<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مکتوبات دفتر اول دار المعرفت &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C/%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D9%84-%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%B9%D8%B1%D9%81%D8%AA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Mon, 28 Aug 2023 00:52:18 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>مکتوبات دفتر اول دار المعرفت &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کمالات فناو بقا و سلوک و جذ بہ مکتوب نمبر 313 دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%81%d9%86%d8%a7%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%d9%88-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d9%88-%d8%ac%d8%b0-%d8%a8%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%81%d9%86%d8%a7%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%d9%88-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d9%88-%d8%ac%d8%b0-%d8%a8%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 15:24:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[سلسلہ نقشبندیہ میں ریاضتوں کو مضر جاننا]]></category>
		<category><![CDATA[طریقہ نقشبندیہ میں واقعات کا اعتبار نہیں]]></category>
		<category><![CDATA[کمالات فنا و بقا]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت موسوی اور ولایت محمدی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4707</guid>

					<description><![CDATA[مفصلہ ذیل سوالوں کےحل و جواب میں خواب محمد ہاشم کی طرف لکھا ہے۔ سوال اول: اصحاب کرام کے کمالات فناو بقا و سلوک و جذ بہ پر موقوف ہیں یانہیں؟ &#160;سوال دوم: طریقہ علیہ نقشبندیہ میں ریاضتوں سے منع <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%81%d9%86%d8%a7%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%d9%88-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d9%88-%d8%ac%d8%b0-%d8%a8%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>مفصلہ ذیل سوالوں کےحل و جواب میں خواب محمد ہاشم کی طرف لکھا ہے۔ سوال اول: اصحاب کرام کے کمالات فناو بقا و سلوک و جذ بہ پر موقوف ہیں یانہیں؟</p>



<p>&nbsp;سوال دوم: طریقہ علیہ نقشبندیہ میں ریاضتوں سے منع کرتے ہیں اور یہ ان کو مضر جانتے ہیں ۔ حالانکہ آنحضرت ﷺنے سخت ریاضتیں برداشت کی ہیں؟ سوال سوم: طر یقہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف کیوں منسوب ہے۔</p>



<p>سوال چہارم : آپ نے ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ طالب کو ولایت موسوی سے تصرف کے ساتھ ولایت محمدی میں نہیں لے جا سکتے اور دوسرے مکتوب میں لکھا ہے کہ تم کو ولایت موسوی&nbsp;سے ولایت محمدی میں لے آئے۔ ان دونوں باتوں میں موافقت کی وجہ کیا ہے۔</p>



<p>&nbsp;سوال پنجم: پیراہن پیش چاک پہنا چا ہئے یا پیراہن حلقہ گریبان؟</p>



<p>سوال ششم : نفی اثبات کے ذکر کے وقت جو دل سے کہا جاتا ہے لا کو اوپر کی طرف اور الله کو دائیں طرف کیوں لے جاتے ہیں اور مکتوب کے آخر میں آداب پیرکو بیان فرمایا ہے؟&nbsp;</p>



<p>اور نیز آپ نے فرمایا ہے کہ مکتوبات کے دفتر کو اسی مکتوب پر ختم کریں اور عدد تین سو تیره کی رعایت کریں کہ پیغمبران مرسل علیہم الصلوۃ والسلام اور اصحاب اہل بدر رضی اللہ تعالیٰ عنہم&nbsp;اجمعین کی تعداد کے موافق ہیں۔&nbsp;</p>



<p>نیز آپ نے فرمایا ہے کہ اس مکتوب کے خاتمہ میں وہ عرضداشتیں جو حضرت مخدوم زاده کلاں علیہ الرحمة والغفران نے لکھی ہیں ۔ لکھ دیں تا کہ پڑھنے والے دعا و فاتحہ کے ساتھ ان کو یاد کر یں۔&nbsp;</p>



<p>حمد وصلوة اور تبلیغ و دعوات کے بعد اخی محمد ہاشم کی خدمت میں فقیر عرض کرتا ہے کہ وہ سوال جن کا حل میرسیدمحب اللہ کے مکتوب میں طلب فرمایا تھا۔ ان کا جواب لکھ کر بھیجا گیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>سوال اول کا حاصل یہ ہے کہ قرب الہی جل شانہ، فنا فی اللہ اور بقاباللہ اور جذبہ اور سلوک کے تمام مقامات کے طے کرنے پر موقوف ہے اور اصحاب کرام جو حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کی ایک ہی صحبت سے تمام اولیاء امت سے افضل ہو گئے ۔ کیا یہ سیر وسلوک اور فنا و بقاء جو ان کو ایک ہی صحبت میں حاصل ہوا۔ وہ دوسرے تمام سیروسلوک سے افضل تھایا کیا اسلام لانے&nbsp;کے ساتھ ہی حضرت علیہ الصلوة والسلام کی توجہ و تصرف سے اصحاب کرام کو فناو بقا حاصل ہو جاتا تھا اور نیز ان کوسلوک و جذب کا علم حالا و مقاما حاصل تھایانہیں اور اگر حاصل تھا تو کس نام&nbsp;سے بیان کرتے تھے اور اگر سلوک وتصرف کا طریق نہ تھا تو ان کو بدعت حسنہ کیوں نہ ہیں۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چا ہئے کہ اس مشکل کا حل ہوناصحبت اور خدمت پر موقوف ہے۔ وہ بات جو اتنی&nbsp;مدت تک کسی نے نہیں کہی ۔ وہ ایک دفعہ لکھنے میں کس طرح آپ کی سمجھ میں آجائے گی لیکن چونکہ آپ نے سوال کیا ہے۔ اس واسطے جواب کا لکھنا ضروری ہے۔ پس اجمال کے طور پر اس کا حل کیا جاتا ہے۔ غور سے سنیں۔ وہ قرب جو فناو بقا اور سلوک و جذب پر موقوف ہے۔ وہ قرب ولایت ہے جس کے ساتھ اولیائے امت مشرف ہوئے ہیں اور وہ قرب جو حضرت خیر الانام علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے اصحاب کرام کو میسر ہوا تھا۔ وہ قرب نبوت تھا جو تبعیت (اتباع کے طور پر) اور وراثت کے طور پر آپ کو حاصل ہوا تھا۔ اس قرب میں نہ فناہے نہ بقانہ جذبہ ہے نہ سلوک اور یہ قرب کئی درجے قرب ولایت سے اعلی و افضل ہے کیونکہ یہ قرب قرب اصالت ہے اور وہ قرب قرب ظلیت ۔ <strong>شَتَّانِ</strong><strong> </strong><strong>مَا</strong><strong> </strong><strong>بَيْنَهُمَا</strong><strong> </strong>ان<strong> </strong>دونوں کے درمیان بہت فرق ہے۔&nbsp;لیکن ہر شخص کافہم اس معرفت کے مذاق(ادراک) تک نہیں پہنچتا۔ بلکہ ممکن ہے کہ خواص لوگ اس معرفت کے سمجھنے میں عوام&nbsp;کے ساتھ شریک ہوں ۔&nbsp;</p>



<p><strong>گر</strong><strong> </strong><strong>بوعلی</strong><strong> </strong><strong>نواء</strong><strong> </strong><strong>قلندر</strong><strong> </strong><strong>نواختے صوفی</strong><strong> </strong><strong>بدلے</strong><strong> </strong><strong>ہرآ</strong><strong> </strong><strong>نکہ</strong><strong> </strong><strong>بعالم</strong><strong> </strong><strong>قلندر</strong><strong> </strong><strong>است</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ گر بولی بجاتا قلندر کی بانسری&nbsp;بن جاتے صوفی سارے قلندر جہان کے</p>



<p>&nbsp;ہاں اگر قرب ولایت کی راہ سے کمالات نبوت کی بلندی پر عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالیٰ کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) واقع ہوتو پھر فناو بقا و&nbsp;جذب و سلوک ضروری ہیں کیونکہ یہ سب اس قرب کے مبادی(مقدمات) اور معدات (اسباب)ہیں اور اگر اس راستہ پر نہ چلیں اور قرب نبوت کی شاہراہ کو اختیار کریں تو پھرفنا و بقا و جذبہ و سلوک کی کچھ&nbsp;حاجت نہیں ۔ تمام اصحاب کرام رضی الله عنہم قرب نبوت کی شاہراہ پر چلے ہیں جس میں جذبہ و سلوک فنا و بقادرکارنہیں۔ اس معرفت کا بیان اس مکتوب(301) سے جو مولانا امان اللہ کی طرف لکھا گیا ہے معلوم کر لیں۔ .&nbsp;</p>



<p>اس فقیر نے ہر جگہ اپنے مکتوبات اور رسائل میں لکھا ہے کہ میرا معاملہ سلوک و جذ بہ کے ماسوا اور تجلیات(غیبی انوار دلوں پر ظاہر ہونا) وظہورات کے ماوراء ہے۔ اس سے مراد یہی قرب ہے۔ میں اپنے خواجہ قدس سرہ کی خدمت و ملازمت میں حاضر تھا کہ یہ دولت مجھ پر ظاہر ہوئی تھی اور میں نے اس عبارت میں آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ مجھ پر ایسا امر ظاہر ہوا ہے کہ سیرانفسی کو اس امر کے ساتھ وہ نسبت ہے جو سیر آفاقی کو سیرانفسی کے ساتھ ہے اور میں نے اپنے آپ میں اس سے&nbsp;زیادہ طاقت و قدرت نہ پائی کہ اس عبارت کے سوا کسی اور عبارت میں اس دولت کی تعبیر کر سکوں۔ چند سال کے بعد جب یہ معاملہ عجیبہ صاف طور پر ظاہر اورواضح ہوا تو مجملہ عبارات میں تحریر کیا گیا<strong> الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقّ</strong>ِ (الله تعالیٰ کے لیے حمد ہے جس نے ہم کو ہدایت دی اور اگر وہ ہم کو ہدایت نہ دیتا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے، بیشک ہمارے اللہ تعالیٰ کے رسول حق کے ساتھ آئے ہیں)۔&nbsp;پس فنا و بقا اور جذبہ اور سلوک کی عبارت محدث(نئی پیدا شدہ) اور مشائخ کی مخترعات (ایجادات)سے ہوگی۔ مولوی جامی علیہ الرحمت نفحات میں لکھتے ہیں کہ اول جس نے فنا و بقا کا دم مارا ہے حضرت ابوسعید خراز قدس سرہ ہیں۔</p>



<p>&nbsp;دوسرے سوال کا حاصل یہ ہے کہ طریقہ علیہ نقشبندیہ میں سنت کی متابعت کو لازم جانتے ہیں حالانکہ آنحضرت ﷺنے عجیب وغریب ریاضتیں اور سخت بھوک پیاس کی تکلیفیں برداشت کی ہیں اور اس طریقہ میں ریاضتوں سے منع کرتے ہیں بلکہ صورتوں کی کشف&nbsp;کے باعث ریاضتوں کو مضر جانتے ہیں۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ سنت کی متابعت میں ضررکا&nbsp;احتمال کیسے متصور ہوسکتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اے محبت کے نشان والے کسی نے کہا ہے کہ اس طریق میں ریاضتوں سے منع کرتے ہیں اور کہاں سے سنا ہے کہ ریاضتوں کومضر جانتے ہیں۔ اس طریق میں نسبت کی دائمی حفاظت کرنا اور سنت کی متابعت کو لازم پکڑنا اور اپنے احوال کے چھپانے میں کوشش کرنا اور تو سط حال اور درمیانی چال کا اختیار کرنا اور کھانے پینے اور پہننے میں حد اعتدال کو مدنظر رکھنا سخت ریاضتوں اور مشکل مجاہدوں سے جانتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ کہ عوام کالانعام ان امور کو ریاضت و مجاہد ہ نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک ریاضت و مجاہدہ صرف بھوکا رہنا ہی ہے اور ان کی نظر میں بہت بھوکا رہنا بڑا بھاری امر ہے کیونکہ ان چار پاؤں کے نزدیک کھانا نہایت ضروری اور اعلی مقصد ہے جن کا ترک کرنا ان کے نزدیک سخت ریاضت اور دشوار مجاہدہ ہے اور نسبت کی دوام محافظت اور سنت کی متابعت کا التزام وغیرہ وغیرہ عوام کی نظر میں کچھ قد رو اعتبار نہیں رکھتا تا کہ ان کے ترک کو منکرات سے جانیں اور ان امور کے حاصل کرنے کو ریاضتوں سے پہچانیں۔ پس اس طریق کےبزرگواروں پر لازم ہے کہ اپنے احوال کو چھپانے میں کوشش کریں اور اسی ریاضت کو ترک&nbsp;کر دیں جو عوام کی نظروں میں عظیم القدر اور خلق کی قبولیت اور شہرت کا باعث ہو کیونکہ شہرت&nbsp;میں آفت اور شرارت ہے۔&nbsp;</p>



<p>رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے <strong>بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ</strong><strong> </strong><strong>(</strong>آدمی کے لئے یہی شر کافی ہے کہ دین یا دنیا میں انگشت نما ہومگر جس کو الله تعال محفوظ رکھے۔)&nbsp;فقیر کے نزدیک ماکولات یعنی کھانے پینے کی چیزوں میں حد اعتدال کو مدنظر رکھنے کی نسبت لمبے عرصہ تک بھوک پیاس کا برداشت کرنا آسان ہے لیکن حد اعتدال کو مدنظر رکھنے کی ریاضت کثرت بھوک ریاضت سے زیادہ مفید ہے۔&nbsp;</p>



<p>حضرت والد بزرگوار قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے علم سلوک میں ایک رسالہ دیکھا ہے جس میں لکھا ہے کہ ماکولات میں اعتدال اور حد اوسط کو نگاہ رکھنا مطلب تک پہنچنے کے&nbsp;لئے کافی ہے۔ اس رعایت کے ہوتے زیادہ ذکر و فکر کی حاجت نہیں۔واقعی کھانے پینے اور&nbsp;پہننے بلکہ تمام امور میں توسط حال اور میانہ روی بہت ہی زیبا اور عمدہ ہے ۔&nbsp;</p>



<p><strong>نه</strong><strong> </strong><strong>چنداں</strong><strong> </strong><strong>بخودکزوہانت</strong><strong> </strong><strong>براید</strong><strong> </strong><strong>نه</strong><strong> </strong><strong>چندانکه</strong><strong> </strong><strong>ازخصف</strong><strong> </strong><strong>جانت برآید</strong></p>



<p>نہ کھا اتنا کہ نکلے منہ سے باہر&nbsp;نہ کم اتنا کے تن سے جان نکلے</p>



<p>&nbsp;الله تعالیٰ نے ہمارے حضرت پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کو چالیس آدمیوں کی قوت عطا&nbsp;فرمائی تھی جس کے سبب سخت بھوک برداشت کرلیا کرتے تھے اور اصحاب کرام بھی حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت کی برکت سے اس بوجھ کو اٹھا سکتے تھے اور ان کے اعمال و افعال میں کسی قسم کا فتور اورخلل نہ آتا تھا اور بھوک کی حالت میں دشمنوں کی لڑائی پر اس قدر طاقت رکھتے تھے کہ سیر شکموں کو اس کا دسواں حصہ بھی نصیب نہ تھی۔ یہی باعث تھا کہ بیس صابر آدمی دوسو کافروں پر غالب آجاتے تھے اور سوآدمی ہزار پر غلبہ پا جاتا تھا اور صحابہ کے سوا اور لوگ بھوک برداشت کرنے والوں کا تو یہ حال ہے کہ آداب وسنن کے بجالانے سے عاجز ہیں بلکہ بسا اوقات فرائض کو بھی بمشکل ادا کر سکتے ہیں۔ بغیر طاقت کے اس امر میں صحابہ کی تقلید کرنا گویا فرائض وسنن کے ادا کرنے میں آپ کو عاجز کرنا ہے۔&nbsp;</p>



<p>منقول ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ نے حضرت علیہ الصلوة والسلام کی تقلید&nbsp;کر کے وصال کے روزے&nbsp;اختیار کیے اور ضعیف و ناتوانی سے بے خود ہو کر زمین پر گر پڑے۔ آنحضرت ﷺنے اعتراض کے طور پر فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو میری مانند ہو۔ میں رات کو اپنے رب کے پاس ہوتا ہوں اور وہی مجھے کھلاتا ہے۔ پس انہوں نے طاقت کے بغیر تقلید کرنا بہتر اور پسند نہ جانا۔&nbsp;</p>



<p>اور نیز اصحاب کرام حضرت خیر البشر علیہ الصلوة والسلام کی صحبت کی برکت سے کثرت جوع کی پوشیدہ تکلیفوں سے محفوظ اور مامون تھے اور دوسروں کو یہ حفظ وامن میسر نہیں۔ اس کا بیان یہ ہے کہ زیادہ بھوک البتہ صفائی بخشتی ہے۔ بعض کے دل کو اور بعض کے نفس کو صفائی بخشتی ہے۔ قلب کی صفائی سے ہدایت بڑھتی ہے اور نور زیادہ ہوتا ہے اور نفس کی صفائی سے گمراہی زیادہ ہوتی اور سیاہی بڑھتی ہے۔ یونان کے فلاسفر اور برہمنوں اور جوگیوں کو بھوک کی ریاضت&nbsp;نے صفائی بخش کر گمراہی اور خسارہ میں ڈال دیا۔ افلاطون بے وقوف نے اپنے نفس کی صفائی پر بھروسہ کیا اور اپنی خیالی کشفی صورتوں کو اپنا مقتداء بنا کر مغرور ہور ہا اور حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام پر جو اس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے ایمان نہ لایا اور یوں کہا کہ<strong> </strong><strong>نَ</strong><strong>حْ</strong><strong>نُ</strong><strong> </strong><strong>قَوْمٌ</strong><strong> </strong><strong>مَّهْدَیُّوْنَ</strong><strong> </strong><strong>لَاحَاجَةَ</strong><strong> </strong><strong>بِنَا</strong><strong> </strong><strong>إِلىٰ</strong><strong> </strong><strong>مَنْ</strong><strong> </strong><strong>يَّهْدِيْنَا</strong> (ہم ہدایت یافتہ لوگ ہیں ہمیں کسی ہدایت دینے والے کی حاجت نہیں اگر اس میں یہ ظلمت بڑھانے والی صفائی نہ ہوتی تو اس کی خیالی کشفی صورتیں ان کو راہ راست سے نہ روکتیں اور مطلب کے پانے سے اس کو مانع نہ ہوتی۔ اس&nbsp;نے اسی صفائی کے گمان پر اپنے آپ کونورانی خیال کیا اور اس نے نہ جانا کہ یہ صفائی اس کے نفس امارہ(برائی کی طرف بہت امر کرنے والا) کے باریک چمڑے سے آگے نہیں گزری اور اس کا نفس امارہ &nbsp;اپنی پہلی خبث ونجاست پر ہے۔ اس کی مثال بعینہ اسی طرح ہے جس طرح نجاست مغلظہ پر باریک سا شکر کا غلاف چڑھا دیا ہو۔ قلب جواپنی ذات کی حد میں پاکیزہ اور نورانی ہے۔نفس ظلمانی کی ہم نشینی سے جوزنگار اس پر آجائے تھوڑے سے تصفیہ کے ساتھ اپنی اصلی حالت پر آ جاتا ہے اور نورانی ہو جاتا ہے۔ بر خلاف نفس کے جواپنی ذات کی حد میں خبیث ہے اور ظلمت اس کی ذاتی صفت ہے جب تک قلب کی&nbsp;سیاست اور سنت کی متابعت اور شریعت کی اتباع بلکہ محض فضل خداوندی سے پاک و صاف نہ ہو جائے اور اس کا خبث ذاتی دور نہ ہو جائے۔ تب تک اس سے نجات اور بہتری متصور نہیں ۔ افلاطون نے اپنی کمال جہالت سے اپنی صفائی کو جو اس کے نفس امارہ سے تعلق رکھتی تھی۔ حضرت عیسی کے قلب کی صفائی کی طرح خیال کیا اور اپنے آپ کو بھی ان کی طرح مہذب اور مطہر خیال کر کے ان کی متابعت کی دولت سے محروم رہا اور ہمیشہ کے خسارہ میں پڑارہا۔ <strong>أَعَاذَنَا ‌اللَّهُ تَعَالیٰ</strong><strong> مِنْ</strong><strong> </strong><strong>هٰذَا الْبَلَاءِ</strong><strong> </strong>اللہ تعالیٰ ہم کو اس بلا سے بچائے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>جب اس قسم کے خطرے بھوک میں پائے جاتے تھے۔ اس واسطے اس طریق کے بزرگوں نے بھوک کی ریاضت کو ترک کیا اور کھانے پینے میں اعتدال کی ریاضت اور میانہ روی&nbsp;کے مجاہدہ کی طرف رہنمائی کی اور بھوک کے نفعوں اور فائدوں کو اس بڑے ضرر کے احتمال پرترک کر دیا اور دوسروں نے بھوک کے منافع کا ملاحظہ کر کے اس کے ضرر کی طرف نہ دیکھا اور بھوک کی طرف ترغیب دی اور عقلمندوں کے نزدیک یہ بات ثابت اور مقرر ہے کہ ضرر کے احتمال پر بہت سے منافع کو چھوڑ سکتے ہیں اور اسی کلام کے قریب قریب ہے جو علماء نے فرمایا&nbsp;ہے کہ اگر کوئی امر سنت اور بدعت کے درمیان دار ہوتو سنت کے بجالانے کی نسبت بدعت کا ترک کر دینا بہتر ہے یعنی بدعت میں ضرر کا احتمال ہے اور سنت میں نفع کی امید۔ پس ضرر کے احتمال کو نفع کی امید پر ترجیح دے کر بدعت کو ترک کر دینا چاہیئے تا کہ ایسا نہ ہو کہ سنت کے بجالانے میں دوسری طرف سے ضرر پیدا ہو۔ اس سخن کی حقیقت یہ ہے کہ وہ سنت گویا اسی زمانہ&nbsp;موقف ہے۔ بعض نے چونکہ وقت وخفا کے باعث اس کے معرفت ہونے کو معلوم نہ کیا۔ اس لئے اس کی تقلید میں دلیری اور جلدی کی اور بعض نے اس کو معرفت جان کر اس کی تقلید اختیار نہ کی<strong>۔</strong> <strong>وَاللَّهُ سُبحَانَه أَعْلَمُ ‌بِحَقِيقَةِ ‌الْحَالِ</strong> (حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا <strong>ہے</strong></p>



<p>تیسرا سوال یہ ہے کہ اس طریقہ علیہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس طریق کی نسبت حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب ہے۔ برخلاف دوسرے طریقوں کے۔ اگرمدعی کہے کہ اکثر طریق امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ تک پہنچتے ہیں اور حضرت امام جعفر صادق ، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنهم کی طرف منسوب ہے۔ پھر دوسرے سلسلے حضرت صدیق کی طرف کیوں منسوب نہ ہوں۔&nbsp;</p>



<p>اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت امام جعفر صادق رضی الله تعالیٰ عنہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی نسبت رکھتے ہیں اور حضرت امیر(علی) رضی اللہ عنہ سے بھی اور حضرت امام میں ان دونوں اعلی نسبتوں کے جمع ہونے کے باوجود ایک نسبت کے کمالات جدا اور ایک دوسرے سے متمیز ہیں۔ بعض نے صدیقی مناسبت کے باعث حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نسبت صدیقیہ حاصل کی اور حضرت صدیق ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوگئی اور بعض نے امیری مناسبت کے نسبت امیر یہ اخذ کی اور حضرت امیر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہو گئے۔&nbsp;</p>



<p>فقیر ایک دفعہ پرگنہ بنارس میں گیا ہوا تھا جہاں کہ دریائے گنگا اور جمنا باہم ملتے ہیں وہاں دونوں پانیوں کے ملنے کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ گنگا کا پانی الگ ہے اور جمنا کا پانی جدا دونوں کے درمیان برزخ ہے جو دونوں پانیوں کو آپس میں ملنے نہیں دیتا اور جو لوگ دریائے&nbsp;گنگا کے پانی کی طرف ہیں وہاں جمع ہوئے پانی سے گنگا کا پانی پیتے ہیں اور جولوگ دریائے جمنا کے پانی کی طرف ہیں وہ دریائے جمنا کا پانی پیتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اور اگر کہیں کہ خواجہ محمد پارسا قدس سرہ نے رسالہ قدسیہ میں تحقیق کی ہے کہ حضرت امیر (علی کرم اللہ وجہ) نے جس طرح حضرت رسالت خاتمیت علیہ وعلی آلہ الصلوة والسلام سے تربیت پائی ہے۔ اسی طرح حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی پائی ہے۔ پس حضرت امیر رضی اللہ عنہ کی نسبت بعينہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی نسبت ہے پھر ان میں کیا فرق ہے تو میں کہتا ہوں کہ نسبت کے متحد ہونے کے باوجودمحل و مقام کے تعدد کی خصوصتیں اپنے حال پر ہیں۔ ایک ہی پانی مختلف مکانوں کے باعث الگ الگ خصوصیتیں پیدا کر لیتا ہے۔ پس جائز ہے کہ ہر ایک کی خصوصیت کی طرف نظر کر کے ہر ایک طریقہ اس کی طرف منسوب ہو۔&nbsp;</p>



<p>سوال چہارم کا حاصل یہ ہے کہ ملامحمد صدیق کے مکتوب میں لکھا ہے کہ ایک ولایت موسوی کی استعداد رکھتا ہے اس کوکوئی صاحب تصرف ولایت محمدی کی استعداد میں نہیں لاسکتا اور درویش زاده کلاں قدس سرہ کے مکتوبات میں لکھا ہے کہ تم کو ولایت موسوی سے ولایت محمدی میں لے آیا۔ ان دونوں باتوں میں موافقت کس طرح ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جو ملامحمد صدیق کے مکتوب میں واقع ہے کہ معلوم نہیں ہے کہ ولایت موسوی سے ولایت محمدی میں لے جائیں۔ اس وقت اس امر کے واقع ہونے کاعمل نہ<strong> </strong>تھا۔ اس کے بعد اس امر کا علم اور تغیر و تبدل کی قدرت عطا فرما دی اور پھر لکھا ہے کہ تم کو اس ولایت سے ولایت محمدی میں لے گئے ۔ زمان متحد نہیں ہے تا کہ تناقص متصور ہو۔&nbsp;</p>



<p>سوال پنجم کا حاصل یہ ہے کہ اس جگہ کے صوفی پیراہن پیش چاک پہنتے ہیں اور اس کو سنت جانتے ہیں اور بعض کتب معتبرہ فقیہہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیراہن پیش چاک مردوں کونہ پہننا چاہیئے کہ عورتوں کا لباس ہے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>امام احمد علیہ الرحمتہ اور ابوداود رحمتہ اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس مرد پر جوعورت کا لباس پہنے اور اس عورت پر جو مرد کا لباس پہنے لعنت ہے اور مطالب المومنین میں ہے کہ عورت مرد کی مشابہت نہ کرے اور مرد عورت کی مشابہت نہ کرے کیونکہ دونوں پر لعنت ہوتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>بلکہ مفہوم ہوتا ہے کہ پیران پیش چاک اہل علم اور اہل دین کا شعار نہیں ہے۔ اسی واسطے اہل ذمہ کے لئے یہ لباس تجویز کیا گیا ہے۔ جامع الرموز اور محیط میں منقول ہے کہ وہ لباس جو اہل علم اور اہل دین کے ساتھ مخصوص ہے یعنی رداء اور عمامہ اہل ذمہ نہ پہنیں بلکہ موٹے&nbsp;کپڑے کی قمیض پہنیں جس کے سینے پر عورتوں کی طرح چاک ہو۔&nbsp;</p>



<p>اور نیز بعض علماء کے قول کے موافق پیش چاک قمیص نہیں ہے بلکہ درع ہے۔ ان کے نزدیک قمیص وہ ہے جس کے دونوں کندھوں پر چاک ہوں۔ جامع الرموز اور ہدایہ میں جہاں عورت کے کفن کا بیان ہے۔ لکھا ہے کہ قمیص کے بدلے درع ہے اور ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ درع کا چاک سینے میں ہوتا ہے اور قمیص کا چاک دونوں کندھوں کی طرف اور بعض ترادف کے قائل ہیں لیکن دونوں کا ایک ہی معنی کے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>فقیر کے نزدیک بہتریہ معلوم ہوتا ہے کہ جب مردوں کو عورتوں کا سا لباس پہننا منع ہے تو جہاں عورتیں پیران پیش چاک پہنتی ہیں ۔ وہاں مردوں کو چاہیئے کہ عورتوں کی مشابہت کو ترک کر کے پیراہن حلقه گر یبان پہنیں اور جس جگہ عورتیں پیراہن حلقہ گریبان ہوتی ہیں وہاں مرد پیران پیش اختیار کریں اور عرب میں عورتیں پیر اہن حلقہ گریبان پہنتی ہیں اس لئے مرد پیرا ہن پیش چاک پہنتے ہیں اور ماوراء النہر اور ہند میں عورتوں کا لباس پیراہن پیش چاک ہے اس لئے مرد پیراہن حلقہ گریبان اختیار کریں۔&nbsp;</p>



<p>میاں شیخ عبدالحق دہلوی بیان کرتا تھا کہ میں حضرت مکہ میں تھا کہ میں نے دیکھا کہ شیخ&nbsp;نظام نارنولی کا ایک مرید پیراہن حلقه گریبان پہنے ہوئے طواف کر رہا ہے اور عرب کے لوگ اس کی پیراہن دیکھ کر تعجب کرتے اور کہتے ہیں کہ عورتوں کا پیراہن پہنا ہوا ہے۔ پس عرف و عادت کے اعتبارسےعرب کے طریق پرعمل کرنا بہتر ہوگا اور ہندو ماوراء النہر کے عمل کے موافق بھی بہتر ہوگا ۔ يعنی <strong>لِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا</strong> ہر ایک کے لئے ایک جہت ہے جس کی طرف وہ منہ کرنے والا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اگر پیراہن پیش چاک کا سنت ہونا ثابت ہوتا تو علماء حنفیہ یہ لباس اہل ذمہ کے لئے تجویز نہ کرتے اور اہل علم اور اہل دین کے ساتھ ہی مخصوص رکھتے۔ چونکہ عورتیں اس لباس میں پیش قدم ہیں ۔ اس جگہ مردوں کا لباس عورتوں کے لباس کے تابع ہو گیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>سوال ششم کا حاصل یہ ہے کہ جب ابتداء ہی سے اس طریق کے طالبوں کی توجہ احدیت صرف کی طرف ہے تو چاہیئے کہ توجہ نفی اثبات کے ساتھ جمع نہ ہو کیونکہ نفی کے وقت غیر کی طرف توجہ ہوتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>جواب یہ ہے کہ غیر کی طرف توجہ کرنا توجہ احدیت کی تقویت اور تربیت کیلئے ہے اور غیر کانفی سے مقصود اغیارکی مزاحمت کے اس توجه کادائمی طور پر حاصل ہونا ہے پس غیر کی نفی کی توجہ احدیت کی توجہ کے منافی نہ ہوگی کیونکہ احدیت کی توجہ کے منافی غیر کی توجہ ہے نہ کہ غیر کے نفی کی توجه <strong>شَتَّانِ</strong><strong> </strong><strong>مَا</strong><strong> </strong><strong>بَيْنَهُمَا</strong><strong> </strong>ان<strong> </strong>دونوں کے درمیان بہت فرق ہے۔&nbsp;سوال ہفتم کا حاصل یہ ہے۔ اس کا طریقہ میں مبتدی جو ذکر کام(تالو) و زبان سے کہتا ہے۔ اسی ذکر کو دل سے بھی کہتا ہے تو پھر دل نفی اثبات کا پورا ذکر کرتا ہے یانہیں ۔ اگر پورا ذکر کرتا&nbsp;ہے تو پھر لا کو اوپر کی طرف اور اللہ کو دائیں طرف کیوں پھیرتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اس کا جواب یہ ہے کہ قلب اگر تمام ذ کر کہے تو کیا نقصان ہے اور لاکو اوپر کی طرف اور الله کو دائیں طرف پھیرتے ہیں اور الا الله کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس طریق میں نفی اثبات کوتخیل میں ادا کرتے ہیں اور کام و زبان سے کچھ تعلق نہیں رکھتے تا کہ جو کچھ کہتے ہیں دل اس کو بخوبی قبول کرلے۔ .&nbsp;</p>



<p>آپ کے یہ دو اخیر کے سوال فخررازی کی تشکیکات کی قسم سے ہیں ۔ اگر آپ ان سوالوں&nbsp;کی طرف بخوبی توجہ کرتے تو جلدی آپ کا شک رفع ہو جاتا۔&nbsp;</p>



<p>باقی مقصود یہ ہے کہ وہاں کے بعض یاروں نے کئی دفعہ لکھا ہے کہ میر محمد نعمان ان دنوں میں طالبوں کے احوال پر بھی غور و پرداخت نہیں کرتے اور عمارت کے بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور فتوحات کا روپیہ عمارت پر خرچ کر رہے ہیں جس سے فقراء بے نصیب رہ جاتے ہیں۔ یاروں نے ان حالات کو اس طرح لکھا تھا کہ ان سے اعتراض اور روگردانی کی آمیزش مفہوم ہوتی تھی اور انکار کی بو آتی تھی۔ آپ بخوبی سمجھ لیں کہ اس گروہ یعنی اہل اللہ کا انکار زہر قاتل&nbsp;ہے اور بزرگوں کے افعال و اقوال پر اعتراض کرنا زہرافعی ہے جو ہمیشہ کی موت اور دائمی ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ خاص کر جبکہ یہ اعتراض و انکار پیر کی طرف عائد ہو اور پیر کی ایذاء کا سبب ہو۔ اس گروہ کا منکر ان کی دولت سے محروم ہے اور ان پر اعتراض کرنے والا ہمیشہ نا امید اور زیاں کار رہتا ہے جب تک پیر کے تمام حرکات و سکنات مرید کی نظر میں زیبا اور مجرب نہ ہوں ۔ تب تک پیر کے کمالات سے اس کو کچھ حصہ نہیں ملتا اور اگر پھر کمال حاصل بھی کرے تو یہ استدراج&nbsp;(شعبدہ بازی)&nbsp;ہے جس کا انجام خرابی و رسوائی ہے۔ مرید اپنے پیر کی کمال محبت اور اخلاص کے باوجود اگر اپنے آپ میں سال بھر میں اعتراض کی گنجائش دیکھے تو اسے سمجھنا چاہیئے کہ اس میں خرابی ہے اور وہ پیر کے کمالات سے بے نصیب ہے اگر بالفرض پیر کے کسی فعل میں شبہ پیدا ہو جائے اور کسی طرح دفع نہ ہو سکے تو اس کو اس طرح دریافت کرے کہ اعتراض کی آمیزش سے پاک اور انکار&nbsp;کے گمان سے صاف ہو کیونکہ اس جہان میں حق باطل کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اگر پیر سے کسی وقت خلاف شریعت امر صادر ہو جائے تو مرید کو چاہیئے کہ اس امر میں پیر کی تقلید نہ کرے اور جہاں تک ہو سکے حسن ظن کے ساتھ اس کو نیک وجہ پرمحمول کرے اور اس امر کی صحت و درستی کی وجہ تلاش کرتا رہے اگرصحت کی وجہ نہ ملے تو چاہیئے کہ اس ابتلاء کے دفع کرنے میں حق تعالیٰ کی بارگاہ میں التجاء تضرع کرے اور گریہ و زاری سے پیر کی سلامتی طلب کرے اور اگر مر ید کو پیر&nbsp;کے حق میں کسی امر مباح کے ارتکاب کے باعث کوئی شبہ پیدا ہو تو اس شبہ کا کچھ اعتبار نہ کرے&nbsp;</p>



<p>جب مالک الوجود جل شانہ نے امر مباح کے اختیار کرنے سے منع نہیں کیا اور کوئی اعتراض نہیں فرمایا تو پھر دوسرے کا کیا حق ہے کہ اپنے پاس سے اعتراض کرے&nbsp;۔ بسا اوقات کئی جگہ اولی&nbsp;کے بجالانے سے اس کا ترک کرنا بہتر ہوتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;حدث نبوی ﷺمیں آیا ہے۔ <strong>إِنَّ اللَّهَ کَمَا يُحِبُّ أَنْ یؤْتیٰ &nbsp;بِالْعَزِیْمَۃِيُحِبُّ أَنْ یُّؤْتىٰ بِالرُّخْصَۃِ </strong>کہ اللہ تعالیٰ جس طرح عزیمت کا بجالانا دوست رکھتا ہے۔ اسی طرح رخصت پرعمل کرنا بھی پسند کرتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>حضرت میر کو بے شمارفیض حاصل ہیں۔ اگر فیض کے دنوں میں مریدوں کے احوال پرغور نہ بھی کریں اور بعض امور مباحہ سے اپنی تسلی کریں تو کوئی اعتراض کی جگہ نہیں ہے ایسے حال میں عبدالله اصطخری اپنی تسلی کے لئے سگبانوں کے ہمراہ جنگل میں شکار کے واسطے چلے جایا کرتے تھے اور بعض مشائخ ایسے حال میں سماع ونغمہ سے اپنی تسلی کیا کرتے تھے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong><strong>وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ العُلیٰ</strong> <strong>اَتَمَّهَا وَاَدْوَمَهَا</strong> سلام ہو اس پر جو ہدایت کے راستہ پر چلا اور حضرت مصطفی ﷺکی متابعت کو لازم پکڑا۔&nbsp;</p>



<h2 class="wp-block-heading"><strong>عرض داشت اول</strong></h2>



<p> جو مغفرت پناہ مخدوم زاده کلاں قدس سرہ نے لکھی تھی حضور کا کمترین غلام محمد صادق عرض کرتا ہے کہ اس طرف کے احوال و اوضاع (افعال) حضور کی عالی توجہ کی برکت سے ظاہری باطنی جمعیت کے ساتھ گزررہے ہیں۔ مدت گزری ہے کہ حضور&nbsp;کے خادموں کی طرف سے دل منتظر اور پریشان تھا۔ آج عریضہ لکھنے کے دن میاں بدر الدین آیا اور اس نے حضور کی کامل خیروعافیت کا حال سنایا۔ بے حدوبے اندازہ فرحت وخوشی حاصل ہوئی۔&nbsp;</p>



<p><strong>الحمد</strong><strong> </strong><strong>لله تعالیٰ حمدا كثيرا على ذلک</strong><strong> </strong>اس پر اللہ تعالیٰ کی بےشمارحمد ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>قبلہ</strong><strong> </strong><strong>گاہا</strong>۔ حافظ بہاؤالدین نے تیرہویں رات کو قرآن مجید ختم کیا اور چودھویں رات کو حافظ موسی نے شروع کیا ہے۔ پانچ پانچ سیپارہ ہر رات کو پڑھتا ہے۔ انیسویں رات کو ختم کرلے گا۔عشرہ اخیرہ میں قرآن مجید ختم کرنے کے لیے حافظ بہاؤ الدین ہی مقرر ہوا ہے۔&nbsp;</p>



<p>حضرت سلامت ایک رات نماز تراویح میں حافظ قرآن پڑھ رہا تھا کہ ایک نہایت وسیع اور نورانی مقام ظاہر ہوا۔ گویا کہ حقیقت قرآنی (قرآن تمام ذاتی و شیونی کمالات کا جامع ہے) کا مقام تھا اور ایسا معلوم ہوا کہ حقیقت محمدی علی صاحبها الصلوة والسلام اس مقام کا اجمال ہیں۔ گویا دریائے اعظم کو کوزہ میں بند کیا ہے اور یہ مقام حقیقت محمدی کی تفصیل ہے۔ اکثر انبیاء اور کامل اولیاء نے اپنے اپنے قدر کے موافق اس مقام سے کچھ حاصل کیا ہے لیکن اس مقام کا کامل اور تمام حصہ ہمارے پیغمبر علیہ الصلوة والسلام کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ اس حقیر کوبھی اس مقام سے تھوڑا سا حصہ مل گیا۔ اللہ تعالیٰ حضور کی توجہ عالی سے کامل حصہ نصیب کرے&nbsp;۔ ابھی تک یہ مقام اچھی طرح واضح نہیں ہوا۔ باقی احوال جمعیت سے گزر رہے ہیں اور اس ماه معظم میں بڑی برکت مفہوم ہوتی ہے۔ اخی محمد&nbsp;سعید کے اوضاع و احوال بہت اچھے ہیں اور اس کے اوقات جمعیت و ذکر سے گزر رہے&nbsp;ہیں۔ شہر کےیاربھی بڑے ذوق سے حاضر ہوتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>فقیر نے ابھی تک چار سیپارہ سے کچھ اوپر حفظ کیا ہے۔ عید کے دن تک امید ہے کہ&nbsp;پا نچ سیپاره تک یاد ہوجائیں گے۔ والعبودیۃ &#8211; آداب بندگی۔&nbsp;</p>



<h2 class="wp-block-heading">عرض داشت دوم</h2>



<p> کمترین بندگان محمد صادق عرض کرتا ہے کہ اس طرف کے احوال و اوضاع شکر کے لائق ہیں اور اس ذات کعبہ مرادات کی خیریت معه خادموں اور مخلصوں کے مطلوب اور مسئول ہیں۔&nbsp;</p>



<p>حضور کا سرفراز نامہ اور بزرگ صحیفہ جواسماعیل کے ہمراہ ارسال فرمایا تھا۔ صادر ہوا۔ اس کے مطالعہ سے نہایت ہی خوشی ہوئی ۔ حق تعالیٰ اپنے نبی امی ﷺاور ان کی آل بزرگوار رضی اللہ عنہم کے طفیل اس قبلہ عالمیان کی مہربانی کا سایہ تمام اہل اسلام کے سر پر باقی و&nbsp;قائم ودائم رکھے۔&nbsp;</p>



<p>قبلہ گاہا۔ فقیر اپنے خراب احوال کیا لکھے۔ اپنے ماضی و حال کے صادر ہوئے اعمال اور ضائع ہوئے احوال پر بڑی حسرت و ندامت آرہی ہے۔ آرزوتو یہی رہتی ہے کہ کوئی لفظ اور کوئی ساعت حق تعالیٰ کی رضا کے برخلاف نہ گزرے لیکن ایسا ہو نہیں سکتا۔ ہاں اگرحضور کے خادموں کی توجہ مددودستگیری فرمائے تو بڑی بات نہیں۔</p>



<p><strong>برکریماں کا رہا دشوار نیست &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; </strong>&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; &nbsp;کریموں پر نہیں مشکل کوئی کام</p>



<p>الحمد للہ کہ اب تک حضور کی توجہ شریف کی برکت سے جس طرح کہ حضور نے فرمایا تھا۔ استقامت حاصل ہے اور ابھی تک اس میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ دن بدن تر قی وزیادتی کا امیدوار&nbsp;ہے۔ فجر ظہر و عصر کے بعد حلقہ بیٹھتا ہے اور حافظ بہاء الدین کاموں سے فرصت پا کر قرآن مجید پڑھتا ہے۔ یہ فقیر بعض اوقات قبض میں ہے۔ بعض اوقات بسط میں اور قبض و بسط اور توجہ و ذوق اور آرام و غیره بدن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے آگے تجاوز نہیں کرتے اور لطائف کا حال یہ ہے کہ نہ متوجہ ہیں نہ غافل۔ اگر متوجہ ہیں تو ان کی توجہ علم حضوری کی مانند بلکہ اس کا عین&nbsp;ہے اور توجہ اور ذوق وغیرہ کو ظلال میں داخل جانتا ہے اورظل سے متجاوز معلوم نہیں کرتا۔ لطائف اول اول بدن کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور نظر بصیرت میں بدن کے سوا اور کوئی امر مفہوم نہ ہوتا تھا۔ جیسا کہ حضور موفور السرور کی خدمت میں عرض کیا گیا تھا۔ اب بدن سے ممتاز اور الگ دکھائی د یتے ہیں۔ یہ مقام بقا کا مقام ہے۔ بقا کے بعد پھر ایک قسم کی فناالطائف پر طاری ہوئی اور ایسا&nbsp;معلوم ہوا کہ اس فنا کے بغیر جو بقا کے بعد ہے۔ کام کا تمام ہونا میسر نہیں ہوتا۔&nbsp;</p>



<p>اب چند روز سے پھر قبض کی حالت میں ہے اور باطنی معاملہ کمی میں ہے، دیکھیں کیا ظاہر ہوتا ہے لیکن ابھی تک عالم کی طرف توجہ نہیں ہوئی چونکہ احوال کا عرض کرنا ضروری تھا اس لئے ان چند کلمات کے لکھنے پر جرأت &nbsp;کی۔&nbsp;</p>



<p>قبلہ گاہا۔ فقیر ہر رات حضرت کو خواب میں دیکھتا ہے۔ الا ماشاء الله اس سے زیادہ کیا&nbsp;لکھا جائے کہ تعلقات رسمیہ میں داخل ہے۔ والعبودیۃ &#8211; آداب بندگی۔&nbsp;</p>



<h2 class="wp-block-heading">عرض داشت سوم&nbsp;</h2>



<p>کمترین بندگان محمد صادق عرض کرتا ہے کہ یہ حقیر مدت سے مقبوض اور مغموم تھا۔ آخر کار&nbsp;حضور کی محفل پاک توجہ سے حق تعالیٰ کی عنایت شامل حال ہوئی اور بسط عظیم لاحق ہوئی۔ اس بسط میں ایسا معلوم ہوا کہ جس طرح آگے یا دو توجہ اس کی طرف سے ہوتی تھی۔ اب جو&nbsp;کچھ ہے۔ حق تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اپنے آپ میں قبول کی قابلیت کے سوا اور کچھ نہیں پاتا۔ اس آئینہ کی طرح کہ جس پر سورج طلوع کرے اور اس طلوع کے باعث بدن و لطائف&nbsp;سے تمام ظلمت و کدورت دور ہو جائے اور اس میں کماحقہ نورو برکت حاصل ہوجائے۔ پس اس بسط سے میرا سینہ کشادہ اور میرا قلب وسیع ہو گیا اور بدن نورانی اور روشن بن گیا اور لطائف بہ نسبت سابقہ روح وسر سے زیادہ لطیف ہو گئے اور میں نے معلوم کیا کہ تجلی اکمل لطائف میں&nbsp;سے قلب پر ہے جب میں نے قلب کی طرف دیکھا تو اس میں ایک اور قلب ظاہر ہوا جس پر بھی واقع ہوئی ہے جب میں نے اس قلب کے قلب کی طرف دیکھا تو اس پر ایک اور قلب دکھائی دیا۔ اسی طرح بے نہایت قلب ظاہر ہوئے اور کوئی قلب بسیط ایسا ظاہر نہ ہوا جس میں اور قلب ظاہر نہ ہوا ہو۔ میرے گمان میں اب تک قلب بسيط کی انتہا نہیں آتی اور معلوم ہوا کہ اس حالت کی نسبت پہلے حالات بے جا تکلفات تھے اور اس مقام کا صرف نام ہی نام دل پر گزرتا تھا جس کو بے ادبی کے باعث دیکھا گیا تھا۔ قبلہ گاہا۔ یہ سب کچھ حضور کی پاک توجہ کا کمتراثر ہے بیت۔&nbsp;</p>



<p><strong>ا</strong><strong> </strong><strong>گر</strong><strong> </strong><strong>برتن</strong><strong> </strong><strong>میں</strong><strong> </strong><strong>زباں</strong><strong> </strong><strong>شود</strong><strong> </strong><strong>ہر</strong><strong> </strong><strong>موئے</strong><strong> </strong><strong>یک</strong><strong> </strong><strong>شکر</strong><strong> </strong><strong>تو</strong><strong> </strong><strong>از</strong><strong> </strong><strong>هزار</strong><strong> </strong><strong>نتوانم</strong><strong> </strong><strong>کرد</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: اگر ہر بال میں میری زباں ہو&nbsp;نہ پھر بھی کچھ شکر مجھ سے عیاں ہو&nbsp;</p>



<p>حضرت سلامت حضور کے خادموں کی خدمت میں حاضر ہونے کی آرزو بیان سے باہر ہے۔ ہر گھڑی یہی تصور ہے کہ وہ کونسا نیک اور خوش وقت ہوگا کہ یہ اعلی مطلب اور بلند مقصد حاصل ہوگا۔ اس آرزو کے سوا اور کوئی خواہش نہیں رہی ۔ حق تعالیٰ اپنے پاک نبی ﷺکے طفیل بہت اچھے طریق سے یہ دولت عظمی نصیب کرے۔&nbsp;والعبودية آداب بندگی۔ <strong>اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ &nbsp;أَوَّلاً وَّاٰخِرًا </strong>۔&nbsp;</p>



<p> <strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ497 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></span></strong> </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2581%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a8%25d9%2582%25d8%25a7-%25d9%2588-%25d8%25b3%25d9%2584%25d9%2588%25da%25a9-%25d9%2588-%25d8%25ac%25d8%25b0-%25d8%25a8%25db%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%2F&#038;title=%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D9%81%D9%86%D8%A7%D9%88%20%D8%A8%D9%82%D8%A7%20%D9%88%20%D8%B3%D9%84%D9%88%DA%A9%20%D9%88%20%D8%AC%D8%B0%20%D8%A8%DB%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20313%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%81%d9%86%d8%a7%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%d9%88-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d9%88-%d8%ac%d8%b0-%d8%a8%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8/" data-a2a-title="کمالات فناو بقا و سلوک و جذ بہ مکتوب نمبر 313 دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d9%81%d9%86%d8%a7%d9%88-%d8%a8%d9%82%d8%a7-%d9%88-%d8%b3%d9%84%d9%88%da%a9-%d9%88-%d8%ac%d8%b0-%d8%a8%db%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اشاره سبابہ کی تحقیق مکتوب نمبر 312 دفتراول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%87-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-312-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%87-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-312-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 14:46:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[استخارہ اور توجہ]]></category>
		<category><![CDATA[اشارہ بالمسبحہ]]></category>
		<category><![CDATA[اشارہ سبابہ اور مجدد پاک]]></category>
		<category><![CDATA[تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ]]></category>
		<category><![CDATA[تشہد میں شہادت کی انگلی اٹھانا]]></category>
		<category><![CDATA[تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ]]></category>
		<category><![CDATA[زمین مکہ یا مدینہ افضل]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4705</guid>

					<description><![CDATA[چند سوالوں کے جواب اور اشاره سبابہ کی تحقیق اور جو کچھ اس بارے میں علماء حنفیہ&#160;کے نزدیک مختار ہے۔ اس کے بیان میں میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِ الْمُرْسَلِيْنَ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%87-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-312-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>چند سوالوں کے جواب اور اشاره سبابہ کی تحقیق اور جو کچھ اس بارے میں علماء حنفیہ&nbsp;کے نزدیک مختار ہے۔ اس کے بیان میں میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p><a><strong>اَلْحَمْدُ</strong></a><strong> </strong><strong>لِلّٰهِ</strong><strong> </strong><strong>رَبِّ</strong><strong> </strong><strong>الْعٰلَمِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>وَالصَّلٰوةُ</strong><strong> </strong><strong>وَالسَّلَامُ</strong><strong> </strong><strong>عَلٰى</strong><strong> </strong><strong>سَيِّدِ</strong><strong> </strong><strong>الْمُرْسَلِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>وَعَلٰى</strong><strong> </strong><strong>إِخْوَانِهٖ</strong><strong>&nbsp;</strong><strong>مِنَ</strong><strong> </strong><strong>الْأَنْبِيَاءِ</strong><strong> </strong><strong>وَالْمُرْسَلِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>وَالْمَلٰكئِةِ</strong><strong> </strong><strong>الْمُقَرَبِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>وَعِبَادِاللهِ</strong><strong> </strong><strong>الصَالِحِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>أَجْمَعِيْنَ۔</strong></p>



<p><strong>آ</strong>پ کا صحیفہ شریفہ جو<strong> </strong>ملا محمود کے ساتھ ارسال کیا تھا، پہنچا۔ بڑی خوشی حاصل ہوئی۔ آپ نے پوچھا تھا<strong> </strong>کہ علماء کہتے ہیں کہ روضہ متبرکہ مدینہ علی صاحبها الصلاة والسلام والتحیۃ کی زمین مکہ معظمہ سے بزرگ تر ہے حالانکہ کعبہ معظمہ کی صورت(ظاہری بناوٹ) و حقیقت(مراد حق تعالیٰ ٰ ہے جو سجدے اور عبادت کے لائق ہے)، صورت و حقیقت محمدیہ(تمام اسماء الہیہ کا جامع،صاحب اسم اعظم ) کے لئے مسجودالیہ ہے۔ پھر روضہ متبرکہ کی زمین کس طرح بزرگ تر ہوگی۔ </p>



<p>میرے مخدوم! جو کچھ فقیر کے نزدیک اس بارے میں ثابت ہوا ہے۔ یہ ہے کہ تمام جگہوں سے بہتر جگہ کعبہ معظمہ ہے۔ بعد ازاں روضہ مقدسہ مدینہ بعد ازاں زمین حرم مکہ <strong>حَرَسَهَا اللهُ عَنِ الْاٰفَاتِ</strong>  جن علماء نے روضہ متبرکہ(کی زمین ) کو مکہ معظمہ (کی زمین)سے بہتر کہا ہے ان کی مراد مکہ معظمہ سے کعبہ مقدسہ کے سوا دوسری زمین ہوگی۔ </p>



<p>نیز آپ نے اشارہ سبابہ کے جواز کے بارے میں پوچھا تھا۔ اس بارے میں مولاناعلم&nbsp;اللہ مرحوم کا رسالہ لکھا ہوا ارسال کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق آپ کا کیا حکم ہے۔&nbsp;</p>



<p>میرے مخدوم!اشارہ سبابہ کے جواز کے بارے میں احادیث نبوی ﷺبہت وارد ہیں اور فقہ حنفی کی بعض روایات بھی اس بارے میں آئی ہیں جیسا کہ مولا ناعلم اللہ نے رسالہ میں لکھی ہیں اور جب فقہ حنفی کی کتابوں میں اچھی طرح ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اشارہ کے جواز کی روایتیں اصول کی روایتوں( امام محمد شیبانی کی چھ کتابیں ہیں کیونکہ یہ شہرت و تواتر کے ساتھ مستند طریقہ سے بھی منقول ہیں۔ انہیں اصول بھی کہا جاتا ہے) اور ظاہر مذہب() کے برخلاف ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اور یہ جو امام محمد شیبانی نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺاشارہ کیا کرتے تھے۔ اس واسطے ہم بھی اشارہ کرتے ہیں اور ہم کہتے ہیں جس طرح کہ نبی ﷺ رکھا کرتے تھے۔ پھر اس نے کہا ہے کہ یہ میرا اور ابوحنیفہ کا قول ہے۔ امام محمد شیبانی کا یہ قول روایات نوادر(امام محمد کی چھ کتابوں کے علاوہ &nbsp;امام ابو حنیفہ کے تلامذہ کی دوسری کتابیں نوادر کہلاتی ہیں۔ کیونکہ یہ کتابیں اس درجہ شہرت و تواتر اور معتبر ومستند طریقہ پر نقل نہیں ہوئیں۔) سے ہے نہ روایات اصول سے۔ جیسا کہ فتاوی غرائب میں ہے اور محیط(البرہانی) میں اس طرح آیا ہے کہ دائیں ہاتھ کی سبابہ انگلی سے اشارہ کریں ۔ اصل(المبسوط) میں امام محمد نے اس مسئلہ کو ذکر ہی نہیں کیا۔ البتہ مشائخ کا اس میں اختلاف ہے اس میں بعض نے کہا ہے کہ اشارہ نہ کریں اور بعض نے کہا کہ اشارہ کریں اور امام محمد نے روایت اصول کے سوا اور روایت میں ایک حدیث نبی کریم ﷺروایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺاشارہ کرتے تھے۔ پھر امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ یہ میرا اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ سنت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ مستحب ہے۔ پھر کہا ہے کہ فقہاء نے (فتاوی غرائب میں علماء نے)اسی طرح ذکر کیا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اورصحیح یہ ہے کہ اشارہ حرام ہے اور سراجیہ میں اس طرح ہے کہ نماز میں أ<strong>َشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ</strong> کے وقت سبابہ کا اشارہ مکروہ ہے اور یہی مختارمذہب (اختیار مذہب) ہے اور کبریٰ سے بھی اسی طرح روایت&nbsp;ہے اور اسی پر فتوی ہے کیونکہ نماز کی بنا سکون اور وقار پر ہے اور فتاوی غیاثیہ میں ہے کہ تشہد کے وقت سبابہ سے اشارہ نہ کرے یہی مختار ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ اور جامع الرموز میں ہے کہ نہ اشارہ کرے اور نہ عقد کرے اور یہ ہمارے اصحاب کا ظاہر اصول ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے اور اسی پر فتوی ہے جیسا کے مضمرات اور ولواجی اور خلاصہ وغیرہ میں ہے۔</p>



<p>&nbsp;اور ہمارے اصحاب سے روایت ہے کہ تاتارخانیہ سے خزائنۃ الروایات میں مذکور ہے کہ جب تشہد میں <strong>لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ</strong> پر اپنے دائیں ہاتھ کی سبا بہ انگلی سے اشارہ کرے لیکن امام محمد نے اصل(المبسوط) میں اس کو ذکر نہیں کیا۔ البتہ مشائخ کا اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نہ اشارہ کرے اور اسی طرح کبرٰی میں&nbsp;ہے اور اسی پر فتوی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اشارہ کرے&nbsp;</p>



<p>اورغیاثیہ سے روایت ہے کہ تشہد کے&nbsp;وقت سبابہ سے اشارہ نہ کرے۔ یہی مختار ہے۔&nbsp;</p>



<p>جب معتبر روایات میں اشارہ کی حرمت واقع ہوئی ہو اور اس کی کراہت پر فتوی دیا ہو اور اشاره و عقد سے منع کرتے ہوں اور اس کو اصحاب کا ظاہر اصول کہتے ہوں تو پھر ہم مقلدوں کو مناسب نہیں کہ احادیث کے موافق عمل کر کے اشارہ کرنے میں جرأت &nbsp;کریں اور اس قدرعلماۓ مجتہدین کے فتوی کے ہوتے امرحرام اور مکروہ اورمنہی (منع)کے مرتکب ہوں۔</p>



<p>&nbsp;حنفیہ میں سے اس امر(اشارہ سبابہ) کا مرتکب دو حال سے خالی نہیں ہے یا جانتا ہے کہ علماء مجتہدین کو معروف احادیث کا علم نہ تھا جن سے اشارہ کا جواز ثابت ہوتا ہے یا یہ کہ ان کو ان احادیث کا عالم تو جانتا&nbsp;. ہے لیکن ان بزرگواروں کے حق میں ان احادیث کے موافق عمل پسند نہیں کرتا اور خیال کرتا ہے کہ انہوں نے احادیث کے برخلاف اپنی آراء کے موافق حرمت و کراہت کا حکم کیا ہے یہ دونوں شک فاسد ہیں۔ ان کو سوائے بیوقوف یا دشمن متعصب کے اور کوئی پسند نہیں کرتا اور یہ جو ترغيب الصلوة میں کہا ہے کہ تشہد میں انگشت شہادت کا اٹھانا علماء متقدمین(پہلے) &nbsp;کی سنت ہے لیکن علماء متاخرین (بعد) نے منع کیا ہے۔ اس واسطے کے جب رافضیوں نے اس میں مبالغہ کیا تو سنیوں&nbsp;نے ترک کر دیا۔ سنی سے رافضی کی تہمت کا دور کرنا روایات معتبرہ کے مخالف ہے۔ کیونکہ ہمارے&nbsp;اصحاب کا ظاہر اصول عدم اشارہ اور عدم عقد پر ہے۔ پس عدم اشارہ علماءماتقدم کی سنت ہے اور ترک کی وجہ تہمت کی نفی کا باعث نہیں ہے۔ ان اکابر ین کے ساتھ ہمارا یہاں تک حسن ظن ہے کہ جب تک اس بارے میں حرمت یا کراہت کی دلیل ان پر ظاہر نہیں ہوئی ۔ تب تک انہوں نے حرمت و کراہت کا حکم نہیں کیا جب سنت و استحباب کے ذکر کے بعد&nbsp;کہتے ہیں کہ یہ فقہاء نے ذکر کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اشارہ حرام ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگواروں کے نزدیک اس کی سنیت اور استحباب صحت کو نہیں پہنچا ہے بلکہ اس کےصحت کے برخلاف ان کے نزدیک صحیح ثابت ہوا ہے۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ کہ ہم کو اس دلیل کا علم نہیں ہے اور یہ امر ان بزرگواروں کے حق میں کسی عیب کا موجب نہیں ہے اگر کوئی کہے کہ ہم اس دلیل کے برخلاف علم رکھتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہےحلال وحرام کے اثبات میں مقلد کا علم معتبر نہیں ہے۔ اس بارے میں مجتہد کاظن معتبر ہے۔ مجتہدین کے دلائل کو عنکبوت یعنی مکڑی کی تار سے زیادہ سست کہنا بڑی جرأت &nbsp;و&nbsp;دلیری کا کام ہے اور اپنے علم کو ان بزرگواروں کے علم پرترجيح د ینا حنفیہ کے ظاہر اصول کو باطل&nbsp;کرنا اور روایات معتبر ہ مفتی بہا کو درہم برہم کرنا اور شاذ و نادر کہنا ہے۔ یہ بزرگوار حدیث کو عہدنبوی کے قریب ہونے اور علم و ورع اور تقوی کے زیادہ حاصل ہونے کے باعث احادیث کو ہم دورافتادوں کی نسبت بہتر جانتے تھے اور ان کی صحت و سقم اورنسخ اور عدم نسخ کو ہم سے زیادہ پہچانتے تھے اور ان احادیث کے موافق عمل کے ترک کرنے میں کوئی نہ کوئی وجہ موجہ(معتبر دلیل) ضرور رکھتے ہوں گے اس قدرتو ہم کو تا ہ فہم بھی سمجھتے ہیں کہ احادیث کی روایتیں اشارہ عقد کی کیفیت میں بہت اختلاف میں ہیں اور نفس اشارہ &nbsp;میں بھی بکثرت اختلاف ظاہر ہے۔ بعض&nbsp;روایات سے مفہوم ہوتا ہے کہ عقد کے بغیر اشارہ کا حکم فرمایا ہے اور جو عقد کے ساتھ اشاره&nbsp;کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک بعض روایات میں (۵۳)کے عدد کا عقد تھا اور بعض دوسری روایات&nbsp;میں (۲۳) کا عقد ہے اور بعض&nbsp;نے خنصر(چھنگلیا) اور بنصر (اس کے ساتھ والی )کے قبضہ(بند) کرنے اور ابہام کو وسطی(انگوٹھے کا درمیانی انگلی کے ساتھ حلقہ بنا کر ) &nbsp;اشارہ سبابہ کو روایت کیا ہے اور بعض روایت میں صرف ابہام کو وسطی پر رکھ کر اشارہ کا حکم فر مایا ہے اور ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھ کر اور بائیں ہاتھ کو دائیں پاوں پر رکھ کر اشارہ کیا کرتے تھے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی پشت پر اور کہنی کو کہنی پر اور بازو کو بازو پر رکھ کر اشاره کرتے تھے اور بعض روایت میں آیا ہے کہ تمام انگلیوں کو قبض کر کے اشارہ کرتے تھے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سبابہ کے ہلائے بغیر اشارہ کا حکم ہے اور بعض دوسری روایات میں واقع ہے کہ تشہد کے پڑھتے وقت بلاتعین اشارہ کرتے تھے اور بعض روایت میں کلمہ شہادت کے پڑھتے وقت اشاره کا حکم ہے اور روایات میں اشارہ کرتے تھے اور بعض روایت میں کلمہ شہادت کے پڑھتے وقت اشارہ کاحکم ہے اور روایات میں اشارہ کو دعا کے وقت سے مقید کیا ہے کہ اس طرح فرمایا کرتے تھے<strong>۔ <em>یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ</em>&nbsp;ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلَی دِيْنِكَ</strong> اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔&nbsp;</p>



<p>جب علماء حنفیہ نے اشارہ کے بجالانے میں رایئوں کا اضطراب اور اختلاف دیکھا تو فعل زائد کو قیاس کے برخلاف نماز میں ثابت نہ کیا کیونکہ نماز کی بناسکون و وقار پر ہے اور نیز جہاں تک ہو سکے انگلیوں کا قبلہ کی طرف متوجہ رکھنا سنت ہے جیسا کہ رسول علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>فَلْیُوَجِّهُ</strong><strong> </strong><strong>مِنْ</strong><strong> </strong><strong>أَعْضَائِهِ</strong><strong> </strong><strong>الْقِبْلَةَ مَااسْتَطَا</strong>عَ (جہاں تک ہو سکے اپنے اعضاء کو قبلہ کی طرف متوجہ رکھے) اگر کہیں کہ کثرت اختلاف اس وقت مضطرب کرتا ہے جبکہ روایات کے در میان موافقت ناممکن ہو اور اس مسئلہ میں جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں ۔ موافقت ممکن ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تمام روایات کو(آنحضرت)مختلف اوقات میں کیا ہو۔ میں کہتا ہوں کہ بہت سی روایات میں لفظ كان واقع ہوا ہے جو منطقیوں کے نزدیک ادوات کلیہ(آلات کلیہ) میں سے ہے اس صورت میں توفیق و موافقت ناممکن ہے۔&nbsp;</p>



<p>اور یہ جو امام اعظم علیہ الرحمہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی حدیث میر ے قول کے برخلاف پاؤ تو میرے قول کو ترک کر دو اور حدیث پر عمل کرو۔ اس حدیث سے مراد وہ حدیث ہے جو&nbsp;حضرت امام اعظم علیہ الرحمہ کو نہیں پہنچی ہے اور اس حدیث کا علم نہ ہونے کے باعث اس کے بر خلاف حکم کیا ہے لیکن اشاره سبابہ کی حدیثیں اس قسم کی نہیں ہیں ۔ یہ حدیثیں مشہور ومعروف ہیں اور یہ امر ناممکن ہے کہ امام علیہ الرحمہ کو ان احادیث کا علم نہ ہو اور اگر کہیں کہ علماء حنفیہ نے بھی اشارہ کے جواز پرفتوے دیئے ہیں اور فتاوی متعارضہ کے موافق جس طرح عمل کیا جائے ، جائز ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر جواز وعدم جواز اورحل وحرمت میں تعارض واقع ہوتو عدم جواز اور حرمت کی جانب کوترجیح ہوگی۔&nbsp;</p>



<p>نیز شیخ ابن ہمام نے رفع یدین کے بارے میں کہ رفع اور عدم رفع کی حد یثیں متعارض ہیں۔ ہم قیاس کے ساتھ عدم رفع کی حدیثوں کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ نماز کی بنا سکون وخشوع پر ہے جو اجماع کے نزدیک مطلوب و مرغوب ہے اور شیخ ابن ہمام تعجب آتا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ بہت مشائخ سے عدم اشارہ مروی ہے اور یہ خلاف روایت ہے۔ افسوس ہے کہ اس نے کس طرح جہالت اور عدم علم کو علماء مجتہدین کی طرف منسوب کیا ہے۔ قیاس پر جوشرع کا اصل چہارم ہے۔ عمل کرنے والے ہیں اور حنفیہ کے نزدیک یہی ظاہر مذہب اور ظاہر روایت ہے اور اسی شیخ نے راویوں کے بکثرت اختلاف اور اضطراب کے باعث قلتین کی حدیث کو ضعیف بیان کیا ہے۔ فرزند ارشد محمدسعید اس بارے میں رسالہ لکھ رہا ہے جب تمام ہو جائے گا۔ روانہ&nbsp;کیا جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔&nbsp;</p>



<p>اور نیز آپ نے پوچھا تھا کہ طالبان طریقہ ہرطرف جمع ہیں اور کسی جگہ دلیری نہیں کی اور نہ ہی کسی کو کہا ہے کہ سرحلقہ ہو جس جانب اشارہ ہو اور جس کو مناسب جانیں فرمائیں تا کہ جماعت کا سرحلقہ بنایا جائے۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>میرے مخدوم ! یہ امر آپ کی صوابدید پر موقوف ہے۔ استخارہ اور توجہ کے بعد جو مناسب ہوعملدرآمد&nbsp;فرمائیں۔ <strong>وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَعَلیٰ مَنْ لَّدَیْکُمْ ۔&nbsp;</strong></p>



<p><strong>مزید دیکھیں</strong></p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%83-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%83-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8/" data-type="URL" data-id="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%83-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%83-%d8%a8%d8%a7%d9%84%d8%b3%d8%a8/">مسئلہ اشارہ سبابہ</a></span></strong></p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-cyan-blue-color"><a href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d9%81%d8%b9-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81/" data-type="URL" data-id="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ac%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%84%d9%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b1%d9%81%d8%b9-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81/">امام ربانی مجدد الف ثانی اور رفع سبابہ</a></span></strong></p>



<p><strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ492 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></span></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2587-%25d8%25b3%25d8%25a8%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-312-%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%25d8%25a7%2F&#038;title=%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D9%87%20%D8%B3%D8%A8%D8%A7%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20312%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%87-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-312-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/" data-a2a-title="اشاره سبابہ کی تحقیق مکتوب نمبر 312 دفتراول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%87-%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8%db%81-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-312-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رمز و اشارہ کے حقائق کا بیان مکتوب نمبر 311 دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%85%d8%b2-%d9%88-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-311-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%85%d8%b2-%d9%88-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-311-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 14:15:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت الف]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت میم]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت ہائے دو چشمی]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4700</guid>

					<description><![CDATA[اسرار غامضہ اور حقائق نادرہ کو رمز واشارہ کے طور پر بیان کرنے میں مظہر فیض الہی اور منبع اسرار نامتناہی۔ مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید کی طرف صادر فرمایا ہے۔  یہ اسرار حروف مقطعات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%85%d8%b2-%d9%88-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-311-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>اسرار غامضہ اور حقائق نادرہ کو رمز واشارہ کے طور پر بیان کرنے میں مظہر فیض الہی اور منبع اسرار نامتناہی۔ مخدوم زادہ خواجہ محمد سعید کی طرف صادر فرمایا ہے۔ </p>



<p>یہ اسرار حروف مقطعات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو قرآن کی آیات &nbsp;مُتشابہات &nbsp;میں سے&nbsp;ہیں جن کی تاویل سے علماء راسخین کو اطلاع دی ہے۔مثلا اللھم کے متعلق بیت ملاحظہ ہو</p>



<p><strong>&nbsp;</strong><strong>ها</strong><strong>&nbsp;</strong><strong>دو</strong><strong> </strong><strong>چشمی</strong><strong> </strong><strong>است</strong><strong> </strong><strong>مربے ما ہمچو</strong><strong> </strong><strong>الف</strong><strong> </strong><strong>رب</strong><strong> </strong><strong>حبیب</strong><strong> </strong><strong>خدا</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>لام</strong><strong> </strong><strong>مربی خلیل</strong><strong> </strong><strong>اللہ</strong><strong> </strong><strong>است</strong><strong> </strong><strong>میم</strong><strong> </strong><strong>ز</strong><strong> </strong><strong>تدبیر</strong><strong> </strong><strong>کلیم</strong><strong> </strong><strong>اللہ</strong><strong> </strong><strong>است</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ: ہائے دو چشمی کوسمجھ رب ہمارا جیسے ہے الف رب حبیب خدا&nbsp;لام ہے رب خلیل اللہ کا میم ہے رب کلیم اللہ کا&nbsp;۔</p>



<p>حضرت کلیم اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کے کاروبار کا ابتدا’’ حقیقت الف‘‘ ہے اور اس حقیر کے معاملہ کا مبدأ بھی تبعیت (اتباع کے طور پر) و وراثت کے طور پر بھی’’ حقیقت الف‘‘ ہے لیکن حضرت کلیم اللہ کی بازگشت ’’ حقیقت میم‘‘ کی طرف ہے اور اس حقیر کی بازگشت’’ حقیقت ہائے دوچشمی‘‘ ہے۔ اب میرا مرجع و مقام بھی &nbsp;’’حقیقت ہا‘‘ ہے۔ یہ حقیقت وہی ہے جس کو ’’غیب ہویت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں&nbsp;</p>



<p>اور یہ حقیقت رحمت کا خزانہ ہے جو دنیا میں فراخ کیا ہوا ہے اور ننانوے حصے رحمت کے جوآخرت کے لئے ذخیرہ کئے ہوئے ہیں۔ ان سب کا مستقر اور مستودع (جائے قرار و امانت گاہ)یہی حقیقت ہے۔ گویا&nbsp;اس کا ایک چشمہ دنیا کی رحمت کا خزانہ ہے اور اس کا دوسرا چشمہ آخرت کی رحمت کا گنجینہ ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>أَرْحَمُ ‌الرَّاحِمِينَ</strong>کی صفت کی اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس مقام (آخرت)میں’’ جمال صرف ‘‘کا ظہور ہے جس میں جلال کی ذرہ ملاوٹ نہیں۔ دوستوں کو دنیا میں جومحنت و اندوہ دیتے ہیں۔ یہ جمالی تربیت ہے جو جلال کی صورت میں ظاہر ہوئی ہے اور دشمنوں کو دنیا میں جونعمت وسرور دیتے ہیں۔ یہ جلال کا ظہور ہے جو جمال کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر ہے<strong>يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا</strong><strong> </strong>اکثرکو اس سے گمراہ کرتا ہے اور اکثر کو اس سے ہدایت دیتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اور حضرت خاتم الرسل علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسلیمات کے کاروبار کا مبدأ وہ حقیقت ہے جو ’’ حقیقت الف‘‘ سے برتر ہے اور ایسے ہی حضرت خلیل علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کا مبدأ وہی&nbsp;’’حقیقت فوقانی‘‘ ہے۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ کہ حضرت خاتم الرسل کی حقیقت اس حقیقت کا اجمال ہے اور حضرت خلیل کے مبدأ کی حقیقت کی تفصیل اور حضرت خاتم الرسل کی بازگشت الف کی حقیقت ہے اور حضرت خلیل کی بازگشت لام کی حقیقت ہے چونکہ اجمال کی وحدت کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے اس واسطے الف کی طرف مراجعت میسر ہوئی جو وحدت کے قریب ہے اور تفصیل کو چونکہ کثرت کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے۔ اس واسطے لام کی طرف بازگشت حاصل ہوئی جو کثرت کے نزدیک ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام مبدأ میں بھی کثیر البرکت ہیں اور معاد(آخرت)  و مرجع میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیدالبشر علیہ وعلی الہ الصلوة والسلام وہ صلوة و برکت جو حضرت خلیل علیہ الصلوة والسلام کی صلوة و برکت کی مانند ومماثل ہے۔ سوال کرتے ہیں اوراسماء الہیہ میں کہ جن کا رتبہ صفات کے رتبہ سے برتر ہے۔ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام کا رب اسم مبارک اللہ ہے اور اس حقیر کا رب اسم مبارک رحمن ہے چونکہ اس حقیر کو بلحاظ مبدأ کے حضرت کلیم کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے اس لئے بہت ہی برکتیں اس حضرت سے اس حقیر کوپہنچی ہیں ۔ اگر چہ اس فقیر کی ولایت موسوی ولایت نہیں ہے لیکن اس ولایت کی برکات سے بھری ہوئی ہے اور اس راہ سے بہت کی ترقیات کی ہیں اور وہ استفادہ (فائدہ    حاصل کرنا)جو اس حقیر نے ولایت سے کیا ہے اس ولایت کے جمال کی راہ سے ہے اور میرے فرزند اعظم علیہ الرحمتہ کا استفاده اس ولایت کے جلال کی راہ سے ہے۔ فقیر کی ولایت جو ولایت موسوی سے مستفاد(بطور فائدہ حاصل شدہ) ہے۔ اس مومن آدمی(سورہ مومن آیت28) کی ولایت کے مشابہ ہے جو آل فرعون سے تھا اور میرے فرزند اعظم(خواجہ محمد صادق) </p>



<p>عليه الرحمتہ کی ولایت فرعون کے ساحروں کی ولایت کے مانند ہے جو ایمان لائے تھے۔</p>



<p><strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener"> مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ490 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&amp;linkname=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d9%2585%25d8%25b2-%25d9%2588-%25d8%25a7%25d8%25b4%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%2581-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ad%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25a6%25d9%2582-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-311-2%2F&#038;title=%D8%B1%D9%85%D8%B2%20%D9%88%20%D8%A7%D8%B4%D8%A7%D8%B1%DB%81%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AD%D9%82%D8%A7%D8%A6%D9%82%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20311%20%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%85%d8%b2-%d9%88-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-311-2/" data-a2a-title="رمز و اشارہ کے حقائق کا بیان مکتوب نمبر 311 دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d9%85%d8%b2-%d9%88-%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-311-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسان کی جامعیت اور بعض پوشیده اسرار مکتوب نمبر 310دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d9%be%d9%88%d8%b4%db%8c%d8%af%d9%87-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d9%be%d9%88%d8%b4%db%8c%d8%af%d9%87-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 13:20:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[صفات ثمانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کمالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4695</guid>

					<description><![CDATA[انسان کی جامعیت اور بعض ان پوشیده اسرار کے میدان میں جو اس مقام سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے مناسب بیان میں مولانا محمد ہاشم کی طرف صادر فرمایا ہے۔&#160; حمدوصلوۃ کے بعد واضح ہو کہ جو انسان <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d9%be%d9%88%d8%b4%db%8c%d8%af%d9%87-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>انسان کی جامعیت اور بعض ان پوشیده اسرار کے میدان میں جو اس مقام سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے مناسب بیان میں مولانا محمد ہاشم کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p>حمدوصلوۃ کے بعد واضح ہو کہ جو انسان میں کمالات ہیں سب مرتبہ وجوب تعالت و تقدست سے مستفاد(بطور فائدہ حاصل شدہ) &nbsp;ہیں۔ اگر علم ہے تو وہ بھی اس مرتبہ کے علم سے مستفاد ہے اور اگر قدرت ہے تواسی مرتبہ کی قدرت سے ماخوذ ہے۔ علی ہذالقیاس ہر مرتبہ کا کمال اس مرتبہ کے اندازه&nbsp;کے موافق ہے۔ انسان کے علم کو واجب تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں وہ نسبت ہے جو مردہ کو جولاشے محض ہے اس زندہ کے ساتھ نسبت ہے جس نے حیات ابدی سے زندگی پائی ہو۔ اسی&nbsp;طرح انسان کی قدرت کو واجب تعالیٰ کی قدرت کے مقابلے میں وہ نسبت ہے جو عنکبوت(مکڑی) کو کہ اپنے گھر کو بنتا رہتا ہے۔ اس &nbsp;شخص کے ساتھ نسبت ہے جس کی ایک ہی پھونک سے زمین و آسمان و پہاڑ اور دریا پارہ پارہ ہوکرگرد کی طرح اڑ جائیں۔ دوسرے کمالات کو بھی اسی پر قیاس کرنا چاہیئے۔ یہ فرق بھی میدان عمارت تنگی کے باعث بیان کیا گیا ہے ورنہ۔</p>



<p><strong>&nbsp;</strong>(<strong>چہ نسبت خاک را با عالم پاک</strong>&nbsp;،خاک کو عالم پاک سے کیا نسبت)</p>



<p>پس انسان کے کمالات مرتبہ وجوب کے کمالات کی صورت میں ہیں اور ان کمالات نے اس مرتبہ کے کمالات سے مشارکت اسمی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں کیا۔ ۔ <strong>فَإِنَّ اللهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ</strong> الله تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اسی سبب سے ہے<strong> اور مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ </strong>(جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے رب کو پہچان لیا) کے معنی اس بیان سے ظاہر ہوتے ہیں کیونکہ جونفس میں ہے خواہ صورت ہی ہو وہی ہے جس کی حقیقت مرتبہ وجوب میں حاصل ہے۔ اس بیان سے انسان کی خلافت کے راز کو معلوم کرنا چاہیئے کیونکہ شے کی صورت شے کا خلیفہ ہوتی ہے۔ اس مقام پرزندیقوں(بے دینوں) &nbsp;اور مجوسیوں نے گمان کیا ہے کہ خداوند تعالیٰ انسان کی صورت پر ہے اور بیوقوفی سے انسان کے قول اور اعضاء کو حق تعالیٰ کے لئے ثابت کیا ہے۔ <strong>ضَلُّوْا فَاَضَلُّوْا </strong>یہ لوگ خود بھی گمراہ ہیں اور اوروں کو بھی گمراہ کرنے والے ہیں) یہ نہیں جانتے کہ حق تعالیٰ کی بارگاہ میں صورت وغیرہ کا اطلاق کرنا تشبیہ وتمثیل کی قسم سے&nbsp;ہے(استعارہ اور مجاز طور پر) نہ کہ تحقیق و تثبیت کے طور پر کیونکہ اس صورت کی حقیقت ترکیب اور تبعض اور تجزی یعنی جزجز ہونا چاہتی ہے جو وجوب کے منافی اور قدم کے مانع ہے۔ قرآن کی آیات متشابهات بھی ظاہر سے مصروف اور تاویل پرمحمول ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے <strong>وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ</strong> یعنی اس تاویل کو سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔ پس معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کے نزدیک متشابہ بھی تاویل پر محمول اور ظاہر سے مصروف ہیں اور علمائے راسخین کو بھی اس تاویل کا علم عطا فرماتا ہے جس طرح کہ علم غیب پر جواسی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اپنے خاص رسولوں کو اطلاع بخشتا ہے۔ اس تاو یل کو تو اس طرح خیال نہ کرے جس طرح کہ ید کی تادیل قدرت سے اور وجہ کی تاویل ذات سے کرتے ہیں۔ <strong>حَاشَا ‌وَكَلَّا</strong>بلکہ وہ تاویل ان اسرار میں سے ہے جن کا علم اخص خواص کو عطا فرماتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ فتوحات مکی والے اور اس کے تابعداروں نے کہا ہے کہ جس طرح واجب تعالیٰ کی صفات عین ذا ت ہیں ۔ اسی طرح یہ صفات بھی ایک دوسرے کی عین ہیں۔ مثلا علم جس طرح کے عین ذات ہے۔ اسی طرح عین قدرت اور عین ارادت اور عین سمع اور عین بصر بھی ہے۔ باقی صفات کو بھی اسی پر قیاس کرلینا چاہیئے۔ یہ بات بھی فقیر کے نزدیک صواب سے دور ہے کیونکہ اس بات سے صفات زائدہ کے وجود کی نفی لازم آتی ہے جو اہلسنت و جماعت<strong> </strong>کے مذہب کے برخلاف ہے کیونکہ صفات ثمانیہ(علمائے ماتریدیہ صفات سبعہ کے ساتھ تکوین بھی شمار کرتے ہیں) یا سبعہ (حیات، علم، قدرت،ارادہ، سمع، بصر، کلام) ان بزرگواروں کی رائے کے موافق خارج میں موجود ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ واجب تعالیٰ کی ذات و صفات کی عینیت کا وہم ان کو اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ انہوں نے اس مقام کے تغائر وتبائن کو اس مقام کے تغائر وتبائن کی طرح خیال کیا ہے اور جب اس تغائر وتبائن کو اس تغائر وتبائن کی طرح ہماری ذات و صفات ہیں ۔ نہ پایا اور اس مقام کےتمائز کو اس مقام کےتمائز کے مانند نہ دیکھا تو اس لئے تغائر وتبائن(غیر اور جدا) کی نفی کر دی اور ایک دوسرے کی عینیت کے قائل ہو گئے اور یہ نہ جانا کہ اس مقام کا تغائر وتمائز واجب تعالیٰ کی ذات و صفات کی طرح بیچون و بیچگون ہے اور اس تمائز کو اس تمائز کے ساتھ صورت و اسم کے سوا اور کوئی نسبت نہیں ۔ پس تبائن و تمائز اس مقام میں ثابت ہے لیکن اس کے ادراک سے عاجز ہیں ۔ یہ نہیں کہ جس چیز کا ہم ادراک نہ کرسکیں اس کی نفی کردیں اور اہل حق کے مخالف ہو جائیں<strong> وَاللَّهُ ‌سُبْحَانَهُ الْمُلْهَمُ ‌الصَّوَابَ</strong> اللہ تعالیٰ بہتری کا الہام کرنے والا ہے۔&nbsp;</p>



<p>                   <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ487ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong>                   </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d9%2585%25d8%25b9%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d9%25be%25d9%2588%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25af%25d9%2587-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25d9%2585%25da%25a9%2F&#038;title=%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AC%D8%A7%D9%85%D8%B9%DB%8C%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D9%BE%D9%88%D8%B4%DB%8C%D8%AF%D9%87%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20310%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d9%be%d9%88%d8%b4%db%8c%d8%af%d9%87-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9/" data-a2a-title="انسان کی جامعیت اور بعض پوشیده اسرار مکتوب نمبر 310دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d9%be%d9%88%d8%b4%db%8c%d8%af%d9%87-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رات اور دن کے محاسبہ کا بیان مکتوب نمبر 309دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d8%b3%d8%a8%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-309/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d8%b3%d8%a8%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-309/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 13:01:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[عذر خواہی و استغفار]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4692</guid>

					<description><![CDATA[رات اور دن کے محاسبہ کے بیان میں جیسا کہ وارد ہوا ہے۔ حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ ‌تُحَاسَبُوا (پیشتر اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے اپنا حساب کرلو) مولانا حاجی محمد فرکیتی کی طرف صادر فرمایا ہے۔ حمد <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d8%b3%d8%a8%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-309/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>رات اور دن کے محاسبہ کے بیان میں جیسا کہ وارد ہوا ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ ‌تُحَاسَبُوا</strong> (پیشتر اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے اپنا حساب کرلو) مولانا حاجی محمد فرکیتی کی طرف صادر فرمایا ہے۔</p>



<p>حمد وصلوة اورتبلیغ دعوات کے بعد عرض ہے کہ اکثر مشائخ قدس سرہم نے محاسبہ کا طریق اختیار کیا ہے۔ یعنی رات کو سونے سے پہلے اپنے افعال و اقوال کے دفتر کو ملاحظہ کرتے ہیں اور مفصل طور پر ہر ایک کی حقیقت میں غور کرتے ہیں اور توبہ و استغفار اور التجا و تضرع کے ساتھ اپنے گناہوں اور قصوروں کا تدارک کرتے ہیں اور اپنے اعمال و افعال صالحہ کو حق تعالیٰ کی توفیق کی طرف رجوع کر کے حق تعالیٰ کی حمدوشکر بجالاتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>فتوحات مکی والا بزرگ(شیخ ابن العربی) قدس سرہ محاسبہ کرنے والوں میں سے ہوا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میں اپنےمحاسبہ میں دوسرے مشائخ سے بڑھ گیا۔ یہاں تک کہ میں نے اپنی نیتوں اور خطرات کا بھی محاسبہ کرلیا۔ </p>



<p>فقیر کے نزدیک سونے سے پہلے سو بارتسبیح وتحمید و تکبیر کا کہنا جس طرح کہ حضرت مخبرصادق عليه الصلاة والسلام سے ثابت ہے۔محاسبہ کاحکم رکھتا ہے اور محاسبہ کا کام کردیتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>گویا کلمہ تسبیح &nbsp;کے تکرار سے جو توبہ کی کنجی ہے۔ اپنی برائیوں اور تقصیروں سے عذر خواہی کرتا ہے اور حق تعالیٰ کی پاک بارگاہ کو ان باتوں سے جن کے باعث ان برائیوں کا مرتکب ہوا ہے۔ منزہ اور مبرا ظاہر کرتا ہے کیونکہ برائیوں کے مرتکب کو اگر حضرت امرونہی یعنی حق تعالیٰ کی پاک بارگاہ کی عظمت و کبریا ملحوظ اور مدنظر ہوتی تو حق تعالیٰ کے امر کے برخلاف کرنے میں ہرگز دلیری نہ کرتا اور جب اس نے برے کام پر دلیری کی تو معلوم ہوا کہ مرتکب کے نزدیک حق تعالیٰ کے امرونہی کا کچھ اعتبار اور شمار نہ تھا<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>‌أَعَاذَنَا اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ</strong> ۔ پس اس کلمہ تنزیہہ( &nbsp;ذات حق کو امکانی نقائص سے پاک جاننا) کے تکرار سے اس تقصیر کی تلافی کرتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ استغفار میں گناہ کے ڈھاپنے کی طلب پائی جاتی ہے اور کلمہ تنزیہہ کے تکرار میں گناہوں کی بیخ کنی کی طلب ہے۔ <strong>فَاَیٌنَ</strong><strong> </strong><strong>هٰذَا</strong><strong> </strong><strong>مِنْ</strong><strong> </strong><strong>ذٰلِکَ</strong>(یہ اس کے برابر کس طرح ہوسکتا&nbsp;ہے) سبحان اللہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ اس کے الفاظ نہایت ہی کم ہیں لیکن اس کے معانی اور منافع بکثرت ہیں اورکلمہ تمجید کے تکرار سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی پاک با رگاه اس بات سے بہت ہی بلند ہے<strong> </strong>کہ یہ عذرخواہی اور یہ شکر اس کے لائق ہو کیونکہ اس کی عذرخواہی اور استغفار بہت ہی عذرخواہی اور استغفار کی محتاج ہے اور اس کی حمداس &nbsp;کے اپنے نفس کی طرف راجع ہے<strong> سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ</strong>(پاک ہے تیرا رب اس وصف سے کہ جو وہ کرتے ہیں بزرگ اور برتر ہے اور اللہ تعالیٰ کیلئے حمد ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے)محاسبہ کرنے والے شکر اور استغفار پرکفایت کرتے ہیں لیکن ان کلمات قدسیہ میں استغفار کا کام بھی ہوجاتا ہے اور شکر بھی ادا ہو جاتا ہے اور نیز استغفار اور شکر کے نقص کا اظہار بھی میسر ہو جاتا ہے۔ <strong>رَبَّنَا ‌تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ </strong>یا اللہ تو ہم سے قبول کر تو سننے اور&nbsp;جاننے والا</p>



<p>)<strong> وَصَلَّى اللَّهُ ‌ </strong><strong>تَعَالیٰ </strong><strong>عَلَى سَيِّدِنَا</strong><strong> </strong><strong>مُحَمَّدٍ &nbsp;وَعَلیٰ وَآلِهِ </strong><strong>وَصَحْبِهِ</strong><strong> </strong><strong>الطَّاهِرِيّنَ</strong><strong>&nbsp;</strong><strong>وَبَارِكْ</strong><strong> </strong><strong>عَلَيْہِ</strong><strong> </strong><strong>وَعَلَيْهِمْ</strong><strong> </strong><strong>أَجْمَعِيْنَ</strong><strong> </strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>                  <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ486ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong>                  </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&amp;linkname=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25af%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25a8%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-309%2F&#038;title=%D8%B1%D8%A7%D8%AA%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%AF%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%AD%D8%A7%D8%B3%D8%A8%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20309%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d8%b3%d8%a8%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-309/" data-a2a-title="رات اور دن کے محاسبہ کا بیان مکتوب نمبر 309دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d8%b3%d8%a8%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-309/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>زبان پر ہلکے اور میزان میں بھاری کلمےمکتوب نمبر 308دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%84%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%84%d9%85%db%92%d9%85%da%a9/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%84%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%84%d9%85%db%92%d9%85%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 12:54:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[تسبیح توبہ کی کنجی]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4689</guid>

					<description><![CDATA[حدیث نبوی ﷺ كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ  ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ  حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ (دو کلمے ہیں جو زبان پر خفیف ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ کے نزدیک محبوب ہیں وہ سبحان الله <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%84%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%84%d9%85%db%92%d9%85%da%a9/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>حدیث نبوی ﷺ <strong>كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ  ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ  حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ </strong>(دو کلمے ہیں جو زبان پر خفیف ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ کے نزدیک محبوب ہیں وہ <strong>سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم </strong>ہیں) کے معنی کے بیان میں مولانا فیض اللہ پانی پتی کی طرف صادر فرمایا ہے۔ </p>



<p>خدا تجھے ہدایت دے۔ جاننا چاہیئے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت پیارے اورمحبوب ہیں و<strong>ہ</strong><strong> </strong>سبحان <strong>الله</strong><strong> </strong><strong>وبحمده سبحان الله</strong><strong> </strong><strong>العظيم</strong><strong> </strong>ہیں<strong>۔</strong><strong>&nbsp;</strong>زبان پر ان کے ہلکا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے حروف کم ہیں اور میزان میں بھاری ہونے اور الله تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ پہلے کلمہ کا پہلا جزو ظاہر کرتا ہے کہ&nbsp;حق تعالیٰ ان تمام باتوں سے جو اس کی پاکی بارگاہ کے لائق نہیں ہےمنزہ ہے اور اس کی جناب کبریانقص کے صفات اور حدوث و زوال کے تمام نشانات سے برتر اور پاک ہے اور اس&nbsp;کلمہ کا دوسرا جزو ثابت کرتا ہے کہ تمام صفات کمال اور شیوانات جمال حق تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ خواہ وہ صفات وشيونات فضائل سے ہوں یا فواضل سے اور دونوں جزوؤں میں اضافت استغراق کیلئے ہے تا کہ تمام تقدیسات وتنزیہات اور تمام صفات کمال و جمال حق تعالیٰ ہی کیلئے ثابت ہونے کا افادہ(فائدہ&nbsp; پہنچانا&nbsp; ) دے&nbsp;اور دوسرے کلمے کا حاصل یہ ہے کہ عظمت و کبریاحق تعالیٰ ہی کیلئے&nbsp;ثابت کرنے کے با وجود تمام تنزیہات و تقدیسات اسی کی طرف راجع ہیں اور اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تمام نقائص حق تعالیٰ سے اس کی عظمت و کبریا ہی کے باعث مسلوب ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کے میزان میں بھاری اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہیں۔&nbsp;</p>



<p>اور نیز تسبیح توبہ کی کنجی بلکہ توبہ کا زبدہ اور خلاصہ ہے۔ جیسا کہ میں نے اپنے بعض مکتوبوں میں تحقیق کیا ہے۔ گویاتسبیح &nbsp;گناہوں کے محو ہونے اور برائیوں کے معاف ہونے کا وسیلہ ہے تو اس صورت میں بھی یہ کلمے میزان میں بھارے اور نیکیوں والے پلے کو جھکانے والے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک پیارے ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ عفوکو دوست رکھتا ہے اور نیز جب تسبیح اور حمد&nbsp;کرنے والاحق &nbsp;تعالیٰ کی پاک جناب کو ان تمام باتوں سے جو اس کے لائق نہیں ہیں ۔ م اور مرزا ظاہر کرتا ہے اور تمام صفات کمال اور جمال کو اس کیلئے ثابت کرتا ہےمنزہ&nbsp; وامبرہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کریم و وہاب جل شان بھی تسبیح پڑھنے والے کو تمام باتوں سے جو اس کے لائق نہیں ہیں پاک کرے گا اورحمد کرنے والے میں صفات کمال ظاہر کرے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ <strong>هَلْ جَزَاءُ ‌الْإِحْسَانِ إِلَّا ‌الْإِحْسَانُ</strong><strong> </strong>( احسان کا بدلہ احسان ہے۔ اس لحاظ سے بھی یہ دونوں کلمے میزان میں بھاری ہوں گے کیونکہ ان کے تکرار کے سبب سے گناه دور ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہوں گے کیونکہ ان کے ذریعے اخلاق حمیده حاصل ہوتے ہیں۔ والسلام&nbsp;</p>



<p>                 <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ484ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong>                 </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&amp;linkname=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b2%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%25be%25d8%25b1-%25db%2581%25d9%2584%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d9%2585%25db%258c%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a8%25da%25be%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c-%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2592%25d9%2585%25da%25a9%2F&#038;title=%D8%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86%20%D9%BE%D8%B1%20%DB%81%D9%84%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%85%DB%8C%D8%B2%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DB%8C%DA%BA%20%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%8C%20%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%92%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20308%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%84%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%84%d9%85%db%92%d9%85%da%a9/" data-a2a-title="زبان پر ہلکے اور میزان میں بھاری کلمےمکتوب نمبر 308دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b2%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%84%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d8%b2%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%a9%d9%84%d9%85%db%92%d9%85%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کلمہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ کا بیان مکتوب نمبر307دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%84%d9%85%db%81-%d8%b3%d9%8f%d8%a8%d9%92%d8%ad%d9%8e%d8%a7%d9%86%d9%8e-%d8%a7%d9%84%d9%84%d9%8e%d9%91%d9%87%d9%90-%d9%88%d9%8e%d8%a8%d9%90%d8%ad%d9%8e%d9%85%d9%92%d8%af%d9%90%d9%87%d9%90/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%84%d9%85%db%81-%d8%b3%d9%8f%d8%a8%d9%92%d8%ad%d9%8e%d8%a7%d9%86%d9%8e-%d8%a7%d9%84%d9%84%d9%8e%d9%91%d9%87%d9%90-%d9%88%d9%8e%d8%a8%d9%90%d8%ad%d9%8e%d9%85%d9%92%d8%af%d9%90%d9%87%d9%90/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 12:48:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[عالم امر]]></category>
		<category><![CDATA[عالم خلق]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4685</guid>

					<description><![CDATA[ کلمہ طیبہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ اور اس کے مناسب بیان میں مولانا عبدالواحد لا ہوری کی طرف صادر کیا ہے۔  . بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حمد وصلوة کے بعد واضح ہو کہ عابد عبارت کے ادا کرتے وقت جو حسن و <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%84%d9%85%db%81-%d8%b3%d9%8f%d8%a8%d9%92%d8%ad%d9%8e%d8%a7%d9%86%d9%8e-%d8%a7%d9%84%d9%84%d9%8e%d9%91%d9%87%d9%90-%d9%88%d9%8e%d8%a8%d9%90%d8%ad%d9%8e%d9%85%d9%92%d8%af%d9%90%d9%87%d9%90/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> کلمہ طیبہ <strong>سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ</strong> اور اس کے مناسب بیان میں مولانا عبدالواحد لا ہوری کی طرف صادر کیا ہے۔ </p>



<p><strong>. </strong><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ</strong><strong> </strong>حمد وصلوة کے بعد واضح ہو کہ عابد عبارت کے ادا کرتے وقت جو حسن و جمال اپنی عبادت میں معلوم کرتا ہے وہ سب حق تعالیٰ کی توفیق کی طرف راجع ہے اور اس کے حسن تربیت اور&nbsp;احسان سے ہے اور جو قصور و ناتمامی اپنی عبادت میں پاتا ہے۔ وہ سب اس کے اپنے نفس کی طرف عائد ہے اور اس کی پیدائشی شرارت سے پیدا ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ کی پاک جناب کی طرف کسی قوم کا قصورو نقص راجع نہیں ہے وہاں سب خیرو کمال ہی ہے۔ اسی طرح جو کچھ عالم میں واقع ہوتا ہے۔ اس کا حسن و کمال حق تعالیٰ کی پاک جناب کی طرف راجع ہے اور اس کا شر و نقص دائرہ ممکنات کی طرف عائد ہوتا ہے جو عدم میں کہ ہر شر ونقص کا منشاء (پیدا ہونے کی جگہ) ہے، قدم راسخ رکھتا ہے۔ کلمہ طیبہ <strong>سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ</strong> بہت اچھی طرح سے ان دو امروں کو بیان کرتا ہے اور ان امور سے جوحق تعالیٰ کی پاک جناب کے لائق نہیں ہیں یعنی شرور و نقائص سے حق تعالیٰ کی کمال تنزیہ و تقدیس ظاہر کرتا ہے اور حق تعالیٰ کے صفات و افعال جمیلہ اور اس کے انعامات و احسانات جزیلہ پر شکر کوحمد کی عبارت میں جو ہر شکر کی اصل ہے۔ ادا کرتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>اسی سبب سے حدیث نبوی &nbsp;ﷺ &nbsp;میں آیا ہے کہ جو کوئی اس کلمہ طیبہ کو دن میں یارات میں سو بار کہے کوئی عمل دن کا یا رات کا اس کے برابر نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے برابر اسی کلمہ طیبہ کو کہے اور کس طرح برابر ہو سکے جبکہ ہر ایک عمل و عبادت جوحق تعالیٰ کے شکروں میں&nbsp;سے کسی شکر کا ادا کرنا ہے۔ اس کلمہ طیبہ کے ایک ہی جزو سے ادا ہو جاتا ہے اور اس کا دوسرا جزو جوحق تعالیٰ کی تنزیہی و تقدیس کا بیان ہے۔ علیحدہ ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس آپ کو چاہیئے کہ ہر دن میں اس کلمہ طیبہ کو سو دفعہ کہا کریں<strong> وَالله سُبْحَانَهُ الْمُوَفِّقُ</strong> (اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے۔</p>



<p> سوال: حدیث نبوی ﷺمیں آیا ہے۔ <strong>سُبْحَانَ ‌اللَّهِ ‌وبِحمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، ورِضٰى نَفْسِهِ، َوزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِماتِهِ </strong>اور یہ بھی آیا ہے <strong>سُبْحَانَ ‌اللَّهِ مَلَاءُ الْمِيْزَانَ</strong> اور یہ بھی آیا ہے <strong>اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ‌أَضْعَافَ ‌مَا ‌حَمِدَهٗ جَمِيْعَ خَلْقِهٖ او</strong>ر کہنے والے نے ایک دفعہ سے زیادہ نہیں کہا اور ایک فرد کے سواعد وقوع میں نہیں آیا۔ پھر اس کو <strong>عَدَدَ خَلْقِهِ</strong> اعتبار سے کہیں اور<strong>رِضٰى نَفْسِهِ</strong> کس معنی سے کہیں اور<strong>زِنَةَ عَرْشِهِ</strong> کس طرح ہوگا اور<strong>مِدَادَ كَلِماتِهِ </strong>کس طرح درست ہوگا اور میزان کو کیسے پر کرے گا اور<strong> ‌أَضْعَافَ ‌مَا ‌حَمِدَهٗ جَمِيْعَ خَلْقِه</strong> کسی معنی سے کہا جائے گا۔</p>



<p>&nbsp;جواب : میں کہتا ہوں کہ انسان عالم خلق اور عالم امر کا جامع ہے جو کچھ عالم خلق اور عالم&nbsp;امر میں ہے۔ انسان میں شے زائد کے ساتھ موجود ہے اور وہ اس کی ہیئت وحدانی(تمام لطائف اورجسم) ہے جوخلق &nbsp;و امر کی ترکیب سے پیدا ہوئی ہے اور یہ ہئیت وحدانی انسان کے سوا کسی اورکو میسر نہیں ہوئی اور یہ ہیئت ایک غریب اعجو بہ اورعجیب نمونہ ہے۔ پس وہ حمد جو انسان سے وقوع میں آئے گی ۔ تمام خلائق کے حمد سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔ اسی قیاس پر دوسرے سوالات کا جواب سمجھ لو۔&nbsp;</p>



<p>پس تمام خلق سے مراد انسان کے ماسوا کو سمجھنا چاہیئے اور اگر انسان کو بھی اس میں داخل کر لیں تو میں کہتا ہوں کہ انسان کامل جس طرح تمام افراد عالم کو اپنے اجزاء معلوم کرتا ہے۔ انسان کو بھی اسی طرح اپنے اجزاء معلوم کرتا ہے اور اپنے آپ کو سب کا کل جانتا ہے۔ اس صورت میں اپنی حمد کو تمام جہان کی حمد سے کئی گنا زیادہ معلوم کرتا ہے اور نیز تمام افراد انسانی کی حمد سے بھی اپنی حمد کوکئی گنا زیادہ پائے گا۔<strong> وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong><strong>وَالتَزَمَ مُتَابَعَةَ المُصطَفىٰ عَلَيهِ وَعَليٰ اٰلِہٖ الصَّلَواتُ وَالتَّسلِيمَاتُ </strong>اور سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت پر چلا اور حضرت مصطفی ﷺ کی تابعداری کو لازم پکڑا۔</p>



<p>                <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ482ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong>                </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&amp;linkname=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d9%2584%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25b3%25d9%258f%25d8%25a8%25d9%2592%25d8%25ad%25d9%258e%25d8%25a7%25d9%2586%25d9%258e-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25d9%258e%25d9%2591%25d9%2587%25d9%2590-%25d9%2588%25d9%258e%25d8%25a8%25d9%2590%25d8%25ad%25d9%258e%25d9%2585%25d9%2592%25d8%25af%25d9%2590%25d9%2587%25d9%2590%2F&#038;title=%DA%A9%D9%84%D9%85%DB%81%20%D8%B3%D9%8F%D8%A8%D9%92%D8%AD%D9%8E%D8%A7%D9%86%D9%8E%20%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%8E%D9%91%D9%87%D9%90%20%D9%88%D9%8E%D8%A8%D9%90%D8%AD%D9%8E%D9%85%D9%92%D8%AF%D9%90%D9%87%D9%90%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1307%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%84%d9%85%db%81-%d8%b3%d9%8f%d8%a8%d9%92%d8%ad%d9%8e%d8%a7%d9%86%d9%8e-%d8%a7%d9%84%d9%84%d9%8e%d9%91%d9%87%d9%90-%d9%88%d9%8e%d8%a8%d9%90%d8%ad%d9%8e%d9%85%d9%92%d8%af%d9%90%d9%87%d9%90/" data-a2a-title="کلمہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ کا بیان مکتوب نمبر307دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%a9%d9%84%d9%85%db%81-%d8%b3%d9%8f%d8%a8%d9%92%d8%ad%d9%8e%d8%a7%d9%86%d9%8e-%d8%a7%d9%84%d9%84%d9%8e%d9%91%d9%87%d9%90-%d9%88%d9%8e%d8%a8%d9%90%d8%ad%d9%8e%d9%85%d9%92%d8%af%d9%90%d9%87%d9%90/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صاحبزادگان کے مناقب و کمالات کا ذکرمکتوب نمبر 306دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 10:37:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4679</guid>

					<description><![CDATA[حقائق آگاه معارف دستگاه مخدوم زاده کلاں خواجہ محمد صادق علیہ الرحمۃ والغفران اور مخدوم زادہ خردمرحوم و مغفورمحمدفرخ ومحمد عیسی رحمتہ اللہ علیہم کے بعض مناقب و کمالات ک ے ذکر میں اور اس مکتوب کے خاتمہ میں ارباب <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>حقائق آگاه معارف دستگاه مخدوم زاده کلاں خواجہ محمد صادق علیہ الرحمۃ والغفران اور مخدوم زادہ خردمرحوم و مغفورمحمدفرخ</p>
<p>ومحمد عیسی رحمتہ اللہ علیہم کے بعض مناقب و کمالات ک</p>
<p>ے ذکر میں اور اس مکتوب کے خاتمہ میں ارباب ولایت کی فنا کا بیان ہے اور اس بیان میں کہ قرب نبوت میں یہ فنا کچھ درکار نہیں ہے اور اس کے مناسب بیان میں مولانامحمد صالح کی طرف صادر فرمایا ہے۔ </p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong> <strong>لِلّٰهِ</strong> <strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) اخی محمد صالح نے اہل سر ہند کے واقعات کو سن لیا ہوگا۔ میرے فرزند اعظم رضی اللہ عنہ نے بمعہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں محمدفرخ و محمد عیسی کے آخرت کا سفر اختیار کیا۔ <strong>إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ ‌رَاجِعُونَ</strong></p>



<p>اللہ تعالیٰ کی حمد ہے کہ اس نے اول باقی مانده کو صبرکی قوت عطا فرمائی اور پھر مصیبت و بلا کو نازل فرمایا کسی نے کیا اچھا کہا ہے ۔ </p>



<p><strong>من</strong> <strong>از</strong> <strong>تو</strong> <strong>روئےپیچم</strong> <strong>گرم</strong> <strong>بیازاری</strong> <strong>که خوش</strong> <strong>بود</strong> <strong>عزیزاں</strong> <strong>تحمل</strong> <strong>وخواری</strong><strong> </strong></p>



<p>ترجمہ: ستائے لا کھ تو مجھ کو پھروں گا میں نہ کبھی پیارے یاروں کی سختی بہت ہےلگتی بھلی</p>



<p> میرا فرزند مرحوم(خواجہ محمد صادق) حق تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت اور رب العالمین کی رحمتوں میں سے ایک رحمت تھا۔ چوبیس برس کی عمر میں اس نے وہ کچھ پایا کہ شاید ہی کسی کے نصیب ہو۔ پایہ مولویت اور علوم نقلیہ اور عقلیہ کی تدریس کو حد کمال تک پہنچایا تھا۔ حتی کہ اس کے شاگرد بیضاوی اور شرح مواقف وغیرہ کے پڑھانے میں اعلی ملکہ رکھتے ہیں اور معرفت و عرفان کی حکایات اور شہود(مشاہدہ) و کشوف کے قصے بیان سے باہر ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آٹھ برس کی عمر میں اس قدر مطلوب الحال ہوگیا تھا کہ ہمارے حضرت خواجہ قدس سرہ ان کے حال کی تسکین کیلئے بازاری طعام سے جو مشکوک ومشتبہ ہوتا ہے۔ معالجہ کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو محبت مجھے محمد صادق کے ساتھ ہے اور کسی کے ساتھ نہیں اور ایسے ہی جو محبت اس کو ہمارے ساتھ ہے کسی کے ساتھ نہیں۔ اس کلام سے اس کی بزرگی کو معلوم کرنا چاہیئے۔ ولایت موسوی کو نقطہ آخرت تک پہنچایا اور اس ولایت علیہ کے عجائب وغرائب بیان کیا کرتا تھا اور ہمیشہ خاضع اور خاشع اورملتجی اور متضرع اور متذلل اور منکسر رہتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہر ایک ولی نے الله تعالیٰ سے ایک نہ ایک چیز طلب کی ہے ۔ میں نے التجا اور تضرع طلب کیا ہے۔ </p>



<p>محمد فرخ کی نسبت کیا لکھا جائے ۔ گیارہ سال کی عمر میں طالب علم اور کا فیہ خواں ہو گیا تھا اور بڑی سمجھ سے سبق پڑھا کرتا تھا اور ہمیشہ آخرت کے عذاب سے ڈرتا اور کانپتا رہتا تھا اور دعا کرتا تھا کہ بچپن ہی میں دنیائے کمینی کو چھوڑ جائے تا کہ عذاب آخرت سے خلاصی ہو جائے۔ مرض موت میں جو یار اس کے بیمار پرسی کو آتے تھے۔ بہت عجائب وغرائب اس سے مشاہدہ کرتے تھے اورمحمد عیسی سے آٹھ سال کی عمر میں لوگوں نے اس قدر خوارق و کرامات دیکھے کہ بیان سے باہر ہیں۔ غرض قیمتی موتی تھے جو امانت کے طور پر ہمارے سپرد کئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا احسان ہے کہ بلا جبر و اکراہ امانت والوں کی امانت ادا کر دی گئی<strong> اللهُمَّ ‌لَا ‌تَحْرِمْنَا أَجْرَهُم. وَلَا تَفْتِنَّا بِحُرْمَةِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَيْهِ وَعَلَیْھِمْ  الصَّلَوۃُ وَ التَّسلِيمَاتُ</strong> (یااللہ تو ہم کو ان کے اجر سے محروم نہ کیجیو اور ان کے بعد فتنہ میں نہ ڈالیو بحرمت سید المرسلین ﷺ۔ </p>



<p><strong>از ہر چہ می رود سخن دوست خوشتر است</strong> ترجمہ: تمام باتوں سے بہتر ہیں یار کی باتیں</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ فنا جو ماسوائے حق کے نسیان سے مراد ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ ماسوائے حق کی محبت و گرفتاری دور ہو جائے گی کیونکہ جب اشیاء کی ذاتیں اورصفتیں اور افعال دید و دانش(دیکھنے اور سمجھنے)  سے زائل ہو جائیں گے۔ ان کی محبت و گرفتاری بھی زائل ہو جائے گی۔ طریق ولایت میں ماسوی اللہ کا نسيان ضروری ہے تا کہ ماسوائے حق کی گرفتاری دور ہوجائے لیکن قرب نبوت کے مدارج میں اشیاء کی گرفتاری اور محبت کے دور کرنے کے لئے اشیا ء کا نسيان درکارنہیں کیونکہ قرب نبوت میں اصل کی گرفتاری جو في حد ذاتہ حسن جمیل ہے۔ اشیاء کی گرفتاری کا جو فی نفسہ قبیح اور غیر مستحسن ہیں۔ نام و نشان نہیں رہنے دیتی ۔ خود اشیاء فراموش ہوں یا نہ ہوں کیونکہ اشیاء کے علم میں اشیاء کی گرفتاری کے باعث جوحق تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف روگردانی کا موجب ہےذم کی وصف حاصل کر لی ہے جب اشیاء کی گرفتاری زائل ہوگئی ۔ اشیاء کا علم مذموم نہ ہوگا اور کس طرح مذموم ہو جبکہ اشیاء سب کے سب حق تعالیٰ کی معلوم ہیں اور ان سب کا علم صفات کا ملہ میں سے ہے ۔ اگر کہیں کہ جب ماسوی اللہ کا علم زائل نہیں ہوتا تو حق تعالیٰ کا علم اور ماسوائے حق کا علم ایک وقت میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔ پس ماسوی الله کا نسيان ضروری ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ علم جس کا اشیاء کے ساتھ تعلق ہے۔ علم حصولی کی قسم سے ہے اور وہ علم کہ جس کا تعلق حق تعالیٰ کی بارگاہ کے ساتھ ہے علم حضوری کے مشابہ ہے۔ </p>



<p>پس ہر دوعلم ایک وقت میں جمع ہو جائیں گے اور کوئی محذور ومحال لازم نہیں آئے گا۔ محال اس وقت لازم آتا ہے جبکہ دونوں علم حصولی ہوں اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ علم حصولی کی قسم سے ہے اور علم حضور کے مشابہ ہے وہ اس واسطے کہا ہے کہ وہاں نہ تو حصول کی حقیقت ہے اور نہ ہی حضور کی گنجائش ہے۔ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کا علم جو اشیاء کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ حصولی نہیں ہے کیونکہ حوادث کو حق تعالیٰ کی ذات و صفات میں حلول وحصول نہیں ہے اور اس عارف کا علم اس علم کا ایک پرتو ہے اور اس علم کو بھی کہ جس کا تعلق حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ حضوری نہیں کہہ سکتے کیونکہ حق تعالیٰ مدرکہ سے اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔ علم حضوری کو اس علم کے ساتھ وہی نسبت ہے جو علم حصولی کو علم حضوری کے ساتھ ہے۔ یہ معرفت عقل و فکر کے طور سے باہر ہے<strong>۔ وَمَنْ لَّمْ يَذُقْ لَم يَدْرِ </strong>جس نے مزہ ہی نہیں چکھا، وہ کیا جانے۔ </p>



<p>پس ثابت ہوا کہ اشیاء کا علم حق تعالیٰ کے علم کے منافی نہیں ہے۔ پس اشیاء کا نسیان کچھ ضروری نہیں۔ برخلاف طریق ولایت کے کہ وہاں اشیاء کی گرفتاری کا زائل ہونا اشیاء کے نسیان کے سوا متصور نہیں کیونکہ ولایت میں ظلال کے ساتھ گرفتاری ہوتی ہے اور ظلال کی گرفتاری میں اس قد رقوت نہیں کہ اشیاء کے علم کے باوجود اشیاء کی گرفتاری کو زائل کر سکے۔ پس اول نسیان کا ہونا ضروری ہے تا کہ گرفتاری زائل ہوجائے۔ یہ وہ معرفت ہے جو اس درویش ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی اور نے اس کی نسبت کوئی کلام نہیں کی ہے۔ </p>



<p><strong>الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقّ</strong>ِ (الله تعالیٰ کے لیے حمد ہے جس نے ہم کو ہدایت دی اور اگر وہ ہم کو ہدایت نہ دیتا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے، بیشک ہمارے اللہ تعالیٰ کے رسول حق کے ساتھ آئے ہیں)۔ </p>



<p><strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ479ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/" data-a2a-title="صاحبزادگان کے مناقب و کمالات کا ذکرمکتوب نمبر 306دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عامی اورمنتہی کی نماز کے درمیان فرق مکتوب نمبر 305دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d9%86%d8%aa%db%81%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b1%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d9%86%d8%aa%db%81%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b1%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 10:26:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[حضور قلب کی نماز]]></category>
		<category><![CDATA[عمل اور عامل کا فرق]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4676</guid>

					<description><![CDATA[نماز کے اسرار اور مبتدی اور عامی اورمنتہی کی نماز کے درمیان فرق اور اس کے مناسب&#160;بیان میں میر محب الله کی طرف صادر فرمایا ہے۔&#160; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اللہ تعالیٰ کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d9%86%d8%aa%db%81%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b1%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>نماز کے اسرار اور مبتدی اور عامی اورمنتہی کی نماز کے درمیان فرق اور اس کے مناسب&nbsp;بیان میں میر محب الله کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی</strong><strong> </strong><strong>ا</strong>للہ<strong> </strong>تعالیٰ کی حمد اور اور اس کے&nbsp;برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔&nbsp;</p>



<p>خدا تجھے ہدایت دے! تجھے واضح ہو کہ نماز کے کامل اور پورے طور پر ادا کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے فرائض اور واجبات اور سنت و مستحب جن کی تفصیل کتب فقہ میں بیان&nbsp;ہو چکی ہے، سب کے سب ادا کئے جائیں۔ ان چاروں امور کے سوا اور کوئی ایسا امر نہیں ہے جس کا نماز کے تمام و کامل کرنے میں دخل ہو۔ نماز کا خشوع بھی انہی چار امور میں مندرج ہے اور دل کا خشوع و خضوع اور حضوربھی انہی پر وابستہ ہے۔&nbsp;</p>



<p>بعض لوگ ان امور کی صرف جان لینے کو کافی سمجھتے ہیں اور عمل میں سستی اور سہل انگاری&nbsp;کرتے ہیں۔ اس لئے نماز کے کمالات سے بے نصیب رہتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>بعض لوگ حق تعالیٰ کے ساتھ حضور قلب میں بڑا اہتمام کرتے ہیں لیکن اعمال ادبیہ جوارح( اعضاء) میں کم مشغول ہوتے ہیں اور صرف سنتوں اور فرضوں پر کفایت کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھی نماز کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ یہ لوگ نماز کے کمال کو غیر نماز سے ڈھونڈتے ہیں کیونکہ حضور قلب کو نماز کے احکام سے نہیں جانتے اور یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ <strong>لا ضلوة الأ بحضور القلب </strong>نماز حضور قلب کے سوا کامل نہیں ہوتی۔ </p>



<p>ممکن ہے کہ اس حضور قلب سے مراد یہ ہو کہ ان امور اربعہ کے ادا کرنے میں دل کو حاضر رکھا جائے تا کہ ان امور میں سے کسی امر کے بجالانے میں فتور واقع نہ ہو اور اس حضور&nbsp;کے سوا اور کوئی حضور اس فقیر کی سمجھ میں نہیں آتا۔ سوال: جب نماز کا تمام اور کامل ہونا ان امور اربعہ کے بجا لانے پر موقوف ہے اور ان کے سوا اور کوئی امر نماز کے کامل کرنے میں ملحوظ نہیں ہے تو پھر مبتدی اور منتہی اور عامل کی نماز میں جبکہ ان امور کوملحووظ رکھ کر ادا کی جائے ، کیا فرق ہے؟</p>



<p>جواب: فرق عامل کی جہت سے ہے نہ کہ عمل کی جہت ہے۔ ایک ہی عمل کا اجر عامل کے تفاوت (فرق) کے باعث متفاوت ہوتا ہے۔ مثلا وہ عمل جو کسی مقبول اورمحبوب عامل سے وقوع میں آئے۔ اس کا اجر اس کے اجر سے کئی گنا زیادہ ہوگا جو اس عامل کے سوا کسی غیر کے اسی عمل پر مترتب ہو کیونکہ جس قدر عامل کا قد عظیم ہوگا، اسی قدر اس کے عمل کا بھی اجر زیادہ تر ہوگا۔ اسی سبب سے کہتے ہیں کہ عارف کاریائی عمل مرید کے اخلاص والے عمل سے بہتر ہے اور پھر&nbsp;کس طرح بہتر نہ ہو جبکہ عارف کاعمل سراسر اخلاص سے بھرا ہوا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے۔ یَا لَيْتَنِىْ کُنْتُ سَهْوَ مُحَمَّدٍ کہ کاش میں حضرت محمد ﷺکاسہو ہی ہو جاتا، گو ان کی آرزو یہی تھی کہ ہمہ تن آنحضرت ﷺکا سہو ہو جائیں۔ پس اپنے تمام احوال و اعمال کو آنحضرت ﷺکے عمل سہو سے کم جانتے ہیں اور آرزو کرتے اور چاہتے ہیں کہ اپنی تمام نیکیاں آنحضرت ﷺکے سہوہی کے برابر ہو جائیں اور آنحضرت ﷺکا سوال یہ تھا کہ ایک دفعہ حضور علیہ الصلوة والسلام نے چارگانہ فرض نماز کی دو رکعتوں پر بھول کر سلام پھیر دیا جیسا کہ مروی ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس منتہی کی نماز پردنیاوی نتائج اورثمرات کے باوجود آخرت کا بڑا بھاری اجر بھی مترتب&nbsp;ہے۔ برخلاف نماز مبتدی اور عامی کے۔ع&nbsp;</p>



<p>(<strong>چہ نسبت</strong><strong> </strong><strong>خاک</strong><strong> </strong><strong>را</strong><strong> </strong><strong>با</strong><strong> </strong><strong>عالم</strong><strong> </strong><strong>پاک</strong>&nbsp;،خاک کو عالم پاک سے کیا نسبت)</p>



<p>نماز کی چند خصوصیتیں بیان کی جاتی ہیں ۔ ان سے قیاس کر لیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ منتہی نماز میں قرآن کے پڑھنے اور تسبیحات و تکبیرات کے کہنے کے وقت اپنی زبان شجر ہ موسوی کی طرح معلوم کرتا ہے اور اپنے قوی اور اعضاء کو آلات اور وسائل جانتا ہے اورکبھی ایسا ہوتا ہے&nbsp;کہ نماز کے ادا کرتے وقت باطن و حقیقت ظاہر و صورت سے پورے طور پرتعلق توڑ کر عالم غیب کے ساتھ ملحق ہو جاتے ہیں اور غیب کے ساتھ مجہول الکیفیت(کیفیت معلوم نہ ہو) &nbsp;نسبت حاصل کر لیتے ہیں ۔ ان نماز سے فارغ ہو کر پھر اصل سوال کے جواب کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ امور اربعہ مذکورہ کا پورے طور پر بجالانے کی توفیق کم حاصل ہوتی ہیں اگر چہ ممکن اور جائز ہے۔&nbsp;</p>



<p><strong>وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ</strong><strong> </strong>(نماز بھاری ہے مگرخاشعین پر) <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong>(سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p>              <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ477ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong>              </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2585%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25aa%25db%2581%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25af%25d8%25b1%25d9%2585%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%B9%D8%A7%D9%85%DB%8C%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AA%DB%81%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%81%D8%B1%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20305%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d9%86%d8%aa%db%81%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b1%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa/" data-a2a-title="عامی اورمنتہی کی نماز کے درمیان فرق مکتوب نمبر 305دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%d9%86%d8%aa%db%81%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%81%d8%b1%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نماز کے بعض اسرار کا بیان مکتوب نمبر 304دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-304%d8%af%d9%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-304%d8%af%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 10:19:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[اعمال صالحہ جن پر بہشت میں داخل ہونا موقوف]]></category>
		<category><![CDATA[تسبیح و تہلیل کا بھید]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4673</guid>

					<description><![CDATA[&#160;ان اعمال صالحہ کے بیان میں کہ اکثر آیات قرآنی میں بہشت میں داخل ہونا ان پر&#160;موقوف رکھا ہے اور شکر کے ادا کرنے کے بیان میں اور نماز کے بعض اسرار اور معانی کے بیان میں مولانا عبدالحی کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-304%d8%af%d9%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;ان اعمال صالحہ کے بیان میں کہ اکثر آیات قرآنی میں بہشت میں داخل ہونا ان پر&nbsp;موقوف رکھا ہے اور شکر کے ادا کرنے کے بیان میں اور نماز کے بعض اسرار اور معانی کے بیان میں مولانا عبدالحی کی طرف صادر فرمایا ہے۔&nbsp;</p>



<p>خدا تجھے سعادت مند کرے حمدوصلوة کے بعد واضح ہو کہ مدت سے فقیر کو اس بات کا تردد تھا کہ ان اعمال صالحہ سے کہ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ نے اکثر آیات قرآنی میں ان پر بہشت میں داخل ہونا موقوف رکھا ہے۔ آیا تمام اعمال صالحہ مراد ہیں یا بعض اگر تمام اعمال صالح مراد ہیں تو یہ امر بہت مشکل ہے کیونکہ تمام اعمال صالحہ کے بجالانے کی توفیق شاید ہی کسی&nbsp;کو حاصل ہوئی ہو اور اگر بعض مراد ہیں تو مجہول اور نامعلوم ہیں ان کا تعین کسی کو معلوم نہیں۔ &#8211; آخرمحض اللہ تعالیٰ کے فضل سے دل میں آیا کہ اعمال صالحہ سے مراد شاید اسلام کے پانچ ارکان&nbsp;ہیں جس پر اسلام کی بنیاد ہے۔ اگر اسلام کے یہ اصول پنجگانہ کامل طور پر ادا ہو جائیں تو امید&nbsp;ہے کہ نجات و فلاح حاصل ہو جائے گی کیونکہ یہ اپنی ذاتی حدود میں اعمال صالحہ ہیں اور تمام برائیوں اور منکرات سے روکنے والے <strong>ہیں۔</strong><strong> </strong><strong>إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ ‌الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ </strong>(نماز تمام بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے اس مطلب پر شاہد ہے اور جب اسلام کے ان پنجگانہ ارکان کا بجا لانا میسر ہوگیا تو امید ہے کہ شکربھی ادا ہوگیا اور جب شکر ادا ہوگیا تو گویا عذاب&nbsp;سے نجات مل گئی۔ ‌<strong>مَا ‌يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ </strong>اگرتم شکر کرو اور ایمان لے آؤ تو اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ پس ان پنجگانہ ارکان کے بجالانے میں جان سے کوشش کرنی چاہیئے۔ خاص کر نماز کے قائم کرنے میں جو دین کا ستون ہے۔ حتی المقدور اس کے آداب میں سے کسی ادب کے ترک کرنے پر راضی نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر نماز کو کامل طور پر ادا کرلیا تو گویا اسلام کا اصل عظیم حاصل ہوگیا اور خلاصی کے واسطے حبل متین یعنی مضبوط رسی مل گئی<strong> وَالله سُبْحَانَهُ الْمُوَفِّقُ</strong> (اللہ تعالیٰ توفیق دینے والا ہے ۔</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ نماز میں تکبیر اولی سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ عابدوں کی عبادت اور نمازیوں کی نماز سے مستغنی اور برتر ہے اور وہ تکبیر ہیں جو ارکان کے بعد ہیں وہ اس امر کی رموز و اشارات ہیں کہ یہ رکن جو ادا ہوا ہے۔ حق تعالیٰ کی پاک بارگاہ کی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ رکوع کی تسبیح میں چونکہ تکبیر کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے آخررکوع میں تکبیر کہنے کاحکم نہ فرمایا بر خلاف دونوں سجدوں کے کہ باوجود ان کی تسبیحوں کے اول و آخرتکبیر کہنے کا امرکیا ہے تا کہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ سجود میں نہایت فروتنی اور پستی اور نہایت ذلت و انکسار ہے۔ حق عبادت ادا ہو جاتا ہے اور اسی وہم کے دور کرنے کے لئےسجود کی تسبیح میں لفظ اعلیٰ کواختیار کیا اورتکبیر کا تکرار بھی مسنون ہوا اور چونکہ نماز مومن کی معراج ہے۔ اس لئے آخر نماز میں ان کلمات کے پڑھنے کا حکم فرمایا جن کے ساتھ آنحضرت علیہ الصلوة والسلام شب معراج میں مشرف ہوئے تھے۔ پس نمازی کو چاہیئے کو نماز کو اپنا معراج بنائے اور نہایت قرب نماز میں حاصل کرے۔&nbsp;</p>



<p>رسول الله ﷺنے فرمایا ہے۔ أ<strong>َقْرَبُ ‌مَا ‌يَكُونُ ‌الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ </strong><strong>سب</strong><strong> </strong>سے زیادہ قرب جو بندہ کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ حاصل ہوتا ہے، وہ نماز میں ہوتا ہے۔ اور نمازی چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مناجات کرتا ہے اور نماز کے ادا کرتے وقت حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کا مشاہدہ کر کے حق تعالیٰ کا رعب و ہیبت اس پر چھا جاتا ہے اس لئے اس کی تسلی کے واسطے نماز کو دو سلاموں پر ختم کرنے کا امر فرمایا۔&nbsp;</p>



<p>اور یہ جو حدیث نبوی میں ہر فرض کے بعد سودفعہ تسبیح اور تحمید اور تکبیر تہلیل کا حکم ہے۔ فقیر کے علم میں اس کا بھید یہ ہے کہ ادائے نماز میں جو قصور و کوتاہی واقع ہوئی ہے۔ اس کی&nbsp;تلافی تسبیح وتکبیر کے ساتھ کی جائے اور اپنی عبادت کےناتمام اور نالائق ہونے کا اقرار کیا جائے اور جب حق تعالیٰ کی توفیق سے عبادت کا ادا کرنا میسر ہو جائے تو اس نعمت کی حمد شکر بجا لانا&nbsp;چاہیئے اور حق تعالیٰ کے سوا اور کسی کو عبادت کا مستحق نہ بنانا چاہیئے۔&nbsp;</p>



<p>جب نماز اس طرح شرائط و آداب کے ساتھ ادا ہو جائے اور بعدازاں تہ دل سے ان کلمات طیبہ<strong> </strong>کے ساتھ تقصیر کوتاہی کی تلافی کی جائے اور توفیق عبادت کی نعمت کا شکر ادا کیا جائے اور حق تعالیٰ کے سوا کسی غیر کو مستحق عبادت نہ بنایا جائے تو امید ہے کہ وہ نماز حق تعالیٰ کے نزدیک قبول کے لائق ہوئی اور وہ نمازی عذاب سے نجات پاجائے گا۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p><strong>اَللّٰهُمَّ </strong><strong>اجْعَلْنِیْ مِنَ</strong><strong> </strong><strong>الْمُصَلِّيْنَ</strong><strong> </strong><strong>الْمُفْلِحِيْنَ</strong><strong> &nbsp;</strong><strong>بِحُرْمَةِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ</strong><strong> </strong><strong>عَلَيْهِ وَعَلَیْھِمْ&nbsp; الصَّلَوۃُ وَ التَّسلِيمَاتُ</strong> یا اللہ تو ہم کو سید المرسلین ﷺکے طفیل خلاصی پانے والے نمازیوں میں سے بنا۔&nbsp;</p>



<p>             <strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ475ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong>             </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b2-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25b6-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25b1-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-304%25d8%25af%25d9%2581%2F&#038;title=%D9%86%D9%85%D8%A7%D8%B2%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%D8%B9%D8%B6%20%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%B1%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%A8%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20304%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-304%d8%af%d9%81/" data-a2a-title="نماز کے بعض اسرار کا بیان مکتوب نمبر 304دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%b6-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-304%d8%af%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
