<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>بے خوفی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%A8%DB%92-%D8%AE%D9%88%D9%81%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 13 Jun 2023 11:18:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>بے خوفی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>باہمت شخص.Bahimat Shakhsh</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%db%81%d9%85%d8%aa-%d8%b4%d8%ae%d8%b5/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%db%81%d9%85%d8%aa-%d8%b4%d8%ae%d8%b5/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 21:22:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[رومی]]></category>
		<category><![CDATA[بے خوفی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=887</guid>

					<description><![CDATA[مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ لومڑی کی بزدلی ضرب المثل ہے۔ لیکن&#160;جس لومڑی کی کمر پر شیر کا ہاتھ ہو کہ گھبرانا مت، میں تیرے ساتھ ہوں تو با وجودضعیف الہمت ہونے کے اس پشت پناہی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%db%81%d9%85%d8%aa-%d8%b4%d8%ae%d8%b5/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ لومڑی کی بزدلی ضرب المثل ہے۔ لیکن&nbsp;جس لومڑی کی کمر پر شیر کا ہاتھ ہو کہ گھبرانا مت، میں تیرے ساتھ ہوں تو با وجودضعیف الہمت ہونے کے اس پشت پناہی کے فیض سے اس قدر با ہمت ہو جائے گی کہ چیتوں کے ریوڑ سے بھی ہرگز خائف نہ ہوگی شیر پرنظر ہونے کی وجہ سے وہ دلیر ہوجائے گی۔ یہی حال اللہ تعالی کے خاص بندوں کا ہوتا ہے کہ وہ باوجود خستہ حال شکستہ تن اور فاقہ زدہ چہروں کے باطل کی اکثریت سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔&nbsp;</p>



<p>حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ ایک قلعہ کوفتح کرنے کے لئے تنہا اس قوت سے حملہ آور ہوئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ قلعہ ان کے گھوڑے کے پاؤں کے سامنے ایک ذرہ کے برابر ہے۔ قلعے والوں نے خوف سے قلعہ کا دروازہ بند کرلیا کسی کو بھی سامنے آنے ہی کی ہمت نہ ہوئی۔ بادشاہ نے وزیر سے مشورہ کیا کہ اس وقت کیا تدبیر کرنی چاہیے۔ وزیرنے کہا:”ہماری سلامتی اسی میں ہے کہ ہم جنگ کے تمام منصوبوں اور ارادوں کو ختم کر کے اس باہمت شخص کے سامنے شمشیر اور کفن لے کر حاضر ہو جائیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ بادشاہ&nbsp;نے کہا کہ آخر وہ تنہا ایک شخص ہی تو ہے تو پھر ایسی رائے مجھے کیوں دی جارہی ہے؟ وزیر نے کہا: آپ اس کی تنہائی کو بے وقعتی کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ ذرا آنکھ کھول کر قلعہ کو دیکھئے&nbsp;کہ سیماب کی طرح لرزاں ہے، اور اہل قلعہ کو دیکھئے کہ بھیڑوں کی طرح گردنیں نیچی کئے سہمے ہوئے ہیں۔یہ &nbsp;شخص اگر چہ تنہا ہے لیکن اس کے سینے میں جو دل ہے وہ عام انسانوں جیسا نہیں اس کی عالی ہمتی دیکھئے اتنی بڑی مسلح اکثریت کے سامنے تنہاشمشیر برہنہ لیے کس ثابت قدمی اور فاتحانہ انداز سے اعلان جنگ کر رہا ہے۔ (اللہ اکبر) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مشرق ومغرب کی تمام فوجیں اس کے ساتھ ہیں وہ تنہا جملہ لاکھوں انسانوں کے برابر&nbsp;</p>



<p>ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ قلعہ سے جوسپاہی بھی اس کے مقابلہ کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ وہ اس کے گھوڑے کی ٹاپ کے نیچے پڑا نظر آتا ہے۔ جب میں نے ایسی عظیم الشان انفرادیت دیکھ لی ہے، تو پھر اے بادشاہ! آپ کو اس اکثریت سے کچھ بھی نہ بن پڑے گا۔ آپ کثرت اعداد کا اعتبار نہ کریں اصل چیز جمعیت قلب“ ہے۔ جو اس شخص کے دل میں&nbsp;بے پناہ ہے۔یہ نعمت مجاہدات کے بعد تعلق باللہ کی برکت سے عطا ہوتی ہے۔ اس عطائے حق کوتم &nbsp;اس حالت کفر میں ہر گز حاصل نہیں کر سکتے لہذا فی الحال تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس جاں باز مردمومن کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور قلعہ کا دروازہ کھول دو۔ کیونکہ اس کے سامنے ہماری یہ ا کثریت بالکل بے کار ہے۔&nbsp;</p>



<p>نگاو مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں&nbsp;</p>



<p>جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں&nbsp;</p>



<p>مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ بعض اقلیت کے سامنے اکثریت کے تعطل اور ضعف کو ان چند مثالوں سے سمجھاتے ہیں۔ بے شمار ستارے روشن ہوتے ہیں لیکن ایک خورشید عالم تاب کا ظہور سب کو ماند کالعدم کردیتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>بے شک چو ہے ہزاروں کی تعداد میں ہی کیوں نہ ہوں اگر وہاں لاغر و نحیف بلی بھی آجائے تو چوہوں کی اکثریت غلبہ ہیبت وخوف سے بیک وقت مفرور ہو جاتی ہے۔ اس کی ایک میاوں کو سنتے ہی ان کے کانوں میں اپنی مغلوبیت کی خوفناک ضر ہیں گونج اٹھتی ہیں۔ اس کے دانتوں اورپنچوں کی حرکات جابرانہ ان کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چوہوں کے سینوں میں جو قلوب ہیں اور بلی کے سینہ میں جو دل&nbsp;ہے اس میں فرق ہے، بلی کے دل میں جو جرات اور ہمت ہے وہ چوہوں کے قلوب میں نہیں۔ چوہوں کی اتنی بڑی جماعت کا ایک بلی کے سامنے حواس باختہ اور ہوش رفتہ ہو جانا اس امر کی دلیل ہے کہ بلی کی جان میں جرأت قلبی کا پایا جانا ہی سبب ہے کہ چوہوں کی تعداد اگر ایک لاکھ بھی ہو تب بھی ایک لاغر و نحیف بلی کو دیکھ کر سب مفرور ہوجاتے ہیں۔ معلوم ہوا تعداد کوئی چیز نہیں جرات اور ہمت، اصل چیز ہے۔&nbsp;</p>



<p>بھیڑ اور بکریوں کی تعداد ہزاروں میں ہی کیوں نہ ہولیکن قصاب کی ایک چھری کے سامنے اتنی بڑی اکثریت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ دن کا وقت ہو یا رات کا ملازمت کا مسئلہ ہو یا کاروبار کا انسان کے دل و دماغ پر ہزاروں پریشانیاں منڈلاتی رہتی ہیں ان افکار اورحو اس کی کثرت پر نیند بیک وقت طاری ہوکر سب کو فنا کر دیتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>جنگل میں بڑے بڑے سینگوں والے قد آور اور طاقت رکھنے والے جانور ہزاروں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں مگر اکیلا شیرکتنی دلیری سے حملہ کرتا ہے، اور ان پر غالب آجاتا ہے اور جس جانور کو چاہے ہلاک&nbsp;کر دیتا ہے۔</p>



<p>ثمرات:&nbsp;جب نصرت الہی پر کامل یقین ہوجائے تو مومن کے دل سے مخلوق کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ انسان دنیا میں بہت سے برے کام مختلف قسم کے خوف کی وجہ سے کرتا ہے، اگر خدا کی مدد پر یقین کامل ہوجائے تو انسان لا تعداد برائیوں سے بچ سکتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>حق تعالیٰ کے ساتھ قلب میں تعلّق کاحاصل ہونا بڑی دولت ہے&nbsp; اور اس کے حاصل ہونے کا طریق صرف اتّباعِ شریعت ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25db%2581%25d9%2585%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25ae%25d8%25b5%2F&#038;title=%D8%A8%D8%A7%DB%81%D9%85%D8%AA%20%D8%B4%D8%AE%D8%B5.Bahimat%20Shakhsh" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%db%81%d9%85%d8%aa-%d8%b4%d8%ae%d8%b5/" data-a2a-title="باہمت شخص.Bahimat Shakhsh"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%db%81%d9%85%d8%aa-%d8%b4%d8%ae%d8%b5/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اقوال زریں(شیخ سعدی)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/740-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/740-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Jul 2021 15:39:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شیخ سعدی]]></category>
		<category><![CDATA[آدمی کی اصل]]></category>
		<category><![CDATA[اتحاد]]></category>
		<category><![CDATA[اچھے اخلاق]]></category>
		<category><![CDATA[اعتدال پسندی]]></category>
		<category><![CDATA[اقوال زریں]]></category>
		<category><![CDATA[بزرگوں سے لڑائی]]></category>
		<category><![CDATA[بناؤ سنگھار]]></category>
		<category><![CDATA[بہرا گونگا]]></category>
		<category><![CDATA[بے خوفی]]></category>
		<category><![CDATA[بے ہنر]]></category>
		<category><![CDATA[تین چیزوں کی بقا نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[جوانمردی]]></category>
		<category><![CDATA[چھپے عیب]]></category>
		<category><![CDATA[حاتم طائی کا احسان]]></category>
		<category><![CDATA[خاموشی]]></category>
		<category><![CDATA[درندہ]]></category>
		<category><![CDATA[دست سوال]]></category>
		<category><![CDATA[دشت محبت]]></category>
		<category><![CDATA[دشمن]]></category>
		<category><![CDATA[دوستی]]></category>
		<category><![CDATA[دین کے دشمن]]></category>
		<category><![CDATA[سرمست]]></category>
		<category><![CDATA[سنہری اقوال]]></category>
		<category><![CDATA[سوچ]]></category>
		<category><![CDATA[شیطان]]></category>
		<category><![CDATA[ظلمت]]></category>
		<category><![CDATA[کمزور پر رحم]]></category>
		<category><![CDATA[لعلِ بدخشاں]]></category>
		<category><![CDATA[مضبوط دشمن]]></category>
		<category><![CDATA[ملاحوں کا گیت]]></category>
		<category><![CDATA[موتی]]></category>
		<category><![CDATA[نصیحت]]></category>
		<category><![CDATA[نقش و نگار]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=740</guid>

					<description><![CDATA[آدمی را عقل باید  در بدن ورنہ جان در کالبد دارد حمار آدمی کی اصل ماہیت عقل و شعور و ادراک ہے ورنہ رہا جسم تو وہ گدھے کے پاس بھی ہے۔ سفر دراز نباشد بہ پائے طالبِ دوست کہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/740-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><strong>آدمی را عقل باید  در بدن ورنہ جان در کالبد دارد حمار</strong></p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>آدمی کی اصل </strong></span>ماہیت عقل و شعور و ادراک ہے ورنہ رہا جسم تو وہ گدھے کے پاس بھی ہے۔</p>



<p><strong>سفر دراز نباشد بہ پائے طالبِ دوست کہ خارِ دشتِ محبت گُل است و ریحان است</strong><br />طالبِ دوست کے (اُٹھے ہوئے) قدموں کے لیے سفر دراز اور مشکل نہیں ہوتا کیونکہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>دشتِ محبت</strong></span> کے کانٹے بھی پھول اور نرم و نازک خوشبو دار سبزے کی طرح ہیں۔</p>



<p><strong>کسے را کہ شیطاں بَوَد پیشوا                       کجا باز گردد براہِ خدا <br /></strong><br />جس کا راہ نُما <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>شیطان </strong></span>ہو، وہ کب خدا کی راہ پر واپس آتا ہے۔</p>



<p><strong>کس دل به اختیار به مهرت نمی‌دهد دامی نهاده‌ای که گرفتار می‌کنی<br /></strong>کوئی بھی قصداََ دل تیری محبت میں نہیں دیتا۔ تو نے کوئی دام (جال) بچھایا ہوا کہ تو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>گرفتار </strong></span>کرلیتا ہے۔</p>



<p><strong>شادمانی مکُن که دُشمن مُرد تو هم از مرگ جان نخواهی بُرد<br /></strong> <br />[اِس چیز پر] شادمانی مت کرو کہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>دُشمن </strong></span>مر گیا۔۔۔ [کیونکہ] تم بھی مَوت سے جان بچا نہیں لے جاؤ گے۔۔۔</p>



<p><strong>گر سنگ ہمہ لعلِ بدخشاں بودے پس قیمتِ لعل و سنگ یکساں بودے<br /></strong>اگر سارے پتھر ہی <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>لعلِ بدخشاں</strong></span> ہوتے تو پھر پتھر اور لعل کی ایک جیسی قیمت ہوتی۔</p>



<p><strong>به کسی نِگر که ظُلمت بِزُداید از وُجودت نه کسی نعوذُ بِالله که در او صفا نباشد<br /></strong>کسی ایسے شخص پر نگاہ کرو کہ جو تمہارے وُجود سے <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>ظُلمت </strong></span>کو محْو و صاف کر دے،</p>



<p><strong>مست می عشق را ۔۔۔ عیب مکن سعدیا مست بیفتی تو نیز گر ہم از این می‌چشی</strong><br /><br />ا ے سعدی تو ان عشق کے سرمستوں کی عیب جوئی نہ کر۔اگر تو ان کےذوق کا آشنا ہوجائے تو تو بھی انہی کی طرح <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>سرمست </strong></span>ہو جائے گا ۔</p>



<p>کسی پر نہ اتنی سختی کر کہ وہ تجھ سے بیزار ہو جائیں اور نہ اتنی نرمی کر کہ وہ تم پر سوار ہو جائیں ۔ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اعتدال پسندی</strong></span> اختیار کرو۔</p>



<p>لوگوں کے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">چھپے عیب</span></strong> ظاہر نہ کرو کیونکہ تو ان کو ذلیل کرے اور خود کو بھروسے کے نا قابل بنائے گا۔</p>



<p> جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بزرگوں سے لڑتا</span></strong> ہے وہ خودا پناخون گراتا ہے۔</p>



<p> نفس پرور سے ہنر پروری نہیں ہو سکتی اور <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بے ہنر</span></strong> سرداری کے قابل نہیں</p>



<p>جس کو ایک مدت کے لیے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">دوست </span></strong>بنا مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کردیں اس سے لاتعلقی بھی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے یک دم نہیں۔</p>



<p>موتی اگر کیچڑ میں گر جائے تو بھی وہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">موتی </span></strong>ہی ہے اور قیمتی ہی ہے اور گرد اگر آسمان پر بھی چڑھ جائے تو بھی گردہی ہے اور بے قیمت ہے۔</p>



<p> جو گنہگار دعا کے لیے اللہ تعالی کے حضور میں دست دعا بلند کرتا ہے وہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مغرور عبادت گزار</span></strong> سے بہت اچھا ہے۔ توبہ کر لینا بہتر ہے۔</p>



<p> جوآدمی <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سوچ </span></strong>کر بات نہیں کرتا وہ اس کے جواب پر بگڑتا ہے۔</p>



<p> جب آمدنی نہ ہو تو تھوڑا تھوڑا خرچ کر کیوں کہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>ملاح گایا کرتے</strong></span> ہیں کہ اگر بارش نہ ہو تو دریاۓ دجلہ بھی ایک سال میں خشک ہو جاتے ہیں۔</p>



<p> وہ دونوں انسان ملک اور <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>دین کے دشمن </strong></span>ہوتے ہیں۔</p>



<p>ایک وہ بادشاہ جس میں حلم اور بردباری نہ ہو۔</p>
<p>اور دوسرا وہ عابد جس میں علم نہ ہو۔</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تین چیزوں کی بقا نہیں</span></strong> ہے۔</p>



<p>۔ مال کو تجارت کے بغیر۔</p>
<p>علم کو بحث کے بغیر۔</p>
<p>مالک کو تدبیر کے بغیر۔</p>



<p> علم دین کی خدمت اور اشاعت کے لیے ہے نہ کہ دنیا کمانے کے لیے۔</p>



<p> بادشاہوں کو وہی شخص <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">نصیحت </span></strong>کر سکتا ہے جس کو نہ سرکا خوف ہو نہ زر کی تمنا اور لا لچ  یعنی <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بے خوف</span></strong> و خطر آدمی۔</p>



<p> جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">کمزور پر رحم</span></strong> نہیں کرتا وہ زبردستوں کے ظلم میں پھنستا ہے۔</p>



<p> اگر چہ  کوئی بے موت نہ مرے گا لیکن تو خود اژدہوں کے منہ میں نہ جانا یعنی مصیبت کو خود دعوت نہ دینا۔</p>



<p> جونصیحت غرض سے خالی ہو کڑوی دوا کی طرح مرض کی دافع ہے۔</p>



<p> جوذات تجھے مال دار نہیں بنارہی وہ تیری مصلحت تجھ سے بہتر جانتی ہے۔</p>



<p> لالچی کے لیے اپنا دروازہ نہیں کھولنا چا ہے اگر کھل گیا تو پھر بند نہ ہوگا</p>



<p> دوست وہی ہے جو دوست کی پریشان حالی اور عاجزی کو دیکھ کر مدد کرے۔</p>



<p> اگر مالدار بننا چاہتے ہو تو سوائے قناعت کے کچھ طلب نہ کرو۔</p>



<p> اگر کوئی مانگنے والا عاجزی سے تجھ سے مانگے تو اس کو دے دے ورنہ کوئی ظالم زور سے لے لے گا۔</p>



<p> شر پھیلانے والا خود بھی شر میں پھنس جاتا ہے۔</p>



<p> فقیر کی ستر پوشی کرنا کہ خدا کا پردہ تیرا ستر پوش ہو۔</p>



<p> برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر نوجوان مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان اور نیکی سے دے۔</p>



<p>جسم کی طاقت خوراک سے نہ سمجھ اس لیے کہ الله تعالی کی مہرانی پرورش کرتی ہے۔</p>



<p> اگر تو اپنے آپ کو نیکوں میں گنتا ہے تو بد ہے اس لیے کہ خدائی میں خودی نہیں سماتی۔</p>



<p> جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔</p>



<p> اگر برائی تجھے ناپسند ہے تو خود نہ کر پھر پڑوسی سے کہ کہ نہ کرے۔</p>



<p> دشمن کا مشورہ مانتا خطا لیکن سننا روا ہے۔</p>



<p> اگر کام زر سے نکل سکے تو جان کو خطرے میں نہ ڈالو۔ .</p>



<p><strong>زبان بریده به کنجی نشسته صم بکم به از کسی که نباشد زبانش اندر حکم</strong></p>



<p> زبان کٹا ہوا اور گوشہ تنہائی میں<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> بہرا گونگا </strong></span>بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ ہو۔</p>



<p>جس کا حساب پاک ہے اس کو محاسبہ سے کیا ڈر۔</p>



<p> جہاں پھول ہے وہاں کا نٹا بھی ہوگا۔</p>



<p>جس نے علم حاصل کیا اورعمل نہ کیا وہ اس آدمی کی مانند ہے جس نےہل چلایا اور کچھ نہ بویا۔</p>



<p>. بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتا ہے۔</p>



<p> جو آدی اچھے وقتوں میں بھلائی نہیں کرتا وہ برے وقتوں میں دکھ اٹھاتا ہے۔</p>



<p> جوشخص بروں کی صحبت میں بیٹھتا ہے وہ بھی سکھ نہیں پاتا</p>



<p> استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔</p>



<p> بسیارخور ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔</p>



<p> لوگوں کے چھپے عیب ظاہر نہ کر کیونکہ تو ان کو ذلیل کرے گا اور خود کو بھروسے کے نا قابل بنائے گا۔</p>



<p> شیرسے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکامارنا عقلمندوں کا کام نہیں۔</p>



<p> لوگوں کو ستانے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کہ مصیبت کے وقت اس کا کوئی ساتھی نہیں ہے۔</p>



<p> جوسخی کھائے اور دے اس عبادت گزار سے بہتر ہے جو لے جائے اور جمع  کرے۔</p>



<p>بے نماز کو قرض مت دوخواہ فاقہ سے اس کا منہ کھلا ہوا ہو اس لیے کہ جو خدا</p>



<p>کا قرض ادا نہیں کرتا اسے تیرے قرض کی فکر بھی نہ ہوگی</p>



<p> جو زندگی میں لوگوں کو روٹی نہیں کھلاتا جب وہ مر جاتا ہے تو لوگ اس کا نام بھی نہیں لیتے۔</p>



<p>نیک انجام فقیر بدانجام بادشاہ سے بہتر ہے۔</p>



<p> اگر تجھے میری عادت ناگوار ہے تو تو اپنی اچھی عادت ہاتھ سے نہ جانے  دے</p>



<p> سونا کان سے کان کنی کے بعد نکلتا ہے اوربخیل کے ہاتھ سے جانکنی کے بعد۔</p>



<p> امیر وزیر اور بادشاہ کے دروازوں کا چکر بغیر کسی وسیلہ کے نہ کاٹ۔</p>



<p> حسین چہرہ کو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>بناؤ سنگھار </strong></span>کرنے کی ضرورت نہیں۔</p>



<p> آدمیت جوانمردی اور مہربانی کا نام ہے حسین شکل وصورت کا نام نہیں۔</p>



<p>کوئی شخص روزی اپنی لیاقت اور طاقت سے نہیں حاصل کرتا۔ اللہ سب کا رازق ہے۔</p>



<p>بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو بھی خدا کے سامنے جھکے بغیر چارہ نہیں۔</p>



<p>خداوند تعالٰی متحمل بھی ہے اور رحیم و کریم بھی۔ وہ گناہ گاروں کو توبہ کے لئے مہلت دیتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کو دامن رحمت میں ڈھانپ لیتاہے۔</p>



<p>نطفے کو خوبصورت انسان بنا دینا اللہ تعالٰی کی قدرت کا اعجاز ہے۔ پانی کی بوند پر ایسے ن<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>قش و نگار </strong></span>کوئی نہیں بناسکتا۔</p>



<p>جب تو خدا سے مغفرت و عطا کا طالب ہے تو جن لوگوں کی امیدیں تیری ذات سے وابستہ ہیں تو انہیں بھی محروم و مایوس نہ کر۔</p>



<p>جیسا سلوک تو مخلوق خدا سے کرے گا ویسا ہی سلوک خدا تیرے ساتھ کرے گا۔</p>



<p>حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہو اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو۔</p>



<p>جس مظلوم کو بادشاہ سے انصاف نہ  مل سکے اسے خدا انصاف دلاتا ہے</p>



<p>آخرت میں نیکیوں کے مطابق مرتبے ملتے ہیں اس لئے نیکی کرو۔</p>



<p>جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتاہے پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے۔</p>



<p>مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے۔ ہمت سے اس کامقابلہ کرنا چاہئے۔ ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔</p>



<p>احساس کیا ہے؟ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا۔</p>



<p>منصف اور عادل کو اللہ اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا</p>



<p>آدمی وہ ہے جس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ورنہ پتھر ہے۔</p>



<p>نیکی کرنے والا نیکی کا صلہ ضرور پاتا ہے</p>



<p>بے رحم انسان نہیں <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>درندہ </strong></span>ہے۔</p>



<p>نیک نیت کی وجہ سے کام نیک اور بری نیت کی بدولت برا ہوجاتاہے۔</p>



<p>مظلوم کی تکلیف تو چند ساعت کی ہوتی ہے مگر ظالم ابدی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>نصیحت </strong></span>اگرچہ ناخوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتاہے۔</p>



<p>ظالم جب تک ظلم نہیں چھوڑتا اس کے حق میں کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔</p>



<p>دنیا بے وفا اور انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتاہے جو اسے مخلوق خدا کی اصلاح اور فلاح میں لگا دیتاہے۔</p>



<p>دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی۔</p>



<p>زندگی کا راز صبر میں پوشیدہ ہے ۔</p>



<p> اگر تم چاھتے ہو کے تمہارا نام زندہ رھے تو اولاد کو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اچھے اخلاق</strong></span> سکھلاؤ ۔</p>



<p>اگر چہ انسان کو مقدر سے زیادہ رزق نہیں ملتا۔ لیکن رزق کی تلاش میں سستی نہ کرو۔</p>



<p> جو شخص دوسروں کے غم سے بے غم ہے  آدمی کہلانے کا حقدار نہیں ہے ۔</p>



<p> دشمن سے ھمیشہ بچو اور دوست سے اسوقت تک جب تک وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔</p>



<p> اگر چڑیوں میں <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اتحاد </strong></span>ہو جاۓ تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔</p>



<p> عقل مند اسوقت تک نہیں بولتا جب تک <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>خاموشی </strong></span>نہیں ہو جاتی ۔</p>



<p> رزق کی کمی اور زیادتی دونوں ھی برائی کی طرف لے جاتی ہیں ۔</p>



<p> دنیا داری نام ہے  اللہ سے غافل ہوجانے کا۔ ضروریات زندگی اور بال بچوں کی پرورش کرنا دنیا داری نہیں۔</p>



<p>مصیبت کو پوشیدہ رکھنا <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>جوانمردی </strong></span>ہے ۔</p>



<p>مطالعہ غم اور اداسی کا بہترین علاج ہے ۔</p>



<p> اچھی عادات کی مالکہ عورت اگر فقیر کے گھر بھی ہو تو اسے بادشاہ بنا دیتی ہے ۔</p>



<p> دوست وہ ہے  جو دوست کا ھاتھ پریشان حال و تنگی میں پکڑتا ہے ۔</p>



<p> بروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ھی ہے  جیسے نیکوں کے ساتھ برائی کرنا۔</p>



<p>۔ بھوک اور مسکینی میں زندگی گزارنا کسی کمینے کے سامنے <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>دست سوال</strong></span> کرنے سے بہتر ہے ۔</p>



<p> جو کوئی اپنی کمائی سے روٹی کھاتا ہے  اسے <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>حاتم طائی کا احسان</strong></span> اٹھانا نہیں پڑتا ۔</p>



<p> سب داناؤں کا اس پر اتفاق ہے  کہ حق شناس کتا ناشکر گزار انسان سے بہتر ہے ۔</p>



<p> جو شخص اپنے سے زیادہ طاقتور انسان سے زور آزمائی کرتا ہے  وہ اپنے آپ کو تباہ کرنے میں مدد کرتا ہے ۔</p>



<p> خدا کے دوستوں کی اندھیری رات بھی روز روشن کی طرح چمکتی ہے ۔</p>



<p> کمزور دشمن اطاعت قبول کرے اور دوست بن جاۓ اسکا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مضبوط دشمن </span></strong>بننا چاھتا ہے ۔</p>



<p> اے عقل مند ھاتھ دھولے جو دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ۔</p>



<p> نہ تو اسقدر سختی کر کہ لوگ تجھ سے تنگ آجائیں اور نہ اسقدر نرمی کہ تجھ پر حملہ کر دیں۔</p>



<p> جو شخص طاقت کے دنوں میں نیکی نہیں کرتا ضعف کے دنوں میں تکلیف اٹھاتا ہے ۔</p>



<p>جو شخص بچپن میں ادب کرنا نہیں سیکھتا بڑی عمر میں اس سے بھلائی کی کوئی امید نہیں۔</p>



<p> یہ ضروری نہیں کہ جو خوبصورت ہو نیک سیرت بھی ہو گا کیوں کہ کام کی چیز اندر ہوتی ہے  باھر نہیں۔</p>



<p> جو شخص دشمن سے صلح کرتا ہے  اسے دوستوں کو آزار پہنچانے کا خیال ہے ۔</p>



<p> آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کامیابی کی علامت ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F740-2%2F&#038;title=%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%84%20%D8%B2%D8%B1%DB%8C%DA%BA%28%D8%B4%DB%8C%D8%AE%20%D8%B3%D8%B9%D8%AF%DB%8C%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/740-2/" data-a2a-title="اقوال زریں(شیخ سعدی)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/740-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
