<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تبادلہء خیال &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1%DB%8C%DA%BA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Tue, 23 Dec 2025 07:18:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>تبادلہء خیال &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>علم وہبی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 07:06:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[احوال]]></category>
		<category><![CDATA[الہام]]></category>
		<category><![CDATA[علم عطائی]]></category>
		<category><![CDATA[علم لدنی]]></category>
		<category><![CDATA[علم وہبی]]></category>
		<category><![CDATA[فراست کی قسمیں]]></category>
		<category><![CDATA[ماء القدس]]></category>
		<category><![CDATA[مواہب ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7021</guid>

					<description><![CDATA[اصطلاح تصوف میں علم وہبی (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اصطلاح تصوف میں <strong>علم وہبی</strong> (یا علم عطائی) سے مراد وہ علم، معانی اور اسرار ہیں جو کسی سالک یا عارف کے دل پر بغیر کسی محنت، کوشش، مطالعہ یا کسب کے، براہِ راست عالمِ غیب سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں،۔</p>
<p>علم وہبی کی تفصیلات درج ذیل نکات میں بیان کی گئی ہیں:</p>
<ul>
<li><strong>تعریف اور ماہیت:</strong> علم وہبی وہ غیبی معانی ہیں جو <strong>بغیر کسب کے وہبی طور پر</strong> سالک کے دل پر نازل ہوتے ہیں۔ اسے <strong>&#8220;علمِ لدنی&#8221;</strong> یا <strong>&#8220;علمِ عطائی&#8221;</strong> بھی کہا جاتا ہے، جو صرف اولیاءِ کاملین اور مقربین کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ علم براہِ راست ذاتِ باری تعالیٰ سے حاصل ہونے والا عرفان اور حقائق کا نام ہے۔</li>
<li><strong>ذرائع حصول:</strong> یہ علم کتابوں کے مطالعے یا بحث و مباحثے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کا طریقہ <strong>الہامات، تجلیات، فتوحات، مکشوفات اور مشاہدات</strong> ہے۔ جب سالک کا باطن صاف ہو جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں وہ علمی راز ودیعت فرما دیتا ہے جس سے حقیقت کے جمال کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔</li>
<li><strong>احوال اور مواہبِ ربانی:</strong> تصوف میں سالک پر طاری ہونے والی خوشگوار روحانی کیفیات کو <strong>&#8220;احوال&#8221;</strong> کہا جاتا ہے، جنہیں &#8220;مواہبِ ربانی&#8221; (اللہ کے عطیات) بھی کہتے ہیں۔ یہ فیوضات اللہ کی طرف سے وہبی طور پر نازل ہوتے ہیں تاکہ بندے کا باطن صاف ہو اور وہ اپنے مولیٰ کے قریب ہو سکے۔</li>
<li><strong>علمِ کسبی سے فرق:</strong> علمِ کسبی یا استدلالی وہ ہے جو انسانی عقل اور دلیل کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، علمِ وہبی <strong>بلا استدلال</strong> حاصل ہوتا ہے اور اس پر سالک کو کامل یقین ہوتا ہے۔ یہ علم دل کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان خیر و شر اور حقائقِ اشیاء کو گہرائی تک دیکھ سکتا ہے،۔</li>
<li><strong>ماءُ القدس:</strong> علمِ وہبی کو <strong>&#8220;ماءُ القدس&#8221;</strong> (مقدس پانی) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ایک نورانی علم ہے جو سالک کو جسمانی کثافتوں سے پاک کر کے تجلیِ حقیقی اور نورِ قدیم سے مزین کر دیتا ہے۔</li>
</ul>
<p>خلاصہ یہ کہ علم وہبی وہ نورانی فیض ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کے قلب پر القاء فرماتا ہے، جس کے بعد انہیں کائنات کے مخفی اسرار اور الٰہی حقائق کا ادراک بغیر کسی ظاہری وسیلے کے حاصل ہو جاتا ہے،۔</p>
<p><strong>تمثیل:</strong> علمِ وہبی کی مثال اس <strong>بارش</strong> جیسی ہے جو بنجر زمین (دل) پر قدرت کی طرف سے برستی ہے اور اسے خود بخود سرسبز و شاداب کر دیتی ہے، جبکہ علمِ کسبی اس محنت اور کنویں کے پانی کی طرح ہے جسے انسان خود کھود کر اور مشقت کر کے زمین تک پہنچاتا ہے۔</p>
<p>علم لدنی<br />
علم وہبی، عطائی اورعلم ربانی کہا جاتا ہے جو بغیر کسی خارجی سبب کے خود بخود قلب میں من جانب اللہ آتا ہو۔<br />
قرآن میں ہے<br />
اٰتَٰینہُ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا وعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً۔( القرآن 18/ 65 ) (تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔<br />
علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں &#8220;یہ آیت علم لدنی کے اثبات میں اصل ہے۔ علم لدنی کو علم الحقیقتہ اور علم الباطن بھی کہتے ہیں<br />
۔[1] حجۃ الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں۔<br />
والعلم اللدنی وھو الذی لا واسطۃ فی حصولہ بین النفس وبین الباری وانما ھو کالضوء من سراج الغیب یقع علی قلب صاف فارغ لطیف (کذا فی الرسالۃ اللدنیہ ص 28) علم لدنی وہ ہے کہ جس کے حصول میں نفس اور حق تعالیٰ کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو، علم لدنی بمنزلہ روشنی کے ہے کہ سراج غیب سے قلب صاف وشفاف پر واقع ہوتی ہے<br />
۔[2]صوفیائے کرام کی اصطلاح میں ایسے ہی علم کو علم لدنی کہتے ہیں جس میں اسباب ظاہری کا دخل اور واسطہ نہ ہو اور عالم غیب سے براہ راست علم اس کے قلب میں داخل ہو ملائکہ پر جو منجانب اللہ علوم فائض ہوتے ہیں وہ اسی قسم کے ہوتے ہیں قلب میں عام طور پر جو علم داخل ہوتا ہیوہ حواس ظاہری کے دروازوں سے داخل ہوتا ہے ایسے علم کو علم حصولی اور علم اکتسابی کہتے ہیں اور جب کسی کے قلب میں کوئی دروازہ عالم ملکوت کی طرف کھل جائے اور بلا ان ظاہری دروازوں کے کوئی علم قلب میں پہنچ جائے تو ایسے علم کو علم لدنی کہتے ہیں جو علم قلب کے باہر کے دروازہ سے داخل اور حاصل ہو وہ علم حصولی ہے اور جو علم قلب کے اندر کسی باطنی دروازہ سے آئے وہ ” علم لدنی“ اور ” علم وہبی“ اور ” علم حضوری“ کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو اسرار غیبی اور باطنی حکمتوں اور مصلحتوں کا علم عطا فرمایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام شریعت کا علم عطا فرمایا تھا<br />
[3]علم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال کے ادراک کا نام ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات، افعال اور اس کے احکام کی ہدایت حاصل ہوتی ہے، اگر یہ علم کسی بشر کے واسطے سے حاصل ہو تو کسبی ہے اور اگر بلاواسطہ حاصل ہو تو علم لدنی ہے۔ علم لدنی کی تین قسمیں ہیں : وحی، الہام اور فراست<br />
[4] اولیاء کا علم حضوری بلکہ حضور سے بھی زیادہ کاشف۔ جس کو علم لدنی کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق اللہ کی ذات و صفات سے ہوتا ہے تو اس میں خطا کا امکان نہیں ہوتا ہے وہ وجدانی اور قطعی ہوتا ہے بلکہ اس علم کا درجہ عام قطعی علوم سے اونچا ہوتا ہے۔ ہر شخص کو اپنی ذات کا علم حضوری و وجدانی ہوتا ہے کیونکہ خود ہی عالم ہے اور خود ہی معلوم۔ اپنی ذات کو جاننے کے لیے کسی تصور کی ضرورت نہیں پڑتی اور اللہ کی ذات سے تعلق رکھنے والے صوفی کا وجدانی علم اس سے بھی بالاتر ہوتا ہے۔ اللہ تو آدمی سے اتنا قریب ہے کہ وہ خود بھی اپنی ذات سے اتنا قرب نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : نحن اقرب الیہ منکم ولکن لا تبصرون۔ یعنی ہم تم سے اتنا قرب رکھتے ہیں کہ تم خود اپنے سے اتنا قرب نہیں رکھتے‘ مگر اے عوامی نظر رکھنے والو! ہم تم کو نظر نہیں آتے۔ پس یہ لدنی علم اولیاء کو پیغمبروں کے توسل سے حاصل ہوتا ہے اگرچہ پیغمبر تک پہنچنے کے درمیانی وسائل کتنے ہی زیادہ ہوں<br />
۔[5]*وحی</p>
<p>اللہ تعالی کا کلام مع الفاظ و معانی بواسطہ جبریل علیہ السلام قلب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے تو وہ وحی اور قرآن کہلاتا ہے.</p>
<p>اگر بغیر واسطہ جبریل علیہ السلام کے صرف معانی کا القاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر ہوتا ہے وہ ہے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم.</p>
<p>اور کبھی بغیر واسطہ حضرت جبریل علیہ السلام کے دیدار باری تعالی کے حصول پر علم عطا ہوا ہے.</p>
<p>جسے رب تعالی نے:</p>
<p>فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہ مَآ اَوْحٰی(القرآن پ۲۷ ,النجم,آیت۱۰)</p>
<p>&#8220;اپنے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی.&#8221;</p>
<p>سے تعبیر فرمایا.</p>
<p>*الہام</p>
<p>الہام کا لغوی معنی ہے پہنچانا</p>
<p>الہام وہ علم حق ہے جو اللہ تعالی غیبی طور پر اپنے بندوں کے دلوں پر القاء کرتا ہے.</p>
<p>جس طرح رب تعالی نے فرمایا:</p>
<p>قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ(القرآن پ۲۲,سبا,آیت۴۸)</p>
<p>&#8220;فرما دیجیے! بے شک میرا رب حق(دلوں پر) القاء کرتا ہے.&#8221;</p>
<p>*فراست</p>
<p>فراست اس علم کو کہتے ہیں جو صورتوں کے آثار و علامت کو عقلمندی سے دیکھنے کی وجہ سے غیبی طور پر حاصل ہوتا ہے.</p>
<p>قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:</p>
<p>&#8220;اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ&#8221;</p>
<p>مومن کی فراست سے ڈرو بےشک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے.(الحدیث, مفہوما)</p>
<p>*الہام اور فراست دونوں سے ہی غیبی چیزوں پر اطلاع حاصل ہوتی ہے.</p>
<p>لیکن فراست میں کچھ چیزوں کی صورتوں کی علامات سے وہ علم حاصل ہوتا ہے</p>
<p>اور الہام میں یہ واسطہ نہیں ہوتا بلکہ قدرتی طور پر اللہ تعالی کی طرف سے فیضان ہوتا ہے.</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d9%2588%25db%2581%25d8%25a8%25db%258c%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D9%88%DB%81%D8%A8%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/" data-a2a-title="علم وہبی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%85-%d9%88%db%81%d8%a8%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>باطنی اصلاح کی ضرورت</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:44:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7122</guid>

					<description><![CDATA[امت مسلمہ کو آج باطنی اصلاح کی ضرورت ہے الحمد للہ! دین اسلام کی تبلیغ اور اشاعت مختلف صورتوں سے ہورہی ہے اور امت کی اصلاح کی جد وجہداور تدبیریں ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ کے فضل وکرم <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>امت مسلمہ کو آج باطنی اصلاح کی ضرورت ہے</p>
<p>الحمد للہ! دین اسلام کی تبلیغ اور اشاعت مختلف صورتوں سے ہورہی ہے اور امت کی اصلاح کی جد وجہداور تدبیریں ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ کے فضل وکرم سے ظاہری صورتیں، مثلاً وضع قطع، لباس، حج، نماز، زکوٰۃ، روزہ وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات زندہ ہورہے ہیں، لیکن اعمال کی روح اور باطنی اصلاح کے بغیر اللہ کا تعلق نصیب نہیں ہوتا اور اسلام کی حقیقت اور قدریں نمایاں نہیں ہوتیں۔ اور قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے  کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ پورے دین میں داخل ہوجاؤ۔</p>
<p>يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً   ۠.</p>
<p>مسلمانوں کی اعانت اور امداد دین کی پختگی میں وابستہ ہے۔ آج حال کا امر ہے کہ مسلمان اپنی روحانی قدریں پہچانیں، تاکہ ہمیں روحانی طاقت وقوت نصیب ہوجائے اور ہم دنیا کے فریب میں ایمان کو نہ چھوڑیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:<br />
’’اللہ رب العزت تمہاری صورتوں اور کھالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘‘۔ تو قلب رب العالمین اور احکم الحاکمین کے نظر فرمانے کا مقام ہے، اس شخص پر تعجب ہے جو اپنے چہرہ کا اہتمام کرتا ہے جو مخلوق کے دیکھنے کی چیز ہے، اس کو دھوتا اور گندگیوں اور میل سے صاف کرتا اور حتی الوسع اس کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ مخلوق کسی عیب پر نہ مطلع ہو اور اپنے اس قلب کا اہتمام نہیں کرتا جو رب العالمین کے نظر فرمانے کا مقام ہے، کسی عیب اور برائی ، گندگی اور آفت کو اس میں نہ دیکھے، بلکہ اس کو تو فضیحتوں، گندگیوں اور برائیوں میں ڈالے رکھتا ہے، اگر مخلوقات میں سے کوئی اس کو دیکھ لے تو اس سے علیحدگی اور جدائی اختیار کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔<br />
قلب ایسا بادشاہ اور رئیس ہے کہ اطاعت اور فرمانبرداری کے قابل ہے اور تمام اعضاء انسانی اس کے تابع اور ماتحت ہیں، لہذا  جب متبوع میں صلاحیت پیدا ہوگی تو تابع میں یقینی طور پر ظاہر ہوگی اور جب بادشاہ راہ راست اختیار کرے گا تو اس کی رعایا خود راہ راست پر آجائے گی اور اس چیز کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بخوبی بیان کردیتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:<br />
’’إن فی الجسد لمضغۃ اذاصلحت صلح الجسد کلہ وإذا فسدت فسد الجسد کلہ ألا وہی القلب‘‘ ۔ (ابن ماجہ،ج:۵،ص:۴۶۷) ترجمہ:۔’’بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو سارا بدن درست ہوتا ہے اور وہ خراب ہو تو سارا بدن خراب ہوجاتا ہے، ہوشیار رہو کہ وہ قلب ہے‘‘۔<br />
حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ فرماتے ہیں کہ طالب حق کو چاہئے کہ پہلے فرقہ ناجیہ (اہل سنت والجماعت) کے عقائد کے موافق اپنے عقائد کی تصحیح کرلے اور اس کے بعد مسائل ضروریہ کو سیکھے اور کتاب وسنت اور آثار صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اتباع کرے، اس کے بعد نفس کو رذیل اخلاق وعادات سے پاک اور صاف کرے، چنانچہ ایک بزرگ کا ارشاد ہے۔<br />
                                                                                                                              خواہی کہ شود دل تو چوں آئینہ                 دہ چیز  برون کن  ازدرون  سینہ</p>
<p>                                                                                                                             حرص وامل وغضب دروغ وغیبت             بخل وحسد وریا وکبرو کینہ<br />
                                                                                                                            خواہی کہ شدی منزل قرب مقیم              نہ چیز بنفس خویش فرما تعلیم<br />
                                                                                                                            صبر وشکر وقناعت وعلم ویقین                تفویض وتوکل ورضا وتسلیم</p>
<p>یعنی اگر تو چاہتا ہے کہ دل مثل آئینہ ہوجائے تو دس چیزیں دل سے نکال دے: حرص، امل ،(امید)غضب، دروغ (جھوٹ) ،غیبت، بخل، حسد،ریا ،کبر،کینہ اور چاہتا ہے کہ قرب الٰہی حاصل ہو تونو چیزیں اپنے نفس میں پیدا کر: صبر،شکر، قناعت، علم، یقین، تفویض، توکل،رضااورتسلیم‘‘۔<br />
حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں:’’قلب ایک قلعہ ہے اور شیطان دشمن ہے۔اور وہ چاہتا ہے کہ قلعہ میں داخل ہوکر اس پر قبضہ کرلے۔ دشمن سے قلعہ کی حفاظت تب ہی ہوسکتی ہے کہ اس کے دروازوں کی حفاظت کی جائے اور تمام گزرگاہوں کو بچایاجائے، جو شخص حفاظت کرنا نہ جانتا ہو، وہ حفاظت بھی نہیں کرسکتا، چنانچہ وسواس شیطانی سے دل کی حفاظت کرنا واجب ہے، بلکہ یہ کام ہر مکلف پر بھی واجب ہوتا ہے، جب تک شیطانی گزرگاہوں سے واقف نہ ہو تب تک شیطان کو دور نہیں کرسکتا، اس لئے ان گزر گاہوں کا علم حاصل کرنا واجب ہے اور ان دروازوں سے آگاہ ہونا بھی واجب ہے، یہی بندے کی صفات ہیں اور یہ کئی ایک ہیں مثلاً:<br />
۱۔ غضب وشہوت، غضب توعقل پر جناتی اثر کی طرح ہے۔ جب عقل کمزور ہو تو شیطانی لشکر حملہ آور ہوتا ہے اور جب انسان غصہ کرتاہے تو شیطان اس کے ذریعہ سے اپنا کھیل کھیلتا ہے، جیساکہ بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔<br />
۲۔حسد وحرص، ان دونوں کی وجہ سے انسان ہرچیز کا حریص بن جاتا ہے، یہ چیزیں اسے لالچی اور اندھا بنادیتی ہیں، اب شیطان کو موقع ملتا ہے، حرص کے وقت وہ شہوت تک پہنچ جاتا ہے، چاہے کس قدر برا اور بے حیائی کا کام ہو۔<br />
۳۔سیر ہوکر کھانا، اگرچہ حلال اور پاک ہو، اس لئے کہ سیر ہو کرکھانے سے شہوات کو قوت حاصل ہوتی ہے اور یہ شیطان کے ہتھیار ہیں۔<br />
۴۔مکان، لباس اور سامان خانہ کے ساتھ زینت کرنا، جب انسان کے دل میں اس کا غلبہ دیکھتا ہے تو اس کو بڑھاتا ہے، وہ ہمیشہ مکان بنانے، اس کی چھتیں، دیوار سجانے اور عمارات کو وسیع کرنے میں لگائے رکھتا ہے، اس کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ تیری عمر بہت لمبی ہوگی، جب وہ ان کاموں میں گھر گیا تو اب دوبارہ اس کے پاس اسے آنے کی ضرورت نہیں رہتی، اب بعض کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اسی حالت میں مرجاتے ہیں کہ وہ شیطان کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں، خواہشات کے مطیع ہوتے ہیں، اس سے انجام خراب ہونے کا بھی ڈر ہوتا ہے۔<br />
دنیا دار الامتحان ہے، یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس کو ہم اپنی مرضی کی مطابق نہیں گزارسکتے، مگر ہرکام میں دیکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے؟ اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا کیا طریقہ ہے؟۔<br />
زندگی موت ہے اور موت زندگی کی ابتداء ہے جو اصل اور ابدی ہے، لہذا اس دنیا میں انسان کی ابدی زندگی سنوارنے کے لئے دو طریقے ہیں، اول: دل۔ اور دوم: جسم۔<br />
دل جسم کا بادشاہ ہے، اگر وہ سنور گیا تو پورا جسم یا یوں کہئے پوری زندگی سنور گئی اور اگر وہ خراب یا فاسد ہوگیا تو پوری زندگی خراب ہوجائے گی ۔ دل کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے،دل احساسات کی کائنات ہے، دل مسکن الٰہی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام، اولیاء کرامؒ نے ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر محنت کی۔ دل میں اللہ تعالیٰ اپنے سوا کسی غیر کو، محبت کی نسبت، خوف کی نسبت، امید اور یقین کی نسبت نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایمان دل کی کیفیت کا نام ہے اور جسم سے اس کا اطاعت الٰہی کی صورت میں ظہور ہوتا ہے۔ایک بزرگ ارشاد فرماتے ہیں:<br />
’’جس طرح رات دن کا فرق ہے، اسی طرح نور وظلمت کا فرق ہے۔ نور حقیقی کے ظاہر ہوجانے کے بعد (یعنی اپنے اعمال نظر آجانے کے بعد) رات اور دن کے فرق کی طرح دین اور دنیا کا فرق معلوم ہوگا۔ دن کی روشنی اعمال میں کامیابی دکھاتی ہے اور دنیا کی چیزوں سے متنفر اور صراط مستقیم کا راستہ دکھاتی ہے۔ سورج کی روشنی بغیر محنت آجائے گی ، لیکن اعمال دکھانے والی روشنی محنت سے آتی ہے اور جب یہ روشنی نصیب ہوگئی تو پھر مطلب حاصل ہوگا۔ اس روشنی کے حصول کے بعد نہ سود کے نزدیک جائے گا، نہ کسی کو دھوکہ دینے کا سوال پیدا ہوگا اور نہ رشوت یا دیگر منکرات کے قریب جائے گا، جو کام کرے گا مرضی مولیٰ کی خاطر کرے گا، اگر کسی کو دوست بنائے گا تو بھی اسی کی مرضی مطلوب ہوگی اور اگر کسی کو دشمن سمجھے گا تو بھی اسی کی رضا کے لئے ‘‘۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b7%25d9%2586%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b6%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%A8%D8%A7%D8%B7%D9%86%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/" data-a2a-title="باطنی اصلاح کی ضرورت"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a8%d8%a7%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توحید شہودی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:29:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[توحید افعال]]></category>
		<category><![CDATA[توحید ذات]]></category>
		<category><![CDATA[توحید شہودی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید صفات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9310</guid>

					<description><![CDATA[ذرائع کے مطابق توحیدِ شہودی (جسے توحیدِ عینی یا وجدانی بھی کہا گیا ہے) سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں ایک موحد ذوق اور مشاہدے کے ذریعے حق تعالیٰ کی وحدانیت کو پاتا ہے۔ اس مقام پر سالک پر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>ذرائع کے مطابق <strong>توحیدِ شہودی</strong> (جسے توحیدِ عینی یا وجدانی بھی کہا گیا ہے) سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں ایک موحد ذوق اور مشاہدے کے ذریعے حق تعالیٰ کی وحدانیت کو پاتا ہے۔ اس مقام پر سالک پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ تمام اشیاء اپنی ہستی میں اللہ کے وجود کے ساتھ قائم ہیں اور وہ اللہ کی واحدانیت کے مشاہدے میں اس طرح مستغرق ہوتا ہے کہ اسے کائنات کی بکھری ہوئی اشیاء میں بھی وحدتِ الہیٰ کا جلوہ نظر آتا ہے۔</p>



<p>ذرائع میں توحیدِ شہودی کے <strong>تین بنیادی درجات یا اقسام</strong> بیان کی گئی ہیں:</p>



<p>۱. <strong>توحیدِ افعال:</strong> اس درجے میں سالک حق تعالیٰ کے فعل کو غیر کے فعل سے الگ کر کے دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں ہونے والے تمام کاموں کا <strong>حقیقی فاعل</strong> صرف اللہ تعالیٰ کو مانا جائے اور یہ مشاہدہ کیا جائے کہ تمام افعال اسی کی قدرت اور ارادے سے ظہور پذیر ہو رہے ہیں،۔</p>



<p>۲. <strong>توحیدِ صفات:</strong> اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات کو غیر کی صفات سے ممتاز کرنا ہے۔ اس مقام پر سالک یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ تمام کمالات اور صفات (جیسے علم، قدرت، سماعت و بصارت وغیرہ) درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں اور کائنات کی دیگر اشیاء میں جو صفات نظر آتی ہیں، وہ اسی کی صفات کا پرتو ہیں،۔</p>



<p>۳. <strong>توحیدِ ذات:</strong> یہ توحید کا سب سے بلند مرتبہ ہے جس میں سالک اللہ کی قدیم ذات کو تمام دیگر ذوات سے الگ اور اکیلا پاتا ہے۔ اس حالت میں سالک پر جب اللہ کی ذات کی تجلی ہوتی ہے، تو اسے تمام ذوات، صفات اور افعال اللہ کی ذات میں فنا ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس مقام پر اسے اللہ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ <strong>فنا فی اللہ</strong> کی کیفیت میں ہوتا ہے،۔</p>



<p>ذرائع کے مطابق، ایک ماہر مرشد سالک کا روحانی علاج پہلے <strong>توحیدِ افعال</strong> سے کرتا ہے، پھر اسے <strong>توحیدِ صفات</strong> کے مشاہدے تک لے جاتا ہے اور آخر میں <strong>توحیدِ ذات</strong> کے نور سے اس کے دل کو منور کرتا ہے تاکہ اس کے حجابات اٹھ جائیں اور وہ قربِ الہیٰ پا سکے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d8%25b4%25db%2581%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/" data-a2a-title="توحید شہودی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d8%b4%db%81%d9%88%d8%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توحید وجودی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Dec 2025 06:23:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجود علمی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجود عملی]]></category>
		<category><![CDATA[توحید وجودی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4013</guid>

					<description><![CDATA[تَوحِیدِ وُجُودی&#160; توحید وجودی کا مفہوم]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<h1 class="wp-block-heading">تَوحِیدِ وُجُودی&nbsp;  </h1>



<p><strong>توحید وجودی کا مفہوم</strong></p>



<ul class="wp-block-list">
<li>توحید وجودی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ کائنات میں <strong>حقیقی وجود صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہے</strong> ۔ امام قسطلانی کے مطابق، اللہ کے سوا ہر چیز اپنی ذات میں معدوم (ہالک) ہے اور اسے جو بھی بقا یا وجود حاصل ہے، وہ صرف اللہ کے پیدا کرنے اور اسے قائم رکھنے کی وجہ سے ہے  ۔ تصوف میں اسے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ کے نور کا عکس اور اس کی صفات کا مظہر ہے  </li>



<li>اس کی دو بنیادی قسمیں درج ذیل ہیں:</li>



<li><strong>۱۔ توحید وجودی علمی (Theoretical/Knowledge-based)</strong></li>



<li>یہ توحید کا وہ درجہ ہے جو <strong>علم، عقل اور نظریاتی ادراک</strong> سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس کی عام فہم تعریف یہ ہے:</li>



<li><strong>علمی پہچان:</strong> سالک دلائل اور شرعی علم کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق ہے اور وہی حقیقی مؤثر ہے  ۔</li>



<li><strong>مراتبِ وجود کا ادراک:</strong> اس میں سالک علمی طور پر یہ سمجھتا ہے کہ وجود کے مختلف درجات (جیسے عالمِ ارواح، عالمِ مثال، عالمِ شہادت) دراصل اللہ ہی کی صفات اور اسماء کے تنزلات اور تجلیات ہیں۔</li>



<li><strong>خلاصہ:</strong> یہ صرف <strong>جاننے </strong>کا نام ہے کہ کائنات کی حقیقت اللہ کی وحدت میں پوشیدہ ہے۔</li>



<li><strong>۲۔ توحید وجودی عملی (Experiential/Practical)</strong></li>



<li>یہ توحید کا وہ بلند درجہ ہے جہاں علم محض نظریہ نہیں رہتا بلکہ ایک <strong>باطنی کیفیت اور مشاہدہ</strong> بن جاتا ہے  ۔ اسے &#8220;وحدۃ الشہود&#8221; یا &#8220;فناء&#8221; سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس کی خصوصیات یہ ہیں:</li>



<li><strong>مشاہدہ و استغراق:</strong> سالک اللہ کی محبت اور ذکر میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی ہستی اور گرد و پیش کی مخلوقات کا احساس ختم ہو جاتا ہے، اسے صرف اللہ ہی کا مشاہدہ ہوتا ہے ۔</li>



<li><strong>فنائے ارادہ:</strong> عملی توحید میں انسان کی <strong>اپنی مرضی اور خواہش ختم ہو جاتی ہے</strong> اور وہ مکمل طور پر اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتا ہے۔</li>



<li><strong>تبدیلیِ صفات:</strong> اس مقام پر بندے کے اوصافِ مذمومہ (برے اخلاق) ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ الٰہی صفات (اوصافِ حمیدہ) جلوہ گر ہوتی ہیں ۔</li>



<li><strong>خلاصہ:</strong> یہ محض جاننا نہیں بلکہ <strong>برتنے اور دیکھنے (Witnessing)</strong> کا نام ہے، جہاں بندہ اللہ کے سوا کسی غیر پر بھروسہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی غیر کو دیکھتا ہے ۔</li>



<li><strong>تمثیل:</strong> توحید وجودی <strong>علمی</strong> ایسے ہے جیسے کوئی شخص کتاب میں پڑھے کہ &#8220;سورج کی روشنی کے سامنے ستارے نظر نہیں آتے&#8221;۔ جبکہ توحید وجودی <strong>عملی</strong> اس شخص کی حالت ہے جو دن کے اجالے میں کھڑا ہو کر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو کہ سورج کی چمک میں تمام ستارے نظروں سے اوجھل (فنا) ہو چکے ہیں، اگرچہ وہ اپنی جگہ موجود ہیں </li>
</ul>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25ad%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%258c%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF%20%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/" data-a2a-title="توحید وجودی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%ad%db%8c%d8%af-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسجد  میں نماز جنازہ کی ادائیگی</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Jan 2024 00:17:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[تلویث مسجد]]></category>
		<category><![CDATA[مسجد میں نماز جنازہ]]></category>
		<category><![CDATA[مسجد میں نماز جنازہ کے عذر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8854</guid>

					<description><![CDATA[مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی مسجد میں نماز جنازہ کے عذرات موجودہ دور میں مسجد میں نماز جنازہ کے  حالات و واقعات تبدیل ہورہے ہیں جن میں آبادی کا گنجان ہونا آبادی میں جنازہ کیلئے پاک جگہ نہ ہونا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی</h1>
<h2>مسجد میں نماز جنازہ کے عذرات</h2>
<p>موجودہ دور میں مسجد میں نماز جنازہ کے  حالات و واقعات تبدیل ہورہے ہیں جن میں<br />
آبادی کا گنجان ہونا<br />
آبادی میں جنازہ کیلئے پاک جگہ نہ ہونا<br />
سڑک یا شاہراہ پر نماز جنازہ کا ادا کیا جانا<br />
ٹریفک کے رکنے سے عوام الناس کو تکلیف برداشت کرنا<br />
سخت دھوپ یابارش کی وجہ سے کھلی جگہ نماز جنازہ پڑھنے میں تکلیف ہونا<br />
ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کیلئے اکثر سوالات جنم لیتے ہیں مفتیان کرام کے فتوی کی روشنی میں جوابات کا خلاصہ پیش خدمت ہے</p>
<h2>اصل سنت اور فقہ حنفی</h2>
<p>نبی کریم ﷺ کی سنت اورفقہ حنفی کے مطابق نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنا مکروہ ہے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں معمول یہی تھا کہ<br />
مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ (صحیح مسلم کتاب الجنائز)<br />
جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا۔<br />
اہلِ علاقہ کو چاہیئے کہ وہ مسجد کے علاوہ، جنازہ کے لیے کسی جگہ کا انتظام کریں، اگر مستقل جنازہ گاہ کی گنجائش نہ ہو تو کسی بھی کھلی اور پاک جگہ پر نمازِ جنازہ ادا کی جاسکتی ہے، مثلًا: کسی کمیونٹی ہال یا کھیل کے میدان وغیرہ میں۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا مستقل معمول کھلے میدان (عیدگاہ/ جنازہ گاہ) میں نمازِ جنازہ ادا کرنے کا تھا، اس لیے سنت اور افضل یہ ہے کہ جنازہ مسجد سے باہر ادا کیا جائے۔</p>
<h2>سڑکوں یا ناپاک جگہوں کی صورت میں</h2>
<p>اگر کوئی مناسب مخصوص جگہ ہو تو لازم ہے کہ نماز جنازہ وہاں ادا کیا جائے مسجد میں نہ ادا کیا جائے لیکن مخصوص جگہ نہ ہونے یا سڑک وغیرہ پر ادا کرنے،،اور بیان کردہ عذر شرعیہ کی صورت میں مسجد میں نہ صرف نماز جنازہ جائز بلکہ افضل ہے اس میں ایک بہتر صورت تو یہ ہے کہ میت (چارپائی)مسجد سے باہر ہو اگر میت مسجد میں بھی ہو پھر بھی نماز جنازہ راستے یا سڑک کے مقابلے میں مسجد میں پڑھناافضل ہے ۔</p>
<h2>سڑک یا شاہرہ کا حکم</h2>
<p>سڑک یا شاہراہ پر نماز جنازہ ادا کرنا چاہےعذر ہو یا نہ ہو مکروہ تحریمی ہےبالفرض شاہراہ پاک ہو اور بغیر جوتوں کے نماز پڑھی جائے تو بھی مکروہ تحریمی ہے۔حدیث شریف میں ہے:<br />
عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَفِي الْحَمَّامِ، وَفِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ (جامع الترمذی ،ابوب الصلاۃ )<br />
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سات مقامات میں صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں ، مذبح میں، قبرستان میں ، عام راستوں پر،حمام (غسل خانہ )میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔<br />
فتاوی شامی میں ہے<br />
وَتُكْرَهُ أَيْضًا ‌فِي ‌الشَّارِعِ وَأَرْضُ النَّاسِ حاشیۃ ابن عابدين جلد2 صفحہ 225<br />
نماز جنازہ شارع عام اور عام لوگوں کی زمین پر مکروہ ہے۔<br />
علامہ شامی نے کتاب الجنائز تتمہ میں بیان کیا ہے کہ ہمارے شہروں میں لوگ نماز جنازہ مسجد میں پڑھتے ہیں اس لئے کہ جنازہ گا ہیں ختم ہو گئیں۔ مسجد کے علاوہ جگہ کا میسر ہونا مشکل ہے یا ناممکن لیکن بعض جگہ نماز جنازہ شاہراہ پر پڑھی جاتی ہے، جس سے نماز کا فاسد ہونا لازم آتا ہے۔ عموم نجاست کی وجہ سے سڑکیں نجس ہیں اور نجس جوتے اتارے نہیں جاتے ، ویسے بھی شاہراہ پر نماز جنازہ مطلقا مکروہ تحریمی ہے ۔ کسی بھی مسئلہ میں تنگی کے وقت وسعت دی جاتی ہے۔ اور اگر نماز جنازہ کیلئے جگہ کا نہ ہونایا مشکل ہونا عذر شمار کیا جائے تو (مسجد میں)بالکل کراہت نہیں نہ تحریمی نہ تنزیہی لہذا مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔( حاشيۃابن عابدين جلد2/صفحہ226)</p>
<h2>فرائض نماز اور نماز جنازہ میں فرق</h2>
<p>نمازِ جنازہ ادا کرنے کیلئے وہی شرطیں ہیں جو مطلق نماز کی ہیں ان میں سے بدن کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا بھی شرائط ہیں ان شرائط کیلئے سڑک کے مقابلے میں مسجد افضل و اولی ہے کیونکہ سڑکیں دکھائی دینے اور نہ دکھائی دی جانے نجاست کی وجہ سے نجس ہوتی ہیں اور نماز جنازہ کی شرائط میں سے ہے کہ قد موں کی جگہ پاک ہو<br />
وَإِنْ كَانَتْ النَّجَاسَةُ ‌فِي ‌مَوْضِعِ ‌قِيَامِهِ فَصَلَاتُهُ فَاسِدَةٌ(المبسوط للسرخسي۔1/ 204)<br />
اگر قیام کی جگہ میں نجاست ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی۔<br />
اسی طرح اگر جوتوں کے ساتھ نماز جنازہ ادا کی جائے تو مکمل طہارت نہ ہونے کی وجہ سے بھی نماز فاسد ہوگی۔<br />
اگر وہ جگہ پیشاب وغیرہ سے ناپاک تھی یا جن کے جوتوں کے تَلے ناپاک تھے اور اس حالت میں جوتا پہنے ہوئے نماز پڑھی تو ان کی نماز نہ ہوئی۔ احتیاط یہی ہے کہ جوتا اتار کر اس پر پاؤں رکھ کر نماز پڑھی جائے کہ زمین یا تَلا اگر ناپاک ہو تو نماز میں خَلل نہ آئے۔(فتاویٰ رضویہ،ج 9،ص188)(جن گلیوں میں پیشاب لید گٹر اورلیٹرین کا پانی ہو وہاں چلنے والے کا جوتا ناپاک ہی تصور ہوگا ) غیر مذبوحہ( انسان ،کتے، بلی) کا پیشاب نجاست شمار ہوتا ہےاور نجاست نماز کو فاسد کرتی ہے<br />
وإن لم تكن مذبوحة ‌فصلاته ‌فاسدة۔(خزانۃ المفتين &#8211; قسم العبادات،ص208 )</p>
<h2>بارش اور غیر لوگوں کی زمین</h2>
<p>فقہ حنفی کی مشہور کتاب میں ہے<br />
بارش وغیرہ کے عذر سے مسجد میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں ۔ راستہ میں اور غیر لوگوں کی زمین میں جنازہ پڑھنا مکروہ ہے لیکن جو مسجد کہ جنازہ کی نماز کی واسطے بنائی جائے اس میں نماز پڑھنا مکروہ نہیں(فتاوی عالمگیری کتاب الصلاۃ جلد 1 صفحہ 409)</p>
<h2>مسجد میں کراہت کی وجہ</h2>
<p>ایسے فتاوی بھی موجود ہیں جن میں کہا گیا کہ میت مسجد سے باہر ہو یا اندردونوں صورتوں میں نماز جنازہ مکروہ ہے جو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا بریلوی اور دیگر احناف کی کتب میں مذکور ہیں ان کا تعلق ایسی صورتوں کے ساتھ ہے، جہاں مساجد کے علاوہ پاک جگہیں نماز جنازہ پڑھنے کے لئے میسر ہوں ایسی صورت میں اکثر احناف کے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔ مگر ایسی صورت میں بھی علامہ شامی اور ابن ہمام کے نزدیک نماز جنازہ مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنز یہی ہے جس کو ہم خلاف اولیٰ کہیں گے۔<br />
واضح ہو کہ مکروہ یا غیر مکروہ کا اختلاف مسجد میں بلا عذرنماز جنازہ پڑھنے میں ہے۔ عذر کی حالت میں بالا تفاق کوئی کراہت نہیں ۔<br />
احناف کے نزدیک میت اگر مسجد میں ہو، نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جائے۔ امام اور قوم مسجد میں ہوں تو نماز مکروہ ہے۔ اس کی وجہ کہ کوئی عذر نہ ہو ۔ اس میں احناف کے دو قول ہیں۔ اکثر کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ محققین کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے۔ جس کا مطلب خلاف اولی ہے۔<br />
علامہ شامی فرماتے ہیں مناسب یہی ہے کہ فتوی (مکروہ تنزیہی) پر دیا جائے<br />
اورعلامہ ابن ہمام فرماتے ہیں ۔<br />
ثُمَّ هِيَ كَرَاهَةُ ‌تَحْرِيمٍ ‌أَوْ ‌تَنْزِيهٍ رِوَايَتَانِ، وَيَظْهَرُ لِي أَنَّ الْأَوْلَى كَوْنُهَا تَنْزِيهِيَّةً (فتح القدير للكمال ابن الهمام وتكملته جلد2صفحہ 128)<br />
پھر یہ کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی اس میں دو روایتیں ہیں میرے لئے ظاہر یہ ہے کہ بہتر کرا ہت تنزیہی ہے۔<br />
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اشعۃ اللمعات جلد دوم صفحہ 846 میں لکھا ہے کہ مسجد میں جنازہ مکروہ تنزیہی ہے۔</p>
<h2>عذر اورغیر عذر کی صورت</h2>
<p>علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ احناف اور شوافع کا اختلاف اگر سنت میں ہے تو صحیح یہ ہے کہ میت کو مسجد میں رکھ کر جنازہ کی نماز پڑھنا سنت نہیں یعنی سنت دائمہ مستمر ہ (ہمیشگی)نہیں۔ بے شمار مسلمانوں کے جنازے حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مسجد سے باہر پڑھے۔ لہذا افضل یہ ہے کہ بلا عذر شرعی نماز جنازہ مسجد میں نہ پڑھی جائے اور اگر اختلاف مباح اور عدم مباح میں ہے کہ شوافع کے نزدیک مسجد میں نماز جنازہ مباح ہے اور احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔ اگر کراہت تحریمی مراد ہے تو حق اس کے خلاف ہے لہذا حق یہ ہے مسجد میں نماز جنازہ جبکہ میت مسجد میں ہومکروہ تنزیہی ہے اگر عذر ہو تو یہ کراہت بھی نہیں ہے۔ واضح ہوا اگر میت مسجد سے خارج ہو تو مطلقاً کراہت نہیں ہے یہیں ہمار ا فتوی ہے۔ملخص از (فتح القدیر باب الجنائز)</p>
<h2>تلویث مسجد</h2>
<p>میت کو مسجد سے باہر اس لئے رکھتے ہیں کہ مسجد میں تلویت(آلودگی) نہ ہو۔ اگر تلویث مسجد کا خطرہ نہیں میت صحیح حالت میں ہے تو مسجد میں میت رکھ کر نماز جنازہ ادا کرنا بھی جائز ہے اور سنت سے ثابت ہے۔<br />
اگرتلویث مسجد کا کوئی امکان نہ ہو تو نماز جنازہ بلا کراہت مسجد میں جائز ہے۔ مسلمان قابل احترام ہے زندہ ہو یا مردہ۔ اگر اس کا جسم صاف نہ ہو تو مسجد اس کا آنا جائز نہیں خواہ زندہ ہو جیسے جنبی، حائض، نفساء یا وہ میت جس کے جسم سے کچھ نکلتا ہو یا بدبو آنے لگے۔</p>
<h2>مسجد میں نماز جنازہ کی احادیث</h2>
<p>أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتِ: ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ‌ابْنَيْ ‌بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ (صحيح مسلم کتاب الجنائزوباب الصلاة على الجنازة في المسجد)<br />
جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا انہیں مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی ان پر نمازِ جنازہ پڑھ سکوں۔ اس پر تامل کیا گیا۔ آپ نے فرمایا، خدا کی قسم رسول اﷲ ﷺ نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور ان کے بھائی پر مسجد میں نمازِ جنازه پڑھی ہے۔<br />
دوسری روایت میں ہے کہ تمام ازواج مطہرات کے مطالبہ پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد میں ادا کیا گیا، ان عصمت مابوں کو جب خبر پہنچی کہ لوگوں نے اسےبرا کہا اور کہا کہ جنازے مسجدوں میں داخل نہیں کیے جاتے، حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا:<br />
‌مَا ‌أَسْرَعَ ‌النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ، عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ(صحيح مسلم کتاب الجنائزباب الصلاة على الجنازة في المسجد)<br />
لوگ جس بات کو جانتے نہیں کتنی جلدی اس پر عیب لگا دیتے ہیں۔ ہم پر عیب لگا کہ مسجد میں جنازہ لایا گیا ہے۔ حالانکہ سہیل بن بیضاء پر رسول اﷲ ﷺ نے مسجد میں ہی تو نماز جنازہ ادا فرمایا تھا۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25ac%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25d8%25ac%25d9%2586%25d8%25a7%25d8%25b2%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25a6%25db%258c%25da%25af%25db%258c%2F&#038;title=%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF%20%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%B2%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%AF%DB%8C" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c/" data-a2a-title="مسجد  میں نماز جنازہ کی ادائیگی"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%d8%ac%d9%86%d8%a7%d8%b2%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چودہ طبق کیا ہیں؟</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b7%d8%a8%d9%82-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b7%d8%a8%d9%82-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 12 Dec 2023 21:46:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[چودہ طبق]]></category>
		<category><![CDATA[مدارج عروج]]></category>
		<category><![CDATA[مدارج نزول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7132</guid>

					<description><![CDATA[چودہ طبق کیا ہیں؟ اندر کلمہ کل کل کردا عشق سکھایا کلماں ھو چودہ طبق نیں کلمے اندر چھوڑ کتاباں قلماں ھو سات طبقے زمین کے اور سات طبقے آسمان کے، کائنات چودہ طبق کیا ہیں؟؟ وجود عنصری کے لئے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b7%d8%a8%d9%82-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>چودہ طبق کیا ہیں؟</h1>
<p>اندر کلمہ کل کل کردا عشق سکھایا کلماں ھو<br />
چودہ طبق نیں کلمے اندر چھوڑ کتاباں قلماں ھو<br />
سات طبقے زمین کے اور سات طبقے آسمان کے، کائنات<br />
چودہ طبق کیا ہیں؟؟<br />
وجود عنصری کے لئے سات طبقات ارضی ہیں جو نفسانی علم سے روشن ہیں ،وہ یہ ہیں<br />
۱۔غصہ<br />
۲۔حسد<br />
۳۔تکبر<br />
۴۔بخل<br />
۵۔کینہ<br />
۶۔شہوت<br />
۷۔حرص و ہوا<br />
بسلسله چوده طبق وجود ملکی کے لئے سات طبقات سماوی ہیں جوروحانی علم سے منور ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں<br />
۱۔محبت<br />
۲۔حلم<br />
۳۔صبر<br />
۴۔شکر<br />
۵۔توکل<br />
۶۔رضا<br />
7۔حیا۔<br />
.چودہ طبق دلے دے اندر تنبوں وانگن تانے ھو<br />
وچے بھیڑے وچے چنگے وچے ونج مہانے ھو<br />
چودہ#طبق!!<br />
پس سلطان باہو عروج آدمیت کے سات طبقات بتاتے ہیں جو سراسر اخلاق ہیں اور اخلاق تصوف کا سب سے اونچا درجہ ہے،نفس بُری صفات کا مجموعہ ہےاسے طبیعت بھی کہتے ہیں اور طبیعت کو شریعت کے تابع کرنے کا نام ادب ہے اور الدین کل ادبٍ،اور دین سارا کا سارا ادب ہے ،ہر مقام اور ہر جگہ کے الگ آداب ہیں ،سات مدارج نزول کے ہیں یہ بُری صفات ہیں انھیں چھوڑنے سے عروج شروع هوتا ہے اور سات مدارج عروج کے ہیں جن کو اختیار کرنے سے روح کی ترقی ہوتی ہے اور انسان کا مقام فرشتوں سے بلند تر ہو جاتا ہے</p>
<p>قرآن پاک میں ہے<br />
ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَ سَبۡعَ سَمَٰوَٰتٖ وَمِنَ ٱلۡأَرۡضِ مِثۡلَهُنَّۖ يَتَنَزَّلُ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنَهُنَّ لِتَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ وَأَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عِلۡمَۢا  ﴿ الطلاق:12﴾&#8230;</p>
<p>یعنی :’’ اللہ وہ ہے جس نےسات آسمان بنائے اوراتنی ہی زمین ۔اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے یہ اس لیے کہ تم کومعلوم ہوجائے کہ اللہ ہرشئ پرقادر ہےاور اس کے علم نےہر چیز کا احاطہ کرلیا ہے،، ۔ اس آیت سےمعلوم ہوتا ہےکہ آسمان کی طرح زمین کےبھی سات طبقے ہیں ۔چنانچہ ترجمان القرآن حبر المقسرین حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’ ائ سبع ارضین ،، ( ابن جریر 14؍153)ابن ابی حاتم، حاکم ( 2؍394 ) بیہقی ، عبدبن حمید ) ظاہر آیت اورابن عباس کی تفسیر کی تائید ان احادیث سےبھی ہوتی ہے۔’’ ‌مَنْ ‌ظَلَمَ ‌قِيدَ ‌شِبْرٍ مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ (بخاري كتاب بدء الخلق باب ماجاء في سبع أرضين 4/ 74   :</p>
<p>اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَمَا أَقَلَّتْ ،،( ترمذي كتاب الدعوات</p>
<p>«اللهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرْضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ»«السنن الكبرى &#8211; النسائي &#8211; :</p>
<p>ان احاديث صاف ظاہر ہوہےکہ زمین کے بھی سات طبقے ہیں ۔البتہ ان طبقوں کی کیفیت اوران میں کسی مخلوق کےہونے کاعلم اللہ ہی کوہے کسی مرفوع صحیح غیر متکلم فیہ حدیث کے ، یا بغیر کسی قرآنی آیت کی تصریح کے اس کی بابت ہما را بحث کرنا قطعا نامناسب ہے۔</p>
<p>’’ قال الخفاجي : الذي نعتقد أن الارض سبع ، ولها سكان من خلقه يعلمهم الله تعالي ،، انتهي . قال العلامة القنوجي في تفسيره : وهذا أعدل الأقوال وأحوطها ، قال: ويكفي الإعتقاد بكون السموات سبعا والأ رضين سبعا ، كما ورد به الكتاب العزيز والسنة المطهرة ، ولا ينبغي أن نخوض في خلفهما ومافيها ، فإنه شئي استأثر الله سبحانه وتعالي بعلمه ، لا يحيط به احد سواه ، ولم يكلفناالله تعالي بالخوض في أمثال هذه المسائل والتفكر فيها والكلام عليها ،،( بخاري 4/75 .</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b7%25d8%25a8%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25db%2581%25db%258c%25da%25ba%25d8%259f%2F&#038;title=%DA%86%D9%88%D8%AF%DB%81%20%D8%B7%D8%A8%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%D8%A7%20%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b7%d8%a8%d9%82-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/" data-a2a-title="چودہ طبق کیا ہیں؟"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b7%d8%a8%d9%82-%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وجود ابلیس کے اصولی مظاہر</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 18 Nov 2023 10:23:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کا تیر]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کا قلعہ]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کا گروہ]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کی تلوار]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کی سواری]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کے آلات]]></category>
		<category><![CDATA[ابلیس کے ہتھیار]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا و مافیہا کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[ریاء کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[سات اصولی مظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[طبیعت ، شہرت، لذت کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[عادات اور طلب راحت کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[عُجب کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[علم کے خناس کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[معارف الہیہ میں التباس کی چال]]></category>
		<category><![CDATA[وجود ابلیس کے تنوعات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8154</guid>

					<description><![CDATA[وجود ابلیس کے اصولی مظاہر ابلیس نفس کی جہت جلالی و گمراہی کا مظہر ہے اور اُسے انسان پر نفس ہی کے وسیلہ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ شیاطین ابلیس کی اولاد ہیں۔ ابلیس نے نفس طبیعیہ پر قابو پا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>وجود ابلیس کے اصولی مظاہر</h1>
<p>ابلیس نفس کی جہت جلالی و گمراہی کا مظہر ہے اور اُسے انسان پر نفس ہی کے وسیلہ سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ شیاطین ابلیس کی اولاد ہیں۔ ابلیس نے نفس طبیعیہ پر قابو پا کر عادات حیوانیہ کی دُنیا میں دل کی شہوانی آگ سے نکاح کیا تو شیاطین الانس والجن پیدا ہوئے اور بہ نسبت شیاطین جن کے شیاطین انس زیادہ قوی اور زیادہ خطرناک ثابت ہوئے۔</p>
<h2><span style="font-size: 16px;">ابلیس کے تعلق سے صوفیائے کرام بیان کرتے ہیں کہ ابلیس کے وجود میں بے شمار تنوعات کے ساتھ ننانوے مظاہر ہیں جن کے اصولی مظاہر سات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔</span></h2>
<h2>1:  دنیا و مافیہا</h2>
<p>۔ اس میں ابلیس کفار ومشرکین پر ظاہر ہوتا ہے یعنی اگرکسی انسان کے پاس وہ دنیا و مافیہا کے راستے سے آرہا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کفرو شرک کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اسی لیے ابلیس نے اس کے پاس آنے کے لیے یہ دروازہ منتخب کیا ہے۔ دنیا و مافیہا کی رغبت، کفر و شرک میں مبتلا ہونے کا پیش خیمہ ہے ۔</p>
<h2>2:طبیعت ، شہرت، لذت</h2>
<p>اس میں اہلیس عام مسلمانوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس راستے سے اگر وہ کسی کے پاس آرہا ہے تو اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ اب اس کے اسلام کی خیر نہیں۔ اسے فورا شہوت ولذت کے راستے سے ہٹ جانا چاہیئے ور نہ عین ممکن ہے کہ اسلام کی نقد جنس اس کے ہاتھ سے جاتی رہے ۔</p>
<h2>3:عجب</h2>
<p>۔ اس میں وہ نیک اور بھلے لوگوں پر ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ انھیں اپنے نیک اوربھلے اعمال بہت اچھے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اور وہ خود کو عام مسلمانوں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ انھیں اپنی عظمت اور بڑائی کا وہم ہو جاتا ہے اور پھر ابلیس اس وہم کو اس قدر بڑھاتا ہے کہ اعمال صالحہ میں تخفیف شروع ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ یہ لوگ بد اخلاقی، بد گمانی، غیبت ، فسق و فجور اور خاندانی فخر و غرور میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بالعموم ہر مسلمان کو اور بالخصوص سالک کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رکھنی چاہئیے کہ عجب و غرور ہی وہ اخلاق ہے جس کی وجہ سے ابلیس کو بارگاہ رب العزت سے مردود قرار دیا گیا۔ یہ اخلاق اختیار کر کے دنیا میں آج تک کوئی بھی سرخرو نہ ہو سکا جو سرا اٹھا کر چلتا ہے، اس کی گردن توڑ دی جاتی ہے۔ یہی قانون قدرت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غرور اللہ تعالیٰ کی چادر ہے جو صرف اسی ذات کبریا یہ زیب دیتی ہے ۔  اس نے فرمایا ہے ۔</p>
<p>التكبر ردائی فمن جلبنى ادخله النار</p>
<p>غرور میری چادر ہے ، جو اس کو کھینچے گا میں اس کو جہنم میں جھونک دوں گا</p>
<p>ابلیس نے یہی چادر گھسیٹنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجہ کیا نکلا</p>
<p>تکبر عزازیل را خوار کرد</p>
<p>به زندان لعنت گرفتار کرد</p>
<p>تکبر نے عزازیل (ابلیس) کو ذلیل و خوار کر کے لعنت کے قید خانے میں گرفتار کر دیا</p>
<p>صوفیاء نے تواضع کو تصوف کے بنیادی اصولوں میں شامل کر کے بتایا ہے کہ عجب و غرور کی راہ پر چلنے والے کے لیے طریقت کا ہر دروازہ بند ہوتا ہے۔ &#8211;</p>
<h2>4:ریاء</h2>
<p>۔ اس میں ابلیس عابدوں اور زاہدوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہےکہ تم اللہ والے ہو۔ اپنے نیک اعمال کو لوگوں مین ظاہر کرو تاکہ لوگ  تمہارے مرید. اور معتقد بنیں۔ اور تمہاری پیروی کر کے ہدایت کی راہ بھی پائیں اور تم اللہ والے بھی کہلاؤ اس طرح ان عابدوں اور زاہدوں کی نیتیں فاسد  ہوجاتی ہیں اور ان کا عمل باعث ثواب ہونے کے بجائے باعث عذاب بن جاتا ہے ۔</p>
<h2>5: علم کا خناس</h2>
<p>اس میں وہ علماء پر ظاہر ہوتا ہے علماء کو بہکانا جہاں مشکل ہے وہاں ایک جاہل کی بہ نسبت آسان بھی ہے۔ کیونکہ علماء کا ایمان بالعموم علم استدلال اور عقل استدلالی کے سہارے قائم رہتا ہے۔ جبکہ ایک جاہل کا ایمان &#8221; عشق کے سہارے قائم رہتا ہے اور عشق میں چوں چراں کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ ایک عاشق کے پاس قال الله وقال الرسول ہی اصل ہے۔ عقل خواہ اس کی کتنی ہی مخالفت کرتی رہے ،اس کی بلا سے ۔ دراصل عشق کی راہ میں عقل استدلالی کو خیر باد کہہ دینا &#8221; صدیقین کی صفت ہے. جن کا مقام و مرتبہ انبیاء سے چھوٹا اور باقی تمام اولیاء سے بڑا ہوتا ہے۔ لہذا جو شخص بھی عقل استدلالی کو رخصت کر کے عشق کے سہارے چلتا ہے تو حق تعالیٰ صدیقین کے نور ایمانی کا پرتو اس کے دل پر چمکا دیتا ہے۔ اور اس کا بیٹرا پار ہو جاتا ہے۔ علماء کو ابلیس اس طور سے بہکاتا ہے کہ ان کے دماغوں میں علم کا خناس بٹھاتا ہے اور انہیں سمجھاتا ہے کہ تم اپنے وقت کے بہت بڑے عالم فاضل ہو۔ پھر یہ غرور علمی راہ حق میں ان کے لیے سنگ گراں بن جاتا ہے ۔ اور حق کو قبول کرنے نہیں دیتا ۔</p>
<h2>6: عادات اور طلب راحت</h2>
<p>اس میں ابلیس طالبان حق اور سالکان طریقت پر ظاہر ہوتا ہے اور ان کی ہمتوں کو شدت عبادت میں تھکا ڈالتا ہے تاکہ وہ تھک ہار کر اپنا راستہ ترک کریں اور نفس و طبیعت کی طرف پلٹ آئیں۔ اس طرح عبادات کے وقت کسل پیدا کرتا ہے۔ شب بیداری کا عزم کلیجے تو نیند کو غالب کردے گا ۔ نفلوں کی نیت کیجئے توشستی کو غالب کردے گا وغیرہ وغیرہ۔</p>
<h2>7:معارف الہیہ میں التباس</h2>
<p>اس میں ابلیس، اولیاء اللہ اور عارفین پر ظاہر ہوتا ہے، اعتقادات ، تجلیات اور فہم میں التباس کرتا رہتا ہے ۔ انبیائے کرام کے علاوہ کوئی فرد بشر بھی اس سے محفوظ نہیں ۔ بڑے سے بڑے ولی کے پاس بھی یہ اپنی کارگزاریاں جاری رکھتا ہے۔ مقربین اس کے مکائد کو پہچان لیتے ہیں۔ ایسی باریک چالوں سے ان کے پاس جاتا ہے کہ اس کی چالوں کو سمجھنا صرف اولیاء اللہ کا ہی حصہ ہوتا ہے ۔ عام آدمی تو اس کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا ۔ انہی مظاہر کی قوتوں کی بناء پر اس نے قسم کھائی تھی کہ</p>
<p>&#8221; اے رب قسم ہے تیری عزت کی میں انسانوں کو ضرور گمراہ کر کے چھوڑوں گا</p>
<p>اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر وقت انسان اللہ تعالی کی پناہ میں رہے یہی بڑی مضبوط پناہ گاہ ہے جہاں سے انسان کو گھسیٹ  کرنکالنا اس کے بس میں نہیں۔ اعوذ بالله من الشیطان الرحيم کا یہی مفہوم ہے</p>
<h2>ابلیس کے آلات</h2>
<p>ابلیس کے پاس گمراہ کرنے کے حسب ذیل آلات ہوتے ہیں:</p>
<p>(1) غفلت: یہ اُس کی تلوار ہے۔</p>
<p>(2) شہوت یہ اُس کا تیر ہے۔</p>
<p>(3) ریاست: یہ اُس کا قلعہ ہے۔</p>
<p>(4) جہل یہ اُس کی سواری ہے۔</p>
<p>(5) لہو ولعب : شرابیں اور فضول قصے کہانیاں ، یہ اس کے ہتھیار ہیں۔</p>
<p>(6) عورتیں: یہ اُس کا گروہ ہیں جن سے زیادہ زبردست ہتھیار اس کے قبضہ میں اورکوئی نہیں۔</p>
<p>پھر اس کے حملہ کرنے کے خاص خاص موسم اور خاص خاص اوقات بھی ہیں جن میں اس کی مصروفیت بڑھ جاتی ہے اور اسے کامیابیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ منجملہ ان کے رات ہے۔ اور غصہ کا وقت ہے۔ اور تہمت کا وقت ہے اور جھگڑے کا وقت ہے۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c%25d8%25b3-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25b8%25d8%25a7%25db%2581%25d8%25b1%2F&#038;title=%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%AF%20%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1/" data-a2a-title="وجود ابلیس کے اصولی مظاہر"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رزق کے بدلے نعمتیں</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b2%d9%82-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b2%d9%82-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 13:44:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4939</guid>

					<description><![CDATA[اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہو سکتا ہے آپ کو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیا گیا ہو ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہیں کہ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا قد يكون الرزق <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b2%d9%82-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اپنی کم تنخواہ پر غم نا کریں ہو سکتا ہے آپ کو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیا گیا ہو</p>



<p>ایک بڑے محدث فقیہ اور امام وقت فرماتے ہیں کہ</p>



<p> ليس شرطا أن يكون الرزق مالا  قد يكون الرزق خلقا أو جمالا</p>



<p>رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں<br />یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت اچھا اخلاق یا پھر حسن وجمال دے دیا گیا ہو</p>



<p>○ قد يكون الرزق عقلا راجحا<br />زاده الحلم جمالا وكمالاً</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت میں عقل ودانش دے دی گئی ہو اور وہ فہم اس کو نرم مزاجی<br />اور تحمل وحلیمی عطاء دے</p>



<p>○ قد يكون الرزق زوجا صالحا<br />أو قرابات كراما وعيالا</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کسی کو رزق کی صورت میں بہترین شخصیت کا حامل شوہر<br />یا بہترین خصائل واخلاق والی بیوی مل جاے، مہربان کریم دوست اچھے رشتہ دار یا نیک وصحت مند اولاد مل جائے</p>



<p>○ قد يكون الرزق علما نافعا<br />قد يكون الرزق أعمارا طوالا</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت علم نافع دے دیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اُسے رزق کی صورت لمبی عمر دے دی گئی ہو</p>



<p>○ قد يكون الرزق قلبا صافيا<br />يمنح الناس ودادا ونَوالا</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا پاکیزہ دل دے دیا گیا ہو جس سے وہ لوگوں میں محبت اور خوشیاں بانٹتا پھر رہا ہو</p>



<p>○ قد يكون الرزق بالا هادئا إنما المرزوق<br />من يهدأ بالا</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ذہنی سکون دے دیا گیا وہ شخص بھی تو خوش نصیب ہی ہے جس کو ذہنی سکون عطا کیا گیا ہو</p>



<p>○ قد يكون الرزق طبعا خيّرا<br />يبذل الخير يمينا وشمالا</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت نیک وسلیم طبع عطاء کی گئی ہو اور وہ شخص اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے اپنے ارد گرد خیر بانٹتا پھرے</p>



<p>○ قد يكون الرزق ثوبا من تقى<br />فهو يكسو المرء عزا وجلالا</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت تقوٰی کا لباس پہنا دیا گیا ہو اور اس شخص کو اس لباس نے عزت اور مرتبہ والی حیثیت بخش دی ہو</p>



<p>○ قد يكون الرزق عِرضَاً سالماً<br />ومبيتاً آمن السِرْبِ حلالاً</p>



<p>یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا عزت اور شرف والا مقام مل جائے جو اس کے لئے حلال کمائی اور امن والی جائے پناہ بن جائے</p>



<p>○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا<br />كن قنوعاً و احمد الله تعالى</p>



<p>○ پس رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں، جو کچھ عطا ہوا<br />اس پر مطمئن رہو، اور اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہو…!</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25b2%25d9%2582-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25af%25d9%2584%25db%2592-%25d9%2586%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%2F&#038;title=%D8%B1%D8%B2%D9%82%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%AF%D9%84%DB%92%20%D9%86%D8%B9%D9%85%D8%AA%DB%8C%DA%BA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b2%d9%82-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/" data-a2a-title="رزق کے بدلے نعمتیں"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%b2%d9%82-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ذکرقلب</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%82%d9%84%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%82%d9%84%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Sep 2022 01:44:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[خفی ذکر]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر قلب]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر قلبی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6560</guid>

					<description><![CDATA[#ذکرقلب (دل کی دھڑکنوں سے اللہ اللہ کرنا) ہمارے جسم کے اندر تقریبا ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں۔ جب ہم دل کی دھڑکنوں سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو ذکراللہ کا نور خون سے ہوتا ہوا نس نس میں <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%82%d9%84%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>#ذکرقلب (دل کی دھڑکنوں سے اللہ اللہ کرنا)</p>
<p>ہمارے جسم کے اندر تقریبا ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں۔ جب ہم دل کی دھڑکنوں سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو ذکراللہ کا نور خون سے ہوتا ہوا نس نس میں چلا جاتا ہے۔ اس وقت حضرت شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ جب تیرا دل ایک دفعہ اللہ کے گا ساڑھے تین کروڑ نسیں اللہ کے ذکر سے گونج اٹھیں گی اور تجھے ساڑھے تین کروڑ اللہ اللہ کرنے کا ثواب ملے گا۔</p>
<p>اور حضرت سخی سلطان حق باہو فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا دل ایک دفعہ اللہ کا ذکر کرے تو، یہ جو مسام ہیں جہاں سے پسینہ آتا ہے یہ بہتر ہزار ہوتے ہیں۔ دل نے ایک دفعہ اللہ کا ذکر کیا 72ہزار مساموں سے ذکر اللہ کی 72 ہزار آوازیں جسم سے باہر نکلیں، اس طرح 72 ہزار ظاہری قرآن پاک کا ثواب مزید ملتا ہے۔</p>
<p>اور یہ جو انسان کے اندر ریڈ بلڈ سیلز (آر بی سی) ہوتے ہیں یہ تقریبا&#8221; 25 ٹریلیں کے قریب ہوتے ہیں یہ بھی اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب آپ کا دل داکر ہوگیا تو سونے جاگنے، کھانے پینے پروقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ کرتا رہے گا اور اس طرح آپکواللہ کے ذکر کا اتنا ثواب ملے گا جس کا شمار ہی نہیں کیا جاسکتا</p>
<p>لیکن ذکر قلب کی اس روحانی دولت کو حاصل کرنے کے لئے کسی مرد کامل سے اس ذکر قلب کی اجازت(اذن) درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>اگر آپ یہ قلبی دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان لوگوں کے پاس بیٹھیں جنکا دل اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ انشااللہ وہ آپ کو ذکر قلبی عطا کردیں گے</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8%2F&#038;title=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%82%D9%84%D8%A8" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%82%d9%84%d8%a8/" data-a2a-title="ذکرقلب"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%82%d9%84%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حلالہ کی اصطلاح اور شرعی احکام</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Jul 2022 09:37:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبادلہء خیال]]></category>
		<category><![CDATA[حلالہ کی اصطلاح]]></category>
		<category><![CDATA[نکاح حلالہ کی اقسام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6542</guid>

					<description><![CDATA[حلالہ کی اصطلاح حلالہ ایک اصطلاحی لفظ ہے، جب کوئی مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اس مرد کے لئے ہمیشہ کے لئےحرام(حرمتِ غلیظہ کے ساتھ) ہو جاتی ہے۔ طلاق ثلاثہ کے بعد نہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">حلالہ کی اصطلاح</span><br />
حلالہ ایک اصطلاحی لفظ ہے، جب کوئی مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اس مرد کے لئے ہمیشہ کے لئےحرام(حرمتِ غلیظہ کے ساتھ) ہو جاتی ہے۔ طلاق ثلاثہ کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ دوبارہ نکاح اب اس کا نکاح عدت گذارنے کے بعد کسی دوسرے مرد ہی سے ہوسکتا ہے۔ البتہ اگرکسی دوسرے مرد سے نکاح ہوا، اس نے صحبت کی، لیکن کسی وجہ سے طلاق ہوگئی یا اس دوسرے شوہر کا انتقال ہوگیا، تو اب یہ عورت عدت گزارنے کے بعد آزاد ہوجاتی ہے ، اب وہ کسی بھی مرد سے خوشدلی کے ساتھ برضا ورغبت نکاح کرسکتی ہے اور چاہے تو پہلے شوہر (جس نے تین طلاق دی تھی اور اس سے نکاح حرام تھا) سے نکاح کر سکتی ہے۔ چونکہ دوسرے شوہر سے نکاح اور صحبت کے بغیر پہلے شوہر کے ساتھ نکاح کرنا حلال نہ تھا اس لیے اس فعل کوحلالہ یا تحلیل کہاجاتا ہے۔<br />
<span style="font-size: 24pt; color: #0000ff;">طلاق اور حلالہ ناپسندیدہ عمل</span><br />
طلاق اللہ کو ناپسند بھی ہے اور حلال بھی۔حدیث مبارکہ ہے’’اللہ تعالی کے ہاں حلال وجائز کاموں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے‘‘۔(ابو داؤد)<br />
احادیث میں حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت آئی ہے۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ (ابو داؤد)<br />
جس طرح طلاق ناپسندیدہ ہونے کے باوجود جائز ہے اسی طرح جھوٹ ظلم اور فساد کی طرح جنہیں اللہ نے قابل لعنت کہا ہے نکاح حلالہ بھی بعض قباحتوں کے باوجود گنجائش رکھتا ہے۔<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">تین طلاق کے بعد</span><br />
واضح رہے کہ از روئے قرآن وحدیث وجمہور صحابہ کرام، تابعین، وتبع تابعین، ائمہ مجتہدین بالخصوص چاروں ائمہ کرام امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل،ان تمام حضرات کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق(اگرچہ بدعت، سخت مکروہ اور گناہ ہے) دینے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:<br />
” الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ “ (البقرہ:229)<br />
طلاق (زیادہ سے زیادہ) دو بار ہونی چاہیے، اس کے بعد ( شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں) یا تو قاعدے کے مطابق ( بیوی کو) روک رکھے (یعنی طلاق سے رجوع کرلے) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے (یعنی رجوع کے بغیر عدت گزر جانے دے)<br />
اور اگلی آیت میں ہے:<br />
” فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَا( سورۃالبقرہ، آیت 230)<br />
ترجمۂ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی ، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی ، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے ، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔<br />
یعنی دو طلاق دینے تک تو مرد کو رجوع کا اختیار ہے، لیکن جب تیسری طلاق بھی دیدی تو اب مرد کے لئے رجوع کا حق باقی نہیں رہتا، عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں بغیر حلالہ کے پہلے شوہر کیلئے بیوی حرام ہے۔<br />
نکا ح فاسدجس میں صحت نکاح کی کوئی ایک شرط موجودنہ ہو مثلاً عاقل، بالغ، مسلمان، ایجاب و قبول،دو گواہ ہونا شرائط ہیں نکاح صحیح کےلئے ضروری ہے کہ وہ عدت میں نہ ہو<br />
حلالہ محض نکاح کانام نہیں، حلالہ کیلئے دوسرے شوہر کا جماع کرناشرط ہے ، اس کے بغیر عورت شوہر اول کے لئے حلال نہیں ہوگی ۔<br />
حلالہ کے لئے نکاح صحیح کا ہونا شرط ہے اور اس سے مراد حقیقی نکاح ہے ،جب کہ نکاحِ فاسد پر حقیقی نکاح کا اطلاق نہیں ہوتا(بدائع الصنائع،ابو بکر بن مسعود بن احمد الکاسانی)<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">نکاح حلالہ کی پہلی قسم عمومی</span><br />
نکاح حلالہ کی ایک قسم عمومی ہے کہ شوہر ثانی حلالہ کی شرط و نیت کے بغیر نکاح کرے اور اگریہ شوہر وفات پا جائے یا طلاق دے دے اور شوہر اول اس کے بعد نکاح کرے۔حلالہ کی یہ قسم تمام ائمہ کے نزدیک جائز ہے۔قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں حلالہ کی اسی قسم کا ذکر ہے ، اور اس قسم میں کوئی حرمت و کراہت نہیں ۔گویا یہ نکاح حلالہ کیا نہیں جاتا ہو جاتاہے۔<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">نکاح حلالہ کی دوسری قسم ارادی</span><br />
نکاح حلالہ کی دوسری قسم ارادی ہے کہ شوہر ثانی حلالہ کی شرط کے بغیر نکاح توکرے،مگر اس کی نیت و ارادہ یہ ہو کہ عورت کو شوہر اول کے لئے حلال کرے ،تاکہ میاں بیوی اور ان دونوں کے خاندان طلاق کے بعد جس اذیت کا شکار ہیں، یہ ان کےلیے اس سے نجات کا ذریعہ بنے۔ اس میں آئمہ اہلسنت میں اختلاف ہےالبتہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہے کیونکہ معاملات میں محض نیت کا اعتبار نہیں ۔اس لئے اگرنکاح حلالہ کے قصد سے بھی بعد از جماع ( مباشرت) دوسرا خاوند طلاق دے ،تو عدت کے بعد عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی۔<br />
&#8220;پس جو نکاح میں حلالہ کی شرط نہ رکھے گا ،تو وہ نکاح صحیح ہوگا احناف میں سے بعض ائمہ کے نزدیک اگر نکاح میں پہلے خاوند اور عورت کے مابین اصلاح کی نیت کی گئی ہو اور کوئی شرط رکھے بغیر دل میں ہی حلالہ کا ارادہ کرے ،تو وہ ثواب کا مستحق ہوگا۔( وَيَكُونُ ‌الرَّجُلُ ‌مَأْجُورًا بِذَلِكَ لِقَصْدِهِ الْإِصْلَاحَ)( تبین الحقائق،عثمان بن علی الزیلعی)اصلاح کی خاطر طلاق دیدے تاکہ عدت گذارکر شوہر اول سے عورت کا نکاح ہوجائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">نکاح حلالہ کی تیسری قسم مشروط</span><br />
نکاح حلالہ کی تیسری قسم مشروط ہے کہ حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کیا جائے یعنی یہ شرط رکھی جائےکہ دوسرا شوہر جماع کے بعد اس عورت کو طلاق دے گا،اس نکاح کو نکاح بشرط التحلیل کہتے ہیں ۔<br />
اس نکاح کے صحیح ہونے اور اس کے نتیجے میں پہلے شوہر کے لئے حلال ہونے میں ائمہ اہلسنت میں اختلاف ہے لیکن امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک یہ نکاح اگرچہ مکروہ تحریمی ہے (اگر دل میں ہو تو مکروہ تحریمی بھی نہیں )مگر فاسد نہیں کیونکہ لفظ نکاح اس کے صحیح ہونے کا تقاضا کر رہا ہےاور اس نکاح سے یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوگی ۔<br />
مکروہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نکاح کے مقاصد میں اولاد کا ہونا ، نسل کی بقا اور پاکدامنی شامل ہے اور یہ تمام مقاصد بقاء دوام پر موقوف ہیں،جب کہ نکاح جس میں حلالہ کی شرط ہو میں دوام نہیں ہوتا ۔یہی وجہ ہے کہ نکاح میں حلالہ کی شرط کراہت ذاتی نہیں بلکہ اس کی کراہت بالغیر ہے،جس سے نکاح کے انعقاد پر کوئی اثر نہیں پڑتا(بدائع الصنائع،۳ : ۱۸۸)<br />
نکاح بشرط حلالہ میں طلاق کی شرط رکھنا شروطِ فاسدہ میں سے ہے اور احناف کے نزدیک نکاح شروط سے فاسد نہیں ہوتا،لہٰذا شروط باطل ہوگی اور نکاح صحیح ہوگا۔اور شوہر اول کے لئے حلال ہو نے کا سبب بنے گا[المبسوط،5 : 95]۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگرچہ عمل حرام ہے لیکن پہلے خاوند سے نکاح کے لیے عورت جائز ہو جاتی ہے(تحقیق حلالہ محمد صدیق ہزاروی،صفحہ 7)<br />
بعض ائمہ نے اسے حلال قرار دیا ہے اور بعض نے حرام، مگر جن لوگوں نے اسے حلال قرار دیا ہے وہ بھی اسے اچھا نہیں کہتے ۔<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">نکاح ثانی</span><br />
مذہب اسلام میں عورت کے لیے خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ ہو نکاح ثانی کرنا نہ توہین ہے نہ ہی معیوب ہے، نہ ظلم وگناہ ہے، بلکہ عورت کی عفت وپاکدامنی کی حفاظت ہے جو اس کے حق میں سراسر عزت وشرافت ہے، مذہب اسلام اس کے حق میں ذرہ برابر بھی توہین قرار نہیں دیتا، البتہ جن قوموں میں بیوہ یا مطلقہ کا نکاح ثانی عیب ہے ان کے یہاں نکاح ثانی کرنے میں بلاشبہ عورت کی توہین ہوسکتی ہے۔<br />
شوہر نے ایک ساتھ تین طلاق دے کر جو گناہ کیا اس کی سزا اس شوہرکو نقد بھگتنا پڑی کی بیوی سے ہاتھ دھونا پڑگیا یہ سب شوہر کے حق میں سزا ہے، تین طلاق کے بعد نکاح حلالہ کی شرط اس لئے رکھی کہ شوہر بلا وجہ اسے طلاق نہ دے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ خود عورت ہی تین طلاق دینے والے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہو تو شریعت نے اس کے جذبات کو کچلا نہیں بلکہ راستہ بتادیا کہ براہِ راست تو نکاح نہیں ہوسکتا البتہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کے تمام مراحل سے گذر کر یہ عورت شوہر اول کے حق میں حلال ہوسکتی ہے ۔<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">نکاح حلالہ کا اصل سبب</span><br />
عہد جاہلیت میں عورت کو تنگ کرنے کے لئے لا تعداد بار طلاق دے کر رجوع کرلیا جاتا پھر نہ اسے بیوی کی حیثیت دیتے اور نہ دوسروں کے لئے چھوڑتے اور اس سارے معاملے میں عورت کی آزادی ختم ہو کر وہ لونڈی بن کر رہ جاتی۔ اسلام نے اس کا ازالہ حلالہ کی صورت میں کیا<br />
مرد نے اپنے اختیارات(تین طلاق ) کا غلط استعمال کیا تو اس کے بعد شوہر کا عورت پر کوئی حق باقی نہیں رہتا اور وہ اپنے متعلق ہر طرح کے فیصلے میں آزاد ہوتی ہے۔شوہر اسے ہرگز حلالہ پر مجبور نہیں کر سکتا ۔طلاق کے بعد نکاح عورت کی اجازت پر موقوف ہوتا ہےکیونکہ دوسری شادی کیلئے عورت نکاح کے متعلق حدیث مبارک میں آیا ہے: لَا تُنْکَحُ الثَّيِّبُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس سے اجازت نہ لے لی جائے(صحیح مسلم )<br />
الثَّيِّبُ ‌أَحَقُّ ‌بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَ (صحیح المسلم) بیوہ اپنے نکاح میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔<br />
ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے خاوند والی عورت کو اپنے نفس پر مکمل اختیار حاصل ہے اور نکاح کے معاملے میں کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا ،چاہے اس کا کوئی رشتہ دار کیوں نہ ہو اور جس شخص نے اسے تین طلاق دئیے ہیں ،وہ تو اس عورت کے لئے اجنبی بن چکا ہے شرعاً اسے کوئی اختیار نہیں کہ عورت کو حلالہ کے لئے مجبور کرے۔<br />
<span style="color: #0000ff; font-size: 24pt;">ناجائز حیلے</span><br />
<span style="font-size: 18pt;"><span style="color: #800080;">ساٹھ بندوں کو کھانا کھلان</span>ا</span>:تین طلاقوں کے بعد سوائے حلالہ کے کوئی صورت رجوع کی نہیں ہے۔ساٹھ تو کیا ہزار مساکین کو بھی کھانا کھلادیا جائے ، تب بھی عورت حرام رہے گی۔ یہ سب ناجائز حیلے بہانے ہیں<br />
<span style="font-size: 18pt;">نوے دن کے اندر صلح</span> :ایک یا دو صریح طلاق دی ہوں ، تو عدت کے اندر رجوع ہوسکتا ہے ،لیکن تین طلاقوں کے بعد قرآن کا واضح حکم ہے کہ بغیر حلالہ رجوع نہیں۔نوے دن کے اندر صلح کو کہنا عورت کو کھیل بنانا ہے کہ شوہر جب چاہے طلاقیں دے اور پھر نوے دن کے اندر رجوع کرلے ۔زمانہ جاہلیت میں یہی ظلم تو عورتوں پر ہوتا تھا کہ کئی طلاقیں دینے کے بعد عدت کے اندررجوع کرلیتے تھے۔اللہ عزوجل نے اس ظلم کو ختم کرتے ہوئے فقط دو طلاقوں تک رجوع کی اجازت دی ۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے : ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے طلاق کا کوئی وقت نہ تھا ۔شوہر بیوی کو طلاق دیتا ، پھر عدت پوری ہونے سے قبل رجوع کر لیتا۔ انصار میں سےایک میاں بیوی کی باہم ناچاقی ہوئی ، تو شوہر نے بیوی سے کہا : اللہ کی قسم میں تجھےنہ بیوی اور نہ طلاق یافتہ رہنے دوں گا۔وہ اپنی بیوی کو طلاق دیتا اور عدت پوری ہونے سے قبل رجوع کر لیتا ۔ اس نے ایسا باربار کیا ، تو اللہ عزوجل نے یہ حکم نازل فرمایا:یہ طلاق دو بار تک ہے ، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا اچھے سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، توتین طلاقوں تک حد قائم کردی گئی کہ تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ۔ یہاں تک کہ بیوی دوسرے سے نکاح و صحبت نہ کرے۔(یعنی حلالہ نہ کرلے)(تفسیر ابن کثیر)<br />
<span style="font-size: 18pt; color: #800080;">تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں</span>، وہ حضرات جو تین طلاق کو ایک ہی شمار کرتے ہیں، اُن کا نظریہ سراسر غلط، گمراہ کن اور قرآن وحدیث، اجماعِ صحابہ، فقہاء، مشایخ اور ائمہ مسلمین، کےفیصلے کے خلاف ہے۔</p>
<p><span style="font-size: 24pt; color: #800000;">مزید دیکھیں</span></p>
<h1 class="entry-title"><a href="https://abualsarmad.com/%d8%b7%d9%84%d8%a7%d9%82-%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b7%d9%84%d8%a7%d9%82-%d8%a8%d8%af%d8%b9%d8%aa/">طلاق سنت اور طلاق بدعت</a></h1>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25b9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585%2F&#038;title=%D8%AD%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C%20%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85/" data-a2a-title="حلالہ کی اصطلاح اور شرعی احکام"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b4%d8%b1%d8%b9%db%8c-%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
