<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>علم حصولی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B9%D9%84%D9%85-%D8%AD%D8%B5%D9%88%D9%84%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Wed, 26 Jul 2023 06:05:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>علم حصولی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>صاحبزادگان کے مناقب و کمالات کا ذکرمکتوب نمبر 306دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 06 Dec 2021 10:37:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4679</guid>

					<description><![CDATA[حقائق آگاه معارف دستگاه مخدوم زاده کلاں خواجہ محمد صادق علیہ الرحمۃ والغفران اور مخدوم زادہ خردمرحوم و مغفورمحمدفرخ ومحمد عیسی رحمتہ اللہ علیہم کے بعض مناقب و کمالات ک ے ذکر میں اور اس مکتوب کے خاتمہ میں ارباب <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>حقائق آگاه معارف دستگاه مخدوم زاده کلاں خواجہ محمد صادق علیہ الرحمۃ والغفران اور مخدوم زادہ خردمرحوم و مغفورمحمدفرخ</p>
<p>ومحمد عیسی رحمتہ اللہ علیہم کے بعض مناقب و کمالات ک</p>
<p>ے ذکر میں اور اس مکتوب کے خاتمہ میں ارباب ولایت کی فنا کا بیان ہے اور اس بیان میں کہ قرب نبوت میں یہ فنا کچھ درکار نہیں ہے اور اس کے مناسب بیان میں مولانامحمد صالح کی طرف صادر فرمایا ہے۔ </p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ</strong> <strong>لِلّٰهِ</strong> <strong>وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی </strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) اخی محمد صالح نے اہل سر ہند کے واقعات کو سن لیا ہوگا۔ میرے فرزند اعظم رضی اللہ عنہ نے بمعہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں محمدفرخ و محمد عیسی کے آخرت کا سفر اختیار کیا۔ <strong>إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ ‌رَاجِعُونَ</strong></p>



<p>اللہ تعالیٰ کی حمد ہے کہ اس نے اول باقی مانده کو صبرکی قوت عطا فرمائی اور پھر مصیبت و بلا کو نازل فرمایا کسی نے کیا اچھا کہا ہے ۔ </p>



<p><strong>من</strong> <strong>از</strong> <strong>تو</strong> <strong>روئےپیچم</strong> <strong>گرم</strong> <strong>بیازاری</strong> <strong>که خوش</strong> <strong>بود</strong> <strong>عزیزاں</strong> <strong>تحمل</strong> <strong>وخواری</strong><strong> </strong></p>



<p>ترجمہ: ستائے لا کھ تو مجھ کو پھروں گا میں نہ کبھی پیارے یاروں کی سختی بہت ہےلگتی بھلی</p>



<p> میرا فرزند مرحوم(خواجہ محمد صادق) حق تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت اور رب العالمین کی رحمتوں میں سے ایک رحمت تھا۔ چوبیس برس کی عمر میں اس نے وہ کچھ پایا کہ شاید ہی کسی کے نصیب ہو۔ پایہ مولویت اور علوم نقلیہ اور عقلیہ کی تدریس کو حد کمال تک پہنچایا تھا۔ حتی کہ اس کے شاگرد بیضاوی اور شرح مواقف وغیرہ کے پڑھانے میں اعلی ملکہ رکھتے ہیں اور معرفت و عرفان کی حکایات اور شہود(مشاہدہ) و کشوف کے قصے بیان سے باہر ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ آٹھ برس کی عمر میں اس قدر مطلوب الحال ہوگیا تھا کہ ہمارے حضرت خواجہ قدس سرہ ان کے حال کی تسکین کیلئے بازاری طعام سے جو مشکوک ومشتبہ ہوتا ہے۔ معالجہ کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو محبت مجھے محمد صادق کے ساتھ ہے اور کسی کے ساتھ نہیں اور ایسے ہی جو محبت اس کو ہمارے ساتھ ہے کسی کے ساتھ نہیں۔ اس کلام سے اس کی بزرگی کو معلوم کرنا چاہیئے۔ ولایت موسوی کو نقطہ آخرت تک پہنچایا اور اس ولایت علیہ کے عجائب وغرائب بیان کیا کرتا تھا اور ہمیشہ خاضع اور خاشع اورملتجی اور متضرع اور متذلل اور منکسر رہتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہر ایک ولی نے الله تعالیٰ سے ایک نہ ایک چیز طلب کی ہے ۔ میں نے التجا اور تضرع طلب کیا ہے۔ </p>



<p>محمد فرخ کی نسبت کیا لکھا جائے ۔ گیارہ سال کی عمر میں طالب علم اور کا فیہ خواں ہو گیا تھا اور بڑی سمجھ سے سبق پڑھا کرتا تھا اور ہمیشہ آخرت کے عذاب سے ڈرتا اور کانپتا رہتا تھا اور دعا کرتا تھا کہ بچپن ہی میں دنیائے کمینی کو چھوڑ جائے تا کہ عذاب آخرت سے خلاصی ہو جائے۔ مرض موت میں جو یار اس کے بیمار پرسی کو آتے تھے۔ بہت عجائب وغرائب اس سے مشاہدہ کرتے تھے اورمحمد عیسی سے آٹھ سال کی عمر میں لوگوں نے اس قدر خوارق و کرامات دیکھے کہ بیان سے باہر ہیں۔ غرض قیمتی موتی تھے جو امانت کے طور پر ہمارے سپرد کئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا احسان ہے کہ بلا جبر و اکراہ امانت والوں کی امانت ادا کر دی گئی<strong> اللهُمَّ ‌لَا ‌تَحْرِمْنَا أَجْرَهُم. وَلَا تَفْتِنَّا بِحُرْمَةِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَيْهِ وَعَلَیْھِمْ  الصَّلَوۃُ وَ التَّسلِيمَاتُ</strong> (یااللہ تو ہم کو ان کے اجر سے محروم نہ کیجیو اور ان کے بعد فتنہ میں نہ ڈالیو بحرمت سید المرسلین ﷺ۔ </p>



<p><strong>از ہر چہ می رود سخن دوست خوشتر است</strong> ترجمہ: تمام باتوں سے بہتر ہیں یار کی باتیں</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ فنا جو ماسوائے حق کے نسیان سے مراد ہے اس سے مقصود یہ ہے کہ ماسوائے حق کی محبت و گرفتاری دور ہو جائے گی کیونکہ جب اشیاء کی ذاتیں اورصفتیں اور افعال دید و دانش(دیکھنے اور سمجھنے)  سے زائل ہو جائیں گے۔ ان کی محبت و گرفتاری بھی زائل ہو جائے گی۔ طریق ولایت میں ماسوی اللہ کا نسيان ضروری ہے تا کہ ماسوائے حق کی گرفتاری دور ہوجائے لیکن قرب نبوت کے مدارج میں اشیاء کی گرفتاری اور محبت کے دور کرنے کے لئے اشیا ء کا نسيان درکارنہیں کیونکہ قرب نبوت میں اصل کی گرفتاری جو في حد ذاتہ حسن جمیل ہے۔ اشیاء کی گرفتاری کا جو فی نفسہ قبیح اور غیر مستحسن ہیں۔ نام و نشان نہیں رہنے دیتی ۔ خود اشیاء فراموش ہوں یا نہ ہوں کیونکہ اشیاء کے علم میں اشیاء کی گرفتاری کے باعث جوحق تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف روگردانی کا موجب ہےذم کی وصف حاصل کر لی ہے جب اشیاء کی گرفتاری زائل ہوگئی ۔ اشیاء کا علم مذموم نہ ہوگا اور کس طرح مذموم ہو جبکہ اشیاء سب کے سب حق تعالیٰ کی معلوم ہیں اور ان سب کا علم صفات کا ملہ میں سے ہے ۔ اگر کہیں کہ جب ماسوی اللہ کا علم زائل نہیں ہوتا تو حق تعالیٰ کا علم اور ماسوائے حق کا علم ایک وقت میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔ پس ماسوی الله کا نسيان ضروری ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ علم جس کا اشیاء کے ساتھ تعلق ہے۔ علم حصولی کی قسم سے ہے اور وہ علم کہ جس کا تعلق حق تعالیٰ کی بارگاہ کے ساتھ ہے علم حضوری کے مشابہ ہے۔ </p>



<p>پس ہر دوعلم ایک وقت میں جمع ہو جائیں گے اور کوئی محذور ومحال لازم نہیں آئے گا۔ محال اس وقت لازم آتا ہے جبکہ دونوں علم حصولی ہوں اور یہ جو میں نے کہا ہے کہ علم حصولی کی قسم سے ہے اور علم حضور کے مشابہ ہے وہ اس واسطے کہا ہے کہ وہاں نہ تو حصول کی حقیقت ہے اور نہ ہی حضور کی گنجائش ہے۔ حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کا علم جو اشیاء کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ حصولی نہیں ہے کیونکہ حوادث کو حق تعالیٰ کی ذات و صفات میں حلول وحصول نہیں ہے اور اس عارف کا علم اس علم کا ایک پرتو ہے اور اس علم کو بھی کہ جس کا تعلق حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ حضوری نہیں کہہ سکتے کیونکہ حق تعالیٰ مدرکہ سے اس کے اپنے نفس سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔ علم حضوری کو اس علم کے ساتھ وہی نسبت ہے جو علم حصولی کو علم حضوری کے ساتھ ہے۔ یہ معرفت عقل و فکر کے طور سے باہر ہے<strong>۔ وَمَنْ لَّمْ يَذُقْ لَم يَدْرِ </strong>جس نے مزہ ہی نہیں چکھا، وہ کیا جانے۔ </p>



<p>پس ثابت ہوا کہ اشیاء کا علم حق تعالیٰ کے علم کے منافی نہیں ہے۔ پس اشیاء کا نسیان کچھ ضروری نہیں۔ برخلاف طریق ولایت کے کہ وہاں اشیاء کی گرفتاری کا زائل ہونا اشیاء کے نسیان کے سوا متصور نہیں کیونکہ ولایت میں ظلال کے ساتھ گرفتاری ہوتی ہے اور ظلال کی گرفتاری میں اس قد رقوت نہیں کہ اشیاء کے علم کے باوجود اشیاء کی گرفتاری کو زائل کر سکے۔ پس اول نسیان کا ہونا ضروری ہے تا کہ گرفتاری زائل ہوجائے۔ یہ وہ معرفت ہے جو اس درویش ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی اور نے اس کی نسبت کوئی کلام نہیں کی ہے۔ </p>



<p><strong>الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقّ</strong>ِ (الله تعالیٰ کے لیے حمد ہے جس نے ہم کو ہدایت دی اور اگر وہ ہم کو ہدایت نہ دیتا تو ہم بھی ہدایت نہ پاتے، بیشک ہمارے اللہ تعالیٰ کے رسول حق کے ساتھ آئے ہیں)۔ </p>



<p><strong><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ479ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></strong></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a8%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25da%25af%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25a8-%25d9%2588-%25da%25a9%25d9%2585%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25b0%25da%25a9%25d8%25b1%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DA%AF%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8%20%D9%88%20%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%DA%A9%D8%A7%20%D8%B0%DA%A9%D8%B1%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20306%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/" data-a2a-title="صاحبزادگان کے مناقب و کمالات کا ذکرمکتوب نمبر 306دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8%d8%b2%d8%a7%d8%af%da%af%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a8-%d9%88-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%b0%da%a9%d8%b1%d9%85%da%a9%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سماع و رقص و وجد کے معارف اوراحکام مکتوب نمبر 285دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b9-%d9%88-%d8%b1%d9%82%d8%b5-%d9%88-%d9%88%d8%ac%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b9-%d9%88-%d8%b1%d9%82%d8%b5-%d9%88-%d9%88%d8%ac%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 02 Dec 2021 09:01:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[حضور دائمی]]></category>
		<category><![CDATA[سماع کی شرائط]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4571</guid>

					<description><![CDATA[&#160;سماع و رقص و وجد کے احکام اور بعض ان معارف کے بیان میں جو روح سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرسیدمحب اللہ مانکپوری کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی الله <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b9-%d9%88-%d8%b1%d9%82%d8%b5-%d9%88-%d9%88%d8%ac%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><strong>&nbsp;</strong>سماع و رقص و وجد کے احکام اور بعض ان معارف کے بیان میں جو روح سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرسیدمحب اللہ مانکپوری کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی</strong><strong> </strong>الله تعالیٰ کی حمد اور اس کے برگزیده&nbsp;بندوں پر سلام &#8211;&nbsp;</p>



<p><strong>بداں اَرْشَدَ</strong><strong> </strong><strong>اللهُ</strong><strong> </strong><strong>تَعَالىٰ</strong><strong> </strong><strong>طَرِيْقَ</strong><strong> </strong><strong>السِّدَادِ</strong><strong> </strong><strong>وَ</strong><strong> </strong><strong>اَلْهَمَكَ</strong><strong> </strong><strong>صِرَاطَ الرِّشَادِ</strong><strong> </strong>اللہ تعالیٰ تجھے&nbsp;سیدھے راستے کی ہدایت دے اور ہدایت کے راستہ پر چلائے۔<strong>&nbsp;</strong>جان لے کہ سماع و وجد ان لوگوں کیلئے فائدہ مند ہے جن کے احوال متغیر اور اوقات متبدل ہوتے رہتے ہیں۔ یعنی کبھی حاضر ہیں اورکبھی غائب اورکبھی واجد ( پانے والے ہیں) اور کبھی فاقد (گم کرنے والے) یہ لوگ ارباب قلوب ہیں جو تجلیات صفاتیہ کے مقام میں ایک صفت سے دوسری صفت کی طرف اور ایک اسم سے دوسرے اسم کی طرف منتقل اورمتحول(متغیر) ہوتے رہے ہیں ۔ احوال کاتلون ( تبدیل ہونا)&nbsp; ان کا نقد وقت ہے اور امید کا پراگندہ ہونا ان کے مقام کا حاصل&nbsp;ہے اور دوام حال ان کے حق میں محال ہیں اور استمراروقت(وقت کا ایک ہی کیفیت پرقائم رہنا) &nbsp;&nbsp;ان کی شان میں مشکل ہے ۔کبھی قبض میں ہیں اور کبھی بسط میں یہ لوگ ابناء الوقت یعنی وقت کے بیٹے اور وقت کے مغلوب ہیں&nbsp;کبھی عروج &nbsp;&nbsp;کرتے ہیں اورکبھی ہبوط کرتے ہیں ۔ یعنی نیچے اتر آتے ہیں لیکن تجلیات (غیبی انوار دلوں پر ظاہر ہونا) ذاتیہ والے لوگ جو پورے طور پرقلب سے نکل گئے ہیں اورمقلب قلب یعنی دل کے پھیرنے والے یعنی خدا تک پہنچ گئے ہیں اور کلی طور پر آزاد ہو گئے ہیں ۔ ان کا وقت دائمی اور ان کاحال سرمدی&nbsp;ہے ہیں بلکہ وہاں نہ وقت ہے نہ حال، یہ لوگ ابوالوقت اور صاحب تمکین(اطمینان والے) ہیں اور یہی لوگ ایسے واصل ہیں جن کے لئے ہرگز نہ رجوع ہے نہ فقد ہے نہ وجد ہے ہاںمنتہیوں میں سے ایک قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کو سماع باوجود یکہ ان کا حال دائمی ہے فائدہ دیتا ہے۔ ان کا بیان اس بحث کے اخیر میں انشاء الله تعالیٰ مفصل طور پر لکھا جائے گا۔&nbsp;</p>



<p>اگر سوال کریں کہ حضرت رسالت خاتمیت علیہ وعلی آلہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے۔<a> </a><strong>لِي ‌مَعَ ‌اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقْتٌ لَا يَسَعُنِي فِيهِ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ، وَلا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ </strong>میرے لئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک ایسا وقت ہے جس میں کسی ملک مقرب اور نبی مرسل کی شرکت نہیں ۔&nbsp;</p>



<p>اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وقت دائمی نہیں ہوتا۔&nbsp;</p>



<p>میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کو صحیح &nbsp;مان لینے پربعض مشائخ نے اس وقت سے وقت مستمره مراد رکھا ہے میں <strong>لِي ‌مَعَ ‌اللَّهِ&nbsp; وَقْتٌ مُسْتَمِرٌ</strong>(مجھے اللہ تعالی کے ساتھ ہمیشہ&nbsp; ایک وقت&nbsp; نصیب ہے) پس اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔&nbsp;</p>



<p>اس کا دوسرا جواب کہتا ہوں کہ وقت مستمره میں بھی کبھی کیفیت خاصہ حاصل ہوتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وقت سے وقت نادر ہ اور یہ کیفیت نادرہ مراد ہو۔ اس صورت میں بھی یہ اشکال دور ہوجاتا ہے اگر یہ سوال کریں کہ ہوسکتا ہے کے نغمہ کے سننے کو اسی کیفیت نادرہ کے حاصل ہونے میں دخل ہو۔ پس منتہی بھی اس کیفیت کے حاصل ہونے کے لئے سماع کا محتاج ہواتو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ کیفیت غالبا اداۓ نماز کے وقت متحقق ہوتی ہے اور اگر کبھی نماز کے علاوہ بھی حاصل ہو جائے تو نماز ہی کے نتائج اورثمرات میں ہے اورممکن ہے کہ حدیث <strong>قُرَّةَ ‌عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ</strong> <strong>(</strong>نماز میں میری آنکھ کی ٹھنڈک ہے) میں اسی کیفیت نادرہ کی طرف اشارہ ہو اور نیز خبر میں ہے کہ<strong> </strong><strong>اَ</strong><strong>قْرَ</strong><strong> </strong><strong>بُ</strong><strong> </strong><strong>مَایَکُوْنُ</strong><strong> </strong><strong>الْعَبْدُ</strong><strong> </strong><strong>مِنَ</strong><strong> </strong><strong>الرَّبِّ</strong><strong> </strong><strong>فِي</strong><strong> </strong><strong>الصَّلٰوۃِ</strong><strong> </strong><strong>(</strong>بندہ کو اپنے رب سے زیادہ قرب نماز میں ہوتا ہے اور اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے کہ <strong>وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ</strong> (سجدہ کر اور قرب حاصل کر) اور کچھ نہیں ہے کہ جس وقت میں اللہ تعالیٰ کا قرب زیادہ ہے اس وقت میں غیر کی گنجائش ہرگز نہیں ہے۔ پس اس حدیث اور آیت سے بھی مفہوم ہوتا ہے کہ وہ وقت نماز میں ہے اور وقت کے استمرار اور وصل کے دوام پردلیل مشائخ کا اتفاق ہے۔&nbsp;</p>



<p>ذوالنون مصری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے<strong> </strong><strong>مَا ‌رَجَعَ ‌مَنْ ‌رَجَعَ إِلَّا مِنَ الطَّرِيق ِوَمَنْ</strong><strong> </strong><strong>وَّصَلَ</strong><strong> </strong><strong>لَا</strong><strong> </strong><strong>رَجَعَ</strong> (نہیں پھرا جو کہ پھرامگر طریق سے اور جو واصل ہوگیا وہ نہیں پھرا )اور یادداشت جوخداوند جل شانہ کے ساتھ دوام حضور سے مراد ہے۔ حضرات خواجگان نقشبند قدس سرہم&nbsp;کے طریق میں امر مقرر ہے۔ غرض دوام وقت سے انکار کرنا نارسائی کی علامت ہے اور بعض مشائخ ابن عطا وغیرہ کی جو اس بات کے قائل ہیں کہ واصل کی صفات بشریت کی طرف رجوع کرنا جائز ہے اور اس سے وقت کادائمی نہ ہوتا مفہوم ہوتا ہے۔ ان کا خلاف رجوع جواز میں&nbsp;ہے نہ کوقوع میں کیونکہ رجوع بے شک واقع نہیں ہے۔ <strong>کَمَالَا</strong><strong> </strong><strong>يَخْفٰى</strong><strong> </strong><strong>عَلىٰ</strong><strong> </strong><strong>أَرْبَابِهٖ</strong><strong> </strong>جیسا کہ&nbsp;اس کے جاننے والوں پر سے پوشیدہ نہیں ہے۔&nbsp;</p>



<p>پس مشائخ کا اجماع واصل کے عدم رجوع پر ثابت ہو گیا اور بعض کا خلاف رجوع کے&nbsp;جواز کی طرف راجع ہوا۔&nbsp;</p>



<p>منتہیوں میں سے ایک گروہ کے لوگوں کا یہ حال ہے کہ کمال وصول کے درجات میں سے کسی درجہ تک پہنچنے کے بعد جمال لا يزال کے مشاہدہ سے ان کو قوی برودت (شدید سردی  یعنی کامل تسکین)حاصل ہوجاتی ہے اور نسبت تامہ خلق کے ساتھ پیدا ہوجاتی ہے جو ان کو منازل وصول تک عروج کرنے سےہٹارکھتی ہے کیونکہ منازل وصول ابھی آگے ہوتے ہیں اور قرب کے مدارج نہایت تک طے نہیں ہوئے ہوتے لیکن باوجوداس برودت کے عروج (عروج سے مراد سالک کا حق تعالیٰ کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ میں مستغرق ہو جانا اور مخلوق سے منقطع ہونا ہے) کی خواہش اور کمال قرب کی آرز در کھتے ہیں یہ اس صورت میں ان کیلئے سماع فائدہ مند اور حرارت بخش ہوتا ہے ہر گھڑی سماع کی مدد سے ان کو منازل قرب کی طرف عروج میسر ہوتا ہے اور تسکین کے بعدان منازل سے نیچے آجاتے ہیں لیکن عروج کے ان مقامات سے کوئی نہ کوئی رنگ اپنے ہمراہ لے آتے ہیں اور اس رنگ میں رنگے جاتے ہیں<strong>۔ </strong>یہ وجد، فقد<strong> کے</strong> بعد نہیں ہے کیونکہ فقد ان کے حق میں مفقود ہے بلکہ دوام وصل کے باوجود یہ وجد منازل وصول کی طرف ترقی کرنے کے لئے ہے۔ منتہیوں اور واصلوں کا <a>سماع</a> و وجداسی قسم سے ہے لیکن فنا و بقا کے بعد ان کو اگرچہ جذ بہ عطا فرما دیتے ہیں لیکن چونکہ برودت قویہ رکھتے ہیں اور جذبہ تنہا منازل عروج  تک ترقی حاصل کرنے کے لئے ان کو کافی نہیں ہوتا۔ اس لئے سماع کے محتاج ہوتے ہیں اور مشائخ میں سے ایک اور گروہ کے لوگ ہیں جن کے نفوس درجہ ولایت تک پہنچنے کے بعد مقام بندگی میں اتر آتے ہیں اور ان کے ارواح نفوس کی مزاحمت کے بغیر جناب قدس کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور ہر گھڑی نفس مطمئنہ کے مقام سے جو مقام بندگی میں متمکن و راسخ( مضبوط) ہو چکا ہے ان کے روح کو مددپہنچتی رہتی ہے اور ان کے روح کو اس امداد کے باعث مطلوب کے ساتھ خاص نسبت پیدا ہوجاتی ہے۔ </p>



<p>ان بزرگواروں کا آرام عبادت کے ساتھ ہے اور ان کی تسکین بندگی اور اطاعت کے حقوق ادا کرنے میں ہوتی ہے۔ عروج کی خواہش ان کے نہایت (انتہا) میں کم ہوتی ہے اور صعود(بلندی) کا شوق ان کے باطن میں قلیل ہوتا ہے۔ ابھی تک ملت کی متابعت ان کے وقت کی پیشانی سے ظاہر ہے اور ان کی بصیرت کی آنکھ سنت کی اتباع کے سرمہ سے سر مگیں ہے۔ اسی واسطےیہ لوگ تیز نظر والے ہیں ۔ یہ لوگ دور سے اس چیز کو دیکھ لیتے ہیں جس کے دیکھنے سے نزدیک کے لوگ عاجز ہیں۔ یہ لوگ اگر چہ عروج کمتر رکھتے ہیں لیکن نورانی ہیں جو اصلی نور سے منور ہیں اور اسی مقام میں شان عظیم اور قدر جلیل رکھتے ہیں ۔ ان کو سماع و وجد کی کچھ حاجت نہیں ہے۔ عبادات ان کے لئے سماع کا کام دے جاتیں ہیں اور اصل کی نورانیت عروج سے کفایت بخشتی&nbsp;ہے۔ اہل سماع و وجد کے اکثر مقلد لوگ جوان بزرگواروں کی شان عظیم سے واقف نہیں ہیں ۔ وہ اپنے آپ کوعشاق خیال کرتے ہیں اور ان کو زاہدسمجھتے ہیں گویا یہ لوگ عشق و محبت کو رقص و وجد ہی میں منحصر جانتے ہیں اور منتہیوں میں سے ایک گروہ کے لوگ ہیں جن کو سیرالی اللہ کے قطع کرنے اور بقا باللہ کے ساتھ متحقق ہونے کے بعد جذب قوی عنایت فرماتے ہیں اور جذب و انجذاب کی رسی سے کشاں کشاں لے جاتے ہیں ۔ ان لوگوں میں برودت کا کچھ اثر نہیں ہوتا تسلی و آرام ان کے لئے ناجائز ہوتا ہے۔یہ لوگ عروج &nbsp;میں امور غریبہ کے&nbsp;محتاج نہیں ہوتے ۔سماع ورقص ان کی خلوت کی تنگ جگہ میں دخل نہیں پاتے اور وجد وتواجد کا ان کے ساتھ بھی کام نہیں ہوتا اسی انجذاب عروج کے ساتھ نہایت النہایت مرتبہ تک جہاں تک کہ وصول ممکن ہےپہنچ جاتے ہیں اور آنحضرت ﷺکے وسیلہ سے اس مقام سے جوآنحضرت علیہ الصلوة والسلام کے ساتھ مخصوص ہے حصہ پا لیتے ہیں ۔ اس قسم کا وصول گروه و افراد کے ساتھ مخصوص ہے۔ اقطاب کو بھی اس مقام سے کچھ حاصل نہیں ہے۔ اگر محض فضل ایزدی جل شانہ سے نہایت النہایت کے اس قسم کے واصل کو عالم کی طرف واپس لائیں اور مستعدوں کی تربیت اس کے حوالہ کریں تو اس کا نفس مقام بندگی میں اتر آتا ہے اور اس کی روح نفس کی مزاحمت کے بغیر جناب مقدس کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ ایسا شخص کمالات فردیہ کا&nbsp;جامع اورتکمیلات قطبیہ کا حاوی(احاطہ کئے ہوئے) ہوتا ہے اور قطب سے ہماری مراد اس جگہ قطب ارشاد ہے نہ قطب اوتاد اور مقامات ظلی کے علوم اور معارج اصلی کے معارف اس کو حاصل ہوتے ہیں بلکہ جس مقام میں وہ ہوتا ہے وہاں نہ ظل ہے نہ اصل۔ وہ ظل و اصل سے گزرا ہوا ہوتا ہے۔ ایسا کامل مکمل بہت ہی عزیز الوجود اور نایاب ہے۔ اگر بے شمار زمانوں کے بعد بھی ظہور میں آجائے تو بھی غنیمت ہے ۔ ایسے شخص کے وجود سے جہان منور ہوتا ہے اور اس کی نظر دلی امراض کو شفا بخشتی ہے اور اس کی توجہ ناپسندیدہ اور ردی اخلاق کو دور کرتی ہے۔ ایسا شخص مدارج عروج &nbsp;&nbsp;کو تمام کر کے مقام بندگی میں اتر آتا ہے اور عبادت کے ساتھ انس و آرام پاتا ہے ۔ مقام عبدیت کے ساتھ کہ جس سے بڑھ کر مقام ولایت میں اور کوئی بلند مقام نہیں ہے ۔ اس طائفہ میں سے ایک شخص کو منتخب کر کے مشرف فرماتے ہیں اور منصب محبوبیت (محبوب ہونے کی کیفیت) کی قابلیت بھی اسی کو مسلم ہوتی ہے۔ ایسا شخص مرتبه ولایت کے کمالات کا جامع اور درجہ دعوت کے تمام مقامات کا حاوی اور ولایت خاصہ اور نبوت سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ غرض اس کی شان میں یہ مصرع&nbsp;صادق آ&nbsp;تاہے</p>



<p>&nbsp;<strong>آنچہ</strong><strong> </strong><strong>خوباں</strong><strong> </strong><strong>ہمہ</strong><strong> </strong><strong>دارند</strong><strong> </strong><strong>تو</strong><strong> </strong><strong>تنہا</strong><strong> </strong><strong>داری</strong> ترجمہ: جو کچھ معشوق سب رکھتے ہیں تو تنہاہی رکھتا ہے&nbsp;۔</p>



<p>مبتدی کے لئے وجد و سماع مضر ہے اور اس کے عروج &nbsp;کے منافی ہے خواہ شرائط کے&nbsp;موافق ہی واقع ہو۔&nbsp;</p>



<p>سماع کی شرائط کاتھوڑا سا حال انشاء اللہ اس رسالہ کے اخیر میں لکھا جائے گا۔ اس کا وجد<strong> </strong>معلول ہے اور اس کا حال و بال۔ اس کی حرت طبعی ہے اور اس کی تحرک ہوائے نفسانی پر ہے اور مبتدی سے میری مراد وہ شخص ہے جو ارباب قلوب یعنی صاحبان دل میں سے ہے اور ارباب قلوب وہ لوگ ہیں جو مبتدیوں اورمنتہیوں کے درمیان متوسط ہوتے ہیں اورمنتہی وہ ہے جو فانی فی اللہ اور باقی باللہ اور واصل کامل ہو اور انتہا کے بہت سے درجات ہیں جو ایک دوسرے کے اوپر ہیں اور وصول کے بھی بہت سے مراتب ہیں جن کا ابد الابادیعنی ہمیشہ تک قطع کرنا ناممکن ہے۔&nbsp;</p>



<p>فرض سماع متوسطوں اور ایک قسم کےمنتہیوں کے لئے بھی نافع اور مفید ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ۔ لیکن جاننا چاہیئے کہ ارباب قلوب کو بھی سماع کی حاجت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں&nbsp;کے لئے جو جذب کی دولت سے مشرف نہیں ہوئے اور سخت ریاضتوں اور کٹھن مجاہدوں کے ساتھ مسافت کوقطع کرنا چاہتے ہیں ۔ اس صورت میں سماع و وجد ان لوگوں کا مددگار بن جاتا ہے اور اگر ارباب قلوب مجذوبوں میں سے ہوں تو ان کی سیر کی مسافت جذبہ کی مدد سے قطع ہو جاتی ہے۔ ان کو بھی سماع کی حاجت نہیں ہوتی۔&nbsp;</p>



<p>اور نیز جاننا چاہیئے کہ غیر مجذوب ارباب قلوب کیلئے سماع مطلق طور پر فائدہ مند نہیں ہے بلکہ اس سے نفع کا حاصل ہونا چند شرائط پرمنحصر ہے۔ <strong>وَبِدُونِهَا خَرْطُ الْقَتَادِ</strong> ( اور اس کے سوا بے فائد ه رنج و تکلیف ہے)</p>



<p>سماع کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو اپنے کمال کا اعتقاد نہ ہو اور اگر اپنی کمالیت کا معتقد ہے تومحبوس (مقید)ہے۔ ہاں سماع اس کو بھی ایک قسم کا عروج &nbsp;بخشتا ہے لیکن تسکین کے بعد اس مقام سے نیچے اتر آتا ہے ۔ باقی تمام شراط مستقيم الاحوال بزرگواروں کی کتابوں مثل عوارف المعارف وغیرہ میں مفصل طور پر درج ہیں جن میں سے اکثر اس وقت کے لوگوں میں مفقود ہیں بلکہ اس قسم کا سماع و رقص جو آج کل لوگوں میں شائع ہے اور اس قسم کی مجلس و اجتماع جو اس زمانہ میں متعارف اور مشہور ہے کچھ شک نہیں کہ مضر محض اور منافی صرف(بالکل ممنوع) ہے عروج وہاں&nbsp;کچھ معنی نہیں رکھتا اور صعود اس صورت میں متصورنہیں ہے اور سماع سے مدد و اعانت کا اصل ہونا&nbsp;وہاں مفقود ہے اور مضرت و منافات موجود۔</p>



<p> تنبیہ :سماع رقص اگر چہ بعض منتہیوں کے لئے بھی درکار ہے لیکن چونکہ یہ لوگ ابھی بہت سے مراتب عروج آگے رکھتے ہیں اس لئے اوساط میں سے ہیں اور جب تک عروج کے مراتب کو جہاں تک کہ ان کا حاصل ہونا ممکن ہے۔ پورے طور پر طے نہ کر لیں انتہا کی حقیقت ان سے مفقود ہے اور اس کو نہایت کہنا سیرالی اللہ کی نہایت تک ہے اور اس سیرکی نہایت اس اسم تک ہے جس کا مظہر(ظاہر ہونے کی جگہ) سالک ہے۔ اس کے بعد اس اسم اور اس کے متعلقات<strong> </strong>میں سیر ہوتی ہے اور جب اس اسم اور اس کے متعلقات سے جو صاحبان اسم پر منکشف ہوتے ہیں گزر کر مسمی حقیقی تک پہنچ جائے اور وہاں فناو بقا حاصل کرے اس وقت اس کو منتہی حقیقی کہتے ہیں اور درحقیقت سیرالی اللہ کی حقیقت اس صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ نہایت اول کو بھی جو اسم تک ہی ہے۔ سیر الی اللہ کی نہایت اعتبار کیا ہے اور اس فنا و بقا کے اعتبار سے جو اس مرتبہ میں حاصل ہوتا ہے۔ ولایت کااسم اس پر اطلاع کیا ہے اور یہ جو بعض نے کہا ہے کہ سیرفی اللہ کی نہایت نہیں ہے۔ یہ سیر بقا کے وقت میں<strong> </strong>ہے اور عروج  کی منازل طے کرنے کے بعد اس سیرکی بے نہایتی کے معنی ہیں کہ اگر سیر اس اسم میں مفصل طور پر واقع ہوجائے تو اس اسم کے مندرجات اور شیونات(جمع الجمع کا صیغہ ہے اس کا مُفرد شان ہے اور شیون اسکی جمع ہے شان کا معنیٰ حال اور امر ہے) میں لگا رہتا ہے اور ہرگز اس کی نہایت تک نہیں پہنچتا کیونکہ ہر ایک اسم بے نہایت مندرجہ اور شیونات  پر مشتمل ہے لیکن اگر عروج کے وقت اس کو اس اسم سے گزارنا چاہیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک ہی قدم سے اس کو طے کرلے اور نہایت النہایت تک پہنچ جائے اور اگر اسی جگہ مستہلک اورفانی رہیں تو زہے شرافت اور اگر خلق کی تربیت کے واسطے اس کو واپس لے آئیں تو زہے فضیلت۔ تو گمان نہ کرے کہ اسم اسم تک پہنچنا آسان کام ہے۔ دیکھیں کسی کو اس دولت سے مشرف فرمائیں اور ان میں کسی کو اس اعلی نعمت سے سرفراز کریں اور جس امر کوتو تنزیہ و تقدیس خیال کرتا ہے وہ عین  تشبیہ اور تنقیص ہے بلکہ بہت سے مراتب جن کو تو تنزیہ خیال کرتا ہے مقام روح سے بھی بہت نیچے ہیں اور وہ تنزیہ بھی جس کو تو ان کے اوپر خیال کرتا ہے دائرہ تشبیہ میں داخل ہے اور وہ مکشوف منزہ عالم ارواح سے ہے کیونکہ عرش ان تمام جہات کا گھیرنے والا اور تمام ابعادیعنی بعدوں کا منتہا ہے اور عالم روح عالم جہات و ابعاد کے ماسوائے ہے کیونکہ روح لامکانی ہے مکان میں نہیں سماسکتا اور عرش کے ماسوائے روح کا ثابت کرناتجھے اس وہم میں نہ ڈال دے کہ روح تم سے دور ہے اور تیرے اور روح کے درمیان دور دراز مسافت ہے۔ روح کو باوجود لامکانی ہونے کے تمام مکانوں کے ساتھ برابر نسبت ہے۔ عرش کے ماسوائے کہنا اور معنے رکھتا ہے جب تک تو وہاں نہ پہنچے ان معنی کونہیں پاسکتا۔ </p>



<p>صوفیاء کا ایک گروہ جوتنز یہ روحی تک پہنچے ہیں اور عرش کے اوپر اس کو معلوم کیا ہے ۔ انہوں نے اس تنزیہ کو تنزیہ الہی جل شانہ تصور کیا ہے اور اس مقام کے علوم و معارف کو علوم غامضہ یعنی پوشیدہ علوم کہا ہے اور استواء کے سر کو اس مقام میں حل کیا ہے اور حق یہ ہے کہ وہ نور روح کا نور ہے۔&nbsp;</p>



<p>فقیر کو بھی اس مقام کے حاصل ہونے کے وقت اس قسم کا اشتباه پیدا ہوا تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ کی عنایت نے اس بھنور سے نکال دیا تو معلوم ہوا کہ وہ نور روح کا نور تھانہ نورالہی جل شانہ<strong> </strong><strong>الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا ‌لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ &nbsp;&nbsp;</strong>الله تعالیٰ کی حمد ہے جس نے ہم کو ہدایت دی اور اگر وہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہرگز ہدایت نہ پاتے &nbsp;۔&nbsp;</p>



<p>) چونکہ روح لا مکانی ہے اوربیچونگی کی صورت میں مخلوق ہے اس لئے اشتباه کامحل ہو جاتا ہے۔ <strong>وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ</strong> الله تعالیٰ حق ظاہر کرتا اور وہی راہ راست کی ہدایت دیتا ہے<strong>۔</strong><strong>&nbsp;</strong></p>



<p>ان میں سے ایک گروہ اس فوق العرش روح کے نور کو ہمراہ لے کر نیچے آجاتے ہیں اور اس کے ساتھ بقا حاصل کرتے ہیں اور اپنے آپ کو تشبیہ اور تنزیہ کا جامع جانتے ہیں اور اگر اس نور کو اپنے آپ سے جدا پاتے ہیں تو فرق بعد الجمع کا مقام تصور کرتے ہیں ۔ اس قسم کے مغالطے صوفیوں کو بہت پڑ جاتے ہیں ۔<strong> </strong><strong>وَهُوَسُبْحَانُهُ</strong><strong> </strong><strong>الْعَاصِمُ</strong><strong> </strong><strong>عَنْ</strong><strong> </strong><strong>مَظَانِ</strong><strong> </strong><strong>الْأَغْلَاطِ</strong><strong> </strong><strong>وَمُحَالِ</strong><strong> </strong><strong>الْإِخْتِبَاطِ</strong> (الله تعالیٰ ہی لغزش کے مقام اور خبط کی جگہ سے بچانے والا ہے۔)&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ روح اگر چہ عالم بیچون کے ساتھ نسبت رکھتی ہے لیکن درحقیقت دائرہ چون میں داخل ہے۔ گویا عالم چون اور بارگاہ حقیقی کے درمیان برزخ ہے اور دونوں طرف کا رنگ رکھتا ہے اور ہر دو اعتباراس میں صحیح ہیں ۔ برخلاف بیچون حقیقی کے کہ چون کو ہرگز اس کی طرف راہ نہیں ہے۔ پس جب تک روح کے تمام مقامات سےعردج نہ کریں اس اسم تک نہیں&nbsp;پہنچتے۔ پس اول آسمان سے لے کر عرش تک کے تمام طبقات سے گزرنا پڑتا ہے اور لوازم امکان سے پورے طور پر نکلنا پڑتا ہے۔ بعد ازاں عالم ارواح کے تمام لا مکانی مراتب کو بھی طے کرنا پڑتا ہے۔ پھر اس اسم تک پہنچتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p><strong>خواجہ</strong><strong> </strong><strong>پندارد</strong><strong> </strong><strong>که</strong><strong> </strong><strong>مرد</strong><strong> </strong><strong>واصل</strong><strong> </strong><strong>است</strong><strong> </strong><strong>حاصل</strong><strong> </strong><strong>خواجہ</strong><strong> </strong><strong>بجز</strong><strong> </strong><strong>پندار</strong><strong> </strong><strong>نیست</strong> ترجمہ: خواجہ کرتا ہے گمان واصل ہوں میں لیک حاصل جز گماں کچھ بھی نہیں&nbsp;۔</p>



<p>&nbsp;&nbsp;حق تعالیٰ وراء الوراء ہے۔ اس عالم خلق کے آگے امر ہے اور عالم امر کے آگے اسماء و اور شیونات &nbsp;کے ظلی اور اصلی اور اجمالی اورتفصیلی مراتب ہیں ۔ ان ظلی اور اصلی اور اجمالی اورتفصیلی مراتب کے بعد مطلوب حقیقی کو ڈھونڈ نا چا ہیئے ۔ دیکھیں اس جستجو سے کسی کو نوازش فرماتے ہیں اور کسی صاحب دولت کو اس سعادت سے مشرف کرتے ہیں ۔ ۔ <strong>ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ</strong> ( یہ الله تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور الله تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔)</p>



<p>ہمت کو بلند رکھنا چاہیئے اور جو کچھ راہ میں آئے اس پر قناعت نہ کرنی&nbsp;چاہیئے اور اس کو وراء الوراء میں ڈھونڈنا چاہیئے ۔&nbsp;</p>



<p><strong>كَيْفَ الْوُصُوْلُ</strong><strong> </strong><strong>إِلىٰ</strong><strong> </strong><strong>سُعَادَ</strong><strong> </strong><strong>وَدُوْنَهَا</strong><strong>&nbsp;</strong><strong>قُلَلْ</strong><strong> </strong><strong>الْجِبَالِ</strong><strong> </strong><strong>وَ</strong><strong> </strong><strong>دُوْنَھُنَّ</strong><strong> </strong><strong>خُيُوْفُ</strong></p>



<p>میں سعاد تک کعب کیسے پہنچوں کس قدر خوفناک راستے ہیں &nbsp;</p>



<p>تنبیہ : دائمی وصل اور استمراری وقت اس شخص کیلئے مسلم ہے جوفنائے مطلق سے متحقق ہونے کے بعد بقا باللہ سے مشرف ہوا ہو اور اس کا علم حصولی علم حضوری سے تبدیل ہو گیا ہو۔ اس بحث کو ذر از یاد تشریح کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ وہ علم جو عالم کو اپنی ذات کی ماسوائے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے حاصل ہونے کا طریق عالم کے ذہن میں معلوم کی صورت کا حاصل ہونا ہے اور جس علم میں صورت کے حصول کی طرف محتاج نہ ہوں وہ اپنی ذات کا علم ہے اوریہی علم حضوری ہے کیونکہ ذات بنفسہ عالم میں حاضر ہے اور علم حصولی میں جب تک معلوم کی صورت ذہن میں حاصل رہتی ہے ۔ تب تک معلوم کی طرف توجہ رہتی ہے اور جب وہ صورت ذہن سے زائل ہوجاتی ہے وہ ذہنی توجہ بھی زائل ہوجاتی ہے۔ پس علم حصولی میں توجہ کا دائمی ہونا محال عادی یعنی ازروئے عادت کے محال ہے۔ برخلاف علم حضوری کے کہ اس میں معلوم سے غافل ہونا غیر متصور ہے کیونکہ اس علم کے ثابت ہونے کا منشاء(پیدا ہونے کی جگہ) &nbsp;عالم کی ذات کا حضور ہے اور چونکہ یہ حضوردائمی ہے۔ اس لئے ذات کا علم بھی دائمی ہوگا ۔ پس اپنی ذات سے توجہ کا زائل ہونا ممکن نہیں ہے اوربقاباللہ میں علم حضوری ہے جس کا زوال متصور نہیں ہے۔ تو گمان نہ کرے کہ بقا اللہ کےیہ معنی ہیں کہ تو اپنے آپ کو حق تعالیٰ کا&nbsp;عین معلوم کرے۔ جس طرح کہ اس گروہ میں سے بعض نے اس&nbsp; کی تعبیر &nbsp;حق الیقین سے &nbsp;کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کیونکہ وہ بقا باللہ جوفنائے مطلق کے بعد حاصل ہوتا ہے اس قسم کے علوم کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتا اور یہ حق &nbsp;الیقین کہ جس کو بعض نے کہا ہے اس بقا کے مناسب ہے جو جذبہ میں حاصل ہوتا ہے اور وہ بقاء جو اصلی مقصود ہے وہ اور ہے۔ع&nbsp;</p>



<p><strong>&nbsp;</strong><strong>ذوق</strong><strong> </strong><strong>ایں&nbsp;&nbsp; نشاسی</strong><strong> </strong><strong>بخدا</strong><strong> </strong><strong>تا</strong><strong> </strong><strong>نچشی</strong>&nbsp;ترجمہ: مزہ تجھ کو نہ آ ۓ گا نہ جب تک ان کو کھائے گا&nbsp;۔</p>



<p>پس استمرار توجہ اور دوام حضور بقا باللہ کی صورت میں ثابت ہوا۔ بقا باللہ کے ساتھ متحقق ہونے سے پہلے دوام حضور ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ بہت لوگوں کو اس مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی على الخصوص طریقہ علیہ نقشبندیہ میں اسی معنی کا وہم دامن گیر ہو جاتا ہے۔<strong> وَالْحَقُّ مَا حَقَقْتُ</strong> <strong>وَالصَّوَابُ مَا اُلْهِمْتُ وَاَللَّهُ ‌أَعْلَمُ ‌بِالصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِعُ وَالْمَآبُ </strong>(لیکن حق یہی ہے جو میں نے ثابت کیا اور بہتر وہی ہے جو مجھے الہام ہوا اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانے والا ہے اور سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے) <strong>اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  أَوَّلاً وَّاٰخِرًا وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ  </strong> <strong>عَلٰى رَسُوْلِهٖ دَائِمًا وَّسَرْمَدًا </strong>اول و آخر الله تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے رسول پاک ﷺپر ہمیشہ صلوۃ و سلام ہو۔ </p>



<p>              <strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ350 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></span></strong>              </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&amp;linkname=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25b9-%25d9%2588-%25d8%25b1%25d9%2582%25d8%25b5-%25d9%2588-%25d9%2588%25d8%25ac%25d8%25af-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25ad%25da%25a9%25d8%25a7%25d9%2585-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8%2F&#038;title=%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%20%D9%88%20%D8%B1%D9%82%D8%B5%20%D9%88%20%D9%88%D8%AC%D8%AF%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20285%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b9-%d9%88-%d8%b1%d9%82%d8%b5-%d9%88-%d9%88%d8%ac%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/" data-a2a-title="سماع و رقص و وجد کے معارف اوراحکام مکتوب نمبر 285دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b9-%d9%88-%d8%b1%d9%82%d8%b5-%d9%88-%d9%88%d8%ac%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صفات واجبی کی تحقیق مکتوب نمبر 114دفتر سوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-114%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-114%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Nov 2021 10:05:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر سوم معرفۃ الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4124</guid>

					<description><![CDATA[صفات واجبی کی تحقیق اور اپنے کمالات کے ساتھ حق تعالیٰ کے علم کے تعلق کی کیفیت میں اور اس بیان میں کہ معنی کوعین کے قیام سے چارہ نہیں لیکن اس کیلئےمحل کا ثابت کرنا ضروری نہیں اور تعین <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-114%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>صفات واجبی کی تحقیق اور اپنے کمالات کے ساتھ حق تعالیٰ کے علم کے تعلق کی کیفیت میں اور اس بیان میں کہ معنی کوعین کے قیام سے چارہ نہیں لیکن اس کیلئےمحل کا ثابت کرنا ضروری نہیں اور تعین وجودی اور انبیاء متبوعین اور انبیاء تابعین علیہم الصلوة والسلام اور ملائکہ کرام کے مبادی تعینات اور اولیاء عوام مومنین و کفار اور عالم آخرت کی موجودات کے مبادی تعینات کے بیان میں صادر فرمایا ہے۔ </p>



<p>صفات حقیقیہ جو ہم حق تعالیٰ کے مرتبہ ذات میں ثابت کرتے ہیں اس اثبات سے اس بارگاہ میں کوئی تعین وتنزل پیدا نہیں ہوتا اور مرتبہ اول کے سوا کوئی دوسرا مرتبہ ثابت نہیں ہوتا اور&nbsp;کسی طرح بھی ان کا الگ ہونا متصورنہیں ہوتا۔ حضرت ذات تعالیٰ اور اس کی صفات حقیقیہ گویا ایک مرتبہ میں ثابت ہیں اور باوجود زیادت کے عین ذات ہیں اور اگر چہ یہ صفات مقدمہ حضرت ذات تعالیٰ کے مندرجہ کمالات کی تفصیل ہیں لیکن ان کاحکم تمام اجمال تفصیل کےحکم&nbsp;سے علیحدہ ہے کیونکہ اجمال اس مرتبہ میں ہے جہاں تفصیل ثابت نہیں بلکہ مرتبہ تفصیل مرتبہ اجمال سے نیچے ہے اس بارگاہ جل شانہ میں یہ امر مفقود ہے وہاں مرتبہ تفصیل عین مرتبہ ا جمال ہےیہ معرفت طور پر عقل سے برتر ہے جس کی طرف نظرکشفی نے ہدایت پائی ہے اس مرتبہ میں واجب تعالیٰ کا علم جوان صفات کے متعلق ہے اپنی ذات اور اپنی ذات کے مندرجہ کمالات کے علم کی طرح علم حضوری ہے گویا یہ سب باوجود زیادتی کے عین عالم ہیں اور ان کا حضورنفس عالم&nbsp;کے حضور کی طرح ہے چونکہ حضرت ذات تعالیٰ کے ساتھ ان کا کمال اتحاد ہے ۔ اس لیے صوفیہ کی ایک بڑی بھاری جماعت نے صفات کو عین ذات کہا ہے اور صفات کی زیادتی کا انکار کیا&nbsp;ہے اور <strong>لَا</strong><strong> </strong><strong>ھُوَ </strong>سے منع کر کے <strong>لَاغَیْرَهٗ</strong> کا اثبات فرمایا ہے لیکن کمال اس بات میں ہے کہ <strong>لَا</strong><strong> </strong><strong>ھُوَ </strong>کی تصدیق کے باوجود <strong>لَاغَیْرَهٗ</strong> کا اثبات کیا جائے اور باوجود زیادتی کے غیر یت کو سلب کیا جائے یہ کمال انبیاء کے علوم کے مذاق کے موافق اور فرقہ ناجیہ اہل سنت و جماعت شکر اللہ تعالیٰ سعيهم کی رائے صائب کے مطابق ہے۔</p>



<p>&nbsp;جاننا چاہیئے کہ اس مرتبہ میں وہ ذاتی انکشاف جو حضرت ذات تعالیٰ اور اس کی صفات مقدسہ سے تعلق رکھتا ہے علم حضوری کی قسم سے ہے کیونکہ صفات مقدسہ کا حکم بھی ذات تعالیٰ کے حکم کی طرح ہے جیسے کہ گزر چکا اور یہ جو ہم نے کہا ہے&nbsp;کے علم حضوری کی قسم سے ہے اس لیے کہ علم حضوری نفس عالم کے حضور سے مراد ہے اور صفات چونکہ نفس عالم نہیں ہیں اس لیے ان کا علم بھی حضوری نہیں لیکن چونکہ کوئی صورت ان سے الگ نہیں ہوتی اور ان کا حضورنفس ثابت ہے اس لیے علم حضوری کی قسم سے ہے اور انکشاف جو صفت علم سے تعلق رکھتا ہے علم حصولی کی قسم سے ہے اور یہ جو ہم نے کہا ہے کہ علم حصولی کی قسم&nbsp;سے ہے اس لیے کہ علم حصولی علم میں معلوم کی صورت حاصلہ سے مراد ہے اور اس فقیر کے نزدیک متحقق مکشوف ہوا ہے کہ واجب تعالیٰ کے علم میں کسی معلوم کی صورت متنقش نہیں اور اس کا علم کسی صورت معلومہ کامحل نہیں تو پھر عالم تعالیٰ شانہ کی ذات میں کس طرح صورت حاصل ہو سکے بلکہ اس کے علم کو معلوم کے ساتھ ایک خاص تعلق اور انکشاف ہے بغیر اس بات کے کہ علم میں معلوم کی صورت ثابت ہو کیونکہ خانہ علم تمام نقوش اور علمیہ صورتوں سے خالی اور مصفا ہے۔ <strong>مَعَ</strong><strong> </strong><strong>ذَلِكَ</strong><strong> </strong><strong>‌لَا ‌يَعْزُبُ عَنْ ‌عِلْمِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السموات وَلَا فِي الْأَرْضِ </strong><strong>( </strong>باوجود اس&nbsp;کے ایک ذرہ بھی زمین و آسمان میں اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ) اس قدرمکشوف ہوتا ہے کہ جب حق تعالیٰ کاعلم کسی معلوم سے تعلق پکڑتا ہے تو اس تعلق کے باعث ایک صورت معلوم سے جدا ہو جاتی ہے اور اس علم کے ساتھ قیام پیدا کرتی ہے بغیر اس بات کے کہ علم میں حلول و حصول پیدا کرے اور جب علم کے تعلق کے باعث ایک صورت معلوم سے جدا ہو جاتی ہے اور علم بلکہ عالم کے ساتھ قیام پیدا کر لیتی ہے تو راست آتا ہے کہ علم حصولی کی قسم سے ہو اور جب صفت علم حق تعالیٰ کی ذات کے مندرجہ کمالات سے تعلق پیدا کرتی ہے تو اس تعلق کے باعث ان کمالات سے علمیہ صورتیں الگ ہوتی ہیں اورعلم کے ساتھ قیام پیدا کرتی ہیں اگر چہ ان کا حلول وحصول علم میں ثابت نہیں ہوتا۔</p>



<p>&nbsp;سوال:تم نے صفت علم کے ساتھ ان علمیہ صورتوں کا قیام پیدا کر دیا لیکن معلوم نہ ہوا کہ ان صورتوں کے ثبوت کامحل کون ہے جس طرح معنی کیلئےعین کا قیام ضروری ہے اس طرح اس کیلئے عین کامحل ہونا ضروری ہے۔</p>



<p>جواب : ہاں معنی کیلئےعین کا قیام ضروری ہے لیکن اس کیلئے محل کا ثابت کرنا ضروری نہیں ۔ معنی کیلئے محل کے ثابت کرنے سے مقصود اس کے ساتھ معنی کے قیام کا ثابت کرنا ہے نہ کہ قیام پر کوئی اور زائد امر جب ممکن کے جوا ہرمجردہ میں جوان علمیہ صورتوں کے ظلال کی مانند ہیں اوریہ صورتیں ان جواہر کی مبادی تعینات ہیں کہتے ہیں کہ ان کیلئے کوئی محل و مکان ثابت نہیں بلکہ کچھ ضروری نہیں تو اگر ان جواہر مجردہ (غیر مادی) کے اصول کیلئے محل نہ ہو تو کیا تعجب ہے۔ ان علمیہ صورتوں کو اعراض کی طرح تصور نہ کریں کہ غیرسے قیام رکھتی ہیں اور اعراض کے قیام پر ان کے محل کے ثابت کرنے کے پیچھے نہ پڑیں کیونکہ یہ علمیہ صورتیں اصول بلکہ جواہر (جن کے ساتھ اعراض کا قیام ہے)کے مبادی تعینات ہیں ۔ پھر اعراض کی ان کے ساتھ کیا نسبت ہے بلکہ میں اعراض میں بھی کہتا ہوں کہ ان کیلئےمحل کے ثابت کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ محل کے ساتھ ان کا قیام ثابت ہو جائے نہ یہ کہ محل مستقل طور پرمقصود ہوتا ہے اس کی تحقیق یہ ہے کہ یہ علمیہ صورتیں مرتبہ وجوب میں ثابت ہیں جہاں محل و مکان کی گنجائش نہیں اور قیام کے سوا وہاں کچھ متصور نہیں ۔ واجب الوجود جل شانہ کی صفات حقیقیہ میں جو حضرت ذات اقدس سے قیام رکھتی ہیں کوئی حالیت(اس کا کسی میں سرائیت کرنا ) و محلیت( اس میں کسی کا سرایت کرنا ) ثابت نہیں اور ثبوت ذہنی اور خارجی جو کہتے ہیں وہ مرتبہ امکان میں تقسیم پاتا ہے کیونکہ اس بارگاہ میں نہ خارج کی گنجائش ہے نہ علم کی جب اس بارگاہ میں وجود کا دخل نہیں تو پھر وجود ذہنی اور خارجی جو اس کی قسمیں ہیں وہاں ان کی کیا مجال ہوگی اور وجود کیلئے خارج وعلم کی ظرفیت کی کیا گنجائش ہوگی۔ پس یہ علمیہ صورتیں ثابت اور صفت علم کے ساتھ قائم ہیں اور کوئی ثبوت علمی اور خارجی ان میں متحقق نہیں بلکہ وجوعلمی اور خارجی کا ہونا ان کیلئے عار ہے کیونکہ وہ امکان کی صفات اور حدوث کے نشانات میں سے ہے <strong>فَاِنَّ کُلَّ مُمْكِنٍ حَادِثٌ عِنْدَهُمْ ( </strong>کیونکہ ان کے نزدیک ہرممکن حادث ہے ) اور مرتبہ وجوب وجود میں اگر چہ وجود ثابت ہوا ہے لیکن علم و خارج کی ظرفیت اس وجود کے لئے ظاہر نہیں ہوئی کیونکہ وہاں ظرف و مظروف ہونے کی مجال نہیں اس بات کوغور سے سننا چاہیئے کہ جب صورت معلوم نفس علم سے مراد ہے تو اس کا حصول و حلول علم میں کس طرح ہوگا۔ صوفياء میں سے متاخرین نے کہا ہے کہ علمیہ صورتیں جو اعیان ثابتہ (ممکنہ حقائق) سے مراد ہیں اور مکنات کی حقائق ہیں ان کا ثبوت صرف خانہ علم ہی میں ہے اور علم کے خارج میں وجود کی بو بھی ان کو نہیں پہنچی لیکن چونکہ ان علمیہ صورتوں کے عکوس ظاہر وجود کے آئینہ میں کہ جس کے سوا خارج میں کچھ موجود نہیں پڑے ہیں اس لیے متوہم ہوتا ہے کہ وہ صورتیں خارج میں موجود ہیں جس طرح کوئی صورت جب آئینہ میں منعکس ہوتی ہے تو یہ وہم گزرتا ہے کہ وہ صورت آئینہ میں ہے نہیں معلوم ان بزرگواروں کی کیا مراد ہے اور علم میں صورتوں کے حصول سے ان کا کیا مطلب ہے حالانکہ صورتیں شاہد و حاضر میں نفس علم ہیں اورغائب میں اللہ تعالیٰ کا علم ازلی قدیم بسیط وحدانی ہے جس کا تعلق بیشمار معلومات کے ساتھ ہے اور اس تعلق سے متعددصورتیں حاصل ہوتی ہیں جوان معلومات کو ایک دوسرے سے الگ الگ کردیتی ہیں بغیر اس بات کے کہ اس علم از لی میں ان کا حصول وحلول ثابت ہو اور اس میں متعددصورتیں کس طرح حلول کرسکیں جبکہ اس سے محل کاتبعض(بعض) وانقسام(تقسیم) لازم آتا ہے نیز اس میں شے کا غیرشے کے ساتھ فرض کر نا پایا جاتا ہے اور یہ امر ترکیب کا موجب ہے جو قدم اور ازلیت کے منافی ہےعجب معاملہ ہے کہ معقول والوں نے معلوم کی صورت حاصلہ کو ذہن میں ثابت کیا ہے اور ان ہی میں اس کا حلول(سرایت) سمجھا ہے نہ علم میں کیونکہ وہ صورت ان کے نزدیک عین علم ہے نہ کہ اس نے علم میں حلول کیا ہے لیکن متاخرین صوفیاء کی عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ علم میں اس صورت کا حصول وحلول ہے جس کو باطن وجود کہتے ہیں۔ <strong>وَھُوَسُبْحَانَهٗ أَعْلَمُ (</strong>اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے ) جاننا چاہیئے کہ یہ علمیہ صورتیں جو حق تعالیٰ کی ذات کے مندرجہ کمالات کے ساتھ صفت علم کے متعلق ہونے سے ثابت ہوئی ہیں نظر کشفی میں ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے حیات وعلم ثابت ہے اور ان کے لیے وہ انکشاف جوعلم حضوری کے مناسب ہے ان کمالات کی نسبت جوان میں مندرج ہیں حاصل ہے چنانچہ اس بحث کی تحقیق ایک مکتوب (نمبر 113 دفتر سوم)میں مفصل طور پر لکھی جا چکی ہے اگر اس کی معرفت کے عجیب وغریب ہونے کے باعث کچھ پوشیدگی کی رہ جائے اور حاجت پڑ جائے تو اس کی طرف رجوع کرنا چاہیئے جب بیان سابق سے واضح ہوا کہ حق تعالیٰ کی ذات اقدس اور اس کی صفات مقدسہ ایک ہی مرتبہ میں ثابت ہیں اور صفات کی زیادتی کے ثبوت سے کوئی تعین وتنزل اس بار گاہ جل شانہ میں پیدا نہیں ہوا تو جاننا چاہیئے کہ اس مرتبہ مقدسہ کا کہ حضرت ذات مع الصفات ہے مرتبہ دوم میں پہلا ظہور وہ ہے جس میں تغیر وتبدل کی آمیزش نہیں اور وہ اس فقیر کے نزدیک کشف و شہود(مشاہدہ) کی رو سے حضرت وجود ہے جومحض خیر اور صرف کمال ہے اور ظلیت کے طور پر تمام کمالات کے ظہور کی قابلیت رکھتا ہے وجود کے سوا کسی اور کو یہ دولت میسر نہیں ہوئی اسی واسطے اگر علم اس مرتبہ مقدسہ کے متعلق ہو جائے اور اس کے کمالات کوکھینچ لے جیسے کہ گزر چکا تو اول اول جو کچھ اس بارگاہ جل شانہ سے الگ ہو گا وہ حضرت وجود ہی ہوگا اور دوسرے کمالات اس کے تابع ہو نگے یہی وجہ ہے کہ صوفیاء وغیرہ کی ایک جماعت نے وجود کو عین ذات سبحانہ تصور کیا ہے اور وجود کے تعین کو لاتعین سمجھا ہے اور اس تعین اسبق کا ثبوت علم و خارج کے ماسوا ہے جیسے کہ اس امر کی تحقیق کئی جگہ بیان ہو چکی ہے کہ حضرت وجودظلیت کے طور پراجمالا تمام ذاتیہ اور صفاتیہ کمالات کا جامع ہے اور اس مرتبہ جامع اجمالیہ کی تفصیل بھی ہے جس کو تعین ثانی کہہ سکتے ہیں۔ اول اول جس چیز نے مرتبہ تفصیل میں ثبوت پیدا کیا ہے وہ صفت حیات ہے جو تمام صفات کی ماں یعنی اصل ہے یہ صفت حیات گویا اس صفت حیات کاظل ہے جو مرتبہ حضرت ذات تعالیٰ میں ثابت ہے اسی واسطے <strong>لَا ھُوَ </strong> <strong>لَاغَیْرَهٗ</strong> ، اس کے حق میں ثابت ہے اوریہ ظل چونکہ اس مرتبہ میں پیدا ہوا ہے جو حضرت ذات تعالیٰ کے مرتبہ کے سوا ہے اس <em>لیے</em> <strong>لَاغَیْرَهٗ</strong> اس کے حق میں ثابت نہیں کیونکہ اس پر غیر یت کا داغ پڑا ہے ۔ صفت الحیا ۃ کے بعد ظلیت کے طور پر صفت علم ثابت ہے جیسے کہ صفت حیات میں گزرا یہ صفت تمام صفات کی جامع ہے اور صفت قدرت و ارادت و غیره با وجود استقلال کے گویا اس کے اجزاء ہیں کیونکہ اس صفت کو حضرت ذات تعالیٰ کے ساتھ اس قسم کا اتحاد ہے جو اس کے سوا غیر کے لیے ہیں اس لیے کہ علم حضوری میں علم و عالم و معلوم کا اتحاد ہے اور قدرت ہرگز قادر و مقدور کے ساتھ متحدنہیں ہوتی اور ارادت میں بھی کہ<strong> اَحَدُالْمَقْدُوْرِیْنَ</strong> یعنی دو مقدروں میں سے ایک کی تخصیص سے یہ اتحاد ثابت نہیں اسی طرح دوسری صفات کا حال ہے اس حقیر کے نزدیک حضرت خلیل علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کا مبدا تعین بالاصالت (براہ راست) تعین اول یعنی تعین وجود ہے اور اس تعین کا مرکز جواس کے تمام اجزاء میں سے اشرف ہے بالاصالت (براہ راست) حضرت خاتم الرسل ﷺکا مبدا تعین ہے چنانچہ اس بحث کی تحقیق ایک مکتوب میں مفصل طور پرلکھی جا چکی ہے چونکہ حضرت خلیل علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کی ولایت اسرافیلی ولایت ہے اس لیے حضرت اسرافیل علیہ السلام کا مبدا تعین بھی کی تعین وجودی ہے اور ہر ایک پیغمبر اور رسول کا  مبدأتعین بالاصالت  اس تعین اول وجودی کے حصوں میں سے ایک ایک حصہ ہے اور امتوں میں سے اگر کسی کو انبیاءعلیہم الصلوة والسلام کی متابعت کی بدولت اس تعین وجودی میں سے حصہ مل جائےیااس تعین وجودی کے حصوں اور نقطوں میں سے کوئی حصہ یا نقطہ اس شخص کا مبدا تعین ہو جائے تو جائز بلکہ واقع ہے جب تک اس تعین میں  مبدأ تعین پیدا نہ ہو بالاصالت حضرت ذات تعالیٰ تک پہنچنا میسر نہیں ہوتا ملائکہ اعلی جو حضرت ذات جل شانہ کے مقرب ہیں ان کے مبادی تعینات بھی اسی تعین وجود میں ہے جس پر حضرت ذات تعالیٰ تک پہنچناوابستہ ہے۔ جاننا چاہیئے کہ یہ صفت علم جو تعین وجودی کے مرتبہ تفصیل میں پیدا ہوئی ہے۔ اگر چہ اس تعین وجودی کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے لیکن چونکہ جامعیت رکھتی ہے اس لیے گویانفس وجود کی طرح اس تعین کے تمام حصوں کی جامع ہے اس کا اجمال بھی ہے اور تفصیل بھی ۔ اجمال مرکز دائرہ کا حکم رکھتا ہے اور تفصیل محیط کا حکم ۔ پس اس تعین علمی کا مرکز جواجمال ہے گویا اس تعین اول وجودی کے مرکز کا ظل ہے اور اسی علاقہ سے بعض نے یقین کیا ہے کہ حضرت خاتم الرسل علیہ الصلوة والسلام کا  مبدأ تعین حضرت علم کا اجمال ہےنہیں بلکہ یہ اجمال آنحضرت ﷺکے مبدأ تعین کا ظل ہے جوتعین اول وجودی کا مرکز ہے جیسے کہ اوپرگزر چکا نیز بعض نے اس علم کے اجمال کو تعین اول کہا ہے اور مرتبہ فوق کولاتعین جانا ہے اور حضرت وجود کا عین خیال کیا ہے ہاں عین وجود ہے لیکن تعین کے ساتھ منسوب ہے۔ جیسے کہ اوپر گزر چکا ہے۔ پوشیدہ نہ ر ہے کہ تعین اول کے مندرجہ حصے اگر چہ انبیاء کرام اور ملا ئکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام کے مبادی تعینات ہیں لیکن چونکہ اس مرتبہ میں اجمال ہے اس لیے ہر ایک کا  مبدأعلیحدہ علیحدہ مفصل طور پر معلوم نہیں ہوتا اور اس کا کوئی نام مقرر نہیں کیا جاتا جب اس نے تفصیل پائی ہر ایک کا مبدأ الگ ہوا اور علیحدہ نام پایا ۔ مثلا است تعین اول وجودی کا ایک حصہ اسم الحیاۃ ہے اور دوسرا حصہ اسم العلم ہےعلی هذا القیاس اور مشہود ہوتا ہے کہ اسم الحیاۃ اس جامعیت کے اعتبار سے کہ رکھتا ہے ملائکہ علییں علی نبینا وعلیہم السلام کا مبداء تعین ہے۔ حضرت روح اللہ علیہ السلام کو بھی جو ملاء اعلی کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اس مقام سے حصہ حاصل ہے اور مہدی علیہ الرضوان بھی چونکہ حضرت روح اللہ علیہ السلام کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اس مقام کے امیدوار ہیں۔</p>



<p> جاننا چاہیئے کہ صفات ثمانیہ(حیات، علم، قدرت،ارادہ، سمع، بصر، کلام، تکوین) میں سے ہر ایک صفت جنہوں نے مرتبہ تعین ثانی میں تفصیل پائی ہے ہر ایک بزرگ مقتدا پیغمبر علیہ السلام کا  مبدأ ہے چنانچہ علم حضرت خاتم الرسل علیہ السلام کا  مبدأتعین ہے اور قدرت حضرت عیسی علیہ السلام علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کا  مبدأتعین ہے اورتکوین حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوة والسلام کا  مبدأ تعین ہے ۔ ان اسما ء کلیہ مقدسہ کے جزئیات باقی تمام انبیاء علیہم الصلوة والسلام کے مبادی تعینات ہیں ان بزرگواروں میں سے وہ گروہ جو خاص اسم کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور خاص مقتداء نبی کے ساتھ ان کی مناسبت ہے ان کے مبادی تعینات اس اسم کی جزئیات ہیں اور وہ اولیاء جو مقتداء پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے قدم پر ثابت ہیں ان کے مبادی تعینات اس اسم کے جزئیات کی جزئیات ہیں جو اس پیغمبر کا  مبدأ تعین ہے۔ اسی طرح تمام مومنوں کے مبادی تعینات اس اسم کی جزئیات ہیں جو اس پیغمبر کا مبداءتعین ہے جس کے قدم پروہ چلتے ہیں کفار کے مبادی تعینات اسم مفصل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان مبادی مذکورہ سے الگ ہیں جب ممکنات کے مبادی تعینات معلوم ہو چکے تو اب جاننا چاہیئے کہ دائرہ وجوب ان تعینات کی منتہا پر ختم ہو جاتا ہے اس کے بعد دائرہ ممکنات شروع ہوتا ہے حق تعالیٰ نے جب چاہا کہ اپنے کمال کرم و احسان سے اپنے فیوض و انعامات دوسروں کو عطا فرمائے اور گنج بخشی ظاہر کرے تو خلقت کو پیدا کیا اور اپنے وجود اور توابع وجود کے کمالات ان کو بخشے ۔ بغیر اس بات کے کہ وہاں سے کچھ جدا ہو کر ان کے ساتھ ملحق ہو جائے کیونکہ یہ امرنقص کا موجب ہے<strong>۔ تَعَالَى اللہُ عَنْ ذَالِکَ ‌عُلُوًّا ‌كَبِيرًا</strong> ( الله تعالیٰ اس سے بہت ہی برتر اور بلند ہے) خلق سے مقصود یہ ہے کہ ان کو اپنے انعام و احسان پہنچائے نہ یہ کہ ان کے ذریعے اسمائی و صفاتی کمالات کی تکمیل وتتمیم ہو ۔ حاشا وکلا صفات في حد ذاتها کامل ہیں ۔ ظہور ومظہر کی ان کو کچھ حاجت نہیں ۔ اس بارگاہ جل شانہ میں تمام کمالات بالفعل حاصل ہیں ۔ بالقوۃنہیں جس کا حاصل ہونا کسی دوسرے امر پر وابستہ ہو۔ اس بارگاہ جل شانہ میں اگر شہود(مشاہدہ) و مشاہدہ ہے تو خود بخود ہے اور اگر علم و معلو<em>م </em>ہے تو خود ہی عالم ہے اور خود ہی معلوم ۔ اسی طرح خود تکلم ہے اور خود ہی سامع ہے وہاں تمام کمالات مفصل ومتمیز ہیں لیکن بیچونی کے طور پر کیونکہ چو<em>ن </em>کو بیچو<em>ن </em>کی طرف کوئی راہ نہیں خلق کیا ہے جوحق تعالیٰ کے کمالات کا آئینہ بن سکے۔ </p>



<p><strong>در کدام آئینه در آیداو</strong> ترجمہ: وہ کسی آئینہ میں آتا نہیں </p>



<p>اور عالم کیا ہے جو اس اجمال کی تفصیل کرے کیونکہ وہ بارگاہ جل شانہ میں اجمال میں تفصیل ہے اور عین تنگی میں وسعت ہے چونکہ اس جگہ کی تفصیل و وسعت بیچون ہے۔ اس لیے متوہم ہوتا ہے کہ اجمال کے لیےتفصیل کی ضرورت ہے جوخلق عالم پر وابستہ ہے اور اس اجمال کی تکمیل اس تفصیل پر موقوف ہے لیکن حق یہ ہے کہ وہاں اجمال بھی ہے اور تفصیل بھی جیسے کہ گزر چکا ہے۔ <strong>وَ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ</strong><strong> </strong><strong>(</strong>الله<strong> </strong>تعالیٰ گھیرنے والا اور جاننے والا ہے جاننا چاہیئے کہ اس عالم کی پیدائش اس مرتبہ میں واقع ہوئی ہے جس کو اس مرتبہ مقدسہ کے ساتھ کسی قسم کی مزاحمت و مدافعت نہیں ۔ <strong>أَحَدُ</strong><strong> </strong><strong>الْمَوْجُوْ</strong><strong> </strong><strong>دَیْنِ</strong> یعنی دو موجودوں میں سے ایک کا وجود اگرچہ دوسرے وجود کی حد بندی کرنا چاہتا ہے لیکن یہ قاعدہ اس جگہ مفقود ہے کیونکہ عالم کے وجودنے اس وجود اقدس کے لیے کوئی حد نہایت پیدا نہیں کی اور کسی نسبت وجہت کو ثابت نہیں کیا ۔ وہ صورت جو آئینہ میں توہم ہوتی ہے اس کا ثبوت مرتبہ وہم میں ثابت ہے اس ثبوت کوزید کے ثبوت کے ساتھ جو اس صورت کا اصل ہے کسی قسم کی مزاحمت و مدافعت حاصل نہیں اور اس صورت کے ثبوت نے اپنے اصل کے ثبوت میں کوئی حد و نہایت پیدا نہیں کی اور کوئی جہت و نسبت حاصل نہیں کی ۔ عالم کا وجود اس صورت کے وجود کی طرح ہے جو مرتبہ وہم میں ثابت&nbsp;ہے جس کو اپنے اصل کے ساتھ جو خارج میں موجود ہے کوئی مزاحمت نہیں اور صورت کے اس&nbsp;وہمی ثبوت سے اس خارجی ثبوت میں جو صورت کا اصل ہے کیا تم کی حدو نہایت پیدا نہیں ہوئی۔ <strong>وَلِلَّهِ ‌الْمَثَلُ الْأَعْلَى </strong>مثال اعلى الله تعالیٰ کے&nbsp;لیے ہے ۔</p>



<p>اس تحقیق سے اس بات کی&nbsp;حقیقت معلوم ہوئی جو کہتے ہیں کہ عالم مرتبہ وہم میں ثابت ہے یعنی عالم اس مرتبہ میں پیدا ہوا&nbsp;ہے جو مرتبہ وہم کے مشابہ ہے جو آئینہ کی منعکسہ صورت کے لیے اپنے اصل کی نسبت کہ خارجی میں موجود ہے۔ ثابت ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مرتبہ مقدسہ میں وجود خارجی(وجود جس کا خارج میں ادراک ہو سکے) کا اطلاق بھی تشبیہ و تنظیر کی قسم سے ہے کیونکہ خارج کی دہاں گنجائش نہیں جب وجود اس مرتبہ اقدس سے کوتاه&nbsp;ہے تو پھر خارج کیا ہے جو وجود کی فرع اورقسم ہے۔</p>



<h2 class="wp-block-heading"> خاتمہ حسنہ</h2>



<p>:۔ یہ سب مبادی تعینات جو مذکور ہوئے ہیں خواہ عین وجودی اجمالی ہو یاتفصیلی سب اس عالم دنیا کی موجودات ممکنہ کے ساتھ نسبت رکھتے ہیں اور اس عالم دنیا کی موجودات کا وجود وتشخص ان مبادی عالیہ پر وابستہ ہے لیکن موجودات آخرت (مشہود ہوتا ہے کہ) ان مبادی مذکورہ پر وابستہ نہیں بلکہ ان کے مبادی تعینات اور امور ہیں ۔ وہ امور اس فقیر کے نزدیک وہ کمالات ذاتیہ ہیں جن کے دامن پاک تک ظلیت کی گردنہیں پہنچی اور اس مرتبہ اقدس میں مندرج ہیں بلکہ اس مرتبہ مقدسہ میں بیچونی تفصیل و تمیز کے ساتھ مفصل و متمیز ہیں ۔ ان کمالات مقدسہ مفصلہ ذاتیہ میں سے ہر ایک کمال عالم آخرت کی موجودات میں سے ہر ایک موجود کا  مبدأتعین ہے۔ اہل بہشت کے وجود کو ان تعینات وجودی کے ساتھ خواہ اجمالی ہوں یا تفصیلی جو عالم دنیا سے تعلق رکھتے ہیں کسی قسم کامس نہیں ۔ عالم آخرت کی موجودات گویا اس مرتبہ مقدسہ کے مواجہ اور مقابل ہیں۔ برخلاف عالم دنیا کی موجودات کے کہ اس مواجہ اور مقابلہ سے بے نصیب ہیں ۔ اس عالم دائمی کی موجودات کو اس مرتبہ مقدسہ سے اس قسم کے نصيب وحظ حاصل ہیں جو بیان سے باہر ہیں۔ </p>



<p><strong>ھَنِیئًا لأرْبَابِ النَعِیْمِ ِنَعِيْمُهَا</strong> ارباب نعمت کو یہ نعمت مبارک</p>



<p><strong>وَمِنْ</strong><strong> </strong><strong>بَعْدِ</strong><strong> </strong><strong>هٰذَا</strong><strong> </strong><strong>مَايَدِقُ</strong><strong> </strong><strong>صِفَاتُهٗ &nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp;&nbsp; وَکَتْمُہٗ</strong><strong> </strong><strong>أَحْطٰى</strong><strong> </strong><strong>لَدَيْهِ وَأَجْمَلُ</strong></p>



<p>ترجمہ بیت بعدازاں وہ امر ہے جس کا نہیں ملتا یا اس کا پوشیدہ ہی رکھنا اور چھپانا ہے بھلا&nbsp;<strong>رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا</strong><strong> </strong>(ياللہ تو ہماری بھول چوک پر ہمارا مواخذہ نہ کر) <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong>(سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر سوم صفحہ338ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&amp;linkname=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b5%25d9%2581%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ac%25d8%25a8%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25ad%25d9%2582%25db%258c%25d9%2582-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-114%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25b3%25d9%2588%2F&#038;title=%D8%B5%D9%81%D8%A7%D8%AA%20%D9%88%D8%A7%D8%AC%D8%A8%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20114%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-114%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d9%88/" data-a2a-title="صفات واجبی کی تحقیق مکتوب نمبر 114دفتر سوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b5%d9%81%d8%a7%d8%aa-%d9%88%d8%a7%d8%ac%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-114%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عارف کو حاصل علم حضوری مکتوب نمبر 49دفتر سوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%ad%d8%b6%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-49%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%ad%d8%b6%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-49%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 23 Oct 2021 10:47:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر سوم معرفۃ الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[قرب و اقربیت]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3518</guid>

					<description><![CDATA[&#160;اس بیان میں کہ وہ علم حضوری جوعارف کو اپنے آپ سے ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ &#160;کے ساتھ تعلق پکڑتا ہے۔ جناب حضرت میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی (اللہ تعالیٰ &#160;کی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%ad%d8%b6%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-49%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;اس بیان میں کہ وہ علم حضوری جوعارف کو اپنے آ<em>پ</em><em> </em>سے ہوتا ہے۔ حق تعالیٰ &nbsp;کے ساتھ تعلق پکڑتا ہے۔ جناب حضرت میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی</strong><strong> (اللہ</strong><strong> </strong>تعالیٰ &nbsp;کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو) جب حق تعالیٰ &nbsp;کی قربت کا معاملہ عارف تام المعرفت پر ظاہر ہوتا&nbsp;ہے اور اس بلند مقام پر ترقی کرتا ہے تو انفس(اپنی ذات کے علم) اس کے حق میں آفاق(باہر کی چیزوں کا علم) کا حکم پیدا کرتا ہے اور اس کا علم حضوری علم حصولی سے بدل جاتا ہے۔ اس وقت حق تعالیٰ &nbsp;کی اقربیت(نہایت درجہ قرب) انفس کا حکم پیدا کر لیتی&nbsp;ہے اور وہ علم حضوری جو پہلے انفس سے تعلق رکھتا تھا اسی اقربیت سے تعلق پیدا کر لیتا ہے۔ نہ اس طرح پر کہ اپنے آپ کوعین واجب تعالیٰ &nbsp;جانتا ہے اور وہ علم جو اس کے اپنے نفس کے متعلق&nbsp;ہے۔ بعینہ واجب تعالیٰ &nbsp;کے متعلق خیال کرتا ہے کیونکہ یہ معاملہ توحید شہود ی کا ہے اور مقامات قرب سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کی نہایت اتحاد(شہودی کیفیت)تک ہی ہے اقربیت اور چیز ہے اور اس کا معاملہ<strong> </strong>بھی اورہی ہے۔ اس اتحاد سے گزر کر اثنینیت یعنی دوئی میں آنا پڑتا ہے۔ پھر اقربیت متصور ہوتی ہے۔ کوئی بےسمجھ دوئی کے لفظ سے شک و شبہ میں نہ پڑ جائے اور اتحاد کو اس سے بڑھ کر نہ جانے، کیونکہ وہ دوئی جو اتحاد سے کمترہے۔ وہ عوام کا الانعام کا مقام ہے اور یہ دوئی جو اتحاد پر ہزار ہا درجہ زیادتی رکھتی ہے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا مقام ہے۔ جس طرح کہ وہ&nbsp;صحو جوسکر سے پہلے ہے۔ عوام کا حال ہے اور وہ صحو جو سکر(مستی) &nbsp;کے بعد ہے۔ خواص بلکہ اخص خواص کا مقام ہے یا جس طرح کہ وہ اسلام جو کفر طریقت سے پہلے ہے عام مسلمانوں کا اسلام ہے اور وہ اسلام جو کفر طریقت کے بعد ہے اخص الخواص کا اسلام ہے۔ عجب معاملہ ہے اگرچہ&nbsp; عارف اپنے آپ کو واجب تعالیٰ &nbsp;نہیں جانتا، لیکن وہ علم حضوری جو عارف کے اپنے نفس سے تعلق رکھتا تھا ۔ واجب تعالیٰ &nbsp;کے ساتھ تعلق پیدا کر لیتا ہے اور عارف کے اپنے نفس کا علم جو حضوری تھا علم حصول ہو جاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>در عشق چنیں بوالعجبيها باشند&nbsp; ترجمہ &nbsp;عشق میں ہوتی ہیں ایسی ہی بہت باتیں عجب&nbsp;</p>



<p>عقل عقیل اس دقیقہ کونہیں پا سکتی۔ بلکہ جمیع ضدین کی طرف راجع کرتی ہے۔ ایک <strong>عارف</strong><strong> </strong><strong>کہتا</strong><strong> </strong><strong>ہے</strong><strong> </strong><strong>عرفت</strong><strong> </strong><strong>ربى</strong><strong> </strong><strong>بجمع الأضداد</strong><strong> </strong><strong>(میں</strong><strong> </strong>نے رب کو اضداد کے جمع ہونے سے پہچانا<strong> </strong>۔ <strong>رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا</strong> (یا اللہ تو اپنے پاس سے ہم پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کام سے بھلائی ہمارے نصیب کر)) <strong>وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى</strong><strong> </strong>(سلام ہو اس شخص پر جس نے ہدایت اختیار کی )</p>



<p>                            <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  سوم صفحہ154ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                 </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25da%25a9%25d9%2588-%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25b5%25d9%2584-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25ad%25d8%25b6%25d9%2588%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-49%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1%2F&#038;title=%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%DA%A9%D9%88%20%D8%AD%D8%A7%D8%B5%D9%84%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%D8%AD%D8%B6%D9%88%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2049%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%ad%d8%b6%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-49%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/" data-a2a-title="عارف کو حاصل علم حضوری مکتوب نمبر 49دفتر سوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%b9%d9%84%d9%85-%d8%ad%d8%b6%d9%88%d8%b1%db%8c-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-49%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حق تعالیٰ کے اقربیت کے بھید مکتوب نمبر 48دفتر سوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-48/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-48/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 23 Oct 2021 10:37:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر سوم معرفۃ الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حق تعالیٰ کے اقربیت]]></category>
		<category><![CDATA[درک و انکشاف کا فرق]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=3515</guid>

					<description><![CDATA[حق تعالیٰ کے اقربیت کے بھیداور اس بیان میں کہ کُنْہ ذات کا انکشاف علم حضوری سے ہے۔ مخدوم زادہ خواجہ سعید مدظلہ العالی کی طرف صادر فرمایا ہے۔  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی &#160;(الله <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-48/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>حق تعالیٰ کے اقربیت کے بھیداور اس بیان میں کہ کُنْہ ذات کا انکشاف علم حضوری سے ہے۔ مخدوم زادہ خواجہ سعید مدظلہ العالی کی طرف صادر فرمایا ہے۔ </p>



<p><strong>بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی</strong><strong> </strong><strong>&nbsp;</strong><strong>(</strong>الله تعالیٰ &nbsp;کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو)حق تعالیٰ &nbsp;کی اقربیت کا معاملہ علم حضوری پر وابستہ ہے جو معلوم کے اصل سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ معلوم کے ظلال میں سے کسی ظل اور اس کی صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کہ یہ علم حضوری کا نصیب ہے۔ پس علم حصولی در حقیقت نفس شے کا علم نہیں ہوتا بلکہ اس شے کی صورتوں میں سے کسی صورت کا علم ہوتا ہے اور اس میں نفس شے کی نسبت جہل ثابت ہوتا ہے۔ سبحان اللہ</p>



<p>شےکی نسبت جہل اور عدم علم یاشے کے ظل وصورت کے علم کو اس شے کا علم کہتے ہیں۔ اگر شے کی صورت اور ظل کو اس شے کاعین تصور کر کے شے کی صورت کے علم کو اس شے کاعلم جانتے ہیں تو ممنوع ہے اور عینیت کا دعوے سننے کے لائق نہیں، کیونکہ&nbsp;شے اور صورت شے ایک دوسرے کے ساتھ دوئی کی نسبت رکھتی ہیں اور جہاں دوئی کی نسبت ثابت ہے وہاں تغائر یعنی ایک دوسرے کا غیر ہونا لازم آتا ہے۔ الاثنان متغائران (دوچیزیں ایک دوسرے کی غیر ہوتی ہیں) معقول والوں کا مقررہ قضیہ ہے۔ نیز صورت شے کے علم سے اس شے کا کماحقہ علم کس طرح لازم آتا ہے جبکہ صورت شے ایک ظاہری تصویر اور تمثال ہے۔ جو آئینہ کے احکام سےملتبس ہو کر ظاہر ہوئی ہے اور اس شے کے بہت سے دقائق اور اسرار ہیں۔ جن کا اس صورت میں نام ونشان نہیں۔ بیت&nbsp;</p>



<p><strong>گر مصور صورت آں دلستان خواهد کشید حیرتے وارم که نازش راچساں خواهد کشید&nbsp;</strong></p>



<p>ترجمہ: بیت میرے دلدار کی صورت مصور گراتاریگا تو حیراں ہوں کہ اس کے ناز کو کیونکر اتاریگا&nbsp;۔</p>



<p>کاش کہ شے کا ظاہر اپنی صرافت یعنی ہو بہو اور بعینہ شے کی صورت میں ظاہر ہوتا اور باطن موقوف رہتا جب شے کا ظاہرمحل اور آئینہ کے رنگ سےملتبس ہوکر شے کی صورت میں ظہور پاتا ہے تو یقین ہے کہ شے کا ظاہر اپنی صرافت پرنہیں رہتا بلکہ دوسری ہئیت پیدا کر لیتا ہے۔ پس صورت جس طرح شے کے باطن سےمحروم ہے اسی طرح شے &nbsp;کےظاہر سے بھی محروم ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس صورت کا علم نفس شے کے علم کومستلزم نہیں، حاصل کلام یہ کہ معلوم درحقیقت وہ ہے جو ذہن میں موجود ہو اور جب ذہن میں صورت موجود ہے تو معلوم بھی وہی صورت ہوگی۔ جب صورت کوشے کے ساتھ تغائر کی نسبت پیدا ہوگئی تو صورت کاعلم نفس&nbsp;شے کے علم کومستلزم نہ ہوگاوہ علم حضوری ہی ہے جہاں نفس شے مدرکہ میں حاضر ہے اور کوئی ظل وصورت درمیان میں خلل انداز نہیں۔ پس اس علم میں معلوم نفس شے ہوگا نہ اس شے کی صورتوں میں سے کوئی صورت پس علم حضوری اشرف ہے بلکہ علم ہی یہی ہے۔ علم حضوری کے سوا&nbsp; جوعلم حصولی ہے وہ سراسر جہل ہے جو علم کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ جہل مرکب ہے کہ اپنے جہل کوعلم جانتے ہیں اور نہیں جانتے کہ کچھ نہیں جانتے۔ پس علم حصولی کو حق تعالیٰ &nbsp;کی ذات و صفات کی طرف کوئی راہ نہیں اور اس علم کے ساتھ حق تعالیٰ &nbsp;کی ذات و صفات معلوم نہیں ہوتی&nbsp;کیونکہ یہ علم در حقیقت معلوم کی صورت کا علم ہے نہ کہ نفس معلوم کا جیسے کہ گزر چکا ہے۔ صورت کو اس بارگاہ جل شانہ کی طرف کوئی راستہ نہیں تا کہ صورت کے علم کو صورت کے اصل کاعمل کہاجائے۔ اگر چہ بعض نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ &nbsp;کے لیے مثل نہیں، لیکن مثال ہے۔ لیکن یہ صورت مثالی اگر ثابت بھی ہو جائے توذہنی صورت کے سوا ہے جوعلم سے تعلق رکھتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ عالم مثال جومخلوقات میں سے بہت وسیع ہے صورت موجود ہو اور ان میں ثابت نہ ہو۔ حدیث قدسی<strong> </strong><strong>لَا ‌يَسَعُنِي ‌أَرْضِي، وَلَا سَمَائِي، وَلَكِنْ يَسَعُنِي قَلْبُ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ</strong><strong> </strong>میں نہ اپنی زمین &nbsp;میں سما سکتا ہوں نہ آسمانوں میں لیکن مومن آدمی کے دل میں سما سکتا ہوں۔<strong> </strong>اس بندہ مومن کے قلب کیساتھ مخصوص ہے۔ جس کا معاملہ تمام لوگوں سے جدا ہے، کیونکہ وہ فناء و بقاء سے مشرف ہوا ہے اور حصول سے آزاد ہو کر حضور سے ملا ہوا ہے۔ وہاں یعنی قلب مومن میں اگر گنجائش ہے تو حضور کے اعتبار سے ہے نہ کے حصول کے اعتبارسے۔&nbsp;</p>



<p><strong>در کدام آئنہ در آید او</strong>&nbsp; ترجمہ &nbsp;&nbsp;کسی آئینہ میں آتا نہیں وہ&nbsp;</p>



<p>جاننا چاہیئے کہ علم حضوری میں عالم و معلوم کا اتحاد ہے اس علم کا عالم سے دور ہونا جائز نہیں، کیونکہ معلوم اس کا اپنا نفس ہے جو اس سے الگ نہیں ہے بلکہ وہاں علم بھی عین عالم اور عین معلوم ہے پھر کس طرح جدا ہو سکتا ہے۔ جاننا چاہیئے کہ جب علم حضوری میں معلوم نقش شے ہے نہ اس کی صورت تو معلوم وہاں جیسا کہ ہے منکشف ہوتا ہے اور کماحقہ علم میں آ جاتا ہے اور اس کی کُنْہ( ماہیتِ الٰہی جو ادراک سے پرے ہے۔انتہا، غایت) و حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کیونکہ کنہ شے نفس شے سے مراد ہے جب تمام قسم کے اعتبارات ساقط ہو گئے اورنفس ذات رہ گئی جو مدرکہ میں حاضر ہے تو اس کی کنہ معلوم ہوگئی۔ برخلاف علم حصولی کے کہ وہاں معلوم شے کے کئی وجوہ اور اعتبارات ہیں جو صورتیں اور شبح ہیں نہ کہ نفس شے۔ جیسے کہ گزر چکا۔ پس معلوم اس علم میں شے کی کنہ نہ ہوگی اور شے کی کنہ معلوم نہ ہوگی۔ حاصل کلام یہ کہ علم حصولی میں شے کا انکشاف بھی ہے اور ادراک بھی اورعلم حضوری میں صرف شے کا انکشاف ہے ادراک نہیں۔ یعنی معلوم کہ کنہ معلوم و منکشف ہو جاتی ہے، لیکن ادراک میں نہیں آ سکتی۔ پوشیدہ نہ رہے کہ جب حق تعالیٰ  کی ذات کی نسبت علم حضوری ثابت ہو گیا۔ جیسے کہ گزر چکا تو اس سے لازم آتا ہے کہ حق تعالیٰ  کی ذات کی کنہ منکشف ہو جائے اور واجب تعالیٰ  کی ذات کماحقہ معلوم ہو جائے اور یہ بات علماء کے مقررہ اصول کے برخلاف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ علم حضوری جس کا تعلق واجب تعالیٰ  کی ذات کے ساتھ ہے۔ اس رؤیت کی طرح ہے جو واجب تعالیٰ  کی نسبت ثابت کرتے ہیں۔ جہاں صرف انکشاف ہے اور ادراک مفقود۔ یہاں بھی یعنی اس علم حضوری میں انکشاف ہے اور ادراک مفقود ہے۔ جب رویت حق تعالیٰ  کی ذات کے ساتھ تعلق حاصل کرتی ہے تو علم کیوں تعلق پیدانہ کرے۔ جو رؤیت سے زیادہ لطیف ہے محذور اور اعتراض ادر اک میں ہے۔ جس سے احاطہ لازم آتا ہے۔ نہ کہ انکشاف میں حق تعالیٰ  نے<strong> لَا ‌تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ</strong>فرمایا ہے۔ <strong>لَا ‌تَراہُ الْأَبْصَارُ</strong>نہیں فرمایا۔</p>



<p>&nbsp;سوال: جب ادراک حاصل نہ ہو۔ تو انکشاف کس کام آئے گا؟</p>



<p>&nbsp;جواب: انکشاف سے مقصود یہ ہے کہ دیکھنے والے کو لذت حاصل ہو، جو اس کو حاصل ہے۔ ادراک ہو یا نہ ہو۔</p>



<p><strong>&nbsp;</strong>سوال: ادراک کے بغیر انکشاف سے کس طرح لذت حاصل ہوسکتی ہے۔&nbsp;</p>



<p>&nbsp;جواب: لذت کے پانے میں انکشاف کا علم کافی ہے ادراک ہو یا نہ ہو یا یوں سمجھنا چاہیئے کہ ادراک بھی اس مقام میں حاصل ہے لیکن اس کی کیفیت معلوم نہیں۔ ادراک جو اس کے منافی ہے&nbsp;وہ وہی ہے جس کی کیفیت علم میں آجائے اور معلوم کا احاط کرے <strong>وَلَا ‌يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا </strong>(نہیں احاطہ کر سکتے اس کا ازروئے علم کے )نص قا<em>طع</em><em> </em>ہے جوعلم حصولی کے مناسب ہے۔ اگر ادراک علم حضوری میں نہ ہوتا تو علم حصولی میں کہاں سے آتا؟ کیونکہ جو کچھ ظل میں ہے سب کچھ مرتبہ اصل سے حاصل ہوا ہے لیکن ادراک اصل میں مجهول الکیفیت ہے اورظل میں معلوم الکیفیت۔&nbsp;</p>



<p>                           <a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noreferrer noopener"><strong>مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر  سوم صفحہ150ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</strong></a>                                </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c%25d9%25b0-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2582%25d8%25b1%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c%25d8%25af-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-48%2F&#038;title=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%D9%B0%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D9%82%D8%B1%D8%A8%DB%8C%D8%AA%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A8%DA%BE%DB%8C%D8%AF%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2048%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-48/" data-a2a-title="حق تعالیٰ کے اقربیت کے بھید مکتوب نمبر 48دفتر سوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%82%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%da%be%db%8c%d8%af-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-48/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حق تعالی کے علم کی کیفیت مکتوب نمبر 21دفتر سوم</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-21%d8%af%d9%81%d8%aa/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-21%d8%af%d9%81%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 14 Sep 2021 01:34:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر سوم معرفۃ الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والے]]></category>
		<category><![CDATA[حق تعالی کی ضمائر]]></category>
		<category><![CDATA[علم حصولی]]></category>
		<category><![CDATA[علم حضوری]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=2632</guid>

					<description><![CDATA[&#160;بعض ان سوالوں کے جواب میں جوضمیروں کے ساتھ حق تعالی کے مشار الیہ ہونے اور زاہدوں کی فضیلت اورحق تعالی کی اپنی ذات کے علم کی کیفیت میں&#160; کیے گئے تھے۔ میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے۔ &#160;اَلْحَمْدُ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-21%d8%af%d9%81%d8%aa/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p>&nbsp;بعض ان سوالوں کے جواب میں جوضمیروں کے ساتھ حق تعالی کے مشار الیہ ہونے اور زاہدوں کی فضیلت اورحق تعالی کی اپنی ذات کے علم کی کیفیت میں&nbsp;</p>



<p>کیے گئے تھے۔ میر نعمان کی طرف صادر فرمایا ہے۔</p>



<p>&nbsp;<strong>اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى</strong> سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔</p>



<p>آپ نے پوچھا تھا کہ جب ظلی اشیاء(تمام ممکنات) اپنی ماہیت سے اشیاءنہیں <em>ہیں</em>۔ بلکہ اپنے اصل(حق تعالی) کی ماہیت سے قائم ہیں تو چاہئے کہ اشیاء کا مشار الیہ لفظ هو(وہ) انت(تو) و انا&nbsp;(میں)سے وہی اصل ہو۔ اس وقت بعض ان صفات کا جواس اصل کے نا مناسب ہیں ۔ ضمیروں پرحمل کرنا کسی طرح صادق آتا ہے۔ جیسے کہ آنا اكل(میں کھانے والا ہوں ) وانا نام(میں سونے والا ہوں)۔</p>



<p>(جواب) جاننا چاہئے کہ ظل درحقیقت اگر چہ اپنی اصل سے قائم ہے، لیکن اس ظلیت کا ثبوت خواہ مرتبہ وخیال ہی میں ہو۔ ہمیشہ قائم ہے اور اس کی ظلیت کے احکام کے لیے دوام و بقا ثابت ہےاور خُلِقْتُمْ لِلْاَبَدِ(تم ہمیشہ کیلئے پیدا کئے گئے ہو) اس امر پر گواہ ہے ۔ظلیت کے اعتبار سے ان صفات کاضمیروں پرعمل کرنا جائز ہے کیونکہ وجود کے ہر مرتبہ کاحکم جدا ہے اور جو کچھ خدا میں گم ہے خدانہیں ہے۔ دو<em>سرے</em><em> </em><em>آپ</em><em> </em>نے اس حدیث قدسی&nbsp;کے معنے پو چھے تھے۔ جوز اہدوں کی فضیلت میں وارد ہوئی ہے۔</p>



<p>(جواب) اس حدیث کے لفظی معنے ظاہر ہیں۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کچھ دورنہیں کہ بعض لوگوں کو اس قسم کے فضائل اور خصائص و کرامات کے ساتھ مخصوص کرے اور ایسے ایسے درجات و مراتب عطا فرمائے کہ دوسرے لوگ رشک کریں اور ان کی گنتی میں جو آپ کا تر دو تھا کوئی تردد کا مقام نہیں ۔ حضرت خیر البشر علی الصلوة والسلام کی امت میں سے بہت سارے لوگ بے حساب بہشت میں جائیں گے۔ چنانچہ حدیث بیع میں آیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی &nbsp;بے حساب جنت میں جائیں&nbsp;گے۔ حاضرین نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ <strong>هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ </strong>(وہ لوگ ہیں جو نہ داغ دیتے ہیں اور نہ افسون پڑھتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں)</p>



<p>&nbsp;اس مقام میں سرعظیم ہے جس کا ظاہر کرنا مصلحت سے دور ہے، کیونکہ اکثر لوگوں کےفہم سے بعیدہے۔ اگر ملاقات کا موقع ملا تو یاد دلانا روبرو پھر اس کا بیان کیا جائے گا۔ اس سرکا تھوڑا سا حال دفتر دوم کے مکتوبات میں سے کسی مکتوب(99) میں درج ہو چکا ہے۔ اگرمل سکے تو وہاں سے دیکھ لیں آپ نے یہ بھی پوچھا تھا کہ &nbsp;&nbsp;حق تعالی کاعلم اپنی ذات کی کُنْہ(ماہیتِ الٰہی جو ادراک سے پرے ہے۔انتہا، غایت) کو محیط ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اگر ہوسکتا ہے تو حق تعالی کامتناہی اور محدود ہونا لازم آئے گا۔</p>



<p>(جواب)جاننا چاہئے کہ علم کی دو قسمیں ہیں ایک حصولی ، دوسری حضوری، محال ہے کہ علم حصولی حق تعالی کی ذات کی کنہ کے متعلق ہو کیونکہ اس سے احاطہ اور تناہی لازم آتی ہے، لیکن جائز ہے کہ حق تعالی کاعلم حضوری حق تعالی کی ذات کی کنہ کے متعلق ہو اور کوئی تناہی لازم نہ آئے۔ والسلام &#8211; </p>



<p> <strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر سوم صفحہ72 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی </a></span></strong> </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&amp;linkname=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25ad%25d9%2582-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25b9%25d9%2584%25d9%2585-%25da%25a9%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c%25d9%2581%25db%258c%25d8%25aa-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-21%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%2F&#038;title=%D8%AD%D9%82%20%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D9%84%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D8%B9%D9%84%D9%85%20%DA%A9%DB%8C%20%DA%A9%DB%8C%D9%81%DB%8C%D8%AA%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%2021%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%B3%D9%88%D9%85" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-21%d8%af%d9%81%d8%aa/" data-a2a-title="حق تعالی کے علم کی کیفیت مکتوب نمبر 21دفتر سوم"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d9%85-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%aa-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-21%d8%af%d9%81%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
