خواہش قلب سخت بیماری (اکیسواں باب)

خواہش قلب سخت بیماری کے عنوان سےاکیسویں باب میں  حکمت نمبر 201 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس پر تنبیہ فرمائی۔ تا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے بندے کو اس مرض سے شفا عطا کی ہو، تو وہ اس نعمت کی قدر کرے۔ یا اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا نہ دی ہو، تو وہ اپنے کو اس نعمت سے محروم کرنے پر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ چنانچہ فرمایا:-
201) تَمَكُّنُ حَلاَوَةِ الهَوَى مِنَ القَلْبِ هُوَ الدَّاءُ العُضَالُ.
قلب کے اندر خواہش کی شیرینی قائم ہو جانا بہت سخت بیماری ہے
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ خواہش کی شیرینی دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک قسم نفس کی خواہش :- دوسری قسم ، قلب کی خواہش ۔ پہلی قسم نفس کی خواہش وہ اس کی جسمانی خواہشات ہیں۔ جیسے کہ کھانے اور پینے کی چیزوں اور لباسوں ، اور سواریوں اور نکاحوں اور مکانوں کی شیرینی۔
دوسری قسم ، قلب کی خواہش :- وہ اس کی باطنی خواہشات ہیں۔ جیسے کہ مرتبہ اور سرداری اور عزت اور تعریف اور خصوصیت اور کرامت کی خواہش اور محسوس ظاہری عبادتوں کی شیرینی مثلاً زاہدوں اور عابدوں کا مقام۔ اور حروف کے علم کی شیرینی۔ لیکن نفس کی خواہش کا علاج :- اس کا معاملہ قریب یعنی آسان ہے۔ اور اس کا علاج :-اس کے مقام سے بھاگ کر اور زہد ( ترک دنیا ) اور اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کر کے ، کر نا ممکن ہے۔
لیکن قلب کی خواہش کا علاج :- جب وہ قلب میں قائم ہو جائے ۔ تو بہت مشکل ہے اور وہ ایسی مشکل بیماری ہے، جس نے طبیبوں کو عاجز کر کے اس کے علاج سے روک دیا ہے ۔ لہذاوہ برابر بڑھتارہتا ہے۔ اور دوا سے اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ اور اس مرض یعنی قلب کی خواہش کو صرف وارد الہیہ : – سابق عنایت سے کسی وسیلے کے ذریعے یا بغیر وسیلے کے دور کر سکتا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں