میلاد مصطفےٰﷺ

عَنْ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْر۔۔۔۔۔۔۔ِ قَالَ عُرْوَۃُ وثُوَیْبَۃُ مَوْلَاۃٌ لِأَبِی لَہَبٍ کَانَ أَبُو لَہَبٍ أَعْتَقَہَا فَأَرْضَعَتْ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو لَہَبٍ أُرِیَہُ بَعْضُ أَہْلِہِ بِشَرِّ حِیبَۃٍ قَالَ لَہُ مَاذَا لَقِیتَ قَالَ أَبُو لَہَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَیْرَ أَنِّی سُقِیتُ فِی ہَذِہِ بِعَتَاقَتِی ثُوَیْبَۃَ

(صحیح بخاری کتاب النکاح باب وأمہاتکم اللاتی أرضعنکم)

حضرت عروہ بن زبیر سے مروی ہے۔۔۔۔۔عروہ کہتے ہیں کہ ثویبہ ابولہب کی لونڈی تھی، جسے ابولہب نے آزاد کردیا، پھر اس نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا، جب ابولہب مر گیا تو کسی گھر والے نے اس کو خواب میں برے حال میں دیکھا تو پوچھا کہ تجھ سے کیا معاملہ کیا گیا، جواب دیا جب سے تم سے جدا ہواہوں سخت عذاب میں مبتلا ہوں، ثویبہ کے آزاد کرنے کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مل جاتا ہے، جس سے میری پیاس بجھ جاتی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم میلاد کے مقدس و معظم دلائل کی تفصیل کاذکر کریں مناسب یہ ہے کہ اس کے معانی ،اس کامقصود اور فوائد کا ذکر کریں میلاد کا لغوی معنی ہے ولادت کا ذکر اور جگہ اور آئمہ کی اصطلاح میں لوگوں کا کسی خاص جگہ پر اکٹھے ہو کر تلاو ت قرآن، رسول اﷲا کی ولادت کا ذکر، دوسرے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلامو صلحاء کے واقعات اور ان کے اقوال و افعال کا تذکرہ کرنا اوران محافل میلاد کا مقصد یہ ہے کہ رسول اﷲ ا اور اولیاء کی تعظیم و تکریم کو اجاگر کرنا جس کی تصدیق قرآن کرتا ہے۔

وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَایِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ(الحج:32)

 جس نے تعظیم وتکریم کی اﷲ کے مقررہ کردہ شعائر اور اس کی قائم فرمودہ یادگاروں کی تو یقینا یہ بات دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ا نبیاء علیہم الصلاۃ والسلام قدر منزلت کے لحاظ سے بڑے شعائر میں شمار ہوتے ہیں اور رسول اﷲ اکی عظمت کی تاکید تو قرآن و سنت میں موجود ہے۔

اور ان محافل میلاد کے فوائد کثیر ہیں ان میں ولا دت اطہر کاذکر، ذکر معجزات ، سیرت اور نعت و خصائص کا ذکر ہوتا ہے جبکہ لوگوں کا نیک کام کیلئے اکٹھا ہونا تلاوت کلام اﷲ، احادیث اورواقعات مفیدہ کا تذکرہ کرنا،فقراء اور مساکین کوکھانا کھلانا اضافی ثواب کا باعث ہیں اس کے علاوہ محافل میلاد ان نیک اعمال کی یادہانی ہے جو ہم بھول رہے ہیں۔

 علامہ السیوطی الحاوی للفتاوی میں فرماتے ہیں : “إن أصل عمل المولد الذی ہو اجتماع الناس وقراء ۃ ما تیسر من القرآن وروایۃ الأخبار الواردۃ فی مبدأ أمر النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم وما وقع فی مولدہ من الآیات … ہو من البدع* التی یثاب علیہا صاحبہا لما فیہ من تعظیم قدر النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم وإظہار الفرح والاستبشار بمولدہ الشریف” .

میلاد النبیا کی اصل یہ ہے کہ لوگوں کااکٹھا ہونا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا، ان باتوں کی لوگوں کو اطلاع دینا جنکا رسول اﷲانے حکم فرمایااور آپ کی ولادت کا ذکر کرنا ہے ( بعض لوگ اسے بدعت کہتے ہیں)یہ وہ بدعت حسنہ ہے جس پر آقاا نے ثواب کا وعدہ فرمایا کیونکہ اس میں ذات مصطفےٰ ﷺکی تعظیم کے ساتھ باعث مسرت ہے اورولادت کی خوشی بھی شامل ہے۔

امام شہاب الدین المعروف بأبی شامۃ الشافعی رحمہ اﷲ اپنی کتاب’’ الباحث علی إنکار البدع والحوادث‘‘ میں فرماتے ہیں

ومن أحسن ما ابتدع فی زماننا ما یفعل کل عام فی الیوم الموافق من مولدہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم من الصدقات والمعروف وإظہار الزینۃ والسرور ، فإن ذلک مع ما فیہ من الإحسان إلی الفقراء مشعر بمحبتہ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ، وتعظیمہ فی قلب فاعل ذلک ، وشکرا ﷲ تعالی علی ما من بہ من إیجاد رسولہ ، الذی أرسلہ رحمۃ للعالمین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم” .

کتنا اچھا طریقہ ہمارے اس زمانے میں چل پڑا جو ہم ہر سال رسول اﷲاکے ولادت کے دن صدقات و خیرات کی صورت میں خوشی و فرحت کے اظہار کے طور پر کرتے ہیں اس ذریعے سے فقراء کے ساتھ نیکی بھی ہوتی ہے جورسول اﷲا سے محبت کی پہچان اور یہ عمل کرنے والے کی دلی تعظیم کی پہچان بھی ہے اور اﷲ تعالیٰ کے شکرکا دن ہے جس نے اپنے رسول ا کورحمۃاللعالمین بناکر اس دنیا میں بھیجا۔

لہذا اصل مقصود ان محافل کا یہ ہے کہ یہ محبت رسول ا کے پھیلانے کا اظہاراور ایک ذریعہ ہے چند دلائل حاضر خدمت ہیں:۔

قرآن اور میلاد مصطفےٰ

 (پہلی دلیل)( قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا (یونس:58)

فرما دیجئے: (یہ سب کچھ) اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت کے باعث ہے (جو بعثت محمدی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے تم پر ہوا ہے)

.امام سیوطی الدر المنثور میں فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فضل اﷲ سے مراد علم اور رحمت سے مراد نبی ا ہیں اور امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ انسان پہ واجب ہے کہ اﷲ کا فضل ہونے پرخوشی منائے۔

( دوسری دلیل )(وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَاء ِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ (ہود :120)

اور ہم رسولوں کے حالات کی ایک ایک خبر آپ سے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ اس کے ذریعہ آپ کے دل کو مضبوط کردیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی خبروں سے دل کو مضبوطی حاصل ہوتی ہے اور آقا نبی کریم اافضل الرسل ہیں اور آپ کا میلاد منانے میں آپ کی باتوں کا ذکر اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی کا سبب ہے جو اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی عنایت ہے۔

( تیسری دلیل )اَللّٰہُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَایِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْن(المائدۃ :114)

 اے اﷲ ، اے ہمارے رب، ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما کہ (اس کا آنا) ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لئے عیدقرار پائے اور تیری (قدرت کی) ایک نشانی (ہو)، ہمیں روزی دے، تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ اس آیت کی تصدیق ایک اورآیہ مبارکہ کرتی ہے۔

(وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَیَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا (مریم:33)

اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن، اور میری وفات کے دن، اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا ۔

یہ دونوں آیات مسیح علیہ السلام کے میلاد اور ان کی نعت بیان کرتی ہیں جو آج کی محافل میلاد کی پہچان اور خاصہ ہیں اور اسے بہت بڑا واقعہ ثابت کرتی ہیں جبکہ میلاد مسیح سے میلاد مصطفی اکم شان و عظمت کا واقعہ نہیں بلکہ آپ کائنات کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔

حدیث اور میلاد مصطفےٰا

( چوتھی دلیل )ِ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ الْأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَیْنِ فَقَالَ فِیہِ وُلِدْتُ وَفِیہِ أُنْزِلَ عَلَیَّ (مسلم کتاب الصیام)

حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ا سے سوموار کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسی دن میری ولادت ہوئی اور اس دن میں مجھ پر وحی نازل کی گئی۔ یہ حدیث بنیاد ہے محافل میلاد کی الحافظ ابن رجب الحنبلی نے کیا خوب بات کہی اپنی کتاب’’ لطائف المعارف فیما لمواسم العام من الوظائف‘‘میں کہ اس میں اشارہ ہے کہ ان دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے روزہ رکھنا در اصل تجدید ہے یاددہانی کی جس دن اﷲ کی نعمت اپنے بندوں پرہو اور اس امت پر اﷲ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت رسول اﷲ اکو اس دنیا کو عطا کرنا ہے جیسے کہ فرمایا

( لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ إِذْ بَعَثَ فِیہِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِہِمْ (آل عمران:164) تو روزہ یوم تجدید ہے اس نعمت کا جواﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کیا اس نعمت کا شکر ہی تجدید ہے۔مقصودصرف اس محبت تک پہنچنا ہے جو اﷲ اور اس کے رسول ا کی ان محافل کے انعقاد سے حاصل ہوتی ہے۔

(پانچویں دلیل ) ٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَجَدَ الْیَہُودَ یَصُومُونَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا ہَذَا الْیَوْمُ الَّذِی أَظْفَرَ اللَّہُ فِیہِ مُوسَی وَبَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَی فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُہُ تَعْظِیمًا لَہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْنُ أَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ ثُمَّ أَمَرَ بِصَوْمِہِ (صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار)

 حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو یہودیوں سے اس کی وجہ پوچھی گئی انہوں نے جواب دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس دن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غالب کیا تھا اس لئے ہم اس کی تعظیم میں اس دن روزہ رکھتے ہیں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہ نسبت تمہارے ہم حضرت موسیٰ کے زیادہ قریب ہیں پھر آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

اس حدیث سے الحافظ ابن حجر العسقلانی نے استدلال کیامحافل میلاد کے شرعی ہونے کی یہ نص ہے دن کو معین کر کے اسے ہر سال یا باربارمنانے کا اور سب سے بڑی نعمت رسول اﷲا کا یوم ولادت ہے اور اﷲ تعالی کا شکر مختلف قسم کی عبادات کی صورت میں ہوتا ہے جیسے روزہ صدقہ درود اور تلاوت وغیرہ ۔

( چھٹی دلیل )صحابہ کرام انبیاء کی سیرتوں کا تذکرہ کر رہے تھے تونبی کریم انے انہیں اس میلاد کا طریقہ سکھایاکہ ان تمام انبیاء کی سیرتوں کو جمع کیا جائے تو میری سیرت بنتی ہے گویا آپ سب سے افضل اور تمام انبیاء میں کامل ترین ہستی ہیں اور ان سب کی خوبیوں کے جامع ہیں تو گویا محافل میلاد کا حکم ارشاد نبوت سے ثابت ہوتا ہے جس میں سیرت رسول بیان ہوتی ہے۔امام ترمذی امام دارمی ا ورالقاضی عیاض الشفامیں یہ روایت کرتے ہیں

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَلَسَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -صلی اﷲ علیہ وسلم- یَنْتَظِرُونَہُ قَالَ فَخَرَجَ حَتَّی إِذَا دَنَا مِنْہُمْ سَمِعَہُمْ یَتَذَاکَرُونَ فَسَمِعَ حَدِیثَہُمْ فَقَالَ بَعْضُہُمْ عَجَبًا إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَ مِنْ خَلْقِہِ خَلِیلاً اتَّخَذَ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلاً. وَقَالَ آخَرُ مَاذَا بِأَعْجَبَ مِنْ کَلاَمِ مُوسَی کَلَّمَہُ تَکْلِیمًا وَقَالَ آخَرُ فَعِیسَی کَلِمَۃُ اللَّہِ وَرُوحُہُ. وَقَالَ آخَرُ آدَمُ اصْطَفَاہُ اللَّہُ فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ فَسَلَّمَ وَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ کَلاَمَکُمْ وَعَجَبَکُمْ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ خَلِیلُ اللَّہِ وَہُوَ کَذَلِکَ وَمُوسَی نَجِیُّ اللَّہِ وَہُوَ کَذَلِکَ وَعِیسَی رُوحُ اللَّہِ وَکَلِمَتُہُ وَہُوَ کَذَلِکَ وَآدَمُ اصْطَفَاہُ اللَّہُ وَہُوَ کَذَلِکَ أَلاَ وَأَنَا حَبِیبُ اللَّہِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا حَامِلُ لِوَاء ِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُحَرِّکُ حِلَقَ الْجَنَّۃِ فَیَفْتَحُ اللَّہُ لِیَ فَیُدْخِلُنِیہَا وَمَعِی فُقَرَاء ُ الْمُؤْمِنِینَ وَلاَ فَخْرَ وَأَنَا أَکْرَمُ الأَوَّلِینَ وَالآخِرِینَ وَلاَ فَخْرَ(الترمذی کتاب المناقب باب فی فضل النبی)

، حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ چند صحابہ رضی اﷲ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے انتظار میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور جب ان کے قریب پہنچے تو انکی باتیں سنیں۔ کسی نے کہا کہ اﷲ تعالی نے اپنی تمام مخلوقات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دوست بنا لیا۔ دوسرا کہنے لگا کہ اﷲ تعالی کا موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرنا اس سے بھی تعجب خیز ہے۔ تیسرے نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام روح اﷲ ہیں۔ اور کن سے پیدا ہوئے ہیں۔ چوتھا کہنے لگا کہ اﷲ تعالی نے آدم علیہ السلام کو چن کیا۔ چنانچہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم آئے اور سلام کرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے تم لوگوں کی باتیں اور تمہارا تعجب کرنا سن لیا ہے۔ کہ ابراہیم علیہ السلام اﷲ کے دوست ہیں اور وہ اسی طرح ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اﷲ کے چنے ہوئے ہیں وہ بھی اسی طرح ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام روح اﷲ ہیں اور اسکے کلمہ کن سے پیدا ہوئے ہیں یہ بھی اسی طرح ہیں۔ آدم علیہ السلام کو اﷲ نے اختیار کیا ہے وہ بھی اسی طرح ہیں۔ جان لو کہ میں اﷲ تعالی کا محبوب ہوں اور یہ میں فخریہ نہیں کہہ رہا۔ میں ہی حمد کے جھنڈے کو قیامت کے دن اٹھاؤں گا۔ یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا، میں ہی سب سے پہلے جنت کی زنجیر کھٹکھٹاؤں گا اور اﷲ تعالی میرے لئے اسے کھولیں گے۔ پھر میں اس میں مومن فقراء کیساتھ داخل ہوں گا۔ یہ بھی میں بطور فخر نہیں کہہ رہا اور میں گزشتہ اور آنے والے تمام لوگوں میں سب سے بہتر ہوں۔ یہ بھی میں بطور فخر نہیں کہہ رہا۔ (بلکہ بتانے کیلئے کہہ رہا ہوں) ۔

یہ حدیث تاکید ہے اس بات کی کہ اگر کسی کا تذکرہ ہی کرنا ہو تو ذات مصطفےٰ کی جامع و کامل سیرت کا کرو

 حسن یوسف دم عیسیٰ ید بیضا داری آنچہ خوبا ں ہمہ دارند تو تنہا داری

اور یہ کام اﷲ کو پسند ہے تبھی تو فرشتوں کو اس کام کیلئے ہر روز روانہ فرماتا ہے

فقال کعب ما من فجر إلا نزل سبعون ألفا من الملائکۃ حتی یحفون بالقبر یضربون أجنحتہم ویصلوا علی النبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم حتی إذا أمسوا عرجوا وہبط سبعون ألفا حتی یحفوا بالقبر فیضربون بأجنحتہم فیصلون علی النبی سبعون ألفا باللیل وسبعون ألفا بالنہار حتی إذا انشقت عنہ الأرض خرج فی سبعین من الملائکۃ یزفونہ وفی لفظ یوقرونہ- (حلیۃ الاولیاء جزء 5باب کعب الاحبار)

رواہ إسماعیل القاضی وابن بشکوال والبیہقی فی الشعب والدارمی وابن المبارک فی الرقائق

۔ حضرت کعب کہتے ہیں ہر صبح ستر ہزار فرشتے اتر کر قبر رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پر سمیٹ کر حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کیلئے دعا رحمت کرتے رہتے ہیں اور ستر ہزار رات کو آتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن جب آپ کی قبر مبارک شق ہوگی تو آپ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔

( ساتویں دلیل ) الحافظ ابن ناصر الدین الدمشقی اپنی کتاب ’’مورد الصادی فی مولد الہادی ‘‘میں فرماتے ہیں یہ بات صحیح حدیث جو ہماراعنوان حدیث بھی ہے سے ثابت ہے کہ ابولہب کے عذاب میں بروز سوموار تخفیف ہوتی ہے کیونکہ اس نے میلاد النبیا کی خوشی میں اس دن اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھا اس کے بعد یہ اشعار لکھے

إذا کان ہذا کافرا جاء ذمہ == وتبت یداہ فی الجحیم مخلدا

أتی أنہ فی یوم الإثنین دائما == یخفف عنہ بالسرور أحمدا

فما الظن بالعبد الذی کان عمرہ == بأحمد مسرورا ومات موحدا

اگر ایک کافر جس کی مذمت سورۃ اﷲب میں آچکی اورہمیشہ جہنم کا حکم بھی آچکا اگر وہ رسول اﷲا کی ولادت میں خوشی کرے تو اسے سوموار کے دن عذاب میں تخفیف ملے توبھلا اس شخص کے متعلق کیا خیال ہے جو( میلاد منائے) رسول اﷲا کی غلامی پہ خوش ہوتے ہوئے اور اﷲ کی وحدانیت پہ اس دنیا سے رخصت ہو جائے۔

( آٹھویں دلیل ) الحافظ جلال الدین عبد الرحمن بن أبی بکر السیوطی اپنے رسالہ “حسن المقصد” میں امام بیہقی کی یہ روایت بیان کی

 عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -صلی اﷲ علیہ وسلم- عَقَّ عَنْ نَفْسِہِ بَعْدَ النُّبُوَّۃِ(السنن الکبریٰ البیہقی کتاب الضحایا)

، حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اﷲا نے اعلان نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ فرمایا

یہ بھی ثابت ہے کہ آپ کے دادا عبد المطلب نے ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کیااور عقیقہ دو مرتبہ نہیں ہوتا تو رسول اﷲ ﷺ کا یہ عمل اپنے میلاد پہ اﷲ کا شکرادا کرنا جس نے ا نہیں رحمۃ اللعالمین بنایااور امت کو تعلیم دینا ہے کہ یہ میلاد منانا بدعت نہیں بلکہ مستحب ہے جس میں عقیقہ کی طرح اظہارخوشی و مسرت، لوگوں کا اکٹھا ہونا اور کھانا پکانا سبھی شامل ہے۔

( نویں دلیل ) یہ بات بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن کی فضیلت میں فرمایا : “فِیہِ خُلِقَ آدَمُ کہ اس دن آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ أخرجہ مالک فی الموطأ والترمذی

اگر اس دن کو شرف مل سکتا ہے جس میں تمام انسانوں کے باپ پیدا ہوئے تو اس دلیل سے یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ دن جس میں فخر آدم اور فخرکائینات اپیداہوئے اور یہ فضیلت صرف اس دن کو حاصل نہیں جس میں آپ تشریف لائے بلکہ اس وجہ سے سوموار کو ہمیشہ کی فضیلت حاصل ہے۔

 حضرت آدم علیہ السلام کے میلاد و وصال کا دن جمعہ ہے مگر شریعت میں تین دن سے زیادہ سوگ وفات کا نہیں ہے اور میلاد آدم کی خوشی میں جمعہ کا دن اہل ایمان کے لئے عید کا دن بتایا گیا، ہر ہفتے میں جمعہ کے دن اہل ایمان میلاد آدم کی خوشی میں عید مناتے ہیں اور کسی کو یہ گمان بھی نہیں گزرتا کہ یہی دن ان کے وصال کا بھی ہے اس لئے اس دن میلاد آدم خوشی منانا اچھا کام نہیں۔

( دسویں دلیل ) وہ اعمال جنہیں نیکی کے طور پر اہل ایمان میلاد کے دن یا محافل میلاد میں کرتے ہیں اکثر اعمال نیکی اور قرب خدا کا ذریعہ ہیں جیسے نبی کریم ﷺ کی ذات والا پر درود،اﷲ کا ذکر ،صدقہ و خیرات ،نعت رسول مقبول ،رسول اﷲ کی عظمت و توقیر والے اعمال، آپ کی محبت اور شمائل و خصائص کا تذکرہ اور نصیحت آموز باتیں یہ سب کچھ شرعاً مطلوب اور مستحسن ہے لہذا اچھے اعمال کیلئے کسی دلیل کی نہیں محبت و خلوص کی ضرورت ہوتی ہے رسول اﷲ کی مدح صحابہ کی زبان پر ہوتی جیسا کہ بخاری کتاب الادب میں عبد اﷲ بن رواحۃ رضی اﷲ عنہ کے یہ الفاظ درج ہیں :

وَفِینَا رَسُولُ اللَّہِ یَتْلُو کِتَابَہُ == إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنْ الْفَجْرِ سَاطِع

 أَرَانَا الْہُدَی بَعْدَ الْعَمَی فَقُلُوبُنَا == بِہِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ

یَبِیتُ یُجَافِی جَنْبَہُ عَنْ فِرَاشِہِ== إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْکَافِرِینَ الْمَضَاجِعُ

ہم میں اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں جبکہ فجر کی روشنی ظاہر ہوتی ہے ہمیں گمراہی کے بعد سیدھا راستہ دکھایاچنانچہ ہمارے دلوں کو یقین ہے کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ ہو کر رہے گا وہ رات گزارتے ہیں اس حال میں کہ پہلو بستر سے علیحدہ ہوتا ہے جبکہ مشرکین خوابگاہوں میں بوجھل پڑے ہوتے ہیں ۔

نعت کا کہنا اور سننا رسول اﷲا کے عمل سے ثابت ہے ، صحیح البخاری کتاب الأدب باب ما یجوز من الشعر میں سلمۃ بن الأکوع سے روایت ہے کہ ہم آنحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی جانب (جنگ کے ارادہ سے) چلے ہم رات میں جا رہے تھے کہ ایک شخص نے عامر سے کہا کہ تم ہمیں اپنے اشعار کیوں نہیں سناتے عامر ایک شاعر آدمی تھے (یہ سن کر) وہ نیچے اترے اور اس طرح حدی خوانی کرنے لگے

اللَّہُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اہْتَدَیْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّیْنَا

 فَاغْفِرْ فِدَاء ً لَکَ مَا أَبْقَیْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَیْنَا

وَأَلْقِیَنْ سَکِینَۃً عَلَیْنَا إِنَّا إِذَا صِیحَ بِنَا أَبَیْنَا

 وَبِالصِّیَاحِ عَوَّلُوا عَلَیْنَا

 اے خدا اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، نہ صدقے دیتے اور نہ نماز پڑھتے، ہم تیرے نبی اور دین کے اوپر قربان ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور جنگ میں ثابت قدم رکھ۔ اور ہمیں سکون کی دولت سے نواز جب ہمیں (باطل کی طرف) بلایا جائے گا تو ہم انکار کردیں گے اور کافر غل مچا کر ہمارے خلاف اتر آئے ہیں

آپ نے پوچھایہ کون ہے بتایا گیا عامر بن الاکوع ہیں آپ نے فرمایا اﷲ اس پررحم فرمائے حضرت عمر نے عرض کی یارسول اﷲ انہیں تو جنت یا شہادت کا مستحق بنا دیا ہمیں کچھ لطف اندوز تو ہونے دیتے وہ اس غزوہ میں ہی شہید ہوئے۔

( گیارہویں دلیل )ابن تیمیۃ جو میلاد کے مخالفین کے قائد ہیں اپنی کتاب “اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ أصحاب الجحیم) میں لکھتے ہیں کہ سوال کیا گیا اس قوم کے متعلق جو رات کو عبادت اوردعا کیلئے اکٹھے ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا : “أرجو أن لا یکون بہ بأس” میراخیال ہے کوئی حرج نہیں تو أبو سری الحربی نے کہا اے أبو عبد اﷲ اس سے اچھی بات اورکیا ہو گی کہ لوگ اس بات کیلئے اکٹھے ہوں جس میں نبی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھیں اور اﷲ کی ان نعمتوں کا ذکر کرین جو ان پر ہوئیں جیسے کہ انصار نے کیاتھا ؟ …

انصار جب اسلام لائے تو رسول اﷲا کے مدینہ تشریف لانے سے قبل وہ جمعہ کو جسے پہلے یوم العروبہ کہتے تھے ا ﷲ کی نعمتوں کا ذکر کرنے نمازادا کرنے اور شکر ادا کرنے کیلئے حضرت اسدبن زرارہ کے گھر اکٹھے ہوئے جنہوں نے ان سب کیلئے ایک بکری ذبح کی تھی (مصنف عبد الرزاق)

 اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ان محافل کا اہتمام کرنا اور دن کو مخصوص کرنا استحباب کے حکم میں ہے کہ انصار نے بھی اپنے مسلمان ہونے کا شکر ادا کرنے کیلئے یہ محفل سجائی تھی

( بارہویں دلیل )عید خوشی و مسرت کی علامت اور توقیر و عظمت کا مظہر ہوتی ہے جیسے عید الفطر رمضان المبارک کی تعظیم کا اظہار ہے اور عید الاضحیٰ مناسک حج ادائیگی اور سنت ابراہیمی کی تعظیم کا نام ہے رمضان شریف کی فضیلتیں آں حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ہم پر ظاہر ہوئیں اور انہی فضیلتوں سے متمتع ہونے کے بعد ہم عیدالفطر کی مسرتوں کے مستحق ہوئے اسی طرح آں حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) نے ہی ہمیں حج اور قربانی کے طریقے سکھائے جسکی بناء پر ہمیں عیدالاضحٰی کی خوشیاں نصیب ہوئیں پس یوم مبارک عیدین سعیدین کی تقریبات کا مبداء ہے وہ تو کہیں زیادہ مسرت و ابتہاج کا دن ہے اور وہ ہی تو ایسا دن ہے جسے ہم سب سے بڑی عید کا دن کہہ سکتے ہیں جبکہ میلادالنبی عیدوں کی عید ہے جو رسول اﷲا کی تشریف آوری کی حقیقی خوشی کا اظہار ہے اس لئے یہ عید الاکبر ہے اہل ایمان کیلئے جو آپ کی تعظیم و توقیر کرنے والے ہیں۔ اور اس کی دلیل یہ حدیث مبارکہ

( ما اجتمع قوم فی بیت من بیوت اﷲ یتلون کتاب اﷲ ، ویتدارسونہ بینہم إلا نزلت علیہم السکینۃ وغشیتہم الرحمۃ وحفتہم الملائکۃ وذکرہم اﷲ فیمن عندہ ) (مسلم کتاب العلم کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ باب فَضْلِ الاِجْتِمَاعِ عَلَی تِلاَوَۃِ الْقُرْآنِ وَعَلَی الذِّکْرِ)

 جو قوم بھی بیٹھ کر اﷲ رب العزت کے ذکر میں مشغول ہوتی ہے فرشتے انہیں گھیر لتے ہیں اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ ان پر نازل ہوتی ہے اور اﷲ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔

اہل ایمان کا شعار ہے کہ رحمت کائینات ا کا ذکر کر کے اپنی نجات اوراور نزول رحمت کے حقدار بنتے ہیں

جس کا ثبوت امام الجلیل سفیان بن عیینۃ نے دیا : “عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ” أخرجہ أبونعیم فی حلیۃ الأولیاء الجز ء السابع عن سفیان بن عیینۃجہاں نیک لوگوں کا ذکر ہوتا ہے وہاں اﷲ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں