صوفیاء کی محبت سعادتوں کا سرمایہ مکتوب نمبر 83دفتر دوم

 اس طائفہ عالیہ کی محبت میں جو سعادتوں کا سرمایہ ہے اور اس کے مناسب بیان میں میر محمود کی طرف صادر فرمایا ہے:۔ 

الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفَى وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ ‌الَّذِي ‌اصْطَفَى تمام  تعریفیں اللہ کیلئے  ہیں اور اس کے برگزیدہ بندوں پرسلام ہو۔ان حدود کے فقراکے اوضاع واحوال حمد کے لائق ہیں اور الله تعالیٰ  سے دعا ہے کہ آپ کو سلامتی اور عافیت اور شریعت پر ثابت قدمی اور استقامت عطا فرمائے۔ 

اس برادر عزیز نے جو اس فقیر سے طریقہ اخذ کیا تھا۔ اگر چہ صحبت (جوان بزرگواروں کے نزدیک اصل عظیم ہے) کے کم ہونے کے باعث عمده ثمرات و برکات اس پر مترتب نہیں ہوئے ، لیکن اگر تھوڑا سا حسی ارتباط بھی جو طریقہ کے لوازم سے ہے۔ باقی رہا ہوں۔ تو یہ بھی دولت عظیم ہے۔لِاَنَ المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ (آدمی  اسی کے ساتھ ہو گا۔ جس کے ساتھ اس کو محبت ہوگی پہلی برکت جو محبت اول میں اس طریقہ عالیہ کے مبتدی رشید کو حاصل ہوتی ہے۔ مطلوب حقیقی کی طرف قلب کی دائمی توجہ ہے۔یہ دوام توجہ تھوڑی مدت میں نسیان ماسوا تک پہنچا دیتی ہے۔ اگر طالب بالفرض ہزار سال تک جئے۔ حق تعالیٰ  کا غیراس نسیان کے باعث جو اس  کے ماسوا سے حاصل ہو چکا ہے۔ کبھی اس کے دل میں گزرنے نہ پائے اور اگر تکلیف تعمل سے بھی اس کو یاد دلائیں تو یاد نہ کرے ۔ جب یہ نسبت حاصل ہوجائے تو گویا اس راہ میں پہلا قدم حاصل ہو گیا۔ دوسرے، تیسرے، چوتھے قدم کی نسبت کیا لکھا جائے الْقَلِيلِ يَدُلَّ عَلَى الْكَثِيرِ والقطرۃ تنبئ عن البحر الغدير (تھوڑا بہت پر دلالت کرتا ہے اور قطرہ دریائے ناپیدا کنار کی خبر دیتا ہے)۔ 

اس سے مقصود دوستوں کی ترغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ  ان کو نفع دے۔ میاں عبدالعظیم نے آپ کی محبت و اخلاص کے حالات کو زبانی بیان کیا ہے۔ جو اس گفتگوکا باعث ہوئے ہیں۔ 

وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى والتزم متابعة المصطفى عليه وعليهم من الصلوة والتسليمات اتمها وادومها

 اور سلام ہو آپ پر اوران  لوگوں پر جو ہدایت کے رستہ پر چلے اور جنہوں نے حضرت محمدﷺکی متابعت کو لازم پکڑا۔

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر دوم صفحہ285ناشر ادارہ مجددیہ کراچی


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں