<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>صحبت شیخ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%D8%B4%DB%8C%D8%AE/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 10 Dec 2023 04:35:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>صحبت شیخ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>رسالہ آداب الشيخ۔ الشيخ شہاب الدين السہروردی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%8a%d8%ae/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%8a%d8%ae/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Feb 2022 07:26:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[آداب مرشد کامل]]></category>
		<category><![CDATA[آواز پست رکھنا]]></category>
		<category><![CDATA[ابوت معنوی]]></category>
		<category><![CDATA[اپنا شیخ سب سے اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[اپنے مرتبے کا خیال رکھنا]]></category>
		<category><![CDATA[بھید کو ظاہر نہ کرنا]]></category>
		<category><![CDATA[تصرفات شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[حکم شیخ واجب]]></category>
		<category><![CDATA[شیخ کی ارادت]]></category>
		<category><![CDATA[صحبت شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[قلت کلام]]></category>
		<category><![CDATA[کرامت شیخ سے نہ چھپانا]]></category>
		<category><![CDATA[کشفی حالات بیان کرنا]]></category>
		<category><![CDATA[کلام شیخ سننا]]></category>
		<category><![CDATA[کلام نفرت نہ پیدا کرے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=5375</guid>

					<description><![CDATA[رسالہ آداب الشيخ از الشيخ شہاب الدين السہروردی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مرید کو شیخ کی خدمت میں جانا ، اور اس کی خدمت میں بیٹھنے کے آداب اور اطوارسے واقف ہونا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%8a%d8%ae/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[

<h1>رسالہ آداب الشيخ از الشيخ شہاب الدين السہروردی</h1>
<p>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ</p>



<p>مرید کو شیخ کی خدمت میں جانا ، اور اس کی خدمت میں بیٹھنے کے آداب اور اطوارسے واقف ہونا اور ان پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے ۔ کیونکہ جب مرید شیخ کی خدمت میں مودب رہے گا تو شیخ کے دل میں اس کی محبت پیداہوجائے گی ، اور جب شیخ کے دل میں اس کی محبت اثر کر گئی تو اس وسیلہ جمیلہ سے مرید کا وجود رحمت الہی اور برکات وفیوض لامتناہی میں شامل ہوجائے مرید کا شیخ کے حضور میں مقبول ہونا ، اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ خدا وندکریم اور رسول علیہ الصلوۃ والسلام اور سب مشائخ کے حضور میں جو اس کے شیخ اور رسول علیہ السلام کے درمیان واسطہ ہیں مقبول ہوچکا مقبول اہل دل مقبو ل خداست یعنی جو شخص اہل دل حضرات کے نزدیک مقبول ہے ، وہ خدا کے  نزدیک  بھی مقبول ہے</p>



<p>شیخ کے بعض حقوق تربیت کا بدلہ سواحسن آداب کے اور کچھ نہیں ۔ چوں کہ مرید کو علماء اور مشائخ کے ساتھ ابوت معنوی(ایک معنی سے باپ کی جگہ) کی نسبت ہے اس واسطے ان کی  تعظیم و توقیر  بھی  نہایت ضروری ہے ، اور اس امرمیں کوتاہی کرنا بے معنی بزرگوں کی خدمت اور بڑوں  کی قدر</p>



<p>شناسی   بہت ضروری امرہے حدیث شریف میں وارد ہے کہ <strong>مَنْ ‌لَمْ ‌يَرحَم ‌صَغِيرَنَا، وَلَم ‌يُوَقر ‌كَبِيرَنَا &#8211; فَلَيسَ مِنَّا</strong></p>



<p>یعنی جوشخص چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، خاص کر شیخ جو خدا وند کریم کی حضوری کا نہایت ہی نزدیک وسیلہ ہے۔اگر کوئی شخص اس کے حقوق میں کوتاہی کرے گا تو وہ خداوند کریم کے حقوق ادا کر نے میں قاصر کہلائیگا <strong>من ضیع رب الأدنى لم یصل رب الأعلى</strong> یعنی جس نے چھوٹے مربی کے حقوق کو ضائع کیا ، وہ بڑے مربی یعنی پروردگار تک نہیں پہنچ سکتا۔ مریدوں میں شیخ کا وجود گو یانبی علیہ السلام کے وجود کا نمونہ ہے صحابہ رضی اللہ عنہم میں چونکہ شیخ مخلوق کو خدا کی طرف دعوت دینے والا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی رو سے پیغمبرعلیہ الصلوۃ والسلام کا نائب ہے کیونکہ <strong>الشیخ فی قومہ  کالنبی فی امتہ</strong> کے معنی میں شیخ اپنے مریدوں میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی امت میں کلی اورجز ئی آداب جن کی نگاہ داشت اور لحاظ مرید کو شیخ کے حضور میں لازم ہیں وہ پندرہ ہیں ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">پہلاادب:۔</mark></strong>مرید کو لازم ہے کہ اپنے شیخ کو مریدوں کی تربیت و ارشاد اور تادیب و تہذیب میں اس زمانے کے مشائخ سے اعلی اور اکمل جانے بلکہ یہی اعتقاد رکھے کیونکہ اگر کسی دوسرے کو اس کا ہم پلہ یا اس سے زیادہ سمجھے گا تومحبت والفت کا تعلق ضعیف اور سست ہوجائے گا ۔</p>



<p>بنا بریں مشائخ کرام کے اقوال اور احوال کی سرایت کا رابطہ شیخ کے ساتھ محبت رکھنے سے ہوتا ہے مرید کو اپنے شیخ کے ساتھ جس قدر زیادہ  محبت ہو گی اسی قدراس کی تربیت کی استعدا د قوی ہوتی جائے گی ۔ (یہاں یہ خیال نہ کرے کہ میرے شیخ کے سوا ادنیا میں کوئی ولی اللہ اور  خدا کا دوست نہیں ہے ۔</p>



<p>خاکساران جہاں رابحقارت منگر            توچہ دانی که در یں گرد سواری باشد</p>



<p>یعنی دنیا کے خاکساروں کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھ ۔ تجھکو کیا معلوم کراس غبار میں کوئی شہسوار پوشیدہ ہو  اس باب میں بعض احباب افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں جو انکی ہلاکت کا باعث ہےیعنی جب انکے سامنے کسی شیخ سجادہ نشین کا ذکر ہوتا ہے تو اس کی غیبت بلکہ تحقیر کرتے ہیں یا اس کے عیوب بیان کرنے لگتے ہیں اس سے بڑھ کر انکی ہلاکت کے لیے کوئی بدی نہیں۔ کیوں کہ الغيبة أشد من الزنا یعنی غیبت زنا سے بھی زیادہ بری شے ہے بعض تو بے جھجک بول اٹھتے ہیں کہ آجکل کے فلاں سجادہ نشین یا شیخ نے دکان داری پھیلائی ہے ۔ یہ کلمہ بھی قابل غورہے گراگر وہ سجادہنشین یا شیخ باطنی تکمیل سے بے بہرہ ہے اور بظاہر بنا ہوا ہے تو اس کے مکر اور دھوکے کا حساب خداوندکریم اس سے قیامت میں لے گا ۔ چنانچہ اس حالت میں بھی غیبت درست نہیں ۔</p>



<p>ہر کرا جا مہ پارسا بینی    پارسادان ونیک مرد انگار</p>



<p>یعنی  جس شخص  کا لباس پارساؤں کا ساد یکھ اسکو پارسا اور نیک خیال کر۔</p>



<p>درندانی که در نهادش چیست ٍٍمحتسب را درون خانہ چه کار</p>



<p>اور اگر تونہیں جانتا کہ اس کے دل میں کیا ہے تو کیا حرج ہے آخر دار وغہ آبکاری کو اس کے گھریلو  معاملات سے کیاغرض ؟ اور اگر وہ باطنی کمال سے بہرہ ور ہو تو خیال کرو کہ خدا کے دوست کی غیبتت تمہیں کہاں پہنچائیگی الحذر الحذر من الغیبة غیبت سےپر ہیزکر غیبت کرنے والا اپنی تمام نیکیاں دوسرے کو دےدیتا  ہے)</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">دوسراادب  :۔</mark></strong>شیخ کی صحبت کے التزام میں کمرہمت بندھی رہے یعنی طالب اپنے دل میں یہ فیصلہ کرلے کہ میرافتح الباب یعنی دینی ودنیوی سعادت اورتکمیل کا دروازہ شیخ کی صحبت اور اس کی خدمت سے کھلے گا ۔ نیز یہ بھی طے کرلے کہ شیخ کے آستانے پر اپنی جان بھی قربان کر دے گا اور منزل مقصود کو حاصل کرلے گا اس عزیمت اورثبات ہمت کی علامت یہ ہے کہ اگر شیخ اس کو رد اور دور بھی کرے تو بھی شیخ سے نہ پھرے اور نہ بے اعتقاد ہو کیونکہ مشائخ اکثر مریدوں کی ہمت کا امتحان بھی لیتے ہیں ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ابوعثمان حیری شاہ شجاع کرمانی علیہ الرحمہ  کے ساتھ نیشاپورمیں  ابوحفص حداد رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت کو تشریف لائے  </p>



<p>ابوحفص حداد  نے شیخ عثمان حیری کی پیشانی میں نور ولایت کو روشن دیکھ کر قوت القائی سے  اس کے احوال کو جذب کرلیا اور اپنی ارادت میں مقید کر دیا۔ جب شاہ کرمان  واپس ہونے لگے  تو ابو عثمان حیری نے شاہ کرمان سے کہا  کہ آپ کچھ دن  اور نیشا پور میں قیام فرمائیں تو بہتر ہے۔ابوحفص حداد نے عثمان حیری کو اپنے پاس سے اٹھا دیا اور فرمایا کہ آئیندہ ہماری مجلس میں نہ بیٹھے۔ابوعثمان اس اشارت کو قبول  کر کے پچھلے پاؤں پیچھے ہٹے یہاں تک کہ نظروں سے غائب ہو گئے ۔ لیکن آپنے دل  میں یہ ٹھان لی کہ ابوحفص حداد کے دروازے پر ایک گڑھا کھود کر بیٹھ جاؤں اور جب تک وہ باہر نکلنے کی اجازت نہ دیں اس وقت باہر نہ آؤں، جب ابوحفص حدا د نے عثمان حیری کی سچی ارادت اور بلند ہمت کا مشاہدہ فرمایا تو ان کو بلا کر بہت مہربانی فرمائی اور اپنے خواص میں داخل کیا۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنی بیٹی کا نکاح بھی ان کے ساتھ کر دیا شیخ کی رحلت کے بعدیہی سجادہ نشین ہوئے۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">تیسرا ادب :۔</mark></strong> اپنی جان و مال میں تصرفات شیخ کا مانع نہ ہو ۔ جو کچھ شیخ فرمائے اسی پر راضی اور قائم رہے ،کیونکہ ارادت اور محبت کا جوہراس طریقے کے سوا کسی اور طرح ظاہر نہیں ہوسکتا اور اس کی سچائی اور ارادت کا معیار اس کسوٹی کے سوا نہیں پرکھا جا سکتا۔ چنانچہ خداوند کریم نے اپنی سچی کتاب میں فرمایا ہے ۔ <strong>‌فَلَا ‌وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا</strong> یعنی قسم ہے آپ کے رب کی کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان دار نہ ہوں گے جب تک کہ ان کے درمیان جھگڑا ہو اہے اسکا فیصلہ آپ سے نہ کرا ئیں اورپھر آپ کے اس فیصلے میں اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں مگر اس کو پوری طرح تسلیم کرلیں ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">چوتھا ادب  :</mark><mark class="has-inline-color has-luminous-vivid-orange-color" style="background-color: rgba(0, 0, 0, 0);">۔</mark></strong><mark class="has-inline-color has-black-color" style="background-color: rgba(0, 0, 0, 0);">شیخ کے ظاہری اور باطنی تصرفات میں اعتراض نہ کرے اور جب  شیخ کے احوال سے کسی باب میں تردد ہو اور اس بات کی صحت</mark> کومعلوم نہ کر سکے تو حضرت موسی اور خضر علیہما السلام کے واقعے پر غور کرے کہ با وجودنبوت اور کمال علم کے موسی نے خضر کے بعض تصرفات پرکیسا انکار کیا تھا اور جب موسی پران تصرفات کے راز اور حکمت کے ابواب کھولے گئے تومان گئےلہذا جس بات کے راز کو نہ سمجھ سکے اس میں اپنی سمجھ اورعلم کا قصور اور کوتاہی سمجھے تاکہ اس کی ارادت اور محبت میں کمی نہ آنے پائے کیونکہ محبت اور ارادت کے کم ہو جانے سے شیخ کے سینے سے مرید کے سینے میں فیوض کی آمدکم ہو جاتی ہے ۔ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کے ایک مرید نے آپ سے سوال کیا ۔پھر شیخ علیہ الرحمہ کے جواب پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا<strong>وَإِنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِي ‌فَاعْتَزِلُونِ</strong> یعنی اگر تم کو مجھ پر یقین نہیں ہے تو کنارہ کشی اختیار کرد۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">پانچواں ادب :۔</mark></strong>  دینی اور دنیوی ، کلی اورجزوی غرض تمام کاموں کو شیخ کی ارادت و اختیا ر ا و ر اجازت کے بغیر شر وع نہ کرے ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">چھٹا ادب  :۔</mark></strong> شیخ  کے خطرات کی رعایت واجب ہے ، جو حرکت شیخ کو ناپسند ہے اس پراقدام نہ کرے اور اپنی اس حرکت کو شیخ کےحسن خلق، کمال حلم اور مدار عفو پراعتماد اور بھرد ساکر کےخفیف  نہ سمجھے</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">ساتواں ادب  :۔</mark></strong>اپنے کشف اور واقعات کے احوال شیخ کے آگے ظاہر کرے اور ان کی صحت وسقم کے لیے صرف شیخ کے علم کی رہ نمائی تلاش کرے کشف  اور واقعات  خواہ  بیداری میں ہوں یانیند میں ، ان کوشیخ کے علم کی طرف رجوع کرے اور جب تک ان کی صحت اور اہمیت کو اچھی طرح سے نہ سمجھ لے ان کی صحت پر جلدی سے حکم نہ  کر بیٹھے کیونکہ بہت ممکن ہے کہ ان واقعات کا منبع اورجڑ مرید  کی جان  میں پوشیدہ کوئی ارادت ہوجس  سے دہ آگاہ نہیں اور بے سوچے سمجھے ان کی صحت پرحکم کر بیٹھے ، اور اس سے کوئی خلل واقع ہو، لہذاجب واقعات کو شیخ کے آگے بیان کرے گا اور شیخ اپنے علم سے ان کی ماہیت سے واقف ہو جائے گا تو مرید کو اس کی صحت سے مطلع کر دے گا ۔ اس وقت اس کو شیخ کے حکم پریقین کے ساتھ عمل کرنا چا ہیئے ۔ ورنہ شبہ توضرورہی رفع ہو جائے گا ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">آٹھواں ادب  :۔</mark></strong>جب شیخ  کلام کرے تو اس کے کلام کو غور سے سنے اور منتظر ہے کہ شیخ کے کلام پر کیا گزر رہا ہے۔ شیخ کی زبان کو کلام الہی کا واسطہ ووسیلہ سمجھے اور یقین کرے کہ شیخ خدا کے ساتھ ہم کلام ہے ۔ حرص و ہوا کے ساتھ کچھ نہیں کہتا اور مرتبہ <strong>بی ینطق و بی یبصر وبی یسمع</strong> ( یہ ایک حدیث قدسی کی طرف اشارہ ہے اللہ فرماتا ہے وہ بندہ میری زبان سے کلام کرتا میرے کان سے سنتا اور میری آنکھ سے دیکھتا ہے)کو پہنچاہے شیخ کے دل کوبحرمواج خیال کرے جو علم کے خزانوں اور معرفت کے موتیوں سےبھرا  پڑاہے اورجب عنائت  ازلی  کی لہر آتی ہے تو ان میں  بیش بہا جواہرات میں سے بعض کو زبان کے ساحل پر ڈال دیتا ہے ، مرید کو لازم ہے کہ ہمیشہ منتظر وحاضر رہے تاکہ شیخ کے پر فوائد کلام سے  محروم وبے نصیب نہ رہے ۔ اور اس کے کلام اور اپنےچال کے درمیان منا سبت اور متابعت دیکھے اور اپنےجی میں یہ خیال کرے کہ خد اوند تعالی کے دروازے  پرقابلیت کی زبان کے ساتھ اپنے حال کی بہتری ڈھونڈتا ہے ۔ اس کی قابلیت اور استعداد کے مطابق غیب سے خطاب وارد ہوتا ہے، شیخ کے ساتھ کلام کرنے میں اپنے نفس کی حالت کی جستجو کرے  ۔یہ نہیں کہ ریاء ا ور اظہا رعلم اور اپنی  معرفت ظاہر کرنے کی صفت سے موصوف ہوکر شیخ سے کلا م کرے اور نہ اپنے  آپ کو کمال کی صفت سے شیخ کے آگے ظاہر کرے ۔بعض مفسرین نے اس آیت کے نزول کا سبب یوں بیان کیا ہے۔</p>



<p>يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ یعنی اے ایمان والو! اللہ اور رسول کےروبرپیش دستی نہ کر و۔</p>



<p> کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کیمجلس شریف  میں بیٹھنے والے ایسے تھے کہ جب کوئی سائل آپ سےکوئی مسئلہ پو چھتا تھا تو وہ آپ کے جواب سے پہلے ہی فتوی دے دیتے تھے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور خدا وند کریم نے سب کو تادیب فرمائی اور ایسی سبقت سے منع فرمایا ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">نواں ادب  : ۔</mark></strong> شیخ کے حضور میں اپنی آواز بلند نہ کرے کیونکہ بزرگوں کے سامنے آواز بلند کرنا بھی بے ادبی میں شامل ہے ۔ ایک دفعہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان آن حضرت ﷺ کے حضور میں کسی مسئلے میں بحث ہوئی انھوں نے آوازبلند کی اسی وقت ان کو ادب سکھانے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ <strong>يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ</strong> یعنی اے ایمان والو! اپنی آواز کو حضور نبی کریم ﷺ کی آواز شریف  سے زیادہ بلند نہ کرو چنانچہ اس واقعے کے بعد جب صحابہ کلام کرتے تو اس قدر آہستہ کلام کرتے کی مشکل سے سنا جاتا تھا  بنا بریں یہ آیت نازل ہوئی  <strong>إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى</strong> یعنی بے شک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺکے سامنے پست رکھتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالی نے تقوے کے لیے خاص کر دیا۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">دسواں ادب : ۔</mark></strong> شیخ کے ساتھ زیادہ کلام نہ کرے کیوں کہ اس فعل سے شیخ کا رعب اس کے دل میں کم ہو جائے گا اور فیض بند ہو جائے گا ۔شیخ  کو تعظیم و احترام سے خطاب کرناچا ہئیے ۔ مثلا یا سیدی یا مولائی اوائل نبوت کے وقت صحابہ رضی اللہ  عنہم رسول اللہ ﷺ کا  اسم مبارک تعظیم سے نہیں پکارتے مثلا یا محمد یااحمد کہہ کر پکارتے تھے۔ خداوند کریم نے ان کوادب سکھانے کےلئے یہ آیت نازل فرمائی ۔ <strong>وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ </strong>یعنی ان سے اس طرح  کھل کر نہ بولا کرو جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے کھل کر بات کرتے ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں، اور تم کوخبر بھی نہ ہو ۔</p>



<p>بعدازاں آنحضرت ﷺ کو با رسول اللہ یانبی اللہ کہہ کرپکارا  کرتے تھے ۔ ایک دفعہ و فدبنی تمیم کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کے حجرہ  مبارک پر آئی اور آپ کو باہرتشریف لانے کے لیے یوں آواز دی <strong>یا محمد  أخرج الینار</strong> اے محمد ہمارے پاس آؤ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔ <strong>إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ </strong>یعنی  جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ان میں سے اکثربے عقل ہیں او راگر یہ لوگ صبر کرتے ، یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس باہر آجاتے تو یہ انکے لیے بہتر ہوتا ۔</p>



<p> ہر ایک قول وفعل میں شیخ  کی تعظیم وتکریم واجب ہے۔ اپناسجادہ  شیخ کے سامنے نہ  ڈالے سو ا نماز کے وقت کے سماع (محفل)کے وقت جہاں تک ممکن ہو حرکت اور آواز نکالنے سے پر ہیز کرے شیخ کے سامنے ہنسی بھی  نہ کرے ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">گیارہواں  ادب : ۔</mark></strong> جب شیخ سے گفتگو کرنا چاہے خواہ وہ دینی ہو یاد نیوی پہلے  یہ سمجھ لے کہ شیخ کو اس کی بات سننے کی فرصت بھی ہے یا نہیں اور جب کلام کرے تو جلدی نہ کرے ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">بارہواں ادب : ۔</mark></strong> شیخ کے حضور میں اپنے مرتبے کی حد پر نگاہ رکھےجس حالت اور مقام سے واقف نہیں ہے اس کی بابت کلام نہ  کرے ۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">تیرھواں  ادب : ۔</mark></strong> شیخ کے بھید کو ظاہر نہ کرے جن کرامتوں اور واقعات کو شیخ چھپاتا ہے اگر ان سے واقف ہو جائے  تو ظاہر نہ کرے ممکن ہے کہ شیخ ان اسرار کو بعض دینی مصالح کی بنا پر پوشیدہ رکھنا چاہتا ہو کہ اگر وہ  ظاہر ہو جائیں توباعث فساد ہوں۔</p>



<p><strong><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;">چودھواں ادب : ۔</mark></strong> اپنے راز شیخ سے نہ چھپائے جوکرامت اور موہبت خداوندکریم کی جانب سے عنایت ہوئی ہو اس کو شیخ کے آگے بیان کرے کیونکہ اس سے آئیندہ بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔</p>



<p><mark class="has-inline-color" style="background-color: #ff6900;"><strong>پندرہواں ادب : </strong>۔</mark>اگر اپنے شیخ کی کسی بات کوئی دوسرے آدمی کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہے تو سننے والے کی سمجھ کے مطابق بیان کرے اورجس بات کو عوام نہ سمجھ سکیں ، ان کے بیان کرنے سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے کیونکہ ممکن ہے کہ سننے والے کا عقید ہ شیخ کی نسبت فاسد ہوجائے ۔ اسی واسطے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا<strong> ہے کلموا الناس على قدر عقولھم  ولا تكلموا الناس على قدر عقولكم ودعوما ینکرون اتریدون ان یكذب الله ور سولہ</strong> یعنی لوگوں سے ان کی عقل کے موافق کلام کرو ۔ اپنی عقل کے موافق کبھی گفتگو نہ کر یں جس  بات سے وہ منکر ہوں، اس کو چھوڑ دو کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور رسول کی تکذب ہو۔یعنی  تمہاری بات کو نہ سمجھیں گے تو اپنے دل میں کچھ کا کچھ سمجھ کر کیا عجب ہے کہ خدا اور رسول کی بھی تکذیب  کربیٹھیں لہذا ایسی بات کہو ، اور اس   طرح کہو کہ اس کو خالص وعام سمجھ سکیں۔ </p>



<p><mark class="has-inline-color" style="background-color: #00d084;"> <strong>رسالہ: &#8211; آداب الشيخ  شیخ شہاب</strong> الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ،تجلیات سہروردیہ صفحہ 51 مرکز علم و فن زریاب کالونی پشاور</mark></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a8-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b4%25d9%258a%25d8%25ae%2F&#038;title=%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%DB%81%20%D8%A2%D8%AF%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%DB%94%20%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%AE%20%D8%B4%DB%81%D8%A7%D8%A8%20%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%DB%81%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%8a%d8%ae/" data-a2a-title="رسالہ آداب الشيخ۔ الشيخ شہاب الدين السہروردی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d8%af%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d8%b4%d9%8a%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اللہ تک پہنچانے والا طریقہ مکتوب نمبر187دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%da%a9-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1187/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%da%a9-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1187/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 16 Nov 2021 20:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[تصور شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[صحبت شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4219</guid>

					<description><![CDATA[اس بیان میں کہ موصل الى اللہ (اللہ تک پہنچانے والا)طریقوں میں سے ربط(تصور شیخ) کا طریق اقرب ہے اور اس بیان میں کہ مرید کیلئے رابطہ ذکر(الہٰی) کہنے سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔ خواجہ محمد اشرف&#160;کابلی کی طرف <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%da%a9-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1187/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اس بیان میں کہ موصل الى اللہ (اللہ تک پہنچانے والا)طریقوں میں سے ربط(تصور شیخ) کا طریق اقرب ہے اور اس بیان میں کہ مرید کیلئے رابطہ ذکر(الہٰی) کہنے سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔ خواجہ محمد اشرف&nbsp;کابلی کی طرف لکھاہے: ۔&nbsp;</p>



<p>وہ خط جو یاروں کی طرف لکھا ہوا تھا نظر سے گزرا اور لکھے ہوئے حال پر اطلاع پائی ۔ واضح ہو کہ تکلف اور بناوٹ کے بغیر مرید کو پیر (شیخ)کے رابطہ کا حاصل ہونا پیرومریدکے درمیان اسی مناسبت کے کامل ہونے کی علامت ہے جو افادہ(فائدہ &nbsp;پہنچانا &nbsp;) &nbsp;کا سبب ہے اور وصول الی اللہ کے لئے رابطہ&nbsp;سے زیادہ اقرب کوئی طریق نہیں ہے ۔ دیکھیں کس دولت مند کو اس سعادت سے بہرہ مند کرتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>حضرت خواجہ &nbsp;احرار قدس سرہ &#8220;فقرات&#8221; میں لاتے ہیں ۔</p>



<p><strong>سایہ</strong><strong> </strong><strong>رہبر</strong><strong> </strong><strong>است</strong><strong> </strong><strong>از</strong><strong> </strong><strong>ذکر</strong><strong> </strong><strong>حق</strong>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ترجمہ: ذکر سے بہتر ہے سایہ پیر کا&nbsp;</p>



<p>بہتر کہنا نفع کے اعتبار سے ہے یعنی رہبر کا سایہ مرید کیلئے اس کے ذکر کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ(ابتدا میں ) مرید کو ابھی مذکور (اللہ تعالیٰ)کے ساتھ کامل مناسبت نہیں ہے تا کہ ذکر کے طریق سے پورا پورا نفع حاصل کر سکے۔ والسلام اولا واخرا.&nbsp;</p>



<p>                                           <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول(حصہ دوم)  صفحہ42ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                               </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%25be%25db%2581%25d9%2586%25da%2586%25d8%25a7%25d9%2586%25db%2592-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1187%2F&#038;title=%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81%20%D8%AA%DA%A9%20%D9%BE%DB%81%D9%86%DA%86%D8%A7%D9%86%DB%92%20%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%A7%20%D8%B7%D8%B1%DB%8C%D9%82%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%da%a9-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1187/" data-a2a-title="اللہ تک پہنچانے والا طریقہ مکتوب نمبر187دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%aa%da%a9-%d9%be%db%81%d9%86%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1187/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صحبت صالحین</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%b5%d8%a7%d9%84%d8%ad%db%8c%d9%86/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%b5%d8%a7%d9%84%d8%ad%db%8c%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Jul 2021 16:48:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[انوار الحدیث]]></category>
		<category><![CDATA[بدترین اختیار]]></category>
		<category><![CDATA[برے کی صحبت تلوار]]></category>
		<category><![CDATA[بہترین اختیار]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت داؤد کی دعا]]></category>
		<category><![CDATA[خاک میں تاثیر]]></category>
		<category><![CDATA[صحبت شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[صحبت صلحاء]]></category>
		<category><![CDATA[کاملین کی صحبت]]></category>
		<category><![CDATA[کونسی صحبت اچھی]]></category>
		<category><![CDATA[مجالس ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[نیک لوگوں سے بدگمانی]]></category>
		<category><![CDATA[ہم نشین کی صحبت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=744</guid>

					<description><![CDATA[ عَنْ أَبَی بُرْدَۃَ بْنَ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْجَلِیسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِیسِ السَّوْءِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ وَکِیرِ الْحَدَّادِ لَا یَعْدَمُکَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْکِ إِمَّا تَشْتَرِیہِ أَوْ تَجِدُ رِیحَہُ وَکِیرُ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%b5%d8%a7%d9%84%d8%ad%db%8c%d9%86/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><strong> عَنْ أَبَی بُرْدَۃَ بْنَ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْجَلِیسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِیسِ السَّوْءِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْکِ وَکِیرِ الْحَدَّادِ لَا یَعْدَمُکَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْکِ إِمَّا تَشْتَرِیہِ أَوْ تَجِدُ رِیحَہُ وَکِیرُ الْحَدَّادِ یُحْرِقُ بَدَنَکَ أَوْ ثَوْبَکَ أَوْ تَجِدُ مِنْہُ رِیحًا خَبِیثَۃً</strong> (صحیح بخاری)</p>



<p>ابوبردہ بن ابی موسی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے مشک والا اور لوہاروں کی بھٹی تو مشک والے کے پاس سے تم بغیر فائدے کے واپس نہ ہوگے یا تو اسے خریدو گے یا اس کی بو پاؤ گے اور لوہار کی بھٹی تیرے جسم کو یا تیرے کپڑے کو جلادے گی یا تم اس کی بدبو سونگھو گے۔</p>



<p>               <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> صحبت کا اثر</span></strong> بہرحال ہوتا ہوتا صحبت کی تعریف عربی زبان میں یہ ہے کہ تھوڑا یا زیادہ کسی کے ساتھ رہنا چاہے اس میں کلام یا بات چیت نہ بھی ہواسی طرح کسی صاحب کمال کے ساتھ اﷲ کے فیوض برکات کے حصول کیلئے بیٹھنا آناجاناصحبت کہلاتاہے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اسی لئے کہا جاتا ہے کہ رسول اﷲ ﷺکی صحبت نصیب ہوئی’’ صاحب‘‘ صحبت میں بیٹھنے والے کو کہا جاتا ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کو قرآن پاک میں اس صحبت کا حقدار فرمایا گیا <strong>إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا</strong>(التوبۃ :40)جب کہ رسول اﷲ ا فرما رہے تھے اپنے ساتھی سے، کہ غم نہ کرو، یقینا اﷲ ہمارے ساتھ ہے۔</p>



<p>                صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کو دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی خوشبو تھی جس کی تڑپ اور طلب انہیں کشاں کشاں کوچہ محبوب کی طرف لے جاتی یہی خوشبو ان کے نفس کا تزکیہ بھی کرتی اور <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علم معرفت</span></strong> و <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>علم لدنی</strong></span> کے ماہر بھی بن جاتے جبکہ اس کے حصول کا کوئی ظاہری طریقہ موجود نہ تھا یہ صحبت مرشد کامل تھی جو انہیں صاحب علم بناتی تھی آج جو لوگ بغیر صحبت کامل علم سیکھتے ہیں ان کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عالم فاضل نہ تھے لیکن کوئی کتنا ہی بڑا عالم ،محدث، فقیہہ یا ولی ہو ادنیٰ صحابی کے درجے کو نہیں پہنچ سکتافضیلت علم سے نہیں فرق <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">صحبت رسول</span></strong> ﷺ کا ہے انہوں نے سب کچھ صحبت رسول سے ہی حاصل کیا تھا۔</p>



<p>               اسی صحبت کے اثرات اہل اﷲنے محسوس کئے تواس صحبت کوبہت لازمی قرار دیا گیا ۔جبکہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اس کا مقام بہت ہی بلند ہے</p>



<p> <strong>الوصول إلی اﷲ لا یمکن أن یتم بغیر صحبۃ العالم العارف، بل ہو المظہر الذی عینہ اﷲ للمرید</strong>(أوراد الذاکرین ازمحمد الحبش)</p>



<p>جب تک کوئی کسی عارف اور جاننے والے کی صحبت میں نہ بیٹھے ﷲ تک پہنچنا ممکن ہی نہیں بلکہ شیخ مظہر ہے اس بات کا کہ مرید کو اﷲ کی نظروں میں پہنچا دیتاہے ۔</p>



<p>                اس صحبت کا سب سے زیادہ فیض سیدنا ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے حاصل کیاجنہوں نے رسول اﷲﷺکی صحبت کے حصول کیلئے گھر بار بیوی بچے حتیٰ کہ اپنا سب کچھ قربان کر دیاجب مدینہ منورہ ہجرت کا حکم ہوا تو حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی تیاری کی جب اجازت لینے گئے تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم کچھ ٹھہرو کیونکہ مجھے امید ہے کہ مجھے بھی ہجرت کی اجازت مل جائے گی حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے (فرط مسرت سے) عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان کیا آپ کو ایسی امید ہے ( کہ اﷲ تعالیٰ آپ کے ساتھ مجھے رہنے کی اجازت فرمائیگا )پھر حضرت ابوبکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رفاقت کی وجہ سے رک گئے اور دو اونٹنیاں جو ان کے پاس تھیں انہیں چار مہینہ تک کیکر کے پتے کھلاتے رہے اور جب وہ ہجرت کی مبارک ساعت آئی تو حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں۔۔</p>



<p>               <strong> فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیْہِ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَکَ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا ہُمَا ابْنَتَایَ یَعْنِی عَائِشَۃَ وَأَسْمَاء َ قَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّہُ قَدْ أُذِنَ لِی فِی الْخُرُوجِ قَالَ الصُّحْبَۃَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ الصُّحْبَۃَ</strong> . (صحیح بخاری کتاب البیوع)</p>



<p>                 جب آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے پاس پہنچے تو ان سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس ہیں ان کو ہٹا دو ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ یہ دونوں میری بیٹیاں عائشہ اور اسماء رضی اﷲ عنھما ہیں آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مجھ کو ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ کیا میں بھی تمہارے ساتھ رہوں گا، آپ نے فرمایا تم بھی ساتھ رہو گے۔</p>



<p>                اور اس خبر کے سنتے ہی حضرت ابوبکر  رضی اللہ عنہ رونا شروع ہو گئے حالانکہ ظاہری طور پر مشکل مرحلہ رسول اﷲﷺکا ساتھ تھا لیکن حصول صحبت کی خوشی میں یہ آنسو بہہ رہے تھے</p>



<p><strong>                . قالت: فواﷲ ما شعرت قط قبل ذلک الیوم ان أحداً یبکی من الفرح حتی رأیت أبا بکر یبکی یومئذ</strong></p>



<p> حضرت عائشہ فرماتی ہیں اﷲ کی قسم مجھے اس دن سے پہلے یہ معلوم نہ تھاکہ کوئی بندہ شدت  خوشی سے بھی روتا ہے جب تک میں نے حضرت ابوبکر کونہ دیکھا ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اسی لئے عقل و شعور کی کی پہچان یہ کہ اﷲ والوں کی صحبت سے آشنائی حاصل ہو جائے ۔</p>



<p>               <strong> قال ابو حاتم العاقل یلزم صحبۃ الاخیار ویفارق صحبۃ الاشرار</strong> (روضۃ العقلاء)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;ابو حاتم نے فرمایا عقلمند کیلئے لازم ہے کہ نیکوکار لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور شریر لوگوں کی صحبت سے علیحدہ رہے ۔</p>



<p>              <strong>   العاقل لا یصاحب الاشرارلأن الصحبۃ صاحب السوء قطعۃ من النار</strong>(روضۃ العقلاء)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; عقلمند بروں کی صحبت اختیار نہیں کرتا کیونکہ برے بندے کی صحبت آگ کا ایک ٹکڑا ہے ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہی فرق علوم ظاہر وعلوم باطن میں بھی ہے ظاہری علم کی افادیت مسلم ہے لیکن جو اثرات باطنی علم سے مرتب ہوتے ہیں ظاہری علم اس کا عشر عشیر بھی نہیں رکھتا مثال کے لئے حضرت امام احمد حنبل صسے پوچھا گیا کہ کونسے علم کو حاصل کرنے کیلئے حضرت بشر حافی صکے پاس جاتے ہیں تو فرمایا اﷲ کی معرفت کا علم ان کے پاس مجھ سے زیادہ ہے۔</p>



<p>چنگے بندے دی صحبت یارو جیویں دکان عطاراں</p>



<p>سودا بھانویں مول نہ لئیے حلے آوون ہزاراں</p>



<p>برے بندے دی صحبت اینویں جیویں دکان لوہاراں</p>



<p>کپڑے بھانویں کنج کنج بہئے چنڑکاں پین ہزاراں</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; عقلاء پر واجب ہے کہ اہل شک کی مجالس سے اجتناب کرے اس سے پہلے کہ وہ خود شک والا بنے کیونکہ جس طرح صلحاء کی صحبت بھلائی کا وارث بناتی ہے اسی طرح اشرار کی صحبت بھی بُرائی وارث بناتی ہے ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت سفیان بن عیینہ ؒفرماتے ہیں من احب رجلا صالحا فانما یحب اﷲ تبارک و تعالیٰ(حلیۃالاولیاء)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جو نیک آدمی سے محبت کرے اﷲ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے ۔</p>



<p>                حضرت مالک بن دینار رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں<strong> انک تنقل الحجارۃ مع الابرار خیر من ان تأکل الثمر مع الاشرار</strong></p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر تجھے نیک لوگوں کی معیت میں پتھر کے ساتھ لڑھکنا پڑے اس سے بہتر ہے کہ برے لوگوں کے ساتھ پھل کھانا پڑے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; عقلمند کیلئے ضروری ہے کہ ہر اس صحبت سے پناہ مانگے جو اﷲکو یاد کرنے میں معاونت نہ کرے اور وہ غافل ہو تو اسے ذکر کی طرف راغب نہ کرے بلکہ ایسی صحبت سے سے اکیلے رہنا بہتر ہے رسول اﷲ اکا ارشاد گرامی ہے</p>



<p>              <strong>  الوحدۃ خیر من جلیس السوء ، والجلیس الصالح خیر من الوحدۃ</strong> (مستدرک حاکم )</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;بری صحبت سے اکیلا رہنا بہتر ہے اور نیک لوگوں کی مجلس اکیلے رہنے سے بہتر ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; علامہ آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں سورہ طٰہٰ کی آیت 14کے تحت فرماتے ہیں کہ فرعون کے دربار سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اہل مدین میں حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا جس سے ان کی صحبت میں رہ کر تربیت مقصود تھی اور اﷲ تعالیٰ نے ایک رسول کی صحبت کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام کو اخلاق اﷲسے مزین کیا</p>



<p><strong>                صحبۃ الاخیار تورث الخیر وصحبۃ الشر تورث الشرکاالریح اذا مرت بالطیب حملت طیبا واذا مرت بالنتن حملت نتنا</strong></p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;نیک لوگوں کی صحبت تجھے خیر کا وارث بناتی ہے اور برے بندے کی صحبت شر کا وارث بناتی ہے ہوا کی طرح جب کسی پاکیزہ جگہ سے گذر کر آتی ہے تو پاکیزگی ساتھ لاتی ہے اور بد بو جگہ سے بدبو ساتھ لے کر آتی ہے ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;نبی کریم اکا ارشاد گرامی ہے۔</p>



<p>              <strong>  لاَ تَصْحَبْ إِلاَّ مُؤْمِناً وَلاَ یَأْکُلْ طَعَامَکَ إِلاَّ تَقِی(</strong>مسند احمد )</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; مومن کی صحبت کے علاوہ کسی کی صحبت میں نہ بیٹھ اور تیرا کھانا صرف متقی شخص ہی کھائے ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اﷲ کے ولیوں کو کھانا کھلانا ان کی خدمت کرنا عام لوگوں کی نسبت زیادہ سعادت و برکت کا سبب ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس صحبت کا اصلی مقصد ان فیوض و برکات کا حصول ہے جو اﷲ والوں کے پاس ہوتے ہیں جب یہ فیوض حاصل ہو جائیں تو اﷲ کی قربت کاذریعہ بنتے ہیں اور یہ صحبت کا اثر ہے کہ حضرت سلمان جو دنیاوی رشتے میں کوئی قرب نہ رکھتے تھے ان کے متعلق رسول اﷲا نے فرمایا</p>



<p>                 <strong>سَلْمَانُ مِنَّا أَہْلَ الْبَیْتِ</strong> سلمان میرے اہل بیت سے ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جبکہ بری صحبت کا نتیجہ کہ حضرت نوح علیہ السلام کاحقیقی بیٹا بھی اﷲ کے ارشاد کے مطابق اہل بیت سے نہ رہا</p>



<p>               <strong>  قَالَ یَا نُوحُ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ أَہْلِکَ إِنَّہُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ</strong> ارشاد ہواے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے۔</p>



<p><strong>                وقد قالت العلماء فی أشیاء لیس لھا ثبات ولا بقاء ظل الغمام وصحبۃ الاشراروعشق النساء وثناء الکاذب والمال الکثیر</strong></p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ان چیزوں کے متعلق علماء نے فرمایا ہے کہ ان میں کوئی ثبات اور بقا نہیں بادل کے سائے میں ،بروں کی صحبت،عورتوں کے عشق جھوٹے کی تعریف ،اور مال کی کثرت میں ۔</p>



<p>                ایسی مجالس جو اﷲ کے ذکر کیلئے مخصوص ہوں اصل میں تصوف و سلوک کا خاصہ ہیں جس سے آخرت سنور جاتی ہے یہ مجالس اس قابل ہیں جن میں بیٹھ کر انسان کچھ ضائع نہیں کرتا بلکہ سب کچھ پا لیتا ہے انہی میں رسول اﷲ ﷺنے بیٹھنے کا حکم دیا۔</p>



<p>                <strong>عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قِیلَ : یَا رَسُولَ اﷲِ ، أَیُّ جُلَسَائِنَا خَیْرٌ ؟ قَالَ : مَنْ ذَکَّرَکُمْ بِاﷲ رُؤْیتَہُ ، وَزَادَ فِی عِلْمِکُمْ مَنْطِقَہُ ، وَذَکَّرَکُمْ بِالآخِرَۃِ عَمَلُہُ</strong>&#8220;(شعب الایمان:مسند ابی یعلی:مجمع الزوائد)</p>



<p>                حضرت ابن عباس صسے مروی ہے عرض کیا گیا یا رسول اﷲﷺ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">کونسی صحبت</span></strong> ہمارے لئے اچھی ہے تو آپ نے فرمایاجن کا دیکھنا تمہیں ﷲ کی یاد دلائے،جن کا بولنا تمہارے علم میں زیادتی کرے ،اور جن کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے ۔</p>



<p>               <strong> عن الحسن عن داود النبی علیہ السلام قال اﷲم إنی أسألک الاخوان والاصحاب والجیران والجلساء من إن نسیت ذکرونی ، وإن ذکرت أعانونی ، وأعوذ بک من الاصحاب والاخوان والجیران والجلساء من أن نسیت لم یذکرونی ، وإن ذکرت لم یعینون</strong>ی.(مصنف ابن ابی شیبہ)</p>



<p>                <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حضرت داؤوعلیہ السلام کی یہ دعا تھی</span></strong> ’’اے اﷲ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ایسے بھائیوں دوستوں ہمسائیوں اور صحبت میں بیٹھنے والوں کی جب میں تجھے بھول جاؤں تو یاد کرائے اور جب یاد کراؤں تو معاونت کرے اورتیری پناہ مانگتا ہوں ایسے بھائیوں دوستوں ہمسائیوں اور صحبت میں بیٹھنے والوں سے جب میں تجھے بھول جاؤں توتیری یاد نہ کرائے اور جب تیرا ذکر کروں تو معاونت نہ کرے ‘‘</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اور یہ صحاح کی حدیث ہے کہ اﷲ کے چند فرشتے ہیں جو رستوں میں گھومتے ہیں، اور ذکر کرنے والوں کو ڈھونڈتے ہیں فرشتے ان کو اپنے پروں سے ڈھک لیتے ہیں، اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں، ان کا رب پوچھتا ہے کہ میرے بندے کیا کر رہے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو اس سے بہت زیادہ بھاگتے، اور بہت زیادہ ڈرتے، آپ نے فرمایا، اﷲ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا آپ نے فرمایا کہ ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے کہ ان میں فلاں شخص ان (ذکر کرنے والوں) میں نہیں تھا بلکہ وہ کسی ضرورت کے لئے آیا تھا اﷲ فرماتا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والامحروم نہیں رہتا</p>



<p>              <strong>  وَقَالَ بَعْضُ الْبُلَغَاء ِ صُحْبَۃُ الْأَشْرَارِ تُورِثُ سُوء َ الظَّنِّ بِالْأَخْیَارِ</strong> .(أدب الدنیا والدین)</p>



<p>               <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> بروں کی صحبت نیک لوگوں کے متعلق بد گمانی پیدا کریگی</strong></span></p>



<p>               <strong> وَقَالَ بَعْضُ الْبُلَغَاء ِ : مِنْ خَیْرِ الِاخْتِیَارِ صُحْبَۃُ الْأَخْیَارِ ، وَمِنْ شَرِّ الِاخْتِیَارِ صُحْبَۃُ الْأَشْرَارِ</strong> .(أدب الدنیا والدین)</p>



<p>               <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">  بہترین اختیار</span></strong>(اپنی مرضی کا کام) نیک لوگوں کی صحبت اور<strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"> بد ترین اختیار</span></strong> برے لوگوں کی صحبت اختیا رکرنا ہے</p>



<p>               <strong> لقمان: یا بنی: إیاک وصاحب السوء ، فإنہ کالسیف یعجبک منظرہ، ویقبح أثرہ</strong>.(ربیع الابرار)</p>



<p>                حضرت لقمان علیہ السلام نے بیٹے کو نصیحت کی کہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">برے کی صحبت</span></strong> سے بچو یہ تلوار کی طرح ہے جسکا دیکھنا بڑا ہی اچھا جبکہ اس کا اثر بڑا قبیح ہو تا ہے</p>



<p>                <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">صحبت شیخ </span></strong>سے انوارو تجلیات کا ظہور مرید کی طرف ہوتا ہے جس سے اس کا قلب انوار الٰہیہ سے روشن ہوتا ہے اور یہی <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">صحبت کاملین</span></strong> کا ثمرہ ہے شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے خوشبو دار مٹی سے پوچھا کہ تو مشک ہے یا عنبر تیری خوشبو مجھے دیوانہ بنا رہی ہے تواس نے کہا میں کچھ عرصہ پھولوں کی صحبت میں رہی</p>



<p>جمال ہم نشین در من اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم</p>



<p>میرے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">ہم نشین کی صحبت</span></strong> کی خوبی نے مجھ میں اثرکیا ورنہ میں تو پہلے بھی خاک تھی اب بھی وہی ہوں</p>



<p><strong>علیک بالصحبۃ فہی التی &#8230; تحیا فتحییک إذا المکرمات</strong></p>



<p>اچھی صحبت اختیار کرنا بہت ضروری ہے جو زندوں کو عزت کی حیات عطا کرتی ہے</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ad%25db%258c%25d9%2586%2F&#038;title=%D8%B5%D8%AD%D8%A8%D8%AA%20%D8%B5%D8%A7%D9%84%D8%AD%DB%8C%D9%86" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%b5%d8%a7%d9%84%d8%ad%db%8c%d9%86/" data-a2a-title="صحبت صالحین"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%d8%b5%d8%a7%d9%84%d8%ad%db%8c%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
