<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طیب &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/author/abuavzld/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 02 Jul 2024 09:41:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>طیب &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>حقیقت بندگی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 03:19:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[باطنی دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[تقویٰ کی کان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=825</guid>

					<description><![CDATA[حقیقت بندگی نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِےْمِ اَمَّا بَعْدُ :فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرّحَیْمِ قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن (یوسف108) (اے حبیب مکرّم!) فرما <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>حقیقت بندگی</h1>
<p>نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِےْمِ اَمَّا بَعْدُ :فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ</p>



<p>بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرّحَیْمِ</p>



<p>قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْٓ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْن (یوسف108)</p>



<p>(اے حبیب مکرّم!) فرما دیجئے: یہی میری راہ ہے، میں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اﷲ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں</p>



<p> رسول اﷲ کا اس آیت میں یہ فرمانا میں جس راہ پر گامزن ہوں اور اس کی طرف دوسروں کو بلاتا ہوں تو سوچ سمجھ کر اور علی وجہ البصیرت چل رہا ہوں اور میرے پیرو کار بھی ایسے ہی ہیں۔ میں دلائل سے اور تجربہ سے ثابت کرسکتا ہوں کہ اس راہ پہ چلنے والے ہی حقیقی کامیابی پہ رہنے والے ہیں</p>



<p>قرآن و حدیث میں اﷲ اور اس کے رسول کی احکامات وفرامیں ایسے ہیں جس کا انکار کرنے والا کفر کی وادیوں میں بھٹکنے والا ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگوں کی باطنی دنیا اور تسلیم ورضا کا جذبے نے ایک ایسے علم کے ذریعے تقویت پکڑی جسے روحانی دنیا کے جاننے والوں کے علاوہ کوئی اور سمجھ سکتا ہے نہ انہیں حقیقی بندگی میسر آتی ہے کبھی خیال کیا کہ کس طرح ایک ہلکی سی نگاہ سے صحابہ کرام کے دل کی دنیاتبدیل ہو جاتی آپ ﷺکے دست اقدس کی جنبش سے اورصرف دیکھنے سے کتنی بڑی تبدیلیاں ہوتیں</p>



<p>سنن ابن ماجہ میں ہے</p>



<p> ، حضرت عبداﷲ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ مدینہ تشریف لائے کہا گیا کہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں تو لوگوں میں میں بھی آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ جب میں آپ کے چہرہ انور کو دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں (یعنی آپ دعوی نبوت میں سچے ہیں) تو آپ نے پہلی بات یہ فرمائی جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھو تم سلامتی سے جنت میں داخل ہو جاؤ گے ۔</p>



<p> باطنی دولت کو رسول اﷲ انے خود ہی آشکار کیا التقویٰ ھھنایشیر الی صدرہ ثلاث مرات تقویٰ یہاں ہے تین مرتبہ آپ انے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا(صحیح مسلم :کتاب البر واصلۃ)دوسری حدیث میں ہے</p>



<p>لکل شیء معدن ومعدن التقوی قلوب العارفین(معجم الطبرانی )ہر شے کی ایک کان ہوتی ہے اور تقویٰ کی کان اولیاء و عرفاء کے دل ہوتے ہیں۔</p>



<p>کسی کا قول ہے صدور الابرار قبور الاسرارنیک لوگوں کے سینے رازوں کی قبریں ہوتی ہیں۔</p>



<p>ان احادیث کے ساتھ اس حدیث کو ملائیں تو بات ذہن کے بند دریچے کھولتی ہے</p>



<p>وقال ابو ہریرۃ ما فضلکم ابوبکربکثرۃصیام ولاصلوۃولکن بسر وقر فی صدرہ(احیاء العلوم الدین امام غزالی ،میزان العمل امام غزالی )</p>



<p>حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کوتم پر روزوں اور نمازوں کی کثرت کی وجہ سے فضیلت نہیں ملی لیکن اس بھید اور علم کی وجہ سے عطا ہوئی جو اس کے سینے میں ہے ۔</p>



<p>بہر حال دست اقدس سے باطنی دولت میسر آنے کے ضمن میں ایک مثال حضرت یعقوب علی نبینا وعلیہ السلام کی ہے</p>



<p>حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنھماقرآن مجید کے اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں۔</p>



<p>لو لا ان رأی برھان ربہ (یوسف :24)رسول اﷲ نے فرمایا</p>



<p>مثل لہ یعقوب فضرب صدرہ فخرجت شہوتہ من أناملہ (مستدرک حاکم کتاب التفسیر تفسیر سورۃ یوسف)</p>



<p>حضرت یوسف علیہ السلام کیلئے یعقوب علیہ السلام کی تمثیل سامنے آئی جنہوں نے ان کے سینے پہ ہاتھ ماراتو ان کی شہوت انگلیوں سے باہر نکل گئی۔</p>



<p>حضرت یوسف علیہ السلام بھی نبی تھے جنہیں عقائد اہلسنت کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے گناہوں سے پاک رکھنا تھا رب العلمین چاہتا یہ خیال بھی نہ پیدا ہوتالیکن دنیا کو یہ بتانا مقصود ہے کہ کسی خاص عمل سے ارادے تبدیل ہوتے ہیں اور انہیں تبدیل کرنے والی کوئی کامل ہستی ہونا بھی ضروری ہے ۔</p>



<p>عن علی قال بعثنی رسول اﷲ ﷺ الی الیمن فقلت یا رسول اﷲ تبعثنی وانا شاب اقضی بینھم ولا ادری ماالقضاء قال فضرب بیدہ فی صدری ثم قال اللھم اھد قلبہ وثبت لسانہ قال فما شککت بعد فی قضاء بین اثنین(ابن ماجہ ابواب الاحکام)</p>



<p> حضرت علی ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺنے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول ا ﷲ اآپ مجھے جوانی کے عالم میں بھیج رہے ہیں ان کے فیصلے کیسے کرونگا مجھے معلوم نہیں کیونکر فیصلہ کرتے ہیں یہ سن کر آپ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پہ مارا پھر فرمایااے اﷲ اس کے دل کو ہدایت دے اوراسکی زبان کو مضبوط بنا حضرت علیص فرماتے ہیں اس دعا کے بعد مجھے دو آدمیوں میں فیصلہ کرنے میں کبھی دشواری پیش نہ آئی ۔</p>



<p>حضرت عثمان بن ابی العاص فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲﷺنے طائف کا عامل بناکر بھیجا مجھے نماز کی رکعتیں یاد نہ رہتیں میں رسول اﷲ ﷺکی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا تو فرمایا</p>



<p>ذاک الشیطان ادنہ فدنوت منہ فجلست علی صدور قدمی قال فضرب صدری بیدہ وتفل فی فمی وقال اخرج عدو اﷲ ففعل ذالک ثلث مرات</p>



<p>یہ شیطان کا کام ہے میرے نزدیک آ میں نزدیک گیا تو میں آپ اکے پاؤں کی انگلیوں پر بیٹھ گیا آپ ا نے میرے سینے پہ ہاتھ مارا اور میرے منہ میں تھوک مبارک ڈال دیا اور ساتھ ہی فرمایا نکل جا اے اﷲ کے دشمن تین بار آپ انے ایسے ہی کیاپھر اپنے کام پہ جانے کا حُکم دیا حضرت عثمان قسم کھا کر کہتے ہیں مجھے نہیں یاد کہ اس کے بعد کبھی شیطان نے بھلایا ہو۔( سنن ابن ماجہ :کتاب الطب باب الفزع والارق )</p>



<p>اگر یہی کام آج کاملین کے ذریعے سے ہو تو اس پر اعتراض کی کوئی وجہ تو نہیں ہونا چاہیئے یہ بھی تو سنت ہے اور ساتھ اثرات بھی موجود ہوں ہزاروں لوگ ان صحابی کی طرح تبدیل ہو رہے ہوں ۔</p>



<p>شیبہ بن عثمان غزوہ حنین میں اپنے باپ اور چچا کا بدلہ لینے کیلئے ظاہراً مسلمان ہو کر شریک ہوئے جب رسول اﷲاکو قتل کرنے کے ارادے سے اتنا قریب ہو گئے کہ تلوار کا وار کرسکتے ایک آگ کا شعلہ نمودا ہوا یہ الٹے بھاگنے لگے تو رسول اﷲ ا نے بلایاسینے پہ ہاتھ مارا اس کی برکت سے انکے سینے سے شیطان نکل گیاخود فرماتے ہیں جب میں نے نگاہ اٹھا کر چہرہ اقدس کو دیکھا تو آپ مجھے اپنی آنکھوں او رکانوں سے بھی بہت محبوب دکھائی دینے لگے (الوفا باحوال المصطفٰے مصنف ابن جوزیؒ )دست مصطفٰے نے بغض کو محبت میں تبدیل فرما دیا</p>



<p>مصعب بن شیبہ اپنے والد کی بات ان کی زبان سے بیان کرتے ہیں ۔</p>



<p>میں آپ ﷺکے ساتھ کھڑا تھا میں نے عرض کی میں ابلق گھوڑے دیکھ رہا ہوں رسول اﷲا نے فرمایا</p>



<p>انہ لا یراھا الا کافرفضرب بیدہ علی صدری ثم قال اللھم اھد شیبۃ ثم ضربھا الثانیۃاللھم اھد شیبۃثم ضربھا الثالثۃاللھم اھد شیبۃفواﷲ ما رفع یدہ من صدری من الثالثۃ حتی ما کان احد من خلق اﷲّّأحب الی منہ (معجم الکبیرللطبرانی باب الشین: دلائل النبوۃللبیہقی باب رمی النبیﷺ )</p>



<p>اے شیبہ ان گھوڑوں کو تو صرف کافر دیکھتے ہیں پھر آپﷺانے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پہ مارا اوردعاکی اے اﷲ شیبہ کو ہدایت عطا فرما ،دوسری مرتبہ ہاتھ مارا اور دعا کی اے اﷲ شیبہ کو ہدایت عطا فرما ، تیسری مرتبہ ہاتھ مارا اوردعا کی اے اﷲ شیبہ کو ہدایت عطا فرما تو خدا کی قسم تیسری مرتبہ آپ ﷺکا ہاتھ میرے سینے سے اٹھنے کی دیر تھی کہ مخلوق میں مجھے کوئی بھی رسول اﷲﷺ سے زیادہ محبوب نہ تھا۔</p>



<p>یہ دل سے اسلام کو نہ قبول کرنے کی وجہ سے کفرونفاق تھا جو آپ اکا سینے پر ہاتھ مارنے سے سارا کفر اور نفاق دور ہو گیا ۔</p>



<p>عن عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما ان رسول اﷲ ﷺ ضرب صدر عمر بن الخطاب بیدہ حین اسلم ثلاث مرات وھزشو یقول اللھم اخرج ما صدرہ من غل وأبدلہ ایمانا(مستدرک حاکم کتاب معرفۃ الصحابۃمناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب۔معجم الکبیرللطبرانی)</p>



<p> حضرت عبد اﷲ ابن عمررضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اﷲا نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے سینے پرتین مرتبہ ہاتھ مارا جب وہ مسلمان ہوئے اور ساتھ دعافرما رہے تھے اے اﷲ ان کے دل سے کینہ دور فرمااور اسے ایمان سے بدل دے ۔</p>



<p> حضرت ابی بن کعب صسے رسول اﷲا نے پوچھاکتاب اﷲ کونسی آیت تیرے خیال میں سب بڑی ہے پہلی دفعہ ادب کے طور پر اﷲ ورسولہ اعلم کہا دوسری دفعہ عرض کیا آیت الکرسی</p>



<p>فضرب صدری وقال لیھن لک یا ابا المنذر العلم (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب ماجا ء فی آیۃ الکرسی)</p>



<p>توآپ ا نے میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا اے ابو المنذرتجھے علم مبارک ہو</p>



<p> تو ماننا پڑے گا یہ فیض کی تقسیم کا وہ ذریعہ تھا جسے الفاظ کا جامہ پہنایا نہیں جا سکتا اور عقل و شعور سے ما وراء کوئی شے تھی جس سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہو تیں قبولیت کا وہ تیر بہدف جو کبھی بھی ناکام نہ ہوا دعا سے بھی زیادہ کارگرہتھیاراسکو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا</p>



<p>حضرت عثمان بن ابی العاصص فرماتے ہیں مجھے رسول اﷲا نے قوم کی امامت کا حکم دیا</p>



<p>قلت یا رسول اﷲ انی اجد وسواسا فضرب بیدہ علی صدری فلم احس بہ بعد</p>



<p>میں نے عرض کی یا رسول اﷲا مجھے کچھ وسواس سا رہتا ہے تو آپ ا نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اس کے بعد کبھی مجھے وسواس نہ ہوا (معجم الاوسط للطبرانی باب الاف)</p>



<p> حضرت عبد اﷲ ابن عباس رضی اﷲ عنھما ایک مرتبہ نبی کریم اکو وضو کروا رہے تھے آپ نے سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے یہ دعا دی ۔</p>



<p>اللھم فقہہ فی الدین وعلمہ التأویل اے اﷲ اسے دین کی سمجھ اور تفسیر کا علم عطا فرما(معجم الاوسط للطبرانی باب الاف)</p>



<p>حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے کہ میرے دل میں رسول اﷲ ﷺکی ایسی تکذیب پیدا ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں نہیں تھی ۔</p>



<p>فلما رأی رسول اﷲ ماقد غشینی ضرب فی صدری ففضت عرقاوکانما انظر الی اﷲتعالی فرقا(صحیح مسلم کتاب فضائل القران)</p>



<p>جب رسول اﷲ نے میری اس حالت کو دیکھا زور سے میرے سینے پر ہاتھ مارا(نسائی کے الفاظ میں یہ دعا کی اے اﷲ اس سے شیطان کو دور کر دے )آپ کا ہاتھ مارنا تھا کہ میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور خوف الٰہی کی مجھ پہ ایسی کیفیت پید اہوئی گویامیں اﷲکی بارگاہ میں حاضر ہوں۔</p>



<p>حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن میں قاضی بنا کر بھیجتے وقت فرمایااگر کوئی معاملہ تیرے سامنے پیش ہو تو کیسے فیصلہ کروگے تو عرض کی اﷲ کی کتاب سے فرمایا اگر اس میں نہ ملے تو ؟ عرض کی رسول اﷲﷺ کی سنت سے فرمایا اگر اس میں بھی نہ پاؤ تو؟عرض کی اپنی رائے سے فیصلہ کرونگا۔</p>



<p>فضرب صدرہ ثم قال ’’الحمد ﷲ الذی وفق رسول رسول اﷲلما یرضی رسول اﷲ ‘‘(سنن الدارمی کتاب المقدمہ باب الفتیاء وما فیہ من الشدۃ )</p>



<p>تو رسول اﷲا نے ان کے سینے پہ ہاتھ مارا اور فرمایا ’’سب تعریفیں اس ذات کیلئے ہیں جس نے رسول اﷲﷺ کے بھیجے ہوئے ہوئے کو رسول اﷲا کے موافق کیا جس نے اﷲ کے رسول خوش کر دیا۔</p>



<p>رسول اﷲاﷺاپنے چچاحضرت عباس رضی اللہ عنہکے پاس تشریف لے گئے جب وہ بیمار تھے اس مرض کی تکلیف کیوجہ سے موت کی تمنا کر رہے تھے ۔</p>



<p>فضرب رسول اﷲ بیدہ علی صدرالعباس ثم قال ’’لا تتمنی الموت یا عم رسول اﷲفانک ان تبق تزداد خیر</p>



<p> (مسند ابی یعلی حدیث ام الفضل بنت حارث باب لا تتمنی الموت )</p>



<p>رسول اﷲﷺ اپنے چچاحضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سینے پہ ہاتھ مارا اور فرمایا ’’اے اﷲ کے رسول کے چچا موت کی تمنا نہ کرو اگر آپ زندہ رہے تو آپ کی بھلائیوں میں اضافہ ہو گا ۔</p>



<p>اما م محمد شرف الدین بوصیریؒ قصیدہ بردہ میں فرماتے ہیں ۔</p>



<p>وَلَا الْتَمَسْتُ غِنَی الدَّارَیْنِ مِنْ یَدِہٖ</p>



<p>اِلَّا اسْتَلَمْتُ النَّدٰی مِنْ خَیْرِ مُسْتَلَمٖ</p>



<p>آپکے دست اقدس سے جب کبھی کسی نے دنیا و دین سے کچھ بھی طلب کیا یہ دست کرم اتنا بھلائی والاہے کہ مانگنے والوں کو ہر سرفرازی عطا کر دیتا ہے۔</p>



<p>کَمْ اَبْرَاَتْ وَصِبًّا بِاللَّمْسِ رَاحَتُہٗ</p>



<p>وَاَطْلَقَتْ اَرِبًا مِّنْ رِبْقَۃِ اللَّمَمٖ</p>



<p> آپ کے دست مبارک کے چھونے سے کامل شفا مل جاتی ہے اور بہت سے دماغی بیماروں نے جنوں سے رہائی حاصل کی ۔</p>



<p> انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مجھے بنی المصطلق نے خدمت حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں بھیجاکہ میں حضور سے دریافت کروں حضور کے بعد ہم اپنے اموال زکوٰۃ کس کے پاس بھیجیں، فرمایا ابو بکر کے پاس۔ عرض کی اگر انہیں کوئی حادثہ پیش آجائے تو کسے دیں؟فرمایاعمر کو۔عرض کی جب ان کا بھی واقعہ ہو۔ فرمایا عثمان کو۔رواہ عنہ فی المستدرک</p>



<p>یہ وہی راستہ ہے جو تسلسل و تواتر سے آج تک چلا آرہا ہے اور حقیقی بندگی بھی انہی کو ملی جنہوں نے اس راستے کو اپنایا اور اس پر قائم رہتے ہوئے یہ زندی بسر کی</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a8%25d9%2586%25d8%25af%25da%25af%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b7%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2582%25db%2581%2F&#038;title=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D8%A8%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81/" data-a2a-title="حقیقت بندگی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d8%a8%d9%86%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b7%d8%b1%db%8c%d9%82%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>احسان</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 02:50:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=823</guid>

					<description><![CDATA[ان تعبداﷲ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک &#160;لفظِ احسان کا مادہ ’’حسن‘‘ ہے جس کے معنی ’’عمدہ و خوبصورت ہونا‘‘ کے ہیں۔ امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>ان تعبداﷲ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک</p>



<p>&nbsp;لفظِ احسان کا مادہ ’’حسن‘‘ ہے جس کے معنی ’’عمدہ و خوبصورت ہونا‘‘ کے ہیں۔ امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا حسین ہونا ہے جو ہر لحاظ سے پسندیدہ اور عمدہ ہو اور اس کا عمدہ ہونا عقل کے پیمانے پر بھی پورا اترتا ہو، قلبی رغبت اور چاہت کے اعتبار سے بھی دل کو بھلا لگتا ہو اور تیسرا یہ کہ حسی طور پر یعنی دیکھنے سننے اور پرکھنے کے اعتبار سے پر کشش ہو۔</p>



<p>&nbsp;راغب اصفحانی ، مفردات القرآن : 119 ۔اسی سے باب افعال کا مصدر ’’احسان‘‘ ہے۔ گویا احسان ایسا عمل ہے جس میں حسن و جمال کی ایسی شان موجود ہو کہ ظاہر و باطن میں حسن ہی حسن ہو اور اس میں کسی قسم کی کراہت اور ناپسندیدگی کا امکان تک نہ ہو۔ پس عمل کی اسی نہایت عمدہ اور خوبصورت ترین حالت کا نام ’’احسان‘‘ ہے اور اس کا دوسرا قرآنی نام ’’تزکیہ‘‘ ہے اور اس کے حصول کا طریقہ اور علم تصوف و سلوک کہلاتا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :</p>



<p>ثْمَّ اتَّقَو ا وَّ اٰمَنَو اثمّ اتّقوا واحسنو۔واﷲ یحب المحسنین</p>



<p>’’پھر پرہیز کرتے رہے اور ایمان لائے پھر صاحبان تقویٰ ہوئے (بالآخر) صاحبان احسان (یعنی اﷲ کے خاص محبوب و مقرب و نیکو کار بندے) بن گئے اور اﷲ احسان والوں سے محبت فرماتا ہے۔‘‘ (المائد 5 : 93)</p>



<p>امام بخاری اور امام مسلم کی روایت کردہ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ ایک روز جبریل امین علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں انسانی شکل میں حاضر ہوئے اور امت کی تعلیم کے لیے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’(ایمان یہ ہے کہ) تو اﷲ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے (نازل کردہ) صحیفوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت پر ایمان لائے اور ہر خیر و شر کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مقدر مانے۔‘‘ انہوں نے پھر پوچھا اسلام کیا ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’(اسلام یہ ہے کہ) تو اس بات کی گواہی دے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں، (اور یہ کہ) تو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے، اور تو ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو اس کے گھر کا حج کرے۔‘‘</p>



<p>اس کے بعد جبریل امین علیہ السلام نے تیسرا سوال احسان کے بارے میں کیا تو حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>



<p>’’احسان یہ ہے کہ تو اﷲ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کیفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘ (بخاری ، مسلم ، ترمذی)</p>



<p>حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق احسان عبادت کی اس حالت کا نام ہے جس میں بندے کو دیدار الٰہی کی کیفیت نصیب ہوجائے یا کم از کم اس کے دل میں یہ احساس ہی جاگزین ہو جائے کہ اس کا رب اسے دیکھ رہا ہے۔</p>



<p>امام نووی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں بندہ اپنی عبادت کو پورے کمال کے ساتھ انجام دے گا اور اس کے ظاہری ارکان آداب کی بجا آوری اور باطنی خضوع و خشوع میں کسی چیز کی کمی نہیں کرے گا۔ الغرض عبادت کی اس اعلیٰ درجے کی حالت اور ایمان کی اس اعلیٰ کیفیت کو ’’احسان‘‘ کہتے ہیں۔ نووی، شرح صحیح شرح مسلم، 1 : 27، کتاب الاایمان، باب سوال جبریل النبی صلی اﷲ ﷺ عن الایمان و السلام و الاحسان</p>



<p>&nbsp;مذکورہ بالا حدیث جبریل میں دین کی تین بنیادی ضروریات کا بیان ملتا ہے جن میں پہلی ضرورت ایمان ہے۔ ایمان کی تعریف میں حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جو امور بیان فرمائے ہیں ان کا تعلق بنیادی طور پر عقائد و نظریات سے ہے اور عقائد سے تعلق رکھنے والے علم کو اصطلاحی طور پر علم العقائد کہتے ہیں۔</p>



<p>اسلام کی تعریف میں حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جو پانچ ارکان بتلائے ہیں ان سب کا تعلق ظاہری اعمال اور عبادات سے ہے۔ اس علم کو شریعت کی اصطلاح میں علم الاحکام یا علم الفقہ کہتے ہیں۔</p>



<p>حدیث مبارکہ کی رو سے دین کی تیسری ضرورت احسان ہے اور انسان کو یہ درجہ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں۔ گویا اس نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا زبان سے اقرار اور دل سے جو تصدیق کی، اس کا عملی اظہار اور پھر اپنے اعمال اور ظاہری عبادات کو حسن نیت اور حسن اخلاص کے اس کمال سے آراستہ کیا کہ اس کے اعمال اور عبادات اس کی تصدیق بالقلب کا آئینہ دار بن گئے۔ اس مرحلہ پر انسان درجہ احسان پر فائز ہو جاتاہے اور اسے باطنی و روحانی کیفیات نصیب ہو جاتی ہیں۔ پس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ احسان کا موضوع باطنی اور روحانی کیفیات کے حصول سے متعلق ہے۔</p>



<p>&nbsp;ایمان، اسلام اور احسان تینوں باہم مربوط اور لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان وہ بنیاد ہے جس پر مسلمان کا عقیدہ استوار ہوتا ہے اور اسلام سے مسلمان کا ظاہر اور اس کا عمل درست ہوتا ہے جبکہ احسان سے مسلمان کا باطن اور حال سنورتا ہے۔</p>



<p>امام مسلم رحمتہ اﷲ علیہ نے اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے اسلام کا ذکر پہلے کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی کے ذریعے دین کے دائرے میں داخل ہونا اسلام ہے اور اسلام کو دل میں بسالینے کا نام ایمان ہے۔ احسان کے ذریعے ایمان اور اسلام دونوں کے اثرات قلب و باطن پر وارد ہوتے ہیں۔ جب مسلمان کا ظاہر و باطن یکساں ہو جاتا ہے اور ظاہر و باطن میں کامل یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے تو اس سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے اور نور سے اس کا باطن چمکنے لگتا ہے یعنی جب ایمان اور اسلام قلب کی حالت اور باطن کا نور بن جاتے ہیں تو دل کی دنیا روحانی ک?فیات میں بدل جاتی ہے۔</p>



<p>درحقیقت ایمان، اسلام اور احسان یہ سب ایک ہی سرچشمے اور ایک ہی مرکز سے تعلق رکھتے ہیں یہ تینوں ایک دوسرے کی بقاء ، ترقی اور نشوونما کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور اگر ان میں سے ایک بھی نظر انداز ہو جائے تو دوسرے کا وجود بگاڑ کا شکار ہو کر کمال سے محروم ہو جاتا ہے گویا ان میں سے ہر ایک دوسرے کے بغیر ادھورا ہے۔ چنانچہ ایمان کے بغیر اسلام ناتمام ہے اور اسلام کے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے جبکہ احسان کے بغیر ایمان اور اسلام دونوں ناقص رہ جاتے ہیں۔</p>



<p>دوسرے لفظوں میں کوئی شخص اسلام کی محض ظاہری تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ایک مسلمان تو ہو سکتا ہے لیکن وہ مومن بن کر ہی درجہ کمال کو پاسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک طرف ایمان کے تقاضے پامال نہ ہونے پائیں، دوسری طرف اسلام کے بنیادی اصولوں پر بھی عمل میں سستی اور کوتاہی واقع نہ ہونے پائے۔ ضروری ہے کہ باطن اور حال کو سنوارنے کے لئے ایمان اور اسلام کی دونوں قوتوں کے ساتھ روحانی کمال کی منزلِ احسان کو حاصل کیا جائے۔ حدیث جبریل میں ہمیں احسان کی کیفیت کے اعتبار سے دو حالتوں کا بیان ملتا ہے، پہلی حالت کو حالتِ مشاہدہ کہتے ہیں دوسری کو حالتِ مراقبہ کہتے ہیں۔حالت مشاہدہ ان تعبداﷲ کانک تراہ ’’ تو اﷲ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘</p>



<p>یہ کیفیت حالتِ مشاہدہ کہلاتی ہے۔ جب بندہ محبوب حقیقی کی یاد کو پورے دھیان کے ساتھ ہر وقت اپنے دل میں بسائے رکھے اور اسی کے تصور اور مشاہدہ کے سمندر میں غوطہ زن رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی حضوری میں رکھے۔ جب دل کے تمام گوشے محبوب کی یاد اور تصور سے معمور ہو جائیں اور نس نس میں وہی سما جائے تو اس کے نتیجے میں وہ ظاہری دنیا میں جو کچھ دیکھے گا سب بے خیالی اور بے دھیانی کی نذر ہو جائے گا جب استغراق کی یہ حالت نصیب ہو جائے تو قلب و ذہن پر پڑے ہوئے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ مقام حاصل ہو جاتا ہے جس میں بندہ ااﷲ تعالیٰ کے حسن اور تجلیات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے۔</p>



<p>حالت مراقبہ فا ن لم تکن تراہ فانہ یراک ’’پس اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔‘‘</p>



<p>کیفیت و حالت کے اعتبار سے یہ احسان کا دوسرا درجہ ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ غلام اپنے آقا کے احکام کی تعمیل اس وقت کرتا ہے جب کہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اور اسے یقین ہو کہ وہ مجھے اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔ مالک کی غیر موجودگی میں اس کے کام کا وہ حال نہیں ہوتا جو وہ مالک کے سامنے دھیان اور لگن کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اگر وہ خود نہ بھی دیکھے مگر اس کے اندر یہ احساس جاگزیں ہو جائے کہ اس کا آقا اسے دیکھ رہا ہے، تو یہ احساس اس کے کام میں حسن اور لگن پیدا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ بندگی میں یہ مقام حالتِ مراقبہ کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر وقت بندے کے دل و دماغ پر یہ کیفیت طاری رہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے۔ میری ہر حرکت و سکون اس کے سامنے ہے یوں بندہ ہمہ وقت اپنے مولا کی نگرانی کے تصور سے بہت زیادہ ڈرتا رہے۔ اس حالت و کیفیت کو مراقبہ کہتے ہیں اور یہ احسان کا دوسرا مرتبہ ہے۔</p>



<p>حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اﷲ علیہ بیان فرماتے ہیں : ’’احسان کے پہلے مرتبہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کے دل پر معرفت الٰہیہ کا اس قدر غلبہ ہو اور وہ مشاہدہ حق میں اس طرح کھو جائے گویا اﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے، یہ مقام فنا کی طرف اشارہ ہے۔ اور دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ معرفت الٰہیہ کے اس مقام پر تو اگرچہ نہ ہو لیکن اس کے ذہن میں ہر وقت یہ بات موجود رہے کہ اﷲ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔‘‘</p>



<p>ابن حجر عسقلانی رحمۃ اﷲ علیہ، فتح الباری، 1 : 120</p>



<p>ملا علی قاری رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ احسان کا پہلا مرتبہ عارف کے احوال اور اس کے قلب پر ہونے والی واردات کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی سالک پر ایسا حال طاری ہو جائے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ احسان کے دوسرے مرتبہ میں عابد کی اس کیفیت کی طرف اشارہ ہے یعنی جس وقت وہ عبادت کرے تو اس علم اور یقین کے ساتھ کرے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات اسے دیکھ رہی ہے۔ ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 601</p>



<p>جب بندے کے اندر اس طرح کا یقین پیدا ہو جائے تو اس کاکا گناہ کرنا تو درکنار اس کی سوچیں بھی پاکیزہ ہو جاتیں ہین وہ کسی کے بارے میں بدگمانی سے بھی بچتا ہے ۔</p>



<p>اور اسی حالت میں کامل بندگی اور اطاعت نصیب ہو جاتی ہے ۔اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے برگزیدہ بندوں کے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%2F&#038;title=%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D9%86" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/" data-a2a-title="احسان"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مومن کی فراست</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 02:43:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[ادراک باطن]]></category>
		<category><![CDATA[الہامی علم]]></category>
		<category><![CDATA[دلوں کے بھیدی]]></category>
		<category><![CDATA[فِراست صادقہ]]></category>
		<category><![CDATA[قلبی آنکھ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=820</guid>

					<description><![CDATA[عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرَیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِاﷲِثُمَّ قَرَأَ اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَاٰےَاتٍ لِّلْمُتُوَسِّمِیْنَ (سنن الترمذی:کتاب تفسیر القرآن ومن سورۃ الحجر) حضرت ابو سعید الخدری ص روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ انے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرَیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِاﷲِثُمَّ قَرَأَ اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَاٰےَاتٍ لِّلْمُتُوَسِّمِیْنَ (سنن الترمذی:کتاب تفسیر القرآن ومن سورۃ الحجر)</p>



<p>حضرت ابو سعید الخدری ص روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ انے فرمایامومن کی فِراست سے ڈراکرو کیونکہ وہ اﷲتعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے اور پھر آپ انے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی’’بے شک اس میں نشانیاں غور فکر کرنے والوں کیلئے‘‘</p>



<p>                ’’متوسمین‘‘ کے کئی معنی ہیں بعض نے غور فکر اور بعض نے ’’المتفرسین‘‘نور فِراست رکھنے والے مراد لیا ہے ،علامہ سیوطیؒ نے اس آیت کو فِراست کی بنیاد کہا ہے ۔ فِراست یہ ہے کہ کوئی بات اﷲتعالیٰ اپنے اولیاء کے دلوں میں ڈال دیتا ہے جس سے انہیں دوسروں کے احوال کی خبر ہوجاتی ہے اسے کرامت کہتے ہیں اسے صوفیاء الہام سے تعبیرکرتے ہیں گویا ایک قلبی نور ہے جو فِراست پیدا کرتا ہے۔اسکی ضد’’ العمی‘‘ اندھا پن ہے <strong>فِراست صادقہ</strong> سچ اور جھوٹ، حق اور باطل کے درمیان فرق اورپہچان کرنے کی صلاحیت ہے ۔اس کا حصول تگ ودو یا جدو جہد سے نہیں یہ تو عطا ہے ۔ ذالک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء۔</p>



<p>                تاج العروس میں فِراست کا معنی علامہ زبیدی ؒنے’’ <strong>ادراک الباطن</strong>‘‘ لکھا ہے باطنی احوال کی خبر رکھنا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; معجم لغۃ الفقہاء میں محمد قلعجی لکھتے ہیں’’ ما یقع فی القلب‘‘جو قلب میں واقع ہو۔</p>



<p>                علامہ علاء الدین المتقی الہندیؒ لکھتے ہیں’’الفراسۃالشرعیۃبمعنی الخوارق،والحکمۃ بمعنی الاستدلال بالشئی علی الشئی وفیہ علامات محبۃاﷲ تعالٰی للعبد‘‘(کنز العمال)</p>



<p>&nbsp;شرعی فراست(جو شریعت کی حدود کے اندر ہو ) خوارق (عام عادت کے خلاف )کے معنی میں ہے اور حکمت ایک شے سے دوسری شے کے استدلال کے معنی میں ہو تی ہے فراست میں اﷲ تعالیٰ کی بندے سے محبت کی علامات بھی ہو تی ہیں ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;اسکی وضاحت اس عبارت سے بھی ہوتی ہے ’’الفراسۃالمھارۃفی تعرف بواطن الامور من ظواھرھا‘‘</p>



<p>&nbsp;ظاہری امور سے باطنی امور کی معرفت میں مہارت کو فراست کہا جاتا ہے ۔ (دیوان امام الشافعی)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;امام قشیریؒ فرماتے ہیں’’الفراسۃ مکاشفۃ الیقین،ومعائنۃ الغیب وھو من مقامات الایمان‘‘(الرسالۃ القشیریۃ)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; فراست ایمان کے مقامات میں سے ایک مقام ہے جس سے یقین کا کشف اور غیب کو دیکھنا ہوتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; علامہ الشعرانی ’’الطبقات الکبریٰ‘‘میں فِراست کے متعلق لکھتے ہیں ’’اﷲ تعالیٰ اسباب کو کھول دیتے ہیں ،حجاب اٹھا لئے جاتے ہیں اوراﷲ باطنی طریقوں سے اطلاع فرماتے ہیں ‘‘</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قال احمد بن عاصم الانطاکی’’اذا جلستم اھل الصدق فجالسوھم بالصدق فانھم جواسیس القلوب یدخلون فی قلوبکم ویخرجون منھا من حیث لا تحسون‘‘(الرسالۃ القشیریۃ،بحر الفوائد)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;حضرت احمد بن عاصم الانطاکی ؒ فرماتے ہیں ’’جب تم اہل صدق میں بیٹھو تو صدق سے بیٹھا کرو کیونکہ وہ دلوں کے جاسوس ہوتے ہیں جو تمہارے دلوں میں داخل ہو کر وہاں سے وہ کچھ نکال لیتے ہیں جنہیں تم محسوس بھی نہیں کر سکتے ‘‘</p>



<p>اسی بارے میں مولانا روم رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں</p>



<p>چوں زند او نقد ما را بر محک پس یقین رابا ز داند او زشک</p>



<p>جب وہ ہمارے نقد کو کسوٹی پر رگڑتا ہے تو وہ یقین کو شک سے جدا کر لیتا ہے</p>



<p>چوں شود جانش مِحَکِّ نقد ہا پس بہ بیند نقد را او قُلب را</p>



<p>جب اس کی جان نقدوں کی کسوٹی بن جاتی ہے تو وہ کھرے اور کھوٹے کو سمجھ جاتا</p>



<p>من ترک النظر المحرم عوضہ اﷲ فراسۃ صادقۃ ،ونورا وجلاء،ولذۃیجدھا فی قلبہ(دروس رمضان از الشیخ محمد ابراہیم)</p>



<p>جو کوئی اﷲ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑتا ہے اور محبت رکھنے والی چیزوں محبت کرتا ہے تو اسے اﷲ تعالیٰ فِراست صادقہ عطا فرماتا ہے یہ ایک نور اور روشنی ہے اورایک لذت ہے جو قلب کو محسوس ہوتی ہے ۔</p>



<p>اور جس ہستی کو یہ روشنی ملتی ہے وہ لوگوں میں ممتاز ہو جاتا ہے کیونکہ وہ غیب کی خبریں دیتے ہیں اور باطنی حکمتوں کو کھولتے ہیں جیسے حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ نے یا ساریۃ الجبل کہا تھا (القرطبی)</p>



<p>حضرت شاہ الکرمانی ؒفِراست کے حصول اور اسباب کے متعلق فرماتے ہیں :۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ’’جس شخص کی ظاہری عمر اتباع سنت میں گذرے،باطن ہمیشہ مراقبہ میں ہو ،حرام کردہ چیزوں سے آنکھ کو محفوظ رکھے،شہوات سے اپنے نفس کو روکے رکھے اور حلال غذا کھائے اسے اس کی فِراست کبھی خطا نہ کرائیگی من ترک ﷲ شیئا عوضہ اﷲ تعالیٰ خیرا منہ جو اﷲ کیلئے کسی چیز کو چھوڑتا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے بہتر عوض دیتا ہے ۔جب اس نے ظاہری آنکھ کو بچایا اس کا عوض باطنی آنکھ کا کھلنانور بصیرت کا حاصل ہونا ہے ‘‘(سلوۃ الاخزان)</p>



<p>                 صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی زندگیاں ایسے اعمال کا پتہ دیتی ہیں کہ یہ نور وافر طریقے سے انہیں میسر تھا مثلاً:۔</p>



<p>                ایک دفعہ حضرت انس  رضی اللہ عنہ حضرت عثمان    رضی اللہ عنہ  کی خدمت میں اس حالت میں حاضر ہوئے کہ راستہ میں کسی عورت پر نظر پڑ گئی تھی حضرت عثمان   رضی اللہ عنہ نے دیکھتے ہی فرمایاید خل احدکم علیّ وفی عینیہ اثرالزنی (بعض لوگ میرے پاس آتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں زنا کا اثر ہوتا ہے)حضرت انس   رضی اللہ عنہ  بول اٹھے اوحیا بعد رسول ا ﷲﷺ (کیا رسول اﷲا کے بعد پھر وحی اترنا شروع ہوگئی ہے) تو جواب میں حضرت عثمان   رضی اللہ عنہ نے فرمایا لاولکن برھان وفراسۃ وصدق( نہیں لیکن یہ تو دلیل و فِراست اور صداقت کا نتیجہ ہے )(القرطبی)</p>



<p>مولانا روم رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں</p>



<p>مومن ار ینظر بنور اﷲ نبود عیب مومن را برہنہ چوں نمود</p>



<p>اگر مومن ینظر بنوراﷲنہیں تھا تو اس نے مومن کا عیب صاف طور پر کیسے بتا دیا</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اور جب ہم اولیاء اﷲ کی زندگیاں دیکھتے ہیں تو ان میں بھی اﷲ کا نور اسی طرح روشنیاں بکھیرتا نظر آتا ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ایک عیسائی نوجوان مسلمانوں جیسی شکل و صورت بناکر حضرت جنید بغدادیؒ کے پاس آیا اورپوچھا</p>



<p>’’اے ابو القاسم اس قول رسول ا کے کیا معنی ہیں (اسی حدیث مبارکہ اتقوا فرسۃ المؤمن کوپڑھا) تو آپ نے سر کو اوپر اٹھا کرفرمایا کہ(اسلم فقد آن لک ان تسلم) اسلام لے آاب تیرا وقت اسلام لانے کا آ چکاہے ۔وہ مسلمان ہو گیا (البدایہ والنھایہ)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس کا ذکر رسول اﷲ ا نے فرمایا کہ تم سے پہلی امتوں میں ایسی فِراست والے تھے جنہیں ’’محدَّث‘‘کہا جاتا اور فرمایا</p>



<p>(فانہ ان کان فی امتی ھذہ فھو عمر بن الخطاب)اگر میری امت سے کوئی بھی ہوا تو وہ عمر بن الخطاب   رضی اللہ عنہ  ہو گا ۔</p>



<p>علامہ اسماعیل حقی ؒفرماتے ہیں یہ محدّث ہونے کی نفی نہیں بلکہ حضرت عمر فاروق ص کی فضلیت ہے۔</p>



<p>امام المتفرسین ،وشیخ المتوسمین حضرت عمر بن الخطاب ص کو کہا جاتا ہے جنکی فِراست نے کبھی خطا نہ کی اور جنکی فِراست کی تائید وحی الٰہی کے ذریعے ہوئی۔</p>



<p>حضرت عبد اﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالیٰ عنھما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں سو رہا تھا خواب میں مجھے ایک دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اچھی طرح پی لیا حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن الخطاب   رضی اللہ عنہ کو دے دیا صحابہ   رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اﷲﷺ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟آپﷺ نے فرمایا علم (صحیح بخاری: کتاب العلم :باب فضل العلم)</p>



<p>علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں’’وکان عمر بن الخطاب اعظم الناس فراسۃ‘‘(فتاویٰ الکبریٰ) حضرت عمر بن الخطاب   رضی اللہ عنہ  فراست میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے۔</p>



<p>امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ حضرت خضرؑ کو علم فِراست حضرت موسیٰ ؑکی صحبت کی وجہ سے نصیب تھا جو برہان کیلئے عطا ہوتا ہے تو حبیب کی امت کو یہ علم حقیقی صحبت مصطفی ﷺسے کیوں نہ نصیب ہو گا۔</p>



<p>حضرت یوسف علیہ السلام کو علم تعبیر عطا ہوا جو علم فِراست اور ا<strong>لہامی علوم</strong> کا حصہ ہے یہ بھی اﷲ تعالیٰ کی عطا ہے ۔</p>



<p>امام قشیریؒ فرماتے ہیں المؤمن ینظر بنور الفراسۃ،والعارف ینظر بعین التحقیق،والنبیﷺ ینظر باﷲولا تستتر علیہ شیئا(روح البیان)</p>



<p>مومن نور فراست سے دیکھتا ہے اور عارف تحقیق کی آنکھ سے دیکھتا ہے نبی اﷲ سے دیکھتا ہے اوراس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں رہتی ۔</p>



<p>اﷲ تعالیٰ بعض علم غیب سے ولی کو بھی نوازتا ہے جو رؤیائے صادقہ ،فِراست یا تجلی قلب کے ذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ ہر ولی کی کرامت نبی کے معجزے کا پرتو ہوتا ہے</p>



<p>اور حضرت جنیلؒ سے سوال کیا گیا کہ فِراست کیا ہے تو جواب دیا :۔</p>



<p>’’آیات ربانیۃتظہر فی اسرار العارفین فتنطق ألسنتھم بذالک فتصادف الحق‘‘(روح المعانی)</p>



<p>&nbsp;عارفوں کے اسرار کو ظاہر کرنے والی اﷲ کی نشانیاں جس سے ان کی زبانیں اس طرح باتیں کرتی ہیں کہ حق سے دور نہیں ہوتیں ۔</p>



<p>قرآن پاک میں ہے :۔</p>



<p>واتینہ الحکم صبیا(مریم:12)’’ اور ہم نے انہیں دانائی عطا کی جبکہ وہ ابھی بچے تھے‘‘ حضرت یحیٰؑ تین سال کے تھے کہ انہیں فہم و حکمت عطا ہوگئی اس حکمت کو نبوت عطا ہونے سے پہلے فِراست صادقہ سے تعبیر کیا گیا اسے ابو نعیمؒ نے یوں بیان کیا ورواہ ابو نعیم وتنطق بتوفیق اﷲ(ابن کثیر)کہ وہ اﷲ کی توفیق سے بولتے تھے۔</p>



<p>&nbsp;حضرت عبد اﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ تین لوگوں نے بہترین فِراست دکھائی</p>



<p>ایک عزیز مصر نے جب حضرت یوسف ؑکو حاصل کیا اورکہا عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا(یوسف:21)</p>



<p>دوسری حضرت شعیبؑ کی بیٹی نے جب اس نے اپنے باپ کو حضرت موسیؑ کے متعلق کہا استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین(القصص:26)</p>



<p>اور تیسری حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب انہوں نے حضرت عمر  رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ بنایا (القرطبی)</p>



<p>مومنین کیلئے فِراست مخصوص ہے یہ وہ ہدایت ہے جو اﷲ تعالیٰ مومن کے حال کے مطابق عطا کرتا ہے۔گویا ایک <strong>قلبی آنکھ</strong> ہے جو صاحب فِراست کو ملتی ہے</p>



<p>وقال ابو عثمان الفراسۃ ظن وافق الصواب والظن یخطی ویصیب لانہ اذا ذاک یحکم بنوراﷲلا بنفسہ</p>



<p>حضرت ابو عثمان ؒفرماتے ہیں ’’کہ فِراست بھی ایک گمان ہے جو صحیح سے موافقت کئے ہے ظن صحیح اور خطا ہو سکتا ہے فِراست خطا نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ اﷲ تعالیٰ کے نور سے ہے نہ کہ نفس سے ‘‘(طبقات الصوفیہ)</p>



<p>                اﷲ والوں کو اﷲ کی طرف سے یہ عطا ہوتی ہے کہ وہ <strong>دلوں کے بھیدوں</strong> سے آگاہ ہوتے ہیں لہذا ان سے بات چیت کرتے ہوئے دلوں کے آداب کی انتہائی ضرورت ہو تی ہے ان کے سامنے بیٹھ کر اس نور کے تصدق سے اپنے دلوں کے اندھیرے کو دور کرنا اہل ایمان کا شیوہ رہا ہے اور جو لوگ اس دل کے اندھیرے کو دور کرنے کے اہل تو نہیں ہوتے لیکن دعویٰ کرتے ہیں اﷲ کے نور سے نہیں اﷲ کی نار (آگ)سے دیکھتے ہیں ان کی ظاہر ی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کے اعمال اور کردار میں اﷲ اور اس کے رسول ا کی نافرمانی جھلک رہی ہوتی ہے ۔</p>



<p>چونکہ تو ینظر بنار اﷲبُدی نیکوئی را ندیدی از بدی</p>



<p>چونکہ تو ینظر بنار اﷲ تھا اس لئے نیکی کو بدی سے نہ پہچان سکا</p>



<p>اﷲتعالیٰ اپنے فِراست والے بندوں کا ادب کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d9%2588%25d9%2585%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25aa%2F&#038;title=%D9%85%D9%88%D9%85%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa/" data-a2a-title="مومن کی فراست"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d9%88%d9%85%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سلام وسیلۂ محبت</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%82-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%82-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 02:21:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[سلام کا آغاز]]></category>
		<category><![CDATA[سلام کا مفہوم]]></category>
		<category><![CDATA[سلام کی ممانعت]]></category>
		<category><![CDATA[سلام کے آداب واحکام]]></category>
		<category><![CDATA[سلام کے فوائد وثمرات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=817</guid>

					<description><![CDATA[سلام وسیلۂ محبت عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّی تَحَابُّوا. أَوَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْء ٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَیْنَکُمْ ( صحیح مسلم :کتاب الایمان) حضرت <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%82-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>سلام وسیلۂ محبت</h1>
<p>عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّی تَحَابُّوا.</p>



<p>أَوَلاَ أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْء ٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَیْنَکُمْ ( صحیح مسلم :کتاب الایمان)</p>



<p>حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک کہ ایمان نہیں لاؤ گے اور پورے مومن نہیں بنو گے جب تک کہ آپس میں محبت نہیں کروگے کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جب تم اس پر عمل کروگے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے وہ یہ ہے کہ آپس میں ہر ایک آدمی کو سلام کیا کرو۔ (تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے)</p>



<p>                آقائے دوجہاں حامی بے کساں ﷺ کے اس فرمان سے ظاہر ہوا کہ دخول جنت کے لئے سب سے پہلی شرط ایمان ہے اور قلب و جاں میں ایمان کی پختگی کے لئے اہل ایمان کی باہمی محبت ضرور ی ہے۔اور اس باہمی محبت کے حصول کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کثرت سلام کو اختیار کرو تمہیں باہمی محبت نصیب جائے گی ۔حدیث کے مفہوم کو منطقی طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتاہے۔</p>



<p>اولاً:         دخول جنت ایمان پر منحصر ہے۔</p>



<p>ثانیاً:    ایمان باہمی محبت کے بغیر ممکن نہیں۔</p>



<p>ثالثاً:    باہمی محبت کثرت سلام کا نتیجہ ہے۔</p>



<p>                ان مقدمات کا حاصل یہ ہے کہ ’’سلام کی اشاعت و کثرت حصولِ جنت کا سبب ہے‘‘اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سلام کا مفہوم والفاظ کیا ہیں۔اس کا آغاز کب ہوااور قرآن و حدیث میں اس کی اہمیت کیا ہے۔اور سلام کے فوائد و ثمرات کیا ہیں۔اور اس کے آداب اور احکام کیا ہیں۔</p>



<h2>سلام کا مفہوم </h2>



<p>                سلام کے لغوی معنی امن و سلامتی،عافیت و مصالحت اور خیر و بھلائی کے ہیں دوسرے الفاظ میں نقائص و عیوب سے برات و نجات پانا۔سلام اﷲ تعالی کا ایک اسم پاک ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو ہر عیب و آفت اور تغیر و فنا سے پاک اور محفوظ ہے۔</p>



<p>                اسلامی اصطلاح میں سلام سے مراد وہ دعائیہ کلمات اور خیر سگالی کے جذبات ہیں جو مسلمان عند الملاقات ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں۔جس کے شرعی الفاظ یہ ہیں۔</p>



<p>اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم:              تم پر سلامتی ہو۔(اگر اجر کی زیادتی مطلوب ہوتو وَرَحْمَۃُ اللّٗہِ وَبَرَکَاتُہٗ کے کلمات کو بڑھا دے۔</p>



<p>دوسرا مسلمان بھائی بھی اس کو دہراتے ہوئے جواب دیتا ہے۔</p>



<p>وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ :             اور تم پر سلامت ہو۔ (پورا جواب اس طرح واپس لوٹائے۔ (وَرَحْمَۃُ اللّٗہِ وَبَرَکَاتُہ وَمَغْفِرَتُہٗ)</p>



<p>                سلام اسلامی تہذیب و معاشرت کا ایک خاص رکن ہے اس کے لیے جو الفاظ مقرر کیے گئے وہ السلام علیکم ہے اس کے معنی ہیں کہ اﷲ تعالی تیرے حال سے واقف ہے لہذا غفلت اختیار نہ کر، یایہ کہ اﷲ تعالی کے اسم پاک کا تجھ پر سایہ رہے یعنی اﷲ کی حفاظت و نگہبانی میں ر ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ اﷲ معک۔ یعنی اﷲ تیرے ساتھ رہے اکثر علماء کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ تجھ پر سلامتی ہو یعنی تو مجھ سے سلامتی میں ہے اور مجھ کو بھی اپنے سے سلامتی میں شریک رکھ۔ اس صورت میں سلام سلم سے مشتق ہوگا جس کے معنی مصالحت کے ہیں اور اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ تو مجھ سے حفظ و امان میں رہ اور مجھ کو بھی حفظ و امان میں رکھ۔ سلام کرنے کا طریقہ اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ میں مشروع ہوا تھا اور اس کا مقصد ایک ایسی علامت کو رائج کرنا تھا جس کے ذریعہ مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز کیا جا سکے تاکہ ایک مسلمان، دوسرے مسلمان سے تعرض نہ کرے گویا اس کلمہ کو اپنی زبان سے ادا کرنے والا اس بات کا اعلان کرتا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور پھر یہ طریقہ مستقل طور پر مشروع قرار پایا۔</p>



<p>عالمگیر تحفۂ انسانیت:</p>



<p>                مسلمان باہمی ملاقات سے ایک دوسرے کو امن و سلامتی اور عافیت و سلامتی کا تحفۂ انسانیت دیتے ہیں۔آج کل کی فرنگی تہذیب میں گڈ مارننگ،گڈ ایوننگ اور گڈ نائٹ کے کلمات رائج ہیں۔ظاہر ہے یہ کلمات محدود وقت کے ساتھ مخصوص اور جامعیت اور وسعت سے عاری ہیں۔اگر صبح خیریت سے گزری تو ضروری نہیں کہ شام خیریت سے گزرے اور اگر شام خیریت سے گزری تو ضروری نہیں کہ رات بھی خیریت سے گزرے۔ان کلمات کی بجائے اسلام نے بوقت ملاقات ہمیں’’ السلام علیکم‘‘ کہنے کی تلقین کی جن میں بڑی جامعیت اور وسعت ہے۔گویا آپ یہ ا لفاظ زبان پر لا کر ہر گھڑی مخاطب کے ایمان،مال،جان،صحت اور عزت و آبرو کی سلامتی کی خاطر اپنی دلی تمنا کا اظہار کرتے ہیں۔نیز یہ دعائیہ کلمات وقت ،زمانہ اور ماحول کی قید سے آزاد ہیں۔اس اسلام نے آداب ملاقات کی بنیاد سادہ اور آفاقی کلمات نیز خیر سگالی کے بہترین جذبات پر رکھی ہے۔جو اسلامی تہذیب و ثقافت کا منفرد امتیاز ہے۔</p>



<h2>سلام کا آغاز </h2>



<p>                سلام کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہوا۔حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب اﷲ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور ان میں روح پھونکی تو سب سے پہلے انہیں چھینک آئی ۔انہوں نے اﷲ کی توفیق سے الحمد اﷲ کہا پھر انہیں حکم ہوا کہ سامنے بیٹھے ہوئے فرشتوں کی جماعت کو سلام کہو۔حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں جا کر سلام کہاتو فرشتوں نے جواباً وَعَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٗہِ کہااس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایاکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا طریقہ ٔ سلام ہے۔ علاوہ ازیں تمام انبیاء علیہم السلام کایہی شعار رہاہے۔حتی کہ خاتم الانبیاء محمد مصطفی ﷺ نے بھی جاہلیت کے دیگر طریقوں کو ختم کر کے اسلام کا یہی طریقہ رائج کیا جو قیامت تک دینِ اسلام کا امتیازی شعار ہے۔</p>



<p>                ورحمۃ اﷲ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا اس کے ذریعہ سلام کے جواب کے سلسلے میں ایک تہذیب و شائستگی اور ادب فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا چنانچہ افضل طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام وحمۃ اﷲ وبرکاتہ کہا جائے اسی طرح اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کہا جائے ایک روایت میں ورحمۃ اﷲ کے بعد ومغفرۃ کا لفظ بھی منقول ہے ۔</p>



<p>                یہ بات کہ فرشتوں نے حضرت آدم کے سلام کے جواب میں وعلیک کے بجائے السلام علیک کیوں کہا تو ہو سکتا ہے کہ ملائکہ نے بھی یہ چاہا ہوگا کہ سلام کرنے میں وہ خود ابتداء کریں ،جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب دو آدمی ملتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سلام میں ابتداء کرنا چاہتا ہے تو دونوں ہی ایک دوسرے سے السلام علیک یا السلام علیک یاالسلام علیکم کہتے ہیں لیکن یہ بات واضح رہے کہ جواب کے درست و صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جواب سلام کے بعد واقع ہو نہ کہ دونوں ایک ساتھ واقع ہوں کہ اگر دو شخص ملیں اور دونوں ایک ہی ساتھ السلام علیکم کہیں تو دونوں میں سے ہر ایک پر جواب دینا واجب ہوگا۔</p>



<h2>قرآن وحدیث میں سلام کی اہمیت </h2>



<p>قرآن مجید نے سلام کے لئے سورۂ یسین میں یہی کلمات استعمال کئے ہیں۔</p>



<p>سَلٰمٌقَوْلااًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(۸۵)</p>



<p>’’سلام بولنا پروردگار کی طرف سے ہے۔‘‘</p>



<p>                ترمذی شریف کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں ،جن کا پورا کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے وہ حقوق مندرجہ ذیل ہیں۔</p>



<p>۱۔بیمار کی عیادت اور بیمار پرسی کرنا۔                       ۲۔مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا۔     ۳۔مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا۔</p>



<p>۴۔ملاقات کے وقت سلام کہنا۔                         ۵۔چھینک کا جواب دینا۔                             ۶۔ہر حال میں اس کی خیر خواہی اور بھلائی چاہنا۔</p>



<p> ان حقوق میں سے سلام بھی ایک اہم حق ہے جو عند الملاقات ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان بھائی پر پورا ضروری ہے۔</p>



<p>                سلام کا تعلق شناسائی کے حقوق سے نہیں ہے بلکہ یہ ان حقوق میں سے ہے جو اسلام نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے تئیں عائد کیے ہیں اس طرح مریض کی عیادت اور اس جیسے دوسرے امور بھی اسلامی حقوق و واجبات سے تعلق رکھتے ہیں ۔</p>



<p>                امام نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کچھ لوگوں سے ملے اور یہ چاہے کہ ان سب کو سلام کرنے کے بجائے ان میں سے چند کو سلام کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ سلام کا اصل مقصد آپس میں موانست و الفت کو فروغ دینا ہے جب کہ بعض دوسرے مخصوص لوگوں کو سلام کرنا گویا باقی لوگوں کو وحشت و اجنبیت میں مبتلا کرنا ہے اور یہ چیز اکثر اوقات نفرت و عداوت کا بھی سبب بن جاتی ہے۔لیکن بازار اور شارع عام کا حکم اس سے الگ ہے کہ اگر بازار میں یا شارع عام پر بہت سے لوگ آ رہے ہوں تو وہاں بعض لوگوں کو سلام کرنا کافی ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص بازار میں شارع عام پر ملنے والے ہر شخص کو سلام کرنے لگے تو وہ اسی کام کا ہو کر رہ جائے گا اور اپنے امور کی انجام دہی سے باز رہے گا۔</p>



<h2>سلام کے فوائد وثمرات </h2>



<p>                قرآن و حدیث میں باہمی سلام کہنے کی بڑی فضیلت و اہمیت اور افادیت بیان کی گئی ہے۔جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔</p>



<p>۱۔محبت کا ذریعہ:            بار بار سلام کرنے سے دلوں کی صفائی ہوتی ہے۔کدورت اور رنجش دور ہوجاتی ہے۔اجنبی اپنے اور دشمن دوست بن جاتے ہیں۔باہمی محبت اور اُلفت میں روز بروز اضافہ ہوتا ہے۔فرمان رسول ﷺ ہے:’’کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جسے تم کرو تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہوجائے تو تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ‘‘(سنن الترمذی:کتاب الاستئذان )</p>



<p>۲۔ سیدنا عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ &#8221;بہتر اسلام کونسا ہے؟&#8221; آپ نے فرمایا &#8221;یہ کہ تم (دوسروں کو) کھانا کھلاؤ اور اسے بھی سلام کرو جسے تم جانتے ہو اور اسے بھی جسے تم نہیں جانتے&#8221; (بخاری، کتاب الایمان، باب اطعام الطعام من الاسلام۔ الاستیذان، باب السلام للمعرفۃ و غیر المعرفۃ)</p>



<p>۳۔ سلام کے آداب:۔ سیدنا عمران رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہا &#8221;السلام علیکم&#8221; تو آپ نے فرمایا &#8221;دس&#8221; (یعنی اس کے لیے دس نیکیاں ہیں) پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے کہا &#8221;السلام علیکم ورحمۃاﷲ &#8221; تو آپ نے فرمایا &#8221;بیس&#8221; پھر ایک اور آدمی آیا اس نے کہا &#8221;السلام علیکم ورحمۃاﷲ وبرکاتہ&#8221; آپ نے فرمایا &#8221;تیس&#8221; (ترمذی۔ ابواب الاستیذان، باب فضل السلام)</p>



<p>۴۔ آپ نے فرمایا &#8221;جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ملے تو اسے سلام کہے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، دیوار یا پتھر آ جائے۔ پھر اس سے ملاقات کرے تو پھر سلام کہے۔&#8221; (ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی الرجل یفارق الرجل ثم یلقاہ ایسلم علیہ)</p>



<p>۵۔ آپ نے فرمایا &#8221;چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ تھوڑے آدمی زیادہ کو سلام کریں۔ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے اور چلنے والا کھڑے کو سلام کرے۔&#8221; (بخاری، کتاب الاستیذان باب تسلیم الصغیر علی الکبیر ۔۔۔ مسلم، کتاب السلام، باب یسلم الراکب علی الماشی ۔۔۔ ترمذی، ابواب الاستیذان)</p>



<p>۶۔ سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ چند یہودی آپ کے پاس آئے اور کہا &#8221;السام علیک&#8221; (تجھے موت آئے) میں سمجھ گئی وہ کیا کہہ رہے ہیں، تو میں نے کہا &#8221;علیکم السام واللعنہ&#8221; آپ نے فرمایا &#8221;ٹھہرو عائشہ رضی اﷲ عنہااﷲ ہر کام میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ میں نے جواب دیا &#8221;یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ نے سنا نہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟&#8221; آپ نے فرمایا &#8221;میں نے وعلیکم تو کہہ دیا تھا&#8221; (بخاری، کتاب الاستیذان، باب کیف الرد علی اھل الذمۃ السلام۔ مسلم، کتاب السلام، باب النہی عن ابتداء اہل الکتاب بالسلام و کیف یردعلیھم)</p>



<p>۷۔ آپ نے فرمایا &#8221;لوگوں میں سے اﷲ سے زیادہ قریب وہ ہے جو ان میں سے پہلے سلام کرتا ہے۔&#8221; (ابو داؤد، کتاب الادب، باب فضل من بدأ بالسلام)</p>



<p>۸۔ آپ نے فرمایا &#8221;جب کوئی مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب جانے لگے تو بھی سلام کہے اور یہ دونوں سلام ایک ہی جیسے ضروری ہیں&#8221; (ابو داؤد، کتاب الادب۔ باب فی السلام اذاقام من المجلس)</p>



<h2>سلام کے آداب واحکام </h2>



<p>                جس طرح قرآن و حدیث میں سلام کی اہمیت و افادیت بیان کی گئی اسی طرح نبی کریم ﷺ نے ہمیں سلام کے آداب و احکام کی پوری پوری وضاحت کی ہے۔ان مسائل کو سلام کرتے وقت پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔</p>



<p>۱۔سلام کرنا سنّت ہے اور جواب دینا فرض ہے سلام کہنے والا السلام علیکم کہے جواب دینے والا وعلیکم السلام و رحمۃ اﷲ کہے یعنی جواب میں کلمات کا اضافہ ہو یا اُسی طرح لو ٹا دے۔ اگرپہلے نے ورحمۃ اﷲ بھی کہا تھا تو یہ وبرکاتہ اور بڑھائے پس اس سے زیادہ سلام و جواب میں اور کوئی اضافہ نہ کرے۔</p>



<p>۲۔سلام بے غرض ہوکر کہا جائے اور سنت سمجھ کر کیا جائے خوشامداور مطلب براری کے لئے سلام کہنا ناجائز ہے۔</p>



<p>۳۔سلام میں پہل کرنے کی کوشش کی جائے ۔کیونکہ حدیث میں پہل کرنے والے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔</p>



<p>۴۔اگر ساری جماعت میں سے ایک آدمی سلام کہہ دے تو وہ ساری جماعت کے لئے کافی ہے۔اسی طرح جواب میں بھی ایک آدمی جواب دے دے تو سب کے لئے کافی ہے۔</p>



<p>۵۔جب کوئی شخص راستے میں بیٹھا ہو تو ہر سلام کرنے والے کے سلام کا جواب دے۔اسی طرح سوار پیدل کو ،کھڑا بیٹھے کو،اور باہر سے آنے والا گھر والوں کو سلام کرے۔بہتر سواری والا کمتر سواری والے کو اور کمتر سواری والا پیدل چلنے والے کو اور پیدل بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹے بڑے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں ۔</p>



<p>۶۔ہر واقف و ناواقف کو سلام کرناچاہیے۔</p>



<p>۷۔مجلس میں آتے اور جاتے وقت سلام کرناچاہیے۔</p>



<p>۸۔اگر کسی محفل میں مسلم اور غیر مسلم اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان پر سلام کہنا بھی جائز ہے۔</p>



<p>۹۔گفتگو کرنے سے پہلے سلام کہا جائے بالخصوص فون پر بات کرتے وقت ابتداء السلام علیکم سی کی جائے۔</p>



<p>۱۰۔چھوٹے بچوں کو چاہیے کہ وہ بڑوں کو سلام کریں۔لیکن اگر تعلیم و تربیت کے لئے بڑے چھوٹوں کو سلام کریں تو یہ بھی درست ہے۔</p>



<p>۱۱۔جب کوئی غیرمسلم آپ کو سلام کرے تو اس کے جواب میں و علیکم کہیں۔</p>



<h2>سلام کی ممانعت </h2>



<p>مندرجہ ذیل لوگوں کوسلام کہنے کی ممانعت ہے۔</p>



<p>جو نماز پڑھا رہا ہو ۔ اس حال میں ان کو سلام نہ کیا جائے اور اگر کوئی سلام کرے تو ان پر جواب دینا لازم نہیں</p>



<p>وہ مجلس جہاں دینی وعظ اور درس قرآن ہو رہا ہو یا تلاوت قرآن ہو رہی ہو جو شخص خطبہ یا حدیث یا مذاکرہ علم یا اذان یا تکبیر میں مشغول ہو۔</p>



<p>قاضی جو عدالت کر رہا ہو۔</p>



<p>جو شخص قضائے حاجت میں مصروف ہو۔</p>



<p>جو شخص غسل کررہا ہو یابے عذر برہنہ ہو۔</p>



<p>جو شخص کھانا کھا رہا ہو۔</p>



<p>جو شخص خلاف شرع کام کررہا ہو۔</p>



<p>کافر ،گمراہ، فاسق اور استنجا کرتے مسلمانوں کو سلام نہ کریں۔</p>



<p> جو شخص شَطرنج ،چوسر ،تاش، وغیرہ کوئی ناجائز کھیل کھیل رہا ہویا گانے بجانے میں مشغول ہو اس کو سلام نہ کیا جائے ۔</p>



<p>آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو اہل خانہ بالخصوص بیوی کو سلام کرے ہمارے ہاں یہ بڑی غلط رسم ہے کہ زن و شو ہرکے اتنے گہرے تعلقات ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سلام سے محروم کرتے ہیں باوجود یہ کہ سلام جس کو کیا جاتا ہے اس کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2588%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2584%25db%2582-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%20%D9%88%D8%B3%DB%8C%D9%84%DB%82%20%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%82-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/" data-a2a-title="سلام وسیلۂ محبت"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%88%d8%b3%db%8c%d9%84%db%82-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فوت شدہ لوگوں کی قربانی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%88%d8%aa-%d8%b4%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%88%d8%aa-%d8%b4%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 02:05:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=806</guid>

					<description><![CDATA[û عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًّا یُضَحِّی بِکَبْشَیْنِ فَقُلْتُ مَا ہَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِی أَنْ أُضَحِّیَ عَنْہُ فَأَنَا أُضَحِّی عَنْہُ.(سنن ابو داؤد کتاب الضحایا باب الاضحیۃ عن المیت) &#160;حضرت خنش ص فرماتے ہیں کہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%88%d8%aa-%d8%b4%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>û عَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًّا یُضَحِّی بِکَبْشَیْنِ فَقُلْتُ مَا ہَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِی أَنْ أُضَحِّیَ عَنْہُ فَأَنَا أُضَحِّی عَنْہُ.(سنن ابو داؤد کتاب الضحایا باب الاضحیۃ عن المیت)</p>



<p>&nbsp;حضرت خنش ص فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کو دو دنبے قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ کیا؟ یعنی جب ایک دنبہ کی قربانی کافی ہے تو دو دنبوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں ؟ ) انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت فرمائی تھی کہ (ان کے وصال کے بعد ) میں ان کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔</p>



<p>تشریح</p>



<p>&nbsp;اس حدیث مبارکہ میں دونوں ہی احتمال ہیں یا تو حضرت علی المرتضیٰ ص اپنی قربانی کے علاوہ دو دنبے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے قربان کرتے ہوں گے جیسا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی زندگی میں دو دنبوں کی قربا نی فرماتے تھے، یا پھر یہ کہ حضرت علی المرتضیٰ صایک دنبہ کی قربانی تو اپنی طرف سے کرتے ہوں گے اور ایک دنبہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰص کا یہ ہمیشہ کا معمول تھا کہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے ہر سال قربانی کرتے تھے۔</p>



<p>یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے جسے صدقہ پر قیاس کیا گیا ہے اور صدقہ کا جواز سنت نبوی سے ثابت ہے اگرچہ بعض علماء نے اسے جائز نہیں کہا ۔ کیونکہ ان کے بقول قربانی زندوں پر ہے فوت شدہ پر نہیں ۔</p>



<p>&nbsp;بہرحال فوت شدہ افرادکی قربانی تین قسم کی ہے۔</p>



<p>&nbsp;پہلی قسم ایسی قربانی جس کی فوت شدہ نے وصیت کی ہواور اس وصیت پر عمل بھی فوت شدہ کے مال سے ہی ہو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے جبکہ فوت شدہ کے تہائی مال سے ادا کی جا رہی ہو ۔ ایک اور حدیث میں ہے</p>



<p>عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِیٍّ أَنَّہُ کَانَ یُضَحِّی بِکَبْشَیْنِ أَحَدُہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِہِ فَقِیلَ لَہُ فَقَالَ أَمَرَنِی بِہِ یَعْنِی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلاَ أَدَعُہُ أَبَدًا.(مسند احمد )</p>



<p>حضرت حنشص، حضرت علی صسے روایت ہے کہ وہ ہمیشہ دو مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے۔ ایک نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے اور ایک اپنی طرف سے ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا ہے پس میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔</p>



<p>دوسری قسم کہ کوئی شخص اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرے اور نیت اپنے عزیزو اقارب کے ثواب کی ہووہ زندہ ہوں یا فوت شدہ یہ بھی جائز ہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے (اﷲم إن ہذا عن محمد وآل محمد)یہ اس خاندان میں ہونے سے ہے مستقل نہیں قربانی عبادت مالیہ ہے یہ نمازروزہ کی طرح عبادت نہیں ۔اس کا ثواب عام ہے جیسا کی ہماری فقہ حنفی میں اس کی صراحت موجود ہے۔</p>



<p>الْأَفْضَلُ لِمَنْ یَتَصَدَّقُ نَفْلًا أَنْ یَنْوِیَ لِجَمِیعِ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ؛ لِأَنَّہَا تَصِلُ إلَیْہِمْ وَلَا یَنْقُصُ مِنْ أَجْرِہِ شَیْء ٌ ۔(رد المحتار کتاب الحج باب الحج عن الغیر)</p>



<p>جو کوئی نفل صدقہ کرے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ تمام مومنین ومومنات کی نیت کرے اس لیے کہ ثواب ان سب کو ملے گا اور اس کے اجر سے کچھ نہ گھٹے گا ۔</p>



<p>&nbsp;لہذا ایصال ثواب میں حضور اقدس صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل تمام انبیاء واولیاء ومومنین ومومنات جو گزرگئے اور جو موجود ہیں اور جو قیامت تک آنے والے ہیں سب کو شامل کرسکتا ہے اور یہی افضل ہے۔</p>



<p>اس کے جواز کی دلیل البدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع کتاب التضحیہ میں ہے</p>



<p>’’جب سات آدمی کسی جانور میں شریک ہوں اور ذبح سے پہلے ہی ایک شخص فوت ہو جائے اور اس کے ورثاء اس پہ راضی ہوں کہ فوت ہونے والے کی قربانی کی جائے تو استحسانا ًتو جائز ہے جبکہ قیاسا ًجائز نہیں۔</p>



<p>&nbsp;قیاس تو یہ ہے کہ جب و ہ فوت ہوا تو اس سے قربانی بھی ساقط ہوگئی لہذا جب اس کا وارث اس کی طرف سے قربانی کرے گا تو مقصد قربانی نہیں بلکہ گوشت کا حصول ہے جو جائز نہیں کیونکہ اگر وہ زندگی میں بھی گوشت کے حصول کیلئے قربانی کرے تو باقی لوگوں کی قربانی بھی جائز نہ ہو تی۔</p>



<p>استحسان کی رو سے اس لئے جائز ہے کہ موت کے بعدبھی تقرب الی اﷲ کا حصول ممکن ہے چاہے صدقہ کی صورت میں ہو یا حج کی صورت میں جیسا کہ رسول اﷲ انے اپنی امت کیلئے قربانی فرمائی جو تقرب الی اﷲ کیلئے ہے لہذا اگر فوت شدہ کی طرف سے تقرب کیلئے قربانی کی گئی تو یہ بھی جائز ہے اور باقی حصہ داروں کی قربانی بھی صحیح ہو گی‘‘۔</p>



<p>تیسری قسم کہ خاص طورپر فوت شدہ کی طرف سے بغیر وصیت کے کرے یہ قربانی کے طور نہیں بلکہ بطور صدقہ کے جائز ہے کیونکہ قربانی واجب صرف ایک ہوتی ہے باقی ساری نفلی یا صدقہ ہوتی ہیں بغیر وصیت کے صدقہ کرنا قربانی سے افضل ہے</p>



<p>&nbsp;وَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَحَبُّ إِلَیَّ أَنْ یُتَصَدَّقَ عَنْہُ وَلاَ یُضَحَّی عَنْہُ وَإِنْ ضَحَّی فَلاَ یَأْکُلْ مِنْہَا شَیْئًا وَیَتَصَدَّقْ بِہَا کُلِّہَا.</p>



<p>ابن مبارک کا قول یہ ہے کہ &#8221; میں اسے پسند کرتا ہوں کہ فوت شدہ کی طرف سے اﷲ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے، ہاں اگر فوت شدہ کی طرف سے قربانی کی ہی جائے تو اس کا گوشت بالکل نہ کھایا جائے بلکہ سب کا سب اﷲ کے نام پر تقسیم کر دیا جائے</p>



<p>&nbsp;اسی حدیث کے ضمن میں جو ابتداء میں درج ہے علامہ انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں</p>



<p>&nbsp;الأضحیۃ عن المیت إثابۃ جائزۃ ولا تنوب إلا بالوصیۃ ، وإذا أوصی فیلزم وإلا حکمہا حکم أضحیۃ الحی ، (العرف الشذی شرح السنن الترمذی)</p>



<p>&nbsp;فوت شدہ کی طرف سے قربانی ثابت اور جائز ہے جبکہ یہ وصیت کی وجہ سے ہو تو جب وصیت ہے تو وصیت کا پورا کرنا لازم ہے اور اس کا حکم زندہ کی قربانی کے حکم میں ہے۔</p>



<p>شرح سنن ابو داؤد میں ہے سوال ہوا کہ کیا فوت شدہ کی طرف سے قربانی جائز ہے یااس کی طرف سے صدقہ کیا جائے؟توجواب میں کہا گیا قربانی جائز ہے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ قربانی زندہ شخص اپنی طرف سے کرے اور اپنے فوت شدہ لوگوں کی طرف سے بھی کرے اور اگر صرف اپنے فوت شدہ لوگوں کی طرف سے ہی کریگا تو اس کی مجھے کوئی خاص دلیل نہیں ملی سوائے اس کے کہ کوئی عام حالت میں وقت دعا اپنے زندوں اور فوت شدہ لوگوں کو اس کے ثواب میں شریک کرلے تو ان کیلئے فائدہ مند ہے اور اگر قربنی بھی فوت شدہ کیلئے کرے تو اس میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ یہ صدقہ میں شمار ہوتی ہے ۔</p>



<p>ویسے بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اپنی امت اور اپنی آل کی طرف سے قربانی فرنا ثابت ہے حدیث مبارکہ ہے</p>



<p>عَنْ أَبِی طَلْحَۃَ ، أَنّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ضَحَّی بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ ، فَقَالَ عِنْدَ الأَوَّلِ : عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَقَالَ عِنْدَ الثَّانِی : عَمَّنْ آمَنَ بِی وَصَدَّقَنِی مِنْ أُمَّتِی ( معجم الکبیر الطبرانی)</p>



<p>رسول اﷲ انے دو سینگوں والے دو دنبے قربان کئے پہلے کو ذبح کرتے وقت دعا فرمائی یہ محمد و آل محمد کی طرف سے ہے اور دوسرے کو ذبح کرتے دعا فرمائی جو شخص میری امت سے ایمان لایا اور میری تصدیق کی اس کی طرف سے ہے</p>



<p>دوسری حدیث میں ہے :عَنْ النَّبِیِّ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ أَنَّہُ ضَحَّی بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ أَحَدُہُمَا عَنْ نَفْسِہِ وَالْآخَرُ عَنْ أُمَّتِہ (مسند امام ابو حنیفہ: فتح القدیر: نصب الرایہ فی تخریج الھدایۃ)</p>



<p>نبی کریم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی ، جن کے رنگ سفیدی سیاہی ملے ہوئے تھے، قربانی کی، ایک کی اپنی طرف سے ، دوسرے کی اپنی امت کی طرف سے۔</p>



<p>ابن ماجہ میں یہ اضافہ ہے</p>



<p>فَذَبَحَ أَحَدَہُمَا عَنْ أُمَّتِہِ لِمَنْ شَہِدَ لِلَّہِ بِالتَّوْحِیدِ وَشَہِدَ لَہُ بِالْبَلاَغِ وَذَبَحَ الآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَعَنْ آلِ مُحَمَّدٍ -صلی اﷲ علیہ وسلم</p>



<p>&nbsp;ایک اپنی امت کی طرف سے قربان کیا ہر اس شخص کی طرف سے جس نے کلمہ طیبہ کی شہادت کی اور حضور اکرم کے لیے تبلیغ رسالت کی گواہی دی ور دوسرا حضرت محمد اور آلِ محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام سے ذبح کیا</p>



<p>(سنن ابن ماجہ ا بواب الاضاحی باب اضاحی رسول اﷲصلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم )</p>



<p>&nbsp;قربانی کے وقت حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے یوں فرمایا</p>



<p>اللَّہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِہِ</p>



<p>: اے اﷲ! تیرے لیے اورتجھ سے، یہ محمد اور اس کی امّت کی جانب سے ہے۔</p>



<p>&nbsp;فقہ حنفی کی مشہور کتاب بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے</p>



<p>:مَنْ صَامَ أَوْ صَلَّی أَوْ تَصَدَّقَ وَجَعَلَ ثَوَابَہُ لِغَیْرِہِ مِنْ الْأَمْوَاتِ وَالْأَحْیَاء ِ جَازَ وَیَصِلُ ثَوَابُہَا إلَیْہِمْ عِنْدَ أَہْلِ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ کَذَا فِی الْبَدَائِعِ وَبِہَذَا عُلِمَ أَنَّہُ لَا فَرْقَ بَیْنَ أَنْ یَکُونَ الْمَجْعُولُ لَہُ مَیِّتًا أَوْ حَیًّا</p>



<p>جو کوئی روزہ رکھے نماز پڑھے یا صدقہ کرے اور اس کا ثواب اپنے علاوہ کسی دوسرے کو دے وہ زندہ ہو یا فوت شدہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے جیسے بدائع میں ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ جس دوسرے کے لیے اپنا ثواب ہدیہ کرے وہ وفات پاچکا ہو یا زندہ ہو۔</p>



<p>اسطرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے علامہ مفتی محمد امین حنفی المشہور ابن عابدین کتاب ردالمحتار میں فرماتے ہیں</p>



<p>&nbsp;:أَلَا تَرَی أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَعْتَمِرُ عَنْہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمُرًا بَعْدَ مَوْتِہِ مِنْ غَیْرِ وَصِیَّۃٍ .وَحَجَّ ابْنُ الْمُوَفَّقِ وَہُوَ فِی طَبَقَۃِ الْجُنَیْدِ عَنْہُ سَبْعِینَ حَجَّۃً ، وَخَتَمَ ابْنُ السِّرَاجِ عَنْہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکْثَرَ مِنْ عَشَرَۃِ آلَافٍ خَتْمَۃٍ ؛ وَضَحَّی عَنْہُ مِثْلَ ذَلِکَ .ا ہـ .</p>



<p>قُلْت : رَأَیْت نَحْوَ ذَلِکَ بِخَطِّ مُفْتِی الْحَنَفِیَّۃِ الشِّہَابِ أَحْمَدَ بْنِ الشَّلَبِیِّ شَیْخِ صَاحِبِ الْبَحْرِ نَقْلًا عَنْ شَرْحِ الطَّیِّبَۃِ لِلنُّوَیْرِیِّ ، وَمِنْ جُمْلَۃِ مَا نَقَلَہُ أَنَّ ابْنَ عَقِیلٍ مِنْ الْحَنَابِلَۃِ قَالَ : یُسْتَحَبُّ إہْدَاؤُہَا لَہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ا ہـ .</p>



<p>قُلْت : وَقَوْلُ عُلَمَائِنَا لَہُ أَنْ یَجْعَلَ ثَوَابَ عَمَلِہِ لِغَیْرِہِ یَدْخُلُ فِیہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنَّہُ أَحَقُّ بِذَلِکَ حَیْثُ أَنْقَذَنَا مِنْ الضَّلَالَۃِ ، فَفِی ذَلِکَ نَوْعُ شُکْرٍ وَإِسْدَاء ُ جَمِیلٍ لَہُ ، وَالْکَامِلُ قَابِلٌ لِزِیَادَۃِ الْکَمَالِ</p>



<p>حضرت ابن عمر رضی اﷲتعالیٰ عنہما حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کے وصا ل کے بعد بغیر کسی وصیت کے ان کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، ابن موفق رحمہ اﷲنے (جو حضرت جنید بغدادی قدس سرہ، کے طبقہ سے ہیں) حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے ستّر حج کیے، ابن سراج نے حضور صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم سے زیادہ پڑھے، اور اسی کے مثل سرکار کی جانب سے قربانی بھی کی۔ اسے امام ابن حجر مکی سے انھوں نے امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی سے نقل کیا، رحمہما اﷲتعالیٰ، آگے علامہ شامی نے لکھا : اسی جیسا مضمون مفتی حنفیہ شہاب الدین احمد الشلبی شیخ صاحب بحر کی قلمی تحریر میں نویری کی شرح طبیہ کے حوالے سے دیکھا۔ آگے علامہ شامی نے فرمایا ، اور ہمارے علماء کا یہ قول کہ انسان اپنے عمل کا ثواب دوسروں کے لیے کرسکتا ہے، اسی میں نبی صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم بھی داخل ہیں اسی لیے کہ وہ اس سے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ حضور ہی نے ہمیں گمراہی سے نکالاتو اس میں ایک طرح کی شکرگزاری اور حسن سلوک ہے او رصاحب کمال مزید کمال کے قابل ہے۔</p>



<p>&nbsp;نوٹ: اس مسئلہ کی وضاحت کیلئے یہ ساری بات تحریر کی گئی لیکن خیال رہے کہ قربانی بعد از وفات کسی کے نزدیک لازم نہیں، ہاں ان کی طر ف سے کرے تو ان کو ثواب پہنچے گا، یونہی ماں باپ کی طرف سے بعدوفات قربانی کرنا اجر عظیم ہے کرنے والے کے لئے بھی اور اس کے والدین کے لئے بھی اسی طرح اس قربانی کا بھی وہی حکم ہے جو اپنی قربانی کا کہ کھانے، کھلانے، تصدق، سب کا اختیار ہے اور مستحب تین حصے ہیں، ایک اپنا ، ایک اقارب، ایک مساکین کا، ہاں اگرقربانی فوت شدہ کی طر ف سے بحکم فوت شدہ کرے۔ تو سارا گوشت صدقہ کیا جائے۔</p>



<p>ردالمحتارمیں ہے</p>



<p>&nbsp;:مَنْ ضَحَّی عَنْ الْمَیِّتِ یَصْنَعُ کَمَا یَصْنَعُ فِی أُضْحِیَّۃِ نَفْسِہِ مِنْ التَّصَدُّقِ وَالْأَکْلِ وَالْأَجْرُ لِلْمَیِّتِ وَالْمِلْکُ لِلذَّابِحِ .قَالَ الصَّدْرُ : وَالْمُخْتَارُ أَنَّہُ إنْ بِأَمْرِ الْمَیِّتِ لَا یَأْکُلْ مِنْہَا وَإِلَّا یَأْکُلُ بَزَّازِیَّۃٌ ۔ (ردالمحتار کتاب الاضحیۃ )</p>



<p>&nbsp;اگرفوت شدہ کی طرف سے قربانی کی تو صدقہ اور کھانے میں اپنی ذاتی قربانی والا معاملہ کیا جائے اور اجر وثواب فوت شدہ کے لئے ہوگا اور ملکیت ذبح کرنے والے کی ہوگی، فرمایا صدر نے اور مختاریہ ہے کہ اگر فوت شدہ کی وصیت پر قربانی اس کے لئے کی تو خود نہ کھائے ورنہ کھائے۔ بزازیہ۔</p>



<p>اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ احمد رضا خان بریلوی فرماتے ہیں</p>



<p>’’ فقیر کا معمول ہے کہ قربانی ہر سال اپنے حضرت والد ماجد خاتم المحققین قدس سرہ، العزیز کی طر ف سے کرتاہے اور اس کا گوشت پوست سب تصدق کردیتاہے اور ایک قربانی حضور اقدس سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف سے کرتا ہے اور اس کا گوشت پوست سب نذر حضرات سادات کرام کرتاہے۔تقبل اﷲ تعالٰی منی ومن المسلمین (آمین) ، (اﷲ تعالٰی میری طرف اور سب مسلمانوں کی طرف سے قبول فرمائے، آمین۔‘‘</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2581%25d9%2588%25d8%25aa-%25d8%25b4%25d8%25af%25db%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25da%25af%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%2F&#038;title=%D9%81%D9%88%D8%AA%20%D8%B4%D8%AF%DB%81%20%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%88%d8%aa-%d8%b4%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c/" data-a2a-title="فوت شدہ لوگوں کی قربانی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%81%d9%88%d8%aa-%d8%b4%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غیبت سے آبروئے مسلم کی بربادی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ba%db%8c%d8%a8%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%a8%d8%b1%d9%88%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ba%db%8c%d8%a8%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%a8%d8%b1%d9%88%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 01:51:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=802</guid>

					<description><![CDATA[حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ راوی ہیں : حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہ وَعِرْضُہ وَمَالُہ.(ترمذی2 : 15) ہر مسلمان کی عزت آبرو اور اس کی جان و جائیداد <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ba%db%8c%d8%a8%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%a8%d8%b1%d9%88%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ راوی ہیں : حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>



<p>کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہ وَعِرْضُہ وَمَالُہ.(ترمذی2 : 15)</p>



<p>ہر مسلمان کی عزت آبرو اور اس کی جان و جائیداد دوسرے مسلمان پر بالکل حرام ہے۔</p>



<p>غیبت کیا ہے؟</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس ارشاد گرامی کا ماحصل یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنے دست و بازو یا زبان و اشارے سے کوئی ایسا تاثر نہ دے جس سے کسی مسلمان کی دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو یا اسے ذہنی و جسمانی صدمہ پہنچے اور وہ اسے اپنی ذات اور عزت و آبرو پر براہ راست حملہ تصور کرے، ایسی کسی بھی حرکت کو جس سے کسی کا مذاق اڑانا یا اس کی توہین کرنا مقصود ہو، اسے غیبت کہتے ہیں :</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; انسان کے پاس اگر کوئی کام نہ ہو اور چند افراد اکٹھے بیٹھے ہوں اور کہنے کے لئے کوئی بامقصد بات بھی نہ ہو تو وہ وقت گزاری کے لئے کسی موجود یا غیر موجود، زندہ یا مردہ کو ہدف بنا کر اس کے بارے میں رائے زنی شروع کر دیتے ہیں، اس کے ظاہری خد و خال سے لے کر باطنی اوصاف تک کو موضوع بناتے ہیں، جس سے بعض اوقات اس کی پوشیدہ کمزوریاں بھی ظاہر ہو جاتی ہیں اور اگر اسے پتہ چل جائے تو وہ ذہنی کوفت بھی محسوس کرتا ہے اور ایسے فرد یا افراد سے ناراض ہو جاتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ایسی حرکت، گفتگو، عمل یا اشارے کو غیبت کہتے ہیں۔ کسی کو زبان سے چبھتی ہوئی، دکھ دینے والی بات کہنا، یا ہاتھ سے اشارہ کرنا یا حقارت سے دیکھنا یا نقل اتارنا یا اسی نوعیت کی آزار پہنچانے والی حرکات، سب اس میں شامل ہیں، اگر صرف چسکا لینا اور وقتی طور پر تفریح طبع کا سامان کرنا مقصود ہو تو اسے غیبت یا چغلی کہتے ہیں لیکن اگر اس سے دو دلوں میں نفرت و عداوت پیدا کرنا اور دراڑیں ڈالنا مقصود ہو تو اسے نمیمہ کہتے ہیں، یہ غیبت کی بدترین صورت ہے، اس کے بارے میں ارشاد ہے کہ لَایَدْخُلُ الْجنَّۃَ قَتَّاتٌ یعنی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔</p>



<p>سرکار نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے پوچھا :</p>



<p>اَتَدْرُوْنَ ماالْغِیْبَۃُ؟’’کیا تم جانتے ہو، غیبت کیا ہے؟‘‘</p>



<p>بولے : اﷲ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں : فرمایا :</p>



<p>ذِکْرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ.’’تو اپنے بھائی کا ایسے الفاظ و انداز میں ذکر کرے، جو اسے پسند نہیں۔‘‘</p>



<p>صحابہ نے عرض کی : اگر وہ عیب اس میں موجود ہو تو پھر بھی وہ غیبت ہے؟</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; فرمایا : یہی تو غیبت ہے، اگر اس میں کوئی عیب ہی نہ ہو اور تم اسے بیان کرو تو اس کا مطلب ہوگا تم نے اس پر بہتان باندھا اور جھوٹ گھڑ کر اس کے سر تھوپ دیا۔ (ابوداؤد2 : 320)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اﷲ کے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے یا سخت جملے سے کسی کی تحقیر کو بھی غیبت قرار دیا ہے، وضاحت کے لئے چند مثالیں پیش کرتے ہیں :</p>



<p>1۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت والا مرتبت ام المومنین صفیہ رضی اﷲ عنہا یہودی مذہب ترک کر کے مسلمان ہوئی تھیں، نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں شرف زوجیت سے نوازا۔ ایک مرتبہ ازواج پاک سفر میں تھیں، راستے میں حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا کا اونٹ تھک گیا یا علیل ہوگیا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جناب سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کے پاس ایک زائد اونٹ تھا، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم اپنا اونٹ صفیہ کو دے دو۔ وہ چونکہ سوکن تھیں، اس لئے بے ساختہ بول اٹھیں۔ کیا اس یہودیہ کو دے دوں؟</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; سرکار نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نامناسب رویہ اور سخت جملہ بالکل اچھا نہ لگا اور سخت ناراضگی کا اظہار اس طرح فرمایا کہ دو ڈھائی ماہ تک ان کے ساتھ کوئی گفتگو نہ فرمائی۔</p>



<p>2۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; سوکنوں کی رقابت ایک طبعی امر ہے، دل کے اس پیار بھرے جذبے کو دبایا نہیں جا سکتا، شائستگی کے دائرے میں رہتے ہوئے اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا کے بارے میں ہاتھ سے اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ ان کا قد چھوٹا ہے، سرکار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اصلاح فرمائی کہ ایسا نہیں کہتے : تو نے اتنی کڑوی بات کہہ دی ہے کہ اگر سمندر میں ڈال دی جائے تو اسے بھی کڑوا کردے۔</p>



<p>3۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ایک شخص بہت ہی لاغر و ناتواں تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بتاتے ہیں، کسی نے اس کے بارے میں کہہ دیا : وہ تو نرا کانگڑی پہلوان ہے۔ سرکار نے فرمایا :</p>



<p>اِغْتبْتمْ صَاحِبَکُمْ وَ اَکَلْتُمْ لَحْمَہ.</p>



<p>تم نے اپنے بھائی کی غیبت کی ہے اور اس کا گوشت کھایا ہے۔</p>



<p>غیبت کی سزاؤں کا مشاہدہ:</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; شب معراج حضور مکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کو عبور فرماتے ہوئے عرش اعظم اور لامکاں تک تشریف لے گئے اس موقعہ پر جنت و دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا، دوزخ میں چغل خوروں کو جو ہوش ربا اور خوفناک سزائیں دی جارہی تھیں آپ نے ان کے بھی چند مناظر دیکھے اور دنیا میں آ کر بیان فرمائے۔</p>



<p>1۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما راوی ہیں :</p>



<p>نَظَرَ فِی النَّارِ فَاِذَا قومٌ یَاکلُونَ الْجِیفَ.</p>



<p>حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ لوگ جہنم میں مردار کھا رہے ہیں۔</p>



<p>جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ تو انہوں نے بتایا :</p>



<p>ہٰوُلَاء ِ الَّذِیْنَ یَاکُلُوْنَ لُحُوْمَ النَّاسِ.</p>



<p>یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے یعنی چغل خور تھے۔</p>



<p>2۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت انس رضی اﷲ عنہ راوی ہیں کہ سرکار اعظم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>



<p>لَمَّا عُرِجَ بِیْ مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَہُمْ اَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمِشُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وصُدُورَہم.</p>



<p>ہم شب معراج ایسی قوم کے قریب سے گزرے جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ بڑے وحشیانہ انداز سے خود کو چیر پھاڑ رہے تھے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے۔</p>



<p>جبریل نے بتایا یہ انسانی گوشت کے رسیا یعنی چغل خور ہیں۔</p>



<p>3۔ راشد بن سعد نے بیان فرمایا کہ سرکار نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں بڑی ہی مکروہ اور قابل نفرت حالت میں پستانوں سے باندھ کر لٹکایا گیا تھا، حضرت جبریل امین نے بتایا :</p>



<p>یہ لَمَّازُوْن اور ہَمَّازُوْنَ ہیں یعنی زبان اور ہاتھوں کے اشاروں سے غیبت کرنے والے ہیں۔</p>



<p>سزاؤں کی متشکل صورتیں</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ بنی آدم کا پتہ پانی کر دینے والے روح فرسا مناظر تھے جو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ملاحظہ فرمائے۔ داناؤں کی یہ شان ہے کہ وہ ایسے واقعات و مناظر سے عبرت پذیر ہوتے اور سبق سیکھتے ہیں، آنکھیں بند کر کے آگے نہیں بڑھ جاتے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; دنیا میں امت نے تو یہ مناظر نہیں دیکھے ہوئے تھے جن سے وہ عبرت حاصل کرتے اور اس کام سے بچتے جس کی ان چغل خوروں کو یہ سزا مل رہی تھی، نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کرم فرمایا اور امت کے داناؤں کے لئے یہ مسئلہ حل کر دیا، چغل خوروں کا دوزخ میں جو حشر ہوگا اور وہ مردار کا گوشت کھائیں گے اور نہ چاہتے ہوئے بھی انہیں وہ کھانا پڑے گا اور جو ان سے تعفن پھوٹے گا اور بدبو کے بھبھاکے آئیں گے نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف اوقات میں موقع و محل کی مناسبت سے انہیں وہ مناظر دکھائے۔ بدبودار گوشت کھاتے وقت جو ان کا حال ہوگا، اپنی اعجازی شان کے ساتھ وہ انہیں عملی شکل میں دکھایا تاکہ غیبت سے بچیں اور اسے معمولی جرم نہ سمجھیں۔ چند مثالیں یہ ہیں :</p>



<p>1۔&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اپنا واقعہ خود بیان فرماتی ہیں کہ میں ایک عورت کے ساتھ حضور نبی پاک صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ بے خیالی میں، میں نے عرض کی :</p>



<p>اِنَّہَا لَطَوِیْلَۃُ الذَیْل</p>



<p>یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ! اس کا دامن بہت لمبا ہے، غالباً یہ اس طرف اشارہ تھا کہ یہ بہت لمبی ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا گھر کی خاتون تھیں بات بھی کوئی اتنی اہم نہیں تھی لیکن مربی اعظم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اصلاح بھی ضروری سمجھی اور نہ صرف آئندہ غیبت سے بچنے کا حکم دیا بلکہ غیبت پیٹ میں جا کر جو حشر برپا کرتی ہے، وہ بھی اعلانیہ طور پر دکھا دیا۔ فرمایا :</p>



<p>اِلْفَظِیْ اِلْفَظِیْ</p>



<p>تھوکو، فوراً تھوکو!۔</p>



<p>فرماتی ہیں میں نے تھوکا تو وہ گوشت کا لوتھڑا تھا۔</p>



<p>2۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; دو عورتوں نے روزہ رکھا، پھر باتوں میں لگ گئیں اور یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ بے خیالی میں انہیں پتہ بھی نہ چلا کہ وہ چغلیاں کر رہی ہیں، ہوش اس وقت آیا جب پیٹ میں بگولے کی طرح مروڑ اٹھنے لگے، انہیں سرکار کی بارگاہ میں لے گئے آپ نے برتن منگوا کر فرمایا اس میں قے کرو، جب قے کی تو گوشت کے لوتھڑے برآمد ہوئے۔ غیبت کی متمثل صورت سامنے پڑی تھی۔ (تفصیل آگے آئے گی)</p>



<p>3۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت جابر رضی اﷲ عنہ راوی ہیں :</p>



<p>کُنَّا مَعَ النَّبیْ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فَارْتَفَعَتْ رِیْحٌ مُنْتِنَۃٌ.</p>



<p>ہم نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اچانک بہت ہی بدبودار ہوا کا جھونکا آیا۔</p>



<p>سرکار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>



<p>اَتَدْرُوْنَ مَاہٰذِہِ الرِّیْحُ؟ ہٰذہ رِیْحُ الَّذِیْنَ یَغْتَابُوْنَ الْمُوْمِنین.</p>



<p>کیا تم جانتے ہو یہ کیسی ہوا ہے؟ یہ ان لوگوں کی بدبودار ہوا ہے جو اہل ایمان کی غیبت کرتے ہیں۔</p>



<p>غیبت سے آبروئے مسلم کی بربادی</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; چغلی سے دوہرا نقصان ہوتا ہے، چغل خور نے جس شخص کی برائیوں کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹا ہو، اگر دوسرے لوگ اس پر اعتبار کر لیں تو اس غریب کا نقصان ہوتا ہے، لوگ اسے خواہ مخواہ برا سمجھنے لگ جاتے ہیں اور وہ برادری میں معتوب ہو کر رہ جاتا ہے جب تک اس کا بے گناہ اور اس عیب سے پاک ہونا ثابت نہ ہو جائے اور جب اس کا بے گناہ اور سچا ہونا ثابت ہو جائے تو خود چغل خور معاشرے میں بدنام ہو جاتا ہے اور لوگ اسے جھوٹا اور برا سمجھنے لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے سائے سے بھی کتراتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; غرض چغل خور کی عزت آبرو خاک میں مل جاتی ہے اور کوئی اسے معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ عام لوگ آخر انسان ہوتے ہیں وہ اتنے حوصلہ مند اور ایسے دل گردے کے مالک نہیں ہوتے کہ کوئی ان پر ناحق تہمتیں لگاتا اور بدنام کرتا پھرے اور وہ اسے معاف کردیں۔</p>



<p>1۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت جابر اور ابوسعید سے یہ حدیث مروی ہے۔ سرکار والا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :</p>



<p>اَلْغِیْبَۃُ اَشَدُّ مِنَ الزِّنَا.</p>



<p>’’غیبت، بدکاری سے بھی بری حرکت ہے‘‘</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;کیونکہ ایک شخص یہ بری حرکت کر کے پچھتاتا اور توبہ کرتا ہے، تو اﷲ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اس کا گناہ معاف کر دیتا ہے لیکن چغل خور کو معاف نہیں کرتا جب تک وہ شخص اسے معاف نہ کردے جس کی چغل خور نے غیبت کی ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ظاہر ہے جس بھولے انسان کی بے وجہ غیبت کی گئی ہو اس کا دل اتنا دکھا ہوا ہوتا ہے کہ وہ معاف کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتا، اس لئے یہ جرم بدکاری سے بھی بدتر ہے، جس کی معافی بہت مشکل بلکہ محال ہوتی ہے۔</p>



<p>2۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جو لوگ دنیا میں کسی پر کسی بھی قسم کی زیادتی کرتے ہیں، ناحق ستاتے، گالیاں دیتے یا چغلیاں کر کے بدنام کرتے ہیں، قیامت کے دن ایسے مظلوم لوگ، ہر قسم کے جرائم پیشہ لوگوں، غاصبوں اور چغل خوروں کا راستہ روک لیں گے اور فرشتوں سے کہیں گے : ان ظالموں نے ہم پر زیادتی کی تھی ان سے ہمارے حقوق لے کر دیں۔ مجرم لوگ کہیں گے سب کچھ دنیا میں رہ گیا، اب ہمارے پاس دینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ مظلوم کہیں گے، یہ روزِ محشر ہے، یہاں روپیہ پیسہ نہیں بلکہ نیکیاں چلتی ہیں۔ ان کی نیکیاں ہمیں دیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; چنانچہ اگر بالفرض ایک چغل خور کے پاس نیکیوں کا انبار ہوگا تو وہ سب بے گناہ لوگ لے جائیں گے جن کی اس نے چغلیاں کی ہوں گی، وہ حیران پریشان ہو جائے گا کہ اب کیا کرے، دینے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا۔ جن کی غیبت کی ہوگی، وہ کہیں گے، نیکیاں دے نہیں سکتے تو کیا ہوا، ہماری برائیاں تولے سکتے ہو، چنانچہ وہ اپنے گناہ اس پر لاد کر چلے جائیں گے اور چغل خور ناکردہ گناہوں کے انبار میں دھنس جائے گا۔ وہ جو کچھ دیر پہلے نیکیوں کے انبارکا مالک تھا، اب مفلس ہو جائے گا۔ سرکار اعظم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اصل مفلس یہ ہوگا جس کی عزت آبرو، بروز حشر برباد ہوجائے گی، دیگر برائیوں کے ساتھ چغل خوری اسے تباہ و برباد کردے گی۔</p>



<p>3۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت حسن بصری رضی اﷲ عنہ کو پتہ چلا فلاں شخص نے ان کی غیبت کی ہے، آپ نے تحائف سے تھال بھر کر اسے بھیجا اور فرمایا :</p>



<p>میں نے سنا ہے تو نے اپنی نیکیاں میرے نام کی ہیں، اس لئے میں یہ تحائف تیرے پاس بھیج رہا ہوں۔</p>



<p>یہ لطیف اشارہ تھا کہ چغل خور کو بہر صورت اپنی نیکیاں دوسرے کو دینا پڑتی ہیں اور وہ محشر میں قلاش اور بے آبرو ہو جاتا ہے۔</p>



<p>4۔ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; میل ملاپ، خیر خواہی اور جذبہ خلوص کو حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے بہت اہمیت دی ہے، حضرت ابودرداء رضی اﷲ عنہ راوی ہیں، سرکار اعظم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>



<p>اَلَا اُخْبِرُکُمْ بِاَفْضَلَ مِنْ دَرَجَۃِ الصِّیَامِ وَالصَّلَاۃِ وَالصَّدَقَۃِ.</p>



<p>کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتاؤں جو (اپنی خاص نوعیت کے حوالے سے) نماز، روزہ اور صدقات و خیرات سے بھی افضل ہے۔</p>



<p>صحابہ رضی اﷲ عنہم نے عرض کی : یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ! ضرور بتائیں۔ فرمایا :</p>



<p>اِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَبْنِ فَاِنَّ فَسَادَ ذَاتِ الْبَیْنِ ہِیَ الْحَالِقَۃ.</p>



<p>باہمی پیار و محبت، جذبۂ اخلاص اور تعلقات کو قائم رکھنا کیونکہ ناچاقی، منافقت اور بدگمانی دل سے دین ہی کا صفایا کر دیتی ہے، جس طرح اُسترہ سر سے بالوں کا صفایا کر دیتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; چونکہ غیبت کا بڑا کام ہی یہی ہے کہ وہ دلوں میں بغض و عناد پیدا کر دیتی ہے اور اس سے باہمی تعلقات میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں لوگ بدگمانی اور نفرت کا شکار ہو جاتے ہیں، اس لئے احترام آدم کو دل سے کھرچنے والی اس غیبت سے اجتناب ضروری قرار دیا ہے تاکہ دل پاک صاف اور ایک دوسرے کی محبت سے لبریز رہیں اور آبروئے مسلم کی خوشبو سے من مہکتا رہے۔</p>



<p>آبروئے مسلم کی قدر و قیمت</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; انسانی تربیت کے اس انوکھے واقعہ کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ ہیں، سرکار اعظم نبی مکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم بڑے ادب و احترام کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اسلمی جوان رعنا آیا جو قبیلہ اسلم سے تعلق رکھتا تھا، خاموش چہرے اور جھکی ہوئی آنکھوں سے ندامت جھلک رہی تھی۔ اﷲ کے نبی کے پاس آکر شرمسار لہجے میں بولا :اس حرام عمل کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں جس سے حد لازم ہو جاتی ہے۔ سزا پانے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ اس نے چار مرتبہ یہی کہا پیکر رحمت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے رخ پرنور دوسری طرف پھیر لیا۔</p>



<p>آخر تم چاہتے کیا ہو؟</p>



<p>اُرِیْدُ اَنْ تُطَہِّرْنِیْ آقا! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیں۔ خلوص و وفا کا پیکر اﷲ کی شریعت کو اپنے جسم و جان پر نافذ کرنے کے لئے پورے عزم و استقلال اور بڑی استقامت کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے ارادے میں کوئی تزلزل نہیں تھا، کسی قسم کی کوئی پشیمانی نہیں تھی کہ وہ از خود جان دینے کے لئے کیوں آیا۔ عدالت عظمیٰ نے ضابطے کی کاروائی مکمل کر کے اسے رجم کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وہ اﷲ اور رسول کا عاشق، وہ کوہ وقار رضا کار، بڑی عاجزانہ شان کے ساتھ کھڑا رہا، قدموں میں جنبش تک نہ آئی تاکہ جذبہ عشق کی صداقت پر حرف نہ آئے تاآنکہ وہ آسمانی شریعت پر خاموشی سے قربان ہوگیا، ہر طرف سے آنے والے پتھروں کے انبار میں سکون کی نیند سوگیا۔</p>



<p>جو اس کے عشق کے مقام و مرتبہ اور جذبۂ فدا کاری کی عظمت اور معراج سے ناآشنا تھے، وہ پتھروں کے اس ڈھیر کے قریب آئے، ان میں سے ایک شخص نے اپنے ساتھی سے کہا :</p>



<p>اُنْظُرْ اِلٰی ہٰذَا الَّذِیْ سَتَرَاللّٰہُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَدَعْ نَفْسَہ حَتّٰی رُجِمَ رَجمَ الْکَلْبِ.</p>



<p>ذرا اس شخص کو دیکھو، جس کی اﷲ نے پردہ پوشی کی تھی مگر وہ اصرار کرتا رہا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; پیکر رحمت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک کانوں تک بھی یہ الفاظ پہنچے، اس وقت تو آپ خاموش رہے، بڑے ضبط سے کام لیا مگر بعد میں پتہ چلا کہ سرکار صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دل مبارک کو ان الفاظ سے بے حد دکھ پہنچا تھا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; خاموشی سے آگے بڑھے، تھوڑی دور ایک مردہ گدھے کا ڈھانچہ پڑا ہوا تھا، وہ اکڑ چکا تھا، ٹانگیں اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا : فلاں فلاں دو آدمی کہاں ہیں؟ وہ حاضر ہوگئے۔ اس مردہ گدھے کی طرف اشارہ کرکے فرمایا :</p>



<p>کُلَا مِنْ جِیْفَۃِ ہٰذا الْحِمَارِ.</p>



<p>اس مردار گدھے کو کھاؤ۔</p>



<p>عرض کی : یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ! بھلا اس بدبودار مردار کو کون کھا سکتا ہے؟ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :</p>



<p>مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ ہٰذَا الرَّجُلِ آنِفًا اَشدُّ مِنْ ہٰذِہِ الْجِیْفَۃِ.</p>



<p>ابھی تم نے جو اس مرنے والے کو گالی دے کر اس کی عزت برباد کی ہے، وہ گالی اور غیبت اس بدبودار مردار سے بھی بری ہے۔</p>



<p>فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ اِنَّہ اَلْآنَ فِیْ اَنْہَارِ الْجَنَّۃِ یَنْغَمِسُ فِیْہَا.</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قادر حقیقی کے جاہ و جلال کی قسم! وہ تو جنت میں رحمت کے دریاؤں میں نہارہا ہے اور تم اسے یہاں گالی دے رہے ہو۔</p>



<p>مطلب یہ تھا کہ اس کی غیبت کر کے تم نے کارکنان قضاء و قدر کی نگاہوں میں اپنی عزت بھی برباد کر لی ہے، آبروئے مسلم نازک آبگینے کی طرح ہے جو چغل خوری سے چور چور ہو جاتی ہے۔اﷲ تعالی سے دعا ہے کہ اﷲ تعالی ہمیں اس برائی سے محفوظ فرمائے۔اور خصوصا سلوک کے اندر تعصب اور غیبت جیسے برے فعل سے محفوظ فرمائے ۔(امین)</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ba%25db%258c%25d8%25a8%25d8%25aa-%25d8%25b3%25db%2592-%25d8%25a2%25d8%25a8%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a6%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c%2F&#038;title=%D8%BA%DB%8C%D8%A8%D8%AA%20%D8%B3%DB%92%20%D8%A2%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92%20%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A8%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ba%db%8c%d8%a8%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%a8%d8%b1%d9%88%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c/" data-a2a-title="غیبت سے آبروئے مسلم کی بربادی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ba%db%8c%d8%a8%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%a8%d8%b1%d9%88%d8%a6%db%92-%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میلاد مصطفےٰﷺ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%af-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%92%d9%b0%ef%b7%ba/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%af-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%92%d9%b0%ef%b7%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 01:40:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=798</guid>

					<description><![CDATA[عَنْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْر۔۔۔۔۔۔۔ِ قَالَ عُرْوَۃُ وثُوَیْبَۃُ مَوْلَاۃٌ لِأَبِی لَہَبٍ کَانَ أَبُو لَہَبٍ أَعْتَقَہَا فَأَرْضَعَتْ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَہَبٍ أُرِیَہُ بَعْضُ أَہْلِہِ بِشَرِّ حِیبَۃٍ قَالَ لَہُ مَاذَا لَقِیتَ قَالَ أَبُو لَہَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَیْرَ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%af-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%92%d9%b0%ef%b7%ba/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>عَنْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْر۔۔۔۔۔۔۔ِ قَالَ عُرْوَۃُ وثُوَیْبَۃُ مَوْلَاۃٌ لِأَبِی لَہَبٍ کَانَ أَبُو لَہَبٍ أَعْتَقَہَا فَأَرْضَعَتْ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَہَبٍ أُرِیَہُ بَعْضُ أَہْلِہِ بِشَرِّ حِیبَۃٍ قَالَ لَہُ مَاذَا لَقِیتَ قَالَ أَبُو لَہَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَیْرَ أَنِّی سُقِیتُ فِی ہَذِہِ بِعَتَاقَتِی ثُوَیْبَۃَ</p>



<p>(صحیح بخاری کتاب النکاح باب وأمہاتکم اللاتی أرضعنکم)</p>



<p>حضرت عروہ بن زبیر سے مروی ہے۔۔۔۔۔عروہ کہتے ہیں کہ ثویبہ ابولہب کی لونڈی تھی، جسے ابولہب نے آزاد کردیا، پھر اس نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، جب ابولہب مر گیا تو کسی گھر والے نے اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تجھ سے کیا معاملہ کیا گیا، جواب دیا جب سے تم سے جدا ہواہوں سخت عذاب میں مبتلا ہوں، ثویبہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مل جاتا ہے، جس سے میری پیاس بجھ جاتی ہے۔</p>



<p>اس سے پہلے کہ ہم میلاد کے مقدس و معظم دلائل کی تفصیل کاذکر کریں مناسب یہ ہے کہ اس کے معانی ،اس کامقصود اور فوائد کا ذکر کریں میلاد کا لغوی معنی ہے ولادت کا ذکر اور جگہ اور آئمہ کی اصطلاح میں لوگوں کا کسی خاص جگہ پر اکٹھے ہو کر تلاو ت قرآن، رسول اﷲا کی ولادت کا ذکر، دوسرے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلامو صلحاء کے واقعات اور ان کے اقوال و افعال کا تذکرہ کرنا اوران محافل میلاد کا مقصد یہ ہے کہ رسول اﷲ ا اور اولیاء کی تعظیم و تکریم کو اجاگر کرنا جس کی تصدیق قرآن کرتا ہے۔</p>



<p>وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَایِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ(الحج:32)</p>



<p>&nbsp;جس نے تعظیم وتکریم کی اﷲ کے مقررہ کردہ شعائر اور اس کی قائم فرمودہ یادگاروں کی تو یقینا یہ بات دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔</p>



<p>اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ا نبیاء علیہم الصلاۃ والسلام قدر منزلت کے لحاظ سے بڑے شعائر میں شمار ہوتے ہیں اور رسول اﷲ اکی عظمت کی تاکید تو قرآن و سنت میں موجود ہے۔</p>



<p>اور ان محافل میلاد کے فوائد کثیر ہیں ان میں ولا دت اطہر کاذکر، ذکر معجزات ، سیرت اور نعت و خصائص کا ذکر ہوتا ہے جبکہ لوگوں کا نیک کام کیلئے اکٹھا ہونا تلاوت کلام اﷲ، احادیث اورواقعات مفیدہ کا تذکرہ کرنا،فقراء اور مساکین کوکھانا کھلانا اضافی ثواب کا باعث ہیں اس کے علاوہ محافل میلاد ان نیک اعمال کی یادہانی ہے جو ہم بھول رہے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;علامہ السیوطی الحاوی للفتاوی میں فرماتے ہیں : &#8220;إن أصل عمل المولد الذی ہو اجتماع الناس وقراء ۃ ما تیسر من القرآن وروایۃ الأخبار الواردۃ فی مبدأ أمر النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم وما وقع فی مولدہ من الآیات &#8230; ہو من البدع* التی یثاب علیہا صاحبہا لما فیہ من تعظیم قدر النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم وإظہار الفرح والاستبشار بمولدہ الشریف&#8221; .</p>



<p>میلاد النبیا کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کااکٹھا ہونا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا، ان باتوں کی لوگوں کو اطلاع دینا جنکا رسول اﷲانے حکم فرمایااور آپ کی ولادت کا ذکر کرنا ہے ( بعض لوگ اسے بدعت کہتے ہیں)یہ وہ بدعت حسنہ ہے جس پر آقاا نے ثواب کا وعدہ فرمایا کیونکہ اس میں ذات مصطفےٰ ﷺکی تعظیم کے ساتھ باعث مسرت ہے اورولادت کی خوشی بھی شامل ہے۔</p>



<p>امام شہاب الدین المعروف بأبی شامۃ الشافعی رحمہ اﷲ اپنی کتاب’’ الباحث علی إنکار البدع والحوادث‘‘ میں فرماتے ہیں</p>



<p>ومن أحسن ما ابتدع فی زماننا ما یفعل کل عام فی الیوم الموافق من مولدہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم من الصدقات والمعروف وإظہار الزینۃ والسرور ، فإن ذلک مع ما فیہ من الإحسان إلی الفقراء مشعر بمحبتہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ، وتعظیمہ فی قلب فاعل ذلک ، وشکرا ﷲ تعالی علی ما من بہ من إیجاد رسولہ ، الذی أرسلہ رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم&#8221; .</p>



<p>کتنا اچھا طریقہ ہمارے اس زمانے میں چل پڑا جو ہم ہر سال رسول اﷲاکے ولادت کے دن صدقات و خیرات کی صورت میں خوشی و فرحت کے اظہار کے طور پر کرتے ہیں اس ذریعے سے فقراء کے ساتھ نیکی بھی ہوتی ہے جورسول اﷲا سے محبت کی پہچان اور یہ عمل کرنے والے کی دلی تعظیم کی پہچان بھی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے شکرکا دن ہے جس نے اپنے رسول ا کورحمۃاللعالمین بناکر اس دنیا میں بھیجا۔</p>



<p>لہذا اصل مقصود ان محافل کا یہ ہے کہ یہ محبت رسول ا کے پھیلانے کا اظہاراور ایک ذریعہ ہے چند دلائل حاضر خدمت ہیں:۔</p>



<p>قرآن اور میلاد مصطفےٰ</p>



<p>&nbsp;(پہلی دلیل)( قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا (یونس:58)</p>



<p>فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثت محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے)</p>



<p>.امام سیوطی الدر المنثور میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فضل اﷲ سے مراد علم اور رحمت سے مراد نبی ا ہیں اور امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ انسان پہ واجب ہے کہ اﷲ کا فضل ہونے پرخوشی منائے۔</p>



<p>( دوسری دلیل )(وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَاء ِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ (ہود :120)</p>



<p>اور ہم رسولوں کے حالات کی ایک ایک خبر آپ سے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کے دل کو مضبوط کردیں۔</p>



<p>اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی خبروں سے دل کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے اور آقا نبی کریم اافضل الرسل ہیں اور آپ کا میلاد منانے میں آپ کی باتوں کا ذکر اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی کا سبب ہے جو اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی عنایت ہے۔</p>



<p>( تیسری دلیل )اَللّٰہُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَایِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْن(المائدۃ :114)</p>



<p>&nbsp;اے اﷲ ، اے ہمارے رب، ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما کہ (اس کا آنا) ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لئے عیدقرار پائے اور تیری (قدرت کی) ایک نشانی (ہو)، ہمیں روزی دے، تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ اس آیت کی تصدیق ایک اورآیہ مبارکہ کرتی ہے۔</p>



<p>(وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (مریم:33)</p>



<p>اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا ۔</p>



<p>یہ دونوں آیات مسیح علیہ السلام کے میلاد اور ان کی نعت بیان کرتی ہیں جو آج کی محافل میلاد کی پہچان اور خاصہ ہیں اور اسے بہت بڑا واقعہ ثابت کرتی ہیں جبکہ میلاد مسیح سے میلاد مصطفی اکم شان و عظمت کا واقعہ نہیں بلکہ آپ کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔</p>



<p>حدیث اور میلاد مصطفےٰا</p>



<p>( چوتھی دلیل )ِ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَیْنِ فَقَالَ فِیہِ وُلِدْتُ وَفِیہِ أُنْزِلَ عَلَیَّ (مسلم کتاب الصیام)</p>



<p>حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ا سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میری ولادت ہوئی اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ یہ حدیث بنیاد ہے محافل میلاد کی الحافظ ابن رجب الحنبلی نے کیا خوب بات کہی اپنی کتاب’’ لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف‘‘میں کہ اس میں اشارہ ہے کہ ان دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے روزہ رکھنا در اصل تجدید ہے یاددہانی کی جس دن اﷲ کی نعمت اپنے بندوں پرہو اور اس امت پر اﷲ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت رسول اﷲ اکو اس دنیا کو عطا کرنا ہے جیسے کہ فرمایا</p>



<p>( لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِہِمْ (آل عمران:164) تو روزہ یوم تجدید ہے اس نعمت کا جواﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کیا اس نعمت کا شکر ہی تجدید ہے۔مقصودصرف اس محبت تک پہنچنا ہے جو اﷲ اور اس کے رسول ا کی ان محافل کے انعقاد سے حاصل ہوتی ہے۔</p>



<p>(پانچویں دلیل ) ٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَجَدَ الْیَہُودَ یَصُومُونَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا ہَذَا الْیَوْمُ الَّذِی أَظْفَرَ اللَّہُ فِیہِ مُوسَی وَبَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَی فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُہُ تَعْظِیمًا لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْنُ أَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِہِ (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار)</p>



<p>&nbsp;حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو یہودیوں سے اس کی وجہ پوچھی گئی انہوں نے جواب دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس دن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غالب کیا تھا اس لئے ہم اس کی تعظیم میں اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہ نسبت تمہارے ہم حضرت موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں پھر آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔</p>



<p>اس حدیث سے الحافظ ابن حجر العسقلانی نے استدلال کیامحافل میلاد کے شرعی ہونے کی یہ نص ہے دن کو معین کر کے اسے ہر سال یا باربارمنانے کا اور سب سے بڑی نعمت رسول اﷲا کا یوم ولادت ہے اور اﷲ تعالی کا شکر مختلف قسم کی عبادات کی صورت میں ہوتا ہے جیسے روزہ صدقہ درود اور تلاوت وغیرہ ۔</p>



<p>( چھٹی دلیل )صحابہ کرام انبیاء کی سیرتوں کا تذکرہ کر رہے تھے تونبی کریم انے انہیں اس میلاد کا طریقہ سکھایاکہ ان تمام انبیاء کی سیرتوں کو جمع کیا جائے تو میری سیرت بنتی ہے گویا آپ سب سے افضل اور تمام انبیاء میں کامل ترین ہستی ہیں اور ان سب کی خوبیوں کے جامع ہیں تو گویا محافل میلاد کا حکم ارشاد نبوت سے ثابت ہوتا ہے جس میں سیرت رسول بیان ہوتی ہے۔امام ترمذی امام دارمی ا ورالقاضی عیاض الشفامیں یہ روایت کرتے ہیں</p>



<p>عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -صلی اﷲ علیہ وسلم- یَنْتَظِرُونَہُ قَالَ فَخَرَجَ حَتَّی إِذَا دَنَا مِنْہُمْ سَمِعَہُمْ یَتَذَاکَرُونَ فَسَمِعَ حَدِیثَہُمْ فَقَالَ بَعْضُہُمْ عَجَبًا إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِہِ خَلِیلاً اتَّخَذَ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلاً. وَقَالَ آخَرُ مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ کَلاَمِ مُوسَی کَلَّمَہُ تَکْلِیمًا وَقَالَ آخَرُ فَعِیسَی کَلِمَۃُ اللَّہِ وَرُوحُہُ. وَقَالَ آخَرُ آدَمُ اصْطَفَاہُ اللَّہُ فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ کَلاَمَکُمْ وَعَجَبَکُمْ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلُ اللَّہِ وَہُوَ کَذَلِکَ وَمُوسَی نَجِیُّ اللَّہِ وَہُوَ کَذَلِکَ وَعِیسَی رُوحُ اللَّہِ وَکَلِمَتُہُ وَہُوَ کَذَلِکَ وَآدَمُ اصْطَفَاہُ اللَّہُ وَہُوَ کَذَلِکَ أَلاَ وَأَنَا حَبِیبُ اللَّہِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاء ِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُحَرِّکُ حِلَقَ الْجَنَّۃِ فَیَفْتَحُ اللَّہُ لِیَ فَیُدْخِلُنِیہَا وَمَعِی فُقَرَاء ُ الْمُؤْمِنِینَ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَکْرَمُ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ وَلاَ فَخْرَ(الترمذی کتاب المناقب باب فی فضل النبی)</p>



<p>، حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ چند صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور جب ان کے قریب پہنچے تو انکی باتیں سنیں۔ کسی نے کہا کہ اﷲ تعالی نے اپنی تمام مخلوقات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دوست بنا لیا۔ دوسرا کہنے لگا کہ اﷲ تعالی کا موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرنا اس سے بھی تعجب خیز ہے۔ تیسرے نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام روح اﷲ ہیں۔ اور کن سے پیدا ہوئے ہیں۔ چوتھا کہنے لگا کہ اﷲ تعالی نے آدم علیہ السلام کو چن کیا۔ چنانچہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آئے اور سلام کرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے تم لوگوں کی باتیں اور تمہارا تعجب کرنا سن لیا ہے۔ کہ ابراہیم علیہ السلام اﷲ کے دوست ہیں اور وہ اسی طرح ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اﷲ کے چنے ہوئے ہیں وہ بھی اسی طرح ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام روح اﷲ ہیں اور اسکے کلمہ کن سے پیدا ہوئے ہیں یہ بھی اسی طرح ہیں۔ آدم علیہ السلام کو اﷲ نے اختیار کیا ہے وہ بھی اسی طرح ہیں۔ جان لو کہ میں اﷲ تعالی کا محبوب ہوں اور یہ میں فخریہ نہیں کہہ رہا۔ میں ہی حمد کے جھنڈے کو قیامت کے دن اٹھاؤں گا۔ یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، میں ہی سب سے پہلے جنت کی زنجیر کھٹکھٹاؤں گا اور اﷲ تعالی میرے لئے اسے کھولیں گے۔ پھر میں اس میں مومن فقراء کیساتھ داخل ہوں گا۔ یہ بھی میں بطور فخر نہیں کہہ رہا اور میں گزشتہ اور آنے والے تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہوں۔ یہ بھی میں بطور فخر نہیں کہہ رہا۔ (بلکہ بتانے کیلئے کہہ رہا ہوں) ۔</p>



<p>یہ حدیث تاکید ہے اس بات کی کہ اگر کسی کا تذکرہ ہی کرنا ہو تو ذات مصطفےٰ کی جامع و کامل سیرت کا کرو</p>



<p>&nbsp;حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوبا ں ہمہ دارند تو تنہا داری</p>



<p>اور یہ کام اﷲ کو پسند ہے تبھی تو فرشتوں کو اس کام کیلئے ہر روز روانہ فرماتا ہے</p>



<p>فقال کعب ما من فجر إلا نزل سبعون ألفا من الملائکۃ حتی یحفون بالقبر یضربون أجنحتہم ویصلوا علی النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم حتی إذا أمسوا عرجوا وہبط سبعون ألفا حتی یحفوا بالقبر فیضربون بأجنحتہم فیصلون علی النبی سبعون ألفا باللیل وسبعون ألفا بالنہار حتی إذا انشقت عنہ الأرض خرج فی سبعین من الملائکۃ یزفونہ وفی لفظ یوقرونہ- (حلیۃ الاولیاء جزء 5باب کعب الاحبار)</p>



<p>رواہ إسماعیل القاضی وابن بشکوال والبیہقی فی الشعب والدارمی وابن المبارک فی الرقائق</p>



<p>۔ حضرت کعب کہتے ہیں ہر صبح ستر ہزار فرشتے اتر کر قبر رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پر سمیٹ کر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کیلئے دعا رحمت کرتے رہتے ہیں اور ستر ہزار رات کو آتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن جب آپ کی قبر مبارک شق ہوگی تو آپ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔</p>



<p>( ساتویں دلیل ) الحافظ ابن ناصر الدین الدمشقی اپنی کتاب ’’مورد الصادی فی مولد الہادی ‘‘میں فرماتے ہیں یہ بات صحیح حدیث جو ہماراعنوان حدیث بھی ہے سے ثابت ہے کہ ابولہب کے عذاب میں بروز سوموار تخفیف ہوتی ہے کیونکہ اس نے میلاد النبیا کی خوشی میں اس دن اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا اس کے بعد یہ اشعار لکھے</p>



<p>إذا کان ہذا کافرا جاء ذمہ == وتبت یداہ فی الجحیم مخلدا</p>



<p>أتی أنہ فی یوم الإثنین دائما == یخفف عنہ بالسرور أحمدا</p>



<p>فما الظن بالعبد الذی کان عمرہ == بأحمد مسرورا ومات موحدا</p>



<p>اگر ایک کافر جس کی مذمت سورۃ اﷲب میں آچکی اورہمیشہ جہنم کا حکم بھی آچکا اگر وہ رسول اﷲا کی ولادت میں خوشی کرے تو اسے سوموار کے دن عذاب میں تخفیف ملے توبھلا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو( میلاد منائے) رسول اﷲا کی غلامی پہ خوش ہوتے ہوئے اور اﷲ کی وحدانیت پہ اس دنیا سے رخصت ہو جائے۔</p>



<p>( آٹھویں دلیل ) الحافظ جلال الدین عبد الرحمن بن أبی بکر السیوطی اپنے رسالہ &#8220;حسن المقصد&#8221; میں امام بیہقی کی یہ روایت بیان کی</p>



<p>&nbsp;عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -صلی اﷲ علیہ وسلم- عَقَّ عَنْ نَفْسِہِ بَعْدَ النُّبُوَّۃِ(السنن الکبریٰ البیہقی کتاب الضحایا)</p>



<p>، حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اﷲا نے اعلان نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ فرمایا</p>



<p>یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کے دادا عبد المطلب نے ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کیااور عقیقہ دو مرتبہ نہیں ہوتا تو رسول اﷲ ﷺ کا یہ عمل اپنے میلاد پہ اﷲ کا شکرادا کرنا جس نے ا نہیں رحمۃ اللعالمین بنایااور امت کو تعلیم دینا ہے کہ یہ میلاد منانا بدعت نہیں بلکہ مستحب ہے جس میں عقیقہ کی طرح اظہارخوشی و مسرت، لوگوں کا اکٹھا ہونا اور کھانا پکانا سبھی شامل ہے۔</p>



<p>( نویں دلیل ) یہ بات بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن کی فضیلت میں فرمایا : &#8220;فِیہِ خُلِقَ آدَمُ کہ اس دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ أخرجہ مالک فی الموطأ والترمذی</p>



<p>اگر اس دن کو شرف مل سکتا ہے جس میں تمام انسانوں کے باپ پیدا ہوئے تو اس دلیل سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ دن جس میں فخر آدم اور فخرکائینات اپیداہوئے اور یہ فضیلت صرف اس دن کو حاصل نہیں جس میں آپ تشریف لائے بلکہ اس وجہ سے سوموار کو ہمیشہ کی فضیلت حاصل ہے۔</p>



<p>&nbsp;حضرت آدم علیہ السلام کے میلاد و وصال کا دن جمعہ ہے مگر شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ وفات کا نہیں ہے اور میلاد آدم کی خوشی میں جمعہ کا دن اہل ایمان کے لئے عید کا دن بتایا گیا، ہر ہفتے میں جمعہ کے دن اہل ایمان میلاد آدم کی خوشی میں عید مناتے ہیں اور کسی کو یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ یہی دن ان کے وصال کا بھی ہے اس لئے اس دن میلاد آدم خوشی منانا اچھا کام نہیں۔</p>



<p>( دسویں دلیل ) وہ اعمال جنہیں نیکی کے طور پر اہل ایمان میلاد کے دن یا محافل میلاد میں کرتے ہیں اکثر اعمال نیکی اور قرب خدا کا ذریعہ ہیں جیسے نبی کریم ﷺ کی ذات والا پر درود،اﷲ کا ذکر ،صدقہ و خیرات ،نعت رسول مقبول ،رسول اﷲ کی عظمت و توقیر والے اعمال، آپ کی محبت اور شمائل و خصائص کا تذکرہ اور نصیحت آموز باتیں یہ سب کچھ شرعاً مطلوب اور مستحسن ہے لہذا اچھے اعمال کیلئے کسی دلیل کی نہیں محبت و خلوص کی ضرورت ہوتی ہے رسول اﷲ کی مدح صحابہ کی زبان پر ہوتی جیسا کہ بخاری کتاب الادب میں عبد اﷲ بن رواحۃ رضی اﷲ عنہ کے یہ الفاظ درج ہیں :</p>



<p>وَفِینَا رَسُولُ اللَّہِ یَتْلُو کِتَابَہُ == إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنْ الْفَجْرِ سَاطِع</p>



<p>&nbsp;أَرَانَا الْہُدَی بَعْدَ الْعَمَی فَقُلُوبُنَا == بِہِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ</p>



<p>یَبِیتُ یُجَافِی جَنْبَہُ عَنْ فِرَاشِہِ== إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْکَافِرِینَ الْمَضَاجِعُ</p>



<p>ہم میں اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جبکہ فجر کی روشنی ظاہر ہوتی ہے ہمیں گمراہی کے بعد سیدھا راستہ دکھایاچنانچہ ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ ہو کر رہے گا وہ رات گزارتے ہیں اس حال میں کہ پہلو بستر سے علیحدہ ہوتا ہے جبکہ مشرکین خوابگاہوں میں بوجھل پڑے ہوتے ہیں ۔</p>



<p>نعت کا کہنا اور سننا رسول اﷲا کے عمل سے ثابت ہے ، صحیح البخاری کتاب الأدب باب ما یجوز من الشعر میں سلمۃ بن الأکوع سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی جانب (جنگ کے ارادہ سے) چلے ہم رات میں جا رہے تھے کہ ایک شخص نے عامر سے کہا کہ تم ہمیں اپنے اشعار کیوں نہیں سناتے عامر ایک شاعر آدمی تھے (یہ سن کر) وہ نیچے اترے اور اس طرح حدی خوانی کرنے لگے</p>



<p>اللَّہُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا</p>



<p>&nbsp;فَاغْفِرْ فِدَاء ً لَکَ مَا أَبْقَیْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا</p>



<p>وَأَلْقِیَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا إِنَّا إِذَا صِیحَ بِنَا أَبَیْنَا</p>



<p>&nbsp;وَبِالصِّیَاحِ عَوَّلُوا عَلَیْنَا</p>



<p>&nbsp;اے خدا اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، نہ صدقے دیتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم تیرے نبی اور دین کے اوپر قربان ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور جنگ میں ثابت قدم رکھ۔ اور ہمیں سکون کی دولت سے نواز جب ہمیں (باطل کی طرف) بلایا جائے گا تو ہم انکار کردیں گے اور کافر غل مچا کر ہمارے خلاف اتر آئے ہیں</p>



<p>آپ نے پوچھایہ کون ہے بتایا گیا عامر بن الاکوع ہیں آپ نے فرمایا اﷲ اس پررحم فرمائے حضرت عمر نے عرض کی یارسول اﷲ انہیں تو جنت یا شہادت کا مستحق بنا دیا ہمیں کچھ لطف اندوز تو ہونے دیتے وہ اس غزوہ میں ہی شہید ہوئے۔</p>



<p>( گیارہویں دلیل )ابن تیمیۃ جو میلاد کے مخالفین کے قائد ہیں اپنی کتاب &#8220;اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ أصحاب الجحیم) میں لکھتے ہیں کہ سوال کیا گیا اس قوم کے متعلق جو رات کو عبادت اوردعا کیلئے اکٹھے ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا : &#8220;أرجو أن لا یکون بہ بأس&#8221; میراخیال ہے کوئی حرج نہیں تو أبو سری الحربی نے کہا اے أبو عبد اﷲ اس سے اچھی بات اورکیا ہو گی کہ لوگ اس بات کیلئے اکٹھے ہوں جس میں نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھیں اور اﷲ کی ان نعمتوں کا ذکر کرین جو ان پر ہوئیں جیسے کہ انصار نے کیاتھا ؟ &#8230;</p>



<p>انصار جب اسلام لائے تو رسول اﷲا کے مدینہ تشریف لانے سے قبل وہ جمعہ کو جسے پہلے یوم العروبہ کہتے تھے ا ﷲ کی نعمتوں کا ذکر کرنے نمازادا کرنے اور شکر ادا کرنے کیلئے حضرت اسدبن زرارہ کے گھر اکٹھے ہوئے جنہوں نے ان سب کیلئے ایک بکری ذبح کی تھی (مصنف عبد الرزاق)</p>



<p>&nbsp;اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ان محافل کا اہتمام کرنا اور دن کو مخصوص کرنا استحباب کے حکم میں ہے کہ انصار نے بھی اپنے مسلمان ہونے کا شکر ادا کرنے کیلئے یہ محفل سجائی تھی</p>



<p>( بارہویں دلیل )عید خوشی و مسرت کی علامت اور توقیر و عظمت کا مظہر ہوتی ہے جیسے عید الفطر رمضان المبارک کی تعظیم کا اظہار ہے اور عید الاضحیٰ مناسک حج ادائیگی اور سنت ابراہیمی کی تعظیم کا نام ہے رمضان شریف کی فضیلتیں آں حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ہم پر ظاہر ہوئیں اور انہی فضیلتوں سے متمتع ہونے کے بعد ہم عیدالفطر کی مسرتوں کے مستحق ہوئے اسی طرح آں حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ہی ہمیں حج اور قربانی کے طریقے سکھائے جسکی بناء پر ہمیں عیدالاضحٰی کی خوشیاں نصیب ہوئیں پس یوم مبارک عیدین سعیدین کی تقریبات کا مبداء ہے وہ تو کہیں زیادہ مسرت و ابتہاج کا دن ہے اور وہ ہی تو ایسا دن ہے جسے ہم سب سے بڑی عید کا دن کہہ سکتے ہیں جبکہ میلادالنبی عیدوں کی عید ہے جو رسول اﷲا کی تشریف آوری کی حقیقی خوشی کا اظہار ہے اس لئے یہ عید الاکبر ہے اہل ایمان کیلئے جو آپ کی تعظیم و توقیر کرنے والے ہیں۔ اور اس کی دلیل یہ حدیث مبارکہ</p>



<p>( ما اجتمع قوم فی بیت من بیوت اﷲ یتلون کتاب اﷲ ، ویتدارسونہ بینہم إلا نزلت علیہم السکینۃ وغشیتہم الرحمۃ وحفتہم الملائکۃ وذکرہم اﷲ فیمن عندہ ) (مسلم کتاب العلم کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ باب فَضْلِ الاِجْتِمَاعِ عَلَی تِلاَوَۃِ الْقُرْآنِ وَعَلَی الذِّکْرِ)</p>



<p>&nbsp;جو قوم بھی بیٹھ کر اﷲ رب العزت کے ذکر میں مشغول ہوتی ہے فرشتے انہیں گھیر لتے ہیں اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ ان پر نازل ہوتی ہے اور اﷲ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔</p>



<p>اہل ایمان کا شعار ہے کہ رحمت کائینات ا کا ذکر کر کے اپنی نجات اوراور نزول رحمت کے حقدار بنتے ہیں</p>



<p>جس کا ثبوت امام الجلیل سفیان بن عیینۃ نے دیا : &#8220;عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ&#8221; أخرجہ أبونعیم فی حلیۃ الأولیاء الجز ء السابع عن سفیان بن عیینۃجہاں نیک لوگوں کا ذکر ہوتا ہے وہاں اﷲ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25db%258c%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%2592%25d9%25b0%25ef%25b7%25ba%2F&#038;title=%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%92%D9%B0%EF%B7%BA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%af-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%92%d9%b0%ef%b7%ba/" data-a2a-title="میلاد مصطفےٰﷺ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%af-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%92%d9%b0%ef%b7%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>طئ زمانی طئ مکانی-وقت اورفاصلوں کا سمٹنا</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b7%d8%a6-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a6-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%b5%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d9%b9%d9%86/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b7%d8%a6-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a6-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%b5%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d9%b9%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 01:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[اصحاب کہف کا واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[امور عادیہ کے خلاف]]></category>
		<category><![CDATA[سورای کی ایک رکاب سے دوسری کے درمیان قرآن ختم]]></category>
		<category><![CDATA[واقعہ معراج]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=796</guid>

					<description><![CDATA[طئ زمانی طئ مکانی-وقت اورفاصلوں کا سمٹنا Iعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ خُفِّفَ عَلَی دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَام الْقُرْآنُ فَکَانَ یَأْمُرُ بِدَوَابِّہِ فَتُسْرَجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّہُ وَلَا یَأْکُلُ إِلَّا مِنْ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b7%d8%a6-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a6-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%b5%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d9%b9%d9%86/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1>طئ زمانی طئ مکانی-وقت اورفاصلوں کا سمٹنا</h1>
<p>Iعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ خُفِّفَ عَلَی دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَام الْقُرْآنُ فَکَانَ یَأْمُرُ بِدَوَابِّہِ فَتُسْرَجُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّہُ وَلَا یَأْکُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ یَدِہِ</p>



<p>( بخاری کتاب الانبیاء باب قول اﷲ تعالیٰ واتینا داود زبورا)</p>



<p> حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے (زبور) کی تلاوت بہت آسان کر دی گئی تھی حتیٰ کہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے تو اس پر زین کسی جاتی تو وہ زین کسنے سے پہلے پڑھ چکتے تھے اور اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔</p>



<p>  حدیث سے گویہ واضح نہیں ہوتا کہ سواری کے جانور پر زین کسنے کا کام کتنے عرصہ میں مکمل ہوتا تھا ، لیکن یہ ثابت ہوا کہ وہ عرصہ بہرحال اتنا طویل نہیں ہوتا تھا جس میں پوری زبور کی تلاوت مکمل کرلینا عام طور پر ممکن ہوتا، یہ صرف حضرت داؤد علیہ السلام کا وصف تھا کہ وہ تھوڑے عرصہ میں زبور جیسی کتاب کی تلاوت کرلیتے تھے ۔ تبھی تو اس بات کا اس انداز میں ذکر کیا جارہا ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کو یہ وصف فوق العادت کمال کے طور پر حاصل تھا ، اور اس خصوصی عطیہ خداوندی سے تعلق رکھتا تھا کہ رب کریم اپنے نیک اور مخصوص بندوں کے لئے زمانہ اور وقت کی طناب کھینچ بھی دیتا ہے اور ڈھیلی بھی کردیتا ہے ، کبھی ایک مختصر ساعرصہ ان بندگان خاص کے حق میں طویل عرصہ کے برابر ہوجاتا ہے اور کبھی ایک طویل عرصہ ایک مختصر عرصہ کے برابر کردیا جاتا ہے ۔جسے عام اصطلاح میں طی زمانی(صدیوں پر محیط وقت کا چند لمحوں میں سمٹ آنے کو طئی زمانی ) اور طی مکانی(لاکھوں کروڑوں میلوں کی وُسعتوں میں بکھری مسافتوں کا ایک جنبشِ قدم میں سِمٹ آنے کو طئی مکانی ) کہتے ہیں۔ جس کی مزید وضاحت سنن نسائی کی اس حدیث میں ہے</p>



<p>                حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا خرچہ کرنے اور خیرات کرنے والے شخص اور کنجوس آدمی کی مثال اس طرح سے ہے کہ دو آدمی جن پر کرتہ یا لوہے کی زرہ ہے جو کہ اس کے سینہ سے لے کر ہنسلی تک ہے جس وقت خرچہ کرنے والا خرچہ کرنا چاہتا ہے تو اس کی زرہ لمبی چوڑی ہو جاتی ہے اور اس کے قدم تک کو وہ ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے چلنے کے نشان مٹ جاتے ہیں لیکن جس وقت کوئی کنجوس آدمی خرچہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ سمٹ جاتی ہے اور اس کا سر ایک چھلہ دوسرے چھلہ کو پکڑ لیتا ہے حتی کہ اس کی گردن یا ہنسلی کو پکڑ لیتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ نے کہا میں نے نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کو کشادہ فرماتے اور وہ زرہ کشادہ نہیں ہوتی تھی۔ طاؤس بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ کو دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے اس کو کشادہ فرماتے ہوئے (خود) دیکھا ہے۔ لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتی تھی۔</p>



<p>                 اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ سخی انسان جب خدا کی خوشنودی کے لیے اپنا مال خرچ کرنے کا قصد کرتا ہے تو اس جذبہ صدق کی بنا پر اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے قلب و احساسات کے تابع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مال خرچ کرنے کے لیے دراز ہوتے ہیں اس کے برخلاف ایسے مواقع پر بخیل انسان کا سینہ تنگ ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ سمٹ جاتے ہیں۔ اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ جب سخی انسان خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو توفیق الٰہی اس کے شامل حال ہوتی ہے بایں طور کہ اس کے لیے خیر و بھلائی اور نیکی کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے اور بخیل کے لیے نیکی و بھلائی کا راستہ دشوار گزار ہو جاتا ہے۔اگرچہ چیز ایک ہے جو تنگی یا وسعت اختیار کرتی ہے ۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">قرآنِ حکیم میں طئی مکانی کا ذکر</h2>



<p>                حضرت سلیمان علیہ السلام ملکۂ سبا بلقیس کے تخت کے بارے میں اپنے درباریوں سے سوال کرتے ہیں :</p>



<p class="has-text-align-right">                اے دربار والو! تم میں سے کون اُس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لا سکتا ہے۔ جبکہ بیت المقدس سے مآرب یمن کا فاصلہ ڈیڑھ ہزار میل کا ہے جسے دو طرفہ شمار کیا جائے تو تین ہزار میل بنتا ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right">                ایک جن نے کہامیں اُسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اِس کے کہ آپ اپنے مقام سے اُٹھیں ۔جبکہ آپ کے ایک صحابی آصف بن برخیا جس کے پاس کتابُ اﷲ کا علم تھاکہنے لگا أَنَا آتِیکَ بِہِ قَبْلَ أَن یَرْتَدَّ إِلَیْکَ طَرْفُک (النمل، 27 : 40)</p>



<p class="has-text-align-right">                 میں اُسے آپ کے پاس لا سکتا ہوں قبل اِس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے۔</p>



<p class="has-text-align-right">                حضرت سلیمان علیہ السلام کا ایک برگزیدہ صحابی آنکھ جھپکنے سے پیشتر تختِ بلقیس اپنے نبی کے قدموں میں حاضر کر دیتا ہے۔ یہ طئی مکانی کی ایک نا قابلِ تردِید قرآنی مثال ہے کہ فاصلے سمٹ گئے، جسے قرآن حکیم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک اُمتی سے منسوب کیا ہے۔ جس کے پاس کتاب الٰہی کا علم تھا، اﷲ تعالیٰ نے کرامات اور اعجاز کے طور پر اسے یہ قدرت دے دی کہ پلک جھپکتے میں وہ تخت لے آیا۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">حدیث میں طئی مکانی کا ذکر</h2>



<p class="has-text-align-right">                 حدیث میں یوں ملتا ہے توبہ کی غرض سے سو قتل کرنے والا جب بیت المقدس کی طرف جا رہا تھا اسے موت آگئی تو اﷲ نے اس بستی (بیت المقدس کو) یہ حکم دیا کہ اے بستی (اس سے) نزدیک ہو جا اور اس بستی کو (جہاں اس نے گناہ کا ارتکاب کیا تھا) یہ حکم دیا کہ تو دور ہو جا اور (فرشتوں کو حکم دیا کہ) دونوں بستیوں کی مسافت ناپو (دیکھو یہ مردہ کس بستی کے قریب ہے چنانچہ) وہ مردہ اس بستی سے (جواولیاء اﷲ کا مسکن تھی) فاصلہ ناپتے وقت بالشت بھر نزدیک نکلی خدا نے اسے بخش دیا۔اس کا تفصیلی ذکر بخاری میں ہے</p>



<p class="has-text-align-right">                 حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے (ایران کے صوبہ ہمدان کے جنوب میں واقع مقام نہاوندہ کو) جولشکر بھیجا تھا ) اس (کے ایک حصہ فوج ) کا سپہ سالار ساریہ نامی شخص کو بنایا تھا، (ایک دن) جب کہ فاروق اعظم (مسجد نبوی میں) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے (اور حاضرین میں اکابر صحابہ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین وتابعین عظام رحمہم اﷲ تعالیٰ علیہم بھی تھے ) تو انہوں نے (دوران خطبہ ) اچانک چلاچلا کر کہنا شروع کیا کہ ساریہ ! پہاڑ کی طرف جاؤ (یعنی میدان جنگ کا موجودہ مورچہ چھوڑ کر پہاڑ کے دامن میں چلے جاؤ اور پہاڑ کو پشت بنا کر کے نیا مورچہ بنا لو ) لوگوں کو یہ سن کر بڑا تعجب ہوا اور پھر جب (چند دنوں کے بعد ) لشکر سے ایک ایلچی آیا اور اس نے (میدان جنگ کے حالات سنا کر ) کہا کہ امیر المؤمنین !دشمن نے تو ہمیں آلیا تھا اور ہم شکست سے دوچار ہوا ہی چاہتے کہ اچانک (ہمارے کانوں میں ایک شخص کی آواز ) جو چلا چلا کر کہہ رہا تھا : ساریہ ! پہاڑ کی طرف جاؤ &#8221; چنانچہ (یہ آواز سن کر ) ہم نے (اپنا وہ مورچہ چھوڑ دیا اور پہاڑ کی سمت جا کر ) پہاڑ کو اپنا پشت بان بنالیا اور پھر اﷲ تعالیٰ نے دشمنوں کو شکست دی (اس روایت کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے ۔&#8221;</p>



<h2 class="wp-block-heading">قرآنِ حکیم میں طئی زمانی کا ذکر</h2>



<p class="has-text-align-right">                 اَصحابِ کہف اور حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعات طئی زمانی کی مثالیں ہیں۔ جن سے واضح ہوتا ہے کہ وقت تھم گیا اور مادّی اَجسام بھی محفوظ رہے اور صدیوں پر محیط عرصہ بھی بیت گیا۔</p>



<p class="has-text-align-right">                 اصحابِ کہف تین سو نو سال تک ایک غار میں لیٹے رہے اور جب سو کر اٹھے تواُن میں سے ایک نے کہا : ہم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے ؟ سب نے کہا : ہم (یہاں) ایک دن یا اُس کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرے ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">                 309سال تک اصحابِ کہف اور اُن کا کتا غار میں مقیم رہے کھانے پینے سے بے نیاز قبر کی سی حالت میں رہے۔ سورج اُن کی خاطر اپنا راستہ بدلتا رہا تاکہ اُن کے جسم موسمی تغیرات سے محفوظ رہیں۔ اُن کے اَجسام تروتازہ رہے۔جبکہ وہ خود صدیوں پر محیط اُس مدت کو محض ایک آدھ دِن خیال کرتے رہے۔اﷲ تعالی نے سورج کے طلوع و غروب کے اُصول تک کو بدل ڈالا ۔</p>



<p class="has-text-align-right">                خدائے رحمٰن و رحیم نے اپنی خصوصی رحمت سے اصحابِ کہف کو تھپکی دے کر پُرکیف نیند سلا دیا اور اُن پر عجیب سرشاری کی کیفیت طاری کردی۔ پھر اُنہیں ایک ایسے مشاہدۂ حق میں مگن کردیا کہ صدیاں ساعتوں میں تبدیل ہوتی محسوس ہوئیں۔ جیسا کہ قیامت کا دِن بھی طئی زمانی ہی کی ایک صورت میں برپا ہو گا، جس میں پچاس ہزار سال کا دِن اﷲ کے نیک بندوں پر عصر کی چار رکعتوں کی اَدائیگی جتنے وقت میں گزر جائے گا، جبکہ دیگر لوگوں پر وہ طویل دِن ناقابلِ بیان کرب و اَذیت کا حامل ہو گا۔تصوف کی اصطلاح میں مشاہدۂ حق کے اِستغراق میں وقت سمٹ جاتا ہے اور صدیاں لمحوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔</p>



<p class="has-text-align-right">                حضرت عزیر علیہ السلام نے حصولِ حق الیقین کے لئے اﷲ تعالیٰ سے طئی زمانی کے بارے میں سوال کیا۔ اﷲ تعالیٰ نے اُن پر ایک سو سال کے لئے موت طاری کر دی ۔ پھر اُنہیں زندہ کیا۔ تو پوچھا : آپ یہاں کتنی دیر ٹھہرے رہے)؟ تو جواب میں کہنے لگے لَبِثْتُ یَوْمًا أَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِئَۃَ عَامٍ(البقرۃ: 259)</p>



<p class="has-text-align-right">                میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں۔ فرمایا : (نہیں) بلکہ تو سو برس پڑا رہا (ہے)۔</p>



<p class="has-text-align-right">                سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی سواری کے ایک رکاب میں پیر رکھتے وقت قرآن کریم پڑھنا شروع کرتے اور دوسرے رکاب میں پیر ڈالنے تک پورے قرآن کی تلاوت ختم کرلیتے تھے ۔ اسے شواہد النبوت نے نقل کیا ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right">                علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں مجھے برہان بن ابی شریف نے یہ بات بتائی کہ ابو طاہر المقدسی جو ان کے ہم عصرتھے وہ ایک دن رات میں قرآن پاک کے دس ختم فرماتے تھے ۔(الجامع الصغیر من حدیث البشیر النذیر امام جلال الدین السیوطی)</p>



<p class="has-text-align-right">                امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ یہ بات ہم تک پہنچی ہے کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو ایک رات میں چار قرآن پاک اور ایک رات میں چار قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور ایسے حٖفاظ کرام بھی دیکھے جولیلۃ القدر کی رات وتر کی ہر رکعت میں قرآن پاک ختم کرتے گویا وتروں میں تین ختم تلاوت کر لیتے ۔(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری)</p>



<p class="has-text-align-right">                علامہ عبد الرحمان الجامی قدس اﷲ سرہ السامی اپنی کتاب ’’ نفحات الأنس فی حضرات القدس‘‘میں بعض مشائخ کا ذکر فرماتے ہیں کہ وہ دوران طواف حجر اسود سے لیکر باب کعبہ تک(چند گز کا فاصلہ ہے) پہنچتے پہنچتے قرآن پاک کا ختم مکمل کر لیتے۔ اسی طرح شیخ شہاب الدین السہروردی کے بیٹے فرماتے ہیں کہ میرے والد حضور بھی حجر اسود سے باب کعبہ تک ایک ایک کلمہ اور ایک ایک حرف کے ساتھ اول سے آخر تک تلاوت کر لیا کرتے تھے ( مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح)</p>



<h2 class="wp-block-heading">طئی مکانی اور طئی زمانی کا امتزاج</h2>



<p class="has-text-align-right">                 خدائے قدیر و خبیر اپنے برگزیدہ انبیائے کرام اور اولیائے عظام میں سے کسی کو معجزہ اور کرامت کے طور پر طئی زمانی اور کسی کو طئی مکانی کے کمالات عطا کرتا ہے لیکن حضور رحمتِ عالم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا سفرِ معراج معجزاتِ طئی زمانی اور طئی مکانی دونوں کی جامعیت کا مظہر ہے۔ جس میں زمانے اور فاصلے دونوں سمٹ گئے سفر کا ایک رخ اگر طئی زمانی کا آئینہ دار ہے تو اُس کا دوسرا رخ طئی مکانی پر محیط نظر آتا ہے۔ معراج النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے دوران میں اِن معجزات کا صدور نصِ قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔</p>



<p class="has-text-align-right">                ایسے واقعات اگرچہ خرق عادت ہیں تاہم موجودہ علوم نے ایسی باتوں کو بہت حد تک قریب الفہم بنادیا ہے۔ مثلاً یہی زمین جس پر ہم آباد ہیں سورج کے گرد سال بھر چکر کاٹتی ہے اور اس کی رفتار چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ بنتی ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس قدر عظیم الجثہ کرہ زمین برق رفتاری کے ساتھ چکر کاٹ رہا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا اور یہ ایسی بات ہے کہ ہم ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ اب اس زمین کی جسامت اور وزن کے مقابلہ میں ملکہ بلقیس کے تخت کی جسامت اور وزن دیکھئے اور مارب یمن سے بیت المقدس کا صرف ڈیرھ ہزار میل فاصلہ ذہن میں لاکر غور فرمائے گا کہ اگر پہی بات ممکن ہے تو دوسری کیوں ممکن نہیں ہوسکتی۔</p>



<p class="has-text-align-right">                کرامت اور معجزہ نام ہی ایسے کاموں کا ہے جو ظاہری اسباب اور امور عادیہ کے یکسر خلاف ہوں اور وہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہی ظہور پذیر پاتے ہیں۔ اس لئے نہ شخصی قوت قابل تعجب ہے اور نہ اس علم کا سراغ لگانے کی ضرورت، جس کا ذکر یہاں ہے۔ کیونکہ یہ تو اس شخص کا تعارف ہے جس کے ذریعے سے یہ کام ظاہری طور پر انجام پایا، ورنہ حقیقت میں تو یہ مشیت الٰہی ہی کی کار فرمائی ہے جو چشم زدن میں، جو چاہے، کر سکتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے، اس لئے انہوں نے دیکھا کہ تخت موجود ہے تو اسے فضل ربی سے تعبیر کیا۔</p>



<p class="has-text-align-right">                 طئی مکانی اور طئی زمانی کی بات ہم جسے کوتاہ فہم اور قاصر الادراک لوگوں کیلئے اگرچہ بہت بڑی بات ہے، لیکن جس قادر مطلق اور خالق و مالک کل کی قدرت مطلقہ کے اعتبار سے یہ کچھ بھی مشکل نہیں بھلا جس کی قدرت کے یہ عظیم الشان مظاہر اس دنیا میں موجود ہیں کہ اسکے ایک حکم و ارشاد سے حکمتوں اور عجائب بھری یہ کائنات وجود میں آگئی اور سورج و چاند اور ان سے بھی کہیں بڑے سیارے آن کی آن میں لاکھوں میل کا سفر طے کرتے ہیں اور جسکی قدرت کے انوکھے مظہر کاپرتو وہ انبیائے کرام اور اولیائے صالحین ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی قربت کے ایسے راستے دکھائے جن پر چلنے والے ا ﷲ کی قربت کے حقدار بن جاتے ہیں اور سلوک نام ہی ان اﷲ کی قربتوں کا سفر کرنا ہے ۔اسی کا نام معرفت اور سلوک ہے جو اﷲ کے خاص فضل اور کسی کامل کی سچی غلامی کے صدقے میسر آتا ہے کہ تھوڑے سے زمانے میں اﷲ کی قربتوں کا سفر اس قدر طے ہو جاتا ہے کہ انسان کی عقل حیران و ششدر رہ جاتی ہے اور بہت سی برائیاں جو انسان کو چھوڑنا مشکل نظر آتی ہیں چند لمحے کسی کام کی صحبت میں بیٹھنے سے ہمیشہ کیلئے رخصت ہو جاتی ہیں ان میں بھی یہی طئی زمانی و مکانی کا عمل کار فرما ہوتا ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&amp;linkname=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d8%25b2%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25a6-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2588%25d9%2582%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d9%25b9%25d9%2586%2F&#038;title=%D8%B7%D8%A6%20%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%D8%B7%D8%A6%20%D9%85%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%88%D9%82%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B3%D9%85%D9%B9%D9%86%D8%A7" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b7%d8%a6-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a6-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%b5%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d9%b9%d9%86/" data-a2a-title="طئ زمانی طئ مکانی-وقت اورفاصلوں کا سمٹنا"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b7%d8%a6-%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b7%d8%a6-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%88%d9%82%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%a7%d8%b5%d9%84%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d9%85%d9%b9%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حقیقت نور محمدی ﷺ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c-%ef%b7%ba/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c-%ef%b7%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 01:36:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[امی کا مفہوم]]></category>
		<category><![CDATA[کائنات کی اصل]]></category>
		<category><![CDATA[نور کی چھڑی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=794</guid>

					<description><![CDATA[Óعَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلَیْنِ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَیْلَۃٍ مُظْلِمَۃٍ وَإِذَا نُورٌ بَیْنَ أَیْدِیہِمَا، حَتَّی تَفَرَّقَا، فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَہُمَا وَقَالَ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، إِنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ، وَرَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c-%ef%b7%ba/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>Óعَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَجُلَیْنِ، خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَیْلَۃٍ مُظْلِمَۃٍ وَإِذَا نُورٌ بَیْنَ أَیْدِیہِمَا، حَتَّی تَفَرَّقَا، فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَہُمَا وَقَالَ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، إِنَّ أُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ، وَرَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، کَانَ أُسَیْدُ بْنُ حُضَیْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّم</p>



<p>َ(الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وسننہ وأیامہ کِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ مَنْقَبَۃِ أُسَیْدِ بْنِ حُضَیْرٍ، وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا)</p>



<p>&nbsp;حضرت انس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی ایک تاریک رات میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے تو ان دونوں کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا حتیٰ کہ جب وہ دونوں جدا ہوئے تو وہ نور بھی ان کے ساتھ الگ الگ ہو گیا معمر نے بواسطہ ثابت اور انس کہا ہے کہ یہ دونوں اسید بن حضیر اور ایک دوسرے انصاری تھے اور حماد نے بواسطہ ثابت و انس بیان کیا کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس تھے اور یہ ان دونوں ہی کا واقعہ ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضرت اسید بن حضیراور عباد بن بشررضی اﷲ تعالیٰ عنھما ایک انتہائی اندھیری رات میں جب کہ چاندنی کاکو ئی اثر موجود نہ تھا رسول اﷲﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے کے بعد گھر جانے کیلئے روانہ ہوئے تو رسول اﷲﷺنے انہیں ایک چھڑی عطا فرمائی جوان کے ہاتھوں میں ایک روشن چراغ کی طرح چمک رہی تھی اور راستے کوروشن کر رہی تھی جب وہ علیحدہ ہوئے تو بعض روایات میں اسے دو حصوں میں کیا اور بعض میں ایک اور شاخ کوپہلی شاخ کے ساتھ لگا کر روشن کر لیاجیسے آگ کو دوسری چیز کے ساتھ لگایا جاتا ہے اوروہ دونوں علیحدہ علیحدہ روشن ہو گئیں حتی کہ وہ دونوں صحابی اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔</p>



<p>                علامہ زرقانیؒ فرماتے ہیں کہ یہ اہل ایمان کی وہ خصوصیت ہے جو انہیں جنت میں عطا ہونا ہے جبکہ اس حدیث میں ان صحابہ کو یہ خصوصیت اس دنیا میں ہی عطاہوگئی۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس حدیث مبارکہ سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جب ظاہری (چاند یا سورج کا) نور موجود نہ تھا تو ان صحابہ کو وہ باطنی نور عطا ہوا جو عام طور پر اہل ایمان کے قلوب، چہروں اور آنکھوں میں موجود ہوتاہے اور انہیں اس دنیا میں آقا کریمﷺ کی غلامی کی برکت کے اعزازمیں عطا فرمایا جس کا ذکر کئی دوسری روایات میں بھی موجود ہے ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; مثلاًشمائل الشریفہ اور کتاب الشفا میں ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;حضرت قتادہ بن نعمان رضی اﷲ عنہ نے ایک نہایت تاریک رات میں آپ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب گھر جانے لگے ایک لاٹھی عطا فرمائی اور ساتھ ہی یہ فرمایا یہ لاٹھی آپ کے آگے اور پیچھے دس دس گز تک روشنی دے گی تو پھر جب تم گھر میں داخل ہوگے تو اندھیرا دیکھو گے تو اسے مارنا یہاں تک کہ وہ چلا جائے وہ شیطان ہے پس وہ تشریف لے گئے اور لاٹھی نے انہیں فرمان نبوی کے مطابق روشنی دی اور اسی طرح جب وہ گھر میں داخل ہوئے اور سیاہی بھی پائی اور اسے جب اسی روشنی سے مارا تو و ہ سیاہی نکل گئی۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;سنن ابوداؤدمیں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھاسے روایت ہے کہ جب (شاہ حبشہ) نجاشی انتقال کر گیا تو لوگ ہم سے بیان کرتے تھے کہ اس کی قبر پر ہمیشہ نور برستا ہے ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ نور ہے کیا؟ایک حدیث میں ہے</p>



<p>                إِنَّ الْحَسَدَ یُطْفِءُ نُورَ الْحَسَنَات(سنن ابوداؤد)                حسد نیکیوں کے نور کو ختم کر دیتا ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; بخاری میں حضرت ابن عباس کاقول نقل ہے</p>



<p>                 یُنْزَعُ مِنْہُ نُورُ الإِیمَانِ فِی الزِّنَا                حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایمان کا نور زنا کی وجہ سے چھین لیا جاتا ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;مسلم میں ہے وَالصَّلاَۃُ نُورٌ نماز نور ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جامع ترمذی میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے سفید بال نکالنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ مسلمان کا نور ہیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; بھلا جو نورحسد اور زنا جیسے گناہوں سے ختم ہوتا اور نماز جیسی نیکیوں سے بڑھتا اور سفید بالوں کی صورت میں دکھائی دیتاہو اگر اسی نور کو رسول اﷲﷺ کی ذات سے منسوب کیا جائے تو نہ جانے کچھ لوگ اس پہ کیوں بھڑک اٹھتے ہیں جبکہ سیرت و احادیث نبویہ موجود ہیں ۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;السیرۃ الحلبیۃ إنسان العیون فی سیرۃ الأمین المأمون میں ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ’’حضرت جابربن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے پوچھایارسول اﷲﷺ، اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیزکوپیداکیا آپ نے فرمایا: وہ تیرے نبی کانور ہے جسے اس نے اپنے نورسے پیداکیا،پھراس نورسے ہرخیروشر کوپیدا فرمایا، جب اس نورکوپیدافرمایاتواسے مقام قرب کے سامنے بارہ ہزارسال رکھا،پھراس کے چارحصے کئے ایک سے عرش دوسرے سے کرسی تیسرے سے حاملین عرش وخاز ن کرسی کوپیدا فرمایا، چوتھے کومقام حب میں بارہ ہزارسال رکھاپھراسے چارحصوں میں تقسیم فرمایا ایک سے قلم دوسرے سے روح اورتیسرے سے جنت کوپیدا فرمایااورچوتھے کومقام خوف میں بارہ ہزارسال رکھا پھراس کے چارحصے کئے ایک سے ملائکہ دوسرے سے سورج تیسرے سے چاندستاروں کوپیدافرمایااورچوتھے کوبارہ ہزارسال مقام رجامیں رکھاپھراس کے چارحصے کئے ایک سے عقل دوسرے سے حلم وعلم اورتیسرے عصمت وتوفیق وپیداکیا اور چوتھے کوبارہ ہزارسال مقام حیامیں رکھاالمختصر ساتوں آسمان جنت اور اسکی نعمتیں سورج چاند ستارے عقل علم اور توفیق انبیاء و رسل کی ارواح شہداء و صالحین اور سعداء سب کو میرے اس نور سے پیدافرمایا پھر جب میرے نور کو حجاب سے نکالا تو زمین مشرق و مغرب ایسے روشن ہو گئے جیسے اندھیری رات میں روشن چراغ سے روشنی پھیلتی ہے۔ جب آدمؑ میں اﷲ تعالیٰ نے روح پھونکی تومیرے نورکوآدمؑ کی پیٹھ میں رکھدیاتوفرشتے صفیں بناکرآدمؑ کے پیچھے کھڑے ہوتے اوراس نورکی زیارت سے مشرف ہوتے تھے، آدمؑ نے رب سے پوچھایہ میری پیٹھ کے پیچھے کیادیکھتے ہیں،تورب تعالیٰ نے فرمایایہ خاتم النبیین محمد ﷺ کانورہے جوتمہاری پشت میں سے ظاہرہوتاہے فرشتے اس کی زیارت کرتے ہیں،آدمؑ نے عرض کیامولیٰ اس نورکومیرے سامنے والے حصے میں رکھدے تاکہ فرشتے میرے سامنے سے اس نور کی زیارت کیاکریں تونوران کی پیشانی میں آگیا،پھرعرض کیا اسکوایسی جگہ رکھ کہ میں بھی اس کی زیارت کرسکوں تواسے آپ کی شہادت کی انگلی ظاکردیاگیا،جب آدمؑ زمین پرآئے توپھرآپ کی پیٹھ میں منتقل کردیاگیالیکن وہ نورآپ کی پیشانی میں بھی چمکتاتھا، اورایک روایت میں ہے جب وہ نورآپکی شہادت کی انگلی میں آیاتوآپ نے عرض کی اے رب کیا نورکاکچھ حصہ اورباقی ہے توفرمایاہاں وہ آپ کے اصحاب خاص کانور ہے،توعرض کی اے پروردگاراس نورکومیری باقی انگلیوں میں رکھدے توابوبکرؓکے نورکووسطیٰ(درمیان والی انگلی)میں رکھ دیا،عمرؓکے نورکوبنصرمیں ،عثمانؓ کے نورکوخنصرمیں اورعلیؓکے نورکوابھام (انگوٹھے) میں رکھ دیا،لیکن جب آدم ؑ نے ممنوعہ درخت کھالیاتووہ نور پھرپیٹھ میں چلاگیا،پھروہ نوران کی اولاد کی طرف منتقل ہوتارہا الخ)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جبکہ ا س گروہ منکرین کے محمد انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں :یہ جوبعض روایات میں( أول ما خلق اﷲ نوری)آیاہے اس سے مرادیہ ہے کہ اول المخلوقات حضورﷺ کانورمبارک ہے۔</p>



<p>مزید لکھتے ہیں</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اور مغیرہ بن سعید فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے تمام مخلوق کے سائے ان کے اجساد سے پہلے پیدا فرمائے اور سایوں میں سب سے پہلا سایہ سایۂ محمدی کو پیدا فرمایا اور پھر سایۂ محمد کو تمام سایوں کی طرف بھیجا ( العرف ا لشذی)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; تفسیرروح البیان میں علامہ إسماعیل حقی فرماتے ہیں</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ’’ اﷲ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کو نور بناکر مبعوث فرمایا اور اپنی ذات کو بھی نور فرمایا(اللَّہُ نُورُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ )پھریہ دونوں نورعدم کی تاریکیوں میں مخفی تھے تومخلوق کوپیدا فرماکر انکو ظاہرفرمایا،توپہلی چیز جسے رب تعالی نے اپنی قدرت کے نور سے عدم کی تاریکیوں سے ظاہر فرمایا وہ نور محمد ﷺ ہے۔حضور ﷺ فرماتے ہیں( (انا من اﷲ والمؤمنون منی) وقال تعالی قَدْ جاء َکُمْ مِنَ اللَّہِ نُورٌ)نبی کریم ﷺسے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا:میں اپنے رب کے سامنے تخلیق آدمؑ سے چودہ ہزارسال پہلے نور تھایہ نورایک تسبیح پڑھتاتھااور ملائکہ وہی تسبیح دھراتے تھے، جب اﷲ تعالی نے آدم علیہ السلام کوپیدا فرمایاتواس نور کوآدمؑ کی صلب میں رکھ کرزمین کی طرف اتارا،پھراسے نوحؑ کی پشت میں رکھاجب وہ کشتی میں تھے، اورابراہیمؑ کی پشت میں پھر ہمیشہ مجھے اصلاب کریمہ سے ارحام طاہرہ کی طرف منتقل کرتارہاحتی کہ مجھے اپنے والدین کریمین کے درمیان سے دنیا میں بھیجااور آباوٗاجداد میں سے کوئی بھی سفاح(بدکاری)کے طورپر نہیں ملے۔</p>



<p>&nbsp;عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطیؒایک سوال کاجواب دے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ اول توایک چیز ہوتی ہے حالانکہ دوسری احادیث میں اور چیزوں کوبھی اول المخلوقات کہا گیا ہے جیسے إنَّ أوَّل ما خلق اﷲ العقل&#8221;، &#8220;إنَّ أوَّل ما خلق اﷲ نوری&#8221;، &#8220;إنَّ أول ما خلق اﷲ الروح&#8221;، &#8220;إنَّ أول ما خلق اﷲ العرش&#8221;.)توجواب دیا کہ یہاں اولویت اموراضافیہ میں سے ہے مطلب یہ ہے کہ مما ذکر میں سے ہر ایک اپنی جنس کی کی چیزوں کے لحاظ اول تخلیق ہوئیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; الہدیۃ الہادیۃ إلی الطائفۃ التجانیۃمیں صاحب الرماح، الشیخ محی الدین ابن عربی الحاتمی &#8211; رضی اﷲ تعالی عنہ کے حوالے بیان ہوا کہ</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;’’آدم ؑ سے لیکرعیسیٰؑ تک ہرایک نبی ، مشکاۃ خاتم النبین سے علوم نبوت اخذ کرتے رہے ہیں،اگرچہ آپ وجود عنصری کے اعتبارسے آخر میں آئے ہیں مگر حقیقتا آپ سب سے پہلے موجود تھے جسکی دلیل یہ حدیث مبارک ہے(کنت نبیا وآدم بین الماء والطین)اﷲ تعالیٰ نے سب سے پہلے روح محمدی کو پیدا فرمایاتواس روح محمدی میں جمیع انبیاء واولیاء کی ارواح کو جمع فرمادیاجسکو جمع احدی کہتے ہیں جووجود خارجی کی تفصیل قبل ہوتی ہے جومرتبہ عقل اول ہے پھر لوح محفوظ کے مرتبہ میں متعین ہوئیں یہ مرتبہ نفس کلی ہے، یہاں سے انہیں نورانی وجود ملااور متمیز ہوئیں،اب اﷲ تعالیٰ نے ا ن پرحقیقت محمدیہ نوریہ کو مبعوث فرمایاجس نے انہیں حقیقت احدیہ جمعیہ کمالیہ سے آگاہ کیا،پھرجب صورطبیعیہ علویہ یعنی عرش وکرسی وجود میں آئے تواس وقت ان ارواح کی طرف دوسری مرتبہ بعثت محمدیہ ہوئی توجو روحیں حقیقت احدیہ جمعیہ کمالیہ پرایمان کی اہل تھیں وہ آپ پر ایمان لائیں تواس ایمان کاحکم، نفس بشریہ کے کمال پرظاہرہوا تووہ حضور ﷺپرایمان لائے،توکنت نبیاًکامعنی ہے کہ آپ بالفعل نبی تھے اورآپ کواپنی نبوت کاعلم تھا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ( شرح الشفا الملا علی القاری میں ہے</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ حضوراکرم ﷺ کے خصائص سے تھاکہ آپ نورتھے جب آپ دھوپ میں یاچاند کی روشنی میں چلتے تھے تو آپ کاسایہ ظاہر نہیں ہوتاتھا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قصیدہ بردہ میں ہے</p>



<p>وکلُ آیٍ آتی الرَسْلُ الکرامُ بہافإنما اتصلتْ من نورہ بِہِمِ</p>



<p>فإنہ شمسُ فضلٍ ہم کواکبُہا    یُظہِرْنَ أنوارَہا للناسِ فی الظُلمِ</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جس قدر معجزات انبیائے کرام علیھم السلام اس دنیا میں لائے در حقیقت وہ تمام آپ ہی کے نور سے ان کو حاصل ہوئے کیونکہ آپ آفتاب کمال ہیں اور باقی انبیاء کرام حضور ﷺ کے مقابلے میں ستاروں کی طرح ہیں جوعلم ہدایت کی روشنی کو جہالت کے اندھیرے میں لوگوں پر ظاہر کرتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;مواہب اللدنیہ میں علامہ قسطلانی ابن مرزوق ؒکا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام میں سے ہر ایک جو معجزہ لے کر آیا اسے نور محمدی کے ذریعے حاصل ہوااور ان کا یہ قول کتنا اچھا ہے</p>



<p>فانما اتصلت من نورہ بھم یعنی نبی اکرم کا نور ہمیشہ قائم رہا اور اس سے کچھ بھی کم نہ ہوا اور یہ آپ کے نور کا فیضان ہے یہ وہم نہ کیا جائے کہ آپ کا نور انہیں مل گیا اور آپ کیلئے کچھ باقی نہ رہا ۔</p>



<p>اسی حقیقت کو نبی کریم ﷺ نے یوں آشکار فرمایا</p>



<p>کُنْتُ أَوَّلَ النَّبِیِّینَ فِی الْخَلْقِ وَآخِرَہُمْ فِی الْبَعْثِ دلائل نبودۃ الاصفہانی)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; میں تخلیق میں تمام انبیاء سے پہلے اور بعثت میں سب سے آخر ہوں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;اس لئے کہ ہر نبی کا اسلام اپنی امت پر مقدم ہوتاہے اوراسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے (پہلی وہ چیزجسے اﷲ نے پیدا فرمایا وہ میرانور ہے ۔(حَاشِیۃُ الشِّہَابِ عَلَی تفْسیرِ البَیضَاوِی)</p>



<p>تفسیر نیشا پوری میں ہے ا ورمحمد ﷺ تخلیق کائنات کے تمام اولین امورکوجانتے ہیں ،جیسے نبی کریم ﷺ کے یہ ارشادات ہیں أول ما خلق نوری</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اور مخلوق کو اشباح (جو دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہوں)اور ارواح(غیر مادی شے) سے پیدا فرمایامادی تخلیق حضرت آدم سے ہوئی جبکہ روحانی تخلیق کی ابتداء روح محمدی سے ہوئی جس کے متعلق فرمایا اﷲ نے سب سے پہلے میری روح کو پیدا فرمایاتو حضور ﷺ ابوالارواح ہیں ، اور روح سے اس کا جوڑ پیدا فرمایااور وہ ’’النفس ‘‘ ہے جسے انوار محمدی کی شعاعوں میں سے ادنی شعاع سے پیدافرمایا ۔جس سے ارواح کاملین دنیا میں پھیلائیں( غرائب القرآن ورغائب الفرقان النیسابوری)</p>



<p>اور روح البیان میں ہے اﷲ وہ ہے جس نے تمہاری ارواح کوایک روح سے پیدافرمایااور وہ روح محمد ﷺ ہے (أول ما خلق اﷲ روحی)جسطرح تمہارے جسموں کو ایک جسم سے پیدا فرمایا اور وہ ابوالبشر آدم ؑ کاجسم اقدس ہے۔۔۔ (جس طرح حضرت آدم ابو البشر ہیں اسی طرح حضور ﷺ ابو الارواح ہیں)</p>



<p>تاویلات نجمیہ میں ہے یعنی محمد ﷺکو تخلیق کائنات سے قبل کے تمام امور اولیات کابھی علم ہے( ا ول ما خلق اﷲ نوری)اور پچھلے امور کا بھی علم ہے یعنی اہوال قیامت،مخلوق کی گھبراہٹ،غضب رب،انبیائکرام سے شفاعت کی درخواستیں کرنااورانکا نفسی نفسی پکارنا اورایک کے بعد دوسرے کے حوالے کرنااور مخلوقات کاپریشان ہوکرحضورﷺکی بارگاہ اقدس میں پہنچنا،کیونکہ اس دن شفاعت حضورﷺ کے ساتھ مختص ہوگی۔</p>



<p>حضرت عمرؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب آدمؑ نے اپنی خطا کااقرار کر لیاتوعرض کیا(یا رب اسألک بحق محمد ان تغفر لی)ائے رب مجھے محمد ﷺ کے صدقے بخشدے،اﷲ تعالی نے فرمایا ائے آدم تونے محمد ﷺ کو کیسے پہچاناحلانکہ میں نے تو انہیں ابھی پیدا بھی نہیں کیاتو عرض کی ،جب تونے مجھے اپنے ہاتھ سے پیداکیااور روح پھونکی تومیں نے اپنا سراٹھایاتو عرش کے پائیوں پر لکھاہوادیکھا(لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ )تو میں نے جان لیا کہ تونے جسے اپنے نام کے ساتھ ملاکر لکھا ہے وہ تجھے تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہے تورب تعالی نے فرمایا(صدقت یاآدم)بے شک وہ مجھے تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہیں،پس میں نے تجھے بخش دیا،اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا بھی نہ کرتا۔</p>



<p>اور ’’ امی‘‘ کا لقب جو تمام انبیاء ورسل میں صرف آپ کیلئے مخصوص ہے کیونکہ امی کا معنی ہے ام الموجودات (تمام موجودات کی ابتداء )و اصل المکونات(ساری کائنات کی اصل )</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582%25d8%25aa-%25d9%2586%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af%25db%258c-%25ef%25b7%25ba%2F&#038;title=%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA%20%D9%86%D9%88%D8%B1%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%DB%8C%20%EF%B7%BA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c-%ef%b7%ba/" data-a2a-title="حقیقت نور محمدی ﷺ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c-%ef%b7%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>معراج النبیﷺ عظمت وشان مصطفی کا منہ بولتا ثبوت</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c%ef%b7%ba-%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa-%d9%88%d8%b4%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%db%81-%d8%a8%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c%ef%b7%ba-%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa-%d9%88%d8%b4%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%db%81-%d8%a8%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طیب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Aug 2021 01:33:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=792</guid>

					<description><![CDATA[قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَیْتِی وَأَنَا بِمَکَّۃَ فَنَزَلَ جِبْرِیلُ فَفَرَجَ صَدْرِی ثُمَّ غَسَلَہُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَہَبٍ مُمْتَلِءٍ حِکْمَۃً وَإِیمَانًا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c%ef%b7%ba-%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa-%d9%88%d8%b4%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%db%81-%d8%a8%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ کَانَ أَبُو ذَرٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَیْتِی وَأَنَا بِمَکَّۃَ فَنَزَلَ جِبْرِیلُ فَفَرَجَ صَدْرِی ثُمَّ غَسَلَہُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَہَبٍ مُمْتَلِءٍ حِکْمَۃً وَإِیمَانًا فَأَفْرَغَہَا فِی صَدْرِی ثُمَّ أَطْبَقَہُ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِی فَعَرَجَ بِی إِلَی السَّمَاءِ(صحیح بخاری حدیث نمبر3106)</p>



<p>&nbsp;’’حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ حضرت ابو ذر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (شب معراج میں) میرے مکان کی چھت کھلی اور میں (اس وقت) مکہ میں تھا پس جبرئیل آئے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے آب زمزم سے دھویا پھر سونے کا ایک طشت جو حکمت و ایمان سے بھرا ہوا تھا لائے اور اسے میرے سینے میں انڈیل دیا میرا سینہ سی کر برابر کردیا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آسمان کی طرف چڑھا لے گئے۔‘‘</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; معجزۂ معراج نسل انسانی کی تاریخ کا وہ سنگ میل ہے جسے قصر ایمان کا بنیادی پتھر بنائے بغیر تاریخ بندگی مکمل نہیں ہوتی اور روح کی تشنگی کا مداوا نہیں ہوتا۔ معراج النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تاریخ انسانی کا ایک ایسا حیرت انگیز، انوکھا اور نادر الوقوع واقعہ ہے جس کی تفصیلات پر عقلِ ناقص آج بھی حیران و ششدر ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ سفر معراج کیونکر طے ہوا؟ عقل حیرت کی تصویر بن جاتی ہے، مادی فلسفہ کی خوگر، اربعہ عناصر کی بے دام باندی عقلِ انسانی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ انسان کامل حدود سماوی کو عبور کرکے آسمان کی بلندیاں طے کرتا ہوا لامکاں کی وسعتوں تک کیسے پرواز کرسکتا ہے اور وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جسے دیکھنے کی عام انسانی نظر میں تاب نہیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس لئے حدود و قیود کے پابند لوگ اس بے مثال سفر معراج کے عروج و ارتقاء پر انگشت بدنداں ہیں اور اسے من و عن اور مستند انداز سے مذکورہ تفصیلات کے ساتھ بھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور ایسے ایسے شبہات وارد کرتے ہیں اور تشکیک کا ایسا غبار اڑاتے ہیں کہ دلائل سے غیر مسلح ذہن اور عام آدمی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور دیوار ایمان متزلزل سی ہونے لگتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; نبی آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں معجزہ معراج خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ تاریخ انبیاء کی ورق گردانی کی جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے برگزیدہ رسولوں اور نبیوں کو اﷲ رب العزت نے اپنے خصوصی معجزات سے نوازا۔ ہر نبی کو اپنے عہد، اپنے زمانے اور اپنے علاقے کے حوالے سے معجزات سے نوازا تاکہ ان کی حقانیت ہر فرد بشر پر آشکار ہو اور اسے ایمان کی دولت سے سرفراز کیا جائے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت چونکہ جادو میں کمال رکھتی تھی، ہزاروں جادو گر دربار شاہی سے وابستہ ہوتے، اس لئے خالق کائنات نے بھی اپنے نبی کو جادو کے ان کمالات کا توڑ کرنے کے لئے معجزات عطا کئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں طب کا بڑا چرچا تھا۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کردینے اور کوڑھیوں کو تندرست کر دینے کی قدرت سے فیض یاب تھے۔ پس ہر نبی اپنے وقت کے ہر کمال سے آگے ہوتا ہے۔ امت جس کمال پر فائز ہوتی ہے نبی اس کمال پر بھی حاوی ہوتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اب نبی آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو تشریف لانا تھا۔ باب نبوت و رسالت حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بند ہو رہا تھا۔ ختم نبوت کا تاج سر اقدس پر سجایا گیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم خاتم المرسلین قرار پائے چنانچہ آقائے دو جہاں صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے معجزات سے نوازا گیا جن کا مقابلہ تمام زمانوں کی قومیں مل کر بھی نہ کرسکتی تھیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اﷲ رب العزت کو معلوم تھا کہ آئندہ آنے والی اقوام چاند پر قدم رکھیں گی اور ستاروں پر کمندیں ڈالیں گی لہذا اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو مکان و لامکاں کی وسعتوں میں سے نکال کر اپنے قرب کی حقیقت عطا فرمائی جس کا گمان بھی عقل انسانی میں نہیں آسکتا تھا۔ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے باقی تمام معجزات اور دیگر انبیاء و رسل کے تمام معجزات ایک طرف اور حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ معراج ایک طرف، تمام معجزات مل کر بھی معجزہ معراج کی ہمہ گیریت اور عالمگیریت کو نہیں پہنچ سکتے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا دائمی معجزہ ہے جس کی عظمت میں وقت کا سفر طے ہونے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جائے گا اور نئے نئے کائناتی انکشافات سامنے آ کر معجزہ معراج کی حقانیت کی گواہی دیتے رہیں گے۔ ارتقاء کے سفر میں اٹھنے والا ہر قدم سفر معراج میں نقوش کف پا کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ آقائے دو جہاں صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں مکہ سے اٹھا اور براق پر سوار ہوکر بیت المقدس پہنچا، وہاں سے آسمانوں اور پھر وہاں سے عرش معلی تک گیا حتی کہ مکان و لامکاں کی وسعتیں طے کرتا ہوا مقام قاب و قوسین پر پہنچا اور پھر حسن مطلق کا بے نقاب جلوہ کیا۔</p>



<p>پیکر مصطفوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جامع صفات و کمالات</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی تینوں شانوں بشریت، نورانیت اور حقیقت کو الگ الگ معراج نصیب ہوئی۔ اس پر ذہن میں ایک سوال آ سکتا ہے کہ کیا حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ایک شان کو دوسری سے ممیز کیسے کیا جا سکتا ہے یعنی جب بشریت محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم معراج سے مستفیض ہو رہی تھی تو دوسری شانیں کہاں تھیں اور اسی طرح جب آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نورانیت و حقیقت کو معراج کرائی جا رہی تھی تو بشریت کہاں تھی؟</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس سوال کے جواب میں روز مرہ زندگی میں انسان کے فطری احوال کا حوالہ دینا بے محل نہ ہو گا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; مثال :۔ جب کوئی آدمی بات کر رہا ہوتا ہے تو اس سے تکلم بالفعل کی حالت ظاہر ہو رہی ہوتی ہے حالانکہ اس میں تکلم کے ساتھ ساتھ خموشی اور سکوت کی حالت بھی بالقوۃ موجود ہوتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; مثال : جب ایک باپ غصے کی حالت میں اپنے بچے کو اس کی خطا پر سزا دے رہا ہوتا ہے، اسے زد و کوب کرر ہا ہوتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں پیار و محبت اور شفقت کا مادہ موجود نہیں ہے بلکہ اس وقت غصہ کی حالت غالب اور پیار و محبت کی صفت مغلوب ہوتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; روز مرہ کے ان دو واقعات کو مثال کے طور پر پیش کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شان بشریت کی معراج کے وقت آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بشری کمالات غالب تھے جبکہ آپ کی نورانیت اور حقیقت کی شانیں ابھی مغلوب تھیں۔ جب آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نورانیت کو معراج نصیب ہوئی تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی اوصاف و کمالات غالب اور بشریت و حقیقت کی شانیں مغلوب تھیں۔ اسی طرح جب آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت و مظہریت کو معراج سے سرفراز کیا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شان حقیقت و محمدیت کا غلبہ تھا اور باقی دو شانیں مغلوب تھیں جبکہ تینوں شانیں اپنی اپنی جگہ موجود تھیں، کبھی ایک کا غلبہ ہو جاتا اور کبھی دوسری کا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حاصل کلام یہ کہ معراج کے توسط سے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذات و صفات کے ہر پہلو اور ہرشان کی تکمیل بدرجہ اتم کر دی گئی اور آپ اوصاف وکمالات ایزدی کا مظہر اتم بن کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئے لیکن ان کا کماحقہ ادراک عقل انسانی کی گرفت سے باہر ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر جلوہ گر ہوئے جس مقام کی عظمت کا تصور بھی تمام نورانی اور خاکی مخلوقات کے لئے ممکن نہیں۔</p>



<p>اﷲ رب العزت نے ارشاد فرمایا :</p>



<p>ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّیO(النجم، 53 : 8)</p>



<p>پھر یہ قریب ہوا پھر وہ اور قریب ہوا۔</p>



<p>دنی اور تدلی میں فرق&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; 1۔ دنٰی کا معنی قرب ہے اور تدلّٰی کا معنی بھی قریب ہونا ہے لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ دنی میں تین حروف (د، ن، ی) ہیں جبکہ تدلی میں حروف (ت، د، ل، ی) کی تعداد چار ہے۔ عربی کا قاعدہ ہے کہ کثرت حروف کثرت معنی پر دلالت کرتے ہیں اور قلت حروف قلت معنی پر دلالت کرتے ہیں۔ دنی فعل مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہے اور تدلی فعل خدا۔ دنی کے کم حروف سے پتہ چلتا ہے کہ محبوب چونکہ مخلوق میں سے تھا اور مخلوق محدود ہے اس لئے اس کا قرب بھی محدود ہے اور رب چونکہ خالق اور لامحدود ہے اس لئے اس کا قرب بھی لامحدود تھا۔ اﷲ اﷲ ہے اور بندہ بندہ۔ اﷲ خالق ہے اور بندہ اس کی مخلوق۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ایک مقام پر پہنچ کر رک گئے لیکن اﷲ تعالیٰ اتنا قریب ہوا کہ کوئی حد باقی نہ رہی۔ دنی کا جواب باری تعالیٰ نے تدلی کی صورت میں دیا اور ایسا کیوں نہ ہو۔ حدیث قدسی میں اﷲ کا اپنا فیصلہ ہے کہ</p>



<p>وان تقرب الی شبرا تقربت الیہ ذراعا و ان تقرب الی ذراعا تقربت الیہ باعا وان اتانی یمشی، اتیتہ ہرولۃ.</p>



<p>(صحیح بخاری، کتاب التوحید، 6 ؍ 2694، الرقم : 6970)</p>



<p>’’اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہوجاتا ہوں۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازوؤں کے برابر اس کے نزدیک ہوجاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ ‘‘</p>



<p>جس طرح یہاں شبراً کا جواب ذراعاً سے دیا۔ اسی طرح زیر بحث آیہ کریمہ میں دنی کا جواب تدلی سے دیا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; 2۔ سورہ نجم میں ثم دنی فتدلی میں قرب کا ذکر دو دفعہ آیا ہے حالانکہ ایک دفعہ کہنا بھی کافی ہو سکتا تھا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; شیخ بقلی شیرازی رحمۃ اﷲ علیہ اور بہت سے دیگر عرفاء کاملین نے بحر عرفان میں غواصی کر کے بہت سارے گہر ہائے نایاب دریافت کئے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ قرب کا ذکر یہاں دو مرتبہ اس لئے ہوا کہ معراج میں حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو دو قرب نصیب ہوئے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قرب صفات</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قرب ذات</p>



<p>یعنی اﷲ رب العزت کی صفات اور ذات دونوں نے حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حصار التفات میں لے لیا۔</p>



<p>1۔ قرب صفات</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اس قرب میں ثم دنی کی صورت میں ذات باری تعالیٰ نے اپنی صفات تجلیات سے حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی صفات سے اتنا قریب کر لیا کہ صفات محمدیہ پر صفات الہٰیہ کا رنگ چڑھ گیا یہاں تک کہ آپ صفات الہٰیہ کے مظہر اتم بن گئے۔ یہ صفات الہٰیہ کے حوالے سے حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی معراج تھی۔</p>



<p>2۔ قرب ذات</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جب حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو صفاتی قرب سے مکمل طور پر بہرہ ور کر دیا گیا تو پھر تجلیات ذات آپ پر جلوہ فگن ہوئیں جس سے آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وہ ملکہ حاصل ہو گیا کہ آپ چشم سر اور چشم دل دونوں سے خدا کا دیدار کر سکیں۔ یہ قرب تدلی کی صورت میں عطا ہوا۔ حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم، اﷲ رب العزت کی ذات کے سائبان کرم میں تھے۔ یہ مقام حاصل کرنے والے حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پہلے اور آخری بندے اور رسول ہیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جب حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم بن گئے تو آواز آئی کہ اے حبیب! صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھیئے۔ آپ آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ حبیب لبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور محب کے درمیان فاصلہ کم ہوتے ہوتے دو کمان یا اس سے بھی کم رہ گیا۔ مقام قاب قوسین پر قرب و وصال کی وہ منزل آ گئی جو معراج کا نقطہ کمال تھا۔ اس سے زیادہ قرب ممکن ہی نہ تھا۔ بایں ہمہ عبد کامل اور معبود حقیقی کے مابین وہ فرق و امتیاز قائم و دائم رہا جو نکتہ توحید کی اساس ہے۔</p>



<p>قاب قوسین سے کیا مراد ہے؟</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; سفر معراج میں قاب قوسین کا ذکر جمیل اس تواتر سے ہوا ہے کہ ذہنوں میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ قاب قوسین سے کیا مراد ہے؟ اس کا قرآنی مفہوم کیا ہے؟</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قرآن حکیم میں اﷲ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے انتہائی قرب و وصال کو قاب قوسین کی بلیغ و جمیل عام فہم تمثیل سے بیان فرمایا ہے تاکہ عرب اپنی روز مرہ زبان اور محاورے کے مطابق اس بات کا مفہوم پوری طرح سمجھ سکیں۔ قوسین سے مراد کمانیں یا ابرو یا بازو ہیں اور قاب فاصلے کی اس مقدار کو کہتے ہیں جو دو کمانوں کے درمیان ہوتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; جب دو بچھڑے ہوئے دوست مدت بعد ملتے ہیں تو ان کے ملنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ہاتھ کمان کی صورت میں اوپر اٹھتا ہے اور دوسرا دوست اسی طرح قریب آ کر اپنا ہاتھ اوپر اٹھاتا ہے تو نصف دائرے کی شکل میں دوسری کمان بن جاتی ہے۔ جب دونوں کے مابین معانقے کا عمل تکمیل کو پہنچتا ہے تو ان میں دو کمانوں کا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ خدا کی ذات معانقے اور ان لوازمات سے پاک ہے لیکن اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے قرب کی انتہائی صورت کو بیان کرنے کے لئے اس تمثیل کے ذریعے بات ذہن نشین کرائی گئی ہے ورنہ باری تعالیٰ تو ہر مثل سے پاک ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔</p>



<p>لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْء ٌ.</p>



<p>(شوریٰ، 42 : 11)</p>



<p>اس کی مثل کوئی شئے نہیں۔</p>



<p>ہر شئے سے پاک ہونے کے باوجود پھر فرمایا۔</p>



<p>مَثَلُ نُورِہِ کَمِشْکَاۃٍ فِیہَا مِصْبَاحٌ.(النور، 24 : 35</p>



<p>’’اس کے نور کی مثال (جو نور محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں دنیا میں روشن ہوا) اس طاق (نما سینہ اقدس) جیسی ہے جس میں چراغ (نبوت روشن) ہے۔‘‘</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; ان آیات سے معلوم ہوا کہ باری تعالیٰ ہمیں سمجھانے کے لئے مثال ارشاد فرماتا ہے۔ خود اسے مثال کی حاجت و ضرورت نہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ</p>



<p>إِنَّ اللَّہَ لاَ یَسْتَحْیِی أَن یَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَۃً فَمَا فَوْقَہَا.(البقرہ، 2 : 26)</p>



<p>’’بے شک اﷲ تعالیٰ اس بات سے نہیں شرماتا کہ (سمجھانے کے لئے) کوئی بھی مثال بیان فرمائے (خواہ) مچھر کی یا (ایسی چیز کی جو حقارت میں) اس سے بڑھ کر ہو۔‘‘</p>



<p>قاب قوسین کا تہذیبی، ثقافتی اور مجلسی پس منظر</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اسلام دین فطرت ہے۔ ہر مرحلہ پر انسانی نفسیات کو مدنظر رکھتا ہے۔ قرآن کا اسلوب ہدایت بھی یہ ہے کہ جب وہ کوئی بات اپنے بندوں کو ذہن نشین کرانا چاہتا ہے تو ان کے سماجی پس منظر کو نظر انداز نہیں کرتا اور وہ ان کے ماحول کے مطابق انہیں مخاطب کر کے یا کسی تمثیل یا محاورے کے ذریعہ اپنی ہدایت کی ترسیل کے عمل کو مکمل کرتا ہے۔ چونکہ اہل عرب قرآن کے اولین مخاطبین ہیں اس لئے عرب رسم و رواج کا ثقافتی پس منظر قرآن میں اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اہل عرب کے قدیم دستور و رواج کا مطالعہ کرنے سے قاب قوسین کی معنویت کی ایک اور پرت کھلتی نظر آتی ہے۔ جب دو متحارب عرب قبیلے دشمنی کی راہ ترک کر کے ایک دوسرے سے شیر و شکر ہونا چاہتے تو ان کے سردار معاہدہ دوستی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے علامتی طور پر دو کمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر تیر چلاتے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا کہ آج کے بعد دونوں حلیف قبیلوں کا دوست اور دشمن ایک ہو گا۔ ایک کا دوست دوسرے کا دوست اور ایک کا دشمن دوسرے کا دشمن متصور ہو گا اور صلح و جنگ کے معاملوں میں دونوں کا رویہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو گا۔</p>



<p>(معارج النبوۃ، 3 : 146)، (روح المعانی، 67 : 48)</p>



<p>عبد و معبود کا فرق قائم رہا</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; تاج عظمت حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سر اقدس پر رکھا گیا۔ معراج کی شب فضیلتیں قدم قدم پر آپ کے ہمرکاب رہیں۔ آقائے دوجہاں صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جب مقام قاب قوسین پر پہنچے تو اﷲ تعالیٰ نے مزید قریب کر کے سریر آرائے او ادنیٰ پر متمکن ہونے کا شرف بخشا۔ قاب قوسین کے بعد او ادنیٰ کہہ کر قرآن خاموش ہو گیا کیونکہ اگر قاب قوسین تک بات ختم ہو جاتی تو قرب متعین ہو جاتا لیکن خدا تعالیٰ تو سب فاصلہ مٹانا چاہتا ہے اسی لئے فرمایا او ادنیٰ دو کمانوں کی مثال لوگوں کو سمجھانے کے لئے دی حالانکہ محبوب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اور محب کے درمیان فاصلہ تو اس سے بھی کم تر ہے۔ ادنیٰ کے بعد حتی یا الٰی نہیں لگایا اس لئے کہ یہ حد بھی مقرر نہ ہو جائے کہ کہاں تک فاصلہ کم</p>



<p>&nbsp;ہوا۔ او ادنٰی کا لفظ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ محب اور محبوب کے درمیان فقط ایک فرق عبد و معبود کا قائم رہا، باقی سب فاصلے اور امتیازات ختم ہو گئے۔</p>



<p>احدیت اور احمدیت کی قوسین</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; سفر معراج میں اﷲ رب العزت کے جلال و جمال کی رعنائیاں لامکاں کی وسعتوں میں ہر طرف بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ رب کائنات کی الوہیت کے پرچم ہر سمت لہرا رہے ہیں۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنَی سے اگلی آیت فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِہِ مَا أَوْحَی ہمیں الوہیت کا درس دے رہی ہے۔ ارشاد ربانی ہے پس اس (خدا) نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی یعنی باوجود اس انتہائی قرب کے وہ عبد اور میں معبود۔ ۔ ۔ وہ مخلوق اور میں خالق۔ ۔ ۔ وہ مملوک اور میں مالک رہا۔ ۔ ۔ میں نے ہی اسے عالم انسانیت کی طرف مبعوث کیا تاکہ وہ انہیں ضلالت و گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کے اجالوں کی طرف لے جائے لیکن یہ امر ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ اب الوہیت و رسالت ایک دوسرے کے اتنا قریب ہیں کہ کفر و ایمان کے معاملوں میں ایک پر ایمان دوسرے پر ایمان اور ایک کا انکار دوسرے کے انکار کے متراف ہے۔ اب تم میرے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حلقہ بگوش ہو کر میری اطاعت کا اقرار کر سکو گے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اگر تم نے اس کی غلامی سے انحراف کی راہ اختیار کی تو تم فی الواقعہ اپنے اس فعل سے میری توحید سے منحرف ہو جاؤ گے۔ توحید و رسالت پر ایمان میں کسی قسم کا فرق روا رکھا ہی نہیں جا سکتا۔ احدیت و احمدیت کی قوسین باہم ایک دوسرے سے اتنی متصل ہو گئیں کہ ان سے میرے قرب و وصال اور عشق و محبت ہی کا پتہ چل رہا ہے۔ تقرب الی اﷲ کا دعویٰ بغیر عشق رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بے بنیاد ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; مقام قاب قوسین پر جب حجابات اٹھا دیئے گئے اور مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی کے مصداق شان محبوبیت یہ تھی کہ نگاہ محبوب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نہ ہٹی اور نہ ہی حد سے بڑھی بلکہ وصال و دید کا وہ عالم تھا کہ چشم نظارہ ایک لحظہ بھی جمال جہاں آراء سے نہ ہٹنے پائی اور احدیت و احمدیت کی قوسین اس طرح مل گئیں کہ باہمی قرب کی کیفیت ثم دنی فتدلی کی آئینہ دار بن گئی اور آخر میں قاب قوسین کے مقام پر دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو گئے کہ درمیانی فاصلہ برائے نام رہ گیا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ قربت کا ذکر کرتے ہوئے درمیان میں فاصلہ رہنے کا ذکر لابدی اور ضروری سمجھا گیا اس لئے کہ خالق و مخلوق میں چاہے کتنا ہی قرب کیوں نہ ہو، ان کی ہستی جدا جدا ہے اور دونوں کا ایک وجود نہیں مانا جا سکتا کہ محبوبیت کے اعلیٰ اور ارفع مقام پر پہنچ کر بھی عبدیت اور معبودیت کا فرق برقرار رہتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; یہاں ایک بات خاص طور پر ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جو شخص عبد و معبود کے فرق کو مٹاتا ہے، کافر ہے۔ عقیدے میں، عقل میں یا ایمان میں، عشق میں یا محبت میں الغرض کسی درجے میں بھی یا کسی سطح پر بھی بندہ رب ہو سکتا ہے نہ رب بندہ ہو سکتا ہے جو عبد کو معبود بنائے یا معبود کو عبد، وہ کافر ہے اور جس طرح عبد اور معبود کا فرق مٹانا کفر ہے اسی طرح فرق عبد و معبود کے سوا کوئی اور فرق ڈالنا بھی کفر ہے۔ سو اعتقاد یہی رکھنا چاہئے کہ مقام او ادنیٰ پر پہنچ کر بھی خدا خدا ہے اور نبی نبی ہے۔</p>



<p>مقام عبدیت</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اﷲ رب العزت کائنات ارض و سماوات کا خالق ہے۔ ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے۔ اس نے معراج کی شب اپنے بندے اور رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر عنایات کی بارش کر دی اور اسے وہ عظمت عطا کی جو آج تک نہ کسی رسول کا مقدر بن سکی اور نہ قیامت تک بن سکے گی۔</p>



<p>اس مقام پر پہنچ کر جہاں تمام دوریاں ختم ہو گئی تھیں قرآن زبان حال سے یوں گویا ہوا۔</p>



<p>فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِہِ مَا أَوْحَیO(النجم، 53 : 10)</p>



<p>پھر (اﷲ رب العزت نے بلاواسطہ) اپنے بندہ کو جو وحی فرمانا تھا فرمائی (جو دینا تھا دیا جو بتانا تھا بتایا)</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; معلوم ہوا کہ مخلوق میں عبدیت سے بہتر کوئی مقام نہیں مگر افسوس کہ آج لوگ اسی پر جھگڑتے پھرتے ہیں۔ اے کاش! انہیں حقیقت عبدیت سمجھ آ جاتی۔</p>



<p>متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی</p>



<p>مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی</p>



<p>عقیدہ توحید اور واقعہ معراج</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; عقیدہ توحید مومن کے ایمان کا مرکز و محور ہے۔ شرک کا سایہ بھی انسان کو دائرہ ایمان سے خارج کر دیتا ہے۔ سفر معراج حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ایک معجزہ ہے اور معجزہ رب کائنات کی قدرت مطلقہ کا مظہر ہوتا ہے۔ سفر معراج میں بھی توحید ربانی کے پرچم ہر طرف دکھائی</p>



<p>&nbsp;دیتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; آدم سے حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تک تمام انبیاء جس آسمانی ہدایت کے ساتھ مبعوث ہوتے رہے اس کا مرکزی نقطہ بھی توحید ہی تھا کہ وہی ذات بندگی کے لائق ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ وحدہ لاشریک ہے، کوئی اس کا ہمسر ہے نہ ثانی، نہ اس کی کوئی انتہا ہے اور نہ ابتداء ہے۔ وہ ازل سے ہے اور ابد کے بعد بھی وہی ہے۔ جب کچھ نہ تھا تو وہ تھا جب کچھ نہ ہو گا تو پھر بھی اس کی ذات یکتا و تنہا ہو گی۔ اس ذات کو نہ اونگھ ہے نہ زوال، وہ ہر حاجت سے پاک اور مبرا ہے اور وہ ہر کسی کا حاجت روا ہے۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; امم سابقہ نے اکثر و بیشتر مسئلہ توحید کے بارے میں ٹھوکر کھائی ہے۔ ان کے اکثر افراد (الا ماشاء اﷲ) نے اپنے نبی کو اس کے کمالات و روحانی تصرفات دیکھ کر الوہیت کے درجہ پر پہنچا دیا۔ ان میں سے کسی نے نبی کو خدا کا بیٹا کہا اور کوئی تمثلیث کا قائل ہو گیا۔ گویا نبی کو مقام نبوت سے ہٹا کر خدا کا شریک ٹھہرا لیا تاہم امت مصطفوی کو یہ شرف و افتخار حاصل ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ عقیدہ توحید کی تعلیم ان کے قلوب و اذہان میں اس درجہ راسخ ہو گئی کہ اس پر شرک کی گرد پڑنے کا بھی کوئی احتمال باقی نہ رہا۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو قرب کا انتہائی مقام تفویض کر کے ارشاد ہوتا ہے اوحی الی عبدہ ما اوحی ہم نے اپنے بندے کی طرف وحی کی اﷲ اﷲ! بندگی کا کیا مقام ہے کہ خدائی کا مختارِ کُل بنا دیا جائے پھر بھی حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم بندہ ہی رہے۔ عقیدہ توحید میں کسی قسم کے خلجان اور التباس کی کوئی گنجائش نہیں کہ خالصیت اور عبدیت کے فاصلے کا پاٹنا ناممکنات میں سے ہے۔ اس فاصلے کو برقرار رکھنا بہرحال ناگزیر ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2586%25d8%25a8%25db%258c%25ef%25b7%25ba-%25d8%25b9%25d8%25b8%25d9%2585%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25b4%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2586%25db%2581-%25d8%25a8%25d9%2588%2F&#038;title=%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%20%D8%A7%D9%84%D9%86%D8%A8%DB%8C%EF%B7%BA%20%D8%B9%D8%B8%D9%85%D8%AA%20%D9%88%D8%B4%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D8%B5%D8%B7%D9%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%86%DB%81%20%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%AA%D8%A7%20%D8%AB%D8%A8%D9%88%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c%ef%b7%ba-%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa-%d9%88%d8%b4%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%db%81-%d8%a8%d9%88/" data-a2a-title="معراج النبیﷺ عظمت وشان مصطفی کا منہ بولتا ثبوت"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a8%db%8c%ef%b7%ba-%d8%b9%d8%b8%d9%85%d8%aa-%d9%88%d8%b4%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b5%d8%b7%d9%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%db%81-%d8%a8%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
