رسالہ انفاس نفیسہ خواجہ عبید اللہ احرار

رسالہ انفاس نفیسہ

تالیف حضرت کاشف الاسرار، زبدۃ الابرار خواجہ عبید اللہ احرار قدس  اللہ اسرارھم  الی یوم القرار

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 اے طالب صادق اللہ تعالی تمہیں دونوں جہانوں میں عزت دے اور مرید عاشق تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو محض اپنے لطف و کرم سے مشرف فرماتاہے  حدیث نبوی ﷺ التَّائِبُ ‌مِنَ ‌الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ  گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں اس بات پر شاہد عدل ہے تو اسے چاہیئے کہ اپنی تمام تر ہمت اس بات پر مرکوز کردے کہ  اپنی زندگی کا ایک لحظہ بلکہ  ایک لمحہ بھی یاد الہی جل ذکرہ  کے بغیر نہ گزارےاور ساری  عمر اسی کی اطاعت اور عبادت میں وقف کر دے اور اسی کی یاد میں مشغول رہے ۔

نخست موعظت پیر صحبت این حرف است که از مصاحب ناجنس احتراز کنید

حضرت مرشد کی صحبت سے مجھے نصیحت یہی حاصل ہوئی کہ نا جنسوں کی مجلس سے احتراز کیا جائے ۔

یاد رہے نا جنس ایک ایسی جماعت ہے کہ ان کے راستے پر کوئی انسان بھی چلنا پسند نہیں کرتا یا نا جنس ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے خدا سے منہ موڑ کر دنیا کو ہی اپنا قبلہ بنا لیا ہے ایسے لوگوں کو احمق کہا جائے گا

ز احمقان بگریز چون عیسی گریخت             صحبت احمق بسی خونها که ریخت

  احمقوں سے حضرت عیسی کی طرح دور رہنا چاہیئے احمق کی صحبت تو بڑی خونریزی کا سبب بنتی ہے ۔

طریقہ نقشبندیہ کے اکابرین قدس اللہ ارواحہم  نے ایسے ناجنس لوگوں کی مصاحبت کے نقصان کو پا لیا تھا انہوں نے اپنے مریدوں کو نہایت اصرار سے ایسے لوگوں کی مجالس سے دور رہنے کی تلقین کی تھی ایک عزیز از راہ شفقت قسم کھا کر کہتے ہیں

اے بذات پاک اللہ الصمد  بہ بود  مار بد مے از یا ربد

مار بد جا ن مے  ستاند از سلیم  یار بد آرد سوئے نار جحیم

دور شو از اختلاطِ یارِ بَد         یارِ بَد بدتر بود از مار بَد

مار بد تنہا ہمیں بر جان زند          یار بد بر جان و بر ایمان زند

بد یار کی صحبت سے دور بھاگو، کیونکہ بَد یار، بَدمار (سانپ) سے بھی خطرناک اور جان لیوا ہے۔ کیونکہ سانپ کے ڈسے ہوئے کو صرف جان کا خطرہ ہے، اور بد یار کے ڈسے ہوئے کو جان کے ساتھ ایمان کا بھی خطرہ ہے۔

ایک عزیز نے کہا ہے کہ ایسے لوگوں سے دور بھاگیں خواہ وہ اپنے ہی کیوں نہ ہو ں۔

بررخ ہرکس نبود داغ غلامی زدوست گر پدر من  بودشمن واغیارم است

 ہر شخص کے چہرے پر دوست کی غلامی کا داغ نمایاں نہیں ہوتا اگر میرا باپ بھی ہو وہ دشمن ہے اور بیگانہ ہے۔

محبت ناجنس سے دوری کے بعد دوسری بات جو نہایت ضروری ہے وہ پنجگانہ نمازوں کی بروقت ادائیگی ہے ہر نماز باجماعت ادا کرنا چاہیئے حضور ﷺ نے باجماعت نماز کی بڑی تاکید فرمائی ہے اور اس بات پر بڑا اصرار فرمایا ہے فِي ‌الْجَمَاعَةِ ‌رَحْمَةٌ جماعت میں ہی رحمت خداوندی ہے ۔

نا دوست آنکہ مرد تنہا رو      لطف حق افگندبرو پر تو

نماز عشاء کو باجماعت ادا کرنے کے بعد گھر آنا چاہیئے اور اس وقت تک قبلہ رو ہو کر بیٹھنا چاہیئے جب تک نیند کا غلبہ نہ ہو جائے سونے سے پہلے تین بار کلمہ شہادت تین بار قل ہو اللہ ہو احد تین تین بار قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھنا چاہیئے اور ہاتھ کی ہتھیلی پر پھونکنا چاہیئے اور جسم کے اعضاء پر ایک بار ہاتھ سے مسح کرنا چاہیئے ان آیات کا ثواب ان قبر نشینوں کو پہنچانا چاہیئے جو بندو ں کے کلمات خیر کے منتظر رہتے ہیں ان کلمات کی برکت سے انہیں آسائش میسر ہوتی ہے اور اللہ تعالی کی بخشش اور رحمت نازل ہوتی ہے حضرت رسالتمآب ﷺ نے فرمایا ‌ارْحَمْ ‌تُرْحَم(رحم کرو تم پر رحم کیا جائے)

خدارا برا ں بندہ بخشایش است      کہ خلق از وجودش دراآسائش است

اللہ تعالی اسی بندے پر بخشش فرما تا ہے جس سے اللہ کی مخلوق آسائش میں ہوتی ہے ۔

اس کے بعد قبلہ رو ہو کر دائیں پہلو لیٹ جائے جونہی بیدار ہو ‌سُبْحَانَ ‌اللَّهِ ‌وَالْحَمْدُ ‌لِلَّهِ، ‌وَلا ‌إِلَهَ ‌إِلا ‌اللَّهُ، ‌وَاللَّهُ ‌أَكْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِپڑھے اٹھ کر وضو کریں اور ہرعضو کو تین تین بار دھوئے اور ہر بار القادر کہتا جائے یا دوسری مسنون دعائیں پڑھے وضو مکمل کرنے کے بعد یہ دعا ضرور پڑھنی چاہیئے اللَّهُمَّ ‌اجْعَلْنِي ‌مِنَ ‌التَّوَّابِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ وَاجْعَلْنِي ‌مِنْ ‌عِبَادِكَ ‌الصَّالِحِينَ وَاجْعَلْنِي ‌مِنْ ‌الَّذِينَ ‌لَا ‌خَوْفٌ ‌عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ۔

اے اللہ مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں اور اپنے نیک بندوں میں سے کردے اور مجھے ان لوگوں میں شامل کر دے جن پر نہ کوئی خوف ہو  نہ وہ غمگین ہوں گے۔

 اس کے بعد شکرانہ  وضو کی دو رکعتیں پڑھے اس کے بعد اپنے گزشتہ اوقات پر ایک نگاہ ڈالے کہ وہ غفلت میں تو نہیں گزرے زندگی کے جو لمحات غفلت سے مبرا گزرے ہیں ان پر اللہ کا شکر ادا کرے جو غفلت اور بے کاری میں گزرے ہوں ان پر ندامت اور عذر تقصیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے تاکہ اللہ تعالی مزید توفیق  شکر گزاری دے اللہ تعالی نے فرمایا لَئِنْ ‌شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْاگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا کلمہ  بازگشت تین بار  نہایت آہ وزاری سے کہے اور جس قدر خشوع و خضوع ہوسکے جناب باری تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا رہے اور کہے

 خداوندبحضرت توبازگشتم  از ہر بدی  و تقصیر ے  کہ بر من  گذشتہ  است  از دانستہ  یا دانستہ

اے اللہ میں تیری بارگاہ میں حاضر ہو گیا ہوں میں ان تمام افعال سے توبہ کرتا ہوں جن کا میں نے ارتکاب کیا خواہ  وہ دانستہ ہو ئے ہیں  یا نادانستہ۔

 أَشْهَدُ ‌أَنْ ‌لا ‌إِلَهَ إِلا اللَّهُ ‌وَحْدَهُ ‌لا ‌شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُایک بار یہ بھی کہے

چوں بدرگاہ تو خودر ادر پناہ آور دہ ام           یا الٰہ العالمین بار گناہ آور دہ ام

بردرت زین بار خود پشت دو تا آوردہ ام    عجزو زاری بردر عالم پناہ آوردہ ام

من نمی گویم کہ بودم سالہا در راہ تو         ہستم آن گمرہ کہ اکنون روبراہ آوردہ ام

چار چیز آوردہ ام حقا کہ در راہ تونیست نیستی وحاجت وعذر وگناہ آوردہ ام

درد در ویشی ودلریشی وبیخویشی بہم ایں ہمہ بردعویٰ عشقت گواہ آوردہ ام

چشم رحمت برکشائے موئے سفید من بہ بین      زانکہ از شرمندگی روی سیاہ آوردہ ام

چونکہ آپ کی درگاہ پناہ میں اپنے آپ کو لے آیا ہوں یا الہ العالمین ! گناہ کا بوجھ لے کر آیا ہوں، تیرے در پر اپنے اس بوجھ کی وجہ سے اپنی کمر دوہری کر کے لایا ہوں، عالم کو پناہ دینے والے کے در پر عجز وزاری لے کر آیا ہوں، میں یہ نہیں کہتا کہ سالہا تیری راہ میں تھا بلکہ میں وہی گمراہ ہوں کہ اب راہ کی طرف رخ کر کے آیا ہوں، چار وہ چیزیں لے کر آیا ہوں اے بادشاہ! جو آپ کے خزانہ میں نہیں ہیں ، عدم و حاجت و عذر و گناہ لے کر آیا ہوں، دل اور فقیری اور زخمی دل اور بے یار و مددگاری ان سب کو تیرے عشق کے دعوی پر گواہ لے کر آیا ہوں، رحمت کی نگاہ فرمائیں اور میرے سفید بالوں کو دیکھیں اس لیے کہ شرمندگی سے سیاہ چہرہ لے کر آیا ہوں ۔”

اس کے بعد نہایت نیازمندی کے ساتھ سو بار 

اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْۢبٍ اَذْنَبْتُهٗ عَمَدًا اَوْ خَطَا ًٔ سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْۢبِ الَّذِیْٓ اَعْلَمُ وَ مِنَ الذَّنْۢبِ الَّذِىْ لَآ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ.

میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں جو میرا پروردگار ہے ہر گناہ سے جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا بھول کر چھپ کر کیا یا اعلانیہ اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اس گناہ سے جس کو میں جانتا ہوں اور اس گناہ سے بھی جس کو میں نہیں جانتا اے اللہ بے شک توں غیبوں کا جاننے والا ہے ۔

اس کے بعد نماز تہجد میں مشغول ہو کر دو رکعت کی نیت کرکے چھ سلاموں کے ساتھ بارہ رکعت پڑھے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ آیت الکرسی پڑھے  دوسری میں امن الرسول پڑھے آٹھ رکعتوں میں سورہ یاسین کی دس دس آیات ہر رکعت میں پڑھے ان آٹھ رکعتوں میں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد یاسین سے وَأَجْرٍ كَرِيمٍ

تک اور دوسری رکعت میں وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي سے جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ تک اور چوتھی رکعت میں وَآيَةٌ لَهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُسے فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ تک اور پانچویں رکعت میں وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ سے إِلَى رَبِّهِمْ يَنْسِلُونَ  تک پڑھے اور چھٹی رکعت میں  قَالُوا يَاوَيْلَنَا سے   أَفَلَمْ تَكُونُوا تَعْقِلُونَ  تک پڑھے اور  ساتویں رکعت میں هَذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي  سے أَفَلَا يَشْكُرُونَ  تک اور آٹھویں رکعت میں وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ سے آخر سورۃ یاسین تک پڑھے باقی ماندہ دو رکعت میں تین تین بار سورۃ اخلاص پڑھے یہ طریقہ کار  سلسلہ  خواجگان نقشبندیہ  کے پیر و مرشد خواجہ یوسف ابو ایوب ہمدانی نے اپنایا تھا بعض خواجگان حضرات نے ہر رکعت میں سورہ یاسین مکمل بھی پڑھی ہے نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد بیٹھ کر دو نفل ادا کیے جائیں اس طرح یہ ساری 13 ہونگی کیونکہ نشستہ ( بیٹھ کر)دو رکعت ایک رکعت کے مطابق ہوتی ہے یہ طریقہ کار طاق رکعت قائم کرنے کے لئے ہے اللہ تعالی کی ذات پاک فرد اور طاق ہے اور قرآن مجید میں آیا ہے کہ جو سورت چاہے پڑھ لے اگر مذکورہ صورت نہ پڑھ سکیں ان دو رکعت کے بعد آیت الکرسی اور اس کے بعد والی دونوں آیتیں شامل کرکے هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ تک پڑھے اور آمَنَ الرَّسُولُ تیسرے پارے میں سورہ بقرہ کی آخری رکوع کی دوسری آیت سے آخر سورۃ بقرہ تک پڑھنا چاہیئے اور یہ دعا بھی پڑھے۔

اللهم ارزقنا حبك وحب من يحبك وحب ما يقربنا اليك اللهم انصر من نصر الدين وانصر من نصر اهل الدين اللهم اخذل من خذل الدين واخذل من خذل اهل الدين اللهم احفظنا من العله في الغربة ومن المذلۃ عند الشيب ومن الشقاوۃ عند الخاتمۃ ومن الفضيحۃ يوم القيامه اللهم زين ظواهرنا. بخدمتك  وبواطنا بمحبتك وقلوبنا بمعرفتك وارو حنا بمشاهدتك واسرارنا بمعاينة جناب قدسك اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ولا تكلنا الى انفسنا ولا الى احد من خلقك طرفه عين ولا اقل من ذلك وكن لنا وليا ونصيرا وحافظا و عونا ومعينا وعلي كل خير دليلا. وملقنا ومؤيدا.

اللهم ربنا اتنا من حضرنا وممن غاب عنا و كل مؤمن ومؤمنه في الدارين حسنة يا واسع المغفرة اللهم ارنا الاشياء كما هي اللهم سهل علينا بجودك ويسر علينا بكرمك يا اكرم الاكرمين ويا ارحم الراحمين.

اللهم تب علينا حتى نتوب اليك وعصمنا  منا حتى لا نعود و حبب الينا الطاعات وكره الينا الخطيئات بفضلك وكرمك يا ارحم الراحمين وصلى الله على خير خلقه محمد واله وصحبه اجمعين.

ترجمہ: اے اللہ ہمیں اپنی محبت عطا فرما اور ہر اس شخص کی محبت جسے تو پیارا رکھتا ہے اور ہر اس چیز کی محبت دے جو تیری بارگاہ میں قریب کردے اے اللہ جو آدمی دین اسلام کی مدد کرتا ہے تو اس کی مدد فرما اور اس شخص کی بھی مدد کر جو دیندار لوگوں کی مدد کرتا ہے اے اللہ غر بت میں بیماری سے ہماری حفاظت فرما ،اور بڑھاپے میں ذلت سے بچا اور خاتمہ کے وقت بدبختی سے محفوظ رکھ اور قیامت کے دن رسوا نہ کرنا اے اللہ ہمارے ظاہری اعضاء کو اپنی خدمت و عبادت میں مزین فرما ہمارے باطنوں کو اپنی محبت سے سرشار کر دے ، ہمارے دلوں کو اپنی معرفت عطا فرما  ہماری ارواح کو اپنےمشاہدہ کی لذت بخش اور ہمارے اسرار کو اپنی جناب مقدس کے معائنہ سے سرفراز فرما اے اللہ ہم پر حق کو روشن کر دے اور اس کی اتباع کی توفیق بخش اور ہمیں باطل کو باطل دکھا دے اور اس سے بچا اور ہمیں اپنے نفسوں پر نہ چھوڑ اور ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی مخلوق میں سے کسی کے سپرد نہ کر بلکہ اس سے کم وقت کے لئے بھی کسی مخلوق کے حوالے نہ کرنا اور تو ہی ہمارے لیے ولی ،ناصر، حافظ ،معین و مددگار ہو جا اور ہر نیکی پر ہماری راہنمائی اور تلقین و تائید فرما  ،اے اللہ توہمارا پروردگار ہے ہمیں ہر وہ چیز عطا فرما جو ہمارے سامنے ہے اور ہم سے غائب ہیں اور ہر مومن مرد اور عورت کو دنیا و آخرت میں اچھائی عنایت فرما اے وسیع بخشش کرنے والے ،اے اللہ ہمیں سب اشیاء کی اصل دکھا دے جیسے کہ وہ ہیں اے اللہ ہم پر آسانی فرما اپنی جودوسخا سے اور اپنے کرم خاص سے ہماری تنگی کو آسانی سے بدل دے اے سب کرم کرنے والوں سے بڑھ کر کرم کرنے والے اور اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والے اے اللہ ہم پر خاص نظر کرم فرما تاکہ ہم تیری بارگاہ میں سچی توبہ کریں اور ہماری ایسی حفاظت فرما کے دوبارہ گناہ نہ کریں اور ہمیں اطاعت و بندگی کی محبت عطا فرما اور اپنے فضل سے ہر قسم کے گناہوں سے نفرت دلا دے اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے اور درود و سلام بھیج اپنی مخلوق سے سب سے بہتر رسول محمد ﷺ پر اور ان کی آل پاک اور تمام صحابہ پر

ان تیرہ رکعتوں  کا ثواب تمام اولیاء کرام کے ارواح اپنے والدین اور حضور ﷺ کی تمام امت کو بخشے اللہ تعالی ہررکعت کے بدلے دس رکعت کا ثواب دے گا۔

گر یک بدہی تو دہ  دہندت گر شام دہی پگہ دہندت

ہر دہ  بدہ یاد مولی تا بردردوست  راہ دہندت

اللہ کی رحمت تو ایک رکعت کے بدلے سات سو رکعت کا ثواب عطا کرتی ہے حساب ثواب دیا جاتا ہے جیسا کہ حق تعالی نے فرمایا ہے

مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس طرح ہے جیسے ایک دانا جس سے سات بالیں نکلیں پھر ہر بال میں سو سو دانے  ہوں  اور اللہ تعالی بڑھاتا ہے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا اور جاننے والا ہے۔

یہ ثواب بھی اللہ تعالی کے راستے میں ان ارواح کو پہنچتا رہے گا اللہ سبحانہ  کے فضل اور اس کے در رحمت سے عنایت و رحمت کا سوال کرنا چاہیئے۔

از زندگیم بندگی تست ہؤس               بر زندہ دلان بتو حرام ست نفس

خواہدز تو مقصود دل خود ہمہ کس                جامی از تو ہمیں ترا خواہد و بس

مجھے تو میری زندگی میں تیری ہی بندگی کی آرزو ہے زندہ دلوں کے لیے تیرے بغیر ایک لمحہ گزارنا بھی حرام ہے تمام لوگ تیری ذات سے ہی اپنا مقصود حاصل کرتے ہیں لیکن جا می تو صرف تیری ذات ہی کا آرزو مند ہے ۔

اس کے بعد ان وظائف یا کلمات کو پڑھے جو اس نے اپنے پیر و مرشد سے سیکھے ہیں اگر وقت تھوڑا ہو تو چھ رکعت چارر کعت  یا کم از کم دو رکعت نوافل تہجد ادا کر سکتا ہے اگر خدانخواستہ کسی مجبوری کے تحت ادا نہیں کر سکا تو اسی دن   وقت زوال سے پہلے ان کی قضا ادا کرے اور یہ قضا ایسے ہی ہوگی جیسے وقت اصل  میں ہی پڑھے جارہے ہیں اگر دوران سفر  خطرہ ہے کہ سحری کے وقت نہیں اٹھ سکے گا تو رات کے پہلے حصے میں ادا کر سکتا ہے اگر کسی روز سحری سے  صبح ہو گئی ہے نیند کا غلبہ  ہے تو  غفلت کو دور کرنے کے لیے دائیں ہاتھ پر تکیہ کرکے قبلہ رو سو جائے اور پھر صبح کی نماز تازہ وضو کر کے ادا کریں صبح کی سنتیں گھر میں  ادا کرے اور پہلی روشنی پر یہ دعا اکتالیس بار پڑھیں

يا رحمن يا رحيم يا حي يا قيوم يا بديع السماوات والارض ياذا الجلال والاكرام يا لا اله الا انت اسالك ا ن يحیی قلبي بنور معرفتك ابدا يا الله يا الله يا الله.

اے بڑے مہربان رحم فرمانے والے اے زندہ  اے تمام کائنات کو قائم رکھنے والے،ایجاد کرنے والے تمام آسمانوں اور زمین کو اے جلال و کرامت والے ،اے وہ ذات کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں کہ میرے دل کو اپنے نور معرفت سے ہمیشہ کے لئے زندگی بخش دے یا اللہ یا اللہ یا اللہ ۔

اس دعا کے بعد مسجد میں جا کر دو فرض باجماعت ادا کریں اور اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے رو بقبلہ ذکر میں مشغول ہو جائے اور اپنے پیرو مرشد کا تصور رکھے یہ سلسلہ تصور و ذکر طلوع آفتاب تک رہے گا  حتی کہ آفتاب بقدر نیزہ  اوپر آ جائے دو رکعت اشراق ادا کرے ،ہر رکعت میں بعد سورہ فاتحہ پانچ بار سورہ اخلاص پڑھے  اس کا ثواب اتنا ہو گا گویا ایک سو (100) غلام خرید کر آزاد کیے ہیں ایک اور قول کے مطابق ایک حج اور عمرہ ایک ماہ کا ثواب ملے گا اس کے بعد  دو رکعت نماز استخارہ ادا کرے  پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ پڑھے  اور دوسری میں سورہ اخلاص ایک ایک بار پڑھے  اللہ تعالی سے نیکی کا طلبگار رہے اور اس توفیق خیر طلب کرے اللہ تعالی اس کو اس کی آنکھوں اور دل کو نیکیوں کی طرف کھول  دے گا اور اگر کوئی غلطی ہو جائے گی تو کاتب نامہ حسنہ کاتب نامہ سیئہ  کو اجازت نہیں دے گا کہ اسے لکھے اس امید پر کہ شاید اس تقصیر یا گناہ سے توبہ کرے اسی دوران نادم رہے اور اللہ تعالی سے رجوع کرتا رہے ۔

ان معمولات کے بعد اپنے دینی اور دنیاوی کاموں میں مصروف ہو جائے لیکن ہر لمحہ دل میں اللہ کی یاد رہے یا اپنے پیرو مرشد کا تصور رہے  جونہی آفتاب ایک نیزہ اور اوپر آئے چار رکعت نماز چاشت ادا کرکے پہلی رکعت میں بعد از فاتحہ  وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا دوسری میںوَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى  تیسری میں وَالضُّحَى  اور چوتھی میں أَلَمْ نَشْرَحْ پڑھے وگر نہ ہر رکعت میں تین بار سورہ اخلاص  پڑھے  اگر مزید ذوق ہو  توبارہ رکعت پڑھ لے۔

حضرت مولانا  یعقوب چرخی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ انسیہ میں لکھا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص چاشت کی  بارہ رکعت ادا کرتا ہے اللہ تعالی جنت میں اس کے لئے ایک محل سونے اور چاندی کا تعمیر کرواتا ہے چاشت کی نماز ادا کرنے کے بعد سر بسجود ہو کر سات بار الوہاب کہے تاکہ غیروں کی محبت یا غیریت کی آلائش جو بھی دل میں موجود ہو صاف ہوجائے، دل صاف ستھرا ہوجائے گی جونہی وضو ٹوٹے جلدی تازہ وضو کر لے اور نوافل شکر بھی ادا کرے اور دعا کرے یہ تمام آداب طریق ہیں۔

ہمیشہ باوضو رہنے سے رزق میں فراخی حاصل ہوتی ہے دوسری نماز ظہر کا وقت آئے تو اسے باجماعت ادا کرے تین بار کلمہ بازگشت کہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ۔

ستر بار اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّىْ مِنْ كُلِّ ذَنْۢبٍ اَذْنَبْتُهٗ عَمَدًا اَوْ خَطَا ًٔ سِرًّا اَوْ عَلَانِيَةً وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ مِنَ الذَّنْۢبِ الَّذِیْٓ اَعْلَمُ وَ مِنَ الذَّنْۢبِ الَّذِىْ لَآ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِپڑھے اور حدیث نبوی پر عمل کرے

‌لَيُعَانُ عَلَى قَلْبِي حَتَّى أَسْتَغْفِرَ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ

میری  قلب پر نورانی پردہےآ جاتے ہیں اس لئے میں بھی سو بار استغفار کرتا ہوں دیگر معمولات سامنے رکھے  اسی طرح نماز عشاء تک فضول گفتگو سے محفوظ رہے اور ان کاموں میں مشغول رہے جو جائز ہیں اور ان کا اجر اللہ تعالی سے حاصل کرنے کا امیدوار رہے کیونکہ ارشاد خداوندی ہے

إِنَّ اللَّهَ لَا ‌يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ   اللہ تعالی نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

مندرجہ بالا اعمال توبمنزلہ پرہیز  ہیں تاکہ اس سے فاسدمادہ مسہل(وہ دوا جس سے دست آئیں) کے لئے تیار ہوجائے اس کے بعد مسہل کا استعمال کرے۔تاکہ نفس اور طبیعت سے تمام آلائشیں خارج ہو جائیں۔

اے ےطالب صادق جو نہی تم اس دولت اور نعمت سے مشرف ہو تو خبردار پھر  صحبت ناجنس سے  دور رہو بلکہ دوسر ے شیخ  یا اس کے مریدوں سے گفتگو سے پرہیز کرو ۔اگرچہ یہ شیخ یا پیر کتنا ہی بلند مقام ہو، ہاں  اپنے پیرومرشد کی اجازت سے گفتگو کر  سکتے ہو ایسی  مجالس اگرچہ اچھی نہیں مگر اس میں مرید کے لیے بہت ہی نقصانات اور خطرات موجود ہیں چنانچہ اس سلسلہ کے طالبوں کو چاہیئے ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کریں اور غیر جنس لوگوں سے تو بطریق اولیٰ اجتناب کرنا چاہیئے والسلام


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں