ﷺ سے حضرت ابوہریرہ کا سامنا ہو گیا ان کو نہانے کی ضرورت تھی گوارا نہ ہوا کہ اس حالت میں آپ کے سامنےآئیں آپ کو دیکھ کر کترا گئے اور غسل کر کے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے آپ نے دیکھا تو فرمایا ابوہریرہ کہاں تھے؟ بولے کہ میں ناپاک تھا اس لیے آپ کے پاس حاضر ہونا نہیں پسند کیا ناپاکی تو ایک بڑی بات ہے لیکن حضرات صوفیا نے اپنے شیوخ کی خدمت میں بے وضو جانا بھی سوء ادبی سمجھا ۔<br />
(32)مرشد اگر راستہ میں پیدل مل جائے اور ہم سواری میں ہوں تو آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنی چاہیئے ایک بار ایک صحابی گدھے پر سوار ہو کر جا رہے تھے راستہ میں آنحضرت ﷺ کو پیدل دیکھا کہ جا رہےہیں فرط ادب سے پیچھے ہٹ گیا اور آگے بڑھ کرآپ کو سنوار کرانا چاہے لیکن آپ نے فرمایا تم آگے بیٹھنے کے زیادہ مستحق ہو البتہ اگر تمہاری اجازت ہو تو میں آگے بیٹھ سکتا ہوں<br />
حضرات صوفیاء کرام نے بھی اپنے اپنے شیوخ کا ایسا ہی ادب کیا چنانچہ متاخرین صوفیا میں حضرت مسکین شاہ صاحب نقشبندی ایک مشہور باخدا بزرگ گزرے ہیں ان کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک دن شاہ صاحب کے ایک مرید گھوڑے پر سوار ہو کر جا رہے تھے راستے میں شاہ صاحب کو پیدل جاتے ہوئے دیکھ لیا تو گھوڑے سے اتر پڑے اور آگے بڑھ کر عرض کی کہ سوار ہو لیجیے شاہ صاحب نے فرمایا کہ میاں یہ عرب کا گدھا نہیں ہے کہ میں اورتو ایک ساتھ سوار ہو جائیں اونٹ یا خچر ہوتا تو اور بات تھی باوصف اس انکاری جواب کے وہ گھوڑے پر سوار نہ ہوئے پیدل ہی چلتے رہے ۔<br />
کیا عہد حاضر میں اس کی مثال ملے گی حاشا وکلا ہرگز نہیں اب اس عزت و ادب کے مستحق حاکم دنیا ہے ان کے سامنے سواری میں ہو کر گزرنا سو ءادبی سمجھا جاتا ہے کیا اس مادیت و دہریت کے زمانے میں ہمارا تعلیم یافتہ روشن خیال طبقہ ان اسلامی آداب کی ضرورت سے انکار کرے گا جو اس رسالہ میں جمع کیے گئے ہیں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b4%25d8%25af%2F&#038;title=%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%D8%B1%D8%B4%D8%AF" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d9%85%d8%b1%d8%b4%d8%af/" data-a2a-title="آداب مرشد"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d9%85%d8%b1%d8%b4%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تہنیت از سخی مادھو لعل حسین قلندر</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%db%81%d9%86%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%d8%ae%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%af%da%be%d9%88-%d9%84%d8%b9%d9%84-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d9%82%d9%84%d9%86%d8%af%d8%b1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%db%81%d9%86%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%d8%ae%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%af%da%be%d9%88-%d9%84%d8%b9%d9%84-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d9%82%d9%84%d9%86%d8%af%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 30 May 2024 22:22:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[بادی کی تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[بدرقہ اور وسیلہ]]></category>
		<category><![CDATA[برخورداری کا پھل]]></category>
		<category><![CDATA[تارک المال ہونا]]></category>
		<category><![CDATA[تلقین ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[تہنیت]]></category>
		<category><![CDATA[خدا یار سے بد اعتقاد]]></category>
		<category><![CDATA[فقیر کا توشہ]]></category>
		<category><![CDATA[محبت کے تین مراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مراسم آداب]]></category>
		<category><![CDATA[معترض ہونا بدنصیبی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9095</guid>

					<description><![CDATA[تہنیت از سخی مادھو لعل حسین قلندر یہ رسالہ تہنیت بزبان فارسی تصنیف لطیف حضرت مقصود الحسین شاه حسین لاہوری المعروف سخی مادھو لعل حسین قلندر رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1008 ہجری بمطابق 1600 عیسوی تعریف اس اللہ کے لئے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%db%81%d9%86%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%d8%ae%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%af%da%be%d9%88-%d9%84%d8%b9%d9%84-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d9%82%d9%84%d9%86%d8%af%d8%b1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>تہنیت</h1>
<p>از سخی مادھو لعل حسین قلندر</p>
<p>یہ رسالہ تہنیت بزبان فارسی تصنیف لطیف حضرت مقصود الحسین شاه حسین لاہوری المعروف سخی مادھو لعل حسین قلندر رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی 1008 ہجری بمطابق 1600 عیسوی<br />
تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے رسولﷺ کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور درود حضرت محمدﷺ پر جواللہ کے برگزیدہ ہیں اور آپ کی آل پر جن کی شان میں آیت<br />
قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر اپنے قرابت کی محبت (حب علی ، فاطمہ ، حسن و حسین ) &#8211; ( سورة الشوری، آیت نمبر 23)<br />
آئی ہے اور آپ کے اصحاب پر جو تَخَلَّقُوا بِأَخْلاَقِ اللهِ (اخلاق خداوندی کو اپنا لو۔) کے معیار پر صحیح اور پورے اُترے ہیں اور باقی تمام تابعین پر۔ اس (حمد وصلوٰۃ) کے بعد حسین لاہوری کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ چند فوائد سات فصلوں (ابواب ) میں جمع کروں تاکہ خدا کے بندے آسانی سے ان کا مطالعہ کر سکیں اور اس کا نام &#8220;تہنیت&#8221; رکھا تا کہ سب کے لئے مبارک ثابت ہو۔</p>
<h2>پہلی فصل</h2>
<h3>اقرباء سے دوری اور ان سے دوستی کے بیان میں</h3>
<p>جان لو کہ طالب کو اپنے اقرباء سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیئے اس صورت میں کہ وہ محبت اور مودت کے سوا کسی اور چیز میں مبتلا کریں اور دوری کی تلقین کریں، غیریت اور بیگانگی کا باعث ہوں، غیر کی نجاست میں ملوث کریں (یعنی خدا سے توڑ کر غیر سے جوڑنے کی کوشش کریں ) وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ (کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا۔) ، پس اس وجہ سے ان سے ہے۔ میل ملاپ ترک کر دے اور ان کی باتوں میں نہ آئے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا یعنی اگر وه دونوں ( والدین) تجھے میرے ساتھ ایسی چیز شریک کرنے پر مجبور کریں جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی بات نہ مان ۔ اور اگر وہ مزاحمت کے درپے ہوں تو مبتدی کو چاہیے کہ انہیں رو کے بلکہ ان سے جھگڑا کرے، اللہ کا ارشاد ہے اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِیعنی بیزار ہوں میں تم سے اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا۔ وعلی ہذا القیاس اور دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا ہے۔ وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةًاِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر کو، کیا تو پکڑتا ہے مورتوں کو خدا؟ میں دیکھتا ہوں تو اور تیری قوم صریح بہکے ہو) اور اگر ان کی یہ کوشش ہو کہ طالب مکتب عشق میں قیام پذیر ہو تو ان کی خدمت میں موجود رہے اور ان کی اطاعت سے انکار نہ کرے ، قوله تعالى اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًاحکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور جو اختیار والے ہیں تم میں اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو لوٹاؤ طرف اللہ کے اور رسول کے، اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور آخری دن پر، یہ خوب ہے اور بہتر تحقیق کرنا ہے۔ اور دوسرے مقام پر بھی فرمایا ہے، وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اور حکم دیا تیرے رب نے کہ نہ پوجو اس کے سوا اور ماں باپ سے بھلائی کرو ۔۔۔ کہ اس کا نتیجہ پالے گا اور اس کی زندگی کا درخت برخورداری کا پھل دے گا۔</p>
<h2>دوسری فصل</h2>
<h3>مال کی طلب اور اس کے ترک کے بیان میں</h3>
<p>جان لو کہ طالب کو یکدم تارک المال ہو جانا اچھا نہیں ہے، اس وجہ سے کہ اس نے اپنے رب کو یا عزیز کے نام سے یاد کیا ہے، پس ضرورت کے مطابق مال سے دوستی نیکی اور ثواب ہے مگر اس قدر بھی دوستی نہ ہو کہ مبتدی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے اور مکھیوں کی طرح اس کو پھنسا لے اور بہت سی کئی دوسری ضرورتوں کا انحصار بھی اسی پر ہے اور یہ (مال) ایک بدرقہ اور وسیلہ کا درجہ رکھتا ہے اور ترک کی یہ صورت ہو کہ اس کے نفع و نقصان کو برابر سمجھے یعنی نفع پر خوشی نہ ہو اور نقصان پر افسوس نہ کرے ، قوله تعالیٰ لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ یعنی تا کہ تم غم نہ کھایا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ نہ آیا اور نہ اچھا کرو اس پر جو تم کو اس نے دیا۔ اور جتنی روزی کی ضرورت سمجھے قوت بازو سے حاصل کر لى قوله تعالى وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ اور اپنے مہر بانی سے بنادی تم کو رات اور دن کہ اس میں چین بھی پکڑو اور تلاش کرو کچھ اس کا فضل، اور دوسری جگہ فرمایا ہے وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ اور تلاش کرو کچھ اللہ کا فضل ، تا کہ اس سے عزت و آبرو قائم رہے اور میسر آسکے تو ذکر کی وجہ سے فقر و فاقہ اختیار کرے اور کوئی چیز لوگوں سے مانگ لے مگر استغنا کے انداز میں، عاجزانہ انداز میں نہیں قوله تعالى &#8211; لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا یعنی نہیں مانگتے لوگوں سے لپٹ کر، جب فقیر کا توشہ باندھا ہے پس اس ہادی کو تلاش کرو کیونکہ اس کے بغیر بات نہیں بنتی۔</p>
<h2>تیسری فصل</h2>
<h3>ہادی پکڑنے میں</h3>
<p>جان لو کہ طالب کو کوئی بادی تلاش کرنا چاہیے جب قرآن مجید میں مذکور ہے۔ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ اے ایمان والو! ڈرے رہو اللہ سے اور ڈھونڈو اس تک وسیلہ اور دوسرے مقام پر بھی مذکور ہے۔ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اور جب تک طلب صادق نہیں ہوگی ہادی نہیں ملے گا، پس مبتدی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی خدا یار آدمی سے بد اعتقاد نہ ہو اور محبت کا دام لگائے جیسے شکاری دام لگتا ہے، ہو سکتا ہے کسی روز ہمادام میں آجائے ۔<br />
خورش ده بہ كنجشك و كبك و حمام كه يك روزت افتدهمانی به دام<br />
(یعنی چڑیوں ، ہنسوں اور کبوتروں کو خوراک دیتا رہ تاکہ کسی دن ہما تیرے دام میں پھنس جائے) اور جس کسی پر اعتقاد درست ٹھہرے اس کو اپنا مقتدائی بنالے اور چونکہ دل خدا کا گھر ہے اور ممکن نہیں کہ اس میں کسی وسوسہ شیطانی کو راہ ملے۔ جب کہ درویش کا کام خدا سے دوستی ہے اور مراسم آداب سیکھے یہاں تک کہ اپنے ہادی کا نام لے کر نہ بلائے اور اس کی خدمت میں قیام پذیر رہے اور اپنے آپ کو اس پر قیاس نہ کرے کیونکہ وہ (ہادی) دریا ہے اور یہ ( طالب ) حقیر ہے پس حقیر کو دریا سے کیا نسبت ہے اور ہر قسم کے آداب بزرگوں کی کتابوں سے رسالوں سے مثلاً (فتوحات) مکیہ وغیرہ سے مطالعہ کرے اور ان کو عمل میں لائے کہ کلی نتیجہ ہے اور اس عزیز کی محبت کا دعوی کرنے والوں سے کٹ کر رہے کہ اس کے کام آئے گا۔ ہو الطالب ۔</p>
<h2>چوتھی فصل</h2>
<h3>فوائد کے بیان میں</h3>
<p>جان لو کہ اگر طالب کو ایسا مطلوب مل گیا جو رہبری کے کام میں لگا ہوا ہے تو پھر اس سے کچھ پوچھنے یا معترض کی صورت میں پیش آنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بدنصیبی ہے جیسا کہ خضر اور حضرت موسیٰ کا قصہ ہے۔ اور اگر اس نے مطلوب کو پالیا جو درویشی کے لباس میں ملبوس ہے اور علم و ہدایت سے کورا ہے اس کے لئے یہی محبت کافی ہے اگر چہ اسے ارادت تو حاصل نہیں ہو گی تا آنکہ خداوند ودود واجب العطیہ والجود، مطلوب کی صورت پر کوئی فرشتہ ظاہر فرما دیں تا کہ وہ بھی رہبری کرے اگر یہ بزرگوں کی راہ و روش اور طور طرز کے فنون کتابوں سے دیکھ کر پڑھے یا کسی سے سیکھ لے تو مطلوب مانع نہیں ہوگا کیونکہ مقصود سامان کو منزل پر پہنچانا ہے وھو المبلغ ۔</p>
<h2>
فصل پنجم</h2>
<h3>تلقین ذکر کے لئے</h3>
<p>جان لو کہ مرشد کو چاہیے کہ وہ طالب کے اطوار و افعال پر نظر رکھے متوجہ کرائے ) اور اس کے دل کے جامہ کو غیریت یعنی شرکت کی گندگی سے پاک کرے چنانچہ اگر وہ کافر ہو تو اس کو شریعت محمدی اور اسلام کے اصول و قواعد سے آگاہ کرے اور اگر وہ فاسق ہو تو اس کو تعریہ کے پانی سے پاک کرے اور بارہ کبیرہ گناہوں سے روکے (بچائے) مرید کے مکارانہ رونے اورفریب کا رانہ اخلاق پر اکتفا نہ کرے۔ چنانچہ بیان کرتے ہیں کہ کثرة التواضع علامة اطلاق بہت تواضع و انکساری منافقت کی علامت ہے) اور اس کی وجہ معلوم کرے اور جب یقین حاصل ہو جائے تو فورا اس طالب کو ذکر جلی میں مشغول کر دے پہلے اسے خاص بھٹوں کی محبت کے جام سے ایک گھونٹ چکھا دے کہ وہ منظور ہو جائے اور جب خدمت کے لئے پسند کیا جائے تو کلمہ طیب کے ورد میں اس کو مشغول کر دے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے- اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ، اس کی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا اور نیک کام اس کو اٹھا لیتا ہے، تاکہ اس کا شیشہ صاف اور شفاف ہو جائے اور اطمینان کی دولت حاصل کرے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ اس کے بعد ذکر خفی کا حکم دے تا کہ فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ ، تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا، کا نتیجہ اس کو مل جائے اور عشق کا شور اور آگ اس کی روح میں بھڑک اٹھے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ تعالی سے محبت کرتے ہیں تاکہ عشق کی جلانے والی آگ سے اس کی ہڈیاں خشک لکڑی کی طرح اور اس کا دل کباب کی طرح بریان ہو جائے۔ جب طالب یہ منزل طے کرنے اور مکتب محبت میں مشق کی تختی قائم کرلے تو محب بن گیا۔</p>
<h2>فصل ششم و هفتم</h2>
<h3>اختتام</h3>
<p>انسانی وجود ایک عمدہ زمین کی مانند ہے اور عشق پھلدار درخت کے بیچ کی طرح جب وہ بیچ زمین میں اُگنے لگتا ہے اور محبت کے پانی سے پرورش پاتا ہے اور محبت کا مواد پیدا کرتا ہے، آخر اس پھلدار درخت کا بیچ بار آور ہوتا ہے اور اس کے تین مراتب ہیں،<br />
مرتبہ اول: آخات، اور اس کا منشانیت ہے کیونکہ إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور نیت کا منشا وسوسہ کا کھٹکاہے اور ہر شے کی اصل وسوسہ ہے اور وسوسہ والی چیز کو قرار آتا ہے اور وہ خطرہ بن جاتی ہے اور جب اسے قرار آتا ہے تو اس سے نیت حاصل آتی ہے اور نیت خطرہ میں ترقی کرتی ہے تو آفات بن جاتی ہے، اور آخات، کہ : ہر ایک کو دین میں مشفق بھائی سمجھے کیونکہ قرآن مجید میں ہے، اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ بھی قرآن مجید میں مذکور ہے، وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں اور اس کے رنج و راحت کو محسوس کرے اور ضرورت کے وقت اس کی ضرورت اور حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم جانے اور محبوب دوستوں کی دوستی کا لباس پہن کر محبت میں قیام کرے ،<br />
۔ مرتبہ محبت : وہ ہے کہ محبوب کو اس کے متعلقین سمیت دوست رکھے اور ان کی دوستی کا حق بجا لائے کہ کلب الحبيب حبيب ( دوست کا کتا بھی پیارا لگتا ہے )<br />
ہوا خاہان کویش را چو جان خویشن دارم<br />
یعنی اس کی گلی کے پیار کرنے والے مجھے اپنی جان کی طرح عزیز ہیں حتی کہ غربت اس کی ہم سفر ہو جائے ان کے بعد خلت حاصل ہو گی اور خلت یہ ہے کہ اپنے دل میں دوست کے سوا کسی کو جگہ نہ دے چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا اب اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہے اور تمہارے ساتھی نے اللہ ہی کو خلیل بنایا اور جب یگانگت کا عقد پختہ اور بیگانگی دور ہو گئی تو واصل ہو گیا اس کے بعد معلوم ہونا چاہیے کہ جن لوگوں نے دنیا کے اصطبل میں خیال آمرانہ سے قدم رکھا سب کو عشق کی آواز پہنچی پس عشق کے خلل سے کوئی بھی خالی نہیں ۔۔۔۔ آخر اسے جس چیز سے بھی خلت کا ربط ہو اس شے میں محو ہو جائے چنانچہ شیخ نے فرمایا ہے لوگ اپنے خلیل کے دین ( طور طریقے ) پر چلتے ہیں ، اس پر انہوں نے ایک حکایت بھی بیان کی ہے کہ کسی نے آخری وقت وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد دیناروں کے دولوٹے میری قبر میں دفن کر دینا چونکہ دولت کی فراوانی تھی اس کی وصیت کو عملی جامہ پہنایا گیا جب کچھ عرصہ بعد ان کے بیٹے افلاس کا شکار ہوئے تو انہوں نے باپ کی قبر سے وہ دنا نیر نکالنے چاہے۔ جا کر قبر کھو دی تو وہاں سے مال غائب تھا۔ بہت حیران ہوئے کیا دیکھتے ہیں کہ جیسے مچھلی کے بدن پر چھوٹے چھوٹے فلوس چسپاں ہوتے ہیں اسی طرح وہ دنا نیر اس کے بدن پر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ بدن سے علیحدہ کریں مگر وہ فلوس جدا نہ ہوئے انتہائی حرص کی وجہ سے انہوں نے میت کو جلا کر وہ زر علیحدہ کرنے کی سعی کی جب لاش جل گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کا تمام بدن زر بن چکا ہے۔ سب کو وہ اپنے تصرف میں لائے چونکہ وہ اس زر کا ہو چکا تھابالاخر وہی بن گیا۔<br />
اس کے بعد من کی طرف کوشش کی ہے من کا معنی ہے کہ ازل سے ابد تک اسے کسی چیز کی خبر نہ ہو جس نام سے بھی اسے منسوب کریں اسی نام سے پکارا جا سکے اور اس راز کی حقیقت کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکو گے جب تک مردود نہ ہو جاؤ یا مستغرق یا اس معاملہ میں مخلوق یا ممدوث نہ ہو جاؤ، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔</p>
<p>تمت الرسالة</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25db%2581%25d9%2586%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25b3%25d8%25ae%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25d8%25b9%25d9%2584-%25d8%25ad%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2582%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25af%25d8%25b1%2F&#038;title=%D8%AA%DB%81%D9%86%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D8%B2%20%D8%B3%D8%AE%DB%8C%20%D9%85%D8%A7%D8%AF%DA%BE%D9%88%20%D9%84%D8%B9%D9%84%20%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86%20%D9%82%D9%84%D9%86%D8%AF%D8%B1" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%db%81%d9%86%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%d8%ae%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%af%da%be%d9%88-%d9%84%d8%b9%d9%84-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d9%82%d9%84%d9%86%d8%af%d8%b1/" data-a2a-title="تہنیت از سخی مادھو لعل حسین قلندر"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%db%81%d9%86%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%d8%ae%db%8c-%d9%85%d8%a7%d8%af%da%be%d9%88-%d9%84%d8%b9%d9%84-%d8%ad%d8%b3%db%8c%d9%86-%d9%82%d9%84%d9%86%d8%af%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مقامات سلوک از ڈاكٹر محمد عبد الرحمن عمیرہ المصری</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d8%a7%d8%b2-%da%88%d8%a7%d9%83%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%86-%d8%b9%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d8%a7%d8%b2-%da%88%d8%a7%d9%83%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%86-%d8%b9%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 30 May 2024 10:46:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[مقامات سلوک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9093</guid>

					<description><![CDATA[مقامات سلوک قرآن وسنت اور اکا بر صوفیاء کے اقوال سے مزین مفید ومؤثر کتاب، تصوف کی تعریف ، سالک راہ کو پیش آنے والے احوال و مقامات کی تشریح سلیس اور سادہ انداز میں مصنف ڈاكٹر محمد عبد الرحمن <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d8%a7%d8%b2-%da%88%d8%a7%d9%83%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%86-%d8%b9%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>مقامات سلوک</h1>
<p>قرآن وسنت اور اکا بر صوفیاء کے اقوال سے مزین مفید ومؤثر کتاب، تصوف کی تعریف ، سالک راہ کو پیش آنے والے احوال و مقامات کی تشریح سلیس اور سادہ انداز میں</p>
<p>مصنف<br />
ڈاكٹر محمد عبد الرحمن عمیرہ المصری<br />
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ وَالصَّلٰوةَ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِهِ النَّبِيِّ الْكَرِيْمِ وَعَلٰی آلِهِ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِينَ وَعَلٰی عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ أَجْمَعِينَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ<br />
صوفیائے کرام نے مختلف ادوار میں تصوف کے متعلق گفتگو فرمائی اور اس کی مختلف تعریفات بیان فرما کر اس کو مختلف سلاسل میں تقسیم کیا ہے۔ یہ سلاسل ذکر واذکار کے طریقوں میں تو مختلف ہیں لیکن مقاصد واہد اف میں متفق ہیں یہ کثیر تعریفات جو صوفیائے کرام نے کی ہیں ان میں کوئی ایک تعریف تما م حقیقت تصوف کی مکمل نشاندہی نہیں کرتی البتہ مجموعی طور پر یہ تعریفات حقیقت تصوف اور اس کے اغراض و مقاصد پر دلالت کرتی ہیں<br />
لفظ صوفی کے بارے میں علماء و محققین کا اختلاف ہے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ یہ لفظ صحابہ کرام اور تابعین کے دور کے بعد دوسری صدی ہجری میں مشہور ہوا جبکہ دوسرے گروہ کا موقف ہے کہ یہ لفظ قبل از اسلام زمانہ جاہلیت میں بھی معروف تھا۔<br />
ان تمام تر اختلافات کے باوجود تصوف کی کتب معتبرہ اس بات پر متفق ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص لفظ صوفی سے مشہور ہوا وہ ابو ہاشم کوفی (متوفی 150ھـ ) ہیں یہ کوفہ کے رہنے والے عربی النسل تھے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شام میں گزارا جس طرح علماء نے لفظ صوفی کی تاریخی حیثیت کے متعلق اختلاف کیا ہے اسی طرح اس کے عربی الاصل ہونے میں اختلاف ہے اس بارے میں سب سے قدیم رائے البیرونی کی ہے وہ کہتے ہیں &#8221; یہ یونانی لفظ &#8221; سوف &#8221; کی تحریف شدہ شکل ہے جس کا معنی حکمت ہے اس سے فیلسوف کا لفظ نکلا ہے جس کا معنی محب ا لحکمۃ (حکمت سے پیار کرنیوالا) ہے پس اسلام میں جن لوگوں کا رحجان حکمت و معرفت کی طرف ہوا ۔ انہیں صوفی کہا جانے لگا۔ لیکن مشہور مستشرق نویلڈ ک نے اس قول کا رد کیا ہے کہ یونانی حرف &#8220;س&#8221; کا ترجمہ ہمیشہ عربی میں حرف س&#8221; کے ساتھ ہی کیا جاتا ہے نہ کہ &#8220;ص&#8221; کے ساتھ اگر لفظ صوفی یونانی زبان سے لیا جاتا تو &#8220;س&#8221; کے ساتھ &#8220;سوفی &#8221; لکھا جاتا۔<br />
ڈاکٹر عبد الحلیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کا ایک گروہ البیرونی کی اس یات سے متفق ہے کہ تصوف کا لفظ یونانی کلمہ ”صوفیا&#8221; سے نکلا ہے فون ھاؤ مستشرق نے اسی رائے کو اختیار کیا اور بہت سے محققین کا بھی یہی نقطہ نظر ہے محمد لطفی جمعہ مرحوم نے بھی اسی قول کی تائید کی ہے۔<br />
لیکن ڈاکٹرذکی مبارک مرحوم نے اس رائے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علماء عرب کی غیر عربی الفاظ پر گہری نظر تھی ۔ اگر یہ لفظ غیر عربی ہو تا تو اسے اپنی مؤلفات میں ذکر کر دیتے پھر ” سوفیاء&#8221; کلمہ کا معنی یونانی زبان میں حکمت ہے قدیم یونانیوں کے نزدیک علوم طبیعہ میں فلسفہ کو بڑی اہمیت حاصل تھی ۔ اور ان کے بہت سے فلاسفی طبیب تھے عربوں نے طب کا ترجمہ ” حکمت &#8221; کیا ہے اور حکیم کا کلمہ طبیب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اسی طرح فلسفہ کو بھی حکمت کا نام دیا گیا ہے عرب عام طور پر تاریخ حکماء سے تاریخ فلاسفہ مراد لیتے ہیں اور لفظ سوفیاء سے بھی انہوں نے طب اور فلسفہ کا معنی مراد لیا ہے جہاں تک روحانی حکمت کا تعلق ہے تو یہ بات بعید ہے کہ وہ یہ معنی یونانیوں سے لیتے جن کو وہ بتوں کی پوجا کرنے والے شمار کرتے تھے لفظ &#8220;صوفی&#8221; کے بارے میں البیرونی کی رائے کے علاوہ اور بھی بہت سی آراء زمانہ قدیم سے موجود ہیں، رسالہ قشیریہ کے مصنف ان آراء کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کا یہ قول ہے کہ لفظ صوفی صوف سے نکلا ہے جس کا معنی اون ہے اور عربی زبان میں تصوف کا معنی اونی لباس پہننا ہے از روئے لغت تو یہ رائے قرین قیاس ہے لیکن تمام صوفیاء اونی لباس نہیں پہنتے تھے۔<br />
بعض نے کہا ہے کہ یہ اصحاب صفہ کی طرف منسوب ہے لیکن صفہ سے بعض نے کہا ہے کہ صفا سے مشتق ہے لیکن یہ بات قوانین صرف کے موافق نہیں اور بعض نے کہا کہ یہ ”صف &#8221; سے مشتق ہے کیونکہ صوفیاء کرام ہمیشہ صف اول میں ہوتے ہیں یہ مفہوم بھی صحیح ہے لیکن قواعد لغت اس کی تائید نہیں کرتے۔<br />
آخر میں مصنف رسالہ قشریہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ صوفیاء کرام کے ساتھ خاص ہو گیا ہے ایک آدمی کو صوفی اور جماعت کو صوفیاء کہتے ہیں اور جو شخص ان کے ساتھ ملے اس کو متصوف اور جماعت کو متصوفین کہتے ہیں ڈاکٹر ذکی مبارک لکھتے ہیں کہ ممکن ہے لفظ سوفیاء بمعنی روحانی حکمت قدیم عربی کے لفظ &#8221; صوف&#8221; سے لیا گیا ہو کیونکہ عربوں کے نزدیک لفظ صوف بہت قدیم ہے اور یہ مسیحی مذہب کی بنیاد تھا۔ اور صوف (اون) کا پہننا زہد کی علامت متصور ہوتا تھا۔ اور یہ بعید نہیں ہے کہ کلمہ صوف عربی زبان سے یونانی زبان میں منتقل ہو گیا ہو اس رائے کو ابو نصر سراج طوسی صاحب کتاب اللمع، شیخ الاسلام ذکریا انصاری ابن تیمیہ ابن خلدون اور مستشرق مرجیلوٹ وغیرہ نے اختیار کیا ہے دور جدید کے محققین میں سے ڈاکٹر عبد الحلیم محمود اور ڈاکٹر مصطفی علمی کا خیال ہے کہ یہ کلمہ &#8221; تصوف &#8221; صوف سے مشتق ہے یہاں ہم صاحب کتاب اللمع کا یہ قول ذکر کرتے ہیں کہ صوفیاء کرام کو ان کے ظاہری لباس (صوف) کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور ان کا یہ اسم ان کے تمام معارف و علوم اعمال و اخلاق اور احوال پر دلالت کرتاہے جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب کا ذکر کیا ہے تو ان کو انکے ظاہری لباس کی طرف منسوب کر دیا اور ارشاد فرمایا اذ قال الحواریون یہ لوگ سفید لباس پہنتے تھے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی طرف منسوب کیا ہے اور ان کے دوسرے مختلف احوال و اعمال جن کے ساتھ وہ متصف تھے کی طرف منسوب نہیں کیا ہے ۔ ان کا لباس پہننا انبیاء کرام اور صدیقین کی عادات میں سے ہے مساکین اور عبادت گزاروں کا شعار ہے بعض نے کہا کہ اصحاب عیسی کو &#8220;حواریین&#8221; اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ دھوبی تھے۔<br />
بہر حال ان تمام ذکر کردہ کلمات کا تصوف سے گہرا تعلق ہے مثلا لفظ &#8220;صفا&#8221; اس کا تصوف سے تعلق ظاہر ہے کیونکہ تصوف ظاہری و باطنی صفائی کا نام ہے<br />
(2) : دوسرا اشتقاق<br />
صف &#8221; : صوفیاء کرام جہاد اکبر اور جہاد اصغر کے ہر میدان میں ہمیشہ صف اول میں ہوتے تھے۔<br />
(3) صفہ<br />
یہ مسجد نبوی شریف کا وہ چبوترہ ہے جس میں وہ صحابہ کرام مقیم تھے جنہوں نے اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ اور علم کے لئے وقف کیا ہوا تھا امام طوسی اہل صفہ کے بارے میں فرماتے ہیں ” یہ تین سو سے زائد صحابہ کرام رضوان الله علیهم اجمعین عربی تھے جن کا کوئی تجارت اور کاروبار نہیں تھا۔<br />
ان کا کھانا پینا اور سونا مسجد میں ہی ہوتا تھا &#8221; ۔ نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ خصوصی انس کا اظہار فرماتے ان کے ساتھ تشریف فرما ہوتے، کھاتے پیتے، اور لوگوں کو انکی تعظیم کیلئے ابھارتے تھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کئی مقامات پر ان لوگوں کا ذکر کیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ(272:2)<br />
ترجمہ : ان فقیروں کیلئے جو راہ خدا میں روکے گئے (کنز الایمان)<br />
اور ارشاد فرمایا<br />
لا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ<br />
ترجمہ : دور نہ کروا نہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں ۔<br />
اور ایک جگہ ارشاد فرمایا<br />
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ<br />
اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔<br />
اور حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل صفہ کو دیکھا کہ وہ کپڑے کی کمی کی وجہ سے اپنے جسموں کو چھپانے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا۔ اور باقی تلاوت سن کر رو رہے تھے (الحدیث) اور صفہ ایک خوبصورت صفت ہے اور سوفیاء کا لفظ یونانی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غیب پر بطریقہ خاص معرفت حاصل کی جائے ۔و اللہ اعلم بالصواب</p>
<p>تصوف کے متعلق صوفیاء کرام کی آراء</p>
<p>تصوف کے متعلق اگر صوفیاء کرام کی آراء کو یہاں تفصیلاً بیان کیا جائے تو بحث طویل ہو جائے گی لہٰذا اختصاراً &#8211; چند اقوال کے ذکر پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے جن سے تصوف کی حقیقت واضح ہو جائے ۔ بعض صوفیاء کرام کے نزدیک تصوف الہام اور بصیرت کا نام ہے اور<br />
بعض کے نزدیک علم الہی اور علم لدنی ہی تصوف ہے ۔ امام طوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی بزرگ سے تصوف کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے تین جوابات دیئے<br />
(1) شرط علم : اس سے مراد کدورتوں سے تصفیہ قلوب ، مخلوق کے ساتھ حسن سلوک اور شریعت میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرنا ہے<br />
(2) زبان حقیقت : اس سے مراد راہ خدا میں سب کچھ لٹا دینا خواہشات نفسانی سے کنارہ کشی اختیار کرنا اور خالق کا ئنات پر مکمل اعتماد کرنا ہے۔<br />
(3) زبان حق : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی عنایات سے ان لوگوں کو ان کی صفات میں پاکیزگی عطا کرتا ہے اور پھر ان کو ان کی صفات سے مصفی کر دیتا ہے اسی وجہ سے ان کا نام صوفیاء رکھا گیا ۔ امام ابو بکر قطانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ تصوف صفائے قلبی اور مشاہدہ حق سے عبارت ہے امام شعرانی کے نزدیک تصوف احکام شرعیہ پر عمل کا نچوڑ ہے جبکہ یہ عمل ریا کاری اور خواہشات نفسانیہ سے خالی ہو امام شبلی رحمۃ اللہ سے تصوف کے بارے میں سوال کیا گیا جو کہ جلیل القدر صوفیاء کرام میں سے تھے فاس میں پیدا ہوئے اور بغداد شریف میں بقیہ زندگی گزار دی۔ آپ سے پوچھا گیا کہ تصوف کی ابتداء اور انتہاء کیا ہے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کی ابتداء اللہ کی معرفت اور اس کی انتہاء توحید ہے۔<br />
حقیقتاً تمام تعریفات کا لب لباب وہی ہے جس کی طرف امام شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے اشارہ فرمایا ہے اور یہی تمام تعلیمات اسلامیہ کا مرکز و محور ہے حدیث پاک میں ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میری آواز میں تو وہ سوز نہیں جو آپکی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آواز میں ہے مگر میں گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اس اعرابی نے نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق کو بڑے خشوع و تضرع کے ساتھ خدا کی بارگارہ میں دعا کرتے ہوئے سنا تھا ۔ لیکن خود وہ اعرابی اس پر قادر نہیں ۔ تھا۔ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا مقصد بھی اس رب کو راضی کرنا ے جس کی توحید کا اقرار تم نے کیا ہے۔<br />
بس تمام صوفیاء عظام بھی توحید کے متعلق ہی گفتگو فرماتے ہیں اگر چہ ان کی عبارات اور طریقوں میں قدرے اختلاف ہے لیکن مقصود سب کا اللہ کی رضا ہی ہے<br />
عِبَاراتُنَا شَتَّى ‌وحُسْنُكَ ‌وَاحِدٌ فَكُلَّ إِلَى ذَاك الجَمَالِ يُشِيرُ<br />
ہماری عبارات مختلف ہیں اور تیرا حسن سرمدی یکتا ہے اور ان میں سے ہر ایک اسی جمال جہاں آراء کی طرف اشارہ کر رہا ہے &#8221;<br />
ڈاکٹر عبد الحلیم محمود فرماتے ہیں کہ البیرونی نے بڑےبڑے ادیان کی امتیازی خصوصیات کو بڑے حسین انداز میں بیان کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ موجودہ نصرانیت کی امتیازی خصوصیت تثلیث ہے جو تثلیث پر ایمان نہیں لاتا اسے مسیحی شمار نہیں کیا جاتا اور یہودیت کی خصوصیت یوم سبت (ہفتے کا دن) کا اہتمام ہے جو اس پر ایمان نہ رکھے وہ دائرہ یہودیت سے خارج متصور ہوتا ہے ہندی عقائد میں عقیدہ تاریخ کو امتیازی حیثیت حاصل ہے جو اس پر عدم اعتقاد رکھے گا وہ ہندو نہیں ہے اور اسی طرح مذہب اسلام کی امتیازی خصوصیت توحید ہے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تصوف وہ نور ہے جو صوفیائے کرام کے دل میں اس وقت اترتا ہے جب ان کے دل قرآن وسنت سے مستنیر ہوتے ہیں قرآن وسنت پر عمل کرنے سے قلوب واذہان پر وہ اسرار ورموز اور حقائق آشکارا ہوتے ہیں جن کو زبان بیان کرنے سے عاجز ہے۔</p>
<h2>صوفیائے کرام کا طریق کار</h2>
<p>صوفیائے کرام کا طریقہ کار کتاب و سنت کے احکام اور انبیاء و صالحین کے اخلاق پر مبنی ہے اور یہ طریقہ کار اسی وقت مذموم ہوتا ہے جب یہ صریح قرآن و سنت یا اجماع کے مخالف ہو۔ صوفیائے کرام کے نزدیک طریق تصوف وصول الی اللہ کا ذریعہ ہے۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ(الذاريات : 50)<br />
ترجمہ: تو تم اللہ کی طرف بھاگو ۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي (العنكبوت : 26)<br />
ترجمہ : میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں<br />
مرید وہ ہے جو طریقہ تصوف کو اختیار کرے یا رب کو پانے کیلئے سفر کرے وہ قدم بقدم مرحلہ بمرحلہ ، مقام بمقام اپنے رب تک پہنچ جائے گا۔<br />
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس منزل کی ابتداء مکاشفات اور مشاہدات سے ہوتی ہے اور پھر منازل طے کرتے کرتے اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں کہ حالت بیداری میں فرشتوں اور ارواح انبیاء علیهم السلام کا مشاہدہ کرتے ہیں ان کی آوازیں سنتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر صور اور امثال کے مشاہدہ سے ترقی کرتے کرتے ایسے درجات کو پالیتے ہیں جن کے بیان سے زبان قاصر ہے لیکن یہ منزل جلد اور بآسانی حاصل ہونے والی نہیں کہ ہر کوئی ان مقامات کو پالے بلکہ یہ منزل مشکلات و مصائب سے بھر پور اور دشوار گزار ہے۔ مصائب کے ساتھ ساتھ اس راہ میں سالک کو شدید قسم کے دشمنوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے سالک کو ارادت و عبادت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ رغبت آرزوئے عمل اور جہاد اکبر میں مصروف رہے جس طرح کہ فرمان رسول ﷺ ہے۔<br />
رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ ‌إِلَى ‌الْجِهَادِ ‌الْأَكْبَرِ<br />
ترجمہ: ہم نے جہاد اصغر سے جہادا کبر کی طرف رجوع کیا ۔<br />
شیطان، نفس، خواہش نفسانی یہ تمام سالک کے دشمن ہیں یہ تمام کے تمام فتنے اور گمراہی کا سبب ہے<br />
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مقصد تک کیسے آ سکتے ہیں اور وہ کونسی کشتی ہے جو ہم کو ساحل مراد تک پہنچا سکتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ ہم عقلی کوڑے پر سوار ہو کر عقلی نتائج اور تحقیقات کے ذریعے اس کو پاسکتے ہیں یا علم کے راستے سے اس تک پہنچیں۔<br />
یا کہیں ایسا تو نہیں کہ تصوف کی منزل مشکل اور کٹھن ہے کہ نہ تو عقل اس کے دروازے پر پہنچ سکتی ہے اور نہ ہی علم اس کے دروازے پر دستک دے سکتا ہے تو پھر کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم روحانی قوت کے ذریعے اس منزل تک پہنچ جائیں اگر ہمیں روحانی قوت کے ذریعہ بحر تصوف کی گہرائیوں تک رسائی نہیں ہو سکتی تو کیا یہاں کوئی اور بھی وسیلہ ہے جو اس کیلئے ممد معاون ہو سکے ؟<br />
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: &#8221; اس منزل مراد کو پانے کا طریقہ ایمان اور تقوی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ<br />
ترجمہ: اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے ۔<br />
وہ اس آیہ کریمہ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ &#8221; لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ &#8221; کا معنی یہ ہے کہ ہم انہیں انوار ملکوت واسرار جبروت اور علوی و سفلی علوم کے متعلق آگاہ کرتے ہیں۔<br />
نیزار شاد خداوندی ہے<br />
وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ<br />
ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کیلئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو ۔<br />
امام ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رزق کی دو قسمیں ہیں<br />
(1) روحانی (2) جسمانی<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
واتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة : 282)<br />
ترجمہ: اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے ۔<br />
اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وہ علوم سکھائے گا جو تم نہیں جانتے پس ایمان اور تقوی ہی اس منزل مقصود کا راستہ اور زینہ ہے جس کے ذریعے سالک اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے اس کی مؤید قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ ہے ارشاد ربانی ہے</p>
<p>الَّا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس : 62)<br />
ترجمہ: سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم ۔<br />
ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے کے بعد ہم حکیم ترمذی کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ ان کی رائے معلوم ہو سکے وہ فرماتے ہیں کہ یہ منزل نظر و فکر اور عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ تو وہ نور ہے جو قرآن و سنت کے اتباع کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس لیے اس کا علم یقینی ہے نہ کہ ظنی و تخمینی &#8211; اس سے معلوم ہوا کہ یہ منزل نہ تو فکر و عقل سے اور نہ ہی مطالعہ کتب اور ان کے حفظ سے حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ عبادت ، سلوک، ترک معاصی اور اتباع قرآن وسنت سے اس کے دل میں ایک نور پیدا ہوتا ہے جو تمام معاملات میں اسے راہنمائی دیتا ہے یہ تقوی اور ایمان کا نور ہے اور جب تک بنده قرآن و سنت کے اوامر کی پیروی کرتا ہے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے تو اس کا دل نور سے بھرا رہتا ہے اور وہ سراپا نور بن جاتا ہے اور یہ نور ہی اکثر معارف ربانیہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے جس طرح امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ” جب بندے کا دل نور سے بھر جاتا ہے تو بندے اور خدا کے درمیان تمام حجابات ہٹ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو علم لدنی عطا فرماتا ہے &#8221;<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس منزل تک پہنچنے کے دو ذرائع بتائےہیں<br />
(1) جذب الہی (اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایات)<br />
(2) بیعت شیخ ۔ کسی شیخ کامل کے ہاتھ میں ہاتھ دینا تاکہ وہ اسے سلوک کی منازل طے کرائے<br />
جو شخص ان دونوں راستوں میں سے کسی ایک کو اختیار نہیں کرتا تو اس کے لئے اس منزل کو پانا محال ہے ۔ پہلا طریقہ : جذب الہی کا طریقہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جذبات الہی میں سے ایک جذبہ جن وانس کے عمل کے برابر ہے<br />
دوسرا طریقہ : شیخ کامل کے ہاتھ پر بیعت کرنا ہے تاکہ مرید اپنے شیخ کے سلسلہ سے منسلک ہو جائے اور اس کا تعلق اس طرح ہو جائے جس طرح لوہے کی زنجیر کا ایک حلقہ ہوتا ہے جب ایک حلقے کو حرکت دی جائے تو ساری زنجیر متحرک ہو جاتی ہے ہر ولی اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان وہ تعلق ہے جو زنجیر کا اپنے حلقوں سے ۔ بخلاف اس شخص کے جو بلا مرشد ہو وہ ٹوٹی ہوئی زنجیر کی طرح ہوتا ہے اگر کوئی مشکل آن پڑے تو وہ زنجیرا سے عدم ارتباط کی وجہ سے اسے کچھ فائدہ نہیں دیتی ۔ اسی تعلق کے بارے میں ڈاکٹر عبد الحلیم محمود فرماتے ہیں کہ یہ روحانی تاثیر تصوف کی بنیادی شرط ہے اور یہ شیخ کے واسطہ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اسی وجہ سے تصوف اسلامی میں بہت طرق اور سلاسل موجود ہیں دراصل ہر سلسلہ اس روحانی تاثیر پر قائم ہوتا ہے جو مرید کو اپنے شیخ سے حاصل ہوتی ہے اور ممکن ہے کہ یہی مرید آئندہ شیخ کامل بن کر دوسروں کو روحانی فیض پہنچائے امام شعرانی کی رائے شیخ سہروردی سے ملتی ہے کیونکہ شیخ سہروردی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ صوفیائے کرام میں بعض ایسے ہیں جو محنت اور کوشش سے منازل سلوک طے کرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کو رب کی خاص عنایات سے بغیر محنت کے یہ مقام ملتا ہے اور یہ حال محبو بین کا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر محنت کے اپنی عنایات اور نوازشات سے نوازتا ہے اور دوسرا طریقہ مریدین کا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع اور محنت سے مقام حاصل ہوتا ہے۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: (69)<br />
اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے<br />
یعنی اللہ تعالیٰ انہیں مختلف قسم کی ریاضتوں اور عبادتوں سے گزار کر بلند مقام سے نوازتا ہے اور یہ حال اس مالک کا ہے جو محب اور مرید ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دونوں طریقوں کو جامع ہے ارشاد رب جل وعلیٰ ہے<br />
اَللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ<br />
ترجمہ: اللہ اپنے قرب کیلئے چن لیتا ہے جسے چاہے اور اپنی طرف راہ دیتا ہے اسے جو اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کرے ۔</p>
<h2>قرآن اور تصوف</h2>
<p>بعض افراد کی رائے ہے کہ تصوف قرآن میں موجود نہیں اگر یہ بات مبنی بر حقیقت ہے تو پھر تصوف کا اسلام سے دور کا واسطہ نہیں اور نہ ہی اس کے اصول اور مبادی اس کے ساتھ متفق ہیں اس بنا پر تصوف اسلامی کا تعلق قدیم یونانی فلاسفہ کے افکار اور ہندی افکار کی ترقی یافتہ شکل ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ مشہور مستشرق کریمر بڑی بے باکی سے کہتا ہے کہ تصوف اسلامی رہبانیت کی مرہون منت ہے اور رہبانیت کی اساس اللہ تعالیٰ اور دوزخ کے خوف پر مبنی ہے وہ کہتا ہے کہ اسی طرح قرآن مجید میں بھی دوزخ اور قیامت کے خوفناک مناظر موجود ہیں کریمر کی یہ بات حقیقت سے بعید ہے کہ امام حارث محاسبی کا تصوف مسیحی تھا با وجود اس کے کہ شیخ حارث خالص سنی تھے اور اسلامی تصوف کی بلندیوں پر فائز امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے پیش رو تھے ۔ علماء کرام اور شرق و غرب کے مفکرین میں اختلاف نہیں ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صادقین اور صادقات، عبادت گزار مرد اور عورتیں اللہ سے ڈرنے اور اس پر پختہ یقین کرنیوالے مخلصین ، محسنین ، صابرین ، متوکلین، مقربین ، اولیاء و صالحین کا ذکر کیا ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مشاہدین کا ذکر کیا ارشاد فرمایا<br />
اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ( سورة ق : 37)<br />
ترجمہ : یا کان لگائے اور متوجہ ہو<br />
مطمئن القلوب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا<br />
أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبِ<br />
ترجمہ : سن لو۔ اللہ کی یاد میں ہی دلوں کا چین ہے ۔<br />
اور نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے اور میانہ روی اختیار کرنے والے لوگوں کا ذکر کیا ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا &#8220;میری امت میں مکلمین اورمحد ثین ہوں گے ۔ &#8221; اور عمر رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں &#8221; ۔<br />
اور آپ نے ارشاد فرمایا بہت سے غبار آلود اور پھٹے پرانے &#8221; : کپڑوں والے ایسے ہیں کہ اگر وہ قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دیتا ہے اور حضرت براء رضی اللہ عنہ ان میں سے ہیں اور حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے کہا اسْتَفْتِ قَلْبَكَ<br />
اپنے دل سے سوال کرو) اور آپ کے علاوہ کسی اور کو یہ ارشاد نہیں فرمایا۔ قرآن کریم ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے دنیاوی مقدر کو ترک نہ کریں اور ہم کو دعوت دیتا ہے کہ ہم بہادر اور قوی رہیں اور اس چیز کی راہنمائی کرتا ہے کہ دانت کے بدلے دانت ، آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے میں ناک بطور قصاص ہوگا اور اس طرح قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ جہاد ہر مسلمان پر واجب ہے اسی طرح قرآن کریم نے دنیاوی مشکلات کو حل کرنے کیلئے متبادل نظام دیا ہے لیکن آیات قرآنیہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی نظر میں اخروی زندگی بہتر اور باقی رہنے والی ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر اور معزز وہی ہے جو اس سے زیادہ ڈرتا ہے اس کے مقابلے میں دنیاوی زندگی لہو و لعب اور باہمی فخر سے عبارت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی ۔ اور قرآن کریم میں جو یہ ارشاد ہوتا ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ دنیاوی زندگی سے اپنا حصہ لے لے تو یہ محض اس لیے ہے کہ مومن کسی غیر کا محتاج نہ ہو پھر قرآن کریم مومنین کی صفات بیان کرتا ہے کہ وہ زمین پر آہستہ آہستہ اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں اور جب ان کا واسطہ کسی جاہل کے ساتھ پڑتا ہے تو بڑی سنجیدگی سے اپنا دامن بچا لیتے ہیں اور اپنی راتوں کو رکوع و سجود میں گزار دیتے ہیں یہ تمام آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اس دار فانی میں مومن کی تمام زندگی آخرت کی تیاری کیلئے وقف ہے کیونکہ آخرت ہی مومن کیلئے زیادہ بہتر اور دائمی ہے لیکن اگر کوئی شخص اخروی زندگی کا ہی ہو کر رہ جائے تو یہ بھی اسلامی تعلیم کے منافی ہے حقیقی صوفی آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ دنیاوی حقوق و فرائض کا بھی خیال رکھتا ہے شادی کرتا ہے کسب حلال کا اہتمام کرتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے قوی مومن اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوتا ہے ضعیف اور کمزور مومن ہے۔<br />
صوفیائے کرام قرآن کریم کی آیات بینات سے اپنی آراء پر استدلال کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ (سوره انفال:17)<br />
ترجمہ : اور نہیں پھینکا آپ نے ، جب پھینکا، لیکن اللہ تعالیٰ نے پھینکا ۔<br />
یہ آیت کریمہ ان کے اس مذہب پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فاعل مطلق ہے اور ہر فعل کا صدور اسی سے ہوتا ہے اور بندے کی اپنے رب کی سامنے وہی حیثیت ہوتی ہے جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم وہ اپنی مرضی سے جو چاہتا ہے لکھتا ہے<br />
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے</p>
<p>فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ<br />
ترجمہ: تو تم جدھر منہ کرو۔ ادھر وجہ اللہ ہے ۔<br />
صوفیائے کرام ان دو آیات کو ہی نظریہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود کیلئے بنیاد بناتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہر شے میں جلوہ افروز ہے ارشاد ربانی ہے۔<br />
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕوَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ<br />
ترجمہ : اے ایمان والو ا تم میں کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کو پیارے اور اللہ ان کا پیارا ۔ مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے ۔<br />
اس آیت کریمہ سے صوفیاء کرام نے اخذ کیا ہے کہ حب الہی کی دوقسمیں ہیں۔<br />
(1) حب الہی انسان کیلئے (2) انسان کی محبت اللہ کیلئے<br />
ارشاد رب ذو الجلال ہے<br />
اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا<br />
ترجمہ کیا کافروں نے یہ خیال نہ کیا کہ زمین اور آسمان بند تھے تو ہم نے انہیں کھولا ۔<br />
اس آیت کریمہ سے انہوں نے حقیقت محمدیہ کا استدلال کیا ہے جسے وہ تعیین اول سے تعبیر کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ تعیین اول ہی تمام تعینات علویہ اور سفلیہ کو جامع ہے دراصل حقیقت محمد یہ ہی تمام اشیاء کا اجمالا سرچشمہ ہے اور بعد میں تمام اشیاء کا ظہور اس حقیقت سے ہوا اور آسمان و زمین کا وجود بھی اس اجمال کی تفصیل ہے۔<br />
درج ذیل آیات سے توبہ اور اس کی اقسام پر استدلال کرتے ہیں ارشاد خداوندی ہے۔<br />
توبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ<br />
ترجمہ: اور اللہ کی طرف توبہ کرواے مسلمانو اسب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔<br />
نیزارشاد خداوندی ہے۔<br />
وَإِنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ<br />
ترجمہ : اور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف تو بہ کرو۔<br />
ارشاد ربانی ہے<br />
يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا<br />
ترجمہ اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہو جائے۔<br />
ان آیات کریمہ سے صوفیاء کرام مقام صبر پر استدلال کرتے ہیں<br />
ارشاد ربانی ہے<br />
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا(آل عمران : 220)<br />
ترجمہ: صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو۔<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
إنَّمَا يُوَ فِى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ<br />
ترجمہ: صابروں کو ہی ان کا ثواب بھر پو ر دیا جائے گا بے گنتی ۔<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
وَلِمَنْ صَبَرَوَ غَفَرَانَ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ<br />
ترجمہ اور بے شک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
وَلَنَبْلُونَكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاھدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِينَ (سوره محمد : 31)<br />
ترجمہ : اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیں تمہارے جہادکرنے والوں اور صابروں کو<br />
ان آیات کریمہ سے وہ مقام توکل پر استدلال کرتے ہیں ارشادخداوندی ہے<br />
وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ (الفرقان : 58)<br />
ترجمہ: اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گا ۔<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (ابراهيم : 11)<br />
ترجمہ : اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے ۔<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله (آل عمران : 159)<br />
ترجمہ : اور جب کسی بات کا ارادہ پکا کر لو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔<br />
ان آیات کریمہ سے صوفیاء کرام تفکر فی الافاق کے نظریہ پر استدلال کرتے ہیں۔<br />
ارشاد ربانی ہے<br />
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (آل عمران : 190)<br />
ترجمہ : بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کیلئے ۔<br />
نیزارشاد خداندی ہے<br />
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًا (المزمل:8)<br />
اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اس کے ہو رہو ۔<br />
ارشاد خداوندی ہے۔<br />
وَاعْبُدُ رَبِّكَ حَتَّى يَأْتِيكَ الْيَقِينُ (الحجر: 99)<br />
ترجمه : اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو۔<br />
ارشاد رب العالمین ہے<br />
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَا وَ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ولا تعد عَيْنَاكَ عَنْهُمْ ( الکہف : 28)<br />
ترجمہ: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور کسی پر نہ پڑیں۔<br />
ان آیات سے صوفیاء کرام زہد پر استدلال کرتے ہیں ۔ارشاد ربانی ہے۔<br />
وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءِ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيمًا تَذْرُوهُ الرِّيَاحَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْ مُقْتَدِرًا(الکہف:45)<br />
ترجمہ: اور ان کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہو کر نکلا ۔ پھر سوکھی گھاس ہو گیا جسے ہوائیں اڑائیں، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے &#8221;<br />
ارشاد پرورد گارہے<br />
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ(الحدید:20)<br />
ترجمہ : جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا اس بارش کی طرح جس کا اگایا سبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا کہ تو اسے زرد دیکھے پھر ریزہ ریزہ ہو گیا اور آخرت میں سخت عذاب ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھو کے کا مال ۔<br />
ارشاد رب کریم ہے۔<br />
إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَنَكُمُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَلَا يَغْرَنَكُمْ بِاللَّهِ الْغُرُورُ(لقمان:33)<br />
ترجمہ: بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہرگز تمہیں دھوکہ نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے علم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی ۔<br />
اس کے علاوہ قرآن کریم طالبان حق کی معرفت الہی کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور معرفت کا حصول حواس ظاہری اور باطنی سے ممکن نہیں اور نہ ہی کتب مقدسہ سے اس کا حصول صراحتاً ممکن ہے ڈاکٹر عبد الحلیم محمود فرماتے ہیں کہ معرفت الہی کا بہترین طریقہ وہ الہام ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خواب میں فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت یوسف علیہ السلام کے کئی خواب ذکر کئے ہیں ۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے :<br />
إِذْ قَالَ يُوسُفَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبَاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رأيتهُمْ لِي سَاجِدِينَ (يوسف : 4)<br />
ترجمہ: یاد کرو جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے۔ انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔<br />
حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی اس خواب پر یقین کا اظہار کیا اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا ۔<br />
قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدً (یوسف : 5)<br />
ترجمہ: کہا اے میرے بچے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا وہ تیرےساتھ کوئی چال چلیں گے ۔<br />
جب عزیز مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کیا تو قید خانے میں ان کے ساتھ دو نوجوان بھی داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا<br />
اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًاۚ-وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُؕ<br />
ترجمہ : میں نے خواب دیکھا ہے کہ شراب نچوڑتا ہوں اور دوسرا بولا میں نے خواب دیکھا میرے سر پر کچھ روٹیاں ہیں جن میں سے پرندے کھاتے ہیں۔<br />
وہ دونوں حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں اس کی تاویل بیان کرنے کے لئے عرض کی ، آپ نے انہیں اس کی تاویل سے آگاہ کیا اس کے علاوہ بھی سورۃ یوسف میں بادشاہ کا ایک خواب مذکور ہے جس کی تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے کی جب حضرت یوسف علیہ السلام کے والد اور بھائی مصر میں آئے اور ان کو سجدہ تعظیمی کیا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو وہ خواب یاد دلایا جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا ۔<br />
وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا-<br />
اور یوسف نے کہا &#8220;اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تاویل ہے بے شک میرے رب نے اسے سچا کیا ہے &#8221;<br />
نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا<br />
إن الرؤيا جزء مِنْ سِتَّة وَأَرْبَعِينَ جَزْء مِنَ النبوة<br />
ترجمہ : حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ” خواب اجزاء نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے &#8221;<br />
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ مضبوط رسی ہے جس کے عجائب ختم ہونے والے نہیں اور بار بار پڑھنے سے اس کی دلچسپی کم نہیں ہوتی جس نے قرآن کریم پر عمل کیا کامیاب ہوا۔ اور جس نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا اس نے عدل کیا جس نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا ۔<br />
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا &#8221; جو علم سیکھنا چاہتا ہے اسے چاہیئےکہ قرآن کی طرف رجوع کرے کیونکہ اس میں علم اولین و آخرین ہے &#8221;<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
الم &#8211; ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ<br />
ترجمہ : وہ بلند رتبہ کتاب کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈروالوں کے لئے جو بے دیکھے ایمان لائیں ۔<br />
ہزار معانی بتا دئیے جائیں تب بھی ان معانی کی انتہاء تک نہیں پہنچ سکتا۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں سمو دیا ہے کیونکہ یہ کلام اللہ ہے ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات لامتناہی ہیں اسی طرح اس کے کلام کے معانی کا کوئی شمار نہیں لیکن ان معانی کو صرف اولیائے کرام ہی سمجھ سکتے ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ روشن کر کے اپنے کلام کے سمجھنے کی توفیق دیتا ہے وگر نہ اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے اور مخلوق کے اذہان وافکار کی اس تک رسائی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ حادث اور مخلوق ہیں۔</p>
<h2>تصوف اور مذہب اسلام</h2>
<p>مستشرقین اور دوسرے لوگ جو تصوف کے موضوع پر لکھتے ہیں وہ اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تصوف کا تعلق غیر اسلامی ماخذ سے ہے یا یہ مختلف اسلامی ماخذ کا مجموعہ ہے اور ان ماخذ میں قرآن و حدیث بھی شامل ہیں<br />
اور بعض کا نظریہ ہے کہ اسلام میں تصوف باہر سے داخل ہوا ہے یا تو یہ شام کی رہبانیت سے ماخوذ ہے جیسا کہ مار کس کا خیال ہے یا جدید یونان کے افلاطونیت سے یا ایران کے زرتشی مذہب سے &#8216; یا ہندی وید جوگیوں سے ماخوذ ہے اور یہ جانسن کی رائے ہے لیکن جب ہم ” نکلسن &#8221; کی رائے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رائے یہی ہے کہ مطلق طور پر یہ حکم صادر کرتا کہ تصوف اسلام میں کہیں اور سے داخل ہوا ہے غیر معقول بات ہے ۔ حقیقت یہ ہے۔ کہ صوفیاء کرام کے مخصوص افکار ، ظہور اسلام سے ہی مسلمانوں میں موجود تھے جس وقت مسلمان قرآن وحدیث پر سختی سے کاربند تھے ۔ شیخ عبد الواحد یحییٰ فرماتے ہیں کہ تصوف دین اسلام کا جزو لاینفک ہے کیونکہ دین اس کے بغیر نا مکمل ہے بلکہ اسلام تصوف کے بغیر اپنے اہم مقصد سے محروم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کو اسلام میں مرکزی اہمیت حاصل ہے اس لیے ان لوگوں کی آراء کی کوئی حیثیت نہیں جو تصوف کو غیر اسلامی ماخذ کی طرف منسوب کرتے ہیں اگر صوفیائے کرام اور ان لوگوں کے درمیان جو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں مشابہت پائی جاتی ہے تو اس میں کوئی استحالہ نہیں کیونکہ تمام مذاہب کی اصل اور حقیقت ایک بھی ہے اور تمام عقائد اپنے اجزاء ترکیبی میں متحد ہیں اگر چہ ظاہری طور پر مختلف ہیں<br />
بعض مستشرقین کا یہ گمان کہ صوفیائے کرام نے نصرانیت سے اخذ کیا ہے محض باطل ہے کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی آیات اور احادیث کثیرہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تعلیمات تصوف خالصتاً &#8221; اسلامی ہیں قرآن کریم میں زہد کا واضح طور پر ذکر ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے اور ان کے سامنے دنیاوی زندگی کی مثال بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا نکلا پھر سوکھی گھاس ہو گیا جسے ہوائیں اڑائیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قابو پانے والا ہے (الکہف : 45)<br />
اسی طرح نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی بھی اس پر دال ہے آپ نے ارشاد فرمایا ” میں اپنے بعد سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ دنیا کی زیب و زینت ہے &#8220;(بخاری ۔ مسلم &#8211; نسائی)<br />
آپ نے ارشاد فرمایا :<br />
‌لَوْ ‌كَانَ ‌لِي ‌مِثْلُ ‌أُحُدٍ ‌ذَهَبًا، لَسَرَّنِي أَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ، إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ ( بخاری &#8211; مسلم &#8211; دارمی )<br />
اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو میں اس چیز کو پسند نہ کرتا کہ میرے پاس تین راتوں کے بعد میری ملکیت میں کچھ ہو مگر یہ کہ کچھ حصہ ادائیگی قرض کے لئے رکھ لوں ۔ نبی پاک میں ہم نے ارشاد فرمایا ۔<br />
الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةَ الكَافِرِ (مسلم &#8211; ترمذی)<br />
ترجمہ : دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کیلئے جنت ہے ۔<br />
ارشاد فرمایا<br />
‌ازْهَدْ ‌فِي ‌الدُّنْيَا ‌يُحِبَّكَ ‌اللَّهُ، وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ (ابن ماجہ )</p>
<p>ترجمہ دنیا میں زہد اختیار کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس میں رغبت نہ کرو تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔<br />
یہ تمام آیات اور احادیث نبویہ بڑے واضح طور پر دلالت کر رہی ہیں کہ وہ زہد جسکو صوفیائے کرام نے اختیار کیا ہے اس کی اصل کتاب وسنت میں موجود ہے اسی طرح فقر کا ذکر بھی قرآن کریم میں آیا ہے<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِۚ-تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْۚ-لَا یَسْــٴَـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًاؕ (البقرة : 273)<br />
ترجمہ: ان فقیروں کیلئے جو راہ خدا میں روکے گئے زمین میں چل نہیں سکتے نادان انہیں تونگر سمجھے بچنے کے سبب تو انہیں ان کی صورت سے پہچان لے گا۔ لوگوں سے سوال نہیں کرتے کہ گڑ گڑانا پڑے ۔<br />
ارشاد باری تعالٰی ہے<br />
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ (الحشر: 8)<br />
ترجمہ: ان فقیر ہجرت کرنیوالوں کیلئے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ اور رسول کی مدد کرتے ہیں وہی سچے ہیں۔<br />
اس وجہ سے گولڈ زھیر کا یہ قول صحیح نہیں کہ فقر کی تعریف اور اس کو غنا پر ترجیح دینا نصرانی تعلیمات سے حدیث پاک میں منتقل ہوا ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی اور احادیث طیبہ ، قرآن کریم کی صحیح تصویر تھیں۔ اور آپ نے اس چیز کی دعوت دی جس کا ذکر قرآن پاک میں تھا اسی طرح نکلسن کا یہ قول بھی مردود ہے کہ خاموشی اور ذکر جن کو صوفیاء کرام منازل سلوک میں اپناتے ہیں نصرانیت سے ماخوذ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرے بہت سی آیات کریمہ اور احادیث طیبہ ذکر پر برانگیختہ کرتی ہیں اور ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ذکر بلند کرنے والوں کی شان بلند اور اجر کثیر ہوتا ہے ان میں سے چند ایک کے ذکر اکتفا کیا جاتا ہے<br />
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرة : 152)<br />
ترجمہ : پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا تم میرا شکر ادا کرو اور کفران نعمت نہ کرو۔<br />
ار شاد باری تعالیٰ ہے<br />
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّـٰهَ ذِكْرًا كَثِيْـرًا وَسَبِّحُوْهُ بُكْـرَةً وَّّاَصِيْلًا (هُوَ الَّـذِىْ يُصَلِّىْ عَلَيْكُمْ وَمَلَآئِكَـتُهٝ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا (الاحزاب : 41 تا 43)<br />
ترجمہ : &#8220;اے ایمان والو! اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو وہی ہے جو درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیروں سے اجالوں کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے &#8221;<br />
اور اسی طرح ذکر کی فضیلت میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا &#8220;اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو چکر لگاتے اور مجالس ذکر کو تلاش کرتے رہتے ہیں اور جب کسی مجلس ذکر کو پالیتے ہیں تو اس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے اس کو ڈھانپ لیتے ہیں یہاں تک کہ آسمان تک کی فضا کو بھر دیتے ہیں &#8221; اور اس سے ہم اس قول کا رد آسانی سے کر سکتے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے که تصوف اسلامی میں حب الہی کا نظریہ نصرانیت سے مستعار ہے ۔ مگر ہم قرآن و سنت کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ صوفیائے کرام کے اس عظیم نظرئیے کے بنیادی عناصر قرآن و سنت سے ہی اخذ کیے گئے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ تصوف اسلامی یونانی یا ہندی افکار سے ماخوذہے تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ پانچویں صدی تک جو کہ تصوف کے عروج کا دور ہے اسلامی ماخذ کے مقابلہ میں یونانی مصادر کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔<br />
صرف امام غزالی کو ہی لے لیجئے آپ بہت بڑے متکلم اور فلسفی تھے اور فلسفہ یونان پر آپ کی گہری نظر تھی آپ نے ”مقاصد فلاسفہ&#8221; میں ایرانی فلسفہ کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ لکھا ہے اس کے بعد آپ نے مذاہب فلسفہ کے رد اور انکے عقلی دلائل کے بطلان کیلئے تحافه الفلاسفہ لکھی لیکن فلسفہ میں اتنی مہارت کے باوجود اپنی روحانی زندگی کے اعتبار سے خالصتاً ۔ مسلمان صوفی تھے۔ ان کے ذکر و اذکار اور طریقہ تصوف، قرآن و سنت سے ماخوذ تھا۔ اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل آپ کی بے مثل کتاب &#8221; احیاء العلوم &#8221; ہے یہ کتاب اس بات پر شاہد ہے کہ امام غزالی بہت بڑے صوفی تھے اگر چہ آپکی دوسری تالیفات میں یونانی فلسفے کے آثار پائے جاتے ہیں لیکن روح اسلام آپ پر غالب تھی ۔ اور آپ اکثر و بیشتر قرآن وسنت سے استدلال کرتے تھے آپ کے مسلم صوفی ہونے پر اس سے بڑھ کر کیا دلیل ہو گی کہ آپ نے اتحادیہ کی رائے کی تردید کی جس کو ابن سینا نے &#8220;کتاب النجاة &#8221; میں اختیار کیا اور دوبارہ کتاب &#8221; الاشارات&#8221; میں اس رائے سےدست بردار ہوئے۔<br />
ڈاکٹر عبد الحلیم محمود رحمۃ اللہ علیہ اس اختلافی موضوع کی وضاحت بڑے منفرد انداز میں کرسکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تصوف کے موضوع پر لکھنے والوں نے تصوف کو ان کسبی عوامل پر قیاس کیا ہے جو بیرونی عوامل کا اثر قبول کرتے ہیں۔<br />
عام طور پر کاتب ، شاعر اور مفکر اپنے افکار اور خیالات کو اپنے ارد گرد کے ماحول سے اخذ کرتے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بیرونی ماحول ان کے افکار پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن صوفی اور صوفیاء کا تعلق ان چیزوں سے نہیں ہوتا۔ اس مفہوم کی وضاحت کیلئے اس مسئلہ کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔<br />
سلوک تصوف کا رحجان</p>
<h2>شعور تصوف</h2>
<p>جہاں تک تصوف کی طرف رحجان کا تعلق ہے اس میں انسان کے داخلی اثرات کا عمل دخل ہے۔ اور ان اسباب کا تعلق خارجی عوامل سے زیادہ داخلی عوامل سے ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسان میں فطری طور پر یہ استعداد موجود ہو کیونکہ منزل سلوک کا آغاز کسی ایک کلمہ اشارہ یا حادثہ سے ہوتا ہے جو سالک کی زندگی میں اثر انداز ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس راہ پر چل نکلتا ہے<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِيْنِ<br />
ترجمہ: میں اپنے رب کی طرف جاتا ہے ہوں وہی مجھے ہدایت دے گا۔<br />
وہ ایک کلمہ جو اس عزم مصم کا باعث ہوتا ہے اس کیلئے فطری استعداد لازمی امر ہے اور اس فطری استعداد کا تعلق نہ تو افلاطونی اور ہندی افکار سے ہے اور نہ ہی ایرانی نظریات ہے۔<br />
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سالک افلاطونی افکار اور ہندی عقائد کا علم رکھتاہے لیکن اس کا یہ علم اس کے صوفی ہونے کے منافی نہیں ہوتا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی صوفیائے کرام کی کتب کا مطالعہ کیا اورخود ہی اس کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ میں نے صوفیاء کرام کے علوم کو حاصل کرنے کی ابتداء ان کی کتابوں کے مطالعہ سے کی میں نے ابو طالب مکی کی &#8221; قوت القلوب &#8221; حارث محاسبی کی کتب، جنید ، شبلی، ابو یزید بسطامی سے منقول اقوال کا مطالعہ کیا حتی کہ میں علمی مقاصد کی حقیقت پر مطلع ہو گیا تعلیم اور سماع کے ذریعے جو بھی علوم ممکن تھے حاصل کر لیے لیکن ان کتب اور فلسفہ یونان کےگہرے مطالعہ کے باوجود صوفی نہ بن سکے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض علوم ایسے بھی ہیں جو محض تعلیم سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ ذوق ، حال اور تبدیلی صفات کی ضرورت ہوتی ہے المختصر یہ کہ تصوف ان امور کسبیہ سے نہیں جو اپنے اردگرد ماحول کا اثر قبول کرتے ہیں بلکہ خالص ذوق اور مشاہدے کا نام ہے ۔<br />
یہ ذوق اور مشاہدے کا حصول، خلوت، ریاضت، مجاہدہ اور اشتیاق کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس، تہذیب اخلاق اور تصفیہ قلوب سے ہوتا ہے اور صوفیائے کرام کے مشاہدہ کو غیر اسلامی ماخذ کی طرف منسوب کرنا قرین قیاس نہیں مسئلہ تصوف کی حقیقت سے نا آشنا لوگوں کا تصوف کو موضوع بحث بنانا سراسر خطا ہے۔<br />
اس تمام بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ تصوف کی طرف رحجان اور میلان فطری امر ہے صوفیاء کرام کا ذوق شعور اور معرفت منبع نور وہدایت سے مستفاد ہے ۔ سابقہ بحث کا حاصل کی ہے کہ تصوف عربی اور اسلامی ہے جس طرح کہ وہ قرآن مجید جس سے اصول بنائے گئے ہیں تصوف کے اصول براہ راست اخذ کیےگئے ہیں عربی اور اسلامی ہیں ۔<br />
اور جب اصول تصوف قرآن مجید سے ہی مستنبط ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ استنباط فہم قرآن، تدبر اور تفسیر قرآن کے بعد ممکن ہوا ہے تو سب سے پہلے قرآن کریم کی لغوی، منطقی اور کلامی تفسیر ہوئی اور پھر مزید گہرائی میں جانے کیلئے صوفیانہ تفسیر کی ضرورت پیش آئی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ کلام اللہ کی تین آیات انسان کیلئے کافی ہیں<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَؕوَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ( سورة الانعام :17)<br />
ترجمہ : اور اگر اللہ تجھے کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دورکرنے والا نہیں اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔<br />
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ اگر میرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو کوئی مجھے محروم کرنے والا نہیں اور اگر اس نے میرے مقدر میں شرلکھ دیا ہے تو کوئی طاقت اسے دور نہیں کر سکتی۔<br />
دوسری آیت:<br />
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ<br />
ترجمہ: پس تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا<br />
فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کو چھوڑ کر اس کے ذکر میں مشغول ہو گیا<br />
تیسری آیت و<br />
َومَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا<br />
ترجمہ : اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔<br />
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نے اس آیت کریمہ کو پڑھا تو پھر کبھی حصول رزق کی فکر نہ کی درج ذیل اشعار بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہیں<br />
يا مَن تَرَفَّعَ لِلدُنيا وَزينَتِها لَيسَ التَرَفُّعُ رَفعَ الطينِ بِالطينِ<br />
إِذا أَرَدتَ شَريفَ القَومِ كُلّهم فَاِنظُر إِلى ملكٍ في زِيِّ مِسكينِ<br />
لا تَخضَعَنَّ لِمَخلوقٍ عَلى طَمَع فَإِنَّ ذَلِكَ وَهنٌ مِنكَ في الدينِ<br />
اے وہ شخص جو دنیا اور اس کی زینت سے بڑائی چاہتا ہے مٹی پر مٹی کو ، بڑائی چاہتا ہے مٹی بلند کرنے سے بڑائی حاصل نہیں ہوتی<br />
جب تو تمام لوگوں سے شریف آدمی کو چاہتا ہے پس تو مسکینوں کے بادشاہ کی طرف نظر کر۔<br />
وہ وہ شخص ہے جس کا مرتبہ لوگوں میں بڑا عظیم ہے وہ وہ ہے جو دین و دنیا میں صالح ہے ۔</p>
<h2>حیات نبویہ اور تصوف</h2>
<p>رسول کریم ﷺ تمام انسانیت کیلئے معلم اور جمیع خلائق کیلئے رحمت بن آئے آپ کے رب نے ہی آپ کو بہترین آداب سکھائے جیسا کہ آپ سے مروی ہے۔ اد بني ربي فاحسن تادينيمجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور بہترین سکھایا<br />
نبی کریم ﷺ جب اس دنیا میں تشریف لائے تو یتیم تھے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت کے سوا کوئی سہارا نہ تھا اس میں حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام رسولوں سے اعلیٰ اور خاتم النبین بنا کر معبوث فرمایا تھا اس لیے حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ خود آپکی تربیت فرماتا اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے ایسے بہترین خاندان کا انتخاب فرمایا جو پاکیزگی اور عفت و عصمت اور ایمان میں اپنی مثال آپ تھا۔ آپ کے جد امجد خوبرو ، کریم ، خوش خلق اور بڑے شیریں بیان تھے آپ بڑے قوی الایمان تھے آپ کے دل و دماغ پر مذہبی چھاپ تھی آپ نوجوانان قریش کی طرح بڑے ہی ذہین فطین ، غیور اور بہادر تھے لیکن آپ کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل تھی کہ آپ سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے جبکہ نوجوانان قریش اس سے عاری تھے۔<br />
آپ دین کے معاملے میں بڑے سخت تھے جبکہ وہ لوگ اس بات کو ناپسندکرتے تھے آپکو غیبی طاقت حاصل تھی جس کی وجہ سے آپ مختلف امور کو سر انجام دیتے تھے اور اکثر اوقات آپ کو خواب میں ایک شخص دکھائی دیتا جو آپ کو مشورہ دیتا کہ فلاں کام کرو۔<br />
نبی کریم ﷺ کے والد ماجد بھی حضرت عبدالمطلب کے طریقہ پر کار بند تھے اور آپ کی زندگی کا یہ نصب العین تھا کہ حرام کھانے سے موت بہتر ہے نبی کریمﷺ قبل از بعثت بھی قریش میں امین کے لقب کے مشہور تھے ۔ آپ کی زندگی بڑی پاکیزہ اور عبادت و زہد سے عبارت ، اور خالص فکر و روحانیت کا مرقع تھی۔ اسی حالت پر آپ نے ایام شباب گزارے ۔ لیکن آپ اپنے ہم عمروں کی طرح کھیل کو د میں مشغول نہ ہوتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت سے ان چیزوں سے محفوظ رہے ۔ اور وہ قبل از نزول وحی بھی دنیا و ما فیها کو ترک کر کے غار حراء میں عبادت کیلئے تشریف لے جاتے ہیں اور جب تنہائی میسر ہوتی، تو کائنات میں غور و فکر کرتے وسیع و عریض ریگستان اور بلند و بالا پہاڑوں، نیلگوں آسمانوں میں چمکتے ہوئے ستاروں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور کبریائی کا مشاہدہ کرتے کیونکہ یہ تمام چیزیں خالق کائنات کی طرف دلالت کرتی تھیں۔ اس لیے آپ ان کے مشاہدہ میں اس قدر مستغرق ہو جاتے کہ اہل مکہ کہنے لگے<br />
ان محمدا قد عشق رَبَّةبے شک محمد اللہ اپنے رب کے عاشق ہو گئے ڈاکٹر محمد حسین حیکل اپنی کتاب &#8221; حیات محمد &#8221; میں رقمطراز ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب غار حراء میں تنہا ہوتے تو کائنات کی حقیقت میں غور و تدبر کیا کرتے ۔ تو آپ کو طمانیت قلبی حاصل ہوتی اور آپ کا میلان خلوت کی طرف ہونے لگا غار حراء شمال مکہ میں بلند پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہے جو کہ خلوت اور عبادت کا بہترین مقام ہے آپ ہر سال رمضان شریف میں اس غار میں آرام فرماتے اور قلیل زاد راہ اپنے ساتھ لے جاتے معرفت خداوندی کے حصول میں دنیا کے شور و غل سے الگ تھلگ رہنا آپ کا مقصد حیات تھا۔ اور بعض اوقات معرفت خداوندی کی طلب میں استغراق اس حد تک بڑھ جاتا کہ کھانا پینا اور دیگر دنیاوی مشاغل بھول جاتے اس طرح تقریبا چھ مہینے بیت گئے ایک دن آپ غار حراء میں شریف فرماتھے کہ ایک فرشتہ آیا جس کے ہاتھ میں ایک صحیفہ تھا اس نے کہا &#8221; اقراء &#8221; غار حراء میں حضور نبی کریمﷺ کا سلسلہ عبادت و ریاضت ایک حقیقی صوفی کے لئے کامل نمونہ ہے خالق کا ئنات کی عظمت و کبریائی میں غور و فکر منازل سلوک کی بنیاد ہے فرق صرف اتنا ہے کہ حضور ﷺ نبی تھے۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ صوفیائے کرام آپ کی سنت کے متبعین ہیں تصوف ابتداء طہارت عبادت اور زہد سے عبارت ہے پھر کشف فیض الہی اور تجلیا ت الہی کا درجہ ہے بعد ازاں وصال بالحق کی منزل ہے۔ مروی ہے کہ نبی کریم ﷺکام پر بعض اوقات ایسی حالت طاری ہو جاتی جو وجد کے مشابہ ہوتی انسان وجد کی حالت میں اپنی ذات اور اردگرد کے ماحول<br />
سے بے خبر ہو جاتا ہے۔<br />
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اسی حالت میں تھے کہ سیدہ عائشہ &#8221; تشریف لائیں ۔ جب آپ نے ان کو دیکھا تو فرمایا کون؟ انہوں نے جواب دیا میں عائشہ ! آپ نے دوبارہ پوچھا کون عائشہ ؟ انہوں نے عرض کیا ابو بکر صدیق کی بیٹی لیکن حضور نے پھر سوال کیا۔ کون صدیق ؟ جواب میں عرض کیا محمد کے سسر لیکن نبی پاک ﷺ نے دریافت فرمایا کون محمد ؟ تو وہ خاموش ہو گئیں کیونکہ انہیں معلوم ہو گیا تھا ۔ کہ حضور ﷺ عام حالت پر نہیں ہیں اگر یہ قصہ صحیح ہو تو صوفیائے کرام پر وارد ہونے والے وجد ، سکر اور فنا پر قوی دلیل ہے۔</p>
<h2>اسراء و معراج</h2>
<p>اپنی ذات سے بے خبری کا سلسلہ یہیں منقطع نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق ایسے عظیم واقعہ ہے سے ہوتا ہے جس کا اسلامی روحانی تاریخ سے گہرا تعلق ہے۔ اس سے مراد قصہ اسراء و معراج جس کا تفصیلی ذکر قرآن مجید اور کتب احادیث میں موجود ہے مروی ہے کہ حضورﷺ معراج کی رات حضرت ام ھانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے۔ وہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺنماز عشاء ادا کرنے کے بعد استراحت فرما ہو گئے تو ہم بھی سو گئے فجر سے پہلے میں نے حضور ﷺ کو جگایا ۔ تو آپ نے نماز فجر ہمارے ساتھ ادا فرمائی اور ارشاد فرمانے لگے اے ام ہانی ! رات عشاء کی نماز اس وادی میں تمہارے ساتھ ادا کی ۔ پھر بیت المقدس پہنچا۔ وہاں نماز پڑھی اور پھر نماز صبح تمہارے ساتھ ادا کی ام ھانی نے عرض کی کہ یہ واقعہ لوگوں کو نہ بتائیں وہ آپ کی بات کو تسلیم نہیں کریں گے بلکہ الٹا تکلیف اور اذیت پہنچائیں گے تو آپ نے ارشاد فرمایا &#8221; قسم بخدا میں انہیں ضرور بتاؤں گا۔<br />
اسراء و معراج میں اختلاف ہے کہ روح کے ساتھ تھا یا روح وجسد دونوں کے ساتھ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمان کی طرف بالروح تھا۔ بعض کا کہنا ہے کہ اسراء و معراج دونوں بالجسد تھے جبکہ فریق ثالث کہتا ہے کہ اسراء معراج آپکی روح کو ہوا نہ کہ آپ کے جسد مبارک کو ۔<br />
اسراء بالجسد کی رائے کے قائلین نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ حضورﷺنے فرمایا کہ انہوں نے دوران اسراء صحراء اور بہت سی چیزوں کا مشاہدہ فرمایا اور اسراء بالروح کی رائے رکھنے والوں کی رائے وہ روایت ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا&#8221; سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا جسد اطہر تو موجود رہا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو معراج کرائی۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ان میں سے کونسا قول اصح ہے ہم صرف اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ اسراء بالروح کا قول اگر صحیح ہو تو یہ حضور کی روح مبارک کے انتہائی لطیف ہونے اور قلب اطہر کے شفاف ہونے میں بہت بڑی دلیل ہے اور ایسی عظیم قوت پر دلالت کرتی ہے جس کی وجہ سے آپ ملکوت ارض سماء کی سیر فرماتے اور تمام کائنات میں موجود حقائق ، علوم اور دقائق غیبیہ کا احاطہ فرماتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قلب اطہر سے غم کو دور فرما دیا تھا تمام حجابات ہٹا دئیے تھے صوفیائے کرام کے مشاہدات مکاشفات اور فیوضات کے لئے یہی دلیل کافی ہے۔ صوفیائے کرام بھی عالم شہود سے عالم ملکوت کی طرف ترقی فرماتے ہیں کیونکہ ارواح و قلوب بھی بہت سے علوم اور معارف کا احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان تمام امور کا تعلق اسراء بالروح سے ہے۔</p>
<p>تصوف اور روحانیت کے سلسلہ میں ارشادات نبویہ :<br />
حضور ﷺ کی احادیث طیبہ اور اقوال صحابہ میں تعلیمات تصوف کا واضح طور پر ذکر موجود ہے آپ نے ایک دن حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا اے ابو ہریرہ کیا میں تمہیں دنیا اور مافیھا نہ دکھاؤں ؟ انہوں نے عرض کی ضرور یا رسول اللہ اور فرماتے ہیں کہ میرا ہاتھ پکڑ کر مدینہ طیبہ کی ایک دادی میں لے گئے۔ وہاں دیکھا کہ گندگی کا ایک ڈھیر پڑا تھا۔ جس میں کچھ کھوپڑیاں اور بوسیدہ ہڈیاں اور دوسری گندگی پڑی ہوئی تھی۔ تو آپ نے ارشاد فرمایا اے ابو ہریرہ یہ سب تمہاری طرح لالچی تھے اور تمہاری طرح آرزو ئیں کرتے تھے آج یہ بغیر جلد کے ہڈیاں ہیں پھر کچھ عرصہ بعد خاک ہو جائیں گے ۔ اور یہ &#8220;گندگی&#8221; وہ کھاتے ہیں جن کو تم نے کھایا ۔ نہ جانے کہاں سے کمایا ۔ پھر پیٹوں میں ڈال دیا۔ اب ان کی یہ حالت ہے کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں یہ پھٹے پرانے چیتھڑے ان کا لباس اور باعث زینت تھے ۔ اب ہوائیں انہیں اڑاتی پھرتی ہیں اور یہ ان کے چوپاؤں کی ہڈیاں ہیں جن پر وہ دور دراز کا سفر کرتے تھے پس جو دنیا پر روتا ہے اسے چاہیے کہ وہ روئے دنیا کی یہ تصویر کشی نبی کریم ﷺ نے اس حدیث پاک میں فرمائی اور حضور ﷺکے نزدیک بھی دنیا کی یہی حیثیت ہے پس اس دنیا کو جو پسند کرتا ہے کرتار ہے اور جو آخرت اور معرفت الہی کا طالب ہے اس کے لیے راستہ بالکل واضح ہے۔<br />
نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک آدمی نے ہدیہ پیش کیا۔ آپ اس کیلئے بر تن تلاش کرنے لگے ۔ تاکہ اس کا برتن خالی کر کے واپس کر دیں۔ لیکن کوئی برتن نہ مل سکا تو آپ نے ارشاد فرمایا ! اسے زمین پر ہی رکھ دیں پھر اس سے کچھ حصہ تناول فرمایا ۔ اور ارشاد فرمایا ! میں ایسے ہی کھاتا پیتا ہوں ۔ جس طرح ایک عام انسان کھاتا ہے اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ بھی عطا نہ کرتا۔ یہ دنیا جس کی قدر مچھر کے پر سے بھی کم ہے یہ ایک وسیلہ ہے منزل مقصود نہیں ۔ پس جو انسان منزل مقصود سے منہ پھیر کر اس وسیلہ سے دل لگا لیتا ہے اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر ثبت کر دی۔<br />
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے میرا دنیا کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ میری اور دنیا کی مثال اس مسافر کی طرح ہے جو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تھوڑا سا آرام کرتا ہے اور پھر اس جگہ کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور ارشاد فرمایا کہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی سمندر میں انگلی ڈالے پھر نکال کر دیکھے کہ کتنا پانی اس کے ساتھ نکلتا ہے۔<br />
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور آپ نے دیکھا کہ آپ ﷺسخت چٹائی پر آرام فرما ہیں جس کی وجہ سے آپ کے جسم مبارک میں نشان پڑ گئے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ منظر دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عمر کیوں روتے ہو؟ آپ نے عرض کی کہ قیصر و کسری تو ریشم اور استبرق پر آرام کریں۔ اور آپ اس چٹائی پر۔ یہ بات سن کر آپ جلال میں آگئے۔ اور فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ۔ کہ قیصر و کسری دنیا کے مزے لوٹیں اور ہم آخرت کی سعادت پائیں۔<br />
نبی کریم ﷺ کا اخلاق اور دین دنیاوی فکر پر مبنی نہیں تھا۔ بلکہ آپ کااخلاق اور دین عبادت تواضع پر مبنی تھا۔ اور دنیاوی زیب و زینت سے اعراض پر مبنی تھا۔ صوفیائے کرام بھی انہی اصولوں پر کار بند تھے ۔<br />
ارشاد نبوی ہے: &#8221; درہم و دینار اور کپڑے پر فریفتہ ہلاکت اور تباہی سے دوچار ہوا<br />
ان احادیث کی روشنی میں ہم نبی کریم ﷺکی اس دعاء کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ہمیشہ آپ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے<br />
اَللّٰھُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَّ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَّاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ اے اللہ مجھے حالت مسکینی میں زندہ رکھنا مسکینی میں موت دینا اور مساکین کے ساتھ میرا حشر کرنا۔<br />
یہ بڑی عظیم دعا ہے جس کو سید الانبیاء ﷺ نے پسند فرما کر اپنے لیے منتخب فرمایا ۔ آپ نے دنیا و آخرت میں مساکین کی معیت کو پسند فرمایا ۔ یہاں مسکین سے مراد ضعیف اور گھٹیا نہیں بلکہ اس سے مراد مطیع اور پرہیز گار اور دنیا سے اعراض کرنے والا ہے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول الله ﷺ مجھے نصیحت فرمائیں آپ میں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو۔ اور اپنے آپ کو بزرگوں میں شمار کرو۔ یہ نصیحت بڑی عظیم اور معنی خیز ہے اس لیے اپنی جان کو محفوظ رکھو کیونکہ گناہوں کی کثرت کا مصدر انسان ہی ہے۔<br />
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ نجات کیا ہے ؟ تو آپ ﷺنے فرمایا اپنی زبان کو لگام دو گھر میں رہو ۔ اور اپنی خطاؤں کے اوپر روؤ ۔ یہ حضور ﷺ کے فضائل و شمائل ہیں ۔ صوفیاء کرام نے انہی کو مشعل راہ بنایا اور انہی پر گامزن رہے۔</p>
<h2>احوال و مقامات</h2>
<p>احوال و مقامات کا آغاز<br />
صوفیائے کرام کے قلوب پر مختلف قسم کے معانی و خواطر کا ورود ہوتا رہتا ہے اصحاب تصوف اور سالکین اس بات پر متفق ہیں کہ ان میں بعض کو احوال کا نام دیا جائے اور بعض کو مقامات کا یہی اوصاف واحوال جب ثابت ہو جائیں اور سالک کی زندگی کا لازمی جز بن جائیں تو ان کو مقام کہتے ہیں ۔<br />
امام غزالی فرماتے ہیں کہ یہ سونے کی زردی کی مثل ہے جو ہمیشہ باقی رہتی ہے زائل نہیں ہوئی لیکن اگر یہی چیز عارضی اور سریع الزوال ہو ۔ تو اس کو حال کہتے ہیں اور یہ اس زردی کی مانند ہے جو خوف کے وقت طاری ہوتی ہے یا وہ پیلے پن کی مانند ہے جو بحالت بیماری لاحق ، اور بحالت صحت زائل ہو جاتی ہے ۔ ان مقامات کے حصول کیلئے انسان کو ، نفس اور شیطان کے وسوسے سےبچنے کیلئے مجاہدے کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ ابو نصر طوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ مقام کا معنی بندے کا اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عبادات ، مجاہدہ اور ریاضت کا بجالانا ہے ۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ(ابراهیم : 14)<br />
ترجمہ: &#8221; یہ اس کیلئے ہے جو میرے حضور کھڑا ہونے سے ڈرے اور میں نے جوعذاب کا حکم سنایا ہے اس سے خوف کرے &#8221;<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامُ مَّعْلُومٌ (الصافات : 164)<br />
ترجمہ: اور فرشتے کہتے ہیں کہ ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے۔<br />
امام طوسی&#8221; کے نزدیک مقام سے مراد وہ شے ہے جو بندے کو تو بہ زہد اور ورع سے حاصل ہوتی ہے ۔ امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ مقام سے مراد ادب کی وہ منزل ہے جو محنت مشقت اور تکالیف برداشت کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ احوال من جانب اللہ عطا ہوتے ہیں اور مقامات محنت و مشقت ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام قشیری اپنے استاد امام طوسی کے ساتھ متفق ہیں کہ انسان کو مقام ، محنت و مشقت سے حاصل ہوتا ہے کوشش اور عمل پیہم کے بغیر یہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ سالک کسی مقام کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنے نفس کو ہر اس چیز سے پاک نہ کر دے جو اس کو اپنے رب سے غافل کر دے اور دل کو غیر اللہ سے خلاصی دلا دے جب بندہ تزکیہ نفس اور تصفیہ، قلب پر دوام اختیار کرتا ہے ۔ تو وہ بہت سے مقامات طے کرتے ہوئے معرفت الہی تک رسائی حاصل کر لیتا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ توفیق ربانی کے ساتھ ساتھ بندے کا محنت اور کوشش کرنا مقام کہلاتا ہے۔<br />
امام شہاب الدین سہروردی فرماتے ہیں کہ صوفیائے کرام میں اس بات کا چر چا ہے کہ مقامات محنت اور کوشش سے حاصل ہوتے ہیں اور احوال عطاء خداوندی ہے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ &#8221; مقام &#8221; انسان کو زہد تو بہ &#8221; تقوی اور ورع سے حاصل ہوتا ہے ان کا خیال ہے کہ حال کا درجہ مقام سے پہلے ہے حال رفتہ رفتہ مقام کی صورت اختیار کر لیتا ہے ان کے نزدیک بندہ مقام کو اس وقت حاصل کرتا ہے جب مجاہدہ نفس پر دوام حاصل کرلے اور اپنے قلب و نفس کو دنیاوی مشاغل سے باز رکھے ۔ اپنے رب کے ذکر پر دوام اور مامورات پر عمل پیرا ہو۔ توکل اور اس کی قضا پر راضی اور مصائب پر صابر رہے نبی کریمﷺ کی اطاعت کرے اور آپ کی سنت کو لازم سمجھے، تو اس پر تجلیات الہیہ کا ظہور اور عنایات ربانیہ کا نزول ہوتا ہے اس وقت وہ مقام میں رسوخ حاصل کر لیتا ہے۔</p>
<h2>حال</h2>
<p>ابو نصر طوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں &#8221; حال سے مراد وہ کیفیت ہے جو دل پر وارد ہوتی ہے یا وہ کیفیت ہے جس کا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے جس کی وجہ سے صاحب حال کو ذکر و اذکار میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حال سے مراد وہ کیفیت ہے جو دلوں پر طاری ہوتی ہے لیکن دائمی نہیں ہوتی۔<br />
امام قشیری رحمۃ اللہ تعالیٰ ، علیہ فرماتے ہیں &#8221; حال وہ معنی ہے جو دلوں پر وارد ہوتا ہے اور صاحب دل کے کسب ، قصد اور محنت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا ۔<br />
عارف بالله احمد ابن عجیبہ حسنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں &#8220;مجاہدے میں جسم کی حرکت کو اعمال ، محنت و مشقت میں حرکت : قلب کو احوال اور سکون قلب کو مقامات کہتے ہیں &#8221; ۔<br />
امام سہروردی حقیقت حال کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں حال کو اس لئے حال کہا جاتا ہے کیونکہ یہ تغیر پذیر ہوتا اور مقام کو اس لئے مقام کہتے ہیں کیونکہ اس میں دوام اور ثبوت ہوتا ہے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں &#8221; احوال وہ عطایائے خدا ندوی ہیں جن کیلئے محنت اور کسب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ پاکیزہ دل والوں کو حاصل ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ احوال عطایائے خداوندی ہیں جو دائمی نہیں بلکہ تغیر پذیر ہیں ۔ اس لئے کسی بزرگ نے فرمایا ہے کہ حال اپنے نام کی طرح ہے یعنی جیسے ہی دل میں وارد ہوتا ہے ایسے ہی زائل ہو جاتا ہے۔<br />
لَوْ لَمْ تَحُلْ مَا سُمِّيْتَ حَالًا وَكُلُّ مَا حَالَ ‌فَقَدْ ‌زَالَا<br />
ترجمہ : اے حال ! اگر تو تغیر پذیر نہ ہوتا تو تیرا نام حال نہ رکھا جاتا اور ہر وہ چیز جو تغیر پذیر ہے زائل ہو جاتی ہے &#8221;<br />
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا<br />
خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ<br />
ترجمہ : بہترین ذکر ذکر خفی ہے ۔<br />
کہا گیا ہے کہ حال سے مراد ذکر خفی ہے ۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حال ، مقام سے مقدم ہے مقام کیلئے حال کا پایا جانا ضروری ہے اور حال جب دوام اور استقرار کی صفت سے مزین ہو جائے تو مقام بن جاتا ہے امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کو تو بہ زہد، تجرید اور خوف ورجاء میں سے بہت سے احوال و مقامات حاصل تھے لیکن آپ کی توجہ ان سے اعلی مقامات اور درجات کی طرف تھی۔ عنایات ربانیہ اور توجہات الہیہ سے آپ کو یہ تمام درجات حاصل ہوئے اور آپ عبد مخلص کے کے مقام پر فائز ہو گئے جس کا مطلوب و مقصود صرفذات باری تعالیٰ ہوتا ہے۔</p>
<h2>مقام تو بہ</h2>
<p>اللہ جل مجدہ نے ارشاد فرمایا :-<br />
‏‏وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ(النور : 31)<br />
ترجمہ: اور اللہ کی طرف تو بہ کرو اے مسلمانو !سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔<br />
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا<br />
‌النَّدَمُ تَوْبَةٌ<br />
ترجمہ: ندامت ہی توبہ ہے۔<br />
ابو یعقوب موسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں &#8221; مقامات طریقت میں پہلا مقام تو بہ ہے ۔ امام سوسی سے تو بہ کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا تو بہ ہر اس چیز سے رجوع کا نام ہے جو قابل مذمت ہو ۔ سہل بن عبد الله تستری رحمۃ اللہ علیہ نے توبہ کے متعلق سوال پر فرمایا<br />
تیرا اپنے گناہوں کو نہ بھولنا تو بہ ہے &#8221; شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ نے فرمایا تو یہ گناہ کو بھولنے کا نام ہے۔ امام طوسی فرماتے ہیں کہ شیخ سوسی نے توبہ کے متعلق جو بیان کیا ہے اس سے مراد ابتدائی مریدین اور سالکین طریقت کی تو بہ ہے کیونکہ مبتدین کی تو بہ پختہ نہیں ہوتی اس لیے سہل بن عبد الله تستری رحمۃ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ گناہ کو نہ بھولنے کا نام تو بہ ہے اور جنید بغدادی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تو بہ گنا ہوں کو بھولنے کا نام ہے تو یہ محققین کی تو بہ ہے کیونکہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کی عظمت غالب ہوتی ہے اس لیے وہ گناہوں کو یاد نہیں کرتے۔ عربی زبان میں توبہ کا معنی &#8220;لوٹنا&#8221;. ہے کہا جاتا ہے &#8220;تاب فلان &#8221; فلاں آدمی لوٹا اور تو بہ ہر اس چیز سے رجوع کا نام ہے جو شرع میں مذموم ہو ۔<br />
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں &#8220;ستار العیوب اور علام الغیوب کی طرف رجوع کر کے گناہوں سے تو بہ سالکین طریقت کی ابتداء منزل تک پہنچنےوالوں کا سرمایہ اور مریدین کا پہلا قدم ہے ؟ امام سہروردی رحمۃ اللہ علیہ امام غزالی رحمۃ اللہ کے ساتھ اس بات میں متقق ہیں کہ تو بہ ہر مقام کی اصل اور ہر حال کا سہارا اور ہر خیر کی چابی ہے اور یہ مقامات طریقت میں سے سب سے پہلا مقام ہے اور یہ عمارت کیلئے زمین کے قائم مقام ہے.<br />
تو بہ اور توبہ کے آثار و نتائج<br />
(1)ظاہری گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے یعنی زیادتی ظلم اور غضب وغیرہ سے<br />
(2) اسی طرح باطنی گناہوں سے بھی چھٹکارا حاصل ہوتا ہے اس سے مراد حقد ، حسد ، بد خلقی وغیرہ ہے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تو بہ سالک کے لئے ایک نئی چیز ہے اس سے بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے، اور اپنے قلبی خواطر کی طرف توجہ دیتا ہے اور خواب غفلت سے بیدار ہوتا ہے جب بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور ہرشے سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کی روح صاف اور دل پاکیزہ ہو جاتا ہے اس کی بصیرت کی آنکھ روشن ہو جاتی ہے اور وہ اپنے رب کے نور سے روشنی حاصل کر کے اپنے مولی کی معرفت حاصل کر لیتا ہے اور یہ مقامات طریقت میں پہلا مقام ہے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تو بہ کا ضابطہ یہ ہے کہ ہر اس چیز سے رجوع کرنا جو مذموم ہے اس چیز کی طرف جو شرعاً محمود ہو یعنی پہلے کبائر سے پھر صغائر سے پھر مکروہات سے پھر نیکیوں میں ریاء سے اور پھر اس گمان سے تو بہ کرنا کہ اس کا شمار زمانہ کے فقراء میں ہوتا ہے ۔<br />
ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عوام کی تو بہ گناہوں سے اور خواص کی تو بہ غفلت ہے ۔<br />
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں &#8221; میں نے محمد بن احمد اور انہوں نے عبد الله بن محمد تمیمی سے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ گناہوں اور غفلتوں سے تو بہ کرنے والوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں ” مرید صادق دن رات اپنی حرکات و سکنات پر کثرت سے استغفار کرتا ہے اور اس کے لئے برابر ہے کہ وہ جانے کہ اس نےگناہ کیا ہے کہ نہیں ۔<br />
اللہ جل مجدہ نے فرمایا ۔<br />
وَ الَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً اَوۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسۡتَغۡفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمۡ وَ مَنۡ یَّغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللّٰہ۟ وَ لَمۡ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ( آل عمران : 135)<br />
ترجمہ : اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے اور اپنے کئےپر جان بوجھ کر اڑ نہ جائیں ۔<br />
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔<br />
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (ھود:112)<br />
ترجمہ: تم قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے<br />
اللہ تعالیٰ نے آپ کو استقامت کا حکم فرمایا اور آپ کو اپنی امت سمیت تو بہ کا حکم فرمایا ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں تو بہ میں استقامت اور اس کے سچے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ بندہ اپنے دل میں ایسی لذت پائے جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ اور جو انسان تو بہ کے بعد اپنے دل میں لذت نہیں پاتا وہ جھوٹا ہے اسے چاہیے کہ وه از سر نو تو بہ کرے کیونکہ توبہ کا دروازہ ہر وقت ہر ایک کے لئے کھلا ہے ؟ امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ شیخ ابو علی دقاق سے روایت کرتے ہیں کہ کسی مرید نے تو بہ کی پھر کچھ عرصہ بعد گناہوں میں ملوث ہو گیا پھر ایک دن سوچنے لگا کہ اگر وہ دوبارہ توبہ کرے تو کیا اس کی توبہ قبول ہو گی ۔ غیب سے نداء آئی ۔ تو نے ہماری اطاعت کی تو ہم نے تیری اطاعت کو قبول کر لیا پھر جب تم نے ہمیں چھوڑ دیا تو ہم نے تمہیں مہلت دے دی ۔ اور اگر اب پھر ہماری بارگاہ میں تو بہ کرو گے تو ہم قبول کر لیں گے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ بھی اس روایت کی تائید کرتے ہیں۔ اور توبہ کرنے والے کو مژدہ جانفزا سناتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔<br />
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً ( الزمر:53)<br />
ترجمہ :۔ اے میرے وہ بندو !جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے ۔<br />
امام شعرانی کے نزدیک تو بہ از سر نو اسلام لانا ہے اور اسلام ما قبل گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اس طرح حقیقت تو بہ میں ایک نئی بات کا اضافہ کرتے ہیں اور اس جدید بات سے مرید کو ہر اس بات سے دور کرتا ہے جو اس کو اپنےرب سے غافل کر دے۔ تاکہ وہ کسی حالت میں اپنے رب سے غافل نہ ہو ۔ تو بہ کرنے والا اپنے رب کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے جب تو بہ صحیح ہو تو انابت صحیح ہو جاتی ہے۔<br />
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں &#8221; جب بندہ سچے دل سے توبہ کر لیتا ہے تو منیب بن جاتا ہے کیونکہ انابت تو بہ کا دوسرا درجہ ہے &#8221; ابو سعید قرشی فرماتے ہیں کہ منیب وہ ہوتا ہے جو ہر اس چیز سے رجوع کرے جو اسے اپنے رب سے غافل کر دے ۔<br />
بندے کا اپنے تمام احوال میں رب کی طرف رجوع کرنا تو بہ ہے۔ اپنے ہر ہر سانس میں اور دل کی ہر ہر دھڑکن میں رب کو یاد کرتا ہے اور اسے نہیں بھولتا۔ جب بندہ اس مقام کو حاصل کرلے تو اسے مقام زہد حاصل ہوتا ہے کیونکہ تو بہ نفس کو پاک کرتی ہے دل کے آئینہ کو جلا بخشتی ہے ۔ سالک دنیا کے فساد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے اس لیے اس کو زہدحاصل ہو جاتا ہے اور جس کے پاس زمین ہی نہ ہو عمارت کیسے تعمیر کرے گا۔ اسی طرح جس کی تو بہ نہ ہو ۔ اس کا نہ کوئی حال ہے اور نہ مقام ۔ وہ کہتے ہیں کہ ابتداء میں توبہ کو کچھ امور کی ضرورت ہوتی ہے انہی امور میں سے نفس کو زجر و توبیخ کرنا ہے اور یہی نفس کی کنجی ہے اور دوسرا امراحتیاط اور بیداری ہے ابو داؤد نے فرمایا بیداری کی پانچ علامتیں ہیں۔<br />
جب اپنی ذات کا ذکر آئے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرے اور جب اپنے گناہوں کو یاد کرے تو استغفار کرے جب دنیا کا ذکر کرے تو اس سے عبرت حاصل کرے اور جب آخرت کا ذکر آئے تو شاداں و فرحاں ہو جائے اور جب مولا کا ذکر آجائے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں ۔<br />
امام شعرانی کے نزدیک تو بہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے اکثر احوال میں اپنے دل کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تاکہ اپنے رب اور نفس سے غافل نہ ہو جائے تو بہ کا یہ کمال ہے کہ شب و روز کے کیے ہوئے گناہوں کو وہ اس طرح حرف غلط کی طرح نیست و نابود کر دیتی ہے جس طرح کلمہ شہادت شرک کو ختم کر دیتا ہے اور صوفیائے کرام کے نزدیک تو بہ ہر اس چیز سے رجوع کرنا ہے جو مذموم ہو۔<br />
یہ مومنین کی صفت ہے اور پہچان بھی اور پاکیزگی دل کا سامان کیونکہ مومن تو بہ کی وجہ سے اپنے دل کا محاسبہ کرتا ہے۔</p>
<h2>مقام زہد</h2>
<p>اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے !<br />
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللهِ خَيْرٌ (القصص: 80)<br />
ترجمہ: اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا ۔ خرابی ہو تمہاری اللہ کا ثواب بہتر ہے<br />
رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا &#8221; جب تم دیکھو کہ دنیا میں کوئی شخص زہد اور سلیقہ گفتگو سے بہرہ ور ہے تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ وہ حکمت کی تعلیم دے گا &#8221;<br />
قول ماثور ہے کہ جو دنیا میں چالیس دن زہد اختیار کرے اللہ تعالیٰ اس کے دل میں حکمت کے چشمے رواں کر دیتا ہے اور اس کی زباں کو حکمت کے ساتھ کھول دیتا ہے زہد کے بارے میں صوفیائے کرام اور علماء کرام کی بہت سی آراء ہیں ۔ ہر ایک اپنے مقام اور مشرب کے مطابق اس کی تعریف کرتا ہے<br />
امام طوسی کا قول<br />
زہد بڑا ہی عظیم مقام ہے اور یہ اعلیٰ مراتب اور پسندیدہ احوال کی بنیاد ہے جس کی بنیاد زہد میں محکم نہ ہو اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ دنیا کی محبت ہر خطا کی اصل ہے اور دنیا میں زہد ہر اچھائی اور خیر کی اصل ہے (کتاب اللمع ص 72)<br />
کسی بزرگ نے فرمایا<br />
صحابہ کرام یا کثرت صوم و صلوٰۃ سے ہی سبقت نہیں لے گئے بلکہ وہ دنیا میں زہد کے اعلی ترین مقام پر بھی فائز تھے<br />
جنید بغدادی کا قول</p>
<p>حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا زہد یہ ہے کہ تو دنیاوی املاک سے ہاتھوں کو خالی کر دے ۔ اور دل کو برے خیالات سے محفوظ کرے<br />
شیخ شیلی کا قول<br />
حقیقی زہد &#8221; دنیا میں موجود نہیں کیونکہ یا تو زہد اس چیز میں ہوگا جو اس کی اپنی نہیں، تو یہ زہد نہیں کہلاتا۔ یا اس چیز میں زہد اختیار کرے گا جو اس کی اپنی ہے۔ تو اس چیز میں زہد کیسے ہو گا جو اس کے پاس ہے۔<br />
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان<br />
فرماتے ہیں کہ دنیا سے اعراض اور آخرت کی رغبت کا نام زہد ہے۔ یا غیر اللہ سے اللہ کی طرف رجوع زہد کہلاتا ہے اور یہ زہد کا بلند ترین درجہ ہے ۔ حضور نبی کریم ﷺ کی حدیث امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کےاس قول کی موئید ہے<br />
آپ ا نے حضرت حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا &#8221; كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا حَارِثة؟ اے حارثہ ! تو نے کیسے صبح کی؟ قال اصْبَحْتَ مُؤْمِنًا حَقًّا ۔ عرض کی۔ میں نے خالص مومن ہونے کی حالت میں صبح کی۔ آپ ﷺ نے انتفصار فرمایا کہ ہر حق کی حقیقت ہوتی ہے۔ تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے ۔ انھوں نے عرض کی کہ میرا دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا ہے۔ میرے نزدیک سونا اور پتھر برابر ہیں۔ گویا کہ میں اہل جنت کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ ناز و نعم میں ہیں۔ اور اہل نار کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کو عذاب دیا جا رہا ہے ۔ گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کو ظاہر دیکھ رہا ہوں ۔ اس کیلئے میں نے راتیں قیام میں اور دن صیام میں گزارے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے حقیقت کو پالیا ہے پس اس کو لازم پکڑو ۔<br />
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کی حقیقت کا اظہار کیا اور دنیاسے اعراض کرنے کے ساتھ پھر یقین کو ایمان کے ساتھ ملا دیا ۔ حضور ﷺنے ان کی تصدیق فرمائی اور ارشاد فرمایا عبد نور الله قلبه حارثہ وہ بندہ ہے کہ اللہ نے جس کا دل نور (ایمان) سے منور اور تاباں کر دیا ہے۔<br />
جب نبی کریم سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد &#8221;<br />
فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ<br />
اور اللہ جسے راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔<br />
میں شرح کا معنی کیا ہے ؟<br />
ارشاد فرمایا اس سے مراد وہ نور ہے جو دل میں اتر جاتا ہے تو وہ کشادہ ہو جاتا ہے۔ اور کھل جاتا ہے۔ عرض کیا یا رسول اللہ اس کی کوئی علامت ہے؟ فرمایا ہاں، داری غرور (دنیا) سے پہلو تہی کرنا اور دار خلود (آخرت) کی طرف رجوع کرنا ہے۔ اور قبل از موت اس کی تیاری کرنا ہے۔<br />
اس حدیث پاک میں قابل غور بات یہ ہے حضور ﷺ نے زہد کو اسلام کے لئے شرط قرار دیا ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ کے نزدیک زہد کے تین مراتب ہیں :۔<br />
(1) پہلا مرتبہ = یہ ہے کہ بندہ حرام اور مشتبہات سے پہلو تہی کرے ۔ خالص حلال کی تلاش کرے ۔ پھر امام شعرانی سالکین کے لئے اپنے اس مقام زہد کو بیان کرتے ہیں جو انہیں اپنی زندگی میں پیش آیا۔ فرماتے ہیں کہ میں زہد کے اس مقام تک پہنچ چکا ہوں کہ اگر آسمان سونا بر سادے اور لوگ اپنی جھولیاں بھرنے لگیں تو میرا ایک بال بھی حرکت نہ کرے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ پر روز جزاء کا انتہائی خوف طاری تھا “ اسی طرح اگر میں سونے چاندی کے پہاڑوں سے گذروں تو ایک دن کی قوت لا يموت سے زیادہ ایک دینار بھی نہ اٹھاؤں ۔ لوگ مجھے سونا چاندی اور کپڑے پیش کرتے ہیں۔ کبھی تو میں انہیں لوٹا دیتا ہوں اور کبھی غرباء و مساکین کیلئے صحن میں پھینک دیتا ہوں ۔ فقراء و مساکین اس کو اٹھا لیتے ہیں فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک سونا ، مٹی، چاندی اور پتھر ، فقر و غنا اور<br />
منع و عطاء سب برابر ہیں<br />
(2) دوسرا مرتبہ : یہ ہے کہ انسان دنیا سے زہد اختیار کرے اور اس کو نا پسند کرے اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ہاں مبغوض ہے نہ کسی اور سبب سے یعنی راحت بدن یا تخفیف حساب ۔<br />
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی فرمائی اے داؤ د تم نے دنیا میں جو زہد اختیار کیا ہے تو یہ اپنے نفس کیلئے راحت کو جلد حاصل کیا ہے ؟ اور جو تو نے مجھے ہی مرکز التفات بنایا ہے اس کی وجہ سے تو میرے بندوں پر معزز ہو گیا ہے لیکن تم یہ بتاؤ کیا تم نے میرے کسی دوست یا کسی دشمن سے دشمنی کی ہے۔<br />
امام شعرانی رحمہ اللہ کے نزدیک جو شخص دنیا میں اخروی نعمتوں کے حصول کیلئے زہد اختیار کرتا ہے وہ کامل زاہد نہیں۔ کیونکہ اس نے فانی زندگی کے عوض باقی اور دائمی کو حاصل کر لیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سودے بازی کرلی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ خالص نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ اس وقت خالص ہوتا ہے جب دنیا اور آخرت کی کسی چیز کو اپنی ملک نہ سمجھے ۔<br />
(3) تیسرا مرتبہ :<br />
زہد کا تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ ماسوی اللہ کو ترک کر دے یعنی اللہ کے سوا ہر چیز سے زہد اختیار کرے دنیا کو کلیتا ترک کر کے اللہ کی بارگاہ میں رجوع کرے۔ اپنے ارادے اور اختیار کی نفی کرے ۔ اس کے نزدیک عزت اور ذلت ، شہرت و گمنامی مدح وذم بلندی و پستی برابر ہوں۔<br />
حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا &#8220;میں تمہیں حق بات کہتا ہوں کہ دنیا کی محبت ہر خطا کی اصل ہے اور مال بہت بڑی بیماری ہے ۔ حواریوں نے عرض کی کہ مال کی بیماری کیا ہے؟ فرمایا کہ اس کا حق ادا نہیں کیا جاتا۔ عرض کی کہ اگر اس کا حق ادا کر دیا جائے۔ فرمایا اس میں فخرو تکبر ہوتا ہے۔ عرض کی ، اگر اس میں فخر و تکبر نہ ہو ۔ فرمایا &#8221; مال کی مشغولیت ، بندے کو ذکر اللہ سے غافل کر دیتی ہے۔<br />
(4) چوتھا مرتبہ :<br />
زہد کا مرتبہ چہارم یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز کو ترک کر دے جو اس کو اپنے رب سے غافل کر دے ۔ اس کے پاس دنیا تو ہو لیکن اس کا دل اس کی طرف نہ ہو کیونکہ : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ. &#8221; کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر تیرے دل میں کسی چیز کی محبت نہ ہو ۔ نہ کہ تو اس مال کو بھی ترک کر دے جس کے ساتھ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی پرورش کر سکے ۔ کیونکہ یہ بات سلف صالحین کے عمل کے منافی ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو رزق حلال کی تلاش میں کوشاں رہتے ہیں لیکن ان کا دل دنیا کی طرف مائل نہیں ہوتا ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
رِجَالٌ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ (النور :37)<br />
ترجمہ : وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ کی یا د سے۔<br />
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں مسائل تجارت کو قابل ستائش گردانا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کی تجارت ان کو ذکر اللہ سے غافل نہیں کرتی۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ کے نزدیک زہد کا جو مفہوم ہے بعینہ وہی مفہوم شاذلیوں کے نزدیک ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب دل متاع دنیا کی طرف مائل نہ ہو تو فقیروں اور محتاجوں پر خرچ کرنے کیلئے سعی حصول مال ممنوع نہیں ۔<br />
عارف باللہ امام ابو الحسن شاذلی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں &#8220;دنیا میں زہداختیار کرنے والے کو دو مرتبہ ثواب ملتا ہے۔<br />
پہلا مرتبہ :<br />
جب وہ دنیا کی محبت کے باوجود اسے ترک کر دیتا ہے۔<br />
دوسرا مرتبہ :<br />
جب اس کو ترک کرنے اور اس کی محبت دل سے نکلنے کے بعد اسے دوبارہ پاتا ہے جب دنیا کو ترک کرتا ہے۔ تو اللہ کے حکم ہے۔ اور جب اسے اختیار کرتا ہے تب بھی اللہ کے حکم سے ۔ زبان معرفت اور حقیقت اسے مخاطب کرتی ہے۔ اے مومن تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے یہ میری دنیا ہے ۔ جس کو اپنی ذات اہل و عیال اور بھائیوں پر خرچ کرتا ہوں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اسے پھینک دو۔ وہ اسے پھینک دیتا ہے۔ اور یہ دنیا اس کے نزدیک رینگتے ہوئے سانپ کی مانند ہے ۔ جس طرح کہ حضرت موسی علیہ السلام کا عصا مبارک سانپ بن گیا تھا ۔ پھر دوبارہ مومن کو کہا جاتا ہے کہ اس دنیا کو اختیار کر لو اور نہ ڈرو جس طرح کہ حضرت موسی علیہ السلام کو واقعہ پیش آیا۔ تو مومن ان دونوں حالتوں میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔ اس میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔<br />
ان اہل طریقت کے نزدیک زہد دل سے دنیا کا خیال نکال دینے کا نام ہے۔ اس کے بعد اگر ان کے پاس متاع دنیا ہو تو یہ چیز ممنوع نہیں ۔ کیونکہ جب تک وہ دنیا میں ہے۔ اسے زندگی گزارنے کے لئے اس کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکے، دوسروں پر بوجھ نہ بنے۔ دنیا کی محبت اس وقت مذموم ہے ۔ جب نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہو ۔ اگر اللہ کی محبت سے کوئی اس سے محبت کرے تو قابل مذمت نہیں۔ بلکہ شرعاً محبوب ہے۔ اسی وجہ سے بعض اولیاء کرام مال سے بہت محبت کرتے ، تاکہ اللہ کی راہ میں اسے خرچ کریں ۔ نہ کہ اللہ کے بندوں پر بخل کریں ۔ کسی بزرگ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے ۔ کہ مال سے محبت اس لئے کرتا ہوں تاکہ لذت اطاعت الہی کا حصول ہو ۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
َ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا (الحديد : 18)<br />
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو۔<br />
اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب اہل ثروت اور اہل غنا کے لئے ہے ۔ امام سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں&#8217; زاہد جب اپنی مرضی اور ارادت سے زہد اختیار کرتا ہے تو اس کے ارادے کا تعلق اس کے علم سے ہوتا ہے حالانکہ اس کا علم کو تاہ ہوتا ہے۔ لیکن جب اس کو ترک ارادہ کے مقام پر لایا جاتا ہے تو اپنے اختیارات کو ترک کر دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ اس پر اپنے مقصد کا انکشاف کردیتا ہے تو وہ اللہ کے علم سے اسے ترک کر دیتا ہے نہ کہ نفس کے حکم ہے ۔ اس وقت اس کے زہد کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا مقصد و منشا یہی ہے کہ وہ دنیا کی کسی چیز سے وابستہ ہو جائے جب اس کا تعلق دنیا کی کسی چیز سے ہوتا ہے تو اس کے زہدمیں کمی واقع نہیں ہوتی۔ اسی طرح امام شعرانی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ایک ہی ہے، کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے آپ نے فرمایا ۔ &#8221; زہد کے تین درجات ہیں۔<br />
ترک حرام :-<br />
یہ عوام کا زہد ہے۔<br />
حلال اشیاء میں فضول کا ترک کرنا:<br />
اور یہ خواص کا زہد ہے<br />
رب سے غافل کرنے والی ہر چیز کا ترک کرنا:<br />
اور یہ عارفین کا زہدہے<br />
عارف بالله ابن عطا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:<br />
‌ترحل ‌عن ‌مقام ‌الزهد ‌قلبي. . . فأنت الحق وحدك في شهودي<br />
أأزهد في سواك وليس شيء. . . أراه سواك يا سر الوجودي<br />
(لطائف المنن )<br />
ترجمہ: &#8220;میرا دل مقام زہدسے کوچ کر گیا۔ میرے شہود میں فقط تو ہی ہے۔تیرے بغیر کسی چیز میں زہد اختیار کروں ۔ حالانکہ اے سرو جودا تیرے بغیر کوئی شے نظر ہی نہیں آتی۔<br />
جب بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو صوفیائے کرام کے نزدیک زہد در زہد کا مقام حاصل ہو جاتا ہے اور وہ اپنے ارادے اور اختیارات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اس کے نزدیک وجود دنیا اور اس کا عدم برابر ہو جاتے ہیں ۔ نہ وہ دنیا کی مذمت کرتا ہے اور نہ ہی وہ تعریف کرتا ہے ۔ جب اسے دنیا حاصل ہوتی ہے ۔ تو وہ خوش نہیں ہوتا اور جب دنیا اس سے منہ پھیر لے تو وہ غم نہیں کرتا۔ اس کا ارادہ تدبیر کے تابع ہو جاتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اختیار سے کسی چیز کو چاہتا اور اختیار کرتا ہے۔ تصفیہ ظاہر و باطن کے بعد بالآخر وہ مقام تجدید تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔</p>
<h2>مقام تجرید</h2>
<p>صوفیائے کرام کے نزدیک تجرید کی تین قسمیں ہیں۔ (1) تجرید ظاہر ۔ (2) تجرید باطن (3) تجرید ظاہر و باطن<br />
تجرید ظاہر<br />
اس سے مراد دنیاوی اسباب اور جسمانی فوائد کو ترک کرنا ہے ۔<br />
تجرید باطن :<br />
اس سے مراد نفسانی علائق اور وہمی رکاوٹوں کو ترک کرنا ہے ۔<br />
تجرید ظاہر و باطن :<br />
اس سے مراد باطنی علائق اور جسمانی لذات سے کنارہ کشی کرنا ہے۔</p>
<p>یا تجرید ظاہری کا مفہوم یہ ہے کہ ہر اس چیز کو ترک کرنا جو اطاعت خداوندی سے مانع ہو۔ تجرید باطن کا معنی یہ ہے ہر اس چیز کو ترک کرنا جو دل کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے روکے اور تجرید ظاہر و باطن کا مفہوم یہ ہے کہ دل اور جسم کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کر دیا جائے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، &#8220;مجھے تجرید باطن کا مقام حاصل ہو گیا ہے اور اللہ کے فضل و احسان سے دنیا کی کسی چیز کی خواہش باقی نہیں رہی ۔ اور نہ ہی کسی چیز کے ملنے پر افسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ کائنات کی کوئی شے میری ملکیت میں نہیں ۔ پس جس شخص کی یہ حالت ہو جائے وہ مقام تجرید پر فائز ہو جاتا ہے &#8221;<br />
جب بندہ دنیا سے قطع تعلقی کرے اور کلیتاً دل سے اس کا خیال نکال دے ۔ اور ترک دنیا پر اسے کوئی افسوس نہ ہو۔ اور یہ جان لے کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہے۔ وہی عطا کرتا ہے اور وہی محروم کرتا ہے ۔ اور اس کے قبضہ قدرت میں عزت و ذلت ہے ۔ جو بندہ اس کیفیت کو حاصل کر لے تو وہ مقام تجرید پر فائز ہو جاتا ہے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تجرید کے دو مرحلے ہیں ۔<br />
پہلا مرحلہ لباس ظاہری سے تجرید کا ہے ۔ لباس ظاہری سے تجرید کم فہم لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہے۔ کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ لوگ انہیں حقیر اور مجنوں کہیں گے۔ جیسا کہ ابتدائے مجاہدہ میں مجھے اس کا تجربہ ہوا ہے لیکن جب سالک اس مقام میں پختہ فکر ہو جاتا ہے اور اس کے نزدیک بھوک اورسیرشکمی ، لباس اور عدم لباس برابر ہو جاتا ہے تو لباس ظاہری سے تجرید آسان ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ اس کے لئے دونوں حالتیں برابر ہو جاتی ہیں۔<br />
دوسرا مرحلہ:<br />
دوسرا مرحلہ لباس ظاہری کو اختیار کرنے کا ہے امام شعرانی&#8221; فرماتے ہیں کہ لباس ظاہری کی تجرید کے بعد انسان ایک اور مقام کی طرف ترقی کر جاتا ہے ۔ جو کہ پہلے سے اعلی ہے ، اور وہ مقام اہل طریقت اور معرفت کی اتباع اور پیروی میں لباس ظاہری کو اختیار کرنا ہے ۔ کیونکہ اس سے سالک شہرت اور ریاء سے محفوظ رہتا ہے ۔ نبی کریم میں ﷺ کا ارشاد ہے ۔<br />
مَنْ ‌لَبِسَ ‌ثَوْبَ ‌شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ أَلْهَبَ فِيهِ نَارًا-<br />
(ابو داود ابن ماجہ)<br />
ترجمہ : &#8221; جس نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا ۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو آگ کا لباس پہنائے گا ۔ &#8221;<br />
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو لباس ظاہری سے تجرد کب حاصل کرنا چاہئیے ؟<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ اے سالک تجھے لباس ظاہری سے تجرد کا حق اس وقت تک حاصل نہیں ہو گا جب تک پہلے دل کو نفسانی خواہشات ، صفات مذمومہ ، علائق دنیوی اور شیطانی صفات سے پاک نہ کرے۔ اگر تو نے ایسا نہ کیا۔ تو تو ہلاکت کے گڑھے میں گر جائے گا۔ لیکن تجھے خبر تک نہ ہو گی ۔ پس مقام تجرید صفات مذمومہ اور شیطانی وساوس سے تطہیر کا نام ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ظاہر و باطن کو خالصتہ اللہ تعالیٰ کے لئے مختص کر دینا ہے۔ جب بندہ یہ مقام حاصل کر لیتا ہے تو مزید مجاہدے اور تصفیہ قلب سے مقام صدیقیت تک پہنچ جاتا ہے۔</p>
<h2>مقام صد یقیت و شہادت</h2>
<p>ارشاد باری تعالیٰ ہے:<br />
وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا ( مريم : 56)<br />
ترجمہ: اور کتاب میں ادریس کو یاد کرو بے شک وہ صدیق نبی تھے ۔ &#8221;<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے:<br />
وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ ٱلطَّعَامَ &#8211; (المائده : 75)<br />
ترجمہ: اور ان کی والدہ صدیقہ تھیں ، دونوں کھانا کھایا کرتے تھے ۔ &#8221;<br />
صدیقیت بھی مقامات طریقت کا ایک مقام اور مراتب ولایت کا ایک مرتبہ ہے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صد یقیت تمام منہیات کو ترک کرنے کا نام ہے ۔ جس نے تمام منہیات کو ترک کر دیا ۔ اور موت کو یاد رکھا۔ اور مرغوب اشیاء کو چھوڑ دیا ۔ درشتی طبع اور خواہشات نفسانیہ سے کنارہ کش ہوا۔ تو اسے استقامت حاصل ہو جاتی ہے۔<br />
شریعت اوا مر اور منہیات کا مجموعہ ہے۔ اوامر بندے کی تربیت کے لئے ہوتے ہیں ۔ تاکہ اس کے دل کے راستے کھل جائیں اور حجابات منکشف ہو جائیں اور اسے اپنے رب کا وصال حاصل ہو جائے۔ یہ اوا مر خالق انسان کی طرف سے &#8221; انسان کے لئے ہوتے ہیں۔ تاکہ اس کے راستہ کو واضح اور متعین کریں ۔ برائی کی نشاندہی اور رب تک پہنچنے کے لئے قریب ترین راستے کی نشاندہی کریں ۔ یہ اوا مر رب کی جانب سے زمین پر بسنے والی مخلوق کے لئے ہوتے ہیں۔ تاکہ وہ عزم و ہمت سے اس کائنات کی تعمیر کریں۔ اپنی عقل سے زندگی کے پہئے کو گھمائیں ۔ اور اپنی روح کے ذریعے معرفت الہی کو حاصل کر سکیں ۔ اس کے مقابلے میں شریعت کا دوسرا حصہ نواہی پر مشتمل ہے ۔ اور اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے اس سے تجاوز نہ کرے دین نے جن چیزوں سے منع اور دور رہنے کا حکم دیا ہے ۔ عقل انسانی کبھی تو آسانی سے اس کو قبول کر لیتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس نے ان حدود سے تجاوز کیا جن کو شریعت نے مقرر کیا ہے تو اس میں اس کا نقصان ہو گا۔ کیونکہ وہ چیز منطق، تجربہ اور لوگوں کے عرف کے مطابق ہوتی ہے کہ انسانی منطق تجربہ اور لوگوں کے عرف کے مطابق ہوتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی ہماری عقلیں اس حقیقت کو پانے سے قاصر ہوتی ہیں ۔ کہ انسانی منطق کے ذریعے کسی حقیقت تک پہنچ سکیں ۔ لیکن ہم پر یہ لازم ہے کہ شریعت نے ہمیں جس چیز سے منع کیا ہے ، اس سے منع ہو جائیں ۔ کیونکہ دین کا تعلق انسانی عقل سے نہیں بلکہ وحی الہی سے ہے۔<br />
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں۔ کہ اگر دین کا تعلق عقل سے ہوتا تو موزہ کے نچلے حصے پر مسح کرنا، اوپر والے حصے پر مسح کرنے سے اولی ہوتا لہذابندے پر واجب ہے کہ وہ استقامت پر قائم ہو کر اپنے رب کے حکم کو بجالائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :<br />
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ &#8211; (ھود :112)<br />
ترجمہ : &#8221; تم قائم رہو جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے&#8221;<br />
سب سے بلند مقام صدیقیت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا، آپ کو مقام تسلیم اور تصدیق سے وافر حصہ ملا اور حدیث پاک کی رو سے آپ پر خلت &#8221; کا اطلاق ہوا ۔<br />
اللہ تعالیٰ آخرت میں اخلاء پر تجلی فرمائے گا۔ اور وہ محمد ﷺ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے: حضور ﷺنے فرمایا کہ تمہاری مثال ابراھیم علیہ السلام کی طرح ہے ۔ &#8221; اس حدیث پاک میں جان، مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے سے جو مقام خلت حاصل ہوتا ہے اس کی طرف اشارہ ہے۔ ده مقام شہود جس کے حصول کے لئے امام شعرانی اعمال کے ذریعے حریص تھے ۔۔ اس سے مراد تمام اوامر کا بجا لانا ہے ۔ اور اس کا اطلاق دین کے تمام احکام پر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس مقام پر فائز ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجود اس کے کہ آپ تمام احکام الہی پر عمل پیرا تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے جاتے اور فرماتے: تم رسول اللہ ﷺ کے رازدان تھے۔ اور تم منافقین کی تعداد کو جانتے ہو ۔ دیکھو کہیں مجھ میں نفاق کی کوئی علامت تو نہیں ہے؟ اور اگر ہے تو ضرور بتاؤ۔ تو وہ عرض کرتے ۔ یا امیر المومنین میں آپ میں نفاق کی کوئی علامت نہیں پاتا۔ آپ فرماتے : دقت نظر سے دیکھو تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی رو پڑتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ رونے لگ جاتے ۔ اور اتنا روتے کہ غشی طاری ہو جاتی۔ حضرت حذیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی گفتگو کے اس انداز سے روتے لیکن حضرت عمر اس خوف سے روتے کہ کہیں ان میں نفاق کی علامت تو نہیں ۔ جس کا انہیں علم نہیں ہے ۔ قابل غور امر یہ ہے کہ انہیں رضائے خداوندی اور حصول جنت کی خوشخبری کا بھی علم تھا۔<br />
کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :<br />
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهَ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يا عونك تحت الشجرة (الفتح:18)<br />
ترجمہ : &#8221; بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے ۔ جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے۔<br />
اور وہ یقینا ان بیعت کرنے والوں میں تھے ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے نفس سے جہاد کیا۔<br />
اور مقام شہود و صدیقین پر متمکن ہوئے ۔ اور آپ پر ان مقامات کے آثار ظاہر ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے کھانے میں برکت ڈال دی۔ اور اپنے غیب کے خزانوں سے رزق عطا فرمایا۔ اور نامعلوم امور کا الہام فرمایا ۔ آپ جمادات کی تسبیح سنا کرتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت و رعایت حاصل تھی۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے :<br />
الَّا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُو يَتَّقُونَ -(یونس :62،63)<br />
ترجمہ :۔ سن لوبے شک اللہ تعالیٰ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پر ہیزگاری کرتے ہیں &#8221;<br />
اور صد یقیت کا تقاضا رضاء ہے ۔</p>
<h2>مقام رضا</h2>
<p>ارشاد باری تعالیٰ ہے :<br />
وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُؕ<br />
اللہ کی خوشنودی سب سے بڑھکر ہے ۔(التوبہ : 72)<br />
ذَاقَ ‌طَعْمَ ‌الْإِيمَانِ ‌مَنْ ‌رَضِيَ ‌بِاللهِ رَبًّا (مسلم ، ترمذی)<br />
ترجمہ :۔ اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہوگیا۔<br />
بھلائی رضائے الہی میں مضمر ہے۔ اگر تم اس مقام کو حاصل کر سکتے ہو تو کر لو ۔<br />
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ تمام تر بھلائی رضائے الہی میں مضمر ہے اگر تم اس مقام کو حاصل کر سکتے ہو توکر لو ور نہ صبر کا دامن تھامو<br />
امام ابو نصر سراج طوسی نے فرمایا &#8221; رضا انتہائی عظیم مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر اپنی پاک کلام میں کیا ہے۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے:<br />
رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوعَنْهُ<br />
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔<br />
رضا معرفت خدا کا سب سے بڑا ذریعہ اور دنیا کی جنت ہے ۔ رضا کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے بندے کا دل جھک جائے ۔ ابن عطاء سکندری فرماتے ہیں، &#8220;رضا سے مراد یہ ہے کہ دل کی نظر اللہ جل شانہ کے اختیار پر ہو۔ کیونکہ بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب اس کے لئے بہترین چیز کا انتخاب کرتا ہے۔ پس وہ اس پر راضی ہو جاتا ہے نفس جب اللہ سے راضی ہو جائے تو اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے ۔ اس کے حکم کی اطاعت کرتا ہے۔ اور اس کی ربوبیت پر مطمئن اور اس کی الوہیت پر مکمل اعتماد کرتا ہے ۔ اور اس کی قضاء و قدر کے سامنے سرتسلیم خم کر دیتا ہے ۔ امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ کہ عراق و خراساں کے صوفیاء کرام کا اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا رضا مقامات میں سے ہے یا احوال میں سے ؟ اہل خراساں فرماتے ہیں کہ رضا کا تعلق مقامات سے ہے۔ اور توکل کی انتہاء رضا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ رضا منجملہ ان امور سے ہے جن تک بندہ اپنے کسب کے ذریعے پہنچ سکتا ہے لیکن اہل عراق فرماتے ہیں کہ رضا احوال میں سے ہے اور بندے کے کسب کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ بلکہ دوسرے احوال کی طرح دل پر بھی وارد ہوتی ہے۔ ان دونوں اقوال میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ رضا کی ابتداء کب سے ہوتی ہے اس لئے یہ مقامات میں سے ہے۔ اور اس کی انتہا منجملہ احوال میں سے ہے۔ اور یہ اکتسابی نہیں ہے۔<br />
ذوالنورین مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ رضا کی تین علامات ہیں۔<br />
(1)قضا سے پہلے اختیار کو ترک کرنا۔ (2) قضا کے بعد کسی قسم کا افسوس نہ کرتا۔(3) مصائب میں حب الہی بڑھتے رہنا۔<br />
رابعہ عدویہ اور حقیقت رضا:<br />
امام غزالی احیاء العلوم میں فرماتے ہیں ، سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے رابعہ عدویہ کے پاس ایک دن فرمایا : اے رب : ہم سے راضی ہو جا۔ تو انہوں نے کہا<br />
تمہیں اللہ سے حیاء نہیں آتی ۔ کہ تم اس سے رضا کا سوال کرتے ہو۔ حالانکہ تم خود راضی برضا نہیں ۔ تو انہوں نے فرمایا: استغفر الله</p>
<p>حضرت جعفر بن سلیمان السبعی نے فرمایا : کہ بندہ رب سے کب راضی ہوتا ہے۔ تو رابعہ عددیہ نے جواب دیا ۔ بندہ اپنے رب سے اس وقت راضی ہوتا ہے۔ جب مصیبت میں ایسا خوش ہو جیسا وہ نعمت میں خوش ہوتا ہے ۔<br />
ابو سلیمان درانی کا قول بھی اس کا مؤید ہے۔ فرماتے ہیں ۔ کہ رضا یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ سے نہ جنت کا سوال کرے اور نہ نار جہنم سے پناہ مانگے ۔<br />
صوفیائے کرام کی ان آراء سے واضح ہو جاتا ہے کہ رضا ان کے نزدیک بندے کا اپنے آپ کو رب کے سپرد کر دینا اور اس کے ارادے کی مطلقاً اطاعت کرنا ہے۔ یعنی خالق زمین و آسمان اور مالک موت وحیات کی بارگاہ میں سر کو جھکا دینا اور فقر و غناء منع و عطاءدنیاوی زندگی اور اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رضا مقامات سالکین میں سے ایک مقام ہے اورسالک تین مراحل کے عبور کرنے کے بعد اس کو حاصل کرتا ہے۔<br />
پہلا مرحلہ :۔<br />
یہ اس وقت متحقق ہوتا ہے کہ جب بندہ اپنے اوپر ہونے والی مشکلات کو ظاہر نہ ہونے دے۔ کسی سے بھی شکایت نہ کرے ۔ چاہے دوست ہو یا دشمن ۔ اور ہر مصیبت پر راضی برضا ر ہے ۔ اور اسے رب قدوس کی نعمت شمار کرے ۔ اس لئے امام شعرانی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔ کہ بندے کے لئے ضروری ہے کہ تمام مصائب و مشکلات چھپائے ۔ اور کسی دوست دشمن کے آگے ظاہر نہ کرے ۔ اور حقوق کے سامنے شکوہ و شکایت نہ کرے ۔ اگرچہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
وَلَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَانَ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (الشوری: 43)<br />
ترجمہ : بے شک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔<br />
دوسرا مرحلہ: بندے کا پختہ یقین ہو کہ اس پر نازل ہونے والے مصائب ومشکلات تین صورتوں سے خالی نہیں ہیں ۔<br />
(1)یہ مصائب اس کے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں ۔ (2) کسی گزشتہ گناہ کی سزاہیں۔ (3) بلندی درجات اور نیکیوں میں اضافے کا باعث ہے ۔<br />
امام شعرانی اپنے ذاتی تجربہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے جسم پر پے درپے بہت سی تکالیف آئیں۔ میں نے ان تکالیف کو اللہ تعالیٰ کی نعمت خیال کیا۔ کیونکہ یہ تکالیف و مصائب اگر تو کسی گزشتہ گناہ کی سزا تھی۔ تو یہ بہتر ہے اور اگر یہ گناہوں کا کفارہ تھیں۔ تب بھی اچھا ہے ۔ اگر بلندی درجات کے لئے تھیں ۔ تو یہ بھی خیر ہے۔ اس طرح کوئی بھی آزمائش تین صورتوں سے خالی نہیں ۔ رابعہ عدویہ کا قول بھی اس کا مؤید ہے ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ بندے کو رضا کا مقام کب حاصل ہوتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جب بندہ مصیبت پر اس طرح خوش ہو جس طرح وہ نعمت پر خوش ہوتا ہے۔<br />
تیسرا مرحلہ : سالک کے لئے مصیبت اور نعمت دونوں برابر ہوں۔ کیونکہ وہ دونوں من جانب اللہ ہیں ۔ ارشاد خداوندی ہے<br />
قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّهِ (النساء :78)<br />
ترجمہ :۔ تم فرما دو سب اللہ کی طرف سے ہے۔<br />
حضرت رویم فرماتے ہیں۔ &#8221; رضا یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جہنم دائیں ہاتھ پر رکھ دے تو وہ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا سوال نہ کرے۔<br />
شیخ ابو الحسن نوری فرماتے ہیں۔ &#8220;رضا یہ ہے کہ قضا کے واقع ہونے پر بندےکا دل خوش ہو ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ جب میں مقام رضا پر فائز ہو گیا۔ مجھے اس بات کا یقین ہو گیا تھا۔ کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ اور ہر مصیبت کی کوئی نہ کوئی انتہاءوانجام ہے۔ کوئی چیز اس کے حکم کے بغیر آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔ آزمائش کے اوقات، عافیت میں تنگی کے اوقات فراخی میں اور فقر کے اوقات غنا میں تبدیل نہیں ہو سکتے۔ اگر میں مقام رضا کو حاصل کرنے سے عاجز رہتا۔ تو صبر کرتا اور کشادگی کا انتظار کرتا۔ یہاں تک کہ اس کا وقت مقرر آجاتا ۔<br />
حضرت یحیی بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ بھی اس قول میں امام شعرانی کے ساتھ متفق ہیں ۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ بندہ رضا کے مقام کو کب سے حاصل کرتا ہے ۔ فرمایا: اس وقت جب وہ چار اصولوں پر عمل پیرا ہو ۔<br />
(1) وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرے ۔ اے باری تعالیٰ ! اگر تو نے عطا کیا تو قبول کر لوں گا۔ (2) اگر منع کیا تو تب بھی راضی رہوں گا۔ (3) اور اگر تو نے اپنی بارگاہ میں دھتکار دیا ۔ تب بھی تیری ہی عبادت کروں گا۔ (4) اور اگر تو نے اپنی بارگاہ میں بلا لیا تو حاضر ہو جاؤں گا۔<br />
ابن شمعون فرماتے ہیں کہ رضا کی تین قسمیں ہیں ۔ (1) الرضا بالله (2) الرِّضَا لِلّٰہ (3) الرَّضَا عَنِ الله<br />
الرضا بالله : &#8211; یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مدبر اور مختار تسلیم کرے۔<br />
الرضا لله &#8211; یہ ہے کہ اس کو قاسم اور صاحب عظمت و جلال مان لے۔<br />
الرضا عن الله : یہ ہے کہ اس کو اپنا معبود اور پروردگار تسلیم کرے۔<br />
ابو سعید سے پوچھا گیا کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بندہ راضی بھی ہو اور ناراض بھی فرمایا: ہاں ایسا بھی ممکن ہے کہ بندہ اپنے رب سے راضی ہو اور ہراس چیز سے ناراض ہو جو بارگاہ خداوندی سے دوری کا سبب ہے۔ اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ مخالف شرح پر اعتراض کرنا کیا رضا کے منافی تو نہیں ہے ؟ امام شعرانی فرماتے ہیں بندے کے لئے ضروری ہے کہ تمام اعمال و افعال الله جل وعلا کے سپرد کر دے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ چاہئے ۔ کہ مخالف شرع کام کرنے والے کو روکے۔ کیونکہ بندہ اس میں انبیاء کرام علیہم السلام کی اتباع کرنے والا ہے۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ بندے پر واجب ہے کہ مخلوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرے ۔ اور اس پر راضی رہے اور اس بات کا خیال رکھے ۔ کہ مخلوق کا کنٹرول اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مخلوق میں سے اگر کوئی حکم خداوندی کی خلاف ورزی کرے اور اس کی مخالفت کرے ۔ جب بندہ کسی کو کسی کام سے روکتا ہے۔ تو وہ اپنے اس فعل میں انبیاء و رسل علیہم السلام کی پیروی کرتا ہے۔ کیونکہ انبیاء اور رسل (علیہم السلام) نے بھی کفار کے ساتھ جہاد کیا با وجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ ان کا کافروں کے خلاف جہاد کرنا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر ہے اور ان کے علم میں یہ بھی تھا کہ روز اول سے جو فیصلہ ان کے بارے میں صادر ہوا ہے۔ وہ اس سے متخلف نہیں ہو سکتے ۔ اگر کوئی اعتراض کرے کہ رضا قضائے الہی کے بارے میں بہت سی آیات اور احادیث وارد ہیں ۔ پس معصیت کو نا پسند کرنا رضائے الہی کو نا پسند کرنا ہے ۔ اور ایک ہی شے میں رضا اور کراہت کو جمع کرنا کیسے ممکن ہے ؟ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ معصیت کی دو جہتیں ہیں ایک جہت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس حیثیت سے کہ یہ اس کا فعل اختیار اور ارداہ ہے اس اعتبار سے اس پر راضی برضا ہونا ضروری ہے کیونکہ بندے کو چاہئے کہ اس کار خانہ قدرت کو اس کے مالک کے سپرد کر دے ۔ وہ مالک جو کچھ بھی کرے اس پر راضی ہو جائے ۔ دوسری جہت بندے کی طرف ہے اس حیثیت سے کہ وہ بندے کا کسب ہے اور اللہ کے نزدیک مبغوض اور ناپسندیدہ ہے اور اللہ جل جلالہ سے دوری اور ناپسندیدگی کا سبب ہے۔ اس اعتبار سے معصیت نا پسندیدہ اور مذموم ہے۔ اور مقام رضا محبت کا مقتضی ہے۔</p>
<h2>مقام محبت</h2>
<p>ارشاد رب ذو الجلال ہوتا ہے؟<br />
فَسَوْفَ يَاْتِى اللّـٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّـهُـمْ وَيُحِبُّوْنَه(المائدۃ:73)<br />
تو عنقریب اللہ تعالیٰ ایسے لوگ لائے گا۔ کہ وہ اللہ کے پیارے اوراللہ ان کاپیارا<br />
اس کے متعلق مزید ارشاد ربانی ہوتا ہے۔<br />
قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ (آل عمران: 31)<br />
ترجمہ اے محبوب آپ فرما دو کہ لوگوں اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔<br />
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا &#8220;اے اللہ میں تجھ سے نیکی کرنے برائی ترک کرنے اور مساکین کی محبت کا سوال کرتا ہوں اور تیری رحمت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ اورجب تو کسی قدم کو آزمانے کا ارادہ کرے تو مجھے بغیر کسی آزمائش کےہی اپنی بارگاہ میں بلالے اورتجھ سے تیری محبت اور تیرے چاہنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جومجھے تیری محبت کے قریب کردے۔<br />
ابن ساریہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺان الفاظ سے دعا فرمایا کرتے تھے ۔ اے اللہ ! اپنی محبت کو میری جان، سمع و بصر اور میرے اہل و عیال سے بھی زیادہ محبوب بنا دے ۔ حضور ﷺ آقائے دو جہاں نے اس حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے خالص محبت کا سوال کیا ہے ۔ اور خالص محبت یہ ہے کہ کائنات کی ہرشے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کی جائے ۔ محبت اسلام کا جو ہر اور اصل ہے۔ اور محبت ہی روح تصوف اور اس کا منبع ہے ۔ اور محبت پر ہی اسلام کا دارو مدار ہے۔ اور یہی اسلام کے انوار و تجلیات کا محور ہے۔<br />
اور یہ انتہائی ضروی ہے کہ محبت خالصتا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لئےہو۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے : ۔<br />
فَسَوْفَ يَأْتِيَ اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ (المائده :54)<br />
ترجمہ : عنقریب اللہ تعالیٰ ایسی قوم لائے گا۔ کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کاپیارا<br />
فرمان رب ذو الجلال ہے :<br />
يُّحِبُّوْنَـهُـمْ كَحُبِّ اللّـٰهِ ۖ وَالَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّـٰهِ (البقره: 165)<br />
ترجمہ: &#8220;وہ انہیں اللہ کی طرح محبوب رکھتے ہیں۔ اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت نہیں ۔<br />
صوفیائے کرام کا محبت کے حال یا مقام ہونے میں اختلاف ہے۔ امام طوسی فرماتے ہیں &#8221; محبت حال ہے ، مقام نہیں ۔ &#8221; اور ان کے نزدیک محبت کے تین مراتب ہیں ۔<br />
(1) عوام الناس کی محبت ۔ یہ محبت اللہ تعالیٰ کے ان پر احسان اورمہربانی کرنے سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی دلیل رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد عالیشان ہے ۔ آپ نے فرمایا &#8221; دلوں کی فطرت ہے کہ کوئی ان پر احسان کرے اس سے محبت کرتے ہیں اور جو ان کے ساتھ اساءت کرے اس کے ساتھ وہ نفرت کرتے ہیں۔<br />
(2) صادقین اور محققین کی محبت : اور یہ محبت دل میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بزرگی اور علم و قدرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔<br />
(3) صدیقین اور محققین کی محبت : یہ لوگ محبت خداوندی کو بغیر سبب اور علت کے مقدم رکھتے ہیں ۔ اور وہ باری تعالیٰ کو بغیر کسی علت کے چاہتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام طوسی کے نزدیک محبت ایک حال ہے جو بندے کو بغیر محنت اور بغیر کسی عمل کے عطا کیا جاتا ہے۔ لیکن امام سہروردی کے نزدیک محبت حال بھی ہے اور مقام بھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ محبت کی دو قسمیں ہیں۔<br />
(1) محبت عام (2) محبت خاص<br />
وہ اپنی کتاب عوارف المعارف میں فرماتے ہیں بعض مشائخ نے محبت کو روحانی مقامات میں شامل کیا ہے ایسی صورت میں اس سے مراد وہ عام محبت ہے۔ جس میں انسان کی تدبیر اور کوشش کو دخل حاصل ہو ۔ محبت خاص ، محبت ذات ہے۔ جو مشاہدہ روح سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اسی محبت میں سکرات لاحق ہوتے ہیں ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے پر احسان اور عنایت ہے۔ اس کا تعلق احوال سے ہے۔ کیونکہ یہ محض عطیہ خداوندی ہے۔ اس میں تدبیر اور کوشش کا کوئی دخل نہیں جب ان کی یہ خاص محبت صحیح طریقے سے نمودار ہو جائے ۔ تو یہ لوگ ارشاد خدواندی کے مطابق مومنوں سے عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ عاشق صادق محبوب اور اس کے پسندیدہ لوگوں کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے۔<br />
اسی طرح امام شعرانی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں &#8221; محبت کا تعلق حال سے بھی ہے اور مقام سے بھی۔ ان کے نزدیک محبت وہ مقام ہے جو بندے ہے جو بندے کو مجاہدے&#8221; ریاضت اور تصفیہ قلب سے حاصل ہوتا ہے یہاں تک کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے :<br />
وَالَّـذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّـهُـمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : 69)<br />
ترجمہ : &#8221; اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم اپنے راستے دکھا دیں گے۔&#8221;<br />
محبت حال بھی ہے جو بندے کو بغیر کسی محنت کے من جانب اللہ عطا ہوتا ہے ۔ قطب الاقطاب امام ابو الحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ محب کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حقیقی محب وہ ہے جو اپنے دل کو غیر اللہ سے پاک رکھتا ہے اور اپنے دل کے دروازے پر پہرے دار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے اور شیطان اور اس کے وسوسے،نفس اور اس کی خواہشات اور مختلف قسم کے امراض سے دفاع کرتا ہے ۔ ابن عطاء سکندری فرماتے ہیں کہ حقیقی محب وہ ہے کہ جس کے دل پر اس کے محبوب کے علاوہ کسی دوسرے کا غلبہ نہ ہو۔ اور محبوب کی مشیئت کے علاوہ اس کی کوئی مرضی نہیں ۔<br />
امام شعرانی&#8221; جن کو یہ مقام حاصل تھا۔ اپنے دل کی کیفیت کو یوں بیان کرتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص احسان ہے کہ اس نے میرے دل کو محفوظ کر لیا ہے۔ اب اس دل میں مخلوق خدا میں سے کسی کی محبت نہیں ٹھہرتی مگر اس کے حکم ہے۔ جب دل میں اللہ کی محبت کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ تو وہ خود ہی اس کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے۔ اور اس بندے کو توحید ، عظمت اور جبروت کی تلوار عطا کر دی جاتی ہے۔ اور جو بھی اس کے دروازے کے قریب جاتا ہے اس کے سر کو اڑا دیتا ہے۔ اور جب بندہ اپنے دل کی حفاظت پر قادر ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے دل پر اپنے خاص لشکر میں سے پہرے دار مقرر کر دیتا ہے۔ تاکہ شیطان اور خواہش نفسانیہ کی اس تک رسائی نہ ہو اور مخلوق خدا کے اس کی طرف توجہ ہونے اور پے در پے دنیاوی نعمتوں کی بارش سے اس کے اجر میں کمی نہ ہو۔</p>
<p>خالص توحید اور معرفت جب بندے کو حاصل ہوتی ہے۔ تو بندے کا دل محبت سے بھر جاتا ہے۔ اور جب بندے کو مقام محبت حاصل ہو جائے تو شیطان اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اور وہ بندہ اس کے وساوس سے محفوظ ہو جاتا ہے جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:<br />
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سَلْطَانُ &#8211; (الحجر: 42)<br />
ترجمہ : بے شک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں۔<br />
تو بندہ جب اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو مال و اولاد اس کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ اور نہ ہی اس کو اپنے رب سے غافل کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے ہاتھوں میں ہوتا ہے نہ کہ اس کے دل میں۔ جب مخلوق اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو دنیا اس کے قدموں میں آجاتی ہے۔ اور اس کو عزت مرتبہ اور عظمت حاصل ہوتی ہے۔ اور وہ ان چیزوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کے دل کی لو تو رب کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:<br />
وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا &#8211; (الفرقان :63،64)<br />
اور رحمان کے وہ بندے جو زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں۔ اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں میں سلام ۔<br />
اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محبین کے کچھ اوصاف جن کی وجہ سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ اور ایسی علامات ہیں جن سے یہ معلوم ہو کہ انہیں مقام محبت مل چکا ہے کیونکہ محبت دلوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے ؟ اور شوق و عشق کی آگ بغیر دھوئیں کے ہوتی ہے۔ تو اس کا ادراک کرنا کیسے ممکن ہے؟<br />
اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح عمدہ عمدہ خوشبو کستوری کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے اور لق و دق صحراء میں سبزے کا پایا جانا پانی کے وجود پر دلالت کرتا ہے ۔ اسی طرح محبین کے اوصاف اور علامتیں ہوتی ہیں۔ جو ان پر دلالت کرتی ہیں۔</p>
<h2>محبین کی صفات</h2>
<p>مشائخ کرام کی ایک جماعت نے شیخ جنید بغدادی رحمہ اللہ سے محبین کی صفات کے بارے میں دریافت کیا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اور فرمایا میں اس بندے کے اوصاف کیسے بیان کر سکتا ہوں ؟ جس کو اپنی ذات کا ہوش نہ ہو ہمیشہ اپنے رب کے ذکر میں مشغول اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں مصروف ہو اور اپنے دل کی آنکھ سے اس ذات کا مشاہدہ کرنے والا ہو۔ اور حال یہ ہو کہ اس کے دل کو عظمت وہیبت کی آگ نے جلا ڈالا ہو۔ اور شراب طہور اسے میسر ہو۔ غیب کے پردے اس کیلئے منکشف ہو جائیں اگر وہ گفتگو کرے تو اللہ کے حکم سے اور الہام خداوندی ہی اس کا کلام ہو اس کی حرکت اور سکون بھی اللہ کے حکم سے ہو۔ اور اس کا ہر کام اللہ کی مدد سے اللہ کیلئے رب زو الجلال کی معیت میں سرانجام پاتا ہے۔<br />
شیخ جنید بغدادی رحمہ اللہ کے نزدیک محب صادق وہ ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور کبھی اس سےغافل نہیں ہوتا۔ اور اپنے فرائض وو اجباب کی ادائیگی میں کو تاہی اور سستی کا مرتکب نہیں ہوتا۔ جب بندے کو یہ مقام حاصل ہو جائے تو پر دے منکشف ہو جاتے ہیں وہ اپنےعمل اور ترک عمل نیند اور بیداری میں عبد ربانی بن جاتا ہے۔<br />
ابن قیم نے اپنی کتاب &#8221; طریق ہجر تین &#8221; میں صفات محبین کا تذکرہ کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دل معرفت الہی سے مملو اور اس کی محبت اور خشیت اور اجلال اور مراقبے سے معمور ہوتے ہیں مگر یہ محبت ان کے ہر ہر جزومیں سرایت کر جاتی ہے اور یہ محبت اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز کے ذکر کو بھلا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسری چیز میں سکون حاصل نہیں ہوتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے مقابلے میں تمام محبتوں سے دل پھیر لیتے ہیں اور ماسوی اللہ ہر چیز کو ترک کر دیتے ہیں اس وقت رب ہی ان کی سماعت بن جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں۔ بصر بن جاتا ہے جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ اور ان کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ جس سے وہ پکڑتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کا دل کائنات کی ہرشی سے ترقی کر کے اللہ کے سامنے سر بسجود ہو جاتا ہے ابن قیم کے نزدیک محب وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی سچی محبت حاصل ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کے غیظ و رحمت عظمت و کبریائی ، جمال و جلال ، فضل و احسان سے آگاہ ہوتا ہے اور اس کا دل محبت الہی سے مملوء ہوتا ہے اور غیر کیلئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور جب اس کو خالص محبت اور کامل عبودیت حاصل ہو جاتی ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد صادق آتا ہے<br />
عَبْدِي أَطِعْنِي تَكُنْ رَبَّانِيَّاً، تَقُولُ للشَّيْءِ كُنْ فَيَكُونُ<br />
ترجمہ : اے میرے بندے ! اس سے محبت کر تو تو ربانی ہو جائے گا اور جس چیز کو &#8220;کن&#8221; کہے گاوہ اسی وقت ہو جائے گی ۔<br />
سلطان العاشقین ، امام المحبین شیخ ابن فارض ہمارے لئے محبت کے اوصاف بیان کرتے ہیں ڈاکٹر مصطفی حلمی فرماتے ہیں کہ ابن فارض کے نزدیک محبت وہ جو ہر ہے جو انسانی نفس کو انتہائی بلندی پر فائز کر دیتا ہے اور اس کو ہر قسم کی علائق اور خواہشات نفسانیہ سے پاک کر کے اس کو مادی قیود سے آزاد کر دیتا ہے اور نفس کو وساوس اور خطرات سے مبراء و منزہ کر دیتا ہے ۔ پھر نفس، ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ایک خالص لطیف روح کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ ملاء اعلی تک رسائی حاصل کر کے جمال جہاں آراء کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ بھی محب صادق کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ محب صادق وہ ہے جس میں درج ذیل صفات جمع ہو جائیں ذوق و شوق دل کی تپش حزن وشغف آه وبکا، شب بیداری و سحر خیزی دہشت و حیرت خشوع و خضوع اخفاء و اظہار و غیره<br />
محبت کی یہی تعریف بعینہ شیخ ابراہیم دسوقی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تعلیم میں بیان کی ہے۔<br />
ألا قل لمن يدعي حبنـــــــا ويزعم أن الهوى قد علـــــــق<br />
اسے کہہ دو جو ہماری محبت کا دعویدار ہے اور گمان کرتا ہے کہ محبت دل میں پیوست ہو گئی ہے &#8221;<br />
لو كان فيما إدعى صادقـــا لكان على الغصن بعض الـورق<br />
اگر وہ اپنے دعوی میں سچا ہوتا تو پتوں کی طرح ترو تازہ نہ ہوتا<br />
وأين الخضوع وأين الدمــوع وأين السهاد وأيــــــــن الأرق<br />
کہاں ہے وہ کمزوری اور لاغری ؟ کہاں ہیں وہ آنسو اور کہاں ہے راتوں کا جاگنا۔<br />
محب صادق کیلئے ان صفات کا ہونا ضروری ہے شریعت مطہرہ کی پیروی کرے اور جو محب اوامر الہیہ کی مخالفت اور نواہی سے اجتناب نہیں کرتا وہ اپنے دعوی محبت میں کبھی صادق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ محب ، محبوب کا مطیع ہوتاہے اس کے اوامر کو بجا لاتا ہے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے دور رہتا ہے اور محب صادق اللہ تعالیٰ کے وعده و وعید میں شک نہیں کرتا یہ کیسے ممکن ہے کہ محب ہو اور اپنے محبوب کے قول میں شک کرے اسی طرح اخلاص اور صدق بھی محبین کی صفات ہیں۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
رجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنتَظِرُ(الاحزاب : 23)<br />
ترجمہ : مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کر دیا جو عہد اللہ سے کیا تھا۔ تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کر چکا ۔ اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے۔<br />
مصیبت میں صبر کرنا اور رضا بالقضاء کو بھی صفات محبین میں شمار کیا جاتا ہے صوفیاء کرام کے نزدیک حصول محبت کا ذریعہ اللہ تعالیٰ ٰ کا ذکر اور اس کی وحدانیت کو استعمال کرنا ہے توحید دل کو خواہشات نفسانیہ کینہ وحسد اور وساوس شیطان سے پاک کر دیتی ہے یہ تمام اشیاء بندے کو اپنے رب سے دور کر دیتی ہیں اور اس کے اور مولی کے مابین حائل ہو جاتی ہیں جب دل شہوات سے خالی ہو اور نفس انسانی خواہشات سے پاک ہو۔ اس وقت بندے کا دل رب کی محبت کا گھر ہوتا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں آیا ہے<br />
مَا وَسِعَنِي لَا سَمَائِي وَلَا أَرْضِي وَلَكِنْ وَسِعَنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ<br />
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے &#8221; میں نہ تو زمین میں سما سکتا ہوں اور نہ آسمان میں مگر بندہ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں&#8221;<br />
جب دل شہوات سے خالی ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور محبت اس میں بس جاتی ہے (تو وہ) علوم غیبیہ اور اسرار و معارف کا محل بن جاتا ہے پس وہ رب کی ایسی معرفت حاصل کر لیتا ہے کہ کبھی اس سے دور نہیں ہوتا۔ اور اس طرح راضی برضائے الہی ہو جاتا ہے کہ ناراضگی کا شائبہ تک نہیں رہتا اور ہمیشہ ذکر میں مصروف رہتا ہے یہاں تک کہ کبھی وہ ذکر محبوب کو نہیں بھولتا ۔</p>
<h2>حال شوق</h2>
<p>شیخ الواسطی نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد<br />
وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى &#8221; کی تفسیر بیان کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے جلدی کی کیونکہ ان کا شوق غالب تھا۔ اور اپنے پیچھے آنے والوں کی پرواہ نہ کی اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے ذوق میں انہیں پیچھے چھوڑ آئے<br />
مروی ہے کہ حضور اپنی دعا میں ارشاد فرمایا کرتے تھے<br />
اے رب تیرے دیدار کی لذت اور ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں&#8221; شوق کا تعلق احوال محبت سے ہے کیونکہ ہر محب مشتاق ہوتا ہے اور شوق بندے کا اختیاری عمل نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے اپنے محبین میں سے جسے چاہتا ہے عطا فرما دیتا ہے امام طوسی فرماتے ہیں &#8221; شوق سے مراد بندےکی وہ حالت ہے کہ محبوب کی ملاقات کے شوق میں اپنی زندگی سے اکتا جائے &#8221;<br />
امام قشیری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محبوب کی ملاقات کیلئے دل میں جو ہیجان پیدا ہوتا ہے اسے شوق کہتے ہیں اور محبت کی مقدار کے مطابق شوق ہوتا ہے<br />
ابن عطاء اللہ سکندری سے شوق کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا &#8221; دل کے جلنے اور جگر کے ٹکڑے ہونے کا نام شوق ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ شوق اعلیٰ ہے یا محبت تو فرمایا محبت کا درجہ بلند ہے کیونکہ شوق محبت سے ہی پیدا ہوتا ہے<br />
امام سہروردی فرماتے ہیں کہ محبت اور شوق کا تعلق اسی طرح ہے جیسے زہد اور توبہ کا جب تو بہ پختہ ہو جائے تو زہدکا آغاز ہوتا ہے اسی طرح جب محبت میں بس جاتی ہے تو شوق کا آغاز ہوتا ہے بعض لوگوں نے حالت شوق کا انکار کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ شوق اس کیلئے ہوتا ہے جو غائب ہو اور محبوب کب محب سے غائب ہوتا ہے کہ اس کا مشتاق ہو ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ حالت شوق کا انکار کرنا صحیح نہیں کیونکہ شوق محبین میں موجود ہوتا ہے اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ان کے نزدیک مشاہدہ اور ملاقات کا شوق بعد اور غیبوبت کے شوق سے دور ہوتا ہے۔<br />
بایزید بسطامی رحمۃ اللہ کا قول بھی امام شعرانی کے قول کا مؤید ہے فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ اہل جنت کو اپنے دیدار سے محروم کر دے تو وہ جنت سے پناہ مانگیں گے جن طرح جہنم والے آگ سے پناہ مانگتے ہیں کسی شاعر نے اس مفہوم کو یوں بیان کیا ہے<br />
‌مَا ‌يَرجعُ ‌الطَّرفُ عَنها حِينَ يُبصِرُها حَتَّى يَعودَ إِليها الطَّرفُ ‌مشتَاقَا<br />
ترجمه : دیدار آنکھ اس کے چہرے سے نہیں ہٹتی کہ اس کی طرف اشتیاق سےلوٹے ۔ ۔</p>
<h2>
حال انس</h2>
<p>حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے انس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا محب کا محبوب سے بے تکلف ہونا انس ہے اور کہا گیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قول &#8221;<br />
اَرِنِیۡ کَیۡفَ تُحۡیِ الۡمَوۡتٰی ( البقرہ : 260) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ ا سی قبیل سے ہے۔<br />
امام طوسی فرماتے ہیں اللہ کے ساتھ انس کا معنی یہ ہے کہ بندہ اس کے ساتھ اعتماد کرے اور اسی سے سکون کا طالب ہو فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ انس کی وضاحت نہیں ہو سکتی<br />
مروی ہے کہ مطرف ابن عمیر نے عمر بن عبد العزیز کی طرف لکھا &#8221; چاہیے کہ تیرا انس صرف اللہ کے ساتھ خاص ہو۔ اور سب کو چھوڑ کر اس کے ہو رہو ۔ اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس ہو جاتا ہے تو انہیں خلوت میں بھی وہ سکون میسر ہوتا ہے جو دوسرے لوگوں کو جلوت میں میسر نہیں<br />
حضرت رابعہ بصر یہ رحمۃ اللہ علیھا فرماتی ہے کہ ہر مطیع صاحب انس ہوتاہے اور کسی شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے<br />
‌فَالْجِسْمُ ‌مِنِّي ‌لِلْجَلِيسِ مُؤَانِسٌ وَحَبِيبُ قَلْبِي لِلْفُؤَادِ أَنِيسِي<br />
ترجمہ: &#8220;میں نے تجھے اپنے دل میں چھپا لیا تیرے ساتھ گفتگو کرنے کیلئے اوراپنے جسم کو مباح کر دیا جو کہ میرے پاس بیٹھنے کا ارادہ کرے میرا جسم ظاہری ہم نشین سے مانوس ہے حالانکہ میرے دل کا محبوب میرے دل ہی میں بسا ہوا ہے &#8221;<br />
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقام انس پر بندہ کب فائز ہوتا ہے امام شعرانی فرماتے ہیں<br />
” انس باطن کی پاکیزگی ، کمال تقوی ، قطع اسباب اور خواطر قلبیہ کے خاتمہ سے ہوتا ہے ؟<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ انسان کو اپنے ہم جنس سے انس حاصل ہوتا ہے رب اور بندے کے درمیان مجانست موجود نہیں اس لیے انس سے مراد وہ لذت قرب ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو عطا فرماتا سے ہے اس سے انس مراد نہیں ، اور محققین کے نزدیک انس باللہ صحیح نہیں ۔ جس طرح کہ امام شعرانی کی رائے ہے اور بندے کو جو انس اور محبت حاصل ہوتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی اس کے دل کی طرف خاص توجہ اور عنایت سے ہوتی ہے</p>
<h2>حال قرب</h2>
<p>ارشاد خداوندی ہے !<br />
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ (البقره : 182)<br />
ترجمہ : اور اے محبوب ! جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں ۔<br />
اور ارشاد فرمایا<br />
وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ( الواقعہ : 16)<br />
ترجمہ: اور ہم دل کی رگ سے بھی اس کے زیادہ پاس ہیں ۔<br />
ایک اور مقام پر اللہ جل مجدہ نے اپنے نبی مکرم کو فرمایا<br />
وَاسْجُدْ وَاقْتَرَب (العلق:19)<br />
ترجمہ: اور سجدہ کرو اور رب کے قریب ہو جاؤ<br />
ارشاد نبوی ہے۔<br />
‌أَقْرَبُ ‌مَا ‌يَكُونُ ‌الْعَبْدُ ‌مِنْ ‌رَبِّهِ ‌وَهُوَ ‌سَاجِدٌ ( المسلم &#8211; ابوداؤد)<br />
ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتا ہے ۔<br />
ڈاکٹر عبد الحلیم محمود فرماتے ہیں کہ سجدے کو دین اسلام میں بڑی اہمیت حاصل ہے سجدہ انسان کو جنت میں داخل کر دیتا ہے۔<br />
حضرت امام مسلم اپنی صحیح میں ربیعہ ابن کعب الاسلمی&#8221; سے جو کہ خادم رسول میں اور اصحاب صفہ میں سے تھے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا<br />
میں نبی کریم ﷺ کے کاشانہ انور کے دروازے پر سوتا تھا۔ جب آپ بیدار ہوتے تو میں وضو کا پانی اور دیگر اشیاء ضرورت حاضر کرتا ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ اے ربیعہ !ما نگو جو چاہتے ہو۔ میں نے عرض کی جنت میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے علاوہ بھی کچھ مانگ لو میں نے عرض کی میری بس یہی طلب ہے ارشاد فرمایا کثرت سجود کے ساتھ حصول مقصد کیلئے تعاون کرو ۔ &#8221;<br />
امام طوسی فرماتے ہیں &#8221; حالت قرب اس بندے کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے دل کے ساتھ اللہ عزوجل کا مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی اطاعت کے ساتھ مزید قرب حاصل کر لیتا ہے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے<br />
حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جس قدر اپنےبندوں کے دلوں کو اپنے قریب دیکھتا ہے اس قدر وہ بھی انکے قریب آجاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ چاہیے کہ وہ تمہارے دل کے کتنا قریب ہے۔<br />
شیخ نصر بازی فرماتے ہیں معرفت اتباع سنت سے حاصل ہوتی ہے قربت ادائیگی فرض سے اور محبت نوافل پر مواظبت کرنے سے ۔<br />
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندہ کو کب قرب حاصل ہوتا ہے۔ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ بندے کو اپنے رب کا قرب اس وقت حاصل ہوتا ہے ۔ جب مخلوق کے دل اس کیلئے سخت ہو جاتے ہیں ان کی زبانیں اس کی مذمت کیلئے کھل جاتی ہیں اور اس کی تعریف و توصیف سے رک جاتی ہیں اوراس کے ساتھ میل جول کو ترک کر دیا جاتا ہے۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے رب کا قرب اس وقت تک نہیں نواز تا جب تک وہ کسی غیر سے نفع و نقصان کی امید رکھتا ہے۔<br />
اے بندے ! اپنے رب کے ساتھ حسن ظن رکھ۔ اور اس ذات کی طرف دیکھ جو ہر وقت تیری نگہبان ہے۔ اور اس ذات کی طرف متوجہ ہو جا۔ جو تیری طرف متوجہ ہے ۔<br />
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قرب کا سب سے پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مصروف ہو جائے۔<br />
حدیث قدسی ہے کہ مقربین کو قرب ادائیگی فرض سے بڑھکر کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوتا۔ بندہ نوافل کے ذریعے قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنا لیتا ہوں اور جب محبوب بنالیتا ہوں تو میں اس کی سمع و بصر بن جاتا ہوں تو وہ میری طاقت سے ہی دیکھتا اور سنتا ہے ۔</p>
<h2>حال حیاء</h2>
<p>حیا کی دو قسمیں ہیں (1) عام (2) خاص<br />
حیاء عام: اس سے مراد وہ حیاء ہے جس کا حکم نبی ﷺ نے اپنی اس حدیث پاک میں فرمایا ۔ ارشاد فرمایا &#8221;<br />
اللہ تعالیٰ سے حیاء کرو جس طرح اس سے حیاء کرنے کا حق ہے &#8221; صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ہم سب اللہ سے حیا کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ حیا مقصود نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے جو حقیقی حیا کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے سر اور ذہنی افکار کی حفاظت کرے اپنے پیٹ اور جو کچھ اس میں ڈالا ہے اس کا خیال رکھے موت اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہونے کا خیال رکھے اور جو آخرت کا ارادہ رکھتا ہے وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دیتا ہے جو انسان ان تمام امور کو انجام دے وہی اللہ تعالیٰ سے حقیقی حیاء کرنے والا ہے (الترمذی)<br />
حیا کی اس قسم کا تعلق مقامات سے ہے مگر حیاء خاص کا تعلق احوال سے ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاحیا بھی اسی قبیل سے ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب میں اندھیرے کمرے میں غسل کرتا ہوں تو اس وقت بھی خدا سے حیا کی وجہ سے پانی پانی ہو جاتا ہوں۔<br />
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری اس بات کو ذہن نشین کر لو ۔ حیا اور انس دونوں دل کا طواف کرتے ہیں جب دل میں زہد و ورع پاتے ہیں تو وہاں اتر آتے ہیں ورنہ کوچ کر جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے روح کا سرنگوں ہونا &#8221; حیا&#8221; ہے اور اس کے جمال کامل سے لذت حاصل کرنا &#8221; انس &#8221; کہلاتا ہے اور جب یہ دونوں جمع ہو جائیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی نہایت درجہ کی عنایت ہے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب ترجمانی کی ہے۔<br />
أَشْتَاقُهُ فَإِذَا بَدَا ‌أَطْرَقْتُ ‌مِنْ ‌إِجْلَالِهِ<br />
لَا خِيفَةً بَلْ هَيْبَةً وَصِيَانَةً لِجَمَالِهِ<br />
‌فَالْمَوْتُ ‌في ‌إعْرَاضِهِ وَالْعَيْشُ فِي إقبَالِهِ<br />
وَأَصُدُّ عَنْهُ تَجَلُّدًا وَأَرُومُ طَيْفَ خَيَالِهِ<br />
ترجمہ :میں اس کا انتہائی مشتاق ہوں جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو اس کے رعب و جلال میں نظریں نیچی کر لیتا ہوں ۔<br />
تو یہ رعباور خوف کی وجہ سےنہیں ہے بلکہ اس کی نیت اور اس کے جمال کی حفاظت کی وجہ سے ہے۔<br />
اس کی رو گردانی میں موت اور اس کی توجہ سے زندگی ہے ۔<br />
جب دو ظا ہر ہوتا ہے تو میں منہ پھیر لیتا ہوں اور پھر اس کے خیال اور تصور میں محو رہتا ہوں۔<br />
یہ محبین اور مخلصین کے بعض احوال ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کو یہ تمام احوال حاصل تھے۔ وہ اپنے رب کے مشتاق اور اس کے فضل و کرم سے مانوس اور اس کی نعمتوں اور احسان میں مستغرق تھے اپنے مولی کے قریب تھے اور مولی سے دور کرنے والی ہر چیز سے کنارہ کشی اور دور تھے رب ذوالجلال سے انتہائی حیاء کرتے تھے اور انہیں ہمیشہ یہ خوف طاری رہتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ انہیں کسی ایسے کام میں مشغول پائے جس کا اس نے حکم نہیں دیا اور یہ چیز اللہ تعالیٰ سے دوری کا باعث ہو اور انہیں ہمیشہ یہ خوف لاحق ہوتا تھا کہ ان کے دل میں کوئی ایسا خاطر نہ کھٹکے جو ان کو ان کے مولی سے دور کردے ۔</p>
<h2>مقام رحمت</h2>
<p>اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔<br />
محَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشَدَاءٌ عَلَى الْكَفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ ( الفتح : 29)<br />
ترجمہ : محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں آپس میں نرم دل ۔<br />
نبی کریم ﷺ دعوت محمدیہ کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔<br />
‌أَنَا ‌رَحْمَةٌ ‌مُهْدَاةٌ ترجمہ: &#8220;میں ہدایت یافتہ رحمت ہوں &#8221;<br />
دین اسلام میں رحمت کو بڑی شان اور اہمیت حاصل ہے اسلام اپنے پیروکاروں کو رحمت کی تعلیم دیتا ہے اس وجہ سے رحمت ایک مقام ہے جس کو طالب تگ ودو اور سعی سے حاصل کرتے ہیں۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کیا کرتے اور سرور کائنات ﷺ کے ہر ہر فعل کی اتباع کرتے تھے انہوں نے اپنی ذات کیلئے کچھ شرائط اور قواعد مقرر کیے ہوئے تھے جس کے مطابق وہ زندگی بسر کیا کرتے تھے ان شرائط کو وہ خود ہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں &#8221; میں اپنے گھر سے اس وقت نکلوں گا جب مجھ میں لوگوں کی تکالیف دور کرنے کی طاقت ہو گی یعنی ان کی زندگی کا مقصد لوگوں کی تکالیف کو دور کرنا اور ان کے لئے اسباب راحت مہیا کرنا تھا۔ جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوتی یا فصلیں برباد ہو جاتیں یا پیداوار میں کمی ہو جاتی تو فرماتے نہ کھاؤں گا نہ پیوں گا اور نہ ہی ازدواجی تعلقات قائم کروں گا۔ اور نہ ہی ہنسوں گا ۔ اس طرح وہ اہل وطن کے مصائب و آلام میں شریک ہوتے یہاں تک کہ ان مصائب کا خاتمہ ہو جاتا یا ان میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی۔<br />
امام شعرانی امت مسلمہ کے جسم کا ایک حصہ تھے وہ مسلمانوں کو محبت اور الفت کے بندھن میں باندھنے والی زنجیر کا ایک حلقہ تھے۔ اس وجہ سے جب امت اسلامیہ کے کسی ایک فرد کو تکلیف یا اذیت پہنچتی تو آپ بھی تکلیف محسوس کرتے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے<br />
مَثَلُ المُؤْمِنِينَ في تَوَادِّهِمْ وتَرَاحُمِهِمْ وتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الجَسَدِ إذا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى له سَائِرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ والحُمَّى (صحیح مسنداحمد)</p>
<p>ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا &#8220;مسلمانوں کی مثال باہمی محبت رحمت اور مہربانی میں جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف زدہ ہو تو ساراجسم بیماری اور بیداری میں اس کے ساتھ شریک ہوتا ہے۔<br />
اور جو لوگ مقام رحمت پر فائز ہوتے ہیں وہ انتہائی رقیق القلب ہوتے ہیں وہ دوسروں کی تکلیف اور مصائب میں ہمیشہ مضطرب اور پریشان رہتے ہیں۔ اور انہیں صرف اس وقت ہی سکون اور چین ملتا ہے جب قوم کا کوئی فرد مصیبت سے دوچار نہ ہو۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کسی لشکر کو اشاعت دین اور تادیب اہل شرک و کفر کیلئے روانہ کرتے تو فرماتے کہ اللہ کی برکت سے چلو اور میں تمہارے اہل و عیال کیلئے باپ کی مثل ہوں۔ یہاں تک کہ واپس لوٹ آؤ غور کرنے کا مقام ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو مجاہدین کے اہل و عیال کیلئے باپ کے قائم مقام قرار دیا۔ کیونکہ باپ اپنی اولاد کیلئے انتہائی رحمدل اور از حد مہربان ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنا سب کچھ اولاد کی سعادت کیلئے نچھاور کر دیتا ہے ایک اور روایت میں ان کے بارے میں آتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی آزمائش آجاتی یا وہ کسی مصیبت سے دوچار ہوتے تو آپ بیمار ہو جاتے۔ لوگ ان کی عیادت کے لئے جاتے۔ یہی حالت حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن عبد العزیز اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی۔<br />
امام شعرانی صحابہ کرام اور تابعین عظام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب بھی مسلمان کسی مصیبت سے دوچار ہوتے تو یہ کھانا پینا چھوڑ دیتے۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ۔ اور ان کی یہ حالت برقرار رہتی۔ یہاں تک کہ مصیبت ختم ہو جاتی حقیقتاً وہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان عالیشان پر کار بند تھے ارشادرسول عربی ہے<br />
وَمَنْ لَّمْ يَتُم بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ( رواه الطبرانی )<br />
ترجمہ: اور جس نے مسلمانوں کے امور کا صحیح طور پر اہتمام نہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کو خواب میں اس مقام کے حصول کی خوشخبری ملی فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں عالم شباب میں ہوں اور بلور کے وسیع و عریض میدان میں کھڑا ہوں جس کے اردگر آسمان تک بغیر دروازے کے دیوار ہے۔ میں شیخ نور الدین شونی کے پیچھے تھا( یہ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے مصر اور اس کے گرد و نواح میں نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کی محافل کا اجراء کیا تھا) اسی اثناء میں کہ میں جا رہا تھا کہ آسمان سے سونے کی زنجیر میں معلق ایک مشکیزہ اترا۔ اور بلندی پر ٹھہر گیا کہ کھڑے آدمی کا منہ اس تک پہنچ جائے پہلے شیخ نور الدین شونی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مشکیزے سے پانی پیا۔ اور باقی ماندہ مجھے عطا کر دیا ۔ پھر چلتے چلتے میں ان سے آگے بڑھ گیا یہاں تک کہ وہ غائب ہو گئے پھر چاندی کی زنجیر میں معلق سختی کی مثل ایک شی نازل ہوئی یہ بھی مشکیزے کی مقدار پر ٹھہر گئی میں نے دیکھا کہ اس میں ٹھنڈے پانی کے ابلتے ہوئے تین چشمے تھے جو شکر سے بھی زیادہ شیریں تھے ۔ میں نے اوپر والے چشمے پر لکھا ہوا دیکھا کہ یہ عرش کے چشموں سے لیا گیا ہے اور نیچے والے چشمے پر لکھا ہوا تھا کہ اس کا تعلق کرسی کے چشموں سے ہے۔ مجھے الہام ہوا کہ عرش کے چشمے سے پانی پی لو۔ میں نے یہ خواب شیخ شہاب الدین الہوازمی کو سنایا کیونکہ وہ خوابوں کی تعبیر بیان کرتے تھے انہوں نے فرمایا &#8221; تم عالم دنیا کیلئے رحمت کی صفت سے متصف ہو گے ؟<br />
نبی کریم ﷺ جب بھی کوئی خواب دیکھتے تو صبح کے وقت وہ چیز بعینہ رونما ہو جاتی اور آپ کے بعد آپ کے امتیوں کو بھی یہ مقام حاصل ہے کیونکہ نبی پاک کا ارشاد گرامی ہے<br />
الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ ( صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم)<br />
ترجمہ: مومن کا خواب اجزاء نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔<br />
اور رحمت خوف کا تقاضا کرتی ہے۔</p>
<h2>مقام خوف</h2>
<p>اللہ تعالیٰ فرماتا ہے<br />
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمن : 46)<br />
ترجمہ: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرے اس کیلئے دو جنتیں ہیں۔<br />
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے وہ فرماتی ہے کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا اس آیت کریمہ<br />
وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ سے مراد وه شخص ہے جو چوری کرتا ہے زنا کرتا ہے اور شراب پیتا ہے فرمایا نہیں بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھتا ہے نماز پڑھتا ہے اور راہ خدا میں صدقہ کرتا ہے مگر ڈرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول کرتا ہے یا نہیں &#8221;<br />
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خوف کا تعلق زمانہ مستقبل سے ہے کیونکہ انسان ہمیشہ اس بات سے ڈرتا ہے کہیں اس پر کوئی مصیبت نازل نہ ہو جائے یا اس کی کوئی محبوب چیز نہ چھن جائے اور ان دونوں کا تعلق مستقبل سے ہے ۔ اور اللہ سے خوف کا مطلب یہ ہے کہ بندہ دنیا اور آخرت میں عذاب الہی سے ڈرے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اس سے ڈریں ۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ( آل عمران : 175)<br />
ترجمہ: اور تم مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔<br />
اور اللہ نے ان مومنین کی مدح فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اللہ جل مجدہ نے ارشاد فرمایا<br />
يخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ (النحل :50)<br />
ترجمہ: وہ اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں۔<br />
امام طوسی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خوف کی تین قسمیں ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب خوف کا ذکر کیا یا تو ایمان کو اس کے ساتھ ملا دیا<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَخَافُونَ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ<br />
ترجمہ : &#8220;پس ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔&#8221;<br />
یہ خواص کا خوف ہے ۔<br />
اللہ تعالیٰ نے مزید ارشاد فرمایا<br />
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمان 46)<br />
ترجمہ : اور جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اس کیلئے دو جنتیں ہیں<br />
یہ متوسطین کا خوف ہے ۔<br />
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔<br />
یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُ( النور : 37)<br />
ترجمہ :ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں ۔<br />
یہ عوام کا خوف ہے)<br />
امام ابن عجیبہ رحمۃ اللہ علیہ بھی امام طوسی کی طرح خوف کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں (1) مبتدی لوگوں کا خوف (2) متوسطین کا خوف (3) منتہی درجہ والوں کا خوف ۔<br />
مبتدین کیلئے ضروری ہے کہ ان پر جانب خوف غالب رہے ۔ اور متوسطین کیلئے ضروری ہے کہ ان پر خوف و رجاء برابر رہے، اور منتہین کیلئے ضروری کہ ان پر جانب رجاء کا غلبہ رہے وجہ یہ ہے کہ مبتدین پر جانب خوف غالب ہوگی تو اعمال میں مزید کوشش کریں گے اور متوسطین کی عبادت ظاہر سے باطن کی طرف منتقل ہو جائے گی ۔ یعنی ان کی عبادت قلبی ہوتی ہے اگر ان پر جانب خوف غالب آجائے تو پھر ظاہری اعضاء کی طرف پلٹ آئیں گے ۔ حالانکہ مقصود قلبی عبادت ہے اور جو واصلین ہیں ان کا عمل اور ترک اپنی ذات کیلئے نہیں ہو تا بلکہ خالصتا اللہ تعالیٰ کیلئے ہوتا ہے اور ان کی نگاہ مشاہدہ حق اور قضا و قدر پر ہوتی ہے انہیں جو بھی بارگاہ ایزدی سے میسر آتا ہے اسے قبول کر لیتے ہیں۔ امام طوسی اور امام ابن عجیبہ نے خائفین کے احوال اور مراتب بیان فرمائے ہیں لیکن امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ خوف کے نتیجہ اور ثمر کو بیان فرماتے ہیں کہ خوف بواسطہ انداز و تخویف نیکی کی طرف مائل کرتا ہے۔ جس طرح کہ رجاء بواسطہ رغبت نیکی کا سبب بنتی ہے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن جب تک اس دنیا میں رہتا ہے تو اس کے دل پر خوف طاری رہتا ہے اور اس کے کئی ایک اسباب ہیں۔<br />
(1) مومن معصوم عن الخطاء نہیں ۔<br />
(2) فطری طور پر انسان شہوات نفسانیہ کے مقابلہ میں کمزور ہے ۔<br />
(3)شیطان کا وجود جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (الحجر: 40)<br />
ترجمہ: اور ضرور میں ان کو سب کو بے راہ کردوں گا مگر جو ان میں تیرےچنے ہوئے بندے ہیں۔<br />
اسی وجہ سے اپنے مریدین کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں &#8221; اے مریدا اگر چه تو شب و روز مراقبے میں مشغول رہے پھر بھی کسی گناہ میں مبتلا ہونے کو بعید نہ جان ۔ &#8221; فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی بھی معصوم عن الخطاء نہیں جب تک ہم اس دنیا میں ہیں ہمیں بے خوف نہیں ہونا چاہیے کیونکہ شیطان نے بہت سے ایسے لوگوں کو گمراہ کیا ہے جو اپنے آپ کو بڑے متقی اورپار سا گمان کرتے تھے ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
فَلَا يَا مَن مكر اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الخَاسِرُونَ (الاعراف : 99)<br />
ترجمہ: تو اللہ کی مخفی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے<br />
شیخ حاتم الاصم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کسی اچھی جگہ سے دھو کہ نہ کھا جنت سے بڑھ کر کوئی اچھی جگہ نہیں لیکن اس میں حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ معروف ہے ۔ اور کثرت عبادت سے دھوکہ نہ کھا۔ کیونکہ شیطان بھی بہت بڑا عابد تھا اور کثرت علم سے دھوکہ نہ کھا۔ بلعام بھی اسم اعظم کو جانتا تھا۔ اس کا جو حال ہوا وہ سب کو معلوم ہوا ۔ صالحین کی زیارت سے دھوکہ نہ کھا کیونکہ نبی کریم سے بڑھ کر کوئی بھی صالح و پارسا نہیں ۔ لیکن آپ کے دشمن اورکئی اقارب آپ کی زیارت و ملاقات سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔<br />
خوف اگر امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نیکیوں کا سبب ہے تو امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ استقامت اور احکام دین کی اتباع کا سبب ہے ۔ جب بندہ بسبب خوف الہی اس کے احکام کو بجالاتا ہے اور اسے استقامت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ گناہوں میں واقع ہونے سے بچ سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا &#8221; اللہ تعالیٰ صہیب پر رحم فرمائے اگر اسے اللہ تعالیٰ کا خوف نہ ہو تب بھی اس کی نافرمانی نہ کرتے اس سے مراد یہ ہے کہ اگر انہیں جہنم کی آگ سے نجات کا پروانہ بھی مل جائے تو ان کو اللہ تعالیٰ کی جو معرفت حاصل ہے اس کی وجہ سے حق عبودیت کو ادا کرنےمیں قائم رہیں ۔ یہ بندہ ہر ہر سانس اور اپنی ہر ہر حرکت میں اللہ سے ڈرتا ہے ۔ اس کا مولی ہمیشہ اس کے پیش نظر ہوتا ہے وہ گناہوں سے بچنے یا ظاہری و باطنی گناہوں کے عدم وقوع کا دعویدار نہیں ہوتا ، مگر جب اسے مقام احسان حاصل ہو جائے (جو انبیاء اور ملائکہ کو حاصل ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی گناہ میں واقع ہونے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ کوئی بھی بندہ گناہ سے محفوظ نہیں رہتا مگر جب وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یا یہ اعتقاد رکھے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے &#8221; تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اس کا مشاہدہ کر رہا ہے اگر تو اس کا مشاہدہ نہیں کر رہا تو یہ خیال کر کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے ۔<br />
اور خوف رجاء اور امید کا تقاضا کرتا ہے &#8221;</p>
<h2>مقام رجاء</h2>
<p>ارشاد خداوندی ہے<br />
فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَـآءَ رَبِّهٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٓ ٖ اَحَدًا (الکہف :110)<br />
ترجمہ : اور جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو تو اسے چاہیے کہ نیک کام کرےاور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے ۔ حدیث قدسی ہے اے میرے بندے جب تو میری عبادت کرتا ہے اور مجھ سے امید وابستہ کرتا ہے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تو میں تیرے سارے گناہ معاف کردوں گا ۔ اگر تو تمام کرہ ارض جتنے گناہ اور خطا میں لے کر آئے تومیں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ تیرا استقبال کروں گا۔ اور تجھے معاف کر دوں گااور مجھے کسی چیز کی پروا نہیں۔<br />
امام طوسی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رجاء کی تین قسمیں ہیں<br />
( 1) رجاء فی الله (2) اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کی امید (3) اللہ تعالیٰ کے ثواب کی امید<br />
اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت اور اس کے ثواب کی امید اس مرید کیلئے ہوتی ہے جو رب قدوس کے احسانات کا ذکر سنتا ہے اور اس کی بارگاہ سے رجاء وابستہ کر لیتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ جود و سخاوت، فضل واحسان اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اس لیے اس کا دل فضل و کرم کے بھروسے سے مرجوع چیز کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔<br />
اور رجاء فی اللہ اس بندے کا مقام ہے جو مقام رجاء پر فائز ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی ذات کے علاوہ کسی چیز کی رجاء نہیں کرتا امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رجاء مستقبل میں حاصل ہونے والی کسی محبوب شے سے دل کا لگاؤ ہے ۔ رجاء اور تمنا کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں<br />
تمنا کسل اور سستی کا باعث ہوتی ہے ۔ صاحب تمنا محنت اور کوشش کا راستہ اختیار نہیں کرتا بخلاف صاحب رجاء کے اس کی حالت اس کے بر عکس ہوتی ہے<br />
نتیجہ یہ اخذہ ہوا کہ رجاء محمود ہے اور تمنا مردود :۔ اس طرح امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ کی رائے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ سے ملتی ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ رجاء بواسطہ رغبت نیکیوں کی طرف لے جاتی ہے حضرت زید الخیر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں ۔ تاکہ میں پوچھوں کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے محبوب بندے سے راضی ہونے کی علامت کیا ہے ؟ حضور نے ارشاد فرمایا کہ تم نے کیسے صبح کی ؟ عرض کی کہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ نیکی اور نیک لوگ میرے نزدیک پسندیدہ تھے جب کسی پر قدرت رکھتا ہوں اس میں جلدی کرتا ہوں اور اس کے ثواب کا یقین رکھتا ہوں اور جب کوئی نیکی مجھ سے رہ جائے میں اس پرغمگین ہوتا ہوں اور اس کیلئے مشتاق رہتا ہوں۔ تو رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہی علامت ہے اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے راضی ہونے کی (اگر اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ دوسری چیز کا ارادہ کرے تواس کو تیرے لیے مقرر کر سکتا ہے، پھر اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تو کس وادی میں ہلاکت ہوا۔ نبی کریم ﷺ نے اس حدیث پاک میں اس آدمی کی علامت بیان فرمائی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا گیا ہو جو آدمی خیر کی امید رکھتا ہو اور جو بغیر عمل کے طلب کرتا ہے وہ مغرور ہے ۔ بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ رسول باب بنی شیبہ سے اپنے صحابہ کرام کے ہاں تشریف لائے آپ نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا اور فرمایا کہ تم ہنس رہے ہو اگر تم جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے پھر آپ آگے گزر گئے تھوڑی دیر بعد آپ واپس تشریف لائے فرمایا جبریل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے ہیں<br />
نَبِّئْ عِبَادِىٓ اَنِّـىٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْـمُ (الحجر:49)<br />
میرے بندوں کو خبر دو کہ بے شک میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان ۔<br />
امام شعرانی علیہ الرحمۃ کے نزدیک ضروری ہے کہ رجاء عاجزی اور انکساری کے اظہار کے طور پر ہو۔ اور جس چیز کی امید کر رہا ہے، اس کے وقوع کو طلب نہ کرے ، ان کے نزدیک یہ عارفین کی رجاء ہے ۔ کیونکہ وہ لوگ انتہائی صاحب بصیرت ہوتے ہیں۔ کسی چیز کی امید نہیں رکھتے ان کے نزدیک محرومی کی حلاوت عطا کی حلاوت اور شیرینی جیسی ہوتی ہے ۔<br />
جب بندہ ان مقامات پر فائز ہوتا ہے ۔ تو یہ مقامات اس کے لیے طریق و منہج بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فیوضات اور تجلیات کی اس پر بارش ہوتی ہے تو خوف رجاء اور زہد کی منزل سے گزر کر عبد خالص بن جاتا ہے۔ اور اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جاتا ہے اور مشیت ایزدی پر راضی ہو جاتا ہے امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ مقامات طالبین اور احوال راغبین سے گزر کر خالص عبودیت کے مقام پر فائز ہو چکے تھے اس لئے اب ہم مقام عبودیت کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔</p>
<h2>مقام عبودیت</h2>
<p>ارشاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : 52)<br />
ترجمہ: اور میں نے جن اور آدمی اس لیے ہی بنائے کہ میری بندگی کریں۔<br />
ارشاد نبوی &#8221; میں اللہ کا بندہ ہوں تکیہ لگا کر نہیں کھاتا بلکہ اس طرح کھاتا ہوں جس طرح ایک انسان کھاتا ہے۔ (الحدیث بخاری)<br />
ابن عطا اللہ سکندری رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ” سب سے عظیم تر مقام جو بندے کو عطا کیا جاتا ہے وہ مقام عبودیت ہے باقی تمام مقامات کی حیثیت خادموں کی سی ہے اور اس کے عظیم ترین مقام ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے<br />
سبْحانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا (الاسراء : 1)<br />
ترجمہ: پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا۔<br />
وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ (الانفال : 31)<br />
ترجمہ: اور جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتارا۔<br />
كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ذِكْرُ رَحْـمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٝ زَكَرِيَّا (مریم : 1،2)<br />
ترجمہ : یہ ذکر ہے تیرے رب کی اس رحمت کا جو اس نے اپنے بندہ زکریا پرکی ۔<br />
حضرت ذوالنون مصری رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں &#8220;مقام عبودیت یہ ہے کہ تو ہر حال میں اس کا بندہ رہے جس طرح وہ ہر حال میں تیرا رب ہے اس کا معنی یہ ہے کہ تو تقدیر کے معاملے میں اپنے اختیار کو ترک کر دے کیونکہ مقام عبودیت تمام مقامات میں افضل ترین ہے اس لیے ترک تدبیر کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ بندے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام امور کو اللہ کے سپرد کر دے۔<br />
شیخ زورق رحمۃ اللہ علیہ &#8216; ربوبیت اور ربوبیت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ربوبیت کے چار اوصاف ہیں جس طرح عبودیت کے چار اوصاف ہیں<br />
(1) بندہ فقیر ہے جبکہ مولی غنی (2) بندہ ذلیل ہے اور رب صاحب عزت (3) بندہ عاجز ہے جبکہ مولی قادر (4) بندہ ضعیف ہے اور مولی قوی وطاقتور ہے ۔<br />
جو بندہ اللہ تعالیٰ سے غنا طلب کرتا ہے وہ اس کا محتاج ہوتا ہے اور جو اس کا محتاج ہوتا ہے وہ غنی ہو جاتا ہے اور جو اللہ سے عزت طلب کرتا ہے وہ اس کیلئے ذلیل ہوتا ہے اور جو اس کی خاطر ذلیل ہوتا ہے وہ حقیقتاً عزت دار بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے ہماری یہ رائے ہے کہ ربوبیت اور عبودیت کے درمیان کوئی مناسبت نہیں۔ عبودیت کی صفات عجزو ذلت اور رویت تقصیر ہیں ۔<br />
شیخ الاستاذ ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ ، عبادت ، عبودیت اور عبودۃ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں &#8221; یہ وہ مراحل ہیں جن کو طے کر کے بندہ اپنے رب تک پہنچتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ عبودیت ، عبادت سے اتم اور اکمل ہے۔ پہلے عبادت کا درجہ ہے پھر عبودیت اور آخر میں عبودۃ کا درجہ ہے۔ عبادت کا تعلق عام مومنین سے ہے اور عبودیت کا خاص سے عبودۃ کا خاص الخواص سے وہ فرماتے ہیں کہ عبادت اصحاب مجاہدہ کے لیے ہے اور عبودیت ارباب مکابدہ کیلئے اور عبودة اہل مشاہدہ کی صفت ۔ جو اپنے جسم کو اپنے رب کیلئے مختص کر دے صاحب عبادت ہے اور اپنے دل کو اپنے رب کے لئے قربان کر دے وہ صاحب عبودیت ہے اور جو اپنی روح کو اس کے حضورپیش کرنے والا صاحب عبودة ہے۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ” بندے سے عبودیت ہی مقصود ہےکیونکہ یہی اللہ تعالیٰ تک پہنچانے کا قریب ترین راستہ ہے &#8221;<br />
اور عبودیت انتہائی عجز و انکساری کا نام ہے اور انبیاء وصد یقین کے مراتب میں یہی سب سے اعلیٰ مرتبہ ہے اس لیے حضور ﷺ کو جب اختیار دیا گیا چاہیں تو وہ بصورت فرشتہ نبی بن جائیں اور چاہیں تو بصورت بندہ بن جائیں تو آپ نے عبودة کو اختیار کیا۔ اور آپ کا یہ ارشاد &#8221; أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا فَخْرَ &#8221; ( قیامت کے دن میں اولاد آدم کا سردار ہوں گااور مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں) کا معنی یہ ہے کہ میں سرداری پر فخر نہیں کرتا بلکہ مجھے عبودیت پر فخر ہے جو میرے رب کی عطا کردہ ہے اس عبودیت کیلئے نظام کائنات کو وجو د عطا ہوا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔<br />
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاريات : 56)<br />
ترجمہ: اور ہم نے نہیں پیدا کیا جن وانس کو مگر یہ کہ وہ عبادت کریں۔<br />
بندے کی تخلیق اصلاً اس لیے ہے کہ وہ اپنے رب کا بندہ بن جائے اور جب اللہ تعالیٰ اس بندے کو سرداری کی خلعت عطا فرماتا ہے اور اس خلعت میں ظاہر ہونے کا حکم دیتا ہے تو وہ دیکھنے میں تو سردار ہوتا ہے لیکن اپنی ذات میں عبد ہوتا ہے۔ یہ سرداری تو رب کی عطا کردہ زینت ہوتی ہے ۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا گیا کہ لوگ آپ کے جسم کو چھوتے امر برکت حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ مجھے نہیں چھوتے بلکہ اس زیور کو چھوتے ہیں جو میرے رب نے مجھے پہنایا ہے۔ اور فرمایا کیا میں انہیں اس چیز سے منع کردوں جو میری ملکیت نہیں ۔ &#8221; امام شعرانی کے نزدیک عبودیت کے کچھ آداب ہیں۔ مخلصین کو چاہیے کہ وہ ان آداب اور اوصاف سے اپنے آپ کو مزین اور آراستہ کریں۔ بندے کو اس کی محنت کے مطابق ہی اجر ملتا ہے، اور جس قدر اوصاف حمیدہ سے متصف ہوتا ہے اس قدر ا سے مقامات حاصل ہوتے ہیں اور جو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قدرت خارقہ عطا فرمائے اسے چاہیے کہ وہ عجزو انکساری کا اظہار کرے۔ اور جو یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی اطاعت کی قوت اور مجاہدہ نفس عطا فرمائے اسے چاہیے کہ وہ تمام امور کو اللہ کے سپرد کر کے اپنی کمزوری اور ضعف کا اظہار کرے ۔</p>
<h2>آداب عبودیت</h2>
<p>امام شعرانی فرماتے ہیں &#8221; بندے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے مولی کے عطا کر دہ عطیات میں گم ہو جائے اور اپنے مولی کے حقوق کو بھول جائے۔ کیونکہ دنیا و آخرت کی ہر چیز بندے کو اپنے مولی کے خزانے سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَإِنْ مِنْ شَيْ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنه(الحجر: 21)<br />
ترجمہ : اور کوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں<br />
بندے کی ڈیوٹی یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کو بجالائے اور منہیات سے اجتناب کرے اور اس کا یہ عمل کسی طمع یا خوف سے نہ ہو۔ بلکہ اجلال باری تعالیٰ کی وجہ سے ہو۔ اور یہ بھی مناسب نہیں کہ بندہ اپنے عمل پر اجرت کا طالب ہو کیونکہ وہ تو اپنی ذات کیلئے عمل کرتا ہے اور اجرت مانگنا کیسے مناسب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
واللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (الصافات : 96)<br />
ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا اور جو کچھ تم کرتے ہو<br />
بندے کی کوئی ایک عبادت بھی خلل ، نقص اور سوء ادب سے خالی نہیں ہوتی اسلئے اسے ثواب کے مطالبے کا کیا حق ہے حالانکہ وہ اس طرح کی عبادت سے عتاب اور سزا کا مستحق ہے ۔ ادب تو یہ ہے کہ وہ اپنی تمام عبادات اور عاجزی وانکساری کو قلت ادب اور نقص پر معمول کرے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :<br />
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (الزمر : 67)<br />
ترجمہ : اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ قدر کرنے کا حق تھا۔<br />
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے باری تعالیٰ ! ہم تیری ثنا کا حق ادا نہیں کر سکتے ۔ باوجود اس کے کہ طویل قیام سے آپ کے قدم مبارک متورم ہو گئے تھے۔<br />
امام غزالی &#8221; ارشاد فرماتے ہیں &#8220;بعض اوقات بندہ بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ وہ اس سجدے سے اعلی علین تک پہنچ گیا ہے ، حالانکہ اس سجدے میں کو تاہیوں کے گناہوں کو پورے اہل ارض پر تقسیم کیا جائے تو یہ اسے ہلاک کر دیں۔<br />
اور انہی آداب میں سے ہے کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی سے رہے اور آنے والی کسی مصیبت پر اظہار ناراضگی نہ کرے اور اس کی بارگاہ سے جو کچھ بھی عطا ہو اسے حقیر نہ سمجھے ۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے :<br />
رضي الله عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (المائده : 119)<br />
ترجمہ : اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ۔<br />
رسول پاک ﷺ نے فرمایا : د<br />
ذَاقَ ‌طَعْمَ ‌الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا (صحیح مسلم &#8211; ترمذی ۔ مسند امام احمد)<br />
ترجمہ: اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جس نے اللہ کو اپنا رب اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اپنا نبی تسلیم کر لیا &#8221;<br />
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا<br />
أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ ‌بِالرِّضَا فِي الْيَقِينِ، وَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَإِنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى ‌مَا ‌تَكْرَهُ ‌خَيْرًا ‌كَثِيرًا<br />
ترجمہ : &#8220;اللہ کی رضا کیلئے عبادت کر ۔ اگر تجھ سے یہ نہ ہو سکے تو نا پسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے &#8221;<br />
(عارف باللہ ابن عطاء اللہ سکندری فرماتے ہیں کہ جو اللہ سے راضی ہو جاتا ہے وہ اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیتا ہے اور جو اسلام سے راضی ہو جاتا ہے وہ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے اور جو محمد ﷺ پر راضی ہو جاتا ہے وہ آپ کی اتباع کرتا ہے ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رب اپنے بندوں کے معاملات کو خوب جانتا ہے اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کرتا ہے کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے</p>
<p>وَعَسٰٓى اَنْ تَكْـرَهُوْا شَيْئًا وَّهُوَ خَيْـرٌ لَّكُمْ ( البقره : 216)<br />
ترجمہ: اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے لیے بہترہو۔<br />
حکمت الہیہ کا یہ تقاضا ہے کہ وہ بندے کو اس کے ظرف کے مطابق عطا کرے کیونکہ اگر اسے اعلیٰ یا ادنی عطا کر دیا جائے تو اس کی حالت بگڑ جائے گی۔<br />
اور اس حدیث قدسی میں بھی اسی چیز کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بعض بندے ایسے ہیں جن کیلئے فقرہی مناسب ہے اگر میں انہیں غنی کر دوں، ان کی حالت خراب ہو جائے اور بعض بندے ایسے ہیں جن کے لئے غنا مناسب ہے۔ اور میں اگر انہیں فقیر کردوں تو ان کی حالت بگڑ جائے ۔ &#8221; بندے کا موجودہ حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونے کے مطالبے کا معنی یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی اختیار فرمودہ حالت پسند نہیں ہے اور اس کے اس مطالبے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ جاننے والا ہے نعوذ بالله من ذلک اور یہ جہالت اور کفر کے سوا کچھ نہیں ۔ اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ۔</p>
<p>اَعْطٰى كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهٝ ثُـمَّ هَدٰى (طہ: 50)<br />
اس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت عطا کی پھر راہ دکھائی۔<br />
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔<br />
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتارُ ما كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ سُبْحَانَ اللهِ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (القصص : 68)<br />
ترجمہ: &#8221; اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاھتا اور پسند فرماتا ہے ۔ ان کو کچھ اختیار نہیں پاک اور برتر ہے اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے ۔<br />
انہی آداب میں سے ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ ظاہری و باطنی طور پر کسی چیز کو اپنی ملک خیال نہ کرے ۔ قاصر فقیر پر ملکیت باری تعالیٰ کے شہود کا غلبہ ہوتا ہے وہ مخلوق کی ملکیت سے قطع نظر کر لیتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک ہرشے کا مالک خدا ہے اس لئے اس کے نزدیک کسی چیز کو غصب کر لینا یا سود وغیرہ لینا حرام نہیں ہوتا جبکہ فقیر کامل اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و احسان سے کسی کو مجازی ملکیت عطا فرمادے تو وہ اس کا اعتبار کرتا ہے ۔ اس لئے غضب ، غصب اور چوری وغیرہ اس کے نزدیک حرام ہے کیونکہ ہر چیز کا حقیقی مالک اگر چہ اللہ تعالیٰ ہے<br />
لیکن اس نے اپنے بندے کو بھی مجازی اختیارات سے نوازا ہے ۔ ابوالحسن شاذلی&#8221; فرماتے ہیں ” ہر قسم کی ظاہری اور باطنی ملکیت کا دعوی کرنے سے بچو۔ کیونکہ جو بندہ حقیقی ملکیت کا دعوی کرتا ہے وہ مومن ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔<br />
إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ( التوبه : 11)<br />
ترجمہ : بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں۔<br />
مومن وہی ہے جو اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں بیچ دے اور پھر اپنی ذات پر اس کا اپنا کوئی دعوی باقی نہ رہے &#8221; اور آداب عبودیت میں سے ہے کہ بندے کو یقین رکھنا چاہیے کہ اس پر کی جانے والی نعمتوں کی دو صورتیں ہیں<br />
( 1) وہ نعمتیں جو بطور انعام ہوتی ہیں<br />
(2) وہ نعمتیں جو بطور آزمائش و ابتلا ہوتی ہیں۔<br />
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مصائب کے دوران نعمتوں سے نوازا جاتا ہے ۔<br />
امام شعرانی&#8221; فرماتے ہیں کہ بندے کو چاہیے کہ ان دونوں صورتوں کا خیال رکھے اور ان کا حق ادا کرے ۔ انعام کی صورت میں یہ خیال کرے کہ میں اس نعمت کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہوں۔ اور آزمائش کی صورت میں مکرو استدراج سے ڈرے ۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ( القلم : 44)<br />
ترجمہ: قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی۔<br />
دنیاوی زندگی میں نعمتوں کے مقابلہ میں آزمائشیں کثیر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کے پس پردہ آزمائش مضمر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کرے اور اس کی نسبت خالق حقیقی کی طرف کرے اور اللہ کے حکم مطابق اسے خرچ کرے اسی طرح مصائب میں بھی بندے کو چاہیے کہ صبر کرے اور اس کے ازالہ کیلئے رب کی بار گارہ میں رجوع کرے اور اس پر نازل ہونے والے تمام مصائب پر صبرو تحمل سے کام لے ۔ یعنی کسی غیر سے شکوہ نہ کرے کیونکہ اس مصیبت کو وہی دور کر سکتا ہے جو اس کو نازل کرنے والا ہے ۔<br />
اور انہی آداب میں سے ہے کہ بندے کو چاہیے کہ اپنے رب کے سامنے مؤدب رہے اپنے علم کے مطابق بات کرے اور مشابہات قرآن پر ایمان رکھے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کرے اور بغیر تحقیق علوم میں مشغول نہ ہو اور اگر عمل کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کیلئے قرآن کریم کے احکام کا علم کافی ہے اور بندہ جن علوم سے ناواقف ہو ان علوم سے توقف کرنا ہی مناسب ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کسی آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ میں اس کی تفسیر نہیں جانتا۔ تو سائل نے اس پر حیرانگی کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا کونسا آسمان مجھ پر سایہ فگن ہو گا اور کونسی زمین مجھے اٹھائے گی ۔ اگر میں نے اللہ کی کتاب کے بارے میں کوئی ایسی بات کہہ دوں جو مراد نہ ہو ؟<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں ” ان علوم و معارف میں بات کرنا اس کے لیے جائز ہے جس پر یہ حدیث قدسی صادق آتی ہے ” وہ بندہ میری طاقت سے دیکھتا ہے سنتا اور کلام کرتا ہے &#8221; اللہ تعالیٰ کی آیات میں تاویل کرنے سے تسلیم ہی بہتر ہے کیونکہ اکثر لوگ رب کے کلام کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اہل فہم سے نہیں اور جس کی یہ حالت ہو اللہ تعالیٰ نے اس کو توبیخ فرمائی ہے ارشاد رب العلیٰ ہے<br />
فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْعٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهُ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا الله (آل عمران : 7)<br />
ترجمہ : اور جن کے دلوں میں ہے کجی وہ اشتباہ والی آیات کے پیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ کو ہی معلوم ہے &#8221;<br />
کتاب اللہ کو سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ تقوی و پرہیزگاری اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ فرمان و معرفت کا دروازہ اس کیلئے کھول دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت خود بندے کی تعلیم کو اپنے ذمہ کرم میں لے لیتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ،<br />
وَاتَّقُواْ اللّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّهُ (البقره: 282)<br />
ترجمہ : اور اللہ سے ڈرو۔ اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے ۔<br />
اور جس کو اللہ تعلیم دے وہ ہر چیز کو سمجھ جاتا ہے اور انہی آداب میں سے ہے کہ وہ اپنے تمام امور کو خدا کے سپرد کر دے ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ یہ محال ہے کہ مومن کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے جس پر اللہ نے عقاب کی وعید فرمائی ہے اور اگر اس سے گناہ سرزد ہو بھی ہو جائے تو وہ فورا ندامت کا اظہار کرتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے<br />
‌النَّدَمُ تَوْبَةٌ<br />
&#8221; ندامت ہی تو بہ ہے &#8221;<br />
گناہ گار مومن سے ترک ندامت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت پسند نہیں کرتا اور نہ ہی اس پر راضی ہوتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معصیت ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان صادق آتا ہے<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا (التوبه : 102)<br />
ترجمہ : اور ملایا ایک کام اچھا اور دوسرا کام برا<br />
عمل صالح سے مراد یہ ہے کہ اسے معلوم اور یقین ہوتا ہے کہ یہ معصیت ہے اور عمل سیئ سے مراد اس معصیت کا ارتکاب کرنا ہے امام شعرانی فرماتے ہیں کہ بندہ اس قابل نہیں ہے کہ قضائے الہی کے بغیر اس کے حکم کو ظاہرا اور باطنا &#8211; مخالفت کرے کیونکہ ایسا تو وہی بندہ کرتا ہے جو خود مختار ہو اور یہ محال ہے ۔ تمام مخلوقات قہر و قضا کے تحت الوہیت کا دعوی بھی کر دیں تو وہ اس کے حکم سے خارج نہیں ہو سکتے ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًااِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا (الدھر:2،3)<br />
ترجمہ : &#8221; بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے کہ ہم اسے جانچیں تو ہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنا دیا بے شک ہم نے اسے راہ دکھائی یا حکم مانتا یا ناشکری کرتا &#8221;<br />
شیخ ابو الحسن شاذلی&#8221; فرماتے ہیں کہ شیطان مذکر کی طرح ہے اور نفس مونث کی طرح ان دونوں کے درمیان گناہ کا پیدا ہونا ایسے ہی ہے جیسے ماں باپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اس کا معنی یہ نہیں کہ ماں باپ نے اسے وجود بخشا ہے بلکہ اس کا ظہور ان سے ہوا ہے عارف باللہ ابن عطا السکندری فرماتے ہیں کہ شیخ کے اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح عاقل اس میں شک نہیں کرتا کہ بچہ ماں باپ کی تخلیق نہیں اور نہ ہی وہ اس کے موجد ہیں۔ ان کی طرف صرف اس لیے منسوب کیا جاتا ہے کہ اس کا ظہور ان سے ہوتا ہے ۔ اسی طرح مومن شک نہیں کرتا کہ معصیت شیطان اور نفس کی تخلیق نہیں یہ تو صرف ان سے ظہور ہونے کی وجہ سے ان کی طرف منسوب کی جاتی ہے ۔ معصیت کی شیطان اور نفس کی طرف نسبت نسبت اضافی و اسنادی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت تخلیق و ایجاد کی نسبت ہے وہ مولی جس طرح اپنے فضل و احسان سے طاعت کا خالق ہے<br />
اسی طرح اپنے عدل سے معصیت کا بھی خالق ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
قُلْ كُلَّ مِنْ عِندِ اللَّهِ فَمَا لِهُولَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقُونَ حَدِيثًا(النساء : 78)<br />
ترجمہ : &#8221; تم فرما دو سب اللہ کی طرف سے ہے ۔ تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ کوئی بات سمجھتے معلوم نہیں ہوتے &#8221;<br />
اللہ تعالیٰ نے مزید ارشاد فرمایا<br />
الله خَالِقَ كُلَّ شَيْ<br />
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے<br />
ابن عطاء فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ان بدعتیوں کا قلع قمع کرنے والی ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ &#8221; طاعت &#8221; کا تو خالق ہے لیکن معصیت کا خالق نہیں اگر وہ یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ۔<br />
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ<br />
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے ہی تمہیں پیدا کیا اور تمہارے اعمال کو<br />
تو اس کا جواب یہ ہے کہ امر قضا کا غیر ہے ۔ اگر وہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ ٰ کاارشاد ہے<br />
مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنْ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ (النساء:79)<br />
ترجمہ : اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچنے وہ تیری اپنی طرف سے ہے۔<br />
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تفصیل لوگوں کو ادب سکھانے کیلئے ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم محاسن اور خوبیوں کی نسبت اس کی طرف کریں کیونکہ محاسن اور خوبیاں اسی ذات کو زیبا ہیں اور برائیوں کو اپنی طرف منسوب کریں کیونکہ یہی ہمارے لیے مناسب ہے اور یہی حسن ادب کا تقاضا ہے جس طرح کہ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا<br />
فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا( الكہف :79)<br />
ترجمہ : میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں<br />
ارشاد خداوندی ہے<br />
فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا ( الکہف : 82)<br />
ترجمہ : تو آپ کے رب نے چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں۔<br />
ترجمہ: جب میں بیمار ہوتا ہوں وہی مجھے شفا دیتا ہے<br />
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا یا<br />
إذا مَرِضْتُ فَهُوَ ا يشفين (الشعراء : 80)<br />
پس مرض کی نسبت اپنی ذات کیطرف کی اور شفا کی نسبت اپنے رب کی طرف حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی دونوں کا خالق ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ<br />
ترجمہ &#8221; اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے اور برائی تیری اپنی طرف سے &#8221;<br />
اس کا معنی یہ ہے کہ تخلیق اور ایجاد کے اعتبار سے اس کی نسبت اللہ کی طرف ہے اور اضافت اور استاد کے اعتبار سے اس کی نسبت تمہاری ذات کی طرف ہے۔ اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے<br />
الْخَيْرُ ‌فِي ‌يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ<br />
ترجمہ : خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شرکی نسبت تیری طرف نہیں۔<br />
نبی کریم بخوبی جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خیر و شر اور نفع و نقصان کا مالک ہے ۔ لیکن ادبا شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔</p>
<h2>مقامات سالکین</h2>
<p>ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
یا أَهْلَ يَثْرِب لَا مَقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا(الاحزاب : 13)<br />
ترجمہ : &#8220;اے مدینہ والو ا یہاں تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں لوٹ جاؤ&#8221;<br />
نیز ارشاد خداوندی ہے<br />
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنتَهَىٰ (النجم : 42)<br />
ترجمہ: اور یہ کہ تمہارے رب کی طرف ہی انتہاء ہے ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں &#8221; عبد مخلص کے نزدیک ان تمام مقامات کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس لیے اعمال صالح اور سیئہ کی طرف اس کی توجہ نہیں ہوتی کیونکہ جو مقام عبودیت اختیار کر لیتا ہے اور ظاہرا&#8221; اور باطنا عجز و انکساری کا اظہار کرتا ہے اور اپنے تمام تر احوال میں اپنے آپ کو کو تاہ سمجھتا ہے ۔ اس کو ان بیماریوں کے علاج کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے سب سے اعلیٰ احوال کو بھی رب ذوالجلال کے سامنے حیثیت نہ دیتے ہوئے نقص خیال کرتا ہے اس کے نزدیک سب سے اعلیٰ مرتبہ اس بندے کا ہوتا ہے جس کا کوئی مقام ہو اور وہ خیال کرتا ہے کہ اصحاب مقامات کی ہمتیں غایات میں مقید اور منحصر ہو جاتی ہیں اور جب وہ ان غایات تک پہنچتے ہیں تو ان کے دلوں میں نئی غایات پیدا ہو جاتی ہیں وہ اسی طرح ان غایات کے حصول میں لگے رہتے ہیں۔ لیکن عبد مخلص کا یہ حال نہیں ہوتا کیونکہ اسے ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے جب انہیں یہ مشاہدہ حاصل ہو جاتا ہے تو وہ مقامات کی تلاش میں نہیں پھرتا بلکہ ہمیشہ مشاہدۂ حق میں مستغرق رہتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی عنایات سے اس کے ساتھ ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَمَا كُنتُمْ (الحديد : 4)<br />
ترجمہ: اور وہ تمہارے ساتھ ہی ہے تم جہاں کہیں بھی ہو۔<br />
امام شعرانی اپنے نفس کی حالت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں ان مقامات کو کیوں نہ حاصل کرلوں جن پر اولیاء عظام فائز ہوتے ہیں اور میں نے اپنی موجودہ حالت کو حقیر سمجھا اور میری طبیعت مکدر ہو گئی کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی نہ ہونے کےمترادف ہے اس لئے مجھے سوء خاتمہ اور اللہ تعالیٰ کی ناراستگی کا خوف لاحق ہوا۔ اور میں اس حالت میں گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی میں فرستاد کے مقام پر ہی پہنچا تھا کہ مجھ پر نیم خوابی کی حالت طاری ہو گئی اور میں نے ہاتف غیبی کو سنا۔ اے بندے ! اگر میں تجھ کو تمام کائنات ریت کے ذرات نباتات اور ان کے اسماء اور ان کی عمریں، حیوانات اور ان کی عمریں اور مختلف نسلوں پر آگاہ کردوں اور تیرے لیے زمین و آسمان کے ملکوت اور جنت دوزخ اور مافیہا کو مشرف کردوں اور تیری دعا پر بارش نازل کردوں مردوں کو زندہ کر دوں اور تجھے تمام کرامات عطا کر دوں۔ جو میں نے اپنے مومن بندوں کو عطا کی ہیں تو پھر تیرے لیے مقام عبودیت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ امام شعرانی فرماتے ہیں کہ اس کلام کے مکمل ہوتے ہی دنیا و آخرت کے مقامات اولیاء میں سے کسی کی خواہش باقی نہ رہی جس پر میں نے اللہ تعالیٰ کی اس عطا پر شکر یہ ادا کیا ۔<br />
مخلص بندو نہ تو کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے اور نہ ہی خواہش وہ ہمیشہ رضا کا دامن تھامے رکھتا ہے اور اپنے تمام تصرفات اور احوال میں پر سکون رہتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ گروہ مخلصین میں سے سب سے اعلیٰ مرتبہ ( عبودیت) اپر فائز بندے کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ کیونکہ مقام ” صاحب مقام پر حاکم ہوتا ہے اور مرد تو وہ ہوتا ہے جو دوسروں پر حکمرانی کرے نہ کہ اس کے برعکس۔</p>
<h2>مقام عبودیت سے محروم کر دینے والےاحوال و مقامات</h2>
<p>اب ہم سالکین کے چند احوال و مقامات ذکر کرتے ہیں جو انہیں مرتبہ عبودیت سے محروم کر دیتے ہیں ۔<br />
(1)بندے کا یہ خیال کرنا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے رجوع کر لیا ہے اس کو درجہ عبودیت سے خالی کر دیتا ہے پس اسے چاہیے کہ وہ اس خیال سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے تو بہ کرے ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
أَنْ لَا يَتَّخِذُ مِنْ دُونِهِ وَكِيلاً<br />
ترجمہ: کہ تم اس کے علاوہ کسی کو کار ساز نہ بناؤ۔<br />
امام شعرانی&#8221; فرماتے ہیں ” جب بندہ عطا اور ھدیہ میں مشغول ہو جائے تو صاحب عطا سے محجوب ہو جاتا ہے<br />
&#8221; شیخ شبلی&#8221; فرماتے ہیں کہ توبہ کی حد یہ ہے کہ پوری کائنات میں اللہ کے سوا تیری نگاہ میں کوئی نہ ہو<br />
(2) سلطنت ارض و سماء میں غور و فکر کرنا<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں یہ دراصل اس تعلق کی جستجو ہے جو بندے کا اپنے رب سے ہوتا ہے بندہ ہر جگہ بلا قید مکان اپنے مولی کا مشاہدہ کرتا ہے اور ہمیشہ اس کی بارگاہ میں حاضر رہتا ہے اور دل و زبان کے ساتھ جب بھی کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے تو بڑی عاجزی کے ساتھ عبد مخلص عطا کو عدم عطا پر ترجیح نہیں دیتا ۔ کیونکہ عطا کو عدم عطا پر اور سعادت کو شقاوت پر ترجیح نہ دینے کا مقصد یہ ہے ۔ کہ وہ ابھی تک نفس کے دھوکہ میں مبتلا ہے ۔ مع هذا یہ اللہ تعالیٰ پر حکم صادر کرنے کے مترادف ہے بندے کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی ذات میں غور و فکر کرے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تَبْصِرُونَ<br />
ترجمہ : اور تمہارے نفسوں میں کیا تم سوچتے نہیں ہو<br />
شاید اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کے لئے اپنی ذات میں غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہم اپنی ذات کی حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے اور جب ہم اپنی ذات کی حقیقت کے ادراک ہی سے عاجز ہیں تو اس کی ذات کی سے معرفت تو اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ حادث قدیم کا احاطہ کیسے کر سکتا ہے (فانی باقی ذات کی حقیقت سے کیسے پردہ اٹھا سکتا ہے) نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ‌تَفَكَّرُوا ‌فِي ‌خَلْقِ ‌اللَّهِ وَلَا ‌تَتَفَكَّرُوا ‌فِي ‌الله ‌فَتَهْلكُوا (البيہقي)</p>
<p>ترجمہ: ارشاد فرماتے ہیں &#8220;اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرو اور اس کی ذات میں غور و فکر نہ کرو ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ۔<br />
ذات خداوندی کا ادراک عقل و فکر سے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر عقلی دلیل شک و شبہ سے خالی نہیں ہو سکتی ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا( طہ : 110)<br />
ترجمہ: اور ان کا علم اسے نہیں گھیر سکتا ۔<br />
غایت معرفت ، معرفت سے عجز ہے، جس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے امام شعرانی فرماتے ہیں کہ عجز سے مراد یہ ہے کہ عقلی دلیل کے ساتھ اللہ کی ذات پر ایسا حکم لگانا جو اس کی ذات کے شایان شان نہ ہو۔<br />
ابو الحسن نوری&#8221; سے دریافت کیا گیا کہ اللہ کی معرفت کیسے حاصل ہوئی فرمایا اللہ ہے ۔عرض کی گئی عقل کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ فرمایا عقل تو خود عاجز ہے اس لیے وہ صرف عاجز چیز کی طرف اشارہ کر سکتی ہے جس نے عقل کے ذریعے اللہ کا علم حاصل کیا نہ کہ اس کے دلائل اور غور و تدبر سے۔ تو یہ چیزعلم باللہ کے حصول میں منافی نہیں ہے۔ کیونکہ اس کا علم بھی تو اس حکیم دانا اور قابل صد ستائش کا عطا کردہ ہے۔<br />
(3) کیفیت حزن عبد کسی چیز کی محروی پر غمگین نہیں ہوتا کیونکہ اگر وہ چیز اس کی قسمت میں ہوتی ہے تو اسے مل جاتی اور جس وقت میں اللہ تعالیٰ ٰ کی طاعت مقدر ہوتی ہے اس وقت کا طاعت سے خالی ہونا ممکن نہیں اور جس وقت میں سستی و کاہلی مقدر ہے وہ اس سے خالی نہیں ہو سکتا۔ نیند کا وقت بیداری میں اور بیداری کا نیند میں تبدیل نہیں ہو سکتااسی طرح غیر ولی ولی نہیں بن سکتا ایسا نہیں کہ جس چیز سے بندہ محروم ہوتا ہے وہ پہلے اس کی قسمت میں لکھی ہوئی تھی بعد ازاں اس سے محروم کر دیا گیا کہ وہ اس پر غمگین ہو بلکہ یہ تو ایک غیر حاصل چیز کا وہم ہے۔ ا<br />
مام شعرانی فرماتے ہیں کہ حزن توجہ الی اللہ میں خلل انداز ہوتا ہے حالانکہ بندہ کو حکم ہے وہ اپنی پوری سانس میں اللہ کی طرف متوجہ رہے اور اگر اسباب کی طرف توجہ ہو تو یہ سمجھے کہ یہ اسباب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیے گئے ہیں جو انسان دنیا و آخرت کی کسی چیز پر ناراض ہوتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے بر عکس اس کیلئے بہتر تھا تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں مبتلا ہونے والا ہے کیونکہ کسی چیز پر غمگین ہونا اللہ تعالیٰ کے خلاف ادب ہے کیونکہ وہ ایسی چیز کو طلب کرتا ہے جو اس کے مقدر میں نہیں گویا یہ شخص اپنے نفس کے تابع ہے اگر وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے تابع ہوتا تو ہر حال میں راضی رہتا۔<br />
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جسے رضا اور موافقت کا نور حاصل ہو جائے وہ کیسے غمگین ہو سکتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ (یونس:62)<br />
ترجمہ : سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ غم ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ ہماری مذکورہ بحث سے امرالہی پر ترک عمل لازم نہیں آتا۔ امرو نہی کے بعد بندہ پر جب موافقت و مخالفت لازم آتی ہے تو وہ ازل سے ہی علم الہی میں ہوتی ہے اور بندے کیلئے ضروری ہے کہ اس سے جو بھی افعال سرزد ہوں اس کا خیال رکھے اور اگر تو اس میں امرالہی کی مخالفت ہو تو اس سے توبہ کرے اور مغفرت طلب کرے ۔ اور اگر موافقت ہو تو اس کا شکریہ ادا کرے اور جس آدمی کو نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد<br />
فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ترجمہ :۔ ہر برا انسان کے لیے آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے اس کی تخلیق ہوتی ہے )<br />
کا معنی سمجھ آجائے تو اسے یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے ۔<br />
(4) خوف و رجاء اس سے مراد وہ خوف ہے جو عظمت و جلال خداوندی سے پیدا ہوتا ہے ہر انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کی پہچان اپنے رتبہ اور معرفت الہی کے مطابق کرتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا &#8221;<br />
أَنَا ‌أَعْرَفُكُمْ ‌باللَّه، ‌وَأَخْوَفُكُمْ ‌مِنْهُ<br />
ترجمہ : میں تم سب سے زیادہ معرفت الہی رکھنے والا اور سب سے زیادہ خوف الہی رکھنے والا ہوں۔<br />
امام قشیری &#8221; فرماتے ہیں &#8221; ولی کی صفت یہ ہے کہ اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا کیونکہ خوف مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیزکی بنا پر ہوتا ہے اور ولی اپنے حال میں اتنا مست ہوتا ہے کہ اسے اپنے مستقبل کی خبر ہی نہیں ہوتی ۔ اس لیے اسے کسی چیز کا خوف کیسے ہو ؟ ولی کیلئے خوف کی طرح کوئی رجاء بھی نہیں ہوتی کیونکہ رجاء کسی محبوب چیز کے حصول یا کسی مکروہ چیز سے نجات ہے ۔ عقاب کی وجہ سے خوف رکھنا محبو بین کا خاصہ ہے اور عبد کامل کو اپنے مولی سے کوئی حجاب نہیں ہوتا اور رضائے الہی کے سامنے اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی ۔ تو وہ عقاب وغیرہ کے سبب سے کیسے ڈر سکتا ہے ۔ کیونکہ اس کا یہ خوف اس گمان کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی ناپسندیدہ چیز کو دور کرے حالانکہ وہ اس چیز سے عاجز ہے اور ایسا سوچنا خلاف ادب بھی ہے ۔ وہی رجاء مطلوب و مقصود ہے جو بطور اظہار عجز و انکساری ہو نہ کہ کسی چیز کے مطالبہ کیلئے ہو۔ اور یہ عارفین کی رجاء ہے کیونکہ یہ لوگ صاحب بصیرت ہوتے ہیں۔ اور ان کے نزدیک کسی چیز کی رجاء مطلوب و مقصود نہیں ہوتی اور عطاء و حرمان ان کیلئے برابر ہوتے ہیں اور جو یہ مطالبہ کرے کہ ہر چیز اس کی امید کے مطابق واقع ہو تو یہ حق باری تعالیٰ کے مقابل آنے اور رب قدوس کی ملکیت کو مقید کرنے کے مترادف ہے اور اس میں سوء ادب بھی ہے کیونکہ وہ اس طرح غیر مستحق چیز کا مطالبہ کر رہا ہے امام شعرانی&#8221; فرماتے ہیں ” یہ تو نفس کی رعونیت اور اس کی متابعت کرنا ہے حالانکہ مخلص بندے کا اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کوئی ارادہ و اختیار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے<br />
وَرَبِّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ مَا كَانَ لَهُمُ الْخَيْرَةِ سُبْحَانَ اللهِ وَتَعَالَى عمَّا يُشْرِكُونَ (القصص )<br />
ترجمہ : اور تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور پسند کرتا ہے ۔ ان کا کچھ اختیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ پاک اور بدتر ہے شرک ہے۔<br />
عارف با اللہ ابن عطاء اللہ سکندری فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ نے بندے پرترک تدبیر کو لازم کر دیا ہے ۔ اور ہر چیز پر اختیار کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس چیز سے پاک ہے کہ بندہ اس کے اختیار میں شریک ہوار شاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
امْ لِلْإِنْسَانِ مَا تَمَنَّى فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالأولى (النجم : 25:24)<br />
ترجمہ : کیا آدمی کو مل جائے گا جس کی وہ تمنا کرے تو آخرت اور دنیا کا مالک اللہ ہی ہے ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اختیار اور ارادہ کا دعوی کرتا ہے وہ حقیقتاً مشرک اور لسان حال سے ربوبیت کا مدعی ہے ۔ اگر چہ زبان قال سے وہ اسے نامناسب خیال کرتا ہے۔ امام شعرانی کے نزدیک وہ اختیار جو ہر فعل کو لازم ہے وہ قابل مذمت نہیں ۔ بلکہ یہ تو لوازم عبودیت میں سے ہے۔ کیونکہ امرالہی کو بجالانا اور منہیات سے اجتناب اسی وقت ممکن ہے جب دل فعل یا ترک فعل کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور بغیر اختیار کے کسی فعل کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے مگر اس شخص سے جو مجبور ہو اور جس کے اعضاء رعشہ کی وجہ سے کانپتے ہوں ۔<br />
قلب سلیم وہی ہوتا ہے جس کا اللہ کے سوا کسی سے تعلق نہ ہو۔ کسی بزرگ نے فرمایا &#8221; اگر مجھے اس چیز پر مجبور کیا جائے کہ میں اللہ کے سوا کسی چیز کو دیکھوں تو یہ میں نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے ساتھ تو کوئی غیر ہے ہی نہیں۔<br />
( 5) بندے کا یہ خیال کرنا کہ وہ اہل تبتل میں سے ہے ۔<br />
اورتبتل کا معنی یہ ہے کہ بندہ تمام لوگوں سے منہ موڑ کر اللہ کا ہو جائے اس سے یہ مفہوم اخذ ہوتا ہے کہ بندہ مخصوص طریقے اور مخصوص حال کے ذریعے قرب و وصال کا طالب ہے۔ چاہے یہ حالت اور طریقہ خلوت ہو بھوک ہو یا کوئی اور ۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ عبد کامل اپنی خلوت اور جلوت اور سکون و حرکت میں کسی چیز کا طالب نہیں ہوتا اور شیخ ابوالحسن شاذلی فرماتے ہیں کہ بعض اللہ والوں کے نزدیک طاعت اور اوراد کے ذریعے حصول قرب کا طالب ہونا بھی گناہ ہے کیونکہ مستقبل میں پیش آنے والے تمام امور لوح محفوظ میں لکھے جاچکے ہیں ۔ کسی کا تقوی اس میں زیادتی نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کا فجور اس میں کمی کر سکتا ہے اس لئے اے بندے ! اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مطابق زندگی بسر کر۔<br />
ارشاد باری تعالیٰ ہے : &#8211; الا لله الدِّينُ الخَالِصُ<br />
ترجمہ : خبردار! اللہ کا دین ہی خالص ہے<br />
اس سے عمل کے حکم کو ترک کرنا لازم نہیں آتا۔ کیونکہ اسے ترک کرنا صحیح نہیں پس بندے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس سے سرزد ہونے والے افعال کا خیال رکھے اگر تو ان میں اللہ کے حکم کی مخالفت ہو تو تو بہ واستغفار کرے ۔ اور اگر اللہ کے حکم کی موافقت ہو تو اس کا شکر ادا کرے ۔ اور جو نبی کریم کے اس ارشاد &#8221; فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ &#8221; کا معنی سمجھ گیا اس نے اس معنی کو پالیا ۔ اور متبتل کا یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ کے سوا ہر چیز کو ترک کر کے اللہ کی طرف نکل گیا ہے ۔ یہ محض جہالت ہے۔ کیونکہ اس کا یہ گمان ہے کہ عالم اللہ سے جدا اور اللہ عالم سے جدا ہے ۔ اس لیے اپنے وہم و گمان کے مطابق فرار الی اللہ کو اختیار کیا اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اشیاء کی حقیقت کو نہیں پایا۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ اگر اس نے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد &#8221; فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ&#8221; سن کر یہ بات کی ہو ۔ تو یہ صحیح ہے لیکن اس نے بعد والی آیت میں غور نہیں کیا۔ کیونکہ اسی آیت کے بعد ارشاد باری تعالیٰ ہے<br />
وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ الله إلها آخر (الذاريات : 59)<br />
ترجمہ: اور اللہ کے ساتھ معبود نہ ٹھہراؤ<br />
اگر وہ اس آیت میں غور کرتا تو جان لیتا کہ یہاں فرار سے مراد جہالت سے علم کی طرف فرار ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔<br />
(6) بندے کا یہ خیال کرنا کہ وہ اہل استقامت سے ہے بنده استقامت کا دعوی کیسے کر سکتا ہے حالانکہ سید الانبیاء علیہ التحیہ والثناء<br />
ارشاد فرماتے ہیں ”سورہ ھود اور اس کی مثل دوسروں سورتوں نے مجھ پر بڑھاپا طاری کر دیا۔<br />
صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ ارشاد سورہ ھود کی آیت فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ کی وجہ سے تھا۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ اگر بندے کو مقام استقامت حاصل ہو جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہوتا ہے کیونکہ بندے کو استقامت میں قائم کرنے والی وہی ذات ہے اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ اس قسم کا دعوی نہ کرے ۔ تاکہ کہیں وہ اس سے محجوب نہ ہو جائے۔ امام ابو الحسن شاذلی&#8221; فرماتے ہیں کہ ولی کو ہرگز وصال نہیں ہو سکتا۔ جب تک وہ حیلہ و تدبیر اور ذاتی اختیارات میں مشغول ہو۔<br />
(6) دنیا اور آخرت سے زہد اختیار کرنا۔<br />
کیونکہ بندے کا اپنے آپ کو زاہد خیال کرنا اسے اپنے مولی سے محجوب کر دیتا ہے اس لیے بندۂ مخلص عطا اور عدم عطا میں اپنے مولیٰ پر نظر رکھتا ہے۔ اور کسی چیز کے ترک واخذ کو اپنی ذات کی طرف منسوب نہیں کرتا۔ کیونکہ جو چیز اس کی قسمت میں ہے اس میں زہد کرنا صحیح نہیں ۔ اور جو چیز اس کی قسمت میں نہیں ہے اس سے اجتناب کیلئے زہد کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ وہ چیز اس کے لیے ہے ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ غیر مطلوب چیز کی طرف زاہد کا دل مائل نہیں کرتا۔ اور اس کو تنگی معیشت سے راہ دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی حکمتوں کو خود ہی بہتر جاننے والا ہے شیخ شبلی سے زہد کے متعلق سوال ہوا۔ تو فرمایا &#8221; حقیقت میں زہد کا کوئی وجود نہیں کیونکہ زاہد کا زہد یا تو ایسی چیز کے لئے ہو گا جو اس کے مقدر میں نہیں ہے تو اسے زہد نہیں کہہ سکتے ۔ یا اس کا زہد ایسی چیز میں ہو گا جو اس کیلئے ہو تو وہ اپنے پاس موجود چیز میں زہد کیسے کر سکتا ہے ؟<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ زاہد کا دنیا کو ترک کرنا اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہ دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ اور ترک دنیا قرب الہی کا ذریعہ اس وقت بن سکتا ہے۔ جب اس کو اس طریقہ پر ترک کیا جائے جو رب کے نزدیک محمود ہو ۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔<br />
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ (الشعراء : 89٬88)<br />
ترجمہ : جس دن نہ مال کام آئے گا۔ نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہواسلامت دل لے کر۔<br />
بلکہ ترک دعوی ہی استقامت ہے خواہ مدعی اس بات کا خواہاں ہو یاابطال کا ۔ خواہ ظاہر ہو یا باطن ۔<br />
(7) بندے کا اپنے آپ کو متوکلین سے شمار کرنا کیونکہ یہ مقام تو عوام کا ہے ۔ اور عبد مخلص کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام امور کو اپنے ذمہ لے لیا ہے اور بندے کو اس میں کوئی اختیار نہیں ہے عبد مخلص تو کل کے عام مرتبے سے بلند مرتبے پر فائز ہوتا ہے ۔ اور مخلصین کا توکل یہ ہوتا ہے کہ انہیں یہ یقین حاصل ہو جائے کہ تمام امور اللہ کے سپرد ہیں اور ان کا یہ قول توكلنا على الله حکم الہی کی پیروی اور خشوع و خضوع کیلئے ہوتا ہے وہ اپنے عجز کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم کسی چیز کے مالک نہیں ۔ یہ لوگ حکم الہی کی بجا آوری میں مشغول ہو گئے ۔ اور جن امور کا اللہ تعالیٰ ضامن تھا ان کی طرف انہوں نے توجہ نہ دی کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے نفسوں کے سپرد نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے مراتب کو بلند کر دیا اور ان کے انوار کو مکمل کیا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اپنے فضل واحسان سےروز قیامت ان سے حساب ہی نہ لے جیسا کہ ارشاد نبوی ہے<br />
سَبْعُونَ الْفَا مِنْ أُمَّتَى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابِ (البزار)<br />
میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔<br />
اور اللہ تعالیٰ اس بندے سے حساب کیسے لے جس کی کوئی شی ہی نہیں اور اسے اس کے فعل کے متعلق کیسے سوال کرے جس کا اپنا کوئی فعل ہی نہیں۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں کہ وہ عوام الناس جن کو اس حقیقت سے شناسائی نہیں ہوتی کہ تمام امور اللہ کیلئے ہی ہیں ان کا تو کل یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے امور میں اللہ تعالیٰ کو وکیل بنا دیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں یہ ان کی ملکیت ہے اور وہ ان اموال کے مالک ہیں کیونکہ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد&#8221; اموالكم&#8221; (تمہارے مال) سنا انہیں یہ وہم ہو گیا۔ کہ اس سے مراد ملکیت کی نسبت ہے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ یہ نسبت اس طرح ہے جو &#8220;سرج الدابه &#8221; (گھوڑے کی زین) اور ” باب الدار&#8221; (گھر کا دروازہ) میں ہے ان متوکلین سے یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے کس چیز میں اپنے رب کو وکیل بنایا ہے اگر تو امر میں اس کو وکیل بنایا ہے تو وہ تمہارے وکیل بنانے سے قبل ہی مالک تھا۔ بندے کا یہ گمان کرنا کہ وہ اہل تسلیم میں سے ہے اور تعلیم کا معنی یہ ہے کہ ہر چیز کو اللہ کے سپرد کر دیتا۔ اور بندے کے اس قول میں جہالت اور دعوی ہے وہ مخفی نہیں کیونکہ بندہ تو ظاہراً وباطنا کسی چیز کا مالک ہی نہیں وہ اس چیز کو کسی کے سپرد کیسے کر سکتا ہے ۔ اور مخلصین نے جب یہ مشاہدہ کیا کہ ان کی ذوات وصفات اور تمام تر کائنات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف فرماتا ہے اور کوئی چیز بھی اس کے تصرف سے خارج نہیں ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں تو وہ اس وجہ سے اس دعوی سے سلامت رہے بندے کا یہ گمان کرنا کہ وہ اہل رضا میں سے ہے۔ کیونکہ رضا ارادے کی قسم ہے اور مخلص بندے کا کسی حال میں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی ارادہ نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنی ذات کیلئے رضا اورسخط کو اختیار نہیں کرتا۔ اور وہ ایک شی کو دوسری شئی پر اور ایک حال کو دوسرے حال پر ترجیح نہیں دیتا۔ بلکہ وہ ہر حال میں اللہ سے راضی رہتا ہے۔ اگر وہ شرعاً معصیت ہو تو وہ اس سے اس حیثیت سے راضی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ فعل باری تعالیٰ ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تو بہ واستغفار بھی کرتا ہے کیونکہ اس میں اس کا کسب بھی شامل ہے کیونکہ اس نے حکم خداوندی کی مخالفت کی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بندے کیلئے دلائل نصب کیے اور اپنے رسولوں کو بھیجا۔ اور عقل کی تخلیق کی۔ بندہ قضا سے تو راضی ہوتا ہے لیکن مقضی پر نہیں ۔<br />
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ادب کا تقاضایہ ہے کہ بندہ نہ تو عطا میں زیادتی کا طالب ہو اور نہ ہی مصائب میں کمی کا کسی عارف نے اس کا مطالبہ کیا تو ندا آئی اے بندے !ہم نے جو تیرے لیے منتخب کیا ہے وہ تیرے ذاتی اختیار سے بہتر ہے ہمارے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔<br />
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سوال کیا کہ وہ مجھے نماز تہجد کی توفیق عطا فرمائے ۔ تو مجھے تین دن تک فرائض سے محرومی کی سزا ملی پھر ندا آئی ہمارا بندہ بن جا تو آرام پالے گا۔ اگر ہم تمہیں سلا ئیں تو سوجا۔ اور اس حالت پر راضی رہ۔ اور اگر ہم قیام لیل کی توفیق دیں تو قیام کر۔ اور اس حالت پر شکر کر اور ان دونوں کے سوا تیرے لیے کوئی راستہ نہیں ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کا بندہ بن گیا تو مجھے راحت حاصل ہو گئی میرے لیے نیند اور بیداری برابر ہو گئی کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھی ہے اور اسی میں ہی میری بھلائی ہے۔<br />
امام شعرانی فرماتے ہیں اگر زیادتی خیر کی طلب عاجزی و انکساری کے طور پر ہو ۔ تو اس میں کوئی حرج نہیں جس طرح ارشاد خداوندی بر زبان موسیٰ علیہ السلام ہے<br />
رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِير&#8221; (القصص: 24)<br />
ترجمہ: اے میرے رب ! میں اس آنے کا جو تو میرے لیے اتارے محتاج ہوں۔<br />
اس سے معلوم ہوا کہ بندے کو صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے جو کچھ اس کے پاس ہو کہ وہ غنا کا اظہار کرے ۔ اس طرح وہ اپنی حدود سے فارغ ہو جائے گا رب کے علاوہ کسی اور منعم کو نہیں پائے گا۔ بندہ ہر حال میں رب ذو الجلال کا محتاج ہوتا ہے چاہے وہ اقرار کرے یا انکار ۔ اگر اختیاراً سوال نہ کرے تو&#8221;اضطرارا &#8221; سوال کرنا پڑتا ہے<br />
عارف بالله ابن عطاء اللہ سکندری&#8221; فرماتے ہیں &#8221; اللہ تعالیٰ سے طلب مقام عبودیت کے منافی نہیں کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کو مقام عبودیت میں کمال حاصل تھا۔ اس کے باوجود بھی آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دامن طلب پھیلایا۔ اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے طلب کرنا عبودیت کے منافی نہیں اگر آپ یہ کہیں کہ طلب مقام عبودیت کے منافی نہیں ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگارہ سے طلب کیوں نہیں کیا تھا جب آپ کو منجنیق میں رکھا گیا۔ تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی ۔ کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے ؟ آپ نے فرمایا مجھے تجھ سے کوئی حاجت نہیں مگر اللہ کی بارگارہ سے &#8221; حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی کہ مجھ سے سوال کرو ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا &#8220;میرا مولیٰ میرے حال کو خوب جانتا ہے یہاں آپ نے بارگاہ خداوندی سے سوال نہیں کیا اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہر مقام پر وہی عمل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں سمجھ عطا ہوتی ہے اور یہ کام مناسب ہے۔ اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام یہی سمجھے کہ عدم سوال اور اللہ تعالیٰ کے علم پر اکتفا ہی کافی ہے ۔ اور موسیٰ علیہ السلام نے یہ جان لیا تھا کہ اس مقام پر فقر اور اظہار سوال ہی مطلوب ہے ۔<br />
اس لیے بارگاہ خداوندی میں دست سوال دراز کیا۔ کیونکہ ارشاد خداوندی ہے<br />
وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا<br />
ترجمہ: اور ہر ایک کے لئے توجہ کی ایک سمت ہے کہ وہ اسی کی طرف منہ کرتا ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%2588%25d8%25a7%25d9%2583%25d9%25b9%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25d9%2586-%25d8%25b9%25d9%2585%2F&#038;title=%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D8%A7%D8%B2%20%DA%88%D8%A7%D9%83%D9%B9%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%B9%D8%A8%D8%AF%20%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%86%20%D8%B9%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%81%20%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B5%D8%B1%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d8%a7%d8%b2-%da%88%d8%a7%d9%83%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%86-%d8%b9%d9%85/" data-a2a-title="مقامات سلوک از ڈاكٹر محمد عبد الرحمن عمیرہ المصری"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d8%a7%d8%b2-%da%88%d8%a7%d9%83%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%b9%d8%a8%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d9%86-%d8%b9%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مفتاح اللطائف</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 30 May 2024 10:21:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[پہلی منزل شریعت]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت سیپ ہے]]></category>
		<category><![CDATA[شریعت کشتی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[طریقت دریا ہے]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت موتی ہے]]></category>
		<category><![CDATA[مفتاح اللطائف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9089</guid>

					<description><![CDATA[رسالہ نقشبندیہ مسمّٰے بہ مفتاح اللطائف از تصنیف لطیف قدوۃ السالکين زبدۃ العا رفین جناب فیض ماب خواجہ محمداسلم بن خواجہ جلال الدین قد س سرہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ الِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا عَلَى سَوَاءٍ الطَّرِيق وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>رسالہ نقشبندیہ مسمّٰے بہ</p>
<h1>مفتاح اللطائف</h1>
<p>از تصنیف لطیف<br />
قدوۃ السالکين زبدۃ العا رفین جناب فیض ماب خواجہ محمداسلم بن خواجہ جلال الدین قد س سرہ<br />
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ<br />
اَلْحَمْدُ الِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا عَلَى سَوَاءٍ الطَّرِيق وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِنَا بِالصِّدْق وَالتَّحْقِيقِ، وَعَلَى أَصْحَابِهِ الْعِظَام وَالہ الْكِرَام وَالتَّابِعِينَ رِضْوَانُ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ. تمام ستائشوں کے لائق تو وہی ذات ہے، جس نے ہم کو سید ھی راہ بتائی اور رحمت اور سلام ہو ہما رے رسول محمد ﷺ پرجو سچے اور صادق ہیں آپ کے بزرگ دوستوں اور آل تابعین پر خوشی ہو خداوند تعالیٰ کی۔ بعد اس کے کہتا ہے فقیر حقیر پر تقصیر محمد اسلم بن شاہ جلال خان مولف اس رسالہ نقشبندیہ کا جو سے بمفتاح اللطائف ہے کہ یہ سالہ چند فصلوں میں ہے جن میں بیان وظیفوں اور ذکروں و لطیفوں مقامات عالیہ نقشبندیہ کا ہے۔ اور خاتمہ میں شجرہ طیبہ مبار کہ رکھا گیا ہے تا کہ صادق الیقین اورسچے طالب و مقبول سالک بہرمند ہوں وبالله التوفيق وعليه التكلان اللهم ارنا الحق حقاو ارزقنا اتباعه أمرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ( اور اللہ ہی کےساتھ توفیق ہے اور اسی پر توکل اے اللہ دکھلا ہم کو حق ٹھیک ٹھیک اوروزی کر ہم کو اسکی اطاعت کی اور دکھا ہم کو جھوٹ کو جھوٹ اور روزی کر ہمارے بچنا اُس سے۔<br />
اے سچےطالب پہلی منزل شریعت اور اس میں مرتبہ عبودیت کا ہے جیسا کہ حق تعالی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِاور میں نے جِنّ اور آدمی اسی لئےبنائے کہ میری بندگی کریں پس پیدائش انسان کی تو عبادت کے لئے ہی ہے تاکہ میری عبادت کرے اور میری طرف توجہ لائے اور سیدھا راستہ پائے جس نے عبادت نہ کی نعمت سے حصہ نہ پایا۔ خسارہ اور ٹوٹا حاصل کیا ۔ ومَن كانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَ أضَلُ سَبِیلا اور جو آدمی اندھا ہے د نیا میں معرفت خداسے و اندھا ہو گا قیامت کے دن دیدار خدا سے اور وہ بہت بھولا ہوا ہے سیدھے راستہ سے) ۔ وجاء في حديث النبي عليه الصلوة والسلام ‌كَمَا ‌تَعِيشُونَ ‌تَمُوتُونَ وَكَمَا تَمُوتُونَ ‌تُبْعَثُونَ وَكَمَا ‌تُبْعَثُونَ تُحْشَرُونَ ) فرمایا نبي عليه الصلوة والسلام نے کہ جس حال میں تم ہو گے اسی میں مروگے جس حال میں تم مرے اس حال میں اٹھائے جاؤگے اور جس حال میں اٹھائے جاؤگے اس حال میں تمہارا حشر ہوگا ) . پس شریعت کے لغوی معنی شروع کرنے کے ہیں، یعنی رجوع کرنا بوسیلہ عبادت کے حق تعالے کی طرف جیساکہ صاحب شرع رسالت پناہ ﷺ نے فرمایا ہے بنی الاسلام علی خمسة اشیاء پانچ چیزوں پرا سلام کی بنیاد ہے اول کلمہ شریف پڑھنا دوم نماز کا ادا کرنا۔ سوم روزے رمضان شریف کے رکھنے چھارم اگر صاحب نصاب ہو تو زکواۃ دینی۔ پنجم اگر طاقت حج کی رکھتا ہو توحج کرنا اور ہمیشہ احکام شرعیہ پر محکم و مضبوط رہنا۔ ایک بال بھر ایک ذرہ کے مقدار تجاوز و تفاوت نہ کرنا ۔ فرض و واجبات اور سنن و مستحبات کو بجالانا – پس جو کام موافق شرع کےہے اس کو اختیار کیا اور جو خلاف ہے اس کو تر ک کرنار اہ مستقیم یہی ہے :<br />
پس اے سچے طالب جان کہ سرور کائنات خلاصہ موجودات نے فرمایا ہے۔<br />
الدنيا مزرعة الآخرة .<br />
اینچنین گفته است پیر معنوی ای برا در آنچه کاری بد روی<br />
از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جوزجو<br />
دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔ مولانا مولوی روم علیہ الرحمۃ نے ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ ا ے برادر جوکچھ تو بوئیگا سو کا ٹے گا مکافات عمل سے غافل مت ہو۔ گیہوں سے گیہوں اور جو سے جو اُگتے ہیں۔<br />
پس اے طالب جان تو کہ شریعت مثل کشتی او طریقت مانند دریا کے حقیقت مثل سیپ کے اور معرفت مانند موتی کے ہے۔ کما قال علیہ السلام الشریعت كالسفينة والطريقة كالبحر والحقيقت كالصدف والمعرفة كالدر فمن اراد الدر يركب السفينة ثم شرع في البحريصل الى الدر و من ترك هذه الترتيب لم يصل الى در(رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ شریعت مثل کشتی کے ہے اور طریقت مثل دریا کے اور حقیقت مثل سیپ کے و معرفت مانند موتی کے پس جو شخص موتی لینے کا ارادہ رکھتا ہے سوار ہو کشتی پر اور چلے دریا میں حاصل کر یگا موتی کو اور جس نے چھوڑ دیا اس ترتیب کو ہرگز موتی نہ پائیگا<br />
کشتی نشستگانیم اے بادشرط بر خیز<br />
باشد که بازبینیم آن یارآشنا را<br />
(ہم ٹوٹی ہوئی کشتی میں بیٹھنے والے لوگ ہیں، اے موافق ہوا چل کہ ہم پھر اس یار آشنا (محبوبِ حقیقی) کو دیکھ سکیں)<br />
شریعت را مقدم دارا کنوں طریقت از شریعت نیست بیروں<br />
(پہلے شریعت کو مقدم رکھنا چاہیے٬ کیونکہ طریقت شریعت سے باہر نہیں ہے۔)<br />
کسے کو در شریعت را سخ آید طریقت راه بر وے خود کشاید<br />
(جو شخص شریعت پر پوری طرح عمل پیرا ہوتا ہے طریقت خود بخود اس پر اپنی راہیں کھول دیتی ہے۔)<br />
چونکه از سیل فنا بنیاد دہستی برکند چوں تر انوح است کشتیبان زطوفان غم مخور<br />
(اے دل کے سیلاب اگر وجود کی بنیاد اکھاڑدے جبکہ تیرا کشتی بان نوح ہے طوفان کا غم نہ کر)<br />
قال عليه السلام الشريعۃ اقوالى والطريقةا فعالى والحقيقۃ احوالي والمعرفة اسراري<br />
احکام شریعت ہمہ ا قوال من است اسرار طریقت همه احوال من است<br />
بیرون زمن حقیقتے دیگر نیست عالم تفصیل آدم اجمال من است<br />
اے طالب جان کہ شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت چار مرتبہ ہوئے۔ اور طریقت ، حقیقت ، معرفت ، شریعت سے ہی پیدا ہوتے ہیں ؟ شریعت مانند دودھ کے اور طریقت مثل دہی کے اور حقیقت مثل مکھن کے اور معرفت مانند روغن (گھی )خالص کے ہے ۔ اگر دودھ نہ ہو تو یہ تینوں کہاں سے بن سکیں ۔<br />
معرفت میں بھی تین مرتبے پیدا ہوتے ہیں۔ واحدیت ، وحدت، احدیت اور واحدیت واحدیت کی دونوں وھدت سےمشتق ہیں فی الحقیقت مرتبہ احدیت تمام مراتب کی جائے صدور ہونے کی منشاء ہے ۔ پس یہ تمام سات مرہتے ہوئے ۔ اور سالک کی بھی سات ہی منزلیں ہیں<br />
اول ناسوت ، دوسری ملکوت ، تیسری جبروت ، چوتھی لاہوت ، پانچویں با ہوت چھٹی ہا ہوت ، ساتویں ذات البحت اور امہات صفات باری تعالیٰ عزوجل بھی سات میں &#8211; الحی ،القدير، المريد، السميع، البصير، العليم، الكليم<br />
اور ارواح بھی سات ہیں ۔ اور وجود آدمی میں نفس بھی سات ہیں اور جو ہر بھی انسان میں سات ہیں ۔ افلاک بھی سات ہیں، فلک قمر ، فلک عطارد، فلک زہره، فلک شمس ، فلک مریخ ، فلک مشتری ، فلک زحل اور زمین کے طبقہ بھی سات ہیں۔ اقالیم بھی سات ہیں صفت ایمان سات &#8211; شرط ایمان سات اندام سجده سات واجبات شریعت سات اور طواف بیت اللہ سات لطائف نقش بند یہ عالیہ بھی سات ہیں :<br />
لطيفہ اول قلب &#8211; لطیفہ دوم روحی &#8211; لطیفہ سوم سرّی – لطیفہ چہارم سرّ السری &#8211; لطیفہ پنجم خفی – لطیفہ ششم اخفی –لطیفہ ہفتم قدسی &#8211; انشاء اللہ آگے ہم ہر ایک کی شرح کرینگے ۔<br />
فصل اول در بیان طلب مرشد<br />
پس جان اے طالب صا دق اول طالب کو مرشد کامل طلب کرنا چاہئے جو پیشیوا شریعت و طریقت و حقیقت و معرفت کا رکھتا ہو، تاکہ وہ تجھ کو راستہ دکھلائے کہ اول أطلب الرفيق ثم الطريق اور مرشد کامل کے وسیلہ سے اس راہ میں قدم رکھے کما قال الله تعالى عز وجل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ ( جیسا کہ خداوند برتر نے فرمایا ہے اے لوگو جو ایمان لائے ہو ڈر واللہ سے اور اُس کی طرف وسیلہ پکڑو بڑا وسیلہ اور بزرگ دوست اس راہ میں فرقان حمید ہے اور وسیلہ متوسط محمد مصطفى صلى الله علیہ وسلم شفیع المذنبین ہیں اور چھوٹا وسیلہ مرشد کامل ہے جو تجھ کو راہ راست پر چلاتا ہے ۔<br />
نباشدمبتدی را ہیچ بہ زیں کہ پیرے را بجوید راہبر دیں<br />
كما قال عليه السلام من لا شيخ له فشيخه شيطان<br />
ہر آن کارے کہ بے اُستاد باشد یقین است کہ بے بنیاد باشد<br />
اے بیخبر کوش کہ روزے خبر شوی تاره رو نباشی و کے راہبر شوی<br />
(اے بے خبر کوشش کر تاکہ تو صاحب خبر بنے جب تک کہ تو مسافر نہ بنے گا رہبر کیسے بنے گا)<br />
پس طالب کو چاہئے بلکہ لازم ہے کہ اول علم ظاہری حاصل کرے<br />
قرآن بخوان تفسیر هم آموز خط صرف ولغت نحومعانی یا بیاں کلام وهم فقه وخبر<br />
قال عليه السلام كن عالماً أو متعلما ولا تكن ثلثا بعده علم باطن<br />
فرمایا رسول علیہ الصلوة و السلام نے کہ ہو تو عالم یا طالب العلم اور نہ ہو تیسرا بعداس کے علم باطن ہے ۔<br />
علم باطن ہم چو مسکہ علم ظاہر ہم چو شیر کے شود بے شیر مسکہ کے بود بے پیر پیر<br />
(علم باطن مکھن کی مانند ہے اور علم ظاہر دودھ کی مانند ، دودھ کے بغیر مکھن کہاں بنتا ہے اور پیر کے بغیر بزرگی کہاں سے آئے گی؟ -)<br />
قال الله تعالى وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ کہتے ہیں پختہ علم والے ہم تصدیق کرتے ہیں اُس تمام کی جو حبیب خدا ﷺفرماتے ہیں۔ اللہ کے پاس سے ہے اور نہیں یاد کرتے اُس کو مگر صاحب عقل ۔ پس مرشد کامل جو کچھ فرمائے اس کو اختیار کرے اور اُس کے حکم سے با ہر ایک قدم نہ رکھے۔ نافرمانی نہ کرے۔ ادب استادوں کا اورتعظیم مرشد کی بجا لائے اور بے اد ب نہ ہو۔<br />
از خدا جو ئیم توفیق ادب بے ادب محروم ماند از لطف رب<br />
(ہم خدا سے ادب کی توفیق چاہتے ہیں بے ادب خدا کے لطف سے محروم رہا)<br />
بےادب تنہا نه خود را داشت بد بلکه آتش در همه آفاق زد<br />
(بے ادب نے نہ صرف اپنے آپ کو خراب کیا بلکہ اس نے تمام اطراف میں آگ لگا دی)<br />
بے ادبی مثل بیہودہ باتیں کرنی یا کھیلنا سا منے مرشد کے اور کھانا پینا اور اپنا سا یہ مرشد پر ڈالنا، اس کی طرف پیٹھ کرنا، تھوکنا اورمثل اس کے جو کام بے ادبی کے ہوں نہ کرے ۔ بلکہ مرشد کے سامنے خاک ہو کر خاک میں ملے<br />
در بہاراں کے شود سر سبز سنگ خاک شو تاگل بروید رنگ رنگ<br />
(موسم بہار میں پتھر سر سبز و شاداب کب ہوتا ہے خاک (مٹی) بن جا تاکہ رنگ برنگ کے پھول کھلیں)<br />
چند سالے سنگ بودی دل خراش آزمون رایک ز مانے خاک باش<br />
تو سالوں دل خراش پتھر رہا ہے،آزمائش کے طور پر تھوڑی دیر کے لئے خاک بن جا<br />
گر تو سنگ خاره مر مرشوی چون بصاحب دل ر سی گوہر شوی<br />
(اگر تو سنگِ خارہ ھے یا مرمر کا پتھر ھے ۔جب تو کسی صاحبِ دل کے پاس پہنچے گا تو،تو گوہر بن جائے گا)<br />
یک ز مان صحبت با اولیاء بہتر از صد سال زہد بے ریاء<br />
(اللہ کے ولی کی صحبت کے چند لمحےسو سال کی بے ریا عبادت سے بھی بہتر ہے)<br />
اور ہمیشہ مرشد کے آستانے پر عاجز اور خاکسار بناره &#8211; قال عليه السلام كُنْ كَأَنَّكَ غَرِيبٌ فِي الدُّنْيَا، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ، ‌وَعُدَّ ‌نَفْسَكَ فِي أَهْلِ الْقُبُو فرمایانبی علیہ السلام نے دنیا میں مانند مسافر راستہ چلنے والے کے رہ اور خیال کر جان اپنی کو اہل مقابر سے :<br />
مرید کو چاہئے کہ اپنے اوپر بغیر اذن پیر کے کوئی چیز لازم نہ کرے اگر کوئی چیز لازم کرلیگا، تو وہ خواہش نفسانی ہوگئی ہے<br />
اگر خواهی که خلوت را گزینی پس آن بہتر که پیش شیخ شینی<br />
اگر بے پیر کارے پیش گیری ہلاکت را ز بہر خویش گیری<br />
بلکہ اپنے آپ کو ایسا پیر کے حوالہ کرے جیسے میت غسال کے ہاتھ میں کالمیت بید الغاسل مثل مشہور ہے مردہ بدست زندہ<br />
اور پیر کو چاہئے کہ اچھی طرح توجہ کرے ۔<br />
چون از طرف معشوق نباشد کششے کوشش عاشق بیچاره بجاے نہ رسد<br />
گرد و امیطلبی دردے باید هر که را در د نباشد به دوائے نہ رسد<br />
عاشق که شد که یار بحالش نظر کرد ای خواجه در د نیست و گرنه طبیب است<br />
پس طالب کو چاہئے کہ حقیقی طبیبوں کی خاک پا ہوتا کہ باطنی آنکھوں کا اندھا پن دور ہو<br />
رفع این کوری بدست خلق نیست لیک اکرام طبیب از زہد نیست<br />
ایں طبیبان رابجان بنده شوید تا بمشک وعنبر آکنده شوید<br />
میں جو کچھ خدمت کرتا ہوں بلا عوض ہے<br />
یا رب مباد کس را مخدوم بی عنایت<br />
اور اپنے پیر کوہمیشہ حاضر جانے اور مرشد کے خیال سے غافل نہ ہو۔ اور یقین کامل رکھے اور جب مرید پیر کے روبرو آئے پہلے سلام کرے ادھر ادھر نہ دیکھے۔ جب تک سامنے پیر کے ہے مرید کو کوئی شغل مفید اور بہتر دیدار پیر سے نہیں ۔ اور جب چاہے کہ پیر سے رخصت ہو۔ جہاں تک پیر کی نظر ہو۔ اُلٹے پاؤں چلے ۔ اور شیخ کی طرف پیٹھ نہ کرے ۔<br />
قال النبي صلى الله عليه وسلم الارادة ان لا يفارق المريد شيخه عن القلب ساعة وبرى ولايت الشيخ محيطا في كل زمان و مكان فرمایا نبی ﷺ نے ارادہ یہ ہے کہ مرید خیال شیخ کو دل سے نہ بھلائے اور خیال کرے ولایت مرشد کو محیط ہر وقت ہر جگہ ہیں۔ اور مرشد کو بھی چاہئے کہ پہلے مرید کو شریعت کے ساتھ درست اور پختہ کرے تا کہ وہ سیدھی راہ چلے ۔</p>
<p>فصل دوم دربیان اوراد<br />
قال عليہ السلام من لا ورد له لا وارد له وتارك الورد ملعون فرمايانبی علیہ السلام نے جس کا کوئی ورد نہیں اسکا کوئی وارد نہیں اور ور کا تارک لعنتی ہے ۔<br />
اے طالب جان کہ اور اد نقشبند ی طریق کے یہ ہیں صبح کے وقت جب اُٹھو تو سب سے پہلے دعائے ماثوره اللهُ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ تَبَعْتُ وَبِكَ لَتُورُ وَ مَوتُ وَبِكَ نَحْیا ہمیشہ پڑھا کرے جیسا کہ فرمایا نبی علیہ اسلام نے افضل الاعمال ادو مہا اور نماز صبح پڑھے اور بعد اس کے سو مرتبہ لا إله الا الله الملك الحق المبین اور ایک مرتبہ سورہ یٰس اور ایک مرتبہ واسطے کھلنے باطن کے سورہ یوسف پڑھے ۔ اور ایک مرتبہ درود مستغاث و در و داکبر پڑھے۔ اور واسطے معاش ظاہری کے سورہ الم ترکیف اکیس بار پڑھے۔ پھر نماز اشراق پڑھے بعدہ ایک ہزار بار کلمہ کوزبان سے پڑھے ۔ پھر نماز چاشت پڑھے اور بعد نماز ظہر کے سورۃ انا فتحنا ایک مرتبہ اور سو مرتبہ استغفار سو مرتبہ درود شریف ، سو مرتبه کلم تمجید پڑھ کر قرآن شریف کی تلاوت میں مشغول ہو۔ فرمایا نبی علیہ الصلاة و السلام نے افضل العبادة تلاوة القرآن بڑی افضل عبادت تلاوت قرآن شریف کی ہے :<br />
طریقہ نقشبندیہ میں اگر طاقت ہو تو ہفتہ وار نہایت شوق اور باقاعدہ قرآن شریف ختم کرے، اور اگر وقت نہ ملے یعنی صاحب کسب ہوا تو سوا پارہ روزانہ ورد رکھے بعد نماز عصر کے سورہ عم ایک بار پڑھے روشنائی ظاہر باطن کی ظاہر ہو گی۔<br />
پھرم راقبہ اسم ذات یانفی واثبات کا مغرب تک کرے ۔ بعد نماز مغرب ایک مرتبہ سورہ واقعہ پڑھے ۔ اور واسطے جمعیت ظاہری اور باطنی کے یا الله یا جامع ایک سو چودہ مرتبہ پڑھے ۔ فوائد اس کے تحریر و تقریر سے باہر ہیں * بعد نماز عشا کے ایک بار سورة الملك ، سات مرتبه سوره فاتحه ، سات بار معوذتین ، سات مرتبہ سورة اخلاص ، سات مرتبہ کلمہ تمجید پڑھے۔ تا کہ شیطانی وسوسوں اور نفسانی خطروں اور زمانی آفتوں سے محفوظ رہے ۔ اور اگر توفیق یاری کرے تو ایک بار سونے کے وقت درود حاضری پڑھے شاید کہ قوت پڑھنے کے جمال پاک نبی ﷺسے مشرف ہو ۔<br />
بعده وقت تہجد کے اُٹھے۔ بعد نماز تہجد تین بار سورہ یٰس ، گیارہ بار سورہ مزمل پڑھے یہ وقت عجیب اثر رکھتا ہے ۔ پھر ایک ہزار بار اسم اعظم یا اللہ یا ھو پڑھے کہ تمام مخلوقات پرندوں و درندوں تک اُس کے ساتھ انس یعنی الفت پکڑیں ۔ وقت صبح کا عجیب اور عمدہ وقت ہے جو کچھ کوئی مانگے سوو ہی پائے ۔<br />
چه خوش ملکے است ملکے سحرگاہی دران کشور بیایی هر چه خواهی<br />
خوش آن با د نسیم صبحگاهی که در دشب نشینان را دوا کرد<br />
طالب کو چاہئے کہ اپنے اوپر روزے ایام بیض و یوم قمرو یوم بیض کے لازم کرے ۔<br />
قال عليه الصلوة والسلام لكل شئ زكوة وزكوة الجسد الصوم<br />
فرمایا نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ہر شے کی زکوۃ ہے اورزکوۃ بدن کی روزہ ہے۔<br />
فائدہ &#8211; واسطے رفع حاجات و مہمات کلی و جزئی کے لئے اور واسطے دفع کرنےدشمن بلا و قحط و و با و ظالم اور واسطے کشائش باطنی کےطالب کو ختم خواجگان طریقہ عالیہ کا بہت موثر ہے ، پڑھا کرے ۔ ہزار ہا حاجت پوری ہوگی ۔<br />
طریقہ پڑھنے کا یہ ہے ۔ پہلے الحمد شریف 7 بار درود شریف سوبار سورہ الم نشرح ۹ بار &#8211; قل هو الله ایک ہزار ایک مرتبہ مع بسم الله &#8211; پھر درود شریف سوبار اور آخیر میں الحمد شریف سات بار پڑھے ۔ ثواب اس ختم شریف کا خواجگان کی روحوں کو بخشے۔ اور امداد طلب کرے ۔ تین روز کے اندر مدعا بر آمد ہو ۔<br />
نام مبارک خواجگان کے یہ ہیں۔ خواجہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ، خواجہ ابو الحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ ، خواجہ ابو علی فارمدی رحمہ اللہ علیہ ، خواجہ یوسف ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ ، خواجہ عبد الخالق غجد وانی رحمۃ اللہ علیہ ، خواجہ عارف ر یوگری رحمتہ اللہ علیہ ، خواجہ محمد ابو الخیر فغنوی رحمتہ اللہ علیہ ، خواجہ علی رامتنی رحمتہ اللہ علیہ خواجہ محمد بابا سماسی رحمتہ اللہ علیہ ، خواجہ سید میر کلاں رحمۃ اللہ علیہ ، خواجہ بہاء الحق والدین نقشبندی قدس سره العزيز<br />
دیگر واسطے ہر حاجبت دینی و د نیوی کے تین ہزار بار یاحی یا قیوم لا اله الَّا انْتَ سُبْحَانَكَ إِلَى كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ پڑھے۔ انشاء اللہ حاجت پوری ہو ؟ فائدہ استخارہ ہر کام کے لئے سنت ہے ۔ اور استخارہ کی چند قسمیں ہیں اور عمدہ تر یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نفل بہ نیت استخارہ اس طور پر پڑھے ۔ کہ ہر کعت میں بعد الحمد شریف کے پچیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے بعد تشہد کے سلام پھیر کرجلد سیدھا کھڑا ہو جائے ۔ اور الحمد شریف کو شروع کرے ۔ جب إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ پر پہنچے تو اس آیت کر یمہ کو اتنی دیر پڑھتا رہے کہ ایک طرف کو خودبخود منہ پھر جائے ۔ اگر دائیں طرف منہ پھرا تو جان لے یہ کام ہو جائیگا ۔ اُس کا کرنا مفید ہے۔ اور اگر بائیں جانب منہ پھرا تو خیال کرے کہ یہ کام نہ ہوگا۔ اُس کا کرنا مفید نہیں ۔ اس سے بچے اور حقیقت حال اللہ خوب جانتا ہے :</p>
<p>فصل سوم دربیان راہ حق<br />
خداوند تعالے کی راہ جانب شرق یا غرب، جنوب یا شمال میں نہیں اور نہ زمین و آسمان میں بلکہ اس کی راہ مومن کے دل میں ہے ۔ فرمایا خدائے بزرگ و برتر نے و في انفسكم افلا تنبحران اورفرمایانبی علیہ السلام نے من عرف نفسه فقد عرف ربه<br />
در ہر دلے کہ آتش عشق تو داغ نیست تاریک خانه ایست که در وے چراغ نیست<br />
قطعه<br />
مشو بینا چشم سرکہ نار و دید خود را ہم بدل بیں تا بہ بینی ہر چہ خواهی تابپایانش<br />
بقر ب وبحر و بر وغلط زاں کردچشم سر که دایم خانه خواب است آبست اصل حیرانش<br />
اور یہی کہا ہے عارف نے مُشَاهَدَةً الْقُلُوب إيصَالِهَا بِالْمَحْبُوب دل کا مشاہدہ محبوب سے ملنا ہے۔ فرما یا اللہ بزرگ بر ترنے وَ نَحْنُ اَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ہم شاہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں ۔<br />
اے طالب ! جان لے کہ خداوند کی راہ میں دل سے چلتے ہیں نہ پاؤں سے<br />
اے کمان تیر ها پر ساخته صید نزدیک است دورانداختہ<br />
هر که دور انداخت او را دورتر این چنین صید است او مهجور تر<br />
ٱللّٰهُخداوند تعالى نور ٱلسَّمٰوَتِ وَٱلۡأَرۡضِمطلوب ہر اہل آسمان زمین کا مَثَلُ نُورِهٖکوئی اس نور کی مثل جو اُس کی طرف منسوب ہو كَمِشۡكَوٰة مانند طاق کے ہے کہ مراد اس سے قلب مومن ہے فِيهَا مِصۡبَاحٌاس طاق میں چراغ روشن جو نظارہ شغل نام اللہ کا ہوتا ہے ٱلۡمِصۡبَاحُ وہ چراغ روشن فِي زُجَاجَةٍایک قندیل میں ہے کہ کنایہ دل سے ہے وہ دل نہایت صفائی کے سبب ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوۡكَب گویا کہ وہ ستارہ ہے ، دُرِّيّٞ چمکدارمثل زہرہ یا مشتری کے با عتبار سعدیت کے اور وہ چراغ جو اس میں ہے ، مراد شغل نظارہ اسم اللہ ہی سے يُوقَدُ روشن ہوا ہے مِن شَجَرَةٖ مُّبَٰرَكَةٖ زيت کے با برکت درخت کے تیل سے جو بہت نافع ہے۔ مراد تجلیات سے تجلیات ذاتیہ ہیں کہ حالت شغل ان تجلیات پر موقوف ہے زَيۡتُونَةٖ وہ زیتون جوا حدیت مطلقہ کے وجود کی زمین سے پیدا ہوا &#8211; لَّا شَرۡقِيَّةٖ نہ جانب شرق میں ہے جو مشرق کی طرف منسوب ہے اور یہ مرا دمرتبہ تجلی اول سے ہے جوبہ سبب شغل اسم اللہ کے روشن ہوتی ہے وَلَا غَرۡبِيَّةاور نہ جانب غرب کی ، جو طرف مغرب کے حکم کریں اور یہ مراد مرتبہ تجلی دوسری سے کہ خاصیت شغل اسم اللہ سے منکشف ہوتی ہے يَكَادُ زَيۡتُهَا قریب ہے &#8211; که روغن اس درخت کا که مراد تجلیات اشغال سے ہے يُضِيٓءُ خود بخود روشن ہو جائے ۔ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ اگرچہ نہ چھوئے اُس کو نَار آگ روشنی کا وصفائی اس درجہ کی جو توجہ تجلیات اشغال اسم دوسرے سے نہیں ہوتی نُّورٌ عَلَىٰ نُورٖروشنی پر روشنی یعنی صفائی بہ شغل صفائی اسم اللہ کے نور سے چراغ کہ مراد تجلیات و لطائف سے ہے چراغ روشن کر کے دل کی مشکوہ میں ساتھ لمعات الہیہ کے رکھا ہے ضابطہ حالات کاو مجمع تمام واقعات تجلیات کا ہےیھدی اللہ راہ دکھاتا ہے خدائے تعالیٰ لنورہ ساتھ اپنے نورکے مَن يَشَاءُ جس کو چاہے وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ اللہ نے بیان کی مثال لوگوں کے لئے اور اللہ ہر شے کو جانتا ہے، ظاہر ہے ۔<br />
فرمایا پیغمبر عليہ الصلاة والسلام نے قلب المؤمن بيت الرب مومن کادل خدا کا گھر ہے ۔<br />
وه نورمذ کوره مثل بادشاہ کے ہے اور حکم اس کا بیچ تمام اعضا و حواس کے جاری ہے اور تمام ماتحت اُس کے ہیں ۔ اس واسطے کہ وہ ٹھکانا اور آرام گاہ نور خدا کا ہے۔ اور حدیث میں آیا ہے قلب المو من اكبر من العرش و اوسیع من الكرسى وافضل ما خلق اللہ تعالی یعنی مومن کا دل بڑا ہے عرش سے فراخ ہے کرسی سے اور بزرگ ہے تمام چیزوں سے کہ پیدا کیا انکو اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ قرآن مجید فرقان حمید میں آیا ہے۔ سنریھم قریب ہے کہ دکھلا ئیں گے ہم انہیں جومنکر ہیں طالبان تجلیات کے ایاتنا نشانیاں دل اپنے کی کہ ان میں ایک شق القمر ہے اس واسطے کہ دریدہ ہونا چاند کے دل کا مظہر اسرار ذات ہے،<br />
جیسا کہ کسی عارف نے کہا ہے<br />
دل یک قطره گر تو شگافی برون آید از و صدبحرصافی<br />
فی الافاق جہان کے اطراف ہیں ، یعنی سالکوں کا بعد نہایت شغل تجلیات کے دل ایسا روشن ہو جاتا ہے کہ اُس کے تجلیات کے اطراف جہان یعنی کل جہان روشن ہو جاتا ہے مشاہدہ آفاقی سے یہی مراد ہے ۔ و في انفسکم اور تمہاری ذاتوں میں یعنی بعد کھلنے دل کے معارف و نشان معارف نفسی مکشوف ہو جاتے ہیں۔ حتى يتبين لهم تاکہ روشن ہو جائے طالبوں اورمنکروں کو قمر کا دل پھٹنے سے انه الحق کہ بیشک تجلیات ہمارے حق ہیں اولم يكفيك ربك كيا كافی نہیں ہے تیرا پروردگارتجھے انہ علی کل شئی کہ اوپر تمام اشیا کے تجلیات وارد کرنے سے شھید گواہ ہو۔ یعنی اگر عامہ ذات کے منکشف ہونے کا انکار کریں تو حضرت آفریدگار تجھے کافی ہے جو سالک کو چمکاروں ذات و صفات سے مشرف کرتا ہے ۔ الحمد لله على ذلك : نبی علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا ہے قلب المو من حرم الله وحرام ا ان يلح فيه غير الله كما جاء في حديث القدسي ان في جسد الأدمی قلب وفي القلب فؤاد وفى الفؤاد ضمير و فى الضمير روح وفي الروح سر و في السرخفي وفي الخفى نور و في النورانا الله :<br />
ایک جماعت صوفیہ کی کہتی ہے کہ سر لطیفہ دل سے اعلیٰ اور روح سے کم درجہ میں ہے ۔ اور بعضے کہتے ہیں کہ لطیفہ روح سے بھی افضل ہے او وجہ اختلاف کی یہ ہے کہ سلوک میں بعضوں کو سیر ابتدا میں پہلے روح سے شروع ہوئی اور بعضوں کو لطیفہ سر سے</p>
<p>(ان في جسد الأدمی مضغۃ وفی المضغۃ قلب وفي القلب فؤاد وفى الفؤاد ضمير و فى الضمير روح وفي الروح سر و في السرخفي وفي الخفى نور و في النورانا الله :<br />
لطیفہ روحی مقام نوح علیہ السلام شغل اللہ منزل ملکوت واردات طریقت مفتاح لا الہ الا اللہ نوح نجی اللہ خزانۃ است<br />
لطیفہ سری منزل جبروت مقام ابراھیم علیہ السلام واردات حقیقت مفتاح لا الہ الا اللہ ابراھیم خلیل اللہ خزانۃاللہ مرید<br />
لطیفہ قلبی منزل ناسوت شغل اللہ مقام آدم علیہ السلام واردات شریعت نزول جبرئیل مفتاح لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ خزانۃاللہ حی<br />
لطیفہ سرالسری مقام موسی علیہ السلام منزل لاھوت واردات معرفت مفتاح لا الہ الا اللہ مودی کلیم اللہ خزانۃاللہ سمیع است<br />
لطیفہ خفی منزل ھاھوت مقام عیسی علیہ السلام واردات واحدیت است مفتاح لا الہ الا اللہ عیسی روح اللہ خزانۃاللہ بصیر است<br />
لطیفہ اخفی است مقام محمد مصطفے ﷺ واردات وحدت است مفتاح لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ خزانۃ اللہ علیم است<br />
لطیفہ قدسی است واردات احدیت است و مقام ذات البحت است و مفتاح لا الہ الا اللہ الواحد القھار خزانۃ اللہ کلیم است اللہ انا)<br />
کہتے ہیں لطیفہ سر محل مشاہدہ کا بغیر روح کے ہے اور روح جگہ محبت کی ہے اور دل محل معرفت ۔ اور بعضے صوفیا فرماتے ہیں کہ سر ایک لطیفہ ہے انسان میں مانند روح کے لیکن روح محل محبت اور سر محل مشاہدہ جیسے دل محل معرفت ہے اورمقتضا ئے اصول کا یہ ہے کہ سرلطیف ہے روح سے جیسے کہ روح قلب سے اور صوفیہ کہتے ہیں کہ یہ اسرار پوشید ہ تعلق اغیار سے ہیں اور مراد اغیار سے اظلال انسانی ہیں۔ اور لفظ سر کو اس شے پر بولتے ہیں جو بندہ میں اُس کے حالات پوشیدہ ہیں یعنی سر حال پوشیدہ کا نام ہے۔ اور بعضے صوفیہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ عقل و نفس و قلب و روح ایک چیز ہیں لیکن اطلاق ہر ایک کا ان اسمائے متعددہ پرباعتبار وجود مرتبہ کے ان مراتب سے ہے جیسا کہ شاہ جلیل الہ آبادی نے اپنی رموزات میں کہا ہے کہ نفس و روح و دل تمام ایک ہیں ۔کسی کو اس میں شک نہیں۔ واللہ اعلم بحقیقة الحال :<br />
فصل چہارم در بیان تزکیہ نفس<br />
جب طالب راہ حق اور دل کی صفائی حاصل کرنی چاہے تو بغیر تزکیہ نفس تصفیہ دل کے ہر گز حاصل نہ ہوگی پس طالب کو لازم ہے شروع سے تو بہ اورند امت کو اختیار کرے شمس تبریز رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ۔<br />
ند امت را امام خویش کرده همیشه اقتدا کن با دل و جاں<br />
فرمایا نبي عليہ الصلاة والسلام نے التائب من الذنب كمن لا ذ لئے سے<br />
بہردم تو به باید کرد عادت نخستین تو به باید پس عبادت<br />
بہر یک فرض آمد تو به کردن بہردم تو به کن تا وقت مردن<br />
شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی اپنی مناجات میں فرماتے ہیں<br />
زشر نفس امارہ نگا ہم دار یا اللہ ہوالے غیر خودکُلی زمن بردار یا اللہ<br />
اللہ تعالے سورہ یوسف میں ارشاد فرماتا ہے ۔ وَمَا اجْزِئُ نَفْسِی ان النفس الامارة بالسوء اور میں بیزار ہوں اپنے نفس سے کہ وہ بہت ہی برائی کی طرف نسبت دلاتا ہے۔ اور فرما یا حبیب پاک ﷺنے اعدی عدوك نفسك التي بين جنبيك خیال کرو دشمن اپنا اپنے نفس کو جو تیرے دو پہلو کے درمیان ہے ۔ اور کہا حق تعالے نے موسے علیہ السلام کو عادی نفسك ثم عادى نفسك ثم عادي نفسك ، یعنی اےموسے دشمن جان نفس اپنے کو پھر دشمن خیال کرنفس اپنے کو پھر بھی دشمن خیال کر نفس اپنے کو بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے ، کہا اُنہوں نے ریت فی المنام ربي فقلت يارب فكيف الطريق فقال اترك نفسك فتعل دیكھا میں نے اپنے رب کو خواب میں پوچھامیں نے اے پروردگار کیونکر ہے راہ تیری طرف ، فرمایا خداوند تعالیٰ نے چھوڑے نفس اپنے کو اور چلا آ۔<br />
جائے نفس امارہ کی ناف کے نیچے ہے۔ ہر طالب مولا کو چاہئے کہ نفس کافر سے عداوت کرے ۔ کما قال علیہ السلام اقتلوا انفسكم بسیف المجاهدات فرمایا نبی علیہ السلام نے قتل کرو تم اپنے نفسوں کو تلوار مجاہدہ سے ۔<br />
نفس نتوان کشت الا با سه چیز چون بگویم یادگیرش اسے عزیز<br />
خنجر خاموشی وشمشیر جوع نیزه تنہائی و ترک ہجوع<br />
ہر که نبود مرد را این سہ سلاح نفس او هرگز نیاید با صلاح<br />
قال الله تعالى والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا &#8211; وه لوگ جو مجا ہده کرتے ہیں ہمارے راستہ میں البتہ دکھلا دیتے ہیں ہم اُن کو اپنا راستہ۔<br />
مثل کم کھانا، وکم کلام کرنا، ملاقات عوام کی نہ کرنی ، کثرت روزوں کی، کم سونا ،ہمیشہ خدا کا ذکرکرنا وغیرہ لازم پکڑے ۔ قال علیہ السلام رجعنا من جهاد الاضعر الى جهاد الاکبر فرما نبی علیہ السلام نے رجوع کیا ہم نے جہاد اصغر (چھوٹے ) سے جہاد اکبر (بڑے) کی طرف۔مثل کم کھانے اور کم سونے اور کم بولنے اورلوگوں کے ساتھ کم ملنے سے۔ فرما یانبی عليه الصلوة والسلام نے و من مات من العشق فقد مات شہیدا جو نفس کی لڑائی میں مرے وہ شہیدا کبر ہے ۔<br />
درخت نفس را با بیخ بر کن بده مر نفس خود را گوشمالی<br />
تا کہ دشمن کسی طرف سے راہ نہ پائے اور بری خصلتیں نفس امارہ کی اوصاف حمیدہ سے بدل جائیں۔ اوصاف ذمیمہ جیسے کبر ، غصہ ، شر، نفاق ، سمعت ، شہرت عجلت ، بخل ، کینه ، شهوت ، حرام ، حرص و ہوا ، حسد ، حقارت غیر، بغض غیبت ، حب جاه ، حب دنیا، جیسا کہ فرمایا نبی علیہ الصلوۃ و السلام نے حب الدنیا راس كل خطيئة محبت دنیا کی سر ہے ہر گنہ کا وغیرہ ۔ ان تمام کو چھوڑ کر اوصاف محمودہ اختیارکرے<br />
اوصاف محمود مثل حلم، علم ، تواضع ، اخلاص ، شکر، سخا ، قناعت ،صبر ،تحمل ، آہستگی کم آزاری وغیرہ جب یہ خصلتیں پیدا ہو جا ئیں تو جانے کہ تزکیہ نفس حاصل ہوا۔ فرمایا خدائے برتر ہے وَنَفْسٍ وَمَا سَوهَا، فَالْهُهَا لجورها وَتَقُوها، قد افلح مَنْ زَكها پس نفس امارہ لوامہ ہو جائے و نفس لوامہ ملہمہ بنجا ئےاور نفس ملہمہ مطمئنہ ہو جائے و مطمئنہ راضیہ نفس راضیہ مرضیہ و نفس مرضیہ کا ملہ ہو پس تمام<br />
نفوس سات ہوئے ۔ واللہ اعلم بالصواب :</p>
<p>فصل پنجم دربیان تصفیہ قلب و فضیلت ذکر<br />
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ قال قال رسول اللہ صلی الله عليه سلم الشيطان جا، تم على قلب ابن دم فاذا ذكر الله خن واذا عقل وسوس رواه البخاری &#8211; ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺنے کہ شیطان لپٹا ہوا ہے آدمیوں کے دلوںپر جب آدمی ذکر کرتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے ۔ اور جب غافل ہوتا ہے تو وسوسہ ڈالتا ہے۔ پس نفس اور شیطان کا خلاف کرنا چاہئے<br />
درخت دوستی بنشاں که کامدل بیار آرد نہال دشمنی بر کن که رنج بے شمار آرد<br />
خالف النفس و الشيطان واخصهما انهما محصناك النصح فاتهم پس جان کے طالب صادق لطیفہ قلب بغیر مصقلہ کے صفائی نہیں پاتا۔ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول خدا ﷺسے یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ فرماتے تھے واسطے ہرشے کے صقالہ ہے اور واسطے دل کے صقالہ ذکر اللہ تعالے کا ہے۔ بیہقی نے اُس کو روایت کیا نقل ہے مشکوٰۃ شریف سے پس دل طالب کا ہر گز کدورت شیطانی و خطرات نفسانی سے صاف نہیں ہوتا تا وقتیکہ خدا کی یاد نہ کرے ۔<br />
سعدی حجاب نیست تو آئینہ پاک دار زنگار خوردہ کے بنماید جمال دوست<br />
فرمایا علیہ السلام نے ان الله لا ينظر الى صوركم ولا افعالكم ولكن ينظر الى قلوبكم ونیا تکم تحقیق اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارےافعال کی طرف نہیں دیکھتا لیکن تمہارے دلوں اور تمہاری نیتوں کی طرف دیکھتا ہے<br />
دل یک نظر است ر بانی خانه دیوار را چه دل خوانی<br />
دل کے دومنہ ہیں اور ہر دو منہ کو خناس مثل جالے مکڑی کے گھیرے ہوئے اور اپنا ٹھکا نہ بناے ہوئے ہیں۔ اور صورت خناس مثل صورت خنزیر کے اور بعض تفسیروں میں مثل صورت کتے کےاور صاحب تفسیرمغنی لکھتے ہیں کہ اُس کی صورت مثل ہاتھی کے ہے اور وہ اپنی سونڈ زہر آلودہ کو دل کے گردا گرد پھیرتا رہتا ہے۔ جس سے خیالات بد پیدا ہوتے رہتے ہیں اور دل کو ہلاک کرتے ہیں ۔ قال عليه السلام لا تموتوا قلوبكم الا بكثرة الطعام فرما یا علیہ السلام نے نہیں مرتے دل تمہارے مگرکثرت طعام سے جب حرام کا لقمہ کھایا و سو سے بہت پیدا ہوئے ۔ خیالات شیطانی دکھلائی دینے لگی ۔ فرمایا خدائے برتر نے قرآن مجید ميں من الومُوا الخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ الناس ۔ پس طالب بالیقین جانے کر دل ہرگز پاک نہ ہو گا۔ مگر بہت ذکر و مجاہدہ کرنے سے کہ سب قوت اور چربی خون کم ہو جائے اور قوت ذکر سے آتش عشق کی بھڑک کر شعلے مارے اور مغز وہڈیوں تک پہنچ جائے اور چربی کو گلا دے دل خطرات شیطانی سے پاک ہو۔ اثر سیا ہی خناس کا دل سے دور ہو ۔<br />
واضح ہو کہ دل سات پردے رکھتا ہے ۔ اور ہرپردہ میں ایک گوہر ہے ۔ جب تصفیہ دل حاصل ہو تو وہ گو ہر ظہور میں آئیں ۔ اول گوہر عشق، دوسرا فقر تیسرا روح چوتھا معرفت پانچواں عقل چھٹا ذکر ساتواں گو ہرحلم پس زندگانی دل کی ہمیشہ ذکر کرنا خدائے تعالیٰ کا ہے ۔ جب آدمی غافل ہوتا ہے دل مردہ ہو جاتا ہے ۔ پھر ذکر حق سے زندہ ہوتا ہے اور صفائی حاصل کرتا اور ترقی پکڑتا ہے<br />
صوفی بیا که آئینه صاف است جام را تا بنگری صفائی مے لعل نام را</p>
<p>در بیان فضیلت ذکر<br />
فرمایا خدائے بزرگ نے فاذکرونی اذکر کم و اشکر ولی ولا تكفرون ایاد کرو تم مجھ کومیں یا دکرتا ہوں تم کو اورشکر کرو تم میرا کفران نہ کرو۔ وقال الله تعالى عز وجل يا أيها الذين امنوا اذكر والله ذكرا كثيرا &#8211; اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے لوگو جو ایمان لائے ہو یاد کرو تم مجھے بہت یاد<br />
روایت ہے ابو ہریرہ وا بو سعید رضی اللہ عنہما سے کہا اُنہوں نے کہ فرما یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے لا يعقدون قوم يذكرون الله نہیں بیٹھتی کوئی قوم کہ یاد کرے اللہ تعالے کو الا خفتهم الملائکہ مگر گھیر لیتے ہیں ان کو فرشتے وغشتہم الرحمہ اور ڈھانک لیتی ہے۔ ونزلت عليهم السكينہ اور اُترتی ہے اُن پر تسلی اور آرام ، اور حضور اور جو کچھ کہ حاصل ہوتا ہے اُس وقت نورانیت و اطمینان و جمعیت و ذوق و شوق اور اُس کا اثر و ذکر هم الله فيمن عندہ اور ذکر کرتا ہے اللہ تعالے اُن کا اُن لوگوں میں جو اُس کے پاس ہیں مقربین سے واسطے فخر کرنے کے اُن پر اور واسطے ظاہر کرنے بزرگی وکرامت آدمیوں کی فرشتوں پر کہ دعوے کیا تھا اُنہوں نے تسبیح و پاکی بیان کرنے اپنی کے اور فساد و خونریزی کا ساتھ آدمیوں کے۔<br />
روایت ہے ابو موسے سے کہا انہوں نے قال رسول اللہ صلی اللہ عليه سلم مثل الذي يذكر ربه والذي لا يذكر ربه مثل الحى والميت فرما یا رسول خدا ﷺنے مثال اُس آدمی کی کہ یاد کرتا ہے پر وردگار اپنے کو اور اس شخص کی جو نہیں یاد کرتا ہے مثل زندہ اور مردہ کی ہے<br />
ذاکربمنزلہ زندہ کے ہے۔ ظہور علامات روحانیت معرفت و شوق وذوق سے مانند ظاہر ہونے نشان وافعال جسمانیت اور زندہ دلی کے اور غیر ذاکر اس کے برعکس ہے</p>
<p>زندگانی نتوان گفت حیاتی که مراست زنده آن است که با دوست وصالے دارد<br />
وعن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم الا انبئكم بخير اعمالكم روایت ہے ابوالدرداء سے کہاانہوں نے کہ فرما یا رسول اللہ ﷺنے کیا نہ خبر دوں میں تم کو تمہارے اچھے اعمال سے واز کھا عند ملیککم اور بہت ستھرا تمہا ئے عملوں سے بادشاہ تمہارے کے نزدیک وارفعها فی درجاتکم اور بہت بڑھا ہوا اُن سے مرتبے اور شرافت میں وخير لكم من انفاق الذهب والفضة اور اچھا ہے تمہارے لئے خرچ کرنے سونے اور چاندی سے وخیرلکم من ان تلقواعد وكم فتضربوا اعناقهم ويضربون اعناق كم اور بہتر ہے تمہارے لئے اس سے کہ ملاقات کرو تم دشمن سے پس ما رو تم ان کی گردنیں اور وہ ماریں تمہاری گردنیں یعنی لڑنے سے کافروں کے قالوا بلی عرض کیا صحابہ نے فرمایئے ۔ آپ نے فرمایا ، ایسا عمل ذکر خدا ہے ۔ روایت کیا اس کو مالک نے ۔<br />
پس جان اے طالب کہ بہتر اور بزرگ تر اعمال سے ذکر خداوند تعالیٰ کا ہے ۔<br />
فرمایا خداوند تعالے نے افمن شرح الله صدره للاسلام فهو على نور من ربه فويل للقاسية قلوبهم عن ذكر الله اولئك في ضلال مبين &#8211; اور وہ شخص کہ کھول دیا اللہ نے سینے اُس کے کو واسطے اسلام کےپس وہ اُو پر روشنی کے ہے رب اپنے کی طرف سے اورہلا کی ہے واسطے اُن لوگوں کے جو سخت ہو رہے ہیں ذکر اللہ سے یعنی غافل ہیں وہی لوگ ہیں گمرا ہی میں پڑے ہوئے ۔<br />
اور دوسری جگہ فرمایا ہے ومن اعرض عن ذكرى معيشة ضنكا و نحشر له يوم القيمة اعمى ومن كان في هذه اعمى وهو في الآخرة أعمى واضل سبیلا اور وہ شخص کہ منہ پھیرا اُس نے یاد ہماری سے پس واسطے اس کے زندگی تنگ ہے اور اٹھا ئینگے ہم اُس کو قیامت کے دن اندھا اور وہ شخص جو اندھا ہے دنیا میں اندھا ہے آخرت میں اور بہت بھولا ہوا ہے راہ مستقیم سے۔</p>
<p>فصل ششم دربیان طریقہ نقشبندیہ مخفیہ صدیقیہ<br />
جو اصول طریقہ نقش بندیہ عا لیہ کا ہے امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعا عنہ سے ہے ۔ اور شغل اشتغال اس طریقہ عالیہ کے قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ۔ فرمایا خدائے تعالی بزرگ و برتر نے وا ذكر ربك في نفسك تضرعا وخيفة ودون الجهر من القول بالغدو والأصال ولا تكن من الغافلين یاد کر تو اپنے پروردگار کی دل میں زاری کرتا ہوا اور ڈرتا ہوا ۔ بغیر بلند کرنے آواز کے یاد کر صبح اور شام کو اور نہ ہو غفلت کرنے والوں سے ۔<br />
اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ادعور بکم تضرعا وخيفة انه لا يحب المعتدین یا دکرو تم رب اپنے کی اُس حال میں کہ تم زاری کرنے والے ہو تحقیق وہ نہیں دوست رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ۔<br />
اور فرما یا رسول خدا ﷺنے خیر الذکر ذکر الخفی روایت کیا اس کو عبد الحق نے اور فرمایا علیہ السلام نے قلب المومن خاص من ذكر الخفى فهو حى و قلب المؤمن غافله من ذكر الخفى فهو ميت .<br />
ہرآں دلے کہ دریں حلقه زنده نیست بذکر برو چه مرده بفتواے من نماز کنید<br />
اور بھی صحیح حدیثوں میں نبی ﷺسے روایت کیا ابویعلی نے عائشہ صدیقہ سے کہا اُنہوں نے کہ فرما یا رسول خدا ﷺنے بزرگی اُس ذکر کی کہ جس کو کراما کا تبین نہ سنے ستر مرتبہ زیادہ ہے اور جب ہو گا دن قیامت کا جمع ہو گی خلقت واسطے حساب کے لائینگے فرشتے جو کچھ انہوں نے یاد رکھا اور لکھا۔ فرمائے گااللہ تعالے فرشتوں کو دیکھوکیا باقی رہا ہے اُس کے لئے کچھ وہ عرض کرینگے، نہیں چھوڑا ہم نے جو کچھ ہم جانتے ہیں اور یاد کیا ہم نے لیکن احاطہ کیا ہم نے اُس کا اور لکھا ہم نے اُس کو ۔ پس فرمائیگا اللہ تبارک تعالے بیشک تیرے واسطے میرے پاس نیکی ہے کہ نہیں جانتا تو اس کو میں تجھ کو خبر دیتا ہوں اُس کی ، وہ ذکر خفی ہے روایت کیا اُس کو شیخ جلال الدین سیوطی نے ۔ وهوعلیم بذات الصدور<br />
از درون شو آشنا و از بروں بیگانه شو اینچنین زبیا روش کمتر بود اندر جہاں<br />
خلوت در انجمن اسی کا نام ہے<br />
دل ہمہ جا با همه کس در همه کار میدار نهفته چشم دل جان بیار<br />
اللهم ارزقنا</p>
<p>فصل ہفتم دربیان ہفت لطائف نقشبندیہ<br />
سات لطائف نقشبندیہ عالیہ طریقہ کے جو کہ مراد اشغال سبعہ سے ہے ۔ کہ اصول ذکر اور سلوک کے ہیں اور ہر طریقہ کے شغل مختلف ہیں ۔ لیکن تمام طریقوں میں اول دل کو حاصل کرتے ہیں ۔ بعد اس کے ہرشخص اپنے ایک طریقہ پر چلا ہے۔ فرمایا پروردگار نے ولكل أمة جعلنا منكم شرعة ومنها جاء اور واسطے ہر گروہ کے کیا ہم نے ایک طریقہ اور راستہ اور یہ راستہ مضبوط و صراط مستقیم ہے ۔<br />
طریقه شغل سلسلہ، متبر کہ عالیہ نقشبند یہ میں ذکر حق کے مراتب ہیں۔ پس سالک چاہئے کہ ایسی طرح نفس کا تزکیہ اور دل کا تصفیہ حاصل کرے جو آفتاب احوال اذکار اس طائفہ سنیہ شریفہ کا پر تو ڈال کر مسرور کرے ۔ سالک طالب اور عاشق مطالب کو اس طور پر غیر اللہ کو ترک کرنا چاہئے کہ سوائے ذکر اللہ کے طعمہ دل و جان کا رونق جسم اور بدن کی نہ بنائے تا کہ چمکارے اور شعلے قریب قریب کے سے مشرف ہو کہ حدیث نبی ﷺمیں وار دہے یقول الله تعالى انا عند ظن عبدی واذا معہ اذا ذکرنی فان ذكرني في نفسه ذكرته في نفسی فرماتا ہے خدائے برتر میں قریب ظن بندہ اپنے کے ہوں اور میں اُس کے ہمراہ ہوں جب وہ یاد کرتا ہے مجھ کو اگر میرا بندہ مجھ کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اُس کو پوشیدہ یاد کرتا ہوں ۔<br />
پس سالک کو چاہئے کہ یک سو ہوکر پوری توجہ اور کوشش بے زوال سے کمرہمت باندھ کر کوشش کا ہاتھ سلوک کے دامن میں مارے اور ارادہ رکھے کہ نور حدیث من تقرب منى شبراً تقرب منه ذراعاً ومن تقرب منى زراعا تقربت منه باعا و من تانى يمشى الينه هرولة ومن لقيني بقرب الأرض خطينه لا يشرك بي شيئا لقيته بمثلها مغفرة كا روشن ہو و هو قريب مجيب</p>
<p>وهو على كل شئ شهيد<br />
اور طریقہ نقشبندی عالیہ میں پہلے شغل لطیفہ قلبی ہے کہ ذکر قلبی طالب صادق کے لئے راحت جان ہے۔ پیر صادق طالب کو چاہئے کہ حکم آیہ کریمہ ان الذین يبا يعونك انما بيا بعون الله يد الله فوق ایدیھم کے اول بیعت کرے مرشد کے آگے چارزانو بیٹھے اور زبان تالو سے لگائے ۔ دل پر خیال اسم اعظم یعنی اللہ کا کرے آنکھ کو بند کرے اور خیال دل پر رکھے<br />
لطیفہ قلب نیچے پستان کے بائیں جانب ہے اور دل کو صنوبری شکل کہتے ہیں یعنی مانند ثمر صنوبر کے الٹا ہے ۔ اور مرشد توجہ کرے ۔ اللہ کی عنایت اور مرشد کی توجہ سے دل حرکت میں آئے ۔ آہستہ آہستہ جاری ہو گا ۔ اور ایسی قوة پکڑیگا گویا دوسرا دل میں اسم اعظم کہتا ہے ۔<br />
ہیں کہ اسرافیل وقتند اولیا مرده را ز ایشان حیات ست ونما<br />
جانهائے مرده اندر گورتن برجهد آوازشان اندر کفن<br />
گوید این آواز آواز خداست زنده کردن کار الطاف خداست<br />
پھر مولانا علیہ الرحمہ فرماتے ہیں<br />
بر لبش قفل است در دل راز ها لب خموش و دل پر ازآواز ها<br />
پس جس وقت طالب کو ذکر قلبی حاصل ہو جماعت اولیاء اللہ میں داخل ہوا ۔ پس شب و روز حرکات و سکنات میں ھُو کو دل پر رکھے اور کلام آدمیوں سے کم کریں مگر ضروری<br />
سخن باکس مکن الّا ضرورت نیفتد خلل تا اندر حضورت<br />
پس زمانہ حیات و وقت مرنے کے قیامت تک تمام حال میں ذکر اسم ذات کا نہ رکےگا<br />
هرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد به عشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما<br />
چند روز تک کمال کوشش اور نہایت جد و جہد اس لطیفہ میں کرے تا کہ آفتاب لاصلوة الأبحضور القلب کا جلوہ دکھلائے :<br />
بعد اس کے دوسرے لطیفہ یعنی روحی میں مشغول ہو ۔ کہ ذکر روحی محبت ہے۔ لطیفہ روحی لطیفہ قلب سے بہت لطیف ہے دائیں جانب نیچے پستان دائیں کے جگہ رکھتا ہے۔ اسے اسم اعظم کالطیفہ روحی میں تصور کرے۔ مرشد کی توجہ اورخد اوندیم کی عنایت سے اُس جگہ بھی اسم ذات کی حرکت ہوگی۔ چند دن اس لطیفہ میں کوشش کرے ۔ یہاں تک کہ حال محبت حق تعالیٰ کا جلوہ دکھلائے ۔<br />
بعد اس کے شغل لطیفہ تیسرے کا کہ سرّی ہے کرے ۔ اور ذکر سرّی مکاشفہ ہے اور لطیفہ سری لطیفہ روحی سے بھی لطیف ہے۔ اور اُس کی دائیں طرف نیچے پہلو کے جگہ مقرر کرتے ہیں۔ اس جگہ بھی اسم اعظم کو مرشد کی توجہ لے کر تصور کرے ۔ مرشد کی توجہ اور اللہ تعالیٰ کی بخشش سے اس جگہ بھی حرکت اسم ذات کی پیدا ہو گی۔چند روز اس شغل میں رہے تا کہ آفتاب کعبہ حقیقی ظاہر ہو<br />
بعد اس کے شغل لطیفہ چہارم میں مشغول ہو کہ ذکر سرّ السرّی کا مشاہدہ ہے کہ لطیفہ سرّی سے الطف ہے۔ اور اوپر ناف کے اس کی جگہ مقرر کرتے ہیں ۔ اس جا بھی تصور اسم اعظم کا کرے مرشد کی توجہ اور اللہ تعالیٰ کی بخشش سے اُس جگہ بھی حرکت اسم ذات کی پیدا ہوگی۔ چند روز اسی شغل میں رہے تا کہ انوار حقانی کا مشاہدہ ہو ۔<br />
اس کے بعد پانچویں لطیفہ کے شغل میں مشغول ہو جو کہ خفی ہے۔ ذکر خفی کا معائنہ ہے ۔ اُس کی جگہ بائیں جانب پہلو کے نیچے مقرر ہے ۔ اور لطیفہ سرّالسرّی سے الطف ہے۔ اس جگہ بھی اسم ذات کا تصور کرے۔ مرشد کی توجہ اور اللہ تعالیٰ کی عنایت سے یہ جگہ حرکت میں آئے۔ چند روز اسی شغل میں رہے ۔ تا کہ خزانہ مخفیات کا ظاہر ہو ۔<br />
ازاں بعد شغل لطیفہ چھٹے کا شروع کرے کہ اخفیٰ ہے لطیفہ خفی سے الطف ہے۔ اور اس کی درمیان سینہ کے جو مرکز محرابی ہے، جگہ مقرر کرتے ہیں۔ اس جگہ بھی خیال اسم اعظم یعنی اللہ کاکرے یہ لطیفہ بھی انشا اللہ تعالیٰ حرکت میں آئے۔ کچھ دن اس شغل میں رہے تا کہ مرتبہ جمع الجمع کامعائنہ ہو کہ ذکر اخفیٰ کا معائنہ جمع الجمع ہے<br />
بعد ہ شغل لطیفہ ساتویں کا شروع کرے جو لطیفہ قدسیہ نورانیہ مخفی ہے ۔ اس لطیفہ کی جگہ او پر لطیفہ اخفیٰ کے ہے ۔ یہ لطیفہ اخفیٰ سے شروع ہو کر حبل الورید اور اس سے سرّالسرّ ام الدماغ تک کہ جگہ عقل کی ہے پہنچتا ہے اور یہ لطیفہ تمام لطائف سے اکمل والطف و بلند ہے ۔ اس جگہ تصور اسم ذات کا کرے ۔ یہ لطیفہ بھی مرشد کی توجہ اور اللہ تعالیٰ کی عنایت سے جاری ہو ۔<br />
یہ تمام سات لطیفہ ہیں تمام جاری ہو جائینگے ۔ چند دن ان ساتوں لطیفوں میں مراقبہ تمام اور کامل کرے جو جاری ہونا ان کا بغیر تصور اور مراقبہ کے حاصل ہو ۔ بعد مراقبہ اسم ذات کے ہاتھوں، بازو، پیٹھ۔ ران وپاؤں بلکہ تمام اعضاؤں ومسامات بدن میں حرکت اسم ذات کی پائے ۔ یہاں تک کہ چمڑے اور گوشت و ہڈی اور ہررگ پٹھے اور بال بال میں حرکت اسم ذات کی ہو ۔<br />
جب سالک کو یہ مقام حاصل ہو۔ اس مرتبہ کو تلاونی وجودی اور ذکر سلطانی کہتے ہیں۔ پس اس وقت سالک اسم ذات کی آواز شجر و حجراور برگ با رو در و دیوار سےسنتا ہے۔ اور فاینما تولوا فشم وجہ اللہ کا جلوہ ہر سو د یکھتا ہے ۔<br />
ہر سو کہ روے کردم من روے دوست دیدم هر جانظرفگندم آن دوست را بدیدم<br />
اور جلوه و هو معكم اینما کنتم کا ہر طرف نظر آتا ہے ۔<br />
فصل ہشتم دربیان نفی اثبات<br />
طریقہ نقشبندی عالیہ میں جب کہ طالب صادق اسم ذات سے فارغ ہو۔ پھر مرشد تلقین نفی و اثبات شروع کرے .<br />
طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں نفی و اثبات اس طور سے ہے کہ کلمہ لا کو سرناف سے کھینچے اور سرتک پہنچائے اور کلمہ الہ کو لطیفہ روحی پر تصور کرے اور کلمہ الا اللہ کو لطیفہ قلبی پر خیال کرے اور محمد رسول اللہ کو اوپر لطیفہ اخفیٰ کے تصور کرے ۔ اس طور پر نفی و اثبات جاری کرے ۔ اور معانی کا بھی ساتھ ذکر کے لحاظ رکھے کہ بہت بڑا اثر رکھتا ہے :۔<br />
لا نہیں ہے کوئی الہ معبود و مقصود میرا الا اللہ سوائے ذات پاک خدا کے مُحَمَّد رَسُولُ الله محمد اس کے بھیجے ہوئے ہیں ۔<br />
اسی طور پر اگر حبس دم کرے تو طالب کو بہت فائدہ حاصل ہو ۔ اور صفائی دل کی جلد حاصل ہو۔ بعد اس کے مراقبہ نفی واثبات کا تمام لطائف اعضا ءمیں کرے جیسے اسم ذات کا کیا ۔ اور رات دن مراقبہ میں رہے جیسے کہ خواجہ حافظ شیرازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔<br />
بر و بمیکده چہره ار غوانی کن مرد بصومعہ کا نجا سیاه کارانند<br />
شربت با دا که من بسویت نگراں باشم تو نہی چشم بسوے دیگراں<br />
الم يعلم بان الله یری اپنا جلوہ دکھائے ۔ جب کہ نفی واثبات جاری ہو۔ تو پھر جس اسم کو اسمائے الہی سے اور ہر آیت آیات سے مراقبہ کرے جاری ہوگا بطفیل کلمہ طیبہ کے۔ اللهم افتح على اسرار الاذكار بحرمت النبي المختارامین ثم رب امین</p>
<p>فصل نہم دربیان لطیفه اول<br />
لطیفہ اول کے لطائف ساتوں میں سے پہلا لطیفہ قلب ہے جو منسوب ہے فلک القمر کی طرف اور تمام بدن جتنے کہ دل کی طرف یہی مقام ناسوت اور عالم سفلی ہے اور ایک منزل ہے منازل سات سے پہلی منزل سالک کی ناسوت ہے ۔ جیسے کہ شمس الدین تبریزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں<br />
یکے منزل که آن ناسوت نام است در و اوصاف حیوانی تمام است<br />
ازاں منزل اگر خود بگذر دکس رسد در منزل دو میں ملک بس<br />
اور جگہ اس لطیفہ کی نیچے بائیں پستان کے ہے۔ اور اس منزل میں واردات شریعت کے اور جو کچھ کہ علم سفلی میں مثل نباتات حیوانات &#8211; جمادات جبال اور تالاب وغیرہ اس لطیفہ میں منکشف و عیاں ہوتے ہیں ۔ اور اس مقام میں انوار طرح طرح کے سفید زرد سرخ &#8211; سیاہ ظہور میں آئینگے کہ کبھی نہ دیکھے ہونگے ۔ کثرت مراقبہ اسم ذات وحبس نفی و اثبات سے اور کعبہ نا سوتی اس لطیفہ میں عیاں و ایمان حقیقی اور روح حیوانی منکشف ہوتے ہیں اور اصل الاصل اس لطیفہ کی اضافت حق ہے کہ مرادفعل وتکوین سے ہے۔ کمال اس لطیفہ کا یہ ہے کہ فعل حق جل و علی میں فانی ہو اور ساتھ افعال خداوندی کے بقا پائے۔ حالات عشق کے ظاہر ہوں ۔ اورنور اس لطیفہ کو چاند کے نور سے تشبیہ دیتے ہیں یعنی سفید تھوڑا سا زردی مائل ہے ۔ اور ولایت اس لطیفہ کی نیچے قدموں آدم علیہ السلام کے ہے۔ اور جو آدمی صوفی المشرب ہے وصول اُس کا طرف جناب قد س کے اسی لطیفہ کی راہ سے ہوگا ۔ اور صاحب اس مشرب کو استعداد حصول ایک درجہ کی سات درجوں و لایت میں ہو گی۔ اور کلید (چابی) ، اس لطیفہ کی کلمہ لا الہ الا الله آدم صفی اللہ ہے۔ اس کلمہ شریف کے بہت مراقبہ کرنے سے یہ مقام طے ہوتا ہے۔ اور خزانہ اس لطیفہ کا اللہ اکبر اس کو مکشوف ہوتا ہے اور علم ادم ا لا سماء کلھا سے واقف ہو۔ اور اس لطیفہ میں سیر الی اللہ حاصل ہوتی ہے اورمکان اسرافیل علیہ السلام ہے۔ اور مقام کن فیکون ظاہر ہوتا ہے۔ اور نقش امارہ، نفس لوامہ کی وصف کے ساتھ عیاں ہوتا ہے جیسے کہ حق تعالے نے قرآن شریف میں قسم کھائی ہے۔ لا اقسم بيوم القيامة ولا اقسم بالنفس اللوامة میں البتہ قسم کھاتا ہوں دن قیامت کی اور قسم کھاتا ہوں نفس ملامت کرنے والے کی ۔ مراد اس سے تزکیہ نفس حاصل کیا ہوا ہے اور جاننا الہام کا خداوند تعالیٰ کی طرف سے وصف حمدیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ۔ سالک جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو نام اُس کا بدرالدین اور ایک فرد اولیا اللہ سے ہوتا ہے اور جو کچھ اقلیم اول آسمان اول میں سے منکشف ہوتا ہے العلم عند الله</p>
<p>نور ذکر باید در گذشتن باب تو به باید دل بشستن<br />
فصل دم در بیان لطیفہ دوم</p>
<p>لطیفہ دوم سات لطیفوں میں سے کہ نام اسکا لطیفہ روحی ہے ۔ یہ لطیفہ لطیفہ قلبی سے بہت لطیف، فلک عطارد سے منسوب ہے اور جگہ اس لطیفہ کی دائیں پستان اور دوسری منزل منازل سالک سے ہے اور تمام ملکوت یعنی انبوہ فرشتوں کا مکشوف ہوتا ہے ۔<br />
درا ں عالم چوا و معروف گردد ملائک آسمان مکشوف گردد<br />
اس منزل میں و اردات طریقت کے پیدا ہوتے ہیں ۔ سالک کو فرشتے اس مقام میں مختلف صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ کوئی نورانی صورت اور کوئی پرندہ کی شکل جیسے مور یا طوطایا شکل لڑکوں کی، غرض تمام مختلف صورتوں میں نمایاں ہوتے ہیں سالک اس منزل میں پہنچ کر فرشتے کی صفت ہو جاتا ہے ۔ کہ ایک دم خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ جیسے فرشتے کسی قت ذکر سبحانی اور یاد خداوندی سے ایک لحظہ ایک لمحے غافل نہیں ہوتے ۔ جیسا کہ اُن کے حق میں خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے یسبحون الليل والنهار ولا يفترون سالک کو بھی یہ مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے ۔<br />
در طریقت هر چه پیش سالک آید خیر اوست بر صراط مستقیم اے دل کسے گمراہ نیست<br />
اور کعبہ آ سمان دوم کا عیاں ہوتا ہے روزہ کی حقیقت اور روح نورانی سے واقف ہوتا ہے۔ اور اصل الاصول اس لطیفہ کے صفات ثبوتیہ حق ہیں ۔ اور ایک قدم درگاہ حق تعالے میں قریب ہوتا ہے ۔ سالک بعد حاصل کرنے فنا کے اس لطیفہ میں جو کہ وابستہ ہے تجلیات سے اپنے آپ کو مسلوب پاتا ہے بلکہ جناب قدس کی طرف منسوب پا ئیگا اور رنگ اس لطیفہ کا سفید کہتے ہیں۔ ولایت اس لطیفہ کی نیچے قدم حضرت نوح علیہ السلام کے ہے۔ اور جو نوحی المشرب ہوتا ہے ۔ راہ اُس کی طرف جانب قدس کے اسی لطیفہ سے ہوگی اور کلید اس لطیفہ کی لا الہ الا الله نوح نجی اللہ ہے کثرت سے مراقبہ کرنے نفی اثبات کےیہ مقام طے ہوتا ہے۔ اور خزائن اس لطیفہ کی اللہ قدیر اس پر کشف ہوتا ہے اور آیات، قال اركبوا فيها بسم الله مجريها ومرسها ان ربي لغفور رحیم اُس کو مکشوف ہو<br />
تا توانی به خدا باش که در کشتی نوح ہست خاکی که بآبے نخرد طوفان را<br />
چونکہ از سیل فنا بنیاد ہستی برکند چون ترانوح است کشتیبان طوفان غم مخور<br />
اس لطیفہ میں سیرمن اللہ حاصل ہوتی ہے۔ اور مکان حضرت جبریل علیہ السلام ۔ سالک کو اس منزل میں ہر شب شب قدر ہے اورنفس ملہمہ ظاہر ہوتا ہے صفت تواضع توبہ و طلب راہ مولا کی پیدا ہوتی ہے۔ اور سالک اس مقام مشہور بہ نجم الدین اور ایک نقباء اولیا سے ہوتا ہے ۔ اور جو کچھ ولایت دوسری اور آسمان دوسرے میں ہے عیاں ہوتا ہے ۔ اس منزل میں بھی قرار نہ پکڑے بلکہ مسافر ہو ۔ آگےمنزل حقیقت کی آئیگی جیسا کہ حافظ غیب اللسان فرماتے ہیں ۔<br />
تکیه بر تقوی و دانش در طریقت کا فری ست ره رو گر صدہنروار و در تو کل با یدش<br />
جو کچھ آسمان دوم میں ہے تمام منکشف ہوتا ہے ۔<br />
فصل یازدهم دربیان لطیفه سوم<br />
تیسرا لطیفہ کہ سات لطائف میں سے ہے اور لطیفہ روحی سے بہت لطیف ہے منسوب ہے بفلک زہرا &#8211; جگہ اس لطیفہ کی دائیں طرف نیچے پہلو دائیں کے ہے اور منزل تیسری سالک کی جبروت ہے ۔ اس منزل میں و اردات حقیقت کے پیدا ہوتے ہیں ۔ ملکوت سے قدم اُٹھاتے ہی تیسری منزل جبروت میں پہنچتا ہے منزل جبروت میں علم مثال عالم ارواح ہے ۔ اور چشمہائے روشن اور سنگ ریزے تمام یاقوت و لعل زمرد ومروارید کے ہیں۔ اور ہردم ہرساعت تجلیات ربانی واردات سبحانی وارد ہوں اور اس مقام میں بزرگی و سلطنت ظاہر اور اس میں متصرف بھی ہو وجودمثالی اس منزل میں ساکن ہیں ۔<br />
جان مغز حقیقت تن و پوست بہ بین در کسوت روح صور دوست بہ بیں<br />
هرذره که اونشان هستی دارد یا پر تو نو را وست یا اوست بہ بیں<br />
اس منزل میں کشف و کرا مات بینظیر حاصل ہوتے ہیں ۔<br />
دریں منزل بود کشف و کرامات ولے باید گذشتن زیں مقامات<br />
اگر دنیا و عقبی پیش آید نظر کردن براں ہر گز نشاید<br />
بخاصاں تو به کردن از مقامات بهردم فیض باشد از کرامات<br />
حسنات الابرارسيات المقربین &#8211; ابرار کی نیکیاں مقربین کے لئے گناہ ہیں۔ یہ مثل اس امر کی مخبر ہے ۔ اور مقام خلت ہے ۔ اور تیسرے ایمان کے کعبہ سے اور حقیقت حج سے واقف ہو جاتا ہے ۔<br />
از فضل تست در دل حاجی ہو اے حج ور نه کرا مجال که رنج سفر کند<br />
اور روح ملکی اس لطیفہ میں معائنہ ہوتا ہے ۔<br />
مقام روح برمن حیرت آمد نشان ازوی گفتن غیرت آمد<br />
اورا صل الاصول اس لطیفہ کی شیونات ذات اقدس کے ہیں جو ایک قدم صفات ثبوتیہ درگاہ حضرت اقدس میں نزدیک ہیں ۔ اور فنا سے اس لطیفہ میں تجلی شیونات ذاتیہ کی حاصل ہوگی ۔ اور اس لطیفہ کا سرخ کہتے ہیں ولایت اس لطیفہ کی نیچے قدم حضرت ابراہیم خلیل اللہ علےنبینا علیہالصلوۃ و السلام کے ہے ۔ اور جو شخص ابراہیمی مشرب ہے وصول اس کادرگاہ باری میں اسی لطیفہ کے راستہ سے ہو گا لیکن بعد طے کرنے پہلے لطیفوں کے ، اور صاحب اس منزل کو استعداد تین مرتبوں کی سات مراتب ولایت سے حاصل ہوتی ہے۔ اور مفتاح اس لطیفہ کی لا الہ الا الله ابراهیم خلیل اللہ کثرت سے مراقبہ کرنا اس کلمہ کا ہے اور خزانے اس لطیفہ کے اللہ مر ید اس پر ظاہر ہوں ۔ اور جب سالک اس مقام پر پہنچتا ہے تو آ یہ شریفه انى وجهت وجهي للذي فاطر السموات والارض حنيقا مسلما<br />
اُس کو ظاہر ہو ۔ اور اس لطیفہ میں سیر عن اللہ حاصل ہوتی ہے اور مکان میکائیل علیه السلام اور نفس مطمئنہ معلوم ہو جاتا ہے فرمایا خدا تعالے نے یا ایھا النفس المطمئنةارجعی اور اوصاف نفس مطمئنہ کے حیا و سخاوت ، شب بیداری اور خلق اللہ کو نہ ستاناہے۔ سالک اس مقام میں مسمے نور الدین اور اولیا ئے نجبا ءسے ہوتا ہے ۔ اور جو کچھ ولایت تیسری و تیسرے آسمان میں ہے تمام مکشوف ہوتا ہے والعلم عند اللہ</p>
<p>فصل دوازدهم دربیان لطیفہ چہارم<br />
لطائف سات سے لطیفہ سرّ السرّی جو منسوب ہے طرف فلک الشمس کے اور جگہ اس لطیفہ کی زیر ناف اور منزل لاہوت ہے ۔ واردات معرفت عالم حمدیہ کے ہوتے ہیں۔ اس عالم میں تجلیات جلالی وجمالی ہیں اور نور طرح طرح کے اس میں ہیں اور اسرار الہیہ اس مقام میں ہیں۔ شعلے نورانی اور انوار یزدانی معائنہ ہونگے ۔ بلکہ سالک ان شعلوں میں ایسا غرق ہوگا کہ اپنے آپ کو نہ پائیگا۔ اور اس لطیفہ میں اردت الہیہ وارد ہوتے ہیں۔ یہ مقام بہت نازک ہے ۔ کہنا اور ظاہر کرنا لائق نہیں کہ حق تعالے اپنے بھیدوں کو آپ ہی جانتا ہے۔ اور جو شخص اس مقام میں پہنچتا ہو اس کو معرفت ان اسرار کی حاصل ہوتی ہے ۔<br />
میان عاشق و معشوق رمزی است کراما کا تبیں راہم خبر نیست<br />
اور کعبہ ایمان چوتھے کا جو بیت المعمور ہے عیاں اور روح انسانی اس میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور اصل الاصل اس لطیفہ کی صفات ارادیہ خدا وند تعالے کی ہیں کہ صفات شیونات سے درگاہ ذات اقدس میں کسی قدر نزدیک ہیں ۔ اس لطیفہ میں فنا ہونے سے بھید اسرار ذاتیہ حاصل ہوتے ہیں اور نور اس لطیفہ کا زر دکہتے ہیں۔ ولایت اس لطیفہ کی نیچے قدم حضرت مو سٰے علیہ السلام کے ہے ۔ اور جو کوئی موسی المشرب ہوگا وصول اس کا درگاہ باری میں اسی لطیفہ کی راہ سے ہوگا۔ لیکن بعد طے کرنے پہلے لطیفوں کے ، اور صاحب اس مشرب کو استعدا د چہار مرتبوں کی سات مراتب ولایت سے ہوتی ہے ۔ اور مفتاح اس لطیفہ کا لا الہ الا الله موسی کلیم الله ہے۔ اکثر مراقبہ کرنے نفی اثبات اس کلمہ کے لطیفہ مفتوح ہوتا ہے اور خزانہ اس لطیفہ کا اللہ سمیع اس پر کشف ہوگا سینکڑوں مثل مو سے علیہ السلام کے مست ہر گوشہ سے رب ارنی کہتے ہوئے طالب دیدار نظر آئیں اور آیت ارنی ولن تراني انظر اليك ، قال لن تراني ولكن انظر الى الجيل فان استقر مكانه نسوف تراني فلما تجلى ربه الجبل جعله دگا و خرموشى صعقا فلما افاق قال سبحانك تبت اليك وانا اول المسلمین اور اس کے ظاہر ہو۔<br />
جسم خاک از عشق بر افلاک شد کوه در رقص آمد و چالاک شد<br />
عشق جان طور آمد عاشقا طورمست و خرمو سے صعقا<br />
نماز کی حقیقت اس مقام پرمعلوم ہوتی ہے۔ اس لطیفہ میں سیر باللہ اورمکان حضرت عزرائیل علیہ السلام کا حاصل ہوتا ہے ۔ اور سالک کا اس مقام میں نام شمس الدین ہوتا ہے نفس راضیہ پیدا ہوتا ہے یعنی ہر حال میں راضی رہتا ہے رضینا بقضائك وصابرين على رضائك یعنی راضی ہیں ہم تیری قضا پر اور صابر ہیں تیری بلا پر ۔ خدا وند کریم فرماتا ہے۔ الى ربك راضية اور سالک ایک اولیاءندبا سے ہوتا ہے ۔ جو کچھ آسمان چہارم اور ولایت چہارم میں ہے کشف ہوتا ہے۔ اور حقیقت حال خدا جانتا ہے ۔<br />
فصل سیزدهم دربیان لطیفہ پنجم<br />
پانچواں لطیفہ سات لطائف میں سے جو نام اس کا لطیفہ خفی ہے اور سرّالسرّی سے لطیف اور منسوب بفلک مریخ ہے اور اس کی جگہ بائیں طرف نیچے پہلو بائیں کے ہے منزل با ہوت۔ اور واردات واحدیت کے ظاہر ہوتے ہیں یعنی عالم تفصیل عالم نور وعالم شہود ہے ۔ جو اس عالم میں عجائبات و غرائبات ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور جو تجلیات واحدیت و اسرار الہیت کے اس مقام میں پوشیدہ ہیں عیاں ہوتے ہیں ۔ ان کی وصف کوئی نہیں کر سکتا۔ کعبہ ایمان پانچویں کا عیاں ہوتا ہے حقیقت زکوۃ کی واقف ہوتا ہے۔ روح امین سے خبردار ہوتا ہے۔ اصل الاصل اس لطیفہ کی صفات سلبیہ ہیں کہ کسی قدر جناب باری میں صفا ت اسراریہ سے نزدیک ہیں ۔ اور اس لطیفہ میں فنا ہونے سے ان صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ اور نور اس لطیفہ کا سیاہ بہ سرخی مائل مقرر کرتے ہیں۔ اور ولایت اس لطیفہ کی نیچے قدم حضرت عیسے علیہ السلام کی ہے جو کوئی عیسے المشرب ہے راہ اُس کا جناب قدس میں اسی لطیفہ کی راہ سے ہوگا ۔ او رحصول فنا اس لطیفہ کا بھی ساتھ صفات سلبیہ کے ہوگا ۔ لیکن بعد قطع پہلے لطیفوں کے۔ اور صاحب اس مشرب کو استعداد پانچ مراتب کی سات مراتب ولایت سے حاصل ہوتی ہے اور کلید اس لطیفہ کی لا الہ الا اللہ عیسی روح الله ہے۔ کثرت مراقبہ اس کلمہ شریف کے یہ لطیفہ کھلتا ہے ۔ خزانہ اس لطیفہ کا اللہ البصیر اس کو منکشف ہوتا ہے ۔ اور یہ مکان حضرت جبریل علیہ السلام کا ہے۔ اور سالک جب اسی مقام پرپہنچتا ہے تو انی اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فتكون طيرا باذن الله وابدئ الأمر واحی الموتی اس کو منکشف ہوتا ہے<br />
جال رفت در صراحی وحافظ بعشق سوخت عیسٰے دمے کجا است که احیا بما کند<br />
اور سالک کو اس منزل میں سیرالی اللہ حاصل ہوتی ہے۔ اس مقام میں سالک کا نام حسام الدین ہوتا ہے ۔ اور نفس راضیہ مرضیہ ہو جاتا ہے۔ سالک اس مقام میں ایک اولیاء سے ابدال سے ہوتا ہے اور جو کچھ عالم علوی و آسمان پانچویں میں اور جو کچھ عالم سفلی واقلیم پانچویں میں ہے معائنہ کرتا ہے ۔ والعلم عند الله :</p>
<p>فصل چہار دہم دربیان لطیفہ ششم<br />
چھٹا لطیفہ سات لطیفوں میں سے لطیفہ اخفا ہے جو تمام لطیفوں سے بہت لطیف اور احسن واجمل لطائف عالم سے ہے اور بہت قریب ہے درگاه پروردگار میں کہ منسوب بفلک مشتری ہے ۔ جگہ اس لطیفہ کی درمیان سینہ کے جو مرکز محرابی ہے مقرر کرتے ہیں۔ اس لطیفہ میں واردات وحدت کے ہیں ۔ منزل چھٹی ھا ھوت کی ہے اور اصل الاصل اس لطیفہ کی ایک مرتبہ مثل برزخ درمیان واحدیت اور احدیت کے وحدة برزخ ہے۔ کیونکہ وحدۃ کا منشا احدیت اور وحدیت ہوتی ہے ۔ مراتب از لیت وابدیت کے مکشوف رابطہ اولیت و آخریت کا اور واسطہ باطنیت و ظاہریت کا پیدا ہوتا ہے۔ حد فاصل سے اشارہ طرف اسی کے ہے۔ برزخ جامع مراد اسی سے ہے حقیقت محمدی بھی یہی ہے یعنی وحدت جو اصل قابل جمیع اشیا ءہے احدیت و واحدیت سے پیدا ہے۔ اس واسطے کہ واحدیت مرتبہ تفصیل ہے اور وحدت مرتبہ اجمال لیکن انتہا احدیت کا اس مرتبہ میں ہے جو مراد مرتبہ اطلاق کا ہے۔ اس بنا پر کہ دریافت احدیت کی اس مرتبہ میں ہے۔ ورنہ در حقیقت مرتبہ احدیت کا منشاکل ہے ۔ اور آیہ مرج البحرين يلتقيان بينهما بزرخ لا یبغیان اس کی خبر دیتی ہے۔ او رحالت عشق ہے ۔ جو کہ غلبہ عشق سے بیقرار ہو کر نہایت بیقراری سے عین حضوری بے صبری سے شور ھل من مزید کا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے یا لیت رب محمد لم يخلق محمدا کا ش کے رب محمد کانہ پیدا کرتا محمد کو، اور آنکھ کے چمکارے میں اس حال سے گذر جاتا ہے اور مقام فاولى على عبده ما اوحى &#8211; وما زاغ البصر وما طغى اور مقام قاب قوسین او ادنی میں پہنچ جاتا ہے ۔ اس جگہ پر قیام کر کے کہتا ہے۔ لی مع الله وقت لا يسعنى فيه . ملك مقرب ولا نبی مرسل مجھ کو پروردگار کے ساتھ ایسا وقت ہے کہ نہیں پہنچتا فرشتہ مقرب اور نہ نبی مرسل، مگر اس مقام پر کوئی نہیں پہنچا سوائے ذات پاک رسول اللہ ﷺ کے ۔ ہاں ہزاروں نے ایک ایک طناب خیمہ حبیب پاک علیہ الصلوۃ و السلام کو دیکھا ہو گا ۔ بہت سے میدان لا الہ میں گئے اور بعضے دائرہ میں پہنچے اور بعضے تھوڑی سی حقیقت محمد رسول اللہ ﷺ کو پہنچے۔ لیکن محمد رسول اللہ اُس جگہ پر ہیں کہ فرماتے ہیں من رانی فقد رای الحق جس نے دیکھا مجھ کو پر تحقیق دیکھا اُس نے حق کو ۔ قدم اس جگہ پر ہے اے سالک عوام کے لئے اسم مع جسم ہے اور خواص کے واسطے اسم بلا جسم ۔ اس واسطے کہ وہ محو ہیں جسم حقیقی میں ، پس بالضرور اسم سے زیادہ اور نہیں۔ اُن کی خودی ذات خدا میں فنا ہوگئی سواے خدا کے کچھ نہیں رہا ۔ سالک ھا ہوت میں معشوق اور با ہوت میں عشق اور لاہوت میں عاشق و جبروت میں عارف واصف ملکوت میں واقف ناسوت میں ہوتا ہے۔ جب اس جگہ پر نزول ہوا اور پھر خبرپائی طرف وصف کے دوڑا۔ اور وصف نے عرفان میں ڈالا تو معارف کے ساتھ مشغول ہوا۔ اور رویت عارف نے عاشق اپنا بنایا۔ جب اپنا عاشق ہوا تو معشوق کو ملا۔ پہلے نزول تھا ۔ اب یہ عروج ہوا<br />
اور حقیقت محمدی معلوم کی کلمہ طیبہ کی حقیقت اس مقام میںمنکشف ہوتی ہے کعبہ آ سمان چھٹے کا دکھائی دیتا ہے۔ سالک جب اس مقام پر پہنچتا ہے ہمیشہ ہرقت ہر زمانہ میں جمال محمدی دیکھتا ہے اور فنا اس لطیفہ کی وہی مرتبہ مقدس جناب علی الاطلاق کا ہے اور نوراس لطیفہ کا سفید سبزی مائل ہے۔ ولایت اس لطیفہ کی نیچے قدم حضرت محمد مصطفے ﷺکے ہے ۔ اور صاحب اس مشرب عالی کو بذات خود لیاقت حاصل کرنی تمام و کمال چھ مرتبوں کی سات مراتب و لایت سے ہوتی ہے ۔ اور کثرت سے مراقبہ کرنالا الہ الا الله محمد رسول اللہ کا اس لطیفہ کی مفتاح ہے ۔ اور خزانہ اللہ علیم کا اُس پر واضح ہوتا ہے ۔ جب سالک اس مقام پر پہنچتا ہے ۔ تو قل الروح من امرد بی اُس پر عیاں ہوتا ہے ۔<br />
فرمایا خداوند تعالیٰ نے يسئلونك عن الروح قل الروح من امر ربي وما اوتيتم من العلم الا قلیلا کا مقصد مکشوف ہوتا ہے ۔<br />
مقام روح بر من حیرت آمد نشان از وی بگفتن غیرت آمد<br />
فرمایانبی علیہ الصلوة و السلام نے اول ما خلق الله نوری و روحی انا من نور الله والمؤمنون من نوری اول وہ شے جو پیدا کی خدا وند تعالے نے میرا نور ہے اور بعضی روایت میں میرا روح میری پیدائش نورحق سے ہے اور تمام مومنین میرے نور سے پیدا ہیں۔ اور خداوند تعالیٰ کی طرف سے خطاب مستطاب لولاك لما خلقت الافلاك اور دوسر اخطاب لولاك لما اظهر الربوبية کے مخاطب ہیں<br />
یعنی اے محبوب اگر نہ ہوتے تم تو نہ پیدا کرتا میں آسمان ۔ دوسرے اگر نہ ہوتے تم تو البتہ نہ ظاہر ہوتی ربو بیت اول اور آخر تمام اُسی سے ہے او حقیقت محمد خود دہ ہے۔<br />
غزل<br />
گفتا بصورت ارچه اولاد آدمم از روے مرتبه بہمه حال بر ترم<br />
چوں بنگر در آئینه عکس جمال خویش کرده همه جہاں بحقیقت مصورم<br />
خورشید بر آسمان ظہور م عجب مدار ذرات کائنات اگر گشته مظہرم<br />
ارواح قدس چیست نمودار معنیم اشباح انس چیست نموداری پیکرم<br />
بحر محیط رشحه از فیض فائضم نور بسیط لمئہ از نور ازہرم<br />
از عرش تا بفرش ہمہ ذره وجود در نور افتاب ضمیر منورم<br />
روشن شود ز روشنی ذات من جہاں گر پر دہ صفات خود را فرو ورم<br />
آبے از و که خضر جا و وان بماند آن آب چیست قطره از حوض کوثرم<br />
واں دم کز ومسیح ہمے مرده زنده کرد یک نفخه از نفس روح پرورم<br />
فی الجمله مظهر ہمه اشیا است ذات من بل اسم اعظم بحقیقت چوبنگرم<br />
اور اس لطیفہ میں سیر مع اللہ حاصل ہوتا ہے ۔ سالک جب اس مقام پر پہنچتا ہے ۔ نام اس کا جمال الدین ہوتا ہے۔ اور نفس کاملہ کا معائنہ ہوتا ہے۔ سالک ایک اولیا ءاوتاد سے ہوتا ہے۔ اور جو کچھ آسمان چھٹے اورا قلیم چھٹی میں ہوتا ہے تمام عیاں ہوتا ہے العلم عند الله وعند الرسول ۔</p>
<p>فصل پانزدهم دربیان لطیفہ ہفتم<br />
ساتواں لطیفہ تمام لطیفوں سے قدس ہے کہ مخفی سے بہت لطیف اور اتم و اکمل و اوثق ہے ۔ منسوب ہے بطرف فلک زحل فلک منازل و فلک البروج اور آسمان عرش اور کرسی اور جسم کل شکل کل و جوہرہا وطبیعت کل ونفس و عقل کل کی ہے۔ اور زیادہ اس سے<br />
علم خداوند تعالیٰ کو ہے ۔ ستر ہزار حجاب نورانی و ظلمانی ہیں اور جگہ اس لطیفہ کی شروع لطیفہ اخفیٰ کی بلندی سے ملی ہوئی سینہ اور سینہ سے بلند ہو کر حبل الورید تک اور جبل الورید سے گردن اور گردن سے سر اور سر سے ام الدماغ جو مقام عقل معاد کا ہے اس لطیفہ میں واردات تجلی ذات احد کی ہے اور فنافی اللہ اس مقام میں حاصل ہوتی ہے اگر تو نے توحید حاصل کی اور ہمیشہ کی زندگی تو نے خدا سے پائی ۔ فناو ترک خواہش کا نام ہے ۔ بقا تمام اُس کی صفات سے شمار کرتے ہیں ۔ اولیا و اصفیا میں سے کسی کے لئے ہر گزموت نہیں جب سالک اس مقام پر پہنچتا ہے تمام بدن زبان ہو جا تا ہے ۔<br />
بدریائے فتاده ام که پایانش نمی بینم بدردے مبتلا گشتم که درمانش نے بینم<br />
درین دریای یک در است من عشاق آن درم ولیکن کو که در جوید به فرمائش نےم بینم<br />
فرمایا پیغمبرعلیہ الصلاة والسلام نے فاشتد وا السفينة فانه بحر عميق -مضبوط کرو کشتی کو کیونکہ دریا بہت گہرا ہے ۔<br />
بحریست بحرعشق که ہیچش کناره نیست آنجا جز آنکه جان بسپارند چاره نیست<br />
اور نور اس لطیفہ کا نور بے نشان جیسے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شان ہے۔<br />
اور مفتاح اس لطیفہ کی کلمہ لا اله الا الله الواحد القہار ہے کثرت سے مراقبہ کرنے اس کلمہ شریف کے لطیفہ مفتوح ہوتا ہے۔ اور خزانہ اس لطیفہ کا اللہ کلیم سالک کو مکشوف ہوتا ہے ۔<br />
محبت گر شود ظاهر بصورت همان صوت شود عاشق ضرورت<br />
بخواہد چشم سر معشوق دیدن کلامش را بگوش خوش شنیدن<br />
ما بسامان کاروانم اے رفیق عزم کرده پا نہاده دطریق<br />
احمد مختار اندر راه راست در میان قافله سالار ماست<br />
جب سالک اس مقام پر بوسیلہ برزخ کامل اور جامع جمیع صفات شامل کے پہنچتا ہے۔ اس وقت محمد مصطفے ﷺسالک کو اپنی رکاب میں پکڑ کر بحرا حدیت میں غوطہ دیتے ہیں اور سالک گم ہو جاتا ہے اور حالت گم گشتگی میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ وصال ہے اور یہ حالت گم گشتگی کی ہمیشہ نہیں رہتی ۔ بلکہ کسی کو ایک ہفتہ کسی کو تین روز کسی کو ایک دن کسی کو ایک پہر کسی کو لمحہ کی قدر ہوتی ہے ۔ اور اس حالت کاحال کہا نہیں جا سکتا ۔<br />
حافظ مدام وصل میسر نمے شود شاہاں کم التفات بحال گدا کنند<br />
اور محبت کی باتیں سنے مثل یا عِبَادِي أَنْت عَشِيَّقي وَ مُحِبِّي أَنَا عَشِقَك مَحَبَّتِك یعنی اے بندے میرے تو میرا عاشق و محب ہے اور میں تیرا عاشق و محب ہوں فرمایاپیغمبر علیه الصلاة والسلام نے مَن أحَبَّ لِقاءَ اللَّهِ أحَبَّ اللَّهُ لِقاءَهُ جو شخص دوست رکھتا ہے دیدار خدا کو تو خدا وند تعالےٰ دوست رکھتا ہے اس کے دیدار کو۔ اور فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ ( تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا)اُس پرمکشوف ہوتا ہے۔ اور آیہ وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌاِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ (کچھ چہرے اس دن تر و تازہ ہوں گے۔اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے)اور وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا ( اور ان کا رب انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا)- اور فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ(تم جدھر منہ کرو ادھر ہی اللہ کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے)کے اسرار ظاہر ہوں<br />
هر که راہست از ہوس جان پاک زود بیند حضرت ایوان پاک<br />
چون محمد پاک شد از نا رو دود هر کجا رو کرد وجه الله بود<br />
هر که را باشد زسینه فتح باب آں زذره مہر بیندآ فتاب<br />
اور رسول علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ قریب ہے کہ دیکھو گے تم اپنے پروردگار کو جیسا کہ دیکھتے ہوتم چودھویں رات کے چاند کو۔<br />
اگر خواهی سخن با حق بگوئی نمازے از حضور دل بجوئی<br />
فرما یا نبی علیہ الصلوة و السلام نے اَلصَّلَاۃ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ(نماز مومنین کی معراج ہے)سالک کو جلوہ دکھلائے اور فرمایانبی صلے اللہ علیہ وسلم نے رَاَیتُ رَبِّي لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَوَضَعَ أَنَامِل كَفٍّہ عَلَى كَتِفِي فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا فی صَدْرِی یعنی دیکھامیں نے پروردگار اپنے کو معراج کی رات میں بہت اچھی صورت میں پس رکھا حق تعالے نے انگلیوں اپنی کو درمیان کندھوں میرے کے معلوم کی میں نے سردی ان کی سینہ اپنے میں۔<br />
یقین ہے کہ سالک یکتا اور محب فرزانہ ہو، کہ بہت عمدہ صورت مثل آئینہ کے جو عکس جمال قدرت حق تعالے کا اور وجہ ذو الجلال کا اس آئینہ میں دیکھے۔ حق یہ ہے کہ تو جب آئینہ میں صورت دیکھنا ہے تو صورت تیری آئینہ میں نہیں آجاتی ۔ ہاں عکس اس کا بے شک آئینہ میں آ جاتا ہے ۔<br />
مادر پیالہ عکس گرخ بار دیده ایم اے بےخبر لذت شراب مدام ما<br />
ایسا ہی رسول خدا ﷺفرماتے ہیں، کہ میں نے ذات پر ور دگار کوبہت اچھی صورت میں دیکھا۔ اور اُس کے چہرے کے عکس کو میں نے مطالعہ کیا۔ اور میں اُس پر مطلع ہوا کہ ۔ ان متشابہات کے ساتھ دکھلائی دیتا ہے ۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام رسول خدا ﷺپر صورت دحیہ کلبی میں آتے تھے، نہ یہ تھا۔ که جبر ائیل علیہ السلام صورت دحیہ کلبی کی رکھتے تھے ۔ یا صورت اپنی نہیں بدلتے لیکن ایسے معلوم ہوتے تھے ۔ اسی مثال پر اس کلام کو قیاس کرو۔ اور انہیں معنی پر خیال کرو، رکھنے انگلیوں ہاتھ کو اوپر کا ندھوں کے اور اُن سے معلوم کرنی ٹھنڈک سینہ میں شعور جو مجھ کو اُس وضع انامل سے ہوا ۔ وہ میرے دل کی ٹھنڈک تھی۔ جو اس سے شعو رمعرفت مطلق کا روشن ہوا ۔ اللّٰھم أَحْسِن بِعَمَل الأَحَدِيَّة وَالوَاحِدِيَّة بِحُرْمَةِ النَّبِيِّ الْعَرَبِيِّ وَإِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَهُوَ اللَّهُ &#8211; یہی ہے وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں)- مقام قرب اور منزل بے نشان ہے ، سوائے کون و مکاں کے دوسرے کیا ہے۔ اس منزل میں سوائے جستجو کے کچھ نہیں ہوتا ۔ خداوند کریم کی مدد کے بغیر گفتگو کے پہنچے اس جگہ سالک ہر ایک چیز کا مالک ہوتا ہے . فرمایا رسول اللہ ﷺنے اتَّصَفُوا بِصِفَاتِ اللَّهِ وَتَخَلَّقُوا بِاَ خْلَاق ِاللَّهِ متصف ہوتا ہے۔ مثال اس کی اس طور پر سمجھنی چاہئے کہ کوئی شخص لوہے کو آگ میں کرے آگ سرخ اور لوہا بھی سرخ ہوتا ہے ۔ لوہا آگ ہے جب تک سرخی باقی ہے اور جب سرخی زائل ہو جائے ۔ لوہا لوہا ہے اور آگ آگ ہے۔ اُس وقت کہ سالک عشق حق تعالے میں فانی ہو جاتا ہے قیمت اس کے خون کی دیدار الہی ہے جیسا کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ مَنْ مَاتَ مِنْ الْعِشْقِ فَقَدْمَاتَ شَهِیدً ا یعنی جو مرگیا عشق میں تحقیق وہ شہید ہے ۔ اور شہید اکبر کود یدار اسی وقت حاصل ہوتا ہے ۔<br />
خدا یا سخت مشتاقم زبہر شوق دیدارت بفضل خود مرا یا رب نما دیدار یا الله<br />
اللَّهُمَّ اُرْزُقْنَا لِقَائِك بِحُرْمَتِ النَّبی الْعَرَبِی کیا اچھے ہیں نیک نصیب سالکان واثق اور عاشقان صادق کے جو فی الفور اس مرتبہ عظیمہ کو پہنچتے ہیں<br />
دیگراں راو عده فردا بود سالکان را دید هم آنجا بود<br />
جب کہ دریائے احدیت سے غوطہ مار کر باہر آتا ہے ۔ رجوع حالت ا صلی کی طرف کرتا ہے۔ کہ کہا ہے مَا لِنِهَايَت هُوَ الرُّجُوعُ إلَى الْبَدَایت یعنی سائل نے پوچھا کہ نہایت کیا ہے، کہا وہ لوٹنا ہے طرف ابتدا کی۔ فرمایا رسول علیہ الصلوة و السلام نے كُلِّ شَيْ يَرْجِعُ إلَى أَصْلِهِ یعنی ہر شے رجوع کرتی ہے طرف اصل اپنے کے اور اس لطیفہ میں سیر فی اللہ حاصل ہوتی ہے۔ اور روح قدسی عیاں ہوتا ہے نفس نیک ہو جاتا ہے ۔ سالک کا نام کمال الدین ہوتا ہے اور ایک مرتبہ کا قطب اور غوث زمانہ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ بیچ چوداں آسمانوں اور سات زمینوں اور تحت الثرے اور سات و لایت کے ہے مکشوف ہوتا ہے۔ یعنی خداوند تعالیٰکے حکم سے واضح ہوتا ہے ۔ والعلم عند الله ۔<br />
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا بِحُرْمت النَّبِيَّ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ</p>
<p>اور خاتمہ بالخیر بیان میں سلسلہ نقشبندیہ شریفہ عالیہ و شجرہ طیبہ کے ہمیشہ نازل ہواس پر برکت اور رحمت بحرمت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم :<br />
سِلْسِلَہ مُتَوَاتِرَة انْتِسَابہ فِي الطَّرِيقَةِ النَّقْشَبَندیهُ قَدَّس اللّہ أَسْرًارَھم<br />
اس فقير حقیر كثیر التقصير محمدا سلم نقشبندی نے اپنے باپ شیخ جلال الدین نقشبندی سے فیض پایا۔ اور اُنہوں نے شیخ المشائخ میاں فتح اللہ نقشبندی سے ۔ اور مولینا محقق میاں معصوم رحمہ اللہ علیہ سے ۔ اور انہوں نے اپنے والد و شیخ قطب ر بانی حبیب سبحانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ سے اور انہوں نے خواجہ محمدن الباقی نقشبندی رحمہ اللہ علیہ سے ۔ اور اُنہوں نے خواجہ امکنی رحمتہ اللہ علیہ سے۔ اور اُنہوں نے قطب ربانی خواجہ درویش ولی نقشبندی رحمہ اللہ علیہ سے ۔ اور انہوں نے قطب ر بانی خواجہ زاہدنقشبندی رحمتہ اللہ علیہ سے اور انہوں نے قطب ربانی خواجہ عبد اللہ الاحرار نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ سے اور انہوں نے قطب ربانی خواجہ یعقوب رحمہ اللہ علیہ ہے۔ اور اُنہوں نے خلیفہ الرحمانی السر السبحانی عاشق ربانی حضرت خواجہ بہاؤالحق والدین نقشبندی قدس الله سرہ العزیز ہے ۔ اور اُنہوں نے قطب ربانی خواجہ میر کلال رحمتہ اللہ علیہ سے۔ اور انہوں نے قطب ربانی محمد السماسی رحمتہ اللہ علیہ سے۔ اور وہ قطب ربانی خواجہ علی رحمتہ اللہ علیہ سے ۔ اور انہوں نے قطب ر بانی خواجہ محمود الخیر الفغنوی رحمتہ اللہ علیہ سے ۔ اور انہوں نے قطب بانی خواجہ عارف ریوگری سے ۔ اور وہ قطب ربانی خواجه عبد الخالق غجدوانی رحمتہ اللہ علیہ ے ۔ اور اُنہوں نے قطب ربانی خواجہ یوسف ہمدانی رحمتہ اللہ علیہ سے اور قطب ربانی خواجہ علی الفارمدی رحمتہ اللہ علیہ سے اور اُنہوں نے قطب ربانی خواجہ ابو الحسن الخرقانی رحمہ اللہ علیہ سے اور انہوں نے قطب ربانی خواجہ بایزید البسطامی رحمہ اللہ علیہ سے۔ اور انہوں نے امام الهام حضرت امام جعفر الصادق سبط حبیب اللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے نانا قاسم بن محمدبن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت سلمان الفارسی صاحب رسول اللہ ﷺسے اور انہوں نے شیخ المہاجرین و الانصار ثانی اثنين اذهما في الغار الى الصديق خیرالاخیار رضی اللہ تعالی عنہ سے۔ اور اُنہوں نے حضرت سید المرسلین خاتم النبین محمدن المصطفے ورسول المجتبے علیہ الصلوۃ والتسلیمات اورانہوں نے جبرئیل سے انہوں نے تمام رب العزت جل جلالہ العظیم الکریم الرحیم سے ۔<br />
تمت بالخير<br />
غزل حقیر<br />
خاند خود اے صنم اندر دل ما کرده بود ویرا نہ مگرعر ش معلے کردہ<br />
عاشق جانباز را کرده ہلاک از تیغ ناز بر سر راہش فگندی و تماشا کرده<br />
من گرفتار بلا تنها نیم اے جان جان ہر کسےرا عاشق زلف چلیپا کرده<br />
ابرویت تیغ و سلاسل زلف مژگانت سنان بہرقتل عاشقان سامان مهیا کرده<br />
ساختی مومن کسے را کردہ کافر کسی رخته ها انداختی خود فتنہ بر پا کرده<br />
جلوه خود برفگندی کرده روش طوررا زان کلیمی با صفار است پیدا کرده<br />
خود توئی احمد شدی خود حامد و محمود وز برای دیدن خود را تمنا کرده<br />
گر شدی یعقوب گاہے یوسف کنعاں شدی ہر دو عالم را بعشق خودزلیخا کرده<br />
خود شدی فرهاد و شیریں وامق عذراست خود لیلی و مجنون شدی خود عزم صحرا کرده<br />
آمدی برکشتند خودقم با ذنی گفته ای شوم قربانت اعجاز مسیحا کرده<br />
خود عیاں کردی تو اسرار نهان خویش را پس چرا رسوا حقیر بےنوا را کرده</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d8%25b7%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2581%2F&#038;title=%D9%85%D9%81%D8%AA%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D8%B7%D8%A7%D8%A6%D9%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81/" data-a2a-title="مفتاح اللطائف"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%84%d9%84%d8%b7%d8%a7%d8%a6%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کشکول کلیمی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d9%82%d8%b7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%b4%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d9%82%d8%b7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%b4%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 25 Apr 2024 11:36:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[آداب ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[اتم التوجهات]]></category>
		<category><![CDATA[تخلیہ اور تملیہ]]></category>
		<category><![CDATA[تنقیہ باطن]]></category>
		<category><![CDATA[توالی انفاس]]></category>
		<category><![CDATA[جزء علمی وجزء جہلی]]></category>
		<category><![CDATA[حبس دم کے طریقے]]></category>
		<category><![CDATA[حبس نفس]]></category>
		<category><![CDATA[حصر نفس]]></category>
		<category><![CDATA[حصردم]]></category>
		<category><![CDATA[حیرت ممدوحہ و مذمومہ]]></category>
		<category><![CDATA[خطرہ رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[خطرہ شیطانی]]></category>
		<category><![CDATA[خطرہ ملکی]]></category>
		<category><![CDATA[خطرہ نفسانی]]></category>
		<category><![CDATA[ذكر كشف الروح]]></category>
		<category><![CDATA[ذكر كشف القبور]]></category>
		<category><![CDATA[ذكر لقلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر چار ضربی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر چہار ضربی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر حدادی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر دو ضربی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر سہ پایہ]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر سینہ بہ سینہ]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر شش ضربی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر محو الجہات]]></category>
		<category><![CDATA[سجود قلب]]></category>
		<category><![CDATA[سلطان الاذکار]]></category>
		<category><![CDATA[شہرستان شہود]]></category>
		<category><![CDATA[صوت سرمدی]]></category>
		<category><![CDATA[غلبہ شوق]]></category>
		<category><![CDATA[فنا کی دوقسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[کشکول کلیمی]]></category>
		<category><![CDATA[مراقبہ معراج العارفين]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جمع الجمع]]></category>
		<category><![CDATA[مشکوک الوجود اور مشکوک الثبوت]]></category>
		<category><![CDATA[نہایت عرفان]]></category>
		<category><![CDATA[ہمت شیخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9076</guid>

					<description><![CDATA[کشکول کلیمی حضرت قطب العالم شاہ کلیم اللہ جہان آبادی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهٖ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ یہ ایک کشکول ہے ۔ اس میں ایسے لقمے ہیں جو لطیفہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d9%82%d8%b7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%b4%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>کشکول کلیمی حضرت قطب العالم شاہ کلیم اللہ جہان آبادی</h1>
<p>بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى سَيِّدُ الْمُرْسَلِينَ مُحَمَّدٍ وَ اٰلِهٖ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ<br />
یہ ایک کشکول ہے ۔ اس میں ایسے لقمے ہیں جو لطیفہ ربانی کی غذا ہیں اور جن سے نفس ناطقہ تقویت حاصل کرتا ہے، جو مجازی اسلام کے پیکر میں ایمان حقیقی کی روح پھونک دیتے ہیں جو مردہ طبیعتوں کو حیات جاودانی سے ہمکنار کرتے ہیں اور ہوائے نفسانی کے مریضوں کو شفا ئے رحمانی کے سر چشمہ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ محض کتاب کے خشک اوراق نہیں ہیں بلکہ انواع و اقسام کے اذکار و افکار سے بھرے پُرے طبق ہیں ۔ ان لقموں کو راقم سطور کلیم اللہ نے ارباب نعمت اور اہل کرم کے دروازوں سے بھیک مانگ کر ان لوگوں کی خاطر جمع کیا ہے جن کی بھوک (یعنی طلب) اتنی سچی ہے کہ اس میں کذب کا شائبہ تک نہیں ۔ اس کشکول کے ہر لقمے میں وہ مزہ ہے جو ایک خاص قسم کی بھوک رکھنے والوں کے لیے مخصوص ہے اور ان کے سوا کوئی دوسرا اس کا اہل نہیں۔ ہر پارہ نان سے جہاں بعض لوگوں کا ذوق لذت اندوز ہوگا وہاں بعض کو سوائے بے مزگی کے اور کچھ حاصل نہ ہو گا ۔ غرضیکہ یہ رنگارنگ نوالے اس مرد قلندر کا حصہ ہیں جس نے ذوق طریقت کے ذریعے حقیقت کو (جو مقصود اصلی ہے) پالیا ہے۔ جو ہر طرح کی روکھی پھیکی یا چکنی چپڑی پر راضی ہے تا کہ ہر طاب کو اس کی استعداد کے لحاظ سے حصہ پہنچائے اور ہر صاحب ذوق کو اس کے حوصلہ کے<br />
مطابق یہ نعمت چکھائے. قبل ازیں میں نے&#8221; شہرستان شہود“ کے عریاں تن باسیوں کی خاطر ایک مرقع تیار کیا تھا تا کہ وہ اپنے جسموں کو لباس تقوی سے آراستہ کریں ۔ آج جب کہ ماہ ذی قعدہ 1101ھ کا آغاز ہے بعض مخلص دوستوں کے اصرار پر میں نے یہ مانگے کے ٹکڑے اس کشکول میں جمع کئے ہیں تاکہ اہل ذوق وشوق ان سے بہرہ ور ہوں اور دعائے خیر سے اس ناچیز کی امداد فرمائیں۔<br />
نَسْأَلُ اللَّهُ أَن لَا نَسْأَلُ مِنْهُ إِلَّا إِيَّاهُ بِعِزِّمَنِ اجْتَبَاهُ لِأَوَّلِيَّةِ التَّنَزَّلَاتِ وَاصْطَفَاهُ.<br />
اللہ تعالیٰ سے ہمارا یہی سوال ہے کہ ہم اس سے اس کے سوا اور کچھ نہ مانگیں۔ اور ہم اس ذات گرامی کو اپنا وسیلہ بناتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ نے تنزلات میں سب سے پہلے تنزل کے لئے چنا اور جو اس کے پسندیدہ ہیں۔</p>
<h2>مقدمہ</h2>
<p>اے طالب حق ! اللہ تعالے تجھے عارفوں کے مدارج اعلیٰ پر فائز فرمائے ، اس بات کو جان لے کہ وجود مطلق، پیشتر اس سے کہ وہ وجود ظلی وکونی کے تعین میں ظاہر ہو، مخفی تھا۔ یعنی اس بے نشاں کا کوئی نشان نہ تھا۔ پھر اس محبت کے تقاضے سے جو اسے اپنے آپ سے ہے، وجود مطلق نے اس صرافت و بے نشانی سے نکل کر مراتب الہی و کیانی میں تنزل فرمایا اور ہرمتعین میں اس تعین کی قید کے اعتبار سے عاشق اور رفع تعین کے اعتبار سے معشوق کہلایا۔ اب ہر تعین کا کمال اسی میں ہے کہ وہ اطلاق کی طرف رجوع کرے اور جس بے رنگی سے باہر آیا تھا پھر اسی میں لوٹ جائے۔ ہماری گفتگو کا موضوع بالخصوص حضرت انسان ہے جو ذات و صفات کا مظہر جامع ہے اور&#8221; حمل امانت&#8221; . کے باعث جملہ تعینات میں ممتاز ہے ۔ انسان کا کمال اس میں ہے کہ وہ فنا فی اللہ کی سرحد پر پہنچ کر بقا بالله کے ساتھ باقی ہو جائے۔سیرا ول سے مراد سیرالی اللہ اور سیر ثانی سے مرادسیر فی اللہ ہے ۔ انتہائے کمال سیر اول میں ہے،سیر ثانی میں نہیں۔</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>وصل سے مراد ماسوی اللہ سے قطع تعلق کر لینا اور جملہ مخلوقات سے توجہ ہٹا کر بیرنگی یا اطلاق میں فنا ہو جانا ہے ۔ اس کا پیش خیمہ بیخودی اور جملہ حواس سے غیبت ہے۔ یہ حالت موت سے مشابہت رکھتی ہے ۔ فرق اتنا ہے کہ موت میں حضور نہیں ہے ۔ اور اس میں سوائے حضور کے اور کچھ نہیں جب سالک اس جگہ پہنچتا ہے تو ولایت اس کے لئے مسلم ہو جاتی ہے اگر چہ یہ حالت اس کو ایک ساعت کے لئے ہی میسر ہو۔ پھر اگر سالک کو صحو (یعنی حالت ہوش) میں لے گئے تو وہ صاحب تمکین کہلائے گا ۔ حالت صحوکبھی تو جلد ہی نصیب ہو جاتی ہے اور کبھی دیر کے بعد ملتی ہے۔ اور اگر سالک اسی بیخودی یا سکر میں رہا تو اس کا شمار ارباب تلوین میں ہو گا۔<br />
حاصل کلام یہ ہے کہ سلوک میں فقط ذات بیرنگ کے مشاہدہ میں فنا ہو جانا اگر سالک پیش نظر رہے تو اس کا اسلوک پورا ہوگا۔ اور اگر اس کی نگاہ ادھرادھربھٹکتی رہی اور وہ دوسرے تعینات کے کشف کے پیچھے لگ گیا تو صراط مستقیم سے دُور جا پڑے گا۔</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>کتب سلوک میں ہر مقام کے ایسے ایسے اوصاف اور خصوصیات درج ہیں کہ تم ان میں سے جس پر نگاہ ڈالو گے تمھارا جی چاہے گا کہ بس وہی ٹھہرے رہو۔ تم اپنی تمام ترہمت اس مقام کے حصول میں صرف کرنے پر آمادہ ہو جاؤ گے اور اسے حاصل کئے بنا تمہیں چین نہیں پڑے گا لیکن کہا جاتا ہے : طلب الکل فوت الکل ۔ چنانچہ تم اسی تذبذب میں گرفتار رہو گے کہ تمہارے پیش نظر کو نسا مقام ہے اور کس کی مشق کو مقدم رکھا جائے ۔ علاوہ ازیں ہر مقام کو اختیار کرنے اور دوسرے مقام کی خاطر ، اس کا ایثار کرنے میں جدا گانہ شان ہے۔ لیکن اس ناچیز کے نزدیک اولی یہ ہے کہ سالک، فرائض، سنن مؤکدہ اور سنن زوائد کی ادائیگی کے بعد پوری ہمت کے ساتھ (کلمہ توحید کی مداومت کرے اور ذکر و فکر اور انس کے مقام پر ثابت قدم رہے ۔ اسے چاہئیے کہ کچھ عرصہ کثرت نوافل، تلاوت قرآن پاک تسبیح ، اوراد د و ظائف اور اسی قسم کے دوسرے موارد ثواب کا ذخیرہ کرنے میں منہمک رہے ۔ اسے یہ بھی لازم ہے کہ ہر طرح کی عبارت آرائیوں اور اشارتوں سے کنارہ کش رہے اور اعمال خیر کی ظاہری تزئین سے دامن بچا کر رات دن اپنی ہستی موہوم کو مٹانے اور فنا کرنے میں کوشاں رہے۔ یہاں تک کہ عنائت از لی کی کشش اسے اس کی خودی میں سے نکال کر فنافی اللہ کی سر حد تک پہنچا دے اور پھر وہاں سے بقاء البقاء کی جانب لے جائے تب سالک (حق تعالی کی ذات کو دیکھے گا اوراس کی صفات ، آثار اور افعال کا نظارہ کرے گا۔<br />
سالک کو لازم ہے کہ ہر وہ عمل جو اس کام میں اُس کو مدد دے، اختیار کرے اور جوبات حصول مقصد کی راہ میں اس کے سامنے رکاوٹ بنے، اس سے بچے ۔ ہر صاحب شغل کا یہی طریقہ ہے اور تمام سلاسل اس بات پر متفق ہیں۔ لہٰذا طالب وصل کو وہ شغل اختیار کرنا چاہئے جو اسے اس کی خودی سے نجات دلائے اور (جیسا کہ ہم او پر کہہ آئے ہیں ، اس باب میں ذکر و فکر سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہے۔ البتہ ذکر کی بعض قسموں کو بعض دوسری قسموں پر مقدم رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ ترتیب مشائخ کرام نے اسی طرح سے قائم فرمائی ہے ۔</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>ذکر و فکر کی جتنی بھی قسمیں ہیں مشائخ کرام نے ان کی مختلف انداز میں تعریف کی ہے۔ لیکن سب سے عمدہ قول شیخ ابو عبد الرحمن سلمی کا ہے ۔ فرماتے ہیں : ذکر کی چندقسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک ذکر لسانی ہے جو ظاہر ہے۔ پھر ذکر قلبی ہے جو ہوا جس نفسانی اور وساوس شیطانی سے دل کو پاک کر لینا ہے تا کہ یاد الہی میں انہماک پیدا ہو۔ علاوہ ازیں ذکر سر ہے اور یہ اپنے باطن کو اس طرح پر کر لینا ہے کہ اگر کوئی خطرہ اندر گھسنا بھی چاہے تو راہ نہ پاسکے۔<br />
یہ بھی معلوم ہوا کہ ذکر سر در اصل ذکر قلبی کا ثمرہ ہے۔ سر ایک لطیفہ ہے جو فوق قلب واقع ہے۔ دوام حضور سر کا مقتضا ہے قلب چونکہ ہر لحظہ منقلب ہوتا رہتا ہے اس لئے اس سے دوام حضور ممکن نہیں ۔<br />
ان کے علاوہ ایک &#8221; ذکر روح ، بھی ہے۔ یہ ذاکر کا اپنی صفت سے فنا ہو جانا ہے۔ جب ذاکر دیکھتا ہے کہ خود حق تعالیٰ اس کا ذکر کر رہا ہے تو نہ اس کا ذکر باقی رہتا ہے نہ حال اور نہ وصف کیونکہ اس نے اس بات کو جان لیا ہے کہ اس کے ذکر کرنے سے پیشتر اللہ تعالیٰ<br />
اس کا ذکر کر رہا ہے۔<br />
شیخ ابو عبد الرحمن سلمی آگے چل کر فرماتے ہیں کہ ذکر کی طرح فکر کی بھی متعد د قسمیں ہیں ۔ ان میں سے ایک سالک کا ان گناہوں اور معصیتوں پر جو اس سے سرزد ہوتی ہیں اور حقوق اللہ کی ادائیگی سے اپنے عجز پر غور و فکر کرنا ہے۔<br />
فکر کی ایک اور قسم یہ ہے کہ سالک اس لطف و احسان پر غور کرے جو اللہ تعالی نے اس کے ساتھ کیا ہے اور یہ بھی دیکھے کہ اس نے ترک شکر کیا ہے یا یہ کہ اگر شکر ادا کیا بھی تو وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کے مقابلہ میں کسی قدر ناقص اور ہیچ ہے ۔<br />
پھر ایک قسم یہ ہے کہ سالک اس بات میں تفکر کرے کہ جو کچھ ازل سے ہو چکا ہے اب اس کا ظہور ہو رہا ہے جو کچھ ہونے والا ہے ، اس کو لکھ ڈالنے کے بعد قلم سوکھ چکا ہے۔ اب یا تو سعادت ہے یا شقاوت .<br />
ایک اور قسم کا تفکر صنایع و بدایع ملکی وملکوتی میں غورو فکر کرنا ہے ۔ اس سے سالک کے دل پر حق تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا غلبہ تازہ ہو جاتا ہے اور اسے وعده و وعید یاد آجاتے ہیں۔<br />
اس کے بعد شیخ ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ متفکر کا جلیس نفس ہے اور ذاکر کا جلیس حق تعالیٰ شانہ ہے۔ اسی بنا پر آئمہ نے ذکر کو فکر پر ترجیح دی ہے۔ذکر کو فکر پر جو ترجیح حاصل ہے اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ ذکر حق تعالی شانہ کی صفت ہے جب کہ فکر کا معاملہ ایسا نہیں ۔ لہٰذا جو صفت حق تعالیٰ کی ہے وہ لازما کامل ہے اور جو صفت اس کی نہیں وہ ناقص ہے۔ علاوہ ازیں ذاکر کا رجوع ذات حق تعالے کی طرف ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذکر معرفت و محبت کا نتیجہ ہے ۔ اس کے بر عکس متفکر نفس، وقت اور حال ، قلت و کثرت ، زیادتی اور نقصان وغیرہ میں تفکر کرتا ہے اور اپنے محاسبہ نفس میں لگا رہتا ہے ۔ غرضیکہ ذکر فکر کا تابع ہے اور فکر ذکر کا لیکن ذکر فکر سے بہت زیادہ کامل، اعلیٰ اور اصفیٰ ہے۔ کیونکہ فکر توبہ کا پیش خیمہ ہے اور ذکر (حق تعالیٰ کے وصول کا مقدمہ ہے ۔<br />
ارشاد باری ہے :<br />
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُم (پس تم میرا ذکر کرو ، میں تمہارا ذکر کروں گا )<br />
یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ذکر سے موصوف فرمایا ہے فکر سے نہیں۔<br />
لقمہ ذکر قلب، ذکر روح ، ذکر سر ، ذکرخفی<br />
عارف ربانی شیخ عبد الكريم الجیلی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ذکر قلب کے حاصل ہو جانے کی علامت یہ ہے کہ ذاکر اپنے ذکر کو ہر وقت یا کبھی کبھی اپنی قوت و استعداد کے مطابق، ہر شے سے یا بعض اشیا سے سنتا ہے ۔ ذکر روح کے حاصل ہونے کی نشانی یہ ہے کہ ذاکر جملہ اشیا ءسے مخصوص تسبیحات سنتا ہے اور سوائے حق تعالیٰ کے اور کسی کو فاعل نہیں دیکھتا۔<br />
احمد بن غیلان مکی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ذکر قلب میں حضور حق اور حضور خلق دونوں برا بر ہیں۔<br />
اور ذکر روح میں حضور خلق کی نسبت حضور حق غالب رہتا ہے۔ ذکر سر میں ذاکر کو سوائے حضور حق کے اور کوئی حضوری نہیں ہوتی اور ذکر خفی یہ ہے کہ وجود روح میں مخفی ہو جائے جس طرح کا ئنات سر میں مخفی ہو جاتی ہے ۔</p>
<h3>لقمہ ذکر کا مقصود</h3>
<p>ذکر نسیان کی ضدہے ہر وہ شے جو تمھیں تمھارے مقصود کی یاد دلائے اس کو وسیلہ بنانا یا اس کی طرف ملتفت ہونا عین عبادت ہے ۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ شے کوئی اسم ہے یا کوئی ر سم یا فعل ہے وہ کوئی جسم رکھتی ہے یا مجر دہے یا ان سب کے علاوہ کچھ اور چیز ہے ۔ اس کے برعکس جس شے سے مقصود فراموش ہو جائے ، وہ چاہے کوئی اسم ہویا کچھ اور اس کا وسیلہ چاہنا یا اس کی طرف متوجہ ہونا محض گمراہی اور بطالت ہے ۔ تو معلوم ہوا کہ صوفی کےجملہ اقوال، افعال اور احوال عین ذکر ہیں بشرطیکہ ان سے یاد ، بیداری اور آگاہی حاصل ہو۔ اگر یہ نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہے<br />
گر با تو بوم مجاز من جملہ نماز گربے تو بوم نماز من جملہ مجاز<br />
اگر میں تیرے ساتھ ہوں تو میرا مجاز بھی سرا سر نماز ہے اور اگر میں تیرے بغیر ہوں تو میری نماز بھی تمام تر مجاز ہے ۔<br />
بعض حضرات نے ذکر کی بہت سی قسمیں گنوائی ہیں۔ مثلاً ذکر لسان جو باآواز بلند بھی ہو سکتا ہے اور خاموشی کے ساتھ بھی۔ اس کے علاوہ ذکر قلب، ذکر روح ذکر خفی، ذکر اخفی اور اخفاء اخفی ہیں۔<br />
ذکر لسان لفظی ہے یعنی اس میں حرفوں کی ہیت بعض حروف کی بعض پر تقدیم و تاخیراور ان کی حرکات و سکنات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر ان الفاظ کو آواز کے ساتھ ادا کریں تو یہ جہر ہو گا، اور اگر بے آواز پڑھیں تو یہ خفیہ کہلائے گا۔<br />
ذکر قلب صرف مطالعہ لفظ ہے۔ یا معنی اسم کا دل میں حاضر جانا یعنی کسی اسم کے حروف اور حرکات و سکنات کو بلا لحاظ تقدیم و تاخیر بیک مرتبہ دل میں لانا ۔ ذکر روح لفظ اسم کو بھول کر صرف مسمیٰ کو حاضر رکھتا ہے۔ اس میں ذکر کرنے والوں کو اپنے اپنے حالات کے مطابق فرق ہوتا ہے۔ یعنی بعض کو یہ کیفیت کبھی کبھار حاصل ہوتی ہے اور اکثر حاصل نہیں ہوتی ۔ یا اس کے برعکس بعض لوگوں کو یہ کیفیت اکثر حاصل ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی نہیں بھی ہوتی پھر بعض ایسے ہیں جن کو یہ کیفیت دائمی طور پر میسر رہتی ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ ہم ذاکر ہیں ذکر میں مشغول ہیں جس کا ذکر کر رہے ہیں وہی ہمارا مقصود ہے جو ہماری چشم بصیرت کے سامنے حاضرہے۔ لیکن اس کیفیت میں بھی نقس موجود ہے۔ اعلیٰ اور انتہائی درجہ یہ ہے کہ ذکر کا اور ذاکر کا درمیان میں کوئی نشان ہی باقی نہ رہتے اور سوائے مذکور کے اور کچھ نہ ہو یہاں تک کہ ذکر کی لذت بھی جاتی رہے بلکہ اس لذت کا علم بھی نہ رہے ۔<br />
ذکر اخفی اور اخفاء الاخفی کے مقامات بھی اس طرح ہیں۔ ان کے علاوہ جو باقی ذکر ہیں، ان کو انہی مذکورہ مراتب پر محمول کیا جاتا ہے</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>شیخ شرف الدین یحیی منیری قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ذکر چار طرح کا ہے ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ زبان ذکر میں مشغول ہے لیکن دل غافل ہے۔ دوسری یہ کہ زبان کے ساتھ ساتھ دل بھی ذکر میں مشغول ہے تا ہم کبھی کبھی دل غافل ہو جاتا ہے جب کہ زبان بدستور<br />
ذکر کرتی رہتی ہے۔ تیسری صورت میں زبان دل کے ساتھ اور دل زبان کے ساتھ پوری طرح موافق ہے لیکن کبھی کبھی دونوں غافل ہو جاتے ہیں اور چوتھی صورت یہ ہے کہ زبان غافل اور بے کار ہے لیکن دل ذاکر و حاضر ہے ۔ یہ مقامات کی انتہا ہے۔ اصل بات حضور اور آگاہی ہے اور یہی ذکر کی حقیقت ہے۔ یہی وہ مرتبہ ہے جہاں ذاکر اپنے دل کی آواز کو سنتا ہے اور سوائے اس کے اور کوئی دوسرا اس آواز کو نہیں سن سکتا ۔</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ بلندی کے واسطے ذکر، متوسط کے واسطے تلاوت قرآن پاک اور منتہی کے واسطے نماز نفل ان کے مناسب حال ہیں۔ لیکن یہ فقیر عرض کرتا ہے کہ اس راہ میں طالب کے لئے اقرب و اوصل(یعنی سب سے بڑھ کر مطلوب سے قریب کرنے والا اور مقصود سے واصل کرنے والا) کے کام یہ ہے کہ وہ فقط ذکر خفی کو اپنے لئے لازم کرے اور اپنے دل کو نقش غیرسے پاک کرلے ، ماسوی سے توجہ ہٹا کر یکسوئی اختیار کرے۔ ہر وقت حضرت قدس کی حضوری اس کی موانست اور اس میں فنا ہونے کا عزم رکھے اپنے آپ کو اس کام میں ایسا مٹائے کہ اس کی ہستی کا نام ونشان بھی باقی نہ رہ ر ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ ایسا کرنے سے مالک کی بہت سی عبادات فوت ہو جائیں گی ۔ لیکن کچھ ہرج نہیں ہے کیونکہ یہ ایسا کام ہے جو ہر نقصان کی تلافی کر دے گا ۔<br />
لقمہ آداب ذکر</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>اب ہم ذکر کے بعض آداب بیان کریں گے۔ کتاب &#8220;منہج السالك الى اشرف المسالك&#8221; میں جو آداب گنوائے گئے ہیں ان کی تعداد بیس ہے۔ ان میں سے پانچ ذکر شروع کرنے سے پہلے ملحوظ رکھے جاتے ہیں، بارہ وہ ہیں جن کی پا بندی دوران ذکر کرنی چاہئے اور تین ایسے ہیں کہ ذکر سے فارغ ہو کر جن کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ آداب جو ذکر سے پہلے کے ہیں حسب ذیل ہیں :<br />
تو بہ<br />
اپنے قلب کو مطمئن رکھنا<br />
طہارت<br />
اپنے شیخ سے استمداد (یعنی مدد چاہنا )<br />
یہ جاننا کہ شیخ سے استمداد، رسول اللہ ﷺ سے استمداد ہے اور آنحضرت ﷺ سے استمداد حق تعالی شانہ سے استمداد ہے ۔<br />
دوران ذکر کے آداب کی تفصیل یہ ہے :<br />
مربع یا دو زانو بیٹھنا ،<br />
دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا ،<br />
مجلس ذکر کو خوشبو دار کرنا ،<br />
پاک و صاف لباس زیب تن کرنا ،<br />
حجرہ میں تاریکی رکھنا،<br />
دونوں آنکھوں کو ڈھانپنا ،<br />
کانوں کے سوراخوں کو اچھی طرح سے بند کر لینا ،<br />
صورت شیخ کودل میں حاضر رکھنا ( اور یہ سب سے ضروری شرط ہے ۔)<br />
ظاہر و باطن میں صدق رکھنا ( صدق سے یہاں اپنے عمل کا عدم مبالغہ مراد ہے)<br />
اخلاص رکھنا ( اخلاص سے مراد ریا ءسے پاک رہنا ہے )<br />
کلمہ توحید کو اختیار کرنا یعنی اسے دوسرے اذکار پر ترجیح دینا ) .<br />
کلمہ طیبہ کے معنی کو ہمہ وقت ذہن میں رکھنا کہ ہر موجود وہمی معدوم ہے اور موجود حقیقی جل شانہ کی طرف مراقب و متوجہ ہوتے وقت ہر موجود وہمی کی نفی ہو ۔( صورت شیخ کو حاضررکھنے کی طرح یہ شرط بھی نہایت ضروری اور بے حد کار آمد ہے)<br />
ذکر کے بعد کے آداب یہ ہیں :<br />
ذکر کے بعد کچھ دیر تک خاموشی اختیار کیے رکھنا ۔<br />
سانس کو روکے رہنا، اورٹھنڈی اشیاء مثلا سرد پانی یا ہوا سے پر ہیز کرنا کیونکہ اس سے دل کی حرارت سرد ہونے کا اندیشہ ہے۔<br />
صاحب &#8220;منہج &#8221; نے ذکر کے چند فوائد بھی لکھے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ<br />
کلمہ توحید کا ذکر حضرت اقدس میں انس کا موجب ہے۔ اگر اس ذکر کی کثرت کے باوجود انس میں کوئی اضافہ محسوس نہ ہو تو ذکر کرنے والے سے یقیناً بعض شرائط میں کوتاہی ہوتی ہے۔ اسے چاہیئے کہ احتیاط کرے اور از سر نو ذکر کو شروع کرے ۔ ابن عطاء اللہ شاذلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں<br />
کہ جب کوئی شخص لا اله الا الله محمد رسول اللہ کہتا ہے تو عرش عظیم میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کلمہ &#8220;جبروت&#8221; سے ہے ، اس کی نسبت ملک سے ہےیہ ملکوت کی طرف صعود کرتا ہے اور حقائق عالم سے اس کا تعلق نہیں ہے۔<br />
ایک فائدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہر صبح طہارت کا ملہ کے ساتھ ایک ہزار بار اس کلمہ کو پڑھے تو اس پر اسباب رزق آسان ہو جائیں گے ۔ اس ناچیز کے نزدیک یہاں رزق کے معنی عام ترہیں یعنی یہ روحانی بھی ہوسکتا ہے اور جسمانی بھی۔ اگر کوئی شخص سوتے وقت یہ کلمہ ایک ہزار مرتبہ پڑھے تو اس کی روح عرش کے نیچے پہنچ کر اپنی قوت کے مطابق روزی پائے گی ۔ اگر کوئی شخص دو پہر کے وقت یہ کلمہ ایک ہزار بار پڑھے تو شیطان شکست خوردہ ہو کراس کے باطن سے نکل جاتا ہے ۔ جو شخص ہلال کو دیکھ کر با طہارت کاملہ اس کلمہ کو ہزار مرتبہ پڑھے، اللہ تعالی اسے تمام بیماریوں سے محفوظ رکھے گا۔<br />
شہر میں داخل ہوتے ہوئے یا نکلتے وقت اگر کوئی شخص با طہارت یہ کلمہ ہزار مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے تمام خطر ناک اور خوفناک چیزوں سے محفوظ رکھے گا ۔<br />
جو شخص حضور قلب کے ساتھ ایک ہزار مرتبہ اسے پڑھ کر ظالم جبار کی طرف دم کرے . اللہ تعالی اس ظالم کو پامال اور نیست و نابود کر دے گا۔<br />
اگر کوئی شخص اس کلمہ کو ایک ہزار بار بایں نیت پڑھے کہ اس پر غیب کی باتیں ظاہر ہوں تو اللہ تعالیٰ اس پر ملک و ملکوت کے پر دے کھول دے گا ۔ جو کوئی اس کلمہ کو ستر ہزار مرتبہ پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے بلا حساب بہشت میں داخل فرمائے گا۔<br />
لقمہ دل کا ذاکر ہونا</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>بعض عارف فرماتے ہیں کہ ذکرلسانی سے سالک ذکر قلب کو پہنچ جاتا ہے۔ لہذا جب زبان اور دل دونوں یکساں ہیں تو بلا شبہ ذکر به ترتیب کمال کو پہنچ جائے گا۔ اکثر سلاسل میں یہی ترتیب رکھی گئی ہے۔ مگر سلسلہ نقشبندیہ میں جذب باطن کے ساتھ ذکر قلبی پر اقتصاد کرتے ہیں۔ بلندیوں کا اسی ذکر سے آغاز کر وایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ سے<br />
اول ما آخر پر منتہی آخر ما حبیب تمنا تہی<br />
ہمارا &#8221; اول ہرمنتہی کا &#8221; آخر &#8221; ہے ۔ اور ہمارا &#8221; آخر &#8221; یہ ہے کہ تمنا کی جیب خالی ہو یعنی کوئی خواہش اور آرزو باقی نہ رہے<br />
لیکن ظاہر ہے کہ دوسرے سلاسل کے منتہی لوگوں کو جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ اس سلسلے کے مبتدی کو حاصل نہیں ہوتا ۔ ہاں اس سلسلے میں تربیت کا طریقہ یہی ہے۔ لہذا دوسرے سلسلے کے منتہی، جو ذکر قلبی کے ساتھ مجذوب ہیں اور اس سلسلے کے بلندی جن کو ذکر قلبی کے ذریعہ جذب باطن حاصل ہوتا ہے ان دونوں میں فرق ہے ۔<br />
لقمہ ذکر قلبی</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>بعض فقہاء ذکر قلبی کا انکار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ذکر فقط ذکر لسان ہے۔ یہ محض کج بحثی ہے کیونکہ ذکر، نسیان کا ضد ہے۔ اور یہ خاص طور پر قلب کی صفت ہے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہر ایک &#8211; کے واسطے مخصوص احکام ہیں جو اسی پر مترتب ہوتے ہیں ۔<br />
لقمہ حبس دم کے طریقے<br />
بعض کے نزدیک حبس دم ذکر کے لیے بنیادی شے ہے بلکہ خطرات کو دور کرنے کے لئے یہ اصل الاصول کا درجہ رکھتا ہے چشتیہ کبرویہ شطاریہ اور قادریہ ان تمام سلاسل کے ہاں (ذکر کے لئے ، یہ ایک لازمی شرط ہے۔ نقشبندیہ نے اگر چہ اسے شرط قرار نہیں دیا تاہم وہ اس کی اہمیت کا انکار نہیں کرتے۔ البتہ سہروردیہ کے نزدیک حبس دم کا نہ ہونا شرط ہے حضرت بہاء الدین عمر اور حضرت زین الدین خوافی قدس سرہما کا یہی مسلک ہے۔ یہ دونوں حضرات سلسلہ سہروردیہ کے اکابر میں سے ہیں ۔<br />
یہ ناچیز عرض کرتا ہے کہ یہاں دو صورتیں ہیں۔ پہلی حبس دم اور دوسری حصر دم پھر حبس دم بھی دو طرح کا ہے یعنی تخلیہ اور تملیہ تخلیہ میں سانس کو شکم کی طرف سے اور ناف اور اس کے اطراف کو پشت کی جانب کھینچتے ہیں اور سانس کو بعض کے نزدیک سینہ میں اور بعض کے نزدیک دماغ میں روکتے ہیں۔ اس کی حاجت نہیں کہ انگلیوں کو ناک کے پروں اور دونوں آنکھوں پر رکھا جائے یا دونوں کانوں میں ٹھونسا جائے جب کہ بعض لوگ احتیاطا ایسا کرتے ہیں اس کا اصلی طریقہ یہ ہے کہ کسی حوض میں غوطہ لگا کر یہ عمل کریں۔ یہ طریقہ خضر علیہ السلام نے حضرت عبدالخالق غجدوانی کو تعلیم کیا ہے اور یہ ایسا طریقہ ہے جس سے بڑے فائدے اور تاثیر کی امید ہے۔<br />
رہا تملیہ تو اس میں سانس کو پیٹ کی طرف کھینچ کر پیٹ کو پھلا لیتے ہیں اور سانس کو روک لیتے ہیں۔ اس صورت میں نفخ شکم کے باعث ناف پشت سے بہت پرے ہٹ جاتی ہے لیکن اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ کھانا بہت ہضم ہوتا ہے ۔<br />
حصردم یہ ہے کہ سانس کو دونوں جانب (یعنی آمد ورفت ) سے منقطع کر دیا جاتا ہے یوں سمجھو کہ عام طور پر جتنا لمبا سانس لیا جاتا ہے اس سے قدرے کم مقدار میں سانس لیتے ہیں۔ اگر چہ یہ عمل بھی دل میں حرارت پیدا کرتا ہے تاہم حبس دم کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی حرارت اس سے زیادہ ہوتی ہے ۔<br />
ان تمام باتوں کا تعلق دم مسافر سے ہے ۔ دم مقیم حرارت و برودت کے اوصاف سے پاک ہے ۔ اس کے بدلنے کی حاجت ہی نہیں ہوتی ۔ بلکہ وہ تو ایک جدا نہ ہونے والی شے ہے حبس دم ہو یا حصردم ، دم مقیم ہر حال میں برقرار رہتا ہے۔ اگر کوئی اس کو جان لے اور ہر ذکر کا معیار سمجھ لے تو وہ شخص دائم الذکر ہو جاتا ہےسلسلہ حضوری اس کے ساتھ پوری موافقت کرتا ہے ، وہ جتنا اس کی مدت کو بڑھانا چاہے گا اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ حبس دم کے ایام میں ترش اور زیادہ رطوبت والی غذاؤں سے پر ہیز لازم ہے شروع میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کانوں سے یا ناک سے یا پاخانے میں خون آنے لگتا ہے۔ لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ طالب کو چاہیئے کہ اپنے کام میں لگا رہے۔ یہ کیفیت جلد ہی رفع ہو جایا کرتی ہے۔ البتہ بہت گرم کھانے سے بچنا چاہئے کھانے کی گرمی یا طبعی ہوتی ہے یا عارضی(طبعی گرمی سے مراد کھانے کے اجزا کا بلحاظ تاثیر کسی نہ کسی درجہ میں گرم ہونا ہے۔ اس کی تصریح طب کی کتابوں میں موجود ہے۔ اور عارضی گرمی یہ ہے کہ جیسے ہی کھانا پک کر تیار ہو ، چو لہے پر سے اتارتے ہی اسے کھانا شروع کر دیا جائے اور اس کے ٹھنڈا ہونے کا بھی انتظار نہ کیا جائے ۔) دونوں صورتوں میں پر ہیز کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اس سے مرض کے پیدا ہونے یا بڑھ جانے کا اندیشہ ہے ۔<br />
علاوہ ازیں حبس دم کی مدت کا اندازہ کرنے کے لئے جو گنتی مقرر کی جائے اس کو یکلخت اتنا نہ بڑھا دینا چاہیئے کہ یہ عمل ہی دشوار ہو جائے اور اتنے طویل عرصے تک سانس کورو کنا شاق گزرنے لگے ۔ اس مدت کو آہستہ آہستہ اور بتدریج بڑھاتے رہنا چاہئے، نیز سانس کو چھوڑتے وقت اس بات کی احتیاط ضروری ہے کہ سانس دھیرے دھیرے اور ناک کی راہ سے خارج ہو۔ منہ کے راستے ہر گز نہ نکالنا چاہئے، اس سے دانتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔<br />
سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حبس دم کرتے وقت نہ تو معدہ بالکل پر ہو اور نہ بالکل خالی، بلکہ متوسط حالت میں ہونا چاہئے۔ مگر یہ شرط صرف بلندیوں کے لئے ہے۔ جو شخص درجہ کمال کو پہنچ چکا ہوا اسے اختیار ہے کہ جب اور جس حالت میں چاہے ، سانس کو روک لے یاچھوڑ دے۔<br />
مشائخ کرام نے یہ عمل اور حبس دم کے دوسرے طریقے جو گیوں سے اخذ کئے ہیں۔ جو لوگ اس کام کے اہل ہیں وہ اس پر نہایت عمدگی اور باقاعدگی کے ساتھ کار بند رہتے ہیں۔</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>بعض اہل معرفت فرماتے ہیں کہ جب انسان کا نفس تنقیہ باطن کر لیتا ہے اور محسوسات و مالوفات کی خواہش سے تہی ہو کر استغراق ذکر اور نعمت حضوری سے معمور ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کو روحانیات سے ایک نسبت یا ربط پیدا ہو جاتا ہے اور اس نسبت سے اس کا دل روشن ہو جاتا ہے۔ تب وہ اس نور سے ذات حق تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہے اور احکام الہی سے اسے مرادات اُو تعالیٰ کی اطلاع ہو جاتی ہے۔ پھر وہ نور اس کی بصیرت سے اس کی بصارت میں بھی آجاتا ہے جس کے باعث وہ اپنے ظاہری اعضاء سے عوالم غیب کا ادراک کرنے لگتا ہے۔ (جب یہ ہو جائے ، تو اس وقت یہ شخص اپنے ظاہر و باطن دینی دونوں لحاظ )سے اس عالم سے نکل جاتا ہے۔<br />
لقمہ حیرت ممدوحہ و مذمومہ<br />
مقامات میں سب سے پہلا مقام تو بہ ہے اور سب سے آخری حیرت بعض حضرات نے رضا و تسلیم کو آخری مقام قرار دیا ہے اور اسے حیرت کی جگہ رکھا ہے ۔<br />
حیرت دو قسم کی ہے :حیرت مذمومہ اور حیرت ممدوحہ ۔<br />
اس کی تشریح یوں ہے کہ حق تعالیٰ کی ذات کا جمال و کمال حیرت کا تقاضا کرتا ہے نہ کہ شک کا کبھی کبھی حیرت اور شک میں اشتباہ ہو جاتا ہے یعنی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی شے ہیں، تو جاننا چاہئے کہ حیرت ذات شے کی معرفت اور ادراک سے پیدا ہوتی ہے اس کے برعکس شک جہل اور نا آشنائی کا نتیجہ ہے ۔حیرت حضور میں ہوتی ہے اور شک نیت میں متحیر آناً فاناً بلندی کی طرف صعود کرتا ہے اور کنہِ شے تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ اسے اس کے ادراک کا شوق ہوتا ہے جب کہ متشکک اتنی ہی تیزی سے جہل کی پستی میں جا گرتا ہے کیونکہ اسے حقیقت شے معلوم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔<br />
کہتے ہیں کہ حیرت دو چیزوں سے مرکب ہے :جزء علمی یعنی &#8221; وجود شے کا علم ، اورجزء جہلی یعنی کنہِ شے سے لا علمی ۔<br />
مگر شک ان دونوں میں متذبذب ہے، یعنی شک میں نہ تو جزء علمی پایا جاتا ہے نہ جزءجہلی،<br />
متشکک کا علم مشکوک الوجود ہے اور اس کا جہل مشکوک الثبوت وہ ہمیشہ نفی اور اثبات کے درمیان چکر کا ٹتارہتا ہے ۔ یہی وہ شک ہے جسے حیرت مذمومہ کا نام دیا گیا ہے ۔ اس کے بالمقابل جو کچھ ہے اسے حیرت ممدوحہ کہتے ہیں۔ حیرت مذمومہ عوام کا حصہ ہے ، جب کہ حیرت ممد وحہ خواص کا نصیب ہے ۔<br />
لقمہ انوار</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>انوار جو ظا ہر ہوتے ہیں ان کا رنگ کبھی سفید ہوتا ہے، کبھی سبز کبھی عقیق جیسا اور سب سے آخر میں سیاہ ۔ یہ سیاہ نور جبروت کا نور ہے ۔ اگر نور داہنی طرف کندھے سے متصل ظاہر ہو تو وہ نور کا تب یمین یعنی داہنے کندھے والے کاتب کا ہے ۔ اگر کندھے سے متصل نہ ہو تو وہ شیخ کا نور ہے۔ اگر سامنے سے ظاہر ہو تو وہ نورحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے ۔ اگر نور بائیں جانب سے ظاہر ہو اور بائیں کندھے سے ملا ہوا ہو تو وہ کا تب یسار(با ئیں کندھے والے کاتب) کا نور ہے۔ اگر کندھے سے متصل نہ ہو تو یہ شیطان کا فریب ہے ۔<br />
اسی طرح اگر بائیں جانب سے کوئی صورت ظاہر ہو تو وہ بھی شیطانی فریب ہے ۔ نور اگر اوپر یا پیچھے کی جانب سے ظاہر ہو تو سمجھ لو کہ یہ محافظ فرشتوں کا نور ہے۔ اگر نور بلا جہت کے ظاہر ہو اور اس سے خوف پیدا ہوا اور اس کے زائل ہو جانے کے بعد حضور باقی نہ رہے تو جان لو کہ یہ بھی شیطانی فریب ہے ۔ لیکن اگر ظہور نور کے وقت حضور حاصل رہے اور اس کے جانے کے بعد فراق اور اشتیاق<br />
پیدا ہو تو یقینا یہ مطلوب کا نور ہے ۔ نور اگر سینہ یا ناف کے اوپر ظاہر ہو تو شیطانی فریب ہے اور اگر دل کے اوپر ظاہر ہو تو یہ صفائے قلب کے سبب سے ہے۔<br />
بہر حال طالب صادق کو ان انوار میں سے کسی پر مطمئن یا نازاں نہ ہونا چاہیے ۔<br />
لقمہ دوام مشاہده</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>اس بات میں اختلاف رائے ہے کہ عارف کے لیے مشاہدہ دائمی ہوتا ہے یا نہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دائمی ہوتا ہے جب کہ دوسرا گروہ اس کے عدم دوام کا قائل ہے۔<br />
ایک عارف فرماتے ہیں :<br />
مشاهدة الْأَبْرَارِ بَيْنَ التَّجَلِي وَالْإِسْتَتَارِ نیکوں کا مشاہدہ تجلی اور پردہ کے درمیان ہے ۔<br />
حق بات یہ ہے کہ جس وقت ربط قلب ، اور اتصال سر خوب محکم و تحقق ہو جاتا ہے تو وصول ہرگز زائل نہیں ہوتا ۔ ہاں انوار و مکاشفات کبھی ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ۔ اور یہی معنی ہیں صوفیہ کے اس قول کے کہ :<br />
الوقت سيْفُ قَاطِعَ وَبَرْقٌ لَامِعُ وقت کاٹ کر رکھ دینے والی تلوار اور چمکنے والی بجلی ہے ۔<br />
لقمہ نہایت عرفان</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>غیبت و بیخودی اور محویت و فنا میں ایسی حالت ہوتی ہے جو بیان میں نہیں آسکتی ۔ اس وقت سوائے حق تعالی شانہ کی احدیت اور وجود مطلق کے اور کچھ ہوتا ہی نہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ او تعالی شانہ کا وجود مطلق تو احاطہ ادر اک میں آہی نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ ادر اک میں آئے گا وہ حادث ہو گا۔ پھر جو صورت ذہن میں آتی ہے وہ عوالم ہی سے تعلق رکھتی ہے اورہر عالم حادث ہے ۔ حادث وجود مطلق نہیں ہو سکتا، کیونکہ وجود مطلق قدیم ہے ، اور قدیم ہمارے ادر اک میں نہیں آسکتا ، ہم کہیں گے کہ ہاں، اس نے ٹھیک کہا ہے مگر بات یہ ہے کہ حالت فنا میں سالک کو وه نسبت جو دونوں طرف یعنی منسوب اور منسوب الیہ کے اثبات کا تقاضا کرتی ہے فراموش ہوتی ہے اور وہ اس سے قطعاً غافل اور معطل ہوتا ہے۔ اسے &#8221; فنائے فنا کہتے ہیں۔ یہاں عدم ادر اک ہے نہ کہ ادر اک عدم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے :<br />
الْعِجْزُ عَنْ دَرْكِ الْإِدْرَاكِ إِدْرَاک اور اک کا ادراک نہ ہونا ہی ادر اک ہے۔<br />
اسی قول میں بھی یہی نکتہ بیان کیا گیا ہے ۔ اب اگر کوئی یہ پوچھے کہ حضرات صوفیہ کے اقوال میں جو اصطلاحات آتی ہیں۔ یعنی شہود ذات ، تجلی ذات ، محبت ذات اور معرفت ذات ان کے معنی کیا ہیں اور یہ امور کیونکر متحقق ہوتے ہیں ؟ تو ہم جواب دیں گے کہ عرفان کے نتائج میں یہ بات شامل ہے کہ ہر شے کو اس کے مرتبہ پر رکھا جائے اور ہر شے کا جو کچھ حق ہے اسے دیا جائے ۔ اب اس معاملے میں جس پر ہم گفتگو کر رہے ہیں ، دو امور ہیں :<br />
ایک ذات بحتِ خالص و سادہ ، اور<br />
دوسرے میں وہ سب کچھ آجاتا ہے جو ذات کے ماسوی ہے ۔<br />
ان دونوں امور میں سے پہلے کا حق یہ ہے کہ اس کا اثبات کیا جائے اور دوسرے کا حق یہ کہ اس کی نفی کی جائے ۔ اول میں معرفت کا حق یہ ہے کہ اصلا پہچانا نہ جائے اور دوسرے میں معرفت کا حق یہ ہے کہ جیسا ہے ویسا پہچانا جائے۔ جو شخص اول میں معرفت کا قصد کرتا ہے اور دوسرے میں عدم معرفت کا ، وہ کام سے بہت دور ہے ۔ اس اثبات حق، حق اور اثبات باطل باطل ہی معرفت ہے۔ کسی شے کے عدم معرفت سے یہ تو لازم نہیں کہ در حقیقت وہ شے موجود ہی نہ ہو ۔ اس حق سبحانہ و تعالیٰ کی ذات مقدس مثبت ، محقق ، غیر معروفہ ، ہے ، لہذا شہود ذات کے معنی ہیں ورائے ذات امور سے غیبت ، تجلی ذات کے معنی ہیں کہ یہ امور بصیرت سے پوشیدہ ہو جائیں محبت ذات کے معنی ہیں کہ ان امور سے محبت منقطع ہو جائے اور معرفت ذات کے معنی ہیں کہ ان امور سے شناسائی نہ رہے ، اسی پر ان تمام معانی کو جن کی اضافت ذات کی طرف ہے ، قیاس کر لو۔ پس حق سبحانہ و تعالی کی معرفت صرف اس کے اسماء وصفات و افعال میں ہوتی ہے اور وہ بھی کنہ میں نہیں بلکہ اوپری سطح تک محدود ہے۔ کیونکہ ہرشے کی کنہ کی معرفت کا راستہ ہی بند ہے ، یہ اس لیے کہ ہر شے کی کنہ حقیقت حق ہے اور یہ اس لیے کہ او تعالی ہی ساری حقیقتوں کی حقیقت ہے اور حق جل شانہ کی حقیقت کسی انسان ، فرشتے یا جن کے ادراک میں نہیں آسکتی۔ پس معلوم ہوا کہ حقیقت تمام تر مدرک نہیں ہوتی۔ یہ مرتبہ نہایت عرفان کا<br />
ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ<br />
أَوَّلُ الْعَوامِ آخر الخَوَاصِ وَبِدَايَةُ الْجَہالِ نِهَايَةُ الْعُلَمَاءِ<br />
عوام کا اول خواص کا آخر ہے اور جہلا کی ابتدا علماء کی انتہا ہے۔<br />
بہ بیں تفاوت ره از کجاست تابکجا<br />
ذرا راستے کا فرق تو دیکھو کہ کہاں سے کہاں تک ہے ۔<br />
لقمہ ہمت شیخ</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>یاد رہے کہ اشتغال و اذکار اور افکار کی یہ ساری ترتیب محض اصطلاحی ہے لیکن جس ترتیب کا تعلق &#8220;ہمت &#8220;سے ہے وہ کچھ اس دوڑ دھوپ پر موقوف نہیں ہے ۔ یہاں شیخ مریدہ کا تخلیہ شریعت کی نہج پر فرماتا ہے اور مرید، غائب ہو یا حاضر، اس کے حق میں شیخ کی امداد&#8221;ہمت&#8221; سے ہوتی ہے۔ شیخ کی ہمت سے ہی فیوضات کے دروازے مرید پر کھلتے ہیں اور یہ طریقہ بہت نادر ہے ۔ اکثر بوالہوس اس کے جو یا رہتے ہیں کیونکہ طریقت کے کام ان سے ہو نہیں سکتے اور اس راہ کی دشواریوں سے ان کا جی چھوٹ جاتا ہے لہٰذا انھیں اس طریقے کی آر زورہتی ہے۔<br />
لقمہ ضرورت شیخ<br />
کہا گیا ہے کہ من ليس له شیخ فشيخه الشيطان، یعنی جس کا شیخ نہیں ہے اس کا شیخ شیطان ہے ۔ اس قول کی رو سے ہر صاحب دل کے لیے ضروری ہے کہ شیخ کو تلاش کرے ۔ اب یہاں پر ایک مشکل در پیش آتی ہے یعنی چونکہ وہ خود مبتدی ہے اس لیے مصلح اور مفسد میں یا ولی اور غیر ولی میں امتیاز نہیں کر سکتا۔ یا تو وہ اچھوں پر قیاس کر کے مفسدوں کو مصلح سمجھ بیٹھے گا یا اس کے برعکس بروں پر قیاس کر کے مفسد جانے گا۔ دونوں صورتوں میں وہ غلطی پر ہو گا۔ پھر کیا کرنا چاہیے ؟ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری قدس سرہ اس مشکل کا حل یوں بیان کرتے ہیں کہ عادت الہٰی اور سنت خداوندی اس طرح جاری ہے کہ کوئی زمانہ مشائخ و زہاد و عباد و اوتاد و اخیار و نجباء و نقباء و ابدال و اقطاب اور غوث اور تمام اہل اللہ اور اہل خدمات اور عاشقین و معشوقین سے خالی نہیں رہا ، نہ ہے اور رہے گا ۔ پس طالب صادق پر لازم ہے کہ جو مشائخ اس طریق پر چلتے ہیں اور اس بات میں مصروف ہیں ان کی خدمت میں پابندی کے ساتھ حاضر ہو اور ان کی مجالس میں بار بار جائے اور ہر بار اپنے دل کو ٹٹولے اور دیکھے کہ طرح طرح کے وسوسوں اور خطرات کا ہجوم جو اس کے دل پہ جما ہوا ہے ، وہ دور ہوا یا نہیں۔ آیا کسی مجلس میں اسے قلب کے انقلابات سے رہائی ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے یا وہی پہلی سی حیات ہے ۔ اگر طالب کو کچھ بھی خطرات و وساوس سے قلب کی رہائی محسوس ہو تو اسے چاہیے کہ جس بزرگ کے دروازے سے اسے یہ دولت ہاتھ لگی ہے اس کی صحبت اپنے اوپر لازم کرلے۔ کیونکہ اگر قلیل صحبت سے یہ نعمت میسر آئی ہے تو زیادہ (مستقل)صحبت سے تو بہت کچھ امید ہے۔ لیکن اگر اسے اپنی حالت میں کوئی تفاوت محسوس نہ ہو تو سمجھ لے کہ اس شیخ کے ہاں میرا نصیب نہیں ہے اور دل میں انکار لائے بغیر اپنی دواکسی دوسرے دروازے سے طلب کرے ۔<br />
لقمہ شیخ کامل کے ملنے کی دعا<br />
شیخ محی الدین ابو محمد عبد القادر الجیلی قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جو شخص آدھی رات کو اُٹھ کر وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے اور جتنا ہو سکے ان دو رکعتوں میں قرآن پاک کی تلاوت کرے پھر بارگاہ الہی میں سربسجود ہو کر بڑی الحاح و زاری کے ساتھ استغا ثہ رے اور مندرجہ ذیل دعا پڑھے تو اللہ تعالی ضرور اس پر وصول کا دروازہ کھول دے گا اور اسے اپنے کسی ایسے ولی کے پاس پہنچا دے گا جو اس طالب کی رہنمائی کر کے اسے حق تعالی کی طرف پہنچادے۔ اس دعا کا بار ہا تجربہ کیا جا چکا ہے اور یہ حسب ذیل ہے :<br />
يَا رَبِّ دُلَّنِي عَلَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ الْمُقَرَّبِينَ حَتَّى يَدْلَنِي عَلَيْكَ وَيُعَلِّمَنِي طَرِيقَ الْوُصُولِ إِلَيْكَ .<br />
اے پروردگار ! تو مجھے اپنے بندوں میں سے کسی ایسے بندے کی طرف میری رہنمائی فرما کہ وہ میری رہنمائی کرے تیری طرف اور تیرے وصول کی راہ مجھے بتائے ۔<br />
سلسلہ شاذلیہ (قدس اسرار ہم کے متاخرین نے فرمایا ہے کہ جو شخص ہمیشہ حضور قلب کے ساتھ بلاناغہ درود شریف اور اسی طرح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ پڑھتا ر ہے گا اسے ضرور شیخ کامل ملے گا ۔ شاذلیہ کا کہنا ہے کہ اس راہ میں ہمارے پیشوا امام حسین بن علی ہیں ۔</p>
<h2>وصل اول</h2>
<h3>اذکار</h3>
<p>اللہ تعالی تمہیں اس بات کی توفیق دے جو اسے پسند ہے اور جس سے وہ راضی ہے ، جان لو کہ جب کوئی طالب صادق شیخ کامل کی خدمت میں کسب طریقہ کے لئے حاضر ہوتا ہے تو شیخ کو چاہئیے کہ اُسے متواتر تین روزے رکھنے کا حکم دے . اگر ممکن ہو تو( طالب ) بالکل بھوکا روزے رکھے ورنہ تھوڑا سا کھا کر افطار کر لیا کرے اور ہر روز ایک ایک ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ استغفر اللہ اور درود پڑھے۔ تیسری شب جب وہ غسل کر کے شیخ کی خدمت میں حاضر ہو تو شیخ اسے سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص، آمن الرسول استغفار اور شهد الله تا حکیم پڑھنے کو کہے جب وہ پڑھ چکے تو شیخ یوں کہے کہ &#8221; تو نے بیعت کی مجھ ضعیف سے اور میرے شیخ سے اور میرے شیخ کے مشائخ سے اور رسول اللہ ﷺ سے اور حضرت رب العزت ہے ۔ اور تو نے عہد کیا کہ اپنے اعضا و جوارح کو شریعت کا پابند رکھے گا اور اپنے دل کو حق تعالی شانہ کی محبت کے لئے وقف کر دے گا ؟ اُس وقت شیخ اپنا ہاتھ مرید کے داہنے ہاتھ پر رکھے۔ یہ عمل<br />
اس آیہ مبارکہ کے عین مطابق ہے :<br />
يَدُ اللَّهَ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے ۔<br />
جو لوگ اس وقت گرد و پیش بیٹھے ہوں ان کو چاہیئے کہ اس طالب کا دامن تھام لیں۔ اگر مجلس میں زیادہ ہجوم ہو تو جس شخص نے طالب کا دامن پکڑا ہو اس کا دامن دوسرا شخص پکڑے۔ پھر اس کا دامن تیسرا شخص اور اسی طرح جتنے لوگ وہاں موجود ہوں کرتے چلے جائیں۔<br />
اب مرید کہے کہ میں نے بیعت کی اور عہد کیا ہے کہ شریعت کی راہ پر چلوں گا اور میں نے اپنا دل اللہ کی محبت میں دے دیا ہے۔ اس کے بعد شیخ اس مرید کو خرقہ پہنا دے اور کہے : ذالك لباس التقوى وذالك خير والعاقبة للمتقين پھر خلوت میں جو ذکر مرید کے مناسب حال ہو ، اس کو تلقین کرے اور اس کی خبر کسی دوسرے کونہ ہو۔<br />
کسره : تعلیم کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بار شیخ فرمائے اور مرید سنے ۔ پھر مرید کہے اور شیخ سنے ۔ اس طرح تین مرتبہ کرے اور حوالہ کر دے. یعنی شیخ کہے کہ جیسے مجھے اپنے پیران کبار سے پہنچا ہے ، میں نے تجھے پہنچا دیا۔ مرید قبول کرے، پھر شیخ اس مرید کو مندرجہ ذیل امور کا حکم دے:<br />
ہر نماز کے بعد دس بار درود شریف اور دس بار سورہ اخلاص پڑھنا چھ رکعت نماز اوابین تین سلام کے ساتھ ادا کرنا ۔ اس کے بعد حفظ ایمان کی نیت سے دو رکعت پڑھنا ر اس کا طریقہ ہم نے اپنی کتاب &#8220;مرقع &#8221; میں بیان کیا ہے )۔ سونے سے پیشتر سو مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھنا اور ان کے علاوہ اپنے سلسلہ کے مشائخ قدس اسرار ہم کے لئے فاتحہ پڑھتے رہنا۔<br />
کسرہ :جاننا چاہیئے کہ اذکار کو مراقبا ت پرمقدم رکھنا چاہئے۔ بعض حضرات پہلے ہی دہلہ (دس پر مشتمل)میں مراقبہ کا حکم دیتے ہیں۔ اگر مرید کی استعداد اس بات کا تقاضہ کرتی ہو تو یہ بھی روا ہے ، بلکہ مرید جتنی محنت ، کرے اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن اولی ترین صورت یہ ہے کہ طالب کو سب سے پہلے ذکر کے ساتھہ رنگین کیا جائے اور اس کے اندر جوش و خروش پیدا کیا جائے ۔ اس کے بعد مراقبہ کی مدد سے اس کو بے رنگ بنایا جائے اور ہوش و خروش کی جگہ اس میں خاموشی اور سکون کی کیفیت پیدا کی جائے لیکن اذکار میں بہت تفاوت ہے۔ اگر شیخ کسی مرید کو دنیا کی طرف زیادہ متوجہ پائے تو اس کو سب سے پہلے نفی و اثبات کی تلقین کرے جس طالب میں عشق کی بُو باس ہوا اسے اسم جلالی یعنی اللہ کی تعلیم دے۔ اور جس کی طبیعت میں رقت ہو، دل میں دنیا سے بے تعلقی اور اطلاق کی طرف میلان ہو تو ایسے مرید کو &#8221; هو ، کی تلقین کرنی چاہئیے۔ غرضیکہ ہر موقع اور محل کودیکھتا ضروری ہے کیونکہ ہرکسی کے لئے ایک جدا گانہ لائحہ عمل معین ہے جس کو انشا اللہ ہم اسی وصل میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔<br />
ہمارے پیش نظر ان اوراق میں مراقبات واذکار کی پوری تعداد قلمبند کرنا نہیں ہے۔جیسا کہ بعض کتابوں میں یہ ہزاروں کی تعداد میں مندرج ہیں۔ ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان میں سے جن اذکار و مراقبات کو لب لباب یا مغز کی حیثیت حاصل ہے اور جنہیں صوفیائے عظام نے بطور خاص اختیار فرمایا ہے ، ان کو یہاں بیان کر دیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ان مراتب علیا کا مالک ہو گا وہ جو کچھ ان سے نچلے درجے میں ہے اس کا بھی مالک ہو گا ۔</p>
<h3>لقمہ</h3>
<p>خلوت کے لئے کوئی تنگ اور تاریک جگہ منتخب کر کے وہاں مربع یعنی آلتی پالتی مار کر بیٹھے ۔ اس طرح بیٹھنا بدعت ہے اور یہ متکبروں کی نشست سمجھی جاتی ہے ۔ اگر چہ عام حالات میں اس کی ممانعت ہے تاہم ذکر میں اس طرح بیٹھنے کی اجازت ہے کیونکہ آنحضرت ﷺجب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو اسی جگہ مربع تشریف فرما ہو کہ ذکر میں مشغول رہتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا ۔<br />
ذکر کے لئے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ، اپنی پشت کو بالکل سیدھا رکھے۔ آنکھیں بند اور دونوں ہاتھ زانوؤں پر ہوں۔ داہنے پاؤں کے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی سے اپنے بائیں پاؤں کی رگ کیماس (بائیں جانب ران کہ نیچے پنڈلی اور گھٹنے کے درمیان جو رگ ہوتی ہے اسے کیماس کی رگ بولتے ہیں وہ خطرات نفسانی یعنی شہوت پیدا کرتی ہے)کو زور سے پکڑے تاکہ قلب میں حرارت پیدا ہو۔ اس سے تصفیہ قلب ہوتا ہے۔ کیونکہ حرارت کے باعث وہ چربی جو دل کے گردا گرد ہوتی ہے اور جسے خناس کا مسکن کہا گیا ہے، پگھل جاتی ہے۔ تو وسو سے اور ہوا جس کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد یک دل و یک زبان ہو کر، جہر کے ساتھ یا آہستہ (جیسا بھی وقت یا طبیعیت کا تقاضا ہو) ذکر میں مشغول ہو اور اس بیت کی شرائط کو ملحوظ رکھے ۔<br />
بزرخ وذات و صفات و مد و شد و تحت و فوق می نماید عاشقان را کل نفس ذوق و شوق<br />
اس بیت کی شرائط کا ملحوظ رکھنا ذکر سہ پایہ ( شغل سہ پایہ &#8220;اﷲُ سَمِیْعٌ &#8221; &#8220;اﷲُ بَصِیْرٌ&#8221; &#8220;اﷲُ عَلِیْمٌ&#8221; کا ذکر ہے)میں بھی ضروری ہے۔ لیکن وہاں اس کے معنی کچھ اور ہیں۔ یہاں جو کچھ مقصود ہے وہ حسب ذیل ہے :<br />
برزخ سے مُراد صورت شیخ ہے ۔ ذات سے مراد سبحانہ و تعالیٰ کا وجود مطلق ہے صفات سے مراد سات ائمہ صفات یعنی حیات، علم، اراده ، قدرت سماعت ، بصارت اور کلام ہیں ۔ مد سے مراد یہ ہے کہ لا الہ کو کھینچ کر ادا کرے اور شد سے مراد الا اللہ کی تشدید ہے تحت سے مراد یہ ہے کہ لا کو بائیں زانو کے سرے سے شروع کر کے &#8221; اللہ &#8221; کواپنے کندھے تک لے جائے ۔ اس جگہ ( قدر ے رک کر ، اپنی سانس کو درست کرے، اب یہاں سے پوری قوت کے ساتھ فضائے دل پہ الا اللہ کی ضرب لگائے ، یہ فوق ہے ۔</p>
<h3>لقمہ خطرات</h3>
<p>خطرات چار قسم کے ہوتے ہیں :<br />
1 &#8211; خطرہ شیطانی &#8211; جو تکبر غضب ، عداوت اور حسد وغیرہ کا موجب ہوتا ہے ۔<br />
2- خطرہ نفسانی &#8211; جو خواہش طعام ، شہوت جماع ، حرص، ذخیرہ اندوری کی خواہش اور زیب و زینت کا موجب ہے ۔<br />
3- خطرہ ملکی جو عبادات و طاعات اور دوسرے باعث ثواب امور کا موجب ہے ۔<br />
4۔ خطرہ رحمانی &#8211; جو اخلاص و محبت اور شوق وغیرہ کا موجب ہے ۔<br />
بائیں زانو کا سرا خطرہ شیطانی کے دفع کرنے کا مقام ہے کیونکہ بائیں جانب شیطان کی جائے قرار ہے ۔<br />
د اہنے زانو کا سرا خطرہ نفسانی کو دفع کرنے کا مقام ہے۔ کیونکہ بہکانے میں شیطان اور نفس کے درمیان ہمیشہ شراکت کیلئے مقابلہ رہتا ہے<br />
داہنا کندھا خطرہ ملکی کو دفع کرنے کا مقام ہے۔ کیونکہ یہ کا تب یمین ہے ۔<br />
دل کی فضا خطرہ رحمانی کی مقدار گاہ اور اس کے نصب کرنے کا مقام ہے ۔<br />
ان خطرات کی تفصیل کو ملحوظ خاطر رکھنے سے سالک کی طبیعت میں پریشانی اور حال میں پراگندگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اسے امر کلی (جو ان سب کا جامع ہو) کی تلقین کرنا مناسب ہوگا۔ چنانچہ پہلے پہل اسے لا الہ الا اللہ تعلیم کریں۔ پھر لامعبود الا اللہ ۔ پھر لا مقصود الا الله &#8211; پھر لا مطلوب الا اللہ اور پھر لا موجود الا اللہ پڑھنے کو کہیں ۔ اس سے سارے خطرات رفع ہو جائیں گے ۔<br />
اس ناچیز کی رائے میں سب سے پہلے لا موجود الا اللہ کی تلقین کرنا بہتر ہے کیونکہ سفر جتنا مختصر اور بوجھ جتنا کم ہو، اتنا ہی اچھا ہے ۔ اگر مریدعجمی ہو تو اس کی اپنی بولی میں (ذکر تلقین کریں۔</p>
<h3>لقمہ ذکر دو ضربی</h3>
<p>اس کی ایک ضرب لا الہ ہے جو داہنے کندھے پر اور دوسری الا اللہ ہے جو فضائے دل پر لگاتے ہیں۔ دونوں ضربیں پے درپے لگائی جاتی ہیں۔ تین یا پانچ یا سات یا نو بار لا الہ الا اللہ کہہ کہ ایک بار محمد رسول اللہ کہنا چاہئیے ۔ ذکر چہار ضربی کی نسبت اس ذکر میں چونکہ بساطت ہے اس وجہ سے اس ذکر میں تفرقہ کم ہے ۔<br />
لقمہ ترتیب ذکر<br />
نفی واثبات کے بعد اثبات اور اثبات کے بعد اسم ذات کہنا چاہئیے ۔ الا اللہ سے اللہ“ اور ”لا الہ الا اللہ&#8221; سے &#8221; الا اللہ زیادہ کہنا چاہیئے ۔</p>
<h3>لقمہ ذكر لقلقہ</h3>
<p>اس ذکر میں کلمہ ”اللہ “ کو متصلاً بغیر فصل کے اور آہستگی کے ساتھ کہا جاتا ہے ۔ ذکر کرتے وقت منہ کو چاہے کھلا رکھے یا بند ، دونوں طرح درست ہے بعض اس میں حبس نفس کرتے ہیں اور بعض نہیں کرتے ۔<br />
لقمہ ذکر سہ پایہ<br />
یہ ذکر ابریق (ایک قسم کا ٹونٹی دار لوٹا جس کے پیندے کے نیچے تین پائے بنے ہوتے ہیں)سے سے مشابہہ ہے، ابریق میں تین پائے ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ایک پایہ نہ ہو تو وہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح اس ذکر کے تین ارکان ہیں یعنی :<br />
ا &#8211; اسم ذات<br />
ملاحظہ سبعہ صفات .<br />
واسطہ &#8211; (جسے برزخ بھی کہتے ہیں)<br />
اس ذکر کی سات شرائط ہیں۔ (جیسا کہ اس بیت سے ظاہر ہے) ۔<br />
برزخ و ذات و صفات و شد و مد و تحت وفوق می نماید طالبان را کل نفس ذوق و شوق<br />
یعنی یہ سات شرائط جن کا ذکر بیت کے مصرعہ اولیٰ میں ہے ، طالبوں کے اندر ہر دم ایک ذوق و شوق پیدا کرتی ہیں۔<br />
برزخ سے مراد واسطہ ہے، جیساکہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں : ذات “ سے مراد اسم ذات ہے یعنی &#8221; الله صفات سے امہات صفات یعنی علیم، سمیع ، بصیر مراد ہیں ” شد ، کا مطلب یہ ہے کہ لفظ &#8221; اللہ کا تشدید پورے طور پر ادا کیا جائے اور مد &#8221; کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے الف کو خوب طول دے کر پڑھا جائے &#8220;تحت یہ ہے کہ ہمزہ &#8221; اللہ &#8221; کو پوری قوت کے ساتھ ناف کے نیچے سے شروع کر سے اور فوق سے مراد یہ ہے کہ ہمزہ اللہ کو دماغ میں لے جا کر ختم کرے ۔<br />
چونکہ اس ذکر کو حبس دم کے بغیر نہیں کیا جاتا اس لئے بطور شرط بیت مذکورہ میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہمزہ &#8220;اللہ&#8221; کو پوری قوت کے ساتھ ناف کے نیچے سے کھینچے اور تمام سانس سینہ بھر کر روک لے۔ اور دل میں اللہ کہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمیع کہے اور اس کے معنی کا تصور کرے۔ پھر اسی طرح دل میں اللہ کہے اور اس کے ساتھ بصیر کہے اور اس کے معنی کا تصور کرے، علی ہذالقیاس ” علیم کے ۔ اس کو عروج کہتے ہیں۔ اب اسی طریقے سے پہلے علیم پھر بصیر پھر سمیع کہے اس کو نزول ، کہا جاتا ہے۔ اب پھر سمیع ، پھر بصیر اور پھر علیم کہے۔ یہ عروج ثانی کہلاتا ہے ۔ اس میں را ز یہ ہے کہ سمیع کا احاطہ بصیر کے احاط سے کمتر ہے اور بصیر کا احاطہ علیم کے احاطہ سے کمتر ہے۔ سالک، آغاز حال میں عقل و شہادت کے مرتبہ میں ہوتا ہے ۔ یہ تمام مراتب میں تنگ ترین مرتبہ ہے، لہٰذا سمیع کو مقدم رکھے جب اس سے ترقی کر کے آگے بڑھا تو مرتبہ غیب میں پہنچا جو ایک وسیع تر مرتبہ ہے ۔ لہٰذا اب بصیر کو مقدم کرے ۔ جب یہاں سے بھی آگے مرتبہ غیب الغیب میں پہنچے جو پچھلے دونوں مراتب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، تو اب علیم کا تصور رکھے اور پھر اس کے بعد واپس لوٹے ۔<br />
ترتیب یاد رہے :<br />
الله سميع اللہ بصیر اللہ علیم<br />
اللہ علیم الله بصیر الله سمیع<br />
الله سمیع الله بصیر اللہ علیم<br />
یعنی یہ ایک ذکر ہے۔ اس میں دو عروج میں اور ان دونوں کے درمیان ایک نزول ہے۔حبس دم اتنا ہو کہ اس میں سالک اس ذکر کو دویا تین بار سے لے کر ڈھائی سو بارتک کر سکے تاکہ اس سے سالک کے باطن میں ایک حرارت پیدا ہو جس سے وہ باطنی دسومات (یعنی چیر بی ) جل جائیں جو وسوسہ انگیز خناس کا مسکن ہیں اور خطرات کی بندش ہو کر محویت غالب آجائے۔<br />
تحت میں جہاں بہت سے فوائدہیں وہاں بے شمار تنگیاں بھی ہیں ۔ لیکن ذکر بغیر تحت کے ناقص رہ جاتا ہے ۔ لہٰذا اس کے بغیر چارہ نہیں۔ پھر بھی ذاکر کو چاہیے کہ خود کو زیادہ حرج میں ڈالے بغیر تحت“ کو کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی حفاظت اور امان کا طلب گار رہے ۔ ذکر سہ پایہ کی تفصیل اس طرح ہے کہ مربع بیٹھ کر اپنے پاؤں کے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی سے بائیں پاؤں کی رگ کیماس کو خوب مضبوطی کے ساتھ پکڑے. ناف کو اندر کھینچ کر ذرا نیچے سے اوپر کی طرف اٹھائے ۔ دونوں آنکھوں کو بند رکھے اور شیخ کی صورت کو دل میں حاضر کرے ۔ اور اسم مبارک &#8221; اللہ &#8221; کو پوری شدت کے ساتھ ناف کے نیچے سے اوپر کی طرف کھینچے &#8221; اللہ کے دوسرے لام کو بہت طول دے اور اس لفظ کے ساتھ سمیع ، پھر بصیر، پھر علیم کا ملاحظہ کرے ۔ مشائخ کی کتابوں میں اسے نزول کہا گیا ہے۔ لیکن فقیر کے نزدیک مختار وہی ہے جو او پر آچکا ہے اور اس کا سبب بھی بیان کیا جا چکا ہے۔ جب کوشش کرتے کرتے یہاں تک ہو جائے کہ ایک سانس میں ڈھائی سو بار اسم اللہ، تینوں دوسرے اسما کے ساتھ مذکورہ شرائط کے مطابق ادا<br />
کرنے لگے تو ان تینوں صفات کے ساتھ پانچ اور صفات یعنی :<br />
دائم &#8211; قائم &#8211; حاضر ناظر – شاہد بھی ملائے جب اس کا شمار بھی عروج و نزول کے ساتھ ایک سانس میں ڈھائی سو تک پہنچ جائے<br />
اور سالک ان میں سے ہر ایک کے انوار سے بہرہ یاب ہونے لگے تو ان کے ساتھ سات اور صفات (جنہیں سات امام بھی کہتے ہیں، ملالے ۔ جب اس میں استقامت حاصل ہو جائے تواب صفات مرکبہ کا اضافہ کرتا چلا جائے ۔ مثلاً<br />
اكرم الاكرمين، ارحم الراحمين، اجود الاجودين ذو الفضل العظيم و رب العرش العظيم<br />
لقمہ سلسلہ شطاریہ میں ذکر کا طریقہ<br />
سلسلہ شطاریہ کے دستور کے مطابق اسم ذات زبان سے یا دل میں کہے اور اسماء و صفات یعنی سمیع، بصیر، علیم کو خیال میں جمالے پھر برزخ شیخ کو نظر کے سامنے رکھ کر مد و شد کرے ، اس طرح کہ زیر ناف اس کا آغاز کر کے تالو تک پہنچائے۔ محاربہ صغیر میں ایک سانس میں ایک بار اور محاربہ کبیر ہوں ایک سانس میں سو بار یہ ذکر کیا کرے ۔ جب ان صفات کو شروع کرے۔ عروج و نزول کی رعایت کو ملحوظ رکھے محاربہ کبیر میں پوری قوت سے حبس دم کرے اور صورت شیخ کا تصور جما کر ذکر کرے یہاں تک کہ بیخود وبے ہوش ہو جائے ۔ وہ مقصود جو بہت بھوکا اور بیدار رہنے سے کہیں ہاتھ لگتا ہے ، اس ذکر سے تھوڑے عرصہ میں حاصل ہو جاتا ہے۔<br />
لقمہ ذکر شش ضربی و چہار ضربی<br />
اللہ کے اس ذکر کو شش ضربی اور چہار ضربی کہتے ہیں شش ضربی تو یہ ہے کہ ہر چھے جہت میں ایک ایک ضرب لگائے ، اور چہار ضربی یہ ہے کہ قبلہ رو بیٹھ کر اپنے آگے مصحف یا کسی بزرگ کی قبر رکھے ۔ پہلی ضرب بائیں جانب دوسری دائیں جانب، تیسری مصحف یا قبر پر اور چوتھی ضرب دل پر مارے ۔ اس سے ذکر میں استغراق حاصل ہوگا اور قرآن کے معانی یا اہل قبور کے احوال منکشف ہوں گے لیکن اس میں صورت شیخ کا تصور بہت ضروری ہے ور نہ کچھ فائدہ نہ ہوگا ۔<br />
لقمہ ذکر حدّادی<br />
کلمہ لاالہ کو مد اور تصور شیخ کے ساتھ بائیں جانب سے شروع کرے اور دونوں گھٹنوں کے کے بل کھڑا ہو جائے اور پھر کلمہ الا اللہ کو پوری قوت اور شدت کے ساتھ فضائے دل پر مارے اور بیٹھ جائے اس ذکر کو اس طرح کرے جیسے لوہار ہتھوڑے کو دونوں ہاتھوں میں لے کر پورے زور سے لوہے پر مارتا ہے ۔ اسی طرح کرتا جائے یہاں تک کہ ذوق ملنے لگے۔ یہ ذکر حضرت ابو حفص حداد علیہ الرحمہ سے منقول ہے اور اس میں مشقت بہت ہے۔<br />
لقمہ پاس انفاس (ذکر لاالہ الااللہ)<br />
کلمہ لا الہ “ کو سانس کے ساتھ باہر نکالے اور کلمہ الا اللہ کو سانس کے ساتھ اوپر کھینچے۔ پس سانس کی آمد ورفت کے ساتھ ذکر کرتا جائے اور بست و کشاد میں نظر ہمیشہ ناف پر رکھے۔ اتنا ذکر کرے کہ سوتے جاگتے ذاکر کا دم ذاکر ہو جائے ۔ اس ذکر سے ذاکر کی عمر دو گنی ہو جاتی ہے۔<br />
لقمہ پاس انفاس (ذکر الله )<br />
کبھی پاس انفاس لفظ &#8221; اللہ کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ” اللہُ“ کی ہا کو پیش کے ساتھ ادا کرتے ہیں اس طرح کہ اس میں &#8221; واؤ پیدا ہو جاتا ہے(ہُو )اور سانس کو کھینچتے وقت اللہ &#8221; کو سانس کے ساتھ ادا کرتے ہیں ۔ گویا سانس دل کی زبان بن جاتی ہے اسی طرح جب سانس کو چھوڑتے ہیں تو (ہُو )کو سانس کے ساتھ کہتے ہیں ۔ پاس انفاس میں چاہیے ذکر اللہ کریں چاہے ذکر لا الہ الا الله ، دونوں برابر ہیں۔ اگر ذکر کرتے ہوئے نتھنوں سے آواز پیدا ہو تو اسے” ناک کا ارّہ “کہتے ہیں ۔ اس سے بہت شورش و سوزش اور دماغ میں حرارت و خشکی پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے ناک کو روغن بادام سے چپڑتے رہنا چاہتے اور سر پر اس کی مالش کرنی چاہئیے ۔ اس ذکر کو کمال تک پہنچانا ضروری ہے اور کمال یہ ہے کہ ذاکر کے شعور یا اختیار کےبغیر اس کا دم ذاکر رہے ۔<br />
لقمہ ذکر سینہ بہ سینہ<br />
کسی ایسے شخص کو جس کی لوح دل پر ابھی کسی ذکروفکر کا نقش نہ بنا ہو، پیرو مرشد اپنے رو بر دو گھٹنوں کے ساتھ گھٹنے ملا کر بٹھالے نشست کا انداز یہ ہو کہ مرید کی ٹھوڑی اس کے سینہ پرٹکی ہو، کمر اندر کی طرف خم ہو اور سینہ با ہر نکلا ہوا ہو اور دونوں آنکھیں بند ہوں۔ اب شیخ اس مرید کی سانس کی آمد و رفت کو دریافت کرے ۔ جب وہ اپنی سانس اندر کھینچے تو شیخ اپنی سانس کو اس کی سانس پر چھوڑ دے ۔ جب اس کی سانس باہر نکلے تو شیخ اپنی سانس اندر کھینچے۔ ایسا کرتے کرتے یہ یکا یک مرید میں ایک شورش پیدا ہوگی اور ذکر لا الہ الا اللہ یا ذکر اللہ ، ( ان میں سے جو بھی مقام مرشد کا غالب ہوا ) مرید کی زبان اور سانس سے جاری ہو گا ۔ لوگوں کو اس سے حیرت ہو گی۔ اس ذکر کا اس قدر غلبہ ہو گا کہ اس کی حرارت سے مرید کے ناک ، کان سے خون بہہ نکلے گا۔ اسے سینہ بہ سینہ کہتے ہیں کیونکہ اس کی تعلیم بلا واسطہ زبان ہوتی ہے۔ لیکن اگر مرید خود شاغل ہے اور بالخصوص مراقبہ کا شاغل جس میں حبس دم کیا جاتا ہے تو اس صورت میں پیر و مرشد کی یہ تدبیر کارگر نہ ہوگی کیونکہ اس نے حبس دم کر لیا ہے۔ بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی بیخودی مرشد پر اس حد تک اثر انداز ہو جائے کہ وہ فکر تدبیر ہی سے معطل ہو جائے خود میرے ساتھ ایک مجلس میں ایسا واقعہ پیش آچکا ہے جس سے مجلس کی صورت ہی برعکس ہو گئی تھی ۔<br />
لقمہ ذكر كشف الروح<br />
کوئی روح ہو کسی جگہ ہو، اس ذکر سے وہ ضرور حاضر ہوگی۔ پہلے اکیس مرتبہ یا روح الروح کہے اور دل پر ضرب لگائے۔ پھر سر اٹھا کر ” یا روح ما شا اللہ“ کہے جب ذکر سے فارغ ہو تو مطلوب کی طرف متوجہ ہو ، خواب یا بیداری میں وہ روح حاضر ہو جائے گی۔ اگر یہ کلمات دو ہزار بار کہے تو بہت جلد مقصود ہاتھ آئے گا سید گیسو دراز علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلی قدس سرہ سے یہ ذکر سیکھا ہے ۔<br />
لقمہ اختصار ذکر کلمہ طیبہ<br />
بعض لوگ کلمہ طیبہ کا اختصار کرتے ہیں اور :<br />
” ھَ “ ”ھ ِ“ ” ھُ“<br />
کہہ کر پہلی ضرب داہنی جانب ، دوسری بائیں جانب اور تیسری دل پر لگاتے ہیں۔<br />
لقمہ ذكر كشف القبور<br />
قبر کے پاس بیٹھ کر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر اِکْشِفْ لِیْ يَا نُورُ “ کہے اور دل پر ضرب لگائے پھر اِکْشِفْ لِیْ ، کہہ کرمیت کے چہرے کے مقابل میں قبر پر ضرب لگائے اور کہے عَنْ حَالِهٖاس ذکر سے علانیہ یا خواب میں اس میت کا حال معلوم ہو جائے گا۔<br />
لقمہ ذکر اجابت الدعوات<br />
پہلے یا رب کہہ کر داہنی بغل پر ضرب لگائے، پھر یا رب کہہ کر بائیں بغل پرضرب لگائے، پھر یا رب ،، کہہ کر دل پر ضرب لگائے اور آخر میں کہے &#8221; یا ربی ۔ اسی طرح کرتا جائے اس ذکر کو کثرت سے کرنا چاہیئے۔ جب ختم کرنے کا ارادہ ہو تو دونوں ہاتھ اٹھا کر &#8220;یا ربی &#8220;کہے اور ہا تھوں کو منہ پر پھیرے اور جو مقصود ہو اسے دل میں حاضر رکھے۔ یه ذکر شیخ الحقیقت شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ سے منقول ہے ۔<br />
لقمہ سلسلہ نقشبندیہ میں ذکر کا طریقہ<br />
زبان کو تالو کے ساتھ چپکا کر حبس دم کرے اور کلمہ لا کو ناف سے شروع کر کے دماغ کی طرف لے جائے ۔ پھر کلمہ اللہ کے ساتھ داہنے کندھے کی طرف مائل ہو اور وہاں سے الا اللہ کہتے ہوئے بائیں طرف جائے اور فضائے دل پر ایسی قوی ضرب لگائے جس کا اثر پورے جسم میں ظاہر ہو۔ اگر اس ذکر کی شکل بنائی جائے تو وہ حسب ذیل ہو گی ؟<br />
ناف سے دماغ پھر داہنا کندها اور پھر قلب یہ صورت کلمہ ، کی ہے ۔ لہذا اس ذکر کی صورت کی موافقت میں خود کو نیست اور حق کو<br />
ثابت کرے اور زبان قلب سے کہے :<br />
الهي انتَ مَقْصُودِي وَرِضَاكَ مَطْلُوبي<br />
اے اللہ تو میرا مقصود ہے اور تیری رضا میر ا مطلوب ) اس نفی و اثبات میں سالک کے ظاہر میں کوئی حرکت محسوس نہیں ہونی چاہیئے حبس دم کے ساتھ یہ ذکر متواتر جاری رکھے جب حبس دم کو ختم کرنے لگے تو بزبان قلب محمدرسول اللہ کہے۔<br />
اس ذکر کی تاثیر یہ ہے کہ ذاکر نفی سے خود منفی اور اثبات سے ثابت ہو جاتا ہے ، مگر ذکر کا شمار اکیس سے متجاوز ہو جائے اور اس کے باوجود سالک پر اس کا کوئی اثر مرتب نہ ہو اور محویت و بیخودی حاصل نہ ہو تو اسے چاہیئے کہ پھر سے شروع کرے ۔ یقیناً اس سے کسی شرط کی بجا آوری میں بھول ہو گئی ہے ورنہ یہ ذکر اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہتا۔<br />
لقمہ نفی اور اثبات<br />
نفی اثبات دو ضربی یا چارضربی اس طرح شروع کرے کہ داہنی طرف نبی کریم ﷺ کا اور بائیں طرف اپنے شیخ کا اور دل کے سامنے حق تعالیٰ کا تصور کرے ۔<br />
بعض کے نزدیک رو برو، ما بین الطرفین حضرت وجود مطلق کو تصور کرے ۔<br />
لقمہ ذکر برائے دفع مرض<br />
یا احد داہنی جانب ، یا صمد ، بائیں طرف اور یا وتر ،، دل پر کہے ۔<br />
لقمہ ذکر اجابت الدعوات<br />
عشاء کے بعد نفل سے فارغ ہو کر ستر بار &#8221; یا وہاب ،، کہے ۔ اس سے دنیاوی حاجات پوری ہوں گی۔ اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے۔ ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے ۔<br />
لقمہ چلتے پھرتے ذکر کرنا<br />
اگر جلدی جلدی چلے تو ہر قدم پر الا الہ الا اللہ کہے۔ اگر آہستہ چلے تو دا ہنا قدم اٹھاتے وقت .. لا . اور بایاں قدم اٹھاتے وقت &#8221; الہ ، کہے، پھر داہنے پر &#8220;الا ، اور بائیں پر اللہ کہے ۔ اگر متوسط رفتار سے چلے تو ہر قدم پر اللہ اللہ کہتا جائے ۔<br />
لقمہ ذکر ناسوتی و ملکوتی و جبروتی ولا ہوتی<br />
مجموعی کلمہ لا الہ الا اللہ ، ذکر ناسوتی ہے &#8230; الا اللہ ، ذکر ملکوتی ہے ۔ .. الله ، ذکر جبروتی ہے اور &#8221; ہو ،، ذکر لاہوتی ہے ۔<br />
لقمہ اذکار جو سینہ بسینہ ہم تک پہنچے ہیں<br />
ہم یہاں چند اذکار درج کر رہے ہیں جو ہم تک سینہ بہ سینہ پہنچے ہیں۔ یہ اذکار مریدین کو ان کے اواخر حال میں، جب کہ وہ ریاضات و مجاہدات اور چلہ کشی کے مراحل سے گزر کر مکمل تصفیہ حاصل کر چکے ہوتے ہیں ، تلقین کئے جاتے ہیں۔ اب ہم ہر ذکر کی تفصیل بیان کریں گے۔<br />
ذکر معیت جب مشاہدہ ذاتی صفاتی میں کمی ہو تواس صورت میں یا معی یامعی يا معي يا هو يا هو يا هو تعلیم کرتے ہیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ قعدہ نماز کی نشست اختیار کرے اس طرح کہ دونوں پاؤں سرین سے باہر نکلے رہیں اور سرین زمین پر رکھے۔ داہنے ہاتھ سے بایاں بازو اور بائیں ہاتھ سے داہنا بازو خوب زور سے پکڑے اور پانچ ضرب سے ان کلمات کو کہے۔ پہلی ضرب د اہنے قدم اور داہنے زانو کے درمیان اور دوسری آسمان کی طرف تیسری ضرب با ئیں قدم اور بائیں زانو کے درمیان چوتھی ضرب جگر پر اور پانچویں ضرب فضائے دل پر پوری قوت اور شدت کے ساتھ لگائے اور خیال کرے کہ ” ھو “ سے مراد احدیت مطلقہ ہے جس کا کوئی مثل نہیں ہے۔ اس ذکر کے دنوں میں دودھ کا استعمال رکھنا چاہیے ۔ اگر اس میں زعفران ملا لیاجائے تو اور بھی اچھا ہے ۔ عطریات کا بھی استعمال کثرت سے کرنا چاہیئے ۔ بعض اوقات اس ذکر کو صرف تین کلمات یعنی هُو هُو يَا مَعِي تک ہی محدود رکھتے ہیں ، اس کی نشست حسب سابق ہے فرق اتنا ہے کہ ھو۔ ھو کی ضرب آسمان کی طرف اوریا معی “ کی ضرب دل پر کرتے ہیں۔<br />
ذکر کلیہ یہ ذکر اس طرح سے ہے: بك الكل ، منك الكل، اليك الكل، يأكل الكل<br />
اور ایک جگہ ہم نے یوں بھی دیکھا ہے<br />
اللهم انت الكل ومنك الكل ربك الكل ولك الكل واليك الكل وكل الکل.<br />
اس ذکر سے ذات اور صفات کا مشاہدہ ہوتا ہے ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آگے ایک ضرب پھر د اہنے ایک ضرب اور پھر آسمان کی طرف یا دل پر ایک ضرب ۔<br />
ذکر احاطہ یہ ذکر اس طرح ہے : يا محيط ظهراً وبطنا<br />
ذکر مشاہدہ کا باعث ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ ظہر اکہتے وقت آنکھیں کھولے اور بطناًکہتے وقت ان کو بند کرے ۔<br />
ذکر محو الجہات اس طرح سے ہے :<br />
انت فوقى &#8211; انت تحتى انت امامي انت خلفي &#8211; انت يميني انت شمالی انت في وانا مع الجهات فيك اينما تولوا فثم وجه الله . طریقہ اس کا یہ ہے کہ کھڑے ہو کر عرش کی طرف منہ کرے اور انت فوقی “کہے پھر زمین کی طرف دیکھے اور بیٹھ کر ” انت تحتی “ کہے پھر سامنے کو چہرہ کر کے &#8221; انت امامی ، کہے پھر پیچھے پھر کہ &#8221; انت خلفی “ کہے ، اسی طرح دائیں طرف &#8221; انت یمینی “ اور بائیں طرف انت شمالی “ کہے پھرول پر ضرب لگا کر انت فی کہے اور اٹھ کر گھومتے ہوئے &#8221; انا مع الجهات فیک اینماتولوا فثم وجہ اللہ کہے ۔<br />
ذکر تجلی انانیت تہجد کی نمازسے فارغ ہوکرسومرتبہ انی انا لله لا الہ الا انا کہے۔<br />
اس کا طریقہ یہ ہے کہ آسمان کی طرف سر اٹھا کر انی انا اللہ کہے پھر داہنی جانب سرکو پھیر کر لا الہ کہے اور پھر فضائے دل پر ضرب شدید لگا کر . الا انا کہے۔<br />
ان پانچوں اذکار میں جو ہم نے اوپر درج کئے ہیں، تصور معانی اور تصور بر زخ شرط ہے۔<br />
حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر قدس سرہ العزیز نے پنجابی زبان میں ذکر تلقین فرمایاہے جو حسب ذیل ہے :<br />
اُہوَل توں ( علویات کی طرف اشارہ)<br />
اِہوَل توں (سفلیات کی طرف اشارہ)<br />
تو ہیں توں (اطلاق کی طرف اشارہ)<br />
مجلس ذکر جب ختم ہو تو تین باریوں کے و سبحان الله وبحمده ، سبحان الله العظيم اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے :<br />
اللهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ وَقَدْ اے اللہ تو نے فرمایا ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہا را ذکر کروں گا اور میں نے ذَكَرْتُكَ عَلَى قَدَرِ قِلَتِ عِلْمِي وَعَقْلِي وَ فَهُمِي تیرا ذکر کیا ہے اپنے قلیل علم و عقل اور فہم کے مطابق ۔ فَاذْكُرْنِي عَلَى قَدَرِ سَعَةِ نَفْسِكَ وَفَضْلِكَ وَ پس تو بھی میرا ذکر فرما اپنے نفس کی اور اپنے فضل علم عِلْمِكَ وَ مَغْفِرَتِكَ . اللَّهُمَّ انْتُمْ مَسَامِعَ قُلُوبِنَا اور مغفرت کی وسعت کے مطابق ۔ اے الہ ! ہمارے دلوں کے کانوں کو بِذِكْراهَ يَا خَيْرُ الذَّاكِرِينَ اپنے ذکر کے لئے کھول دے ۔ اسے سب سے بہتر ذکر کرنے والے۔<br />
وصل دوم<br />
مراقبات<br />
مراقبہ کا معنیٰ ہے اپنے دل کی اس طرح نگہبانی کرنا کہ اسمیں غیراللہ ہرگز نہ آنے پائے۔ یاد رکھو کہ دل کا وہ مرض جسے غیر حق کے ساتھہ مشغول ہونا کہا جاتا ہے ، اس کا باعث تین چیزیں ہیں :<br />
حدیث نفس یہ خلوت ہو یا جلوت ہمیشہ قصد و اختیار سے دل میں آتی ہے ۔<br />
خطرہ دل میں بغیر قصد و ارادہ کے آتا اور جاتا رہتا ہے ۔<br />
نظر بہ غیر یعنی اشیائے متکثرہ کا علم<br />
اس مرض کا اصل علاج یہ ہے کہ اپنے باطن کو مشغول حق رکھا جائے شغل باطنی کی کئی قسمیں ہیں۔<br />
حدیث نفس کی بجائے اسم اعظم کو جو اسم ذات ہے قائم کرو۔ خطرہ کی جگہ اسمائے صفات امہات ( حیات ، علم ، اراده ، قدرت ، سماعت ، بصارت کلام &#8211; انھیں سبعہ صفات ، بھی کہتے ہیں )کو رکھو<br />
دل کی نگاہ جمال مرشد پر جماؤ کہ اسی کو واسطہ ، رابطہ اور برزخ کہتے ہیں۔<br />
لقمہ فناء<br />
معنی مقدس کے ملاحظہ سے مراد یہ ہے کہ اسم ذات کو کسی عبارت کی قید کے بغیر یا بلا تخصیص کسی لغوی مفہوم کے، اپنے ذہن یا علم میں ملاحظہ کیا جائے اور قلب صنوبری کی جانب مکمل طور پر توجہ رہے۔ اس کام کے لئے ایک روشن ذہین اور پر کھنے والی طبیعت درکار ہے ۔ اگر (سالک کو ) یہ معنی مقدس ذہن نشین نہ ہوں تو اسے چاہئیے کہ وہ (معنی مقدس کو ایک نور خالص تصور کرے اور اپنے آپ کو اس نور میں معدوم اور منتشر خیال کرے۔ گویا نور کا ایک بحر بے کنار ہے اور وہ اس اور میں ایک قطرے کی مانند ہے ۔ یا اس معنی مقدس کو ظلمت خالص (یعنی اتھاہ تاریکی) اور اپنے آپ کو ایک مخصوص سایہ تصور کرے ۔ سایہ جب تاریکی میں آتا ہے تو وہ معدوم ہو جاتا ہے یعنی سائے اور تاریکی میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا ۔<br />
لقمہ لطیفہ قلبی<br />
بعض عارفوں نے شغل کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ مرید اپنے شیخ کی صورت کو اپنے خیال میں حاضر کرے یہاں تک کہ وہ حرارت اور کیفیت جو اہل شغل کے لئے مخصوص ہے ، اس کے اثرات مرید کے وجود میں ظاہر ہونے لگیں۔ اب اس کیفیت کے ساتھ جو مرید کو صورت شیخ کے تصور سے حاصل ہوئی ہے ، وہ اپنی حقیقت جامعہ انسانیہ کی طرف متوجہ ہو یعنی اپنی حقیقت جامعہ کو شیخ کی صورت بنا کر اسے اپنا شیخ تصور کرے ۔ لیکن یہ حقیقت جامعہ جسے اصطلاحاً قلب کہتے ہیں چونکہ اجسام میں حلول نہیں کر سکتی اس لئے اس کا حاضر کرنا ذرا دشوار کام ہے ۔ اس دشواری کا حل یہ ہے کہ مرید اپنے قلب صنوبری کی طرف جسے ، مضغہ ،، کہتے ہیں، متوجہ ہو۔ یہ توجہ ایسی ہونی چاہئیے کہ مرید کے جملہ حو اس یکسو ہو جائیں۔ کیونکہ قلب حقیقی کا قلب مجازی کے ساتھ ایک ایسا ارتباط ہے جو اعضاء کے ساتھ نہیں ہے۔ بلا شبہ اس حالت میں مرید پر غیبت اور بے خودی طاری ہو گی۔ اس غیبت و بیخودی کو ایک ایسی راہ مستقیم سمجھنا چاہیئے جس میں ذرا برابر کجی نہ ہو۔ سالک کو یہ تصور کرنا چاہیے کہ وہ اس راہ پر چلا جا رہا ہے۔ یہ راستہ غیر متناہی ہے۔<br />
لقمہ خطرات سے نجات پانا<br />
اگر کوئی خطرہ یا وسوسہ (سالک کے )پیچھے لگ جائے اور وہ اس سے گریزاں ہو تو دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ( اس دوڑ میں ) وہ خطرہ پیچھے رہ جائے گا اور سالک کا تعاقب چھوڑ دے گا۔ دوسری یہ کہ وہ اسے آدبوچے گا۔ اگر خطرہ سے پیچھا چھوٹ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے سالک کو چاہیئے کہ حقیقت جامعہ &#8211; جسے مرید نے صورت مرشد میں پا لیا ہے کی طرف متوجہ ہو اور کوشش کرے کہ یہ حالت تا دیر رہے ۔ اگر اس طریقہ سے خطرہ دور نہ ہو تو پھر دماغ کا تخلیہ کرے ، یعنی سانس کو زور کے ساتھ ناک کے راستے خارج کرے اور پھر اسی حقیقت جامعہ کی طرف متوجہ ہو۔ اب یہ کامیابی نہ ہو تو مندرجہ ذیل استغفار بکثرت کرے :<br />
اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ مِنْ جَمِيعِ مَا كَرَهُ اللهُ قَوْلًا وَفِعْلاً وَحَاضِراً وَ غَائِبًا وَسَامِعًا وَنَاظِرًا وَلَاحَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ له العلي العظيم<br />
استغفار کرتے وقت مرید کے دل اور زبان میں پوری موافقت ہونی چاہیے ، اس سے بات نہ بنے تواسم یا فعال کا وظیفہ کرے ، وظیفہ کرتے وقت اس اسم مبارک کا مفہوم ذہن میں رہے ۔ وسو اس کو دفع کرنے میں یہ ایک خاصیت رکھتا ہے۔ اگر اب بھی منظرہ دور نہ ہو تو لا اله الا اللہ کے معنی میں غور کرنے یعنی لا موجود الا اللہ ۔ اس سے بھی خطرہ دور نہ ہو تو نہایت شد ومد کے ساتھ ، باواز بلند، الله کہہ کہ اپنے قلب صنوبری پر ضرب لگائے ۔<br />
لقمہ مقام حیرت<br />
حواس خمسہ ظاہری اور باطنی کے احاطہ ادراک میں جو کچھ آتا ہے وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہو سکتا ۔ یا وہ مطابق واقع ہے ، لہذا حق ہے۔ یا وہ مطابق واقع نہیں ، اس لئے باطل ہے ۔ جو حضرات وحدۃ الوجود کے قائل ہیں ان کے نزدیک یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ<br />
حق کی طرح باطل بھی اللہ تعالیٰ کے مظاہر میں سے ہے<br />
چنانچہ شیخ ابو مدين مغربی علیہ الرحمہ، جو شیخ محی الدین عربی رحمہ اللہ علیہ کے پیر ومرشد تھے ، فرماتے ہیں :<br />
لا تتنكر الباطل في الطواره فانه بعض طهوراته<br />
واعطه منك بمقدارہ حتى توفى حق اثباته<br />
باطل کا ، اس کے اطوار میں ، انکار نہ کرو کیونکہ وہ بھی اس کے بعض مظاہر میں سے ہےاور حتی المقدور اس کا حق ادا کرو یہاں تک کہ اس کے اثبات کا حق تم سے ادا ہو جائے<br />
اور ان اشعار کے تتمہ میں حضرت موید الدین الجندی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :<br />
فالحق قد يظهر في صورته وينكر الجاهل في ذاته<br />
حق کبھی اس کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ، اور جاہل اس کی ذات میں انکار کرتے ہیں ۔<br />
لہذا کلیات اور جزئیات میں جو کچھ نفس کے ادر اک میں آئے اس میں وجود مطلق کا مطالعہ کرنا چاہیئے (اور جاننا چاہیئے کہ یہاں وجود مطلق ایک خاص شان کے ساتھ ظاہر ہوا ہے ۔ خطرات کے سد باب کا یہ سب سے عمدہ طریقہ ہے۔ اس سے بلا شبہ ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس میں ماسوی ) غائب ہو جاتا ہے ۔ ایک خاص ذوقی حالت میسر آتی ہے ۔ اور مراتب کونی والہی کا ادراک ہونے لگتا ہے بہتر ہے کہ مطالعہ کی بھی نفی کروائی جائے اور اس کیفیت غیبیہ کو قائم کر لیا جائے اور نفس کو چھوڑ کر بیخودی و بے ہوشی کا دامن مضبوطی سے تھام لیا جائے ،کیونکہ اس راہ کے محققین کے نزدیک نیست سے باہر آنا کفر کے مترادف ہے اگرچہ اس کا مقصد حقائق پر غورو فکر یا علمی و عملی باریکیوں کا تدبر ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت و بے نوری سالک کو اس وادی کی طرف لے جاتی ہے جس کا نام حیرت ہے ۔ اور حیرت آخری مقام ہے ۔<br />
لقمہ مرتبہ جمع الجمع<br />
سالک کو چاہیئے کہ دل کی آنکھ سے اپنی حقیقت کو ،جسے حقیقت جامعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، دیکھے اور جملہ احوال وافعال میں اس حقیقت کو چشم دل کے سامنے رکھے تب وہ جملہ موجودات میں ، خواہ وہ حسنہ ہوں یا قبیح ، لطیف ہوں یا کثیف محسوس ہوں یا غیر محسوس، اپنی حقیقت جامعہ کو جاری وساری دیکھے گا۔ یہاں تک کہ اسے مشاہدہ حاصل ہو جائے گا کہ تمام عوالم اسی سے قائم ہیں اور وہ تمام موجودات میں سرائت کئے ہوئے ہے ۔ جتنے محسوسات و معقولات میں سب اس کے لئے آئینہ کی مانند ہوں گے جن میں وہ اپنی حقیقت جامعہ کا ملاحظہ کرے گا یا یوں کہو کہ سارے عالم بمنزلہ ایک جسم کے ہوں گے اور سالک اس جسم میں بمنزلہ روح کے ہو گا ۔ اس مرتبہ کو جمع الجمع رکھتے ہیں۔ جب یہ مراقبہ قوی ہو جائے تو جو کچھ تمام عوالم میں واقع ہو رہا ہے، خواہ وہ شادی ہو یا غمی، سالک ان سب واقعات سے آگاہ ہوگا ۔ کیونکہ روح کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جسم کے رنج وراحت سے مطلع رہے ۔<br />
طالب کو چاہیے کہ لالہ الا الله .. یا فقط اسم &#8221; اللہ کی مکتوبی صورت کو کسی کا غذ پر لکھ کر اسے اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے یا چشم باطن سے اپنی لوح خیال یا اپنے صفحۂ علم پر اس نقش کا مطالعہ کرے ۔ طالب کا بڑی پابندی کے ساتھ اس ہیئت (یعنی کلمہ کی صورت کتابی) کی طرف متوجہ رہنا چاہتے یہاں تک کہ اس پر غیبت طاری ہو جائے اور وہ ہئیت اسے مکمل طور پرفراموش ہو جائے بلکہ اس کے فراموش ہو جانے کا علم بھی اسے نہ رہے ۔<br />
لقمہ بیخودی<br />
کسی پتھر یا کلوخ یا قبر یا مصھف یا پھول کی طرف یا شیخ یا معشوق کےچہرے کی طرف ، یا کسی اور شے کی طرف اپنی آنکھوں کو اورنہ نگاہ کو اس طرح جماتے کہ پلک نہ جھکے اور اپنے قوائے باطنی کو بھی حقیقت مطلقہ غیر مکیّفہ(جو کیف وکم سے پاک ہے) کی طرف متوجہ کرے ، یہاں تک کہ خطرات کے راستے بند ہو جائیں اور غلبہ بیخودی (غیبت) کے آثار طاری ہونے لگیں اور طالب ہر چیز سے بے خبرہو جا ئے حتی کہ اس کو اپنی بے خبری کی بھی خبر نہ رہے۔یہ طریقہ سید نا حضرت ابراہیم بن ادہم قدس سرہ العزیز کی طرف منسوب ہے ۔<br />
لقمہ اتم التوجهات(توجہ کی جتنی بھی صورتیں ہیں ان میں سے کامل ترین صورت ، پوری توجہ )<br />
حضرت حق میں &#8220;توجہِ تام &#8221; اور مراتب حضور میں سے کامل ترین مرتبہ کو بعض مشایخ کرام نے یوں بیان فرمایا ہے :<br />
(اے طالب ! ) جب تیرے سارے قوائے ظاہری وباطنی ، جزوی وکلی اپنے اپنے تصرفات سے معطل ہو جائیں اور تیرا دل ہر علم اور ہر اعتقاد سے۔ بلکہ جملہ ما سوی سے ۔ خالی اور فارغ ہو جائے ، تب تو حق تعالی شانہ کی طرف متوجہ ہو جا ( اور اُسے اسی طرح جان) جیسا کہ وہ فی الواقع ہے یعنی اسے تنزیہہ یا تشبیہ میں مقید نہ کیجیو &#8211; بلکہ تیری یہ توجہ اجمالی اور ہیولانی ہونی چاہیے جو نیک و بد محسوس و غیر محسوس سبھی صورتوں کو تمام تر توحید ، عزیمت وجمعیت اور پورے اخلاص کے ساتھ قبول کرے ۔ تجھے اس حالت کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئیے ۔ اس ضمن میں کبھی پراگندہ خیالی یا ارادے کی کمزوری کا شکار نہ ہونا ۔ اس بات کا پختہ یقین رکھنا کہ حق تعالے کا کمال جملہ صفات کو محیط ہے، خواہ کسی صفت کی خوبیاں ہمارے ادر اک میں آئیں یا نہ آئیں۔ یہ بھی یقین کے ساتھ جان لو کہ عقل،فکر اور وہم میں سے کسی کو یہ طاقت نہیں کہ اس کے سرا پر دہ اسرار کے پاس بھی پھٹک سکے ۔ پس او تعالیٰ ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ ہے ۔ وہ اگر چاہے تو صور عالم میں سے ہر صورت میں یا جملہ عالم کی تمام صورتوں میں ظاہر اور جلوہ گر ہو جائے اور اگر چاہے تو ان سب سے ۔ منزہ اور پاک رہے ۔<br />
لقمہ<br />
سالک کو مناسب ہے کہ وہ مراتب تجلیات کے مبدا سے لے کر منتہی تک (صرف، اپنے آپ کو ملاحظہ کرے بلکہ اس ملاحظہ کو ہمیشہ اپنا نصب العین بنائے۔ اسے فی الواقع ایک وجود مطلق کے سوا اور کچھ نظر نہ آنا چاہئے ۔ وجود مقید اور وجود حقیقی (اگر چہ بظاہر دو قسمیں ہیں لیکن) بحیثیت وجود وہ دونوں اقسام میں ایک ہی ہے ۔ اطلاق اور تقید تو محض نسبتیں یا اعتبارات ہیں۔ اس ملاحظہ کی مداومت سے بے حد ذوق پیدا ہوتا ہے ۔<br />
لقمہ<br />
دونوں آنکھیں بند کرے اور اپنے دل پر نظر جمائے اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر اور اپنے ساتھ جانے ۔<br />
لقمہ<br />
دونوں آنکھیں کھلی رکھے اور نگاہ کو اوپر یا سامنے جمائے۔ کوشش کرے کہ پلک جھپکنے نہ پائے ۔ اس شغل سے کچھ انوار ظاہر ہوتے ہیں۔ پلک سے ایک آگ بھڑکتی ہے جو سارے بدن میں پھیل جاتی ہے اور اس سے عشق پیدا ہوتا ہے ۔<br />
لقمہ سلطان الاذکار<br />
دونوں آنکھیں کھولے رہے اور نگاہ کو اپنی ناک پر اس طرح جمائے کہ دونوں آنکھوں کی سیا ہی غائب اور سفیدی ظاہر ہو جائے اور جمعیت خاطر حاصل ہو کر خطرات کی آمد یکسر بند ہو جائے اس شغل کو&#8221; مقام نصیرا&#8221; کہتے ہیں ۔ سالک کو اجازت ہے کہ وہ چاہے جلسہ نماز کی طرح بیٹھے، چاہے کتے کے بیٹھنے والی نشست اختیار کرے ۔ اور اگر نگاہ کو اپنی بھوؤں پر جمائے اور بدستور سابق اسی شغل کو پورا کرے تو اس سے بہت سے فوائد ظاہر ہوں گے ۔ اس شغل کا نام &#8220;مقام محمود ا&#8221; ہے ۔<br />
لقمہ<br />
جوگ میں چوراسی بیٹھکیں ( یا آسن )ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک کا ایک خاص فائدہ ہے ۔ لیکن شیخ بہاؤ الدین قادری قدس سرہ نے ان میں سے ایک بیٹھک جو سب کی جامع ہے اسے اختیار فرمایا ہے اور وہ یہ ہے :<br />
مربع بیٹھے اور دونوں پاؤں اکٹھے کرے۔ بائیں پاؤں کی ایڑی خصیتین کے نیچے اور داہنا پاؤں اس کے پاس رکھے پھر مقعد رکھے ۔ سانس اوپر کھینچ کر ناف کو پشت کی طرف سمیٹے اور منہ کو بند کر کے زبان تالو کے ساتھ چپکا ئے۔ اس کے بعدوہم میں مشغول ہو یعنی اپنے باطن میں تفکر کرے کہ او ہی ہے ،، (دوران شعر دوران شغل ، بھنو کا ر ہے اور نیند کو ترک کر دے۔ اگر مسلسل تین دن تک بغیر کھائے اور بغیر سوئے اس شغل کو کر تا رہے تو ایسی بے ہوشی و بیخودی اس پر طاری ہو گی جس میں غیب کے پردے اس پر کھلنے لگیں گے اور اسے مکاشفہ حاصل ہونے لگے گا ۔ پھر یا تو وہ ہوش میں آجائے گا یا مجذوب و مدہوش رہ جائے گا۔ اگر پہلے تین دن میں یہ کیفیت حاصل نہ ہو تو اس سے متصل تین دن یہی شغل کرے۔ لیکن ہر تین دن کے بعدیعنی درمیانی وقفے میں کچھ کھا پی لیا کرے اور تھوڑی سی نیند بھی لے لیا کرے ورنہ سودائی ہونے کا اندیشہ ہے۔ بس اسی طرح کرتا چلا جائے۔<br />
لقمہ<br />
جلسہ نماز میں بیٹھے اور علیم، سمیع، بصیر کو اپنے شیخ کی صورت کے ساتھ ملاحظہ کرے ۔ ہر حال میں اس کا التزام رکھے۔ جب اس میں استقامت حاصل ہو جائے تو اسی طرح بیٹھے ہوتے اپنے چہرے کو دل کی جانب مائل کرے، آنکھوں کو بند کر کے چشم باطنی سے دل پر نگاہ کرے اور تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے ، جب اس میں بھی استقامت حاصل ہو جائے تو اسی ہیئت میں بیٹھے لیکن اب اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائے اور آنکھوں کو نیم باز کر کے یہ تصور کرے کہ میری روح بدن سے باہر نکل گئی ہے اور آسمانوں سے گذر کر حتی تعالی شانہ کے معائنہ (یعنی دیدار) میں مشغول ہے۔ اگر کوئی شخص اس پر استقامت پا جائے تو اس پر ایک سبز دھا گا ظاہر ہوگا جس کا ایک سرا ساتویں آسمان کے اوپر اور دوسرا سرا اس کے دل میں ہوگا۔ یہ فکر کا اعلیٰ درجہ ہے اور یہی وہ شغل ہے جسے مشائخ چھپاتے ہیں۔ اس مشغولیت میں ، واسطہ ،، (یعنی صورت شیخ کا ملاحظه)درست نہیں ہے ۔<br />
حضرت شیخ نصیر الدین محمود چرا غ دہلی قدس سرہ العزیز نے ان اشغال کو حضرت سلطان جی نظام الدین (محبوب الہی) قدس سرہ سے نقل کیا ہے۔<br />
لقمہ مراقبہ تجویز کرده حضرت گیسودراز<br />
سالک کو چاہئے کہ ساکت رہے اور سوچے کہ میں نہیں ہوں، وہی ہے<br />
من نیم، والله یاراں ، من نیم جان جانم ، سر سرم ، تن نیم<br />
جب انہی معنی ہیں فکر کرے گا تو بحکم : جاء الحق وزهق الباطل انا انت (میں تو ہوں ) کی آواز اسے سنائی دے گی۔ یہ راستہ سب راستوں سے اقرب ہے۔<br />
لقمہ ذکر الله<br />
جو شخص مراقبہ اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہے گا اس پر سارے عالم کی تجلی ہوگی حضرت سلطان العارفین لڑکپن سے لے کر وفات تک اس شغل کو فرماتے رہے ۔<br />
لقمہ مراقبہ معراج العارفين<br />
تمام موجودات کو متعدد آئینے فرض کرو۔ ان میں جو جو کمالات تمہیں دکھائی دیتے ہیں، یعنی تمہاری عقل یا تمہارے حواس خمسہ جن کو دریافت کرتے ہیں، ان سب کو حق تعالیٰ کے اسما و صفات کی صورتیں سمجھو۔ بلکہ سارے عالم کو ایک آیئنہ فرض کر کے اگر تم اس آئینے میں حق تعالیٰ کو اس کے تمام اسماء وصفات کے ساتھ دیکھو تو تم اہل مشاہدہ میں سے ہو جاؤ گے جیسے اول اول تم اہل مکاشفہ میں سے تھے (اور وہاں سے ترقی کر کے اہل مشاہدہ میں سے ہوئے ، تو اب یہاں سے آگے بڑھو۔ یوں ملاحظہ کر و کہ عالم کو دیکھو تو یہ جانو کہ تمہاری ذات جملہ کا ئنات کو محیط ہے۔ اور یہ سب کچھ خود تمہارے اندر مرتسم (نقش)ہے۔ لہذا تمہاری ذات ان سب کا آئینہ ہے۔ پہلے پہل تم دوسروں کے اندر حق تعالیٰ کا مشاہدہ کیا کرتے تھے، اب خود اپنے اندر اس کا مشاہدہ کرو ۔<br />
پھر اس سے بھی آگے بڑھو اور ملاحظہ کروکہ ممکنات ، جیسا کہ وہ ہیں ، معدوم و غیر موجود ہیں۔ ان کو درمیان میں نہ لاؤ اور سب کو حق تعالیٰ کی تجلیات کی صورتیں سمجھو جو اسی سے قائم ہیں لہذا یہ سب کمال اور جمال حق تعالیٰ کا ہے اور اس کا مشاہدہ بھی حق تعالیٰ ہی میں کر رہے ہو ۔<br />
پھر اس سے بھی برتر قدم رکھو اور اپنے وجود کو درمیان سے ہٹا دور مشاہدہ اور ادراک کرنیوالا صرف حق تعالیٰ کو جانو۔ پس وہی شاہد، اور وہی مشہود ہے ۔<br />
لقمہ سلوک سلسلہ نقشبندیہ میں<br />
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں سلوک کی بنیاد تین طریقوں پر قائم ہے ۔ پہلا طریقہ توجہ اور مراقبہ کا ہے۔ اس سے مراد اس معنی بے چون و بے چگون اور بے شبہ و بے نمون کی طرف متوجہ ہونا ہے جو اسم مبارک &#8221; اللہ &#8221; سے مفہوم ہے ۔( لفظ اللہ سے جوذات مفہوم ہوتی ہے اور جس کا کوئی مانند و مثل اور مشابہ اور نظیر نہیں ہے)<br />
دوسرا طریقہ رابطہ ہے۔ یعنی شیخ ، جو فانی فی اللہ اور باقی باللہ ہے، کی صورت کی طرف اس طرح متوجہ ہونا کہ غیبت اور بے خودی پیدا ہو اور یہ صورت جو ( مرید کی ) بہت اسفل ہے نظروں سے اوجھل ہو جاتے اور اس کی نگاہ شہود ذات کے بحر او حضور حق تعالی (کہ جہت اعلیٰ ہے ) پر پڑے ۔<br />
تیسرا طریقہ لا الہ الا اللہ کا ذکر خفی ہے۔ یہ ذکر نفی و اثبات کا جامع ہے ۔<br />
ان میں سے پہلا طریقہ سب سے بہتر اور اعلیٰ ہے۔ لیکن قبل اس سے کہ یہ سالک میں اپنا تصرف کرے ، اس کا حصول دشوار ہے ۔ دوسرا طریقہ یعنی رابطہ سب طریقوں سے اقرب ہےاور اس سے عجائب و غرائب ظہور میں آتے ہیں ۔ تیسرا طریقہ سب سے محکم ہے اور اس کی بنیادبڑی استواء ہے ۔<br />
لقمہ آئینہ بینی<br />
اکثر آئینہ دیکھا کرو اور اپنے خیال میں شیخ کی صورت کو قائم کرو ہمیشہ اسی پر نگاہ رکھویہاں تک کہ ( تمہاری اپنی شکل )حو اس سے غائب ہو جائے ۔<br />
لقمہ کلمہ اللہ کا تصور<br />
کلمہ &#8221; اللہ &#8221; کو سونے یا چاندی کے پانی سے لکھ کر ہمیشہ اسے دیکھا کرو اور یہ بھی کرو کہ لفظ &#8221; اللہ &#8221; کی صورت وہمی کا اپنے صفحۂ دل پر نقش بنا کر ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہو یہاں تک کہ حواس سے غیبت حاصل ہو جائے ۔<br />
خاتمہ<br />
اے طالب حق ! اللہ تعالیٰ تیرے اعمال کا خاتمہ بالخیر کرے ، جان لے کہ پچھلے ہر دو وصل میں ذکر اور فکر کے جو اقسام بیان کئے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک کی مداومت تجھے مطلوب تک پہنچا دے گی۔ بغیر مداومت اور استغراق و انہماک کے اگر کوئی شخص وصل کے خواب دیکھنے لگے تو یہ اس کی حماقت کی دلیل ہے۔ کیونکہ تصوف عمل کرنے کی چیز ہے نہ کہنے کی، لہٰذا جتنی زیادہ مشق کرو گے اتنی ہی کامیابی ہوگی۔ حضرت ابو حفص حداد قدس سرہ فرماتے ہیں ،<br />
تصوف پختہ ساختن وہمے بیش نیست، یعنی تصوف و ہم پکانے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔<br />
فی الواقع بات یہی ہے کہ جب یہ اوہام پک کر مغز جان تک پہنچ جائیں تو اس وقت خواص و عوام کو عجیب و غریب مشاہدات ہوتے ہیں جن سے صاحب مقام کو لذت ملتی ہے اور دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی ہے۔ لیکن بعض نادان جنھیں چند اذ کار و مراقبات کا علم ہو جاتا ہے محض اسی بنا پہ اپنے آپ کو صوفی کہنے لگتے ہیں ۔ یہ تو اللہ تعالی کا بے پایاں علم ہے جو اُن کے گناہوں کو برداشت کئے جاتا ہے ورنہ یہ لوگ ہلاک ہونے ہیں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ بعض لوگ اس سے بھی کم تر ثابت ہوتے ہیں یعنی کچھ دیر برائے نام ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور جب انہیں اس میں کوئی لذت یا اثر محسوس نہیں ہوتا تو ان میں سے کچھ لوگ تو اس کام سے دستبردار ہو کر پھر سے دنیاوی دہندوں میں پھنس جاتے ہیں، اور جو کچھ کر چکے ہیں اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں یا کچھ لوگ اتنے پر ہی اکتفا کر کے مکر و فریب کا جال بچھاتے ہیں اور اپنے آپ کو عارف سمجھ کہ ایک عالم کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب بے سود ہے۔ فاسد جگہ پر فاسد عمارت اٹھائی جائے تو اس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایسے مراتب سے بچائے ۔ مرد وہ ہے جو اس راہ میں مردانہ وار قدم رکھے اور طریقت کا حق ادا کرے ۔ اور جب تک صاحب تاثیر نہ ہو جائے کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دے، بس غافل کی تنبیہ کے لئے اتنا ہی بہت ہے ، آگے سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔<br />
یہ خاتمہ ایک مخصوص طریقہ ذکر پر مشتمل ہے۔ یہ ایسے صاحب اجتہاد مرید و طالب کے لئے ہے جس کا ظاہر انواع واقسام کی صلاحیتوں سے آراستہ ہو چکا ہے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ اگر وہ اس ترتیب کے مطابق چلتا رہا تو &#8220;فرق &#8221; یا پرا گندگی کی پستی سے نکل کر جمع ، کی بلندی تک پہنچ جائے گا شغل کے ضمن میں ہم نے اس کے بعض فائدوں کا ذکر بھی کر دیا ہے ۔ توفیق اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور مطلوب تک پہنچانا اسی کا کام ہے۔ ہر گھڑی ، ہرآن اسی پر ہمارا تکیہ ہے ۔<br />
لقمہ علم بسیط اور علم مرکب<br />
علم دو طرح کا ہے : بسیط اور مرکب ، اگر معلوم ، ہر جہت اور ہر حیثیت سے واحد ہے تو لامحالہ اس کا علم بسیط (غیر مرکب )ہوگا اور اگر معلوم متعدد ہےلیکن اس کا ادراک اجماعی حیثیت میں ہو رہا ہے تو بھی یہ علم بسیط ہے ۔ ہاں اتنا فرق ضرور ہے کہ پہلا بسیط حقیقی ہے اور دوسرابسیط حکمی ۔<br />
اگر معلوم ، واحد ہے لیکن کئی جہتوں اور حیثیتوں سے ادراک میں آرہا ہے یا &#8221; متعدد “ ہے اور اس کا ادراک تفصیلی حیثیت میں ہو رہا ہے، تو بلا شبہ یہ علم مرکب ہے ۔ صوفیائے کرام کی ہمت عالی ہمیشہ اس اس بات پر کمربستہ رہتی کہ ہے علوم علوم مرکب کو درہم برہم کر کے ذات واجب الوجود کے علم بسیط تک پہنچیں ، اس طرح کہ ہمہ وقت یا اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر اکثر اوقات یہ جمعیت ان کو حاصل رہے اور جو تفرقہ ما سوی اللہ کے خیال سے دل میں پیدا ہوتا ہے اس سے گریزکر کے اسی جمعیت میں پناہ لیں۔ چنانچہ ماسوی کے فنا ہو جانے کو فنافی اللہ کہتے ہیں اور اس حضور سے بھی فنا ہو جانے کا نام ” فنائے فنا ہے۔<br />
لقمہ<br />
طالب کسی گوشہ تنہائی میں، پوری طہارت کے ساتھ ، قبلہ رو ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی آنکھوں کو بند کر کے زبان کو اچھی طرح تالو کے ساتھ چپکا لے ۔ اب اپنے دل کی طرف متوجہ ہو کر سوچے کہ میرے سینے میں تو پارہ گوشت ہے (جسے دل کہتے ہیں، لفظ &#8221; اللہ کہہ رہا ہے۔ لیکن مجھے سنائی نہیں دیتا ۔ اب اسے سننے کی کوشش کرے اور اپنی تمامتر ہمت اس پر مبذول کرے ۔ اللہ کی مدد شامل حال رہی تو تھوڑے ہی عرصے میں اسے ایک حرکت محسوس ہونے لگے گی اور اسے گمان ہو گا کہ یہ حرکت یا قلب کی ہے یا نفس کی یا پھر محض وسوسہ ہے۔ جب یہاں تک پہنچ جائے تو پہلے سے بھی زیادہ ہمت کے ساتھ کوشش کرے کہ یہ حرکت اور بھی واضح ہوتا کہ حرکت نفس یا وسو اس کا اشتباہ باقی نہ رہے اور طالب بالتحقیق جان لے کہ یہ حرکت مضغہ دل ہی کی ہے اور وہ اللہ، اللہ کہہ رہا ہے ۔<br />
جب یہ سعادت حاصل ہو جائے تو اب طالب اپنی ہمت اس بات پر مرکوز رکھے کہ اگر چہ اس کی زبان خاموش رہے لیکن وہ خلوت و جلوت میں اپنے دل کی آواز کو سنے ۔<br />
لقمہ ايضاً<br />
یہ ایسی حالت ہے جس میں دل ذاکر ہو جاتا ہے ۔ یہ دولت ہر شاغل کو اس کے مرتبہ کے مطابق نصیب ہوتی ہے۔ بعض اسے بہت جلد پالیتے ہیں اور بعض کو بہت دیر سے ملتی ہے ۔ یا بعض کو ذرا سی توجہ سے حاصل ہو جاتی ہے جب کہ بعض کو اس کے حصول کی خاطر بہت زیادہ توجہ اور کوشش صرف کرنی پڑتی ہے۔ لیکن بہر حال طالب کو چاہئیے کہ دل برداشتہ اور مایوس نہ ہو ،کیونکہ ارشاد ہے :<br />
وَ لَا تَایْــٴَـسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ یعنی خدا کی رحمت سے نا امید مت ہو کیونکہ اس کی رحمت سے نا امیدی کا فروں کا کام ہے<br />
لقمہ حبس دم<br />
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سانس کی آمد و رفت کے باعث یہ حرکت (قلبی )ظاہر نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں سانس کو زیر ناف روکنا چاہیے ۔ اس سے دل کی کیفیت اس لگن کی سی ہو جاتی ہے جو ہوا کے تموج سے محفوظ ہو اور جس میں بھرا ہوا پانی بالکل ساکن رہے۔ جب تک حرکت قلب محسوس نہ ہونے لگے ، سانس کو روکنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے ۔ تاہم حیس دم اتنا طویل نہ ہو کہ جس سے کسی مہلک مرض کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ کیونکہ اس کا نقصان حبس دم نہ کرنے سے زیادہ ہے۔ بس اتنا کرنا چاہیے جتنا مقدور ہو۔ سانس کو آہستہ آہستہ چھوڑنا مناسب ہے اور اس موقع پر بھی حرکت قلب کا خیال رکھنا چاہئے ۔<br />
لقمہ حرکت قلبی کی نگہداشت<br />
جب حرکت قلب معلوم ہونے لگے اور ذکر قلب جاری ہو جائے تو اس کی اچھی طرح نگہداشت کرنا چاہیئے۔ کیونکہ یہ حرکت اتنی ضعیف ہوتی ہے کہ ذرا سی مزاحمت سے جاتی رہے گی اور پھر جتنی بھی کوشش کی جائے ہاتھ نہ آئے گی۔ بلکہ ایسی کوشش الٹا جمعیت اور حرکت کو کم کرنے کا باعث ہوگی لیکن سالک کو مایوس نہ ہونا چاہیئے۔ اسے چاہیئے کہ عجز و انکسار اور خشوع د خضوع کے ساتھ اپنی کھوئی ہوئی دولت کو طلب کرے۔ اکثر حالات میں حدیث نفس یا خطرہ یا اشیاء متکثرہ کا علم اس سررشتہ کے ہاتھ سے نکل جانے کا باعث ہوتا ہے ۔ ہم دوسرےوصل کی ابتداء میں اس کو بیان کر چکے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ آن واحد میں دل کا اصالتہ دو جانب متوجہ ہونا محال ہے ۔<br />
لقمہ ايضاً<br />
جب یہ جلیل القدر نعمت حاصل ہو جائے تو اسے حقیر اور معمولی شے نہ سمجھنا چاہئیے۔ بلکہ شب و روز اس نسبت کی پرداخت میں لگے رہنا چاہیے ، طالب انتہائی ضرورت کے وقت کسی دوسرے کام کی طرف متوجہ ہو، بکہ اگر نوافل، وظائف یا تلاوت قرآن وغیرہ اس میں مخل ہوں تو ان کو بھی ترک کر دے ، ہاں ، اگر یہ امور حفظ نسبت میں خلل انداز نہ ہوں تو پھر ان کے کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بلکہ یہ بھی اس کام کے موید بن جائیں گے بس طالب کو چاہیے کہ ہمہ تن اس نسبت میں لگا رہے۔ آنکھ کو تھوڑا سا کھول کر اس (نسبت) کا احضار کیا کرے حتی کہ اسے یہ ملکہ حاصل ہو جائے کہ وہ آنکھیں کھول کر بھی قلب کی طرف متوجہ رہ سکے۔ اسی کا نام &#8221; خلوت در انجمن ہے تائید الٰہی سے جب یہ نسبت قوی ہو جائے گی توپھر سالک اگر کبھی بھول بھی جائے تو ذرا سی توجہ سے اسے دوبارہ پالے گا بلکہ بازیافت پر یہ اور بھی زیادہ ہوگی اور بڑھتی ہی جائے گی ، کسی مانع یا رکاوٹ سے ہر گز زائل نہ ہوگی۔ اس مرتبہ میں طالب کو ذکر سے بڑی لذت اور جمعیت حاصل ہوگی ۔<br />
لقمہ ذکر کا جملہ اعضائے بدن میں پھیل جانا<br />
جب حرکت قلب، اس حال کو پہنچ جائے کہ زبان دل سے لفظ « اللہ کا ذکر سن کر ذرا سی تکلیف نہ ہو تو وہ حرکت جو قلب صنوبری سے ظاہر ہوئی تھی پورے بدن میں پھیل جائے گی ۔ اس کے پھیلنے کی صورت یہ ہے کہ پہلے طالب کے کسی ایک عضو بدن میں اس کا ظہور ہو گا۔ یعنی جس طرح مضغہ دل میں وہ حرکت محسوس ہوتی تھی بعینہ وہ حرکت اس عضو میں محسوس ہوگی۔ کبھی ہاتھ متحرک ہوگا اور کبھی پاؤں اور کبھی سر، حالانکہ طالب ان میں سے کسی عضو کو حرکت دینے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ حرکت عضو کی طرف ہرگز متوجہ نہ ہو کیونکہ ایسا کرنے سے دل غافل ہو جائے گا ۔ اس کی تمام تر توجہ بس دل پر مرکوز رہنی چاہئیے۔ اس کام میں دل ہی راس اور رئیس ہے اور جملہ اعضا اسکے تابع ہیں ۔<br />
لقمہ ايضاً<br />
جب ذکر کا نور پھیلنے لگے گا تو تھوڑے ہی عرصہ میں پورے بدن کا احاطہ کرلے گا ۔ سر سے لے کر پاؤں کے ناخن تک ہر عضو ذکر سے معمور ہو جائے گا ۔ تب سالک پر مختلف حالتیں طاری ہوں گی کبھی ہنس رہا ہے تو کبھی رو رہا ہے ۔ کبھی خوش ہے تو کبھی اداس ہے کبھی حیران ہے تو کبھی بریان ہے۔ لیکن کوئی بھی حالت ہو اس پر التفات نہ کرنا چاہئیے۔ بس ذکر سے کام رکھے کہ اہم ترین بات یہی ہے۔ تائید الہی شامل حال رہی تو پورے بدن سے بیک وقت لفظ اللہ کا ذکر سنائی دے گا اور جملہ اعضا دل کے ہمنوا ہوں گے۔ اس حالت میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض اعضا میں غلبہ ذکر بڑھ جاتا ہے اور بعض میں کم رہتا ہے ۔ اور کبھی تمام اعضا میں مساوی ہوتا ہے۔ زیادہ لذت اسی صورت میں حاصل ہوتی ہے کہ تمام اعضا میں غلبہ ذکر مساوی ہو۔ اس کیفیت کو اصطلاح صوفیہ میں سلطان الذکر، کہا جاتا ہے ۔<br />
لقمہ ذکر قلب کا سنائی دینا<br />
ذکر قلب کا علم پہلے پہل قوت سامعہ کی مدد کے بغیر ہوتا ہے لیکن جب یہ ذکر قلب میں قرار پکڑا لیتا ہے تو اکثر لوگوں کو یہ کانوں سے بھی سنائی دینے لگتا ہے۔ اس مقام نہیں صاحب فطرت طالب پر واسطہ استماع خود بخود واضح ہو جاتا ہے ۔<br />
لیکن عام طور پر جو یہ بات مشہور ہے کہ سالک سے دل کا ذکر دوسرا شخص بھی سن سکتا ہے غلط عوام ہے۔ لہٰذا جو لوگ اس بات کے قابل ہیں کہ سالک سے ذکر کی آواز کوئی دوسرا شخص سامعین اور ذاکرین کے تفاوت درجات کے مطابق ، دور سے یا قریب سے سن سکتا ہے غلطی پر ہیں ۔ شیخ شرف الدين يحي عليہ الرحمہ معدن المعانی میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرماتے ہیں کہ ایک جماعت نے جو بعض اہل اکتساب سے اس قسم کی آواز کا سنائی دینا نقل کیا ہے تو ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ جب ذکر کو سینے سے کھینچتے ہیں تو ایک تخفیف سی آواز حلق سے پیدا ہوتی ہے جس سے سننے والے کو گمان ہوتا ہے کہ یہ آواز دل کی ہے ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ہم نے اس قسم کی آواز نکلتے ہوئے دیکھی اور سنی ہے ۔ باقی اللہ ہی بہتر جانے والا ہے۔<br />
لقمہ غلبہ ذوق<br />
بعض اوقات کسی سر کے ظاہر ہونے سے سالک کو جو ایک خاص ذوق حاصل ہوتا ہے وہ سالک پر غالب آجاتا ہے ۔ یہ بات اس کی ترقی کے لئے مانع ہے۔ اگر اس کی باطنی حالت کو اس بات سے تشویش لاحق ہو تو سالک کو چاہئیے کہ ظاہری و باطنی آداب کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے شیخ کی طرف رجوع ہو۔ اگر شیخ اپنے مرید کے حال کو سمجھتا ہو اور اس کی مشکل کا حل جانتا ہو تو صراحتاً یا کنایتا بتادے اور نہیں تو اس بات کو موقوف رکھے کہ ابھی اس کے کشف کا وقت نہیں آیا ۔<br />
لقمہ ذکر کا مقصود<br />
ذکر کا مقصد مذکور میں فنا ہو جانا ہے ۔ لہٰذا محض زبان اور دل سے کلمہ جلالہ کے تلفظ پر اکتفا نہ کر لینا چاہیے۔ اگر چہ اس سے بھی کچھ نہ کچھ فائدہ توضرور حاصل ہو گا ۔ لیکن بے حضور مذکور گو ہر مقدور ہاتھ نہیں آتا۔ کیونکہ ذکر سے مقصود مذکور میں فنا ہونا ہے نہ کہ اسم مذکور ہیں ۔<br />
لقمہ غلبہ ذکر<br />
اس مرتبہ کے سالیکن جن جن عجیب و غریب حالات و واردات سے دوچار ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مخلوقات جو ذکر کرتے ہیں سالکین کو اس کا علم ہوتا ہے ۔ اگر چہ بتدریجاً ایسا ہوتا ہے۔ لیکن سالک کو اس پر رکنا نہ چاہئیے کیونکہ مقصود اس سے کہیں بڑھ کر ہے ۔ اس جگہ ایک بہت باریک بات ہے جس کا خیال رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اور وہ یہ کہ اس مرتبہ میں لوگ جب ذکر اللہ میں مشغول ہوتے ہیں تو ان کو جنگل، صحرا، درو دیوار پتھر کنکر یہاں تک کہ اپنے ہاتھ پاؤں &#8221; اللہ اللہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ در اصل اس کا سبب خود ذاکر پر اس کے ذکر کا غلبہ ہے ۔ یہ کیفیت ذکر کائنات کے سماع سے قطعاً الگ شے ہے۔ کیونکہ ہر مخلوق کا ایک مخصوص « ذکر حالی ، ہے ، جیسا کہ اکثر علماء کی یہی رائے ہے ، اگر چہ بعض ذکر مقالی کے بھی قائل ہیں ۔ لہٰذا ہر مخلوق کی تسبیح سے واقفیت اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب ان کے متغائر و متفاوت معانی کا پورا ادراک حاصل ہو۔ کائنات کا ہر فرد ایک مختلف ذکر کے ساتھہ ممتاز ہے اور ہر نوع ، ہر جنس کے لئے ایک معین ذکر ہے جس میں وہ مشغول ہے اور کیونکہ جملہ شیون کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں جو مخصوص اذکار کی متقاضی ہیں۔ تاہم اگر سالک کو ذکر اللہ کی حالت میں دیوار کا ایک خاص ذکر ، دروازے کا ایک خاص ذکر مصلے کا ایک خاص ذکر . و علی ہذالقیاس &#8211; سنائی دے تو ہو سکتا ہے کہ یہ مخلوقات کا ذکر ہو جس پر وہ مطلع ہو رہا ہے۔ پھر بھی اس مرتبہ میں احتمال کی گنجائش ہے۔<br />
لقمہ حرکت متصل<br />
اس مرتبہ عالی اور رتبہ علیا کو پالینے کے بعد کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قلب صنوبری کی طرف توجہ تام کی حالت میں دل اور شریانوں کے اندر ایک حرکت محسوس ہوتی ہے جو اپنی کیفیت میں سابقہ حرکت کی مانند نہیں ہوتی ۔ کیونکہ پہلی حرکت منفصل ہوتی ہے جب کہ یہ حرکت متصل ہوتی ہے ۔ مثلاً پہلی حرکت کلمہ ہو ، ہو کی پہیم تکرار سے مشابہت رکھتی ہے اور دوسری شرکت کلمہ ہو کو ایک ہی بار طویل مد کے ساتھ ادا کرنے کی مانند ہے ۔ یا پہلی حرکت کی مثال یوں سمجھو جیسے حجر ے سے پانی گرنے کی آواز کہ تھوڑا سا ایک جگہ سے دوسری جگہ پر گہرے اور دونوں جگہ کی آواز ایک دوسرے سے جدا لیکن پیہم سنی جائے اور دوسری حرکت کی مثال آبشار کی آواز ہے جو پانی کے یکلخت گرنے سے بغیر انقطاع کے پیدا ہوتی ہے۔ ایک اور مثال سنو پہلی حرکت ہتھوڑے سے نہائی پر متواتر اور پے در پے ضربیں لگانے سے پیدا ہونے والی آواز کی مانند ہے جب کہ دوسری حرکت اس آواز سے مشابہت رکھتی ہے جو کانسی کے برتن پر ایک بار ضرب لگانے سے پیدا ہوتی ہے اور تا دیر رہتی ہے قطع نظر اس سے کہ یہ آواز شروع میں بلند اور قوی ہوتی ہے پھر گھٹتے گھٹتے آخر آخر میں بہت مدہم رہ جاتی ہے ۔ اور حرکت ثانیہ ، حرکت اولی سے کہیں زیادہ لطیف ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بڑی مشق کے بعد کہیں جا کر یہ محسوس ہوتی ہے ۔<br />
جاننا چاہئیے کہ حرکت اولی جو منفصل ہے ، سالک اس کو کلمہ اللہ ، یا کلمہ حق یا کلمہ ” ہو یا ایسے ہی کسی اور کلمے پہ حمل کر سکتا ہے۔ چونکہ ان میں سے ہر کلمہ کی ایک صوتی شکل ہے جو ابتدا اور انتہا رکھتی ہے لہٰذا ایسی منقطع » آواز جس کے ہر جز و کا مبتدا اور منتہا متعین ہو ، اسے ان کلمات منقطعہ پر حمل کیا جاسکتا ہے لیکن حرکت ثانی ، جوایسی مستقل اور واحد (آواز) ہے جس کے نہ کسی مبتداء کا پتہ ہے نہ منتہا کا ، اسے کیونکہ ان کلمات منفصلہ پرحمل کیا جا سکتا ہے جو مبادی و نہایات پر مشتمل ہیں ؟ اس کا حل یہ ہے کہ ، اس کو ذکر کی بجائے مذکور پر حمل کریں یعنی اسم کی بجائے مسمی پر۔ برخلاف حرکت اولی کے جو کہ اسم پر محمول ہے اور مذکور مسمی اس میں ضمناً حاصل ہوتا ہے جب کہ حرکت ثانی میں مذکورومسمی اصالتاً معتبر ہے۔ بعض مشایخ کرام سے یہی سنا ہے ۔ اس مقام کو ذرا تفصیلاً بیان کر دیا جائے تو مناسب ہو گا ۔<br />
اگر کوئی یہ کہے کہ مطلوب یا مذکور، ایسا مطلق ہے کہ اس کے وصف اطلاق کو ہم&#8221; قید&#8221; کے طور پر بھی یہاں نہیں بول سکتے (یعنی لا بشرط شے نہ بشرط لاشے )، اور سالک جو اس مقام میں حرکت ثانیہ کو جو علم محسوسات میں سے ہے محسوس کرتا ہے ، اس کو مقصود پر کس طرح حمل کر سکتا ہے؟ ہم جواب دیں گے کہ درست ہے ، مگر یہ بھی جان لوکہ جس میں کچھ بھی اطلاق ہے وہ مقصود سے قریب تر ہے بہ نسبت اس کے جس میں کچھ تقید ہے ۔ اور چونکہ حرکت ثانیہ میں نسبت حرکت اولی&#8221; کے زیادہ اطلاق ہے ، لہٰذا وہ مقصود کے ساتھ زیادہ مشابہہ ہے ۔ اور در حقیقت یہ دونوں حرکتیں عالم تنزلات سے ہیں اور اسماء وصفات کے مظاہر ہیں سلوک میں یہ راہ مقصود اس وقت دکھائی دیتی ہے جب سالک فنائے فنا اور بقائے بقا کی منزل میں قدم رکھتا ہے اور یہ اکثر ہوتا ہے ۔ اس سلسلے میں اپنا ایک واقعہ بطور تتمہ یہاں بیان کرتا ہوں۔<br />
یہ اس فقیر کا ابتدائے حال کا زمانہ تھا، ایک دن صراط مستقیم کی طلب میں ایک بزرگ(ان بزرگ کا نام محمد صادق ہے ۔ آپ میاں پیر محمد ساون کے مرید اور خلیفہ تھے) کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ فقیر اس سے پہلے بھی شغل سے خالی نہ تھا بلکہ اس شغل نے ایک صورت اختیار کر لی تھی پھر بھی مجھے ایک تشنگی سی تھی ۔ یہ شغل جو میں کرتا تھا وہ فکر سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ بزرگ مجھے فرمانے لگے کہ تمہارے لیے مناسب شغل صوت سرمدی ہے جسے صورت لایزالی ، بھی کہتے ہیں۔ جوگ میں اس کا نام &#8220;انہد&#8221;(تو یہ لفظ در اصل وہ انحد ہے جو آن (ہندی کلمہ نفی) اور حد سے مل کر بنا ہے یعنی بے نہایت ۔ چونکہ یہ آواز ہے ابتداء و انتہا متحقق ہوتی ہے اس لیے یہ نام ہوا ۔<br />
حضرت شاہ نیاز بریلوی فرماتے ہیں :<br />
بشنوی یک کلام نا مقطوع اول و آخرش چوبے حد شد<br />
از حدوث و فنا بود مرفوع زاں سیب نام او به &#8221; انحد اشهر)<br />
میں نے عرض کیا کہ وہ شغل مجھے بتلا دیجئے۔ فرمایا ، اپنے دو ہاتھوں کی انگشت شہادت سے دونوں کان اچھی طرح بند کر لو اور متوجہ رہو تمہیں ایک آواز سنائی دے گی جو پانی کے پیہم گرنے کی آواز سے ملتی ہوئی ہو گی۔ بس اس آواز پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھو اور ایک لحظہ کے لیے بھی غافل نہ ہو جب اس میں استحکام پیدا ہو جائے تو انگلیوں کے دباؤ کو ذرا ڈھیلا کر کے آواز کی طرف متوجہ ہو ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ماحول کے شور و غل کے باعث یہ آواز آنا بند نہ ہو۔ اسی طرح مشق کو بڑھاتے جاؤ یہاں تک کہ بغیر کان بند کئے آواز سنائی دینے لگے اور دنیا کا شور اس میں مزاحم نہ ہو بلکہ تمہارے لیے یہ آواز سب آوازوں پرغالب رہے ، اس وقت تم اپنے اندر ایک ایسا ذوق و شوق پاؤ گے جو زبان و قلم کے بیان سے باہر ہے۔ بعض لوگ گول مرچ کو روٹی میں لپیٹ کر کان کے سوراخ میں ٹھونس لیتے ہیں۔ مرچ کی حرارت سے یہ آواز اور بھی قوی ہو جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ وہ مرچ میں دھاگا باندھ لیتے ہیں۔ غالباً اس سے مقصود یہ ہے کہ مرچ کو باہر نکالنے میں سہولت رہے اور وہ کان کے اندر پھنس کر نہ رہ جائے۔ (اور بعض ) مرچ کو سرخ حریر میں لپیٹ کر کان میں رکھتے ہیں تاکہ اس کی حرارت زیادہ سے زیادہ ہو اور آواز میں قوت آجائے ۔ ایک سال کے بعد ان مرچوں میں یہ خاصیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ امراض چشم میں بہت مفید ہیں ۔ میں نے ان کے ارشاد کے مطابق ان کے سامنے اپنے کانوں کو انگلیوں سے بند کیا ۔ فی الواقع جیسا انھوں نے فرمایا تھا ویسی ہی آواز سنائی دی۔ چنانچہ کچھ عرصہ تک میں اس میں مشغول رہا۔ جو لطف میں نے اس میں پایا وہ قبل ازاں مجھے حاصل نہ ہوا تھا۔ با لاخر ، میں نے ان سے عرض کیا کہ مولینا، جس مقصود کی مجھے طلب ہے اس تک رسائی کب ہو گی ۔ یہ شوق (جو اس شغل سے حاصل ہوا ہے، بجا لیکن یہ اس مقصود کے برابر تو نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ میاں میر لاہوری علیہ الرحمہ اور ان کے مریدین یہی شغل کیا کرتے تھے اور اسی سرمدی آواز کو حضرت حق ہی کہا کرتے تھے ۔ چونکہ میں طالب علم تھا اور کتب متداول پر نگاہ تھی اور ابھی میرا ابتدائے حال تھا ، اس لیے مجھے ان کی اس بات سے بہت کوفت ہوئی اور میں نے یہ شغل ہی ترک کر دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ کے نور کی برکت سے مجھے مدینہ منوره جانا نصیب ہوا اور میں اپنے شیخ حضرت یحیی مدنی رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو میں نے یہ قصہ بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ شغل بہت مفید ہے اور اصحاب کرامت اور اہل استدراج کے درمیان مشترک ہے۔ اس میں یہ اثر ہے کہ پراگندہ خاطری کو دور کر کے جمعیت پیدا کرتا ہے اور ہر طرف سے یکسو کر دیتا ہے۔ یہی چیز طالب اور اس کے مقصود کے درمیان ایک ربط کی صورت بن جاتی ہے اور طالب میں بیخودی اور غیبت ، جو فناء الفنا کا مقدمہ اور پیش خیمہ ہے پیدا کرتی ہے ۔ اور جو کہا جاتا ہے کہ &#8221; حق یہی ہے تو یہ قول اطلاق کے ساتھ ہو مشابہت اس میں مضمر ہے اسی کے اعتبار سے ہے ورنہ حق تعالیٰ کی شان تو یہ ہے کہ )<br />
لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ<br />
اطلاق و تقید میں اعتباری مشابہت کا ذکر ہم حرکت اولی و حرکت ثانیہ کے ضمن میں اوپر بیان کر چکے ہیں۔<br />
لقمہ فنا الفناء<br />
جب یہ حرکت ، بے حرکت متصل سے تعبیر کیا جاتا ہے ، سالک کو محسوس ہونے لگتی ہے تو بعض کے مزاج کی صفائی اور قوت حرکت کے باعث ان کے سارے بدن میں پھیل جاتی ہے اور بعض کے کسی ایک حصہ بدن تک محدود رہتی ہے ۔ بہر صورت اس کا ظہور مقصود کی طرف متوجہ ہونے کا باعث ہے۔ اگر مقصود کی طرف توجہ پیدا نہ ہو تو سالک کو چاہئے کہ ، بلا اعتبار اسم مضغہ قلب کی طرف توجہ کرے۔ اگر یہ دشوار ہو تو اسم کے ضمن میں توجہ کرے لیکن اس درجہ میں بلا اعتبار مسمی محض اسم کی طرف توجہ کرنے میں بڑا ضر ر ہے بلکہ یہ مر تبہ اس کے مقابلے میں کفر ہے۔ حسنات الابرار سیئات المقربین نیکوں کی نیکیاں مقربین کا گناہ ہیں ، اسی کا بیان ہے۔<br />
مذکورہ شرکت متصل کا علم سالک کو ایسا ہونا چاہئے گویا یہ علم بھی ایک حرکت ہے جو اس حرکت متصل پر منطبق ہے کیونکہ علم ہی ایسی چیز ہے جو مقدار رکھتی ہے اور ہم یہ سارے حیلے اسی علم کی افزایش و ترقی کے لیے کرتے ہیں، اس لیے کہ ثواب و عتاب ، قرب و بعد . اور حضور و غیبت سب علم پر موقوف ہیں۔ چونکہ ہر دو حرکت کی اصل (یعنی جڑ بنیاد) دل ہے ، اس لیے جہاں تک ممکن ہو اس حرکت کے علم کا استفادہ کسی دوسرے عضو کی بجائے صرف دل سے کرنا چاہیئے کیونکہ دل کے علاوہ کسی اور عضو کی طرف متوجہ ہونا دیگر اعضا ئے بدنی کی طرف توجہ کا موجب ہے ۔ جب (سالک کا پورا بدن اس حرکت سے مشرف ہو جائے یعنی اس کا رواں رواں ذکر سے معمور ہو جائے ، تو اسے چاہئے کہ &#8220;مذکور&#8221; کو اس حرکت کل بدن پر منطبق کرے اور علم کو اس مذکور پرمنطبق کرے ۔ یہ تین چیزوں کا انطباق ہوا یعنی :<br />
حرکت کل بدن<br />
مذکورجو کلمہ اللہ کا معنی اور دراصل اس اسم کا مسمی ہے، اور<br />
مذکور کا علم<br />
ان تینوں کے انطباق کی مثال ایسی ہے جیسے : فاصلہ ، رفتار اور وقت کا انطباق ۔ (یہ علم ریاضی کا مسئلہ ہے، جو تم نے مسائل کمیت کے ضمن میں اعراض کی بحث میں پڑھا ہوگا ۔ اس مرتبہ میں غیبت و بیخودی کا ہجوم ہوتا ہے اور یہ فناء الفناء کی منزل ہے ۔<br />
لقمہ علم مذکور &#8221; بلاواسطہ پاره دل<br />
جب ریاضت سے ( سالک ) اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اسے اکثر اوقات میں اس حرکت کا علم حاصل رہنے لگے تو اب اسے اپنی ہمت اس بات پر صرف کرنی چاہئے کہ اسے یہ علم مضغہ یعنی پارہ دل کے واسطہ کے بغیر حاصل ہو، اور اس کی توجہ پارہ دل کی طرف مطلقاً نہ ہو۔ (اس کوشش کے نتیجہ میں سالک کو ترقی ہوگی اور مضغہ یا جملہ بدن کی حرکت سے اس کی توجہ منقطع ہو کر صرف &#8221; مذکور ، کا علم باقی رہ جائے گا۔ دونوں طرف ۔ یا ایک طرف کے معدوم ہونے کی وجہ سے انطباق معدوم ہو جائے گا ۔ عدم الطرفین اس صورت میں ہوتا ہے کہ ہم علم و مذکور اور علم حرکت میں انطباق فرض کر لیں .<br />
سالک کو یہ بھی چاہیئے کہ اس نسبت کی پرورش پوری ہمت کے ساتھ کرے اور اسے قلت سے کثرت اور پھر کثرت سے دوام تک پہنچائے ۔ سے دوام تک پہنچائے بعض اوقات ضعف نسبت حرکت ، اس نسبت کی نگہداشت نہیں ہو سکتی ۔ اگر صورت حال یہ ہو تو پھر اسی حرکت کو وسیلہ بنا کر متوجہ ہو اور اس میں تعطیل نہ ہونے دے ، اگر حرکت متصلہ کلیہ بدنیہ ،، سے غفلت ہو جائے تو اس کے بعد حرکت متصور کیہ قلبیہ کی طرف متوجہ ہو ۔ وہ بھی مفقود ہو جائے تو حرکت منفصلہ جزئیہ قلبیہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور وہ بھی نہ رہے تو اگر ہوسکے تو سر پانی سے غسل کرے یا دو تین مرتبہ پوری قوت کے ساتھ سانس کو خارج کرے (یعنی تخلیہ کرے، یا اسم فعالی کو حضور قلب کے ساتھ اور معنی کوسمجھ کر چند بار دہرائے ۔ انشاء اللہ ایسا کرنے سے اس کی کھوئی ہوئی شے اسے مل جائے گی ۔</p>
<h3>لقمہ حضور مذکور</h3>
<p>جب (سالک پر عنایت الہی ہو اور ریاضت کے نتیجہ میں اکثر اوقات مذکور “ (یعنی حق تعالی شانہ کی حضوری اسےحرکت کلیہ بدنیہ کے بغیر ہی حاصل رہنے لگے تو اسے چاہیئے کہ ایک لمحہ کے لیے بھی وہ اس دولت عظیم سے غافل نہ ہو چاہے وہ افعال جوارح میں مشغول ہوا اور چاہے افعال قلب(چاہے اس کی مصروفیت جسمانی ہو چاہے قلبی) میں سے بالفاظ دیگر سالک کی حالت یہ ہو کہ : دست به کار و دل به یار<br />
رباعی<br />
سر رشته دولت اے برا در بکف آر ویں عمر گران مایه بہ غفلت بگذار<br />
دایم، همه جا، با همه کس، در همه کار میدار نهفته چشم دل جانب یار<br />
اے برادر ! دولت کی ڈوری کا سرا تھام لے ۔اور یہ عمر عزیز غفلت میں بسر نہ کر ۔ہر وقت ، ہر جگہ ، ہر ایک سے ساتھ ، ہر کام میں ،<br />
پوشیدہ طور پر اپنے دل کی آنکھ کو دوست کی طرف متوجہ رکھ۔</p>
<h3>لقمہ ذکر قلبی</h3>
<p>مذکور کی طرف توجہ اگر بلا انطباق کے میسر آجائے تو اسے بہت بڑی دولت سمجھنا چاہئے کیونکہ اس مرتبے میں (سالک کو ) ذکر قلبی حاصل ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ جب تک ” حرکت ، درمیان میں موجود ہے ذکر قلبی کا حصول ممکن نہیں ہے ۔ دل ایک رحمانی لطیفہ ہے، بعض نے کہا ہے کہ وہ جسم ہے نہ جسمانی ، بعض نے اسے قوت درّاکہ (بہت زیادہ اور اک کرنے والی قوت)سے تعبیر کیا ہے۔ کچھ لوگ اسے ” مجرد &#8221; قرار دیتے ہیں ، ایک گروہ کے نزدیک وہ &#8221; بخار لطیف ہے ، کچھ اور لوگوں نے کہا کہ وہ ” عالم امر سے ہے ، ایک گروہ اسے عرض سمجھتا ہے تو دوسر اجو ہر قرار دیتا ہے۔ اور بعض اس باب میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔ ہم نے اس کی تفصیل اپنی کتاب عشرہ کاملہ میں بیان کر دی ہے اور بتایا ہے کہ قلب ،نفس ،روح اور عقل کے اطلاقات کیا ہیں۔ نیز یہ کہ عالم عوارض میں جو شرکت اجرام و اجسام سے دیکھنے میں آتی ہے وہ دل سے منزلوں دور ہے ۔</p>
<h3>لقمہ ظہور انوار</h3>
<p>جب سالک کو ذکر قلبی حاصل ہو جاتا ہے تو اس پر انوار ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہ انوار اسے کبھی تو اپنے اندر دکھائی دیتے اور کبھی اپنے سے خارج میں ۔<br />
سالک اپنے وجود میں جب ان انوار کو دیکھتا ہے تو یا اسے یہ اپنے دل میں نظر آتے ہیں یا سر ہیں ۔ یا پھر وہ انہیں اپنے داہنے یا بائیں ہاتھ میں دیکھتا ہے ۔ بہر حال یہ ساری صورتیں اچھی ہیں ۔کبھی کبھی یہ انوار سالک کے پورے بدن میں ظاہر ہوتے ہیں لیکن ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے ۔<br />
اور جب سالک کو یہ انوار اپنے وجود سے خارج میں نظر آتے ہیں تو کبھی یہ اس کی داہنی جانب سے ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی بائیں جانب سے کبھی ان کا ظہور سر کی طرف سے ہوتا ہے اور کبھی بالکل سامنے ہے۔ یہ تمام صورتیں اچھی ہیں۔ ان کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے ۔حاصل کلام یہ ہے کہ سالک کے لئے اس مرتبہ میں رکنا اور اور انوار پر فریفتہ ہوناکوئی سود مند بات نہیں ہے جس سالک کو اس راہ کےطے کرتے کوئی انوار دکھائی نہ دیں اس کا سلوک ہر خطرے سے محفوظ ہے اور اس کے مقصود تک جلد پہنچنے کی امید ہے۔ اگرچہ اس دولت (یعنی انوار ) کا ظہور بھی ایک رحمت ہی ہے پھر بھی کوشش کرنا چاہئے کہ یہ علم بلا کیفیت اور بلاجہت پیدا ہوتا کہ علم اورمعلوم ( یعنی مطلوب )کے درمیان اطلاق اور عدم تقید کی نسبت جیسی ہونی چاہئے ویسی حاصل ہو۔ اس بات کو ذرا تفصیل سے بیان کرنا مناسب ہو گا جو یوں ہے کہ سالک اپنے قلب میں ایک نسبت پاتا ہے جس کی مثال ایک ڈوری کی سی ہے جو اس کے قلب سے نکل کر ذات مطلوب تک چلی گئی ہو لیکن وہاں پہنچ کر ختم ہو جائے، چونکہ وہ ذات (حق سبحانہ و تعالیٰ) اپنے اطلاق کی وجہ سے اس تعین سے پاک ہے کہ یہ ڈوری اس سے جڑ سکے ، ناچار( یہ ڈوری ) امر مطلق سے مربوط ہو کر اپنی ذات کی حد تک اس طرح غیر متعین ہو جاتی ہے کہ کیف وکم کا شائبہ تک اس میں نہیں رہتا ۔ جو سالک علوم عقلی سے بے بہرہ ہوتے ہیں وہ اس قسم کے تصور سے تذبذب میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ علوم کی باریکیوں سے آگاہ ہیں ان کو اس میں ذرا سی بھی پریشانی نہیں ہوتی ۔ ہاں بے مزگی کی بات اور ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ کیونکہ ابتدائے حال میں سالک اس ڈوری کو امر مطلق کے ساتھ ہر جہت سے مربوط کرنے میں کوئی لذت محسوسی نہیں کرتا بلکہ وہ اس کام کو ایک طرح کی بیماری اور تضیع اوقات خیال کرتا ہے۔ بہر حال اسے چاہئیے کہ اپنے عشق کو اپنا مدد گار بنائے ، کمال شغف کی قوت کو بروئے کار لائے اور ان مراتب عالیہ کا خیال کرتے ہوئے جو اس بے مزگی کا ثمرہ یا انعام ہے وہ اپنے آپ کو اس کام کے لئے مستعد بنائے ایک باروہ ادھر لگ گیا اور اسکے وہم میں پختگی آ گئی تو پھر اسے معلوم ہو گا کہ اس میں کیا کیا کچھ ہے ۔<br />
مشایخ علیہم الرحمہ اس مقام میں سالکوں کو زیادہ اوراد و وظائف اور کثرت نوافل بلکہ ہر اس شے سے جو اس نسبت کے منقطع ہو جانے کا باعث بن سکتی ہو ، منع فرماتے ہیں۔ بعض مشائخ جب یہ دیکھتے ہیں کہ مرید کے لئے ایسے امر مطلق کا حاصل کرنا دشوار ہے تو اسے ، بلا اعتبار تعین و تشخص ، سارے عالم کی طرف متوجہ ہو جانے کا حکم دیتے ہیں کیونکہ تعین وتشخص کے ہٹ جانے کے بعد صرف اطلاق ہیولانی باقی رہ جاتا ہے ۔<br />
بعض سالک اس ذات مطلق کو نور کا لامتنا ہی سمندر اور اپنے آپ کو نور کا ایک قطرہ تصور کرتے ہیں قطرہ جو اس دریائے نور میں مل کر اپنی مستی کھو چکا ہے ۔<br />
بعض اس ہست مطلق کو غیر متناہی ظلمت یعنی گھپ اندھیرا قرار دے کر خود کو اپنا سایہ سمجھتے ہیں جو اس اندھیری رات میں اس کے اندر گم ہو چکا ہے ۔<br />
اور بعض اس کو زمین اور آسمان اور جملہ اشیاء کے درمیان ایک خلا تصور کرتے ہیں ۔و غیر ذالك .<br />
یہ سب معقول کی محسوس کے ساتھ تمثیل ہے تا کہ کمزور عقل والے سمجھ لیں، ورنہ کہاں وہ ذات ارفع و اعلیٰ اور کہاں یہ تمثیلات ۔ دراصل یہ وہی بات ہے کہ جس کو جس سے عشق ہوتا ہے وہ اس کے ڈھنگ پرچلتا ہے مقصود ان سب کا یہ ہے کہ سالک کی ہستی موہوم فنا ہو جائے ۔<br />
وہ ہستی موہوم جس نے سالک کی آنکھوں پر حجاب ڈال کر اسے وجود مطلق ، جو اس کی حقیقت ہے، کے مشاہدہ سے محروم کر رکھا ہے۔ بس اسی مقصد عالی کی خاطر یہ سب حیلے نکالے گئے ہیں۔ جب غلبہ حال سے سالک کو اپنے آپ کا علم نہ رہے اور غیر تو در کنار اپنے علم کا علم بھی نہ رہے تو فنا حاصل ہوئی، اور جب اس علم کا علم بھی باقی نہ ہے تو اس فنائے فنا کہیں گے۔ سالک جتنا اپنے آپ<br />
سے گذرا اور بیخود ہوا اتنا ہی مطلوب سے واصل ہو است<br />
آنقدر کز خویشتن رفتم در آغوش توام<br />
حاصل کلام یہ ہے کہ سالک اپنے اندر ایک نسبت پاتا ہے مگر نہیں جانتا کہ اس نسبت کا دوسرا سرا کہاں ہے، کس کے ساتھ مربوط ہے۔ اب وہ اس سرے کو جس شے کے ساتھ بھی جوڑے گا لا محالہ اس نشے کا ایک «تعین ہوگا۔ اور حضرت مطلوب و مقصود جل شانہ یقیناً اس کے ماورا ہے۔ بلکہ سالک جس مرتبے میں بھی رکے مطلوب اس کے ماورا ہے، کیونکہ جو شے سالک کے احاطہ تصور میں آئے گی وہ بالضرور ایک ایسا متعین ہو گا جس کے تعین کو سالک کا ذہن محیط ہے۔ جو شے کسی قید اور تشخص کے ساتھ مقید و تشخص ہو وہ ہرگز مطلوب (جل شانہ نہیں ہو سکتی ۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ مطلق کی کنہ تک کوئی نبی یا ولی نہیں پہنچ سکا ہے<br />
عنقا شکار کس نشود ، دام باز چین این جا همیشه باد بدست است دام را<br />
عنقا کسی کا شکار نہیں ہوتا، اپنا جال اٹھا لے ، یہاں جال کے ہاتھ سوائے ہوا کے اور کچھ نہیں آتا ۔<br />
لہذا سالک یوں سمجھے کہ میں اس کی طرف متوجہ ہوں لیکن مجھے پتہ نہیں کہ میں کس سمت ، کسی جہت میں متوجہ ہوں۔ بالفاظ دیگر، وہ جانتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ کیا جانتا ہے۔ یہ فنا کا مرتبہ ہے ۔ اور اگر وہ جانتا ہے لیکن نہیں جانتا کہ کیا جانتا ہے اور نیز یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ جانتا بھی ہے تو یہ « فناءفنا&#8221; کا مرتبہ ہے جو &#8220;سیرالی اللہ&#8221; کا آخری مرتبہ ہے ۔ اس سے آگے &#8220;سیر فی اللہ شروع ہو جاتی ہے۔</p>
<h3>لقمہ فنا کی دوقسمیں</h3>
<p>فنا کی دوقسمیں ہیں۔ پہلی قسم اس صورت میں حاصل ہوتی ہے کہ سالک &#8221; علم مرکب رکھتا ہوا اور دوسری قسم جب کہ سالک کا علم &#8221; بسیط “ ہو جائے ۔<br />
علم مرکب سے وہ ادراکی کیفیت مراد ہے جو سالک کے باطن میں پیدا ہوتی ہے اور جملہ ماسوی سے منقطع ہو کر صرف حضرت مقصود کی طرف متوجہ رہتی ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ جو بھی شے سالک کے ادراک میں آتی ہے وہ صفت غیریت کے ساتھ مدرک نہیں ہوتی بلکہ سالک اس میں عینیت کو ملاحظہ کرتا ہے، یہاں تک کہ شیون و تعینات کا لباس (جس میں وہ شے ملبوس ہے ) بھی سالک کے نزدیک کوئی خارجی وجود نہیں رکھتا اور سالک اپنے اس ادراک کو حقیقی اور مطابق واقع جانتا ہے۔ چنانچہ قائلین وحدۃ الوجود نے اس کی بہت وضاحت کی ہے ۔ یا پھر اس کا سبب سالک کی اپنے مقصود کی طرف انتہائی توجیہ مطلوب کا غایت ملاحظہ اور اپنے دوست کے ساتھ فرط محبت ہے۔ لہٰذا قوتِ عشق کی شدت کی بنا پر جو کچھ اُس کے ادراک میں آتا ہے وہ اسے مقصود و مطلوب اور دوست ہی دکھائی دیتا ہے اس کا بغیر نظر نہیں آتا ۔ اگر چہ دراصل ایسا نہیں ہے، بلکہ فی الواقع یہ متکثر و متغایر وجود ہی ہیں جو حضرت واجب الوجود کے وجود خاص سے ہیں، مگر انتہائی شغف کے باعث سالک کو ایسا نظر آتے ہیں۔ اور &#8221; ہمہ اوست، مطابق واقع نہیں ہے بلکہ جھوٹ ہے ۔ چنانچہ قائلین وحدۃ الوجود نے خیال خام کو پکایا ہے ۔<br />
کچھ بھی ہو، غیر کو اس کی غیریت کے لحاظ سے مٹا دینے پر ہر دو فریق متفق ہیں۔ لہٰذا سالک نے علوم متکثرہ سے گریز کر کے علم واحد میں پناہ لی ہے ، اور اس توحید کے ذریعہ تقرب الہی حاصل کیا ہے ۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ سالک کو ابھی علم ہے کہ وہ علم رکھتا ہے اور اسی بنا پر اس کا علم علم مرکب ، کہلاتا ہے یعنی سالک ایسا علم رکھتا ہے جس کی نسبت یا اضافت دوسرے علم کی طرف ہے ۔<br />
تا در تو ز پندار تو هستی با قیست میدان بیقین که بت پرستی با قیست<br />
جب تک تجھ میں اپنا پندار باقی ہے، یقینی طور پہ جان لے کہ ابھی تو بت پرستی میں مبتلا ہے۔<br />
اب رہا علم بسیط تو اس سے مراد یہ ہے کہ سالک اپنی کیفیت ادر اکیہ کے ساتھ اپنے مقصود کی طرف اس طرح متوجہ ہو کہ جملہ ما سوی سے منقطع ہو جائےحتے کہ اسے یہ علم بھی باقی نہ رہے (کہ میں منقطع ہو چکا ہوں)۔ اس مقام پر کہا جاتا ہے کہ سالک کا علم بسیط ہو گیا ہے اور اسے فنائے حقیقی حاصل ہو گئی ہے ۔ یعنی نے علم مرکب کو فنا اور علم بسیط کو فنائے افنا بھی کہا ہے۔ یہ دونوں مراتب کسبی نہیں ہیں بلکہ وہبی ہیں اور ان کا فیضان حق تعالی شانہ کی بارگاہ سے ہوتا ہے۔ سالکین کا سلوک نہ اس میں کوئی تاثیر رکھتا ہے نہ کچھ دخل .<br />
بجستجوے نیابد کسے مراد ،ولے کسے مراد بیابد که جستجو دارد<br />
جستجو سے کوئی شخص مراد کو تو نہیں پاتا ، لیکن مراد اسی کو ملتی ہے جسے اس کی جستجو ہو ۔<br />
یہ جذب و بے خودی اورغیبت کا انتہائی مرتبہ ہے اور کسی کسی سعادت مند کو نصیب ہوتا ہے ۔ اس کی کچھ نشانیاں ہیں، ہر مدعی اس کا دعویٰ نہیں کر سکتا ۔ سالک جب تک مرتبہ جذب و بے خودی کو نہ پالے ولایت کی صف میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ اس جذب کے بغیر وہ زاہدوں، عابدوں اور اختیار و ابرار میں سے تو ہو سکتا ہے &#8221; قرب وصول ، تک جسے ولایت بھی کہتے ہیں اس کی رسائی نہیں ہوتی ۔<br />
جاننا چاہیئے کہ ولایت کے لئے جذبہ شرط ہے مگر اس کا دائمی ہونا شرط نہیں ہے۔ چنانچہ بعض لوگ ایسے ہیں جو برسوں جذب اور حالت سکر میں رہتے ہیں اور پھر اس کے بعد حالت صحو یا ہوش میں آجاتے ہیں۔ حضرت با یزید بسطامی علیہ الرحمہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ تیس سال تک اس مقام میں رہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو صرف ایک ساعت کے لئے مجذوب رہے۔ جو مجذوبین اس مرتبے میں مقید ہو گئے اور جنہوں نے یہاں سے عروج نہ کیا اور صحو میں نہ آئے وہ اس وجہ سے مراتب کے لائق نہ رہے۔ لیکن وہ مشائخ عظام جو تخت گاہ ہوش کےپادشاہ اور انبیائے کرام کے خلیفہ و نائب ہیں ، اس دولت سے فائز المرام ہیں۔</p>
<h3>لقمہ بقا بالله</h3>
<p>بقا باللہ سے مراد مرتبہ جمع الجمع ہے جو حیرت کبری کا جالب ہے ۔ یہ حیرت کبری اکثر محققین کے نزدیک آخری مقام ہے اگر چہ بعض نے تسلیم و رضا کو آخری مقام قرار دیا ہے ۔ بقابا الله &#8220;رجوع الی البدائیت&#8221;( رجوع إلى البدایت کا مطلب ہے بدایت یا ابتدا کی طرف لوٹنا، اس مرتبہ کو مختلف ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے مثلاً بقا باللہ ، بقاء بعد فنا، جمع الجمع ، فرق بعد الجمع ، فرق ثانی،صحوثانی و غیرھم.اس مرتبہ کی تعریف کرتے ہوئے یوں کہا گیا ہے :النهايت رجوع الى البدائيت انتہا ء ا بتدا کی طرف لوٹنے کا نام ہے) کا نام ہے ۔ ” بدایت مرتبہ تفرقہ ہے جس میں اشیاء کا ادر اک ان کے تعینات کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ اس مرتبہ میں مبتدی کی نگاہ ، ظاہر کو نہ دیکھتے ہوتے بھی، مظاہر کی دید میں پابند ہوتی ہے اور غفلت تامہ اس کے شامل حال رہتی ہے۔ پھر سالک یہاں سے ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے تو اسے غیبت و بے خودی اور جذب کامل حاصل ہوتا ہے، قیود و تعینات رفع ہو جاتے ہیں اور ہر قسم کے تشخصات اور اضافتیں محو ہو جاتی ہیں۔ جب مالک اس مرتبہ کو پالیتا ہے تو اس کے بعد وہ پھر اعتبار تعینات اور طمس تشخصات و اضافات کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن اب وہ ان تعینات و غیرہ کو ابتدائے حال کی نگاہ سے نہیں دیکھتا بلکہ اب اس کی نظر دوسری ہوتی ہے۔ اگر چہ ان دونوں مراتب یعنی بدایت و نہایت ) میں &#8221; اعتبار تعینات ایک قدر مشترک ہے اور اس لحاظ سے ان کو ایک دوسرے کا شریک کیا جاسکتا ہے ، تاہم ان دونوں میں بڑا جلی اور واضح فرق ہے اور وہ فرق یہ ہے کہ (مرتبہ ) اول میں سالک کے پیش نظر صرف امور متعینه و متشخصہ و مقیدہ“ ہوتے ہیں۔ اس کا دل انہی کی طرف متوجہ رہتا ہے اور یہی اس کا مطلوب و مقصود ہوتے ہیں۔ امر مطلق کے مطالعہ و ملاحظہ کا کہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔ لیکن (مرتبہ ) ثانی میں سالک کا مطلوب و مقصود صرف ذات مطلق ہوتی ہے۔ اس کا دل اس کے سوا اور کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔ اس مرتبہ میں سالک تعینات و تشخصات اور اعتبارات کو حق تعالی شانہ کے اسماء وصفات کے مظاہر کی حیثیت سے دیکھتا ہے چنانچہ وہ جس طرح مر تبہ اول میں جلال و جمال کے درمیان فرق کرتا تھا، اب مر تبہ ثانی میں بھی اسی طرح فرق کرتا ہے لیکن اب دوسری آنکھ سے اور کسی اور نگاہ ہے۔ مرتبہ ثانی میں بعض لوگ جب مخلوقات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پہلے ذات مطلق کا ملاحظہ کرتے ہیں اور پھر اس کے نور سے تعینات و اضافات کو دیکھتے ہیں۔ اور بعض مشاہدہ اشیاء میں ذات مطلق کا مطالعہ کرتے ہیں، اور بعض لوگ وہ ہیں جومشاہدہ اشیا کے بعد ذات مطلق کا مشاہدہ کرتے ہیں چنانچہ<br />
ان میں (بالترتیب ) ایک کہتا ہے :<br />
مَا رَايْتُ شَيْئًا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ قَبْلَهُ میں نے جس شے کو بھی دیکھا اس سے پہلے خدا ہی کو دیکھا۔<br />
اور دوسرا کہتا ہے :<br />
مَا رَأَيْتُ شَيَا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ فِيهِ میں نے جس شے کو بھی دیکھا اللہ تعالیٰ ہی کو اس میں دیکھا۔<br />
اور ایک اور یوں کہتا ہے :<br />
ما رَأَيْتُ شَيْا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهِ بَعْدَهُ میں نے جس شے کو بھی دیکھا اس کے بعد خدا ہی کو دیکھا۔<br />
غرضیکہ ہم لوگوں میں سے ہر ایک کا ایک مقام معین ہے ۔<br />
عارف جب مقام آخر (یعنی مرتبہ بقا باللہ ) میں پہنچ جاتا ہے تو عوام الناس کے لئے اس میں اور دوسرے انسانوں میں فرق معلوم کرنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اس حدیث قدسی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ :<br />
اوْلِيَائِي تَحْتَ قَبَائِي لَا يَعْرِفُهُمْ غَيْرِي<br />
میرے اولیا میری قبا کے نیچے پوشیدہ ہیں۔ ان کو میرے سوا کوئی نہیں پہچا نتا ۔<br />
اسی مقام پر بعض عامیوں نے رسول اللہ ﷺ پر طعن کرتے ہوئے کہا تھا کہ : مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِاس پیغمبر کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔<br />
اسی مقام کی خبر دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ :<br />
رِجَالٌ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ &#8211; کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تجارت اور خرید و فروخت انہیں ذکر الہی سے نہیں روکتی ۔ غرضیکہ اہل اللہ کو جو مرتبہ کمال کو پہنچے ہوتے ہوں ، پہچا ننا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ظاہر دوسرے لوگوں کے ظاہر کی مانند ہوتا ہے ، بر خلاف ان کے مجذوب اور مجنون ہیں کہ ان کے اطوار چونکہ عام لوگوں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں اس لئے عوام ان میں بڑی آسانی کے ساتھ امتیازکر لیتے ہیں اور ان سے بڑی عقیدت کے ساتھ پیش آتے ہیں ۔<br />
اہل صحو میں سے جو حضرات &#8220;فرویت حقیقت&#8221; کے مقام میں ہوتے ہیں ان سے خوارق کا ظہوربہت کم ہوتا ہے کیونکہ ان کی توجہ ہمہ وقت ذات بحت وبے رنگ کی طرف مبذول رہتی ہے جب کے انفس و آفاق میں جو بھی تصرف کیا جائے گا وہ تاثیرات صفات سے آگاہ ہوگا۔ جو لوگ اس مقام یعنی مقام فردیت حقیقت سے جتنا فروتر ہوں گے اتنا ہی ان سے خوارق اور تصرفات کا ظہور ہوگا اس<br />
مقام کی تفصیل احاطہ بیان سے باہر ہے۔ چنانچہ اس پر یہ آیہ کریمیہ شاہد ہے ۔<br />
قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدً<br />
کہہ دو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لئے ) سیا ہی بن جائے تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہو جائے گا اور اگر اتنی ہی سیاہی اور بھی لے آئیں تو وہ بھی نا کافی ہوگی ۔<br />
برادر عزیر ! یہ چند سطریں جو میں نے لکھی ہیں اگر تم نے نگاہ دل سے ان کا مطالعہ کرلیا تو قوی امید ہے کہ ظاہر کار میں تم اپنے آپ کو بلا واسطہ شیخ پستی سے نکال کر بلندی کی طرف سے جاؤ گے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ کام شیخ کی توجہ اور مدد کے بغیر نہ ہوسکے گا۔ کیونکہ اس راہ میں بے شمار ایسی خطر ناک اور دشوار گذار گھاٹیاں ہیں جن میں سے صرف شیخ کی امداد باطنی نکال کرلے جا سکتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ اس جگہ کچھ کام نہیں آتا۔ بعض خود بین اور خود پرست لوگوں کو تم دیکھو گے کہ وہ اس بات کے بہت مشتاق ہوتے ہیں کہ نہ وہ کسی شیخ سے بیعت ہوں اور نہ کسی خدارسیدہ کی صحبت کی پابندی اختیار کریں۔ بس ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ کسی کتاب کے ذریعہ ذکر و فکر اور دوسرے امور کی تکمیل کرلیں۔<br />
لیکن یہ بعید از امکان بات ہے ۔<br />
رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِا الْحَقِّ وَ أَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ<br />
اسے ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان سچا فیصلہ کر دے اور توہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔</p>
<h2>قول کلی</h2>
<p>اسے طلب گار حق ! اللہ تجھ پر اپنی راہ کھولے ، اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ اذکار و افکار اور مراقبات کی جتنی بھی قسمیں ہیں ان سب کا مقصود ایک ہے ، اور وہ ہے محویت وفنا ۔ ابتدائے فطرت میں لطیفہ ربانیہ عزیمت کی یکسوئی اور جمعیت کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے مخلوق سے رابطہ بڑھتا جاتا ہے اور تعلقات دنیوی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے ،عزیمت کی وحدت کثرت غرائم میں بدلتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ جمعیت کی بجائے تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے۔ صاحب انصاف کی ہمت کا تقاضا یہ ہے کہ پھر اسی وحدت و یکسوئی کی طرف متوجہ ہو اور لطیفہ ربانیہ میں جو پراگندگی اور انتشار پیدا ہو چکا ہے اسے توحید کے رابطہ سے درست کرے۔ اس مقصد کے حصول کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اپنے علم کو بسیط کرے اور متفرق و منتشر را ہوں کو چھوڑ کر یکسوئی اختیار کرے یہاں تک کہ جملہ ذوات میں ذات حق، صفات میں صفات حق اور افعال میں افعال حق کو دیکھے، تب اس کی سمجھ میں راز آئے گا کہ وجودحق تمام مخلوقات کے وجودوں میں کیونکر ساری ہے ۔ جب یہ حالت حاصل ہو جائے گی تو وہ ایمان حقیقی اور کمال تقوی سے متصف ہو گا اور اس پر واضح ہو جائے گا کہ جنت کیا ہے اور دوزخ کیا ہے ، دنیا کیا ہے اور آخرت کیا ہے ، نفس کیا ہے شیطان کون ہے اور رحمان کون ہے ، ہادی کون ہے اور مضل کون ہے ۔ اگر چہ عارف کو ان باتوں کے دریافت کرنے سے غرض نہیں ہوتی تاہم بحکم شہود ، اس سے چارہ بھی تو نہیں ۔ در حقیقت اذکار و افکار اور مراقبات کے جتنے طریقے ہیں سب کی بنیاد عشق پہ ہے۔ عشق جس قدر بڑھا ہوا ہوگا اتنی ہی ان امر میں تاثیر ہوگی، جتنی عشق میں سستی ہوگی اتنی ہی ان کی تاثیر ہیں کمی ہوگی۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان امور کو پا بندی کے ساتھ کرتے رہنے سے محبت کی ٹوٹی ہوئی ڈوری پھر سے جڑ جاتی ہے اور یہ رشتہ محکم و استوار ہو جاتا ہے ۔ اذکار و افکار اور مراقبات کو حصول ثواب کی نیت سے ہرگز نہ کرنا چاہیے ۔ عاشق کی شان اس سے کہیں بلند ہے ۔<br />
لقمہ اشعار جن میں توحید کا بیان ہو<br />
جس طرح مذکورہ اذکار سے توحید کے معنی آشکار ہوتے ہیں، اسی طرح ہر زمانے میں ابیات و اشعار سے بھی ان معانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ وصول الی اللہ کے ضمن میں ، اذکار کی طرح ، ابیات و استعار بھی نافع ہیں ۔ البتہ اتنا فرق ضرور ہے کہ عربی زبان کو چونکہ مظہر اتم ﷺ کے ساتھ ایک نسبت ہے اس لئے اس کی تاثیر زیادہ ہے ۔ اگرچہ ہر زبان کی نسبت حقیقت نبوی کے ساتھ یکساں ہے تاہم عربی کی نسبت قوی تر ہے ۔</p>
<h3>لقمہ برزخ</h3>
<p>مشایخ علیہم الرحمہ نے ( اذکار وغیرہ کے لئے ) جو جو برزخ مقرر کیا ہے اس سے مقصود پراگندگی کو دور کرنا اور متفرقات کو مجتمع کرنا ہے ۔ آدمی ہجوم خطرات اور تفرقہ حو اس کے باعث توحیدعلمی سے محروم رہ جاتا ہے۔ ایسے حالات میں یہ برزخ ہی ہے جو اسے جمعیت حو اس مہیا کرتا ہے بالخصوص اگر بر زخ ادب خواہ ہو تو اس (برزخ کی) وہمی یا تحقیقی صورت دیکھتے ہی سالک پراس کے حضور میں خشوع و خضوع طاری ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اس کی شان ہے کہ وہ ادب کا تقاضا کرتا ہے اور یہ بات بے حد فائدہ مند ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ سالک کے دل میں ان معانی کے واسطے جو اس برزخ میں ودیعت کئے گئے ہیں زبردست اشتیاق پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ خیال کو جس شے کی طرف لگا دیا جائے وہ اسی کا رنگ ڈھنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خیال کی صفت&#8221; ہیولانی &#8221; ہے اور اس میں صورت کو قبول کرنے کی بے حد صلاحیت ہوتی ہے۔ چنانچہ مولانا رومی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں<br />
اے برادر، تو ہمیں اندیشہٖ ما بقی ، تو استخوان و ریشہٖ<br />
اسے بھائی، تو وہی کچھ ہے جو تو خیال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہےوہ تو نہیں بلکہ محض ، ہڈیاں اور رگ و پٹھے ہیں ۔<br />
گر گل است. اندیشہ تو گلشنی در بود خارے تو ہیمہ گلخنی<br />
اگر تیرے خیال میں پھول بس رہا ہے تو تو گلشن ہے اور اگر کانٹا ہے تو پھر تو بھاڑکا ایندھن ہے ۔<br />
برزخ مخلوق ہو سکتا ہے۔ کیونکہ برزخ کے معنی واسطہ کے ہیں، دل اور مقصود کے درمیان مقصود جو انتہائے لطافت اور تنزہ کے باعث احاطہ ادر اک میں نہیں آسکتا۔ لہٰذا اس کے جمال کو جس شے میں حاضر کیا جاتا ہے ۔ وہ بزرخ ہے۔ ذرے سے لے کر آفتاب تک اور عرش سےے کر فرش تک (ہر شے) اس کی جلوہ گاہ ہے ۔ اگر چشم بینا ہے تو جس چیز پر نگاہ ڈالو گے وہی نظرآئے گا ۔ البتہ برزخوں میں تفاوت ہے۔ مثلا شیخ جن معانی کا مورث ہے وہ بات ہی کچھ اور ہے جو کنکر پتھر کے برزخ سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ ان چیزوں کا برزخ بالکل مختلف معنی کا مورث ہے۔<br />
بر نرخ جس قدر لطیف اور عقلی ہو گا اتنا ہی بہتر کام بنے گا۔ اس کے برعکس برزخ جتنا کثیف اور مرئی صورت کا حامل ہو گا کام اتنا ہی زبون اور خراب ہوگا، مشائخ کرام ہر سالک کی استعداد کے مطابق اس کے لئے برزخ مقرر فرماتے ہیں ، اس ناچیز کی رائے میں سالک کی حالت کو اچھی طرح دیکھنا چاہیئے کہ اس کے نفس میں کونسی شے زیادہ وقعت رکھتی ہے اور کیا چیز اس کی نگاہ میں جمال کی حامل ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی لڑکے پر عاشق ہے اور اس کی محبت میں والہ و شیدا ہے ۔ تو لا محالہ اس شخص کی نگاہ میں اس لڑکے کا جمال اپنے شیخ کے جمال سے بڑھ کر ہے ۔ اس لئے مناسب ہوگا کہ شیخ اس کے لئے اپنا برزخ تجویز نہ فرمائیں بلکہ اشغال و مراقبات میں اس لڑکے کا برزخ مقرر کریں کثرت اشغال سالک کو بتدریج اس بھنور سے بھی نکال لے گی اور تعلق صوری سے تعلق معنوی کی طرف لے جائے گی۔ ایک اور مثال ایسے شخص کی ہے جسے پھول اور چمن بہت پسند ہوں اور اس کی نگاہ میں ان سے بڑھ کر اور کوئی شے جمیل نہ ہو۔ اب ایسے شخص کے لئے شیخ اگر اپنے جمال کوبرزرخ مقرر کریں گے تو ان کا جمال وہ نتایج پیدا نہ کر سکے گا جو اس کی محبوب نے یعنی پھولوں اور پھلواریوں کے برزخ سے حاصل ہو سکتے ہیں۔ البتہ ، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا ہے ، اشغال کے باعث وہ بالآخر اس ورطہ سے نکل آئے گا۔ اسی طرح اوروں پر بھی قیاس کرلو ۔</p>
<h3>لقمہ حرارت باطنی</h3>
<p>حبس نفس، حصر نفس، ذکر دو ضربی ، چار ضربی شش ضربی اورذکر حدادی و غیره جو شدید حرکات پر مشتمل ہیں ، ان سب کا مقصد باطن میں حرارت پیدا کرنا ہے ۔ یہ حرارت عشق اور اشتیاق کو جنم دیتی ہے اس سے سالک میں ایک جوش و خروش پیدا ہوتا ہے اور اس کے دل میں محبت کی اگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نوجوانوں میں ذکر سے بہت جلد فایدہ ظاہر ہوتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوفی تیس برس کے بعد سرد ہو جاتا ہے ۔<br />
البتہ بچپن میں ذکر کی تلقین نہیں کرتے کیونکہ ذکر کی حرارت جلا دیتی ہے۔ جب بلوغت کو پہنچ جائے تو پھر یہ تلقین روا ہے، جوانی کے ایام میں سالک جتنی محنت و مشقت کر سکتا ہے وہ بڑھاپے میں ممکن نہیں ہے۔ شہود اور کشف جو اوائل عمر میں ہو گا وہ آخری عمر میں نہیں ہو سکتا۔ شیخ نظام الدین نارنولی علیہ الرحمہ ایسے سرد خون صوفیوں کو تخم پنواڑ کھانے کو فرمایا کرتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ نباتی دواؤں سے ان لوگوں کے اندر سوزش اور گرمی پیدا ہو ۔</p>
<h3>لقمہ صوت سرمدی</h3>
<p>گذشته اشغال داذ کار میں جو حرکت قلب ، صوتِ سرمدی اور توالی انفاس( یعنی سانسوں کی پیہم آمد و رفت) و غیرہ کو اختیار کیا گیا ہے ، اس میں یہ راز ہے کہ یہ تمام امور اس علم کو جو تقرب و تو اصل کا موجب ہے ، اپنی معیاریت(مراد شمولیت ۔ سونے،چاندی کے سکے یا زیورات وغیرہ بنانے میں ان دونوں قیمتی دہاتوں کے ساتھ ایک خاص مقدار میں کمتر درجے کی دہاتوں، مثلاً تا نبا وغیرہ کا شامل کرنا ضروری ہوتا ہے تا کہ مطلوبہ شے پائیدار ہو اور اس کی شکل وصورت قائم رہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو سونا یا چاندی اپنی طبعی نرمی کے باعث دستگارکی بنائی ہوئی صورت کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ لہذا زیورات وغیرہ میں دو قسم کے اجزا ہوتے یعنی ایک جز قیمتی دھات (سونا یا چاندی) کا اور دوسرا جزو ملاوٹ کا ۔ اصطلاحاً انہی اجزا میں سے اول الذکر کو&#8221; عیار&#8221; اور موخرالذ کر کو &#8220;معیار&#8221; کہا جاتا ہے۔ گویا معیار بمنزلہ ایک ظرف یا برتن کے ہے جو عیار کو اپنے وجود کے ساتھ سنبھالتا یا محفوظ رکھتا ہے ۔ ایک کمتر دہات کی کسی قیمتی دہات کے ساتھ اس مقصد کے لئے شمولیت یا ملاوٹ اس کی معیاریت کہلاتی ہے ۔ مندرجہ بالا عبارت میں بھی یہی صورت حال ہے۔ یعنی حضرت مصنف علیہ الرحمہ نے اشتغال و اذکار کو عیار اور حرکت قلب وغیرہ کو معیار قرار دیا ہے) سے دائم الو قوع بنا دیتے ہیں چونکہ ان امور کا دوام اور اتصال ثابت ہے لہذا جس شے کا یہ معیار ہوں گے وہ شے بھی دائم الوقوع ہوگی ۔ ان امور دائمی کے علاوہ اگر چہ ان کے مثل اور امور بھی ہیں جن کومعیار بنایا جاسکتا ہے جیسے افلاک اور نجوم کی حرکت یا تجدد امثال(تعینات کی صورتوں کا جدید ہوتے رہنا، انسان پر ہر آن فنا و بقا کی کیفیات طاری ہوتے رہنا اور باوجود ان تغیرات کے اصل حقیقت وجود باقی رہنا) یا دریا سمندر کا پانی کہ یہ دائمی ہیں لیکن اس میں یہ بات ہے کہ یہ امور چونکہ آدمی کے جسم سے الگ اور خارج ہیں اس لئے اس کی توجہ سے بہت بعید ہیں ۔ ان کی طرف متوجہ ہونا ، آدمی کے اپنے اندر توجہ کرنے کے برابر نہیں ہو سکتا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے (اور وہ یہ کہ آدمی کے اپنے اندر بھی تو تجدد امثال کا سلسلہ جاری ہے) یعنی ہرلمحہ اور ہرآن آدمی کا رنگ معدوم ہو جاتا ہے اور پھر اس کا مثل عدم سے وجود میں آجاتا ہے۔ یہ بھی دوام کے ساتھ ہو رہا ہے تو پھر اس تجد دامثال کو اس علم کا معیار کیوں نہیں بنایا جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ الوان یا رنگوں کا تعلق آنکھ سے ہے اور مراقبات ، بلکہ اذکار میں بھی، آنکھوں کو بند رکھنا نہ صرف سود مند بلکہ نہایت ضروری ہوتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ تجدد( جو وجود انسانی میں واقع ہو رہا ہے ) بدیہی نہیں ، نظری ہے۔ کئی کمزور قسم کے مقدمات قائم کرنے کے بعد اگر ہم اس مطلب کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو یہ محض ایک ظنی ثبوت ہوگا۔</p>
<h3>لقمہ غلبہ شوق</h3>
<p>وہ نغمہ آتشیں جو سالک کی نہاد (خصلت)میں خوابیدہ ہے ، فرط محبت سے بھڑک اٹھتا ہے شروع شروع میں گریہ وزاری اور بیقراری کا اظہار ہوتا ہے ، تند و تیز حرکات اس سے سرزد ہوتی ہیں اورآنکھ ، ناک اور منہ سے رطوبات جاری ہو جاتی ہیں۔ یہ درد کا عالم ہے یہ کثرت ذکر سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ مقام تحیر میں پہنچ جاتے ہیں وہ فراق سے نہیں روتے ۔ ان کا رونا تو و صال میں ہوتا ہے وصال میں وہ لوگ ان امور پر روتے ہیں جو ان سے چھوٹ گئے ہوں یا جن کا تعلق عشق کے معاملات سے ہو۔ دونوں میں ایک فرق یہ بتایا جاتا ہے کہ عین وصل میں رونے والوں کے آنسو میٹھے ہوتے ہیں جب کہ درد فراق سے رونے والوں کے آنسو نمکین اور تلخ ہوتے ہیں۔ یہ ( واصلین ) جب رقص کرتے ہیں تو ان کی حرکات بہت سبک ہوتی ہیں اور ان میں ایک ملائم اور موزونیت پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ اکثر لحن کے وزن پر رقص کرتے ہیں ۔ اسے &#8220;نواطق روحانی“ کہا جاتا ہے ۔ یہ ان کے انشراح صدر اور خوش وقتی کی دلیل ہے۔ اگر چہ عوام اس قسم کے رقص کو معتبر نہیں گنتے اور سماع ہاجم سے انشراح حاصل کرتے ہیں لیکن خواص اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی حرکت (یعنی رقص ) کا سر چشمہ کیا ہے یعنی یہ &#8221; سجود قلب “ ہے ۔<br />
مجلس میں جو شخص سب سے پہلے رقص کے لئے اٹھتا ہے اور جو کچھ وہ رقص میں کرتا ہے اس کی بنا یہ پھر مجلس کا جو بھی رنگ ہواس کی ذمہ داری اسی پر ہوتی ہے۔ اگر یہ خیر ہے تو اس کے ذمہ )خیر ہے اور اگر شر ہے تو شر ۔ سلطان المشایخ فرمایا کرتے تھے کہ اگر صوفی کی پیٹھ زمین پر لگ جائے تواسے چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو یا اپنے لباس کو قربان کر ڈالے ۔<br />
امام قشیری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ حرکت جس کسی سے بھی صادر ہو، خواہ وہ مبتدی ہو، متوسط ہو یا منتہی ، اس کے حال میں اس سے کچھ نہ کچھ نقصان ضرور آئے گا۔ لہٰذا جب تک ہجوم و غلبہ نہ ہو اپنی جگہ سے نہ ہلے اور یہاں تک ہو سکے ، ثابت و راسخ رہے ۔<br />
الحمد لله که یہ رسالہ آخرماه ذی الحجہ 1101ھ میں اختتام کو پہنچا۔ اب میں نہایت خلوص اور صدق دل کے ساتھ بدرگاہ رب العالمین دعاکرتاہوں کہ اے میرے پروردگار تومیری ان ناچیز تصنیف کو مقبول خلائق بنااور کاہل الوجود اور بد نام کندہ ہاتھوں سے محفوظ ومعنون رکھ اور یہ میں مانگتاہوں تیرےحبیب پاک سید الابرار والہ الاطہار کی طفیل سے صلی اللہ علی رسول خیر خلقہ محمد وآلہ وبارک وسلم . آمین ! تمت بالخير &#8211;</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2584-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d8%25b1%25d8%25aa-%25d9%2582%25d8%25b7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25b4%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%2F&#038;title=%DA%A9%D8%B4%DA%A9%D9%88%D9%84%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%D9%85%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d9%82%d8%b7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%b4%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/" data-a2a-title="کشکول کلیمی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b4%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d9%82%d8%b7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%b4%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%84%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
