<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سر الاسرار &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1-%D8%AC%DB%8C%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C/%D8%B3%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 03 Jul 2022 00:47:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>سر الاسرار &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خلق کی ابتدا کا بیان مقدمہ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 06:29:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[انسان کا اصلی وطن]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[طفل معانی]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت ذات]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت صفات]]></category>
		<category><![CDATA[معرفت کی قسمیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4928</guid>

					<description><![CDATA[تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو قادر علیم ،بصیر ، حلیم، وہاب، رحمن اور رحیم ہے۔ وہ ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ اسی ذات اقدس نے اپنے نبی کریم پر قرآن جیسی عظیم اور پُرحکمت کتاب نازل فرمائی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو قادر علیم ،بصیر ، حلیم، وہاب، رحمن اور رحیم ہے۔ وہ ساری کائنات کا پروردگار ہے۔ اسی ذات اقدس نے اپنے نبی کریم پر قرآن جیسی عظیم اور پُرحکمت کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس کتاب میں دین قویم(درست) اور صراط مستقیم ہے۔&nbsp;</p>



<p>بے حدوبے حساب صلاة و سلام ہوں خاتم رسالت،ہادی برحق،&nbsp;صاحب عزت و تکریم ، صادق و امین ذات اقدس پر جو نبی امی، عربی الاصل ہیں اور عرب و عجم کی طرف بہترین کتاب لانے والے ہیں۔ جن کا اسم گرامی محمد ہے اور صلاة و سلام ہوں آپ کی آل اطہار پر اور عظمت کردار کے مالک فخر انسانیت صحابہ کرام پر۔&nbsp;</p>



<p>حمد و صلاۃ کے بعد عرض ہے کہ :۔&nbsp;</p>



<p>علم ایک عالی مرتبت ، قابل فخر، نفع اندوز اور بزرگ ترین دولت ہے۔ اسی دولت کے ذریعے انسان رب العالمین تک پہنچتا ہے اور انبیاء مرسلین صلوة اللہ و سلامہ علیہم کی تصدیق کر تا ہے۔&nbsp;</p>



<p>الله تعالی نے اپنے فضل و کرم سے بندگان خدا کی ہدایت و رہنمائی کیلئے جن برگزیده اشخاص کو منتخب فرمایا ان میں علماء کرام کو خصوصیت حاصل ہے۔ یہ لوگ انسانیت کے سرخیل اور ہادیان عالم کے چنیدہ ہیں۔ علماء انبیاء کرام کے وارث اور نائب ہیں۔ وہ مسلمانوں کے آقاو مولا ہیں۔ رب قدوس کا ارشاد پاک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَالَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ</strong> (فاطر:22)پھر ہم نے وارث بنایا اس کتاب کا ان کو جنہیں ہم نے چن لیا تھا اپنے بندوں سے۔ پس بعض ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض درمیانہ رو ہیں اور بعض سبقت لے جانے والے ہیں نیکیوں میں حضورﷺکارشاد گرامی ہے :&nbsp;</p>



<p><strong>الْعُلَمَاءَ ‌وَرَثَةُ ‌الْأَنْبِيَاءِ بِالْعِلْم،ِ ‌يُحِبُّهُمْ ‌أَهْلُ ‌السَّمَاءِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمُ الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ </strong>علماءعلم میں انبیاء کے وارث ہیں۔ آسمان والے ان سے محبت کرتے ہیں اور سمندر کی مچھلیاں قیامت تک ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی رہیں گی“ حضور اکر مﷺکا اور ارشاد مبارک ہے: <strong>يَبْعَثُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يُمَيِّزُ الْعُلَمَاءَ ، فَيَقُولُ : يَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ ، إِنِّي لَمْ أَضَعْ عِلْمِي فِيكُمْ إِلا لِعِلْمِي بِكُمْ ، وَلَمْ أَضَعْ عِلْمِي فِيكُمْ لأُعَذَّبَكُمُ ، انْطَلِقُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ</strong></p>



<p>قیامت کے دن اللہ تعالی جب اپنے بندوں کو دوباره زنده فرمائے گا تو علماء کرام کو ان سے الگ کرلے گا۔ اور فرمائے گا۔ اے علماء کے گروہ میں نے اپنا علم تمہارے سینوں میں ودیعت فرمایا کیونکہ میں تمہیں جانتا تھا۔ یہ نور تمہارے سینوں میں اس لیے تو نہیں رکھا کہ تمہیں عذاب دوں جاؤ تم سب جنتی ہو۔ میں نے تمہارے قصور معاف فرمادیئے&nbsp;</p>



<p>تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے جنت کو عابدوں کے لیئے&nbsp;انعام کی جگہ بنایا اور عارفوں کے لیے قربت(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے) کا محل۔&nbsp;</p>



<p>اس ( تمہید) کے بعد ابتداء میں جب اللہ تعالی نے اپنے نور جمال سے&nbsp;محمدﷺکو پیدا فرمایا جیسا کہ حدیث قدسی ہے:&nbsp;</p>



<p><strong>خَلَقْتُ مُحَمَّداً أوّلاً منْ نُورِ وَجْهِي</strong> میں نے سب سے پہلے اپنی ذات کے نور سے محمد ﷺکو&nbsp;پیدا کیا‘‘&nbsp;</p>



<p><strong>أوّلُ ماخلقَ الله ُروحِي ، وأوّلُ ماخلقَ اللهُ نوري ، وأوَّلُ ماخلقَ اللهُ القلمَ ، وأوّلُ ماخلقَ اللهُ العَقلَ</strong> سب سے پہلے اللہ تعالی نے میری روح کو پیدا فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ تعالی نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔ سب <strong>سے </strong>پہلے الله تعالی<strong> نے </strong>قلم کو پیدا فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ تعالی نے عقل کو پیدا فرمایا </p>



<p>ان تمام چیزوں کا مصداق ایک ہی ہے۔ یعنی سب سے پہلے اللہ تعالی نے&nbsp;حقیقت محمدیہ (اس سے مراد حیات روی اور حیات حیوی کا مصدر ہے۔ یہ اہل ایمان کے دلوں کی زندگی ہے۔ حقیقت محمد یہ خلق کی پیدائش کا سبب اور ماسوای اللہ کی&nbsp;</p>



<p>اصل ہے)کو پیدا فرمایا۔&nbsp;</p>



<p>اسے نور کہا گیا ہے اس لیے کہ یہ ظلمانیت جلالیت سے پاک ہے۔ جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے : . </p>



<p><strong>قدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ </strong>(المائدہ :15 ( بیشک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک&nbsp;نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی حقیقت محمدیہ کو عقل کہا گیا ہے کیونکہ وہ تمام کلیات کا ادراک رکھتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>اے قلم کہا گیا ہے کیونکہ یہ علم کی منتقلی کا سبب ہے۔ جس طرح عالم حروفات میں قلم انتقال علم کا سبب ہے۔پس روح میں ان تمام چیزوں کا خلاصہ&nbsp;ہے کائنات کی ابتداء اور اصل ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>أناَ مِنَ الله ، والمُؤمِنونَ مِنِّي</strong> میں اللہ سے ہوں اور مومن مجھ سے ہیں“&nbsp;</p>



<p>عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی  کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ نہیں پہنچ سکتے) میں تمام ارواح نور محمدی سے بہترین اعتدال پر پید اہوئیں عالم لاہوت میں اسی کا نام حجلۃ الانس(دلہن کا کمرہ) ہے اور یہی عالم انسان کا وطن اصلی ہے۔ </p>



<p>جب ذات محمدی کی تخلیق پر چار ہزار سال کا عرصہ بیت گیا تو اللہ تعالی نے نور پاک مصطفیﷺسے عرش اور دوسری تمام کلیات کو پیدا فرمایا اور اس کے بعد ارواح کو عالم اسفل کی طرف لوٹا دیا۔ اور اس عالم میں یہ روحیں جسموں میں منتقل ہو گئیں جیسا ارشادباری تعالی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ </strong>(التین :5)پھر ہم نے لوٹادیا اس کو پست ترین حالت کی طرف&nbsp;</p>



<p>یعنی پہلے اسے عالم لاہوت سے عالم جبروت(عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں) کی طرف لوٹایا اور اسے ان دونوں حرموں کے در میان جبروت کے نور سے ایک لباس پہنایا۔ اس لباس کا نام <a>روح سلطانی</a> (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت اور عالم جبروت&nbsp;کے در میان ارواح کو عطا فرمایا&nbsp;)ہے۔ پھر روح کو اس لباس کے ساتھ عالم ملکوت کی طرف لوٹایا اور یہاں اسے نور ملکوت کا لباس پہنا دیا گیا۔ اس کا نام روح روانی (عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح سیر انی بھی کہتے ہیں)ہے۔ اس&nbsp;کے بعد روح عالم الملک(عالم شہادت یا عالم اجسام واعراض۔ اسی عالم میں روحیں جسموں میں&nbsp;داخل ہوتی ہیں۔ اس کا دوسرا نام عالم سفلی ہے) کو لوٹی۔ الملک کے نور کا لباس پہنا اور روح جسمانی کا نام&nbsp;پایا۔ اس عالم میں اجساد تخلیق ہوئے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ </strong>(طہ:55(&nbsp;اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا&nbsp;۔</p>



<p>روح بحکم ایزدی اجساد میں داخل ہوئی۔ رب قدوس کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ونَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي</strong> (الحجر:29(&nbsp;اور پھونک دی اس میں اپنے فضل سے روح“&nbsp;</p>



<p>پس جب اجساد سے روحوں کا تعلق قائم ہو گیا تو وہ وعدہ الست کو بھول گئیں جو وعدہ انہوں نے اپنے رب سے عالم ارواح میں کیا تھا اور کہا تھا کہ ہاں تو&nbsp;ہمارارب ہے جیسا کہ اللہ تعالی اس کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;<strong>أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ </strong>(الاعراف :172)کیا میں نہیں ہوں تمہارارب ؟&nbsp;</p>



<p>پس وہ نسیان کی وجہ سےیہیں کی ہو کر رہ گئیں اور اپنے وطن اصلی کونہ لوٹیں۔ اللہ جو کہ بے حد رحم فرمانے والا اور انسان کا حاجت روا ہے اسے اپنی مخلوق پر رحم آگیا اور اس نے اپنی جناب سے ایک کتاب نازل کی تاکہ اسے پڑھ کر انسان کو وطن اصلی یاد آجائے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ</strong>(ابراہیم :5)ور یاد د لاؤا نہیں اللہ کے دن“&nbsp;</p>



<p>یعنی وہ دن جب وہ واصل بحق تھے۔ نبوت ورسالت کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا بہت سارے انبیاء ، رسل اور کتابیں اپنے اپنے وقت پر آئیں تمام انبیاء ورسل کی بعثت اور تمام کتابوں کے نزول کی غرض و غایت ایک ہی تھی کہ بنی آدم کی روح کو وطن اصلی یاد آجائے۔ مگر بہت کم لوگوں کو وہ وطن یاد آیا معدودے چند روحیں تھیں جنہیں اس دنیا میں رہ کر یہ اشتیاق پیدا ہوا کہ وہ وطن اصلی کو لوٹ جائیں اور اپنے رب سے ملاقات کریں۔ نبوت ورسالت کا یہ سلسلہ روح اعظم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی پر اختتام پذیر ہوا۔ آپ کسی ایک دوریا ایک خطے کے نبی نہیں تھے۔ پوری انسانیت کےبخت خفتہ کو بیدار کرنے کے لیے تشریف لائے اور ہر علاقے کے لوگوں کو خواب غفلت سے جگانا آپ کا منصب قرار پایا آپ کوحکم دیا گیا کہ دلوں کوبصیرت (وہ قوت جو اولیاء کے دل سے پھوٹتی ہے اور نور قدس سے منور ہوتی ہے۔ اس سے انسان اشیاء کی حقیقت اور ان کے باطن کو دیکھتا ہے۔ اسے قوت قدسیہ بھی کہتے ہیں)کا نور دیں اور روحوں کے سامنے تنے پردوں کو منکشف کریں جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي </strong>(يوسف:108)آپ فرمادیجئے یہ میرا راستہ ہے میں تو بلاتا ہوں صرف اللہ کی طرف۔ واضح دلیل پرہوں میں اور وہ بھی جو میری&nbsp;پیروی کرتے ہیں&nbsp;۔</p>



<p>بصیرت روح کی آنکھ ہے جو اولیاء کے لیے مقام جان میں کھلتی ہے۔ یہ&nbsp;آنکھ ظاہری علم سےوا نہیں ہوتی اس کے لیے عالم لدنی چاہیئے جو باطن سے تعلق رکھتا ہے۔ رب قدوس کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَعَلَّمْناهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْماً</strong> (الكہف :65)اور ہم نے سکھایا تھا اسے اپنے پاس سے (خاص) علم&nbsp;۔</p>



<p>انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اہل بصیرت کی یہ آنکھ کسی ولی صاحب&nbsp;تلقین عالم لاہوت سے باخبر مرشد کامل کے ذریعے حاصل کرے۔&nbsp;</p>



<p>اے بھائیو ! ہوش میں آؤ اور توبہ کر کے اپنے رب کی بخشش کی طرف دوڑو۔ اس راہ سلوک میں داخل ہو جاؤ اور روحانی قافلوں کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹ جاؤ۔ قریب ہے کہ راستہ منقطع ہو جائے اور کوئی ہم سفر نہ رہے۔یاد رکھو! ہم اس کمینی دنیا کو بسانے نہیں آئے ہمیں اس خرابات سے آخر کوچ کرنا&nbsp;ہے۔ دوستو ! ہمیں خواہشات نفس کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے۔ دیکھو ! تمہارے نبی کریم علیہ الصلوة والسلام تمہارے لیے چشم براہ ہیں۔ حضور ﷺنے فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>غُمّيَ لأَجْلِ أُمَّتِي الّذينَ في آخِرِ الزَّمَانِ</strong>&#8211; میں اپنی امت کے ان لوگوں کے لیےغمگین ہوں جو آخری&nbsp;</p>



<p>زمانہ میں ہوں گے“&nbsp;</p>



<p>جو علم ہمیں بارگاہ خداوندی سے عطا فرمایا گیا ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ علم ظاہر اور علم باطن(دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ&nbsp;کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔&nbsp;)۔ یعنی شریعت اور معرفت۔ شریعت کا حکم ظاہر پر لاگو ہوتا&nbsp;ہے اور معرفت کا علم باطن پر۔ ان دونوں علوم کو نازل کرنے کا مقصد علم حقیقت (اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں)کو پانا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ</strong> ( الرحمن:19،20( اس نے رواں کیا ہے دونوں دریاؤں کو جو آپس میں مل رہے&nbsp;ہیں۔ ان کے در میان آڑہے آپس میں گڈمڈ نہیں ہوتے&nbsp;۔</p>



<p>صرف علم ظاہر ی سے علم حقیقت تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ اور نہ ہی مقصود آسکتا ہے کامل عبادت کے لیے علم ظاہری اور علم باطنی کی تحصیل ضروری&nbsp;ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرائی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ </strong>(زاریات :56(&nbsp;</p>



<p>اور نہیں پیدا فرمایا میں نے جن و انس کو مگر اس لیے کہ وہ&nbsp;میری عبادت کریں&nbsp;۔</p>



<p>میری عبادت کریں“ سے مراد یہ ہے کہ میری معرفت حاصل&nbsp;کریں کیونکہ معرفت کے بغیر عبادت ممکن ہی نہیں۔&nbsp;</p>



<p>معرفت(یہ ولی اللہ کی صفت ہے جو حق سبحانہ تعالی کو اس کے اسماء صفات سے<strong> </strong>پہچانتا ہے۔ اور الله تعالی اس کے معاملات میں سچائی پیدا کر دیتا ہے۔ اور اس کو اخلاق رذیلہ اور اس کی آفات سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔ اس تزکیہ کے بعد وہ اللہ تعالی کا ہو کر رہ جاتا ہے وہ سر میں اللہ تعالی کے ساتھ مناجات کر تا ہے اور یہاں اس کی حاضری دائمی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسے میں وہ وقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس کے اسرار قدرت  کو بیان کر تا ہے۔ اور تصرفات کے بارے گفتگو کرتا ہے۔ معرفت کے حامل شخص کو عارف کہتے ہیں) کے حصول کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ انسان آئینہ دل سے حجاب نفس کو ہٹا دے۔ جب حجاب سرک جاتا ہے تو انسان دل کی گہرائیوں میں چھپے راز کے حسن کو اس آئینے میں عیاں دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے۔ </p>



<p><strong>&nbsp;كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِأَنْ أُعْرَفَ</strong></p>



<p>میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا کہ میری معرفت حاصل ہو جائے&nbsp;۔</p>



<p>جب اللہ تعالی نے خود ہی بتادیا کہ تخلیق آدم کی وجہ معرفت خداوندی&nbsp;ہے تو پھر انسان پر لازم ہے کہ وہ معرفت حاصل کرے۔&nbsp;</p>



<p>معرفت کی دو قسمیں ہیں۔ معرفت صفات اور معرفت ذات معرفت صفات دارین میں جسم کیلئے خیر و فضل ہے اور معرفت ذات آخرت میں <a>روح</a> قدسی(عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کے لیے نعمت ثابت ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ</strong> (البقرة : 87.) اور ہم نے تقویت دی ا سے روح القد س سے“&nbsp;</p>



<p>عارفین روح القدس سے مؤید(تائید کنندہ) ہوتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;معرفت کی یہ دونوں قسمیں صرف اسی وقت حاصل ہو سکتی ہیں کہ انسان دونوں علم، علم ظاہر اور علم باطن کو حاصل کرے۔ حضورﷺکارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الْعِلْمُ عِلْمَانِ : عِلْمٌ باللّسان ، وذَلِكَ حُجَّةُ اللَّهِ تعالى عَلَى ابن آدمَ وعلم بالجنانِ ؛ فذلك العِلْمُ النّافِعُ</strong> علم کی دو قسمیں ہیں، علم لسانی اور علم کی یہ قسم الله تعالی کی طرف سے ابن آدم پر حجت ہے اور دوسری قسم علم جنانی ہے۔ اور یہ دوسری قسم ہی علم نافع ہے“ </p>



<p>سب سے پہلے انسان کو علم شریعت کی ضرورت ہے۔ روح اس علم کے ساتھ جوارح کے کسب کو حاصل کرتی ہے۔ جوارح کا کسب درجات(شریعت &nbsp;کےعلم ظاہری پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ثواب&nbsp;ملتا ہے اسے درجات کہا جاتا ہے) ہیں اس کے بعد اسے علم باطن کی ضرورت پڑتی ہے اور اس علم کے ذریعے روح علم معرفت میں معرفت خداوندی کے کسب کو حاصل کرتی ہے۔ علم معرفت کے حصول کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ انسان ان رسوم کو ترک کر دے جو شریعت اور <a>طریقت(سالکین</a> کی راہ جو انہیں واصل بحق کرتی ہے۔ مثلا منازل سلوک کا طے&nbsp;کرنا اور مقامات میں ترقی کرنا) کے مخالف ہیں اور نمود و نمائش سے بچتے ہوئے صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے لیے نفسانی اور روحانی ریاضتوں کو قبول کرلے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا&nbsp;ارشاد گرامی ہے۔</p>



<p><strong>فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا </strong>(الكہف:110(&nbsp;</p>



<p>پس جو شخص امید رکھتا ہے اپنے رب سے ملنے کی تو اسے چاہیئے کہ وہ نیک عمل کرے اور نہ شریک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو۔</p>



<p>&nbsp;عالم معرفت یعنی عالم لاہوت انسان کا اصلی وطن ہے جیسا کہ پہلے ذکر&nbsp;ہو چکا ہے۔ اس عالم میں روح قدسی کی بہتر ین اعتدال پر تخلیق ہوئی۔&nbsp;</p>



<p>روح قدسی سے مراد انسان حقیقی ہے۔ انسان حقیقی کا اظہار صرف اسی&nbsp;وقت ہوتا ہے جب توبہ کی جائے اور تلقین پر عمل کیا جائے۔&nbsp;</p>



<p>کلمہ لا الہ الا اللہ کا لزوم انسان حقیقی کے وجود کو ظاہر کر سکتا ہے بشرطیکہ یہ ذکر پہلے زبان سے، پھر حیات قلبی سے اور پھر لسان جنان(ہر شے کا جوف، اندرونی حصہ ،جِس سے انسان اپنی اصلیت کو پہچانے) سے کیا جائے۔ انسان حقیقی یاروح قدسی کا دوسرا نام طفل معانی (انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق قدسی معنویات&nbsp;سے ہے۔ اسے طفل کہنے کی کئی وجوہات ہیں۔</p>



<p>1 ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ روح قدسی قلب سے تولد ہوتی ہے جس طرح بچہ&nbsp;ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ ماں کی طرح اس کی پرورش قلب کر تا&nbsp;ہے۔ پھر بچے کی طرح روح قدسی پرورش پاتی ہے حتی کہ بلوغت کی عمر&nbsp;کوپہنچ جاتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>2۔&nbsp;دوسری وجہ یہ ہے کہ تعلیم کا سلسلہ اکثر بچپن میں ہو تا ہے۔ بچوں کی طرح روح قدسی کو معرفت کی اکثر تعلیم دی جاتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;3۔&nbsp;جس طرح بچہ گناہ کی آلائشوں سے پاک ہو تا ہے اسی طرح روح قدسی&nbsp;بھی گناه ، شرک غفلت اور جسمانیت سے پاک ہوتی ہے۔</p>



<p>4۔ جس طرح بچہ پاکیزہ صورت ہے اسی طرح روح قدسی بھی پاکیزہ صورت&nbsp;ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواب میں ملا ئکہ یا دوسری پاک چیزیں بچے کی&nbsp;مثالی صورت میں نظر آتی ہیں۔&nbsp;</p>



<p>5۔&nbsp;اللہ تعالی نے ابنائے جنت کو طفولیت کے وصف سے متصف فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد گرامی ہے۔ <strong>يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ </strong>(الواقعہ:17)&nbsp;گردش کرتے ہوں گے ان کے اردگرد نو خیز لڑ کے جو ہمیشہ&nbsp;ایک جیسے ر ہیں گے“ <strong>غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُونٌ</strong> (طور :24)ان کے غلام (بچے )حسن کے باعث یوں معلوم&nbsp;ہوں گے گویاوہ چھپے موتی ہیں“&nbsp;</p>



<p>6۔&nbsp;روح قدسی کو یہ نام لطافت اور نظافت کی وجہ سے دیا گیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>7۔&nbsp;یہ اطلاق مجازی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق بدن سے ہے اور یہ انسان کے ساتھ صورت میں مماثلت رکھتا ہے۔ اب روح قدسی کا طفل معانی پر اطلاق اس بنا پر ہے کہ بچے میں ملاحت ہوتی ہے ۔ یہ اطلاق صغر سنی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اور اس اطلاق کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے شروع میں روح قدسی کی صورت اس سے ملتی ہے۔ بہر حال روح قدسی یا طفل معانی انسان حقیقی ہے۔ کیونکہ اسے اللہ تعالی&nbsp;کے ساتھ انسیت(دل کے مشاہدہ سے روح کا لطف اندوز ہونا) حاصل ہے۔ جسم اور جسمانی طفل معانی کے محرم نہیں ہیں۔ جیسا کہ حضورﷺکا&nbsp;ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>لِي‌ مَعَ اللَهِ وَقْتٌ لاَ يَسَعُنِي‌ فِيهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَلاَ نَبِي‌ٌّ مُرْسَلٌ</strong> بارگاہ خداوندی میں مجھے ایک ایسا وقت بھی حاصل ہو تا ہے کہ جس میں نہ تو کسی مقرب فرشتے کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ نبی مرسل کی‘‘ </p>



<p>نبی مرسل سے مراد نبی کریمﷺکی بشریت اور مقرب فرشتے سے مراد حضور ﷺکی روحانیت جو کہ نور جبروت سے تخلیق ہوئی ہے۔ جیسے فرشتے نور جبروت سے ہیں اسی لیے یہ فرشتے نور لاہوت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا:&nbsp;</p>



<p><strong>إن لله جنة لا فيها حور ولا قصور ولا جنان ولا عسل ولا لبن</strong> بیشک اللہ تعالی کے ہاں ایک ایسی جنت بھی ہے جس میں نہ تو حور و قصور ہیں اور نہ باغ و بہارنہ شہد( کی نہریں) ہیں اور نہ دودھ( کے چشمے) وہاں صرف دیدار الہٰی کی دولت ہے“ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: </p>



<p><strong>وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ </strong>(القيامۃ : 22 ، 23 ( کئی چہرے اس روز تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کے(انوار جمال) کی طرف دیکھ رہے ہوں گے“ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا : <strong>ستَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ القَمَرَ لَيْلَةَ البَدْرِ</strong>عنقریب تم اپنے رب کو اسی طرح (عیاں) دیکھو گے جس&nbsp;طرح چودھویں رات کے اس چاند کو دیکھ رہے ہو“&nbsp;</p>



<p>اگر فرشتہ اور جسمانیت اس عالم میں داخل ہوں تو جل جائیں جیسا کہ&nbsp;حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>لو كشفت سبحات وجهي جلالي لاحترق كل ما مد بصري</strong> اسی طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا : <strong>لو دنوت أنملة لاحترقت</strong></p>



<p>اگر میں انگلی کے پورے کے برابر بھی آگے بڑھوں گا تو جل جاؤں گا“&nbsp;</p>



<p>یہ کتاب کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کے حروف کے عدد کے برابر چوبیس فصلوں پر مشتمل ہے۔ رات دن کی بھی چوبیس گھڑیاں ہیں۔ اس مناسبت سے کتاب کی فصلیں بھی چوبیس ہیں۔&nbsp;</p>



<p>           <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ16 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>           </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2582-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25aa%25d8%25af%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25af%25d9%2585%25db%2581%2F&#038;title=%D8%AE%D9%84%D9%82%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%AF%D8%A7%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%D9%82%D8%AF%D9%85%DB%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/" data-a2a-title="خلق کی ابتدا کا بیان مقدمہ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ae%d9%84%d9%82-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%a8%d8%aa%d8%af%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسان کی وطن اصلی کی طرف واپسی فصل 1</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d8%b5%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d8%b5%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 06:14:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[جسمانی انسان]]></category>
		<category><![CDATA[روحانی انسان]]></category>
		<category><![CDATA[طبقہ عالم الجبروت]]></category>
		<category><![CDATA[طبقہ عالم الملک]]></category>
		<category><![CDATA[طبقہ عالم الملکوت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4927</guid>

					<description><![CDATA[انسان کی دو حیثیتیں ہیں۔ جسمانی اور روحانی۔ جسمانی انسان عام ہے اور روحانی خاص۔ روحانی انسان تو احرام باندھے۔اپنے اصلی وطن کی طرف یعنی قربت خداوندی(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d8%b5%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>انسان کی دو حیثیتیں ہیں۔ جسمانی اور روحانی۔</p>



<p>جسمانی انسان عام ہے اور روحانی خاص۔ روحانی انسان تو احرام باندھے۔اپنے اصلی وطن کی طرف یعنی قربت خداوندی(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے) کے حصول کی راہ پر گامزن ہے۔&nbsp;</p>



<p>جسمانی انسان کی واپسی کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ درجات کی طرف رجوع کرے۔ شریعت و طریقت(سالکین کی راہ جو انہیں واصل بحق کرتی ہے۔ مثلا منازل سلوک کا طے کرنا اور مقامات میں ترقی کرنا) &nbsp;اور معرفت(یہ ولی اللہ کی صفت ہے جو حق سبحانہ تعالی کو اس کے اسماء <strong>صفات</strong><strong> </strong><strong>سے</strong><strong> </strong>پہچانتا ہے۔ اور الله تعالی اس کے معاملات میں سچائی پیدا کر دیتا ہے۔ اور اس کو اخلاق رذیلہ اور اس کی آفات سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔ اس تزکیہ کے بعد وہ اللہ تعالی کا ہو کر رہ جاتا ہے وہ سر میں اللہ تعالی کے ساتھ مناجات کر تا ہے اور یہاں اس کی حاضری دائمی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسے میں وہ وقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس کے اسرار قدرت &nbsp;کو بیان کر تا ہے۔ اور تصرفات کے بارے گفتگو کرتا ہے۔ معرفت کے حامل شخص کو عارف کہتے ہیں)پر بلا نمود و ریاء عمل پیرا ہو کر ثواب حاصل کرے کیونکہ درجات (شریعت کےعلم ظاہری پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ثواب&nbsp;ملتا ہے اسے درجات کہا جاتا ہے) کے تین طبقے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;پہلا طبقہ :۔عالم الملک (عالم شہادت یا عالم اجسام واعراض۔ اسی عالم میں روحیں جسموں میں&nbsp;داخل ہوتی ہیں۔ اس کا دوسرا نام عالم سفلی ہے)میں جنت اور یہ جنت الماوی ہے<strong>۔</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>دوسراطبقہ :۔عالم الملكوت کی جنت اسے جنت النعیم کہتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>تیسراطبقہ :۔عالم الجبروت کی جنت یہ جنت الفردوس ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہ نعمتیں جسمانیت کے لیے ہیں۔ ان عوالم تک جسمانیت اس وقت تک نہیں پہنچ سکتی جب تک کہ تین علوم کو حاصل نہ کر لے۔یعنی علم شریعت، علم طریقت اور علم معرفت۔ جیسا کہ حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الحِكمةُ الجامِعَةُ مَعرفَةُ الحَقُّ، والعَملُ بِها مَعرِفَةُ البَاطِن</strong> کامل دانائی حق تعالی کی معرفت ہے۔ اور اس کے مطابق عمل پیرا ہوناباطن کی معرفت ہے“ اسی طرح حضورﷺکا ایک اور ارشاد گرامی ہے ۔ <strong>اللَّهُمَّ، ‌أَرِنَا ‌الْحَقَّ ‌حَقّا ‌وَارْزُقْنَا ‌اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَااجْتِنَابَهٗ</strong> اللہ! ہمارے سامنے حق کو واضح فرما اور اس کی پیروی کی توفیق دے اور باطل کو باطل کر کے دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق بخش دے۔ اسی طرح رسول کریم کا ایک اور ارشاد گرامی ہے۔<strong>مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ وخالَفَها فَقدْ عرَفَ رَبَّهُ وتابَعهُ </strong></p>



<p>جس نے اپنے نفس کو پہچانا اور اس کی مخالفت کی تو اس نے&nbsp;یقین اپنے رب کو پہچان لی اور اس کی فرمانبرداری کی“&nbsp;</p>



<p>انسان خاص کا اپنے وطن یعنی قربت کی طرف رجوع اور رسائی علم حقیقت(اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں) کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ علم حقیقت عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فنا ہے۔ کیونکہ فانی کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ نہیں پہنچ سکتے)میں توحید ہے۔ دنیا میں اللہ کی یکتائی کا عقیدہ ہے۔ اور یہ مقام ( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا)سوتے جاگتے عبادت سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ جسم پر جب نیند طاری ہو جاتی ہے تو دل کو زیادہ فرصت ملتی ہے اور وہ اپنے وطن اصلی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ رجوع یا توکلی طور پر ہوتا ہے یا جزوی طور پر۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ </p>



<p><strong>اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى</strong> (الزمر:42 ( اللہ تعالی قبض کر تا ہے جانوں کو موت کے وقت اور جن کی<strong> </strong>موت کا وقت ابھی نہیں آیا( ان کی روحیں) حالت نیند میں۔ پھر روک لیتا ہے ان روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور واپس بھیج دیتا ہے دوسری روحوں کو مقررہ میعاد تک بے شک اس میں اس کی قدرت کی( نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں اسی لیے حضور ﷺنے فرمایا : <strong>نؤمُ العالم خيرٌ من عِبادةِ الجاهلِ </strong>عالم کا سونا جاہل کے عبادت کرنے سے بہتر ہے۔</p>



<p>مگر عالم کو یہ شرف صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے کہ عالم کادل نور توحید سے زندہ ہو چکا ہو اور اسمائے توحید(اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>) باطن کی زبان پر بغیر حرف وصوت جاری ہو چکے ہوں۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الإنسان سرّي وأنا سرَّة</strong>انسان میر اراز اور میں اس کا راز ہوں‘‘</p>



<p>دوسری حدیث کے الفاظ یوں ہیں: <strong>إن علم الباطن هو سرّ من سرّي، أجّعله فى قلب عبدي، ولا يقف عليه أحد غيري</strong> بیشک علم باطنی میرے رازوں میں سے ایک راز ہے۔ میں نے اس راز کو اپنے بندے کے دل میں رکھ چھوڑا ہے۔ اس پر میرے سوا کوئی واقف نہیں ہو سکتا انسان کے وجود کا اصل مقصد ہے ہی علم تفکر جیسارسول اللہ کا ارشاد گرامی ہے : </p>



<p><strong>تَفكُّر ساعة خيرٌ من عبادةِ سبعينَ سنة</strong>ایک پل کا غور و فکر ستر سال کی عبادت سے بہتر ہے“</p>



<p>&nbsp;“ تفکر علم الفرقان ہے جسے توحید کہتے ہیں۔ اسی کی بدولت عارف&nbsp;اپنے مقصود ومحبوب تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ عارف اس علم کے نتیجے میں روحانیت کی پرواز کر کے عالم قربت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔) تک پہنچتا ہے۔ پس عارف قربت کی طرف محو پرواز ہے جبکہ عابد جنت کی طرف پا پیادہ گامزن ہے۔&nbsp;</p>



<p>عارفین کے متعلق کسی نے کیاسچ کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>قُلوبُ العارفينَ لَها عُيونٌ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; تَرى ما لا يَراهُ الناظِرونَ</strong></p>



<p><strong>وَأَجنِحَةٌ تَطيرُ بغَيرِ ريشٍ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; إِلى مَلَكوتِ رِبِّ العالِمينَ</strong></p>



<p>عرفاء کے دلوں کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ یہ آنکھیں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہیں جو ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ ان( اہل اللہ ( کہ پر ہیں لیکن یہ پرندوں کے سے پرنہیں ہیں۔ وہ ان پروں کے ساتھ پروردگار عالم کی بادشاہی کی طرف محو پرواز رہتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>یہ پرواز عرفاء کے باطن میں جاری و ساری ہے۔ عارف انسان حقیقی ہے۔&nbsp;</p>



<p>وہ اللہ عزوجل کا محبوب، محرم راز اور اس کی د لہن ہے جیسا کہ ابو یزید (بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ اولیاء اللہ، اللہ تعالی کی دلہنیں ہیں۔ دلہنوں کو محرموں کے سواء کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ اولیاء کرام اللہ تعالی کے حضور حجاب انس میں مستور ہوتے ہیں۔ نہ انہیں کوئی دنیا میں دیکھ پاتا&nbsp;ہے اور نہ ہی آخرت میں ہاں صرف ایک آنکھ ان کےحق کا مشاہدہ( دل کی آنکھ سے حق کو دیکھنا) کرتی ہے&nbsp;اور وہ ہے اللہ تعالی کی قدرت کی آنکھ&nbsp;جیسا کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا :<strong>ا</strong><strong> </strong><strong>وليائي تَحْتَ قِبَائي لا يَعرِفُهُم غَيْرِي</strong></p>



<p>میرے اولیاء میری قبا کےنیچے ہیں۔ انہیں میرے سواء&nbsp;کوئی نہیں پہچانتا۔</p>



<p>&nbsp;لوگ دلہن کی صرف ظاہری سج دھج کو دیکھ سکتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>یحی بن معاذ رازی رحمۃ الله تعالی فرماتے ہیں ۔&nbsp;</p>



<p>ولی اللہ زمین میں اللہ تعالی کی خوشبو ہے جسے صرف صديق سونگھ سکتے ہیں۔ یہ خوشبو صدیقوں کے دلوں تک پہنچتی&nbsp;ہے۔ اسی لیے وہ اپنے مولا کی طرف مشتاق رہتے ہیں۔ تفاوت اخلاق کے مطابق ان کی عبادت بڑھتی جاتی ہے اور جوں جوں یہ لوگ عبادت میں بڑھتے ہیں اسی قدر فناء(بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا) میں بڑھتے جاتے ہیں۔ کیونکہ فانی(اس شخص کو کہتے ہیں جو حظوظ نفس کے شہود سے فناءہو گیا) جس قدر باقی کا قرب حاصل کر تا ہے اسی قدر فناء(بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا) ہوتا جاتا ہے&nbsp;۔</p>



<p>ولی وہ ہے جو اپنے حال میں فناء ہو اور مشاہد حق میں باقی ہو۔ اسے اپنی&nbsp;ذات پر کوئی اختیار نہ ہو۔ اور نہ ہی اسے غیر خدا کے ساتھ سکون نصیب ہو۔&nbsp;</p>



<p>ولی وہ ہے جس کی تائید کرامات سے ہو۔ یعنی یہ مقام اس کی نگاہوں میں فروتر ہو۔ وہ خود افشاء کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ کیونکہ ربوبیت کے راز کو افشاء کرنا کفر&nbsp;ہے۔ جیسا کہ صاحب المرصادر حمہ اللہ تعالی نے فرمایا۔ اصحاب کرامات تمام کے تمام پس پردہ ہیں۔ کرامت مردان خدا کے لیے بمنزلہ حیض کے ہے ولی کے&nbsp;لیے ہزار مقامات ہیں۔ پہلا مقام کرامت ہے۔ جو اس سے گزر کیا تمام مقامات کو&nbsp;پانے میں کامیاب ہو گیا۔</p>



<p>          <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ27 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>          </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25b7%25d9%2586-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%25be%25d8%25b3%25db%258c-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584-1%2F&#038;title=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%D8%B7%D9%86%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%88%D8%A7%D9%BE%D8%B3%DB%8C%20%D9%81%D8%B5%D9%84%201" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d8%b5%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-1/" data-a2a-title="انسان کی وطن اصلی کی طرف واپسی فصل 1"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d8%b5%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c-%d9%81%d8%b5%d9%84-1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسان کا اسفل السافلین کی طرف لوٹنا فصل2</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d9%81%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%84%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d9%88%d9%b9%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b5%d9%84/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d9%81%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%84%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d9%88%d9%b9%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b5%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 05:29:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[روح سلطانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح سیرانی]]></category>
		<category><![CDATA[عالم الملک]]></category>
		<category><![CDATA[عالم جبروت]]></category>
		<category><![CDATA[عالم لاہوت]]></category>
		<category><![CDATA[عالم ملکوت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4923</guid>

					<description><![CDATA[انسان کا پست ترین حالت (اسفل السافلین) کی طرف لوٹنا جب الله تعالی نے عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناءہے۔ کیونکہ فانی &#160;کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d9%81%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%84%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d9%88%d9%b9%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b5%d9%84/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>انسان کا پست ترین حالت (اسفل السافلین) کی طرف لوٹنا</p>



<p>جب الله تعالی نے عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناءہے۔ کیونکہ فانی &nbsp;کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ&nbsp;نہیں پہنچ سکتے) میں روح قدسی(عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کو بہترین اعتدال پر پیدا&nbsp;فرمایا تو چاہا کہ اسے پست ترین حالت کی طرف لوٹائے۔ تا کہ وہ انسیت(دل کے مشاہدہ سے روح کا لطف اندوز ہونا) اور قربت(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے)میں ترقی کرے۔ جیسا کہ ارشاد رب العالمین ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ </strong>(القمر :55( میری پسندیدہ جگہ میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے پاس&nbsp;بیٹھے ہوں گے“&nbsp;</p>



<p>پہلے انسان عالم لاہوت سے عالم جبروت(عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں)میں آیا۔ اس کے پاس توحید کا بیج تھا۔ اس نے یہاں اپنی نورانیت کا بیج بویا اور روح قدسی کو جبروتی لباس پہنایا گیا۔ اس کے بعد اسے یکے بعد دیگرے عالم ملکوت، عالم الملک(عالم شہادت یا عالم اجسام واعراض۔ اسی عالم میں روحیں جسموں میں&nbsp;داخل ہوتی ہیں۔ اس کا دوسرا نام عالم سفلی ہے) کی طرف بھیجا گیا۔ اسے لباس عنصری(اربعہ عناصر آگ ،مٹی،&nbsp; پانی، ہوا&nbsp; کا جسمانی وجود) دیا گیا تا کہ وہ اس عالم کو جلانہ دے&nbsp;۔ لباس عنصری سے مراد جسد کثیف ہے۔ جبروتی لباس کی وجہ سے اسے روح سلطانی (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت اور عالم جبروت کے در میان ارواح کو عطا فرمایا )، ملکوتی لباس کی وجہ سے اسے روح سیرانی (عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح روانی بھی کہتے ہیں) اور ملکی لباس کی وجہ سے اسے روح جسمانی کہتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>الاسفل کی طرف روح قدسی کے رجوع سے مقصود جسم اور دل کے واسطہ سے زیادہ درجہ اور قربت کا حصول ہے۔ یہ روح ارض قلب میں توحید کا بیج ہوتی ہے۔ اس سے توحید کا درخت اگتا ہے جس کا تنا باطن کی گہرائی میں پیوست ہو تا ہے اور اس درخت پر رضاء خداوندی کے لیے ثمرة توحید لگتا ہے۔ اسی طرح&nbsp;شریعت کا بیج جسم کی زمین ہوتی ہے جس سے شریعت کا درخت اگتا ہے اور اس&nbsp;سے ثواب کا پھل حاصل ہو تا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی نے تمام ارواح کو حکم دیا کہ ان اجساد میں داخل ہو جاؤ اور ہر&nbsp;ایک روح کیلئے جسم میں ایک خاص جگہ متعین فرمادیا۔&nbsp;</p>



<p>روح جسمانی کا مقام خون اور گوشت کی درمیانی جگہ قرار پائی روح روانی(عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح سیر انی بھی کہتے ہیں) کو قلب میں رکھا گیا۔ روح سلطانی (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت اور عالم جبروت کے در میان ارواح کو عطا فرمایا )کو جان میں جبکہ روح قد سی کا مقام باطن ٹھہرایا گیا۔&nbsp;</p>



<p>ہر ایک روح کی مملکت جسم کے اندر دکان ہے۔ ہر ایک سامان تجارت&nbsp;رکھے نفع کمارہا ہے۔ یہ کاروبار ہر قسم کے نقصان کے خدشے سے پاک ہے۔&nbsp;</p>



<p>ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے وجود کے اندر جاری معاملات کو سمجھے کیونکہ یہاں جو کچھ وہ حاصل کرے گا اس کی گردن کا نو شتہ ہو گا۔ جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>أَفَلاَ يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ</strong>(العاديات :9،10(&nbsp;</p>



<p>کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب نکال لیا جائے گا جو کچھ قبروں&nbsp;میں ہے اور ظاہر کر دیا جائے گا جو سینوں میں پوشیدہ ہے“ اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا : <strong>وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِِرَهُ فِي عُنُقِهِ </strong>(الاسراء :13( اور ہر انسان کی( قسمت کا ( نوشتہ اس کے گلے میں ہم نےلٹکار کھاہے&nbsp;۔</p>



<p>         <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ33 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>         </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2581%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2581%25d9%2584%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25b7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2584%25d9%2588%25d9%25b9%25d9%2586%25d8%25a7-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%2584%2F&#038;title=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A7%D8%B3%D9%81%D9%84%20%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A7%D9%81%D9%84%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%B7%D8%B1%D9%81%20%D9%84%D9%88%D9%B9%D9%86%D8%A7%20%D9%81%D8%B5%D9%842" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d9%81%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%84%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d9%88%d9%b9%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b5%d9%84/" data-a2a-title="انسان کا اسفل السافلین کی طرف لوٹنا فصل2"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d9%81%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%84%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d9%81-%d9%84%d9%88%d9%b9%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b5%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اجساد میں روحوں کی دکانیں فصل3</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 04:47:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[روح جسمانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح روانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح سلطانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح قدسی]]></category>
		<category><![CDATA[طفل معانی]]></category>
		<category><![CDATA[ظاہر و باطن کا فرق]]></category>
		<category><![CDATA[علم باطن چشمہ]]></category>
		<category><![CDATA[علم ظاہر پاک پانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4920</guid>

					<description><![CDATA[روح جسمانی کی دکان پورا جسم ظاہری جوارح کے ساتھ ہے۔ اس کا سامان تجارت شریعت ہے۔ اور اس کا کاروبار شرک سے بچتے ہوئے اللہ تعالی کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>روح جسمانی کی دکان پورا جسم ظاہری جوارح کے ساتھ ہے۔ اس کا سامان تجارت شریعت ہے۔ اور اس کا کاروبار شرک سے بچتے ہوئے اللہ تعالی کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ </p>



<p><strong>وَلاَ يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدَاَ</strong> (الکہف:110(&nbsp;اور نہ شر یک کرے اپنے رب کی عبادت میں کسی کو“&nbsp;</p>



<p>حضور ﷺ نے فرمایا : <strong>‌إِنَّ ‌اللَّهَ ‌طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا</strong>اللہ تعالی پاک ہے اور صرف پاک ہی کو قبول فرماتا ہے“&nbsp;</p>



<p>اسی طرح حضورﷺکا ایک اور ارشاد گرامی ہے۔ <strong>إنَّ الله وتر يحبُّ الوتر</strong>اللہ تعالی و تر(واحد) ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے&nbsp;۔</p>



<p>لفظ وتر سے مراد نمود و نمائش سے بلند تر ہوتا ہے (یعنی اللہ تعالی بناوٹ&nbsp;سے پاک ہے اور اعمال میں اخلاص کو پسند فرماتا ہے)&nbsp;</p>



<p><strong>روح</strong><strong> </strong><strong>جسمانی</strong> کا نفع ولایت، مکاشفہ (اتصال یا تعلق باللہ کا نام مکاشفہ ہے۔ مکاشفہ سے چھپے راز عیاں ہو جاتے&nbsp;ہیں اور انسان باطن کی آنکھ سے سب کچھ دیکھنے لگتا ہے)اور تحت الثری سے آسمان بالاتک پوری کائنات کا مشاہدہ <a>(دل</a> کی آنکھ سے حق کو دیکھنا) ہے۔ اس کی مثال کرامات کونیہ( &nbsp;جس کا تعلق خلق و ایجاد سے ہے اورجو تمام موجودات و حوادث کو شامل ہے۔ اس کائنات میں خیر و شر، کفر و ایمان اوراطاعت و معصیت جو کچھ بھی ہو رہا ہے کونیہ کہلاتا ہے) جو مراتب رہبانیت سے ہے۔ مثلا پانی پر چلانا، ہوا میں اڑنا۔ طے مکانی ، دور سے سننا اور باطن میں جھانکنا&nbsp;اور اس قسم کی دوسری کرامات۔ آخرت میں اس کا نفع جنت، حور و قصور ، غلمان، شراب طہور۔ تمام نعمتیں، جنت الاولی میں گھر جو جنت الماوی ہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>روح</strong><strong> </strong><strong>روانی</strong>(عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح سیر انی بھی کہتے ہیں) کی دکان قلب ہے۔ ان کی متاع علم طریقت(سالکین کی راہ جو انہیں واصل بحق کرتی ہے۔ مثلا منازل سلوک کا طے&nbsp;کرنا اور مقامات میں ترقی کرنا) اور اس کا کاروبار اللہ تعالی کے بارہ ، اصولی اسماء میں سے پہلے چار اسماء میں مشغول ہو تا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرائی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَلِلَّهِ الأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا </strong>(الاعراف:180(&nbsp;</p>



<p>اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے۔ سو پکارو اسے&nbsp;انہیں نا موں سے&nbsp;اور یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ اسماء مشغول ہونے کامحل ہیں۔ اور یہی علم باطن( دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ&nbsp;کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔&nbsp;) ہے۔ معرفت اسمائے توحید(اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>)) کا نتیجہ ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‌تِسْعَةً ‌وَتِسْعِينَ اسْمًا، مَنْ ‌أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ</strong>بیشک اللہ تعالی کےنناویں نام ہیں جس نے ان کا ورد کیاوہ جنت میں داخل ہوا&nbsp;</p>



<p>حدیث میں لفظ احصاءسے مرادان اسماء سے متصف ہوتا ہے۔ اور ان اخلاق خداوندی کو اپنی ذات میں جاری کرنا ہے۔ یہ بارہ اسماء اللہ تعالی کے تمام اسماء کی بنیاد اور اصول ہیں۔ جن کے عدد کلمہ لا الہ الا اللہ کے حروف کے برابر ہیں۔ پس اللہ تعالی نے قلوب کی گہرائیوں میں ہر ایک حرف کے لیے ایک اسم کو ثبت فرما دیا ہے۔ ہر ایک عالم کے لیے تین اسماء ہیں۔ اللہ تعالی انہیں اسماء کے ذریعے محسنین کے دلوں کو اثبات بخشتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>يُثَبِّتُ اللهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَة </strong>(الابراہیم:27(&nbsp;</p>



<p>ثابت قدم رکھتا ہے اللہ تعالی اہل ایمان کو اس پختہ قول (کی&nbsp;برکت سے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی&nbsp;اللہ تعالی ایسے لوگوں پر انسیت(دل کے مشاہدہ سے روح کا لطف اندوز ہونا) کی خاص کیفیت نازل فرماتا ہے جسے سکینہ کہا جاتا ہے۔ اس میں شجر توحید پروان چڑھتا ہے جس کی جڑ ساتویں زمین میں بلکہ تحت الثری میں ہے اور ٹہنیاں ساتویں آسمان تک بلند ہیں ۔ بلکہ عرش کے اوپر تک بچھی ہوئی ہیں۔ جیسا کہ ارشاد ہے<strong> كَشَجَرَةٍ طَيِبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ</strong></p>



<p>(ابراہیم:24( پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں“&nbsp;</p>



<p>روح روانی کو اس کاروبار سے جو نفع ہو تا ہے وہ دل کی زندگی ہے۔ عالم الملكوت کو وہ اپنی دل کی آنکھ سے عیاں دیکھتا ہے۔ جنت کے باغ اسے دکھائی دینے&nbsp;لگتے ہیں۔ اہل جنت، جنت کے انوار اور فرشتے اس کے روبرو ہوتے ہیں۔ اور جب وہ اسمائے باطن کا مشاہدہ کر تا ہے تو اپنی زبان سے باطنی گفتگو کر تا ہے جو بلا حرف و صوت ہوتی ہے۔ اس کاروبار کی وجہ سے اس کا ٹھکانا دوسری جنت یعنی جنت النعیم قرار یا تاہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>روح سلطانی</strong> (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت (روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ&nbsp;نہیں پہنچ سکتے) اور عالم جبروت (عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں) کے در میان ارواح کو عطا فرمایا )کی دکان جان ہے۔ اس کا سامان تجارت معرفت اور کاروبار&nbsp;باره اسماء میں سے در میان چار اسماء کادل کی زبان سے ورد ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا :&nbsp;</p>



<p>&#8220;<strong> الْعِلْمُ ‌عِلْمَانِ: وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَاكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ آدَمَ. وَعِلْمٌ ب</strong><strong>ِا</strong><strong>لْجَنَانِ فَذَاكَ ‌الْعِلْمُ ‌النَّافِعُ</strong>، &#8221; علم کی دو قسمیں ہیں (1( علم لسانی (2( علم جنانی علم لسانی الله تعالی کی ابن آدم پر حجت ہے اور علم جنانی ہی علم نافع ہے“ کیونکہ علم کے تمام فائدے اسی دائرہ میں ہیں۔ حضور ﷺکا ارشاد ہے۔<strong> </strong><strong>إنَّ للقرآن ظهراً وبطناً ولبطنه بطناً إلى سبعة أبطن</strong><strong>&#8221;&nbsp;</strong></p>



<p>قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ اور ہر باطن کا پھر&nbsp;ایک باطن ہے (یہ سلسلہ سات باطنوں تک (دراز) ہے“ آپﷺ کا ارشاد ہے: <strong>إنَّ الله أنزل القرآن على عشرة أبطن فكل ما هو أبطن فهو أنفع وأربح لأنه مِفَنٌ</strong> بیشک اللہ تعالی نے قرآن کو دس بطنوں پر نازل فرمایا۔ پس ہر باطن پہلے باطن سے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ کیونکہ اس میں پہلے کی نسبت زیادہ عجائب ہیں۔</p>



<p>&nbsp;یہ اسماء ان بارہ چشموں کی مانند ہیں جو عصائے موسی کی ضرب سےپھوٹے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشادالہی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ </strong>(البقرہ:60(&nbsp;</p>



<p>اور یاد کروجب پانی کی دعامانگی موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے تو ہم نے فرمایاماروا پنا عصا فلاں چٹان پر تو فور ابہہ نکلے اس چٹان&nbsp;سے بارہ چشمے۔ پہچان لیا ہر گروہ نے اپنا اپناگھاٹ&nbsp;</p>



<p>علم ظاہری اس پاک پانی کی مانند ہے جو عارضی ہو جبکہ علم باطن(دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ&nbsp;کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔&nbsp;) چشمے کے اصلی پانی جیسا ہے( جوکبھی ختم نہیں ہوتا) علم باطنی ، علم ظاہری کی نسبت&nbsp;زیادہ نفع بخش ہے۔ اور علم کا یہ چشمہ ابد ی ہےکبھی خشک نہیں ہو تا۔</p>



<p>ارشاد ربانی ہے: <strong>وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ </strong>(یس:33( اور ایک نشانی ان کے لیے یہ مردہ زمین ہے۔ ہم نے اسے زندہ کر دیا اور ہم نے نکالا اس سے غلہ پس وہ اس سے کھاتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی نے روئے زمین سے ایک دانا نکالا جو حیوانات نفسانیہ کی خوراک ہے، زمین انفس سے ایک دانا پیدا کیا جو ارواح روحانیہ کی خوراک ٹھہرا جیسا کہ حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>من أخلص لله تعالى أربعين صباحاً ظهرت ينابيع الحكمة من قلبه على لسانه</strong> جس نے چالیس صبحیں اللہ کے خلوص میں کیں تو اللہ نے اس کے دل سے حکمت کے چشمے اس کی زبان پر جاری کر دئیے“ </p>



<p>رہاروح سلطانی کا نفع تو انسان اس سے جمال خداوندی کا عکس دیکھتا ہے&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَا كَذّبْ الفُؤاد مَا رَأى </strong>(النجم:11(&nbsp;نہ جھٹلایادل نے جو دیکھ ( چشم مصطفی)نے&nbsp;</p>



<p>اسی طرح حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے : <strong>المُؤْمِنُ مِرْ</strong><strong>آ</strong><strong>ةُ المُؤمِن</strong>”ایک مؤمن دوسرے مؤمن کا آئینہ ہے“&nbsp;</p>



<p>پہلے مؤمن سے مراد ، بندہ کادل ہے اور دوسرے سے مراد اللہ تعالی کی&nbsp;ذات بابرکات ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا صفاتی نام مؤمن آیا ہے&nbsp;</p>



<p><strong>المُّؤْمِن المُهَيمِن العَزِيز الْجَبَّار المُتَكَبِر </strong>(الحشر:23(&nbsp;مانگنے والا، نگہبان، عزت والا، ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا متکبر۔</p>



<p>صاحب المرصاد فرماتے ہیں کہ اس طائفہ کا مسکن تیسری جنت یعنی&nbsp;جنت الفردوس ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>روح قدسی</strong>(عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کی دکان باطن ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی ہے<strong>الإنسان سرِّي وأنا سِرُّهْ</strong> انسان میر اراز اور میں اس کا راز ہوں‘‘ </p>



<p>روح قدسی کی متاع علم الحقیقت(اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں) ہے جسے علم التوحيد کہتے ہیں۔ اور اس کا معاملہ (کاروبار ( اسمائے توحید(اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>) کا ورد ہے۔ یعنی آخر چار اسماء کا ورد۔ مگر یہ وظیفہ ظاہری زبان سے نہیں باطن کی زبان سے بغیر نطق کے کرنا ہو تا ہے اور اس کے لیے وقت مقرر نہیں دائمی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے:&nbsp;</p>



<p><strong>وَإِن تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَإِنَهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى </strong>(طہ:7(&nbsp;</p>



<p>اور اگر توبلند آواز سے بات کرے تو تیری مرضی وہ تو&nbsp;بلا شبہ جانتا ہے رازوں کو بھی اور دل کے بھیدوں کو بھی“&nbsp;</p>



<p>اس کاروبار کا فائدہ یہ ہے کہ طفل معانی(انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) کا ظہور ہو جاتا ہے۔ اور وہ باطن کی آنکھ سے جلال و جمال خداوندی کوروبرو بغیر کا پردہ کے دیکھتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ </strong>(القیامۃ:22،23(&nbsp;</p>



<p>کئی چہرے اس روز تر و تازہ ہوں گے اور اپنے رب کے انوار جمال( کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ دیدار بلا کیف و کیفیت اور بلا تشبیہ ہو گا جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ <strong>لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ </strong>(الشوری:11(&nbsp;نہیں ہے اس کی مانند کوئی چیز اور وہی سب کچھ سننے والا ۔&nbsp;دیکھنے والا ہے“&nbsp;</p>



<p>جب انسان اپنے مقصود کو پالیتا ہے تو عقلیں سوچنے سے قاصر ، دل عالم تحیر میں سر گرداں اور زبانیں گنگ ہوتی ہیں۔ حتی کہ صاحب مقام( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا) خود بھی کوئی خبر نہیں دے سکتاوہ کہے بھی تو کیا کہے۔ الله تعالی مثال سے پاک ہے۔ اگر علماء تک ایسی چیزیں&nbsp;پہنچیں تو انہیں چاہیئے کہ وہ ان مقامات قلوب کو خوب سمجھیں ان کے حقائق کو جاننے کی کوشش کریں۔ اور کسی اعتراض کے بغیر اعلی علیین کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ اس طرح انہیں بارگاہ خداوندی سے علم لدنی حاصل ہو گا اور ذات احدیت<a>( اللہ</a> تعالی کی ذات یکتا) کی معرفت تک رسائی ہو گی۔ وہ ہر گز ہر گز اس مقام کا انکارنہ کریں اور تعرض کی روش سے بچیں۔&nbsp;</p>



<p>        <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ35 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>        </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25af-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25ad%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25af%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25843%2F&#038;title=%D8%A7%D8%AC%D8%B3%D8%A7%D8%AF%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%88%DA%BA%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AF%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%843" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/" data-a2a-title="اجساد میں روحوں کی دکانیں فصل3"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ac%d8%b3%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%ad%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%843/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علوم کی تعداد کا بیان فصل4</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 04:15:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[اسمائے توحید]]></category>
		<category><![CDATA[طفل معانی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[علم شریعت]]></category>
		<category><![CDATA[علم طریقت]]></category>
		<category><![CDATA[علم معرفت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4915</guid>

					<description><![CDATA[علم ظاہر بارہ فنون پر مشتمل ہے۔ اسی طرح علم باطن کی بھی بارہ شاخیں ہیں۔ اس علم کو عوام، خواص اور اخص الخواص کی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے تقسیم کیا گیا ہے۔  جملہ علوم چار اقسام ہیں 1۔ شریعت <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>علم ظاہر بارہ فنون پر مشتمل ہے۔ اسی طرح علم باطن کی بھی بارہ شاخیں ہیں۔ اس علم کو عوام، خواص اور اخص الخواص کی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے تقسیم کیا گیا ہے۔ </p>



<p>جملہ علوم چار اقسام ہیں</p>



<p>1۔ شریعت کا ظاہری علم مثلاً امر، نہی اور دوسرے احکام۔</p>



<p>&nbsp;2۔۔شریعت کا باطنی علم۔ اسے علم طریقت کہتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;3۔ &nbsp;علم طریقت کاباطن۔ اسے علم معرفت کہتے ہیں۔</p>



<p>4 باطنی علوم کاباطن اسے علم حقیقت کا نام دیا جاتا ہے۔</p>



<p>ان تمام علوم کا حصول ضروری ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان <strong>ہے۔</strong><strong> </strong><strong>الش</strong><strong>ر</strong><strong>يعۃ</strong><strong> </strong><strong>شجرة</strong><strong> </strong><strong>والطريق</strong><strong> </strong><strong>أغصانها</strong><strong> </strong><strong>والمعرفة</strong><strong> </strong><strong>أوراقها</strong><strong> </strong><strong>والحقيقة</strong><strong> </strong><strong>ثمارها</strong><strong> </strong><strong>والقرآن</strong><strong> </strong><strong>جامع بجميعها</strong><strong> </strong><strong>بالدلالة</strong><strong> </strong><strong>والإشارة</strong><strong> </strong><strong>تفسيرا</strong><strong> </strong><strong>وتأويلا</strong>&nbsp;</p>



<p>شریعت ایک درخت ہے۔ طریقت اس کی ٹہنیاں ہیں، معرفت اس کے پتے ہیں اور حقیقت اس کا پھل ہے۔ قرآن &nbsp;تمام دلائل ، اشارات ،تفاسیراور تاویلات &nbsp;کا جامع ہے“</p>



<p>المجمع کے مصنف فرماتے ہیں کہ تفسیر عوام کے لیے ہے اور تاویل خواص کے لیے کیو نکہ خواص ہی رسوخ فی العلم کے حامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ رسوخ کا معنی ہے علم میں ثبات ، استقرار اور استحکام جیسا کہ مضبوط تنے کابلند ترین درخت جس کی شاخیں آسمان تک جا پہنچی ہوں۔ رسوخ فی العلم کلمہ طیبہ کا نتیجہ&nbsp;ہے جو دل کی زمین کو پاک کر کے اس میں کاشت کیا جاتا ہے۔ ایک قول کے مطابق الراسخون في العلم‘ کا عطف الا الله“ پر ہے (آل عمران:7)&nbsp;</p>



<p>صاحب تفسیر کبیر (امام رازی رحمۃالله عليہ ( فرماتے ہیں کہ کہ اگر یہ(علم باطن)&nbsp;دروازہ کھل جائے توباطن کے سب دروازے کھل جاتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>انسان اللہ تعالی کے امر و نہی کا پابند ہے۔ اسے بارگاہ خداوندی سےیہ حکم&nbsp;مل چکا ہے کہ ان چار دائروں میں سے ہر ایک دائرہ میں نفس کی مخالفت کرے۔&nbsp;</p>



<p>نفس دائرہ شریعت میں مخالف شریعت کاموں کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ دائرہ طریقت میں موافقات کی تلبیس(کسی شخص کا یہ گمان کرتا کہ میں نے استقامت، توحید اور اخلاص کا لباس پہن رکھا ہے لہذا میں اللہ کا ولی ہوں لیکن حقیقت میں وہ لباس شیطانی دھوکہ ہو۔ اسےتلبیس کہتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسے مدعی ولایت کے ہاتھ پر خرق عادت کا ظہور ہو جاتا ہے وہ کرامت نہیں ہوتی بلکہ اسے مخادعہ (استدراج) کہتے ہیں) کا وسوسہ ڈالتا ہے مثلا دعوی نبوت و ولایت اور دائرہ معرفت میں شرک خفی کا وسوسہ ڈالتا ہے جسے وہ اپنے تئیں نورانیات کے دائرے کی چیز سمجھ رہا ہوتا ہے مثلا وہ ربوبیت کے دعوی کے لیے وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ جیسا کہ رب قدوس نے فرمایا</p>



<p><strong>أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ</strong> (الجاثیہ :23 )ذرا اس کی طرف تو دیکھو جس نے بنا لیا ہے اپنا خدا اپنی خواہش کو“ </p>



<p>رہا حقیقت کا دائرہ تو اس میں شیطان، نفس اور ملائکہ داخل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس دائرے میں غیر خدا جل کر خاکستر ہو جاتا ہے۔ جبرائیل آمین نے بارگاہ نبوت میں عرض کی تھی۔&nbsp;</p>



<p><strong>لو دنوت أنملة لاحترقت</strong> اگر میں انگلی کے پورے کے برابر بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا“&nbsp;</p>



<p>&nbsp;اس مقام( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا) پر پہنچ کر بندہ مؤمن اپنے دونوں دشمنوں، نفس اور شیطان سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے۔ اور مخلص شمار ہونے لگتا ہے جیسا کہ رب قدوس&nbsp;کا فرمان مبارک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ </strong>(ص:82-83 ) تیری عزت کی قسم! میں ضرور گمراہ کر دوں گا ان سب کو&nbsp;سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں ان میں سے تو نے چن لیا ہے&nbsp;اور جو بنده حقیقت کے دائرے تک نہیں پہنچ سکتاوہ مخلص نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ بشر ی صفات کی فناء(بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا) بجز تجلی(غیبی انوار جو دلوں پر منکشف ہوتے ہیں) ذات کے ممکن نہیں۔ اور جہولیت معرفت ذات سبحانہ کے بغیر مرتفع نہیں ہوسکتی۔ جب بندہ حقیقت کے دائرے میں پہنچ جاتا ہے توجہولیت مکمل ختم ہو جاتی ہے کیونکہ وہاں تو اللہ تعالی بندے کو علم لدنی سے نوازتا&nbsp;ہے۔ بغیر کسی واسطہ کے اپنی معرفت عطا کر تا ہے اور بندہ خضر علیہ السلام کی طرح&nbsp;اللہ تعالی کی تعلیم کے مطابق اس کی عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہی مقام مشاہدہ(دل کی آنکھ سے حق کو دیکھنا) ہے جہاں انسان ارواح قدسیہ (عالم لاہوت میں نور کا لباس ) کو دیکھتا ہے۔ اپنے محبوب نبی کریم محمد مصطفیﷺکو پہچانتا ہے۔ اس کی انتہاء ابتداء کے ساتھ منطبق ہو جاتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام اسے ابدی وصال (اتصال بالحق کا دوسرا نام ہے وصال مخلوق سے انقطع کی قدر ہوتا ہے۔ ادنی وصال دل کی آنکھ سے مشاہدہ ہے۔ جب حجاب اٹھ جاتا ہے اورتجلی پڑتی ہے تو سالک کو اس وقت واصل کہاجاتا ہے&nbsp;)کی خوشخبری دیتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا </strong>(النساء: 69&nbsp;)اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی“&nbsp;</p>



<p>اور جو اس علم حقیقت(اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں) تک نہیں پہنچاوہ حقیقت میں عالم ہی نہیں&nbsp;اگرچہ اس نے ہزاروں کتب پڑھی ہوں۔&nbsp;</p>



<p>جسمانیت جب ظاہری علوم پر عمل پیرا ہوتی ہے تو جزاء میں اسے صرف جنت ملتی ہے جہاں وہ تجلی صفات(بندے کا صفات خداوندی سے متصف ہونے کو قبول کر لیا بجلی صفات ہے) کاعکس پاتا ہے مگر وہ حریم قدس اور قربت(اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے)&nbsp;میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ظاہری علم کا کام نہیں ہے۔ حریم قدس اور&nbsp;قربت پرواز کا عالم ہے۔ پرندہ بغیر پروں کے اڑ نہیں سکتا۔ صرف وہی بندہ ان علوم تک پہنچ سکتا ہے جو علم ظاہر کی اور علم باطنی کے دونوں پر رکھتا ہو جیسا کہ حدیث قدسی ہے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>یا عبدی اذا اردت ان تدخل حرمی فلا تلتفت الی ا</strong><strong>ل</strong><strong>ملک والملکوت والجبروت لان الملک شیطان العالم والملکوت شیطان العارف والجبروت شیطان الواقف من رضی باحدٍ منھا فھو مطرودعندی </strong>اے میرے بندے !جب تو میرے حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو ملک ، ملکوت اور جبروت کی طرف متوجہ نہ ہو۔ کیونکہ ملک عالم کا شیطان ہے۔ ملکوت عارف کا شیطان&nbsp;ہے اور جبروت واقف کا جو ان میں سے کسی ایک عالم سے راضی ہو گیا تو وہ میرے نزدیک مردود ہے“&nbsp;</p>



<p>مقصد یہ ہے کہ اسے قربت حاصل نہیں ہو گی۔ ہاں وہ مطرود الدرجات نہیں ہو گا (یعنی ثواب سے محروم نہیں ہو گا) چھوٹی منزلوں پر قناعت کرنے والے قربت حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مقصد کی پوری لگن نہیں رکھتے۔ گویاوہ ایک پر سے اڑنا چاہتے ہیں۔ (وہ ملک ، ملکوت اور جبروت کی نعمتیں بھی چاہتے ہیں) جب کہ اہل قربت کو تو وہاں تک رسائی ہوتی ہے جہاں وہ کچھ ہو تا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا ‌أُذُنٌ ‌سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ </strong>جونہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے۔ نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی&nbsp;انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ہے وہ جنت القربت ہے اس جنت میں نہ تو حورو قصور ہیں اور نہ شہد اور&nbsp;دودھ کی نہریں( انسان کو اپنی حیثیت پہچاننی چاہیئے۔ کسی ایسی چیز کا دعوی نہیں کرنا چاہیئے جس کا اسے حق نہیں پہنچتا۔&nbsp;</p>



<p>امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی ایسے آدمی پر رحم فرمائے جس نے اپنی حیثیت کا اندازہ لگایا اور اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھا، اپنی زبان کی حفاظت کی اور اپنی عمر کو ضائع نہیں کیا&nbsp;</p>



<p>عالم کو چاہیئے کہ انسان حقیقی یعنی طفل معانی(انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) کا مطلب سمجھے اور اسمائے توحید( اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>)پر مواظبت اختیار کر کے اس کی تربیت کرے۔ اسے عالم جسمانیت سے نکل کر عالم روحانیت میں آنا چاہیئے۔ عالم روحانیت ، باطن کی دنیا ہے جہاں اللہ تعالی&nbsp;کے علاوہ کوئی نہیں رہتا۔ یہ دنیانور کا گویا ایک صحراء ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔ اور طفل معانی اس میں محو پرواز ہے۔ اس کے عجائب و غرائب کو دیکھتا پھر رہا ہے اگر کسی کو خبر دینے کا امکان نہیں۔ یہ ان موحدین کا مقام ہے جو اپنی ذات کو عین وحدت میں فناء کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کے باطن میں جمال خداوندی کا نور ہو تا ہے&nbsp;جسے وہ دیکھتے رہتے ہیں۔ گویا وہ صرف اللہ ہی کو دیکھتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس یوں سمجھیئے کہ جس طرح انسان سورج کو دیکھے تو دوسری کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح جب انسان مشاہدہ حق میں مستغرق ہو جاتا ہے تو جمال خداوندی کے مقابلے میں وہ کسی اور کو کیسے دیکھ سکتا ہے کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی ذات سے محو ہو جاتا ہے اور سراپا حیرت بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا عیسی ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا : .&nbsp;</p>



<p>انسان انسانوں کی بادشاہی میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا جب&nbsp;تک وہ پرندوں کی طرح دوسری مرتبہ پیدا نہیں ہوتا&nbsp;</p>



<p>یہاں دوسری پیدائش سے مراد طفل معانی کی پیدائش ہے۔ یہ پیدائش روحانی ہے اور یہ پیدائش انسان کی حقیقی قابلیت سے ہوتی ہے۔ اور وہ ہے انسان کا&nbsp;باطن طفل معانی کا وجود صرف اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب علم شریعت اور علم حقیقت یکجا ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچہ والدین کے نطفوں کے اجتماع سے پیدا ہوتاہے جیسا کہ قرآن میں ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ </strong>(الدهر:2&nbsp;)بلاشبہ ہم ہی نے انسان کو پیدا فرمایا ایک مخلوط نطفہ سے“&nbsp;</p>



<p>اس معنی کے ظہور کے بعد بنده عالم خلق سے عالم امر کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ بلکہ تمام عالم عالم الروح کے سامنے ایسے ہی ہیں جیسے قطرہ سمندر کے سامنے۔ اس ظہور کے بعد علوم لدنی روحانی کا فیض با حرف و صوت پہنچتارہتاہے۔</p>



<p>       <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ41 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>       </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2588%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25844%2F&#038;title=%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%AF%D8%A7%D8%AF%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%844" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/" data-a2a-title="علوم کی تعداد کا بیان فصل4"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%844/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توبہ اور تلقین کا بیان فصل5</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Dec 2021 03:17:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[باطنی توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[جہاد اکبر]]></category>
		<category><![CDATA[خواص کی توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ظاہری توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[علم باطن]]></category>
		<category><![CDATA[علم ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے باطن]]></category>
		<category><![CDATA[علمائے ظاہر]]></category>
		<category><![CDATA[عوام کی توبہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4912</guid>

					<description><![CDATA[یاد رکھیئے مذکوره مراتب سچی توبہ اور تلقین مرشد کے بغیر ہاتھ نہیں آتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔  وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى (الفتح:26)اور انہیں استقامت بخش دی تقوی کے کلمہ پر۔ &#160;اس سے مراد یہ ہے کہ کلمہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>یاد رکھیئے مذکوره مراتب سچی توبہ اور تلقین مرشد کے بغیر ہاتھ نہیں آتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ </p>



<p><strong>وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى</strong> (الفتح:26)اور انہیں استقامت بخش دی تقوی کے کلمہ پر۔</p>



<p>&nbsp;اس سے مراد یہ ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کسی ایسے مرشد کامل سےلے جس کا دل پاک و صاف ہو اور اس دل میں اللہ کے سواء کسی اور کابسیرا نہ ہو۔ اس سے مراد وہ کلمہ نہیں جو عوام الناس کی زبان پر جاری ہو تا ہے۔ اگر چہ عوام اور خواص کے کلمے کے الفاظ تو ایک جیسے ہیں لیکن ان کے معانی میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ دل توحید کا بیج جب کسی زندہ دل سے اخذ کر تا ہے تواس کا دل بھی زندہ ہو جاتا ہے اور ایسابیج کامل بيج بن جاتا ہے۔ ایک نامکمل بیج کبھی نہیں اگ سکتا۔ اس لیے کلمہ توحید کے بیج کا تذکرہ قرآن کریم میں دو جگہ آیا ہے۔</p>



<p>&nbsp;ایک تو ظاہر ی قول(زبان سے اقرار) کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ</strong> (الصافات:35)جب انہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود اللہ کے سوا ۔ یہ کلمات عوام کے حق میں نازل ہوئے۔</p>



<p>اور دوسرے علم حقیقی &nbsp;(اللہ کی معرفت &nbsp;کا علم حاصل کرنےکے بعد توحید کا زقرارتصدیق بالقلب &nbsp;)کے ساتھ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے :&nbsp;</p>



<p><strong>فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ </strong>(محمد:19) پس آپ جان لیں کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور دعامانگا کریں کہ اللہ آپ کو گناہ سے محفوظ رکھے نیز مغفرت طلب کریں مومن مردوں اور عورتوں کیلئے۔</p>



<p>یہ آیت اپنے شان نزول کے سبب خواص کی تلقین کے لیے نازل کی گئی ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">تلقین ذکر</h2>



<p>بستان شریعت میں ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے بارگاہ نبوت میں قریب ترین، آسان اور افضل راستے کی تمنا ظاہر کی وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں نبی کریم ﷺنے وحی کا انتظار فرمایا حتی کہ جبرائیل امین حاضر&nbsp;ہوئے اور کلمہ طیبہ لا الہ الا للہ کی تین بار تلقین کی ۔ حضور ﷺنے اس کلمے کو دھرایا اور پھر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو اس کی تلقین فرمائی ، پھر آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لے گئے انہیں بھی تلقین&nbsp;کی اور فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>رَجَعْنَا مِنْ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ</strong>ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ آئے“&nbsp;</p>



<p>یہاں جہاد اکبر سے مراد نفس کے خلاف جہاد ہے۔ جیسا کہ ایک اور&nbsp;حدیث میں فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>أَعْدَى أَعْدَائِك نَفْسُك الَّتِي بَيْنَ جَنْبَيْك</strong> تیر اسب سے بڑا دشمن تیر اپنانفس ہے جو تیرے پہلو میں ہے“ </p>



<p>تو اس وقت تک اللہ تعالی کی کامل محبت حاصل نہیں کر سکتا جب تک اپنے اندر نفس امارہ،( جو نفس بشری شہوانی طبیعت کے تقاضوں کا مطیع و فرمانبردار ہو نفس امارہ کہلاتا ہے۔ نفس امارہ اوامر و نواہی کی کچھ پرواہ نہیں کرتا اور لذات نفسانی میں&nbsp;منہمک رہتا ہے) نفس لوامہ اور نفس ملہمہ(ایسا نفس الہام خداوندی سے بھلائی کے کام کرتا ہے۔لیکن بتقاضا&nbsp;طبیعت اس سے برے کام بھی ہو جاتے ہیں) کو شکست فاش نہیں دے لیتا۔ نفس شکست کھا گیا توگویا تو اخلاق ذمیمہ سے پاک صاف ہو گیا۔ میری مراد اخلاق حیوانیہ مثلا کھانے پینے اور سونے میں زیادتی، لغو و بیہودہ گفتگو اخلاق شنیعہ مثلا غصہ ، گالی گلوچ، لڑنا جھگڑنا۔&nbsp;</p>



<p>اخلاق شیطانیہ مثل کبر و نخوت، حسد و کینہ وغیرہ اس کے علاوہ اور بھی&nbsp;بہت سے اخلاق ذمیمہ ہیں۔ یہ تمام نفس سے تعلق رکھتے ہیں خواہ بدنی ہو یا قلبی ۔ جب انسان ان اخلاق ذمیمہ سے پاک ہو جاتا ہے تو اس وقت وہ گناہوں سے واقعی پاک ہو چکا ہوتا ہے۔ اور اس کا شمارمتطہرین اورتوابین میں ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ .&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ </strong>(البقرہ:222)</p>



<p>بیشک اللہ تعالی دوست رکھتا ہے بہت توبہ کرنے&nbsp;والوں کو اور دوست رکھتا ہے صاف ستھرارہنے والوں کو“&nbsp;</p>



<p>ظاہری گناہوں سے توبہ کرنے والے اس آیت کا مصداق نہیں ہیں۔ اگر چہ وہ تائب ہیں لیکن وہ توٗ اب نہیں ہیں۔ کیونکہ تواب مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس </p>



<p>سے مراد خواص کی توبہ ہے۔</p>



<p>ظاہری گناہوں سے توبہ کرنے والے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے جو گھاس کو کاٹ دیتا ہے جڑ سے اکھیٹر تا نہیں۔ ظاہر ہے یہ گھاس دوبارہ اگے گی&nbsp;اور پہلے سے زیادہ اگے گی۔&nbsp;</p>



<p>تواب کی مثال گھاس کو جڑ سے اکھیڑنے والے کی ہے۔ یہ گھاس دوباره نہیں اُگے گی اگر اُگ بھی آئی تو معمولی سی ہو گی جسے بہ آسانی اکھیٹرا جا سکتا ہے۔ تلقین ایک ایسا آلہ ہے جو مرید کے دل سے غیر اللہ کو کاٹ ڈالتا ہے کیونکہ کڑوا&nbsp;درخت کاٹ کر ہی اس کی جگہ میٹھے پھل کا درخت لگایا جا سکتا ہے۔ اس بات میں غور و فکر کرو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ</strong> (شوری:25)</p>



<p>اور وہی ہے جو توبہ قبول کر تا ہے اپنے بندوں کی اور درگزر&nbsp;کر تا ہے ان کی غلطیوں سے۔</p>



<p>&nbsp;ایک اور آیت کریمہ میں فرمایا</p>



<p>&nbsp;<strong>إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ</strong> (الفرقان:70 )</p>



<p>وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو یہ وہ لوگ ہیں بدل دے گا الله تعالی ان کی برائیوں کو نیکیوں سے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading">اقسام توبہ</h2>



<p>&nbsp;توبہ کی دو قسمیں ہیں۔ توبہ عام اور توبہ خاص ۔</p>



<p>&nbsp;توبہ عام تویہ ہے کہ انسان گناہ کو چھوڑ کر اطاعت کی طرف آجائے۔ اخلاق ذمیمہ کو ترک کر کے اخلاق حمیدہ کو اپنائے۔ جہنم کی راہ سے ہٹ کر جنت کے راستے پر چل دے۔ آرام و آسائش کی عادت کو چھوڑ کر ذکر و فکر اور مجاہدہ و ریاضت(دل کو طبیعت کے تقاضوں اور اس کی خواہشات سے پاک کرنا) کے ذریعے نفس کو مطیع کرنے کی کو شش کرے۔ (یہ عوام الناس کی توبہ ہے)</p>



<p>&nbsp;توبہ خاص یہ ہے کہ انسان عوام کی توبہ کو حاصل کر لینے کے بعد حسنات سے معارف کی طرف، معارف سے درجات کی طرف ،درجات سے قربت (اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ&nbsp;کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے) کی طرف، قربت و لذات نفسانیہ سے لذات روحانیہ کی طرف لوٹے۔ خواص کی توبہ گویا تر ک ماسوا اس سے انس اور اس کی طرف یقین کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہ تمام چیزیں وجود کے کسب سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور وجود کاکسب گناہ ہے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ <strong>‌وُجُودُكَ ‌ذَنْبٌ لَا يُقَاسُ بِهِ ذَنْبُ </strong>تیر اوجود گناہ (حجاب)ہے اس(بشریت) سے بڑے گناہ کا قیاس بھی نہیں کیا جاسکتا ۔( دیکھنے والوں کی نظر کے لئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بشریت آپ ﷺ کی حقیقت کے لیے حجاب بن گئی دیکھنے والے اس بشریت کے پیچھے آپ کی حقیقت کو نہ دیکھ سکے جیساکہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے<strong>وَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ</strong> اور آپ کو ایسا لگتا ہے کہ گویا وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ بصارت سے محروم ہیں) عرفاء کہتے ہیں کہ ابرار کی حسنات مقربین کی سیئات ہیں اور مقربین کی سیئات ابرار کی حسنات ہیں اسی لیے حضورﷺروزانہ سو بار استغفار کرتے جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد ہے۔ .&nbsp;</p>



<p><strong>وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ </strong>(محمد: 19&nbsp;)اور استغفار کیا کریں کہ اللہ تعالی آپ کو گناہ سے محفوظ رکھے“&nbsp;</p>



<p>یہاں گناہ سے مراد وجود کا گناہ ہے۔ اسی کا نام انابت ہے کیونکہ انابت ماسوا اللہ کو چھوڑ کر اللہ کا ہو جانا آخرت میں قربت کے واسطے میں داخل ہو نا اور اللہ تعالی کی ذات گرامی کا دیدار حاصل کرنا ہے جیسا کہ حضور ﷺنے فرمایا:&nbsp;</p>



<p><strong>إن لله عبادا أبدانهم في الدُّنْيَا وَقُلُوبُهُمْ تحت العرش</strong> اللہ تعالی کے ایسے بندے بھی ہیں جن کے بدن تو دنیا میں ہیں لیکن ان کے دل تحت العرش ہوتے ہیں ۔</p>



<p>اللہ تعالی کا دیدار اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ ہاں صفات خداوندی کے عکس کودل کے آئینے میں دیکھناممکن ہے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p>: ”میرے دل نے اپنے رب کا دیدار کیا یعنی میرے رب کے نور کے ساتھ ۔ پس دل جمال خداوندی کے عکس کو دیکھنے کا آئینہ ہے۔ یہ مشاہدہ مرشد کامل کی تلقین کے بغیر حاصل نہیں ہوتا&nbsp;۔ مگر ضروری ہے کہ شیخ واصل بحق ہو اور اس کا سلسلہ طریقت آخر تک متصل ہو۔ وہ حضورﷺکے واسطہ سے اور اللہ تعالی کے حکم سے ناقصوں کی تکمیل کے لیے مقرر کیا گیا ہو (صاحب خلافت ہو)&nbsp;</p>



<p>اولیاء خواص کے لیے بھیجے جاتے ہیں عوام کے لیے نہیں۔یہی فرق ہے ولی اورنبی میں نبی عام و خاص ہر ایک کے لیے مستقل بنفسہ&nbsp;مبعوث ہوتا&nbsp;ہے یعنی ولی مرشد صرف خواص کے لیے بھیجا جاتا ہے اور وہ مستقل بنفسہ نہیں ہو تا۔ ولی کو ہر حال میں اپنے نبی کی اتباع کرنا ہوتی ہے۔ اگر وہ استقلال بنفسہ کا دعوی کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔ حضور ﷺنے اپنی امت کے علماء کو انبیاء بنی اسرائیل جیسا فرمایا ہے۔ کیو نکہ انبیاءبنی اسرائیل حضرت سیدنا موسی علیہ السلام کی شریعت کی اتباع کرتے تھے۔ یعنی ان کے علماء دین کی تجدید کرتے اور نئی شریعت لائے بغیر اسی شریعت کے احکام کی تاکید کرتے۔ اسی طرح اس امت&nbsp;کے علماء جنہیں منصب ولایت پر فائز کیا گیا ہے خواص کے لیے بھیجے گئے ہیں تاکہ وہ امر و نہی کی تجدید کریں۔ اور تاکید و تبلیغ، اصل شریعت کے تزکیہ کے ذریعے عمل میں استحکام پیدا کریں۔ تصفیہ اور تزکیہ سے مراد دل کی پاکیزگی ہے۔ دل معرفت کا محل ہے۔ یہ لوگ حضور (کے علم کے ذریعے خبر دیتے ہیں۔ جیسا کہ اصحاب صفہ<a>(وہ</a> صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ&nbsp;کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے&nbsp;اسلامی تعلیمات کا بہت سا حصہ انہیں کے ذریعے روایت ہوا) معراج سے پہلے اسرار معراج بتایا کرتے تھے۔ امت محمدیہ کا کامل&nbsp;ولی وہی ہے جس کو یہ نور عطا کیا گیا ہو۔ یہ نور نبوت کا ایک جزو ہے اور ولی اللہ کے دل میں اللہ تعالی کی امانت ۔ عالم وہ نہیں جس کے پاس صرف ظاہری علم ہو۔ اگر چہ ظاہر کی عالم بھی وراثت نبوت کا حقدار ہے یعنی اس کی حیثیت ذوی الارحام(بہن بھائی جن کی ماں مشترک باپ مختلف ہوصرف ظاہری علم کے وارث) کی سی ہے۔ کامل وارث وہ ہے جو بیٹے(ماں باپ ایک ہوںظاہری وباطنی علم کے وارث) کی جگہ ہو۔بچہ اپنے والد کا ظاہر و باطن میں راز ہو تا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺنے فرمایا</p>



<p><strong>إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ كَهَيْئَةِ الْمَكْنُونِ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا الْعُلَمَاءُ بِاللَّهِ، فَإِذَا نَطَقُوا بِهِ أَنْكَرَهُ أَهْلُ الْغِرَّةِ بِاللَّهِ</strong>علم ایک چھپی ہوئی چیز کی مانند ہے جسے صرف علماء باللہ ہی جانتے ہیں۔ جب وہ اس علم کو زبان پر لاتے ہیں تو غافل لوگوں کے سواء کوئی انکار نہیں کرتا&nbsp;۔</p>



<p>یہی وہ راز ہے جو معراج کی رات اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺکے قلب اطہر میں ودیعت فرمایا تھا۔ علم کے جو تیس ہزار باطن ہیں۔ ان میں سے یہ آخری باطن ہے۔ نبی کریم نے اس راز سے اپنے مقربین صحابہ اور اپنے اصحاب صفہ (وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے اسلامی تعلیمات کا بہت سا حصہ انہیں کے ذریعے روایت ہوا) علیہم الرضوان کے علاوہ کسی عامی کو آگاہ نہیں فرمایا۔ اللہ تعالی ان مقربین بارگاہ کی برکتوں سے ہمیں مستفیض فرمائے اور ان کی نیکیوں اور احسانات کی بارش سےہمیں سیراب کرے۔ آمین یارب العالمین۔&nbsp;</p>



<p>علم باطن اسی راز کی طرف رہنمائی کر تا ہے۔ تمام علوم و معارف اسی راز کا چھلکا ہیں۔ جو علمائے ظاہر ہیں وہ بھی اس راز کے وارث ہیں۔ بعض کی حیثیت صاحب الفروض کیا ہے۔ بعض کی عصبات اور بعض کی ذوی الارحام کیا۔ یہ لوگ علم کے چھلکے کو دعوت الی سبیل اللہ کے ذریعے پھیلا رہے ہیں یہ مواعظ حسنہ سے کام لیتے ہیں یعنی مشائخ اہل سنت جن کا سلسلہ طریقت مولا علی رضی اللہ عنہ&nbsp;سے ملتا ہے وہ علم کے مغز کے وارث ہیں۔ انہیں باب مدينۃ العلم کی وساطت سے یہی علم ارزانی ہوا ہے یہ لوگ حکمت کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے&nbsp;ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ </strong>(النحل:125)اے محبوب بلایئےلوگوں کو اپنے رب کی راہ کی&nbsp;طرف حکمت سے اور عمدہ نصیحت سے اور ان سے بحث (ومناظرہ) اس انداز سے مجھے جو بڑا پسندیدہ اور شائستہ ہو“&nbsp;</p>



<p>علماء ظاہر اور علماء باطن کی گفتگو تو ایک جیسی ہوتی ہے یعنی فروعات میں فرق ہوتا ہے۔ یہ تینوں معانی حضورﷺمیں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یعنی مجموعی طور پر کسی اور کو عطا نہیں کیے گئے۔ ان معانی کو تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔</p>



<p>&nbsp;1۔ پہلی قسم :۔&nbsp;علم کا مغز ہے۔ یہ علم حال ہے۔ یہ علم صرف مردان با صفا کو عطا&nbsp;ہوتا ہے جن کی ہمت کی تعریف حضور ﷺنے فرمائی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>هِمَّةُ الرِّجالِ تَقْلَعُ الجِبالَ</strong> مردوں کی ہمت پہاڑوں کو اکھیڑپھینکتی ہے </p>



<p>یہاں پہاڑوں سے مراد قساوت قلبی ہے جو بندگان خدا کی دعا اور تضرع&nbsp;سے محو ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا </strong>(البقرہ:269)</p>



<p>”اور جسے عطاکی گئی دانائی تو یقیناً اسے دے دی گئی بہت بھلائی&nbsp;</p>



<p>2۔ دوسری قسم :۔&nbsp;اس مغز کا چھلکا ۔ یہ علماء ظاہر کا حصہ ہے اور اس سے مراد موعظت&nbsp;حسنہ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا۔&nbsp;</p>



<p><strong>الْعَالِمُ يَعِظُ بِالْعِلْمِ وَالْأَدَبِ وَالْجَاهِلُ يَعِظُ بِالضَّرْبِ وَالْغَضَبِ</strong>عالم علم اور ادب کے ذریعے سمجھاتا ہے جبکہ جاہل مار پیٹ&nbsp;اور ناراضگی سے۔</p>



<p>&nbsp;3۔ تیسری قسم :۔&nbsp;یہ چھلکے کا بھی چھلکا ہے۔ یہ حصہ<strong> </strong>امراء کو دیا جاتا ہے۔ وہ عدل ظاہر کی اور&nbsp;سیاست ہے جس کی طرف قرآن نے بایں الفاظ اشارہ کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ</strong> (النحل:125)&nbsp;یہ لوگ اللہ تعالی کی صفت قہر کے مظاہر ہیں۔</p>



<p>&nbsp;یہ نظام دین کی حفاظت کا سبب بنتے ہیں۔ جس طرح کہ سفید چھلکا اخروٹ کی حفاظت کرتا ہے۔ ظاہری علماء کا مقام سرخ اور سخت چھلکے کی مانند ہے اور فقرائے صوفياء عار فین مغز ہیں جو درخت اگانے کا اصل مقصود ہو تا ہے۔ یہی لب لباب ہے۔ اسی لیے حضور ﷺنے ارشاد فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>يَا بُنَيَّ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ الْعُلَمَاءِ، وَاسْتَمِعْ كَلَامَ الْحُكَمَاءِ، فَإِنَّ اللهَ يُحْيِي الْقَلْبَ الْمَيِّتَ بِنُورِ الْحِكْمَةِ كَمَا يُحْيِي الْأَرْضَ الْمَيْتَةَ بِوَابِلِ الْمَطَرِ</strong>علماء کی مجلسوں میں بیٹھو اور علماء کا کلام سنو۔ کیونکہ اللہ تعالی نور حکمت سے مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے جس طرح مردہ زمین کو بارش کے پانی سے زندہ کر دیتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;ایک اور حدیث پاک میں ہے۔ <strong>كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ كُلِّ حَكِيمٍ، وَإِذَا وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا</strong>”دانائی کی بات عقلمند آدمی کی گویاگمشدہ چیز ہے وہ اسے جہاں ملتی ہے حاصل کر لیتا ہے“&nbsp;</p>



<p>لوگوں کی زبانوں پر جاری کلمہ (لا الہ الا الله محمد رسول الله) لوح محفوظ سے نازل ہوا ہے۔ لوح محفوظ عالم الجبروت(عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں) کے درجات سے ہے۔ اور&nbsp;جو کلمہ واصلین کی زبانوں پر جاری ہے وہ لوح اکبر سے بلا واسطہ زبان قدرت کے ذریعے قربت میں نازل ہوا ہے۔ ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ اسی لیے اہل تلقین (مرشد کامل) کی تلاش فرض ہے جیسا کہ حضور ﷺنے فرمایا</p>



<p><strong>طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ</strong>علم کا حصول ہر مسلمان پر فرض ہے“&nbsp;</p>



<p>حدیث پاک میں علم سے مراد علم معرفت و قربت ہے۔ باقی علوم ظاہرہ کی ضرورت اتنی ہے کہ انسان فرائض کوبجالا سکے جیسا کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p><strong>حياةُ القلبِ علمٌ فادَّخرهُ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وموت القلب جهلٌ فاجتَنِبْهُ</strong></p>



<p><strong>وخيرُ مراددِكَ التَّقوَى فَزِدْهُ&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; كفاكَ بماوَعَظتُكَ فاتَّعِظْهُ</strong></p>



<p>&nbsp;دل کی زندگی علم ہے۔ اسے ذخیرہ کرلے۔ اور دل کی موت جہالت ہے&nbsp;اس سے دامن بچالے۔</p>



<p>&nbsp;تیری بہترین مراد تقوی ہے اس میں اور اضافہ کر۔ میری یہ نصیحت تیرے لیے کافی ہے پس اسے پلےباندھ لے۔&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى</strong> (البقرہ: 197)</p>



<p>اور سفر کا توشہ تیار کرو اور سب سے بہتر توشہ تو پرہیز گاری ہے“&nbsp;</p>



<p>اللہ تعالی کی رضا اس میں ہے کہ بندہ قربت کی طرف سفر کرے اور&nbsp;</p>



<p>در جات (ثواب( کی طرف ملتفت نہ ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ</strong> (الکہف :30) بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے“&nbsp;اور فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى </strong>(الشوری:23) آپ فرمائیے میں نہیں مانگتا اس(دعوت حق پر) کوئی&nbsp;معاوضہ بجز قرابت کی محبت کے</p>



<p>&nbsp;ایک قول کے مطابق المودة فی القربی کا معنی عالم قربت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔) ہے۔&nbsp;</p>



<p>      <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ46 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>      </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&amp;linkname=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2584%25d9%2582%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25845%2F&#038;title=%D8%AA%D9%88%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AA%D9%84%D9%82%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%845" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/" data-a2a-title="توبہ اور تلقین کا بیان فصل5"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%aa%d9%88%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%84%d9%82%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%845/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اهل تصوف کے بیان میں فصل6</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 27 Dec 2021 16:11:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[باطنی توبہ]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف کی وجہ تسمیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفاء سری]]></category>
		<category><![CDATA[صفاء قلبی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4907</guid>

					<description><![CDATA[اہل تصوف کی وجہ تسمیہ یا تو یہ ہے کہ وہ نور معرفت و توحید سے اپنے باطن کا تصفیہ کرتے ہیں۔ یا یہ کہ وہ اصحاب صفہ (وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اہل تصوف کی وجہ تسمیہ یا تو یہ ہے کہ وہ نور معرفت و توحید سے اپنے باطن کا تصفیہ کرتے ہیں۔ یا یہ کہ وہ اصحاب صفہ (وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے اسلامی تعلیمات کا بہت سا حصہ انہیں کے ذریعے روایت ہوا) جیسی (فقیرانہ) زندگی گزارتے ہیں یا پھر یہ کہ وہ صوف (اون) کا لباس زیب تن کرتے ہیں۔ مبتدی(وہ سالک&nbsp; جو ابھی راہ سلوک کی ابتداء میں ہو) &nbsp;بھیڑ کی اون کا لباس پہنتا ہے۔ متوسط بکری کی اون کا اور منتہی(وہ سالک&nbsp; جو راہ سلوک کی انتہاء &nbsp;پر پہنچ چکا ہو) پشم کا لباس پہنتا ہے۔ حسب مراتب احوال ان کے باطن کی حالت بھی ایسی ہی ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں بھی باہم تفاوت ہوتا ہے۔ تفسیر مجمع البيان کے مصنف لکھتے ہیں : اہل زہد کو چاہیئے کہ وہ لباس اور کھانے پینے میں سخت چیزوں کا استعمال کریں۔ اصل معرفت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ نرم چیزیں استعمال میں لائیں۔ لوگوں کا اپنے مراتب و منازل&nbsp;سے فروتر ہو کر رہنا سنت ہے تاکہ کسی طریقے میں حد سے تجاوز نہ ہو جائے۔ اہل تصوف کی چوتھی وجہ تسمیہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت احدیت ( اللہ تعالی کی ذات یکتا) میں پہلی صف کے لوگ ہیں۔&nbsp;</p>



<p>تصوف کا لفظ چار حروف پر مشتمل ہے۔ تاء ، صاد، وا ؤ، فا۔&nbsp;</p>



<p>تا:۔توبہ کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں ، ظاہر کی توبہ اور باطن کی توبہ ظاہر کی توبہ یہ ہے کہ انسان اپنے تمام ظاہری اعضاء کے ساتھ گناہوں اور اخلاق رذیلہ سے اطاعت و انقیاد کی طرف لوٹ آئے اور قولاً و فعلاً مخالفات کو ترک&nbsp;کر کے موافقات کو اپنائے۔&nbsp;</p>



<p>باطنی توبہ یہ ہے کہ انسان باطن کے تمام اطوار کے ساتھ مخالفات باطنیہ سے موافقات کی طرف آجائے اور دل کو صاف کر لے۔ جب اخلاق ذمیمہ ، اخلاق حسنہ میں تبدیل ہو جائیں تو تاء کا مقام( اس سے مراد بندے کا دہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا) مکمل ہو جاتا ہے۔ اور ایسے شخص کو تائب کہتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;صاد :۔&nbsp;صفاء کو ظاہر کرتا ہے۔صفاکی دو قسمیں ہیں۔ صفاء قلبی اور صفاء سری۔&nbsp;</p>



<p>صفاء قلبی تو یہ ہے کہ انسان بشری کدورتوں سے اپنے دل کو صاف کر کے مثلا کثرت اكل وشرب، کثرت کلام، کثرت نوم جیسی دل سے تعلق رکھنے والی کدورتیں اور اسی طرح ملاحظات دنیوی مثلا زیادہ کھانے کی فکر ، زیادہ جماع، اہل و عیال کی زیادہ محبت اور اسی طرح کی دوسری نفسانی کدورتیں جن سے اللہ تعالی نے روک دیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>ان کدورتوں سے دل کو صاف کرنا ملازمت ذکر بغیر ممکن نہیں۔&nbsp;</p>



<p>شروع میں مرشد اپنے مرید کو ذکر بالجبر کی تلقین کرے تا کہ وہ مقام حقیقت تک پہنچ جائے جیسا کہ رب قدوس کا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ</strong></p>



<p>(الانفال:2( صرف وہی سچے ایماندار ہیں کہ جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ&nbsp;تعالی کا تو کانپ اٹھتے ہیں ان کے دل“&nbsp;</p>



<p>یعنی ان کے دلوں میں خشیت پیدا ہو جاتی ہے تو ظاہر ہے خشیت صرف اسی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے کہ دل غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائیں۔ اور ذکر خداوندی سے اس کا زنگ اتر جائے۔ خشیت کے بعد خیر وشر جوانی تک مخفی ہوتا ہے اس کی صورت دل پر نقش ہو جاتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے عالم نقش اٹھاتا ہے اور عارف اسےصیقل کرتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>رہی صفائے سری تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ماسوا اللہ کو دیکھنے سے اجتناب کرے اور اس کو دل میں جگہ نہ دے۔ اور یہ وصف اسمائے توحید( اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں۔ (<strong>لا الہ،</strong><strong> </strong><strong>الا</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>،هو،حی</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>واحد،</strong><strong> </strong><strong>عزیز،</strong><strong> </strong><strong>ودود</strong>) فر عی چھ نام ۔ ( <strong>حق ،قھار،</strong><strong> </strong><strong>قیوم</strong><strong> </strong><strong>،</strong><strong> </strong><strong>وھاب،</strong><strong> </strong><strong>مهیمن،</strong><strong> </strong><strong>باسط</strong>) کا لسان باطن سے مسلسل ورد کرنے سے حاصل ہو تا ہے۔ جب یہ تصفیہ حاصل ہو جائے توصاد کا مقام پوراہو جاتا ہے۔</p>



<p>واؤ :۔واؤ ولایت کو ظاہر کرتی ہے۔ اور ولایت تصفیہ پر مرتب ہوتی ہے۔ جیسا&nbsp;کہ الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ </strong>(یونس:62( خبردار ! بیشک اولیاء اللہ کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین&nbsp;ہوں گے“&nbsp;</p>



<p>ولایت کے نتیجے میں انسان اخلاق خداوندی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>‌تَخَلَّقُوا ‌بِأَخْلَاقِ ‌اللَّهِ تَعَالَى</strong> اخلاق خداوندی کو اپنالو“&nbsp;</p>



<p>یعنی صفات خداوندی سے متصف ہو جاؤ۔ ولایت میں انسان صفات بشری کا چولہ اتار پھینکنے کے بعد صفات خداوندی کی خلعت زیب تن کر لیتا ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِذا أَحبَبْتُ عَبْداً كنتُ لهُ سَمعاً وبصراً ويداً ولساناً ، فبِي يسمَعُ وبِي يُبْصرُ وبِي يَبْطشُ وبِي ينطِقُ وبي يَمشيِ</strong> جب میں کسی بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کے کان،&nbsp;آنکھ ، ہاتھ اور زبان بن جاتا ہوں۔ (اس طرح) وہ میری سماعت کے ذریعے سنتا ہے۔ میری بصارت کے ذریعے دیکھتا&nbsp;ہے۔ میری قوت سے پکڑتا ہے میری زبان قدرت سے گفتگو&nbsp;کرتا ہے اور میرے پاؤں سے چلتا ہے&nbsp;</p>



<p>جو آدمی اس مقام پر فائز ہو جاتا ہے وہ ماسوای اللہ سے کٹ جاتا ہے ۔&nbsp;</p>



<p>جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ</strong> (الاسراء:81(&nbsp;</p>



<p>اور آپ (اعلان فرما دیجئے آگیا ہے حق اور مٹ گیا ہے&nbsp;باطل۔ بیشک باطل تھاہی مٹنے والا۔</p>



<p>یہاں واؤ کا مقام مکمل ہو جاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>یہ حرف فناء فی اللہ کو ظاہر کرتا ہے۔یعنی غیر سے اللہ تعالی میں فناء ہو جانا جب بشری صفات فناء ہو جاتی ہیں تو خدائی صفات باقی رہ جاتی ہیں۔ اور خدائی صفات نہ فناء ہو تی ہیں نہ فساد کا شکار اور نہ زائل ہوتی ہیں۔&nbsp;</p>



<p>پس عبد فانی رب باقی اور اس کی رضا کے ساتھ باقی بن جاتا ہے اور بنده فانی کا دل سر ربانی اور اس کی نظر کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلا وَجْهَهُ</strong>&#8221; (القصص:88(&nbsp;ہر چیزہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے&nbsp;۔</p>



<p>یہاں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اللہ کی رضا اور خوشنودی لی جائے۔ یعنی ساری چیزیں فانی ہیں سوائے ان اعمال صالحہ کے جن کو صرف اللہ تعالی کی رضاء اور خوشنودی کے لیے سرانجام دیا جائے۔ پس وہ راضی برضا ہو جاتا&nbsp;ہے اور یہی بقا ہے۔&nbsp;</p>



<p>عمل صالح کا نتیجہ حقیقت انسان کی زندگی ہے جسے طفل معانی (انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) کہتے&nbsp;ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ </strong>(فاطر:10( اسی کی طرف چڑھتا ہے پاکیزہ کلام اور نیک عمل پاکیزہ کلام کو بلند کر تاہے&nbsp;۔</p>



<p>ہر وہ کام جو غیر اللہ کے لیے ہو شرک ہے اور شرک کا مرتکب ہلاک ہونے والا ہے۔ جب انسان فناء فی اللہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو اسے عالم قربت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔) میں بقا حاصل ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ </strong>(القمر:55(</p>



<p>میری پسندیدہ جگہ میں عظیم قدرت والے بادشاہ کے پاس&nbsp;(بیٹھے ( ہوں گے“ عالم لاہوت(روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ&nbsp;نہیں پہنچ سکتے) میں یہی انبیاء و اولیاء کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جیسا کہ اللہ&nbsp;تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ </strong>(التوبہ:119( اور ہو جاسچے&nbsp;لوگوں کے ساتھ“ جب حادث(مخلوق) قدیم سے مل جاتا ہے تو حادث کا اپنا وجود نہیں رہتا کسی&nbsp;شاعر نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>‌صِفَاتُ ‌الذَّات والأَفْعَالِ طُرًّا&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; قَدِيمَاتٌ مَصُونَاتُ ‌الزَّوالِ</strong></p>



<p>اللہ تعالی کی تمام صفات اور افعال قدیم ہیں جو زوال پذیر ہونے سے&nbsp;محفوظ ہیں۔&nbsp;</p>



<p>جب فناء(بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا) تمام ہو جائے تو صوفی حق&nbsp;کے ساتھ ہمیشہ کیلئے باقی بن جاتا&nbsp;ہے، قرآن کریم میں ہے :&nbsp;</p>



<p><strong>أَصْحَاب الْجَنَّة هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ </strong>(البقرہ:82( وہی جنتی ہیں۔ وہ اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں“&nbsp;</p>



<p>     <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ56 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>     </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2587%25d9%2584-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25846%2F&#038;title=%D8%A7%D9%87%D9%84%20%D8%AA%D8%B5%D9%88%D9%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%846" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/" data-a2a-title="اهل تصوف کے بیان میں فصل6"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%87%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%846/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ذکر و اذ کار کے بارے میں فصل7</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%88-%d8%a7%d8%b0-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%847/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%88-%d8%a7%d8%b0-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%847/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 27 Dec 2021 00:13:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر خفی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر خفی الخفی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر روحی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر سری]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر قلبی]]></category>
		<category><![CDATA[ذکر نفس]]></category>
		<category><![CDATA[لسانی ذکر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4904</guid>

					<description><![CDATA[اللہ تعالی ذکر کرنے والوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ (البقرہ:198( اور ذکر کرو اس کا جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی“  یعنی اللہ تعالی کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہارے <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%88-%d8%a7%d8%b0-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%847/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اللہ تعالی ذکر کرنے والوں کی رہنمائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے۔ <strong>وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ </strong>(البقرہ:198( اور ذکر کرو اس کا جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی“ </p>



<p>یعنی اللہ تعالی کا اس طرح ذکر کرو جس طرح اس نے تمہارے ذکر کے&nbsp;مراتب کی طرف تمہاری رہنمائی فرمائی۔ نبی کریم ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>فضَلُ ما أقولُ أَنا ومَا قالَهُ النَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لا إله إِلاّ الله</strong> بہترین کلمہ وہ ہے جس کا ورد میں کر تا ہوں اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کرتے رہے ہیں۔ وہ کلمہ لا الہ الا اللہ ہے۔ </p>



<p>ذکر کے ہر مقام کا ایک خاص مرتبہ ہے خواہ ذ کر جہری ہو یا خفی ہو۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ<strong> </strong>اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی<strong> </strong>زبانی ذکر کی طرف رہنمائی کی ہے۔ پھر ذکر نفس ہے پھر ذکر قلب ، ذکر روح ، ذ کر سر، ذکر خفی اور آخر میں ذکر اخفی الخفی کا مرتبہ ہے۔</p>



<p> <strong>لسانی ذکر</strong> :۔ گویا دل کو بھولا ہوا سبق یاد کرانا ہے۔ وہ اللہ تعالی کا ذکر بھول چکا تھا اس ذکر کے ساتھ اس کو یہ بھولا ہو اسبق یاد آجائے گا۔ </p>



<p><strong>ذکرنفس</strong> :۔یہ ذکر سنائی نہیں دیتا اور اس میں حرف و صوت پائے جاتے ہیں ہاں یہ باطن میں حس و حرکت کے ذریعے سنائی دیتا ہے۔</p>



<p> <strong>ذکر قلبی</strong> :۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ دل اپنی تہہ میں اللہ کے جلال و جمال کو ملاحظہ کرے۔ </p>



<p><strong>ذکر روحی</strong> :۔ صرف روح ذکر کرتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تجلیات(غیبی انوار جو دلوں پر منکشف ہوتے ہیں) صفات کے انوار مشاہدہ میں آنے لگتے ہیں۔</p>



<p><strong>ذکرسری</strong> :۔ اس سے مراد اسرارالہٰی کے مکاشفہ(اتصال یا تعلق باللہ کا نام مکاشفہ ہے۔ مکاشفہ سے چھپے راز عیاں ہو جاتے ہیں اور انسان باطن کی آنکھ سے سب کچھ دیکھنے لگتا ہے) کے لیے مراقبہ کرتا ہے۔ </p>



<p><strong>ذکر خف</strong>ی :۔ مقصد صدق میں حجال ذات احدیت ( اللہ تعالی کی ذات یکتا) کے انوار کا معائنہ ذکر خفی ہے۔ </p>



<p><strong>ذکر اخفی الخفی</strong> :۔ حق الیقین کی حقیقت پر نظر رکھنا ذکر اخفی الخفی ہے ۔ اس ذکر سے سوائے اللہ تعالی کے کوئی مطلع نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ </p>



<p><strong>فَإِنَّهُ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى </strong>(طہ:7(&nbsp;وہ تو بلا شبہ جانتا ہے رازوں کو بھی اور دل کے بھیدوں کو بھی“&nbsp;</p>



<p>ذکر کی یہ صورت تمام عالموں تک پہنچنے والی اور تمام مقاصد کو پانے والی ہے یادرہے کہ ایک اور روح بھی ہے۔ اور کی یہ قسم تمام ارواح سے زیادہ لطیف ہے۔ اسی دوسری روح کا نام طفل معانی(انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) ہے۔ یہ اللہ تعالی کا ایک خاص عطیہ ہے جو&nbsp;بندے کو ان اطوار کے ذریعے اللہ تعالی کی طرف بلاتا ہے۔ عرفاء فرماتے ہیں کہ یہ روح ہر ایک کو نہیں ملتی بلکہ صرف خواص کو دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔&nbsp;<strong>يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ </strong>(غافر:15( نازل فرماتا ہے وہی اپنے فضل سے اپنے بندوں میں سے&nbsp;جس پر چاہتا ہے&nbsp;۔</p>



<p>یہ روح ہمیشہ عالم قدرت میں رہتی ہے اور عالم حقیقت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت(یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔) کانام بھی دیا جاتا ہے۔) کا اس طرح مشاہدہ(دل کی آنکھ سے حق کو دیکھنا) کرتی ہے کہ اس کی نظر غیر کی طرف کبھی ملتفت نہیں ہوتی جیسا کہ حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الدُّنْيا حَرَامٌ على أهْلِ الآخِرَةِ والآخِرَةُ حَرَامٌ عَلى أهْلِ الدُّنْيا والدُّنْيا والآخِرَةُ ‌حَرَامٌ ‌على ‌أهْلِ ‌الله</strong> دنیا اہل آخرت پر حرام ہے اور آخرت اہل دنیا پر حرام۔ اور یہ دونوں (دنیاو آخرت) اللہ والوں پر حرام ہے۔</p>



<p>اللہ تعالی تک پہنچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جسم صبح و شام شریعت مطہره کی پابندی کر کے صراط مستقیم پر گامزن رہے طالبان حقیقت پر فرض عین ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کی یاد میں رہیں جیسا کہ اللہ کریم کا ارشاد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ </strong>(آل عمران:191)وہ عقل مند جو یاد کرتے رہتے ہیں اللہ تعالی کو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اور غور کرتے رہتے ہیں&nbsp;۔</p>



<p>آیت کریم میں قیام سے مراد دن ہے قعودسے مراد رات ہے اور جنوب سے مراد یہ ہے کہ قبض ، بسط ، صحت ، بیماری، غنی، فقر ،تنگی و ترشی ہر حالت میں اللہ تعالی کو یاد کرتے رہتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>    <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ61 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>    </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&amp;linkname=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b0-%25da%25a9%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2592-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25847%2F&#038;title=%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B0%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%92%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D9%81%D8%B5%D9%847" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%88-%d8%a7%d8%b0-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%847/" data-a2a-title="ذکر و اذ کار کے بارے میں فصل7"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b0%da%a9%d8%b1-%d9%88-%d8%a7%d8%b0-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%b5%d9%847/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شرائط ذکر کا بیان فصل8</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%848/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%848/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 27 Dec 2021 00:01:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[حیات ابدی]]></category>
		<category><![CDATA[حیات قلبی]]></category>
		<category><![CDATA[روحانیت مصطفی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4900</guid>

					<description><![CDATA[ذکر کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اچھی طرح وضو کرے۔ ذکر کرتے ہوئے (نفی و اثبات کی) ضرب سخت لگائے اور آواز میں قوت پیدا کرے تاکہ انوار ذکر اس کے باطن میں پہنچ جائیں۔ اور ان انوار <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%848/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>ذکر کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اچھی طرح وضو کرے۔ ذکر کرتے ہوئے (نفی و اثبات کی) ضرب سخت لگائے اور آواز میں قوت پیدا کرے تاکہ انوار ذکر اس کے باطن میں پہنچ جائیں۔ اور ان انوار کے ذریعے اس کا دل حیات ابدی اخروی حاصل کرلے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ </p>



<p><strong>لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَى </strong>(الدخان:56(&nbsp;نہ چکھیں گے وہاں موت کاذا ئقہ بجز اس پہلی موت کے“&nbsp;</p>



<p>اسی طرح حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>الانبياء</strong><strong> </strong><strong>والا</strong><strong> </strong><strong>ولياء</strong><strong> </strong><strong>يصلون</strong><strong> </strong><strong>في</strong><strong> </strong><strong>قبورهم</strong><strong> </strong><strong>كما</strong><strong> </strong><strong>يصلون</strong><strong> </strong><strong>في</strong><strong> </strong><strong>بيوتهم</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>&#8211; </strong>انبیاء و اولیاء اپنی قبروں میں اسی طرح نماز ادا کرتے ہیں جس طرح اپنے گھروں میں نماز اداکرتے تھے“&nbsp;</p>



<p>یعنی وہ ہمیشہ اپنے رب سے مناجات کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ظاہری نماز مراد نہیں ہے۔ جس میں قیام ۔ رکوع، سجود اور قعدہ ہو تا ہے بلکہ اس سے مرادبندہ کا اپنے رب سے مناجات کرنا اور رب کی طرف سے مناجات کے صلہ میں اپنی معرفت عطا کرتا ہے۔ پس عارف اپنی قبر میں احرام باندھے اپنے رب کی طرف محو سفر رہتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>إِنَّ الْمُصَلِّيَ ‌يُنَاجِي ‌رَبَّهُ </strong>نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے“&nbsp;</p>



<p>پس جس طرح زندہ دل نہیں سوتا اسی طرح وہ مرتا بھی نہیں&nbsp;ہے تو حضور ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا ‌يَنَامُ ‌قَلْبِي </strong>میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرادل نہیں سوتا۔</p>



<p>&nbsp;<strong>من</strong><strong> </strong><strong>مات</strong><strong> </strong><strong>في</strong><strong> </strong><strong>طلب العلم</strong><strong> </strong><strong>بعث</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>في</strong><strong> </strong><strong>قبره</strong><strong> </strong><strong>ملكين</strong><strong> </strong><strong>يعلمانه</strong><strong> </strong><strong>علم</strong><strong> </strong><strong>المعرفة</strong><strong> </strong><strong>وقام</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>قبره</strong><strong> </strong><strong>عالما</strong><strong> </strong><strong>وعارفا</strong>&nbsp;</p>



<p>جو علم حاصل کرتے ہوئے فوت ہو جائے اللہ تعالی اس کی قبر میں دو فرشتے بھیجتا ہے جو اسے علم معرفت کی تعلیم دیتے ہیں اور ایسا شخص اپنی قبر سے عالم اور عارف بن کر اٹھے گا“&nbsp;</p>



<p>دو فرشتوں سے مراد نبی کریم ﷺاور ولی علیہ الرحمتہ کی روحانیت ہے کیونکہ فرشتے عالم معرفت میں داخل نہیں ہو سکتے اور نہ وہ تعلیم دے سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>کم</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>رجل</strong><strong> </strong><strong>مات</strong><strong> </strong><strong>جاهلا</strong><strong> </strong><strong>وقام</strong><strong> </strong><strong>يوم</strong><strong> </strong><strong>القيامة</strong><strong> </strong><strong>عالما</strong><strong> </strong><strong>و</strong><strong>ع</strong><strong>ارفا</strong><strong>. </strong><strong>وكم</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>رجل</strong><strong> </strong><strong>مات</strong><strong> </strong><strong>عالما</strong><strong> </strong><strong>وقام</strong><strong> </strong><strong>يوم</strong><strong> </strong><strong>القيامة</strong><strong> </strong><strong>جاهلا</strong><strong> </strong><strong>ومفلسا</strong><strong></strong></p>



<p>کتنے ہی ایسے آدمی ہیں جو جاہل مریں گے لیکن قیامت کے دن عالم اور عارف بن کر اٹھیں گے اور کتنے ہی عالم مرنے والے قیامت کے دن جاہل اور کنگال بن کر اٹھیں گے“ اسی طرح الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : <strong>أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ </strong>(الاحقاف :20 )</p>



<p>تم نے ختم کر دیا تھااپنی نعمتوں کا حصہ اپنی دنیوی زندگی میں اور خوب لطف اٹھا لیا تھا تم نے ان سے۔ آج تمہیں رسوائی کا عذاب دیا جائے گابو جہ اس گھمنڈ کے جو تم کیا کرتے تھے“ حضور نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے۔ <strong>إِنَّمَا ‌الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ </strong>،&nbsp;اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے“ حضورﷺکی ایک اور حدیث مبارکہ ہے۔ <strong>إِنَّ ‌نِيَّةَ ‌الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَنِيَّةَ ‌الْفَاسِقِ شَرٌّ مِنْ عَمَلِهِ </strong>مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور فاسق کی نیت اس کے عمل سے بھی بری ہے“&nbsp;</p>



<p>کیونکہ نیت اعمال کی بنیاد ہے جیسا کہ ابھی حدیث گزری ہے۔ ظاہر ہے صحیح بنیاد ہوگی تو اس پر جو عمارت کھڑی ہوگی وہ بھی صحیح ہوگی اور اگر بنیاد میں فساد ہو گا تو پوری عمارت میں یہ فساد آئے گا۔ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے&nbsp;</p>



<p><strong>مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ </strong>(الشوری:20 )</p>



<p>جو طلب گار ہو آخرت کی کھیتی کا تو ہم اپنے فضل و کرم سے اس کی کھیتی کو اور بڑھا دیں گے اور جو شخص خواہشمند ہے (صرف) دنیا کی کھیتی کا ہم اسے دیں گے اس سے اور نہیں ہو گا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ۔</p>



<p>&nbsp;انسان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس دنیا میں اہل تلقین (مرشد) سے&nbsp;حیات قلبی اخروی طلب کرے۔ قریب ہے کہ وقت گزر جائے۔ حضور ﷺ <strong>‌مَنْ ‌طَلَبَ ‌الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ فَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مَنْ ‌نَصِيبٍ</strong></p>



<p>جس نے اعمال آخرت کے ذریعے دنیا طلب کی اس کا&nbsp;آخرت کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں ہو گا&nbsp;۔</p>



<p>دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ جو یہاں نہیں بوئے گاوہاں کچھ حاصل نہیں کر&nbsp;پائے گا یہاں کھیت سے مراد وجود کی زمین ہے آفاق کی نہیں۔</p>



<p>   <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ64 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>   </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&amp;linkname=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b4%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25848%2F&#038;title=%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D8%A6%D8%B7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%848" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%848/" data-a2a-title="شرائط ذکر کا بیان فصل8"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a6%d8%b7-%d8%b0%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%848/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دیدار الہی کا بیان فصل9</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%af%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%849/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%af%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%849/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 26 Dec 2021 23:47:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سر الاسرار]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا میں دیدار دل کی آنکھ سے]]></category>
		<category><![CDATA[دیدار الہی]]></category>
		<category><![CDATA[دیدارآخرت میں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4897</guid>

					<description><![CDATA[دیدار الہی کی دو صورتیں ہیں۔ &#160;(1) آخرت میں آئینہ دل کی وساطت کے بغیر اللہ تعالی کے جمال کا دیدار کرنا اور (2) دنیا میں آئینہ دل پر صفات خداوندی کا عکس ملاحظہ کرنا۔ دنیا میں دیدار دل کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%af%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%849/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>دیدار الہی کی دو صورتیں ہیں۔</p>



<p>&nbsp;(1) آخرت میں آئینہ دل کی وساطت کے بغیر اللہ تعالی کے جمال کا دیدار کرنا اور</p>



<p>(2) دنیا میں آئینہ دل پر صفات خداوندی کا عکس ملاحظہ کرنا۔ دنیا میں دیدار دل کی آنکھ سے ہے۔ اور اس میں صفات خداوندی کا عکس آئینہ دل پر پڑتا ہے تو انسان دل کی آنکھ سے اس عکس کا مشاہدہ کر تا ہے۔ رب قدوس کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى </strong>(النجم :11)نہ جھٹلایادل نے جو دیکھا ( چشم مصطفی) نے“&nbsp;</p>



<p>نبی کریم ﷺکا ارشاد گرامی ہے۔ <strong>المُؤْمِنُ مِرْآةُ المُؤمِن</strong> مؤمن مؤمن کا آئینہ ہے </p>



<p>پہلے مؤمن سے مراد بندہ مومن کا دل ہے جبکہ دوسرے مؤمن سے&nbsp;مراد ذات باری تعالی ہے۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ </strong>(الحشر: 23 )سلامت رکھنے والا ، اما ن بخشنے والا نگہبان“&nbsp;</p>



<p>جس نے دنیا میں صفات خداوندی کا دیدارکر لیاوہ بلا کیف آخرت میں اللہ تعالی کی ذات کے دیدار کا شرف حاصل کرے گا۔ رہے وہ دعوے جو اولیاء&nbsp;کرام علیہم الرحمۃ نے دیدار خداوندی کے بارے کیے ہیں۔ مثلا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا(<strong>رَاَیَ قَلْبِیْ رَبِّیْ بِنُوْرِ رَبِّیْ</strong>) میرے دل نے میرے رب کا دیدار کیا۔ یعنی میرے رب کے نور کے ذریعے ۔ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ نے فرمایا۔&nbsp;(<strong>لَمْ اَعْبُدْرَبّا کم اَرَاہُ</strong>)</p>



<p>میں ایسے خدا کی عبادت نہیں کروں گا جسے میں نے دیکھانہ ہو۔ ان تمام دعوؤں کو مشاہدہ صفات پر محمول کریں گے۔ پس جو شخص شیشے میں سورج کا عکس دیکھے وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے سورج دیکھا۔ اسی طرح اللہ تعالی اپنے نور کو باعتبار صفات مشکوة سے تشبیہ دیتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے&nbsp;</p>



<p><strong>كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ </strong>(النور :35)جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ ہو“&nbsp;</p>



<p>صوفياء فرماتے ہیں طاق سے مراد بندہ مو من کادل ہے اور المصباح یعنی چراغ باطن کی آنکھ ہے۔ یہی روح سلطانی (اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت اور عالم جبروت کے در میان ارواح کو عطا فرمایا )ہے اور شیشے سے مراد جان ہے اس کی صفت دریت ہے جو شدت نورانیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پھر اللہ تعالی اس نور کے معدن و ماخذ کا تذکرہ فرماتا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ </strong>(النور :35)جوروشن کیا گیا ہے برکت والے زیتون کے درخت سے‘ &#8216;&nbsp;</p>



<p>یہاں درخت سے مراد تلقین کا درخت ہے (بوٹی جو مرشد دل کی زمین میں بوتا ہے) توحید خاص کا صدور زبان قدس سے بلاواسطہ ہوتا ہے جس طرح حضور ﷺکاقرآن کریم سے اصل تعلق ہے۔ پھر یہ قرآن حضرت جبرئیل علیہ السلام کی وساطت سے تدریجاً نازل ہو تا ہے۔ دوبارہ نزول بذریعہ جبرائیل عوام کے&nbsp;فائدہ کے لیے تھا۔ اور اس لیے بھی کہ کافر و منافق اس کا انکار نہ کر سکیں۔ اس پر دلیل رب قدوس کا یہ فرمان مبارک ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ </strong>(النمل :6&nbsp;)اور بیشک آپ کو سکھایا جاتا ہے قرآن حکیم بڑے داناسب&nbsp;کچھ جاننے والے کی جانب سے۔</p>



<p>&nbsp;اسی لیے حضورﷺپہلے ہی ایک قانون مرتب فرماتے اور اس کے بعد&nbsp;جبرائیل امین وحی لیکر حاضر ہوتے۔ حتی کہ یہ آیت کر یمہ نازل ہوئی۔ <strong>وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُقْضَى إِلَيْكَ وَحْيُهُ </strong>(طہ : 114) اور نہ عجلت کیجئے قرآن<strong> </strong><strong>کے</strong><strong> </strong>پڑھنے میں اس سے پہلے کہ پوری&nbsp;ہو جائے آپ کی طرف اس کی وحی“&nbsp;یہی وجہ تھی کہ معراج کی رات جبرائیل امین سدرة المنتہی پر رک گئے&nbsp;اور ایک قدم بھی آگے نہ بڑھا سکے۔ اللہ تعالی نے درخت کی توصیف کی اور فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ </strong>(النور :35)جو نہ شر قی ہے نہ غربی ہے۔</p>



<p>اسے حدوث ، عدم ، طلوع و غروب معارض نہیں آتے بلکہ یہ درخت ازلی ہے کبھی زائل نہیں ہوا۔ جس طرح کہ اللہ تعالی واجب الوجود ہے۔ قدیم&nbsp;ہے، از لی اور ابدی ہے۔ کیونکہ یہ صفات اللہ تعالی کا نور اور تجلیات(غیبی انوار جو دلوں پر منکشف ہوتے ہیں) ہیں۔ اور یہ&nbsp;ایک نسبت ہے جو اس کی ذات سے قائم ہے۔ ناممکن نہیں کہ نفس کا حجاب دل&nbsp;کے چہرے سے ہٹ جائے۔ دل ان انوار کے عکس سے زندہ ہو جائے اور روح اس طاق سے صفات حق کا مشاہدہ کرے۔ کیونکہ تخلیق کائنات کا اصل مقصد بھی اس مخفی خزانہ کو عیاں کرنا ہے جیسا کہ شعر گزر چکا ہے۔</p>



<p>رہاذات خداوندی کا دیدار تو وہ صرف آخرت میں ہو گا اور بلا واسطہ ہو گا۔ انشاء اللہ تعالی ۔ یہ دیدار باطن کی آنکھ سے ہوگا جسے طفل معانی(انسان حقیقی ، عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس میں اللہ نے پیدا کیا) بھی کہتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ </strong>(القيامۃ :22 )کئی چہرے اس روز ترو تازہ ہوں گے اور اپنے رب کے&nbsp;.(انوار و جمال) کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔&nbsp;</p>



<p>حضور&nbsp;ﷺکا ارشاد ہے:&nbsp;</p>



<p><strong>رأَيْتُ ‌رَبِّي في صُورَةِ ‌شَابٍّ أَمْرَدٍ</strong> میں نے اپنے رب کا ایک بے ریش نوجوان کی صورت میں&nbsp;دیدار کیا&nbsp;</p>



<p>شاید اس ارشاد گرامی میں نوجوان سے مراد طفل معانی ہو اور اللہ تعالی نے اس صورت میں آئینہ روح پربلا کسی واسطے کےتجلی فرمائی ہو۔ ورنہ اللہ تعالی تو صورت ، ماده، جسم کے خواص سے پاک ہے۔ صورت دکھائی دینے والے کے&nbsp;لیے آئینہ ہے۔ وہ نہ تو خودشیشہ ہے اور نہ خود دیکھنے والا ہے۔ پس اس نکتے کو سمجھنے کی کو شش کیجئے یہ بہت گہرا راز ہے۔ صفات کا انعکاس عالم صفات میں ہے عالم ذات میں نہیں کیونکہ عالم ذات میں تو سارے واسطے جل جاتے ہیں اورمحو ہو جاتے ہیں وہاں صرف اللہ تعالی کی ذات سماسکتی ہے کوئی غیر نہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>عرفت</strong><strong> </strong><strong>ربي</strong><strong> </strong><strong>برب</strong><strong>ی</strong><strong> </strong><strong>”</strong> میں نے اپنے رب کو ، اپنے رب کے ذریعے پہچانا‘‘ یعنی اپنے رب کے نور کے ذریعے۔ حقیقت انسان ہی اس نور کے لیے محرم ہے جیسا کہ حدیث قدسی ہے۔ <strong>الإنسانُ سرّي وأنا سرُّهُ</strong></p>



<p>انسان میرا راز ہے اور میں اس کا راز ہوں‘‘ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: ۔ <strong>أنا</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>الله</strong><strong> </strong><strong>تعالى</strong><strong> </strong><strong>والمؤمون</strong><strong> </strong><strong>منی</strong><strong> </strong>.&nbsp;میں اللہ تعالی سے ہوں۔ اور مؤ من مجھ سے ہیں“&nbsp;</p>



<p>ایک اور حدیث قد ی ہے۔ <strong>خلقت</strong><strong> </strong><strong>محمدا</strong><strong> </strong><strong>من</strong><strong> </strong><strong>نور</strong><strong> </strong><strong>وجهی</strong> میں نے محمد ﷺ کو اپنی ذات کے نور سے پیدا کیا&nbsp;</p>



<p>یہاں مقصود اللہ تعالی کی ذات مقدسہ ہے جو صفات رحمت میں تجلی&nbsp;فرماتی ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالی نے فرمایا :&nbsp;</p>



<p><strong>‌سَبَقَتْ ‌رَحْمَتِي غَضَبِي</strong>”میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی‘اللہ تعالی نے اپنے نبی حضرت محمد سے ارشاد فرمایا <strong>وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ </strong>(الانبیاء :107)&nbsp;</p>



<p>اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو ، مگر سراپا رحمت بنا کر سارے جہانوں کے لیے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا : <strong>قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ </strong>(المائدہ :15) بیشک تشریف لایا ہے تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے&nbsp;ایک نور اور ایک کتاب ظاہر کرنے والی‘‘ اللہ تعالی حدیث قدسی میں فرماتے ہیں۔ <strong>لَوْلَاكَ لَمَا ‌خَلَقْتُ ‌الْأَفْلَاكَ</strong></p>



<p>اگر آپ (مقصود ( نہ ہوتے، تو میں افلاک کو پیدا نہ کر تا&nbsp;۔</p>



<p>  <a href="http://www.sultan-ul-faqr-library.com/sirr-ul-asrar-urdu/#prettyPhoto" target="_blank" rel="noreferrer noopener">سرالاسرار ،شیخ عبد القادر جیلانی صفحہ68 سلطان الفقر پبلیکیشنز لاہور</a>  </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&amp;linkname=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25db%258c%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2584%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b5%25d9%25849%2F&#038;title=%D8%AF%DB%8C%D8%AF%D8%A7%D8%B1%20%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B5%D9%849" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%af%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%849/" data-a2a-title="دیدار الہی کا بیان فصل9"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%af%db%8c%d8%af%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%84%db%81%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b5%d9%849/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
