<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>علمائے راسخین &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Mon, 29 Nov 2021 13:09:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>علمائے راسخین &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آیات محکمات اورمتشابہات مکتوب نمبر 276 دفتراول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a2%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d8%aa%d8%b4%d8%a7%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-276-%d8%af/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a2%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d8%aa%d8%b4%d8%a7%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-276-%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 29 Nov 2021 13:09:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[آیات متشابہات]]></category>
		<category><![CDATA[آیات محکمات]]></category>
		<category><![CDATA[حروف مقطعات]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے راسخین]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے صوفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے قشر]]></category>
		<category><![CDATA[متصوفین خام]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4539</guid>

					<description><![CDATA[ قرآن مجید کی آیات محکمات اور مُتشابہات  کے بیان اور علمائے راسخین اور ان کے کمالات اور اس کے بیان میں شیخ بدیع الدین کی طرف صادر فرمایا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ عَلِيْهِمْ وَعَلىٰ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a2%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d8%aa%d8%b4%d8%a7%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-276-%d8%af/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> قرآن مجید کی آیات محکمات اور مُتشابہات  کے بیان اور علمائے راسخین اور ان کے کمالات اور اس کے بیان میں شیخ بدیع الدین کی طرف صادر فرمایا ہے۔ <strong>الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ عَلِيْهِمْ وَعَلىٰ اٰلِہٖ وَاَصْحَابِهٖ الطَّيِّبِيْنِ الطَّاهِرِيْنَ اَجْمَعِيْنَ جَعَلَنَا اللہُ سُبْحَانَهٗ وَإِيَّاكُمْ مِنَ الرَّاسِخِيْنِ فِي الْعِلْمِ</strong></p>



<p> سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور حضرت سید المرسلین اور ان کی تمام آل واصحاب پر جو طیب و طاہرو پاک و صاف ہیں ۔ صلوۃ وسلام ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اور آپ کو راسخین فی العلم میں سے بنائے۔ </p>



<p>اے برادر! حق تعالیٰ نے اپنی کتاب مجید کو دوقسم پر فرمایا ہے۔ ایک محکمات دوسری&nbsp; مُتشابہات <strong>۔</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>قسم اول (محکمات)علم شرائع اور احکام کا منشاء(پیدا ہونے کی جگہ) &nbsp;اور مبدا ہے اور قسم ثانی حقائق اور اسرار کے علم کا مخزن ہے اور وجہ (چہرہ) اور قدم اور ساق ( پنڈلی) اور اصابع (انگلیاں) اور انامل (پورے) جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں۔ سب &nbsp;مُتشابہات &nbsp;میں سے ہیں اور ایسے حروف مقطعات جو قرآنی سورتوں کے اول میں واقع ہوئے ہیں ۔ سب &nbsp;مُتشابہات &nbsp;میں سے ہیں جن کی تاویل پر علمائے راسخین کے سوا اور کسی کو اطلاع نہیں دی گئی۔ یہ خیال نہ کریں کہ تاویل مرادقدرت سے&nbsp;ہے جس کی تعبیرید سے کی ہے یا مراد ذات سے ہے جس کو وجہ سے تعبیر کیا ہے بلکہ ان کی تاویل ان پوشیده اسرار سے ہے جواخص وخواص پر ظاہر کئے گئے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>فقیرقرآن مجید کے حروف مقطعات کی نسبت کیا لکھے کیونکہ ان حروف میں سے ہرایک حرف عاشق و معشوق کے پوشیدہ اسرار کا ایک بحر مواج (موجیں مارتاسمندر)ہے اور محب و محبوب کے دقیق اور بار یکی امور کی ایک پوشیدہ رمز ہے اور محکمات اگر چہ کتاب کی امہات یعنی اصل ہیں لیکن ان کے نتائج اور ثمرات جو &nbsp;مُتشابہات &nbsp;میں کتاب کے اصل مقاصد میں سے ہیں۔ امہات نتائج کے حاصل ہونے کے لئے وسائل سے زیادہ نہیں ۔ پس کتاب کالُب یعنی مغز متشابهات ہیں اور محکمات اس کا قشر یعنی پوست وہ &nbsp;مُتشابہات &nbsp;ہی ہیں جو رمز داشارہ کے ساتھ اصل بیان ظاہر کرتی ہیں اور اس مرتبہ کی حقیقت معاملہ کا نشان بتلاتی ہیں، بر خلاف محکمات کے متشابهات گویا حقائق ہیں اور کلمات &nbsp;مُتشابہات &nbsp;کی نسبت ان حقائق کی صورتیں ہیں عالم راسخ وہ شیخ ہے جولب یعنی مغزکوقشریعنی پوست کے ساتھ جمع کر سکے اور حقیقت کو صورت کے ساتھ ملا سکے۔&nbsp;</p>



<p>علمائے قشر یہ قشر کے ساتھ خوش ہیں اور صرف محکمات پر ہی کفایت کئے ہوئے ہیں اورعلمائے، راسخین محکمات کے علم کو حاصل کر کے &nbsp;مُتشابہات &nbsp;کی تاویل سے بھی حظ وافر (پورا پورا حصہ) حاصل کر لیتے ہیں اور صورت و حقیقت کو جومحکم و متشابہ ہیں جمع کر لیتے ہیں لیکن وہ شخص جومحکمات کے علم اور&nbsp;ان کے موافق علم کے بغیر متشابهات کی تاویل ڈھونڈے اور صورت کو چھوڑ کر حقیقت کی طرف دوڑے&nbsp;، ایسا شخص جاہل ہے جس کو اپنی جہالت کی بھی خبر نہیں ہے اور گمراہ ہے اور اس کو اپنی بھی خبرنہیں وہ نہیں جانتا کہ یہ جہان صورت اور حقیقت سے مرکب ہے اور جب تک یہ جہان قائم ہے۔ کوئی حقیقت صورت سے الگ نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>‌وَاعْبُدْ ‌رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ أَىْ</strong><strong> </strong><strong>الْمَوْتُ كَمَا</strong><strong> </strong><strong>قَالَ</strong><strong> </strong><strong>الْمُفَسِّرُوْنَ</strong></p>



<p><strong>(ا</strong>پنےرب کی عبادت کرحتی کہ تجھے یقین یعنی موت آ جائے جیسا کہ مفسرین نے کہا ہے)</p>



<p>&nbsp;اللہ تعالیٰ نے عبادت کو موت کے زمانہ تک منتہی کیا جو اس جہان کا منتہا ہے <strong>لِاَنَّ</strong><strong> </strong><strong>مَنْ</strong><strong> </strong><strong>مَّاتَ</strong><strong> </strong><strong>فَقَدْ</strong><strong> </strong><strong>قَامَ</strong><strong> </strong><strong>قِيَامَتُهٗ</strong> (جوشخص مر گیا اس کی قیامت آ گئی) اور جہاں آخرت میں حقائق کا ظہور ہے وہاں حقائق سے صورتوں کا الگ ہونا حاصل ہے۔ پس ہر جہان کا حکم علیحدہ ہے۔ ایک کو دوسرے کے ساتھ سوائے اس جاہل یا زندیق (بے دین) ہے جس کا مقصود شرائع کا باطل کرنا ہے، خلط ملط نہیں کرتا کیونکہ شریعت کا جوعلم مبتدی پر ہے وہی علم منتہی پر ہے عام مومنین اور اخص خواص عارف اس امر میں مساوی اور برابر ہیں اکثر متصوفین خام(کچے صوفیاء) اور بے سروسامان ملحد اس امر کے درپے ہیں کہ اپنی گردنوں کو شریعت کی اطاعت سے نکال لیں اور احکام شرعیہ کو عوام کے ساتھ ہی مخصوص&nbsp;رکھیں ۔ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شریعت کے احکام بجالانے سے مقصود یہ ہے کہ&nbsp;معرفت حاصل ہوجائے اور جب معرفت حاصل ہوجائے تو پھر شرعی تکلیفات (شرعی پابندیاں) ساقط ہو جاتی ہیں اور اس آیت کو بطریق شہادت پیش کرتے ہیں۔ <strong>وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ</strong>اپنے رب کی عبادت کرتا کہ تجھے یقین حاصل ہو جائے) اور یقین کے معنی اللہ کرتے ہیں جیسا کہ سہل تستری نے کہا ہے یعنی عبادت کی انتہا خدا کی معرفت حاصل ہونے تک ہی ہے۔ بظاہر جس شخص نے یقین کے معنی اللہ سبحانہ کے کئے ہیں اس سے اس کی مراد یہ ہوگی کہ عبادت کی تکلیف کی انتہاء حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو جانے تک ہی ہے نہ کہ نفس عبادت کی انتہاء&nbsp;کیونکہ یہ امر الحادو زندقہ(بے دینی) &nbsp;تک پہنچانے والا ہے اور یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ عارفوں کی عبادت ریائی ہے یعنی عارف اس واسطے عبادت کرتے ہیں کہ ان کے مقتدی اور پس ان کی اقتداء&nbsp;کریں۔ نہ یہ کہ عارف عبادت کے محتاج ہیں اور اس قول کی تائید میں مشائخ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک پیر منافقت اور مرائی یعنی ریا کار نہ ہو۔ مرید اس سے نفع نہیں حاصل کر سکتے ۔<strong> خَذَلَھُمُ اللہ ُسُبْحَانَہٗ</strong><strong> </strong><strong>مَا</strong><strong> </strong><strong>اَجْهَلَهُمْ</strong><strong> </strong><strong>(</strong>اللہ تعالیٰ ان کو خوار کرے یہ لوگ&nbsp;کیسے جاہل ہیں) عارفوں کو عبادت کی اس قدر حاجت ہے کہ اس کا دسواں حصہ بھی مبتدیوں کو حاصل نہیں ہے کیونکہ ان کے عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالیٰ کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) عبادات پر ہی وابستہ ہیں اور ان کی ترقیاں شرائع اور احکام&nbsp;کے بجالانے پرمنحصر ہیں۔ عبادات کے ثمرے اور فائدے جس کی امید عوام کوکل قیامت کے دن ہے، عارفوں کو وہ ثمرات آج ہی حاصل ہیں۔ پس یہ عبادت کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو شریعت کی زیادہ حاجت ہے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>جاننا چاہیئے کہ شریعت صورت اور حقیقت کے مجموعہ سے مراد ہے۔ صورت ظاہر شریعت ہے اور حقیقت باطن شريعت پس قشر ولب یعنی پوست ومغز، دونوں شریعت کے اجزاء ہیں اور&nbsp;محکم ومتشابہ دونوں اس کے افراد۔&nbsp;</p>



<p>علماۓ ظاہر نے اس کے قشر پر کفایت کی ہے اور علمائے راسخین نے اس کے قشر کولب کے ساتھ جمع کیا ہوا ہے اور مجموعہ صورت و حقیقت سے حظ وافر (پورا پورا حصہ) حاصل کیا ہے۔ پس شریعت کو اس شخص کی طرف جو صورت و حقیقت سے مرکب ہے۔ تصور کرنا چاہے۔ ایک جماعت نے اس کی صورت کے ساتھ تعلق پیدا کر لیا اور اس کی حقیقت سے انکار کیا اور ہدایہ و بزدوی کے سوا اپنا پیرمقتدی کسی کو جانا ۔ یہ لوگ علمائے قشر ہیں اور دوسری جماعت کے لوگ اس کی حقیقت میں گرفتار ہو گئے لیکن اس حقیقت کوشریعت کی حقیقت نہ جانا بلکہ شریعت کی صورت پر محدود رکھا اور قشر خیال کیا اور اس کے سوالب کوتصور کیا اور باوجود اس کے احکام شریعت کے بجالانے سے سرمونہ ہٹے اور صورت کو ہاتھ سے نہ دیا اور احکام شریعت میں سے کسی ایک حکم کے ترک کرنے والے کو بطال اور ضال یعنی جھوٹا اور گمراہ سمجھا۔ یہ لوگ خدائے تعالیٰ کے اولیاء ہیں جنہوں نے حق تعالیٰ کی محبت میں اس کے ماسویٰ سے قطع تعلق کیا ہے ایک اور گروہ کے لوگ ہیں جو شریعت کو صورت اور حقیقت سے مرکب جانتے ہیں اور قشر ولب کے مجموعہ کا یقین کرتے ہیں ان کے نزدیک شریعت صورت کا حاصل ہونا اس کی حقیقت کے حاصل ہونے کے بغیر اعتبار سے ساقط ہے اور اس کی حقیقت کا حاصل ہونا صورت کے ثبات کے بغیر نا تمام وناقص ہے بلکہ صورت کے حاصل ہونے کو جو حقیقت کے ثبوت کے بغیر ہو۔ اس کو بھی اسلام ہی سے جانتے ہیں اور نجات بخش تصور کرتے ہیں جیسا علمائے ظاہر اور عام مومنین کا حال ہے اور صورت کے بغیر حقیقت کا حاصل ہونا محال تصور کرتے ہیں اور اس کے قائل کوزندیق (بے دین) اور گمراہ کہتے ہیں۔ </p>



<p>غرض تمام ظاہری باطنی کمالات ان بزرگواروں کے نزدیک کمالات شرعیہ میں منحصر ہیں&nbsp;اور علوم و معارف الہیہ ان عقا ئد کلامیہ پروابستہ ہیں جو اہلسنت و جماعت کے لئے ثابت ہو چکے ہیں۔ ہزارہا شہود(مشاہدہ) اور مشاہدات کوحق تعالیٰ کی بیچونی (بے مثال)اور بیچگونی (بے کیف ہونا)کے ایک مسئلہ کے (جو مسائل کلامیہ میں سے ہے) برا نہیں جانتے اور ان احوال و مواجید اور تجلیات (غیبی انوار دلوں پر ظاہر ہونا) وظہورات کو جو احکام شرعیہ کے کسی حکم کے برخلاف ظاہر ہوں۔ ہم جَو کے برابر نہیں خریدتے اور ایسے ظہور کو استدراج&nbsp;(شعبدہ بازی) خیال کرتے ہیں۔ <strong>أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ‌فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ</strong> یہ وہ لوگ ہیں جن کو الله تعالیٰ نے ہدایت دی ہے۔ پس تو بھی ان کی ہدایت پر چل۔&nbsp;</p>



<p>لوگ علماے راسخیں ہیں جن کو حقیقت معاملہ پر اطلاع دی گئی ہے اور آداب شریعت کومدنظر رکھنے کی برکت سے ان کو شریعت کی حقیقت تک پہنچا دیا گیا ہے۔ برخلاف فرقہ ثانیہ کے&nbsp;کہ اگر چہ وہ بھی حقیقت کی طرف متوجہ اور اس کے ساتھ گرفتار ہیں اور حتی المقدور شریعت کے بجالانے میں سرمو تجاوز نہیں کرتے لیکن چونکہ انہوں نے حقیقت کو شریعت کے ماسوا جانا ہے اور شریعت کو اس حقیقت کا پوست تصور کیا ہے۔ اس لئے اس حقیقت کے ظلال میں سے کسی ظل میں رہ گئے ہیں اور اس حقیقت کے اصل معاملہ تک پہنچنے کی راہ نہیں پائی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ولایت ظلی ہے اور ان کا قرب صفاتی۔ برخلاف علماے راسخین کی ولایت کے کہ اصلی&nbsp;ہے اور انہوں نے اصل تک پہنچنے کا راستہ پالیا ہے اور ظلال کے تمام حجابوں اور پردوں سے گزر گئے ہیں۔ پس ان کی ولایت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ولایت ہے اور ان اولیاء کی ولایت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ولایت کاظل ہے۔&nbsp;</p>



<p>ابتدا میں فقیر یہ سمجھتا تھا کہ علمائے راسخین کومتشابهات کے ساتھ ایمان لانے کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہے اور ان تاویلوں کو جو علمائے صوفیہ نے بیان کی ہیں ، &nbsp;مُتشابہات &nbsp;کی شان کے لائق نہ سمجھتا تھا اور ان تاویلوں کو ان اسرار سے جو چھپانے کے قابل ہوں ، تصور نہ کرتا تھا جیسا کہ عین القضاة نے بعض متشابهات کی تاویل میں کہا ہے۔&nbsp;</p>



<p>مثلا الف، لام، میم سے اَلَم مراد لی ہے جس کے معنی درد کے ہیں جوعشق ومحبت کو لازم ہے وغیرہ وغیرہ۔ </p>



<p>آخرکار جب حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مشابہات کی تاویلات کا تھوڑا&nbsp;ساحال اس فقیر پر ظاہر کیا اور اس مسکین کی استعداد کی زمین میں اس دریائے محیط سے ایک چھوٹی سی نہر چلادی تو معلوم ہوا کےعلمائے راسخین کوهی متشابهات کی تاویلات کا بہت سا حصہ حاصل ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ</strong> (الله تعالیٰ کے لیے حمد ہے جس نے ہم کو ہدایت دی اور اگر وہ ہم کو ہدایت نہ دیتا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے، بیشک ہمارے اللہ تعالیٰ کے رسول حق کے ساتھ آئے ہیں)۔&nbsp;واقعات مذکورہ کی تعبیر جو آپ نے طلب فرمائی تھی۔ اس کوحضور اور ملاقات پر منحصر رکھا&nbsp;گیا ہے۔ اسی واسطے ان کی نسبت کچھ نہیں لکھا کہ کیا کیا جائے۔ قلم اور ہی معارف کی طرف جاری ہو گیا اور یہی معاملہ پیش آ گیا۔ امید ہے کہ معاف فرمائیں گے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَعَلىٰ سَائِرِ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ  واخوانہ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ العُلیٰ</strong> <strong> </strong> اور سلام ہو آپ پر اوران لوگوں پر جو ہدایت کے رستہ پر چلے اور جنہوں نے حضرت محمدﷺکی متابعت کو لازم پکڑا۔</p>



<p> <span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ331 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong></span> </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&amp;linkname=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25ad%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-276-%25d8%25af%2F&#038;title=%D8%A2%DB%8C%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%D8%AD%DA%A9%D9%85%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D8%AA%D8%B4%D8%A7%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20276%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a2%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d8%aa%d8%b4%d8%a7%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-276-%d8%af/" data-a2a-title="آیات محکمات اورمتشابہات مکتوب نمبر 276 دفتراول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a2%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d8%aa%d8%b4%d8%a7%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-276-%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علماء ظاہراورصوفیاء علیہ کے نصیب مکتوب نمبر13دفتر دوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Sep 2021 10:51:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے راسخین]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے صوفیہ]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظواہر]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=2584</guid>

					<description><![CDATA[&#160;اس بیان میں کہ علماء ظاہر کے نصیب کیا ہے اور صوفی علیہ کے حصہ میں کیا آیا ہے اور علمام راسخین جو انبیاء کے وارث ہیں، ان کے نصیب میں کیا ہے، مرزاشمس الدین کی طرف اس کے خط <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;اس بیان میں کہ علماء ظاہر کے نصیب کیا ہے اور صوفی علیہ کے حصہ میں کیا آیا ہے اور علمام راسخین جو انبیاء کے وارث ہیں، ان کے نصیب میں کیا ہے، مرزاشمس الدین کی طرف اس کے خط کے جواب میں لکھا ہے:</p>



<p>حمد و صلوة اورتبلیغ ودعوات کے بعد واضح ہو کہ آپ کا مبارک خط جواز روئے کرم صادر فرمایا تھا۔ برادر عزیز شیخ محمد طاہر نے پہنچایا اور خوش وقت کیا۔ آپ نے لکھا تھا کہ ملاقات کے حاصل ہونے تک ایسے مکتوبات کے ساتھ جونصیحتوں سے پرہوں، یادفرماتے رہیں۔ </p>



<p>میرے مخدوم مکرم <strong>النصيحةھي الدين ومتابعة سيد المرسلين عليه من الصلوات افضلها ومن التحيات أکملھا</strong> (یعنی  سب سے اعلی نصیحت یہی ہے کہ حضرت سید المرسلین کا دین اورمتابعت اختیار کریں</p>



<p> سید المرسلین کے دین اور متابعت سے علماءظاہر کا نصیب عقائد درست کرنے بعد شرائع و احکام کا علم اور اس کے موافق عمل ہے اور صوفیا علیا کا نصیب بمعداس چیز کے جو علماءرکھتے ہیں، احوال ومواجید اور علوم و معارف ہیں اور علماء راسخین کا نصیب جو انبیاء کے وارث ہیں، بمعہ اس چیز کے جو عالم رکھتے ہیں اوربمع اس چیز کے جس کے ساتھ صوفیہ ممتاز ہیں، وہ اسرار ودقائق ہیں جن کی نسبت متشابهات قرآنی میں رمزوواشارہ ہو چکا ہے اور تاویل کے طور پر درج ہو چکے ہیں۔ یہی لوگ متابعت میں کامل اور وراثت کے مستحق ہیں۔ یہ لوگ دراثت و تبعیت کے طور پر انبیا علیہم الصلوۃ والسلام کی خاص دولت میں شریک اور بارگاہ کے محرم ہیں۔ </p>



<p>اسی واسطے <strong>عُلَمَاءُ ‌أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ</strong> (میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے پیغمبروں کی طرح ہیں) کی شرافت کرامت سے مشرف ہوئے ہیں۔ پس آپ کو بھی لازم&nbsp;ہے کہ علم وعمل وحال و وجد کی رو سے حضرت سید المرسلین اور حبیب رب العالمین علیه وعلی جمیع الانبياء والمرسلين والملائکۃ المقربین واھل طاعتہ اجمعین&nbsp; کی متابعت بجالائیں تا کہ اس وراثت&nbsp;کے حامل ہونے کاذریعہ ہو جو نہایت اعلی درجہ کی سعادت ہے۔ <em>والسلام</em>۔&nbsp;</p>



<p>       <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ58 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</span></strong></a>        </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d8%25b9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b5%25db%258c%25d8%25a8-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D9%86%D8%B5%DB%8C%D8%A8%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B113%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/" data-a2a-title="علماء ظاہراورصوفیاء علیہ کے نصیب مکتوب نمبر13دفتر دوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d8%b9%d9%84%db%8c%db%81-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%b5%db%8c%d8%a8-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علماء راسخین و ظواہر اور صوفیہ  مکتوب نمبر18 دفتردوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/1234-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/1234-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 09 Aug 2021 12:01:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[آیات متشابہات]]></category>
		<category><![CDATA[آیات محکمات]]></category>
		<category><![CDATA[تربیت انعکاسی]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[طریقہ نقشبندیہ]]></category>
		<category><![CDATA[علم شریعت کی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[علم شریعت کی صورت]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے راسخین]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1234</guid>

					<description><![CDATA[اس بیان میں کہ علماء راسخین اور علماء ظواہر اور صوفیہ میں سے ہر ایک کا نصیب کیا کیا ہے۔ شیخ جمال ناگوری کی طرف اس کی التماس کے جواب میں صادر&#160;فرمایا ہے۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/1234-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[




<p>اس بیان میں کہ علماء راسخین اور علماء ظواہر اور صوفیہ میں سے ہر ایک کا نصیب کیا کیا ہے۔ شیخ جمال ناگوری کی طرف اس کی التماس کے جواب میں صادر&nbsp;فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p><a><strong>اَلْحَمْدُ</strong></a><strong> لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (</strong>الله تعالی کی حمد ہے اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو<strong> الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ (علماء ا</strong>نبیاء کے وارث ہیں) علماء عظام کی تعریف میں کافی&nbsp; ہے۔ علم وراثت علم شریعت ہے جو انبیا علیہم الصلوة والسلام سے باقی رہا ہے۔ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علم شریعت </span></strong>کی ایک <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">صورت </span></strong>ہے ایک <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">حقیقت &nbsp;</span></strong>صورت وہ ہے جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علماء ظاہر</span></strong> کے نصیب ہے جو کتاب وسنت کے <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">محکمات </span></strong>سے تعلق رکھتی ہے اور حقیقت یہ ہے جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علماء راسخین</span></strong> کے نصیب ہے جو کتاب وسنت کی متشابہات سے متعلق ہے۔محکمات اگر چہ کتاب کے امہات یعنی &nbsp;اصول ہیں لیکن ان کے نتائج و ثمرات متشابهات ہیں جو کتاب کا اصلی مقصد ہیں اور نتائج وثمرات کے حاصل ہونے کے لیے امہات وسیلہ ہیں۔ گویا کتاب کا مغز <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">متشابهات </span></strong>ہیں اور اس کا پوست(چھلکا) محکمات۔ وہ متشابهات ہی ہیں جو رمز و اشارہ کے ساتھ اصل کو ظاہر کرتی ہیں اور معاملہ کی حقیقت کا پتہ بتاتی ہیں ۔ علماء راسخین نے پوست کو مغز کے ساتھ جمع کیا ہے اور شریعت کی صورت وحقیقت کے مجموعہ کو پا لیا ہے۔ ان بزرگواروں نے شریعت کو ایک شخص تصور کیا ہے جس کا پوست صورت شریعت اور اس کا مغز حقیقت شریعت ہو۔ شرائع و احکام کے علم کو شریعت کی صورت اور حقائق واسرار کے علم کو شریعت کی حقیقت سمجھا ہے۔&nbsp;</p>



<p>بعض لوگوں نے شریعت کی صورت میں گرفتار ہو کر اس کی حقیقت سے انکار کیا ہے اورصرف ہدایہ اور بزدوی کوا پنا پیرمقتداسمجھا۔&nbsp;</p>



<p>بعض لوگ اگرچہ حقیقت کے گرفتار ہوئے لیکن چونکہ انہوں نے اس حقیقت کو شریعت کی حقیقت نہ جانا بلکہ شریعت کو صورت پر موقوف رکھا اور اس کو صرف پوست ہی خیال کیا اور مغز کو اس کے سوا کچھ اور تصور کیا۔ اس لیے اس حقیقت کی حقیقت سے سب واقف نہ ہوئے اورمتشابهات کا کچھ حصہ حاصل نہ کیا۔ پس علماء راسخین ہی درحقیقت وارث ہیں۔ اللہ تعالی ہم کو اور آپ کو ان کےمحبین اور تابعداروں میں سے بنائے۔&nbsp;</p>



<p>دیگر یہ عرض ہے کہ میاں شیخ نور محمد &nbsp;نے آپ کی طرف سے ظاہر کیا کہ آپ فرماتے تھے کہ ہم کو دوسرے سلسلوں کے مشائخ سے اجازت ہے۔ <strong>نقشبندیہ</strong> کی طرف سے بھی <strong>اجازت چاہتے ہیں۔&nbsp;</strong>میرے&nbsp;مخدوم مکرم <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">طریقہ عليا نقشبندیہ</span></strong> میں پیری ومریدی طریقہ کے سیکھنے اور سکھانے پر موقوف ہے۔ نہ کہ کلاه و شجرہ پر جیسے کہ دوسرے سلسلوں میں متعارف اور مشہور ہے۔ ان بزرگواروں کا طریق صحبت ہی صحبت ہے اور ان کی <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">تربیت انعکاسی</span></strong> ہے۔ اسی واسطے ان کی ابتداء میں دوسروں کی نہایت مندرج ہے اور سب راستوں سے زیادہ قریب راستہ یہی ہے۔ ان کی نظردلی امراض کو شفا بخشتی ہے اور ان کی توجہ باطنی بیماریوں کو دور کرتی ہے ۔&nbsp;</p>



<p>نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; کہ برند از رہ پنہان بحرم قافلہ را</p>



<p>&nbsp;ترجمہ: نقشبندی عجیب ہی قافلہ سالار ہیں جو قافلے کو خفیہ راستے سے حرم پہنچا دیتے ہیں&nbsp;۔</p>



<p>امید ہے کہ معذور ومعاف فرمائیں گے۔ع&nbsp;</p>



<p><strong>والعذر</strong><strong> </strong><strong>عنده</strong><strong> </strong><strong>كرام</strong><strong> </strong><strong>الناس</strong><strong> </strong><strong>مقبول</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: بزرگ لوگوں کے ہاں عذر  مقبول ہے ۔ والسلام </p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ67 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></span></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F1234-2%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AE%DB%8C%D9%86%20%D9%88%20%D8%B8%D9%88%D8%A7%DB%81%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%DB%81%20%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B118%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/1234-2/" data-a2a-title="علماء راسخین و ظواہر اور صوفیہ  مکتوب نمبر18 دفتردوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/1234-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آنحضرت ﷺ کی متابعت کے سات درجے مکتوب نمبر54دفتردوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b154/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b154/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Aug 2021 06:28:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر دوم نور الخلائق]]></category>
		<category><![CDATA[حروف مقطعات کے اسرار]]></category>
		<category><![CDATA[سات درجے]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے راسخین]]></category>
		<category><![CDATA[متابعت کے درجے]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=1131</guid>

					<description><![CDATA[&#160;اس بیان میں کہ آنحضرت ﷺ کی متابعت کے بہت سےمرتبے اور درجے ہیں۔ اور وہ سات درجے ہیں اور ہر ایک درجہ کی تفصیل میں سید شاہ محمد کی طرف صادر فرمایا ہے۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b154/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;اس بیان میں کہ آنحضرت ﷺ کی متابعت کے بہت سےمرتبے اور درجے ہیں۔ اور وہ <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong>سات درجے</strong></span> ہیں اور ہر ایک درجہ کی تفصیل میں سید شاہ محمد کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔</p>



<p>آنحضرت ﷺکی متابعت جو دینی اور دنیاوی سعادتوں کا سرمایہ ہے۔ کئی&nbsp;در جے اور مرتبے رکھتی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت پہلا درجہ</span></strong> عوام اہل اسلام کے لیے ہےیعنی تصدیق قلبی کے بعد اور اطمینان نفس سے پہلے جو درجہ ولایت سے وابستہ ہے، احکام شرعیہ کا بجا لانا اور سنت سنیہ کی متابعت ہے اور علماء ظاہر اور عابد زاہد جن کا معاملہ ابھی تک اطمینان نفس تک نہیں پہنچا۔ سب متابعت کے اس درجہ&nbsp;میں شریک ہیں اور اتباع کی صورت کے حاصل ہونے میں برابر ہیں۔ چونکہ اس مقام میں نفس ابھی کفروانکاری پر اڑا ہوا ہوتا ہے، اس لیے یہ درجہ متابعت کی صورت پرمخصوص ہے۔ متابعت کی &nbsp;یہ صورت متابعت کی حقیقت کی طرح آخرت کی نجات اور غلامی کا موجب ہے اور دوزخ کے عذاب سے بچانے والی اور جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دینے والی ہے۔ اللہ تعالی&nbsp;نے کمال کرم سے نفس کے انکار کا اعتبار نہ کر کے تصدیق قلبی پر کفایت فرمائی ہے اور نجات کو&nbsp;اس تقدیر پر وابستہ کیا ہے۔ بیت&nbsp;</p>



<p>مے توانی کہ دہی اشک مراحسن قبول اے که در ساختۂ قطره بارانی را</p>



<p>. ترجمہ &nbsp;وہ ذات جس نے بارش کے قطرے کو موتی بنایا&nbsp; میرے آنسوؤں کو بھی حسن قبولیت &nbsp;بخشے گا</p>



<p>&nbsp;<strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت کا دوسرا درجہ</span></strong>۔ آنحضرت ﷺکے اقوال و اعمال کا اتباع ہے جو باطن سے تعلق رکھتی ہے۔ مثلا تہذیب اخلاق اور بری صفتوں کا دور کرنا اور باطنی امراض اور&nbsp;اندرونی بیماریوں کا رفع کرنا وغیرہ جو مقام طریقت کے متعلق ہیں ۔ اتباع کا یہ درجہ ارباب سلوک کے ساتھ مخصوص ہے۔ جو طریقہ صوفیہ کوشیخ مقتدا سے اخذ کر کے سیرالی اللہ کی وادیوں اور جنگلوں کوقطع کرتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت کا تیسرا درجہ</span></strong> ۔ آ نحضرت ﷺکے ان احوال و اذواق ومواجید کی اتباع ہے۔ جو مقام ولایت خاصہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ درجہ ان ارباب ولایت کے ساتھ مخصوص ہے جو <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">مجذوب سالک</span> یا <span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">سالک مجذوب</span> ہیں۔ </strong>جب مرتبہ ولایت ختم ہو جاتا ہے اور طغیان وسرکشی سے ہٹ جاتا ہے تو اس وقت جو کچھ متابعت کرتا ہے۔ متابعت کی حقیقت ہوتی ہے۔ اگر نماز ادا کرتا ہے تو متابعت کی حقیقت بجالاتا ہے اور اگر روزہ ہے یا زکوۃ اس کا بھی یہی حال ہے۔ غرض تمام احکام شریعت کے بجالانے میں متابعت کی حقیقت حاصل ہوتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;سوال:- نمازوروزوں کی حقیقت کے کیا معنی ہیں۔ نماز و روزه افعال مخصوصہ ہیں۔ اگر یہ افعال فرمان کے بموجب ادا ہو جائیں تو حقیقت پائی جائے گی۔ پھر صورت وحقیقت کے کیا معنی؟</p>



<p>&nbsp;جواب:- مبتدی چونکہ نفس امارہ(برائی کی طرف بہت امر کرنے والا) (برائی کی طرف بہت امر کرنے والا) &nbsp;رکھتا ہے جو ذاتی طور پر آسمانی احکام کا منکر ہے۔ اس لیے احکام شرعی کا بجا لانا اس کے حق میں باعتبار صورت کے ہے اورمنتہی کانفس چونکه مطمئن ہو جاتا&nbsp;ہے اور رضا و رغبت سے احکام شرعی کو قبول کر لیتا ہے، اس سے احکام شرعی کا صادر ہونا باعتبار حقیقت کے ہے۔&nbsp;</p>



<p>مثل منافق و مسلم دونوں نماز کو ادا کرتے ہیں۔ منافق چونکہ باطن کا انکار رکھتا ہے، اس لیے نماز کی صورت بجا لاتا ہے اور مسلمان باطنی اتباع کے باعث نماز کی حقیقت سے آراستہ ہے۔ پس صورت و حقیقت باعتبار اقرار اور انکار باطن کے ہے۔&nbsp;</p>



<p>مذکورہ بالا درجہ یعنی کمالات ولایت خاصہ کے حاصل ہونے کے بعد (جو اتباع کا تیسرا مرتبہ ہے) نفس کے مطمئن ہونے اور اعمال صالحہ کی حقیقت کے بجالانے کا درجہ ہے ۔</p>



<p>&nbsp;<strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت کا چوتھادرجہ</span> ۔ </strong>پہلے درجہ<strong> </strong>میں اس متابعت کی صورت تھی اور یہاں اتباع کی حقیقت ہے۔ اتباع&nbsp;کا یہ چوتھا درجہ <strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color">علمائے راسخین</span></strong> شکر اللہ تعالی سعیھم کے ساتھ مخصوص ہے جو اطمینان نفس کے بعد متابعت کی حقیقت کی دولت سے متحقق ہیں۔ اگر چہ اولیاء اللہ کوبھی قلب کی تمکین کے بعد تھوڑا سا اطمینان نفس حاصل ہوتا ہے لیکن کمال اطمینان نفس کو کمالات نبوت کے حاصل کرنے میں ہوتا&nbsp; ہے۔ جن کمالات سے علماء راسخین کو وراثت کے طور پر حصہ حاصل ہوتا ہے۔ پس علماء راسخین نفس کے کمال اطمینان کے باعث شریعت کی حقیقت سے جو اتباع کی حقیقت ہے متحقق ہوتے ہیں اور دوسروں کو چونکہ یہ کمالات حاصل نہیں ہوتے ، اس لیےکبھی شریعت کی صورت سے اورکبھی اس کی حقیقت سے متحقق ہوتے ہیں ۔ علماء راسخیں کا میں ایک نشان بتاتا ہوں تا کہ کوئی ظاہر دان رسوخ کادعوی نہ کرے اور اپنے نفس امارہ(برائی کی طرف بہت امر کرنے والا) &nbsp;&nbsp;&nbsp;کو مطمئنہ خیال نہ کرے۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;راسخ العلم (مضبوط&nbsp; علم والےجن کو علم میں رسوخ ہو)وہ شخص ہے جس کو کتاب وسنت کی متشابہات کی تاویلات سے بہت سا حصہ حاصل ہو اور<span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><strong> حروف مقطعات کے اسرار</strong></span> کو جو قرآنی سورتوں کے اول ہیں، بخوبی جانتا ہو۔ متشابہات کی تاویل پوشیده اسرار میں سے ہے تو خیال نہ کرے کہ یہ تادیل بھی اسی طرح ہے جس طرح ید (ہاتھ)کی تاویل قدرت سے اور وجہ(چہرہ) کی تاویل ذات سے کرتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق علم&nbsp;ظاہر سے ہے۔ اسرار کے ساتھ اس کا کچھ واسطہ نہیں۔ ان اسرار کے مالک انبیاء علیہم الصلوة والسلام ہیں اور ان رموز و اشارات سے انہی بزرگوں کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے یا وہ لوگ جن&nbsp;کو وراثت و تبعیت کے طور پر اس د<em>و</em>لت سے مشرف فرمائیں۔&nbsp;</p>



<p>متابعت کا یہ درجہ جونفس کے اطمینان اور صاحب شریعت کی متابعت حقیقت تک پہنچنے پر موقوف ہے۔کبھی فنا اور سلوک و جذبہ کے وسیلہ کے بغیر حاصل ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ احوال و مواجید اور تجلیات وظہورات میں سے کچھ بھی درمیان نہیں آتا اور یہ دولت حاصل ہو جاتی ہے لیکن دوسرے راستے کی نسبت ولایت کے راستہ سے اس دولت تک پہنچنا آسان اور اقرب ہے اور وہ دوسرا راستہ اس فقیر کے خیال میں سنت سنیہ کی متابعت اور بدعت کے اسم و رسم( نام و نشان) سے اجتناب کرنا ہے۔ جب تک بدعت حسنہ سے بدعت سیئہ کی طرح پر ہیز نہ کریں تب تک اس دولت کی بُوروح کے دماغ میں نہیں پہنچتی۔ آج یہ بات مشکل معلوم ہوتی ہے کیونکہ تمام جہان در یائے بدعت میں غرق ہے اور بدعت کے اندھیرے میں پھنسا ہوا ہے۔ کس کی مجال ہے کہ بدعت کو دور کرنے کا دم مارے اور سنت کے زندہ کرنے کا دعوی کرے۔&nbsp;</p>



<p>اس زمانہ کے اکثر علماء بدعتوں کو رواج دیتے اور سنتوں کو محو کر تے ہیں ۔ شائع اور پھیلی&nbsp;ہوئی بدعتوں کو تعامل(بتکلف عمل بنا لینا) جان کر جواز بلکہ استحسان کا فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کی بدعت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر گمراہی شائع ہو جائے اور باطل متعارف و مشہور ہو&nbsp; جائے تو تعامل ہو جاتا ہے مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ تعامل احسان کی دلیل نہیں جوتعامل معتبر ہے وہوہ ہے جو صدر اول سے آیا ہے یا تمام لوگوں کے اجماع سے حاصل ہوا ہے جیسے کے فتاوی غیاثیہ میں مذکور ہے۔&nbsp;</p>



<p>شیخ السلام شہید رحمته الله فرماتے ہیں کہ ہم بلخ کے مشائخ کے استحسان پرفتوی نہیں دیتے&nbsp;بلکہ ہم اپنے متقدمین اصحاب کے استحسان کے موافق فتوی دیتے ہیں کیونکہ ایک شہر کا تعامل جواز پر دلالت نہیں کرتا بلکہ وہ تعامل جواز پر دلالت کرتا ہے جو صدر اول سے استمرار ( مسلسل)کے طور پر ہوتا چلا آیا ہے تا کہ نبی ﷺکی تقریر(حدیث) پر دلیل ہو اور لوگوں کا فعل حجت نہیں ہو سکتا۔ ہاں جب تمام شہروں میں بہت لوگوں سے بطریق اجماع ثابت ہو تو اس وقت جائز ہوگا کیونکہ اجماع حجت ہے ۔ کیا نہیں جانتے کہ اگر وہ شراب کی بیع اور سود پر تعامل کریں تو اس&nbsp;کے حلال ہونے کا فتوی نہ دیا جائے گا اور اس بات میں کچھ شک نہیں کہ تمام مخلوقات کے تعامل&nbsp;اور تمام شہروں اور قصبوں کے عمل کا علم انسان کی طاقت سے خارج ہے۔&nbsp;</p>



<p>باقی رہا تعامل صدر اول کا جو درحقیقت رسول اللہ ﷺکی تقریر (برقرار)ہے اور سنت سنیہ کی طرف راجع ہے۔ اس میں بدعت کہاں اور بدعت حسنہ کجا۔ اصحاب کرام کے لیے تمام کمالات کے حاصل ہونے میں حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کافی تھی اور علماء سلف میں&nbsp;سے جو لوگ اس رسوخ کی دولت سے مشرف ہوئے ہیں، بغیر اس بات کے کہ طریقہ صوفیا کو اختیار کریں اور سلوک و جذبہ سے مسافت کو قطع کریں۔ وہ لوگ سنت سنیہ کی متابعت اور بدعت نا مرضیہ سے پورے طور پر دیکھنے کی بدولت اس رسوخ فی العلم کی دولت سے سرفراز ہوئے ہیں۔ اللهم ثبتنا على متابعة السنة وجنبنا عن ارتكاب ا<strong>لبدعة</strong><strong> </strong><strong>بحرمة</strong><strong> </strong><strong>صاحب السنۃ </strong><strong>&nbsp;</strong><strong>عليه</strong><strong> </strong><strong>وعلى</strong><strong> </strong><strong>اله</strong><strong> </strong><strong>الصلوة والسلام</strong><strong> </strong><strong>(</strong>ياللہ تو صاحب السنت ﷺکے طفیل ہم کو سنت کی متابعت پر ثابت رکھے اور بدعت کے بجالانے سے بچا)</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت کا پانچواں درجہ</span></strong> آنحضر ت ﷺ کے ان کمالات کا اتباع ہے جن کے حاصل ہونے میں علم و عمل کا دخل نہیں بلکہ ان کا حاصل ہونا الله تعالی کے فضل و کرم پر موقوف ہے۔ یہ درجہ نہایت ہی بلند ہے۔ اس درجہ کے مقابلہ میں پہلے درجوں کی کچھ حقیقت نہیں۔ یہ کمالات اصل میں اوالعزم پیغمبروں کے ساتھ مخصوص اور دوسروں کو تبعیت و&nbsp; وراثت کے طور پر &nbsp;حاصل ہیں&nbsp; جس کو چاہیں اس دولت سے مشرف فرمائیں۔&nbsp;</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت کا چھٹا درجہ</span></strong> آنحضرت ﷺکے ان کمالات کا اتباع ہے جو آنحضرت ﷺکے مقام محبو بیت کے ساتھ مخصوص ہیں جس طرح پانچویں درجہ میں کمالات کا فیضان محض فضل و احسان پر تھا، اس چھٹے درجے میں ان کمالات کا فیضان محض محبت پر موقوف ہے جوتفضل و احسان سے برتر ہے۔ متابعت کا یہ درجہ بھی بہت کم لوگوں کو <strong>نصیب</strong> ہوتا ہے۔ پہلے درجہ کے سوا متابعت کے یہ پانچ درجے مقامات عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالی کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) &nbsp;کے ساتھ تعلق&nbsp;کئے ہیں۔ ان کا حاصل ہونا صعود پر وابستہ ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-green-cyan-color">متابعت کا ساتواں درجہ</span></strong> وہ ہے جو نزول و ہبوط سے تعلق رکھتا ہے۔متابعت کا یہ ساتواں درجہ پہلے تمام درجات کا جامع ہے کیونکہ اس مقام نزول میں تصدیق قلبی بھی ہے۔تمکین قلبی&nbsp; بھی ہے اورنفس کا اطمینان بھی اور اجزاء قالب کا اعتدال بھی جوطغیان وسرکشی سے باز آ گئے ہوتے ہیں۔ پہلے درجے گویا اس متابعت کے اجزاء ہیں اور یہ درجہ ان اجزاء کا کل ہے۔ اس مقام میں تابع اپنے متبوع کے ساتھ اس قسم کی مشابہت پیدا کر لیتا ہے کہ تبعیت کا نام ہی درمیان سے اٹھ جاتا ہے اورتابع دمتبوع کی تمیز دور ہو جاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویاتابع متبوع کی&nbsp;طرح جو کچھ لیتا ہے، اصل سے لیتا ہے۔ گویا دونوں ایک چشمہ سے پانی پیتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کی طرح ہم آغوش و ہمکنار اور ایک بستر پر ہیں اور شیر شکر کی طرح ہیں ۔ معلوم&nbsp;نہیں ہوتا کہ تابع کون ہے اور متبوع کون اور تبعیت کسی کے لیے ہے۔ نسبت کے اتحاد میں تغائیر کی نسبت کچھ گنجائش نہیں۔&nbsp;</p>



<p>عجب معاملہ ہے اس مقام میں جہاں تک غور کی نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ تبعیت کی نسبت کچھ نظرنہیں آتی اور تابعیت و متبوعیت کا امتیاز ہرگز مشہود نہیں ہوتا۔ البتہ اس قدرفرق ہے کہ اپنے آپ کو اپنے نبی ﷺ کاطفیلی اور وارث جانتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ تابع اور ہوتا ہے اورطفیلی و وارث اور اگر چہ تبعیت کی قطار میں سب برابر ہیں لیکن جس میں بظاہرمتبوع کا پردہ درکار ہے اورطفیلی و وارث میں کوئی پردہ درکارنہیں۔تابع &nbsp;پس خورده کھانے والا ہے اور طفیلی ضمنی ہم نشین غرض جو دولت آئی ہے، انبیاء علیہم الصلوة والسلام کے واسطے سے آئی ہے اور یہ امتوں کی سعادت ہے کہ انبیاء علیہم الصلوة والسلام کے طفیل اس&nbsp;</p>



<p>دولت سے حصہ پاتے ہیں اور ان کا پس خورده تناول کرتے ہیں۔ بیت&nbsp;</p>



<p>در قافلہ کہ اوست دانم نرسم</p>



<p>ایں بس کہ رسد زدو ربانگ جرسم</p>



<p>ترجمہ &nbsp;&nbsp;جس قافلہ میں یار ہے &nbsp;اس تک &nbsp;میں جا نہیں سکتا میں</p>



<p>&nbsp;بس دور سے قافلے کی گھنٹیوں کی آواز سنتا ہوں&nbsp;</p>



<p>کامل تابعدار وہ شخص ہے جو متابعت کے ان ساتوں درجوں سے آراستہ ہو اور وہ شخص جس میں متابعت کے بعض درجے ہیں اور بعض نہیں۔ درجوں کے اختلاف کے بموجب مجمل طور پر تابع ہے۔ علماء ظاہر پہلے درجہ پرہی خوش ہیں۔ کاش یہ لوگ درجہ اول&nbsp;کوہی سرانجام کر لیں۔ انہوں نے متابعت کو صورت شریعت پر موقوف رکھا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور امرخیال نہیں کرتے اور طریقہ صوفیاء کو جو درجات متابعت کے حاصل ہونے کا <strong>واسطہ</strong><strong> </strong><strong>ہے۔</strong><strong> </strong>بیکار تصور کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر علماء ہدایہ اور بزدوی(فقہ حنفی کی کتابیں) کے سوا کسی اور امر کو اپنا پیر ومقتدا نہیں جانتے۔ بیت&nbsp;</p>



<p>چوآں کرمے کہ درسنگ نہاں است زمیں و آسمان اوہماں است</p>



<p><strong>ترجمہ: </strong>وہ <em>کیڑ</em>ا جو <em>کہ </em>پتھر میں چھپا ہے &nbsp;اس کا زمیں و آسمان وہی پتھر ہے&nbsp;۔</p>



<p><strong>حققنا الله سبحانه وإياكم بحقيقة المتابعة المرضیۃ المصطفويه على صاحبها الصلوة والسلام والبركة والتجية وعلى جميع إخوته من الأنبياء الكرام والملئكة العظام وجميع اتباعهم إلى يوم القيام. (</strong>الله تعالی ہم کو اور آپ کو <strong>حضرت محمد مصطفے</strong> ﷺکی پسندیدہ متابعت کی حقیقت سے واقف کرے۔ رسول الله ﷺاور ان کے بھائی تمام پیغمبروں اور فرشتوں اور تمام تابعداروں پر قیامت تک الله تعالی کی طرف سے صلوۃ والسلام و برکت و تحفے نازل ہوں۔&nbsp;</p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ191 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></span></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b154%2F&#038;title=%D8%A2%D9%86%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%EF%B7%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%85%D8%AA%D8%A7%D8%A8%D8%B9%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B3%D8%A7%D8%AA%20%D8%AF%D8%B1%D8%AC%DB%92%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B154%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%AF%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b154/" data-a2a-title="آنحضرت ﷺ کی متابعت کے سات درجے مکتوب نمبر54دفتردوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b154/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
