<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نفس رحمانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D9%86%D9%81%D8%B3-%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Wed, 13 Aug 2025 10:30:45 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>نفس رحمانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 May 2025 09:39:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[اولین حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول تخلیق کا منبع]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت انسان کامل]]></category>
		<category><![CDATA[عماء ابر رقیق]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کا تصور]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کی اصطلاح]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کی تعریف]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کے بنیادی پہلو]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ عمائیہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9234</guid>

					<description><![CDATA[عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں عماء صوفیاء کی اصطلاح میں ایک بنیادی اور انتہائی لطیف مفہوم رکھتی ہے، جو ذاتِ الٰہی کی ازلی اور غیرمخلوق حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ لفظ عربی زبان کے مادہ &#8220;ع م <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں</h1>
<p>عماء صوفیاء کی اصطلاح میں ایک بنیادی اور انتہائی لطیف مفہوم رکھتی ہے، جو ذاتِ الٰہی کی ازلی اور غیرمخلوق حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ لفظ عربی زبان کے مادہ &#8220;ع م و&#8221; سے نکلا ہے، جس کا عام معنی &#8220;اندھیرا&#8221;، &#8220;غیر مرئی&#8221;، یا &#8220;پوشیدگی&#8221; ہے۔ لیکن تصوف کے تناظر میں اسے &#8220;اللہ کی ذات کا وہ مقامِ غیب&#8221; سمجھا جاتا ہے جو تمام مخلوقات، وجود، اور حتیٰ کہ زمان و مکان سے بھی ماورا اور پوشیدہ ہے۔</p>
<h2>عماء کے بنیادی پہلو</h2>
<h3>1. ذاتِ باری تعالیٰ کا مطلق غیب</h3>
<p>عماء کو &#8220;لا تعیّن&#8221; (عدم تعین) کی حالت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی وہ مقام جہاں ذاتِ الٰہی کسی بھی صفت، شکل، یا حد سے ماورا ہے۔ یہ وہ &#8220;اولین حقیقت&#8221; ہے جہاں نہ کوئی مخلوق تھی، نہ کائنات، نہ نور، نہ ظلمت۔ صوفیاء اسے &#8220;قبل الکائنات&#8221; کی حالت قرار دیتے ہیں، جیسے حدیث قدسی میں آیا ہے: &#8220;کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ&#8221; (میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا)۔ یہاں &#8220;پوشیدہ خزانہ&#8221; عماء کی طرف کنایہ ہے۔ گویا حقیقت مطلق اور غیب مطلق کا نام عماء ہے</p>
<h3>2. فنا فی اللہ کا مقام</h3>
<p>صوفی سلوک میں جب سالک اپنی انا کو فنا کر دیتا ہے اور ذاتِ الٰہی میں گم ہو جاتا ہے، تو اسے &#8220;عماء کے سمندر میں غرق ہونا&#8221; کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سالک کو اپنی ذات کا احساس باقی نہیں رہتا، بلکہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ اتحاد (وحدت الوجود نہیں، بلکہ وحدت الشہود) محسوس کرتا ہے۔</p>
<h3>3. تخلیق کا مبدا</h3>
<p>بعض صوفیاء کے نزدیک عماء وہ &#8220;ابدی بادل&#8221; یا &#8220;غیر متعین ہیولٰی&#8221; ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ظہور بخشا۔ یہ نظریہ افلاطونی فلسفہ کے &#8220;عالمِ مُثُل&#8221; سے مشابہت رکھتا ہے، لیکن صوفیاء اسے خالصتاً قرآنی تصور &#8220;کُنْ فَیَکُونُ&#8221; (ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے) سے جوڑتے ہیں۔<br />
4. یہ ذات الٰہی کی وہ حالت ہے جہاں سے اسماء و صفات کا ظہور شروع ہوتا ہے۔<br />
5. بعض صوفیا کے مطابق عماء &#8220;تعین اول&#8221; ہے جو تمام تخلیق کا منبع ہے۔<br />
6. عماء کو اکثر &#8220;نفس رحمانی&#8221; (خدا کی نفس یا سانس) سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، جس سے تمام مخلوقات کا وجود وابستہ ہے۔<br />
عماء کا تصور ایک حدیث پر مبنی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: &#8220;أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟&#8221; (ہمارا رب مخلوقات کی تخلیق سے پہلے کہاں تھا؟) آپ ﷺ نے فرمایا: &#8220;كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ&#8221; وہ عماء(ابر رقیق)میں تھا، اس کے اوپر ہوا تھی اور اس کے نیچے بھی ہوا تھی۔<br />
پس اس حدیث شریف سے ثابت ہے کہ تمام مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالی عماء میں تھا اب صرف عماء کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے سو مقبول خالق کونین امام حسین اس حدیث شریف میں لفظ عماء کی تفسیر ایسے احسن طریقے سے بیان فرماتے ہیں جو انہی کے شایان شان ہے آپ نے فرمایا کہ مرتبہ عماء برزخ انسانی ہے چنانچہ حضرت امام عالی مقام علیہ الصلاۃ والسلام اپنی کتاب مرآت العارفین میں صفحہ 38 پر فرماتے ہیں<br />
یعنی برزخ انسانی تنزل ربانی کا مرتبہ ہے تاکہ رب اس مرتبہ میں صفات عبودیت سے متصف ہو اور ارتفاع عبد کا مقام ہے تاکہ بندہ اس مرتبہ میں صفات ربانی سے متصف ہو پس یہی برزخ انسانی مرتبہ عماء ہے جس کا حدیث مشہور میں ذکر ہے اور اس کلام پاک کی شرح جلا ء المرآت کے صفحہ 191 پر ہے کہ عماء کا معنی ابر رقیق ہے اور اس مرتبہ یعنی برزخی انسانی کو عماء اس واسطے کہا گیا ہے کہ اس میں اور ابر رقیق میں مناسبت تامہ ہے کیونکہ ابر رقیق آفتاب کا حاجب(پردہ) نہیں ہوتا اس طرح یہ مرتبہ اپنی کثرت سے وحدت کا حاجب نہیں ہے اس لیے کہ یہاں کثرت حقیقی نہیں ہے بلکہ محض اعتباری ہے اور چونکہ انسان کامل با اعتبار جامعیت کاملہ مرتبہ عمائیہ کے مشابہ ہے اس لیے حضرت انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کو عماء کہتے ہیں۔<br />
پس اس کلام الامام امام الکلام سے اظہر من الشمس عیاں ہیں کہ اللہ تعالی مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے مرتبہ عماء یعنی برزخ کبری انسان کامل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں تھا<br />
اور عماء کے نیچے اور اوپر ہوا ہونے سے حق اور خلق کی طرف اشارہ ہے یعنی برزخ جامع حضرت انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی جہت اعلی حق اور جہت اسفل خلق ہے پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت کے اعتبار سے حق اور صورت کے لحاظ سے خلق ہیں پس آپ ہی حق اور آپ ہی خلق ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔<br />
حضرت امام حسین ابن علی علیہ الصلاۃ والسلام سے زیادہ عماء کی حقیقت کوئی کیا سمجھے گا اور اس سے واضح تر کیا سمجھایا جائے گا ۔اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا فَهْمَ هٰذَا الْمَقَامِ بِحُرْمَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ<br />
ایسے ہی حضرت شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہ اس راز کو عجیب انداز میں بیان فرماتے ہیں چنانچہ فتوحات مکیہ کے باب 358 میں صفحہ 266 پر قول تعالی كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّاکی شرح میں فرمایا<br />
فَجَعَلَ نَفْسَهُ كَنْزًا وَالْكَنْزُ لَا يَكُونُ إِلَّا مُکْتَزًِا فِي شَيْءٍ، فَلَمْ يَكُنْ كَنْزُ الْحَقِّ نَفْسَهُ إِلَّا فِي صُورَةِ الْإِنْسَانِ الْكَامِلِ فِي شَبِيهِهِ وَثُبُوتِهِ وَنَطْقِهِ، ھُنَاکَ كَانَ الْحَقُّ مَکْزُونًا فَلَمَّا كَسَا الْحَقُّ الْإِنْسَانَ ثَوْبَ َشِيبَتِهِ لِلْوُجُودِ ظَهَرَ الْكَنْزُ بِظُهُورِهِ فَعَرَفَهُ الْإِنْسَانُ الْكَامِلُ بِوُجُودِهِ<br />
یعنی اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا اس حدیث قدسی میں اللہ تعالی نے اپنی ذات کو خزانہ فرمایا ہے اور خزانہ کسی شے میں مخزون ہوتا ہے پس ذات حق کا خزانہ انسان کامل کی صورت میں علم الہی میں اس کی مشیت ثبوتی کے وقت مخفی تھا پس ذات الہی کا خزانہ انسان کامل میں مخزن مخزون تھا پھر جب اللہ تعالی نے انسان کامل کو مشیت وجودی کا لباس پہنایا تو انسان کا عمل کے ظہور سے وہ خزانہ ظاہر ہو گیا پس انسان کامل نے ذات الہی کو اپنے وجود سے پہچانا ۔<br />
اس کلام فیض نظام سے بھی روشن روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اللہ تعالی تمام مخلوقات کو کن کے ساتھ پیدا کرنے سے پہلے محمد پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مخفی تھا کیونکہ آپ کا نور قدیم اور آپ کا فرمان أَنَا أَحْمَدُ بِلَا مِيمٍ ہے عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَأَكْمَلُ التَّحِيَّاتِ</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&#038;title=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/" data-a2a-title="عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ )</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 14 Nov 2023 21:01:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[۔حضرت الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[احدیث الکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[اعیان ثابته]]></category>
		<category><![CDATA[امہات عالم]]></category>
		<category><![CDATA[تجلی ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تعین ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل ثانی]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت ارتسام]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت الاسماء والصفات]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الہیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق عالم]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق کونیہ]]></category>
		<category><![CDATA[صفات افعالی]]></category>
		<category><![CDATA[صفات انفعالی]]></category>
		<category><![CDATA[صفات کمالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عالم معانی]]></category>
		<category><![CDATA[علم ازلی]]></category>
		<category><![CDATA[علم تفصیلی]]></category>
		<category><![CDATA[فلک الحیاة]]></category>
		<category><![CDATA[قاب قوسين]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت کثرت]]></category>
		<category><![CDATA[قبلہ توجہات]]></category>
		<category><![CDATA[کثرت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[کثرت نِسَبی]]></category>
		<category><![CDATA[کمال اسمائی]]></category>
		<category><![CDATA[کمال ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الباء]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ العماء]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثالثہ]]></category>
		<category><![CDATA[معدن الکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[منتہی العابدين]]></category>
		<category><![CDATA[منتہی العالمین]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء السویٰ]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء الكمالات]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء الکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[واحدیت]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اضافی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7939</guid>

					<description><![CDATA[واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ ) (واحدیت ، لاھوت ذات حق کا ایک مرتبہ ہے جس میں بالفعل کثرت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ یہاں کثرت سے مراد اسماء وصفات اورمعلومات الہیہ کی کثرت ہے ۔) تنزل ثانی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ )</h1>
<p>(واحدیت ، لاھوت ذات حق کا ایک مرتبہ ہے جس میں بالفعل کثرت کا اعتبار کیا گیا ہے۔ یہاں کثرت سے مراد اسماء وصفات اورمعلومات الہیہ کی کثرت ہے ۔)</p>
<h2>تنزل ثانی</h2>
<p>تنزل ثانی یعنی دوسرا ظهور(یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ظہور، مجمل سے مفصل ، وحدت سے کثرت اور باطن سے ظاہر کی طرف ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس ہو تو اس کو خفا یا بطون کہتے ہیں۔)اس حقیقت کا تعین ثانی(تعین کی دو قسمیں ہیں ۔1</p>
<p>تعین ذاتی : یہ کبھی نہیں بدلتا، ہر حال میں قائم ودائم رہتا ہے ۔ مثلاً زید کی شخصیت یا ذات زید ، کہ جو بچپن میں تھی وہی جوانی میں ہوتی ہے اور وہی بڑھاپے میں رہتی ہے۔ ان تینوں حالتوں میں ذات زید برابر قائم ہے۔</p>
<p>تعین با عتبار اسم وصفات : یہ بدلتا رہتا ہے، اس کو دوام و قیام نہیں مثلاً بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ یہ زید کے صفاتی تعینات ہیں، کبھی زید بچہ ہے، کبھی جوان اور کبھی بوڑھا  ) ہے ۔ اس مرتبہ میں ذات نے اپنی ہر صفت اور ہر قابلیت کو علیحدہ علیحدہ جانا ، چنانچہ ذات یہاں تمام اسماء وصفات کی جامع ہے (حیات علم ،ارادہ، قدر، سماعت،بصارت اور کلام  سات صفات کی جامعیت کو الہیت کہتے ہیں جو واحدیت کا دوسرا نام ہے اور انہی سات صفات کے جامع کو اللہ کہتے ہیں ، جس کا دوسرا نام واحد ہے و الھکم اله واحد سے اس طرف اشارہ ہے ۔ امہات الصفات انہیں اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہی صفات بسیط ہیں جو صرف ایک معنیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ باقی دوسری صفات ، صفات مرکبہ ہیں جو امہات الصفات کے مختلف اجتماعات اور ان کے گوں ناگوں گرہ کھانے یا ایک دوسرے کے ساتھ شرط ہونے کے نام ہیں)، خواہ یہ اسمائے کلی ہوں یا اسمائے جزئی یوں(اسمائے الہی کلی  اٹھائیس ہیں جنہیں ارباب اوران کے تحت مراتب کونیہ میں اسمائے کونی بھی اٹھائیس ہیں جو مربوبات کہلاتے ہیں ) ہر اسم دوسرے اسم سے جدا ہوا ۔ اسم عبارت ہے ایک ذات سے جو ایک صفت سے متصف ہے مثلاً ذات کو صفت سماعت کے ساتھ سمیع کہتے ہیں اور صفت کلام کے ساتھ کلیم ۔ اب اگر کہا جائے کہ اللہ تو ایک اسم ذات ہے(اللہ خدا کا اسم ذات ہے۔ کسی اور ہستی پر اس کا اطلاق نہ درست ہے نہ ممکن ۔ فارسی کے &#8221; خدا &#8221; یا انگریزی کے   کی طرح اہم نکرہ نہیں کہ معبود واحد کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی بولا جا سکے ۔ اس کی نہ جمع آتی ہے نہ تانیث ۔ نہ اس کا ترجمہ کسی زبان میں ممکن ہے ۔ اکثر علماء وصوفیہ اس پر متفق  ہیں کہ یہ اسم جامد ہے ۔ کسی لفظ سے مشتق نہیں۔ہے۔   یہ اسم جملہ اسماء کا جامع تمام اسماء پر مقدم ہے اور تمام اسماء اس کے مظاہر کی  تجلی ہیں ۔ یہ اسم جامع  ہر اسم میں شامل ہے، جس طرح حقیقت واحدہ کا اشتمال اپنے انواع کے افراد پر ہوتا ہے جیسے انسان کا استعمال زید عمرو ، بکر اور ہر فرد بشرپر ، اسی طرح اللہ اسم ذات مشتمل ہے حی ، علیم ، قدیر ، سمیع اور بصیر وغیرہ پر ۔)، اس میں ذات، صفت سے متصف کہاں ؟ توجواب دیا جائے گا کہ جمیع کمالات کی صفت سے متصف ہے کیونکہ اللہ اس ذات کا نام ہے جو تمام صفات و کمالات کی جامع ہے اور نقصان وزوال سے منزہ</p>
<p>حق کے لیئے کمال کا ثبوت دو طرح سے ہے ۔ کمال ذاتی اور کمال اسمائی ۔</p>
<p>کمال ذاتی :ِ ذات کے کمال سے مراد ، ذات کا ظہور ، ذات کے لیے ، ذات کے ساتھ اور ذات میں، بلا امتیاز غیر وغیریت ہے یعنی ایک کمال اس کا بحیثیت ذات ہے جو عبارت ہے موجود بالذات کے ثبوت سے نہ کہ موجود بالغیر کے ثبوت سے۔ پس ذات اس کی فی نفسہ کامل ہے اور وہ بالذات واجب الوجود ہے بلکہ عین وجود ہے جو اپنے آپ بالذات موجود ہے ۔ کمال ذاتی کے لیے استغنائے مطلق لازم ہے کہ وہ اپنے وجود اپنی بقا اور اپنے دوام میں مستغنی ہے ۔ لہذا اس کمال میں وہ ساری کائنات سے بے نیاز مطلق ہے ۔<br />
کمال اسمائی ۔ اس سے مراد اسمائے حسنیٰ کی حیثیت سے حق تعالیٰ کا کمال تفصیلی  ہے یعنی ذات کا صفات سے متصف ہونا یہ علم میں اعیان ثابتہ کے ثبوت کے بعد ہی ممکن ہے کیونکہ معلوم کے بغیر علم کا، مقدور کے بغیر قدرت کا اور مخلوق کے بغیر خلق کا ظہور نہیں ۔ جب اس حقیقت کے علم میں عالم ثابت ہوئے تو حق تعالٰی کے علم نے ان صورعلمیہ کے ساتھ علاقہ پایا۔ لہذا معلومات الہیہ کے سبب اسم علیم کا ظہور ہوا اور اعیان ثابتہ اپنی تمام قابلیتوں کے ساتھ بغیرکسی تغیر کے علم میں آئے یعنی علم نے ان میں کوئی تبدیلی نہ کی کیونکہ علم معلوم کے تابع ہے۔ اس طرح یہ صورعلمیہ مقدوراور مراد ہوئے ، قدرت اور ارادے کا ان سے تعلق ہوا ۔ اب اس حقیقت کے نام جو قادر &#8221; اور &#8221; مرید &#8221; ہیں ظہور میں آئے ۔ اسی پر دوسرے اسماء کو بھی قیاس کرلو ۔<br />
اس مرتبہ میں ہر صفت دوسری صفت سے علیحدہ ہے اور بہ اعتبار امتیاز علمی ذات سے بھی جدا ہے کیونکہ اس حقیقت نے اپنی تمام قابلیتوں پر نظر ڈالی اور ہر ایک قابلیت کو جدا جدا جانا .</p>
<p>اس نے قابلیتوں کی یافت تین طرح سے کی :</p>
<p>1۔ ایک وہ قابلیات ہیں جن کا ظہور مظاہر پر موقوف نہیں جو تین عالم ہیں۔ ان کوصفات ذاتی کہتے ہیں مثلا حیات ، علم، ارادہ ، قدرت ، سماعت ، بصارت ، کلام، بقا، قبولیت، وجوب ، غنا، قدوسیت، صمدیت ، قَدِم &#8211;<br />
2۔ دوسری وہ قابلیات ہیں جو فعلیت کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جن کا ظہور مظاہر پر موقوف ہوتا ہے۔ ان کو صفات افعالی کہتے ہیں مثلاً خالقیت یعنی پیدا کرنا ، رزاقیت یعنی رزق پہنچانا ، احیاء اور امانت یعنی جلانا اور مار ڈالنا ۔<br />
3- تیسری وہ قابلیات ہیں جو اثر قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، ان کو صفات انفعالی کہتے ہیں مثلاً مخلوقیت، مرزوقیت ،حیات ،موت &#8211;<br />
صفات ذاتی اور صفات افعالی کو حقائق الہیہ کہتے ہیں کیونکہ ہر صفت کے ساتھ ذات الہی کا ایک (الگ) نام ہے اور صفات انفعالی کو حقائق کونیہ، اعیان ثابته، صورعلمیہ ماہیات، حقائق عالم ، عالم معانی ، امہات عالم ، آئینہ ہائے وجود اورعدم کہتے ہیں اور یہ مرتبہ مظہر وحدت کا ہے کیونکہ تفصیل مظہر اجمال کی ہے ۔</p>
<p>تنزلات ستہ کے ان پہلے تین مراتب یعنی احدیت ، وحدت اور واحدیت کو مراتب حقی ، مراتب الہیہ یا حقائق الہیہ کہتے ہیں اور ان کے متقابل عالم یعنی بالترتیب عالم هاهویت، عالم یاھوت اور عالم لاھوت کو مشترکہ طور پر عالم امر کہا جاتا ہے۔ یہ مراتب اظہار حق کے مراتب ہیں اور مخلوق یا تخلیق کے عمل سے بالاتر ہیں۔ تخلیق کے مراتب ان کے بعد شروع ہوتے ہیں اور انہیں مراتب کونیہ یا مراتب خلقی کہتے ہیں اور ان کے متقابل عوالم کو عالم خلق کہا جاتا ہے جن میں عالم جبروت ، ملکوت اور ناسوت شامل ہیں ۔</p>
<p>پھر اس مرتبہ کی بھی دو نسبتیں ہیں :<br />
1۔ اوپر کی نسبت کو حقائق الہیہ کہتے ہیں جس کا لازمہ وجوب ہے ۔ در میان حقیقت انسانی</p>
<p>2- اور نیچے کی نسبت کو حقائق کونیہ کہتے ہیں، جس کا لازمہ امکان ہے، یعنی بطون و ظہور اور وجود و عدم خارجی برابر ہے ۔ اس مرتبہ میں کثرت اعتباری پیدا ہوئی یعنی اسماء و صفات اور صورعلمیہ سمجھنے میں تو بہت ہیں لیکن فی الواقع اس حقیقت سے علیحدہ نہیں ہیں۔ بعض صوفیہ کہتے ہیں کہ حقائق الہیہ میں کثرت نِسَبی ہے اور حقائق کونیہ میں کثرت حقیقی ہے کیونکہ ہر ماہیت دوسری ماہیت سے علیحدہ ہے بلکہ وحدت اس میں نِسَبِی ہے کیونکہ ان تمام صورتوں میں ایک ہی وجود کا ظہور ہے<br />
اسماء وصفات الہیہ کو خزائن الہیہ کہتے ہیں کیونکہ ہر اسم اور ہر صفت میں احکام و آثار کے جواہر مخفی ہیں، جن کا ظہور تخلیق قابل کے بعد ہوتا ہے۔ یہ صورعلمیہ بالکلیہ اس حقیقت کے غیر نہیں بلکہ اس حقیقت کی شئون ہیں (حقائق موجودات کو مرتبہ وحدت میں شئون ذاتیہ مرتبہ واحدیت میں اعیان ثابتہ یا صور علمیہ، مرتبہ ارواح میں حقائق کونیه ، مرتبہ  امثال میں صور مثالیہ اور مرتبہ اجسام میں صور ہیولائی کہتے ہیں ۔)۔ ان صورعلمیہ کو اپنا یا غیر کا شعور نہیں ،اس حقیقت کی ذات میں انہوں نے حلول نہیں کیا ۔<br />
یہ صورعلمیہ مجعول یعنی مخلوق نہیں ہیں کیونکہ خالق کی تخلیق سے ان کا وجود نہیں ہوا ، اس لیئے معدوم ہیں یعنی علم سے باہر موجود نہیں ، جب ان کی تخلیق ہی نہیں ہوئی تو وہ مخلوقات میں کس طرح شامل ہوں گی ، جعل اور تخلیق تو وجود خارجی بخشنے کا نام ہے ۔ وہ صورعلمیہ وجود خارجی کے لیے اگرچہ جعل جاعل کی محتاج ہیں لیکن وجود علمی میں اپنے عدم اصلی پر قائم ہیں اگرچہ ان پر وجود خارجی تھوپا جائے کیونکہ خِفا اور پوشیدگی ان کی ذاتی ہے ، پس خارج میں کسی طرح موجود ہوں اور علم سے باہر کیونکہ آئیں اس لیئے وہ خارجا موجود نہ ہوں گے لہذا ان صور علمیہ سے جن حقائق کا ظہور ہوتا ہے ، وہ ان صورعلمیہ کے احکام و آثار ہیں نہ کہ ان صورعلمیہ کے ذوات. ان صورعلمیہ کے دو اعتبارات ہیں :<br />
1- ایک اعتبار یہ ہے کہ یہ صورعلمیہ، اس حقیقت کے ، اس کے اسماء وصفات کے آئینے ہیں، جو وجود ان آئینوں میں متعین ہے احکام و آثار کی کثرت کے سبب متعدد دکھائی دیتا ہے، اگرچہ خارج میں ظاہر نہیں۔<br />
2- دوسرا اعتبار یہ کہ وہ حقیقت ان صورعلمیہ کی آئینہ دار ہے لہذا اس حقیقت میں ان صورعلمیہ کے علاوہ کچھ بھی ظاہرنہیں ۔ وہ حقیقت جوان صورعلمیہ کی آئینہ دار ہے غیب میں ہے جیسا کہ آئینہ کی شان ہے لہذا آئینہ صرف پردہ غیب کے پیچھے سے ظاہر ہوا ہے</p>
<p>اس مرتبہ الہیت میں دو حقیقتیں ممتاز ہوتی ہیں ۔</p>
<p>1۔ایک وہ حقیقت جو صفات کمالیہ سے متصف ہے مثلا اطلاق( بے قیدی) فعالیت تأثیر، وحدت، وجوب ذاتی ، قَدِم اور بلندی ۔ یہ حقیقت واجب اور معبود ( اللہ ہے۔</p>
<p>2- دوسری وہ حقیقت جو صفات مخلوقیہ سے متصف ہے مثلاً تقید ، انفعال ، تاثیر، امکان ذاتی ، حدوث یہ حقیقت ممکن اورعابد (بندہ) ہے ۔</p>
<p>اسماء الہیہ کے تحت احکام کا ظہور مظاہر کہلاتا ہے جو امکانیہ ہیں اور خارجی وجود کے بعد ہی واقع ہوتے ہیں لہذا صورعلمیہ ( حق تعالی کے وجود کے آئینے ہیں ۔ جو عکس ان آئینوں سے ظاہر  ہو رہا ہے ، اس کو &#8221; ظل بھی کہتے ہیں کیونکہ ظل نور سے ظاہر ہوتا ہے ۔ نور نہ ہو تو ظل معدوم ۔ اسی طرح کا کائنات بھی نور وجو د حق سے پیدا ہوئی ہے ورنہ اپنی ذات کے لحاظ سے عدم اور ظلمت ہے )کو خارج میں موجود کرنا ضروری ہوا اس لئے اللہ تعالیٰ نے عالم کو خارج میں، اپنے علم تفصیلی اورعالم کی استعداد و قابلیت کے مطابق پیدا فرمایا ۔ اس تنزل ثانی کو</p>
<p>الوہیت &#8221; اسم الوہیت &#8221; اللہ &#8221; ہے جو جملہ اسماء وصفات اور افعال کا جامع ہے چونکہ اس مرتبہ کا تعلق جملہ اسماء و صفات ہی سے ہے اس</p>
<p>لیے اس کو الوہیت یا حضرت الوہیت یا حضرت الہیت کہتے ہیں ۔</p>
<p>تعین ثانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مراتب وجود میں اس کا مرتبہ تعین اول کے بعد ہے اور ذات کا تقید یہاں اسماء و صفات میں ہوا ہے ۔</p>
<p>تجلی ثانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ظہور کے لحاظ سے یہ دوسری تجلی ہے جو تجلی اول کی تفصیل ہے ۔ ذات کا ظہور یہاں اسما و صفات کے ساتھ ہوا ۔</p>
<p>منشاء الكمالات : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہی مرتبہ حق تعالیٰ کے کمالات اسمائی کا منشاء و مبدا اور اصل و منتزع عنہ ہے ۔</p>
<p>قبلہ توجہات : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ معلومات حق سبحانہ و تعالی کا مرکزی مرتبہ ہے ۔</p>
<p>عالم معانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ موجودات علمی اور معنوی کا مرتبہ ہے۔</p>
<p>حضرت ارتسام : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہیں معلومات حق کی صورتیں یعنی صور علمیہ مرتسم ہوتی ہیں ۔</p>
<p>علم ازلی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ کا مقام علم معقولہ قبلیہ &#8221; ازل &#8221; ہے جو حق تعالیٰ کا ایک حکم ذاتی ہے کہ اپنے کمال کے سبب سے وہی اس کا مستحق بھی ہے اور اس کے غیر کو اس میں کوئی استحقاق حاصل نہیں ۔</p>
<p>علم تفصیلی :  اس وجہ سے کہتے ہیں ہیں کہ یہ علم الہی کا مرتبہ تفصیل ہے اوراس میں اسماء وصفات کی تفصیل ہوتی ہے ۔</p>
<p>مرتبہ العماء: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ نفس رحمانی جو سانس کے مانند باہر کی جانب پراگندہ کیا گیا ہے اور جو تعین و تجلی ثانی ہے، اس ابر رقیق کے مانند جو قرص آفتاب کو پوشیدہ کر دیتا ہے ۔ آفتاب وجود حقیقی کو عماء نے ظہور سے مخفی رکھا اور مرتبہ کون میں لاکر اتنا مخفی کردیا کہ ظاہر کواپنے باطن کی خبر ہی نہ رہی ۔</p>
<p>،قاب قوسين : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جن دو قوسوں سے دائرہ تعین ثانی مرکب ہے ، ان میں سے ایک قوس حقائق انہیہ سے متعلق ہے اور دوسری حقائق کو نیہ سے ۔ ایک وجوب سے متعلق ہے اور دوسری امکان سے</p>
<p>مرتبه الباء : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ حروف تہجی اور حساب ابجد میں جس طرح &#8220;ب &#8220;حرف ثانی ہے اور دوسرے حروف کا سبب بنتا ہے، اسی طرح تعین ثانی بھی ثانی مرتبہ وجود ہے اور ظہور تفصیلی کا سبب بنا ہے۔ چنانچہ &#8221; ب &#8221; کے معنی اہل اسرار کے نزدیک سبب کے ہیں ۔ اس حرف سے وجود کے مرتبہ ثانیہ اور موجودات خارجیہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>منتبى العابدین : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ عابدین تعیین حقیقت انسانیہ کے محل سے تجاوز نہیں کر سکتے۔ نیز اس سے اشارہ ہے مرتبہ الوہیت کی طرف جو جملہ عبادات کی انتہاء کامرتبہ ہے ۔</p>
<p>منشاء السویٰ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وجود حق تعالیٰ یہاں صورممکنات میں غیر ناموں کے ساتھ ظاہر ہوا ، اسی وجہ سے اس عالم کو &#8220;ماسوی کہتے ہیں ۔ اس کا نام عالم بعد ظہور ہوا ہے نہ کہ قبل ظهور &#8211;</p>
<p>منشاء الکثرت: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ حقائق کو نیہ کو متضمن ہے۔ جو مقام کثرت ہے اور اس تعین کا منشاء ہی کثرت ہے ۔</p>
<p>واحدیت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ واحد اسم ثبوتی ہے، جس میں اسماء وصفات کی کثرت ثابت ہے اور یہ مرتبہ بھی اسماء وصفات کی کثرت کا مرتبہ ہے ۔</p>
<p>مرتبہ اللہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اللہ اسم جامع ہے جمیع اسماء و صفات کا اور اس مرتبہ میں تمام اسماء و صفات کا اعتبار کیا گیا ہے ۔</p>
<p>لوح محفوظ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ لوح محفوظ جس طرح مقدرات کا مقام تفصیل ہے اسی طرح یہ مرتبہ بھی اسماء وصفات کا مقام تفصیل ہے ۔</p>
<p>ان کے ساتھ ساتھ  یہ نام بھی واحدیت کیلئے استعمال ہوتے ہیں</p>
<p>حضرت الاسماء والصفات : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ اسماء و صفات اوران چیزوں کو شامل ہے جو ان سے متعلق ہیں مثلا حقائق کو نبیہ و انسانیہ ۔</p>
<p>احدیث الکثرت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ احدیت کا ظہور یہاں کثرت میں ہوا ۔</p>
<p>معدن الکثرت : اس وجہ سے کہتے ہیں اس تعین میں کثرت ہے۔</p>
<p>قابلیت کثرت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ حقائق عالم یہاں اگر عالم ظہور کی قابلیت اختیار کر لیتے ہیں اور اسی وجہ سے اس کو &#8221; قابلیت ظہور بھی کہتے ہیں ۔حضرت الجمع والوجود : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جامعیت وحدت ہی کی یہ جہت ظہور ہے ۔ وہی ذات واحد ہے جو وحدت میں جہت بطون میں تھی اور یہاں آکر اسماء و صفات سے پہچانی گئی۔</p>
<p>فلک الحیاة : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ حیات عالم کا مدار اسی مرتبہ پر موقوف ہےاور یہ مرتبہ حقائق عالم ارواح و اجسام کو متضمن ہے ۔</p>
<p>وجود اضافی  اس وجہ سے کہتے ہیں کہ موجودات سے اسے نسبت تحقق في الخارج ہے۔ اس مرتبہ میں وجود کی اضافت کا ئنات کی طرف ہوئی ۔ حدوث کے لحاظ سے اس کا نام کائنات ہے اور ظہور وجود کے اعتبار سے اس کو موجودات کہتے ہیں ۔</p>
<p>نفس رحمانی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ تعین اول سے تعین ثانی بطور انبساط نفس حاصل ہوا اور جو کچھ باطن تھا وہی ظاہر ہوا ۔</p>
<p>منتہی العالمین : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جملہ عوالم یہاں ظہور میں اپنی انتہار کو پہنچے ان تمام پچیدہ اصطلاحی ناموں سے جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ مرتبہ اسماء و صفات کی تفصیل کا مرتبہ ہے۔</p>
<p>یہاں یہ نہ سمجھ لینا کہ وحدت اورالہیت اور اللہ تعالی کا نام نو پید ہوا ہے کیونکہ مرتبہ ذات کی ایک آن بھی وحدت اور الہیت پر مقدم نہیں۔ یہ تقدیم و تاخیر رتبہ کی ہے اور صرف برائے تفہیم ہے مثلاً ایک سہ سطری مہر کندہ کی گئی اب اگر اس کو کا غذ پر لگا کر پڑھیں تو مقدم پہلی سطر پڑھی جائے گی ، اس کے بعد دوسری ، پھرتیسری ، لیکن کا غذ پر ان سطروں کا ثبوت مقدم اور موخر نہیں ہوا ہے</p>
<h4></h4>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ab%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%84%D8%AB%DB%81%20%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/" data-a2a-title="واحدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثالثہ )"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%84%d8%ab%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جمع]]></category>
		<category><![CDATA[ام الکتاب]]></category>
		<category><![CDATA[او ادنی]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ البرازخ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط شے بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط کثرت بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بعد مشاہدہ تعین]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول وحدت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات و تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعیین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تین مراتب کونی]]></category>
		<category><![CDATA[ثبوت اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[جوہراول]]></category>
		<category><![CDATA[حب ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب عظمت]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الممکنات]]></category>
		<category><![CDATA[حقيقة الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خیال اول]]></category>
		<category><![CDATA[درة البيضاء]]></category>
		<category><![CDATA[دو مراتب غیب]]></category>
		<category><![CDATA[رابطہ بین الظهور والبطون]]></category>
		<category><![CDATA[رفیع الدرجات]]></category>
		<category><![CDATA[روح اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[روح القدس]]></category>
		<category><![CDATA[روح محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[ظل اول]]></category>
		<category><![CDATA[عرش مجید]]></category>
		<category><![CDATA[عقل اول]]></category>
		<category><![CDATA[فلک ولایت مطلقه]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت اولیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[قلم اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الصفات]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الكنوز]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لوح قضا]]></category>
		<category><![CDATA[مبدأ اول]]></category>
		<category><![CDATA[محبت حقیقیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه جامعه]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جامع المراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ولایت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[مشاہدہ ذات مع التعین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام اجمالی]]></category>
		<category><![CDATA[مقام جمع]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء اول]]></category>
		<category><![CDATA[موجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[نداء اول]]></category>
		<category><![CDATA[نشان اول]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[وجود مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت قابلیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7736</guid>

					<description><![CDATA[وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ) وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے) مرتبہ ثانیہ تنزل اول اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</h1>
<p>وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے)</p>
<h2>مرتبہ ثانیہ تنزل اول</h2>
<p>اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :</p>
<p>میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ اول یعنی احدیت مراد ہے) تھا یعنی ذات کے غلبہ میں تمام صفات مخفی تھیں) پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق پیدا کی ہے(‌كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًّا فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ)</p>
<p>حقیقت کا یہی ظہور ہے جو مجالی (جلوہ گاہیں مجلاء کی جمع مراد کائنات ، عوالم اور اشیاء)یعنی تعینات میں پایا جاتا ہے اور عارفوں (صوفیائے کرام کی اصطلاح میں عارف اس شخص کو کہتے ہیں جو صفات باری تعالیٰ کو بطریق حال ومکا شفہ پہچانتا ہو ، نہ کہ بطریق علم مجرد)کے مشاہدے میں آتا ہے۔ تعینات و تجلیات میں اس کا مشاہدہ دو طرح سے ہوتا ہے ۔</p>
<p>(1) یہ کہ ذات جب اسماء یا ارواح میں نزول کرتی ہے تو عارف اولا اس کا مشاہدہ کرتا ہے اور ثانیاً متعینات میں اس کے ظہور کی کیفیت کا ، اور تعینات کے ساتھ اس کے تقید کا، خواہ یہ اسمی تعینات ہوں یا غیر اسمی تعینات مشہود ہوں ، یہ مشاہدہ اکمل الکاملین کا ہے ۔ یہ مشاہدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>ما رأيت شي الا ور أَيْتُ اللهَ قَبْلَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس سے پہلے حق کا ادراک ضرور کیا ہے ۔</p>
<p>(2)دوسرا مشاہدہ تعین اور تجلی کے درمیان ذات مطلقہ کا مشاہدہ ہے ، خواہ یہ مشاہدہ ذات مع التعین ہو یا بعد مشاہدہ تعین ۔ یہ مشاہدہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے :</p>
<p>مار أيْتَ شَيْئًا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ مَعَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس کے ساتھ حق کا ادراک ضرور کیا ہے</p>
<p>الغرض اس حقیقت کے تعینات بے حد و بے شمار ہیں لیکن ان کے کلیات چھ ہیں۔ دو مراتب غیب ہیں ، کیونکہ ان میں ذات اور غیر ذات سے ہر چیز غائب ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں حق پر کسی چیز کو ظہور حاصل نہیں۔ مرتبہ اول میں غیب سے تعین اول ہے اور مرتبہ  ثانی میں غیب سے تعین ثانی( تعین اول (وحدت) اور تعین ثانی (واحدیت ) یہ دونوں مراتب غیب ہیں کیونکہ ان میں کوئی شے موجود فی الخارج نہیں، ان کا ظہور صرف علمی ہے نہ کہ عینی) ۔</p>
<p>باقی تین مراتب کونی (مراتب کونی سے مراد مرتبہ ارواح ، مرتبہ امثال اور مرتبہ اجسام ہیں۔)ہیں اور چھٹا مرتبہ جامع المراتب &#8220;(مرتبۂ جامع المراتب سے مراد تعین سادس یعنی انسان ہے ۔ مراتب وجود یا تنزلات ستہ کاعلم اجمالی۔) ہے</p>
<p>تعین اول یعنی حقیقت کا پہلا ظہور یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے وجود کو پایا اور&#8221; انا &#8221;  فرمایا،</p>
<p>اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی صفات اور تمام موجودات کو بعض کو بعض سے امتیاز کے بغیر اجمالی طور پر جان لینا ہے۔ یہ مرتبہ وحدت ہے</p>
<p>اور ساری کائینات بالاجمال علم میں آئی ۔ یوں عوالم بالاجمال حقیقت سے الگ نہیں۔ وہ ذات عالم کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالم ذات سے الگ نہیں ہے وہ ذات  بالا جمال اسماء و صفات سے متصف ہے۔ اس طرح &#8221; سمیع &#8221; قدیر &#8221;  سے الگ نہیں یعنی کوئی اسم بھی دوسرے اسم سے علیحدہ نہیں ہے۔ یہ مرتبہ قابل محض ہے۔ یہاں کثرت ظاہر نہیں ؟ خواہ حقیقی ہو یا اعتباری  سارے عوالم اس مرتبہ میں نابود ہیں جب ذات نے اپنے وجود کو پایا اور &#8221; انا &#8221;  فرمایا تو چار چیزیں پائی گئیں</p>
<p>(1) &#8211; ذات وجود یعنی خود کو انا » فرماکر جانا۔ یہ ذات ہی وجود ہے ۔</p>
<p>(2)صفت علم یہ جاننا صفت ہے ۔</p>
<p>(3)- اسم نور جو خود پہ ظاہر ہوا تو جانا ، پس یہ ظہور نور ہے ۔ بعض حضرات نے انیت(وہ وجود جس کی طرف لفظ انا میںاشارہ کیا جاتا ہے ) ہی کو نور کہا ہے ۔</p>
<p>(4)- فعل شہود یعنی خود کو دیکھا تو جانا ، لہذا یہ دیکھنا شہود ہے</p>
<p>تعین اول کو وحدت حقیقی (وہ وحدت جس میں کسی وجہ سے کثرت نہ ہو اور جو تجزی کو قبول نہ کرے اور نہ اس کے مقابل اس کی کوئی ضد ہو۔ تجزی و تغیر، ضدیت و اثنینیت اورتشبیہ کو وہ قبول نہیں کرتی)</p>
<p>مرتبه الجمع والوجود،( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جمع باعتبار جانب ظہور ، وحدت سے عبارت ہے اور اس مرتبہ کا باطن ہے۔ اور اس مرتبہ میں ذات من حیث الاسماء والصفات پائی جاتی ہے یعنی اس مرتبہ تنزل میں ذات نے اسماء و صفات کی یافت کی ہے اور یہاں اطلاق اسماء و صفات کا ذات پر صادق آیا ہے)</p>
<p>مرتبه جامعه( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات وصفات اور ظهور و بطون دونوں شامل ہیں اور یہ مرتبہ دونوں کا جامع ہے۔)</p>
<p>احدیت جامعہ، احدیت جمع، ( اعتبار ذات من حیث ھی بلا اعتبار اسقاط صفات و اثبات صفات بھی اس مرتبہ میں ہے ۔ نیز صفات کا اعتبار اجمالی بھی اس میں مندرج ہے اور اسی وجہ سے اس کو احدیت جامعہ بھی کہتے ہیں۔ )</p>
<p>مقام جمع ( وحدت ہی ذات و صفات اور بطون و ظہور کو اپنے اندر جمع کرتی ہے اور خلط ملط نہیں ہونے دیتی ۔)</p>
<p>حقيقة الحقائق ( ذات حق تعالی ہر شے کی حقیقت ہے ۔ ہر شے کا وجو د اعتباری ہے  وہ اپنا وجود حق تعالیٰ سے پائے ہوئے ہے ۔  اس مرتبہ میں اس کا تعین اول ہے اس لیئے اس کو حقیقۃ الحقائق کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ صور علمیہ اور اعیان ثابتہ کو حقائق الممکنات کہتے ہیں۔ چونکہ مرتبہ وحدت ، حقائق الممکنات کا مرتبہ اجمال ہے اس لیئے یہ مرتبہ حقیقۃ الحقائق ہوا۔)،</p>
<p>برزخ البرازخ، برزخ کبری (  یہ حق تعالی اور جملہ برازخ کے درمیان برزخ حائل ہے ۔)</p>
<p>حقیقت محمدیہ، وجہ وجوہ کائنات اور رونق بزم کائنات ہے  مزید دیکھیں <a href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81/">حقیقت محمدیہ</a></p>
<p>عقل اول ( یہ علم الہی کی شکل کا وجود میں محل ہے ۔ یہ علم الہی کا نور ہے جو تنزلات میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ اول ما خلق الله العقل سے اسی جانب اشارہ ہے ۔)</p>
<p>قلم اعلی (عقل اول اور قلم اعلی ، در حقیقت ایک ہی نور کے دو نام ہیں۔ جب اس نور کی نسبت عبد کی جانب کی جاتی ہے تو اس کو عقل اول کہتے ہیں اور جب اس نور کی نسبت حق تعالی کی جانب کی جاتی ہے تو اُس کو &#8221; قلم اعلیٰ &#8221; کہتے ہیں۔ پھر عقل اول سے جو در اصل نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ازل میں جبرئیل علیہ السلام پیدا کیے گئے اور ان کا نام روح الامین رکھا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی روح ہیں جن کو اللہ تعالی کے علم کا خزانہ بطور امانت سپرد کیا گیا ہے۔ اس نور کی اضافت جب انسان کامل کی جانب ہوتی ہے تو وہ روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب سے ملقب ہوتا ہے۔ قلم اعلی عقل اول اور روح محمدی (روح اعظم )کی تعبیر جوہر فرد کی جاتی ہے ۔ مظاہر خلقیہ میں ممیز ہونے کے طور پر جو ابتدائی تعینات حق ہیں، انھیں قلم اعلیٰ کہا جاتا ہے ۔)</p>
<p>روح اعظم (  روح اعظم یا روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اول ما خلق الله روحی بھی ارشاد فرمایا ہے  )</p>
<p>اور تجلی اول کہتے ہیں۔( لغت میں تجلی کے معنی ظاہر کرنے اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال الہی کا کسی پرپھینکا جانا تجلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ ذات مطلق کا ظہور لباس تعین ہی میں ممکن ہے ، اسی لیئے صوفیہ کرام کی اصطلاح میں لباس تعین کو تجلی کہتے ہیں۔ ہر وہ شان اور کیفیت و حالت جس میں حق تعالی کا اس کی کسی صفت یا اس کے کسی فعل کا اظہار ہو تجلی ہے ۔<br />
اس مرتبہ وحدت کو تجلی اول اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مرتبہ خفاء الخفاءیا مرتبہ لاتعین سے اس کا ظہور ہوا ہے۔ نیز اس کو تجلی اول کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تجلیات کا آغاز اس مرتبہ وحدت سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے مرتبہ احدیت ہے ، جس میں تجلی نہیں پائی جاتی کیونکہ تجلی کے لیے ایک متجلی اور ایک متجلی لہ کا ہونا ضروری ہے اور احدیت میں اثنینیت نہیں ، اس لیئے اس میں تجلی بھی ممتنع ہے ۔ احدیت میں نہ ناظر ہے نہ منظور تو تجلی کیسی ؟)<br />
یہ وحدت قابلیات ذات کی ہے (یہ مرتبہ اصل جمیع قابلیات کا ایک حالہ اجمالیہ بسیطیہ ہے۔ اس کا ظہور سب سے پہلے ہوا ہے۔ یہ جمیع قابلیات کا ہیولی اور مبدا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو قابلیت اولی بھی کہتے ہیں۔)اس مرتبہ میں ناسوت(عالم بشریت ، عالم اجسام ، اس کو مُلک، عالم شہادت اور عالم محسوسات بھی کہتے ہیں ۔) ملکوت(یعنی وہ عالم جو ملائکہ وارواح سے مختص ہے) سے(جومرتبہ ارواح ہے )جدا نہیں اورملکوت جبروت(یعنی مرتبه صفات مرتبه وحدت ، حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے (جو مرتبہ صفات ہے )ممتاز نہیں اور جبروت، لاہوت ( یعنی مرتبہ ذات ، گنج مخفی، هویت مطلقه )سے (یعنی الوہیت سے جومرتبہ ذات ہے) ممتاز نہیں ہے(  ناسوت، ملکوت ، جبروت اور لاہوت یہ چار عوالم سمجھے جاتے ہیں در حقیقت لاہوت عالم نہیں بلکہ مرتبہ ہے کیونکہ عالم کا لفظ لاہوت پر صادق نہیں آتا ۔ لفظ عالم علامت سے مشتق ہے ۔ لغوی اعتبار سے عالم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی دوسری شے پہچانی جاسکے ۔ اصطلاح صوفیہ میں ماسوی اللہ کو عالم کہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی کو باعتبار اسماء وصفات پہچانا جاتا ہے ۔ عالم کا ہر جزء خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو عوام کی نگاہ میں خواہ کتنا ہی حقیر اور بے قدر کیوں نہ ہو ، حق تعالٰی کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ضرور ہے ۔ اس لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ناسوت ، ملکوت اور جبروت ہی عوالم ہیں ۔   مراد یہاں ان سے علی الترتیب مرتبه اجسام، مرتبه ارواح، مرتبه صفات اور مرتبہ ذات ہے ۔ یہ عوالم اس مرتبہ وحدت میں ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہیں کیونکہ مرتبہ وحدت اجمالی ہے جیسے گٹھلی میں برگ وبار اور شاخ و شجر ممتاز نہیں یا ہیضہ میں بال و پر اور رنگ و آواز ممتاز نہیں ، اسی طرح مرتبہ وحدت میں ذات وصفات اور اسماء و افعال موجود ہونے کے باوجود ممتاز نہیں ، کیونکہ امتیاز ، تفصیل کا متقاضی ہوتا ہے اور تفصیل کی اس مرتبہ میں گنجائش نہیں)</p>
<h2>اس وحدت کے دو اولین اعتبارات ہیں</h2>
<p>(1) سقوط اعتبارات یعنی ذات سے بالکلیہ تمام اعتبارات ساقط اور معدوم ہوں ، یہ احدیت ہے یعنی تمام اعتبارات کے سقوط  وعدم کے ساتھ ذات کا ایک ہونا۔ اسی لحاظ سے ذات کو احد کہا گیا ہے یعنی ایک ایسی ذات جس سے تمام اعتبارات دور کر دیئے گئے ہوں، اسی لیے ذات کا بطون ، اس کا اطلاق اور اس کی ازلیت اسی اعتبار سے متعلق ہے۔</p>
<p>(2)- ثبوت اعتبارات یعنی اس ذات میں بے حد و بے شمار اعتبارات مندرج ہوں ، یہ واحدیت ہے یعنی جملہ اعتبارات کے ساتھ ذات کا ایک ہونا، تمام اعتبارات وصفات کے ساتھ ذات کا ایک ہی نام ہو یعنی ایک ایسی ذات جو اعتبارات کے ساتھ ہے، پس واحد ثبوتی نام ہے،  سلبی نہیں ذات کا ظہور ، ذات کا وجود (یافت) ذات کی پیشگی ابدیت اسی اعتبار سے متعلق ہے ۔</p>
<p>(یہ وحدت جوانائے مطلق اور قابلیت محض کا مرتبہ ہے۔ اس کی دو جہتیں بن جائیں گی۔ پہلی جہت یہ ہے کہ اعتبارات اس سے ساقط ہوں، اس ذات سے متعلق کوئی اعتبار قائم نہ ہو۔ یہ نری ذات کی یکتائی ہے ، اس لیئے اس کو احدیت کہیں گے ۔ اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ مرتبہ احدیت میں ذات بلا اعتبار ہوتی ہے ، ہر اعتبار یہاں ساقط ہوتا ہے ، اسی لیے ذات کو اس مرتبہ میں احد کہتے ہیں واحد نہیں، کیونکہ احد سلبی نام ہے اور واحد ثبوتی اور اسی لیے احد ہی کو صمد کہا گیا ۔ صمد کہتے ہیں ٹھوس چٹان کو جس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکے ، نہ اس سے کوئی چیز خارج ہو سکے ۔ یہاں اسماء وصفات اور افعال کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا،یہ  احدیت ہے ۔ ذات بحت کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ۔ بطون، اطلاق اور ازلیت ، وحدت کی اسی جہت (احدیت) سے متعلق ہے۔ &#8211;</p>
<p>دوسری جہت یہ ہے کہ بے حد و بے شمار اعتبارات اس وحدت سے متعلق قائم ہوں، بلکہ اس میں مندرج ہوں ۔ یہ ذات کی یکتائی جملہ اعتبارات کے ساتھ ہے، اس لیے اب اس کو واحدیت کہیں گے۔ اس مرتبہ میں ذات ، نری نہیں رہتی بلکہ بے شمار اعتبارات بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال بھی اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں ذات کو واحد کہتے ہیں احد نہیں، کیونکہ واحد ثبوتی نام ہے جب کہ احد سلبی &#8211; اسماء و صفات اور افعال کا اعتبار اسی مرتبہ میں ہوگا جو واحدیت ہے ۔ ذات کے ساتھ یہاں ہزاروں اعتبارات بھی ہیں ، ظہور ، وجود (یافت) اور ابدیت، وحدت کی اسی جہت (واحدیت) سے متعلق ہے۔ )</p>
<p>ان دونوں اعتبارات( جہت سقوط اعتبارات اور جہت ثبوت اعتبارات ۔) یا دیگر اعتبارات( اسماء وصفات اور افعال ہیں، صوفیہ کرام ان کے لیے بھی اعتبارات کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں) میں کوئی غیریت یا تفریق (حقیقی) نہیں۔ کثرت مغایرت احکام کی وجہ سے ہے اور وحدت میں کثرت بالفعل نہیں( کثرت یہاں بالقوہ ہوتی ہے کیونکہ وحدت ذات حق کا ایک ایسا مرتبہ ہے جس میں قایلیت کثرت ہے، بالقوہ نہ کہ بالفعل، ان قابلیات کثرت کو شئون ذاتیہ اور حروف عالیہ کہتے ہیں جو غیب الغیوب میں مخفی ہیں جس طرح شجر تخم میں طاؤوس بیضہ میں اور آگ سنگ چقماق میں۔) لہذا وحدت اس ذات کی یکتائی ہے جس نے خود کو بغیر سقوط اعتبارات اور بغیر ثبوت اعتبارات کے جانا ۔ مرتبہ ذات میں فرق نہ ثبوت اعتبارات کا ہے اور نہ سقوط اعتبارات کا( سقوط اعتبارات اور ثبوت اعتبارات کے بغیر ذات کی یکتائی کا نام ہے ۔ یہ سقوط وثبوت اعتبارات کے بغیر انائے مطلق ہے ۔)</p>
<p>پس یہ ذات کا ظہور اول ہے(اسی بنا پر اسے تجلی اول کہتے ہیں) ، احدیت اور واحدیت دونوں اس کی نسبتیں ہیں۔ اگر وحدت نہ ہوتی تو یہ نسبتیں بھی نہ ہوتیں ، جیسے عشق کی دو نسبتیں ہیں ، عاشق اور معشوق یہ دونوں عشق کے بغیر معدوم ہیں ۔ اسی طرح احدیت ، وحدت کے اوپر اور واحدیت ، وحدت کے نیچے ہے اور وحدت برزخ ہے یعنی ان دونوں کے درمیان ہے ۔ اس وحدت کو تجلی اول ، تنزل اول(ذات کا پہلا نزول اسی مرتبہ میں ہوا)، حقیقة الحقائق، برزخ کبری ، اصل البرازخ ، او ادنی (اوادنی : وحدت کا یہ نام قاب قوسین او ادنی سے ماخوذ ہے ۔ قاب قوسین صوفیہ کرام کے نزدیک وہ مقام اتصال ہے جہاں سے احدیت اور واحدیت کی قوسین میں امتیازپیدا ہو جاتا ہے۔ فنافی اللہ سے قبل یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج و شہود اور وجدان کی انتہا ہے ۔ تمیز کے دور ہوتے ہی قوسین بواسطہ سطوت تجلی ذات متحد ہو گئیں اور فنافی اللہ حاصل ہوگئی جس کی جانب او ادنی سے اشارہ ہے ۔)اور الف کہتے ہیں</p>
<p>(الف : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ الف نام ہے خط کا جو نقطہ سے بنتا ہے اور پھر خط ہی سے سارے حروف بنتے ہیں ، جیسا کہ مولانا عبد الرحمن جامی نے فرمایا :</p>
<p style="text-align: center;">یک نقطه الف گشت والف گشت حروف</p>
<p style="text-align: center;">در حرف الف بنامے موصوف</p>
<p style="text-align: center;">چون حرف مرکب شده آمد به سخن</p>
<p style="text-align: center;">ظرفیست سخن نقطه در وچوں مظروف</p>
<p> اک نقطہ الف ہو گیا اور الف سے حروف بن گئے پھر الف ہر حرف میں ایک نام سے موسوم ہو گیا۔ پھر جب حروف مرکب ہوئے تو سخن ہو گیا اور اب سخن ظرف ہے اور نقطه مانند مظروف)</p>
<p>چونکہ احدیت کو نقطہ کہا جاتا ہے ، اس لیے وحدت کو الف کہتے ہیں۔ )</p>
<p>اس مرتبہ ثانیہ یعنی وحدت کے اور بھی نام ہیں</p>
<p>قابلیت اولی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ تمام قابلیات کی اصل ہے ۔</p>
<p>مرتبہ ولایت مطلقہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پر ولایت مطلقہ کا دارو مدار ہے۔ اور ولایت کا کوئی مرتبہ ، ولایت مطلقہ سے بلند تر نہیں ۔ ولایت مطلقہ کہتے ہیں ولایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ ہی کی اتباع کامل کی وجہ سے ولایت خاتم الاولیاء کو بھی اس سے موسوم کیا جاتا ہے ۔</p>
<p>حجاب عظمت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سوائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی یہاں تک نہ پہنچ سکا</p>
<p>محبت حقیقیہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مقام حب حقیقی و حب ذاتی ہے بفحوائے كنت كنزاً مخفيا فاحببت ان اعرف یہاں حب ذاتی اور توجہ بخلق کا ظہور ہوا۔</p>
<p>وجود مطلق : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ میں دیگر مراتب کے بخلاف ذات کا شعور اور اس کی یافت بہ اعتبارات ، مطلق و مجمل ہے اور ایک مرتبہ نے اس سے تقید پایا ہے۔</p>
<p>تعیین اول : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات کے لیئے اسماء وصفات کا اولا تقرر ہوا ہے ۔</p>
<p>رفیع الدرجات: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وحدت ہی کے درجات کی تفصیل واحدیت میں ہوتی ہے، رفیع الدرجات ذو العرش سے اس طرف اشارہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح اس مرتبہ کو کنز الكنوز ، کنز الصفات، احدیت الجمع،مقام اجمالی ، ام الکتاب، روح القدس، لوح قضا ، عرش مجید، درة البيضاء ، بشرط شے بالقوه ، بشرط کثرت بالقوه ، نفس رحمانی ، وحدت الحقیقۃ،حقیقت انسانی ، حب ذاتی ، رابطہ بین الظهور والبطون ،فلک ولایت مطلقه ،علم مطلق، ظل اول ، وجود اول ،موجود اول ، مبدأ اول ، نشان اول،منشاء اول ، جوہراول ، نداء اول ، خیال اول بھی کہتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحی اسماء سے ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے کہ یہ ذات کا پہلا مرتبہ نزول ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/" data-a2a-title="وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
