<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>باطنی توبہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 03 Jul 2022 00:46:46 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>باطنی توبہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>توبہ اور تلقین کا بیان فصل5</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 03:17:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[باطنی توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[جہاد اکبر]]></category>
		<category><![CDATA[خواص کی توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ظاہری توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[علم باطن]]></category>
		<category><![CDATA[علم ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے باطن]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[عوام کی توبہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4912</guid>

					<description><![CDATA[یاد رکھیئے مذکوره مراتب سچی توبہ اور تلقین مرشد کے بغیر ہاتھ نہیں آتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔  وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى (الفتح:26)اور انہیں استقامت بخش دی تقوی کے کلمہ پر۔ &#160;اس سے مراد یہ ہے کہ کلمہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>یاد رکھیئے مذکوره مراتب سچی توبہ اور تلقین مرشد کے بغیر ہاتھ نہیں آتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ </p>



<p><strong>وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى</strong> (الفتح:26)اور انہیں استقامت بخش دی تقوی کے کلمہ پر۔</p>



<p>&nbsp;اس سے مراد یہ ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کسی ایسے مرشد کامل سےلے جس کا دل پاک و صاف ہو اور اس دل میں اللہ کے سواء کسی اور کابسیرا نہ ہو۔ اس سے مراد وہ کلمہ نہیں جو عوام الناس کی زبان پر جاری ہو تا ہے۔ اگر چہ عوام اور خواص کے کلمے کے الفاظ تو ایک جیسے ہیں لیکن ان کے معانی میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ دل توحید کا بیج جب کسی زندہ دل سے اخذ کر تا ہے تواس کا دل بھی زندہ ہو جاتا ہے اور ایسابیج کامل بيج بن جاتا ہے۔ ایک نامکمل بیج کبھی نہیں اگ سکتا۔ اس لیے کلمہ توحید کے بیج کا تذکرہ قرآن کریم میں دو جگہ آیا ہے۔</p>



<p>&nbsp;ایک تو ظاہر ی قول(زبان سے اقرار) کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ</strong> (الصافات:35)جب انہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا ۔ یہ کلمات عوام کے حق میں نازل ہوئے۔</p>



<p>اور دوسرے علم حقیقی &nbsp;(اللہ کی معرفت &nbsp;کا علم حاصل کرنےکے بعد توحید کا زقرارتصدیق بالقلب &nbsp;)کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے :&nbsp;</p>



<p><strong>فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ </strong>(محمد:19) پس آپ جان لیں کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور دعامانگا کریں کہ اللہ آپ کو گناہ سے محفوظ رکھے نیز مغفرت طلب کریں مومن مردوں اور عورتوں کیلئے۔</p>



<p>یہ آیت اپنے شان نزول کے سبب خواص کی تلقین کے لیے نازل کی گئی ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">تلقین ذکر</h2>



<p>بستان شریعت میں ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے بارگاہ نبوت میں قریب ترین، آسان اور افضل راستے کی تمنا ظاہر کی وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں نبی کریم ﷺنے وحی کا انتظار فرمایا حتی کہ جبرائیل امین حاضر&nbsp;ہوئے اور کلمہ طیبہ لا الہ الا للہ کی تین بار تلقین کی ۔ حضور ﷺنے اس کلمے کو دھرایا اور پھر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو اس کی تلقین فرمائی ، پھر آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لے گئے انہیں بھی تلقین&nbsp;کی اور فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>رَجَعْنَا مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ</strong>ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ آئے“&nbsp;</p>



<p>یہاں جہاد اکبر سے مراد نفس کے خلاف جہاد ہے۔ جیسا کہ ایک اور&nbsp;حدیث میں فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>أَعْدَى أَعْدَائِك نَفْسُك الَّتِي بَيْنَ جَنْبَيْك</strong> تیر اسب سے بڑا دشمن تیر اپنانفس ہے جو تیرے پہلو میں ہے“ </p>



<p>تو اس وقت تک اللہ تعالی کی کامل محبت حاصل نہیں کر سکتا جب تک اپنے اندر نفس امارہ،( جو نفس بشری شہوانی طبیعت کے تقاضوں کا مطیع و فرمانبردار ہو نفس امارہ کہلاتا ہے۔ نفس امارہ اوامر و نواہی کی کچھ پرواہ نہیں کرتا اور لذات نفسانی میں&nbsp;منہمک رہتا ہے) نفس لوامہ اور نفس ملہمہ(ایسا نفس الہام خداوندی سے بھلائی کے کام کرتا ہے۔لیکن بتقاضا&nbsp;طبیعت اس سے برے کام بھی ہو جاتے ہیں) کو شکست فاش نہیں دے لیتا۔ نفس شکست کھا گیا توگویا تو اخلاق ذمیمہ سے پاک صاف ہو گیا۔ میری مراد اخلاق حیوانیہ مثلا کھانے پینے اور سونے میں زیادتی، لغو و بیہودہ گفتگو اخلاق شنیعہ مثلا غصہ ، گالی گلوچ، لڑنا جھگڑنا۔&nbsp;</p>



<p>اخلاق شیطانیہ مثل کبر و نخوت، حسد و کینہ وغیرہ اس کے علاوہ اور بھی&nbsp;بہت سے اخلاق ذمیمہ ہیں۔ یہ تمام نفس سے تعلق رکھتے ہیں خواہ بدنی ہو یا قلبی ۔ جب انسان ان اخلاق ذمیمہ سے پاک ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ گناہوں سے واقعی پاک ہو چکا ہوتا ہے۔ اور اس کا شمارمتطہرین اورتوابین میں ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ .&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ </strong>(البقرہ:222)</p>



<p>بیشک اللہ تعالی دوست رکھتا ہے بہت توبہ کرنے&nbsp;والوں کو اور دوست رکھتا ہے صاف ستھرارہنے والوں کو“&nbsp;</p>



<p>ظاہری گناہوں سے توبہ کرنے والے اس آیت کا مصداق نہیں ہیں۔ اگر چہ وہ تائب ہیں لیکن وہ توٗ اب نہیں ہیں۔ کیونکہ تواب مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس </p>



<p>سے مراد خواص کی توبہ ہے۔</p>



<p>ظاہری گناہوں سے توبہ کرنے والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے جو گھاس کو کاٹ دیتا ہے جڑ سے اکھیٹر تا نہیں۔ ظاہر ہے یہ گھاس دوبارہ اگے گی&nbsp;اور پہلے سے زیادہ اگے گی۔&nbsp;</p>



<p>تواب کی مثال گھاس کو جڑ سے اکھیڑنے والے کی ہے۔ یہ گھاس دوباره نہیں اُگے گی اگر اُگ بھی آئی تو معمولی سی ہو گی جسے بہ آسانی اکھیٹرا جا سکتا ہے۔ تلقین ایک ایسا آلہ ہے جو مرید کے دل سے غیر اللہ کو کاٹ ڈالتا ہے کیونکہ کڑوا&nbsp;درخت کاٹ کر ہی اس کی جگہ میٹھے پھل کا درخت لگایا جا سکتا ہے۔ اس بات میں غور و فکر کرو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ</strong> (شوری:25)</p>



<p>اور وہی ہے جو توبہ قبول کر تا ہے اپنے بندوں کی اور درگزر&nbsp;کر تا ہے ان کی غلطیوں سے۔</p>



<p>&nbsp;ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا</p>



<p>&nbsp;<strong>إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ</strong> (الفرقان:70 )</p>



<p>وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو یہ وہ لوگ ہیں بدل دے گا الله تعالی ان کی برائیوں کو نیکیوں سے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">اقسام توبہ</h2>



<p>&nbsp;توبہ کی دو قسمیں ہیں۔ توبہ عام اور توبہ خاص ۔</p>



<p>&nbsp;توبہ عام تویہ ہے کہ انسان گناہ کو چھوڑ کر اطاعت کی طرف آجائے۔ اخلاق ذمیمہ کو ترک کر کے اخلاق حمیدہ کو اپنائے۔ جہنم کی راہ سے ہٹ کر جنت کے راستے پر چل دے۔ آرام و آسائش کی عادت کو چھوڑ کر ذکر و فکر اور مجاہدہ و ریاضت(دل کو طبیعت کے تقاضوں اور اس کی خواہشات سے پاک کرنا) کے ذریعے نفس کو مطیع کرنے کی کو شش کرے۔ (یہ عوام الناس کی توبہ ہے)</p>



<p>&nbsp;توبہ خاص یہ ہے کہ انسان عوام کی توبہ کو حاصل کر لینے کے بعد حسنات سے معارف کی طرف، معارف سے درجات کی طرف ،درجات سے قربت (اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے) کی طرف، قربت و لذات نفسانیہ سے لذات روحانیہ کی طرف لوٹے۔ خواص کی توبہ گویا تر ک ماسوا اس سے انس اور اس کی طرف یقین کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہ تمام چیزیں وجود کے کسب سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور وجود کاکسب گناہ ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ <strong>‌وُجُودُكَ ‌ذَنْبٌ لَا يُقَاسُ بِهِ ذَنْبُ </strong>تیر اوجود گناہ (حجاب)ہے اس(بشریت) سے بڑے گناہ کا قیاس بھی نہیں کیا جاسکتا ۔( دیکھنے والوں کی نظر کے لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بشریت آپ ﷺ کی حقیقت کے لیے حجاب بن گئی دیکھنے والے اس بشریت کے پیچھے آپ کی حقیقت کو نہ دیکھ سکے جیساکہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے<strong>وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ</strong> اور آپ کو ایسا لگتا ہے کہ گویا وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ بصارت سے محروم ہیں) عرفاء کہتے ہیں کہ ابرار کی حسنات مقربین کی سیئات ہیں اور مقربین کی سیئات ابرار کی حسنات ہیں اسی لیے حضورﷺروزانہ سو بار استغفار کرتے جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے۔ .&nbsp;</p>



<p><strong>وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ </strong>(محمد: 19&nbsp;)اور استغفار کیا کریں کہ اللہ تعالی آپ کو گناہ سے محفوظ رکھے“&nbsp;</p>



<p>یہاں گناہ سے مراد وجود کا گناہ ہے۔ اسی کا نام انابت ہے کیونکہ انابت ماسوا اللہ کو چھوڑ کر اللہ کا ہو جانا آخرت میں قربت کے واسطے میں داخل ہو نا اور اللہ تعالی کی ذات گرامی کا دیدار حاصل کرنا ہے جیسا کہ حضور ﷺنے فرمایا:&nbsp;</p>



<p><strong>إن لله عبادا أبدانهم في الدُّنْيَا وَقُلُوبُهُمْ تحت العرش</strong> اللہ تعالی کے ایسے بندے بھی ہیں جن کے بدن تو دنیا میں ہیں لیکن ان کے دل تحت العرش ہوتے ہیں ۔</p>



<p>اللہ تعالی کا دیدار اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ ہاں صفات خداوندی کے عکس کودل کے آئینے میں دیکھناممکن ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p>: ”میرے دل نے اپنے رب کا دیدار کیا یعنی میرے رب کے نور کے ساتھ ۔ پس دل جمال خداوندی کے عکس کو دیکھنے کا آئینہ ہے۔ یہ مشاہدہ مرشد کامل کی تلقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا&nbsp;۔ مگر ضروری ہے کہ شیخ واصل بحق ہو اور اس کا سلسلہ طریقت آخر تک متصل ہو۔ وہ حضورﷺکے واسطہ سے اور اللہ تعالی کے حکم سے ناقصوں کی تکمیل کے لیے مقرر کیا گیا ہو (صاحب خلافت ہو)&nbsp;</p>



<p>اولیاء خواص کے لیے بھیجے جاتے ہیں عوام کے لیے نہیں۔یہی فرق ہے ولی اورنبی میں نبی عام و خاص ہر ایک کے لیے مستقل بنفسہ&nbsp;مبعوث ہوتا&nbsp;ہے یعنی ولی مرشد صرف خواص کے لیے بھیجا جاتا ہے اور وہ مستقل بنفسہ نہیں ہو تا۔ ولی کو ہر حال میں اپنے نبی کی اتباع کرنا ہوتی ہے۔ اگر وہ استقلال بنفسہ کا دعوی کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔ حضور ﷺنے اپنی امت کے علماء کو انبیاء بنی اسرائیل جیسا فرمایا ہے۔ کیو نکہ انبیاءبنی اسرائیل حضرت سیدنا موسی علیہ السلام کی شریعت کی اتباع کرتے تھے۔ یعنی ان کے علماء دین کی تجدید کرتے اور نئی شریعت لائے بغیر اسی شریعت کے احکام کی تاکید کرتے۔ اسی طرح اس امت&nbsp;کے علماء جنہیں منصب ولایت پر فائز کیا گیا ہے خواص کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ وہ امر و نہی کی تجدید کریں۔ اور تاکید و تبلیغ، اصل شریعت کے تزکیہ کے ذریعے عمل میں استحکام پیدا کریں۔ تصفیہ اور تزکیہ سے مراد دل کی پاکیزگی ہے۔ دل معرفت کا محل ہے۔ یہ لوگ حضور (کے علم کے ذریعے خبر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اصحاب صفہ<a>(وہ</a> صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ&nbsp;کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے&nbsp;اسلامی تعلیمات کا بہت سا حصہ انہیں کے ذریعے روایت ہوا) معراج سے پہلے اسرار معراج بتایا کرتے تھے۔ امت محمدیہ کا کامل&nbsp;ولی وہی ہے جس کو یہ نور عطا کیا گیا ہو۔ یہ نور نبوت کا ایک جزو ہے اور ولی اللہ کے دل میں اللہ تعالی کی امانت ۔ عالم وہ نہیں جس کے پاس صرف ظاہری علم ہو۔ اگر چہ ظاہر کی عالم بھی وراثت نبوت کا حقدار ہے یعنی اس کی حیثیت ذوی الارحام(بہن بھائی جن کی ماں مشترک باپ مختلف ہوصرف ظاہری علم کے وارث) کی سی ہے۔ کامل وارث وہ ہے جو بیٹے(ماں باپ ایک ہوںظاہری وباطنی علم کے وارث) کی جگہ ہو۔بچہ اپنے والد کا ظاہر و باطن میں راز ہو تا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺنے فرمایا</p>



<p><strong>إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ كَهَيْئَةِ الْمَكْنُونِ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا الْعُلَمَاءُ بِاللَّهِ، فَإِذَا نَطَقُوا بِهِ أَنْكَرَهُ أَهْلُ الْغِرَّةِ بِاللَّهِ</strong>علم ایک چھپی ہوئی چیز کی مانند ہے جسے صرف علماء باللہ ہی جانتے ہیں۔ جب وہ اس علم کو زبان پر لاتے ہیں تو غافل لوگوں کے سواء کوئی انکار نہیں کرتا&nbsp;۔</p>



<p>یہی وہ راز ہے جو معراج کی رات اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺکے قلب اطہر میں ودیعت فرمایا تھا۔ علم کے جو تیس ہزار باطن ہیں۔ ان میں سے یہ آخری باطن ہے۔ نبی کریم نے اس راز سے اپنے مقربین صحابہ اور اپنے اصحاب صفہ (وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے اسلامی تعلیمات کا بہت سا حصہ انہیں کے ذریعے روایت ہوا) علیہم الرضوان کے علاوہ کسی عامی کو آگاہ نہیں فرمایا۔ اللہ تعالی ان مقربین بارگاہ کی برکتوں سے ہمیں مستفیض فرمائے اور ان کی نیکیوں اور احسانات کی بارش سےہمیں سیراب کرے۔ آمین یارب العالمین۔&nbsp;</p>



<p>علم باطن اسی راز کی طرف رہنمائی کر تا ہے۔ تمام علوم و معارف اسی راز کا چھلکا ہیں۔ جو علمائے ظاہر ہیں وہ بھی اس راز کے وارث ہیں۔ بعض کی حیثیت صاحب الفروض کیا ہے۔ بعض کی عصبات اور بعض کی ذوی الارحام کیا۔ یہ لوگ علم کے چھلکے کو دعوت الی سبیل اللہ کے ذریعے پھیلا رہے ہیں یہ مواعظ حسنہ سے کام لیتے ہیں یعنی مشائخ اہل سنت جن کا سلسلہ طریقت مولا علی رضی اللہ عنہ&nbsp;سے ملتا ہے وہ علم کے مغز کے وارث ہیں۔ انہیں باب مدينۃ العلم کی وساطت سے یہی علم ارزانی ہوا ہے یہ لوگ حکمت کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے&nbsp;ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ </strong>(النحل:125)اے محبوب بلایئےلوگوں کو اپنے رب کی راہ کی&nbsp;طرف حکمت سے اور عمدہ نصیحت سے اور ان سے بحث (ومناظرہ) اس انداز سے مجھے جو بڑا پسندیدہ اور شائستہ ہو“&nbsp;</p>



<p>علماء ظاہر اور علماء باطن کی گفتگو تو ایک جیسی ہوتی ہے یعنی فروعات میں فرق ہوتا ہے۔ یہ تینوں معانی حضورﷺمیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر کسی اور کو عطا نہیں کیے گئے۔ ان معانی کو تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔</p>



<p>&nbsp;1۔ پہلی قسم :۔&nbsp;علم کا مغز ہے۔ یہ علم حال ہے۔ یہ علم صرف مردان با صفا کو عطا&nbsp;ہوتا ہے جن کی ہمت کی تعریف حضور ﷺنے فرمائی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>هِمَّةُ الرِّجالِ تَقْلَعُ الجِبالَ</strong> مردوں کی ہمت پہاڑوں کو اکھیڑپھینکتی ہے </p>



<p>یہاں پہاڑوں سے مراد قساوت قلبی ہے جو بندگان خدا کی دعا اور تضرع&nbsp;سے محو ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا </strong>(البقرہ:269)</p>



<p>”اور جسے عطاکی گئی دانائی تو یقیناً اسے دے دی گئی بہت بھلائی&nbsp;</p>



<p>2۔ دوسری قسم :۔&nbsp;اس مغز کا چھلکا ۔ یہ علماء ظاہر کا حصہ ہے اور اس سے مراد موعظت&nbsp;حسنہ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔&nbsp;</p>



<p><strong>الْعَالِمُ يَعِظُ بِالْعِلْمِ وَالْأَدَبِ وَالْجَاهِلُ يَعِظُ بِالضَّرْبِ وَالْغَضَبِ</strong>عالم علم اور ادب کے ذریعے سمجھاتا ہے جبکہ جاہل مار پیٹ&nbsp;اور ناراضگی سے۔</p>



<p>&nbsp;3۔ تیسری قسم :۔&nbsp;یہ چھلکے کا بھی چھلکا ہے۔ یہ حصہ<strong> </strong>امراء کو دیا جاتا ہے۔ وہ عدل ظاہر کی اور&nbsp;سیاست ہے جس کی طرف قرآن نے بایں الفاظ اشارہ کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ</strong> (النحل:125)&nbsp;یہ لوگ اللہ تعالی کی صفت قہر کے مظاہر ہیں۔</p>



<p>&nbsp;یہ نظام دین کی حفاظت کا سبب بنتے ہیں۔ جس طرح کہ سفید چھلکا اخروٹ کی حفاظت کرتا ہے۔ ظاہری علماء کا مقام سرخ اور سخت چھلکے کی مانند ہے اور فقرائے صوفياء عار فین مغز ہیں جو درخت اگانے کا اصل مقصود ہو تا ہے۔ یہی لب لباب ہے۔ اسی لیے حضور ﷺنے ارشاد فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>يَا بُنَيَّ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ الْعُلَمَاءِ، وَاسْتَمِعْ كَلَامَ الْحُكَمَاءِ، فَإِنَّ اللهَ يُحْيِي الْقَلْبَ الْمَيِّتَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ كَمَا يُحْيِي الْأَرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ الْمَطَرِ</strong>علماء کی مجلسوں میں بیٹھو اور علماء کا کلام سنو۔ کیونکہ اللہ تعالی نور حکمت سے مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے جس طرح مردہ زمین کو بارش کے پانی سے زندہ کر دیتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;ایک اور حدیث پاک میں ہے۔ <strong>كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ كُلِّ حَكِيمٍ، وَإِذَا وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا</strong>”دانائی کی بات عقلمند آدمی کی گویاگمشدہ چیز ہے وہ اسے جہاں ملتی ہے حاصل کر لیتا ہے“&nbsp;</p>



<p>لوگوں کی زبانوں پر جاری کلمہ (لا الہ الا الله محمد رسول الله) لوح محفوظ سے نازل ہوا ہے۔ لوح محفوظ عالم الجبروت(عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں) کے درجات سے ہے۔ اور&nbsp;جو کلمہ واصلین کی زبانوں پر جاری ہے وہ لوح اکبر سے بلا واسطہ زبان قدرت کے ذریعے قربت میں نازل ہوا ہے۔ ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ اسی لیے اہل تلقین (مرشد کامل) کی تلاش فرض ہے جیسا کہ حضور ﷺنے فرمایا</p>



<p><strong>طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ</strong>علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے“&nbsp;</p>



<p>حدیث پاک میں علم سے مراد علم معرفت و قربت ہے۔ باقی علوم ظاہرہ کی ضرورت اتنی ہے کہ انسان فرائض کوبجالا سکے جیسا کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p><strong>حياةُ القلبِ علمٌ فادَّخرهُ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وموت القلب جهلٌ فاجتَنِبْهُ</strong></p>



<p><strong>وخيرُ مراددِكَ التَّقوَى فَزِدْهُ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; كفاكَ بماوَعَظتُكَ فاتَّعِظْهُ</strong></p>



<p>&nbsp;دل کی زندگی علم ہے۔ اسے ذخیرہ کرلے۔ اور دل کی موت جہالت ہے&nbsp;اس سے دامن بچالے۔</p>



<p>&nbsp;تیری بہترین مراد تقوی ہے اس میں اور اضافہ کر۔ میری یہ نصیحت تیرے لیے کافی ہے پس اسے پلےباندھ لے۔&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى</strong> (البقرہ: 197)</p>



<p>اور سفر کا توشہ تیار کرو اور سب سے بہتر توشہ تو پرہیز گاری ہے“&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی کی رضا اس میں ہے کہ بندہ قربت کی طرف سفر کرے اور&nbsp;</p>



<p>در جات (ثواب( کی طرف ملتفت نہ ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ</strong> (الکہف :30) بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے“&nbsp;اور فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى </strong>(الشوری:23) آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا اس(دعوت حق پر) کوئی&nbsp;معاوضہ بجز قرابت کی محبت کے</p>



<p>&nbsp;ایک قول کے مطابق المودة فی القربی کا معنی عالم قربت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔) ہے۔&nbsp;</p>



<p>      <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ46 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>      </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/" data-a2a-title="توبہ اور تلقین کا بیان فصل5"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اهل تصوف کے بیان میں فصل6</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 27 Dec 2021 16:11:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[باطنی توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف کی وجہ تسمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفاء سری]]></category>
		<category><![CDATA[صفاء قلبی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4907</guid>

					<description><![CDATA[اہل تصوف کی وجہ تسمیہ یا تو یہ ہے کہ وہ نور معرفت و توحید سے اپنے باطن کا تصفیہ کرتے ہیں۔ یا یہ کہ وہ اصحاب صفہ (وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اہل تصوف کی وجہ تسمیہ یا تو یہ ہے کہ وہ نور معرفت و توحید سے اپنے باطن کا تصفیہ کرتے ہیں۔ یا یہ کہ وہ اصحاب صفہ (وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے اسلامی تعلیمات کا بہت سا حصہ انہیں کے ذریعے روایت ہوا) جیسی (فقیرانہ) زندگی گزارتے ہیں یا پھر یہ کہ وہ صوف (اون) کا لباس زیب تن کرتے ہیں۔ مبتدی(وہ سالک&nbsp; جو ابھی راہ سلوک کی ابتداء میں ہو) &nbsp;بھیڑ کی اون کا لباس پہنتا ہے۔ متوسط بکری کی اون کا اور منتہی(وہ سالک&nbsp; جو راہ سلوک کی انتہاء &nbsp;پر پہنچ چکا ہو) پشم کا لباس پہنتا ہے۔ حسب مراتب احوال ان کے باطن کی حالت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں بھی باہم تفاوت ہوتا ہے۔ تفسیر مجمع البيان کے مصنف لکھتے ہیں : اہل زہد کو چاہیئے کہ وہ لباس اور کھانے پینے میں سخت چیزوں کا استعمال کریں۔ اصل معرفت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نرم چیزیں استعمال میں لائیں۔ لوگوں کا اپنے مراتب و منازل&nbsp;سے فروتر ہو کر رہنا سنت ہے تاکہ کسی طریقے میں حد سے تجاوز نہ ہو جائے۔ اہل تصوف کی چوتھی وجہ تسمیہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت احدیت ( اللہ تعالی کی ذات یکتا) میں پہلی صف کے لوگ ہیں۔&nbsp;</p>



<p>تصوف کا لفظ چار حروف پر مشتمل ہے۔ تاء ، صاد، وا ؤ، فا۔&nbsp;</p>



<p>تا:۔توبہ کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں ، ظاہر کی توبہ اور باطن کی توبہ ظاہر کی توبہ یہ ہے کہ انسان اپنے تمام ظاہری اعضاء کے ساتھ گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے اطاعت و انقیاد کی طرف لوٹ آئے اور قولاً و فعلاً مخالفات کو ترک&nbsp;کر کے موافقات کو اپنائے۔&nbsp;</p>



<p>باطنی توبہ یہ ہے کہ انسان باطن کے تمام اطوار کے ساتھ مخالفات باطنیہ سے موافقات کی طرف آجائے اور دل کو صاف کر لے۔ جب اخلاق ذمیمہ ، اخلاق حسنہ میں تبدیل ہو جائیں تو تاء کا مقام( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا) مکمل ہو جاتا ہے۔ اور ایسے شخص کو تائب کہتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;صاد :۔&nbsp;صفاء کو ظاہر کرتا ہے۔صفاکی دو قسمیں ہیں۔ صفاء قلبی اور صفاء سری۔&nbsp;</p>



<p>صفاء قلبی تو یہ ہے کہ انسان بشری کدورتوں سے اپنے دل کو صاف کر کے مثلا کثرت اكل وشرب، کثرت کلام، کثرت نوم جیسی دل سے تعلق رکھنے والی کدورتیں اور اسی طرح ملاحظات دنیوی مثلا زیادہ کھانے کی فکر ، زیادہ جماع، اہل و عیال کی زیادہ محبت اور اسی طرح کی دوسری نفسانی کدورتیں جن سے اللہ تعالی نے روک دیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>ان کدورتوں سے دل کو صاف کرنا ملازمت ذکر بغیر ممکن نہیں۔&nbsp;</p>



<p>شروع میں مرشد اپنے مرید کو ذکر بالجبر کی تلقین کرے تا کہ وہ مقام حقیقت تک پہنچ جائے جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ</strong></p>



<p>(الانفال:2( صرف وہی سچے ایماندار ہیں کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ&nbsp;تعالی کا تو کانپ اٹھتے ہیں ان کے دل“&nbsp;</p>



<p>یعنی ان کے دلوں میں خشیت پیدا ہو جاتی ہے تو ظاہر ہے خشیت صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے کہ دل غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں۔ اور ذکر خداوندی سے اس کا زنگ اتر جائے۔ خشیت کے بعد خیر وشر جوانی تک مخفی ہوتا ہے اس کی صورت دل پر نقش ہو جاتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے عالم نقش اٹھاتا ہے اور عارف اسےصیقل کرتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>رہی صفائے سری تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ماسوا اللہ کو دیکھنے سے اجتناب کرے اور اس کو دل میں جگہ نہ دے۔ اور یہ وصف اسمائے توحید( اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>) کا لسان باطن سے مسلسل ورد کرنے سے حاصل ہو تا ہے۔ جب یہ تصفیہ حاصل ہو جائے توصاد کا مقام پوراہو جاتا ہے۔</p>



<p>واؤ :۔واؤ ولایت کو ظاہر کرتی ہے۔ اور ولایت تصفیہ پر مرتب ہوتی ہے۔ جیسا&nbsp;کہ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ </strong>(یونس:62( خبردار ! بیشک اولیاء اللہ کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین&nbsp;ہوں گے“&nbsp;</p>



<p>ولایت کے نتیجے میں انسان اخلاق خداوندی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>‌تَخَلَّقُوا ‌بِأَخْلَاقِ ‌اللَّهِ تَعَالَى</strong> اخلاق خداوندی کو اپنالو“&nbsp;</p>



<p>یعنی صفات خداوندی سے متصف ہو جاؤ۔ ولایت میں انسان صفات بشری کا چولہ اتار پھینکنے کے بعد صفات خداوندی کی خلعت زیب تن کر لیتا ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِذا أَحبَبْتُ عَبْداً كنتُ لهُ سَمعاً وبصراً ويداً ولساناً ، فبِي يسمَعُ وبِي يُبْصرُ وبِي يَبْطشُ وبِي ينطِقُ وبي يَمشيِ</strong> جب میں کسی بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کے کان،&nbsp;آنکھ ، ہاتھ اور زبان بن جاتا ہوں۔ (اس طرح) وہ میری سماعت کے ذریعے سنتا ہے۔ میری بصارت کے ذریعے دیکھتا&nbsp;ہے۔ میری قوت سے پکڑتا ہے میری زبان قدرت سے گفتگو&nbsp;کرتا ہے اور میرے پاؤں سے چلتا ہے&nbsp;</p>



<p>جو آدمی اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے وہ ماسوای اللہ سے کٹ جاتا ہے ۔&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ</strong> (الاسراء:81(&nbsp;</p>



<p>اور آپ (اعلان فرما دیجئے آگیا ہے حق اور مٹ گیا ہے&nbsp;باطل۔ بیشک باطل تھاہی مٹنے والا۔</p>



<p>یہاں واؤ کا مقام مکمل ہو جاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہ حرف فناء فی اللہ کو ظاہر کرتا ہے۔یعنی غیر سے اللہ تعالی میں فناء ہو جانا جب بشری صفات فناء ہو جاتی ہیں تو خدائی صفات باقی رہ جاتی ہیں۔ اور خدائی صفات نہ فناء ہو تی ہیں نہ فساد کا شکار اور نہ زائل ہوتی ہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس عبد فانی رب باقی اور اس کی رضا کے ساتھ باقی بن جاتا ہے اور بنده فانی کا دل سر ربانی اور اس کی نظر کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلا وَجْهَهُ</strong>&#8221; (القصص:88(&nbsp;ہر چیزہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے&nbsp;۔</p>



<p>یہاں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اللہ کی رضا اور خوشنودی لی جائے۔ یعنی ساری چیزیں فانی ہیں سوائے ان اعمال صالحہ کے جن کو صرف اللہ تعالی کی رضاء اور خوشنودی کے لیے سرانجام دیا جائے۔ پس وہ راضی برضا ہو جاتا&nbsp;ہے اور یہی بقا ہے۔&nbsp;</p>



<p>عمل صالح کا نتیجہ حقیقت انسان کی زندگی ہے جسے طفل معانی (انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) کہتے&nbsp;ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ </strong>(فاطر:10( اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور نیک عمل پاکیزہ کلام کو بلند کر تاہے&nbsp;۔</p>



<p>ہر وہ کام جو غیر اللہ کے لیے ہو شرک ہے اور شرک کا مرتکب ہلاک ہونے والا ہے۔ جب انسان فناء فی اللہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو اسے عالم قربت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔) میں بقا حاصل ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ </strong>(القمر:55(</p>



<p>میری پسندیدہ جگہ میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے پاس&nbsp;(بیٹھے ( ہوں گے“ عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ&nbsp;نہیں پہنچ سکتے) میں یہی انبیاء و اولیاء کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جیسا کہ اللہ&nbsp;تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ </strong>(التوبہ:119( اور ہو جاسچے&nbsp;لوگوں کے ساتھ“ جب حادث(مخلوق) قدیم سے مل جاتا ہے تو حادث کا اپنا وجود نہیں رہتا کسی&nbsp;شاعر نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>‌صِفَاتُ ‌الذَّات والأَفْعَالِ طُرًّا&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قَدِيمَاتٌ مَصُونَاتُ ‌الزَّوالِ</strong></p>



<p>اللہ تعالی کی تمام صفات اور افعال قدیم ہیں جو زوال پذیر ہونے سے&nbsp;محفوظ ہیں۔&nbsp;</p>



<p>جب فناء(بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا) تمام ہو جائے تو صوفی حق&nbsp;کے ساتھ ہمیشہ کیلئے باقی بن جاتا&nbsp;ہے، قرآن کریم میں ہے :&nbsp;</p>



<p><strong>أَصْحَاب الْجَنَّة هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ </strong>(البقرہ:82( وہی جنتی ہیں۔ وہ اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں“&nbsp;</p>



<p>     <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ56 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>     </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&#038;title=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/" data-a2a-title="اهل تصوف کے بیان میں فصل6"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
