عزت و تعظیم پرشکرواجب (چودھواں باب)

عزت و تعظیم پرشکرواجب کے عنوان سے چودھویں باب میں  حکمت نمبر 134 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
کیا تم قابل تعریف ہو یا وہ مقدس ذات ، جس نے تمہارے عیوب اور گناہوں کی پردہ پوشی فرمائی ؟ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں واضح فرمایا ہے۔
134) مَنْ أَكْرَمَكَ إِنَّمَا أَكْرَمَ فِيكَ جَمِيلَ سَتْرِهِ، فَالْحَمْدُ لِمَنْ سَتَرَكَ لَيْسَ الْحَمْدُ لِمَنْ أَكْرَمَكَ وَشَكَرَكَ.
جس شخص نے تمہاری عزت اور تعظیم کی تو حقیقت یہ ہے کہ تمہارے اندر صرف اللہ تعالیٰ کی بہترین پردہ پوشی نے عزت اور تعظیم پیدا کی۔ اس لئے سب تعریفیں اسی ذات پاک کے لئے سزاوار ہیں۔ جس نے تمہاری پردہ پوشی فرمائی۔ اس کے لئے کوئی تعریف نہیں ہے۔ جس نے تمہاری عزت اور تعظیم کی اور تمہارا شکر ادا کیا ۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ جب اللہ تعالی اپنی نگرانی کے ساتھ تمہاری حفاظت کی سرپرستی فرمائے اور اپنے مہربانی کے پردے سے تمہاری برائیوں کو چھپا دے۔ پھر تمہارے وصف کو اپنے وصف سے ڈھانپ دے۔ پھر تمہاری طرف لوگ عزت اور تعظیم اور بزرگی کے ساتھ متوجہ ہوں ۔ تو تم اپنے او پر اللہ تعالیٰ کے احسان کو پہچانو۔ اور اپنے نفس کے دیکھنے سے کنارہ کشی اختیار کرو ۔ کیونکہ جس نے تمہاری عزت و تعظیم کی تو حقیقت یہ ہے کہ تمہارے اندر صرف اللہ تعالیٰ کی بہترین پردہ پوشی نے عزت و تعظیم پیدا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔
وَلَوْ لَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلاً اور اگر تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی۔ تو تم لوگ شیطان کی پیروی کرتے ۔
وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَازَكَى مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ أَبَدًا) اور اگر تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت نہ ہوتی تو تم لوگوں میں سے کوئی بھی پاک نہ ہوتا ۔
اس لئے در حقیقت سب تعریفیں صرف اسی ذات پاک کے لئے سزاوار ہیں۔ جس نے تمہاری پردہ پوشی فرمائی۔ نہ کہ اُس کے لئے جس نے تمہاری تعظیم کی ۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے عیبوں اور گناہوں میں سے ایک ذرہ بھی لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیتا ۔ تو سب لوگ تمہارے دشمن ہو جاتے ۔ اور تم سے نفرت کرتے ۔ لہذا تم اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔
کہ اُس نے تمہارے اوپر اپنا فضل و کرم نازل فرمایا۔ اور اُن عیبوں اور گناہوں سے جو تمہارے لئے طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سبب ہو تیں ۔ تمہاری پردہ پوشی فرمائی۔
حضرت شیخ زروق نے فرمایا ہے :- اگر گناہوں سے اللہ تعالیٰ کی حفاظت نہ ہوتی تو تم مطیع و فرماں بردار نہ ہوتے۔ اور اگر گناہوں کے اندر اس کی پردہ پوشی نہ ہوتی تو تم مخلوق کے نزدیک . ذلیل و خوار اور ان کے درمیان نفرت و عداوت کے ساتھ مخصوص ہوتے
وَلَوۡلَا نِعۡمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ ‌ٱلۡمُحۡضَرِينَ
اگر میرے رب کی نعمت میرے شامل حال نہ ہوتی تو میں حاضر کئے گئے لوگوں میں ہوتا ۔
پس کل مخلوق آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے مولائے حقیقی اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی کی وجہ سے معاملہ کرتی ہے۔
اور اگر اُس کا بندہ اُس کی پردہ پوشی سے خالی (باہر ) ہو جائے تو لوگوں میں اُس کا سب سے زیادہ محبت کرنے والا ، اُس کا سب سے بڑا دشمن بن جائے ۔ اور مخلوق میں اُس کا سب سے بڑا شفیق و مہربان دوست اُس کو تکلیف پہنچانے لگے۔ اور مخلوق میں اُس کے لئے سب سے بڑا رحم دل اُس کوہلاک کر دے۔ اللہ تعالیٰ اُن کو جزائے خیر دے جنہوں نے یہ اشعار فرمائے ہیں :-
يَظُنُّونَ بِي خَيْرًا وَ مَا بِي مِنْ خَيْرٍ وَلَكِنَّنِي عَبْدٌ ظَلُومٌ كَمَا تَدْرِى
لوگ مجھ کو نیک آدمی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ میرے اندر کوئی نیکی نہیں ہے۔ بلکہ میں ایک ظالم (گنہگار ) بندہ ہوں ۔ جیسا کہ اے اللہ تعالیٰ تو جاتا ہے۔
سَتَرْتَ عُيُوبِي كُلَّهَا عَنْ عُيُونِهِمْ وَاَلْبَسْتَنِى ثَوُبًا جَمِيلًا مِنَ السَّتْرِ
تو نے میرے کل عیوب کو لوگوں کی آنکھوں سے چھپا دیا ہے اور تو نے مجھ کو پردہ پوشی کا بہترین کپڑا پہنا دیا ہے۔
فَصَارُوا يُحِبُّونِي وَ مَا أَنَا بِالَّذِي يُحَبُّ ، وَلَكِن شبَّهُونِي بِالْغَيْرِ
اس لئے مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں ۔ حالانکہ میں اُن لوگوں سے نہیں ہوں ۔ جن سے محبت کی جاتی ہے۔ لیکن مجھ کو لوگوں نے دوسرے ( نیک لوگوں ) کے مشابہ سمجھ لیا ہے۔
فلَا تَفَضَّحُنِي فِي الْقِيَامَةِ بَيْنَهُمْ وَكُنْ لِي يَا مَوْلَايَ فِي مَوْقِفِ الْحَشْرِ
لہذا تو مجھے قیامت کے دن اُن لوگوں کے سامنے رسوا نہ کرنا اور میرے مولا حشر کے میدان میں تو میرے لئے ہو جا۔
اور جب اللہ تعالیٰ کے حبیب حضرت نبی کریم ﷺ پر تکلیفوں کی انتہا ہو گئی ۔ تو آپ نے صرف اتنا فرمایا :-
لا غنى لي مِنْ عَافِيَتِكَ ، عَافِیَتُكَ أَوْ سَعُ لِي میرے لئے تیری عافیت سے بے نیازی نہیں ہے۔ تیری عافیت میرے لئے بہت وسیع ہے۔ اور نعمتوں کی حالت میں مخلوق کے دیکھنے میں تقسیم کا بیان عنقریب آئے گا۔ نیز یہ کہ آدمی تین قسم کے ہیں ۔
پہلی قسم : عوام ہیں :۔ یہ لوگ صرف حقوق کو دیکھتے ہیں۔ دوسری قسم : خواص ہیں :۔ یہ لوگ صرف خالق کو دیکھتے ہیں۔ تیسری قسم : خواص الخواص ہیں : یہ لوگ مخلوق کے اندر خالق کو اور واسطہ کے اندر موسوط کو دیکھتے ہیں۔ تو یہ لوگ ہرمستحق کو اُس کا حق عطا کرتے ہیں۔ جیسا کہ عنقریب اس کا بیان وضاحت کے ساتھ آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں