رسالہ المسترشدین ازامام التصوف ابو عبد اللہ حارث بن اسد محاسبی

رسالہ المسترشدین

ازامام التصوف ابو عبد اللہ حارث بن اسد محاسبی

‌مقدمۃ الکتاب

‌بِسم الله الرَّحْمَن الرَّحِيم
الْحَمد لله الأول الْقَدِيم الْوَاحِد الْجَلِيل الَّذِي لَيْسَ لَهُ شَبيه وَلَا نَظِير أَحْمَده حمدا يوافي نعمه ويبلغ مدى نعمائه
وَأشْهد أَن لَا إِلَّا الله وَحده لَا شريك لَهُ شَهَادَة عَالم بربوبيته عَارِف بوحدانيته وَأشْهد أَن مُحَمَّدًا عَبده وَرَسُوله اصطفاه لوحيه وَختم بِهِ أنبياءه وَجعله حجَّة على جَمِيع خلقه
تمام خوبیاں، قدیم اول اور جلیل واحد ذات، اللہ عز وجل کے لیے ہیں جو شبیہ ونظیر سے پاک ہے، میں اس کی ایسی حمد وستائش ( کی سعی ) کرتا ہوں جو اس کی تمام نعمتوں کو پوری ہو اور اس کے تمام انعامات کے حق کو ادا کر سکے ۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ رب العزت کے علاوہ کوئی (دوسرا) معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، یہ اس کی گواہی جو اس کی ربوبیت کو جانتا ہے اور اس کی جو اس کی وحدانیت کی معرفت سے آشنا ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے (محبوب) بندے اور رسول ہیں ، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے لیے منتخب فرمایا اور آپﷺ پر ہی سلسلہ نبوت ختم فرمایا اور آپ ﷺ کو ہی تمام مخلوقات کے لیے رحمت قرار دیا۔ ارشاد خداوندی ہے: لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٖ وَيَحۡيَىٰ مَنۡ حَيَّ عَنۢ بَيِّنَة ( الانفال :42)کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل سے زندہ رہے۔

صاحبان عقل

اما بعد: جاننا چاہئے کہ اللہ عزوجل نے اپنے بندوں میں سے ایسے عقل مندوں کا انتخاب کیا ہے کہ جو اس کی ذات اور اس کے حکم کو جانتے ہیں ان کا تذکرہ ” وفادار، بہترین اخلاق والے، اور خوف وخشیت سے متصف” کے الفاظ سے کیا ہے، چنانچہ حق جل شانہ کا ارشاد ہے:
إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُوْلُواْ ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهۡدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلۡمِيثَٰقَ٠ وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلۡحِسَابِ ( الرعد :19 تا 21)
پس نصیحت تو سمجھ دار ہی قبول کرتے ہیں اور یہ (سمجھدار ) لوگ ایسے ہیں کہ اللہ سے جو کچھ انہوں نے عہد کیا ہے اس کو پورا کرتے ہیں اور اس عہد کو توڑتے نہیں ، اور یہ ایسے ہیں کہ اللہ نے جن علاقوں کے (تعلقات) قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں، اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔
پس جس کے سینے کو اللہ نے ایمان کے واسطے کھول دیا اور تصدیق اس کے قلب تک سرایت کر گئی اور وہ اللہ تک پہنچنے کا مشتاق ہے تو وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام آئمہ مجتہدین مہتدین کی متفق علیہ شریعت کی حدود کی رعایت کرتے ہوئے اہل عقل کے طریق کو لازم پکڑ لیتا ہے اور یہی وہ صراط مستقیم ہے جس کی طرف اللہ نے اپنے بندوں کو بلایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے۔
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَٰطِي مُسۡتَقِيمٗا فَٱتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُواْ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَن سَبِيلِهِ ذَٰلِكُمۡ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ ۔( الانعام :153)اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو کہ مستقیم (سیدھا) ہے سو اس راہ پر چلو دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تا کہ تم اس راہ کے خلاف کرنے سے احتیاط رکھو۔
اور حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: تم پر میری اور میرے بعد آنے والے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت پر عمل کرنا لازم ہے اس کو مضبوطی سے تھامے رکھو
امام محاسبی نے فرمایا:
اور جان لو کہ کتاب اللہ کا حق اور فرض ہے کہ اس کے احکام اور امر و نواہی پر عمل کیا جائے ، اس کی وعید کا خوف ہو، اس کے وعدے کی امید رکھی جائے اور اس کے متشابہات پر ایمان رکھا جائے آپ نے یہ تمام اعمال کر لئے تو آپ جہالت کی تاریکیوں سے علم کے نور اور شک کے عذاب سے یقین کی راحت کی طرف نکل آئے چنانچہ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔
ٱللَّهُ وَلِيُّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ( البقرہ :257)اللہ تعالی ساتھی ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے ان کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر نور اسلام کی طرف لاتا ہے۔ اس کی تمیز اور شوق اہل عقل اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا فہم رکھنے والے لوگ رکھتے ہیں جو اپنے ظاہر کے سنوارنے اور شبہات سے بچنے میں حریص ہیں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ” حلال بھی واضح ہے۔ اور حرام بھی اور ان دونوں کے درمیان کچھ امور ایسے ہوتے ہیں جو شبہ میں ڈال دیتے ہیں ” ( ان کی حرمت وحلت واضح نہیں )لہذا ان کا چھوڑنا کرنے سے بہتر ہے۔

اساس عمل

امام محاسبی فرماتے ہیں:
اپنی نیت کے بارے میں غور و فکر کرو اور اپنے ارادہ کو پہچانو اس لئے کہ اصل بدلہ تو نیت پر ہی ملنا ہے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ: تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کو وہی بدلہ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہے ہے۔
امام محاسبی نے فرمایا:
اللہ سے ڈرتے رہو ( اور لوگوں کو تکلیف نہ پہنچاؤ) اس لئے کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور صاحب ایمان (مؤمن) وہ ہے کہ جس کے شر و فساد سے دوسرے مؤمن سلامت رہیں ہے
امام محاسبی نے فرمایا:
حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ تعالی عنہ ) فرماتے ہیں: اللہ سے ڈرو اس کی اطاعت کر کے اور اطاعت کرو اس سے ڈرتے ہوئے، اپنے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خون، اپنے پیٹ کو مسلمانوں کے اموال، اور اپنی زبان کو ان کے عزتوں سے بچا کر رکھو، اور ہر قسم کے خیالات میں اپنا محاسبہ کرتے رہو۔

محاسبہ نفس

امام محاسبی نے فرمایا:
ہر سانس کے ساتھ اللہ تعالی کا دھیان رہنا چاہئے حضرت عمر (رضی اللہ تعالی عنہ ) فرماتے ہیں: ” اپنا محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ (اللہ تعالی کی طرف سے) کیا جائے اور اپنے آپ کو جانچتے رہو اس سے قبل کہ تمہاری جانچ ہوئے اور اپنے آپ کو ایسے دن کی بڑی پیشی کے لئے سنوار لو کہ جس دن کوئی چھپی ہوئی چیز بھی پوشیدہ نہ رہ سکے گی۔
امام محاسبی نے فرمایا:
اپنے دین کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اپنی تمام ضروریات میں اس سے امید باندھواور مصائب پر صبر کرو یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے ! صرف اپنے گناہوں سے ڈر، اور اپنے رب سے امیدوار رہ اور نہ جاننے والا علم حاصل ہو جانے تک سوال سے نہ شرمائے ، اور جس سے سوال ہوا ہے اگر وہ اس کے بارے میں نہیں جانتا تو اپنی لاعلمی ظاہر کرنے میں حیا نہ کرے ۔

مصائب پر صبر

امام محاسبی نے فرمایا:
خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ ایمان کے لئے صبر کی حیثیت اسی طرح کی ہے جس طرح جسم کے لئے سر کی کہ جب سرکٹ جائے تو پورا جسم ضائع ہو جاتا ہے۔ صبر یہ ہے کہ جب تم کوئی ایسی بات سنو کہ جو تمہیں اپنی آبرو کے معاملے میں غضب ناک کر دے تو درگزر کرتے ہوئے اعراض کرو، اور یہی انسان کی اولوالعزمی ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے: ” جسے خوف خدا ہو وہ کبھی اپنے غصہ میں (انتقام) لے کر تسکین حاصل نہیں کر سکتا، اور جو متقی ہے وہ اپنے ارادوں پر اپنی مرضی سے عمل پیرا نہیں ہو سکتا ہے اور اگر لوگوں میں خوف آخرت نہ ہوتا تو دنیا کے مناظر مختلف ہوتے (یعنی ہر کوئی اپنی من مانی کر کے دنیا کے نظام کو تہہ و بالا کر دیتا )
اپنی حالت کی نگرانی کرتے رہو اور دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرو یہ مثل مشہور ہے کہ: انسان کے قابل ملامت ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ دوسروں کے وہ عیوب بھی ظاہر ہو جائیں جو اپنے اندر مخفی ر ہیں ( دوسروں کی آنکھ کا تنا نظر آئے اور اپنی آنکھ کا شہتیر اوجھل رہے )
اپنی عقلی تدابیر پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنی عقل کو محض اللہ کی رضا کے لئے استعمال کرواور اچھی بری تقدیر کو پھیرنے میں اللہ کا دامن تھام لو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے: ارے انسان: اپنے مالداری پر مت اترا، اور اپنی احتیاج پرافسوس مت کر، مصیبت پر غم نہ کر اور کشادگی میں مسرور نہ ہو جانا، ہمیشہ سونے کو بھٹی میں ڈال کر اس کی اصلیت معلوم کی جاتی ہے یقینا نیک بندے کو مصیبت میں آزمایا جاتا ہے۔ اور جو کچھ تم حاصل کرنا چاہتے ہو وہ ترک خواہشات سے ہی حاصل ہو سکتا ہے اور اپنی امیدوں تک نا پسندیدہ چیزوں پر صبر کر کے ہی پہنچ سکتے ہو اس لئے جس چیز کو تمہارے لئے فرض کر دیا گیا ہے اس کی ادائیگی کے لئے اپنی انتہائی کوشش صرف کر دو۔جس طرح اللہ تعالی چاہیں اس پر خوش رہو۔

فقر و غنا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تقسیم میں لکھ دیا ہے اس پر راضی رہو تمام لوگوں سے زیادہ غنی بن جاؤ گے، اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے ان سے بچو تمام لوگوں سے بڑے متقی بن جاؤ گے جن باتوں کو اللہ تعالی نے تم پر فرض کر دیا ہے انہیں ادا کرتے رہو لوگوں میں سے بڑے عابد بن جاؤگے
امام محاسبی نے فرمایا:
تو اپنے اوپر رحیم ترین ذات (اللہ) کی شکایت ایسی ذات کے سامنے مت کر جوتجھ پررحم نہیں کرتا، اللہ تعالی سے مدد چاہتے رہو اس کے مقربین میں سے ہو جاؤ گے۔ حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اے پیارے بیٹے لوگوں کے پاس جو کچھ بھی ہے اس سے اپنے کو مایوس کر لو یہی غنی (مالداری) ہے، لالچ سے بچو، اور لوگوں کے سامنے اپنی ضروریات پیش کرنے سے پر ہیز کرو یہی فقر ہے
امام محاسبی نے فرمایا:
جب نماز پڑھو تو ایسی پڑھو جیسا کہ کوئی دنیا سے کوچ کرنے والا پڑھتا ہے

بے عملی کا وبال

امام محاسبی نے فرمایا: خوب سمجھ لو کہ تم اس وقت تک ایمان (وعبادت) کا لطف نہیں اٹھا سکتے جب تک کہ تم اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ رکھو
امام محاسبی نے فرمایا:
حق کہو اور اس پر عمل کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے نور بصیرت کو بڑھا دیں گے اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو حق بات کا حکم تو کرتے ہیں لیکن عمل سے دور رہتے ہیں بالاخر اس کا وبال ان پر پڑتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: یہ بڑے گناہ کی بات ہے کہ تم وہ کچھ کہو جس پر عمل نہ کر و نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جو دوسروں کو نصیحت کی بات کہے اور خود نصیحت پر عمل نہ کرے دوسروں کو (گناہوں سے ) رو کے خود نہ رکے۔ دوسروں کو ڈرائے خود نہ ڈرے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خسران کا موجب بنتا ہے۔ صرف عقل مند پر ہیز گار انسان سےاختلاط رکھو، اور صاحب بصیرت عالم کے ساتھ رہن سہن اختیار کرو۔
بہترین مجلس
آنحضرت ﷺ سے سوال ہوا: سب سے بہترین ہمنشین کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: جن کے دیکھنے سے تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہو جائے ہے
امام محاسبی نے فرمایا:
اس کا تکلم تمہارے علم اضافہ کرے گا، اور اس کا علم تمہیں آخرت کی یاد دلائے
امام محاسبی نے فرمایا:
حق بات کے سامنے عاجزی اختیار کرو اور اس کے لئے جھک جاؤ
امام محاسبی نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مداومت رکھو تمہیں اللہ تعالی کا قرب نصیب ہو گا
امام محاسبی نے فرمایا:
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: عاجز، منکسر المزاج، اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور بہت زیادہ یاد کرنے والے قیامت کے دن اللہ تعالٰی کے ہمنشین ہوں گے۔
نصیحت و خیر خواہی
امام محاسبی نے فرمایا:
اپنی خیر خواہی اللہ اس کے رسول اور عام مؤمنین کے لئے خاص کر لو، اپنے معاملات میں ان لوگوں سے مشاورت کرو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: یقینا اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے علماء ہی ڈرتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: دین خیر خواہی چاہنے کا نام ہے
امام محاسبی نے فرمایا:
جس نے تجھ سے مداہنت سے کام لیا اس نے تجھے دھوکہ دیا ہے جو تیری نصیحت قبول نہ کرے وہ تیرا بھائی نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اس قوم میں کوئی بھلائی نہیں جو خیر خواہی نہ چاہنے والے ہوں، اور ان لوگوں میں بھی کوئی خیر نہیں جو خیر خواہی چاہنے والوں کو دوست نہ رکھتے ہوں

خیر و شر کا تصور

امام محاسبی نے فرمایا:
ہر موڑ پر سچائی کو اختیار کر نجات پائے گا فضول یعنی لا یعنی کاموں سے پرہیز کر محفوظ رہے گا امام محاسبی نے فرمایا اس لئے کہ سچائی نیکی کے حصول اور نیکی اللہ تعالی کی رضا کے حصول کا ذریعہ ہے جھوٹ انسان کو گناہ تک اور گناہ اللہ کی ناراضگی تک پہنچاتا ہے
امام محاسبی نے فرمایا:
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لا یعنی قسم کی چیزوں کے بارے میں بحث مباحثہ نہ کرو بلکہ بہت سی کام کی باتوں کو بھی ترک کر دو بیوقوف سے اور نہ ہی سمجھدار سے مجادلہ کرو اپنے مسلمان بھائی کا تذکرہ اس طرح سے کرو جیسے تم چاہتے ہو کہ تمہارا ذکر کرے اعمال ایسے انسان کی طرح کرو کہ جس کو نیک بدلہ ملنے کا یقین ہو اور نامناسب جرم پر مواخذہ کا ایمان ہو اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے رہو امیدیں قلیل رکھو قبرستان میں اس نیت سے جایا کروتمہیں موت یاد آ جائے دنیا میں ایسے چلو پھر و جیسا کہ تم میدان حشر میں کھڑے ہو
امام محاسبی نے فرمایا
حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں عبادت اس طرح کرو کہ تم اللہ تعالی کو دیکھ رہے ہو اپنے آپ کومردوں میں سے سمجھو یقین رکھو کہ برائی کوکبھی نہیں بھلایا جاسکتا اور بھلائی کبھی فنا نہیں ہو سکتی جان لو کہ تمہارا وہ تھوڑا مال جو تمہیں مستغنی کردے اس زیادہ مال سے بہتر ہے کہ جو تمہیں اللہ تعالی کا سرکش بنا دیں
امام محاسبی نے فرمایا:
مظلوم کی بددعا سے بچو

زاد راہ

امام محاسبی نے فرمایا:
پھر اپنا سامان سفر تیار کرلو اور اپنے لئے آخرت کا زاد راہ مہیا کر لو اپنے آپ کی طرف سے خود ہی جانشین بن جاؤ دوسرے لوگوں کو اپنا جانشین وصی( یعنی وصیت کو نافذ کرنے والا )مت بناؤ اپنے معاملے کو سمجھو اور اپنی نیند سے بیدار ہو جاؤ تم سے اپنی عمر کے بارے میں سوال کیا جائے گا حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں اگر ابن آدم اپنے رب کے بارے میں ادراک کر لے تو اس کی محنت سے یہ بات بہتر ہے۔
جان لو جس نے اپنی فکر کو آخرت کی تیاری میں لگا دیا اللہ تعالی اس کے دنیا کے معاملات میں اس کو کافی ہو جاتے ہیں، جیسا کہ حدیث مبارک میں مروی ہے: جتنا تم سے ہو سکتا ہے دنیا کے افکار و ہموم سے اپنے آپ کو فارغ کرلو، کیونکہ جو دنیا کو اپنے افکار کا مرکز و مقصد بنالیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو اس پر ( کھول کر منتشر فرما) دیتے ہیں اور اس کا فقر اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے دکھائی دیتا ہے اور جس کا بڑا مقصد آخرت بن جائے اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو منضبط فرما دیتے ہیں، اور اس کے دل میں غنی و بے نیازی بھر دیتے ہیں، اور جو بندہ دل سے اپنی پروردگار کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ مؤمنین کے دلوں کو رحمت و محبت سے اس کا مطیع و فرمانبردار بنا دیتے ہیں ۔

دین میں نزاع

پیارے بھائی اللہ کے کلام قرآن پاک میں شکوک وشبہات سے بچوسے دین میں نزاع مت کرو اللہ تعالیٰ کی صفات کی حد بندی میں مت پڑویے ان لوگوں میں سے ہو جاؤ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان: آیت ۶۲)
امام محاسبی نے فرمایا:
ادب کو لازم پکڑ لو، خواہش اور غصہ ہے دور رہو، بیداری کے اسباب اختیار کر کے عمل کر و اپنی انتہائی نگرانی کا قصد رکھو، نرمی کو ساتھی بنا لو، خود داری اختیار کرو سلامتی کو اپنا ٹھکانہ، فرصت کو غنیمت، دنیا کو سواری ، اور آخرت کو اپنا گھر بنالو۔

راحت کا سامان

حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں جنت سے پہلے اللہ تعالی نے مؤمن کے لئے راحت کا سامان پیدا نہیں کیا ہے غفلت کے مواقع، دشمن کے داؤ، خواہشات کے حملوں شہوت کی شدت اور نفس کی جھوٹی امیدوں سے بچو۔
اس لئے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ”تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا نفس ہے جو کہ تمہارے پہلو میں بیٹھا ہے اور یہ تمہارا دشمن اس لئے ہے کہ تم اس کی اطاعت کرتے ہو۔
جس معاملہ میں تجھ پر حق بات مشتبہ ہو جائے تو اسے کتاب وسنت اور آداب صالحہ میں تلاش کرو، پھر بھی اگر اس کا معاملہ خفی رہتا ہے تو جس کو دین و عقل کے اعتبار سے پسند کرتے ہو اس کی رائے کو اختیار کر لو۔ یقین رکھو کہ نفوس میں حق کے قبول کا میلان، یہ حق کے حق ہونے کی گواہی اور شہادت ہے ۔ کیا آپ نے آنحضرت ﷺ کے اس قول کی طرف توجہ نہیں کی کہ آپ ﷺفرماتے ہیں
: اپنے نفس سے فتوی معلوم کر لو، اگر چہ فتوی دینے والے مفتی تمہیں فتوی دیتے رہیں ۔
امام محاسبی نے فرمایا:
اپنے اعضاء و جوارح کو علم کی پختگی کے ذریعہ پابند رکھو اپنے خیالات کی نگرانی اللہ تعالیٰ سے اپنے قرب کا خیال کر کے رکھو۔ اور اس کی بارگاہ میں اس طرح کھڑے رہو جس طرح کہ غلام مستامن ( امن چاہنے والا) اپنے آقا کے رو بروٹھہرتا ہے، تو تم اللہ تعالیٰ کو انتہائی شفیق و مہربان پاؤ گے ۔

قرب خدا کا ذریعہ

آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ہاں اتنا مرتبہ عطا فرماتے ہیں جتنی قدر وہ اللہ تعالی کو اپنے ہاں (دل میں) دیتا ہے اور اللہ تعالی کی قدرت و منزلت دل میں اس کی خشیت اس کی ذات کے علم، اور پہچان سے ہو سکتی ہے۔
جاننا چاہئے کہ جو اللہ تعالیٰ کوترجیح دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ترجیح دیتے ہیں اور جو ان کی اطاعت کرتا ہے اس سے محبت فرماتے ہیں۔ اور جو ان کی رضاء کی خاطر کسی چیز کو ترک کرتا ہے اسے عذاب سے محفوظ فرما لیتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ”مشکوک کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو کیونکہ جس چیز کو تم نے اللہ تعالی کے لئے چھوڑ دیا اس سے محروم نہیں رہو گے۔

بدگمانی سے پرہیز

امام محاسبی نے فرمایا:
بد گمانی سے دل کو محفوظ رکھو ( دوسرے کے فعل میں ) اچھی تاویل کر کے۔ حسد سے اپنے آپ کو پاک کر وقلت امید سے۔ تکبر سے چھٹکارا حاصل کرو اللہ تعالیٰ کے غلبہ وقوت کا خیال کر کے لیے ہر ایسے کام سے اجتناب کرو جس میں تمہیں معذرت کرنی پڑے ہے ہر ایسی حالت سے دور رہو جو تمہیں تکلیف میں مبتلا کر دے، اپنے دین کی حفاظت (اللہ ورسول کی ) پیروی کر کے کرو، اپنی امانت کی حفاظت طلب علم سے کرو،عقل کی رعایت صبر و بردباری والے لوگوں کے اخلاق اپنا کر کرو، ہر وقت میں صبر سے کام لو اللہ کا ذکر تنہائی میں کرنا اپنے او پرلازم کر لو اللہ کی نعمتوں پر شکر کر و۔
امام محاسبی نے فرمایا:
ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد چاہو، ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرو، جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ (پیش آنے )کا ارادہ کیا ہے اس میں اعتراض مت کرو، ہر وہ کام جس کے بارے میں تم چاہتے ہو کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پاس جاؤ اس کو اپنے اوپر لازم کرلو، ہر وہ فعل و عادت جسے تم دوسروں سے نا پسند کرو اس کو اپنے اخلاق سے نکال دو، ہر وہ ساتھی جسے تمہاری خیر میں کسی دن اضافہ نہ ہو اس کی معیت ترک کرده، خود در گز ر کو اپنا شعار بنالو۔
امام محاسبی نے فرمایا:
جاننا چاہئے کہ مؤمن کے صدق کو ہر حال میں آزمایا جاتا ہے، مصیبت میں اس کی ذات ( کی آزمائش ) مطلوب رہتی ہے، (مومن خود) اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نگران ہے، حق کی حجت (و دلیل ) پر قائم رہو مخلوق کی محبت تمہاری طرف آئے گی ۔

سچی طلب

امام محاسبی نے فرمایا:
(علم کی) سچی طلب پیدا کر و بصیرتوں سے بھر پور علم حاصل ہوگا، معارف کے چشمے پھوٹیں گے، تم خود اس علم کو امتیاز کے ساتھ پہچان لو گے جو تمہیں خالص توفیق خداوندی سے حاصل ہوگا، تقدم ( اور فضیلت) اس کے لئے ہے جس نے (علم پر ) عمل کیا، اور خشیت( الہی) صاحب علم کو حاصل ہوتی ہے اور توکل (اللہ پر) بھروسہ کرنے والے کو، اور (اللہ تعالیٰ کا) خوف یقین رکھنے والے کو، (اور نعمت میں) اضافہ شکر کرنے والے کو۔
جان لو! انسان کو فہم، اس کی عقل کی سلامتی، اور موجودہ علم کے بقدر حاصل ہوتی ہے ۔ سو اس کی پر ہیز گاری اور اطاعت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل (وافر) کی نعمت سے نوازا، اور ایمان کے بعد علم کے حصول سے اس کو پروان چڑھایا، اور یقین کی آنکھ سے دیکھا، اپنے عیوب و کمزوریوں پر نظر کی ، تو ایسے شخص کے واسطے نیکی کے اعمال مرتب (و میسر ) کر دیئے گئے لہذا تقویٰ کے ذریعہ سے نیکی کے طلب گار بنو، اور اہل خشیت ( علماء عاملین ) سے علم حاصل کرو۔
امام محاسبی نے فرمایا:
صدق کے تلاش و تفکر کے مواقع میں (غور و فکر کر کے ) یقین کامل حاصل کرو، ارشاد ربانی ہے: وَكَذَٰلِكَ نُرِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ ‌مَلَكُوتَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلِيَكُونَ مِنَ ٱلۡمُوقِنِينَاور اس طرح ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین اور آسمان کی بادشاہت دکھاتے ہیں تا کہ وہ عین الیقین والوں میں سے ہوجائے ۔
رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ”یقین حاصل کرو، میں بھی اس کے حصول میں ہوں۔

مکار عقل

امام محاسبی نے فرمایا:
جان لو! جس عقل کو تین چیزیں حاصل نہ ہوں وہ مکار عقل ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو نافرمانی علم کو جہالت، اور دین کو دنیا پر ترجیح، اور جس علم میں تین باتیں نہ ہوں وہ ( عالم کے خلاف) حجت ( ودلیل) بنے گا، شوق کو ختم کر کے (تکلیف پہنچانے سے) رک جانا، خشیت الہی کے ساتھ عمل، فائدہ پہنچانے کی غرض و مہربانی سے انصاف سے کام لینا۔ جان رکھو! عقل سے بڑھ کر مزین ہونے کے لئے کوئی زینت کی چیز نہیں علم سے زیادہ کسی نے خوبصورت لباس نہیں پہنا کیونکہ اللہ تعالی کی پہچان صرف عقل سے اور اس کی اطاعت صرف علم سے ہو سکتی ہے

وراثت علم

امام محاسبی نے فرمایا:
جان لو! اہل معرفت (صوفیاء) نے احوال کے اصول کی بنیاد علم الہی کے دلائل ( کی روشنی )میں رکھی ہے۔ البتہ جزئیات میں تفقہ (اجتہاد) سے کام لیا ہے کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کے فرمان کی طرف توجہ نہیں کی جس نے اپنے علم پر عمل کیا، اللہ تعالیٰ اس کو انجانا علم عطاء فرماتے ہیں۔ اس کی علامت اللہ تعالیٰ کے خوف سے علم کے فہم میں اضافہ، اور پیروی (شریعت) سے علم کی زیادتی ہے۔ جیسے جیسے علم بڑھتا خشیت الہی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور جوں جوں عمل میں نمو ہوتا ہے تواضع بڑھتی ہے۔
اصل جو صوفیاء کے طریق میں ثابت ہے وہ امر بالمعروف کا التزام، اور نہی عن المنکر صدق و اخلاق کے ساتھ یہ نفسانی چاہتوں سے علم پر عمل کو مقدم کرنا۔ اور تمام مخلوق سے بے نیاز ہو کر اللہ تعالیٰ سے نیاز مندی۔

سالکین کیلئے اصول

امام محاسبی نے فرمایا:
ان لوگوں کے آثار ( واقعات) کو دیکھو جن کے علم نے خشیت الہی ، عمل نے بصیرت اور عقل نے معرفت میں اضافہ کر دیا تھا لیکن اگر ادب کی کمی تمہیں ان کی راہ چلنے سے مانع ہو تو اپنے نفس (وذات) کو ملامت کرو (حقیقت یہ ہے کہ) اہل علم پر اخلاص والوں کی کیفیت چھپی نہیں رہ سکتی جان رکھو! ہر فکر میں ادب اور ہر اشارہ میں علم ( نہاں) ہوتا ہے۔ اس کا امتیاز وہی کر سکتا ہے کہ جو اللہ عزوجل کی مراد کو سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے ( بندوں کو خطاب) کے فوائدچن سکے۔ اس میں سچے انسان کی علامت یہ ہے کہ جب دیکھتا ہے نصیحت حاصل کرتا ہے، اور جب خاموش رہے فکر رکھتا ہے، جب بات کرے نصیحت کرے، جب روک دیا جائے صبر کرے، جب دیا جائے شکر بجالائے، جب مبتلائے آزمائش ہو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھے، جب جہالت سے منسوب کیا جائے تو بردباری سے کام لے، جب علم سے متصف ہو تو . تواضع کرے، جب سکھلائے تو نرمی کرے، اور جب مانگا جائے تو خرچ کرے۔ جو نیکی کا ارادہ کرنے والوں کے لئے شفاء، راہنمائی چاہنے والوں کا مددگار، سچوں کا سچا دوست، خشیت الہی رکھنے والوں کی جائے امن، نیک، اپنی ذات کے حق میں اللہ تعالی کی رضاء کا قرب چاہنے والا، اللہ تعالیٰ کے حق ( کی ادائیگی میں ) بلند ہمت ہو، اس کی نیت عمل سے بڑھ کر اچھی، اور فعل قول سے زیادہ پیغام رساں، حق اس کا ٹھکانہ، حیاء اس کی پناہ گاہ، اس کا علم (ورع) عمل میں اور اس کا شاہد تقوی ہو اس کی آنکھیں نور ( حق ) کی ہوں جن سے وہ دیکھ سکے، اور علم حقائق سے متصف جن سے وہ بول سکے، اور ایسے یقینی دلائل جنہیں وہ لوگوں کے سامنے بیان کر سکے ۔

مجاہدہ نفس

امام محاسبی نے فرمایا:
یہ صفات وہی حاصل کر سکتا ہے جو اپنے نفس کو اللہ تعالی کی (رضاء) کے لئے تھکائے ، اس کی اطاعت پر استقامت دکھائے ، اس کی نیت خالص ہو خلوت و جلوت میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھے، امیدیں قلیل رکھے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لے، عذاب کی پناہ گاہ یعنی آنسوؤں کے سمندر میں اتر جائے۔ پھر اس کے اوقات قیمتی، احوال محفوظ ہوں گے، دنیا کی رنگینیاں اس کو نہیں ہہکا سکیں گے، اور نہ باد صبا کے سراب ک چمک اس کو یوم آخرت کے پر ہیبت احوال سےغافل کر سکے گی، وہ غفلت کی نیند کے بعد بھی بیداری کے مقام سے ہمکنار ہوگا۔
جان لو عاقل کا علم جب صحیح ہو، اس کا یقین پکا ہو، تو وہ خوب جانتا ہے کہ سچائی کے علاوہ کوئی چیز اس کو اپنے رب سے نجات نہیں دلا سکتی، چنانچہ اس کی طلب میں کوشش کرتا ہے اور اہل صدق کے اخلاق کے حصول میں سرگرداں رہتا ہے اس شوق میں کہ اس کی موت سے پہلے (لوگوں میں) اس کی حیات میں اچھی شہرت ( کا چرچا) ہو تا کہ بعد از حیات (وفات) دار الخلود (آخرت) کی تیاری کر سکے، چنانچہ وہ اپنی جان اور مال کو اللہ تعالی پر بیچ دیتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے رب کا فرمان سن رکھا ہے: إِنَّ ٱللَّهَ ٱشۡتَرَىٰ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ أَنفُسَهُمۡ وَأَمۡوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلۡجَنَّةَ اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے)

خاصان خدا

ایسا انسان جہالت کے بعد علم سے سرفراز ہوا، احتیاج کے بعد استغناء سے متصف ہوا، اس کو بُعد کے بعد قرب حاصل ہوا تھکن کے بعد راحت ملی، اس کا معاملہ جم گیا، مقصد ملا، تقویٰ اس کا لباس، اور مراقبہ اس کی حالت ہے (کیا) نبی کریم ﷺ کے ارشاد پر غور نہیں کیا آپ نے فرمایااللہ تعالیٰ کی عبادت ایسی کرو جیسے تم اس کو دیکھ رہے ہونہیں تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔
جاہل اس کو خاموش ، کلام کرنے سے عاجز سمجھتا ہے لیکن اس کی حکمت نے اس کو خاموش کر رکھا ہے ( اگر وہ بولیں ) تو احمق ان کو بے ہودہ سمجھے، جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر خواہی ( کے حکم) نے ان کو بولنے پر مجبور کیا ہے اور ان کو مالدار خیال کرتا ہے، حالانکہ سوال سے دوری نے ان کو غنی کر دیا، ان کو محتاج خیال کرتا ہے، جب کہ عاجزی نے ان کو ادنی بنا دیا ہے، وہ لایعنی کاموں سے تعرض نہیں کرتے ، کفایت سے بڑھ کر تکلف نہیں کرتے ، غیر ضروری چیز کو نہیں لیتے لیکن جس کی حفاظت ان کے سپرد ہے اس کو نہیں چھوڑتے ، لوگ ان سے راحت میں ہوتے ہیں، اور وہ اپنے آپ کو تھکاتے ہیں (مجاہدہ) و پر ہیز گاری سے ان کی حرص ختم ہو چکی، تقویٰ نے ان کے ذائقہ کو مار ڈالا۔ اور نور علم سے ان کی خواہشات ( کی آگ )بجھ چکی ہے۔
امام محاسبی نے فرمایا: ایسے بن جاؤ، اور ایسوں کے ساتھ رہو ایسوں کے نشانات قدم کی پیروی کرو، ان کے اخلاق سے متصف ہو جاؤ، یہ لوگ محفوظ خزانہ ہیں ، ان کو بیچ ( چھوڑ کر) دنیا لینے والا نقصان میں رہتا ہے ۔

اللہ کی جماعت

امام محاسبی نے فرمایا:
یہ لوگ مصیبت کے لئے تیاری ( کا سبب ) ہیں، دوستوں سے بچنے والے ہیں، اگر تجھے ان کی احتیاج ہوگی تو تجھے (مالا مال کر کے ) بے نیاز کر دیں گے، اور اگر (خلوت میں) اپنے رب کو پکاریں گے تو تجھے نہ بھولیں گئے أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ یہ لوگ اللہ کا لشکر ہیں اور یقینا اللہ تعالیٰ کا لشکر ہی کامیاب ہے۔“ (سورۃ المجادلۃ آیت22) خوب سمجھ لو! اللہ تعالیٰ تمہارے اور میرے دل کو فہم کی وسعت دے، اور میرے و تمہارے سینوں کو علم ( کی روشنی سے ) جگمگا دے، اور ہمارے خیالات کو یقین کی وجہ سے مجتمع کر دے) میں اس نتیجہ تک پہنچا ہوں کہ دل کی ہر بیماری (یقیناً) فضول ولا یعنی کاموں سے پیدا ہوتی ہے یے اور ان( فضول کاموں ) کی جڑ دنیا میں ناواقفی کی بنیاد پر گھسنا ہے نجات یہ ہے کہ ہر مجہول کو پر ہیز گاری کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے اور ہر اس کام کو جو یقینی طور پر (خیر ) معلوم ہو اس کو اختیار کرنا چاہئے۔
امام محاسبی نے فرمایا:
میں سمجھتا ہوں کہ دل کا بگاڑ (پورے) دین کا بگاڑ ہے کیا آپ نے آنحضرت ﷺ کے اس قول کی طرف توجہ نہیں فرمائی انسانی جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ اگر وہ بن جائے تو تمام جسم کی اصلاح ہو جائے اور جب اس میں بگاڑ آ جائے تو سارے جسم میں بگاڑ آ جائے۔ سن لو! وہ دل ہے ۔ اس حدیث میں جسم سے مراد دین ہے ۔ دل کا اصل بگاڑ یہ ہے کہ انسان اپنا محاسبہ کرنا چھوڑ دے، اور لمبی امید باندھ کر دھوکہ میں مبتلا رہے۔ اور اگر تم دل کی اصلاح چاہتے ہو تو اپنے ارادوں اور خیالات کی اطلاع رکھو، جو ارادے اور خیالات اللہ تعالیٰ کے (دین کے) موافق ہوں انہیں لے لو، اور جو ایسے نہ ہوں انہیں چھوڑ دو ۔ موت کو یاد کر کے اپنی امیدیں کم کر لو ۔

فضول امور

امام محاسبی نے فرمایا:
فضول کام جن کا داعیہ قلب سے اٹھتا ہے، اعضاء، کان، آنکھ، زبان، اور غذا، لباس، رہائش پر ان کا ظہور ہوتا ہے۔ میں اصل میں فضول اس (دل) کو ہی سمجھتا ہوں، کانوں کی فضولیات سے سہو وغفلت پیدا ہوتی ہے۔ آنکھوں کے لایعنی کاموں سے غفلت و حیرانی جنم لیتی ہے۔ زبان کی بے ہودگی سے زیادتی کا شوقین اور نئی چیزوں کے حصول کا شوق پرورش پاتا ہے۔ غذا کی زیادتی تیزی اور (برے کاموں) سے رغبت کا سبب بنتی ہے لباس میں حد سے تجاوز تکبر و خویش نمائی کا باعث بنتا ہے، اور رہائش میں بے جا اسراف، فضول خرچی اور تفاخر کا پیش خیمہ ہے۔
امام محاسبی نے فرمایا:
جان رکھو! اعضاء و جوارح کی ( گناہوں سے ) حفاظت فرض ہے۔ فضولیات کو چھوڑنا باعث فضیلت ہے، اور ان (سب) سے پہلے تو بہ کرنا ایک فریضہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے فرض قرار دیا ہے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ ‌نَّصُوحًا (سورة تحريم :8) ترجمہ: اے ایمان والو! تو بہ کرو اللہ کی طرف صاف دل کی توبہ
نصوح” کے معنی ہیں کہ انسان نے جس کام سے توبہ کر لی ہو اس کو دوبارہ نہ کرے لیے آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: اے لوگو مرنے سے پہلے (پہلے) اپنے رب تعالیٰ کے سامنے توبہ کر لو اور نیک اعمال سے اپنے رب کا قرب تلاش کرو اپنے مشغول (و مصروف) ہونے سے پہلے ۔
امام محاسبی نے فرمایا:
تو بہ چار باتوں سے صحیح ہوتی ہے۔
اس کام کے دوبارہ کرنے پر دل کے اصرار کو روکنا۔
ندامت سے توبہ واستغفار کرنا۔
(کسی کے نقصان کی وجہ سے لازم ہونے والے ) تاوان اور ظلماً دبائے ہوئےحقوق و مظالم کو لوٹا دینا

حواس سبعہ

حواس سبعہ یعنی کان، آنکھ، زبان، ناک، ہاتھ پاؤں، اور دل کی حفاظت کرنا
( کہ گناہوں سے آلودہ نہ ہوں خصوصاً دل ) کہ اسی سے پورے جسم کا فساد و تعمیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر عضو سے متعلق امر و نہی کے فریضے متعلق رکھے ہیں۔ اور ان دونوں (امر و نہی) کے درمیان کچھ گنجائش (اباحت ) رکھی ہے جسے ترک کرنا بندے کے لئے فضیلت ہے۔ تو (ایمان و تو بہ کے بعد ) دل کا فریضہ (و حکم ) کسی بھی عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کرنا، اور جب کوئی مشتبہ امر پیش آجائے( تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ) حسن ظن رکھنا اس کے وعدے پر بھروسہ، اس کے عذاب سے خوف ، اور اس کے فضل کی امید رکھنا
امام محاسبی نے فرمایا:
دل کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض مؤمن ایسے ہی ہیں کہ جن کے لئے میرا دل نرم ہو جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: بے شک حق آتا ہے نور لے کر تم پر لازم ہے دل کی پوشیدہ (باتوں) کی حفاظت۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشاد ہے: دلوں میں خواہش اور (آگے بڑھنے ) کی امنگ ہوتی ہے اور بعض اوقات انقطاع اور پیچھے ہٹنے (کے جذبات )ہوتے ہیں تو خواہش و آگے بڑھنے کے وقت کو غنیمت سمجھو اور انقطاع اور تاخر کے وقت کو چھوڑ دو ( عمل نہ کرو)
حضرت عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: دل کی مثال آئینے کی سی ہے، زیادہ وقت کے لئے ہاتھ میں رہ جائے تو زنگ آلود ہو جائے اور چوپائے کی طرح ہے کہ جب اس کا مالک غافل ہو جائے تو ضعف دکھائے۔

چھ دروازے

امام محاسبی نے فرمایا:
بعض علماء کا قول ہے کہ دل کی مثال اس گھر کی سی ہے جس کے چھ دروازے ہوں پھر اس( کی حفاظت) کے لئے آپ سے کہا جائے: خیال رکھنا کہ ان دروازوں میں سے کسی دروازے سے کوئی داخل نہ ہو جائے جس کی وجہ سے گھر سارا خراب ہو جائے تو دل ہی گھر ہے، اور اس کے دروازے، زبان، آنکھ، کان، ناک، دونوں ہاتھ ، دونوں پاؤں ہیں، جب بھی ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ لاعلمی میں کھلا رہ گیا تو گھر خراب ہو جائے گا۔
زبان کا کام غصہ اور خوشی میں سچائی اختیار کرنا، ظاہر و باطن میں دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے باز رہنا، اچھائی اور برائی میں لوگوں کے سامنے لیپا پوتی سے بچنا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو مجھے جبٹروں اور رانوں کے درمیان موجود چیزوں (زبان و شرم گاہ) کی (حفاظت) کی ضمانت دے دے میں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔آنحضرت ﷺ کا حضرت معاذ بن جبل سے فرمان ہے: “لوگ صرف اپنی زبان کی کٹی ہوئی کھیتیوں کی وجہ سے جہنم میں سروں کے بل گر رہے ہیں ۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں فضول گوئی سے ڈراتا ہوں بس تم کو اتنا کلام کافی ہے جو ضرورت کو پورا کر دے، کیونکہ (قیامت کے روز ) انسان سے جس طرح فضول مال سے متعلق سوال ہو گا اس طرح فضول کلام کے متعلق بھی پوچھا جائے گا ۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بولنے والے کی زبان کے (بالکل) قریب ہیں۔ لہذا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرا کہ جس نے اپنی کہی ہوئی بات کو جان لیا ( کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ) ۔
نظر کے لئے ضروری ہے کہ غیر محرم عورتوں کے سامنے جھک جائے اور جن چیزوں کے چھپانے و پردہ میں رکھنے کا حکم ہے ان کو جھانکنے سے پرہیز کیا جائے
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جس نے خوف الہی کی وجہ سے (غیر محرم کو) دیکھنے سے پر ہیز کیا اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان عطاء فرمائیں گے جس کی حلاوت (ولذت ) وہ اپنے دل میں محسوس کرے گا۔
اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: جس نے غیر محرم کو دیکھنے کے بجائے نظر نیچی کر لی اللہ تعالیٰ اس کو اس کی پسندیدہ حورعین ” سے بیاہ دیں گے اور جو کسی کے گھر میں جھانکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں کے۔
حضرت داؤد طلائی نے ایک آدمی سے کہا (جب وہ کسی کو میری نظر سے دیکھ رہا تھا ): ارے اپنی نظریں پھیر لو۔ مجھے ہر بات پہنچی ہے کہ انسان سے اس کی فضول نظر کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا جس طرح کہ اس سے اس کے فضول عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہیں پہلی نظر کا اختیار (یعنی معافی) ہے لیکن دوسری نظر کی معافی نہیں ہے ۔ یعنی جو نظر اچانک پڑجائے وہ نظر بندے کو معاف ہے لیکن جس نظر میں جان بوجھ کر تسلسل ہو تو بندے سے اس کا مواخذہ کیا جائے گا ۔
کانوں کا معاملہ کلام و نظر کے تابع ہے، لہذا جس چیز کا آپ کے لئے بولنا اور دیکھنا جائز نہیں اس کا سننا اور لذت حاصل کرنا بھی جائز نہیں جس بات کو آپ سے پوشیدہ رکھا گیا ہے اس کے در پے ہونا تجسس ہے۔ کھیل ( تماشے ) گانا سننا، اور مسلمانوں کو ایذاء والی باتیں سننا ایسے ہی حرام ہے جس طرح مردار اور خون حرام ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: ہمیں غیبت کرنے اور سننے سے چغلی کھانے اور سننے سے منع کیا گیا ہے۔
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ تعالی سے گانا (سننے ) کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: جس وقت اللہ تعالی روز قیامت حق کو باطل سے جدا کریں گے تو گانے کا انجام کیا ہوگا ؟ جواب ملاء باطل کے پلڑے میں ، تو آپ نے کہا: اب اپنے آپ سے پوچھ لو۔
امام محاسبی نے فرمایا:
انسان کے لئے زبان کے بعد سب سے زیادہ ضرر رساں عنصر کان ہیں، کیونکہ یہ دل کے سب سے تیز قاصد، اور فتنے میں مبتلا ہونے کے اعتبار سے سب سے قریب ہیں۔
حضرت وکیع بن الجراح کا قول منقول ہے۔ میں نے ایک بدعتی سے بیس سال پہلے ایک بات سنی تھی ابھی تک اس کو اپنے کانوں سے نہیں نکال سکا۔
اور امام طاؤس کے پاس جب کوئی بدعتی آتا تو اپنے کان بند کر لیتے کہ اس کی بات نہ سن سکیں ۔
امام محاسبی نے فرمایا:
ناک آنکھ اور کان کے تابع ہے ہر وہ چیز جس کا سننا اور دیکھنا آپ کے لئے جائز ہے اس کا سونگھنا بھی جائز ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ ان کے پاس مشک لائی گئی تو آپ نے ناک پر ہاتھ رکھ لیا ، آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ اس کی تو صرف خوشبو سے ہی انتفاع ہو سکتا ہے۔
ہاتھ اور پاؤں کا فریضہ یہ ہے کہ ممنوع چیز کی طرف نہ بڑھیں ، حق سے نہ رکیں۔
حضرت مسروق فرماتے ہیں: کوئی بندہ قدم نہیں اٹھا تا کہ اس کی نیکی یا گناہ لکھا جاتا ہے۔
سلیمان بن عبدالملک کی بیٹی نے عبدة بنت خالد بن معدان کو لکھا! کبھی ہمارے پاس آئیے۔ عبدۃ نے جواب میں لکھا: اما بعد! میرے والد رحمہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نا پسند کرتے تھے کہ ایسے راستہ میں چلیں کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی (حفاظت) ضمانت نہ ہو، یا ایسا کھانا کھائیں کہ جب قیامت میں اس کے متعلق پوچھا جائے تو کوئی جواب نہ ہو، اور میں بھی اس بات کو نا پسند کرتی ہوں جس کو میرے والد نا پسند کرتے تھے۔والسلام علیک ۔
عمل کا طریقہ کار
اگر کوئی کہے کہ اس طرح عمل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ آئمہ متقین کے راستہ کو لازم پکڑا جائے ، اور راہ ہدایت پانے والوں کے آداب کو دیکھا جائے کہ قدم اٹھانے کی پہچان ہو اور احتساب نفس بیداری و چستی سے کیا جائے اور انصاف کے ساتھ اصل و تکلیف دو چیزوں سے پر ہیز کے ساتھ اپنے آپ کو اراستہ کیا جائے۔ اور زائد (از حاجت) چیزوں کو خرچ کرنا بغیر احسان جتلانے کے، اہل خیر کی سمت کو مقصود بنا لینا بغیر کسی حسد کے تھوڑے پر صبر کر لینا گمنامی کو چاہتے ہوئے ۔ اور زبان و کان کو محفوظ رکھنے کے لئے مکمل خاموشی اختیار کرنا مخلوق خدا سے وحشت کے بغیر تواضع سے پیش آنا۔ تنہائی میں ذکر سے دل لگانا، قلب کو خدمت کے لئے خالی کر دینا، مراقبہ کے ذریعہ اپنے خیالات کو مجتمع کر لینا استقامت کے ساتھ نجات کو طلب کرنا۔ اللہ عزوجل فرماتے ہیں: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ (الاحقاف :13) ‘ جنہوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے تو نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔”
سفیان بن عبد اللہ ثقفی فرماتے ہیں: یا رسول اللہ مجھے ایسی نصیحت فرمائیے کہ جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پہلے یوں کہو میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا پھر اس پر ثابت قدم رہو۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ثابت قدم رہو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ، لومڑی کی طرح دائیں ہائیں مت جاؤ۔
ابو العالیہ رہاحی کہتے ہیں: ثابت قدم رہو یعنی دین، اس کی دعوت ، اور اس پر عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کر لو، اصل ثابت قدمی تین چیزوں میں ہے،

کتاب وسنت کی اتباع اور جماعت کو لازم پکڑنے میں نجات کا راستہ

امام محاسبی نے فرمایا:
خوب جان لو بندے کے لئے سب سے بڑھ کر نجات کا راستہ علم پر عمل، خوف (الہی) سے ( گناہوں سے بچنا، اور اللہ تعالی ( پر امید) کر کے بے نیاز ہو جانا ہے۔ لہذا اپنے حال کی اصلاح میں مشغول رہو، اپنے رب کی طرف احتیاج رکھو، اور شبہات سے بچو
امام محاسبی نے فرمایا:
لوگوں کے سامنے اپنی ضروریات کم پیش کرو ۔ ان کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے کر رہے ہو، ان کے لئے اس چیز کو نا پسند کرو جو اپنے لئے نا پسند کرتے ہو، کسی گناہ کو چھوٹا نہ سمجھو کسی راز کو نہ کھولو، کسی کی پردہ دری نہ کرو، اپنے دل میں گناہ کی باتیں مت لاؤ، گناہ صغیرہ پر اصرار نہ کرو، ہر ضرورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، ہر حالت میں اس کی احتیاج رکھو، ہر معاملے میں اس پر بھروسہ کرو۔ خواہشات سے دور رہو، اپنے آپ کو انتظار میں نہ رکھو ( کہ نیکی کریں گے یعنی فورا ًنیک کام میں لگ جاؤ) اپنے ذکر کو گمنام رکھو، ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہو، استغفار کثرت سے کرو، اپنی سوچ کو جانچتے رہو، فتنوں میں گرنے سے پہلے ہی علم سے اس کی تیاری کر لو۔
جلد بازی کے مواقع میں تمہارے لئے اچھی طرح غور و فکر کرنا ضروری ہے، اور باہمی اختلاط میں حسن ادب کا پہلو لینا ۔ لوگوں پر اپنی ذات کی وجہ سے غضب ناک نہ ہونا، ہاں اللہ تعالیٰ کے حقوق میں اپنے آپ کو کو سنا چاہئے۔ کسی کو برے طریقے سے بدلہ نہ دو۔ جاہل سے اپنی تعریف کرانے سے پر ہیز کرو اور نہ ہی کسی اور سے اپنی ذات کی تعریف چاہو، ہنسی کم کرو، مزاح سے بچو ۔
امام محاسبی نے فرمایا:
اپنی تکالیف کو چھپاؤ، اپنے فقر کو ظاہر نہ کرو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد کو پوشیدہ رکھو ، فقر سے بچو، تکلیف پر صبر کرو، جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں لکھ دیا ہے اس پر راضی رہو، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین رکھو۔ اس کی وعید سے ڈرو، جس کام کا تمہیں مکلف نہیں بنایا گیا اس کی فکر میں نہ پڑو، اور جسے حاصل کرنے کی تمہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے اسے ضائع نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی عطاء میں اسی کی احتیاج رکھو، اس سے نجات کے امیدوار رہو ظلم کرنے والے کو معاف کر دو۔ محروم رکھنے والے کو دو تعلق توڑنے والے سے اللہ کی رضا کے لئے جوڑو جو تم سے اس کی رضا کے لئے محبت کرتا ہے اس کو ترجیح دو۔ اپنی جان و مال کو اپنے بھائیوں کے واسطے خرچ کرو۔
اپنے اللہ کے دینی حقوق کی رعایت رکھو تمہاری نظروں میں بڑی سے بڑی نیکی جسے تم کرو بڑی نہ ہونی چاہئے ، اور چھوٹے سے چھوٹا گناہ جسے تم کرکے حقیر نہ جانو۔ دل میں آنے والے خیالات کو سمجھو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مختلف سزائیں مقرر ہیں اپنے علم سے تکلف مزین ہونے سے اسی طرح بچو جس طرح کہ تم اپنے عمل پر اترانے سے بچتے ہو، تم ایسے روحانی امر کا اعتقاد مت رکھو ظاہری علم جس کے مناقض و مخالف ہو۔
لوگوں کی نافرمانی کر کے بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اور حق تعالیٰ کی ناراضگی میں لوگوں کی اطاعت مت کرو، اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی کسی قسم کی محنت و کوشش بچا کر نہ رکھو۔ اپنے نفس کے کسی بھی عمل پر جو اللہ تعالیٰ کے لئے ہو، راضی مت ہو جاؤ ( کہ اسی پر قناعت کرلو) نماز میں ان کے سامنے منجملہ ( جسم وجان ) سے کھڑے رہو ۔
امام محاسبی نے فرمایا:
اللہ تعالی نے جوز کاۃ فرض کی ہے اسےخوشی اور شوق سے ادا کر و۔ اپنے روزو کو جھوٹ اورغیبت سے محفوظ رکھو پڑوسی، غریب اور عزیز کے حق کا خیال رکھو۔
اپنے گھر والوں کو ادب سکھلاؤ، اپنے مملوک غلاموں سے نرمی سے پیش آؤ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق انصاف قائم رکھنے والے بنو۔ جب تم کسی امر خیر کو انجام دینے لگو تو جلدی کرو، جو کام مشتبہ ہو جائے اس کو چھوڑ دو یہ گناہگاروں سے رحمت والا معاملہ رکھو، ایمان والوں کی خیر خواہی کا پہلو ہاتھ سے نہ جانے دو، جہاں کہیں بھی رہو حق بات کہو، سچا ہونے کے باوجود قسمیں زیادہ نہ کھاؤ
امام محاسبی نے فرمایا:
حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑے سے بچو۔ اگر چہ تمہیں وصف بلاغت حاصل ہو تب بھی بات میں توسع سے بچو، دین میں تکلف سے دور رہو اگر چہ تمہیں اس کا علم بھی ہو، ہر بات کہنے سے پہلے اس کا علم حاصل کر لو کوشش کے ساتھ خوف کو لازم کر لو ( کہ ممکن ہے عمل قبول نہ ہو ) لوگوں کے ساتھ اس طرح کا معاملہ رکھو کہ جس سے تمہارا دین محفوظ رہے۔ اور مداہنت سے بالکل بچو لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ، اور جس بات کا تمہیں علم نہیں اس میں اللہ اعلم (اللہ ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ) کہنے میں شرم محسوس نہ کرو اپنی بات ایسے انسان کے سامنے مت کرو جس کو اس سے سروکار نہیں، اپنے دین کو اس آدمی کے سامنے مت رسوا کرو جو اس کو تمہارے لئے نا پسند سمجھتا ہو، ایسی مصیبت سرنہ لو جس کی تمہارے اندر طاقت نہیں، اپنی ذات کو ایسے شخص کے سامنے معزز رکھو جو اس کو رسوا کرنا چاہتا ہو، گھٹیا اخلاق سے اپنے آپ کو بچا کر رکھو، اور صرف امانت دار سے ہی بھائی چارہ رکھو۔ لوگوں کے سامنے اپنے راز کی باتوں کو ظاہر نہ کرو، کسی انسان کے سامنے اس کی حالت سے تجاوز نہ کرو، اور اس کو ایسے علمی انداز سے مخاطب نہ کرو جس کی اس کی عقل میں طاقت نہ ہو۔ ایسے معاملے میں مت کو د جاؤ جس کی طرف تمہیں دعوت نہیں دی گئی، علماء کی مجالس کی تعظیم کرو، اور دانش مندوں کی قدر پہچا نو احسان کا بدلہ دینا ( کسی صورت میں ) نہ چھوڑ د اگر تمہیں استطاعت نہ ہو تو دعاء کے ذریعہ سے دو۔ جاہلوں سے اعراض کرو، بے وقوفوں سے بردباری سے پیش آؤ، ان لوگوں کے کاموں میں شریک رہو جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اپنے مظلوم بھائی کی مدد کرو، اور ظالم کو حق کی طرف پھیر دو، اس کا حق اس کو دے دو، اپنے حق کا اس سے مطالبہ نہ کرو، قرض دار پر نرمی کرو، بیواؤں اور یتیموں سے نرمی کا معاملہ کرد، محتاجوں میں سے صبر کرنے والوں کا اکرام کرو، اور مالداروں میں سے مصیبت زدوں پر رحم کرو، کسی کی نعمت پر حسد نہ کرو، اور کسی کو غیبت سے یاد نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوال کے ڈر سے اپنے لئے کسی پر سوظن ( بدگمانی) کا دروازہ بند کر لواور لوگوں کے کاموں میں اچھی جہت تلاش کر کے حسن ظن کے باب کو اپنے لئے کشادہ کر لو، ناامیدی سے لالچ کے دروازے کو مقفل کر دو، اور تھوڑی پر صبر کر کے بے نیازی کے دروازے کو کھول دو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو نا پسندیدہ چیزوں کی نسبت سے پاک کر دو اپنے اوقات کو کام میں لاؤ اور اس کام کی خبررکھو جس کے لئے تمہارے دن اور رات گزر رہے ہیں
امام محاسبی نے فرمایا:
ہروقت تو بہ کی تجدید کرتے ہو، اپنی عمر کو تین حصوں میں تقسیم کر لو، ایک حصہ علم کے حصول کے لے اوردوسر احصہ اس پرعمل کے لئے تیرا حصہ اپنے نفس اور دوسرے لازم شدہ حقوق کی ادائیگی کے لئے۔
اپنے ماضی پر غور کرو، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان دوگر ہوں کے انجام کے بارے میں فکر کرو کہ ایک تو ان کی خوشنودی کے سبب جنت میں اور دوسرا ناراضگی کے سبب جہنم میں جائے گا، اللہ تعالیٰ کے اپنے قریب ہونے کو پہچانو ، اور محافظین ، کراما کاتبین (اعمال لکھنے والے فرشتوں ) کا اکرام و اعزاز کرو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ( عقل و) فہم سے استعمال کرو، اور ان کو اللہ جل جلالہ کی اچھی ( حمد و )ثناء اور شکر ادا کر کے واپس کرو اللہ تعالی کے ہاں اپنے مراتب دیکھ کر خود فریبی میں مبتلا نہ ہونا۔ لوگوں کے حق کو حقیر جانے کی وجہ سے غلط نہ جانو کہ یہ زہر قاتل ہے۔ اللہ جل جلالہ کی ناراضگی کے خوف سے لوگوں کی نظروں میں گر جانے کے خوف سے بچو۔ اور فقر ( محتاجی) کے ڈر سے بھی دور رہو، کہ موت قریب ہی آنے والی ہے، اور جتنا ہو سکے اپنی نیکی کے اثر کو مخفی رکھو۔ جب تم سے مشورہ مانگا جائے تو اس میں اپنی انتہائی کوشش صرف کر دو، اللہ تعالیٰ کے لئے پختہ ارادے سے محبت رکھو، اور اللہ تعالیٰ کے لئے تعلق کو احتیاط سے ختم کر دو۔
صرف متقی و پرہیز گار) سے دوستی رکھو عالم کے ساتھ بیٹھو اور عقل مند سمجھدار انسان سے میل جول رکھو، اپنے سے پہلے والے ائمہ کرام کی اقتداء کرو ۔ اور امت میں سے بعد والوں کے لئے مقتدی بن جاؤ متقین (نیک لوگوں) کے امام، اور راہنمائی کے متلاشی لوگوں کے لئے جائے سکون ہو جاؤ، کس سے شکوہ نہ کرو، اور اپنے دین کی وجہ سے دنیا نہ کھا ؤ۔
تنہائی (اور گوشہ نشینی سے بھی اپنا حصہ رکھو حلال کے سوا کچھ نہ لو۔ فضول خرچی سے بچو، دنیا میں بقدر کفایت روزی پر صبر کرو، ادب علم کے باغوں سے حاصل کر و۔ انسیت خلوت کی جگہوں، اور حیاء کو یقین کے شعبوں میں، اور علم تفکر کی وادیوں سے اور دانائی کو خوف کے باغوں سے حاصل کر۔
ا للہ تعالی کی نافرمانی کے باوجود اپنے اوپر ان کے مسلسل انعام و احسان ، ان کے ذکر سے اعراض کے باوجود ان کی بردباری، ان سے بے حیائی کے باوجود ان کی طرف سے عیوب کی پردہ پوشی اپنی ان کی طرف احتیاج ، اور ان کی اپنے آپ سے بے نیازی کو پہچانو۔

ذریعہ نجات

کہاں ہیں اپنے رب کو پہنچاننے والے؟ کہاں ہیں اپنے گناہوں سے ڈرنے والے کہاں ہیں اللہ تعالیٰ کے قرب پر خوشیاں منانے والے؟ کہاں ہیں اس کے ذکر میں مشغول رہنے والے؟ کہاں ہیں اس کی دوری سے ڈرنے والے؟ اے فریب خوردہ انہی لوگوں کے لئے مغفرت ہے، تم نے ( گناہ کے ) پردوں کو پھاڑ دیا ہے کیا اب بھی اس بزرگ و برتر نے تجھ کو نہیں دیکھا ؟ خوب جان لواے بھائی، گناہوں سے غفلت پیدا ہوتی ہے اور غفلت سے دل کا میں سختی جنم لیتی ہے، اور دل کی سختی اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتی ہے، اور اللہ تعالیٰ سے دوری جہنم میں پہنچا دیتی ہے۔ ان باتوں میں زندہ دل لوگ غور و فکر کرتے ہیں، اور مردے تو دنیا کی محبت میں مرے جا رہے ہیں ۔
خوب جان لو! جس طرح دن کی روشنی اندھے کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی، اسی طرح علم کی روشنی سے صرف تقویٰ والے لوگ ہی مستفید ہوتے ہیں۔ مردوں کو جس طرح کوئی دواء نافع نہیں ہوتی ، اسی طرح صرف دعوی کرنے والے لوگوں کو ادب مفید نہیں۔ جس طرح تیز بارش سے صاف چٹان پر کچھ نہیں اگتا اسی طرح دنیا کی محبت رکھنے والے دل میں نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے جو اپنی خواہش کے تابع ہو جائے اس کا ادب کم ہو جاتا ہے، جو اپنے علم کی راہنمائی کے مطابق عمل نہ کرے اس کی جہالت بڑھ جاتی ہے، جسے خود کوئی دوا نافع نہ ہو وہ دوسرے کا علاج کس طرح کر سکتا ہے؟ خوب سمجھ لو! لوگوں میں سب سے بڑھ کر بدنی راحت پانے والے، اور کم فکر والے لوگ وہ ہیں جو دنیا سے بے رغبت ہیں سب سے زیادہ دلی طور پر تھکنے، اور مشغول ( پرا گندہ حال ) لوگ وہ ہیں جو دنیا کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ زہد کے لئے سب سے زیادہ مددگار صفت اپنی تمناؤں کو لمبا نہ کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان رکھنے والے لوگوں کے حالات سے قرب رکھنے والی بات اللہ جل جلالہ کی نگرانی کی یادہانی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَيۡكُمۡ ‌رَقِيبٗا (النساء:1)”بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔”
جان لو! سچائی سے قریب کوئی راستہ، اور علم سے زیادہ کوئی دلیل کامیاب، اور تقویٰ سے بڑھ کر زادراہ نہیں ہے ۔ دلی وساوس کو ختم کرنے والی چیز میں نے لایعنی کاموں سے پر ہیز سے بڑھ کر کوئی نہیں دیکھی۔ اور فطرت سلیمہ سے زیادہ کوئی چیز دل کو روشن کرنے والی نہیں ہے۔
مومن کی عزت اس کے تقویٰ میں اس کا حلم صبر میں عقل اس کی خوبصورتی، محبت در گزار و عفو سے کام لینے ہیں، اور اس کی شرافت تواضع (عاجزی) اور نرمی میں ہے، خوب سمجھ لو! مالداری کو پسند کرنا جب کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کے لئے فقر کو منتخب کر لیا ،خود غضبنا کی ہے۔ اور فقر کو چاہنا جب کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کے لئے مالداری کو پسند کر لیا ہو اپنے اوپر ظلم ہے۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی( ذات وعظمت) سے ناواقفیت کے سبب شکر سے دوری، اور کوتاہ علمی کی وجہ سے اوقات کا ضیاع ہے۔ کیونکہ مالداروں کے ایمان کو فقر، اور فقیر کے ایمان کو مالداری درست نہیں کر سکتی جیسا حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بندوں میں بعض ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو فقر ہی درست رکھ سکتا ہے، اگر میں انہیں مالدار کر دوں تو یہ فقران کو بگاڑ دے گائے اور میرے بعض بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو محض مالداری قائم رکھ سکتی ہے، اگر میں انہیں غریب و محتاج کر دوں یہ فقران کو بگاڑ دے گا یہی حال تندرستی اور بیماری کا ہےپس جس نے اللہ تعالی کو پہچان لیا وہ اس پر اعتراض نہیں کر تاہے جس کو اللہ تعالی کی طرف سے فہم عطا ہوا ہو تو وہ ان کے فیصلہ پر راضی رہتا ہے، اگر اہل علم کے لئے صرف یہی آیت ہوتی جب بھی کافی تھا وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ‌وَيَخۡتَارُ اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جس کو چاہے اور پسند کرے جس کو چاہے۔

قربت کا راستہ

جاہلوں کے اخلاق، گناہگاروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے ، خود پسندوں کے دعوؤں، خود فریبی کا شکار لوگوں کی امید، اور مایوس انسانوں کی مایوسی سے اپنے آپ کو دور رکھو، حق پر عمل کرنے والے، اللہ جل جلالہ پر اعتماد کرنے والے نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے والے بنو۔
کہ جس نے اللہ جل جلالہ کے لئے اخلاص اپنا یا اللہ تعالیٰ نے اس کی خیر خواہی (یعنی اس کی مدد و رہنمائی) کی ، اور جو دوسروں کے واسطے سنورا، اللہ نے اس کو رسوا کر دیا، جس نے اس ذات پر بھروسہ کیا وہ اس کے لئے کافی ہے، اور جس نے اس کے علاوہ پر اعتماد کیا اس نے اس کو ناراض کیا، جو اس سے ڈرا اس نے اس کو بے خوف کر دیا، جس نے اس کا شکر ادا کیا اس نے اس کو مزید دیا، جس نے اس کی اطاعت کی اس نے اس کو عزت دی، جس نے اس کو ترجیح دی اس ذات نے اس کو محبوب بنا لیا، اور جسے اس کا مولی و آقا محبت رکھے تو وہ کامیاب ہو گیا۔ اللہ عزوجل کے ساتھ عقل والا معاملہ کرنے، اپنی خواہش پر عمل کرنے ، حق کو چھوڑنے، باطل کی طرف جانے سے پر ہیز کرو، اور تو بہ کو بھول کر مغفرت کی تمنا (و امید ) سے دور رہو۔
خوب سمجھ لو! اللہ تعالی صرف اسی علم و عمل سے راضی ہوتے ہیں کہ جس کی جڑ ایمان کی وجہ سے مضبوط، شاخ اخلاص کی وجہ سے بلند ، پھل تقوی کے سبب بارآور، دلیل ڈر کے باعث قوی، اور پر دے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے لٹکے ہوئے ہوں۔
اپنے نفس کی سستی پر کبھی راضی نہ رہنا کہ عمل میں کمی کے بعد کوئی عذر قبول نہ ہوگا، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ سے کوئی بے نیاز ہوسکتا ہے۔
جان لینا چاہئے کہ انسان کی سعادت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس موجود چیزوں کے لئے اخلاص نیت کا ہوناہے اور اس کے پسندیدہ کاموں کی توفیق ہو جانا، اور اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو اس عقل سے نوازتے ہیں اور علم کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتے ہیں ۔
اور اس کو خوف الہی سے نوازتے ہیں اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرتے ہیں، قناعت سے اس کو بے نیازی عطاء فرماتے ہیں، اور اس کو اپنے عیوب دکھلا دیتےہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائیں،

مقامات صوفیاء

صدق اور اخلاص ہر حال کی اصل اور بنیاد ہے، صدق سے صبر، قناعت، زہد (اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر ) رضا، اور انس پیدا ہوتے ہیں۔ اور اخلاص سے یقین، خوف، محبت تعظیم، حیا اور بزرگی پنپتی ہیں۔ ان تمام مقامات و حالات سے مؤمن کا واسطہ ہے کہ جن سے اسے گزرنا اور ان (ہی) سے اس کی حالت کی پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ مومن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ (اللہ تعالیٰ سے) ڈرنے والا ہے (اس میں امید بھی پائی جاتی ہے ) اور امیدوار ہے (اس میں خوف بھی موجود ہے) اور صبر کرنے والا ہے اس میں رضا بھی ہے۔ اور محبت کرنے والا ہے، اس میں حیاء بھی ہے۔ ان تمام حالات میں سے ہر حالت میں قوت و ضعف انسان کی معرفت (الہٰی) اور اس کے ایمان کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ پھر ان احوال میں سے ہر اصل کی تین علامتیں ہیں جن سے اس حالت کی صحیح پہچان ہوتی ہے،

تکمیل صدق

صدق تین چیزوں میں پایا جاتا ہے کہ وہ اس صدق کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتیں ، دل کا صدق حقیقت میں ایمان کے پائےجانے میں ہے ، نیت کا صدق اخلاص ہیں ہے، اور لفظ کا صدق کلام میں ہے (کہ ہر بات سچی کرے)۔

تکمیل صبر

صبر تین چیزوں میں ہوتا ہے کہ وہ اس کے بغیر کامل نہیں ہوتیں، اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے صبر (رکنا) اللہ تعالیٰ کے احکام پر صبر (پابندی سے ان کو بجا لانا) مصیبتوں پر اللہ تعالی سے ثواب کے حصول کی غرض سے صبر کرنا۔

قناعت کا طریقہ

ناعت تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ مالداری وفراوانی کے بعد اس میں کمی ، فقر و محتاجی کے اظہار سے بچنا جب کہ اسباب بالکل نہ ہوں یا کم ہوں ، جب فاقہ آ جائے تو اللہ عزوجل کی عبادت کے (مقرر کردہ حالات) واقعات سے سکون حاصل کرنا کہ اللہ تعالی کی طرف سے ہر چیز مقرر شدہ ہے اس پر راضی رہنا )۔
قناعت کی ایک ابتداء ہے اور ایک انتہاء۔ ابتداء تو یہ ہے کہ وسعت ( وطاقت) کے باوجود فضولیات سے اجتناب کیا جائے ، اور انتہاء یہ ہے کہ قلت وعدم اسباب کے باوجود اپنے کوغنی و مالدار سمجھتار ہے۔ اس لئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ قناعت، رضا سے اعلیٰ درجہ ہے، ان لوگوں کی مراد یہی ہے کہ قناعت مکمل ہو کیونکہ جو اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہو وہ ہر حال ( ملے نہ ملے ) میں (خوش ہے ) کہ رضا تبدیل نہیں ہوتی ، ملنے کی حالت میں بھی اس سے رضا پائی جارہی ہے جب کہ ) قانع ( خاص نہ ملنےحالت میں، کیونکہ قناعت صرف اسی حالت میں ہوتی ہے ) اپنے رب کی وجہ سےما لدار و مستغنی ہے (غیر سے) کہ زیادہ کی خواہش بھی نہیں رکھتا (جو کہ قناعت ہی سے ہے) ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قناعت رضا کا حصہ ہے اور اس کی طرف لوٹتی ہے۔ (یعنی قناعت رضا کا جزء ہے کم پر راضی رہنا بھی تو رضا ہے۔ اور زیادہ کی خواہش نہ رکھنا بھی تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنے کا حصہ ہے۔ تو اصلا و مرجعا اس کا حصہ ہے ۔

زہد کا حصول

زہدتین چیزوں میں ہوتا ہے (کہ زاہد ان کے بغیر زاہد نہیں کہلا سکتا) اپنے ہاتھوں کو مملوکہ چیزوں سے خالی کر دینا (یعنی ان کو اپنی ملکیت نہ سمجھنا یا یہ کہ ان کو ملکیت سے نکال دینا) اپنے نفس کو صرف حلال کے ساتھ پاکیزہ رکھنا ( یعنی حرام و مشکوک سے بچنا اور اللہ تعالیٰ کی اکثر اوقات عبادت کی وجہ سے دنیا کو بھول جانا تین اور چیزیں ہیں جن سے انسان زاہد بنتا ہے۔ احوال کے ہیر پھیر میں اپنے نفس کو ( خلل انداز چیزوں، مانگنا، غیر اللہ سے امید وغیرہ سے)محفوظ رکھنا، مالداری والی جگہوں سے دور رہنا، اور ضرورت کے وقت وہ چیز جس کے بارے میں (حلال ہونے کا صحیح علم ہولے لینا۔

مقام انسیت

انس تین باتوں میں ہوتا ہے، علم اور اکیلے میں ذکر اللہ سے، تنہائی کے ساتھ معرفت (الہی) اور یقین سے، ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ( لولگانے سے )
رضا تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ اللہ جل جلالہ کے احکام ماننا، آپ کے حکم کےسامنے سرتسلیم خم کرنا، اور آپ کے فیصلہ میں پسند کو چھوڑ دینا۔

مقام رضا

رضا محبت کی ایک مربوط شکل، اس کا دوسرا نام تو کل، اور یقین (وایمان) کی روح اور اصل ہے۔ حضرت ایوب سختیانی اور فضیل بن عیاض رحمہما اللہ تعالی سے منقول ہے فرمایا کرتے : رضا تو کل کا نام ہے۔
مذکورہ بالا تمام صدق کے شعبے ہیں جو اپنی تمام تر تفصیل کے ساتھ معلوم ہو گئے ، حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ تعالی فرمایا کرتے! جب صادق کا صدق کامل ہو جائے تو وہ اپنی املاک کا مالک نہیں رہتا
اخلاص کا بیان یہ ہے کہ مخلص جب ہی مخلص کہلا سکتا ہے کہ اللہ عزوجل کو تمام شرکاء ، امثال، بیوی اور اولاد سے (پاک و) یکتا سمجھے پھر انسان کا وحدانیت باری تعالیٰ کے عقیدہ کو درست کر کے اللہ تعالیٰ کی ذات کا ارادہ کرنا کہ ساری محنت کو اس (کی رضا) کے لئے مجتمع کرنا اور فرض و نفل میں اس کا خیال رکھنا۔

یقین تک رسائی

یقین کی صحت تین چیزوں میں ہوتی ہے اللہ تعالیٰ پر اعتماد میں دل کو یکسو کر دینا۔ اس کے حکم کے سامنے جھک جانا۔ ڈر اور خوف رکھنا اس کے علم کے قدیم ہونے کی وجہ سے۔ (کہ ممکن ہے اللہ تعالی کے علم میں ہماری حالت اچھی نہ ہو)۔
یقین کی بھی ابتدہ اور انتہاء ہے۔ یقین کی ابتداء تو (دلی) اطمینان ہے، اور انتہاء اللہ تعالی کے اکیلے کافی ہونے کا یقین۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں: أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (سوره زمر: 36) کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں۔”
اور ارشاد باری ہے: يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (الانفال: 64) اے نبی آپ کو اور آپ کا اتباع کرنے والے مؤمنین کو اللہ تعالی کافی ہیں۔ “الْحَسْبُ” کافی کو کہتے ہیں، اور “الْمُكْنَفِی وہ بندہ ہے جو اپنے رب کی رضا پر راضی ہے۔
اور ہم نے جو کہا “یقین کی انتہاء” تو اس سے مراد مقام ایمان میں عبد کے اوصاف کا پایا جانا ہے۔ علم میں یقین کی انتہاء مراد نہیں ہے کیونکہ مخلوق میں سے کوئی اس تک نہیں پہنچ سکا۔
جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: لَنْ يَبْلُغَ أَحَدٌ مِنَ الله کنها ” کوئی اللہ تعالی کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پانی پر چلتے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا: لو ازداد يقينا وخوفا لمشى فى الهواء اگر ان کے خوف و یقین میں مزید اضافہ ہو جاتا تو ہوا میں چلتے ۔
یقین کے بعد خوف آتا ہے، کیا آپ نے کسی ایسے انسان کو دیکھا ہے کہ جسے یقین کے بغیر خوف ہو؟

خشیت کا تقاضا

خوف تین چیزوں میں ہوتا ہے، ایمان کا خوف، اس کی نشانی یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں کے چھوڑنے میں اپنی بھر پور کوشش صرف کی جائے ، ارادہ کرنے والوں کا یہی خوف ہے (ایمان وغیرہ اعمال کے ) سلب کا خوف، اس کی علامت خشیت الہی ، ڈر، اور تقویٰ ہے۔ خوف کا یہ مرتبہ اللہ تعالی کی پہچان رکھنے والوں ( علماء) کو حاصل ہوتا ہے۔
خوف الفوت اس کی پہچان یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عظمت و بزرگی کے ساتھ آپ کی رضا مندی کے حصول میں جدوجہد کرنا، اور یہ مرتبہ خوف صدیقین“ کو حاصل ہوتا ہے۔ خوف کا ایک چوتھا مقام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ خاص کیا ہے، اور یہ اللہ عزوجل کی عظمت و برتری کا خوف باوجود یکہ ان کو اللہ تعالی کی طرف سے امن و سکون حاصل ہے، تو ان کا خوف اللہ کی بزرگی وعظمت کے لحاظ سے عبادت شمار ہوتی ہے۔

تصور محبت

محبت تین چیزوں میں ہوتی ہے، کہ جن کے بغیر اللہ تعالی سے محبت کرنے والے کو محبت نہیں کہہ سکتے ، مؤمنین سے اللہ عزوجل کے لئے محبت کرنا، اس کی علامت یہ ہے کہ ان کی ایذاء سے ہاتھ روک لیتا، اور شریعت محمدیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کے مطابق ان کے لئے نفع رسانی کی کوشش کرنا، نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالی کے لئے محبت کر نا اس کی نشانی اتباع سنت ہے اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے: قُلۡ إِن كُنتُمۡ ‌تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِي يُحۡبِبۡكُمُ ٱللَّهُ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡ (آل عمران: 31). ترجمہ: ” فرما دیجئے اگر تم محبت رکھتے ہواللہ کی تو میری راہ چلو، تا کہ محبت کرے تم سے اللہ اور بخشے تمہارے گناہ
اللہ تعالٰی کی محبت اطاعت کو معصیت کے مقابلہ میں اختیار کرنے پر ہے، اور مشہور ہے نعمت کا تذکرہ محبت میں اضافہ کرتا ہے محبت کی ابتداء، وسط اور انتہاء ہے، محبت کی ابتداء نعمتوں اور احسانات سے ہوئی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: دلوں میں فطرتا ان لوگوں کی محبت جاگزین ہوتی ہے جو ان پر احسان کریں، اور عہد، رحمت، نرمی اور معافی کے اعتبار سے اللہ علیم و کریم سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے۔ محبت کا وسط آپ کے احکام کی بجا آوری منع کردہ کاموں سے اجتناب ہے، اس طور سے کہ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس سے وہ تمہیں غائب نہ پائیں اور جس سے روکا وہاں تمہیں نہ پائیں اور جب مخالفت ہو جائے تو فوراً اس کا اعتراف اور وہاں سے ہٹ جانا۔
محبت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ان کے وجود کے ضروری ہونے کی وجہ سے محبت کرنا۔ علی بن الفضیل رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں: بے شک اللہ تعالی سے محبت کی جاتی ہے اس لئے کہ آپ اللہ ہیں۔
کسی آدمی نے حضرت طاؤس سے عرض کیا مجھے نصیحت فرمائیے ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے ایسی محبت کرو کہ ایسی محبت تمہیں کسی سے بھی نہ ہو، اس سے ڈرو اس طرح کہ ایسا ڈر تمہیں کہیں سے نہ ہو، ایسی امید رکھو کہ یہ امید تمہارے اور خوف کے درمیان حائل ہو جائے، لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو، اب جاؤ میں نے تمہارے سامنے توراۃ ، انجیل، زبور اور فرقان (قرآن) کے علم کو اکٹھا کر دیا ہے۔
پھر جان رکھو! عظمت و بزرگی حیاء میں اسی طرح ہے جس طرح کہ جسم کے اندر سر، دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے بغیر نہیں ہو سکتی جب انسان اپنے رب عزوجل سے حیاء کرتا ہے تو لازما آپ کی تعظیم کر ے گا، بزرگی بیان کرے گا، اور حیاء کی بنیاد اللہ عزوجل کا مراقبہ ہے ۔

حصول مراقبہ

مراقبہ تین چیزوں میں ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا اس کی اطاعت کے اعمال انجام دیتے ہوئے ، معصیت کے کاموں کو ترک کرتے ہوئے ، ہموم و افکار و خیالات کے وقت ہے نبی کریم ؤ کا ارشاد ہے: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔”
اللہ عزوجل کا مراقبہ ( ہر وقت دل و ذہن میں ان کا دھیان رہنا ) انسانی بدن کے لئے رات کی نماز، دن کے روزے، اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے زیادہ مشقت و تکلیف والا کام ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے تھے اللہ عزوجل کے زمین میں برتن ہیں۔ ان میں سے دل ہیں، ان دلوں میں سے وہی دل مقبول ہیں کہ جو صاف سخت ، اور نرم ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور منع کی ہوئی چیزوں کے اتباع اور صدق و اشفاق کے مشاہدہ میں دل کی صفائی۔ نیز نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی چیزوں کے قبول کرنے میں قول و عمل نیت میں صفائی۔ اسی طرح مؤمنین کو ایذاء سے باز رہنے اور نفع رسانی میں صفائی قلب و اخلاص۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول ” دل کے سخت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے نافذ کرنے امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں قوی اور مضبوط ہو۔ اور ان کا قول نرم دل اس کی دو صورتیں ہیں، نرمی سے رونا، اور رحمت میں نرمی بالله التوفيق، وهو حسبنا ونعم الوكيل


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں