حقیقی غلامی (بائیسواں باب)

حقیقی غلامی کے عنوان سےبائیسویں باب میں  حکمت نمبر 210 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے :-
210) مَا أَحْبَبْتَ شَيْئاً إلا كُنْتَ لَهُ عَبْداً ، وَهُوَ لا يحِبُّ أَنْ تَكُونَ لِغَيْرِهِ عَبْداً.
جب تم کسی شے سے محبت کرتے ہو تو تم اس کے غلام بن جاتے ہو۔ اور تمہارا محبوب یہ نہیں پسند کرتاہے، کہ تم اس کے سوا کسی دوسرے کے غلام بنو ۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:- قلب جب کسی شے سے محبت کرتا ہے۔ تو اس کی طرف بڑھتا اور اس کے سامنے جھکتا اور اس کے ہر حکم کی اطاعت کرتا ہے:۔
إِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُحِبُّ مُطِيع محبت کرنے والا اس کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ (یعنی اپنے محبوب کا )
اورعبودیت کی حقیقت یہی ہے ۔ عاجزی سے جھکنا اور اطاعت کرنا اور قلب کا صرف ایک رخ ہے اور انسان کے پہلو میں صرف ایک قلب ہے اللہ تعا لے نے فرمایا ہے
ما جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو قلب نہیں بنایا ہے۔
اور جبکہ قلب کا صرف ایک ہی رخ ہے۔ لہذا جب وہ اس ایک رخ کے ساتھ اپنے مولائے حقیقی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو ماسو اللہ سے اس کا رخ پھر جاتا ہے۔ اور وہ اس کا حقیقی بندہ بن جاتا ہے۔ اور جب وہ اپنی خواہش کی طرف متوجہ ہوتا ہے، تو وہ یقینی طور پر اپنے مولائے حقیقی سے منہ پھیر لیتا ہے۔ اور اس کے ماسوا کا بندہ ہو جاتا ہے۔ اور اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندے کے لئے یہ پسند نہیں کرتا ہے، کہ وہ اس کے سوا کسی دوسرے کا بندہ ہو ۔ جو شخص اپنی خواہش کا بندہ ہے۔ اس کی مذمت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
الرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَ خَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَ قَلْبِهِ وَ جَعَلَ على بَصْرِهِ غِشَاوَةٌ فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللَّهِ
کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو علم رکھنے کے باوجود گمراہ کر دیا ہے۔ اور اس کے کان اور قلب پر مہر کر دیا ہے۔ اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ کے ایسا کر دینے کے بعد، اس کو کون ہدایت کر سکتا ہے۔
یہ آیہ کریمہ اس شخص کی مذمت میں نص ہے۔ جس نے اپنی خواہش کو پسند کیا۔ اور اس کواپنے مولائے حقیقی کے سوا اپنا رب بنالیا۔ لیکن اہل باطن کی تفسیر :۔ تو وہ ایک اشارہ ہے۔ حقیقتا تفسیر نہیں ہے اور حدیث شریف میں ہے۔
إِنَّ لِلْقُرْآنِ ظَاهِراً وَ بَاطِنًا وَحَدًّا وَ مَطْلَعًا بے شک قرآن مجید کے لئے ظاہر اور باطن اور حد اور شان نزول ہے۔
ہمارے شیخ الشیوخ سیدی حضرت محمد بن عبد اللہ سے اس آیہ کریمہ کے اشارہ کے بارے میں منقول ہے :۔ ممکن ہے کہ یہ آیہ کر یمہ تعریف میں ہو ۔ اور اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا۔ جس نے اپنے معبود کو جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اپنی خواہش بنالیا ہے۔ اس کے سوا کسی سے محبت نہیں کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ وہ اپنے رب کی طرف سے علم اور دلیل پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی محبت میں گم کر دیا ہے۔ اور اس کے کان اور قلب پر اپنی محبت کی مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال کر اس کو اپنے ماسوا کے دیکھنے سے روک دیا ہے۔ تو اس ہدایت عظمی کی طرف اللہ تعالیٰ کے سوا کون اسکی رہنمائی کر سکتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا رہنما کوئی نہیں ہے۔
یہ تفسیر ، عبادت کے ظاہر کے اعتبار سے آیہ کریمہ کے ظاہری سیاق سے خارج ہے۔ لیکن یہ اس آیہ کریمہ کی باطنی تفسیر ہے مگر اس آیہ کریمہ کی یہ تفسیرصحیح نہیں ہے۔ اور تم کو یہ معلوم ہونا چاہئے ۔ کہ اللہ تعالیٰ کے کلام اور رسول اللہ ﷺ کے کلام کے لئے اس گروہ صوفیائے کرام کی تفسیر مقررہ معنی کے خلاف ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی مقصود معنی نہیں ہے۔ لیکن وہ لوگ آیت اور حدیث کو اس معنی پر مقرر کرتے ہیں۔ جس پر لفظ دلالت کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان اشاروں اور باریکیوں اور اسرار کوسمجھتے ہیں جو ظاہر کی منشا سے خارج ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اسرار کی صفائی کی بنا پر ان کو خاص طور پر یہ صلاحیت عطا فرمائی ہے۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے لطائف المنن میں اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ اب ہم اس بیان کی طرف لوٹتے ہیں ، جو پہلے بیان کر رہے تھے ۔ یعنی یہ کہ بندے کو اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کے ماسوی سے آزادی طلب کرنی چاہئے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:۔
نَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ وَالدِرْهَمِ وَالْقَطِيفَةِ دینار اور درہم اور چادر کا بندہ تباہ ہوا۔
اور ایک روایت میں اتنازیادہ فرمایا :- وَالزَّوْجَةُ تَعِسَ وَالْتَكَسَ ، وَإِذَا شِيْكَ فَلَا انْتَقَشَ
اور بیوی کا بندہ تباہ و بر باد ہوا اور اگر اس کو کا نٹا چبھے تو نہ نکالا جائے ۔
حضرت جنید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا ۔
بندہ کون ہے؟ حضرت نے جواب دیا ۔ بندہ وہ ہے جس کے دل میں غیر اللہ کا ذرا سا تعلق باقی ہو۔ کیونکہ مکاتب وہ غلام ہے جس کے اوپر ایک درہم باقی ہو۔ پھر ان سے دریافت کیا۔ آزاد کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا : – آزاد وہ ہے، جو اپنی طبیعت کی غلامی سے نجات پا گیا ہو ۔ اور اس کا قلب اس کے نفس کی خواہشات سے نکل گیا ہو ۔
منقول ہے :۔ حضرت شبلی رضی اللہ عنہ کے ایک مرید تھے ۔ ایک روز ایک شخص نے ان کو ایک عبا پہنا دیا۔ حضرت شبلی کے سر پرٹوپی تھی مرید کے دل میں ٹوپی کی خواہش پیدا ہوئی تا کہ عبا کے ساتھ ٹوپی بھی ہو جائے ۔۔ حضرت شبلی کو اس کے دل کا خیال کشف سے معلوم ہوا گیا ۔ لہذا عبا کو اس کے جسم سے اتروالیا۔ اور اس کو ٹوپی کے ساتھ شامل کر کے دونوں کو آگ میں ڈال دیا ۔ اور مرید سے فرمایا ۔ تم اپنے دل میں غیر اللہ کی طرف کوئی توجہ باقی نہ رکھو۔
بعض اہل ظاہر علما نے جو ظاہری شریعت پر منجمد ہیں ، اصل مقصد سے نا واقف ہونے کی وجہ سے ان کے اس فعل پر اعتراض کیا ہے۔ اس لئے کہ صوفیائے کرام کے اعمال کی بنیاد قلبی عبادت پر ہے۔ کیونکہ اگر قلب ظاہری اعمال کے موافق نہ ہو تو وہ اعمال صرف ڈھانچہ ہیں، جن کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔و بالله التوفيق
اور تم یہ جان تو ! جو شخص اپنی طبیعت کی غلامی سے نجات پا گیا اور اپنے نفس کی قید سے رہا ہو گیا۔ وہ اپنے رب کی محبت میں ثابت قدمی سے قائم ہو گیا۔ اور محبت کے لئے ابتدا اور وسط یعنی درمیان اور انتہا ہے۔
محبت کی ابتدا۔ حکم کی تعمیل اور منع سے پر ہیز کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعَونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ آپ فرمادیجئے ۔ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو تم میری پیروی کرو ۔ اللہ تعالیٰ تم لوگوں سے محبت کرے گا ۔
محبت کا وسط :- زبان کا ذکر میں مشغول ہونا اور قلب کا معیوب کے مشاہدہ سے متعلق ہونا ہے۔محبت کی انتہا ۔ اس کو نہ عبارت پاسکتی ہے۔ نہ وہ وہاں تک اشارہ پہنچ سکتا ہے۔
مندرجہ اشعار میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے :-
فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اللَّهُ لَا رَبَّ غَيْرَہُ حَبِيْبٌ لِقَلْبٍ غَابَ عَنْ كُلَّ مَقْصَدٍ
پس اللہ تعالیٰ کے سوا کچھ باقی نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہ اس قلب کا دوست ہے، جو ہر مقصد سےگم ہو گیا ۔
هَنِيئًا لِمَنْ قَدْ نَالَ حُبَّ حَبِيْبِهِ وَحَاضَ بِتَرْكِ الْغَيْرِ اَكْرَمَ مَوْردِ
مبارک ہے وہ شخص جس نے اپنے دوست کی محبت کو پالیا اور غیر کو ترک کر کے بہترین چشمے میں غوطہ لگایا۔
نَعِيمٌ بِلَا حَدٍ لَدَيْهِ مُجَدَّدٍ عَلَى عَدَدِ الْأَنْفَاسِ فِي كُلِّ مَشْهَدِ
اس کے پاس غیر محدود نعمت ہے۔ جو سانسوں کی تعداد کے مطابق ہر مظہر میں نئی شکل اختیار کرنی ہے۔
روایت ہے :۔ حضرت بایزید رضی اللہ عنہ منبر کے سامنے تشریف فرما تھے۔ جب خطیب نے یہ آیہ کریمہ تلاوت کی :-
وَ مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ایسی قدر نہیں کی جیسی کرنی چاہئے تھی ۔
تو انہوں نے اپنے اوپر اتنا ضبط کیا ، کہ ان کی آنکھوں سے خون جاری ہو گیا۔ لہذا ان حقیقتوں تک نہ عوام پہنچ سکتے ہیں، نہ خواص ، بلکہ ان کے مزے سے صرف خاص الخاص حضرات ہی آشنا ہوتے ہیں۔
اس حقیقت میں ایک عارف نے بہت خوب اشعار فرمائے ہیں ۔
وَ حَقِكَ لَوْ افْنَیْتَ قَلْبِي صَبَابَةً لَكُنتُ عَلَى هَذَا حَبِيبًا إِلَى قَلْبِي
تیرے حق کی قسم یا اگر تو میرے قلب کو محبت میں فنا کردے۔ تو اس کے باوجود تو میرے قلب کومحبوب رہے گا۔
أَزِيدُ عَلَى عَذْلِ الْعُدُولِ تَشَوُّقاً وَوَجْدًا عَلَى وَجْدٍ وَّ حُبًّا اِلَى حُب
میں ملامت کرنے والے کی ملامت کے باوجود شوق میں بڑھتا جاتا ہوں اور وجد پر وجد اور محبت پرمحبت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
ابى الْقَلْبُ إِلَّا أَنْتَ فِي كُلِّ حَالَةٍ حَبِيْبًا وَلَو دَارَتْ عَلَيْهِ يَدُ الْكَرْبِ
میرے قلب نے ہرشے کی محبت سے انکار کر دیا ہے۔ مگر تم کو ہر حال میں محبوب بنایا ہے۔ اگر چہ اس پر مصیبت کا ہاتھ پھرے ۔
فَلَا تَبْلِيهِ بِالْبَعَادِ فَإِنَّمَا تَلَذُّذُ انْفَاسِ الْمُحِيِّينَ بِالْقُرْبِ
لہذا جدائی سے میرے قلب کا امتحان نہ لے۔ کیونکہ عاشقوں کے سانسوں کی لذت محبوب کے قرب میں ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے محبت کرنے کا مفہوم، جبکہ وہ اس پر توجہ کرے :-
اپنی بارگاہ سے اس کو قریب کرنا اور اپنے کسی فائدے کے بغیر اس کو اپنی محبت کی ہدایت کرتی ہے۔ اس لئے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے اطاعت کرتا ہے۔ اس کی اطاعت سے اللہ تعالیٰ کو کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ اور جو شخص اس کی طرف سے منہ پھیر کر نا فرمانی کرتا ہے۔ اس کی نا فرمانی سے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ کیونکہ وہ ہرشے سے بے نیاز ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں