<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سلسلہ نقشبندیہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81-%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Mon, 27 Nov 2023 07:20:12 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>سلسلہ نقشبندیہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سلسلہ نقشبندیہ کے امتیازات</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d9%86%d9%82%d8%b4%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d9%86%d9%82%d8%b4%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 01 Aug 2023 07:55:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سلسلہ سیفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بدعت فی الطریقت]]></category>
		<category><![CDATA[تجلی ذاتی دائمی]]></category>
		<category><![CDATA[حضور ذاتی دائمی]]></category>
		<category><![CDATA[سلاسل طریقت]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلۃ الذہب]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت نقشبندیہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6839</guid>

					<description><![CDATA[سلسلہ نقشبندیہ کے امتیازات سلسلہ سے مراد صحبت اور اعتماد کا وہ طریقہ ہے جوبیعت کی صورت قائم ہوتا ہےاور اپنے شیخ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک جاتا ہے ۔ چار بڑے سلاسل  نقشبندیہ چشتیہ،، قادریہ اور <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d9%86%d9%82%d8%b4%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>سلسلہ نقشبندیہ کے امتیازات</h1>
<p>سلسلہ سے مراد صحبت اور اعتماد کا وہ طریقہ ہے جوبیعت کی صورت قائم ہوتا ہےاور اپنے شیخ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک جاتا ہے ۔ چار بڑے سلاسل  نقشبندیہ چشتیہ،، قادریہ اور سہروردیہ ہیں۔ جس شیخ سے آدمی بیعت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ آدمی اس کے سلسلے میں داخل ہوجاتا ہے۔ ان سلاسل کی مثال فقہ کے چار طریقوں حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی  سے دی جاتی ہے۔ ان کے اصولوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے لیکن سب کا نتیجہ وہی روحانی صحت یعنی نسبت کا حاصل کرنا ہے۔</p>
<p><span style="color: #000080; font-size: 24px;">نسبت نقشبندیہ تجلی ذاتی دائمی ہے</span><br />
سلسلہ نقشبندیہ کی نسبت خاصہ کا نام تجلی ذاتی دائمی ہے اور یہ نسبت تمام نسبتوں سے فوق ہے۔ حضرت امام ربانی سید نا مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: كَمَا وَقَعَ فِي عِبَارَاتِهِمْ إِنَّ نِسْبَتَنَا فَوْقَ جَمِيعِ النَّسَبِ وَأَرَادُوا بِالنِّسْبَةِ الْحُضُورَ الذَّاتِي الدائمی دفتر اول مکتوب : 21) جیسا کہ اس سلسلے کے اکابر کی تحریروں میں ہے کہ ہماری نسبت تمام نسبتوں سے بلند و بالا ہے اور نسبت سے ان کی مراد حضور ذاتی دائمی ہے۔ قطب الارشاد حضرت خواجہ عبید اللہ احرار قدس سرہ الغفار نسبت نقشبندیہ کی جامعیت و عظمت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں ۔ نسبت خواجگان قدس الله ارواحهم آن نسبت شریف که جامع جميع نسبتها ست و خلاصه و منتهائي مجموع طريقها ست فقرات :38 ) یعنی نسبت خواجگان رحمۃ اللہ علیہم وہ نسبت شریفہ ہے جو جمیع نسبتوں کی جامع ہے اور تمام طریقوں کا خلاصہ ومنتہا ہے۔ مشائخ نقشبندیہ رحمۃ اللہ علیہم اس قدر غیور اور خود دار ہیں کہ وہ کسی دھو کے باز اور پاکوب کو اپنی باطنی نسبت عطا ہی نہیں فرماتے ۔ حضرت خواجہ احرار کا ارشاد گرامی ہے:<br />
خواجگان این سلسله علیه قدس الله تعالى اسرارهم بهرزراقی و رقاصی نسبت ندارند کارخانه ایشان بلند است (مکتوب : 243) اس سلسلہ عالیہ کے خواجگان و دینی تعلیم کسی مکار اور رقاص کے ساتھ نسبت نہیں رکھتے ، ان کا کارخانہ بہت بلند ہے۔<br />
چونکہ اس نسبت کا اقتباس سید نا صدیق اکبر کی ولایت سے ہوا ہے ۔ جس طرح آپ تمام امت سے افضل ہیں اسی طرح آپ کی نسبت بھی تمام نسبتوں سے افضل ہے ۔ اس نسبت میں لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا کا فیضان شامل ہونے کی وجہ سے اس کے مزاج و مذاق میں معیت و محبت ذاتیہ، حضور و سرور اور سکون و اطمینان کا غلبہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے۔<br />
اِنَّ اللهَ لَيَتَجَلُّى لِلنَّاسِ عَامَّةٌ وَيَتَجَلُّى لا بي بَكْرٍ خَاصَّةً ( كنز العمال ، رقم الحديث :32630 ) یعنی اللہ تعالی لوگوں پر عام تجلی فرماتا ہے اور ابوبکر پر خاص تجلی فرماتا ہے ۔<br />
دوسری حدیث یوں ہے يَا أَبَا بَكْرٍ، أَعْطَاكَ اللَّهُ الرِّضْوَانَ الْأَكْبَرَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَمَا الرِّضْوَانُ الْأَكْبَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «‌يَتَجَلَّى اللَّهُ لِعِبَادِهِ فِي الْآخِرَةِ عَامَّةً وَيَتَجَلَّى لِأَبِي بَكْرٍ خَاصَّةً( المستدرك للحاكم. رقم الحدیث:4463) شاید اس خاص تجلی سے مراد تجلی ذاتی دائمی“ ہے۔ (واللہ اعلم)<br />
سلسلہ نقشبندیہ میں دو راستوں سے فیض آتا ہے ۔ ایک راستہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہے اور دوسرا راستہ حضرت سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا ہے ۔ باقی تمام سلاسل طریقت حضرت سید نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ذریعے واصل ہوتے ہیں اور حضرات نقشبند یہ دونوں راستوں سے واصل بالذات ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مقام حضور و آگاہی سب سے اعلی و بالا ہے اسی لئے اس سلسلہ کوسلسلۃ الذہب“ کہا گیا ہے۔<br />
نسبت نقشبندیہ مجددیہ کی انفرادیت اختصاصات سلاسل کی بنیاد پر صوفیاء میں مخصوص مکاتیب فکر قائم ہوئے وہ اپنی نسبتوں اور طبائع کے میلان سے مجبور ہو کر ایک جانب عملاً مائل ہوتے ہیں اور دوسری جانب سے طبعا گریز کرتے ہیں۔ یہ مقتضائے نسبت ہی ہے جو حضرات نقشبندیہ کو تواجد، ذکر بالجبر اور رقص و سماع سے دور رکھتا ہے کیونکہ ان کی نسبت صدیقی ہے ، ان کا طریق فیض القائے سینہ بہ سینہ ہے۔ چونکہ ان کی سیر انفسی ہے لہذا اس نسبت میں سکوت و اخفاء اور دوام حضور کا غلبہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ نعرہ ہائے اشتیاق اور رقص وسماع کی طرف التفات نہیں رکھتا اور اس سلسلے میں شرع کے جواہر نفیسہ دے کر وجد وحال کے اخروٹ و نفی نہیں خریدتے اور نص ( کتاب وسنت ) کو چھوڑ کر فص (فصوص الحکم ) کی طرف نہیں جھکتے اور فتوحات مدنیہ ( وحی ) کے مقابلے میں فتوحات مکیہ (کشف) کیطرف التفات نہیں کرتے ۔ امام طریقت عارف برحق حضرت سید نا مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اس نسبت کی تجدید و احیاء پر مامور ہوئے ہیں۔<br />
<span style="color: #000080; font-size: 24px;">سماع در قص اور وجد امام ربانی کی نظر میں</span><br />
حضرت امام ربانی سید نا مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اصحاب وجد وحال ،ارباب قلوب میں سے ہیں ۔ ارباب تمکین کو وجد و حال اور رقص و سماع کی ہرگز ضرورت نہیں رہتی چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں:<br />
یعنی سماع اور وجہ اس جماعت کے لئے مفید ہے جو تقلب و احوال سے (جن کے احوال بدلتے رہتے ہیں ) متصف ہیں اور تبدیلی اوقات کے ساتھ داغدار ہیں جو ایک وقت میں حاضر اور دوسرے وقت میں غائب ہو جاتے ہیں ۔ یہ لوگ واجد ( اپنے مقصود کو پانے والے ) ہوتے ہیں اور کبھی فاقد ( کم کرنے والے ) یہ لوگ ارباب قلوب ہیں ۔ چنانچہ یہ لوگ ابن الوقت (وقت کے بیٹے ) ہیں اور وقت کے مغلوب ہیں۔ کبھی عروج کرتے ہیں اورکبھی ہبوط ( نیچے آ جاتے ہیں ) لیکن ان کے برعکس ) اور باب تجلیات ذاتیہ جو مقام قلب سے کلی طور پر باہر آ کر مقلب قلب ( حق تعالی ) کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں اور کلیۂ احوال کی غلامی سے نکل کر محول احوال (احوال کو تبدیل کرنے والے یعنی حق تعالی ) کی بارگاہ میں پہنچ گئے ہیں ۔ وہ لوگ سماع و وجد کے محتاج نہیں ہیں کیونکہ ان کا وقت دائمی ہے اور ان کا حال سرمدی ہے ، نہیں بلکہ ان کے لئے نہ وقت ہے اور نہ حال۔ یہ لوگ ابوالوقت ( وقت کے باپ ) ہیں اور اصحاب تمکین ( اطمینان والے ) ہیں اور یہ ایسے واصل ہیں جو رجوع سے قطعاً محفوظ ہیں اور نہ فقد ہے (ان سے ان کا مقصودگم نہیں ہو سکتا ) لہذا جن کے لئے فقد نہیں ان کے لئے وجد بھی نہیں ۔<br />
اسی مکتوب میں کچھ آگے تحریر فرماتے ہیں:<br />
یعنی ان بزرگواروں کا آرام و چین عبادات میں ہے اور ان کی تسکین بندگی و طاعات کے حقوق کی ادائیگی میں ہے ان کو سماع و وجد کی کچھ حاجت نہیں ان کی عبادات ان کے لئے سماع کا کام کرتی ہیں اور اصل کی نورانیت عروج سے کفایت کرتی ہے ۔ اہل سماع ووجد کے<br />
مقلدوں کا ایک گروہ جو ان بزرگواروں کی عظیم شان سے واقف نہیں ہے وہ اپنے آپ کو عشاق میں سے سمجھتے ہیں اور ان کو زاہدوں میں سے جانتے ہیں گویا یہ لوگ عشق و محبت کو رقص ووجد میں منحصرسمجھتے ہیں ۔<br />
نیز فرماتے ہیں:<br />
یعنی مبتدی کے لئے سماع و وجد مضر( نقصان دہ ) ہے اور عروج کے منافی ہے اگر چہ شرائط کے موافق ہی کیوں نہ ہو اس (مبتدی ) کا وجد علت کی وجہ سے ہے لہذا اس کا حال و بال ہے اس کی حرکت طبعی ہے اور اس کا تحرک ہوائے نفسانی سے مخلوط ہے اور مبتدی سے میری مراد وہ شخص ہے جوار باب قلوب میں سے نہیں ہے اور ارباب قلوب وہ ہیں جو مبتدی اور منتہی کے درمیانی مقام (متوسطین ) میں ہوتے ہیں۔(دفتر اول مکتوب :285)<br />
<span style="color: #000080; font-size: 24px;">حقیقت نماز سے بے خبر</span><br />
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:<br />
اس طائفہ کی ایک کثیر جماعت نے اپنے اضطراب و بے قراری کی تسکین کو سماع و نغمہ اور وجد و تواجد میں تلاش کیا اور اپنے مطلوب کو نغمہ کے پردوں میں مطالعہ کیا اور رقص و رقاصی کو اپنا مسلک بنالیا ہے حالانکہ انہوں نے سنا ہوگا مَا جَعَلَ اللهُ فِي الْحَرَامِ شفاء ( اللہ تعالی نے حرام چیز میں شفا نہیں رکھی ) ہاں الْغَرِيقُ يَتَعَلَّقُ بِكُل حَشِيشِ وَ حُبُّ الشَّيء يُعْمِي وَيُصِم ( ڈوبنے والا شخص ہر ایک تنکے کا سہارا ڈھونڈتا ہے اور کسی چیز کی محبت اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے اگر نماز کے کمالات کی کچھ بھی حقیقت ان پر منکشف ہو جاتی تو وہ ہرگز سماع د نغمہ کا دم نہ بھرتے اور وجد وتواجد کو یاد نہ کرتے۔ (دفتر اول مکتوب: 261)<br />
ع جب حقیقت نہ ملی ڈھونڈلی افسانے کی راہ<br />
<span style="color: #000080; font-size: 24px;">بدعت فی الطریقت</span><br />
حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: سلسلہ نقشبندیہ کے خلفائے متاخرین کی ایک جماعت نے ان بزرگوں کے اوضاع واطوار کو ترک کر کے بعض ایسے نئے امور مثلاً سماع و رقص اور ذکر جہر اختیار کر لیے ہیں ۔ اس کی وجہ عدم وصول ہے یہ لوگ اس بزرگ خاندان کے اکابرین کی نیتوں کی حقیقت تک نہیں پہنچے اور خیال کر بیٹھے ہیں کہ ان محدثات (نئی باتوں ) اور مبدعات ( بدعتوں) سے اس طریقہ کی تکمیل و تتمیم کر رہے ہیں حالانکہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح سے وہ طریقہ کو خراب اور ضائع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔(دفتر اول مکتوب:286)<br />
اپنی طریقت کی حفاظت اہم ترین امر ہے آج کل اکثر نقشبندی اور مجددی حضرات حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے برعکس تواجد، ذکر جہر اور رقص و سماع کی رسموں پر عمل پیرا ہیں اور اس نسبت جامعہ کے باطنی فیوض و برکات سے خالی ہیں اور دوسرے سلاسل کی طرح اس سلسلہ کے لوگوں میں بھی تعلیم و تربیت کا تفاوت اور عملی طریقت کا فقدان نظر آرہا ہے ۔ افسوس کہ اس خالص نسبت کے حامل افراد بہت کم ہیں اور یہ نسبت کبریت احمر (سرخ گندھک ) سےبھی زیادہ نایاب ہے۔<br />
اس کی چند وجوہات ہیں<br />
پہلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اس نسبت کی اصل حقیقت سے بے خبری کی بناء پر محض اپنی دکانوں کو چمکانے کا کاروبار شروع کر رکھا ہے۔<br />
دوسری وجہ یہ ہے کہ مجددی تعلیمات کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے جس ذہانت، استعداد اور اخلاص کی ضرورت تھی اس کے فقدان سے اس نسبت کے صحیح خدو خال اپنے مریدوں پر واضح اور وارد نہ کر سکے اور خود بھی اس نسبت کی علمی اور عملی تشکیل سے محروم رہ گئے ۔<br />
تیسری وجہ &#8230;. یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اپنی نسبت کے ساتھ ساتھ دوسری نسبتوں سے بھی اختلاط و انتساب رکھتے ہیں ۔ لامحالہ اپنے مزاج کی مجبوری اور اپنی طبع کے میلان کے سبب جس نسبت کا غلبہ پاتے ہیں اس پر فریفتہ ہو کر وہی رنگ اختیار کر لیتے ہیں ۔ ( وَلِلنَّاسِ فِیِمَا يَعْشِقُونَ مَذَاهَب ) حالانکہ حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی نسبت میں دوسری نسبت کو خلط ملط کرنے پر سختی سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ارقام فرمایا:<br />
یعنی وہ نئی بات جو طریقت میں پیدا کرتے ہیں فقیر کے نزدیک بدعت سے کم نہیں جب کوئی نیا طریقہ سابقہ طریقت میں داخل کیا جاتا ہے تو اس کے فیوض و برکات کا راستہ بند ہو جاتا ہے ۔ اس لئے اپنی طریقت کی حفاظت اہم ترین امر ہے۔ (دفتر اول مکتوب : 267)</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25b3%25d9%2584%25db%2581-%25d9%2586%25d9%2582%25d8%25b4%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81%20%D9%86%D9%82%D8%B4%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%85%D8%AA%DB%8C%D8%A7%D8%B2%D8%A7%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d9%86%d9%82%d8%b4%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d8%aa/" data-a2a-title="سلسلہ نقشبندیہ کے امتیازات"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d9%86%d9%82%d8%b4%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سلاسل طریقت اربعہ کا تعارف</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 01 Aug 2023 07:37:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سلسلہ سیفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سلاسل اربعہ]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ چشتیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ سہروردیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ قادریہ]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[قرب نبوت کا فیض]]></category>
		<category><![CDATA[قرب ولایت کا فیض]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت ابراہیمی]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت سلاسل]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت عیسوی]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت موسوی]]></category>
		<category><![CDATA[نسبت نوحی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6834</guid>

					<description><![CDATA[سلاسل طریقت اربعہ کا تعارف وہ  چار سلاسل جنہوں نے اپنی زریں خدمات کی بناء پر بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی. سلسلہ نقشبندیہ سلسلہ چشتیہ سلسلہ قادریہ سلسلہ سہروردیہ ہیں اگرچہ بعد میں بھی کچھ سلاسل بنے ہیں, مگر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>سلاسل طریقت اربعہ کا تعارف</h1>
<p>وہ  چار سلاسل جنہوں نے اپنی زریں خدمات کی بناء پر بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل کی.</p>
<p><span style="font-size: 20px;">سلسلہ نقشبندیہ</span></p>
<p><span style="font-size: 20px;">سلسلہ چشتیہ</span></p>
<p><span style="font-size: 20px;">سلسلہ قادریہ</span></p>
<p><span style="font-size: 20px;">سلسلہ سہروردیہ</span><br />
ہیں اگرچہ بعد میں بھی کچھ سلاسل بنے ہیں, مگر بعد والے انہیں  سلاسل اربعہ کی ذیلی شاخیں ہیں</p>
<p>نقشبندیہ چشتیہ،  قادریہ، سہر وردیہ، اصولاً سب متحد ہیں کہ اصل مطلوب تصیح اخلاق فاضلہ اور تکمیل تہذیب اخلاق حمیدہ اور رضا الہی مطلوب ہے ۔</p>
<h2><span style="color: #000080; font-size: 24px;">اختلاف صوفیاء کی حکمت</span></h2>
<p>حديث اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہے)کے مصداق اختلاف ایک فطری حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن اس میں اعتدال و توازن کا حسین و جمیل امتزاج ایک خوبصورت روپ دھار لیتا ہے ۔ جیسے مجتہدین شریعت کے ہاں عبادات و معاملات وغیر ہا کے متعلق مختلف مذاہب ہیں ایسے ہی مجتہدین طریقت کے باطنی اخلاق و اعمال کی اصلاح و درستی کے متعدد سلاسل ہیں اور یہ سب راہ اعتدال اور جادہ مستقیم پر گامزن ہیں جو ہر قسم کی نفسانی خواہشات اور ذاتی مفادات سے پاک ہیں اس لئے ان کا اختلاف رضائے الہی کے لئے اخلاص و للہیت پر مبنی ہوتا ہے۔ جملہ سلاسل طریقت کا مقصود و مطلوب ذات حق جل جلالہ کا وصول اور رضائے حق کا حصول ہے البتہ حق تعالیٰ کے وصول و حصول کے طرق مختلف و متعدد ہیں جیسا کہ مقولہ طُرُقُ الْوُصُولِ إِلَى اللهِ بِعَدَدِ انْفَاسِ الْخَلائِق (اللہ تعالی تک پہنچنے کے راستے مخلوق کی سانسوں کی تعداد کے برابر ہیں)سے ثابت ہے۔<br />
یونہی جملہ مجتہدین طریقت اور جمیع علمائے حقیقت اس امر پر متفق ہیں کہ وصول الی الله متابعت نبوی ﷺ پر موقوف ہے جیسا کہ آیہ کریمہ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (میری اتباع کرو اللہ تم سے محبت کریگا ) سے واضح ہے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی فردیت کا ملہ اور جامعیت کبری کی بدولت تمام انوار و تجلیات کے مورد اور فیوض و برکات کے مصدر ہیں ۔ جب صوفیائے کرام متابعت نبوی ﷺ میں وصول الی اللہ کے مراتب کی طرف گامزن ہوتے ہیں تو حضور اکرم ﷺ کی فردیت کا ملہ کی کوئی جہت اور حقیقت محمد یہ ﷺ کی کوئی تجلی ان کے قلوب پر منعکس ہوتی ہے تو اس جہت یا تجلی سے اس سالک وصوفی کو ایک خاص باطنی تعلق پیدا ہو جاتا ہے جسے صوفیاء کی اصطلاح میں نسبت کہتے ہیں ۔ یہ خاص باطنی نسبت اس صوفی کے منتسبین و مریدین میں اتباع سنت و شریعت کی برکت سے ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے۔ سلاسل اولیاء میں نسبتوں کی یہی صورت اختلاف صوفیاء کی بنیاد ہے۔ اصولی اور بنیادی طور پر تمام صوفیاء متحد الاصل ہیں ۔ البتہ حصول مقصود کے طرق و معالجات میں قدرے اختلاف ہے جس کی بناء پر صوفیاء میں مخصوص مکاتیب فکر قائم ہوئے ۔ اس لئے وہ اپنی نسبتوں اور طبیعتوں کے میلان سے مجبور ہو کر ایک جانب عملاً مائل ہوتے ہیں اور دوسری جانب سے طبعاً گریز کرتے ہیں ۔ نسبت علاقہ بین الطرفین کا نام ہے ۔ نسبت سے مراد وہ ملکہ راستہ محمودہ ہے جوسالک اکتساب سے حاصل کرتا ہے اور وہ ملکہ اس کی روح کو جمیع جہات سے احاطہ کر لیتا ہے اور اس کی صفت لازمی بن جاتا ہے اور اس کا مرنا جینا اس پر واقع ہوتا ہے۔ سلاسل کی نسبتوں کے متعلق حضرت سید نور الحسن عرف نورمیاں رحمۃ اللہ علیہ (جوحضرت مولانا فضل الرحمان گنج مراد آبادی کے صاحبزادے حضرت احمد میاں کے خلیفہ تھے ) نے جو نہایت اہم امور بیان فرمائے ہیں وہ ملخصا ہدیہ قارئین ہیں ۔</p>
<h2><span style="color: #000080; font-size: 24px;">نسبت سلاسل</span></h2>
<p><span style="color: #800080; font-size: 20px;">سلسلہ نقشبندیہ</span> : بزرگان نقشبندیہ میں نسبت صدیقی کا ظہور ہے ۔ معاملات صدیقی کی وجہ سے یہ طریقہ اَقْرَبُ الطُّرُقْ(نزدیک ترین راستہ) اور سَهْلُ الْوُصُول (پہنچنے میں سب سے آسان)ہے ۔ سیدنا صدیق اکبر کی نسبت ابراہیمی تھی اور ارشاد نبوی مَاصَبَ اللهُ فِي صَدْرِى شَيْئًا إِلَّا وَ قَدْ صَبَّبْتُهُ فِي صَدْرِ أَبِي بَكْرٍ کے مطابق آپ کو سرور عالمﷺ کی ضمنیت کبری حاصل تھی۔ اس لئے اس نسبت کا فیض ، القاء سینہ بہ سینہ ہے جو سالار طریقت حضرت شاہ نقشبند سے شائع ہوا اور نسبت معیت روشن ہوئی ۔ حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کے پیر و مرشد حضرت خواجہ امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ تک ذکر خفی کو ذکر جہری کے ساتھ جمع کرنے کا رواج تھا لیکن جب حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ عبد الخالق غجد وانی رحمۃ اللہ علیہ سے بطریق اویسیت مستفیض ہوئے تو آپ نے دوبارہ اس سلسلے میں ذکر خفی کو جاری کیا۔</p>
<p><span style="color: #800080; font-size: 20px;">سلسلہ چشتیہ</span> بزرگان چشتیہ میں خاص طور پر نسبت علوی کا ظہور ہے ۔ ارشاد نبوی عَلى مِني وَاَنَا مِنْ عَلَي(علی مجھ سے ہےمیں علی سے ہوں) (سنن الترمذی) کے موافق فیض عینیت اس طریقے میں بہت ہے اور فنافی الشیخ کا بھی یہی منشاء ہے ۔ حضرت سید نا علی المرتضیٰ عنہ کی نسبت عیسوی تھی ۔ آیہ کریمہ و نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحی کی مناسبت سے چشتیہ کا درد بے سماع آرام پذیر نہیں ہوتا ۔<br />
<span style="font-size: 20px;">سلسلہ قادریہ</span> : بزرگان قادریہ میں نسبت فاروقی کا ظہور ہے ۔ امیرالمؤمنین سیدنا فاروق اعظم ﷺ کی نسبت موسوی تھی۔ اسی بناء پر جلالت الہیہ اور تصرفات عظیمہ اس سلسلے کی مناسبت ہے جو حضرت سیدنا غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے ظہور پذیر ہوئی۔<br />
<span style="color: #800080; font-size: 20px;">سلسلہ سہروردیہ</span>: بزرگان سہروردیہ میں نسبت عثمانی کا ظہور ہے اور امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی نے کی نسبت نوحی تھی۔ حضرت سیدنا نوح علیہ السلام کی دعوت کو قبولیت کم ہوئی اور امت نے اذیت پہنچائی ، حضرت عثمان بھی شہید ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلے کا رواج بھی کم ہے البتہ اس طریقے میں عبادات اور تعمیر اوقات کی طرف بڑا التفات ہے<br />
تصریحات بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ طریقت کے چاروں بڑے سلسلے خلفائے اربعہ کی نسبتوں کے مظاہر ہیں اور سالکین کا سلوک انہی چار طریقوں پر واقع ہے حضرت امام ربانی قدس سرہ نے رسالہ مکاشفات عینیہ میں اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ قرب الہی کے لئے دو راستے ہیں ۔</p>
<h2>قرب نبوت قرب ولایت</h2>
<p>پہلا راستہ قرب نبوت کا ہے. دوسرا راستہ قرب ولایت کا ہے ۔<br />
قرب نبوت کا فیض حضرت سیدنا صدیق اکبر کے واسطے سے حاصل ہوتاہے۔<br />
قرب ولایت کا فیض حضرت سید نا علی المرتضی کے وسیلے سے ملاتا ہے ۔<br />
باقی دونوں خلفاء ( حضرت فاروق و عثمان رضی اللہ عنھما ) بھی قرب نبوت کے سلوک سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر کا سلوک میں انفسی سے تعلق رکھتا ہے اور حضرت علی المرتضیٰ کا سلوک سیر آفاقی سے تعلق رکھتا ہے ۔ گو دونوں سلوک مشکوۃ انوار نبوت سے مقتبس ہیں لیکن دونوں حضرات کے ساتھ علیحدہ علیحدہ طور پر مخصوص ہو گئے ہیں۔ دوسرے سلاسل ( قادریہ، سہروردیہ اور چشتیہ وغیر ہا ) اکثر طور پر حضرت علی رضی اللہ عنھم کے طریق قرب ولایت کے ذریعے مقصود تک پہنچتے ہیں جبکہ سلسلہ نقشبند یہ دونوں طریقوں ( قرب نبوت اور قرب ولایت ) سے موصل ہے لیکن قرب نبوت کی نسبت اس میں غالب ہے ۔ تمام سلسلوں کے اکابر مشائخ ابتدائی دور میں اس نسبت کا سلوک طے کر کے مقصود تک پہنچتے رہے مگر بعد میں جب حضرت علی نے کے مسلک کا شیوع ہوا تو اکثر مشائخ نے اس مسلک کو اختیار کر لیا اس کی دووجہیں تھیں ۔<br />
پہلی وجہ یہ کہ حضرت صدیق اکبر کے مسلک میں پوشیدگی و خفا کی وجہ سے مبتدی کو اس پر چلانا دشوار تھا<br />
جیسا کہ عارف جامی نے فرمایا:<br />
نقشبنداں عجب قافله سالارنند که برند از ره پنہاں بحرم قافله را<br />
اسی طرح حضرت فاروق اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنھما) کے مسلک میں پوشیدگی تھی ان پر چلنا بھی آسان نہ تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسلک ظہور رکھتا تھا۔ لہذا آسان ہونے کی وجہ سے یہی مسلک ظاہر زیادہ شائع ہوا ۔<br />
دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ ارشاد تینوں خلفاء کرام رضی اللہ عنہم سے پیچھے ہے ۔ لہذا سلاسل کا انتساب قرب زمانہ کی بناء پر انہی کے ساتھ ہوا ۔<br />
اس سے یہ مفہوم ہرگز اخذ نہ کیا جائے کہ تسلیک و تکمیل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مخصوص و منحصر ہے اور خلفائے ثلاثہ غیر مکمل تھے (نعوذ باللہ منہا) یہ بہت بڑی جسارت ہے جن لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی انہوں نے صرف حضرت سید نا علی رضی اللہ عنہ کے مسلک پر سلوک طے کیا اور خلفائے ثلاثہ کی راہوں سے بے خبر رہے اور اسی بے خبری میں دوسری راہوں کی نفی کر دی۔ رسالہ مکاشفات عینیہ میں حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے وضاحت فرمائی ہے کہ حضرت سیدنا غوث الثقلین شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شیخ ابو سعید خراز رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے مسلک سے سلوک طے کر کے ترقی کرتے ہوئے غیب ذات تک پہنچے ہیں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581%2F&#038;title=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D8%B3%D9%84%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81/" data-a2a-title="سلاسل طریقت اربعہ کا تعارف"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علماء راسخین و ظواہر اور صوفیہ  مکتوب نمبر18 دفتردوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/1234-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/1234-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 09 Aug 2021 12:01:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[آیات متشابہات]]></category>
		<category><![CDATA[آیات محکمات]]></category>
		<category><![CDATA[تربیت انعکاسی]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[طریقہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[علم شریعت کی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[علم شریعت کی صورت]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے راسخین]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1234</guid>

					<description><![CDATA[اس بیان میں کہ علماء راسخین اور علماء ظواہر اور صوفیہ میں سے ہر ایک کا نصیب کیا کیا ہے۔ شیخ جمال ناگوری کی طرف اس کی التماس کے جواب میں صادر&#160;فرمایا ہے۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/1234-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[




<p>اس بیان میں کہ علماء راسخین اور علماء ظواہر اور صوفیہ میں سے ہر ایک کا نصیب کیا کیا ہے۔ شیخ جمال ناگوری کی طرف اس کی التماس کے جواب میں صادر&nbsp;فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p><a><strong>اَلْحَمْدُ</strong></a><strong> لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (</strong>الله تعالی کی حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو<strong> الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ (علماء ا</strong>نبیاء کے وارث ہیں) علماء عظام کی تعریف میں کافی&nbsp; ہے۔ علم وراثت علم شریعت ہے جو انبیا علیہم الصلوة والسلام سے باقی رہا ہے۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علم شریعت </span></strong>کی ایک <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">صورت </span></strong>ہے ایک <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت &nbsp;</span></strong>صورت وہ ہے جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علماء ظاہر</span></strong> کے نصیب ہے جو کتاب وسنت کے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">محکمات </span></strong>سے تعلق رکھتی ہے اور حقیقت یہ ہے جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علماء راسخین</span></strong> کے نصیب ہے جو کتاب وسنت کی متشابہات سے متعلق ہے۔محکمات اگر چہ کتاب کے امہات یعنی &nbsp;اصول ہیں لیکن ان کے نتائج و ثمرات متشابهات ہیں جو کتاب کا اصلی مقصد ہیں اور نتائج وثمرات کے حاصل ہونے کے لیے امہات وسیلہ ہیں۔ گویا کتاب کا مغز <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">متشابهات </span></strong>ہیں اور اس کا پوست(چھلکا) محکمات۔ وہ متشابهات ہی ہیں جو رمز و اشارہ کے ساتھ اصل کو ظاہر کرتی ہیں اور معاملہ کی حقیقت کا پتہ بتاتی ہیں ۔ علماء راسخین نے پوست کو مغز کے ساتھ جمع کیا ہے اور شریعت کی صورت وحقیقت کے مجموعہ کو پا لیا ہے۔ ان بزرگواروں نے شریعت کو ایک شخص تصور کیا ہے جس کا پوست صورت شریعت اور اس کا مغز حقیقت شریعت ہو۔ شرائع و احکام کے علم کو شریعت کی صورت اور حقائق واسرار کے علم کو شریعت کی حقیقت سمجھا ہے۔&nbsp;</p>



<p>بعض لوگوں نے شریعت کی صورت میں گرفتار ہو کر اس کی حقیقت سے انکار کیا ہے اورصرف ہدایہ اور بزدوی کوا پنا پیرمقتداسمجھا۔&nbsp;</p>



<p>بعض لوگ اگرچہ حقیقت کے گرفتار ہوئے لیکن چونکہ انہوں نے اس حقیقت کو شریعت کی حقیقت نہ جانا بلکہ شریعت کو صورت پر موقوف رکھا اور اس کو صرف پوست ہی خیال کیا اور مغز کو اس کے سوا کچھ اور تصور کیا۔ اس لیے اس حقیقت کی حقیقت سے سب واقف نہ ہوئے اورمتشابهات کا کچھ حصہ حاصل نہ کیا۔ پس علماء راسخین ہی درحقیقت وارث ہیں۔ اللہ تعالی ہم کو اور آپ کو ان کےمحبین اور تابعداروں میں سے بنائے۔&nbsp;</p>



<p>دیگر یہ عرض ہے کہ میاں شیخ نور محمد &nbsp;نے آپ کی طرف سے ظاہر کیا کہ آپ فرماتے تھے کہ ہم کو دوسرے سلسلوں کے مشائخ سے اجازت ہے۔ <strong>نقشبندیہ</strong> کی طرف سے بھی <strong>اجازت چاہتے ہیں۔&nbsp;</strong>میرے&nbsp;مخدوم مکرم <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">طریقہ عليا نقشبندیہ</span></strong> میں پیری ومریدی طریقہ کے سیکھنے اور سکھانے پر موقوف ہے۔ نہ کہ کلاه و شجرہ پر جیسے کہ دوسرے سلسلوں میں متعارف اور مشہور ہے۔ ان بزرگواروں کا طریق صحبت ہی صحبت ہے اور ان کی <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تربیت انعکاسی</span></strong> ہے۔ اسی واسطے ان کی ابتداء میں دوسروں کی نہایت مندرج ہے اور سب راستوں سے زیادہ قریب راستہ یہی ہے۔ ان کی نظردلی امراض کو شفا بخشتی ہے اور ان کی توجہ باطنی بیماریوں کو دور کرتی ہے ۔&nbsp;</p>



<p>نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; کہ برند از رہ پنہان بحرم قافلہ را</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: نقشبندی عجیب ہی قافلہ سالار ہیں جو قافلے کو خفیہ راستے سے حرم پہنچا دیتے ہیں&nbsp;۔</p>



<p>امید ہے کہ معذور ومعاف فرمائیں گے۔ع&nbsp;</p>



<p><strong>والعذر</strong><strong> </strong><strong>عنده</strong><strong> </strong><strong>كرام</strong><strong> </strong><strong>الناس</strong><strong> </strong><strong>مقبول</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: بزرگ لوگوں کے ہاں عذر  مقبول ہے ۔ والسلام </p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ67 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></span></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/1234-2/" data-a2a-title="علماء راسخین و ظواہر اور صوفیہ  مکتوب نمبر18 دفتردوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/1234-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
