عشق مراتب ارادہ کی انتہاء

عشق

ارادے کے نویں مرتبے کو صوفیہ کرام عشق کہتے ہیں ۔ مراتب ارادہ ان کے ہاں مندرجہ ذیل ہیں ۔

(1) اراده : ابتدائی میلان در نبت

وَلَع  ارادے سے ذرا شدید میلان قوی  (2)

(3)صَبابت : محبوب کی طرف جھکاؤ

(4)شَغَف : محبوب کے لیے فراغت کلی، محبوب کا خیال جب دل میں جاگزیں ہو جائے ۔

(5)- ھویٰ : غیر سے جب دل غافل ہو جائے ۔

(6)- غرام : جب چاہت کے اثرات جسم پر بھی ظاہر ہونے لگیں ۔

(7)حُب : جب میلان و رغبت کی علتیں بھی درمیان سے ہٹ جائیں ۔

(8)  وُد : جب میلان میں جوش آجائے اور محب فانی از خود ہو جائے ۔

(9)- عشق : حب محب اور محبوب میں امتیاز ختم ہو جائے .

مرتبہ عشق میں عاشق معشوق کو دیکھتا ہے مگر پہچانتا نہیں ، ما عرفناك حق معرفتك معشوق کو دیکھ کر عاشق میں کوئی از خود رفتگی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ سمندر کی طرح اتھاہ ہو جاتا ہے۔ تلوین ختم ہوچکی ہوتی ہے اور مقام تمکین پر فائزہ ہو جاتا ہے ۔ قیس عامری کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب اس کے قریب سے گزرتے ہوئے لیلیٰ نے اس کو دعوت ہم کلامی دی تو مجنوں نے اس سے کہا میرا راستہ چھوڑ دے اور مجھے لیلی ہی میں مشغول رہنے دے حالانکہ اس وقت خود لیلی اس سے مخاطب تھی۔ یہ وصل و قرب کا انتہائی اعلیٰ مقام ہے۔ اس میں عارف اس چیز ہی کا انکار کر دیتا ہے جس کی اس نے شناخت کی تھی ۔ پھر نہ کوئی عارف رہتا ہے اور نہ معروف نہ عاشق نہ معشوق صرف عشق باقی رہ جاتا ہے۔ جو ذات محض کا نام ہے جس کا نہ اسم ہے نہ رسم نہ نعت نہ وصف ۔

نه اسمم نه جسمم نه اینم نه آنم

چہ را ز عیا نم با چه سر نہانم

نہ اسم ہوں نہ جسم ہوں نہ یہ ہوں نہ وہ ہوں ۔ کیا راز عیاں ہوں  کیا سر نہاں ہوں ! )

اور اسی منزل پر پہنچ کر ایک اور عاشق کہہ اٹھتا ہے :

العشق نار الله الموقده

غروبھا وطلوعها على الأفقده

    عشق اللہ تعالی کی بھڑکاتی ہوئی وہ آگ ہے جس کا طلوع اور غروب دلوں پر ہوتا ہے

محبت ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب کھینچتی ہے۔ کسی میں حسن و خوبی کی ایک جھلک دیکھ کر اس کی جانب طبیعت کا مائل ہو جانا ، دل میں اس کی رغبت ، اس کا شوق اس کی طلب و تمنا اور اس کے لیے بے چینی کا پیدا ہو جانا ، اس کے خیال میں روز و شب رہنا، اس کی طلب میں تن من دھن سے منہمک ہو جانا اس کے فراق سے ایذا اور اس کے وصال سے راحت پانا ، اسکے خیال میں اپنا خیال اس کی رضامیں اپنی رضا ، اسی کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا ، یہ سب محبت ہی کے کرشمے ہیں ۔

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

تاکس نہ گوید بعد ازیں ، من دیگرم تو دیگری

میں تو ہو جاؤں تو میں ہو جا۔ میں جسم ہو جاؤوں تو جان ہو جا تا کہ بعد میں کہیں یہ نہ کہہ دے کہ میں اور ہوں ، تو اور ہے)

محبت ایک عالمگیر جذبہ ہے۔ ظہور حیات کے اختلاف مدارج کی مناسبت سے ظہور محبت کے مراتب میں بھی اختلاف واقع ہوتا ہے اور پھر یہی محبت مختلف مدارج میں مختلف ناموں سے پکاری جاتی ہے ۔ غیر ذی روح مادی ذرات میں اسے کشش کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور ذوی الارواح میں اس کشش کا نام محبت ہو جاتا ہے اور جب ارفع و اعلیٰ ہستیوں میں محبت بھی اپنی اعلیٰ اور ارفع قدروں کے ساتھ نمایاں ہوتی ہے تو اُسے عشق کہتے ہیں ۔

یہ قطعی غلط ہے کہ  عشق کا لفظ صرف عشق مجازی ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لفظ عشق ہر دور میں عشق حقیقی اور پاکیزہ محبت کے معنی میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ بالخصوص صوفیہ کرام کے پاس توعشق نام ہی معراج محبت کا ہے ۔ اسی لیئے تو وہ دنیا و آخرت دونوں سے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے محبوب حقیقی کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی رسم بسم اللہ ہی ترک دنیا ترک عقبی سے ہوتی ہے۔

محبت معرفت کی محتاج ہے اور معرفت محبت کی محبت کو معرفت پر تقدم حاصل ہے اور معرفت کو محبت پر ۔ بظاہر یہ ایک متضاد بات معلوم ہوتی ہے لیکن در حقیقت اس میں کوئی تضاد نہیں، محبت، معرفت کا نتیجہ ہے اور معرفت محبت کا یعنی معرفت کے بغیر محبت پیدا نہیں ہوتی اور بغیر محبت کے معرفت میں ترقی نہیں ہوتی۔ محبت سے قبل اجمالی معرفت کی ضرورت ہوتی ہے اور محبت کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے تفصیلی معرفت بطور انعام محبت عطا فرمائی جاتی ہے جو لازمہ ہوتی ہے قرب ووصال کا ۔

عشق چونکہ محبت کا اعلیٰ وارفع مقام ہے اس لیئے یہ صرف انسان ہی کے حصہ میں آیا ہے جو مخلوقات میں سب سے اعلی وارفع مخلوق ہے حتی کہ فرشتے بھی اس عشق سے محروم ہیں۔

حضرت خواجہ فرید الدین عطار فرماتے ہیں :

قدسیان را عشق بست و درد نیست

درد را جز آدمی در خورد نیست

(فرشتوں کو عشق ہے لیکن درد نہیں۔ اور دردانسان کے علاوہ کسی کے لائق بھی نہیں)

درد اس قلق اور سوز دروں کا نام ہے جو ایک عاشق فراق محبوب اور آرزوئے وصال میں محسوس کرتا ہے اور یہ صرف انسان کا حصہ ہے ۔ فرشتے تو اس کائنات کے مشینی پرزے ہیں۔ ان کا عشق کشش ذرات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ذرات میں احساس نہیں ہوتا اور فرشتوں کو اس کا احساس ہے ۔ اسی احساس کی بناء پر فرمایا ” قدسیان را عشق بست درد و تڑپ البتہ ان سے مفقود ہے ۔ نہ تمنائے قرب ہے ، نہ آرزوئے وصال ۔

 یہ عشق اک آگ ہے جو ہر وقت عشاق کے دلوں کو جلاتی رہتی ہے اور یہ عشق ہی ہے کہ جس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ کیوں ؟ اس لیے کہ محبت کے بغیر معرفت نہیں ملتی اور جس کی معرفت ہی نہیں اس پر ایمان و یقین کامل کس طرح ہو سکتا ہے۔ عبادت اس شق کے بغیر ناقص رہتی ہے ۔ امام بے حضور ہوتا ہے اور نماز بے سرور ۔ سجدے کھو کھلے ہوتے ہیں اور دعائیں رسمی ۔ عشق کے بغیر عبادت بے سود اور عبادت کے بغیر عشق بے فیض ۔ جو اطاعت محبت سے کی جائے وہ اس اطاعت سے ہزار درجہ بہتر ہے جو خوف سے کی جاتی ہے ۔ عبادت بغیر عشق زہد خشک ، اور زہد خشک سے بدتر کوئی آزار نہیں ۔ عشق دنیا و آخرت کے سارے غموں سے آزاد کر دینے والی چیز ہے۔ سلوک کا دار و مدار اسی عشق پر ہے۔ ادھر تحبون الله ہے تو ادھر بحبكم الله – محبت ادھر بھی ہے اور اُدھر بھی۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوتی ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں