<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سیر انفسی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B3%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 24 Mar 2024 04:03:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>سیر انفسی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سیرآفاق وانفس اور تخلیہ اورتجلیہ  مکتوب نمبر42دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82-%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ac%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82-%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ac%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 12 Oct 2021 06:45:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[تخلیہ و تجلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر آفاقی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر فی الاشیاء باللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر فی اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر معشوق فی العاشق]]></category>
		<category><![CDATA[مخلَص اور مخلِص]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3344</guid>

					<description><![CDATA[&#160;اس بیان میں کہ صوفیہ نے سیر کو آفاق وانفس ہی میں منحصررکھا ہے اور تخلیہ اورتجلیہ اسی سیر میں ثابت کیا ہے اور حضرت ایشان یعنی حضرت مجدد قدس سرہ اس حصرے منع فرماتے ہیں اور نہایت النہایت کو <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82-%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ac%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;اس بیان میں کہ صوفیہ نے سیر کو آفاق وانفس ہی میں منحصررکھا ہے اور تخلیہ اورتجلیہ اسی سیر میں ثابت کیا ہے اور حضرت ایشان یعنی حضرت مجدد قدس سرہ اس حصرے منع فرماتے ہیں اور نہایت النہایت کو آفاق وانفس سے باہر ثابت کرتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>خواب جمال الدین ولد مرزا حسام الدین احمد کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الحمد</strong><strong> </strong><strong>لله</strong><strong> </strong><strong>رب</strong><strong> </strong><strong>العلمين</strong><strong> </strong><strong>والصلوة</strong><strong> </strong><strong>والسلام</strong><strong> </strong><strong>على</strong><strong> </strong><strong>سيد</strong><strong> </strong><strong>المرسلين</strong><strong> </strong><strong>وعلى</strong><strong> </strong><strong>اله</strong><strong>&nbsp;</strong><strong>الكرام</strong><strong> </strong><strong>وأصحابه</strong><strong> </strong><strong>العظام</strong><strong> </strong><strong>إلى</strong><strong> </strong><strong>يوم</strong><strong> </strong><strong>القيام</strong>فرزند عزیز خدا تجھے سعادت بخشے۔ گوش ہوش سے سنو کہ جب سالک نیت کو درست اور خالص کر کے۔ اللہ تعالی کے ذکر میں مشغول ہوتا ہے اور سخت ریاضتیں اور مجاہدے اختیار کرتا&nbsp;ہے اور تزکیہ (رذائل سے پاک) پاکر اس کے اوصاف رذیلہ اخلاق حسنہ سے بدل جاتے ہیں اور توبہ و انابت اس کو میسر ہو جاتی ہے اور دنیا کی محبت اس کے دل سے نکل جاتی ہے اور صبر و توکل ورضا حاصل ہو جاتے ہیں اور اپنی حاصل شدہ معانی کو درجہ بدرجہ اور ترتیب وار عالم مثال میں مشاہدہ کرتا ہے اور اپنے آپ کو بشریت کی کدورتوں اورکمینہ صفتوں سے پاک وصاف دیکھتا ہے تو اس وقت اس کا <strong>سیر</strong><strong> </strong><strong>آفاقی</strong> تمام ہو جاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس مقام میں اس گروہ میں سے بعض نے احتیاط اختیار کی ہے اور انسان کے ساتوں لطیفوں میں سے ہر ایک لطیفہ کیلئے عالم مثال میں اس کے مناسب انوار میں سے ایک نور مقرر کیا ہے اور&nbsp;اس نور مثالی میں سے نور کے ظاہر ہونے کو اس لطیفہ کی صفائی کی علامت مقرر کی ہے اور اس سیرکولطیفہ قلب سے شروع کر کے بتدر<em>یج </em><em>&nbsp;</em><em>و</em> ترتیب لطیفہ اخفی &nbsp;تک جوتمام لطائف کامنتہاہے، پہنچایا ہے۔</p>



<p>مثلا صفائی قلب کی علامت قلب کے نور کا ظہور مقرر کی ہے اور عالم مثال میں وہ نور نور سرخ کی صورت میں ہے اور صفائی روح کی علامت اس کے نور کا ظہور ہے جو نور زرد کی صورت میں مقرر ہے۔ اسی طرح دوسرے لطائف کا حال ہے۔ پس سیرآفاقی کا حال یہ ہے کہ سالک اپنے اوصاف کی تبدیلی اور اخلاق کے تغیر کو عالم مثال کے آئینے میں مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی کدورتوں اورظلمتوں کا دور ہونا اس جہان میں محسوس کرتا ہے تا کہ اس کو اپنی صفائی کایقین اور اپنے تزکیہ کا علم ہو جائے۔ جب سالک اس سیر میں دمبدم اپنے احوال و اطوار کو عالم مثال میں جو من جملہ آفاق کے ہے، مشاہدہ کرتا ہے اور اس عالم میں ایک حالت سے دوسری حالت میں اپنی تبدیلی کو دیکھتا ہے تو گویا اس کا یہ سیر آفاق ہی میں ہے۔ اگرچہ درحقیقت یہ سیر سالک&nbsp;</p>



<p>کے اپنے نفس کا سیر ہے اور اس کے اپنے اوصاف و اخلاق میں <strong>حرکت</strong><strong> </strong><strong>کیفی</strong> ہے لیکن چونکہ دوربینی کے باعث اس کے مدنظر آفاق ہے نہ کہ انفس۔ اس لیے یہ سیر بھی آفاق کی طرف منسوب ہے۔ اس سیر کے تمام ہونے کو جو آفاق کی طرف منسوب ہے۔ <strong>سیرالی</strong><strong> </strong><strong>اللہ</strong> کا تمام ہونا مقرر کیا ہے اور فنا کو اس سیر پر موقوف رکھا ہے اور اس سیرکو سلوک سے تعبیر کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس کے بعد جو سیر واقع ہوتا ہے، اس کو <strong>سیرانفسی</strong><strong> </strong>کہتے ہیں اور <strong>سیر</strong><strong> </strong><strong>فی</strong><strong> </strong><strong>اللہ</strong> بھی بولتے ہیں اور بقا باللہ اس مقام میں ثابت کرتے ہیں اور اس مقام میں سلوک کے بعد جذبہ کا حاصل ہونا جانتے ہیں۔ چونکہ سالک کے لطائف سیر اول میں تزکیہ &nbsp;پا چکے ہیں اور بشریت کی کدورتوں سے صاف ہو جاتے ہیں، اس لیے یہ قابلیت پیدا کر لیتے ہیں کہ اسم جامع (جو اس کا رب ہے)کے ظلال وعکوس ان لطائف کے آئینوں میں ظاہر ہوں اور یہ لطائف اس اسم جامع کی جزئیات کے تجلیات وظہورات کے مظہر اور مورد ہوں۔&nbsp;</p>



<p>اس سیرکوسیرانفسی اس لیے کہتے ہیں کہ انفس اسماء کے ظلال وعکوس کے آ ئینے ہیں۔ نہ یہ کہ سالک کا سیر نفس میں ہے۔ جیسے کہ سیر آفاقی میں گزرا کہ باعتبار آئینہ ہونے کے اس کو سیر آفاقی کہا ہے۔ نہ یہ کہ سیر آفاق میں ہے۔ اس سیر میں درحقیقت اس کےآئینوں میں اسماء&nbsp;کے ظلال کا سیر ہے۔ اسی واسطے اس سیرکو<strong>سیر</strong><strong> </strong><strong>معشوق</strong><strong> </strong><strong>فی</strong><strong> </strong><strong>العاشق</strong> کہتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>. آئینہ صورت از سفر دور است . کان پذیر اے صورت از نور است</p>



<p>ترجمہ: سفر سےصورت کا آئینہ ہے اور قبول کرتا ہےصورت کو وہ باعث نور۔</p>



<p>&nbsp;اس سیر کو سیر فی اللہ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ صوفیاء نے کہا ہے کہ سالک اس سیر میں اللہ تعالی کے اخلاق سےمتخلق ومتصف ہو جاتا ہے اور ایک خلق سے دوسری خلق میں انتقال کرتا ہے کیونکہ مظہر کو ظاہر کے بعض اوصاف سے حصہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اجمالی طور پر ہو۔ گویا حق تعالی کے اسماء میں سیرمتحقق ہو گیا۔ اس مقام کی نہایت تحقیق اور اس کلام کی تصحیح یہی ہے جو بیان ہو چکی۔ دیکھیں صاحب مقام کا کیا حال ہوگا اور کلام کے متکلم کی کیا مراد ہوگی۔ ہر ایک شخص سے اس کی سمجھ کے مطابق کلام کرتا ہے۔ کہنے والا اپنی کلام سے خواہ کچھ معنی مرادر کھے۔ سننے والا اسی کلام سے کچھ اور معنی بھی سمجھ لیتا ہے۔ یہ لوگ سیرانفسی کو بے تکلف سیر فی اللہ اور بے تحاشا اس کو بقا باللہ کہتے ہیں اور مقام وصال و اتصال خیال کرتے ہیں۔ یہ اطلاق اس فقیر پر بہت گراں گزرتے ہیں۔ اسی واسطے اس کی توجیہ اورتصحیح میں حیلہ وتکلف کیا جاتا ہے۔ جس کا کچھ حصہ ان کی کلام سے ماخوذ ہے اور&nbsp;کچھ افاضہ اور الہام کی راہ سے حاصل ہے۔سیر آفاقی میں رذائل یعنی بری صفتوں سے تخلیہ حاصل ہو چکا ہوتا ہے اور سیرانفسی میں اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہو جاتے ہیں کیونکہ تخلیہ یعنی بری صفات سے خالی ہونا مقام فنا کے مناسب ہے اور تجلیہ یعنی نیک صفات سے آراستہ ہونا مقام بقا کے لائق۔ ان کے نزدیک اس سیر انفسی کی نہایت نہیں اور عمر ابدی کے ساتھ بھی اس کے منقطع نہ ہونے کا حکم کیا ہے اور کہا ہے کہ محبوب کے اوصاف اور خصلتوں کی کوئی نہایت نہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس ہمیشہ کے لیے سالک متخلق کے آئینہ میں اس کی صفات میں سے کسی صفت کی تجلی ہوگی اور اس کے کمالات میں سے کسی کمال کا ظہور ہوگا۔ پھر انقطاع کہاں ہو گا اور نہایت کس طرح جائز ہوگی اور انہوں نے کہا ہے&nbsp;</p>



<p>ذره گر بس نیک اور بس بدبود گرچہ عمرے تنگ زند در خود بود&nbsp;</p>



<p>ترجمہ: ذره گر ہو نیک یا ہو بد عیاں عمر بھر دوڑے تو پھر بھی ہے یہاں&nbsp;</p>



<p>اور اس فنا و بقاء پر جو سیر آفاقی اور انفسی سے حاصل ہوا ہے، ولایت اطلاق کرتے ہیں اور نہایت کمال اس جگہ تک جانتے ہیں۔ اس کے بعد اگر سیر میسر ہو تو وہ سیران کے نزدیک رجوعی ہے جس کو سیرعن الله باللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ . اسی طرح سیر چہارم کو بھی جس کوسیرفی الاشياءبا اللہ کہتے ہیں ۔ نزول(رجوع) کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ ان دوسیروں کو تکمیل و ارشاد کے لیے مقرر کیا ہے جس طرح کہ پہلے دوسیروں کونقص ولایت و کمال کے حاصل &nbsp;ہونے کے لیے مقرر کیا ہے اور بعض نے یوں کہا ہے کہ وہ سترہزار پردے جن کا ذکر حدیث میں آ<strong>یا</strong><strong> </strong><strong>ہے</strong> ان لله سبعين الف حجاب من نور وظلمة تحقیق الله تعالی کے لئے ستر ہزار پردے نور اور ظلمت کے ہیں۔ &nbsp;سب کے سب سیر آفاقی میں دور ہو جاتے ہیں کیونکہ ساتوں لطائف میں سے ہر ایک لطیفہ دس دس ہزار پرد<em>وں</em><em> </em>کو دور کر دیتا ہے اور جب یہ سیر تمام ہو جاتا ہے۔ پردے بھی سب کے سب دور ہو جاتے ہیں اور سالک سیر فی اللہ&nbsp;سے متحقق ہو جاتا ہے اور مقام وصل میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہے ارباب ولایت کےسیر وسلوک کا حاصل &nbsp;اور ان کے کمال وتکمیل کا نسخہ جامعہ۔&nbsp;</p>



<p>. اس بارہ میں جو کچھ اس فقیر پر اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کیا گیا ہے اور جس راستے پر اس فقیر کو چلایا ہے۔ اس نعمت کے ظاہر اور عطیہ کے شکر ادا کرنے کی خاطر اس کو لکھتا اور بیان کرتا ہے<strong>۔ فاعتبروا أولي الأبصار</strong>.</p>



<p>اے عزیز خدا تجھے سیدھے راستے کی ہدایت دے۔ تجھے جاننا چاہیئے کہ حق تعالی جو بے چون و بیچگون ہے، جس طرح آفاق سے وراء الوراء ہے، اسی طرح انفس سے بھی وراء&nbsp;وراء الوراء ہے پس سیر آفاقی کو سیر الی اللہ اور سیرانفسی کو سیر فی الله کہنا فضول ہے بلکہ سیر آفاقی اور سیر انفسی دونوں سیر الی اللہ میں داخل ہے اور سیر فی الله وہ سیر ہے جو آفاق وانفس سے کئی منزلیں دور اور ان سےوراء الوراء ہے۔عجب معاملہ ہے کہ انہوں نےسیرفی اللہ کو سیرانفسی مقرر کیا ہے اور اس کو بے نہایت کیا ہے اور عمر ابدی سے بھی اس کا طے ہونا جائز نہیں سمجھا۔ جیسے کہ گزر چکا ہے۔ جب انفس بھی آفاق کی طرح دائرہ &nbsp;امکان میں داخل ہوتا ہے تو اس صورت میں دائرہ امکان کا قطع کرنا ناممکن ہوگا۔ پس &nbsp;اس سے دائمی مایوسی اور خسارہ کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔نہ کبھی فنا متحقق ہوگی نہ بقا تصور ہوگا۔ پھر وصال و اتصال کیسے ہوگا اور قرب و کمال کیا حاصل ہوگا۔&nbsp;</p>



<p>سبحان اللہ جب بزرگ لوگ پانی کو چھوڑ کر سراب پر کفایت کریں اور الی اللہ کو فی اللہ خیال کریں اور امکان کو وجوب تصور کریں اور چون کو بیچون تعبیر کریں تو پھر چھوٹوں اور پست فطرتوں کا کیا گلہ اور کیا شکایت ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا۔ انہوں نے اس کو کس اعتبار سےحق&nbsp;تعالی کہا ہے کہ اس کےسیر کو باوجود حد و نہایت کے بے نہایت کہا ہے۔ سالک آئینہ میں حق تعالی کے اسماء و صفات کا وہ ظہور جو انہوں نےسیرانفسی میں مقرر کیا ہے۔ وہ اسماء و صفات کے ظلال میں سے کسی ظل کا ظہور ہے۔ نہ عین &nbsp;اسماء و صفات کا ظہور<strong> </strong>۔ اس مضمون کی تحقیق اس کتاب کے آخر میں انشاء الله تعالی کی جائے گی۔&nbsp;</p>



<p>میں کیا کروں اور باوجودعلم وتمیز کے حق تعالی کی پاک جناب میں یہ بے ادبی کس طرح جائز رکھوں اور حق تعالی کے ملک میں غیر کو کیسے شریک کروں۔ اگرچہ ان بزرگواروں کے حقوق مجھ پر لازم ہیں کیونکہ انہوں نے مجھے طرح طرح کی تربیت سے پرورش کیا ہے لیکن حق تعالی کے حقوق ان تمام کے حقوق سے بڑھ کر ہیں اور اس کی تربیت دوسروں کی تربیت سے برتر ہے۔ اللہ تعالی کی حسن تربیت کے سبب میں نے اس بھنور سے نجات پائی ہے اور اس کے ملک مقدس میں غیر کو شریک نہیں کیا۔ <strong>الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ‌هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ ‌هَدَانَا اللَّهُ </strong>الله تعالی کے لیے حمد ہے جس نے ہم کو اس کی ہدایت دی اور اگر وہ ہدایت نہ دیتا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے۔)حق تعالی بیچون و بے چگون ہے اور جو چیز چونی<strong> </strong>اور چندی کے داغ سے لتھڑی ہوئی ہے، سب اس کے بارگاہ سے مسلوب اور دور ہے۔ پس آفاق کے آئینوں میں اور اس کی جلوہ گاہوں میں حق تعالی کی بھی گنجائش نہیں اور جو کچھ ان میں ظاہر ہوتا ہے، وہ بھی چند و چون کا مظہر ہے۔ پس انفس وآفاق سے آگے گزرنا چاہیئے اور حق تعالی کو انفس و آفاق سے ماوراء ڈھونڈ نا چاہیئے۔ جس طرح دائرہ &nbsp;امکان یعنی نفس و آفاق میں حق تعالی کی ذات کی گنجائش نہیں۔ اس کے اسماء و صفات کی بھی گنجائش نہیں کیونکہ&nbsp;جو کچھ وہاں ظاہر ہے، اسماء و صفات کے ظلال وعکوس اور ان کی شبہ و مثال ہیں بلکہ اسماء &nbsp;و صفات کی ظلیت اور مثالیت بھی آفاق و انفس سے باہر ہے۔ اس جگہ تعبیہ (آراستہ کرنا)اورنقش قدرت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ ظہور کس کا اور تجلی کہاں۔ کیونکہ حق تعالی کے اسماء و صفات بھی اس کی ذات کی طرح بیچون و بے چگو<em>ن</em><em> </em>اور بے شبہ و بے نمونہ ہیں جب تک انفس و آفاق&nbsp;سے باہر نہ نکلیں ۔ حق تعالی کے اسماء و صفات کی ظلیت کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو پھر اسماء و صفات تک وصول کیسے حاصل ہوگا۔&nbsp;</p>



<p>عجب معاملہ ہے کہ اگر میں اپنے یقینی مکشوفات ومعلومات کو بیان کروں تو مشائخ کے&nbsp; مذاق اور ان کے مکشوفات کے موافق و مطابق نہ ہوں گے تو پھر مجھ پر کون اعتبار کرے گا اور کون قبول کرے گا اور اگر کچھ نہ کہوں پوشیدہ ہی رہنے دوں تو حق باطل کے ساتھ ملا رہے گا اورحق تعالی کے حق میں ان امور کا اطلاق جائز سمجھا جائے گا جو اس کی بارگاہ کے لائق نہیں۔ اس لیے جو کچھ حق تعالی کی پاک جناب کے نامناسب ہے، اس کو سلب اور دفع کرتا ہوں اور دوسروں&nbsp;کے خلاف سے نہیں ڈرتا ہوں۔ ان کی مخالفت کا خوف تب ہوسکتا ہے جب کہ میرے معاملہ میں تذبذب اور میرے مکشوف میں شبہ ہو۔ جب اصل حقیقت کوصبح کی سفیدی کی طرح ظاہر کر دیں اور اصل معاملہ کو چودھویں رات کے چاند کی طرح واضح کر دیں اور تمام ظلال وشبہ ومثال&nbsp;سے گزار کر بالاتر لے جائیں تو پھر وہ کہاں ہوگا اور تردد وتذبذب کس کو پیدا ہوگا۔&nbsp;</p>



<p>ہمارے حضرت خواجہ قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ احوال کے درست ہونے کی علامت اپنے کمال پر یقین کا حاصل ہونا ہے۔ نیز تذبذب و اشتباه کیسے متصور ہوسکتا ہے جب کہ اللہ تعالی کی عنایت بے غایت سے ان بزرگواروں کے مقرر احوال کی تفصیل پر اطلاع ہو چکی ہے اور معارف توحید و اتحاد واحاطہ (اللہ تعالیٰ  کا ہر چیز پر محیط ہونا)اور سریان (اللہ تعالیٰ  کا  مومن کے قلب میں سمانا) مکشوف ہو گئے ہیں اور ان کے مکشوف ومشہودکی حقیقت حاصل ہو چکی ہے اور ان کے علوم و معارف کے دقائق واضح ہو گئے ہیں۔ </p>



<p>فقیر دنوں تک اس مقام میں ٹھہرا رہا اور ان کے قلیل و کثر پرخوب غور کیا۔ آخر کارفضل خداوندی جل شانہ سے ظاہر ہوا کہ یہ سب ظلال کے شعبدے اور شبہ و مشال کی گرفتاری ہے۔ مطلوب ان سب سے وراء الوراء اور مقصودا<em>ن</em><em> </em><em>سے</em><em> </em><em>سو</em>اء السواء ہے۔ ناچاران سب سے منہ&nbsp;پھیر کر بیچون کی بارگاہ پاک کی طرف متوجہ ہوا اور جو کچھ چند و چون کے داغ سے موسوم تھا۔ اس سے بیزار ہوا۔ <strong>إِنِّي ‌وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ </strong>سب طرف سے ہٹ کر میں نے اپنے آ<em>پ</em><em> </em>کو اس ذات پاک کی طرف متوجہ کیا جس نے تمام آسمانوں اور زمین &nbsp;کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں) اگر معاملہ ایسا نہ ہوتا تو مشائخ کے برخلاف ہرگز نہ کہتا اورظن وتخمین سے ان کی مخالفت نہ کرتا۔ نیز اگر یہ خلاف حق تعالی کی ذات و صفات کے متعلق نہ ہوتا اور اس کی تقدیس و تنزیہ کی نسبت گفتگو نہ ہوتی تو پھر بھی ان بزرگوں کے مکشوف کے برخلاف وقوع میں نہ آتا اور ان کے علوم کی مخالفت میں کلام نہ کرتا کیونکہ میں انہی کی دولتوں کے خرمنوں کا کمینہ خوشہ چین&nbsp; ہوں اور انہی کی نعمتوں کے دسترخوان سے پس خوردہ کھانے والا فقیر ہوں۔ بار بار یہی ظاہر کرتا ہوں کہ انہی لوگوں نے مجھے طرح طرح کی تربیت سے پرورش کیا ہے اور طرح طرح کے کرم واحسان سے مجھے فائدہ پہنچایا ہے۔&nbsp;</p>



<p>لیکن کیا کروں حقوق خداوندی ان کے حقوق سے برتر ہیں۔ جب حق تعالی کی ذات و&nbsp;</p>



<p>صفات کی بحث درمیان میں آگئی اور معلوم ہوا کہ بعض امور کا اطلاق حق تعالی کی پاک جناب کے لائق نہیں تو اس مقام پر خاموش رہنا اور دوسروں کے خلاف سے ڈرنا دین و دیانت سے دور ہے، بندگی اور اطاعت کا مقام اس کی تاب نہیں لاسکتا۔ علماء کا خلاف مشائخ کے ساتھ مسئلہ تو حید و غیره امور خلافیہ میں نظر و استدلال کی وجہ سے ہے اور فقیر کا خلاف ان کے ساتھ ان امور میں کشف و شہود &nbsp;کی وجہ سے ہے۔ علماء ان امور کی قباحت کے قائل ہیں اور فقیر بشرط عبوران امور کے حسن کا ۔ مسئلہ وحدت وجود میں شیخ علاء الدولہ کا خلاف علماء کے طور پر مفہوم ہوتا ہے اور اس کی نظر امور کی قباحت پر ہے۔ اگرچہ اس کا خلاف کشف کی راہ&nbsp;سے بھی ہے کیونکہ صاحب کشف ان کو قبیح نہیں جانتا۔ اس لیے کہ یہ مسئلہ احوال غریبہ اور معارف عجیبہ پرمشتمل ہے۔ ہاں اس مقام میں ٹھہرارہنا اچھا نہیں اور انہی احوال و معارف پر&nbsp;کفایت کرنا مناسب نہیں۔</p>



<p>سوال: اس صورت میں مشائخ باطل ہوں گے اور ان کے مکشوف ومشہودکے برخلاف ہوگا۔</p>



<p>جواب: باطل وہ ہوتا ہے جس میں صدق کی بو نہ ہو اور جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں، ان احوال و معارف کا باعث حق تعالی کی محبت کا غلبہ ہے یعنی حق تعالی کی محبت یہاں تک غالب آجاتی&nbsp;ہے کہ ان کی نظر بصیرت میں ماسوا کا نام و نشان نہیں چھوڑتی اور غیرو غیریت کا اسم ورسم محو ولاشے کر دیتی ہے۔ اس وقت سکر(مستی) و غلبہ حال کے باعث ماسوا کو معدوم جانتے ہیں اور حق تعالی&nbsp;کے سوا کچھ موجودنہیں دیکھتے۔ . یہاں باطل کیا ہے اور بطلان کہاں ہے۔ اس مقام میں حق کا غلبہ اور باطل کا بطلان&nbsp;ہے۔ بزرگواروں نے حق تعالی کی محبت میں اپنے آپ کو اور اپنے غیر کوقربان کر دیا ہے اور اپنا اور اپنے غیر کا نام ونشان نہیں چھوڑا۔ باطل تو ان کے سایہ سے بھاگتا ہے۔ یہاں سب حق ہی حق ہے اور حق ہی کے لیے ہے۔ علمائے ظاہربیں ان کی حقیقت کو کیا پاسکیں اور ظاہری مخالفت&nbsp;کے سوا اور کیا سمجھیں اور ان کے کمالات کو کیسے حاصل کرسکیں۔&nbsp;</p>



<p>گفتگو اس امر میں ہے کہ ان احوال و معارف کے سوا اور بھی اس قسم کے کمالات ہیں۔ جن کے ساتھ یہ احوال و معارف وہ نسبت رکھتے ہیں جو قطرے کو دریائے محیط کے ساتھ ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>آساں نسبت بعرش آمد فرود ورنہ بس عالیست پیش خاک تود </strong></p>



<p>ترجمہ: عرش سے &nbsp;نیچے ہے گرچہ آسماں لیک اونچا ہے زمین &nbsp;سے اے جواں&nbsp;</p>



<p>اب ہم اصل بات کو بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جو انہوں نے خرق حجب یعنی پردوں کے دور ہونے کی نسبت کہا ہے کہ سیر آفاقی میں سب ظلمانی اور نورانی پردے دور ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ گزر چکا۔&nbsp;</p>



<p>فقیر کے نزدیک اس کلام میں خدشہ ہے بلکہ اس کے برخلاف ثابت ہے اور مشہود ہوا&nbsp;ہے کہ ظلمانی پردوں کا دور ہو نا امکان کے تمام مراتب طے کرنے یعنی سیر آفاقی اور سیرانفسی کے تمام ہونے پر وابستہ ہے اور نورانی پردوں کا دور ہونا حق تعالی کے اسماء و صفات کےسیر پر موقوف ہے۔ حتی کہ نظر میں نہ اسم ہے نہ صفت اور نشان اور نہ اعتبار۔ اس وقت تمام نورانی پردے دور ہو جاتے ہیں اور وصل وعریانی حاصل ہوتا ہے۔ یہ عمل بہت ہی کم کسی کو حاصل ہوتا&nbsp;ہے اور ایسے دل والا نہایت ہی عزیز الوجود ہے&nbsp;۔</p>



<p>پس سیر آفاقی میں معلوم نہیں کہ نصف ظلمانی پردے بھی دور ہوتے ہوں۔ پھر نورانی .پردوں کے دور ہونے کا کیا حال ہے۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے ظلمانی پردوں میں مختلف اور متفاوت مرتبے ہیں جو اشتباه کا سبب ہو جاتے ہیں کیونکہ نفانی پردے ظلمت میں قلبی پردوں کے اوپر ہیں۔ جس طرح کہ تھوڑی سی ظلمت والی چیز بہت سی ظلمت والی چیز کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ نورانی ظاہر کرے اور ظلمانی نورانی متخیل ہو ورنہ درحقیقت ظلمانی ظلمانی ہے اور نورانی نورانی ۔ تیز نظروالا شخص ایک &nbsp;کو دوسرے&nbsp;کے ساتھ نہیں ملاتا اور اشتباه کا باعث معلوم کر کے ظلمت پر نور کا حکم نہیں کرتا۔ <strong>ذَلِكَ ‌فَضْلُ ‌اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ </strong>به الله تعالی کا فضل ہے۔ جس کو چاہتا ہے، دیتا&nbsp;ہے اور اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے۔&nbsp;</p>



<p>وہ طریق کے جس کے سلوک سے اس فقیر کومشرف فرمایا ہے۔ ایسا طریق ہے جو جذبہ و&nbsp; سلوک کا جامع ہے۔ وہاں تخلیہ اورتجلیہ باہم جمع ہیں اور تصفیه و تزکیہ &nbsp;ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ اس مقام میں سیر انفسی سیر آفاقی کو شامل ہیں۔ عین تصفیہ میں تزکیہ ہے اور عین تجلیہ میں تخلیہ۔ جذبہ سے سلوک حاصل ہوتا ہے اور انفس کو آفاق شامل ہے لیکن تقدم ذاتی تجلیہ اور جذبہ کے لیے ہے اور تزکیہ پرتصفیہ کوذاتی سبقت ہے اورمدنظر ملحوظ انفس ہے نہ کہ آفاق۔&nbsp;</p>



<p>یہی وجہ ہے کہ یہ راستہ سب راستوں سے اقرب اور وصل کے نزدیک تر ہے بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ طریقہ البتہ موصل ہے۔ یہاں عدم وصول کا احتمال مفقود ہے۔حق تعالی سے استقامت اور فرصت طلب کرنی چاہیئے اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ یہ طریق البتہ موصل ہے، اس لیے ہے کہ اس راہ کا پہلا قدم جذبہ ہے جو وصول کی دہلیز ہے اور توقعات کی جگہیں یا سلوک کی منزلیں ہیں یا وہ مقامات جذبات جو سلوک پر شامل نہ ہوں اور اس طرق میں یہ دونوں مانع مرتفع ہیں کیونکہ یہ سلوک طفیلی ہے جو جذبہ کے ضمن میں حاصل ہو جاتا ہے۔ یہاں&nbsp;نہ سلوک خاص ہے اور نہ جذ بہ ناقص تا کہ سدراہ ہوں۔&nbsp;</p>



<p>یہ وہ طریق ہے جو انبیاء علیہم السلام کی شاہراہ ہے۔ یہ بزرگواراس راہ سے اپنے اپنے درجوں کے موافق وصول کی منزلوں تک پہنچے ہیں اور آفاق و انفس کو ایک قدم سے قطع کر کے دوسرا قدم آفاق و انفس کے آگے رکھا ہے اور اپنا معاملہ سلوک و جذبہ سے آ<em>گے</em><em> </em>لے گئے ہیں&nbsp;کیونکہ سلوک کی نہایت سیر آفاقی کی نہایت تک ہے اور جذبہ کی نہایت سیرانفسی کی نہایت تک۔ جب سیرآفاقی وانفسی ختم ہوا سلوک و جذ ب کا معاملہ بھی تمام ہوا۔ بعدازاں نہ سلوک ہے <strong>نہ</strong><strong> </strong>جذبہ۔ یہ بات ہر مجذوب سالک (۔ مجذوب سالک وہ ہے جس کے سلوک کی ابتداء جذبہ سے ہو۔)اور سالک مجذوب (سالک مجذوب وہ ہے جس کو سلوک کی انتہاء میں جذبہ نصیب ہو۔)کی سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ ان کے نزدیک آفاق و انفس کے آگے کوئی مرتبہ نہیں۔ اگر بالفرض ابدی اور دائمی عمر پائیں اور اس کوسیرانفسی میں لگائیں تو بھی اس کو تمام نہ &nbsp;کر سکیں۔ ایک بزرگ فرماتا ہے۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>ذره گر بس نیک و ربس بدبود گر چہ عمرے تگ زند در خود بود</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ: ذره گر ہو نیک یا ہو گر برا عمر بھر دوڑے رہے اس جا پڑا&nbsp;</p>



<p>ایک اور بزرگ فرماتا ہے کہ تجلی ذاتی متجلی لہ نے حق کے آئینہ&nbsp; &nbsp;میں اپنی صورت کے سوانہیں دیکھا اور حق کونہیں دیکھا اور نہ ہی ممکن ہے کہ اس کو دیکھ سکے۔ : .جاننا چاہیئے کہ میرے پیروں اور خدا کی طرف مجھے رہنمائی کرنے والوں نے جن کے وسیلہ سے میں نے اس راہ کی آنکھ کھولی ہے اور جن کے ذریعے گفتگو کر رہا ہوں، میں نے طریقت میں الف با کاسبق انہی سے لیا ہے اور مولویت کا ملکہ ان کی توجہ شریف سے حاصل کیا&nbsp;ہے۔ اگر مجھے علم ہے تو انہی کے طفیل ہے اور اگر معرفت ہے تو انہی کی توجہ کااثر ہے۔ اندراج النہایت فی البدایت کا طریق میں نے انہی سے سیکھا ہے اور قیومیت کی طرف انجذاب کی نسبت انہی سے اخذ کی ہے اور ان کی ایک نظر سے وہ کچھ دیکھا ہے جو لوگ چلوں میں بھی نہیں دیکھتے اور ان کے ایک کلام سے وہ کچھ پایا ہے جو دوسرے سالوں میں نہیں پاسکتے۔ بیت&nbsp;</p>



<p>آنکہ بہ تبریزیافت یک نظرش شمس دین طعنه زند برده سخرہ کند بر چلہ ترجمہ: ایک نظر میں شمس تبریزی نے وہ کچھ پالیا جو چلوں میں اور لوگوں کونہیں حاصل ہوا&nbsp;۔</p>



<p>کسی نے کیا اچھا کہا ہے<strong>۔ بیت</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong> نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند    کہ برند از رہ پنہان بحرم قافلہ را</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ: نقشبندی عجیب ہی قافلہ سالار ہیں جو قافلے کو خفیہ راستے سے حرم پہنچا دیتے ہیں&nbsp;۔</p>



<p>اپنی بلندفطرتی اور عالی ہمتی سے طریقت کی ابتدا سیرانفسی سے مقرر کی ہے اور سیر آفاقی کو اس کے ضمن میں قطع کر لیتے ہیں۔ ان کی عبارت میں سفر در وطن سے مراد یہی ہے۔ ان بزرگواروں کا طریق سب طریقوں سے اقرب اور وصول کے نزدیک تر ہے اور دوسروں کےسیر کی نہایت ان کےسیر کی ابتداء ہے۔ اسی واسطے انہوں نے فرمایا ہے کہ ہم نہایت کو بدایت میں درج کرتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>غرض ان بزرگواروں کا طریق مشائخ کے تمام طریقوں سے بہت بلند ہے اور ان کی حضور و آ گا ہی ان میں سے اکثر کی حضور و آگاہی سے برتر ہے۔ اسی واسطے انہوں نے فرمایا&nbsp;</p>



<p>ہے کہ ہماری نسبت تمام نسبتوں سے برتر ہے اور نسبت سے ان کی مرادحضور و آ گاہی ہے لیکن چونکہ انفس و آفاق اور جذبہ سلوک کے آگے اولیاء کی ولایت کا گزر نہیں، اس لیے ان بزرگواروں نے بھی آفاق وأنفس کے سوا کوئی خبرنہیں دی اور جذبہ اور سلوک کے سوا کوئی کلام نہیں کی اور کمالات ولایت کے اندازہ کے موافق<em> </em>فرماتے ہیں کہ اہل اللہ فنا بقا کے بعد جو کچھ دیکھتے ہیں، اپنے آپ میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ پہچانتے ہیں اپنے آپ میں پہچانتے ہیں&nbsp; اور ان کی حیرت ان کے اپنے وجود میں ہے۔ <strong>‌وَفِي ‌أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ </strong>اور تمہاری جانوں میں نشان ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی کا حمد اور احسان ہے کہ ان بزرگواروں نے اگرچہ اس کے سوا کوئی اور خبر نہیں دی لیکن انفس میں گرفتاری بھی نہیں چاہتے ہیں کہ انفس کو بھی آفاق کی طرح لاکے نیچے لائیں اور غیر یت کے باعث اس کی نفی کریں۔&nbsp;</p>



<p>حضرت خواجہ بزرگ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ جو کچھ دیکھا اور سنا اور جانا گیا سب کچھ غیر&nbsp;ہے۔ کلمہ لا سے اس کی نفی کرنی چاہیئے۔&nbsp;</p>



<p><strong>نقشبند ندو لے بند بہر نقش نیند ہر دم از بوالعجبی نقش دگر پیش آرند</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ نقشبند ہیں پر ہر نقش کے پابند نہیں ہیں نقش نیاد یکھتے ہیں ایک پرفر سندہ نہیں ہیں&nbsp;۔</p>



<p>نقشبندانے والے از نقش پاک نقش راہم کردہ پاک از لوح خاک</p>



<p>ترجمہ: نقشبندی ہیں مگر نقشوں سے پاک ان کے نقشوں پر نہیں ہے ذرہ خاک&nbsp;</p>



<p>یہاں ایک سرہے جو جاننے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ غیر یت کی نفی اور ہے اور غیرت کا انتفا(فنا) اور <strong>شَتَّانِ</strong><strong> </strong><strong>مَا</strong><strong> </strong><strong>بَيْنَهُمَا</strong><strong> </strong>ان<strong> </strong>دونوں کے درمیان بہت فرق ہے۔&nbsp;اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ جذبہ وسلوک و آفاق وانفس کے باہر ولایت کا قدمگاہ نہیں ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ ولایت&nbsp;کے ان چاروں ارکان کے آگے کمالات نبوت کے مبادی اور مقدمات ہیں جس کے بلند&nbsp;درخت تک ولایت کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔&nbsp;</p>



<p>انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کے اصحاب میں سے اکثر لوگ اور باقی تمام امتوں میں سے کمتر لوگ انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی وراثت اور تبعیت کے طور پر اس دولت سے مشرف ہوئے ہیں اور جذبہ و سلوک کی اس جامع راہ سے بعد کی منازل کوقطع کر کے جذبہ و سلوک کے آگے قدم رکھا&nbsp;ہے اور دائرہ &nbsp;ظلال سے باہر نکل کر انفس کو آفاق کی طرح پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ اس مقام میں وہ&nbsp;تجلی ذاتی برقی جو دوسروں کے لیے برق خاطف کی طرح ہوتی ہے، ان کے لیے دائمی ہے بلکہ ان بزرگواروں کا معاملہ تجلی سے خواہ برقی ہو یا غیر برقی اعلی و برتر ہے کیونکہ تجلی کچھ نہ کچھ ظلیت&nbsp;چاہتی ہے اور ظلیت کا ایک نقطہ ان بزرگواروں کوکوہ عظیم نظر آتا ہے۔ ان بزرگواروں کے کام کی ابتداء جذب ومحبت الہی جل شانہ پر ہے۔ جب اللہ تعالی کی عنایت بیغایت سے یہ محبت دمبدم&nbsp;غالب آتی جاتی ہے اور قوت وغلبہ پکڑتی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ ماسوا کی محبت زائل ہوتی جاتی ہے اور اغیار کی گرفتاری کا تعلق بتدریج دور ہوتا جاتا ہے اور جب کسی صاحب دولت پر حق تعالی کی محبت غالب آجاتی ہے اور ماسوا کی محبت بالکل زائل ہو کر اس کی بجاۓ حق تعالی کی محبت و گرفتاری آجاتی ہے تو اس کے برے اوصاف اور ردی اخلاق سب دور ہو جاتے ہیں اور اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہو کر مقامات عشرہ کے ساتھ متحقق ہو جاتا ہے اور جو کچھ سیرآفاقی سے تعلق رکھتا ہے، سلوک اور ریاضتوں اور مجاہدوں کی تکلیف کے بغیر اس کو میسر ہو جاتا ہے کیونکہ محبت محبوب&nbsp;کی اطاعت چاہتی ہے۔ جب محبت کامل ہو جائے تو اطاعت بھی کامل طور پر حاصل ہو جاتی ہے اور جب محبوب کی اطاعت قوت بشری کے انداز کے موافق پورے طور پر حاصل ہو جائے تو مقامات عشرہ حاصل ہو جاتے ہیں اور اسی سیر محبوب سے جس طرح سیر آفاقی تمام ہو جاتا ہے۔سیرانفس بھی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ مخبر صادق علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے۔ <strong>الْمَرْءُ ‌مَعَ ‌مَنْ ‌أَحَبَّ</strong><strong> </strong>(آدمی &nbsp;اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کی محبت ہوگی)&nbsp;</p>



<p>اور جب محبوب آفاق و انفس سے باہر ہے، محب بھی معیت کے حکم سے آفاق و انفس سے گزر جائے گایعنی سیرانفسی کو بھی پیچھے چھوڑ کر معیت کی دولت حاصل کر لے گا۔ یہ بزرگوار محبت کی دولت کے باعث نہ آفاق سے تعلق رکھتے ہیں نہ انفس کے ساتھ بلکہ انفس و آفاقی ان&nbsp;کے کام کے تابع ہیں اور جذبہ سلوک ان کے معاملہ کا طفیلی ہے۔ ان بزرگواروں کا سرمایہ محبت ہے جس کومحبوب کی اطاعت لازم ہے اورمحبوب کی اطاعت شریعت کی تابعداری پر موقوف ہے جو الله تعالی کے نزدیک پسندیدہ دین ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس کمال محبت کی علامت شریعت کی کمال اطاعت ہے اور شریعت کی کامل اطاعت علم و عمل و اخلاص پرمنحصر ہے۔ وہ اخلاص جو تمام اقوال و اعمال اور تمام حرکات وسکنات میں متصور ہو سکے، وہ مخَلص(بفتح لام )کا حصہ ہے۔ مخلِص ( بکسرلام) اس معما کو کیا پا سکتے ہیں<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>والمخلصون</strong><strong> </strong><strong>على</strong><strong> </strong><strong>خطر</strong><strong> </strong><strong>عظيم</strong> (مخلص خطرہ عظیم پر ہیں) آپ نے سنا ہی ہوگا۔&nbsp;</p>



<p>اب ہم پھر اصل بات کو بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلوک و جذبہ کے سیرسےمقصود یہ ہے کہ انفس ان اخلاق ردیہ اور اوصاف رذیلہ سے جن کا رئیس انفس کی گرفتاری اورا نفس کی مرادوں اور خواہش کا حاصل ہونا ہے۔ پاک صاف ہو جائے۔ پس سیرانفسی بڑا ضروری ہے&nbsp;کیونکہ اس کے سوا صفات رذیلہ سے صفات حمیده تک جانے کا اور کوئی راستہ نہیں اور سیر آفاقی مقصود سے خارج ہے کوئی غرض معتد بہ اس کے متعلق نہیں کیونکہ آفاق کی گرفتاری انفس کی گرفتاری کے باعث ہے کیونکہ جس چیز کو کوئی شخص دوست رکھتا ہے، اپنی دوستی کے باعث دوست رکھتا ہے۔ اگر مال و فرزند کو دوست رکھتا ہے تو اپنے نفع اور فائدے کے لیے دوست رکھتا ہے۔ جب سیرانفسی میں حق تعالی کی محبت کے غلبہ کے باعث اپنی دوستی زائل ہو جاتی ہے تو اس کے ضمن میں مال و اولاد کی محبت بھی دور ہو جاتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس سیر انفسی ضروری ہے اورسیر آفاقی اس کےضمن میں اس کے طفیل میسر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیا علیہم الصلوة والسلام کا سیر انفس پر موقوف ہے اور آفاقی اس کے طفیل اسی کے ضمن میں طے ہو جاتا ہے۔ ہاں سیر آفاقی بھی نیک ہے۔ بشرطیکہ اس سے قطع کرنے کی فرصت دیں اور توقفات کے خلل کے بغیر انجام تک پہنچا دیں اور اگر اس کے قطع کرنے کی فرصت نہ دیں اور توقفات میں ہی مبتلا رکھیں تو پھر سیر آفاقی &nbsp;بے&nbsp;&nbsp; معنی &nbsp;اور مطلب حاصل ہونے سے مانع گنا جاتا ہے۔ سیرانفسی جس قدر قطع کیا جائے غنیمت ہے کیونکہ برائی&nbsp;سے نیکی کی طرف جانا جس قدر ہو سکے بہتر ہے۔ اس سیر کو انجام تک پہنچانا اوردائرہ نفس سے باہر نکلنا بڑی نعمت ہے۔ اس کے ہوتے کچھ ضروری نہیں کہ انفس کی تلوینات کو آفاق کے آئینہ میں مشاہدہ کریں اور اپنے تغیرات کو آفاق میں معائنہ کر یں&nbsp; یعنی &nbsp;اپنی صفاء قلب کو مثال کے آئینہ میں معلوم کریں اور اس صفا کو نور سرخ کی صورت میں دیکھیں۔ کیوں اپنی وجدان پر عمل نہ&nbsp;کریں اور اس صفا کو اپنی فراست کے حوالہ کیوں نہ کریں۔&nbsp;</p>



<p>مثل مشہور ہے کہ دوازده سال یعنی بارہ سال کے آدمی &nbsp;کو طبیب کی کیا حاجت ہے۔ اپنے وجدان صحیح سے اپنے احوال کےتلوینات معلوم کر لے گا اور فراست کے ساتھ اپنی صحت وبیماری کا پتا لگا لے گا۔&nbsp;</p>



<p>ہاں سیرآ فاقی میں بہت سے علوم و معارف اورتجلیات اور ظہورات ہیں جو سب کے سب ظلال کی طرف راجح اور شبہ و مثال کے متعلق ہیں۔ جب سیر انفسی ظلال سے تعلق رکھتا ہو جیسے کہ اپنے مکتوبات و رسالوں میں اس کی تحقیق ہو چکی ہے تو پھر آفاقی ظل کے &nbsp;ظل کےساتھ متعلق ہونا چاہیئے کیونکہ آفاق انفس کے ظل کی طرح ہے اور اس کے ظہور کا آئینہ ہے۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ انفس کے احوال جو آفاق کے آئینہ میں مشاہدہ کرتے ہیں اور صفا وتجليہ وہاں سے معلوم کرتے ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص خواب یا واقعہ یا عالم مثال میں اپنے آپ کو بادشاہ دیکھے یا قطب وقت مشاہدہ کرے۔ حقیقت میں وہ نہ بادشاہ ہے نہ قطب۔ بادشاہ تب ہے جب خارج میں اس مرتبہ سے مشرف ہو۔ ہاں اتنا ہو جاتا ہے کہ اس خواب اور واقعہ سے بادشاہ ہونے کی استعداد اور قطب بننے کی قابلیت معلوم ہو جاتی ہے۔ بڑی کوشش اور محنت کرنی پڑتی ہے تا کہ معاملہ قوت سے فعل میں آئے اور گوش سے آغوش تک پہنچے اور جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں بھی تزکیہ اورتجلیہ سیرانفسی پر وابستہ ہے جو کچھ سیر آفاقی میں دیکھا&nbsp;ہے وہ تزکیہ &nbsp;اور تجلیہ کی استعداد اور قابلیت ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس جب تک خارج میں سیر انفسی کے ساتھ اپنے آپ کو پاک و صاف نہ دیکھیں اور وجدان سے اپنے آپ کو مصفا معلوم نہ کریں تب تک حقیقت میں فنا سے بے نصیب اور مقامات کے حاصل ہونے سے بے بہرہ ہیں اور اطوار سبعہ (عالم خلق اور عالم امر کے ساتوں لطائف)سے سوائے پوست کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ اس اعتبار سےسیرانفسی سیر الی اللہ میں داخل ہے اور سیر الی اللہ کا تمام ہونا جو مقام فنا ہے۔سیرانفسی پر وابستہ ہے اور سیر فی الله سیرانفسی سے کئی منز میں آگے ہے۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>كَيْفَ الْوُصُوْلُ إِلىٰ سُعَادَ وَدُوْنَهَا&nbsp;قُلَلْ الْجِبَالِ وَ دُوْنَھُنَّ خُيُوْفُ</strong></p>



<p>میں سعاد تک کعب کیسے پہنچوں&nbsp; کس قدر خوفناک راستے ہیں &nbsp;</p>



<p>اے سعادت کے نشان والے۔ جب سیرانفسی میں وہ تعلق علمی وحبی جو سالک کی ذات کی طرف منسوب ہو جاتا ہے، زائل ہو جاتا ہے اور وہ گرفتاری جو اپنے آپ کے ساتھ رکھتا ہے، دور ہو جاتی ہے تو دوسروں کی گرفتاری اس کی ذات کی گرفتاری کےضمن میں زائل ہو جاتی ہے کیونکہ دوسروں کی گرفتاری اپنی گرفتاری کے باعث ہے جیسا کہ اس کے تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس ثابت ہوا کہ سیرآفاقی سیرانفسی میں قطع ہو جاتا ہے اور سالک اسی ایک سیر سے اپنی گرفتاری اور دوسروں کی گرفتاری سے بھی نجات پا جاتا ہے۔ پس اس تحقیق کے اندازہ کے موافق سیرانفسی اور آفاقی کا مطلب بے تکلف حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ سیردرا نفس بھی ہے اور&nbsp; سیر در آفاق بھی۔ کیونکہ نفس کا قطع تعلقات بتدریج سیردر انفس ہے اور آفاق کاقطع تعلقات جو سیرانفسی کے ضمن میں ہو جاتا ہے سیردر آفاق ہے۔ برخلاف دوسروں کے سیرآفاقی اور سیرانفسی کے جوتکلف کے محتاج ہیں جیسے کہ گزر چکا۔&nbsp;</p>



<p>ہاں جس جگہ حقیقت ہے وہاں تکلف نہیں۔ <strong>والله</strong><strong> </strong><strong>الموفق</strong> ذرا غور سے سنو کہ سالک کہ آئینہ میں اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا ظہور جو سیرانفسی میں انہوں نے کہا ہے اور اس کوتجلیہ بعد تخلیه سمجھا ہیں۔ درحقیقت وہ ظہور اسماء وصفات کا ظہور ہے جس سےتجلیہ اور تزکیہ &nbsp;حاصل ہوتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس کا بیان یہ ہے کہ سبقت اسی طرف سے ہے جو مبدا بننے کے مناسب ہے۔ پہلے طالب کے آئینہ میں مطلوب کے ظلال میں سے کسی ظل کا ظہور ہوتا ہے تا کہ طالب کی ظلمتوں اور کدورتوں کو دور کرے&nbsp;اور اس کو تصفیہ اور تزکیہ حاصل ہو۔ ظلمتوں کے دور ہونے اور تصفیه و تزکیہ &nbsp;کے حاصل ہونے کے بعد جوسیر نفسی کے تمام ہونے پر وابستہ ہے۔ تخلیہ حاصل ہوتا ہے اور تجلیہ کی استعداد پیدا ہوتی ہے اور حق تعالی کے اسماء &nbsp;و صفات کے ظہور کے لائق ہوتا ہے۔ پس سیر انفسی میں وہ تخلیہ حاصل ہوتا ہے جو تزکیہ اور تصفیہ پر وابستہ ہے اور وہ تخلیہ جو سیرآفاقی میں متوہم ہوا تھا وہ تخلیہ کی صورت تھی نہ کہ تخلیہ کی حقیقت تا کہ سیرانفسی میں تجلیہ &nbsp;کا حصول اور اسماء و صفات کا ظہورمتصور ہوتا ہے جیسے کہ صوفیہ نے کہا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس بیان سے لازم آتا ہے کہ ظل کا پیوستن (جوڑنا وملنا) گسستن(توڑنے) پر مقدم ہے لیکن جب تک مطلوب کے ظلال میں سے کوئی ظل سالک کے آئینہ میں منعکس نہ ہو۔ مطلوب کے غیر سے گسستن (توڑنا) متصور نہیں ہو سکتا لیکن اصل کا پیوستن گسستن کے&nbsp;حاصل ہونے کے بعد ہے</p>



<p>&nbsp;پس مشائخ میں سے جنہوں نے پیوستن کو مقدم رکھا ہے، اس سے مرادظل کا پیوستن ہے اور جنہوں نے گسستن کو پیوستن پر مقدم کیا ہے۔ اس سے مراد اصل کا پیوستن سمجھنا چاہیئے تاکہ فریقین کا نزاع لفظ کی طرف راجع ہو۔&nbsp;</p>



<p>شیخ ابوسعید خراز قدس سرہ اس مقام میں متوقف ہے۔ وہ کہتا ہے۔’’تانر ہی نیابی تانیابی نرہی ندانم کدام پیش بود (یعنی جب تو آزاد نہ ہوگا نہ پائے گا اور جب تک تو نہ پائے گا ، آزاد نہ ہوگا۔ میں نہیں جانتا پہلے کون ہے۔)&nbsp;پہلی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ظل کا پانا آزاد ہونے سے پہلے ہے اور اصل کا پانا آزاد ہونے کے بعد۔ پس کوئی اشتباه نہ رہا۔ جیسے کہ صبح کے وقت آفتاب سے پہلے آفتاب کی شعاعوں کے ظلال کا ظہور ہوتا ہے تا کہ جہان کو اندھیرے سے خالی کر کے صاف کر دے اور اندھیروں کے دور ہونے اور صفائی کے حاصل ہونے کے بعد نفس آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ پس آفتاب کےظل کا ظہورظلمات کے زوال سے پہلے ہے اورنفس آفتاب کا طلوع ظلمات&nbsp;کے زائل ہونے کے بعد۔ ہاں بادشاہوں کا طلوع کرنا تخلیہ اور تصفیہ کے حاصل ہونے کے بعد اچھا ہے۔ اگر تخلیہ اور تصفیہ ان کے طلوع کے مقدمہ کے بغیر تصور نہیں ۔ پس حق ظاہر ہو&nbsp;</p>



<p>گیا اور نزاع دور ہو گیا اور اشتباه زائل ہو گیا ۔ <strong>والله</strong><strong> </strong><strong>سبحانه</strong><strong> </strong><strong>الملهم</strong> الله تعالی ہی بہتری کا الہام کرنے والا ہے۔&nbsp;</p>



<p>                 <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  دوم صفحہ135ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                   </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d8%25ae%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25ac%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&#038;title=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%20%D9%88%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AC%D9%84%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B142%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82-%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ac%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/" data-a2a-title="سیرآفاق وانفس اور تخلیہ اورتجلیہ  مکتوب نمبر42دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82-%d9%88%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%ae%d9%84%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%aa%d8%ac%d9%84%db%8c%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سیر انفسی اور سیر آفاقی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 05 Oct 2021 04:16:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[جذبہ]]></category>
		<category><![CDATA[سفر در وطن]]></category>
		<category><![CDATA[سیر آفاق بعد در بعد]]></category>
		<category><![CDATA[سیر آفاقی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی قرب در قرب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3118</guid>

					<description><![CDATA[سیر انفسی اور سیر آفاقی سالک کے ایک حال سے دوسرے حال ایک تجلی سے دوسری تجلی ایک مقام سے دوسرے مقام میں منتقل ہونے کا نام سیر ہے سیر دو قسم پر ہے سیر آفاقی اور سیر انفسی جیسا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>سیر انفسی اور سیر آفاقی</h1>
<p>سالک کے ایک حال سے دوسرے حال ایک تجلی سے دوسری تجلی ایک مقام سے دوسرے مقام میں منتقل ہونے کا نام سیر ہے</p>



<p>سیر دو قسم پر ہے <strong>سیر آفاقی</strong> اور <strong>سیر انفسی</strong> جیسا کے آیت قرآنی ہے</p>



<p><strong>سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ </strong> یعنی ہم انہیں دکھاتے ہیں اپنی نشانیاں آفاق و انفس میں</p>



<p>آفاق سے مراد کائنات ہے اور انفس سے مراد اپنی ذات ہے آفاق اور انفس کے درمیان اجمال و تفصیل کا فرق ہے دونوں اللہ تعالی کی نشانیوں کے محل وہ منظر ہیں جن سے حق تعالی کا پتہ چلتا ہے۔</p>
<h2>قرب در قرب بعد در بعد </h2>



<p>سلوک سیر انفسی کا نام ہے جسے قرب در قرب کہا گیا ہے اور جذبہ سیر آفاقی کا نام ہے جسے بعد در بعد کہا گیا ہے</p>
<p>  سیر آفاقی اس لئے کہتے ہیں کہ اپنے سے باہر انوار و تجلیات مشاہدہ میں آئیں اور اس میں رنگ برنگ کی بے شمار دلکش اور قسم قسم کی دل آویز صورتیں نظر آتی ہیں۔</p>



<p>سیرا نفسی سے مراد <strong>سفر در وطن</strong> ہے اس کو <strong>جذبہ </strong>بھی کہتے ہیں سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگوں کی ابتدا اسی سیر سے ہوتی ہے اور سیر آفاقی اسی سیر کے ضمن میں طے ہو جاتی ہے اور دوسرے سلسلے میں سیر آفاقی سے کام کی ابتدا ہوتی ہے اور ان کی انتہا سیر انفسی کے ساتھ ہوتی ہے سیر انفسی سے کام کی ابتدا ہونا سلسلہ نقشبندیہ کی خصوصیت ہے اور اندراج نہایت در بدایت کے یہی معنی ہے کہ سیر انفسی جو کے دوسروں کی نہایت ہے وہ اس سلسلہ کے اکابر کی ہدایت ہے سیرآفاقی مطلوب کو اپنے سے باہر ڈھونڈنا ہے اور سیر انفسی اپنے آپ میں آنااور اپنے دل کے گرد پھر نا ہے</p>
<h2>تجلیات اسماء و صفات کا ظہور</h2>



<p>سیر آفاقی میں تجلیات اسماء و صفات کا ظہور ہوتا ہے اور سیر انفسی میں تجلیات ذات کا ظہور ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ سیر آفاقی میں اسم ظاہر کے معارف و تجلیات سالک کی تعبیر و ادراک میں سما سکتے ہیں لیکن سیرا نفسی میں اسم باطن کے معارف و تجلیات سے وراء ہوتے ہیں کیونکہ ذات کے معارف و تجلیات بے رنگی و بے کیفی کے سبب سالک کے فہم سے بلند ہوتے ہیں اسی لیے عارفین نے اسم ظاہر کے معارف کے متعلق فرمایا</p>



<p><strong></strong><strong></strong><strong> مَنْ عَرَفَ اللَّهَ ‌طَالَ ‌لِسَانُهُ</strong> یعنی جس نے اللہ کو پہچان لیا اس کی زبان دراز ہو گئی۔</p>



<p>اور اسم باطن کہ معارف کے بارے میں فرمایا</p>



<p><strong></strong><strong>مَنْ عَرَفَ اللَّهَ ‌كَلَّ ‌لِسَانُهُ</strong> جس نے نے اللہ کی معرفت حاصل کی اس کی زبان گنگ ہوگئی۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%2581%25d8%25b3%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a2%25d9%2581%25d8%25a7%25d9%2582%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A2%D9%81%D8%A7%D9%82%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/" data-a2a-title="سیر انفسی اور سیر آفاقی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سیور اربعہ (چار سیریں)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%88%d8%ad%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%88%d8%ad%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2021 03:18:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[بقا باللہ]]></category>
		<category><![CDATA[حرکت علمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[دائرہ ظلال]]></category>
		<category><![CDATA[راجعین]]></category>
		<category><![CDATA[روحانی اسفار]]></category>
		<category><![CDATA[سیر الی اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر عن اللہ باللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر فی الاشیاء باللہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیر فی اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[فنا فی اللہ]]></category>
		<category><![CDATA[مستہلکین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام جذبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت صغریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت کبریٰ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=2063</guid>

					<description><![CDATA[روحانی اسفار کی تفصیل]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>سیور اربعہ (چار سیریں)</h1>
<p>اللہ تعالی کا خصوصی تعلق اور قرب حاصل کرنے کے راستے پر چلنے کے دوران سالک کو مختلف حالات پیش آتے جاتے ہیں ایک حال سے دوسرے حال یا ایک روحانی مقام سے دوسرے روحانی مقام کو منتقل ہونے کے اس عمل کو سیر کا نام دیا گیا ہے اسےسیر علمی اور روحانی طور پر ہوتی ہے جسمانی طور پر نہیں</p>



<p>صوفیاء کو روحانی مشق میں عروج و نزول  کے دوران  جو مختلف سیریں کروائی جاتی ہیں وہ سیر و سلوک <strong><mark class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color" style="background-color: rgba(0, 0, 0, 0);">روحانی سفر </mark></strong>کہلاتے ہیں انہیں حرکت اور انتقال علمی بھی کہا جاتا ہے</p>
<p>سلوک میں اہل اللہ کے دو طرح کے مقام ہوتے ہیں پہلا مقام عروج ہے اور دوسرا نزول ہے مقام عروج یہ ہے کہ انسان بشری صفات سے الگ ہو کر ملکی اور قدسی صفات کا لبادہ بہین لے اور وہ عالم ملکوت وغیرھا میں سیر کرے اس کو سیرالی الله وسیرفی اللہ کہتے ہیں۔</p>
<p>مقام نزول یہ ہے کہ انسان صفات بشریہ سے الگ ہونے کے بعد دوبارہ صفات بشریہ کا لبادہ اوڑھ کر دوسرے لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے واپس لوٹ آئے اس کو سیر عن الله باللہ  اور<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیر فی الاشیا ء باللہ   ک</span>ہا جاتا ہے</p>
<p>یہ چار اسفار ہیں</p>





<h3><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیر الی اللہ</span></strong></h3>



<h3><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">  سیر فی اللہ</span></strong></h3>



<h3> <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیرعن اللہ باللہ</span></strong></h3>



<h3><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیر فی الاشیا ء باللہ</span></strong></h3>



<p>پہلی سیر میں ایک طالب ظلال سے اسماء و صفات الہی کی طرف سیر کرتا ہے جو علم اسفل سے علم اعلیٰ کی جانب ہواور پھر اعلیٰ سے اور اعلیٰ کی طرف ۔جس کے ذریعے وہ اپنی اصل کو پہنچ جاتا ہے اور اس میں فانی ہوکر اپنا کوئی نشان نہیں پاتا یہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">فنا فی اللہ</span></strong> کہلاتی ہے یہی<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> دائرہ ظلال</span></strong> بھی ہے جس کو تصوف کی اصطلاح میں <strong>سیر الی اللہ</strong> کہتے ہیں <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ولایت صغریٰ </span></strong>بھی کہا جاتا ہے ۔</p>



<p>دوسری سیر ایک طالب کا یہ سلسلہ دائمی طور پر جاری رہتاہے اس کے بعد سالک شرع شریف کے تحت ترقی کرتے ہوئے <strong>سیرفی اللہ</strong> میں داخل ہو جاتا ہے جس میں وہ اللہ تعالی کی صفات و اسماء شیونات و اعتبارات کی سیر کرتا ہے جو ایسے مرتبہ پرانتہاء ہو جسے کسی عبارت سےتعبیر نہ کیا جاسکے اس کو اصطلاحاًسیر فی اللہ کہتے ہیں یہ سیر اسے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ولایت کبری</span></strong> میں میسر آتی ہے اسے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">بقا  باللہ</span></strong>، <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مقام جذبہ</span></strong> اور<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> سیر انفسی</strong></span> کا نام بھی دیا گیا ہے۔</p>



<p>یہ دونوں سیریں مکمل ہونے پر طالب علموں کو دو گروہ جاتے ہیں ہیں ایک وہ جو اللہ تعالی کی محبت میں فنا ہو کر جمال الہی کا مشاہدہ کرتے ہیں انہیں <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مستہلک </span></strong>کہا جاتا ہےوہ  یہیں تک رہ جاتے ہیں۔</p>



<p>دوسرا طبقہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">راجعین </span></strong>کا ہے جن کو واپس بلایا جاتا ہے کہ وہ آ کر مخلوق میں انسانوں کے درمیان رہیں اور اللہ کے بندوں کو اسی لحاظ سے سیر کرنے میں مدد کریں جن کے ذریعے وہ یہاں تک آیا تھا اسے مخلوق کے ساتھ کسی قسم کی گرفتاری نہیں ہوتی۔</p>



<p>تیسری سیر  <strong>سیرعن اللہ باللہ </strong>ہے جو کہ علم اعلی سے علم اسفل کی طرف اور پھر اس اسفل سے دوسرے اسفل کی طرف <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حرکت علمیہ</span></strong> کا نام ہے</p>



<p>چوتھی سیرکا نام <strong>سیر فی الاشیاء  باللہ </strong> ہے اس میں سالک مخلوق کے ساتھ ہر وقت ملا ہوا ہے لیکن اسے ان کے ساتھ ایسا لگاؤ نہیں ہوتا کہ اس کا اللہ تعالی سے رابطہ منقطع ہو جائے وہ خلقت کی طرف اپنی مرضی سے توجہ نہیں کرتا  اس میں یہ وصف خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%2F&#038;title=%D8%B3%DB%8C%D9%88%D8%B1%20%D8%A7%D8%B1%D8%A8%D8%B9%DB%81%20%28%DA%86%D8%A7%D8%B1%20%D8%B3%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%88%d8%ad%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba/" data-a2a-title="سیور اربعہ (چار سیریں)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%88%d8%ad%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b3%db%8c%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>3</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سیر اسماء و صفات کا مفہوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 25 Aug 2021 06:07:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[اسمائے حسنی]]></category>
		<category><![CDATA[امہات اسماء]]></category>
		<category><![CDATA[دائرہ اسماء]]></category>
		<category><![CDATA[دائرہ ذات]]></category>
		<category><![CDATA[دائرہ صفات]]></category>
		<category><![CDATA[سالک]]></category>
		<category><![CDATA[سلوک]]></category>
		<category><![CDATA[سیر آفاقی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1794</guid>

					<description><![CDATA[سیر اسماء و صفات کا مفہوم  صوفیائے کرام کے مطابق سیر اسماء و صفات کا مفہوم اس آیت سے ماخوذ ہے وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں اسماۓ حسنی  اللہ تعالی کے اسماء و <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>سیر اسماء و صفات کا مفہوم</h1>
<p> صوفیائے کرام کے مطابق سیر اسماء و صفات کا مفہوم اس آیت سے ماخوذ ہے</p>



<p><strong>وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى</strong></p>



<p>اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں</p>



<h3><strong>اسماۓ حسنی</strong></h3>



<p> اللہ تعالی کے اسماء و صفات تو لا متناہی ہیں لیکن ان سب کا مرجع نناوے اصول متناہیہ کی طرف ہے انہیں اسمائے حسنی سے تعبیر کیا جاتا ہے</p>



<h3>ا<strong>مہات اسماء</strong></h3>



<p>اسمائے حسنیٰ کامر جع آٹھ اصولوں کی جانب ہے جنہیں امہات اسماء کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں حیات، علم، قدرت ،ارادہ، سمع،بصر، کلام اور تکوین نتیجتا ان تمام اسماء کا مر جع ایک اصل کی جانب ہے اور وہ اسم اللہ ہے جو جامع ہے جمیعت اسماءالہیہ کا اور شامل ہے جمیع صفات الہیہ کو</p>



<h3><strong>احصائے اسماء</strong></h3>



<p> سرورکائنات ﷺ نے فرمایا یا</p>



<p><strong>إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ</strong></p>



<p>بے شک اللہ تعالی کے ننانوے اسماء ہیں جس نے ان کا احصاء کر لیا وہ جنت میں داخل ہوا۔</p>



<p>یہاں احصاء اسماء سے مراد اسمائے حق تعالی سے متحقق اور متخلق ہونا ہے صرف اسماءکا وظیفہ کرنا اور ان کا تلفظ یا تکرار یا شمار مراد نہیں۔</p>



<h3><strong>دائرہ اسماء</strong></h3>



<p> دوائر محبت میں پہلا دائرہ اسماءکا ہے سالک مبتدی جب مسمی تک نہیں پہنچ سکتا تو اسم سے ہی اپنے دل کو تسلی دیتا ہے اس دائرے میں سالک کو معرفت ذات بواسطہ اسماء کی تعلیم دی جاتی ہے</p>



<h3><strong>دائرہ صفات</strong></h3>



<p>دوسرا دائرہ صفات کا ہے اس دائرے میں سالک صفات کے پرتو سے فیض یاب ہوتا ہے اور کائنات میں ہر طرف اللہ تعالی کی قدرت اور صنعت کے نمونے اس کی صفات کے مظہر نظر آتے ہیں اس دائرے میں معرفت ذات بواسطہ صفات کی تربیت دی جاتی ہے۔</p>



<h3><strong>دائرہ ذات</strong></h3>



<p>تیسرا دائرہ ذات کا ہے اس دائرے کی وسعت لا محدود ہے اس میں نہ اسماءپیش نظر ہوتے ہیں نہ صفات بلکہ اس میں معرفت ذات بلا واسطہ اسماء و صفات کا سبق دیا جاتا ہے۔</p>



<h2><strong>سیر</strong></h2>



<p>سیر دو قسم پر ہے <a href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/" data-type="URL" data-id="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a2%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/"><strong>سیر آفاقی</strong> اور <strong>سیر انفسی</strong></a></p>



<h3><strong>سلوک</strong></h3>



<p>خدا تک پہنچنے کا وہ راستہ جو بطریق مجاہدہ یا بذریعہ سیر کشفی عیانی طے کیا جائے نہ کہ بطریق استدلال سلوک کہلاتا ہے۔</p>



<h3><strong>سالک</strong></h3>



<p>اس راستے پر استقامت کے ساتھ چلنے والے اور ساعت بہ ساعت ترقی کرنے والے کو سالک کہتے ہیں</p>



<p><strong>ہو الذی مشی علی المقامات بحالہ لا بعلمہ</strong>( کتاب التعریفات ص 115، علامہ شريف الجرجاني،دار الكتب العلمية بيروت -لبنان )</p>



<p>یعنی جو اپنے حال کے مطابق مقامات طے کرتا چلا جائے نہ کہ محض علم وقال کے بل بوتے پر</p>



<p><strong>عارف</strong></p>



<p> اللہ تعالی کی صفات اور اس کے مقدرات کو بطریق حال و مشاہدہ نہ کہ بطریق مجرد علم پہچاننے والے کو عارف کہتے ہیں۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2588-%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&#038;title=%D8%B3%DB%8C%D8%B1%20%D8%A7%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D9%88%20%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/" data-a2a-title="سیر اسماء و صفات کا مفہوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علم الیقین ،عین الیقین اور حق الیقین مکتوب نمبر 4 دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%8c%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%82-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%da%a9/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%8c%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%82-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 23 Aug 2021 02:33:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[حق الیقین]]></category>
		<category><![CDATA[سیر آفاقی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی]]></category>
		<category><![CDATA[علم الیقین]]></category>
		<category><![CDATA[عین الیقین]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1743</guid>

					<description><![CDATA[سیر آفاقی اور سیر انفسی کا بیان]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اس بیان میں کہ علم الیقین اور حق الیقین جو بعض صوفیوں نے مقرر کیے ہوئے ہیں، درحقیقت علم الیقین کے تین حصوں میں سے دو حصے ہیں اورعلم الیقین کا ایک حصہ ابھی آگے&nbsp;ہے۔ پھر عین الیقین اور حق الیقین کا کیا ذکر ہے اور اس بیان میں کہ ان علوم کا صاحب اس ہزار(سال) کا مجدد ہے۔ میر محمد نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالی کا حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)&nbsp;&nbsp;مدت گزری ہے کہ آپ نے اپنی خیریت کے احوال سے اطلاع نہیں بخشی۔ آپ کی&nbsp;صحت و استقامت الله تعالی سے مطلوب ہے۔&nbsp;</p>



<p>آ<em>پ </em>کو واضح ہو کہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علم الیقین</span></strong> ان آیات کے شہود(قدرت کی نشانیوں کےمشاہدہ) &nbsp;سے مراد ہے جویقین علمی کا فائدہ دیتی ہیں۔ یہ شہود درحقیقت اثر سے مؤثر کی طرف استدلال کا نام ہے۔ پس جو کچھ تجلیات وظہورات آفاق وأنفس کے آئینوں میں دیکھے جاتے ہیں، سب اثر سے مؤثر کی طرف دلالت پانے کی&nbsp;قسم سے ہیں۔ اگرچہ ان تجلیات (غیبی انوار دلوں پر ظاہر ہونا) کوتجلیات ذاتیہ اور ان ظہورات کو بے کیف کہیں کیونکہ آئینے میں کسی شے کا ظہور اس شے کے آثار میں سے ایک اثر ہے نہ کہ اس شے کے عین کا حصول۔&nbsp;</p>



<p>پس سیر آفاق اورا نفسی بتمامہ دائرہ &nbsp;علم الیقین سے قدم باہر نہیں لے جاتا اور اثر سے مؤثر کی طرف استدلال کے سوا کچھ اس کے نصیب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی فرماتا <strong>ہے</strong><strong> </strong><strong>سَنُرِيْهِمْ اٰيٰتِنَا فِي الْاٰفَاقِ وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ</strong> (ہم ان کو آفاق دنیا میں اور ان کے اپنے نفسوں میں نشان دکھائیں گے تا کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ حق &nbsp;ہے)</p>



<p>دوسروں نے<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیر آفاق</span></strong> کوعلم الیقین سے جانا ہے اور <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">عین الیقین</span></strong> اور<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حق الیقین</span></strong> کو<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>سیرانفسی</strong></span> میں ثابت کیا ہے اور اس کے سوا اور کوئی سیر بیان نہیں کیا۔ </p>



<p>آں ایشا ند و من چنینم بارب&nbsp; ترجمہ: وہ ایسے ہیں میں ایسا ہوں یارب۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>آپ جانتے ہیں کہ حق تعالی بندہ سےبھی  بندہ کی نسبت زیادہ نزدیک ہے  پس بندہ سے حق تعالی تک اقربیت کی جانب میں ایک اور سیر درمیان ہے جس کے قطع کرنے پر وصول الی لله منحصر ہے۔ یہ تیسرا سیر بھی حقیقت میں علم الیقین ہی کو ثابت کرتا ہے۔ اگر چہ دائرہ ظلیت سے باہر ہے لیکن ظلیت کی آمیزش سے پاک و صاف نہیں کیونکہ حق تعالی کے اسماء و صفات درحقيقت حضرت ذات تعالی کے ظلال ہیں اور جس میں ظلیت کی ملاوٹ ہو۔ وه آثار وآيات میں داخل ہے۔ پس انہوں نے علم الیقین کے تین سیروں میں سے ایک سیرکوعلم الیقین کے ساتھ مخصوص کیا ہے اورعلم الیقین کے دوسرے سیر کو عین الیقین حاصل کرنے والا سمجھا ہے اور تیسرےسیر(اقربیت)کو بیان ہی نہیں کیا تا کہ علم الیقین کا دائرہ تمام ہو جاتا۔ ابھی عین الیقین اور حق الیقین آگے ہیں۔ </p>



<p>قیاس کن ز گلستان من بہار مرا&nbsp; ترجمہ: بہار میری سمجھ لے تو باغ میرے سے&nbsp;</p>



<p>یہ فقیرعین الیقین اورحق الیقین کی نسبت کیا بیان کرے اور اگر کچھ بیان کرے تو کوئی کیا سمجھے گا اور کیا معلوم کرے گا۔ یہ معارف احاطہ ولایت سے خارج ہیں۔ ارباب ولایت علماء ظاہر کی طرح ان کے ادراک سے عاجز اور ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔یہ علوم انوار نبوت على صاحبها الصلوة والسلام والتحیۃ کی مشکوۃ(قندیل) سے مقتبس ہیں جو الف ثانی کی تجدید کے بعد تبعیت ووراثت کے طور پر تازہ ہوئے ہیں اور تروتازہ ہوکر ظاہر ہوتے ہیں۔ ان علوم و معارف کا صاحب اس الف(ہزار سال) کا مجدد ہے۔ چنانچہ اس کے ان علوم و معارف میں جو ذات و صفات اور افعال اور احوال و مواجید اورتجلیات وظہورات کے متعلق ہیں ،نظر و غور کرنے والوں سے پوشیده&nbsp;نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ تمام علوم و معارف علماء کے علوم ہیں اور اولیاء کے معارف وراء <em>ا</em>لوراء (بہت بلند)ہیں بلکہ یہ علوم ان علوم کے مقابلے میں پوست کی طرح ہیں اور یہ معارف اس پوست کی مغز کی مانند والله سبحانہ الھادی (اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے)&nbsp;جاننا چاہئے کہ ہر سوسال کے بعد ایک مجددگزرا ہے لیکن سوسال کا مجدد اور ہے اور ہزار کا مجدد اور جس قدرسو اور ہزار کے درمیان فرق ہے۔ اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ دونوں مجددوں کے درمیان فرق ہے اور مجدد وہ ہوتا ہے کہ جو فیض اس مدت میں امتوں کو پہنچنا ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعےپہنچتا ہے، خواہ اس وقت کے اقطاب واوتاد ہوں اور خواہ ابدال ونجباء۔&nbsp;</p>



<p>خاص کند بنده مصلحت عام را (عام لوگوں کے بھلے کیلئے ایک کو خاص کر لیتا ہے۔ <strong>والسلام علی من اتبع الهدى والتزم متابعة المصطفى وعلى اله الصلوات والتسلیمات العلى وعلى جميع اخوته من الأنبياء والمرسلين والملئکۃ المقربین و عباداللہ الصالحین اجمعین </strong>سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت کی پیروی کی  اور حضرت محمدمصطفے   علیہ وعلى اله الصلوات والتسلیمات اور آپ کے تمام  بھائیوں  انبیاء والمرسمرسلین  اور ملائکہ مقربین اور حق تعالی کے نیک بندوں کی متابعت کو لازم پکڑا۔   </p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ34 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></span></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%258c%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%8C%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AD%D9%82%20%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%82%DB%8C%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%204%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%8c%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%82-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%da%a9/" data-a2a-title="علم الیقین ،عین الیقین اور حق الیقین مکتوب نمبر 4 دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%8c%d8%b9%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%82-%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جذبہ اور سلوک کا ذکر مکتوب نمبر6 دفتراول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b16/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b16/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 13 Aug 2021 01:28:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[حالت سکر]]></category>
		<category><![CDATA[حالت صحو]]></category>
		<category><![CDATA[حق الیقین]]></category>
		<category><![CDATA[سیر آفاقی]]></category>
		<category><![CDATA[سیر انفسی]]></category>
		<category><![CDATA[فنا وبقا]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1298</guid>

					<description><![CDATA[&#160;جذبہ اور سلوک کے حاصل ہونے اور جلال و جمالی دونوں صفتوں کے ساتھ تربیت پانے اور فنا و بقا اور ان کے تعلقات اور نسبت نقشبندیہ کی فوقیت کے بیان میں یہ &#160;بھی اپنے پیر بزرگوار کی خدمت میں <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b16/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;جذبہ اور سلوک کے حاصل ہونے اور جلال و جمالی دونوں صفتوں کے ساتھ تربیت پانے اور فنا و بقا اور ان کے تعلقات اور نسبت نقشبندیہ کی فوقیت کے بیان میں یہ &nbsp;بھی اپنے پیر بزرگوار کی خدمت میں لکھا:۔</p>



<p> حضور کا کمترین بنده احمد عرض کرتا ہے کہ اللہ تعالی نے حضور کی توجہ عالی کی برکت سے جذبہ (<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیر انفسی</span></strong>)اور سلوک(<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سیر آفاقی</span></strong>) کے دونوں طریقوں اور جلال و جمال کی دونوں صفتوں سے تربیت فرمائی۔ اب جمال عین جلال ہے اور جلال عین جمال۔</p>



<p>رسالہ قدسیہ کے بعض حاشیوں میں اس عبارت کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیر کر اپنے وہی مفہوم پر عمل کیا ہے۔ حالانکہ عبارت اپنے ظاہر پر محمول ہے ۔ تغیر و تاویل کے قابل نہیں ہے اور اس تربیت کی علامت محبت ذاتی سےمتحقق ہوتا ہے۔ اس تحقق سے پہلےممکن نہیں اور محبت ذاتی فنا کی علامت ہے اور فنا سے مراد ماسوائے اللہ کا فراموش ہو جاتا ہے۔</p>



<p>پس جب تک علوم پورے طور پر سینہ کے میدان سے صاف نہ ہو جائیں اور جہل مطلق کے ساتھ متحقق نہ ہو جائیں ان کا کچھ حصہ حاصل نہیں ہوتا اور یہ حیرت و جہل دائمی ہے اس کا زائل ہونا ممکن نہیں ۔ ایسا نہیں کہ جب بھی حاصل ہو جائے اور بھی زائل ہوجائے۔</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے کہ بقاء سے پہلے جہالت محض ہے اور بقا کے بعد جہالت اور علم دونوں اکٹھے ہیں، عین نادانی کی حالت میں شعور میں ہے اور عین حیرت کے وقت حضور میں کہ یہی مقام مرتبہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حق الیقین</span></strong>(یقین کے تین درجوں میں سے تیسرا درجہ معتبر ذرائع اور مشاہدہ کے ساتھ کسی شے کا اس درجہ یقین ہو جانا کہ عالم اس کی ماہیت میں مستغرق اور فنا ہو جائے یہ درجہ عین الیقین سے بھی بڑا ہے شریعت کا مشاہدہ حاصل ہوجانا ہے حق &nbsp;الیقین ہے) کا ہے جہاں علم و عین ایک دوسرے حجاب نہیں ہے اور علم جو ایسی حالت سے پہلے حاصل ہوتا ہے۔ احاطہ اعتبار سے خارج ہے اس حالت کے باوجود اگر علم ہے تو اپنے آپ ہی میں ہے اور اگر شہود(مشاہدہ) &nbsp;ہے تو وہ بھی اپنے آپ میں ہے اور اگر معرفت یا حیرت ہے اور وہ بھی اپنے آپ ہی میں ہے جب تک نظر باہر میں ہے ، بے حاصل ہے اگرچہ اپنے آپ ہی میں نظر رکھی ہو نظر باہر سے بالکل منقطع ہو جانی چاہیے۔</p>



<p>حضرت خواجہ بزرگ یعنی خواجہ بہاؤ الدین نقشبند قدس سرہ فرماتے ہیں کہ ابل اللہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">فنا و بقا</span></strong> کے بعد جو کچھ دیکھتے ہیں اپنے آپ میں دیکھتے ہیں اور جو کچھ پہچانتے ہیں اور ان کی حیرت اپنے وجود میں نہیں ہے۔</p>



<p>یہاں سے صاف طور پر مفہوم ہوتا ہے کہ شہود(مشاہدہ) &nbsp;اور معرفت اور حیرت صرف اپنے نفس میں ہے ان میں سے کوئی بھی باہر میں نہیں ہے جب تک ان تینوں میں سے ایک بھی باہر میں ہے۔</p>



<p>اگرچہ اپنے آپ میں رکھتا ہوں، فنا حاصل نہیں ہوتی تو بقا کیسے حاصل ہو جائے گی۔ فنا و بقا میں نہایت(انتہا) مرتبہ یہی ہے اور فناو بقا کے ساتھ متحقق ہونے کے بعد باہرمیں بھی شہود رکھتے ہیں لیکن ان عزیزوں میں مشائخ نقشبندیہ قدس سرہم کی نسبت تمام &nbsp;نسبتوں سے برتر ہے۔</p>



<p>نہ ہر کہ آئینہ دار وسکندری داند نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند</p>



<p>ترجمہ ۔ کوئی آئینہ &nbsp;رکھنے &nbsp;سے سکندر بن نہیں جاتا ۔ اور نہ سر منڈانے پر کوئی قلندر بنتا ہے &nbsp;</p>



<p>جب اس سلسلہ کے بڑے بڑے مشائخ میں سے ایک یا دو کو بہت سے قرنوں کے بعد اس نسبت سے مشرف کرتے ہیں تو دوسرے سلسلوں کی نسبت کا کیا بیان کیا جائے ۔ يہ نسبت حضرت خواجہ عبدالخالق غجد وانی قدس سرہ کی ہے اور اس نسبت کو پورا اور کامل کرنے والے خواجہ خواجگان حضرت خواجہ  بہاؤالدین نقشبند&nbsp; قدس سرہم ہیں اور ان کے خلیفوں میں سے حضرت خواجہ علا ؤ الدین(عطار) قدس سرہ اس دولت سے مشرف ہوئے تھے۔</p>



<p>این کار دولت است کنوں تا کرا دہند</p>



<p>یہ بڑی اعلی&nbsp; دولت &nbsp;&nbsp;دیکھئے کس کو ملتی ہے</p>



<p>عجب معاملہ ہے کہ پہلے جو بلا و مصیبت واقع ہوتی تھی ۔ فرحت و خوشی کا باعث ہوتی تھی  اورفقیر هل من مذید (کیا اور کچھ ہے)کہتا تھا اور جو کچھ دنیاوی اسباب سے کم ہوتا تھا ۔ اچھا معلوم ہوتا تھا اور اس قسم کی خواہش کرتا تھا لاحق ہو جاتا ہے تو پہلے ہی صدمہ میں ایک قسم کاغم پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر چہ جلدی دور ہو جاتا ہے اور کچھ نہیں رہتا ہے اور ایسے ہی پہلے اگر بلا و مصیبت کے دفع کرنے کے لئے دعا کرتا تھا تو اس سے اس رفع کرنا مقصود نہ ہوتا تھا اور وہ خوف و حزن جوزائل ہوگئے ہوتے تھے اب پھر رجوع کررہے ہیں اور معلوم ہوا کہ وہ حال <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سکر</span></strong>(مستی)  کی وجہ سے تھا <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">صحو </span></strong>کی حالت میں عجز اورمختاری اور خوف و حزن اور غم و شادی جیسے عام لوگوں کو تھا۔ یہ بات دل کو اچھی نہ لگتی تھی لیکن حال غالب تھا۔ دل میں گزرتا تھا کہ انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی دعا اس قسم کی نہ تھی کہ جس سے اپنی مراد کا حاصل ہونا مقصود ہو اب جب کہ فقیر اس حالت سے مشرف ہوا اور خوف وحزن کے سبب سے تھیں ۔ نہ مطلق امر کی تابعداری کیلئے بعض امور کو ظاہر ہوتے ہیں حکم کے موافقت کبھی بھی ان کے عرض کرنے میں گستاخی کرتا ہے۔</p>



<p><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> <strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ44 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </strong></a></span></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&amp;linkname=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b16%2F&#038;title=%D8%AC%D8%B0%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B16%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b16/" data-a2a-title="جذبہ اور سلوک کا ذکر مکتوب نمبر6 دفتراول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b16/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
