<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>احدیت مطلقہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA-%D9%85%D8%B7%D9%84%D9%82%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Mon, 29 Jan 2024 02:08:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>احدیت مطلقہ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:20:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[ابطن كل باطن]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ازل الآزال]]></category>
		<category><![CDATA[اعتبارات ذات]]></category>
		<category><![CDATA[الغیب المسكوت عنہ]]></category>
		<category><![CDATA[انانیت حقہ]]></category>
		<category><![CDATA[باہوت]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط لاشے]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط لاکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[بطون البطون]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت حق]]></category>
		<category><![CDATA[خفاء الخفاء]]></category>
		<category><![CDATA[ذات بحت]]></category>
		<category><![CDATA[ذات بلا اعتبار]]></category>
		<category><![CDATA[ذات ساذج]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[شان تنزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عدم العدم]]></category>
		<category><![CDATA[عنقا]]></category>
		<category><![CDATA[عین الکافور]]></category>
		<category><![CDATA[عین مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب الغيوب]]></category>
		<category><![CDATA[غیب مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب ہویت]]></category>
		<category><![CDATA[قِدَم القِدَم]]></category>
		<category><![CDATA[کنز مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[کنہ حق]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لا تعین]]></category>
		<category><![CDATA[مجہول النعت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبة الهویت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ اولی]]></category>
		<category><![CDATA[معدوم الاشارات]]></category>
		<category><![CDATA[مکنون المکنون]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الاشارات]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الوجدان]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ]]></category>
		<category><![CDATA[نہایۃ النہایات]]></category>
		<category><![CDATA[ھو]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت حق]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت حقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[وجود البحت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7713</guid>

					<description><![CDATA[احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی) جسم کثیف سے جسم لطیف کا سفر (تنزل : ذات حق تعالٰی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل ہے(تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)</h1>
<h2>جسم کثیف سے جسم لطیف کا سفر</h2>
<p><span style="color: #993366;">(تنزل : ذات حق تعالٰی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل ہے(تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر ظلی طور پر ایک دوسرا وجود اختیار کرے)۔ تنزلات ستہ تصوف کا مشہور مسئلہ ہے اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ صوفیائے کرام نے ذات کے چھ مراتب قرار دیتے ہیں ۔  پہلا مرتبہ احدیث اس کو لاتعین ، ذات بحت کہتے ہیں۔)</span></p>
<p>احدیت، ذات حق کا تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی ہے جو وہم و گمان سے پاک ہے۔ اس میں کثرت کی گنجائش نہیں، یہاں ذات قیود سے آزاد ہوتی ہے۔ اطلاقیت اس مرتبہ کا خاصہ ہے۔ احدیت میں اعتبارات ذات، علم ، نور ، وجود اور شہود ضرور ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ میں حق تعالیٰ خود ہی علم ہے، خود ہی عالم اور خود ہی معلوم ۔ خود نور خود منوِّر اور خود منوَّر &#8211; خود وجود خود واجد اور خود موجود اس طرح خود شہود، خود شاہد اور خودمشہود &#8211; مگر اس مرتبہ میں ان اعتبارات کو بوجوہ ملحوظ نہیں رکھا گیا کیونکہ یہاں کسی قسم کے تعدد اور اعتبار غیریت کو دخل نہیں ہے ۔ یہ سقوط اعتبارات کی جہت ہے۔</p>
<p>جب کوئی چیز نہ تھی ، نہ پانی نہ خاک نہ ہوا نہ آگ ، نہ زمیں نہ آسماں ، نہ شجر نہ حجر ، نہ حیوانات تب ایک حقیقت (وجود حقیقی)تھی جو اپنے آپ موجود(موجود بالذات) تھی ہے جس کو عربی میں ہوبیت ہے ، فارسی میں ہستی۔ بعض حضرات اس کو عشق بھی کہتے ہیں ۔</p>
<p>یہ حقیقت اس مرتبہ (مراتب وجود کا پہلا مرتبہ مرتبہ لا تعین)میں تمام قیود سے پاک تھی اور اس کے تمام صفات و کمالات پوشیدہ تھے ۔ وہ اپنے کمال کے سبب کسی جانب متوجہ نہ تھی ۔ اپنے آپ پر حاضر تھی۔ اپنے غیر کی طرف متوجہ نہ تھی کیونکہ اس کا غیر تھاہی نہیں ۔ اس کی تمام صفات اُسی کی ذات(وجود مطلق) میں مندرج تھیں چنانچہ اس مرتبہ میں اس کا کوئی اسم اور کوئی صفت ظاہر نہیں۔ نہ کوئی نسبت نہ کوئی اضافت، بلکہ وہ صفت بطون و ظہور سے بھی پاک تھی ، اس کو اس مرتبہ میں ایک اور بہت نہ بولا جائے ، نہ اللہ ، نہ بندہ۔ اگرچہ بعض حضرات نے اس حقیقت کو اس مرتبہ میں بھی &#8221; اللہ &#8221; کہا ہے، لیکن اکثر صوفیہ کہتے ہیں کہ یہ اس حقیقت کا صرف تسمیہ ہے ، اس لیئے کہ الفاظ کی کوئی کمی تو ہے نہیں، جو چاہو نام رکھ لو لیکن نام رکھنے کا فائدہ کچھ نہیں کیونکہ نام رکھنے سے مقصود سمجھنا اور سمجھانا ہے ، اور یہاں صورت یہ ہے کہ کوئی اس حقیقت کو تعینات کے بغیر نہ پا سکتا ہے ، نہ سمجھ سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ جان سکتا ہے ۔ پھر جب یہ صورت ہے تو الفاظ سے اس کی جانب کیوں اشارہ کیا جائے وہ نام کی قید میں نہیں آ سکتی ، خواہ اس کے کتنے ہی نام رکھ لیئے جائیں ۔</p>
<p>وہ حقیقت اپنی یکتائی کے سبب عالم سے بے پروا ہے کیونکہ ذات بذات خود عالم کی طرف وجود و عدم کی نسبت یکساں رکھتی ہے، نہ اس کی موجودیت کی خواہش رکھتی ہے اور نہ اس کے عدم کی رغبت (اسی لئے اسے عدم العدم کہتے ہیں)، یہ بے پروائی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس حقیقت کو اس مرتبہ میں کوئی نہیں جان سکتا ، نہ ولی نہ نبی ہے کیونکہ وہ حقیقت اپنے اطلاق حقیقی (بے قیدی) کے سبب چاہتی ہے کہ نہ جانی جائے اور احاطہ و قید میں نہ آئے لیکن علم کا تقاضا ہے کہ معلوم اس کی گرفت میں آئے لہذا مر تبہ ذات کے ادراک سے عاجز رہنا عین ادراک (عدم علم کا علم بڑا علم ہے) ہے۔ پس تعینات ، اسماء ، صفات اور مظاہر کے بغیر ذات کی دریافت میں سعی کرنا عمر کو بے فائدہ  ضائع کرنا اور محال کو طلب کرنا ہے (ان کے بغیرادراک ممکن نہیں)۔ ایسی معرفت اس کے غیر کے لیئے ممتنع ہے ، الا یہ کہ بالا جمال ہوا اور وہ صرف یہ ہے کہ کائنات کے سوا ایک حقیقت تھی جس سے کائنات  کا ظہور ہوا ہے</p>
<p>وہ حقیقت اس مرتبہ میں تعین( حق کا اپنی ذات کو پانا)سے پاک ہے۔ کوئی ایک تعین اس حقیقت کو لازم نہیں، بلکہ ہر مرتبہ میں وہ ایک تعین، مرتبہ کے مطابق لیتی ہے۔ اور کسی تبدیلی کے بغیر مطلق بھی ہوتی ہے اور مقید بھی ، کلی بھی اور جزئئ بھی ، عام بھی اور خاص بھی، واحد بھی اور کثیر بھی ۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے الان کماکان یعنی اللہ تعالٰی اب بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ازل میں تھا ۔</p>
<p>اس مرتبہ ذات کو غیب ہویت(ذات خالص جس میں اسم رسم نعت وصف کو بھی دخل نہ ہو)، غیب الغيوب (یہ مرتبہ مراتب معقولہ سے بلند ہے)، ابطن كل باطن(باطن کا باطن ترین کوئی بھی مطلع نہیں)، ہویت مطلقہ(کسی قید میں نہیں آتی )،لا تعین ( کسی تعن کا اعتبار نہیں نہ اسمائی نہ افعالی)، عین الکافور(چشمہ کافور میں کافوری قہر و غلبہ سےکافوری صفت اختیار کر لیتی ہے )، ذات ساذج(خاص ذات) ،منقطع الاشارات(کسی اشارے کی حاجت نہیں) ، منقطع الوجدان(ذاتی و صفاتی وجدان نہیں) ،احدیت مطلقہ(ذات اطلاق حقیقی کے ساتھ احد ہے)، مجہول النعت(نعت وصف ثبوتی یہاں اس کا بھی اعتبار نہیں )،عنقا(جیسے عنقا زیر دام نہیں آتااسی طرح ذات کسی یافت میں نہیں آتی)، نقطہ (نکتہ دائرہ ممکنات بناتا ہےاعتباری ہے) اور گنج مخفی(اس مرتبہ میں ذات کی قابلیتیں خود ذات سے بھی مخفی ہوتی ہیں) کہتے ہیں</p>
<p>اس مرتبہ ذات کے اور بھی نام ہیں، مثلا :ازل الآزال :۔کیونکہ یہ مرتبہ جمله مراتب قدیمیہ ازلیہ کی انتہا ہے اور اس قِدَم (قدیم)میں اس سے بالاتر کوئی مرتبہ نہیں۔</p>
<p>الغیب المسكوت عنہ : سکوت کلام کی ضد ہے اور کلام اسم وصفت کا محتاج ہے۔ یہاں نہ اسم کو دخل ہے ، نہ صفت کو ، نہ کلام کو ، سکوت کے سوا یہاں چارہ نہیں۔</p>
<p>ذات بحت : بحت کہتے ہیں خالص کو ، یہاں ذات خالص از اسم در سم اور نعت و وصف ہے ۔</p>
<p>ذات بلا اعتبار:۔ کیونکہ یہاں جملہ اعتبارات و تقیدات مفقود ہیں ۔</p>
<p>مرتبة الهویت : ذات بحت بحیثیت ھو ، یعنی ذات جو کامل ہے اپنی ذاتیت ہیں۔</p>
<p>علی ھذا القیاس اس مرتبہ کو  کنہ حق ، ہویت حق ، حقیقت حق ، وجود البحت ، عین مطلق ، غیب مطلق ، مکنون المکنون ، بطون البطون ، خفاء الخفاء، قِدَم القِدَم نہایۃ، النہایات ، معدوم الاشارات ، بشرط لاشے ، بشرط لاکثرت ، باہوت ، ھو، شان تنزیہ، انانیت حقہ ، ہویت حقہ ، اور کنز مخفی بھی کہتے ہیں ۔ ان تمام اسمائے مرتبہ سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ ذات اس مرتبہ میں نا قابل یافت وادراک ہے۔</p>
<p>احدیت بے رنگی وبے کیفی کا مرتبہ ہے ۔ یہاں ذات بے چند وچوں اور بے شبہ ونموں ہے ۔ بے وصف ، بے نعت ، بے نام ، بے نشان، بے زمان ، بے مکان ۔ یہ مرتبہ ہویت ہے۔ اس میں اول و آخرہویت ہی ہو یت ہے۔ یہاں طمع معرفت فضول ہے۔ کان اللہ ولم یکن معه شی اللہ ہی اللہ ہے اس کے ساتھ کچھ اور نہیں ۔ یہ مرتبہ لا ادریت ہے۔ اسی کے متعلق شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے کہا ہے :</p>
<p>كل الناس في ذات الله حمقاء</p>
<p>ذات حق کے علم میں سب احمق ہیں</p>
<p>نوٹ: یہ سب نام صوفیائے کرام نے سمجھانے کیلئے رکھے ہیں تاہم اس کے باوجود یہی واجب الوجود ذات باقی تمام مراتب کی عین اور حقیقت ہے۔ یہ ایک ایسا مرتبہ ہے۔ جس پر علم قدیم بھی احاط نہیں کرسکتا۔ مرتبہ احدیت رب تعالی کی کنہ ہے جو کسی وہم سے موہوم کسی علم سے معلوم اور کسی صفت سے موصوف نہیں ہوسکتی۔ اس مرتبہ پر صفات تو در کنار خود ذات کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&#038;title=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/" data-a2a-title="احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عین کا مفہوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 06 Jun 2023 11:50:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت الجماعت]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[خالص لا تعین]]></category>
		<category><![CDATA[عین الکمال]]></category>
		<category><![CDATA[عین کا مفہوم]]></category>
		<category><![CDATA[عین کمال]]></category>
		<category><![CDATA[عین مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب ہویت]]></category>
		<category><![CDATA[فلک ولایا]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الوجدان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6738</guid>

					<description><![CDATA[عین کا مفہوم عین کے معنی اصل، بنیاد، جڑ حقیقت،اصل جوہر ذات ، نفس، وجود، ہر موجود چیز اصطلاح تصوف میں  حق کے ساتھ ایک ہونا اور ہستی حق میں گم ہونا اور سالک کا اپنے کو ذاتِ حق میں <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>عین کا مفہوم</h1>
<h2>عین کے معنی</h2>
<p>اصل، بنیاد، جڑ حقیقت،اصل جوہر ذات ، نفس، وجود، ہر موجود چیز<br />
اصطلاح تصوف میں  حق کے ساتھ ایک ہونا اور ہستی حق میں گم ہونا اور سالک کا اپنے کو ذاتِ حق میں گم کرنا اور اپنی خودی سے فنا ہو کر بقا باللہ ہو جانا اور وصال کی لذت لینا.</p>
<p>عین اشارہ ہے اس شے کی ذات کی طرف جس سے اشیاءء ظاہر ہوں</p>
<p><strong>صا</strong>نع عالم قدیم ایسی صفات قدیمہ سے متصف ہے اُس کی صفتیں نہ عین ہیں نہ غیر  ( یعنی کسی بھی طور پر صفات، ذات سے جدا ہو کر نہیں پائی جا سکتیں )، یعنی صفات اُسی ذات ہی کا نام ہو ایسا نہیں اور نہ اُس سے کسی طرح کسی نحوِ وجود میں جدا ہوسکیں</p>
<h2>عین اور ذات کی مثال</h2>
<p>بلا تشبیہ اس کو یوں سمجھیں کہ پھول کی خوشبو پھول کی صفت ہے جو پھول کے ساتھ ہی پائی جاتی ہے، مگر اس خوشبو کو ہم پھول نہیں کہتے، اور نہ ہی اُسے پھول سے جدا کہہ سکتے ہیں ۔</p>
<p>عین دو قسموں کی طرف تقسیم ہوتا ہے پہلے کا نام عین مطلق ہے دوسرے کوعین کمال کہا جاتا ہے اور کبھی عین مطلق کا نام احدیت مطلقہ اور عین الکمال بھی کہا جاتا ہے  ذات باری تعالی کے لیے اسے ذات بحت خالص اپنے نفس اور ذات کے مرتبہ میں تمام نسبتوں اور اضافتوں سے بے نیاز</p>
<p>اس میں صرف اس کی  ذات من حیث الذات ملاحظہ ہوگی  اور اس لیے اس کو وجود اور وجود صرف اور غیب الغیوب اور مجہول نعت اور ذات ساذج(ساذج ، سادہ کا معرب ہے۔ ذات ساذج اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہاں ذات میں کوئی چیز شامل نہیں ، بلکہ خالص ذات ہی ذات ہے۔) اور منقطع الوجدان ، غیب ہویت اور عین مطلق کہا جاتا ہے اور عین مطلق اس کا نام اس لئے رکھا جاتا ہے کہ اس حالت میں اللہ تعالی کی ذات ہر وجود سے خالی ہے یہاں تک کہ اس اطلاق کے ملاحظہ سے بھی اللہ تعالی تھا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی کا یہی معنی ہے اور ہر نام کے ساتھ نام رکھنے کی وجوہات اس آدمی پر مخفی نہیں ہے جس کو فیض اقدس کی تجلی سے نور رحمانی عطا ہوا ہے مختصر یہ کہ اس ذات اور اس حالت میں احدیت ہے جو اسماء و صفات کی ملاحظہ سے بھی فارغ ہے اور اسے خالص لا تعین کہا جاتا ہے یہاں تک کہ لا تعین کے ملاحظہ سے بھی اور اسی لیے اس کو احدیت مطلقہ کہا جاتا ہے اس مرتبہ میں ایسی چیز کی حیثیت سے جن سے وجدان تعلق رکھتا ہے</p>
<p>چشمہ کو عین اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں وہ پانی عین کمال کی طرف جاری ہے وہ اسم ہے اور جس میں صفات اور اسماء مجمل طور پر معلوم ہے اور یہی تعین اول ہے اور یہی حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے</p>
<p>پس کمالات الہیہ کا ظہور تعین اول سے ہوتا ہے جو تمام کمالات کے لئے جامع برزخ ہے اورتعین ثانی وہ ہے جس سے کمالات ظاہر ہوتے ہیں اور اسی سے اللہ تعالی کا قول اگر تو نہ ہوتا تو میں ربوبیت کو ظاہر نہ کرتا ظاہر ہوتا ہے اور اس کے قول کی حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ میرے نور سے نور اے میرے سر کے سر اور اے میری معرفت کے خزانے اور  علم مطلق اور وجود مطلق اور وحدت حقیقت اور تجلی کے اولا اور ظہور متون میں پہلا رابطہ اور قابلیت عدلیہ اور مقام او ادنی اور برزخ قبر اور برزخ البرزخ اور احدیت الجماعت اور حقیقت محمدیہ اور فلک ولایا کہا جاتا ہے</p>
<p>اور کیونکہ اس مرتبہ میں ذات صرف تعین اللہ نے متعین ہوئی اور اس نے اپنے نفس کو اپنے نفس سے مالی طور پر اسماء و صفات سے موصوف پایا تو اس کے لئے وجود اور علم ثابت ہوا اور جب اس نے اپنے نور سے اپنے نفس سے مشہور ہو کر اپنے کمال کا مشاہدہ کیا اور اس طرح تجلّی فرمائی جو ظاہر ہو گیا تو اس کے لئے نور اور شہود کا مرتبہ ثابت ہوا تو اس کے لیے اس حالت میں چار مراتب ہے شود نور آئل اور وجود</p>
<p>تو ضروری ہوا</p>
<p>کہ اس بیان میں دو دائرے منسوب کیے جائیں پہلا دارا لا تعین اور اس کے مطابق ہے</p>
<p>اور دوسرا دائرہ وحدت جس میں یہ چاروں مراتب محفوظ ہیں اور اس کی صورت یہ ہے</p><p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&amp;linkname=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d9%2581%25db%2581%25d9%2588%25d9%2585%2F&#038;title=%D8%B9%DB%8C%D9%86%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D9%81%DB%81%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/" data-a2a-title="عین کا مفہوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%81%db%81%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
