<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حقیقت محمدی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Wed, 29 Nov 2023 04:55:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>حقیقت محمدی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مبدأ و معاد  کی مشکل عبارتوں کا حل مکتوب نمبر209دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 20 Nov 2021 00:25:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت احمدی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت کعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[نزول عیسیٰ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4312</guid>

					<description><![CDATA[رسالہ مبدأ و معاد &#160;کی بعض مشکل عبارتوں کے حل کرنے میں اور بعض عبارتوں کے&#160;بیان میں جو اس کی تائید میں لکھی گئی ہیں اور ایک مکتوب کے جواب میں جواس طریق کی ضروری باتوں پر مشتمل ہے میر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>رسالہ مبدأ و معاد &nbsp;کی بعض مشکل عبارتوں کے حل کرنے میں اور بعض عبارتوں کے&nbsp;بیان میں جو اس کی تائید میں لکھی گئی ہیں اور ایک مکتوب کے جواب میں جواس طریق کی ضروری باتوں پر مشتمل ہے میر محمدنعمان بدخشی کی طرف لکھا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ</strong><strong> </strong><strong>وَاٰلِهِ الطَّاهِرِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>اَجْمَعِیْنَ</strong> <strong>ا</strong><strong>للہ</strong> العلمین کی حمد ہے اور سید المرسلین اور ان کی آل پاک صلوة&nbsp; و سلام ہو میرے&nbsp;سیادت پناہ عزیز بھائی میر محمد نعمان جمعیت سے رہیں۔ اس طرف کے احوال حمدکے لائق ہیں ۔سرائے فرخ میں رخصت ہونے کے وقت آپ نے اور برادرم محمد اشرف نے اس عبارت کے معنی جو رسالہ مبدأ و معاد میں واقع ہے، پوچھی تھی چونکہ وقت نے یاوری نہ کی اس لئے توقف میں رہی۔ اب دل میں آیا کہ اس عبارت کےحل میں کچھ لکھا جائے تا کہ دوستوں کی تسلی اورتشفی کا موجب ہو۔ رسالہ کی عبارت یہ ہے کہ<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>آنحضرت ﷺکے رحلت فرمانے سے ہزار اور چند سال کے بعد ایک ایسا زمانہ آتا ہے کہ حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالیٰ کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) فرماتی ہے اور حقیقت کعبہ(مراد حق تعالیٰ ٰ ہے جو سجدے اور عبادت کے لائق ہے) کے مقام میں (رسائی پا کراس سے) متحد ہو جاتی ہے اور اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہوجاتا ہے اور ذات احد جل سلطانہ کا مظہر بن جاتی ہے اور دونوں اسم مبارک(محمد و احمد) اپنے مسمی(مجموعہ حقیقت محمدی و حقیقت کعبہ) کے ساتھ متحقق ہوجاتے ہیں اور پہلا مقام حقیقت محمدی سے خالی رہے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام نزول فرمائیں اور شریعت محمدی علیہ الصلوة والسلام کے موافق عمل کریں۔ اس وقت حقیقت عیسوی اپنے مقام سے عروج&nbsp; فرما کر حقیقت محمدی کے مقام میں جو خالی رہا تھا، قرار پکڑے گی۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے &nbsp;کہ شخص کی حقیقت اس کے تعین وجوبی سے مراد ہے کہ اس شخص کا تعین امکانی اس تعین کاظل ہے اور وہ تعین وجوبی اسمائے الہٰی مثل علیم وقدیر ومريد ومتكلم وغیرہ میں سے ایک اسم ہے اور وہ اسم الہی اس شخص کا رب اور اس کے وجودی فیوض کا مبدأ ہے اور اس اسم کی نسبت حضرت ذات کے ساتھ مختلف مراتب میں ہے۔ مرتبہ صفت میں اورتوابع وجودی کہ اس کا وجود ذات کے وجود پر زائد ہے۔ یہی اسم اطلاق پاتا ہے اور مرتبہ شان میں بھی کہ اس کی زیادتی ذات پر مجرداعتبار سے ہے۔ یہی اسم صادق آتا ہے اور صفت و شان کے درمیان فرق اس مکتوب (نمبر 287 دفتر اول)میں جو سلوک اور جذبہ کے بیان میں<strong> </strong><strong>لکھا</strong><strong> </strong>گیا تھا۔ مفصل ذکر پا چکا ہے۔ اگر معلوم نہ ہو تو اس مکتوب کی طرف رجوع کریں اورشک نہیں ہے کہ شان کا حاصل ہونا بھی اگر چہ مجرد اعتبار ہے اس بات کی اقتضا کرتا ہے کہ اس سے اوپر اس کی شان کے مناسب اور زائد معنی ہوں جو اس کے وجود اعتباری کا مبدأ ہوں۔ پس اس اسم کو اس مرتبہ سے بھی نصیب حاصل ہے اور اس معنی زائدہ کے فوق میں بھی یہ احتمال جاری ہے لیکن قدرت بشری اس کے ضبط کرنے سے عاجز ہے۔ اس فقیر بے بضاعت نے ایک اور مرتبہ کوبھی عبور کیا ہے لیکن اس مرتبہ کے فوق میں سوائے استغراق اور نیستی (فنائیت) کے کچھ حاصل نہیں ہے<strong>‌وَفَوْقَ ‌كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ</strong><strong> </strong>ہر صاحب علم کے او پرعلم والا ہے</p>



<p><strong>ھَنِیئًا لأربَابِ النَعِیمِ ِنَعِيمُهَا وَلِلعَاشِقِ ِالمِسكِين ِمَا يَتَجَرَّعُ</strong></p>



<p>ارباب نعمت کو یہ نعمت مبارک اور عاشقوں کو یہ رنج و حسرت مبارک</p>



<p>اہل اللہ کی ایک دوسرے پر فضیلت اپنی اپنی استعداد اور قابلیت کے موافق مختلف مراتب کے طے کرنے کے اعتبار سے ہے اور اس اسم سے واصل اولیاء بہت تھوڑے ہیں کیونکہ اکثر ان میں سے سلوک اور سیرتفصیلی کے طریق پرتمام مراتب امکانیہ سے عروج &nbsp;&nbsp;کرنے کے بعد اسم&nbsp;کے ظلال میں سے کسی ظل تک واصل ہیں اور صرف جذبہ کے طریق سے بھی اس اسم تک واصل ہونے کا وہم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بے اعتبار اور بے اعتماد ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اس اسم سے عروج کیا ہے اور مراتب متفاوتہ کوکم و بیش طے کیا ہے، وہ بہت ہی تھوڑے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اب ہم اصل بات کو بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شخص کی حقیقت جیساکہ تعین وجوبی کو کہتے ہیں۔ تعین امکانی کو بھی کہتے ہیں جب یہ مقدمات معلوم ہو گئے تو میں کہتا ہوں کہ محمد رسول الله ﷺتمام مخلوقات کی طرح عالم خلق اور عالم امر سے مرکب ہیں اور وہ اسم الہٰی جوان کے عالم خلق کی تربیت کرنے والا ہے۔ شان العلیم ہے اور وہ جو ان کے عالم امر کی تربیت فرماتا ہے وہ معنی ہے جو اس شان کے وجود اعتباری کا مبدأ ہے جیسا کہ گزر چکا ہے&nbsp;۔</p>



<p>اور حقیقت محمدی شان العلیم سے مراد ہے اور حقیقت احمدی اس معنی سے کنایہ ہے جو اس شان کا مبدأ ہے اور حقیقت کعبہ(مراد حق تعالیٰ ٰ ہے جو سجدے اور عبادت کے لائق ہے)سبحانی بھی اسی معنی سے مراد ہے اور وہ نبوت جو حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش سے پہلے حضرت علیہ الصلوۃ والسلام کو حاصل تھی اور اس مرتبہ کی نسبت خبر دی ہے اور فرمایا ہے<strong>كُنْتُ ‌نَبِيًّا ‌وَآدَمُ ‌بَيْنَ ‌الْمَاءِ ‌وَالطِّينِ</strong> میں<strong> </strong>نبی تھا جبکہ آدم ابھی پانی اور کیچڑ میں تھے۔ وہ اعتبار حقیقت احمدی کی تھی جس کا تعلق عالم امر سے ہے اور اس اعتبار سے حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام نے جو کلمتہ اللہ تھے اور عالم امر سے زیادہ مناسبت رکھتے تھے۔ حضرت علیہ الصلوۃ<strong> </strong>والسلام کی تشریف آوری کی خوشخبری اسم احمد سے دی ہے اور فرمایا <strong>ہے</strong><strong> </strong><strong>وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ </strong>خوشخبری دینے والا ایک&nbsp;رسول کی جو اس کے بعد آ ئے گا اور اس کا نام احمد ہے اور وہ نبوت جوعنصری پیدائش سے تعلق رکھتی ہے وہ صرف حقیقت محمدی کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ دونوں حقیقتوں کے اعتبار سے ہے اور اس مرتبہ میں آپ کی تربیت کرنے والی وہ شان اور اس شان کا مبدأ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ کی دعوت پہلی مرتبہ کی دعوت کی نسبت زیادہ اتم ہے کیونکہ اس مرتبہ میں آپ کی دعوت عالم امر سے مخصوص تھی اور آپ کی تربیت روحانیوں پرمنحصر تھی اور اس مرتبہ میں آپ کی دعوت خلق وامر کو شامل ہے اور آپ کی تربیت اجسادو ارواح پرمشتمل ہے۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ کہ اس جہان میں آپ کی عنصری پیدائش(مادی پیدائش) کو آپ کی ملکی(ملکوتی) پیدائش پر غالب کیا ہوا تھا تا کہ مخلوقات کے ساتھ جن میں بشریت زیادہ غالب ہے۔ وہ مناسبت جو افادہ (فائدہ&nbsp; پہنچانا&nbsp; ) اور استفادہ(فائدہ&nbsp;&nbsp;&nbsp; حاصل کرنا) &nbsp;کا سبب ہے زیادہ پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حق تعالیٰ اپنے حبیب ﷺکو اپنی بشریت کے ظاہر کرنے کے لئے بڑی تا کید سے امر فرماتا ہے کہ<strong> </strong><strong>قُلْ إِنَّمَا أَنَا ‌بَشَرٌ ‌مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ</strong>کہ میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ لفظ <strong>‌مِثْلُكُم</strong>ْ کالانا تاکید بشریت<strong> کے</strong><strong> </strong>لئے ہے اور وجورعنصری سے رحلت کر جانے کے بعد حضور ﷺکی روحانیت کی جانب غالب ہوگئی اور بشریت کی مناسبت کم ہوگئی اور دعوت&nbsp;کی نورانیت میں تفاوت پیدا ہوگیا۔&nbsp;</p>



<p>بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے فرمایا ہے کہ ابھی ہم آ&nbsp;&nbsp; نحضرت علیہ الصلوة والسلام کےتد فین سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ ہم نے اپنے دلوں میں تفاوت معلوم کیا۔ ہاں ایمان شہود(مشاہدہ) ی ایمان غیبی سے جل گیا اور معاملہ آغوش سے گوش تک آ پہنچا اور دیکھنے سے سننے تک نوبت آگئی اور حضور ﷺکے زمانہ سے جب ہزار سال گزرے جو بڑی لمبی مدت اور بڑا در از زمانہ ہے تو روحانیت کی طرف اس طرح غالب ہوئی کہ بشریت کی تمام جانب کو اپنے رنگ میں رنگ دیا حتی کہ عالم خلق نے عالم امر کا رنگ اختیار کیا۔ پس ناچار حضور علیہ الصلوة والسلام کے عالم خلق سے جس چیز نے اپنی حقیقت کی طرف رجوع کی تھی۔ لیکن حقیقت محمدی عروج &nbsp;&nbsp;کر کے حقیقت احمدی سے لاحق ہوگئی اور حقیقت محمدی حقیقت احمدی سے متحد ہوگئی۔&nbsp;</p>



<p>اس جگہ حقیقت محمدی اور حقیقت احمدی سے مرادحضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خلق و امر کا تعین امکانی ہے۔ نہ تعین وجوبی کو تعین امکانی اس کاظل ہے کیونکہ تعین وجوبی کے عروج&nbsp; کے کچھ&nbsp;معنی نہیں اور اس تعین کے ساتھ متحد ہونا معقول نہیں ہے۔&nbsp;</p>



<p>جب حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نزول فرمائیں گے تو حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام کی شریعت کی متابعت کریں گے اور اپنے مقام سے عروج &nbsp;فرما کر تبعیت (اتباع کے طور پر)کے طور پر حقیقت محمدی کے مقام میں پہنچیں گے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دین کی تقویت کریں گے ۔ گزشتہ شریعتوں کا بھی یہی حال تھا کہ اولوالعزم پیغمبروں کے رحلت فرما جانے سے ہزار سال کے بعد انبیائے کرام اور رسل عظام مبعوث ہوتے تھے جو ان پیغمبروں کی شریعت کو تقویت دیتے تھے اور ان کے کلمہ کو بلند کرتے تھے اور جب پیغمبر اولوالعزم کی دعوت و شریعت کا دورہ تمام ہوجاتا تھا تو دوسرا اولوالعزم پیغمبر مبعوث ہو جاتا تھا اور نئے سرے سے اپنی شریعت ظاہر کرتا تھا اور چونکہ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام کی شرعیت نسخ و تبدیلی سے محفوظ ہے اس لئے حضور کی امت کے علماء کو انبیاء کا مرتبہ عطا فرما کر شریعت کی تقویت اور ملت کی تائید کا کام ان کےسپردفرمایا ہے بلکہ ایک اولوالعزم پیغمبر کو حضور کا تابعدار بنا کر حضور کی شریعت کوترقی بخشی ہے۔&nbsp;</p>



<p>الله تعالیٰ فرماتا ہے ۔ <strong>إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ ‌لَحَافِظُونَ</strong> ہم ہی نے قرآن مجید&nbsp;کو نازل کیا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اور جاننا چاہیئے کہ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام کے رحلت کر جانے سے ہزار سال بعد حضور کی امت کے اولیاء جو ظاہر ہوں گے اگر چہ &nbsp;وہ قلیل ہوں گے مگر اکمل ہوں گے تا کہ اس شریعت کی تقویت پورے طور پر کر سکیں۔&nbsp;</p>



<p>حضرت مہدی جن کی تشریف آوری کی نسبت خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام نے بشارت فرمائی ہے۔ ہزار سال کے بعد پیدا ہوں گے اور حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام خود بھی ہزار سال کے بعد نزول فرمائیں گے۔&nbsp;</p>



<p>خلاصہ یہ کہ اس طبقہ کے اولیاء کے کمالات اصحاب کرام کے کمالات کی مانند ہیں اگر چہ انبیاءعلیہم الصلوة والسلام کے بعد فضیلت و بزرگی اصحاب کرام کے لئے ہے لیکن یہ مناسب نہیں کہ کمال مشابہت سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے سکیں۔&nbsp;</p>



<p>اور ہوسکتا ہے کہ اسی وجہ سے حضرت علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہو کہ <strong>‌لَا ‌يُدْرَى أَوَّلُهُ ‌خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ</strong><strong> </strong><strong>نہیں</strong><strong> </strong><strong>&nbsp;</strong>معلوم ان میں سے اول کے بہتر ہیں یا آخر کے اور یہیں فرمایا کہ <strong>‌</strong><strong>اَدٓ</strong><strong>رِىْ أَوَّلُهُ ‌خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ &nbsp;</strong>میں جانتا ہوں کہ ان میں سے اول کے بہتر ہیں یا آخر کے کیونکہ فریقین میں سے ہر ایک کا حال آپ کو معلوم تھا۔ اسی واسطے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ <strong>خَيْر ‌الْقُرُون قَرْنِي</strong> سب زمانوں سے بہتر میرازمانہ ہے لیکن چونکہ کمال مشابہت&nbsp;کے باعث تردد کا مقام تھا اس لئے <strong>‌لَا ‌يُدْرَى </strong>فرمایا ہے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>اگر کوئی سوال کرے کے آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام نے اصحاب کے زمانہ کے بعد تابعین کے زمانہ کو اور تابعین کے زمانہ کے بعد تبع تابعین کے زمانہ کو بہتر فرمایا ہے تو یہ دونوں قرن بھی یقینا اس گروہ سے بہتر ہوں گے۔ پھر یہ طبقہ کمالات میں اصحاب کرام کے ساتھ کیسے مشابہ ہوگا تو اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ اس قرن کا اس طبقہ سے بہتر ہونا اس اعتبار سے ہو کہ اولیاء اللہ کا ظہور کثرت سے ہوگا اور بدعتوں اور بدکاروں اور گناہ گاروں کا وجودکم ہوگا اور یہ امر ہرگز اس بات کے منافی نہیں کہ اس طبقہ کے اولیاء اللہ میں سے بعض افراد ان دونوں قرنوں کے اولیاء سے بہتر ہوں جیسا کہ حضرت مہدی<strong> </strong><strong></strong></p>



<p><strong>&nbsp;</strong>فیض روح القدس ار باز مدد فرماید دیگراں ہم بکنند آنچه مسیحا میکرد</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: فیض روح القدس کا گردے مددتو اور بھی&nbsp;کر دکھائیں کام وہ جو کچھ مسیحا سے ہوا لیکن اصحاب کا زمانہ تمام طرح سے بہتر ہے۔ اس کی نسبت گفتگو کرنا فضول ہے۔ سابق سابق ہی ہیں اور جنت نعیم میں مقرب ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ دوسروں کا پہاڑ جتنا سونا خرچ<strong> </strong>کرنا ان کے ایک مد جو خرچ کرنے کے برابر نہیں ہے۔ <strong>وَاللَّهُ ‌يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ </strong>تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ پہلے بیان سے اس عبارت کے معنی واضح ہوگئے جو رسالہ مبدأ و معاد میں اس عبارت کے اوپرلکھی گئی ہے کہ کعبہ ربانی کی حقیقت حقیقت محمدی کی مسجود ہوگی کیونکہ کعبہ ربانی کی حقیقت بعینہ حقیقت احمدی ہے کہ حقیقت محمدی در اصل اس کاظل ہے۔ پس ناچار حقیقت محمدی کی مسجود ہوگی۔ اگر سوال کریں کہ کعبہ حضور علیہ الصلوة والسلام کے اولیائے امت کے طواف کے لئے آتا ہے اور ان سے برکات حاصل کرتا ہے حالانکہ اس کی حقیقت حقیقت&nbsp;محمدی پرمتقدم ہے تو پھر یہ بات کس طرح جائز ہوگی؟&nbsp;</p>



<p>میں جواب میں کہتا ہوں کہ حقیقت محمدی تنزیہ اور تقدیس کی بلندی سے محمد علیہ الصلوة والسلام کے نزول کرنے کے مقامات کی نہایت ہے اور کعبہ کی حقیقت عروج کعبہ کے مقامات کی نہایت ہے اور حقیقت محمدی کے واسطے مرتبہ تنزیہ پر عروج&nbsp; کرنے کے لئے پہلا مرتبہ حقیقت کعبہ(مراد حق تعالیٰ ٰ ہے جو سجدے اور عبادت کے لائق ہے) ہے اور حقیقت محمدی کے عروج&nbsp; کی نہایت کو سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور جب حضور ﷺکی امت میں سے کامل اولیاء کو آنحضرت علیہ الصلوۃ والسلام کے عروجات سے پورا پورا حصہ حاصل ہے تو پھر اگر کعبہ ان بزرگواروں سے برکات حاصل کرے تو کیا تعجب ہے</p>



<p>&nbsp;زمین زاده برآسماں تافتہ زمین و زمان را پس انداختہ</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: زمین زاده اتنا فلک پر چڑھا زمین آسمان اس سے پیچھے رہا</p>



<p>&nbsp;اور دوسری عبارت بھی جو اس رسالہ سے اس مقام میں لکھی گئی ،حل ہوگئی اور وہ عبارت یہ ہے کہ کعبہ کی صورت جس طرح کہ اشیاء کی صورتوں کی مسجود ہے۔ اسی طرح کعبہ کی حقیقت بھی ان اشیاء کی حقیقتوں کی مسجود ہے کیونکہ مقدمات سابقہ سے معلوم ہوا ہے کہ حقائق اشیاء ان اسمائے الہی سے مراد ہے جو ان کے وجود اور ان کے وجود کے متعلقات کے فیوض کا مبدأ ہیں اور حقیقت کعبه ان اسماء کے فوق ہے۔ پس بیشک حقیقت کعبہ حقائق اشیاء کی مسجود ہوگی ۔ ہاں اگر اولیاء میں سے اکمل کو حقیقت کعبہ سے بالاتر سیر واقع ہوجائے اور بلندی کے انوار کوحاصل کر کے اپنے حقائق کے مراتب میں جو مراتب عروج میں اشیاء کے طبعی مقامات کی مانند ہیں،نیچے اترآئیں تو کعبہ ان کی برکات سے توقع رکھے گا جیسا کہ پہلے گزر چکا۔&nbsp;</p>



<p>اور نیز &nbsp;رسالہ مبدأ و معاد میں چند فقرے&nbsp;انبیائے اولوالعزم کے ایک دوسرے سے افضل ہونے میں لکھے گئے تھے۔ ان کے ایک دوسرے کے افضل ہونے کے معنی چونکہ کشف و الہام&nbsp;پرمبنی ہیں جوظنی ہیں اس لئے اس کے لکھنے اور فضیلت میں تفرقہ (انتشار و پراگندگی) کرنے سے ندامت اور توبہ کرتا ہے کیونکہ قطعی دلیل کے سوا اس بارے میں گفتگو کرنا جائز نہیں<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>أَسْتَغْفِرُ ‌اللَّهَ ‌وَأَتُوبُ إِلَيْهِ</strong><strong> </strong><strong>مِنْ</strong><strong> </strong><strong>جَمِيْعِ</strong><strong> </strong><strong>مَاكَرِہَ</strong><strong> </strong><strong>اللهُ</strong><strong> </strong><strong>قَوْلاً وَّ عَمَلاً</strong> میں ان تمام قول وفعل سے جو الله کو ناپسند ہیں توبہ کرتا ہوں اوربخشش مانگتا ہوں۔&nbsp;</p>



<p>آپ نے اپنے مکتوب میں یہ بھی لکھا تھا کہ&nbsp;میں نے سرائے فرخ میں پوچھا تھا کہ طالبوں کو طریقت سکھانا میرے حال کے مناسب&nbsp;ہے یا نہیں اور تم نے جواب میں لکھا تھا کہ نہیں۔&nbsp;</p>



<p>فقیرکو یاد نہیں رہا کہ عام طور پرنفی کی ہو بلکہ یہ کہا ہوگا کہ شرائط پرمشروط ہے۔ بے شرائط ہرگز مناسب نہیں اور اب بھی اسی طرح جاننا چاہیئے کہ شرائط کو مدنظر رکھنے میں بڑی احتیاط&nbsp;کریں اور ہرگز سستی نہ کریں اور جب تک استخاروں کے ساتھ اس بات کا یقین نہ ہو جائے کہ طریقہ سکھانا چاہیئے تب تک کسی کو نہ سکھائیں اور برادرم مولا نا یارمحمد قدیم کی بھی اس بات کی طرف رہنمائی کریں اور بڑی تاکید سے کہیں کہ طریقت چلانے میں جلدی نہ کرے کیونکہ مقصود دکان کھولنا نہیں ہے بلکہ حق تعالیٰ کی مرضی کو مد نظر رکھنا چاہیئے، اطلاع دینا شرط ہے۔&nbsp;</p>



<p>دوسرا یہ کہ آپ نے اپنے مریدوں کی نسبت گلہ کیا تھا۔ گلہ تو آپ کو اپنی وضع کی نسبت کرنا چاہیئے تھا کیونکہ آپ اس جماعت سے اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ آرزو و تکلیف ہے۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ پیر کو چاہیئے کہ مریدوں کی نظر میں اپنے آپ کو آراستہ اور&nbsp;شان و شوکت سے رکھے نہ یہ کہ ان کے ساتھ اخلاط کا دروازہ کھول دے&nbsp;اور ان سے ہم نشینوں&nbsp;کی طرح سلوک کرے اورحکایت و گفتگو سے مجلس گرم رکھے۔ والسلام&nbsp;</p>



<p>                  <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول(حصہ دوم)  صفحہ77ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                    </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25af%25d8%25a3-%25d9%2588-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b4%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b9%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25aa%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25ad%25d9%2584-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&#038;title=%D9%85%D8%A8%D8%AF%D8%A3%20%D9%88%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%AF%20%C2%A0%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84%20%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%AA%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AD%D9%84%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1209%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/" data-a2a-title="مبدأ و معاد  کی مشکل عبارتوں کا حل مکتوب نمبر209دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%a8%d8%af%d8%a3-%d9%88-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اعتراضات کے جواب میں مکتوب نمبر 121دفتر سوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-121%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-121%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Nov 2021 16:11:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر سوم معرفۃ الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[اویسی کا مطلب]]></category>
		<category><![CDATA[بعثت انبیاء کا مقصد]]></category>
		<category><![CDATA[توسط کے فیوض و برکات]]></category>
		<category><![CDATA[توسط و عدم توسط]]></category>
		<category><![CDATA[جذبے کا سلوک بغیر چارہ نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[خاص محبت کا غلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[دیدار الہی بغیر توسط ہوگا]]></category>
		<category><![CDATA[سیر مرادی اور سیر مریدی]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب سکر]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4147</guid>

					<description><![CDATA[&#160;ایک مکتوب کی عبارت کے عمل میں جو اسرار پرمشتمل ہے۔ مرزا حسام الدین احمد&#160;کی طرف صادر فرمایا ہے۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی ( اللہ تعالی کیلئے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-121%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p id="block-204fecb1-e957-4aca-b104-acf6bffe8338">&nbsp;ایک مکتوب کی عبارت کے عمل میں جو اسرار پرمشتمل ہے۔ مرزا حسام الدین احمد&nbsp;کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p id="block-15133de6-277e-4aec-9a53-95ba15778b69"><strong>اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (</strong> اللہ تعالی کیلئے حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو آپ کا صحیفہ گرامی جو شفقت و مہربانی سے اس فقیر کے نام لکھا تھا۔ اس کے مطالعہ سے مشرف ہوا۔ اس میں لکھا تھا کہ ایک عزیز(غالبا شیخ عبد الحق) نے اس مکتوب (نمبر 87 دفتر سوم)کی عبارت پر جو اجمیر میں لکھا گیا تھا بہت اعتراض کئے ہیں ۔ ان کا حل لکھنا چاہیے اور چونکہ بعض یاروں نے اشتباه کی جگہوں کو مقرر کر کے لکھا تھا اس لئے اس کے اندازہ کے موافق اس اشتباه کے عمل میں چند مقدے لکھے جاتے ہیں۔<strong> ۔</strong><strong> وَاللهُ سُبْحَانَهٗ الْهَادِيْ إِلىٰ سَبِيْلِ الرَّشَادِ</strong> ( اللہ تعالی ہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دینے والا ہے) میرےمخدوم و مکرم <strong>سیر مرادی</strong> اور <strong>سیر مریدی</strong> ایک ایسا امر ہے جو اس سیروالے کے وجدان سے تعلق رکھتا ہے اور کسی ایسے امر کا الزام نہیں جو غیر سے تعلق رکھتا ہو۔ پس اس کے اثبات پر حجت و برہان طلب کرنا گنجائش نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ جس شخص کو خدا تعالی نے قوت حدسیہ (سرعت فہم) دی ہے وہ اگر اس سیر والے شخص کے احوال و اوضاع میں اچھی طرح ملاحظہ کرے اور حق تعالی کے فیوض و برکات اور علوم و معارف جن کے ساتھ وہ ممتاز ہے۔ مشاہدہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی سیر مرادی کا حکم کرے اور کسی دلیل کا محتاج نہ ہو جس طرح اس قرب و بعد و مقابلہ و اجتماع کے ملاحظہ کے بعد جو چاند کو سورج کے ساتھ ہےحکم کرے کہ چاند کا نور سورج کے نور سے حاصل ہوا ہے اگر چہ یہ امر ارباب حدس کے سوا کسی دوسرے پر حجت نہیں۔ نیز ہمارے خواجہ(باقی باللہ ) قدس سرہ نے ابتداء حال میں اس فقیر کے سیر کوسیر مرادی فر مایا۔ یاروں نے بھی شاید اس بات کو ان سے سنا ہوگا اور مثنوی کے ان ابیات کو فقیر کے حال کے مطابق جان کر پڑھا کرتے تھے۔ ابيات </p>



<p id="block-4e61b7d0-b011-442e-8432-0aea7fa17490"><strong>عشق معشوقان نهان است وستیر عشق عاشق باد و صد طبل و نفير</strong></p>



<p id="block-b1b9450c-5b12-4422-8535-03e956725203"><strong> لیک عشق عاشقان تن زه کند عشق معشوقاں خوش و فربه کند</strong></p>



<p id="block-ad4cc534-4e1b-4fcc-97f3-3d20fb126ff3">ترجمہ: ابیات عشق معشوقاں ہے پردہ میں چھپا عشق عاشق دھوم دیتا ہےمچا عاشقوں کا عشق تن لاغر کرے . عشق معشوقاں بدن خوشتر کرے&nbsp;</p>



<p id="block-a09e5c97-1ca8-4dbf-a32d-5b15740f636c">اور مرادوں میں سے جو کوئی واصل ہوا ہے ۔ <strong>اجتباء</strong> ( برگزید ہونا)کے راستہ ہی سے گیا ہے۔ اجتباء کا راستہ انبیا علیہم الصلوة والسلام کے ساتھ مخصوص ہے۔ صاحب عوارف قدس سره  نے مجذوب سالک اور سالک مجذوب کے بیان میں اس امر کی تصریح فرمائی ہے اور مریدوں کے راستے کو انابت کا راستہ اور مرادوں کے راستہ کو اجتباء کا راستہ کہا ہے <strong>اللَّهُ ‌يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ </strong>(اللہ تعالی برگزیدہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور جو شخص اس کی طرف رجوع کرے اس کو اپنی طرف ہدایت دیتا ہے) ہاں اجتباء(برگزیدہ ہونا) کا راستہ بالاصالت انبیا علیہم الصلوة والسلام کے ساتھ مخصوص ہے اور امتوں کو دوسرے کمالات کی طرح اس سے بھی ان کی تبعیت کے باعث حصہ حاصل ہے۔ یہ نہیں کہ اجتباء کا راستہ مطلق طور پر انبیاءعلیہم الصلوة والسلام ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور امتوں کو اس سے ہرگز حصہ حاصل نہیں کیونکہ یہ غیر واقع ہے۔ میرے مخدوم سالک کو فیوض کا پہنچنا حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کے توسط اور حیلولت سے اس وقت تک ہے۔ جب تک اس سالک محمدی المشرب کی حقیقت حقیقت محمدی سے منطبق نہیں ہوئی اور اس کے ساتھ متحد نہیں ہوئی۔ جب کمال متابعت بلکہ محض فضل سے مقامات عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالی کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے)  میں اس حقیقت کو اس حقیقت کے ساتھ اتحاد حاصل ہوا تو توسط دور ہوگیا کیونکہ توسط وحيلولت مغائرت میں ہے اور اتحاد میں توسط و متوسط و حاجب و محجوب کوئی نہیں۔ جہاں اتحاد ہے وہاں معاملہ شرکت کے ساتھ ہے۔ لیکن چونکہ سالک تابع اور الحاقی اور طفیلی ہے۔ اس لئے یہ شرکت ایسی ہے جیسے خادم کو اپنے مخدوم کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ سالک کی حقیقت کو حضرت علیہ الصلوۃ والسلام کی حقیقت کے ساتھ انطباق و اتحاد پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ <strong>حقیقت محمدی</strong> تمام حقائق کی جامع ہے۔ اس کو<strong>حقیقت الحقائق </strong>کہتے ہیں اور دوسروں کے حقائق اس کے اجزاء کی طرح ہیں یا جزئیات کی طرح۔ کیونکہ اگر محمدی المشرب ہے۔ تو سالک کی حقیقت اس کلی کے لئے جزئی کی طرح ہے اور اس پر محمول ہے اورمحمدی المشرب کے سوا کسی غیر کی حقیقت اس کل کے لئے جزو کی طرح ہے اور اس پر غیر محمول ہے۔ غیرمحمدی المشرب کی اس حقیقت کو اگر عروج  میں اتحاد پیدا ہوتو اس پیغمبر کی حقیقت کے ساتھ ہوگا۔ جس کے قدم پروہ ہے اوراسی حقیقت پر محمول ہوگی اور اس کے کمالات میں شرکت پیدا کر یگی۔ لیکن یہ شرکت خادم مخدوم کی شرکت کی قسم سے ہوگی جیسے کہ گزر چکا اور جب اس جزئی کو کمال متابعت کے علاقہ سے بلکہ محض فضل سے اپنی کلی کے ساتھ محبت خاص پیدا ہو جاتی ہے اور وہاں تک پہنچنے کا شوق اس کو دامنگیر ہو جاتا ہے تو وہ قید جوکلی کو جزئی میں  لائی تھی ۔ خداوند تعالی کے فضل سے دور ہونے لگتی ہے اور آہستہ آہستہ زوال کے بعد اس جزئی کو اس کلی کے ساتھ انطباق والحاق حاصل ہو جاتا ہے اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ محبت خاص پیدا ہو جاتی ہے۔ جس طرح کہ محض فضل سے اس فقیر کو پیدا ہوئی تھی اور اس محبت کے غلبہ میں کہا کرتا تھا کہ میری محبت حق تعالی کے ساتھ اس لئے ہے کہ حق تعالی حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا رب ہے اور میاں شیخ تاج اور دوسرے یار اس بات پر تعجب کرتے تھے میرے خیال میں شاید آپ کو بھی یہ بات یاد ہوگی ۔ غرض جب تک اس قسم کی محبت پیدا نہ ہو۔ الحاق و اتحادمتصورنہیں ہوتا۔  <strong>ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ</strong> ( یہ الله تعالی کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور الله تعالی بڑے فضل والا ہے۔)</p>



<p id="block-a602c75b-e451-4061-994c-2e413681b71d">اب تو سط و عدم توسط کی حقیقت کو بیان کرتا ہوں ۔ غور سے سنیں ۔ طریق جذبہ میں چونکہ مطلوب کی طرف سے کشش ہے اور الله تعالی کی عنایت طالب کے حال کی متکفل ہے۔ اس لئے واسطہ اور وسیلہ کوقبول نہیں کرتا اور طریق سلوک میں چونکہ طالب کی انابت و رجوع ہے اس لئے اس میں وسیلہ اور واسطہ کا ہونا ضروری ہے۔ نفس جذبہ میں اگرچہ وسیلے درکار ہیں لیکن جذبہ کا تمام ہونا سلوک پر وابستہ ہے کیونکہ جب تک سلوک جو شریعت کے بجالانے یعنی توبہ و زہد وغیرہ سے مراد ہے۔ جذبہ کے ساتھ نہ ملے تب تک جذبہ نا تمام وا بتر رہتا ہے۔ ہم نے بہت سے ہنوداورملحدوں کو دیکھا ہے کہ جذبہ رکھتے ہیں لیکن چونکہ صاحب شریعت علیہ الصلوۃ والسلام کی متابعت سے آراستہ نہیں ہیں۔ اس لئے خراب و ابتر ہیں اور جذب کی صورت کے سوا کچھ نصیب نہیں۔</p>



<p id="block-cf12a4e5-3a1e-4c78-96b3-79b9695dde93">&nbsp;سوال: جذب کا حاصل ہونا ایک قسم کی محبوبیت چاہتا ہے پس کفار کے لئے جو اللہ تعالی کے دشمن ہیں جذبہ کا نصیب کس طرح تصور کیا جاتا ہے۔ جواب: ہوسکتا ہے کہ بعض کفار ایک قسم کی محبوبیت رکھتے ہوں جو ان کے جذب کے حاصل ہونے کا باعث ہوئی ہو۔ لیکن چونکہ ان کو صاحب شریعت علیہ الصلوة والسلام کی متابعت سے آراستہ نہیں کیا۔ خوار اور زیاں کار رہے ہیں اور اس جزو میں حجت کے سوا اور کچھ ان پر درست نہیں کیا کیونکہ ان کی استعداد کو جتلا دیا ہے جس کو وہ جہل و عداوت کے باعث قوت سے فعل یعنی پوشیدگی سے ظہور میں نہیں لائے <strong>وَمَا ‌ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ</strong> الله تعالی نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ تو اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ) طریق جذبہ&nbsp; میں اگر صاحب شریعت علیہ الصلوة والسلام کی متابعت کے وسیلہ سے جو کہ سلوک سے مراد ہے مطلوب تک پہنچنا میسر ہو جائے تو کسی امر کے واسطے اور حیلولہ کے بغیر ہوگا ۔ بزرگوں نے فرمایا <strong>ہے۔ ولو دلیتم بدلو لوقعتم علی الله</strong> یعنی اگر تم حق تعالی کی طرف کھینچے جاؤ اور باطنوں کے باطن کی طرف پہنچائے جاؤ تو تمہارے&nbsp;اور حق تعالی کے درمیان کسی امر کا حیلولہ اور حجاب نہ ہوگا شاید آپ کو بھی یاد ہوگا کہ ہمارے حضرت خواجہ قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اس معیت&nbsp;کے راستے سے جوحق تعالی کو بندہ کے ساتھ ہے وصول میسر ہو جائے تو کسی امر کے وسیلہ کے بغیر ہوگا کہ معیت کے مناسب ہے کیونکہ واسط تربیت کے سلسلہ میں ضروری ہے جو سلوک سے مراد ہے اور راہ معیت جذبہ کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے اور حدیث <strong>الْمَرْءُ ‌مَعَ ‌مَنْ ‌أَحَبَّ </strong>( آدمی &nbsp;اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کو محبت ہے) بھی اسی مضمون کی تائید کرتی&nbsp;ہے کیونکہ انسان کو جب اپنے محبوب کے ساتھ معیت ثابت ہو جاتی ہے تو واسطہ درمیان سے اٹھ جاتا ہےذرا غور سے سنیں کہ ہر ایک ظل کو اپنے اصل کی طرف ایک شاہراہ ہے اور کوئی چیز ان کے درمیان حائل نہیں۔ اگر اللہ تعالی کی عنایت سے ظل کو اپنے اصل کی خواہش پیدا ہو جائے اور اس کی طرف کشش ظاہر ہو جائے تو صاحب شریعت علیہ الصلوة والسلام کی متابعت کی بدولت اس ظل کو اس اصل کے ساتھ وصل اور الحاق حاصل ہو جائے گا اور وہ کسی امر کے واسطے اور حیلولہ کے بغیر ہوگا چونکہ وہ اصل اسماء &nbsp;الہی جل شانہ میں سے ایک اسم ہے اس لیے اسم اور اس کےمسمی میں کوئی حائل نہ ہوگا پس ظل کا اس راستے سے اصل الاصل تک جو اس اسم کا مسمی ہے پہنچنا کسی امر کے وسیلہ کے بغیر ہوگا ۔ نیز جو شخص بیچونی وصول کے ساتھ حضر ت ذات تعالی کاواصل ہے اس کے حق میں کسی امر کا واسطہ اور حیلولہ مفقود ہے جب حضرت ذات تعالی کے وصول کی صورت میں حق تعالی کی صفات کا حجاب اور حیلولہ ہونا دور ہو جاتا ہے تو پھر صفات&nbsp;کے سوا کسی اور امر کا حجاب اور حیلولہ ہونا کب گنجائش رکھتا ہے۔</p>



<p id="block-ac10cd6f-2bed-417b-92e2-c04edb37e272">&nbsp;سوال: جب حضرت ذات تعالی سے صفات واجبی جل شانہ کا جدا ہونا جائز نہیں تو پھر اصل اور موصول الیہ کے درمیان سے صفات کے حیلولہ کا دور ہو جانا کس طرح ہے؟</p>



<p id="block-7911e898-97aa-42fe-8fc2-66b8b0c4ae3e">&nbsp;جواب: جب سالک کو اپنے اصل کے ساتھ (جواسماء الہی میں سے ایک اسم ہے اور وہ سالک اس کا ظل ہے )وصل وتحقق حاصل ہو جائے تو سالک اور حضرت ذات تعالی کے درمیان کوئی&nbsp;<strong> </strong>&nbsp;واسطہ اور حیلولہ نہ ہوگا جس طرح کہ اسم اور اس کے مسمی میں کسی امر کا حیلولہ ثابت نہیں ۔ پس نہ ارتفاع لازم آیا اور نہ انفکاک۔ اسی قسم کی&nbsp; تحقیق &nbsp;حقیقت سالک اور حقیقت محمدی کے اتحاد میں اوپر گزر چکی ہے۔ اس تحقیق کا تھوڑا ساحال ظل کے اپنے اصل تک پہنچنے کے بیان میں گزر چکا ہے۔&nbsp;</p>



<p id="block-20bc2496-6098-4855-96da-c2e39a5f5866">تنبیہ : اس عدم توسط یعنی واسطہ کے نہ ہونے سے جو طریق جذبہ وغیرہ میں کہا گیا ہے کوئی بیوقوف یہ گمان نہ کرے کہ حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کی بعثت کی کچھ حاجت نہیں اور ان کی تبعیت و متابعت کی کچھ پرواہ نہیں کیونکہ یہ کفر و الحاد وزندقہ اور شریعت حقہ کا انکار ہے حالانکہ اوپر گزر چکا ہے کہ جذبہ سلوک کے واسطے کے بغیر جو شریعت کے بجالانے سے مراد ہے ابتر و نا تمام اور سراسرنقمت اور عذاب ہے جو نعمت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور جذبہ ناتمام کے صاحب پر حجت کو پورا کیا ہے ۔ عرض کشف صحیح &nbsp;اور الہام صریح سے یقینی طور پر معلوم ہو چکا ہے کہ اس راہ کے دقائق میں سے کوئی دقیقہ اور اس گروہ کے معارف میں سے کوئی معرفت آنحضرت علیہ الصلوة والسلام کی متابعت کے واسطہ اور وسیلہ کے بغیر میسر نہیں ہوتی اور مبتدی اور متوسط کی طرح منتھی کو بھی اس راہ کے فیوض و برکات آنحضرت کی طفیل و تبعیت کے بغیر حاصل نہیں ہوتے۔ بیت۔</p>



<p id="block-f034306e-11c6-46e1-88ad-cd243792ebaa"><strong>  محال است سعدی که راه صفا تو اں رفت جز درپے مصطفی</strong></p>



<p id="block-3e3dd6f5-98f8-4a87-9396-67d9bc43d4f3">ترجمہ: اطاعت نہ ہو جب تک مصطفی کی کبھی حاصل نہ ہو دولت صفا کی</p>



<p id="block-bf0ac3f2-4fd3-450f-be3f-acdb7faf5e53">افلاطون بے وقوف نے اس صفائی کے باعث جو ریاضتوں اور مجاہدوں سے اس کے نفس کو حاصل ہوئی اپنے آپ کو انبیاء علیہم الصلوة والسلام کی بعثت سے مستغنی جانا اور کہا کہ ‌<strong>نَحْنُ قَوْمٌ مَّهْدَیُّوْنَ لَاحَاجَةَ بِنَا إِلىٰ مَنْ يَّهْدِيْنَا</strong> ہم ہدایت یافتہ لوگ ہیں ہم کو ایسے شخص کی حاجت نہیں ہے جو ہم کو ہدایت دے۔  اس بیوقوف نے یہ نہ جانا کہ یہ صفائی جو انبیاء کی متابعت کے بغیر ریاضتوں اور مجاہدوں سے حاصل ہوئی ہے ایسی ہے جیسی سیاه تابنے پر سونا چڑھا دیں۔ زہر کو شکر سے غلافی کریں وہ انبیاء کی متابعت ہی ہے جو تا ہنے کی حقیقت کو بدل کر خالص سونا بنادیتی ہے اور نفس کو اماره پن سے نکال کر اطمینان میں لے آتی ہے ۔ حکیم مطلق جل شانہ نے انبیاءعلیہم الصلوة والسلام کی بعثت اور شرائع کو امارہ  کے عاجز اور خراب کرنے کے لیے مقرر کیا ہے اور اس  کی خرابی بلکہ اس کی اصلاح کو ان بزرگواروں کی متابعت کے سوا اور کسی چیز میں نہیں رکھا۔ ان بزرگواروں کی متابعت کے بغیر اگر ہزاروں ریاضتیں اور مجاہد ے کیے جائیں اس کا اماره پن بال بھربھی کم نہیں ہوتا بلکہ اس کی سرکشی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ع </p>



<p id="block-47e881f2-7175-4450-85c5-9f23b13b4e1d"><strong>ہر چہ گیر دعلتی علت شود</strong> ترجمہ جوکچھ مریض کھاۓ اس کا مرض بڑھ جائے ۔</p>



<p id="block-bd5b047b-f8a9-4bc2-bdc8-76a02dc69473">اس کے ذاتی مرض کا دور ہونا انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی شرائع پر موقوف ہے۔ <strong>وَبِدُونِهَا خَرْطُ الْقَتَادِ</strong> ( اور اس کے سوا بے فائد ه رنج و تکلیف ہے) جاننا چاہیئے کہ جذبہ کے لیے اگر چہ سلوک کا ہونا ضروری ہے خواہ جذبہ سلوک پر مقدم ہو یا مؤخر لیکن جذبہ کے مقدم ہونے میں فضیلت ہے کیونکہ اس صورت میں سلوک اس کا خادم ہے اور جذبہ کے مؤخر ہونے میں سلوک اس کا مخدوم ہے۔ </p>



<p id="block-7da72f09-9319-4d0a-95c2-bb1338b3dab5">کیونکہ وہ اس کی بدولت اس کو جذب میسر ہوا ہے لیکن جذبہ کے مقدم ہونے میں ایسا نہیں کیونکہ وہ بالذات مطلوب ومدعو ہے۔ اسی واسطے یہ مراد ہوا اور وہ مرید۔ مرادوں کے سردار اورمحبوبوں&nbsp;کے رئیس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں کیونکہ اس دعوت سے مقصود ذاتی اور مدعواولی (سب سے اول بلایا ہوا) آنحضرت ﷺہی ہیں اور دوسروں کو خواہ مراد ہوں یا مرید حضور ہی کی طفیل بنایا ہے۔ <strong>لو لاہ لما خلق الله الخلق ولما أظهر الربوبية</strong> (اگر وہ نہ ہوتے تو الله تعالی خلقت کو پیدا نہ کرتا اور نہ اپنی ربوبیت ظاہر کرتا) چونکہ دوسرے سب ان کے طفلی ہیں اور وہ اس دعوت کے اصل مقصود ہیں۔ اس لیے سب ان کے محتاج ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے فیوض و برکات اخذ کرتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اگر سب کو ان کی آل کہیں تو بجا اور درست ہے&nbsp;کیونکہ سب ان کے پیچھے چلنے والے ہیں اور ان کے وسیلہ کے بغیر کامل وصول نہیں کر سکتے جب ان سب کا وجود ان کے وجود کے وسیلہ کے بغیرمتصور نہیں ہوسکتا تو دوسرے کمالات جو وجود کے تابع ہیں ان کے وسیلہ کے بغیر کس طرح متصور ہو سکتے ہیں ہاں محبوب رب العالمین ایسا ہی ہونا چاہیئے ذرا کان لگا کر سنیں مکشوف ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺکی محبوبیت حق تعالی کی اس محبت کے ساتھ ثابت ہے جو شیون و اعتبارات کے بغیر حق تعالی کی ذات بحت سے تعلق رکھتی ہے اور جس محبت کے سبب حق تعالی کی ذات محبوب ہے برخلاف دوسروں کی محبوبیت کے جو اس محبت کے ساتھ ثابت ہے جس کا تعلق شیون و اعتبارات کے ساتھ ہے اور اسماء و صفات با اسماء وصفات کے ظلال کے ساتھ درجہ بدرجہ متلبس ہے۔&nbsp;</p>



<p id="block-07b9e84a-0103-4762-9c8d-46965e64c592"><strong>فإن فضل رسول الله ليس له&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حد فيعرب عنه ناطق بفم</strong></p>



<p id="block-1d30ce9e-adc8-43f8-9dd5-6bd3691e4f40">ترجمہ: بیت&nbsp;رسول پاک کی شان وفضیلت بے نہایت ہے&nbsp;کر سے ظاہر زبان کیونکر کہاں اس میں یہ طاقت ہے</p>



<p id="block-5e047356-4940-4b0b-bea6-944ef08d0e49">اس مقام کی تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺکا توسط یعنی واسطه و وسیلہ ہونا دو وجہ پر ہوسکتا ہے۔ ایک یہ کہ آنحضرت ﷺسالک اور اس کے مطلوب کے درمیان حائل وحاجب ہوں ۔ دوسرے یہ کہ سالک آنحضرت کے طفیل اور آنحضرت کی تبعیت و متابعت&nbsp;کے واسطہ سے مطلوب تک واصل ہو۔ طریق سلوک میں حقیقت محمدی تک پہنچنے سے پہلے دونوں طرح کا واسطہ ثابت ہے بلکہ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طریق میں جوشیخ در میان آیا ہے شہود سالک کا متوسط و حاجب ہے۔ اگر آخر میں جذبہ کے ساتھ اس کا تدارک نہ کریں اور اس کا معاملہ پردہ سے بے پردگی تک نہ پہنچے تو اس کا حال قابل افسوس ہے کیونکہ طریق جذبہ میں حقیقت الحقائق یعنی حقیقت محمدی تک پہنچنے کے بعد دوسری وجہ کا واسطہ ثابت ہے جو طفیلیت اور تبعیت ہے نہ کہ حیلولت و حجاب جوشہود و مشاہدہ وغیرہ کا پردہ ہو۔ کوئی یہ نہ کہے کہ اس واسطے&nbsp;کے نہ ہونے سے اگر چہ ایک ہی وجہ سے ہو۔ حضرت خاتمیت علیہ الصلوة والسلام کی جناب پاک میں قصور لازم آتا ہے کیونکہ میں کہتا ہوں کے واسطے کا نہ ہونا آنجناب علیہ الصلوة والسلام&nbsp;کے کمال کو مستلزم ہے نہ قصور کو کیونکہ قصور وسیلہ و واسطہ کے ہونے میں ہے۔ اس لیے کہ متبوع کا کمال یہ ہے کہ یہ طبع اس کی طفیل و تبعیت سے کمال کے تمام درجات تک پہنچ جائے اور کوئی دقیقہ نہ چھوڑے یہ امر واسطہ کے نہ ہونے میں ثابت ہے نہ کہ واسطہ کے ہونے میں کیونکہ وہاں شہود بے پردہ ہے جو درجات کمال کی نہایت ہے اور یہاں در پرده پس کمال وسیله و واسطہ کے نہ ہونے میں ہے اورقصور واسطہ کے ہونے میں یہ مخدوم کی عظمت و شوکت کا باعث ہے کہ<em> </em>اس کا خادم کسی مقام میں اس سے پیچھے نہیں رہتا اور اس کی تبعیت سے سب کی دولت میں شریک ہوتا ہے اسی واسطے آنحضرت نے فرمایا ہے کہ عُلَمَاءُ أُمَّتِي ‌كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں)رویت اخروی کسی امر کے واسطہ اور حیلولہ کے بغیر ہوگی۔ حدیث میں آیا ہے کہ جب بندہ نماز میں داخل ہوتا ہے تو وہ حجاب جو بندہ اور خدا&nbsp; کے درمیان ہے دور ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے اور اس سے بہت ساحصہ منتہی واصل کو حاصل ہوتا ہے کیونکہ حجاب کا دور ہونا اس فقیر کی خاص لدنی معرفتوں میں سے ہے جومحض فضل و کرم سے اس فقیر کو عطا فرمائی ہے اور اس کی حقیقت سے متحقق کیا ہے۔ بیت&nbsp;</p>



<p id="block-3a374cde-37b4-4ce2-90f9-95dbe44880c8"><strong>من آں خاکم که ابر نو بهاری کنداز لطف بر من قطره باری</strong></p>



<p id="block-e199cfec-f587-4a10-84cb-b5b8dc7f537d">&nbsp;ترجمہ بیت . وہ مٹی ہوں کہ ابر نو بہاری کرے جس پر کرم سے قطره باری&nbsp;</p>



<p id="block-0abbde47-f040-4f8b-87ae-720dfc6cb2e1">کسی نے اچھا کہا ہے۔ بیت</p>



<p id="block-9bbc998a-9bea-4d22-a830-c94a018746fa"><strong>اگر پادشہ بردر پیر زن بیاید تو اے خواجہ  سبلت مکن</strong></p>



<p id="block-7a5f5c8f-a238-45de-8fb1-023dba61ab00">&nbsp;ترجمہ: اگر بڑھیا کے در پر آئے سلطان تو اے خواجہ نہ ہو ہرگز پریشان</p>



<p id="block-cc621ab1-563e-45c9-91fc-e9cc193bdb89">آنحضرت ﷺکے توسط و عدم توسط میں مشائخ طریقت قدس سرہم کا بہت اختلاف ہے ۔ بعض توسط کی طرف گئے ہیں اور بعض عدم توسط کی طرف لیکن کسی نے توسط وعدم توسط کی تحقیق نہیں کی اور کمال قصور کی نسبت کچھ بیان نہیں کیا ۔ نزدیک ہے کہ ارباب ظواہریعنی علماء ظاہر عدم توسط کو کہ کمال ایمان ہے ۔کفر جانیں اور بے سوچ سمجھے اس&nbsp;کے قائل کو گمراہی کی طرف منسوب کریں اور تو سط کو کمال ایمان تصور کریں اور اس کے قائل کو کامل تابعداروں سے جانیں حالانکہ عدم توسط متابعت کے کامل کی خبر دیتا ہے اور تو سط متابعت کے تصور کو ظاہر کرتا ہے جیسے کہ گزر چکا ان کا یہ کہنا حقیقت حال سے ناواقف ہونے کے سبب&nbsp;سے ہے اللہ تعالی فرماتا ہے۔ <strong>بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ ‌يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ وَلَمَّا يَأْتِهِمْ تَأْوِيلُهُ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ &nbsp;&nbsp;</strong>بلکہ جھٹلایا انہوں نے اس سبب سے کہ اس کے علم کا احاطہ نہ کیا حالانکہ ابھی اس کی تاویل ان کے پاس نہیں آئی اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا) میرے مخدوم ! اویسی کہنے میں پیر ظاہر کا انکار نہیں کیونکہ اویسی وہ شخص ہے جس کی تربیت میں روحانیوں کا دخل ہوحضرت خواجہ احرار قدس سرہ کو پیر ظاہر کرنے کے باوجود چونکہ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کی روحانیت سے امداد بھی تھی اس لیے اویسی کہتے تھے اسی طرح حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ نے باوجود پیر ظاہر کے چونکہ حضرت خواجہ عبدالخالق قدس سرہ کی&nbsp;روحانیت سے مدد پائی تھی اس لئے وہ بھی اویسی تھے خصوصا وہ شخص جواویسی ہونے کے باوجود پیر ظاہر کا اقرار رکھتا ہے اس زبردستی پیر کا انکار اس کے ز مے لگاتا عجب انصاف ہے۔ میرے مخدوم ۔ لفظ عبدالباقی کی ترکیب سے مراد اضافی معنی ہیں ۔ نہ علمی معنی بھی اگر چہ علمی معنی بھی اس سے بخوبی ظاہر ہوتے ہیں لیکن میرا پیرا گرچه بنده باقی کا ہے یعنی اللہ تعالی کا بندہ ہے لیکن میری تربیت کا متکفل اور ذمہ دار الله باقی ہے۔ اس میں کونسی تحریف اور بے ادبی ہے۔ اللہ تعالی انصاف دے میرے مخدوم وہ قصور جو معنی سبحانی میں کہ غلبات سکر(مستی) &nbsp;میں حضرت بسطامی قدس سرہ سے صادر ہوا ہے کہ کہا ہے اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ تصور اس کے کہنے والے میں دائمی ہوتا کہ دوسرا اس سے افضل ہو کیونکہ بہت سے ایسے معارف ہیں جو ایک وقت میں اس قوت کےحال کے موافق صادر ہوتے ہیں اور دوسرے وقت میں اللہ تعالی کی عنایت سے جب ان کا قصور معلوم ہوا <em>ہے </em>تو ان سے گزر کر اوپر کے مقام میں پہنچے ہیں۔ آپ کے مکتوب شریف میں لکھا تھا کہ اگر ارباب سکر(مستی) اس قسم شطح آمیز (وہ اقوال جو حالت مستی&nbsp; اور ذوق میں بے اختیار صادر ہوں،بظاہر خلاف شریعت)باتیں لکھیں تو بجا ہے لیکن ارباب صحو&nbsp;(ہوشیاری) سے اس قسم کی باتوں کا ظاہر ہونا تعجب کا باعث ہے میرے مخدوم جس کسی نے ان باتوں کو لکھا ہے سکر ہی کے باعث لکھا ہے ۔ سکر &nbsp;کی آمیزش کے بغیر اس بارہ میں کوئی قلم نہیں پکڑتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سکر میں بہت سے مرتبے ہیں جس قدر سکر زیادہ ہوگا اسی قدر شطح غالب ہوگا بسطامی جیسا شخص ہونا چاہیئے کہ قول لوائي ارفع من لواء محمد (میرا جھنڈا حضرت محمد&nbsp;ﷺکے جھنڈے سے برتر ہے ) اس سے بے تحاشا سرزد ہو۔ پس جو کوئی صحو رکھتا ہے گمان نہ کریں کہ سکر اس کے ہمراہ نہیں کیونکہ یہ عین قصور ہے ۔صحو خالص عام کا نصیب ہے جس نے صحو کو ترجیح دی ہے اس کی مراد غلبہ صحو ہے نہ صرف صحواسی طرح جس نے سکر کو ترجیح دی ہے اس کی مراد غلبه سکر ہے نہ سکر خالص کہ وہ سراسر آفت ہے حضرت جنید قدس سره جوار باب صحو کے رئیس ہیں اورصحو کوسکرپرترجیح دیتے ہیں۔ ان کی اس قدر سکر &nbsp;آمیز عبارتیں ہیں جن کا شمارنہیں ہوسکتا۔ فرماتے ہیں۔ <strong>هو العارف والمعروف</strong> (وہی عارف ہے اور وہی معروف ) اور فرماتے ہیں <strong>لون الماء لون انائہ</strong> ( پانی کا رنگ اس کے برتن کا رنگ ہے) اور فرماتے ہیں۔ <strong>المحدث إذا قورن بالقديم لم يبق له اثر</strong> (حادث جب قدیم کے ساتھ مل جاتا ہے تو اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا) صاحب عوارف جوکاملین ارباب صحو میں سے ہے اس&nbsp; کی کتاب میں اس قدر معارف سکر &nbsp;یہ ہیں جن کا بیان نہیں ہوسکتا۔ اس فقیر نے اس کے معارف سکر &nbsp;یہ کو ایک ورق میں جمع کیا ہے ۔ سکر &nbsp;کے بقیہ کا سبب ہے کہ اسرار کا ظاہر کرنا جائز&nbsp;سمجھتے ہیں اور سکر &nbsp;ہی کا باعث ہے جو فخر و مباہات کرتے ہیں ۔ سکر &nbsp;ہی سے ہے کہ دوسروں پر اپنی زیادتی ظاہر کی جاتی ہے جہاں صحو خالص ہے وہاں اسرار کا ظاہر کرنا کفر ہے اور اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر جاننا شرک ہے صحو میں سکر &nbsp;کا بقیہ نمک کی طرح ہے جو طعام کا اصلاح کرنے والا ہے اگر نمک نہ ہو۔ طعام معطل و بیکار ہوتا ہے۔ بیت&nbsp;</p>



<p id="block-4a8867f4-cee7-4b2d-9cc9-ca2f7e720dbc"><strong>اگر عشق نبودے وغم عشق نبودے چندیں سخن نغزنه گفتے ونشنو دے </strong></p>



<p id="block-c5580caa-71e4-46f1-b260-cd311bccf924">ترجمہ بیت .&nbsp;گر نہ ہوتاعشق اورہوتانہ &nbsp;اس کا دردوغم ایسی ایسی عمده باتیں پھر نہ کہتے سنتے ہم&nbsp;</p>



<p id="block-14fe7aee-2b2c-4364-9ca1-3fd35856a082">صاحب عوارف قدس سرہ نے قول <strong>قدم هذه على رقبة كل ولی</strong> کو(میرا قدم ہر ایک ولی کی گردن پر ہے ) جوشیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے صادر ہوا ہے ۔سکر(مستی) &nbsp;کے بقیہ پر محمول کیا ہے اس کی مراد اس قول کا قصور نہیں ۔ جیسے کہ بعض نے وہم کیا ہے بلکہ عین مدحت و تعریف ہے اور واقع کا بیان کیا ہے یعنی اس قسم کی باتوں کا صادر ہوتا جو فخر و مباہات کی خبر دیتی ہیں سکر(مستی) &nbsp;کے بقیہ کے بغیر ثابت نہیں کیونکہ صحو خالص میں اس قسم کی باتوں کا سرزد ہونا دشوار ہے۔ اس فقیر نے جو یہ دفتروں کے دفتر اس گروہ کے علوم و اسرار میں لکھے ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سکر &nbsp;کی آمیزش کے بغیرصحوخالص سے لکھے ہیں ہرگز نہیں کیونکہ وہ حرام و منکر اور گزاف و سخن بافی (باتیں بنانا)ہے سخن باف یعنی بیہودہ باتیں بنانے والے جو خالص صحو سے متصف ہیں بہت ہیں وہ اس قسم کی باتیں کیوں نہیں بناتے اور لوگوں کے دلوں کو اس طرف کیوں نہیں مائل کرتے۔ بیت&nbsp;</p>



<p id="block-b4089b02-d274-4998-86fe-b7efac974aa5"><strong>فریاد حافظ این ہم آخر بہر زه نیست ہم قصہ غریب وحدیث عجیب است </strong></p>



<p id="block-7b9b15da-cc41-4eb8-b941-508c6a17376b">ترجمہ بیت نہیں حافظ کی یہ بیہودہ فریاد عجب ہے ماجر ا اس کا سراسر&nbsp;</p>



<p id="block-512fee4f-faa8-4206-ba97-33ddb5816bc4">میرے مخدوم اس قسم کی باتیں جو اسرار کے اظہار پر مبنی ہیں اور ظاہر کی طرف سے مصروف اور پھری ہوتی ہیں ہر وقت مشائخ طریقت قدس سرہم سے سرزد ہوتی رہی ہیں اور ان بزرگواروں کی عادت مستمرہ ہوگئی ہے۔ کوئی نیا امرنہیں جس کو اس فقیر نے شروع کیا ہے یا اس کا&nbsp;اختراع کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p id="block-d4b75031-6b8c-4bdb-a79e-a9af29392412"><strong>وليس هذا ‌أول ‌قارورة كسرت في الإسلام </strong>(یہ پہلی شیشی نہیں جو اسلام میں توڑی گئی ہو)پر یہ سب شور و غوغا کیا ہے ۔ اگر کوئی ایسا لفظ صادر ہوا ہے جس کا ظاہر علوم شریعہ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تو تھوڑی سی توجہ کے ساتھ اس کو ظاہر سے پھیر کر مطابق کرنا چاہیئے اور ایک مسلمان کو متہم نہ کرنا چاہیئے جب شریعت میں فاحشہ کا رسوا کرنا اور فاسق کا خوار کرنا حرام و منکر ہے تو پھر صرف اشتباه ہی سے ایک مسلمان کا خوار کرنا کیا مناسب ہے اور شہر شہر اس کی منادی کرنا کونسی دینداری ہے۔ مسلمانی اور مہربانی کا طریق یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی ایساکلمہ &nbsp;صادر ہو جو بظاہر علوم شرعیہ کے مخالف ہو تو دیکھنا چاہیئے کہ اس کا کہنے والا کو<em>ن </em>ہے اگر&nbsp;ملحدوزندیق (بے دین) &nbsp;ہوتو اس کو رد کرنا چاہیئے اور اس کی اصلاح میں کوشش نہ کرنی چاہیئے اور اگر اس کلمہ کا کہنے والا مسلمان ہو اور خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو تو اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیئے اور اس کے واسطےمحمل صحیح (صحیح معنی) پیدا کرنا چاہیئے یا اس کے کہنے والے سے اس کا حل طلب کرنا چاہیئے اور اگر اس کے حل کرنے میں عاجز ہو تو اس کو نصیحت کرنی چاہیئے اور نرمی کے ساتھ امر معروف اور نہی منکر کرنا چاہیئے کیونکہ اجازت وقبولیت کے نزدیک ہے او اگر مقصود اجابت نہ ہو اور خوار&nbsp;کرنا ہی مطلوب ہو تو یہ الگ بات ہے اللہ تعالی توفیق دے ۔ زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ کے مکتوب شریف سے مفہوم ہوا ہے کہ اس عزیز نے اس فقیر کے مکتوب کو سننے کے بعد آپ کے ملازموں میں بھی اشتباه و انحراف طاری ہو گیا تھا ۔ مانا کہ انعکاسی ہوگا آپ کو چاہیئے تھا کہ اشتباہ کے مقامات کو خودحل کردیتے اور اس فقیر پر نہ ڈالتے اور فتنہ کو فرو کر دیتے۔ فقیر دوسرے یاروں کا گلہ کرے جن میں سے بعض یار اس اشتباه کے دفع کرنے کی طاقت بھی رکھتے&nbsp;تھے۔ کچھ نہ کر سکے اور خامو&nbsp;ش رہے</p>



<p id="block-24dc5cba-baea-4da4-bf0b-64c832a23a16"><strong>مازیا راں چشم یاری و اشتیم خود غلط بود آنچه مانپداشتیم</strong></p>



<p id="block-2e571f9d-2224-4838-b62a-1bd51e749a1d">: ترجمہ بیت ہم کو تھایا روں سےیاری کا خیال پرسراسروہ غلط نکلا خیال&nbsp;</p>



<p id="block-91355373-c2be-4198-8098-407877627d50"><strong>رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا ‌رَشَدًا </strong>يا الله تو اپنے پاس سے&nbsp;ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کام سے بھلائی ہمارے نصیب کر) والسلام اولا واخرا۔&nbsp;</p>



<p id="block-17d53954-5c55-48f9-9fa7-49071108cfad"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر سوم صفحہ365ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b9%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-121%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%2F&#038;title=%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20121%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-121%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3/" data-a2a-title="اعتراضات کے جواب میں مکتوب نمبر 121دفتر سوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d8%b1%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-121%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حقائق سبعہ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%b3%d8%a8%d8%b9%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%b3%d8%a8%d8%b9%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 24 Sep 2021 07:09:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت الجمع]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الہیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق سبعہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق کونیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت ابراہیمی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت احمدی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت صلاۃ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت قرآن]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت کعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت موسوی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=2858</guid>

					<description><![CDATA[حقائق سبعہ لغت میں لفظ حقیقت سے مراد ذات ،شئی یا کسی لفظ یا عبارت کا بنیادی مفہوم ہے اس کا متضاد مجاز ہے اور اس کی جمع حقائق ہے۔ اصطلاح میں کسی شے کی اصلیت ،کُنْہ( ماہیتِ الٰہی جو <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%b3%d8%a8%d8%b9%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>حقائق سبعہ</h1>
<p>لغت میں لفظ حقیقت سے مراد ذات ،شئی یا کسی لفظ یا عبارت کا بنیادی مفہوم ہے اس کا متضاد مجاز ہے اور اس کی جمع حقائق ہے۔</p>



<p>اصطلاح میں کسی شے کی اصلیت ،کُنْہ( ماہیتِ الٰہی جو ادراک سے پرے ہے۔انتہا، غایت) ,داخلی مطلب ،جوہر اور باطنی پہلو مراد ہے ۔پس اہل حقیقت سے مراد وہ لوگ لئے جاتے ہیں جو اشیاء کے باطنی پہلوؤں کو جانتے ہیں اور اس کا تجزیہ بھی کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اس اعتبار سے <strong>حقیقت الحقائق</strong> کہا جاتا ہے یہ توحید کابلند مرتبہ ہے جسے <strong>حضرت الجمع</strong> بھی کہتے ہیں۔</p>



<h2>صوفیائے کرام کے نزدیک حقیقت</h2>
<p>صوفیائے کرام کے نزدیک حقیقت سے مراد کسی شے کا مبداء تعین ہے جہاں سے وہ شے فیض و تربیت پاتی ہے۔</p>



<p>۔ پس جاننا چاہئیے کہ حقیقت کا اِطلاق کئی وجہ سے ہوتا ہے یہاں حقیقت سے مُراد مبداءِ فیض ہے وہ حقیقت مُراد نہیں جو جِنس اور نوع سے مُرکب ہوتی ہے کہ اس پر اعتراض کیا جاسکے</p>



<p>حقیقت وجود کی وہ خاصیت ہے جو ہر شے کیلئے ضروری ہوتی ہے</p>



<p>دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے لیکن ظاہر تعیین اوقات جائے گمان اور اجسام کے ساتھ مصلحتوں کے قائم کرنے سے متعلق ہیں اور اس کا باطن طاعات کے آثار اور انوار کے حاصل کرنے کا نام ہے<br />حقائق کے سات مراتب ہیں ان کو حقائق سبعہ کہا جاتا ہے اور وہ درج ذیل ہیں</p>
<h2><strong>حقیقت محمدی</strong> صلی اللہ علیہ وسلم</h2>



<p>حقیقتِ محمّدی ایک جامع ذات ہے جو ہر قسم کے تنزل(زوال) سے پاک ہے حقیقت محمدی کو صوفیاء کے ہاں &#8216;مرتبہ ٔ وحدت&#8217; اور &#8216;موجود اجمالی&#8217; اور &#8216;حقیقة الحقائق&#8217; اور &#8216;عقل اوّل&#8217; اور &#8216;عالم صفات&#8217; اور &#8216;ظہورِ اوّل&#8217; اور &#8216;عالم رموز&#8217; اور &#8216;اُمّ الفیض&#8217; وغیرہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے</p>
<h2>

</h2>
<h2><strong>حقیقت احمدی</strong> صلی اللہ علیہ وسلم</h2>
<h2>

</h2>
<h2>ح<strong>قیقت ابراہیمی</strong> علیہ السلام</h2>
<h2>

</h2>
<h2><strong>حقیقت موسوی </strong>علیہ السلام</h2>
<h2>

</h2>
<h2><strong>حقیقت کعبہ</strong></h2>
<h2>

</h2>
<p>*حقیقتِ کعبہ سے مُراد وہ مرتبہِ وجوب ہے جو حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عالمِ امر کا مربی ہے اور شان العلم سے برتر ہے۔ اس اعتبار سے حقیقتِ کعبہ حقیقتِ مُحمّدیہ سے افضل ہے۔</p>



<h2><strong> حقیقت قرآن </strong></h2>



<p> حقیقتِ قرآنی اور حقیقتِ کعبہِ ربّانی کا درجہ حقیقتِ محمّدی علیٰ مظہرھا الصَّلوٰۃ و السَّلام و التحیۃ سے اُوپر ہے لہٰذا حقیقتِ قرآنی حقیقتِ محمّدی کی امام اور پیشوا ہوئی اور حقیقتِ کعبہِ ربّانی حقیقتِ محمدی کی مسجود ہوئی</p>



<h2><strong>حقیقت صلاۃ</strong></h2>
<p>پہلی چار حقائق <strong>حقائق کونیہ</strong>(مخلوقات عالم کے متعلق تمام حقاق، وہ شے ہے جو پہلے موجود نہ تھی اور پھر پیدا کی گئی حقائق کونیہ ہیں انہیں موجودات حدیث کہتے ہیں۔) اور آخری تین حقائق کو <strong>حقائق الہیہ(</strong>  بمعنی علم عقل، قلم، لوح ، کرسی، عرش وغیرہ۔ انہیں موجودات قدیم کہتے ہیں <strong>) </strong>کہا جاتا ہے حقیقت کعبہ حقیقت کونیہ سے افضل ہے کیونکہ حقیقت کعبہ ظہور تنز یہہ صرف ذات حق تعالیٰ ہےاور یہ مرتبہ وجوب اور حقائق کونیہ ظہورات مراتب وجوب ہیں نہ کہ خود مراتب وجوب۔</p>



<p>اسی طرح حقیقت قرآن باعتبار مبدا وسعت اور حقیقت صلاۃ باعتبار وسعت ذات ہونے کے حقیقت کعبہ سے افضل ہیں</p>



<p><strong>عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ‌‌«إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ ‌كَهَيْئَةِ ‌الْمَكْنُونِ، لا يَعْرِفُهُ إِلا الْعُلَمَاءُ بِاللَّهِ، فَإِذَا نَطَقُوا بِهِ لَمْ يُنْكِرْهُ إِلا أَهْلُ الْغِرَّةِ بِاللَّهِ </strong></p>



<p>حضرت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یقینا بعض علم بیش قیمت مستور موتی کی طرح ہیں انہیں علمائے ربانی کے علاوہ کوئی نہیں پہچان سکتا پس جب وہ اس علم کے بارے میں بات کرتے ہوتے ہیں تو اہل تکبر ہی اس کا انکار کرتے ہیں</p>



<p>الفردوس بمأثور الخطاب : شيرويه بن شهردار بن شيرو يه بن فناخسرو، أبو شجاع الديلميّ الهمذاني الناشر: دار الكتب العلمية &#8211; بيروت</p>



<p>إحياء علوم الدين المؤلف: أبو حامد محمد بن محمد الغزالي الطوسي الناشر: دار المعرفة &#8211; بيروت</p>



<p>  شیخ اکبر ابن عربی نے آیت فمن حج البیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے</p>



<p>یعنی حج کرنے  والا وحدت ذاتیہ کے مقام پر پہنچ گیا اور حضرت حق میں فنائے ذاتی کلی  کےساتھ داخل ہوگیا۔</p>



<p>اس کے مقابل حضرت مجدد الف ثانی نے لکھا ہے</p>



<p> حقیقت کعبہ سے مراد ذات حق تعالیٰ ہے جو سجدہ اور عبادت کے لائق ہیں حقیقت محمدیہ ظہور اول اور حقیقت الحقائق ہے۔</p>



<p>اس سلسلہ میں حضرت مجدد الف ثانی خود لکھتے ہیں</p>



<p> حقیقت محمدی علیہ من الصلوت افضلھا والتسلیمات و اکملھا  دراصل ظہور اور حقیقت الحقائق ہے دوسرےتمام حقائق یعنی  انبیاء کرام اور ملائکہ کرام  علیھم الصلوۃ والسلام  کے حقائق تمام  اس کے ظلال کی طرح ہیں خود نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالی نے میرے نور کو پیدا کیا۔</p>



<p>آپ نے اسی مکتوب میں لکھا</p>



<p>مراتب ظلال طے کرنے کے بعد اس فقیر پر جو کچھ کشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ حقیقت محمدی حقیقت الحقائق کا تعین اورظہور ہے جو مخلوق کی پیدائش کا اصل منشا ہے۔</p>



<p>دنیا کی پیدائش کے لیے پہلے حب پیدا کی گئی اس کے بعد وجود کیوں کہ حضرت حق جل وعلااس حب اور وجود سے مستغنیٰ ہیں</p>



<p> حضرت مجدد الف ثانی اس مکتوب کے آخر میں لکھتے ہیں</p>



<p>تعین اول  میں جو تعین حبی ہے پر جب بڑی باریکی سے نظر کی جائے تو رب کریم کے فضل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تعین کا مرکز حب ہے جو حقیقت محمدی ہی ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&#038;title=%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%D8%B3%D8%A8%D8%B9%DB%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%b3%d8%a8%d8%b9%db%81/" data-a2a-title="حقائق سبعہ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%b3%d8%a8%d8%b9%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسئلہ وحدت الوجود مکتوب نمبر1 دفتردوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 08 Aug 2021 13:59:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[اعیان ثابتہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ محی الدین ابن عربی]]></category>
		<category><![CDATA[صور علمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظواہر]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت الوجود]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1185</guid>

					<description><![CDATA[&#160;مسئلہ وحدت الوجودمیں شیخ محی الدین ابن عربی کے مذہب کے بیان میں جو حضرت ایشان سلمہ الله تعالی کے نزدیک مختار ہے۔شیخ عبد العزیزجونپوری کی طرف صادر فرمایا: ۔&#160; اللہ تعالی کی حمد ہے جس نے امکان کووجوب کا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;مسئلہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">وحدت الوجود</span></strong>میں <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>شیخ محی الدین ابن عربی</strong></span> کے مذہب کے بیان میں جو حضرت ایشان سلمہ الله تعالی کے نزدیک مختار ہے۔شیخ عبد العزیزجونپوری کی طرف صادر فرمایا: ۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی کی حمد ہے جس نے امکان کووجوب <strong>کا آئینہ اور عدم کو وجود کا مظہر بنایا وجوب اور </strong>وجود اگر چہ حق تعالی کے کمال کی دوصفتیں ہیں لیکن حق &nbsp;تعالی تمام ا<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سماء و صفات</span> اور تمام <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">شیون </span>(اس کا مُفرد شان ہے &nbsp;&nbsp;شان کا معنیٰ حال اور امر ہے) و <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">اعتبارات </span>اور <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ظہور</span></strong><span class="has-inline-color has-black-color">(ظاہر)</span><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> </span>و<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بطون</span></strong><span class="has-inline-color has-black-color">(باطن)</span><strong> اور<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بروز</span></strong> (کسی شخصیت کی جگہ کوئی اور ظاہر ہوجائے &nbsp;یا اسکی شکل اختیار کرلے)<strong> و<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">کمو</span></strong><em><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ن</span> </em>( ضم یاپوشیدہ ہونا)اور تمام <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>تجلیات </strong></span>و <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ظہورات </span></strong>اور تمام <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مشاہدات </span></strong>و <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مکاشفات </span>اور تمام محسوس </strong>ومعقول اورتمام <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">موہوم </span></strong>و <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>متخیل </strong></span>سے وراء الوراءثم وراء الوراءثم وراء الوراءہے&nbsp;</p>



<p>چوں گویم باتواز مرغ نشانہ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; کہ باعنقا بود ہم آشیانہ</p>



<p>زعنقا ہست نامے پیش مردم&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; زمرغ من بود آں نام ہم گم</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: میں تجھے کیا بتاؤں کہ وہ کہاں ہےدراصل وہ عنقا کی طرح بے نشان ہے جس طرح عنقا کانام تو سب کو معلوم ہےمگر اس کا تو نام بھی کسی کو &nbsp;پتہ نہیں</p>



<p><strong>&nbsp;</strong>کسی حمد کرنے والے کاحمد اس کی ذات بلند کی پاک بارگاہ تک نہیں پہنچتابلکہ اس کی عزت و جلال کے پر<strong>دوں</strong><strong> </strong><strong>سے ورے</strong><strong> </strong><strong>ہی ورے</strong><strong> </strong><strong>جاتا</strong><strong> </strong><strong>ہے۔</strong></p>



<p><strong>&nbsp;</strong><strong>&nbsp;</strong>اس ذات پاک نے اپنی تعریف آپ ہی کی ہے اور اپنی حمد کو آپ ہی بیان کیا ہے بس وہ ذات تعالی آپ ہیں حامد اور آپ ہی محمودہے اس کے علاوہ تمام کائنات اس کی حمد مقصود کے ادا کرنے سے عاجز ہے ہے اور عاجز کیوں نہ ہو جبکہ اس سبحانہ و تعالی کی حمد سے وہ بزرگ ہستی حضور اکرم ﷺ بھی عاجز ہے جو قیامت کے دن لواء الحمد حمد کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگی</p>



<p>جس کے نیچے حضرت آدم اور تمام انبیاء علیہ الصلاۃ و السلام ہوں گے آپ ﷺ ظہور میں تمام مخلوقات سے افضل و اکمل مرتبے میں سب سے زیادہ قریب کمال میں سب سے زیادہ جامع، جمال میں سب سے زیادہ کامل، حسن و جمال کا چاند ہونے میں سب سے زیادہ اکمل،قدر میں سب سے زیادہ بلند، بزرگی اور شان میں سب سے زیادہ عظیم ،دین میں سب سے زیادہ مضبوط،ملت میں سب سے زیادہ عادل،حسب میں سب سے زیادہ کریم &nbsp;وبزرگ،نسب &nbsp;میں سب سے زیادہ شریف اور خاندان میں سب سے زیادہ معزز ہیں اگر اللہ تعالی ان کو پیدا نہ کرتا تو مخلوق کو بھی پیدا نہ کرتا اور نہ ہی اپنی ربوبیت ظاہر فرماتا آپ اس وقت بھی نبی تھے جب آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے یعنی حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے کے لیے ابھی گوندھی ہوئی مٹی تیار ہوئی تھی اور قیامت کے دن آپ تمام نبیوں کے امام اور خطیب اور صاحب شفاعت ہوں گے اور آپ نے اپنے حق میں یہ فرمایا کہ ظہور کے اعتبار سے ہم دنیا میں سب سے آخر میں ہیں اور قیامت کے دن ہم سب سے سابق اول ہوں گے اور میں یہ بات فخر سے نہیں کہتا اور میں اللہ تعالی کا حبیب اور خاتم النبیین ہوں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں ہیں اور جب قیامت کے دن لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو سب سے اول میں ہی اٹھوں گا اور جب لوگ بارگاہ خداوندی میں گروہ در گروہ حاضر ہوں گے تو میں ہی ان کا قائد ہونگا اور جب وہ خاموش کیے جائیں گے تو ان کی طرف سے &nbsp;میں ہی خطیب اور کلام کرنے والا ہونگا اور جب وہ روک لیے جائیں گے تو میں ہی ان کی شفاعت کروں گا اور جب لوگ رحمت و کرامت سے مایوس ہو جائیں گے تو میں ہی ان کو خوشخبری دوں گا اس روز تمام کرامت اور بزرگی کی کنجیاں میرے ہاتھ میں ہو نگی</p>



<p>در قافلہ کہ اوست دانم نرسم ایں بس کہ رسد زدو ربانگ جرسم</p>



<p>ترجمہ &nbsp;&nbsp;جس قافلہ میں یار ہے &nbsp;اس تک&nbsp; میں جا نہیں سکتا میں</p>



<p>&nbsp;بس دور سے قافلے کی گھنٹیوں کی آواز سنتا ہوں&nbsp;</p>



<p>اللہ سبحان اللہ کی طرف سے صلوۃ و سلام اور تحائف وبرکتیں آن &nbsp;سرورعلیہ الصلوۃ والسلام پر اور آپ کے تمام بھائیوں &nbsp;انبیاء والمرسلین &nbsp;ملائکہ المقربین اورتمام اہل طاعت پر نازل ہوتے رہیں جو آپ کی شان کے لائق ہیں اور جن کے وہ اہل ہیں جب تک آپ کا ذکر کرنے والے ذکر میں مشغول رہیں اور جب تک غفلت والے آپ کے ذکر سے غافل رہیں۔</p>



<p>حمد و صلاۃ کے تبلیغ دعوات اور ارسال تحیات کے بعد واضح&nbsp; ہو کہ آپ کا مکتوب گرامی جو اس فقیر کے نام تحریر کیا تھا میرے عزیز بھائی&nbsp; شیخ محمد طاہر نے پہنچایا اس کی وجہ سے خوشی حاصل ہویہ&nbsp; گرامی نامہ چونکہ ارباب کشف و شہود کے حقائق و معارف پر مشتمل تھا اس لئے فرحت پر فرحت حاصل ہوئی اللہ سبحانہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آپ کے صحیفہ کی موافقت میں اس بزرگ جماعت صوفیائے کرام کے ذوق ومذاق کی چند باتیں تحریر کرکے آپ کو تکلیف دیتا ہے</p>



<p>میرے مخدوم یہ بات آپ کے علم شریف میں ہے کہ وجود ہر خیر و کمال کا مبدا ہے اور عدم ہر نقص و شرارت اور زوال کا منشاء ہے لہذا وجود واجب جل سلطانہ کے لیے ثابت ہے اور عدم ممکن کے نصیب ہے تاکہ تمام خیر &nbsp;وکمال حق تعالی کی طرف عائد ہو اور تمام شر نقص ممکن کی طرف راجع ،ممکن کے لئے وجود ثابت کرنا اورخیرو کمال &nbsp;کواس کی طرف منسوب درحقیقت حق تعالی شانہ کے مِلک و مُلک&nbsp; میں اس کا شریک بنانا ہےاور اسی طرح ممکن &nbsp;&nbsp;کو حق تعالیٰ &nbsp;کہنااور ممکن کے صفات و افعالحق تعالی کے صفات وافعال &nbsp;کاعین قرار دینا بڑی بے ادبی اور حق تعالیٰ کے اسماء و صفات میں شرک ہے بیچارا کمینہ خاکروب جو ذاتی نقص و خبائث سے داغدار ہےکیا مجال کہ اپنے آپ کو اس سلطان عظیم الشان کا عین تصور کرے &nbsp;جو تمام خوبیوں اور کمالات کا منبع و منشا ہے اور اپنی بری صفات و افعال اس ذات عالی کی صفات و افعال جمیلہ کے عیں&nbsp; ہونے کا وہم کرے علمائے ظواہر نے ممکن کے لئے وجود ثابت کیا ہے اور واجب تعالی کے وجود اور ممکن کے وجود کووجود کے افراد مطلق سے سمجھا ہے</p>



<p>&nbsp;خلاصہ کلام یہ کہ اس بحث کی وجہ سےحق تعالی کے وجود کو قضیہ تشکیک (ایک منطقی اصطلاح) کے قاعدہ کے مطابق علمائے ظاہر نے اولی واقدم کہا ہے حالانکہ یہ معنی ممکن کو واجب تعالی کے ساتھ ان کمالات و فضائل میں جو اس وجود سے پیدا ہوئے ہیں شریک کرنے کا باعث ہے</p>



<h3 class="wp-block-heading">تعالی&nbsp; اللہ عن ذالک&nbsp; علوا کبیرا</h3>



<p>اللہ تعالی اس بات سے بہت بلند و برتر ہے</p>



<p>اور حدیث قدسی میں وارد ہے</p>



<h3 class="wp-block-heading">الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری</h3>



<p>کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا آزار ہے</p>



<p>اگر <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>علمائے ظوا ہر</strong></span> اس نکتہ سے آگاہ ہوتے تو ہرگز ممکن کے لئے وجود ثابت نہ کرتے اور جو خیر و کمال حضرت جل وعلا &nbsp;کے ساتھ مخصوص ہے وجود کی خصوصیت کے اعتبار سے ممکن کے لئے ثابت نہ کرتے۔</p>



<h3 class="wp-block-heading">رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا</h3>



<p>اے رب ہمارے تو ہماری بھول چوک اور خطاب پر مواخذہ نہ کرنا</p>



<p>&nbsp;اور اکثر صوفیاء بالخصوص ان کے متاخرین نے ممکن کو ہی واجب تعالی سمجھا ہے اور ان کے صفات و افعال کو حق تعالی کے صفات و افعال کا عین سمجھ لیا ہے اور کہتے ہیں</p>



<p>ہمسایہ وہم نشین و ہمراہ ہمہ اوست &nbsp;دردلق گدا واطلس شاہ ہمہ اوست</p>



<p>&nbsp;در انجمن فرق و نہان خانہ جمع &nbsp;&nbsp;باللہ ہمہ اوست&nbsp; ثم باللہ ہمہ اوست</p>



<p>ہمسائیگی اور ہمراہی اسی کے ساتھ ہے گدڑی والا ہو یا شہنشاہ ہو اسی کے ساتھ ہے فرق اور جمع کے مقامات&nbsp; الگ الگ ہیں لیکن صرف وہی ہے اور اسی کے ساتھ ہر ایک چیز ہے۔</p>



<p>اگرچہ یہ بزرگوار وجود کے شریک کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور دوئی سے گریز کرتے ہیں لیکن غیر وجود کو وجود مانتے ہیں اور نقائص کو کمالات سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی چیز کی ذات میں شرارت اور نقص نہیں ہے اگر ہے تو صرف نسبی اور اضافی ہے مثلا زہر قاتل انسان کی نسبت سے شرارت رکھتا ہے کہ اس کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے اور اس حیوان کی نسبت آب حیات ہے جس میں یہ زہر پیدا ہوتا ہے اور اس کے لیے تریاق نافع ہے اس معاملہ میں ان کا مقتدا اور راہنما ان کا کشف و شہود ہے جو کچھ ان پر ظاہر ہوا ہے انہوں نے اس کو ظاہر کر دیا</p>



<h3 class="wp-block-heading">اللھم ارنا حقائق الاشیاءکما ھی</h3>



<p>اے اللہ ہم کو اشیاء کی حقیقتیں جیسی کے وہ ہیں دکھا دے۔</p>



<p>اس باب میں فقیر پر جو کچھ ظاہر ہوا ہے اس کو تفصیل سے بیان کرتا ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;سب سے پہلے <span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color"><strong>شیخ محی الدین ابن العربی</strong></span> &nbsp;جوصوفياء متاخرین کے امام ومقتدا ہیں اس مسئلہ میں ان کامذ ہب بیان کیا جاتا ہے اس کے بعد جو کچھ اس فقیر پر مکشوف ہوا ہے تحریرکیاجائے گا تاکہ دونوں مذہبوں کے درمیان پورے طورپرفرق ظاہر ہوجائے اور باریک دقائق &nbsp;کی وجہ سے ایک دوسر &nbsp;ےکے ساتھ خلط ملط نہ ہوں شیخ &nbsp;محی الدین اوران کےمتبعین فرماتے ہیں کہ حق تعالی جل وعلا کے اسماء وصفات ذات واجب تعالى وتقدس کا بھی عین ہیں اوراسی طرح ایک دوسرے کے بھی عین ہیں۔ مثلا علم وقدرت جس طرح حق تعالی کی عین ذات ہیں اسی طرح ایک دوسرے کے بھی عین ہیں &nbsp;لہذا&nbsp; اس مقام میں کسی اسم اور رسم ( نشان) &nbsp;کی کوئی تعداد اور کثرت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تمایز و تباین (تمیز وفرق) ہے۔</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے کہ ان اسماء و صفات اورشیون واعتبارات نے حضرت علم میں اجمالی اور تفصیلی طورپر تمایز و تباین (تمیز وفرق) &nbsp;پیدا کیا ہے۔ &nbsp;</p>



<p>اگر اجمالی تمیز ہے تو وہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>تعین اول</strong></span> سے تعبیر کی جاتی ہے اور اگر وہ تفصیلی تمیز ہے تو وہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تعین ثانی</span></strong> سے موسوم ہے تعین اول کو وحدت کہتے ہیں اور اسی کو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت محمدی</span></strong> سمجھتے ہیں اور تعین ثانی کو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>واحدیت&nbsp; </strong></span>کہتے ہیں اور تمام ممکنات کے حقائق گمان کرتے ہیں اور ان حقائق ممکنات کو <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>اعیان ثابتہ </strong></span>جانتے ہیں اور یہ دو علمی تعین جو کہ وحدت اور واحدیت ہے ان کو مرتبہ وجوب میں ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بو تک نہیں پائی اور خارج میں احدیت مجردہ کے سوا کچھ بھی موجود نہیں ہے اور یہ کثرت جو خارج میں ظاہر ہوتی ہے ان<strong> اعیان ثابتہ</strong> کا عکس ہے</p>



<p>&nbsp;جو ظاہر وجود کے آئینے میں منعکس ہوا ہے جس کا کوئی جز بھی خارج میں موجود نہیں ہے اور خیالی وجود پیدا کرلیا ہے جس طرح ایک شخص کی صورت آئینے میں منعکس ہو کر وجود تخیلی پیدا کر لے اس عکس کا وجود صرف تخیل میں ثابت ہے اور آئینے میں کسی شے نے حلول نہیں کیا ہے اور نہ ہی آئینے کی سطح پر کوئی چیز منقش ہوئی ہے بلکہ اگر کچھ منقش ہے تو صرف خیال میں ہے جو آئینے کی سطح پر&nbsp; متوہم ہوگیا ہے اور یہ خیالی اور وہمی شے خدا وند جل سلطانہ کی ایک صنعت ہے جو بڑا استحکام اور ا ثبات کی حامل ہے اور وہم اور تخیل کے زوال کی وجہ سے زائل نہیں ہوتی اور آخرت کا دائمی ثواب و عذاب اسی پر مرتب ہوتا ہے</p>



<p>یہ کثرت جو خارج میں ظاہر ہوتی ہے تین قسموں میں منقسم ہے</p>



<p> قسم اول تعین روحی ہے ہے اور قسم دوم تعین مثالی اور قسم سو م تعین جسدی جس کا تعلق عالم شہادت سے ہے ان تینوں تعینات کو تعینات خارجیہ کہتے ہیں اور امکان کے مرتبہ میں ثابت کرتے ہیں تنز لات خمسہ سے مراد یہی تعینات پنجگانہ  ہیں اور ان تنزلات خمسہ کو  حضرات خمس بھی کہتے  ہیں اور چونکہ علم اور خارج میں سوائے ذات واجب تعالی اور اسماء و صفات واجبی جل سلطانہ کے جوعین  ذات تعالی و تقدس ہیں ان کے نزدیک ثابت نہیں اور انہوں نے صورت علمیہ  کو ذی صورت  کا عین گمان کیا ہے نہ کہ شبہ )جسم( اور مثال  اور اسی طرح اعیا ن ثابتہ کو صورت منعکسہ کو جو ظاہری وجود کے آئینے میں پیدا ہوئی ہے انہوں نے ان اعیان کا عین تصور کرلیا ہے ہے نہ کہ ان کی شبہ  اس لیے انہوں نے اتحاد کا حکم لگا دیا اور ہمہ اوست(سب کچھ وہی ہے)   کہا ہے</p>



<p class="has-vivid-purple-color has-text-color">یہ ہے مسئلہ وحدت الوجود میں شیخ محی الدین ابن العربی کے مذہب کا اجمالی بیان&nbsp; اور یہی وہ علوم ہیں جن کو شیخ نے خاتم الو لایت کے ساتھ مخصوص جانا ہے اور کہا ہے کہ خاتم النبوۃ ایں علوم راہ از خاتم الولایۃ اخذ می نماید</p>



<p>خاتم النبوت نے ان علوم کو خاتم الولایت سے اخذ کیا ہے</p>



<p>اور فصوص کے شارحین اس قول کی وضاحت میں بڑے تکلفات کا اظہار کرتے ہیں</p>



<p>مختصر یہ کہ شیخ سے پہلے اس گروہ صوفیہ میں سے کسی نے ان علوم و اسرار میں زبان نہیں کھولی اس بات کو کسی نے بھی اس انداز میں بیان نہیں کیا اگرچہ توحید و اتحاد کی باتیں غلبہ سکر کی وجہ سے ان سے بھی ظاہر ہوئی ہیں اور انا الحق و سبحانی&nbsp; جیسے الفاظ کہے ہیں لیکن یہ حضرات اتحاد کی وجہ اور منشائے توحید معلوم نہیں کر سکے۔ لہذا شیخ ہیں اس گروہ کے متقدمین کی برہان اورگروہ متاخرین کے لئے حجت اور دلیل&nbsp; ہیں لیکن ابھی اس مسئلہ کے بہت سے دقیق نکات پوشیدہ رہ گئے ہیں اور اس باب میں بہت سے پوشیدہ اسرار منصہ شہود پر نہیں آئے ہیں کہ فقیر کو ان کے اظہار کی توفیق اور ان کے قید تحریر میں آنے کی بشارت ملی</p>



<p>وَاللَّهُ يَحقُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ</p>



<p>اللہ تعالی ہی حق کو حق ثابت کرتا ہے اور وہی ہدایت کی راہ دکھاتا ہے</p>



<p>میرے مخدوم واجب الوجود تعالی و تقدس کی صفات ثمانیہ ( آٹھ صفات )جو اہل حق شکر اللہ تعالی سعیہم کے نزدیک خارج میں موجود ہیں لازمی طور پر ذات تعالی و تقدس سے خارج میں متمیز ہیں اور تمیز بھی ذات و صفات کی طرح بیچونی (بے مثال)اور بیچگونی (بے کیف ہونا)قسم سے متمیز &nbsp;ہے اور اسی طرح یہ صفات &nbsp;بھی بیچونی &nbsp;کے ساتھ ایک دوسرے سے متمیز ہیں بلکہ بیچونی کی تمیز حضرت ذات تعالی و تقدس کے مرتبہ میں بھی ثابت ہے لانہ الواسع&nbsp; بالوسع المجھول&nbsp; الکیفیۃ</p>



<p>کیونکہ واجب تعالی مجہول الکیفیت وسعت کے ساتھ واسع ہے یعنی وہ ہر شے کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی کیفیت معلوم نہیں&nbsp; اور وہ تمیز جو ہماری فہم و ادراک میں آسکے اس جناب&nbsp; قدس سے مسلوب ہے کیونکہ وہاں تبعض و تجزی (بعض ہونا اور جزو جزوہونا) متصور نہیں اور تحلیل و ترکیب کو حضرت جل سلطانہ کی بارگاہ میں کچھ دخل نہیں اور حالیت (اس کا کسی میں سرائیت کرنا )اور محلولیت( اس میں کسی کا سرایت کرنا )کی بھی وہاں گنجائش نہیں&nbsp; مختصر یہ کہ جو کچھ ممکن کی صفات و اعراض ہیں وہ سب اس جناب قدس سے مسلوب ہیں لیس کمثلہ&nbsp; شئی فی الذات&nbsp; ولا فی الصفات ولا فی الافعال کوئی اس کی مثل یا مانند نہیں ہے نہ ذات میں نہ صفات میں اور نہ افعال میں&nbsp; اس بے چونی (بے مثال)&nbsp; &nbsp;تمیز اور بے کیفی وسعت کے باوجود واجب جل سلطانہ کے اسماء و صفات خانہ علم میں بھی تفصیل اور تمیز رکھتے ہیں اور منعکس ہو گئے ہیں اور ہر اس صفت کی تمیز کے لیے مرتبہ عدم میں ایک مقا بل اور ایک نقیض ہے مثلا مرتبہ عدم میں صفت علم کا مقابل اور نقیض عدم علم ہے&nbsp; جس کو جہل سے تعبیر کرتے ہیں اور صفت قدرت کے مقابل میں عجز ہے جس کو عدم قدرت کہتے ہیں اور علیٰ ہٰذا القیاس ان عدمات&nbsp; متقابلہ نے بھی علم واجبی جل شانہٗ میں تفصیل و تمیز پیدا کی ہوئی ہے اور اپنے متقابلہ اسماء و صفات کے آئینے اور ان کے عکسوں کے ظہور کے جلوہ گاہ بن گئے&nbsp; ہیں فقیر کے نزدیک وہ عدمات ان اسماء و صفات کے عکوس کے ساتھ ممکنات کے حقائق ہیں۔</p>



<p>خلاصہ کلام یہ کہ وہ عدمات ان ماہیتوں کے لیے اصول اور مواد کے رنگ میں ہیں اور وہ عکوس ان مواد حلول کرنے والی صورتوں کی مانند ہیں</p>



<p>شیخ محی الدین کے نزدیک ممکنات کے حقائق وہ تمام اسماء و صفات ہیں جو مرتبہ علم میں امتیازی کیفیت رکھتے ہیں ہیں اور فقیر کے نزدیک ممکنات کے حقائق وہ عدمات ہیں جو اسماء و صفات کے نقائض ( ضد برعکس) ہیں اسماء و صفات کے ان عکوس کے ساتھ جوان عدمات کے آئینوں میں خانہ علم میں ظاہر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ متمزج (باہم مل گئے) ہیں اور قادر مختار جل سلطانہ &nbsp;نے جب چاہا کے ان ملی جلی ما ہیتوں میں سے کسی ایک ماہیت (حقیقت) &nbsp;کو وجود ظلی کے ساتھ جو کہ حضرت وجود کا پرتو ہے متصف کرکے موجود خارجی بنا دیا یا مختصر یہ کہ حضرت وجود نے اس ماہیت ممتزجہ&nbsp; پر پر تو ڈال کر خارجی آثار کا مبداء بنا دیا لہذا ممکن کا وجود علم میں اور خارج میں اس کی تمام صفات کے رنگ میں حضرت وجود کا ایک پرتو ہے اور اس کے کمالات کا تابع ہے مثلا ً ممکن کا علم واجب تعالی و تقدس کے علم کا پر تو اور ایک ظل ہے جو اپنے مقابل میں منعکس ہوا ہے اورممکن کی قدرت بھی ایک ظل ہے جو عجزمیں اس کے مقابل ہو کر منعکس ہوگئی ہے اور اسی طرح ممکن کا وجود حضرت وجود کا ایک ظل ہے جو عدم کے آئینے میں اس کے مقابل ہو کر منعکس ہو گیا ہے</p>



<p>نیا وردم از خانہ چیزے نخست تو دادی ھمہ چیز ومن چیز تست</p>



<p>میں نے اپنے گھر سے تو کچھ بھی نہیں لیا جب کہ میں تیرا ہوں تو سب کچھ تیرا ہے</p>



<p>لیکن فقیر کے نزدیک شے کا ظل اس شے کا عین نہیں بلکہ اس کا شبہ و مثال ہے اور ایک دوسرے کے ثبوت میں پیش کرنا ممتنع اور محال ہے  لہذا فقیر کے نزدیک ممکن واجب کا عین نہیں ہے اور ممکن اور واجب کے درمیان حمل کرنا ثابت نہیں ہے کیونکہ ممکن کی حقیقت عدم ہے اور اسماء و صفات کا وہ عکس ہے جو اس عدم  میں منعکس ہو گیا ہے اور ان اسماء و صفات کی شبہ و مثال ہے نہ کہ ان صفات کا عین لہذا ہمہ اوست کہنا درست نہیں ہوگا بلکہ ہمہ از اوست<a>(ہر شے کا وجود حق(اللہ) سے ہے)</a>  کہنا درست ہے۔</p>



<p>&nbsp;کیوں کہ جو کچھ ممکن ذات میں ہے وہ عدم ہے&nbsp; جو شرارت نقص اور خبث کامنشا&nbsp; ہے اور جو کچھ ممکن میں کمالات کے قسم سے پیدا ہوا ہے وہ سب حضرت جل سلطانہ کے وجود اور اس کے توابع سے مستفاد ہیں اور اس پاک ذات سبحانہ کے کمالات ذاتیہ کا پرتو ہے پس لازمی طور پر وہ سبحانہ و تعالی آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور اس کے سوا سب ظلمت ہی ظلمت ہے اور کیوں کر ظلمت نہ ہو جب کہ عدم تمام ظلمتوں سے بڑھ کر ظلمت ہے&nbsp; اس بحث کی کما حقہٗ تحقیق&nbsp; اس <strong><a href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-234/">مکتوب نمبر 234 دفتر اول</a></strong> میں میں تحریر کی گئی ہے جو فرزندی اعظمی مرحومی خواجہ محمد صادق کے نام حقیقت وجود کے بیان میں اور ماہیات ممکنات کی تحقیق میں لکھا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیے</p>



<p>پس شیخ محی الدین کے نزدیک عالم تمام کا تمام اسماء و صفات سے مراد ہے جنہوں نے خانہ علم میں تمیز پیدا کرکے خارج میں ظہور کے آئینے میں نمود و نمائش حاصل کر لی ہے</p>



<p>اور فقیر کے نزدیک عالم سے مرادعد مات ہیں جو کہ حضرت واجب جل سلطانہ کے اسماء و صفات خانہ علم میں منعکس ہو گئے&nbsp; ہیں اور خارج میں حق سبحانہ کی ایجاد سے وہ عدمات مع&nbsp; ان عکوس &nbsp;&nbsp;&nbsp;کے وجود ظلی کے ساتھ موجود ہو گئے ہیں لہذا عالم میں ذاتی &nbsp;خبث &nbsp;پیدا ہو گیا اور جبلی شرارت ظاہر ہو گئی اور تمام خیر و کمال جناب قدس جل و علا &nbsp;کی طرف راجع ہوگیا آیہ کریمہ</p>



<p>مَّآ أَصَابَكَ مِنۡ حَسَنَةٖ فَمِنَ ٱللَّهِۖ وَمَآ أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٖ فَمِن نَّفۡسِكَ</p>



<p>اے انسان جو کچھ بھلائی تجھے پہنچتی ہے وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھ کو پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے</p>



<p>اس معرفت کی تائید میں ہے اور اللہ سبحانہ&nbsp; ہی صحیح الہام کرنے والا ہے</p>



<p>لہذا ذرا اس تحقیق سے معلوم ہوگیا کہ عالم خارج میں وجود ظلی کے ساتھ موجود ہے جس طرح حضرت حق سبحانہ وجود اصلی کے ساتھ بلکہ اپنی ذات کے ساتھ خارج میں موجود ہے خلاصہ یہ ہے کہ یہ خارج بھی وجود و صفات کے رنگ میں اس خارج کا ظل ہے لہذا عالم کو حق جل ؤ علا سلطانہ کا عین نہیں کہہ سکتے اور ایک کو دوسرے پر حمل کرنا جائز نہیں ہوگا کسی شخص کے ذہن کو اس کا عین نہیں کہا جا سکتا&nbsp; کیونکہ خارج میں دونوں متغائر ہیں اس لیے کہ دو چیزیں ایک دوسرے کی متغائر ہوتی ہیں اور اگر کوئی شخص کسی کے سائے کو اس کا آئین کہے تو وہ تسامح اور تجوز&nbsp; )چشم پوشی اور مجاز (کے طور پر ہوگا جو اس بحث سے خارج ہے.</p>



<p>گر کہا جائے کہ شیخ محی الدین اور ان کے متبعین بھی عالم کو حق تعالی کا ظل &nbsp;جانتے ہیں تو پھر فرق &nbsp;کیا ہوا؟ ہم کہتے ہیں کہ یہ لوگ اس کے وجود &nbsp;کے ظل کو صرف وہم کے درجے میں نہیں سمجھتے اور وجود خارجی&nbsp; کی بو بھی اس ظل کے حق میں تجویز نہیں کرتے مختصر یہ کہ کثرت موہومہ کو وحدت موجودہ کے ظل سے تعبیر کرتے ہیں اور خارج میں واحد تعالی ہی کو موجود جانتے ہیں۔شتان مابینھما &nbsp;</p>



<p>&nbsp;دونوں میں بڑا فرق ہے لہذا اصل پر ظل کے حمل کا منشا اور اس حمل کا عدم ظل کے لیے وجود خارجی کا ثابت کرنا ہے یہ لوگ چونکہ&nbsp; ظل کے لیے وجود خارجی ثابت نہیں کرتے اس لیے اصل پر محمول کرتے ہیں اور یہ فقیر چونکہ ظل کو خارج میں موجود جانتا ہے اس لئے اس پر حمل کرنے کی پیش قدمی نہیں کرتا ظل&nbsp; سے اصلی وجود کی نفی میں وہ سب شریک ہیں اور وجودظلی ا ثبات میں بھی متفق ہیں لیکن یہ فقیر&nbsp; وجو دظلی خارج میں&nbsp; ثابت کرتا ہے اوروہ &nbsp;وجود ظلی کو وہم اور تخیل میں گمان کرتے&nbsp; ہیں اور خارج&nbsp; میں احدیت مجردہ کے سوا کچھ موجود نہیں جانتے اور صفات ثمانیہ کو بھی جن کا وجود اہل سنت و جماعت رضی اللہ تعالی عنہم کی آراء کے موافق خارج میں ثابت ہو چکا ہے ان کو بھی علم کے سوا ثابت نہیں کرتے علما ئے ظواہر اور&nbsp; ان رضی اللہ عنہم&nbsp; اعتدال اور میانہ روی کی دونوں طرفوں یعنی( افراط و تفریط) کو اختیار فرمایا ہے اور حق کا درمیانی درجہ اس فقیر کو نصیب ہوا ہے جس کی توفیق&nbsp; فقیر کو دی گئی ہےاگر یہ لوگ بھی اس خارج کو اس خارج کا ظل مان لیتے تو عالم کے وجود خارجی کا انکار نہ کرتے اور وہم&nbsp; وتخیل پر کفایت نہ فرماتے۔اور واجب الوجود کی صفات کے وجود خارجی کا بھی انکار نہ کرتے اگر ظاہری علماء بھی اس راز سے واقف ہوجاتے تو ہرگز ممکن کے لئے وجود اصلی کا اثبات نہ کرتے بلکہ وجود ظلی پر اکتفا کرتے اور جو کچھ فقیر نے بعض مکتوبات میں لکھا ہے کہ ممکن پر وجود کا اطلاق بطریق حقیقت ہے &nbsp;نہ کہ بطریق مجاز وہ بھی اس تحقیق کے منافی نہیں ہے کیونکہ ممکن خارج میں ظلی وجود کے ساتھ بطریق حقیقت موجود ہے نہ کہ توہم &nbsp;اور تخیل کے طور پر جیسا کہ یہ گمان کرتے ہیں ۔</p>



<p>سوال صاحب فتوحات مکیہ شیخ محی الدین نے اعیان ثابتہ( <strong>صور علمیہ</strong>) کے وجود و عدم کے درمیان برزخ کہا ہے ان کے مطابق ممکنات کے حقائق میں داخل ہوگیا بس اس تحقیق اور اس قول کے درمیان کیا فرق ہو گا؟</p>



<p>جواب برزخ ا س اعتبار سے کہا ہے کہ صورعلمیہ کی دو جہتیں ہیں ایک جہت یہ ہے کہ جو ثبوت علمی کے واسطے سے وجود کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور دوسری جہت وہ ہے جو عدم خارجی کے واسطے سے عدم کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک اعیان ثابتہ کو وجود خارجی کی بو تک نہیں پہنچی اور وہ عدم جو اس تحقیق میں درج کیا گیا ہے وہ دوسری حقیقت رکھتا ہے اور اسی طرح جو کچھ بعض عزیزوں کی باتوں میں عدم کا اطلاق ممکن پر ہوا اس سے ان کی مراد معدوم خارجی ہے نہ کہ وہ عدم جس کی تحقیق مندرجہ بالا عبارت میں ہوچکی ہے اور وہ بلند و برتر ذات ان اسماء و صفات سے جنہوں نے تفصیل و تمیز حاصل کرلی ہے اور عدمات کے آئینوں میں منعکس ہوکر ممکنات کے حقائق ہوگئے ہیں وہ ذات ان سب سے ورا ءالورا ءہے۔</p>



<p>پس عالم کے ساتھ اُس سبحانہ و تعالی کو (خالق اور مخلوق ہونے کے علاوہ) کسی قسم کی بھی مناسبت نہیں</p>



<p>إِنَّ ٱللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ &nbsp; &nbsp;بے شک اللہ تعالی تمام جہانوں سے بے نیاز ہے</p>



<p>حق تعالی کو عالم کا عین کہنا اور اس کے ساتھ متحد جاننا بلکہ ایسی کوئی بھی نسبت دینا اس فقیر پر بہت گراں ہے</p>



<p>آں ایشا نند و من چنینم&nbsp; یا رب اے اللہ وہ وہی ہے اور میں ہوں</p>



<h3 class="wp-block-heading">سُبۡحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلۡعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ &nbsp;وَسَلَٰمٌ عَلَى ٱلۡمُرۡسَلِينَ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ &nbsp;والسلام علیکم وعلی من لدیکم</h3>



<p>تمہارا رب ان اوصاف سے جو یہ بیان کر رہے ہیں پاک ومنزہ ہے اور سلام ہو مرسلین پر اور اللہ رب العالمین کا بے حد شکر و احسان ہے آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر سلام ہو۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ16 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></strong></span></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-1-2%2F&#038;title=%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%84%DB%81%20%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%D8%A7%D9%84%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B11%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/" data-a2a-title="مسئلہ وحدت الوجود مکتوب نمبر1 دفتردوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-1-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
