<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>شیخ عبد القادر جیلانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/category/%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1-%D8%AC%DB%8C%D9%84%D8%A7%D9%86%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Fri, 01 Dec 2023 02:41:45 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>شیخ عبد القادر جیلانی &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پہلی مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/6244-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/6244-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 03:43:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی قلب]]></category>
		<category><![CDATA[تقدیر سے موافقت]]></category>
		<category><![CDATA[دین کی موت]]></category>
		<category><![CDATA[صبر کا تکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفس کو نصیحت]]></category>
		<category><![CDATA[ولایت حقیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6244</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پہلی مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الاول فی عدم الاعتراض علی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/6244-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پہلی مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الاول فی عدم الاعتراض علی اللہ<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقده 3 شوال 545 بروز صبح اتوار بمقام مسافر خانہ خانقاہ شریف</mark></p>



<p><strong>امور تقدیر کے نزول کے وقت ذات الہی پر اعتراض کر نادین و توحید کی موت ہے: </strong><strong></strong></p>



<p>اللہ تعالی عزت وجلال والا ہے، امور تقدیر ( خواہ وہ امر خیر ہو یا امرشر ) کے نازل ہونے کے وقت بندے کا ( اللہ تعالی پر اعتراض کرنا ( بندے کے ) دین وتو حید (اللہ کو ایک جاننا) ۔ تو کل وبھروسہ، اخلاص ویقین وروح کی موت ہے ۔(جو ) بندہ مومن ہے )وہ تقدیری حادثوں میں ) چون و چرا ( کیوں اور کس لئے( کونہیں جانتا، بلکہ ( رب کی طرف سے اس آزمائش میں ) سرتسلیم جھکاتے ہوئے صرف ہاں کہتا ہے ۔ نفس تو کلی طور پر مخالفت اور جھگڑا کرنے والا ہے، جوشخص نفس کی اصلاح کرنا چاہے وہ نفس سے جہاد کرے تاکہ نفس کی برائی اور شرارت سے محفوظ ہو جائے ۔ کیونکہ نفسانی خواہشات ( تو اول تا آخر )شرارت در شرارت ہیں ۔ چنانچہ جب نفس کو مشقت میں ڈالا جائے گا (یعنی مجاہدہ کیا جائے گا ) نفس کی مخالفت کی جائے گی تب اطمینان حاصل ہوگا ،نفس کی ساری خواہشیں نیکیوں سے بدل جائیں گی ، اور نفس کلی طور پر سب گناہ چھوڑ نے اور اللہ کی عبادت کرنے کے لئے موافقت کرے گا اس لمحے ارشاد باری تعالی ہوگا: <strong>يَاأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ &nbsp;ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ</strong> &nbsp;اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ آ ‘‘۔ (اس حال میں کہ تو رب سے راضی ہے،نزول رحمت و مغفرت کے باعث اور تیری اطاعت وفرماں برداری کی وجہ سے تیرارب تجھ سے راضی ہے)۔ اس مقام پر (نفس کی ہر طرح کی شرارتیں دور ہو جاتی ہیں اور) سالک کو ذوق سلیم حاصل ہوتا ہے (نفس کا توکل وبھروسہ درست ہو جا تا ہے اور اس سے شک وشبہ زائل ہو جاتے ہیں اور اللہ کے سوا اس کا تمام مخلوقات سے (کسی ضررو مصیبت میں )کوئی تعلق واسطہ نہیں رہتا۔</p>



<p><strong>حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام رضا میں سرتسلیم خم :</strong><strong></strong></p>



<p>اس مقام پر نفس مطمئنہ کے لئے اپنے (روحانی) باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نسبت کامل ہو جاتی ہے۔کیونکہ انہوں نے ( نمرود کے دہکائے ہوئے الاؤ میں) ہر طرح کی خواہشیں ترک کر کے اپنی ہستی کو مٹاڈالا (یعنی اپنے نفس کوفنا کر دیا اور اپنے محبوب ( رب تعالی کی محبت میں کسی غیر کی مددکو شرکت جانا ۔ وہ روحانی طور پر اللہ کے قریب تھے (اس قربت نے فنا کے بعد بقاعطا کی ) ، قلب مبارک سکون سے معمور تھا ، اور آپ نے مقام رضا میں سرتسلیم خم کر دیا۔ مصیبت اور امتحان کے اس کڑے وقت میں آپ کے پاس سب مخلوقات حاضر ہوئیں اور (اپنی اپنی ہمت ، طاقت اور رسائی کے مطابق )آپ کو اپنی مدد کی پیش کش کی ۔ آپ نے فرمایا: مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میرے مالک کو میری حالت اور مصیبت کا بخوبی علم ہے، اس کی بار گاہ میں مجھے سوال کرنے کی کوئی حاجت نہیں ۔</p>



<p>جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کا رضائے الہی میں تو کل و تسلیم صحیح &nbsp;ہوا تو ارشاد باری تعالی ہوا:</p>



<p><strong>قُلْنَا يَانَارُ كُونِي ‌بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ </strong>&#8220;ہم نے (آگ کو حکم دیا :اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا‘‘۔ جولوگ مصیبت پرصبر کر نیوالے ہیں، اللہ تعالی دنیامیں ان کی بے حساب مدد کرتا ہے، اورصبر کرنیوالوں کو آخرت میں بے شمارنعمتیں عطا فرمائے گا ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: <strong>إِنَّمَا ‌يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ</strong>صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا‘‘۔ ( یعنی صابراتناثواب پائیں گے جس کا کوئی حساب و شمار نہ ہوگا )۔ جولوگ ( رضائے الہی کے لئے دکھ تکلیفیں برداشت کرتے ہیں تو اس سے تو کوئی بھی چیز ڈھکی چھپی نہیں ، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ بندے نے جب کئی سال اس کی مہربانیاں اور لطف وکرم دیکھے ہیں تو اگر مصیبت آ جائے تو اس گھڑی کی تکلیف پر صبر کرنا چاہئے ۔ اس ایک گھڑی کا صبر اعلی درجہ کی بہادری ہے۔جیسا کہ ارشادفرمایا: &#8221; <strong>إِنَّ اللَّهَ ‌مَعَ الصَّابِرِينَ </strong>&#8211; بے شک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس کی مدد اور نصرت (فتح) ہمیشہ شامل حال ہے ۔مصیبتوں کے ساتھ ساتھ صبر کرو۔ اللہ کے لئے خبر دار &nbsp;&nbsp;وہوشیارر ہو۔ اور اس راہ میں کسی قسم کی غفلت نہ کرو۔ تمہاری یہ خبر داری اور ہوشیاری موت کے بعد نہ ہو۔ کیونکہ اس وقت کی ہوشیاری کس کام کی ، بے نفع و بے فائدہ ہے ۔ تم موت سے ہم کنار ہونے سے پہلے (یعنی اللہ تعالی سے ملاقات سے پہلے ہی ہوشیار ہو جاؤ بیدار ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تمہیں تمہارے ارادے کے بغیر بیدار کیا جائے از خود بیدار ہو جاؤ، ور تمہیں شرمندگی ہوگی ، اورایسے وقت میں تمہارا شرمندہ ہونا کچھ فائدہ نہ دے گا،۔سوچو اور اپنے دلوں کی اصلاح کرلو، کیونکہ دلوں کی اصلاح اوردرستی سے تمہاری سب حالتیں درست ہو جائیں گی</p>



<p><strong>انسان کے دل کا معاملہ</strong><strong></strong></p>



<p>اس لئے رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا:&#8217; أَلَا إِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةٌ إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلَّهُ أَلَا ‌وَهِيَ ‌الْقَلْبُ’’انسان کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب یہ تندرست ہو جائے (سنور جائے تو سارا بدن تندرست (سنورا) رہتا ہے،۔ اور جب وہ بیمار ہو جا تا (بگڑ جا تا ہے تو سارا بدن بیمار ہو جا تا ( بگڑ جا تا ہے ۔ مطلع ہو جاؤ گوشت کا وہ ٹکڑ ادل ہے۔</p>



<p>پر ہیز گاری، خوف، اللہ پر توکل ، اللہ کی وحدانیت کا اقرار علم میں اخلاص (یعنی ہر کام اللہ ہی کے لئے ہے اس میں دکھاوے کا دخل نہ ہو۔ ) ، ان سب کے ہونے سے دل کا حال اچھا اور درست رہتا ہے &nbsp;اور ان سب کے نہ ہونے سے دل کا معاملہ بگڑ جاتا ہے، دل بدن کے پنجرے میں ایک پرندے کی طرح ہے، جس طرح موتی ڈبیہ میں ، جیسے مال خزانے میں، لہذا اعتبارتو پرندے کے ساتھ ہے نہ کہ پنجرے کے ساتھ ، اسی طرح موتی اور مال کے ساتھ ہے نہ کہ ڈ بیااورخزانے کے ساتھ ۔ ( یعنی انسان کو چاہئے کہ مقصود ذاتی اور عرضی ہی کو مد نظر رکھے ) ۔</p>



<p><strong>دعا والتجاء</strong>: <strong>اللـهـم اشـغـل جـوارحنا بطاعتک ونور قلوبنا بمعرفتك واشغلنا طول حياتنا في ليلنا ونهارنا بمراقبتک والحقنا بالذين تقدموا من الصلحين وارزقنا كما رزقتهم وكن لنا كما كنت لهم &nbsp;امین</strong><strong></strong></p>



<p>”اے اللہ! ہمارے سب اعضاء کو اپنی طاعت و بندگی میں مشغول کر دے اور ہمارے دلوں کو اپنی معرفت کے ساتھ منور کر دے اور ہمیں عمر بھر رات دن ( غرض کہ ہر وقت اپنے ہی خیال میں مصروف رکھ، اور تیرے جو نیک بندے ( ہم سے پہلے گزر چکے ہیں، ہمیں ان کے (مراتب میں) برابر رکھنا &nbsp;اور ہمیں بھی ویسا ہی رزق اور حصہ عطا فرما جیسا کہ انہیں عنایت فرمایا &nbsp;اور ہمارے لئے بھی ویسا ہی ہو جا جیسا کہ تو ان کے لئے ہو گیا تھا۔آمین!۔</p>



<p><strong>اللہ ہی کے ہور ہو</strong></p>



<p>&nbsp;اے میری قوم کے لوگو! اللہ ہی کے ہور ہو جیسے کہ نیک بندے اس کے ہور ہے &nbsp;تا کہ تم پر بھی وہی انعام ہو جوان پر ہوا یعنی &nbsp;اللہ تعالی تمہارے لئے ویسا ہی ہو جائے جیسا کہ ان کے لئے ہوگیا تھا۔ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالی تمہارا ہورہے،تو (تمہیں چاہئے کہ تم اس کی طاعت میں لگے رہو، کوئی مصیبت آنے پر صبر کرو، اپنے اور اپنے غیر کے سب کاموں میں اللہ کی رضا میں راضی رہو، ۔ ایک جماعت نے دنیا کو ترک کیا ( بے رغبتی کی ) ، تقوی و پرہیز گاری اور دیانت داری سے دنیا میں طرح طرح کے فائدے اٹھائے ، پھر آخرت کی طرف متوجہ ہوئے ، اور اس کی طلب کے لئے عمل کئے ، نفس کشی کی ( نفسانی خواہشوں کو مارا ) &nbsp;اپنے پاک پروردگار کی فرماں برداری کی ، پہلے اپنے نفسوں کو نصیحت کی ، پھر اوروں کو وعظ ونصیحت کرتے رہے۔ (یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا شیوہ ر ہا)۔</p>



<p><strong>&nbsp;پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرو:</strong></p>



<p>بیٹا! پہلے اپنی حالت درست کرو، پھر دوسرے کی طرف دھیان دو۔ تمہیں چاہئے کہ پہلے اپنے نفس کی اصلاح کرو۔ اس سے پہلے دوسروں کو وعظ ونصیحت نہ کرو اس لئے کہ تیرے پاس کوئی ایسی شے باقی نہ ہو جس کے باعث خود تجھےابھی اصلاح کی ضرورت و حاجت ہو، &nbsp;(یعنی ابھی کچھ عیب باقی ہیں جو کہ اصلاح طلب ہیں ۔ افسوس ہے تجھ پر کہ تو خود بینائی سے محروم ہے (اندھا ہے ) ، اوروں کو کیا راہ دکھائے گا ، &nbsp;دوسروں کی رہبری کیسے کرے گا ۔ راہ دکھانا تو بینائی والے ( آ نکھ والے )کا کام ہے۔ دریا میں ڈوبنے والے کو وہی بچا سکتا ہے جو خو دا چھی طرح سے تیرنا جانتا ہو اللہ کی طرف وہی لاسکتا ہے جو کہ خوداللہ کو پہچانتا ہو ( یعنی عارف کامل ہی اللہ کی طرف رجوع کرا سکتا ہے ۔ اور جو راہ سے ہٹا ہوا ہے ( گمراہ ہے، جاہل ہے ، وہ کسی کی کیسے رہنمائی کرسکتا ہے۔</p>



<p>جب تک تو خوداللہ کو نہ پہچان لے اور اسے دوست نہ رکھے ، اور تیرا ہر عمل بھی اس کے لئے نہ ہو ، تیرے کلام و وعظ بے &nbsp;فائدہ ہیں ، تجھے غیر سے کوئی واسطہ نہ ہو اور نہ اس کا ڈر، ڈر خوف صرف اللہ ہی کا ہوتصرفات الہی میں تجھے چون و چرا نہیں کرنا چاہئے ، آواز کی سختی اور زبان کی تیزی سے کلام و وعظ نہیں ہوتے بلکہ یہ کام تو دل سے ہوتا ہے، تنہائی ( خلوت ) کا کام بزم آرائی ( جلوت ) میں نہیں ہوتا ۔ جبکہ تو حید گھر کے دروازے پر ہو اور شرک گھر کے اندر،یہ سراسر نفاق ہے۔</p>



<p>افسوس ہے تجھ پر، کہ تیری زبان تو تقوی و پرہیز گاری کا اظہار کر رہی ہے جبکہ تیرادل ( زبان کے برعکس ) گناہ میں مبتلا ہے، زبان تو شکر ادا کر رہی ہے، جبکہ دل ناشکرا ہے، حدیث قدسی میں ارشاد باری تعالی ہے: &nbsp;</p>



<p><strong>يَا ابْنَ آدَمَ خَيْرِي إِلَيْكَ نَازِلٌ وَشَرُّكَ ‌إِلَيَّ ‌صَاعِدٌ</strong>”اے آدم کے بیٹے میری طرف سے تو تجھ پرخیر و برکت کا نزول ہوتا ہے اور تیری طرف سے میری جانب برائی آتی ہے۔“</p>



<p>تجھ پر افسوس اس بات کا ہے کہ تو اللہ کاحقیقی بندہ ہونے کا دعوی&nbsp; کرتا ہے جبکہ اطاعت و تابعداری اس کے غیر کی کرتا ہے، اگر تو واقعی اس کا سچا بندہ ہوتا تو تیری دوستی اور دشمنی اللہ ہی کے لئے ہوتی ۔ سچا اور حقیقی مسلمان اپنے نفس اور شیطان اور اپنی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا ( پیروی نہیں کرتا وہ شیطان سے کوئی شناسائی نہیں رکھتا جو اس کے پیچھے چلے ( تابع داری کرے) ،دنیا کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کے سامنے جھکے اور ذلیل ہو۔ بندہ تو دنیا کو نا کارہ سمجھتا ہے اور آخرت کی طلب کرتا ہے اور جب آخرت کا حصول ہوتا ہے تو اسے بھی چھوڑ دیتا ہے اور اپنے مالک &nbsp;ومولی سے جا ملتا ہے، ہر وقت اس کی عبادت اس کے ملنے کے لئے کرتا ہے، جیسا کہ اس نے یہ ارشاد باری تعالیٰ سنا ہے:</p>



<p>وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ اور انہیں یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں ہر ایک چیز سے کنارہ کش ہوکر‘۔ مخلوق میں سے کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ بس اللہ کو ایک جانو ( یہی اصل توحید ہے ) ، سب چیزیں وہی پیدا کرنے لا ہے، تمام چیزیں اس کے دست قدرت میں ہیں۔ غیر اللہ سے مراد یں مانگنے والے، یہ کہاں کی عقل مندی ہے، کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے جو اللہ کے خزانے میں موجودنہیں۔ اس کریم نے قرآن پاک میں ارشادفرمایا:</p>



<p>وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا ‌خَزَائِنُهُ اورکوئی چیز ایسی نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں‘۔</p>



<p><strong>فضل واحسانات کی بارش:</strong></p>



<p>اے بیٹا !تقدیر کے پرنالے کے نیچے صبر کا تکیہ لگا کر راضی برضا کا ہار گلے میں پہن لے اور کشائش کے انتظار میں عبادت گزار ہوکرمیٹھی نیند سو جا، جب تو ایسا کرے گا تو مالک تقد یر اپنے فضل واحسان سے تجھ پر ایسی نعمتیں نازل کرے گا کہ جن کی آرزو اور طلب کرنا بھی تجھے اچھی طرح سے نہ آ تا۔</p>



<p><strong>تقدیر کی موافقت کرو</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو تقدیر کی موافقت کرو اور مالک کی رضا پر راضی رہو اور سید عبدالقادر کے کہے پرعمل کر و جوکہ تقدیر کی موافقت میں کوشش کرنے والا ہے تقدیر کی موافقت (ہی) نے مجھے قادر (مطلق) تک پہنچا دیا ہے۔</p>



<p><strong>تقدیرشاہی قاصد ہے۔</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو! آؤ کہ تم اور ہم تقدیر اور امرالہی کے سامنے جھک جائیں، اپنے ظاہر اور باطن ہر دو حال میں سرتسلیم خم کریں اور تقدیر کی ہمر کابی کرتے ہوئے چلیں، کیونکہ تقدیرتو شاہی قاصد ہے تقدیر کے بھیجنے والے کی خاطرتقدیرکی تعظیم وتو قیر کرنا فرض ہے ۔ اور جب ہم اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کر یں گے تو اس کی رہنمائی میں ہم قادر مطلق ) تک پہنچ سکیں گے۔</p>



<p><strong>هُنَالِكَ ‌الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ </strong>اس جگہ حقیقی ولایت وسلطنت اللہ ہی کی ہے ۔‘‘ &nbsp;(وہاں کسی پیادے یا سوار کودخل ہی نہیں وہاں خاص شہنشاہی حکم و احکام ہیں۔) وہاں قادر( مطلق ) کے پاس بحرعلم ( الہی) سے سیراب ہو، اس کے خوان فضل سے کھانا کھاؤ ، اور اس کی محبت سے انس حاصل کرو جو کہ تمہاری غم خوار ہوگی اور اس کی رحمت کے پردوں میں چھپ جانا خوش گوار اور مبارک ہوگا ، بارگاہ قادر سے یہ مقام ومرتبہ دنیا کے تمام قبیلوں اور کنبوں کے لاکھوں انسانوں میں سے کسی ایک صاحب نصیب (یعنی مقدر والے) شخص کو ملتا ہے ۔</p>



<p><strong>باعمل علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں:</strong></p>



<p>اے بیٹا! تو اپنے لئے پر ہیز گاری اور شریعت کی پابندی کو لازمی سمجھ نفس، حرص اور شیطان اور بدوں کی صحبت سے بچتارہ ان کے جہاد میں صاحب ایمان اپنے سر سے خود نہیں اتارتا -اپنی تلوار کو بے نیام رکھتا ہے، نہ زین اتار کر اپنے گھوڑے کی پشت بر ہنہ کرتا ہے ، زین پر ہی خواب کی مانند نیند کرتا ہے ۔</p>



<p>تو اولیاء اللہ کی طرح ہے کہ جن کا طعام ( کھانا )فاقہ ہے، ان کا بولنا ، کلام کرنا ضرورت کے وقت ہے، خاموش رہنا ان کی عادت ہے، اللہ کے امر (حکم) سے بات کرتے ہیں ایسا کرنا ان کے لئے مقدر ہو چکا ہے دنیا میں اہل اللہ ، اس کی تحریک سے لب کھولتے ہیں ،دنیا میں ان کا بولنا اس طرح ہے جس طرح کہ قیامت کے دن سب اعضاء اللہ کے علم سے بات کر یں گے ۔ اللہ تعالی ان میں قوت کلام پیدا کرے گا ، جس نے کہ ہر ایک بولنے والے کوقوت گویائی عطا فرمائی ہے ۔ انہیں اس طرح بلاتا ہے جیسے وہ ( پتھروں وغیرہ ) جمادات کو گویا کر دیتا ہے، انہیں بھی قوت گویائی بخشتا ہے ۔ ان کے لئے گویائی کے اسباب مہیا کر دیتا ہے، اور پھر وہ بولنے لگتے ہیں ، جب انہیں کسی امر خاص پر بلانا مقصود ہوتا ہے تو اس کے لئے انہیں تیار کر دیتا ہے، جب اللہ نے چاہا کہ مخلوق کو اپنے عذاب سے ڈرائے ،خوف دلائے ،اوراپنی رحمت کی خوش خبری سنا ئے ۔ چنانچہ حجت قائم کرنے کے لئے نبیوں اور رسولوں کو قوت گویائی عطا فرما دی ، جب اس گروہ یا اس کو اپنے پاس بلا لیا تو ان کے قائم مقام ( نائب کے طور پر ) باعمل علماء کو پیدا فرمایا &nbsp;اور انہیں ایسی قوت گویائی عنایت فرمائی جس سے کہ نبیوں کے نائب بن کر مخلوق کی اصلاح کر سکیں ۔ جیسا کہ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا: إِنَّ ‌الْعُلَمَاءَ ‌وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ. &#8221; (باعمل ) علماء ( ہی ) انبیاء کے وارث ہیں ۔</p>



<p><strong>اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا:</strong><strong></strong></p>



<p>اللہ کے بندو! اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرو، اور خاص اس کی عنایت کی ہوئی خیال کرو، کیونکہ اس نے ارشاد فرمایا:</p>



<p><strong>وَمَا بِكُمْ ‌مِنْ ‌نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ</strong>”جو کچھ نعمتیں تمہیں پہنچ رہی ہیں سب اللہ ہی کی طرف سے ہیں ۔‘‘ اس کی نعمتوں میں عیش کرنے والو! تم سے ان نعمتوں کا شکر کہاں ہے؟ &#8211; غافلونعمتیں وہ عطا کرتا ہے تم انہیں اس کے غیر کی طرف سے خیال کرتے ہو، اورکبھی تم انہیں محدود سمجھ کر ان نعمتوں کے انتظار میں رہتے ہو جو ابھی حاصل نہیں ہوئیں اور کبھی ان نعمتوں کے ذریعہ نافرمانی کی راہ چل پڑتے ہو۔</p>



<p><strong>&nbsp;بادشاہ حقیقی کے در پر آؤ</strong></p>



<p>اے بیٹا! گوشہ تنہائی میں تجھے ایسی پرہیز گاری اختیار کرنی چاہئے جو نافرمانی اور بے راہروی سے نجات دلائے اور ایسا مراقبہ کرو کہ جو تجھے اللہ تعالی کی نظر رحمت اور شفقت ( جو تیری طرف ہے ) کی یادولائے &nbsp;تم محتاج اور بے قرار ہو کر چاہتے ہو کہ یہ نظر رحمت گوشہ تنہائی میں تمہارے ساتھ ہو۔پھر تجھے نفس حرص اور شیطانوں سے لڑائی کی سخت ضرورت ہے تاکہ تو انہیں &nbsp;زیر کرے۔</p>



<p>بڑے (بزرگ) لوگوں کی خرابی و تباہی لغزشوں ( غلطیوں کوتاہیوں ) سے ہے زاہدوں کی خرابی نفسانی خواہشوں سے ہے۔ اور ابدالوں کی خرابی وبربادی تنہائی میں فکر اور خطرات سے ہے، اور صدیقوں کی خرابی نظر کے بھٹکنے سے ہے ، ان کی مصروفیت اور ان کا کام تو اپنے دلوں کی حفاظت ہے کہ غیر اللہ سے دلوں کو نظر میں رکھیں ) ، کیونکہ وہ بزرگ تو بادشاہ کے دروازے کے نگہبان و محافظ ہیں، وہ مخلوق خدا کو اس کی معرفت ( معرفت الہی ) کی طرف بلانے والے ( دعوت دینے کے مقام پر کھڑے ہیں۔ اور ہر وقت زندہ دلوں کو آوازیں دیتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں: اے سلامتی والے دلو! اے راستی والی روحو! اے انسانو!،اے جنو ! اے مولی کی طلب رکھنے والو! بادشاہ حقیقی ومالک کے در پر آؤ، تم اپنے دلوں کے پاؤں اور تقوی وتوحید اور کامل پرہیز گاری کے قدموں سے بڑھو، ترک دنیا و ما سوا اللہ اور معرفت، ان سب کے قدموں کے ساتھ ( مقامات طے کرتےہوئے دوڑے چلے آؤ۔“</p>



<p>ان پاک باز لوگوں کا یہی منصبی فرض ہے، ان کا کام مخلوق کی اصلاح ہے۔آ سمانوں اور زمین عرش عظیم سے لے کر فرش زمین تک (غرض کہ ہر جگہ ان کا تصرف جاری وساری ہے۔</p>



<p><strong>ایمان زندگی ہے، کفر مردنی ہے :</strong><strong></strong></p>



<p>اسے بیٹا!اپنی نفسانی خواہشوں اور حرص کو چھوڑ دے اور ان پاکباز لوگوں کے قدموں میں مٹی کی طرح بچھ جا،ان کے سامنے خاک کی طرح مٹ جا ، جیسا کہ اللہ تعالى <strong>‌يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ </strong>(یعنی زندہ کو مردے سے نکالتا ہے، اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے) ۔ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے والدین سے جو ( کفر کی وجہ سے مردہ تھے، نکالا، ایمان والا ( مؤمن ) زندہ ہے اور کفر والا کافر مردہ ہے، خدا پرست (اس کی وحدانیت کا اقرار کر نے والا ) زندہ ہے ، بت پرست ( کفروشرک کرنے والا مر دہ ہے، اسی لئے اللہ تعالی نے اپنے کلام ( حدیث قدسی میں ارشاد فر مایا ہے <strong>‌أَوَّلَ ‌مَنْ ‌مَاتَ مِنْ خَلْقِي ‌إِبْلِيسُ</strong>-”میری مخلوق میں سب سے پہلے مرنے والا ابلیس ہے ۔“ یعنی اس نے میری نافرمانی کی اور اس گناہ کی وجہ سے اس (کے ایمان کی موت واقع ہوگئی ، اور وہ مردہ ہو گیا ( یعنی گناہ کرنا ایمان والے کے لئے موت ہے ۔ یہ آخری زمانہ &nbsp;جھوٹ اور نفاق کا بازار گرم ہے، اس لئے (احتیاط کا تقاضا ہے کہ منافقوں،جھوٹوں اور دجالوں کے پاس ہرگز نہ بیٹھو۔</p>



<p><strong>منافق نفس کی ہم نشینی اور شیطان کا دوستانہ</strong><strong></strong></p>



<p>افسوس کہ تیر انفس منافق ، جھوٹا ، کفر کر نے والا ہے ، فاسق و فاجر اور شرک کرنے والا (غیر اللہ کا پیرو ) ہے، تیری اور اس کی کیسے بن آئے۔ تو اس کی مخالفت کر موافقت بند کر ، اسے زنجیروں سے باندھ دے، آزاد انہ چھوڑ ، اسے قید کر دے ۔ اس سے جو مشقت کا کام لینا ہے وہ ضرور لے، نفس کو عبادت اور مجاہدوں سے کچل دے۔ نفسانی خواہشوں پر سوار ہو جا، یہ نہ ہو کہ وہ تم پر سوار ہو جائیں ، <strong>طبیعت کا کسی حال میں ساتھ نہ دے:</strong></p>



<p>&nbsp;کیونکہ وہ تو دودھ پیتے بچے (طفل شیرخوار ) کی طرح ہے جسے کسی طرح کی سمجھ بو جھ ہی نہیں ہے، تم ایک دودھ پیتے بچے کی بات مان کر کس طرح اس سے کچھ سیکھ سکتے ہو ، اور اس کے کہے کو کیسے مان سکتا ہے، رہی بات شیطان کی تو شیطان تمہارا اور تمہارے باپ آدم علیہ السلام کا دشمن ہے تم کس طرح اس کی طرف مائل ہو گئے اور اس کی بات مانو گے، حالانکہ تمہارے اور شیطان کے درمیان قدیم دشمنی اور (ہابیل کا )خون ہے، اس کا اعتبار نہ &nbsp;کرنا، کیونکہ وہ تمہارے ماں باپ ( حضرت آدم وحواعلیہما السلام) کا قاتل ہے، لہذا ( حیلے بہانے سے ) جب وہ تم پر قابو پالے گا تو ( جھانسا دے کر) تجھے بھی تیرے والدین کی طرح قتل کر دے گا ، چنانچہ تو تقوی کو اپنا ہتھیار بنالے، اللہ کی توحید اور اس کا مراقبہ اور خلوت میں پر ہیز گاری اور صدق اور اللہ سے مدد چاہنے کو اپنا لشکر بنا، &nbsp;یہ ہتھیار اوریہ لشکر ایسے ہیں جو شیطان کو شکست فاش دے کر اس کی جڑ کاٹ دیں گے اور اس کے لشکر کو ملیامیٹ کر دیں گے &nbsp;اور تم شیطان کو شکست دینے میں کیسے کامیاب نہ ہو گئے جبکہ حق تعالی ( اس کی شکست کے لئے) تمہارے ساتھ ہے۔</p>



<p><strong>اللہ کی طرف یکسوئی کیسے ہو:</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا! دنیا اور آخرت کو ملا کر ایک ہی جگہ پر کر دے، دونوں جہان ( دنیا و آخرت) سے بے نیاز ہو کر اپنے مالک ومولی کی طرف یکسوئی اختیار کرو، تیرے دل میں دنیا و آخرت کی محبت وطلب نہ ر ہے ۔ ماسوی اللہ کو ترک کر کے گوشہ نشیں ہو جا اور اللہ کی طرف متوجہ ہو خالق کو چھوڑ کر مخلوق کی قید میں مت پھنسو، ان سب اسباب سے لاتعلق ہو جا، ان خواہشات نفسانی سے دامن چرالے، چنانچہ جب تجھے اس طرح قدرت حاصل ہو جائے تو (یہ طریقہ اختیار کر کہ ) دنیا نفس کے لئے ، آخرت کو دل کے لئے اور مولی کی محبت کو باطن کے لئے رہنے دے۔</p>



<p><strong>&nbsp;حقیقی تو بہ دل کے اعمال سے ہے:۔</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا !نفس اور حرص اور دنیا وآخرت کے پیچھے نہ چل صرف اللہ ہی کے ہور ہو، حالانکہ تمہارے ہاتھ ایسا خزانہ لگا ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا &nbsp;ایسا کرنے سے تجھے اللہ تعالی سے ایسی ہدایت ملے گی جس کے بعد گمراہی نہیں ہے، تو گناہوں سے تو بہ کر کے اپنے رب کی طرف دوڑ جا۔ تو جب تو بہ کرے تو زبان اور دل ( ظاہر و باطن ) دونوں سے تو بہ کر توبہ کا مطلب ہے ) تیرے دل کے لباس کا پلٹ دینا، تو اپنے دل کی چادر پلٹ دے گناہوں کا لباس خالص توبہ اور حقیقی طور پر اللہ سے&nbsp; شرمندہ ہو کر&nbsp; اتاردے حقیقی توبہ دل کے اعمال سے ہے جو ظاہری اعضاء کوشرعی اعمال سے پاک کر لینے سے ہو۔ &nbsp;بدن کیلئے الگ عمل ہے اور دل (قلب)&nbsp; کیلئے الگ&nbsp; دل جب عالم &nbsp;اسباب اور مخلوق کے تعلقات کو ترک کر دیتا &nbsp;ہے تو توکل اور معرفت کے سمندر میں سوار ہوتا ہے، اور بحرعلم الہی میں غوطے لگا تا ہے، یوں سبب کو چھوڑ کر سبب بنانے والے(مسبب) کو طلب کرتا ہے، ایسا شخص جب سمندر کے بیچ میں پہنچتا ہے تو اس وقت وہ کہنے لگتا ہے &nbsp;</p>



<p><strong>الَّذِي ‌خَلَقَنِي فَهُوَ يَهْدِينِ </strong>&#8220;جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہی مجھے ہدایت دے گا ۔ اللہ تعالی اس سالک کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک رہنمائی فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ سیدھے راستے (صراط مستقیم) پر جا نکلتا ہے۔ اس سفر میں جب اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو راستے کی خرابی اور بھول بھلیاں دور ہو جاتی ہیں، راستہ روشن ہوتا چلا جاتا ہے- طالب (الہی) کا دل منزلیں طے کرتا ہوا ہر ایک چیز (ماسوا اللہ کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے، اور اگر کبھی راستے میں اسے ہلاکت کا خوف ہو تو و ہیں اس کا نور ایمان ظاہر ہوکر دل کی ڈھارس بندھا دیتا ہے۔ وحشت اور خوف کی آگ سرد پڑ جاتی ہے، اور اس کے بدلے میں انس کی روشنی اور قرب الہی کی مسرت حاصل ہوتی ہے۔</p>



<p><strong>اہل ایمان اور دوزخ کا ڈر</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا! اگرکوئی بیماری یا تکلیف آئے تو اس کا صبر کے ہاتھوں سے استقبال کر اللہ تعالی کی طرف سے دوا آ نے تک تسکین خاطر جمع رکھ ۔ دوا آ جائے تو اس کا شکر کے ہاتھوں سے استقبال کر۔( اس لئے کہ مصیبت آنے پر صبر کرنا اورنعمت ملنے پرشکر کرنے کا حکم ہے۔) اس حالت میں تجھے بہت جلد عیش و شادمانی حاصل ہوگا ۔</p>



<p>دوزخ کی آگ کا خوف اہل ایمان کے جگروں کو چھلنی ، چہروں کو زرداور دلوں کوغم زدہ کر دیتا ہے۔ اس مقام پر جب وہ ثابت قدم ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالی ان کے دلوں پر اپنی مہربانی کے دریا سے رحمت کا پانی برساتا ہے، ان کے لئے آخرت کا دروازہ کھول دیتا ہے، انہیں ان کے مقام دکھا دیئے جاتے ہیں، طالبان حق کو جب سکون اور اطمینان اور کچھ راحت میسر آتی ہے، تو اللہ تعالی ان پر اپنے جلال کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس عالم میں ان کے دل کو پاش پاش اور اسرار ( باطن) کوٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔ یہ حال انہیں پہلے سے بھی زیادہ خوفزدہ کر دیتا ہے، ان کی یہ حالت جب اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو پھر ان پر اپنے جمال کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔ انہیں سکون ملتا ہے، اطمینان حاصل ہوتا ہے اور وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں ۔ اور یوں انہیں یکے بعد دیگرے اپنے اپنے مقامات اور درجات حاصل ہو جاتے ہیں۔</p>



<p><strong>&nbsp;بندگی و بندہ ہونے کا اظہار آ زمائش کے وقت ہوتا ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا تجھے کھانے پینے ، لباس پہننے، نکاح وشادی کرنے ، گھر بار اور جمع پونچی کرنے کی سوچ اور فکر نہ ہونے چاہئے ، یہ تو نفس اور طبیعت کی ضرورتیں ہیں ، قلب و باطن کی ضرورت نہیں ، قلب و باطن کو مولی کی سچی طلب ہے۔ تیری ضرورتوں نے تجھے کس قدر غم زدہ کر دیا ہے، (یعنی تیری ضرورت نے تجھے فکر میں ڈال رکھا ہے ۔ تیری ضرورت صرف وہی کچھ ہونا چاہئے اللہ تعالی اور جو کچھ اس کے پاس ہے، دنیا کا بدلہ آ خرت ہے اور مخلوق کا بدلہ خالق ہے۔ جو کچھ تم ( عمل کی صورت میں دنیا میں چھوڑو گے اس کا بدلہ اور اس سے بہتر آخرت میں پاؤ گے (سوچو کہ اگر تمہاری زندگی کا ایک ہی دن باقی ہے تو آخرت کی تیاری کر اور موت کے فرشتے کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہوجا۔ دنیا لوگوں کے لئے کچھ ہی دیر میں ختم ہونے والی ہے جبکہ آخرت ان کے آباد ہونے کا مقام ہے۔ جب غیرت الہی جوش میں آتی ہے تو ان کے اور آخرت کے بیچ میں حائل ہو جاتی ہے۔ یہاں تکوین کو آخرت کا قائم مقام کر دیا جا تا ہے، آخرت کی جگہ خاص نعمتیں ملتی ہیں تو انہیں نہ دنیا کی طلب رہتی ہے اور نہ آخرت کی حاجت رہتی ہے۔</p>



<p>اےجھوٹے !دنیا کے طلب کرنے والے !نعمت کی حالت میں تو اللہ سے محبت کا دعوی کرتا ہے، اور جب اس کی طرف سے کوئی پریشانی آتی ہے تو اس طرح بھاگتا ہے گویا کہ اللہ تعالی سے تجھے محبت ہی &nbsp;نہ تھی ، بندے کی اصلیت آزمائش کے وقت کھلتی ہے ۔ اللہ کی طرف سے مصیبت آنے &nbsp;پر اگر تم نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا تو تم واقعی اس سے محبت کرنے والے ہو۔ اور اگر مصیبت میں گھبرا گئے ، ڈگمگا گئے تو پہلے کا کیا کرایا بیکار جائے گا اور ساتھ ہی تمہارا ( محبت کا جھوٹا دعوی ظاہر ہو ۔ جائے گا۔</p>



<p><strong>محبت میں سب آزمائشیں ہیں:</strong></p>



<p>ایک شخص رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:</p>



<p>یارسول اللہ ﷺمیں آپ سے محبت رکھتا ہوں ۔“ آپ &nbsp;ﷺ نے فرمایا: فقر ومحتاجی کی مصیبتیں اٹھانے کے لئے تیار ہوجا ،اورفقر کی چادر اوڑھ لے ۔‘‘ ایک اور شخص حاضر خدمت ہوا اور عرض کرنے لگا: &#8220;یارسول اللہ ﷺ میں اللہ تعالی کومحبوب رکھتا ہوں ۔“ حضور ﷺ نے ارشادفرمایا: تو بلا ومصیبت کے لئے چادر بنالے۔“</p>



<p>اللہ اور رسول کی محبت میں مصیبت اور فقر کی برداشت لازمی ہے، اسی لئے ایک عارف کامل نے فرمایا: ”محبت میں سب قسم کی مصیبتیں (آزمائشیں ) ہیں ۔اگر تم دعوی محبت نہ کرو تو بچے رہو۔ ایسا نہ ہوتو ہر ایک شخص اللہ تعالی کی محبت کا دم بھرنے گئے لہذا فقر اور مصیبت پر ثابت قدم رہنے کواللہ اور رسول کی بنیاد قرار دیا گیا۔</p>



<p><a>‌رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ </a>اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطافرما۔ اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھے۔ آمین!</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 10،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/14" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/14" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 14</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&amp;linkname=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6244-2%2F&#038;title=%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/6244-2/" data-a2a-title="پہلی مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/6244-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دوسری مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 03:33:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[احکام شریعت امانت]]></category>
		<category><![CDATA[بیداری اور دلکی زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[دل اور آنکھ کا اندھا پن]]></category>
		<category><![CDATA[شیطان کی موت]]></category>
		<category><![CDATA[فقر اور صبر مسلمان کاحصہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6249</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے دوسری مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الثانی فی الفقر ‘‘ ہے۔ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے دوسری مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الثانی فی الفقر<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقده 5 شوال 545 بروزمنگل بمقام مدرسه قادر یہ بغداد شریف</mark></p>



<p><strong> فقر وصبراہل ایمان کے سوا کسی غیر میں اکٹھے نہیں ہو سکتے:</strong></p>



<p>اے اللہ کے بندے اللہ کے ساتھ تیری غفلت اور غرور تجھے اس سے دور کر دے گا، اورتجھے اللہ سے الگ پھینک دے گا۔ اس سے پہلے کہ تجھے مار پڑے اور ذلیل و بے عزت کیا جائے ، اور مصیبتوں بلاؤں کے سانپ اور بچھو تجھے ڈسنے لگیں، تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ اپنی مغروری اور غفلت سے باز آ جاؤ ۔ چونکہ تم نے مصیبت و بلا کی مارکا مزہ چکھاہی نہیں، اس لئے ضرور دھوکہ میں پڑ رہے ہو، جو نعمتیں تجھے میسر ہیں۔ان میں پڑ کرمت اتراؤ، کیونکہ وہ عنقریب مٹ جانے والی ہیں۔ارشاد باری تعالی ہے:</p>



<p>حَتَّى إِذَا ‌فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً” جب وہ ہماری عطا کردہ نعمتوں پر اترانے لگے تو ہم نے انہیں ایک دم دبوچ لیا۔“ اللہ تعالی کی نعمتوں کے حصول میں صبر کرنے کے باعث ہی کامیابی و فتح مندی ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالی نے صبر کے لئے سخت تا کید فرمائی ہے۔ فقر اور صبر اہل ایمان کے سوا کسی غیر میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔ محبت والے مصیبت سے آزمائش کئے &nbsp;جاتے ہیں ، اور وہ آزمائش میں صبر کرتے ہیں، مصیبتوں اور آزمائشوں کے باوجودان پر نیک کاموں کے کرنے کا الہام ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف سے ان پر جونئی نئی مصیبتیں نازل ہوتی ہیں تو صبر سے برداشت کرتے ہیں، اگر صبر نہ ہوتا تو مجھے ہرگز اپنی مجلس میں نہ د یکھتے گویا کہ مجھے ایک جال بنا دیا گیا ہے جس کے ذریعے شروع رات سے اخیر رات تک پرندوں کا شکار کیا جا تا ہے ۔ میری آنکھ کھول دی جاتی ہے اور میرے پاؤں کو بھی کھول دیا جاتا ہے۔ (وقت تنہائی ہے) ۔ دن میں آنکھیں بند ہوتی ہیں اور میرے پاؤں جال ( پھندے ) میں جکڑے ہوتے ہیں &#8211; قضاوقد ر کا یہ فعل تمہاری حالت کی اصلاح ونصیحت کے لئے ہے مگر تم نہیں پہچانتے ہو، اگر اللہ کی توفیق مجھے راستہ نہ دکھاتی (یعنی اگر میں راضی برضا نہ ہوتا تو کون عقل مند ہے جو اس شہر میں بیٹھتا اور اس شہر کے رہنے والوں کے ساتھ رہن سہن اختیار کرتا ، جس شہر میں دکھاوا، مکاری ، نفاق اور ظلم عام ہے۔ شبہ اور حرام کی کثرت ہے، اللہ کی دی گئی نعمتوں پر ناشکری کی جاتی ہے، اور ان نعمتوں کے بل بوتے نافرمانیوں اور فسق و فجور پر مد دحاصل کی جاتی ہے، ایسے لوگ بکثرت ہیں جن کے حالات مختلف پہلو رکھتے ہیں: جو اپنے گھر میں فاجر ، دکان پر آ کر پرہیز گار، اپنے تہہ خانے میں زندیق ( بے دین ) ہوں ، اور کرسی پر بیٹھ کر صدیق بن جائیں ، اگر میں حکم (شریعت) کا پابند نہ ہوتا تو جو کچھ تمہارے گھروں کے اندر ہوتا ہے ،سب بیان کر دیتا مگر میں ایک مکان کی بنیاد رکھ رہا ہوں جس کو عمارت کی تعمیر کی ضرورت ہے، اور میرے روحانی بچے (مرید ) ہیں جو تربیت کی حاجت رکھتے ہیں ، میرے پاس علم الہی کی بعض ایسی معلومات ہیں، اگر میں انہیں ظاہر کر دوں تو میرے اور تمہارے درمیان جدائی کی وجہ بن جائیں ، اس وقت میں جس حالت میں ہوں ، اس میں مجھے تمہاری ہدایت کے لئے ) نبیوں اور رسولوں کی طاقت کی ضرورت ہے، آدم علیہ السلام سے لے کر میرے زمانہ تک جو نیک انسان گزرے ہیں، مجھے ان کے صبر کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر ) میں قوت ربانی کا محتاج ہوں ۔ اللهم لطفا وعينا وموافقة ورضا &nbsp;آمین! &nbsp;الہی میں تیرے لطف و مدد اور توفیق اور رضا چاہتا ہوں۔ آمین۔</p>



<p>&nbsp;<strong>ایمان قول اور عمل دونوں کا نام ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>بیٹا ! تم دنیا میں ہمیشہ کی زندگی اور خواہشیں پوری کرنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ، اللہ کے جن نا پسندیدہ کاموں میں تو مبتلا ہے، انہیں چھوڑ دے، بدل دے، تم نے صرف کلمہ لا إله إلا الله محمد رسول اللہ زبان سے پڑھ کر یہ سمجھ لیا کہ عبادت و اطاعت الہی سے بری الذمہ ہو گئے، ایسا کرنا تجھے کچھ نفع نہ دے گا جب تک کہ تم اس کے ساتھ کوئی اور چیز یں نہ ملاؤ گے۔ ایمان قول اورعمل دونوں کا نام ہے۔ گناہ کرتے جانا، نافرمانی میں مبتلا رہنا اللہ کی مخالفت میں لگے رہنا ،ان سارے کاموں پر اصرار بھی کرنا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا چھوڑ دینا روزہ رکھنا ترک کر دینا ،صدقہ اور نیکی کے کام نہ کرنا، ایسے میں صرف کلمہ شریف پڑھ کر ایمان کا دعوی کرنا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ ہی تمہیں کچھ نفع دے گا ۔ عمل کے بغیر کلمہ شہادت تجھے کیا فائدہ دے گا۔ جب تم لا إلـــہ الا اللہ کہہ کر توحید کے مدعی بن گئے تو تم سے تمہارے دعوے کی تصدیق کے لئے گواہ طلب کئے جائیں گے، تمہیں علم ہے کہ وہ گواہ کیا ہیں اور کون ہیں؟ &#8211; احکام الہی کا بجالانا ، اور جن کاموں سے منع کیا گیا ہے ان سے باز رہنا، آفتوں پر صبر کرنا اور تقدیر الہی کو تسلیم کر لینا تمہارے دعوی توحید کے یہی گواہ ہیں اور جب تم ان اعمال پر کار بند ہو جاؤ گے تو) اخلاص ربانی کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہ ہوگا۔ اس کی بارگاہ میں کوئی قول عمل کے بغیر اور کوئی عمل اخلاص اور اتباع شریعت کے بغیر مقبول نہیں ہے ۔</p>



<p>اپنے مال سے فقیروں کے دکھ بانٹو ۔ اپنی استطاعت اور قدرت کے مطابق تھوڑی بہت جو مددان کی ہو سکےکرتے رہو، ان کے سوال کو رد کر کے انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ ۔ اللہ کو عطا بڑی محبوب ہے ۔ عطا کرنے میں تم اللہ کی موافقت کرو، اس کے شکر گزار ہو کہ اس نے تمہیں اس نیکی کی توفیق بخشی اور مال کے عطا کرنے پر قدرت عنایت فرمائی۔ افسوس تو تمہاری اس بات پر ہے کہ سائل اللہ کے لئے سوال کرتا ہے( اللہ کے نام پر ہدیہ مانگتا ہے ۔ ) تم میں دینے کی قدرت بھی ہے۔ اس کے باوجود تم ہدیہ عطا کرنے والے اللہ کی طرف ہد یہ لوٹانے سے خودکو کیوں روکتے ہو، (اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب تو میری طرف متوجہ ہوتا ہے مجھے اپنے دل کا حال سنانے کی کوشش کرتا ہے ، باتیں ( وعظ ) سنتا ہے اور روتا ہے ۔ اور جب تیرے پاس کوئی سائل (میرے نام پر خیرات مانگنے کے لئے آتا ہے تو تیرا دل سخت ہو جا تا ہے۔ ( تیرے اس رویئے اور طرزعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میرے پاس بیٹھ کر تیراوعظ سنناسنانا اور رونا خالصا اللہ کے لئے نہیں تھا۔ میرے پاس بیٹھ کر تیرا وعظ سننا پہلے باطن سے پھر دل سے ہونا چاہئے ، پھر ظاہری اعضاء سے کہ وہ نیکی اور بھلائی میں مشغول رہیں، اور جب تم میرے پاس آؤ تو اپنا علم اور عمل اور زبان، اپنا حسب ونسب سب کو بھلا کے آؤ اور اپنامال اور اپنے اہل وعیال ،قبیلہ سب کچھ چھوڑ کے آؤ، ماسوا اللہ سے دل کو خالی کر کے میرے سامنے کھڑے ہوتا کہ میں تمہیں اپنے قرب اورفضل واحسان کا لباس پہنا دوں۔ میرے پاس آتے وقت جب تم اس پر عمل کرو گے تو تمہاری یہ کیفیت اس پرندے کی طرح ہوگی جو صبح &nbsp;کے وقت اپنے گھونسلے سے بھوکا نکلتا ہے اور شام کو جب لوٹتا ہے تو اس کا پیٹ بھرا ہوتا ہے۔ دل کی نورانیت اللہ کے نور سے ہے، اس لئے رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے فرمایا:</p>



<p>اتَّقُوا ‌فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ، فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ تَعَالَى مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔</p>



<p>اے فاسق (وبدکار )صاحب ایمان (یعنی مومن) سے ڈرتا( بچتا رہ ، اپنے گناہوں کی نجاست سے لتھڑ کر اس کے پاس نہ جا۔ کیونکہ وہ اللہ کے نور سے</p>



<p>&nbsp;جس حالت میں تو مبتلا ہے، تجھے دیکھ لے گا ، &nbsp;تیرا شرک اور نفاق اس پر کھل جائے گا،تیرے کپڑوں کے نیچے جو تیرے بدعمل ، تیری ذلتیں اور رسوائیاں پوشیدہ ہیں ، سب دیکھ لے گا۔ ( تجھے اس سے حیا کرنی چاہئے ) ۔ جوشخص صاحب فلاح اور خلاص کو ( نیک نیتی سے نہیں دیکھتا، وہ فلاح اور خلاصی نہیں پاسکتا، تو حرص کا مجسمہ ہے۔تیر ا ملناجلنا حرص والوں کے ساتھ ہے۔</p>



<p>کسی سائل نے سوال کیا کہ یہ اندھا پن کب تک رہے گا ، ارشادفرمایا: &#8211; یہاں تک کہ طبیب کے پاس جائے ۔ اس کی دہلیز پر تکیہ لگائے ، طبیب کے ساتھ نیک گمان رکھے، اپنے دل سے اس کی طرف سے تہمت و بدگمانی نکال ڈالے۔ اپنی اولادسمیت اس کے در پر بیٹھا رہے۔ &nbsp;اس کی کڑوی دوا کو صبر کے ساتھ نوش کرے۔ اس وقت تمہاری ( دل کی) آنکھوں سے ( ظاہری و باطنی ) اندھا پن دور ہو جائے گا۔‘‘</p>



<p><strong>شان فقر دل کے ترک دنیا کرنے میں ہے:</strong></p>



<p>فقر کی شان کھر درے(موٹے )لباس اور ناقص (وبے مزہ ) کھانا کھانے میں نہیں ہے،۔فقر کی شان تو دل کے ترک دنیا کرنے (زہد اختیار کرنے میں ہے، عاشق صادق پہلے پہل اپنے باطن پر صوف کا لباس پہنتا ہے، پھر وہ اپنے ظاہر کی طرف بڑھتا ہے، &nbsp;( اس میں ترتیب اس طرح سے ہے کہ پہلے اپنے باطن کو صوف ( جامہ تصوف) پہنا تا ہے، پھر قلب (دل) کو ، پھر نفس کو ، پھر اپنے ظاہری اعضاء کو ظاہر اور باطن کھر درا ہو جائے ( یعنی سراپا صوف پوش ہو کر ) نیک بن جا تا ہے تو اس کی طرف شفقت و رحمت واحسان کا (ربانی) ہاتھ بڑھتا ہے اور اللہ کی طرف سے طاری کردہ مصیبت پر بڑا انقلاب لے آ تا ہے ۔ اس سے غم واندوہ کاسیاہ (ماتمی لباس اتار کر جامہ راحت پہنا دیتا ہے۔ اس کی مشقت اور تکلیف نعمت سے _بخش ورنج سرور سے، ڈر خوف امن سے ،دوری قرب ونزدیکی سے اور،فقر ومحتاجی کو غنا وامیری سے بدل دیتا ہے۔ <strong>شریعت کے احکام تمہارے پاس امانت ہیں:</strong></p>



<p>اے بیٹا! قسمت سے لکھے (یعنی رزق کو زہد کے ہاتھ سے تناول کر ، رغبت کے ہاتھ سے نہ کھا، &nbsp;کھا کر رونے والااس شخص کی طرح نہیں ہوتا جو کھا کر ہنسنے والا ہے۔ اپنے نصیب کا رزق اس طرح کھاؤ کہ تمہارا دل اللہ کے ساتھ مشغول ہو، یوں تو کھانوں کے شر سے بچارہے گا ،جس چیز کی اصلیت سے تم واقف نہیں ہوا سے از خود کھانے سے بہتر ہے کہ طبیب کے ہاتھ سے کھاؤ۔</p>



<p>اے سننے والو تمہارے دل کس چیز نے سخت بنا دیئے ،تم سے دیانت داری جاتی رہی ،آپس کی محبت و مہربانی بھی دور ہو گئی۔شریعت کے احکام تمہارے پاس امانت ہیں تم نے ان پرعمل کرنا چھوڑ دیا اور تم میں خیانت رائج ہوگئی۔ تجھ پر افسوس ہے کہ تیرے نزدیک امانت کی کوئی اہمیت نہیں ۔ کچھ ہی دنوں میں تیری آنکھوں میں پانی اتر آئے گا اور تیرے ہاتھ پاؤں آ ہنی زنجیر سے جکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالی تم پر اپنی رحمت کا دروازہ بند کر دے گا ، اور اپنی مخلوق کے دلوں میں تیری طرف سے سختی ڈال دے گا ،اوروہ جو تجھ پر احسانات کرتے ہیں ان سے انہیں روک دے گا اپنے سروں کو اپنے رب کے ساتھ محفوظ رکھو، اور اس سے ڈرتے رہو، اس لئے کہ اس کی پوچھ گچھ نہایت ہی سخت اور تکلیف دہ ہے، تمہیں تمہاری امن اور عافیت کی جگہ اور غرور و نافرمانی سے پکڑے گا ، اس سے خوف کرو، وہی زمین و آسمان کا مالک ہے۔ شکر کے ساتھ اس کی نعمتوں کی حفاظت کرو، کرنے اور رکنے سے حکم کا سننے &nbsp;اور ماننے سے مقابلہ کرو، &nbsp;اس کی سختی اورتنگی کو صبر کے ساتھ اور کشادگی وسعت کوشکر سے مقابلہ کرو، تم سے پہلے جو نبی اور رسول، صالحین و عابدین گزر چکے ہیں۔ان کا بھی اسی پرعمل تھا، وہ نعمتوں پر شکر اور مصیبتوں پر صبر کیا کرتے تھے، تم اس کی نافرمانی اور گناہوں کے خوانوں سےالگ ہو جاؤ ، اور اس کی اطاعت و تابع داری کے خوانوں سے کھاؤ۔ اللہ کی حدوں کی حفاظت کرونرمی و آسانی آ ئیں توشکر کرو جب تنگی آئے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرواوراپنے نفسوں سے جھگڑا کرو، کیونکہ اللہ کسی حالت میں اپنے بندوں پرظلم نہیں کرتا، &nbsp;موت اور اس کے بعد در پیش آنے والے حالات کو یاد کرو، تمہارے ساتھ اللہ کا جو حساب اور مہربانیاںہیں ، انہیں یادرکھو، غفلت کی نیند کب تک سوتے رہو گے نادانی و جہالت نفس کی بے ہودگی حرص میں قائم رہنے کی عادت کب تک رہے گی۔اللہ کی عبادت اور شریعت کی پابندی میں ادب کو مدنظر کیوں نہیں رکھتے ، عادت کو ترک کر دیناہی عبادت ہے، قرآن وحدیث کے احکام سے سبق کیوں نہیں سیکھتے اس کے مطابق کیوں نہیں چلتے۔</p>



<p><strong>دل کی زندگی تو یہ ہے کہ&#8230;&#8230;.</strong></p>



<p>&nbsp;اے بیٹا! اندھے پن، نادانی اور غفلت و خواب کی حالت میں لوگوں کے ساتھ میل جول نہ کر۔ ان سے دل کی آنکھوں علم اور بیداری سےمل، اگر ان سے کوئی اچھی بات ہے تو تو بھی ان کا ساتھ دے-ان کی تابعداری کر،اگر ان میں کوئی قابل نفرت اور خلاف شرع بات دیکھے تو ان کا ساتھ نہ دے ، خود بھی ان سے بچ اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی تلقین کر اللہ کے معاملے میں تم پوری طرح سے غفلت میں ہو، &nbsp;تمہارے لئے ضروری ہے کہ احکام الہی کی تعمیل کے لئے بیدار ہوشیار ہو جاؤ اور مسجدوں ہی کے ہور ہو، نبی کریم &nbsp;ﷺ پر کثرت سے درودوسلام بھیجو، کیونکہ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا:</p>



<p><strong>لو نزل من السماء نار ما نجا منها إلا أهل المساجد</strong> &#8211; اگر آسمان سے آگ اترے تو مسجد والوں کے سوا کوئی اور شخص اس سے نجات نہ پائے گا۔‘‘ نماز ادا کرنے میں اگر تم غفلت کرو گے تو تمہاری نماز اللہ تک نہ پہنچے گی ، اس لئے رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشاد فرمایا:</p>



<p>أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‌إذَا ‌كَانَ ‌سَاجِدًا &nbsp;سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ تو کتنی تاویلیں (ردوبدل) کرتا ہے &nbsp;اور رخصتیں(سہولات آسانی نرمی ) تلاش کرتا ہے&nbsp; یاد رکھ تاویلیں کرنے والا بے وفا دھوکہ باز ہوتا ہے ۔ کاش کہ ہم &nbsp;، محض عزیمت( سختی ومشقتی برداشت کرتے ہوئے شرعی احکام کی تعمیل کرنا عبادت میں جتنی تکلیف زیاد و برداشت کی جائے ، اسی قدر اجر بھی زیادہ ہوگا۔) پرعمل پیرا ہوتے ، اپنے اعمال میں اخلاص کرتے ، تب ہی اللہ کے احکام سے ہمیں خلاصی ہوتی ( نجات ملتی )۔ لہذا کیا حال ہوگا جب کہ ہم تاویلیں اور رخصت تلاش کر یں ،عزیمت بھی گئی اور اہل عز یمت بھی گزر گئے ،یہ تو رخصت کا دور ہے عزائم کا زمانہ گیا، یہ دکھادے (ریا)، نفاق اور ناحق مال چھین لینے کا دور ہے ۔ ایسے لوگ بہت ہیں کہ نماز وروزہ ، حج اور زکوۃ ،اور نیکی کے سب کام لوگوں کے (دکھاوے کے لئے کرتے ہیں ، اپنے خالق و مالک کے لئے نہیں کرتے ۔ آج کل لوگوں کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ مخلوق کی خوشی کو مقدم رکھیں مخلوق کو راضی رکھیں ، اس میں خالق اور اس کی منشاء ورضا مندی کا مطلق خیال نہ کر یں، اس لئے تم سب کے دل مردہ ہو چکے ہیں، نفس اپنے خواہشوں اور طلب دنیا کے ساتھ زندہ ہیں۔ زندگی وزندہ دلی یہ ہے کہ مخلوق سے کٹ کر خالق کے ساتھ جڑا جائے ، خالق کے ساتھ تعلق قائم کیا جائے ۔ کیوں کہ اس مقام پر ظاہری صورت کا تو اعتبار ہی نہیں ہے۔ دل کی زندگی تو یہ ہے کہ احکام الہی بجا لائے ، نہی سے بازرہے اور بلاؤں ، حادثوں پر صبر کر کے اور تقدیر کے امور میں سرتسلیم خم کرے۔</p>



<p><strong>دین کی زندگی ، شیطان کی موت:</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا! تقدیر کے امور پر راضی برضا ہو کرخودکواللہ کے سپردکر دے۔ پھر تو استقامت اختیار کر ، ہر کام کے لئے &nbsp;بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے، پھر اس پر عمارت کی ۔ رات اور دن کی تمام گھڑیوں میں اس پر ثابت قدم رہنا اور ہمیشگی کرنا چاہئیے۔ افسوس ہے کہ تولا پرواہ ہے، اپنے ہر کام میں غور وفکر کیا کر ، ہر معاملے میں فکر کرنا تو دل کا کام ہے، جب تو اس میں اپنے لئے بہتری ( نیکی ) پائے تو اللہ کا شکر ادا کر، اللہ کی نعمت پر شکر کرنا لازم ہے، اور جب تو اس میں اپنے لئے برائی دیکھے تو اس سے توبہ کر لے۔ اس غوروفکر سے تمہارادین زندہ ہوگا اور شیطان کی موت ہوگی ، اس لئے فرمایا کہ</p>



<p>‌تَفَكُّرُ ‌سَاعَةٍ ‌خَيْرٌ ‌مِنْ ‌قِيَامِ ‌لَيْلَةٍ’’ایک گھڑی کا فکر ساری رات کی عبادت سے بہتر ہے ۔</p>



<p><strong>تھوڑے عمل پر کثیراجر:</strong></p>



<p>&nbsp;اے محمد ﷺ کے امتیو ! تم اللہ کاشکر ادا کرو، کیونکہ اس نے تم سے پہلے گزر جانے والی امتوں کے زیادہ اعمال کی نسبت تمہارے تھوڑے عمل کو بھی قبول فرمالیا ہے۔ تم دنیا میں سب سے بعد میں آئے ہو جبکہ اللہ کی رحمت سے قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگے ۔ تم میں سے جو شخص صحیح وتندرست ہے، اس جیسا کسی امت کا اور کوئی صحیح نہیں ہے،تم امتوں کے سردار اور امیر ہوجبکہ وہ تمہاری رعایا ہیں، جب تک تو لوگوں سے اس کی نعمتوں میں جھگڑا کرتارہے گا، اور اپنے دکھاوے اور نفاق سے ان سے فائدہ اٹھا تا رہے گا تو تندرست نہ ہوگا ، اپنے نفس اور حرص وطمع میں گھرار ہے گا صحیح نہ ہوگا، ۔ جب تک تو دنیا میں رغبت کرنے والا ہے، تیرے لئے (روحانی طور پر) تندرستی وصحت نہیں ہے۔ جب تک تیرادل ماسوا اللہ پر بھروسہ کرنے والا رہے گا، تجھے اللہ پر اعتماد نہ ہوگا ، اور پھر تجھے ( روحانی طور پر صحت وتندرستی نہ ہوگی ۔</p>



<p>اللهم ارزقنا الصحة معك ‌وآتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے اللہ! ہمیں اپنا قرب اور صحت عطا فرما اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 20،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/21" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/21" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 21</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d9%2588%25d8%25b3%25d8%25b1%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="دوسری مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تیسری مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/6236-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/6236-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 03:22:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[اولیاء کی زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[تفکر فی الخلق]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا جمع کرنا]]></category>
		<category><![CDATA[علم بغیر عمل]]></category>
		<category><![CDATA[علم کی پکار]]></category>
		<category><![CDATA[مردان خدا اور ذکر الہی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6236</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے تیسری مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الثالث فی عدم تمنی الغنی <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/6236-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے تیسری مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الثالث فی عدم تمنی الغنی<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color">منعقده 8 شوال المکرم  545 بروز جمعتہ المبارک بوقت صبح بمقام مدرسہ قادر یہ، بغداد</mark></p>



<p><strong>اپنے نصیب پرخوش رہنے والا ہی خوش نصیب ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>اے فقیر! تو مالدار بننے کی آرزو نہ کر ، ہوسکتا ہے کہ مال )کی کثرت ( &nbsp;تیری تباہی کا باعث ہو۔اے بیمار! تو تندرست و صحت مند ہونے کی خواہش &nbsp;نہ کر ، شائد کہ تیری تندرستی تیری ہلاکت کا سبب بن جائے ۔ دانائی اختیار کر کے (اپنی محنت کے نتیجہ کومحفوظ کر ، ( اس حکمت عملی سے ) تیرا انجام قابل قدر ہوگا ۔ جو نعمت حاصل ہے اس پر قناعت کر ، اس سے زیادہ کی طلب نہ کر ، مالک کی رضا پر راضی رہ تمہارے مانگنے پر اللہ سے جو ملے گا، یہ تجربے کی اور آزمائی ہوئی بات ہے کہ اس میں راحت اور آسائش نہ ہوگی، ہاں جب بندے کے دل میں القائے الہی سے کوئی تمنا ڈال دی جائے ، اس میں (یقینا ) برکت ہوگی ، اس سے ہر طرح کی خرابی دور کر دی جائے گی ، عام طور سے تمہیں اللہ تعالی سے اپنے گناہوں کی ۔ بخشش صحت و تندرستی ، دین دنیا اور آخرت میں ہمیشہ کی صحت کا سوال کرنا چاہئے ۔ اور تجھے اسی پر اکتفا اور قناعت کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالی سے کسی خاص چیز کی پسند کا اظہار کر کے اپنی خودمختاری نہ جتا، اور نہ اپنے جبر کا اظہار کر ، ورنہ بھاری شدید نقصان اٹھائے گا &#8211; اپنی جوانی اور طاقت اور مال سے ذات الہی اور اس کی مخلوق پر اترامت، کیونکہ اس کی پکڑ بڑی سخت ہے، دوسروں کی طرح تمہیں بھی اپنی گرفت میں لے لے گا۔ اس کی گرفت بڑی مصیبت میں ڈالنے والی ہے۔</p>



<p><strong>&nbsp;دورنگی چھوڑ دے، یک رنگ ہوجا:</strong><strong></strong></p>



<p>افسوں تجھ پر کہ تم صرف زبان سے مسلمان ہو، دل سے مسلمان نہیں ( یعنی مسلمان ہونے کا زبانی اقرار کیا ہے، دل سے اس کی تصدیق نہیں کی باتیں مسلمانوں والی ہیں ، کام مسلمانوں والے نہیں ، محفلوں میں، مجلسوں میں تو مسلمان ( دکھائی دیتا ہے لیکن اکیلے میں اس کے برعکس ہے، کیا تجھے معلوم نہیں کہ جب تو نماز پڑھے گا اور روزہ رکھے گا، اور نیکی کے اور کام کرے گا ، اگر یہ سب کچھ خالص اللہ کے لئے نہیں تو تم پکے منافق ہو۔ اور اللہ کی رحمت سے بہت دور ہو، اب بھی وقت ہے کہ تو بارگاہ الہی میں اپنے تمام عملوں، باتوں اور گندے مقاصد سے توبہ کر لے۔ اللہ والے کے کسی کام میں نفاق ( خوشامد نہیں ہوتا ۔ وہ اعلی مقام ومرتبہ پانے والے ہیں ، وہ یقین والے ہیں ، اللہ کو ایک ماننے والے ہیں ، اخلاص والے ہیں ، اور اللہ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں ، اس کی عطا کردہ نعمتوں اور احسانوں پر شکر ادا کرتے ہیں ۔ اپنی زبانوں سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ لوگوں سے دکھ اور تکلیفیں اٹھا کر اللہ کے سامنے ہنستے مسکراتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کے بادشاہ نا کارہ ہیں، زمین پر بسنے والے مردے ہیں ، عاجز ہیں ،محتاج، پیار اور تنگ دست ان کے خیال میں بہشت اجاڑ اور دوزخ کی آگ بجھی ہوئی ہے، ان کی نظر میں نہ زمین ہے نہ آسمان ، نہ ہی ان میں کوئی رہنے والا ہے ، ان کی توجہ ہر طرف سے ہٹ کر ایک ہی طرف (مرتکز ہوگئی ۔ پہلے وہ دنیا داروں کے ساتھ تھے۔ پھر آخرت اور آخرت والوں کے ہمراہ ہوئے ۔ پھر دنیا وآخرت کے رب اور اس کے محبوبوں سے جا ملے اپنے دلوں سے خدا کے ساتھ سیر کر کے واصل بحق ہو گئے اور رستہ چلنے سے پہلے ہی رفیق کو پالیا اوراپنے اور اس کے درمیان درواز کھول لیا۔</p>



<p>&nbsp;مردان الہی جب تک اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں، اللہ (بھی) ان کا ذکر کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے سب گناہ جھڑجاتے ہیں۔ غیر اللہ سےگم ہوکر ان کا وجوداللہ کی ذات کے ساتھ موجود ہوتا ہے، کیونکہ یہ ارشاد الہی انہوں نے سن رکھا</p>



<p>‌فَاذْكُرُونِي ‌أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ” تم مجھے یادکرو میں تمہیں یادکروں گا تم میرا شکر کرو ناشکری نہ کرو ۔“ چنانچہ انہوں نے اس شوق کے باعث کہ اللہ ان کا ذکر کرے، وہ ہمیشہ ذکر الہی میں مصروف رہتے ہیں ، انہوں نےحدیت قدسی میں یہ ارشادالہی سنا:</p>



<p><strong>‌أَنَا ‌جَلِيسُ مَنْ ذَكَرَنِي</strong>&#8220;جوشخص میراذ کر کرتا ہے، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔‘‘</p>



<p>چنانچہ ا للہ والوں نے مخلوق کی محفلیں ترک کر دیں اور یا دالہی پر قانع ہوکر رب تعالی کے ہمنشیں ہو گئے ۔ علم<strong>بغیرعمل کے نفع نہیں دیتا:</strong></p>



<p>&nbsp;اے لوگو! حرص نہ کرو تم تو سراپا حرص بن رہے ہو، یہ علم بغیر عمل سے نفع نہیں دیتا ۔ تمہیں اشد ضرورت اہے کہ یہ سیاہی جو سپیدی پر ہے (یعنی قرآن مجید ) ، اس پرعمل کرو، احکام الہی پر متواتر ہر دن اور ہر سال عمل کرتے رہو تا کہ اس کا نیک اجر تمہارے ہاتھ لگ سکے۔</p>



<p><strong>&nbsp;علم عمل کو آواز دیتا ہے</strong></p>



<p>بیٹا! تیراعلم تجھے پکارتا ہے کہ اگرتو مجھ پرعمل نہ کرے گا تو میں تیرے خلاف نقصان دہ دلیل و حجت ہوں، اگر مجھ پر عمل کرو گے تو میں تیرے موافق ( نافع دلیل و حجت ہوں۔ &nbsp;</p>



<p>رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا: یهتف العلم بالعمل فإن أجابة وإلا ارتحل ترتحل بركته وتبقى حجتہ ترتجل شفاعته لك من مولاه وينقطع دخوله عليك في حوائجك إرتحل ليه وبقى قشورا فان لب العلم لا يصح</p>



<p>&nbsp;علم عمل کو آواز دیتا ہے اگر عمل سن لے تو بہتر ور نہ علم چل دیتا ہے، اس کی برکت اٹھ جاتی ہے، عالم کی محنت ( دھری رہ جاتی ہے ، تیرے علم کا اللہ تعالی سے شفاعت ( کرنے کا حق چلا جاتا ہے، حاجت اور ضرورت کے وقت اس کا تیرے پاس آ نا موقوف ہو جاتا ہے ۔ یعنی علم کا مغز رخصت ہو جا تا ہے اور اس کا پوست( چھلکا ) باقی رہ جاتا ہے ، اس لئے علم کا مغز و جوہرعمل ہے ۔‘‘</p>



<p>رسول اللہ &nbsp;ﷺ کی اطاعت و تابعداری اس صورت میں صحیح ہو سکتی ہے کہ جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اس پر عمل کیا جائے جب تم آپ &nbsp;ﷺ کے بتائے ہوئے تمام حکموں پرعمل کرلو گے تورسول اللہ &nbsp;ﷺ تیرے قلب &nbsp;اور باطن ( دونوں ) پر تو جہ فرماکر اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش فرمادیں گے، تمہاراعلم تمہیں آواز دیتا ہے اگرتم اسے نہیں سنتے ، جائے ، کیونکہ تمہارے پاس قلب سلیم نہیں ہے، اس کی بات دل اور باطن کے کانوں سے سنو اور اس پر توجہ کرو، کیونکہ تو اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے،عمل کے ساتھ علم تجھے اس عالم (اللہ تعالی جوکہ علم کا نازل کرنے والا ہے ) کے قریب کر دیتا ہے، جب اس حکم پر جو کہ علم اول ہے عمل کر لو گے تو تم پر دوسرے علم کا چشمہ پھوٹ نکلے گا،تمہارے پاس دوعلموں کے چشمے جاری ہو جائیں گے، تمہارے قلب میں حکم اور ظاہر و باطن کا علم بھر دیا جائے گا ، اس وقت تم پر اس نعمت (لازوال ) کی زکوۃ ادا کرنا واجب ہوگی ۔ اس سے اپنے بھائیوں اور مریدوں کی غم خواری کرنا ۔ علم کی ز کوۃ یہ ہے کہ علم کو عام کر دیا جائے ، اورخلق خدا کو خدا کی طرف دعوت دی جائے ۔</p>



<p>اولیاء کرام نبی اللہ &nbsp;ﷺ کے نائب اور حقیقی وارث ہیں:۔</p>



<p>&nbsp;اے بیٹا! جس نے صبر کیا اس نے قدرت پالی ( گویا وہ قادر ہو گیا ارشاد باری تعالی ہے:</p>



<p><strong>إِنَّمَا ‌يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ </strong>و صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا ۔‘‘</p>



<p>تم کسب ( کمائی کر کے کھاؤ، دین فروشی سے نہ کھاؤ، کسب و کمائی سے کھاؤ ، اور اپنی کمائی سے دوسروں کی بھی دل داری کرو، ایمان والوں کی کمائی صدیقوں کے طباق ہیں۔ ان کے کسب، پیشے اور محنت کی غرض صرف فقیروں اور مسکینوں کی خدمت کرنا ہے (یعنی ان کی کمائی میں فقیروں اور مسکینوں کے سوا کسی اور کا حصہ نہیں۔ وہ خلق خدا پر رحمت کر نے کی آرزو رکھتے ہیں ۔ اس خیرات سے ان کا مقصد رضائے الہی اور محبت حقانی کا حصول ہے، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ &nbsp;ﷺ کا یہ ارشا دسنا ہے: &#8216; الْخَلْقُ كُلُّهُمْ ‌عِيَالُ ‌اللَّهِ، فَأَحَبُّ خَلْقِهِ إِلَيْهِ أَنْفَعُهُمْ ‌لِعِيَالِهِ &#8211; لوگ اللہ کی عیال ( کنبہ ) ہیں،اورلوگوں میں اللہ کا سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو اللہ کی عیال کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے ۔</p>



<p>اولیاء اللہ خلقت کے اعتبار سے گونگے ، بہرے اور اندھے ہیں ، ان کے دل جب اللہ کے نزدیک ہوجاتے ہیں تو وہ نہ غیر اللہ کودیکھتے ہیں اور نہ غیراللہ کی بات سنتے ہیں، قرب الہی کے باعث انہیں شدت سے رونا آتا ہے، ان پر اللہ کی ہیبت طاری ہوتی ہے۔ اللہ کی محبت انہیں محبوب کے پاس قید کر دیتی ہے۔ وہ جلال اور جمال کے درمیان رہتے ہیں، دائیں بائیں دھیان نہیں کرتے ، پیچھے کی بجائے ان کی توجہ سامنے ہی رہتی ہے، انسان، جن اور فرشتے غرض سب طرح کی مخلوق ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہتی ہے حکم اور علم ان کے خادم بن جاتے ہیں، اللہ کا فضل ان کی غذا ہے، ، بوئے محبت ( انس ) انہیں تروتازہ رہتی ہے،&nbsp; اس کے فضل کے طعام سے کھاتے ہیں، اور اس کی انسیت کے شربت سے پیتے ہیں ۔ کلام الہی سننے کے شغل کے باعث خلقت کا کلام نہیں سنتے ،غرض ان میں اور عام خلقت میں زمین و آسمان کا فرق ہے ( اولیاء کرام ایک جنگل ومیدان میں ہیں اور دوسری مخلوق دوسرے میدان میں ) خلق خدا کو احکام الہی سناتے ہیں، اور جن باتوں سے اللہ نے روکا ہے ان سے روکتے ہیں ، وہ نبی &nbsp;ﷺ کے نائب اور حقیقی وارث ہیں ۔ ان کا کام خلقت کو دروازہ حق پر پہنچانا ہے، اور ان پراللہ کی حجت کو قائم کرنا ہے، سب چیز یں ان کے مقام پر رکھتے ہیں (یعنی ہر شے کوقرینے سے رکھتے ہیں۔ ہر صاحب فضل کو اس کے حصے کافضل دیتے ہیں ، وہ کسی کی حق تلفی نہیں کرتے ،اپنی طبیعتوں اور نفسانی خواہشوں کی پیروی نہیں کرتے ۔ اللہ ہی کے لئے محبت کرتے ہیں، اور اللہ ہی کے لئے نفرت کرتے ہیں، ان کا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے، کسی غیر کا ان میں کچھ عمل دخل نہیں ، جس کا مکمل طور پر یہ حال ہو جائے تو اس پر کمال محبت ختم ہو جا تا ہے۔ (یعنی تمام انسان ، جن اور فرشتے ،زمین و آسمان اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس کے تابع فرمان بن جاتے ہیں)۔ اے منافق! &#8211; مخلوق واسباب کے پجاری! اے رب تعالی کو بھول جانے والے ! تم چاہتے ہو کہ اللہ نے جو مقام ومرتبہ اپنے اولیاء کرام کو دیا ہے، وہ تجھے بھی مل جائے جبکہ تم بد خصائل میں مبتلا &nbsp;ہواللہ کے دربار میں تمہاری کوئی عزت نہیں ، تمہاری کوئی قدر نہیں ۔ پہلے مسلمان بنو ( اسلام لاؤ) پھر توبہ کرو۔ پھرعلم پڑھو اور عمل کرو۔ اخلاص پیدا کر، ورنہ تجھے ہدایت نصیب نہ ہوگی۔ تم پر افسوس ہے۔ مجھے تم سے کوئی دشمنی نہیں ،سوائے اس بات کے کہ، میں تجھ سے حق بات کہتا ہوں ، اور اللہ کے دین کی تعمیل میں تم سے نہیں ڈرتا ، میں نے مشائخ عظام کے کلام کی سختی اور سفر وفقر کی مشقت میں پرورش پائی ہے، جب میں تمہیں مخاطب کر کے کوئی کلام کروں تو اسے اللہ کی طرف سے سمجھو۔ اس لئے کہ اس نے مجھ سے کہلوایا ہے۔ جب تم میرے پاس آؤ تو اپنے آپ سے اور اپنے نفس سے اپنی خواہشوں سے خالی ہو کہ آؤ اگر تیرے دل کی آنکھیں ہوتیں توتو مجھے ان سب چیزوں سے خالی دیکھتا ۔مگر تیری الٹی سمجھ تیرے لئے خرابی کا باعث ہے۔</p>



<p>اے مرید!مجھ سے فائدہ اٹھانے کی خواہش رکھنے والے! ۔ میری صحبت میں بیٹھنے کی آرزو کرنے والے! میری اپنی حالت یہ ہے کہ جس میں نہ خلقت ہے نہ دنیا اور نہ آخرت ہے۔ لہذا جوشخص میرے ہاتھ پرتو بہ کرے اور میری صحبت میں رہے، اور میرے بارے میں حسن ظن رکھے، اور میرے کہے پرعمل کرے ، وہ بھی ان شاء اللہ ایسا ہی ہو جائے گا ، اللہ تعالی:</p>



<p>انبیاء کرام کی تربیت اپنے کلام ( وجی ) سے فرماتا ہے، اوراولیاء کرام کی تربیت اپنی حدیث (یہاں حدیث سے مراد اولیا اللہ کے دلوں میں القائے ربانی ہے)سے فرماتا ہے جو قلبی الہام ہے۔ اولیاء کرام، انبیاء کرام کے وصی اور خلفاء اور بچے ہیں، اللہ تعالی کلام کرنے والا ہے، کلام کرنا اس کی صفت ہے، اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے کلام کیا ، خالق وعلام الغیوب نے کلام کیا کسی مخلوق نے نہیں ، خالق نے موسی علیہ السلام سے بلا واسطہ ایسا کلام کیا جو انہوں نے سمجھ لیا اور یہ کلام ان کی عقل تک پہنچ گیا اللہ &nbsp;تعالی نے ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ سے بھی بلا واسطہ کلام فرمایا ، یہ قرآن مجید ایک مضبوط رسی ہے جو تمہارے اور رب کے درمیان تنی ہوئی ہے، جسے جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے پاس سے آسمان سے آپ &nbsp;ﷺ پر اتارا ، جیسا کہ اللہ نے فرمایا دیا اور اس (جبرائیل) نے خبر دے دی ۔ اس بات کا انکار کرنا جائز نہیں۔ اللهم اهد الكل وتب على الكل وارحم الكل الہی ہم سب کو ہدایت دے ، اور سب کی توبہ قبول کر اور سب پر رحم فرما</p>



<p><strong>حکایت خلیفہ معتصم باللہ :</strong></p>



<p>&nbsp;امیرالمومنین معتصم باللہ سے حکایت ہے کہ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اس بات کا اقرار کرتے ہوئے تو بہ &nbsp;کی کہ</p>



<p>خدا کی قسم میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس ظلم سے توبہ کرتا ہوں جو میں نے (امام احمد بن حنبل (علیہ الرحمہ) کے حق میں کیا تھا، باوجود اس کے کہ میں خوداس (ایذارسانی کا بانی نہ تھا، میرے علاوہ اور لوگ تھے جو اس کا سبب بنے تھے ۔( اس کے دور میں معتزلہ کا فتنہ&nbsp; کلام اللہ غیر مخلوق اور حادث &nbsp;ہے امام احمد نے اس &nbsp;کے خلاف دلائل دئیے ۔ خلیفہ معتصم معتزلہ کے زیر اثر تھا، اس کے دربار میں ان کا بڑا عمل دخل تھا&nbsp; خلیفہ نے امام صاحب کوکوڑے لگوائے اور قید کر دیا ۔ اس کے باوجودامام اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور آخر تک یہی فرماتے رہے کہ قرآن کلام الہی ہے اور غیر مخلوق &nbsp;ہے )</p>



<p><strong>&nbsp;ایسے کام میں لگوجود نیاد آ خرت میں فائدہ دے:</strong><strong></strong></p>



<p>اس مسکین جس&nbsp; معاملے میں&nbsp; بات کرنے کا فائدہ نہیں&nbsp; اس میں بات نہ کر مذہب کے بارے میں بے جاتعصب کو چھوڑ دے، اور ایسے کام میں لگو جو دنیا وآخرت میں فائدہ دے، تمہیں بہت جلد اپنی خبر معلوم ہو جائے گی ، پھر میری بات کو یاد کرے گا ، اور بہت جلد نیزہ بازی کے وقت دیکھ لو گے کہ سر پر خود نہ (پہنا ہوتو سر پر کتنے کاری زخم لگتے &nbsp;ہیں، اپنے دل کو دنیا کی سوچوں اور غموں سے خالی کر دو، کیونکہ عنقریب تم سے ان کی پوچھ کچھ ہوگی ، یا تو دنیا سے چلا جانے والا ہے ،د نیا میں عیش و آرام کی زندگی کی تمنامت کر، وہ تیرے ہاتھ نہ لگے گی ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا</p>



<p><strong>العيش عيش الأخرة </strong>عیش (بس) آخرت کی عیش ہے ۔“ اپنی امید کو گھٹا دینا کہ (اس سے) تجھے دنیا میں زہد حاصل ہو جائے گا، کیونکہ زہد کے معنی یہی ہیں کہ اپنی امید کوگھٹا دیا ،بروں کی دوستی چھوڑ دے۔ تجھ میں اور ان میں جوتعلق ہے اسے توڑ دے، اور نیکوں کے ساتھ ناطہ جوڑ لے۔ اگربروں میں اپنا کوئی قریبی ہو تو اس سے بھی الگ ہو جا۔ اگر کوئی دور والا نیکیوں کے ساتھ ناطہ جوڑے، اگربروں میں اپنا کوئی قریبی ہوتو اس سے بھی الگ ہو جاؤ، &nbsp;اگر کوئی دور والا نیکوں میں سے ہو تو اس سے واسطہ بنالے، جس سے تم محبت کرو گے اس کے اور تمہارے بیچ قرابت ہو جائے گی، جس سے تو دوستی کرنا چاہتا ہے اسے آزمالے، پر کھلے۔</p>



<p>کسی بزرگ سے پوچھا گیا کہ قرابت کیا چیز ہے؟ فرمایا: محبت جو چیز تیرے نصیب میں ہے اور جو چیز نصیب میں نہیں، دونوں کی طلب چھوڑ دے نصیب کی آرزو کرنا بے فائدہ و بے کار ہے ( وہ تو خود ہی بن مانگے ملے گا ۔ اور جو چیز نصیب میں نہیں ، اس کی تمنا کرنا جان کا عذاب اور رسوائی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا:</p>



<p>من جملة عقوبات الله عز وجل يعبده طلب مالم يقسم له بندے کا ایسی چیز طلب کرنا جو اس کی قسمت میں نہیں لکھی گئی ، بھی اللہ کے عذابوں میں سے ایک ہے۔</p>



<p><strong>&nbsp;اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کا مشاہدہ کرنا:</strong></p>



<p>اے بیٹا اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں اس کے ہونے کی دلیل ہیں بنے ہوئے کی مہارت و کاری گری سے متعلق غوروفکر کر تو اس کے بنانے والے تک پہنچ جائے گا۔ اس کے بنانے والا تجھے مل جائے گا۔) صاحب ایمان و یقین عارف کامل کی دو آنکھیں ظاہر میں ہیں اور دوباطن میں ہیں۔ وہ ظاہری آنکھوں سے زمین پر پیدا ہونے والی چیزیں دیکھتا ہے، اور باطنی آنکھوں سے آسمانوں میں پیدا ہونے والی چیز یں دیکھتا ہے، پھر اس کے دل سے سب پر دے ( حجاب ) اٹھا دیئے جاتے ہیں، اور وہ کسی تشبیہ اورکسی کیفیت کے بغیر اللہ کو دیکھتا ہے ۔ چنانچہ وہ مقرب ومحبوب الہی ہو ہے، اور محبوب سے تو کوئی راز چھپا ہی نہیں رہتا، کوئی پردہ نہیں رہتا ۔ جو دل مخلوق نفس وطبیعت ، حرص اور شیطان سے خالی ہو، اس سے پردے اٹھادیئے جاتے ہیں ، وہ اپنے ہاتھ سے زمین کے خزانوں کی کنجیاں &nbsp;پھینک دیتا ہے ، اس کے نزدیک قیمتی پتھر اور مٹی برابر ہوتے ہیں، تو عقل سے کام لے، میرے کہے پر غور کر ، سوچو۔ سمجھو، بلاشبہ میں نے کلام کو پالیا ہے، اس قیمتی کلام کے جو ہر میں ، اس کے باطن میں معنی خیز راز ہے۔</p>



<p><strong>عقل مندی اس کے در کا رہور ہنے میں ہے:</strong></p>



<p>&nbsp;اے بیٹا !مخلوق سے خالق کا شکوہ نہ کر، بلکہ اس سے کر کہ وہی قدرت رکھتا ہے، اس کے سوا کسی دوسرے کو قدرت نہیں ۔ مصیبتوں، بیماریوں اور صدقہ خیرات کا چھپانا اچھائیوں کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے، اپنے دائیں ہاتھ سے جب صدقہ خیرات کرو تو اس بات کا خیال رہے کہ اس کا بائیں ہاتھ کو علم نہ ہو، نیا کے سمندر سے بچ کے رہو، کیونکہ اس میں بہت سی خلقت ڈوب چکی ہے۔ توحید والوں کے سوا کوئی نجات نہیں پاسکا۔ وہ بہت گہرا سمندر ہے، وہ ہر ایک کو ڈبو دیتا ہے ،سوائے اس امر کے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے دنیا کے سمندر سے نجات عطا فرمادے۔ جیسا کہ قیامت کے دن ایمان والوں کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرمائے گا، کیونکہ سب کو دوزخ کے اوپر سے گزرنا ہوگا (اس لئے کہ پل صراط دوزخ پر قائم ہے ، اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہے گا نجات عطا فرمائے گا۔ ارشاد باری تعالی ہے۔</p>



<p><strong>وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا ‌وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا </strong>اورتم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا گز ردوزخ پر نہ ہو، تمہارے رب کے ذمہ یہ ضرور فیصلہ کن بات ہے۔ دوزخ کی آگ سے اللہ تعالی فرمائے گا کہ تو سرداور سلامتی والی ہو جا تا کہ میرے بندے جو مجھ پر ایمان لائے ،میرے لئے اخلاص رکھنے والے ،میری طرف رغبت رکھنے والے، میرے ساتھ رہ کر غیر کو چھوڑ دینے والے، تیرے اوپر سے (باامن گزر جائیں &#8211; یار شادالہی ویسا ہی ہو گا جیسا کہ نمرود کی آگ کو حکم ہوا جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے &nbsp;کیلئے جلائی تھی ، ارشادالہی یہ تھا: يَانَارُ كُونِي ‌بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ اللہ تعالی نے جب دنیا کے سمندر سے کسی کو نجات دینا ہوتی ہے تو ارشادفرماتا ہے:<strong> يا بحر الدنيا أمانا لا تغرق هذا العبد المراد المحبوب فينحو منه </strong>اے &nbsp;&nbsp;دنیا کے سمندر! میرے اس محبوب و مراد بندے کو&nbsp; نجات دے اور غرق نہ کرنا۔</p>



<p>چنانچہ اللہ کا محبوب دنیا کے سمندر سے نجات پا لیتا ہے (یعنی یہ شخص صاحب باطن ہو جا تا ہے جیسا کہ موسی علیہ السلام اور آپ کی قوم کو اس دریا ( نیل سے نجات عطا فر مائی وہ کریم اپنے فضل و کرم سے جسے جو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے اسے بے حساب رزق دیتا ہے۔ سب بھلائیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ دینا، نہ دینا &#8212; امیر کر دینا غریب کر دینا ،اس کے دست قدرت میں ہے، عزت وذلت بھی اس کے اختیار میں ہے ۔ اس کے کسی امر میں کسی غیر کا عمل دخل نہیں، &nbsp;صاحب دانش وہی ہے جو اس کے در کا ہور ہے ، اور غیر کے دروازے کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ مگراے بد بخت! میں دیکھتا ہوں کہ تو مخلوق خدا کو راضی کرتا ہے اور خدا کو خفا ،دنیا کی عمارت کھڑی کر کے آ خرت کو بر باد کرنے پے تلا ہوا ہے، تو جلد ہی گرفتار ہو جائے گا، تجھے وہی پکڑے گا جس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہے ۔ اس کی پکڑ کے کئی طریق ہیں۔ &nbsp;تجھے تیری ولایت سے الگ کردے، &nbsp;بیماری ، ذلت محتاجی میں مبتلا کر دے، تیرے اوپرسختیاں اور غم مسلط کر دے، مخلوق کی زبانوں اور ہاتھوں کو مسلط کر دے &#8211; تیرے نقصان پر ساری خلقت کواکسادے۔ اے غفلت میں پڑے انسان! ہوشیار ہو جا، بیدار ہو جا، اللهم يقضنا بك ولك آمين! و &#8220;البی! ہمیں اپنے ساتھ اور اپنے لئے بیدار کر!۔آمین!‘‘</p>



<p><strong>دنیا کی طلب نے تجھے غافل کر دیا ہے:</strong></p>



<p>اے بیٹا! تو دنیا کی طلب میں ایسا نہ بن جا جیسے کوئی رات کے اندھیرے میں لکڑیاں جمع کرنے والا ہوتا ہے، وہ نہیں جانتا کہ اندھیرے میں اس کا ہاتھ کہاں جاپڑے اور اس کے ہاتھ کیا لگ جائے ، میں دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنے دھندے میں رات کولکڑیاں جمع کرنے والے کی طرح ہے۔ رات بھی اندھیری ہے، چاندنی نہیں، اورلکڑیاں جمع کرنے والے کے پاس روشنی (مشعل) بھی نہیں، وہ ایسے ریگستان میں ہے جہاں گھنی جھاڑیاں ہیں اور مار دینے والے موذی جانور بھی ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی موذی ( سانپ یا بچھو اسے ڈس لے ( اندھیرے میں ممکن &nbsp;ہے لکڑی کے دھوکے میں سانپ پر ہاتھ ڈال دے۔ تجھے چاہئے کہ تو لکڑیاں دن کو جمع کرے (یعنی غفلت چھوڑ کر ہوشیاری سے کام کر ۔ کیونکہ آفتاب کی روشنی تجھے ایذا دینے والی چیزوں پر ہاتھ ڈالنے سے بچائے رکھے گی ۔نیا کے دھندوں میں آفتاب تو حید وشرع اور تقوی کے ساتھ چل ، آفتاب تجھے نفس کی خواہشوں، حرص و شیطان اور غیر کے جال میں پھنسنے سے بچا تارہے گا، اور دنیا کی سیر میں جلد بازی کرنے سےتجھے روکے گا ۔</p>



<p><strong>جلدی کا کام شیطان سے منسوب ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>تجھ پر افسوس ہے، جلدی نہ کر ، جس نے کام میں جلدی کی ، یا خطا کی ، یا اس سے قریب ہوا اور جوسوچ سمجھ کر سنبھل کر ،آ ہستگی سے چلا ، وہ مراد کو پہنچایا اپنی مراد کے قریب ہوا، جلدی کا کام شیطان سے منسوب ہے، اور آہستگی سے کام کرنا رحمان کی طرف سے ہے۔دنیا جمع کرنے کی حرص اکثر تمہیں جلد بازی (عجلت ) پر اکساتی ہے ، قناعت سے کام لے، اس لئے کہ قناعت ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم ہو نے کا نہیں ۔ جو چیز تمہاری قسمت میں نہیں اس کی تمنا کیوں کرتے ہو۔ وہ تمہارے ہاتھ بھی نہ لگے گی ۔ اپنے نفس کو روکو اور رب کی رضا پر شا کر رہو، اس کے غیر سے کوئی واسطہ نہ رکھو۔ انہی باتوں کا التزام کر ، یہاں تک کہ تو خدا شناس ہو جائے ، تب تو ہر چیز سے بے پرواہ و بے نیاز ہو جائے گا ۔ تیرادل معرفت کے اسرار سے آشنا ہو جائے گا اور باطن صفا ہو جائے گا ، اور رب تعالی تجھے تعلیم دے گا ، چنانچہ تمہارے سر کی آنکھوں میں دنیاء دل کی آنکھوں میں آخرت، باطن کی آنکھوں میں ماسوا اللہ، ذلیل ہوں گے ۔ تمہارے نزدیک اللہ کے سواکسی چیز کی عظمت، قدرومنزلت نہ رہے گی ۔ ایسے میں تم سب خلقت کے نزدیک صاحب عظمت ہو جاؤ گے۔</p>



<p><strong>خوف خدا ہر بند دروازے کی چابی ہے:۔</strong></p>



<p>بیٹا! اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے سامنے کوئی دروازہ بند نہ ر ہے تو اللہ سے ڈرو، کیونکہ خوف خداہر بند دروازے کی چابی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: &nbsp;</p>



<p>وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا&nbsp; وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا ‌يَحْتَسِبُ’’جوشخص خوف خدا کرتا ہے، اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا، اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں کااسے گمان نہ ہو ۔ تو اللہ کی تقدیر سے اپنے نفس اور کنبے، مال اور دنیا کے دوستوں کے بارے میں موزانہ مت کیا کر کیا تجھے اس کی ذرا بھی حیا نہیں کہ تو اللہ پر حکم چلاتا ہے کہ اس کی تقدیرکو بدل دے، اس کے حالات کو بدل دے &#8211; کیا تو اس سے بڑا حاکم ہے۔ زیادہ علم رکھتا ہے، زیادہ رحمت والا ہے۔ (نہیں ہرگز نہیں تو بھی اور ساری خلقت بھی اس کے (عاجز بندے ہیں وہی تمہاری اور ساری خلقت کی حسن تدبیر کرنے والا ہے۔ اگر تم دنیا و آخرت میں اس کی صحبت میں ( مصاحبت میں) رہنا چاہتا ہے تو سکون اور خاموشی کے ساتھ لب بستہ ہو جا۔ زبان پر تالا لگا دے۔</p>



<p><strong>جن کی دنیا میں حسن ، جن کی آخرت بھی حسن :</strong><strong></strong></p>



<p>اولیاء اللہ اللہ کے سامنے بادب ہیں ، اس کے حضور کسی قسم کی بے جا حرکت نہیں کرتے جب تک اس کی طرف سے ان کے دلوں کو واضح حکم نہ آ جائے ، وہ ایک قدم بھی اٹھانے کے روادار نہیں، وہ مباح چیزوں سے نہ کوئی چیز کھاتے ہیں نہ لیتے ہیں، نہ نکاح کرتے ہیں ، نہ اپنے اسباب کو برتتے ہیں ، جب تک کہ الہام کے ذریعے ان کے دلوں میں اس کی واضح اجازت نہ مل جائے ، وہ خدا کی ذات کے ساتھ قائم ہیں، جو ذات دلوں اور نگاہوں کو پلٹنے والی ہے ، انہیں اپنے رب کے بغیر قرار ہی نہیں حتی کہ دنیا میں وہ دلوں کے ساتھ چلتے ہیں اور آخرت میں اپنے جسموں کے ساتھ ملیں گے ۔ اللهم ارزقنا لقائك في الدنيا والاخرة للذنا بالقرب منك والرؤية لك اجعلنا ممن يرضى بك عما سواك ‌ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الہی &nbsp;دنیا اور آخرت میں اپنی ملاقات ہمارے نصیب کر اپنی قربت اور زیارت سے ہمیں لذت عطا فرما ہمیں ان لوگوں میں سے کر دے جو تیرے ما سوا کو چھوڑ کر تجھ سے راضی ہیں ۔ اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے گی‘‘ &#8211; آمین!</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 28،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/25" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/25" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 25</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&amp;linkname=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6236-2%2F&#038;title=%D8%AA%DB%8C%D8%B3%D8%B1%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/6236-2/" data-a2a-title="تیسری مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/6236-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چوتھی مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 03:08:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[بھلائی کا دروازہ]]></category>
		<category><![CDATA[کاہل شخص محروم]]></category>
		<category><![CDATA[مخلوق یا خالق کا بندہ]]></category>
		<category><![CDATA[نجات کا ذریعہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6243</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے چوتھی مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الرابع فی التوبۃ ‘‘ ہے۔ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے چوتھی مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الرابع فی التوبۃ<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقده 10 شوال المکرم  545 بروز اتوار بوقت صبح ، بمقام خانقاہ شریف</mark></p>



<p><strong>&nbsp;جس پر بھلائی کا دروازہ کھلا ہے ، وہ اسے غنیمت جانے:</strong><strong></strong></p>



<p>رسول اکرم &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>‌مَنْ ‌فُتِحَ ‌لَهُ بَابٌ مِنَ الْخَيْرِ فَلْيَنْتَهِزْهُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَتَى يُغْلَقُ عَنْهُ</strong>و جس کسی کے لئے بھلائی کا دروازہ کھولا جائے ،اسے چاہئے کہ غنیمت جانے ، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ وہ دروازہ اس پر کب بند کر دیا جائے ۔</p>



<p>&nbsp;اے لوگو! تم پر جب تک زندگی کا دروازہ کھلا ہے اسے غنیمت سمجھو، اس لئے کہ وہ عنقریب بند ہو جانے والا ہے۔ نیکی اور بھلائی کے کام کرنے کی جب تک تم قدرت رکھتے ہواسے غنیمت جانو ، جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے،اسے غنیمت سمجھو۔ اس میں داخل ہو جاؤ ،نیک وصالح بھائیوں کی ملاقات کا جو دروازہ کھلا ہے، اسے غنیمت جانو ، اے لوگو!&nbsp; جو تم نے توڑڈالا ہے اسے بنا ڈالو، جو کچھ نا پاک کیا ہے، اسے دھو ڈالو ۔ جو گدلا ( گندا کیا ہےاسے صاف کرلو، جو بگاڑ لیا ہے اسے سنوار لو، اوروں سے جولیا ہے، اسے لوٹا &nbsp;دو، اپنی نافرمانی اور بھاگ دوڑچھوڑدو اور اللہ کی طرف چلے آؤ ۔</p>



<p><strong>مخلوق کا بندہ یا خالق کا بندہ:</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا!&nbsp; یہاں خلق و خالق کے سوا اور کوئی نہیں ہے، اگر خالق کے ساتھ رہے تو اس کا بندہ ہے ۔ اگر مخلوق کے ساتھ رہے تو اس کا بندہ ہے، جب تک دل سے ویرانوں اور چٹیل میدانوں کو طے نہ کر لے، اور باطن سے ہر ایک چیز سے جدا نہ ہو جائے ، تو کسی شمار قطار میں نہیں ، کیا تجھے نہیں معلوم کہ طالب مولی اس کے ہمراہ ہے مگر سب سے جدا ہے۔ یقین جانو کہ مخلوقات میں سے ہر ایک چیز بندے اور خدا میں حجاب ہے ۔ جس چیز پر نگاہ ٹھہر جائے وہی حجاب بن جاتی ہے۔</p>



<p><strong>&nbsp;کاہلی وسستی محرومی وندامت کا باعث بنتی ہے ۔</strong></p>



<p>اے بیٹا! کابلی وسستی نہ کر، کیونکہ کاہل ہمیشہ محروم رہتا ہے ، اور ندامت اس کے گلے کا ہار بن جاتی ہے، تو اپنے عملوں کواچھابنا کیونکہ اللہ تعالی نے دنیاو آخرت میں تیرے لئے اچھائی کی ہے ،ابومحمد نبی علیہ الرحمہ کہا کرتے تھے الھــم اجعلنا جيدين ، اے اللہ انہیں کھرا (اچھا) کردے‘‘جبکہ وہ اللهم اجعلنا جیادا کہنے کا ارادہ فرماتے تھے لیکن خوف کے باعث ان کی زبان ان کا ساتھ نہ دیتی تھی ، جوفرمان آپ زبان سے ادا نہ کر سکے، اس کا مفہوم یہ تھا ’الہی! ہمیں خالص مخلص بنا دے ۔ جس نے لذت پائی اسے معرفت الہی حاصل ہوئی ۔ خلقت کے ساتھ اچھا میل ملاپ شرعی میل جول ہوتو اس میں کچھ بھلائی اور نیکی نہیں قدرومنزلت بھی کچھ نہیں ، اہل صفا اور برگزید ہ لوگ عملوں کے مقبول اورر دہونے کا خاص علامتوں سے جان لیتے ہیں۔</p>



<p><strong>دنیا میں جو بونا ہے، آخرت میں وہی کا ٹنا ہے:</strong></p>



<p>&nbsp;اے بیٹا! تو دعا کا ایک تسلسل قائم کر دے اور اللہ کی رضا کی طرف متوجہ ہو، اگر دل کو کوئی اعتراض ہوتو زبان سے دعا نہ مانگ ، کیونکہ تیرا کام تو مانگنا ہے، دینا نہ دینا تو اللہ کی مرضی ہے، تو دعا کرنے میں غفلت نہ کر)&nbsp; زبان ودل ، دونوں کویکسوکر کے دعا مانگ، دنیا میں انسان نے جو بھلائی یا برائی کی ہے، قیامت کے دن یاد آئے گی ، اس وقت شرمندہ ہونا کچھ فائدہ نہ دے گا، اور اسے یاد کرنا بیکار جائے گا، عزت تو تب ہے کہ مرنے سے پہلے سب کیا کرایا یاد کرو، فصل کی کٹائی میں لگے لوگوں کو دیکھ کرکھیتی باڑی اور بوائی کی فکر فضول ہے۔</p>



<p>رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>الدنيا مزرعة الأخرة فمن زرع خيرا حصدا غبطة ومن زرع شرا حصد ندامة</strong> دنیا آخرت کی کھیتی ہے، جس نے بھلائی بوئی ، بھلائی پائے گا ، اور باعث مسرت ہوگا، جو برائی ہوئے گا۔ وہاں ندامت اٹھائے گا۔</p>



<p>اگر مرتے وقت تمہیں اس کا خیال آیا تو اس وقت کا خیال کرنا ذرا بھی فائدہ نہ دے گا۔ اللهم نبهنا من نوم الغافلين عنك الجاهلين بك . آمين!&nbsp; الہی! ہمیں غافلوں اور جاہلوں کی نیند سے ہوشیار و بیدار کر آمین!‘‘</p>



<p><strong>قرآن وسنت پر عمل کرنے سے ہی نجات ہے:</strong></p>



<p>اے بیٹابروں کی صحبت تمہیں نیکوں سے بدگمان کر دے گی اللہ کی آخری کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے سائے تلے چل کر ہی نجات مل سکتی ہے۔</p>



<p><strong>اللہ سے ایسی حیا کروجیسا کہ حیا کا حق ہے</strong>:۔</p>



<p>&nbsp;اے لوگو! اللہ سے ایسی حیا کروجیسا کہ حیا کا حق ہے۔ چند روزہ زندگی کو غفلت سے ضائع نہ کرو، تم ایسی چیزیں جمع کرنے میں لگے ہوجنہیں کھا نہیں سکتے ۔ امید لگائے بیٹھے ہو، مگر پانہیں سکتے ۔ ایسی تعمیر یں کر رہے ہو جن میں رہ نہیں سکتے ، رضائے الہی کے مقام سے یہ سب کچھ تمہارے لئے حجاب ہے،&nbsp; اللہ کے ذکر نے عارفوں کے دلوں کو اپنے دائرہ اثر میں لے رکھا ہے اور ماسوا کے ذکر کو بھلائے دیتا ہے یہ مرتبہ پانے پرجنت میں ٹھکانہ پایا، جنتیں بھی دو ہیں:ایک نقد ،ایک ادھار(جنت موعودہ)</p>



<p>کہ جس کا وعدہ ہے، نقدی جنت دنیا میں ہے یعنی : راضی برضارہنا، دل کا اللہ سے قریب ہونا ، اور اس سے سرگوشی کرتے رہنا ، دل اور ذات الہی کے درمیان سے پردوں کا اٹھ جانا ، ایسے دل والے کو تنہائی ( خلوت میں بلا کیف وتشبیہ کے ذات الہی کا ساتھ رہتا ہے۔ لَيْسَ ‌كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ اس کی مثل کوئی چیز نہیں ، وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے ۔‘‘</p>



<p>جنت موعودہ وہ ہے کہ جس کا اللہ تعالی نے اہل ایمان کے لئے وعدہ فرمایا ہے، جس میں بغیر کسی حجاب کے اللہ کا دیدار ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر خیر اللہ کی طرف سے ہے، اور ہر شر غیر اللہ کی طرف سے ہے ، اللہ کی طرف رخ کروتو خیر ہی خیر ) ہے۔ اس سے رخ موڑ وتو شر ( ہی شر) ہے۔</p>



<p>جس عمل پر بدلے کی طلب ہو، وہ عمل تیرے لئے ہے اور جس عمل سے اللہ کی رضا مقصود ہو، وہ عمل اللہ کے لئے عمل کا بدلہ چاہو گے تو بدلے میں مخلوق ملے گی ۔ جب عمل خالص اللہ کے لئے کرو گے تو اس کی جزا اللہ کا قرب اوراس کا دیدار ہو گا،&nbsp; یاد رکھو بدلے کی امید میں عمل ہرگز نہ کرو ، ذات الہی کے مقابل دنیا کیا چیز ہے، آخرت کیا چیز ہے اور ما سوا اللہ کیا چیز ! نعمت کی آرزو نہ کر نعمت دینے والے کی جستجو کر، مکان کی تعمیر سے نیک ہمسائے کی خواہش کر ، بعد میں تلاش بے کار ہے، وہ ہر شے سے پہلے ہے، ہر ایک شے کا بنانے والا ہے، اور ہرشے کے بعد ہے۔</p>



<p>سلطنت و ولایت تب ملتی ہے جب &#8230;..</p>



<p>&nbsp;موت کو یا دکر، مصیبتوں پرصبر کر ، اور ہر حال میں اللہ پر توکل رکھ۔ یہ تینوں چیزیں جب تم پر تمام ہو جائیں تو تجھے۔ ولایت مل جائے گی ۔- موت کو یاد کرنے سے تم دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ گے۔ اللہ سے تمہاری جو امیدیں وابستہ ہیں، ان میں صبر سے کامیابی ہوگی ، تو کل کے باعث تمہارے دل سے سب چیز یں نکل جائیں گی اور تیرارب سے تعلق جڑ جائے گا ، دنیا و آخرت اور ما سوا اللہ کا خیال نہ ر ہے گا، مشرق مغرب، جنوب شمال او پر نیچے، غرض ہرسمت سے راحت و حمایت ملے گی ، اوراللہ کی حفاظت میں آ جاؤ گے، خلقت میں سے کوئی تمہیں ایذا نہ پہنچا سکے گا۔ خوف کے دروازے اور اطراف بند کر دی جائیں گی۔</p>



<p>تم بھی انہی میں شامل ہو جاؤ گے جس پاک جماعت کے حق میں یہ ارشاد باری تعالی ہے: <strong>إِنَّ ‌عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ</strong> ”میرے(خاص) بندوں پر تیرازورنہ چلے گا۔</p>



<p>اہل توحید اورمخلص بندے ( جن کا ہر عمل اللہ ہی کے لئے ہوتا ہے، کسی کو دکھاوے کے لئے نہیں۔ ان پر شیطان کا زور کیسے چل سکتا ہے ، منزل کے اخیر میں قوت گویائی حاصل ہوتی ہے ،منزل کے آغاز میں نہیں ۔ اس کے شروع سے کلی طور پر خاموش رہنا ہے ۔ اور اس کی انتہا میں بولنا ہی بولنا ہے (یعنی کل گویائی ہے ) ۔ مخلص کا ظاہر نہ دیکھو۔ اس کا ملک دل میں اور بادشاہت اس کے باطن میں ہے۔ ایسے (مخلص ) لوگ بہت کم ہیں کہ جنہیں ظاہری اور باطنی سلطنت ملی ہو ( یعنی ظاہری و باطنی بادشاہت کے جامع ہوں۔)</p>



<p><strong>قلب کے رب سے واصل ہونے کو کامل ہونا چاہئے:</strong><strong></strong></p>



<p>تو اپنی حالت کو ہمیشہ چھپائے رکھ، یہاں تک کہ تیرادل کامل ہو جائے ، قلب کے رب سے واصل ہونے کو کامل ہونا&nbsp; چاہئے ۔ جب کامل ہو گئے ، اور جہاں پہنچنا تھا پہنچ گئے ، اس درجہ کمال پر کچھ پرواہ نہ کر ، اب تم کیسے پرواہ کرو گے حالانکہ تم نے اپنے حال کو ثابت کر دکھایا اور اپنے مقام کو قائم ومستحکم کر لیا ہے، اور تیرے حفاظت کرنے والوں نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے ، خلقت تیرے لئے ستونوں اور جنگل کی لکڑی کی طرح ہے، ان کی مدح سرائی اور برائی کرنا تیرے لئے ایک سا ہے، ان کا دھیان دینا اور بے دھیانی کرنا برابر ہے ، اب تو تمہی ان کی بنی کے بنانے والے، اور بگڑی کے بگاڑنے والے ہوں، اور اپنے خالق کی اجازت سے ان میں تصرف کرنے والے ہو، کھولنا اور با ندھنا ( حل عقد ) تیرے اختیار میں ہوگا ، حکومت تیرے دل کے ہاتھوں میں ہوگی اور شناخت تیرے باطن کے ہاتھوں میں آ جائے گی۔ جب تک یہ سب درست حالت میں نہ ہو کوئی بات نہ کر ، ورنہ عقل سے کام لے۔</p>



<p><strong>کسی صاحب بصیرت کا دامن تھام لے :۔</strong></p>



<p>کسی لالچ میں نہ پڑ، تیرے دل کی آنکھیں نہیں ہیں کسی ایسے کو ڈھونڈ جو دل کی آنکھیں رکھتا ہو، صاحب بصیرت ہو، جو تیری رہنمائی کر سکے ۔ اس کا دامن تھام لے۔ اس کی رائے پر عمل کر ، اس کے حکم کی تعمیل کر اس سے سیدھی راہ جان لے، تجھے کچھ خبرنہیں کسی جاننے والے علم رکھنے والے کا کھوج لگا۔ اس کی رہنمائی میں سیدھی راہ چلتے جا، تا کہ تجھے معرفت کی حقیقت حاصل ہو جائے ، اس وقت راہ سے بھٹکے ہوئے تیری طرف رجوع کر لیں گے ، راہ بھولے ہوئے تیرے پاس سہارالیں گے اور تو فقیروں اورمسکینوں کے لئے خوان بن جائے گا، تیری سمت ہر آنے والا روحانی غذا سے سیر ہوگا۔</p>



<p><strong>خوش اخلاقی سے جواں مردی کی شان ہے:</strong></p>



<p>&nbsp;اللہ کے رازوں کی حفاظت کرنا اور اس کی مخلوق کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا جواں مردی کی شان ہے ۔ ( خوش اخلاقی پر کچھ خرچ نہیں آتا لیکن یہ بندے کا وقار بڑھادیتی ہے۔ مولی کریم کی تلاش اور اس کی رضا مندی کے لئے اس &nbsp;کے ماسوا کو چھوڑ دینا تم میں ہے کہاں! طالب مولی بننے سے تو کہیں دور ہے، کیاتم نے اللہ تعالی کا یہ ارشادنہیں سنا: ‌مِنْكُمْ ‌مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا ‌وَمِنْكُمْ ‌مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ</p>



<p>&#8220;تم میں سے کوئی دنیا کا طلب گار ہے، اور کوئی آخرت کو چاہنے والا ہے ۔‘‘</p>



<p>دوسری جگہ ارشادفرمایا: يُرِيدُونَ ‌وَجْهَهُ’’انہیں صرف رضائے الہی کی جستجو ہے۔ اگر تیرا نصیب ساتھ دیتا تو غیرت الہی تیرے شامل حال ہوتی جو تجھے ہر ایک ماسوا اللہ سے چھڑالیتی ، اور تیرا ہاتھ پکڑ کر تجھے اللہ کی درگاہ پر لا کھڑا کرتی ، اس لئے کہ</p>



<p>هُنَالِكَ ‌الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ”یہاں اللہ کی ہی ولایت ہے جو کہ حق ہے۔“ تو اب بھی کوشش کر جب تجھے یہ مقام ومنصب حاصل ہو جائے گا تو بغیر کسی محنت ومشقت کے دنیا اور آخرت تیرے خادم بن کر حاضر ہوں گے۔ تیرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں گے۔</p>



<p><strong>ہر خطرہ ووسوسہ کی ایک خاص علامت ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>تو اللہ تعالی کا درواز کھٹکھٹا اوراس پر ثابت قدم رہ۔اللہ کے در پر پڑار ہے گا تو ہر طرح کے خطرات،خطرۂ نفس، خطر حرص خطرہ قلب، خطرۂ شیطان اور خطر فرشتہ غرض سب طرح کے خیالات و خطرات ظاہر ہو جائیں گے ۔ اس وقت تم پر کھل جائے گا کہ کون سا خطرہ حقانی ہے اور کون سا وسوسہ شیطانی ہے، ہر ایک کی خاص علامت ہے، اس خاص علامت سے تم پہچان لو گے۔ اس موقع ومقام پر تیرے پاس خطرہ ر بانی آئے گا ( جسے الہام کہتے ہیں )، یہ خطرۂ ربانی تجھے &#8211; ادب سکھائے گا ، ثابت قدم کرے گا۔کھڑا کرے گا۔&nbsp; بٹھائے گا، حرکت دے گا، سکون دے گا ، نیکی کا حکم دے گا، برائی سے بچائے گا ۔</p>



<p><strong>وقت سے پہلے اور مقدر سے بڑھ کر کچھ نہیں</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو! تم کثرت اور کمی کی ، اور اگلے اورپچھلے کی طلب نہ کرو، کیونکہ تقدیرتم میں سے ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ حصہ مقرر کئے ہوئے ہے، اور وہی کچھ ہونے والا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کی کتاب (تقدیر) اور روزانہ کی مخصوص تحریر نہ ہو، وقت سے پہلے اور مقدر سے زیادہ کچھ نہیں )۔ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا: فرع ربك من الخلق والخلق والرزق والأجل جف القلم بما هو كائنه &#8220;تمہارارب ہر ایک مخلوق کی پیدائش ، رزق اور زندگی ( کی مدت ) لکھ کر فارغ ہو چکا ہے، ہونے والی سب چیزیں لکھ کر قلم خشک ہو گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہرکسی کا مقدر متعین کر دیا ہے، اب وہ ہر شے سے فارغ ہو چکا ہے، اب اس کی قضا سابق ہے، جو علم بن کر سامنے آتی ہے، اس (قضا) پر ہونے اور نہ ہونے اور کسی الزام کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ اب کسی شخص کو اپنی بریت و بچت کے لئے کوئی عذرتر اشنا روانہیں کہ وہ تقدیر ونصیب کے حکم پر کوئی انگلی اٹھائے کوئی اعتراض کرے، جو ہونا ٹھہر چکا ہے ، وہ تو ہوکر رہے گا ، جو کچھ پہلے سے طے شدہ ہے، اسے تو ہونا ہی ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے : ‌لَا ‌يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ</p>



<p>&#8220;وہ جو کچھ کرتا ہے، اس کے بارے میں کچھ نہ پوچھا جائے گا لوگوں سے ان کے اپنے کئے پر پوچھا جائے گا ۔ <strong>اللہ کی موافقت اور اس سے محبت باعث خوش خبری ہے:</strong></p>



<p>اے لوگو! تم اس ظاہر پرعمل کرو جو سفیدی پر سیاہی کی صورت میں ہے، یعنی لکھے ہوئے پر ایسا کرنے سے تم میں باطنی عمل کے لئے شوق پیدا ہوگا ، اس ظاہر پر عمل کرنے سے باطن ( کی زباں) کو سمجھنا آجائے گا، اس (دائرہ کار میں: &#8211; پہلے تمہارا باطن سمجھتا ہے۔ پھر اس سے تمہارے قلب پر اظہار ہوتا ہے، پھر قلب تمہارے نفس پر املا کرتا ہے، پھر نفس زبان پر املاکرتا ہے،آخر میں زبان مخلوق خدا پر املا کرتی ہے۔</p>



<p>&nbsp;امر کا یہ سلسلہ ان ذرائع سے خلقت کے فوائد اورمصلحتوں کے لئے یکے بعد دیگرے جاری ہے ۔ اللہ کی موافقت کرنا اور پھر اس سے محبت کرنا تمہارے لئے خوش خبری کا باعث ہے، اللہ کواپنا محبوب سمجھنا مبارک ہے ۔</p>



<p><strong>محبت کا دعوی اور قرینہ محبت سے تہی دامن:</strong></p>



<p>&nbsp;تم پر افسوس اس بات کا ہے کہ تمہیں اللہ سے محبت کا دعوی تو ہے مگر تم اس بات سے بے خبر ہو کہ میت کا قرینہ کیا ہے۔ محبت کے لئے کچھ شرطیں ہیں:</p>



<p>اپنے اور غیر کے معاملے میں اس کے تابع رہنا، اس کے غیر کو نہ چاہناء اس سے انس رکھنا ،اس کے ساتھ رہنے سے وحشت نہ پکڑنا، بندے کے دل میں جب اللہ کی محبت قرار پکڑتی ہے، تو اسی سے دل لگتا ہے ۔ جو چیز اس سے رو کے، بری لگتی لہذا تو اپنے (محبت کے جھوٹے دعوے سے توبہ کر لے ۔ اللہ کی محبت گوشہ نشینی ( خلوت ) ، آرزواور جھوٹ اور نفاق اور بناوٹ سے نہیں ملا کرتی ، ان سب سے تو بہ کر ، اور پھر تو بہ پر ثابت قدم رہ توبہ کرنا کمال نہیں تو بہ پر قائم رہنا کمال ہے &#8211; پودالگا نا کوئی شان کی بات نہیں ، شان اور فخر کی بات تو پودے کی استقامت، اس کی شاخیں پھوٹنے اورپھل لانے میں ہے۔</p>



<p>&nbsp;سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ تنگی اور ترشی ، امیری اور غریبی،سختی اور نرمی ، بیماری اور تندرستی ،نیکی اور بدی &nbsp;،ملنے اور نہ ملنے ، ہر حال میں تقدیر الہی کی موافقت پکڑو۔ میرے خیال میں سرتسلیم خم کرنے اور اس کی رضا میں راضی رہنے سے بڑھ کر اور کوئی دوا نہیں ۔ اللہ تعالی جب کسی چیز کا حکم دے، اس سے وحشت نہ دکھاؤ ،یعنی اس سے گھبراؤ نہیں اور نہ ہی اس میں جھگڑا کرو ، اس کا گلہ یا شکایت اس کے غیر سے نہ کرو، غیر سے شکوہ کر نے سے تم پر مصیبت اور بڑھ جائے گی۔ بہتر یہی ہے کہ خاموشی اور سکون اختیار کرو اور گمنامی میں رہو ۔ اس کے سامنے ثابت قدم رہو، اور جو کچھ وہ تمہارے ساتھ اور تمہارے معاملات میں کرے دیکھتے رہو اور اسے بخوشی دیکھتے جاؤ ، اس کے تصرفات ( تغیر و تبدل ) پر خوشی کا اظہار کرو کہ یہ سب اس کی طرف سے ہے جسے محبوب مانا ہے ، اگر تم اس کے ساتھ اس طرح پیش آؤ گے تو وہ وحشت کو انسیت سے اور رنج کو خوشی سے ضر در بدل دے گا۔ (اس لئے کہ رنج اور کلفت میں ہی انعام ہے، اور پھر جو کچھ محبوب کی طرف سے آئے ، اس میں سراسر خوشی ہی خوشی ہے۔ ہم اس کے حضور میں بس یہی دعا کرتے ہیں: اللهم اجعلنا في جنايك ومعك ‌رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ یا الہی ! تو اپنی حضوری میں ہمیں اپنے ساتھ رکھے اور دنیا میں بھلائی عطا فرما، اورآ خرت میں بھلائی عطا فرمااور عذب دوزخ سے بچائے رکھ آمین۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 39،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/31" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/31" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 31</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%2586%25d9%2588%25d8%25aa%25da%25be%25db%258c-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%DA%86%D9%88%D8%AA%DA%BE%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="چوتھی مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%db%8c-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پانچویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 02:15:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ کے دشمنوں سے مشابہت]]></category>
		<category><![CDATA[جہلاء کی صحبت]]></category>
		<category><![CDATA[چار چیزیں دین کی بربادی]]></category>
		<category><![CDATA[سچی غلامی]]></category>
		<category><![CDATA[شہروں کے محافظ]]></category>
		<category><![CDATA[علماء کی صحبت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6237</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پانچویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الخامس فی سبب حب اللہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے پانچویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الخامس فی سبب حب اللہ للعبد<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقد ہ 12شوال  545 بروزمنگل بوقت عشاء، بمقام :مدرسہ قادر یہ بغداد شریف</mark></p>



<p><strong>کفایت الہی کو کافی سمجھنا ہی حقیقی بندگی اور سچی غلامی ہے:</strong> اے بیٹا اللہ کی بندگی کہاں ہے! تو حقیقی بندگی اور سچی غلامی کی جستجو کر اپنے سب کاموں ، اپنی تمام ضروریات کو اللہ کی کفایت کو ہی کافی سمجھے ۔ تو تو اپنے مالک سے بھا گا ہوا غلام ہے، اس کی طرف لوٹ چل، اس کے سامنے اپنا سر جھکا دے، اس کے تابع ہو جا، اس کے حکم کی تعمیل کر اور اس کے منع کئے ہوئے سے بازرہ ، اس کی قضا پرصبر اور موافقت کر اور تواضع اختیار کر ، جب ان باتوں میں تو کمال حاصل کر لے گا تو تیری بندگی اور غلامی اپنے آقا کے لئے کامل ہو جائے گی ، اور وہ تیرے سب کاموں میں کفیل ہوگا ، ارشاد باری تعالی ہے: <strong>أَلَيْسَ اللَّهُ ‌بِكَافٍ عَبْدَهُ </strong>کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں!‘‘</p>



<p>جب اللہ کے لئے تیری غلامی صحیح ہو جائے گی تو وہ تم سے پیار کرے گا۔ (تمہیں اپنا محبوب بنالے گا اور تمہارے دل میں اپنی محبت کو اور زور دار کر دے گا ۔ اس کے ساتھ تمہارے انس اور اس کی قربت بغیر کسی مثقت اور بغیر جستجو کے حاصل ہو گی ، تجھے اس کے غیر کی محبت اچھی نہ لگے گی، پھر تو اس سے ہر حال میں راضی رہے گا۔اب اگر وہ چاہے:</p>



<p>&nbsp;ز مین کوفراخ ہونے کے باوجود تم پر تنگ کر دے، کشائش و وسعت کے باوجودتم پر دروازے بند کر دے،تمہیں اس سے کسی طرح کی شکایت نہ ہوگی ، اب تم نہ غیر کے در پر جاؤ گے &nbsp;اور نہ غیر کے ہاں کھانا کھاؤ گے ایسے میں تم حضرت موسی علیہ السلام سے مل جاؤ گے، کہ اللہ تعالی نے ان کے حق میں ارشادفرمایا:</p>



<p>‌وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ اور دودھ &nbsp;پلانے والی ( دائیوں کا دودھ ان پر پہلے ہی حرام کر دیا۔‘‘</p>



<p>ہمارا پاک پروردگار ہر چیز کا دیکھنے والا ہے، ہر چیز میں حاضر ہے، ہر چیز کے ساتھ ( نگہبان ) اور ہر چیز سے قریب ہے، ۔ تم کسی حالت میں اس سے غائب ( اوجھل نہیں ہو سکتے ،معرفت کے بعد انکار کرنا کچھ معنی نہیں رکھتا۔ کیونکہ پہچان کر ایسےبن جانا کہ جیسے جانتے نہیں انتہائی تکلیف دہ اور تلخ ہے۔</p>



<p><strong>&nbsp;صبر میں دنیا اور آخرت کی راحت ہے:</strong></p>



<p>تجھ پر افسوس ہے کہ تو اللہ کو پہچانتا ہے، اس کے باوجود اس سے منہ پھیرتا ہے اوراس کا انکار کرتا ہے ۔ اس سے منہ پھیر، ورنہ ہر طرح کی خیر سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ صبر کر (حوصلہ رکھ ) ، ثابت قدم رہ، غیر کی طرف نہ جھک ، کیا تجھے خبر نہیں کہ جس نے صبر کیا ، وہ قادر ہو گیا ، پھر یہ تیری کیسی سمجھ ہے، اور تجھے کیسی جلدی ہے ، ذراسوچ</p>



<p>ارشاد باری تعالی ہے: <strong>يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ</strong>”اے ایمان والو! صبر کرو اور صبر کی تاکید کرو، اور آپس میں ربط پیدا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔“</p>



<p>صبر کے بارے میں قرآن مجید میں بہت سی آیتیں آئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر میں کیا کیا نعمتیں اور عطائیں ہیں،اچھابدلہ ہے بخشش ہے،صبر میں دنیا اور آخرت کی راحت ہے،صبر کو اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ تم نے دین ودنیا کےلئے صبر کی خوبیاں جان لی ہیں۔ قبروں کی زیارت ضرور کیا کرو، اللہ کے نیک بندوں (صلحاء کے ہاں آنا جانا اور بھلائی کے کام کرنا اپنے اوپر لازم سمجھو لو، ایسا کرنے سے تمہارے سب کام درست ہو جائیں گے ،سب بگڑے کام بن جائیں گے &nbsp;تم ان لوگوں جیسے نہ ہو جاؤ ہ &nbsp;کہ جب انہیں نصیحت کی جائے تو قبول نہ کریں، اور جب وہ سنیں تو اس پر عمل نہ کر یں۔ &nbsp;&nbsp;</p>



<p><strong>چار چیزوں سے دین جا تارہتا ہے:</strong></p>



<p>( یادرکھو ) ان چار چیزوں سے دین جا تا رہتا ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں علم ہے، ان پرعمل نہیں کرتے ، جس چیز کے بارے میں علم نہیں ، اس پر عمل کرتےر ہو ؟ &nbsp;جسے تم جانتے نہیں ہوا سے حاصل نہیں کرتے ،( جاہل ہی رہتے ہو ) علم حاصل کرنے والوں کو روکتے ہو کہ علم حاصل نہ کریں۔</p>



<p><strong>&nbsp;اللہ کے دشمنوں سے مشابہت اختیار نہ کرو</strong></p>



<p>اے لوگو! جب تم مجلس ذکر میں آتے ہو تو تمہارے آنے کا مقصد محض سیر وتفریح ہوتا ہے، تم علاج کے ارادے سے حاضر نہیں ہوتے ہو ، اور واعظ کے پندونصائح پر کوئی دھیان نہیں دیتے ، بلکہ اس کی بھول ، خطا اورلغزش پر نظر رکھتے ہو اور اس کی ہنسی اور مذاق اڑاتے ہو، سر ہلا ہلا کر اللہ کے ساتھ جوا کھیلتے ہو، ایسا کر کے خطرات میں پڑتے ہو، سچے دل سے سر کو نہیں ہلاتے، ان حرکتوں سے توبہ کرو اللہ کے دشمنوں سے مشابہت نہ اختیار کرو اور جو کچھ سنواس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اور نصیحت پرعمل کرو۔ <strong>نیابت اور خلافت الہی کے لئے تربیت و تیاری:</strong></p>



<p>اے بیٹا! تو عادت کا اسیر ہو کے رہ گیا ہے تو رزق طلب کرنے میں اور سبب پر تکیہ کر کے پابند ہو گیا ہے، اور سبب پیدا کرنے والے کو اور اس پر توکل کرنے کو بھول بیٹھا ہے، اس لئے تو نئے سرے سے عمل کر اور عمل کو اخلاص کے ساتھ کر ، ارشاد بارتعالی ہے۔ <strong>وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ </strong>&nbsp;”میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ انہیں ہوس اور کھیل کود، اور کھانے پینے ، سونے اور نکاح کرنے کے لئے نہیں پیدا کیا۔</p>



<p>اے غافلو غفلتیں چھوڑ دو، جاگ جاؤ، تمہارا دل اس کی طرف اگر ایک قدم چلتا ہے تو اس کی محبت تمہاری طرف کئی قدم بڑھتی ہے، وہ اپنی محبت والوں سے ملاقات کا ان سے بھی زیادہ شوق رکھتا ہے، <strong>‌يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ</strong>. &#8221; جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق عنایت فرماتا ہے ۔ بندہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کے لئے اسباب پیدا فرما دیتا ہے ۔ جب کسی بندے سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو اسے اس کے لئے تیار کر دیتا ہے، اس بات کا &nbsp;باطن سے تعلق ہے ،ظاہر سے نہیں ۔ جب بندے میں یہ سب خوبیاں اجاگر ہو جاتی ہیں تو اس کا زہد د نیا آ خرت ، اور ترک ماسوا اللہ میں درست ہو جا تا ہے،صحت اور قربت ، ملک اور سلطنت اور امارت (سرداری ) اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں، تب: &#8211; اس کا ذرہ پہاڑ بن جاتا ہے۔ اس کا قطرہ دریا بن جاتا ہے۔ اس کا ستارہ چاند بن جاتا ہے۔ اس کا چاند سورج بن جا تا ہے &#8211; اس کا تھوڑازیادہ ہو جا تا ہے۔ &nbsp;اس کا عدم وجود بن جا تا ہے۔اس کی فنابقا بن جاتی ہے۔ اس کی حرکت سکون وثبات بن جاتی ہے۔</p>



<p>اس کا درخت بلند ہو کر عرش الہی تک بلندی ( رفعت ) پا تا ہے ۔ اس کی جڑ زمین تک پھیلتی ہے، اس کی شاخیں د نیا اور آخرت پر سایہ کرتی ہیں ، یہ شاخیں اورٹہنیاں کیا &nbsp;ہیں حکم اور علم دنیا اس کے نزدیک انگوٹھی کے حلقہ کی طرح ہے،نہ دنیا اسے غلام بناسکتی ہے ۔ نہ آخرت اسے قید کر سکتی ہے، نہ کوئی بادشاہ یا ماتحت اس کا حاکم ہوسکتا ہے۔ نہ کوئی در بان اسے روک سکتا ہے، نہ کوئی اسے پکڑ سکتا ہے، &nbsp;نہ کوئی گدلا اسے میلا کر سکتا ہے، جب یہ اوصاف بہ کمال ہوں تو یہ بندہ مخلوق کے ساتھ ٹھہرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اور وہ ان کا ہاتھ تھام کر ( بیعت کر کے دنیا کے سمندر سے پارا تار دینے کے قابل ہو جا تا ہے۔ چنانچہ اگر اللہ تعالی (اپنی نیابت اور خلافت کے لئے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسےلوگوں کے لئے رہبر -ان کا طبیب -انہیں ادب سکھلانے والا نہیں مہذب بنانے والا ،ان کی ترجمانی کرنے والا ، ان کو تیرا نے والا ، ان کی نگہبانی کرنے والا ، ان کے لئے چاند اور سورج بنا دیتا ہے۔</p>



<p>چنانچہ اللہ تعالی اگر بندے سے (رشد و ہدایت کا کام چاہتا ہے تو ایسا ہو جا تا ہے۔ ورنہ ایسے بندے کو اپنے پاس پردے میں چھپا رکھتا ہے اور اپنے غیروں سے غائب کر دیتا ہے، ایسے افراد( اولیاءاللہ ) میں سے خاص ( گنے چنے ) لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف سے مخلوق کی جانب پوری حفاظت اور کامل سلامتی کے ساتھ آتے ہیں۔ انہیں مخلوق کی &nbsp;مصیبتوں کی اصلاح اور ہدایت کی توفیق عطا ہوتی ہے۔</p>



<p>دنیا کا زاہد ( تارک الدنیا ) آخرت سے آزمایا جا تا ہے ، اور دنیا و آخرت کا زاہد ( تارک الدنیا وآخرت ) رب کے ہاں دنیا وآخرت سے پرکھا جا تا ہے،تم تو یوں غافل ہوئے پڑے ہو کہ جیسے تمہیں مرنا ہی نہیں۔ گویا تم قیامت کے دن اٹھائے نہیں جاؤ گے ، جیسے اللہ کے سامنے تمہیں حساب نہیں دینا، یا پھر پل صراط سے تم نے گزرنانہیں، تمہاری یہ کیفیات ہیں، حالانکہ تم اسلام اور ایمان کے دعوے دار بھی ہو، اگر تم قرآن اور اس کے علم پرعمل نہ کرو گے تو ( یہ سب) تمہارے خلاف حجت سمجھے جائیں گے جب تم اہل علم کے ہاں جاؤ گے، اور ان کی تعلیم پرعمل نہ کرو گے ،تو تمہارا ان کے پاس جانا تمہارے خلاف حجت ہے،تم پر اس کا گناہ ( بالکل اسی طرح ہوگا جیسے تم نبی اکرم &nbsp;ﷺ سے ملاقات کرتے اور آپ کے فرمان کو نہ مانتے ۔</p>



<p>قیامت کے دن ہر ایک پر اللہ کا خوف، اس کا جلال اور عظمت، اس کی کبریائی اور عدل سے عام ہو گا، دنیا کے ۔ بادشاہوں کی حکومتیں جاتی رہیں گی ، اور صرف اس کا ملک باقی رہے گا۔ قیامت کے دن سب اسی کی طرف رجوع کریں گے۔ اسی دن اولیاء اللہ کی سلطنت و بادشاہت عزت و امارت (سرداری اور ان پر اللہ کا انعام واکرام ظاہر ہوں گے۔ (قیامت کے دن کی بات تو دور کی بات ہے وہ تو آج بھی بندوں اور شہروں کے کوتوال ومحافظ ہیں، اور پہاڑوں پر غالب ہیں۔ زمین کا قائم رہنا انہی کے دم قدم سے ہے۔ حقیقت میں وہی خلقت کے امیر اور سردار ہیں، اور اللہ کے سچےنائب اور حقیقی خلیفہ ہیں۔ ان کا یہ حال باطن کے لحاظ سے ہے ظاہر کے اعتبار سے نہیں ، آج ان کے باطن ( کے کمالات کے ظہور کا دن ہے، کل قیامت کے دن ان کے ظاہر کا ظہور ہوگا (یعنی حجاب اٹھ جائے گا۔)</p>



<p><strong>اپنے اپنے دائرہ کار میں بہادری کے جوہر</strong><strong></strong></p>



<p>( اپنے اپنے دائرہ کار میں بہادری کے جوہر یہ ہیں ): &#8211; غازیوں کی بہادری یہ ہے کہ میدان جنگ میں کافروں کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں ، صالحین کی شجاعت یہ ہے کہ اپنے نفسوں اور خواہشوں اور عادتوں اور شیطانوں اور میرے ہم نشینوں (انسان نما شیطانوں کے مقابلے میں ڈانواں ڈول نہ ہوں ، &#8211; اولیاء اللہ کی بہادری یہ ہے کہ دنیا و آخرت اور ماسوا اللہ سے بے رغبتی اختیار کر یں ۔</p>



<p><strong>اہل دین ہی حقیقت میں انسان ہیں:</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا! اس سے پہلے کہ تجھے مجبور ہو کر جا گنا پڑے، جاگ جا، ہوشیار ہو جا، دین دار بن جا اور اہل دین سے میل جول رکھ، اہل دین ہی ( حقیقت میں ) انسان ( کہلانے کے حق دار ہیں۔ لوگوں میں عقل والا وہی ہے جو اللہ کے حکموں کو مانے (فرماں برداری کرے ۔ اور سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو اس کے حکموں کو نہ مانے (نافرمانی کرے ) ۔ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا:</p>



<p><strong>‌بِذَاتِ ‌الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ تربت بمعنى افتقرت وأثرت إذا استغنى</strong> &#8211; تیرے ہاتھ مٹی لگے (یعنی تو محتاج ہو جائے ) اور جب غنا طلب کرے تو منہ میں خاک پڑے۔ جب تیراہل دین سے میل جول ہوگا ، ان سے دوستی ہو گی تو اس محبت کے بدلے دونوں ہاتھ اور تیرا دل مستغنی ہو جائیں گے تو نفاق اور اہل نفاق سے، اور ریا کار سے دور بھاگ ، کیونکہ منافق اور ریا کار کا کوئی عمل مقبول نہیں ، جس عمل میں اللہ کی رضا چاہو گئے وہی عمل مقبول بارگاہ الہی ہوگا ، عمل کی ظاہری صورت قبول نہ ہوگی ،قبولیت کے لائق تو تمہاری باطنی حالت ( اور نیت ) ہے ۔ اللہ کی ذات تیرے اس عمل کو شرف قبولیت عطا کرتی ہے جس میں تم اپنے نفس اور خواہش، اور شیطان اور دنیا کی پوری ) مخالفت کرو گے۔عمل میں اخلاص پیدا کر اپنے کسی عمل پر ناز نہ کر اللہ کے ہاں تیراو ہی عمل قبول کیا جائے گا جس میں اللہ کی رضا پیش نظر ہوگی ،نہ کہ دہ عمل ( مقبول ہوگا) جس میں مخلوق کی طرف دھیان ہو۔ تیرے لئے افسوس کی بات یہ ہے کہ تو مخلوق کی خوشنودی کے لئے عمل کرتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ ( تیرا یہ دکھاوے کاعمل) ، خالق کے ہاں شرف قبولیت کا درجہ پا جائے ، (ایسے عمل میں رکھا ہی کیا ہے ، یہ تومحض حرص و ہوس ہے ( تیرے لئے بہتر یہی ہے کہ ) تو فرحت وسر ور اور فخر وغرور اور ہوس کو چھوڑ دے۔ خوشی کوکم کر دے غم زیادہ اٹھا ، اس لئے کہ تو غم کدے اور قید خانے میں رہ رہا ہے۔</p>



<p>رسول اکرم &nbsp;ﷺ کے حالات زندگی کو دیکھو ،آپ ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔ بالعموم غمگین زیادہ رہتے تھے، خوشی تھوڑی کرتے ، ہنستے کم تھے،کبھی کبھی تبسم فرماتے تھے، وہ بھی دوسروں کا دل خوش کرنے کے لئے ہوتا تھا ۔ آپ کا قلب اطہر غموں اور شغلوں سے پر تھا،اگر صحابہ کرام کی محبت اور دنیا کے معاملات ( جن کی تکمیل کے لئے آپ مامور تھے نہ ہوتے تو آپ حجرہ مبارک سے باہر تشریف نہ لاتے اور نہ کسی کے پاس بیٹھتے ۔</p>



<p><strong>دنیا کی فکر حجاب بھی ہے اور عذاب بھی</strong></p>



<p>اے بیٹا! جب اللہ تعالی کے ساتھ تیری خلوت صحیح ہو جائے گی تو :- تیرا باطن مد ہوش ہو جائے گا۔ &nbsp;دل کی صفائی ہو جائے گی ، تیری نظر سراپا عبرت بن جائے گی، &nbsp;تیرا دل مجسم فکر ہو جائے گا ، &#8211; تیری روح اور باطن اللہ تعالی سے واصل ہو جائیں گے۔دنیا کی فکر تو حجاب بھی ہے اور عذاب بھی، آخرت کی فکرعلم بھی ہے اور دل کی زندگی بھی ، اور جس بندے کو اللہ کی طرف سے فکر نصیب ہو، اسے دنیا و آخرت کے احوال کا علم عطا فرمادیا جا تا ہے گویا اولیاءاللہ کو بھی علم غیب عطا کیا جا تا ہے ۔ ) &#8211; افسوس کی بات یہ ہے تو نے اپنے دل کو دنیا میں لگا کر ضائع کر دیا ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے دنیا میں جو تیرا مقدر ہے، یا جو کچھ تجھے ملنے والا ہے، تیرے نصیب میں لکھ دیا ہے، اور اس کے ملنے کے اوقات کا بھی اپنے (احاطہ علم میں اندازہ لگالیا ہے، تجھے ہر روز کا رزق ملتارہے گا، چاہے تو اس کے حصول کے لئے ) سوال کرے یا نہ کرے، (البتہ ) تیری حرص تجھے اللہ اورمخلوق &nbsp;کے سامنے رسوا کر رہی ہے &#8211; ایمان کی کمی کی وجہ سے تو رزق کے لئے سوال کرتا ہے، ایمان کی کثرت کے باعث تو دست سوال نہیں بڑھا تا (یعنی اگر گزارے سے زیادہ مل جائے تو سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ اور اگر اتنامل جائے کہ رکھنے کو جگہ نہ رہے تو خدا کے وجود سے انکار کا بھی امکان ہے۔</p>



<p><strong>جاہل آدمی سبب کے چکر میں مسبب کو چھوڑ بیٹھا:</strong></p>



<p>&nbsp;اے بیٹا! ایسی قطعی یقینی بات جس کا کرنا مقصود ہے، اس میں ٹھٹھایا مسخری نہ کر ۔ کیونکہ جب تک تیرادل مخلوق میں لگا رہے گا ، وہ خالق کے ساتھ کیسے لگےگا،سبب کے چکر میں پڑ کر سبب والے کے ساتھ کیسے رہے گا ، &#8211; ظاہر و باطن کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں، جس بات کو تو سمجھتا ہے اور جسے نہیں سمجھتا، وہ دونوں کیسے یکجا ہو سکتے ہیں، عقل میں آنے والی چیز اور عقل سے باہروالی دونوں کیسے جمع ہوسکتی ہیں، جومخلوق کے پاس ہے اور جو خالق کے پاس ہے، دونوں یکجا کیسے ہو سکتے ہیں ، وہ بندہ کتنا بڑا جاہل ہے جوسبب پیدا کرنے والے کو بھول بیٹھا ہے، اور سبب ہی میں مشغول ہے، سبب میں &nbsp;پڑ کر مسبب کو چھوڑ بیٹھا ہے، جو باقی رہنے والا ہے اسے بھلا بیٹھا ہے ، اور جو فانی ہے اس کے ساتھ خوش ہے، (اس سے بڑھ کر اور کون بیوقوف ہے)۔</p>



<p><strong>جاہلوں کی صحبت نقصان دہ ہے:</strong></p>



<p>اے بیٹا! تو جاہلوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، ان کی جہالت تم پر بھی اثر کرتی ہے، جاہل کی صحبت نقصان دہ ہے۔ خسارے کی بات ہے، ایمان والوں ، یقین والوں اور باعمل عالموں کی صحبت میں بیٹھا کرو، &nbsp;اہل ایمان کا حال کیسا اچھا ہے ، ان کے تصرفات میں کس قدر بھلائیاں ہیں ، ان کے مجاہدوں اور ریاضتوں نے انہیں ان کے نفسوں اور خواہشوں پر غالب کر دیا ہے، اس غلبے نے انہیں کس قدرمضبوط اور قومی کر دیا ہے۔ اسی لئے رسول &nbsp;ﷺ نے ارشادفر مایا: بشر المؤمنين في وجهه وحزنه في قلبه &#8220;مومن کی خوشی اس کے چہرے پر ( چمک رہی ہوتی ہے، اور غم اس کے دل میں چھپا ہوتا ہے )‘‘۔یہ اس کی قوت ضبط ہے کہ مخلوق کے سامنے خوشی کا اظہار کرتا ہے اور ( افشائے راز کے خیال سے محبت الہی کو دل میں چھپاتا ہے ۔ اس کا غم سدا کاغم ہے، اس کا تفکر بہت ہے جیسے اس کا رونا زیادہ ہے،اور ہنسناکم ، اس لئے سرکار دوعالم ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>لا راحة للمؤمن غير لقاء ربه</strong> وصل الہی کے سوا مومن کو راحت نہیں ۔</p>



<p>صاحب ایمان اپنے غم کو خندہ پیشانی کی اوٹ میں چھپائے رہتا ہے، ظاہری طور پر وہ ریاضت اور کسب میں لگا رہتا ہے، اور باطنی طور پر اپنے رب کے پاس سکون کرتا ہے، اس کا ظاہر اس کے اہل وعیال کے لئے ہے اور باطن رب کے لئے۔ وہ اپنا راز اپنے اہل، اولا د، ہمسایوں متعلقین اور مخلوق الہی میں سے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیتا ۔ اس نے رسول اللہ &nbsp;ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سن رکھا ہے:</p>



<p><strong>اسْتَعِينُوا على ‌أُمُوركُم ‌بِالْكِتْمَانِ ۔</strong> اپنے کاموں پر راز داری میں مددلیا کرو‘‘</p>



<p>اپنے احوال کو چھپاتے رہو، اللہ کا ولی اپنی ضرورت کو ہمیشہ چھپا تارہتا ہے، اگر کسی وقت جذ بہ اس پر غالب آ جائے ، ان کی زبان سے (اسرار کا کوئی کلمہ نکل جاتا ہے تو وہ فورابات کو سنبھالتے ہوئے اس کا تدارک کر لیتا ہے، اور الفاظ بدل دیتا ہے، اور ( اتفاق سے ) جو راز اس سے افشاء ہو جا تا ہے ، اسے چھپاتے ہوئے اس کے لئے معذرت کر لیتا ہے۔</p>



<p><strong>اہل بصیرت کو اپنا آئینہ بنالو:</strong></p>



<p>&nbsp;اے بیٹا! تو مجھے اپنا آئینہ بنا ۔ اپنے دل کا آئینہ بنا، اپنے باطن اور اعمال کا آئینہ بنا ، مجھ سے قریب ہو جا یقینی طور پر میرے قرب کی وجہ سے تو اپنے نفس میں وہ کچھ دیکھ سکے گا جو مجھ سے دور رہنے کی وجہ سے نہیں دیکھ پایا۔ اپنے دین کے حوالے سے اگر تجھے کچھ پوچھنا ہے تو مجھ سے پوچھ۔ میں اللہ کے دین کے حوالے سے تمہاری کوئی الجھن نہ رہنے دوں گا، شریعت الہی کی تعمیل کے لئے میں نہایت بے باک اور بے جھجک ہوں ، میں نے دین ایسے مضبوط ہاتھ والوں اور راسخ ارادے والوں سے سیکھا ہے جونہ تو منافق تھے اور نہ ہی کوئی فائدہ اٹھانے والے تھے (سراسرا خلاص تھے ،تو دنیا کو گھر میں چھوڑآ اور میرے قریب ہو جا، یقینی طور پر میں آخرت کے دروازے پر کھڑا ہوں، میرے پاس ٹھہر ، میری بات کو سن اور چند روزہ زندگی میں اس پرعمل کر ، نجات کا دارو مدار اللہ کے خوف میں ہے ، اگر تجھے اللہ کا خوف نہیں تو نہ دنیا میں سکون ہوگا ، نہ ہی آخرت میں امن ہوگا ۔ ا</p>



<p>للہ تعالی کا سامنے موجود نہ ہونے کے باوجود اس کا خوف ہونا ہی اسے جاننا ہے، (یعنی خوف الہی اور علم ایک ہی چیز ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا:</p>



<p><strong>إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ ‌الْعُلَمَاءُ</strong><strong></strong></p>



<p>’’اللہ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔</p>



<p>یعنی میرے بندوں میں وہ اہل علم میرا (اللہ کا)ڈرر کھتے ہیں جوعمل کرنے والے ہیں ( باعمل ہیں ، &nbsp;اور اپنے کئے کااصلہ (بدلہ )نہیں چاہتے ، بلکہ اس کی قربت اور اس کی رضا کی آرزو رکھتے ہیں ۔ اس کی محبت کے ارادے سے اس کی دوری اور حجاب کو دور کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر وقت اس خیال میں رہتے ہیں کہ ان پر دنیا و آخرت میں رحمت الہی کا دروازہ نہ بند کیا جائے وہ دنیاوآخرت اور ماسوا اللہ کی کوئی تمنا نہیں رکھتے۔ دنیا ایک گروہ کے لئے ہے، اور آخرت کسی اور گروہ کے لئے ، اور اللہ کی ذات ایک اور گروہ کے لئے ہے، اس گردہ والےوہ ہیں جو ایمان والے ہیں۔ یقین والے ہیں۔ عرفان والے ہیں۔ &nbsp;اس کے دوست ہیں۔ اس کے ڈروالے ہیں۔ اس کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں، غم رکھنے والے ہیں ، &nbsp;بن دیکھے اللہ کا خوف رکھتے ہیں۔ اللہ کی ذات ان کی ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہے اور ان کے دل کی آنکھوں کے سامنے موجود ہے، یہ لوگ بھلا کیوں نہ اس سے خوف کھائیں،وہ ہر روز اک نئی شان میں ہے، ذات سے ذات میں تبدیلی لانا ہے، حال سے حال میں تغیر لاتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے ،کسی کو ذلیل محروم کرتا ہے، ،وہ کسی کو زندہ کرتا ہےکسی کو مارتا ہے، ۔ کسی کو مردود کرتا ہے، کسی کو اپنے سے دور کرتا ہے ۔کسی کو مقبول بنا تا ہے،کسی کو اپنے قریب کرتا ہے، <strong>لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ</strong></p>



<p>وہ جو چاہے کرے، کوئی پوچھ گچھ ہیں، اور جو کچھ لوگ کر یں تو ان سے باز پرس ہوگی۔“</p>



<p>اس کے حضور یہی التجا ہے</p>



<p><strong>اللهـم قـربـا إليك ولا تبا عدنا عنك ‌ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ</strong><strong></strong></p>



<p>’’الہی! ہمیں اپنا قرب نصیب فرما، اور ہمیں اپنے سے دور نہ رکھ، اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کرے ،۔ اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا کرے &nbsp;اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ، آمین!‘‘۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 46،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/36" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/36" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 36</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D9%BE%D8%A7%D9%86%DA%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="پانچویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چھٹی مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/6229-2/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/6229-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 02:01:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت پہچان]]></category>
		<category><![CDATA[زبانی علم اور دل کا علم]]></category>
		<category><![CDATA[قلوب اولیاء مومن کا آئینہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6229</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے چٹھی مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس السادس فی نصیحۃ المومن لاخیہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/6229-2/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے چٹھی مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس السادس فی نصیحۃ المومن لاخیہ<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقده 15 شوال 545 ھ مدرسہ قادریہ، بغداد شریف</mark></p>



<p><strong>ایمان والا ،ایمان والے کے لئے آئینہ ہے: </strong><strong></strong></p>



<p>اللہ کے ولیوں کے دل صاف اور پاک ہوتے ہیں۔ وہ خلقت کو بھولنے والے اللہ کو یاد کرنے والے،دنیا کو بھلا دینے والے،آخرت کو یاد کرنے والے، جو کچھ تمہارے پاس ہے، اسے بھولنے والے، جو کچھ اللہ کے پاس ہے،اسے یادکرنے والے ہیں ۔تم ان سے اوران میں جو خوبیاں ہیں، ان سے محروم ہو(حجاب میں ہو )، آخرت کو چھوڑ کر دنیا میں مشغول ہو۔ تمہیں اللہ سے کوئی حیا نہیں تم نے حیا کا دامن چھوڑ دیا ہے،اور اس کے سامنے بے شرم بنے ہوئے ہو۔ میرے عزیز اپنے ایمان والے بھائی کی باتوں کو مان لے، اس کی مخالفت کی راہ نہ اپناؤ، یقینی طور پر وہ تم میں وہ کچھ دیکھتا ہے جو تم اپنے نفسوں میں نہیں دیکھتے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>المؤمن مرأة المؤمن</strong> وایمان والا ، ایمان والے کے لئے آئینہ ہے ۔‘‘</p>



<p>ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے سچا خیر خواہ ہے، اسے نصیحت کرتا ہے ۔ جو کچھ اسے معلوم نہیں اس کے بارے میں اسے بتلا تا ہے ۔ اس کی خوبیاں اور خامیاں الگ الگ کر دیتا ہے، اسے نفع دینے والی اور نقصان دینے والی باتوں کی خبر دیتا ہے۔</p>



<p>پاک ہے وہ ذات جس نے میرے دل میں خلقت کی خیر خواہی ڈال دی ہے، اور اسے میرا سب سے بڑا مقصد بنا دیا ہے۔ یقینی طور پر میں ایک نصیحت کرنے والا ہوں ، اور خیر خواہی کا صلہ نہیں چاہتا، میراصلہ تو اللہ کے ہاں ہے، جو مجھےمل چکا ہے۔ مجھے دنیا کی کوئی طلب نہیں۔ مجھے آخرت کی کوئی تمنا نہیں ۔ میں ماسوا اللہ کی بندگی نہیں کرتا ، میں تو اللہ کے سواکسی کی عبادت نہیں کرتا، جو کہ خالق ہے، یکتا ہے، یگانہ ہے، قدیم ہے، تمہاری فلاح ونجات میں میری خوشی ہے اور تمہاری تباہی و بربادی میرے لئے دکھ اور غم کا باعث ہے۔ میں جب اپنے مرید صادق کا چہرہ دیکھتا ہوں کہ جس نے میرے ہاتھ پر فلاح ونجات پائی تو میں اور تروتازہ اور توانا ہو جا تا ہوں لباس پہنتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں، اور کہتا ہوں کہ اس کا وجود میرے ہاتھ سے کیسی عمدہ پرورش اور اچھی تربیت پا کر نکلا۔</p>



<p>اے بیٹا! میں تجھے چاہتا ہوں، اپنے آپ کو نہیں ، اگر تجھ میں کچھ تبدیلیاں آئیں گی تو تیری ہی حالتیں بدلیں گی ، میری نہیں۔ میں تو سب منزلیں طے کر چکا ہوں، تیری میری دوستی تیری وجہ سے ہوئی &nbsp;ہے، تو مجھ سے اپنے لئے محبت کرتا ہے، مجھ سے تعلق واسطہ رکھ تا کہ تو بھی جلد از جلدان منزلوں سے گزر سکے۔</p>



<p><strong>حرص اور نفس کے بندے نہ بنو :</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو! اللہ اور اس کی مخلوق پر غرور اور تکبر کرنا چھوڑ دو۔ اپنے آپ کو پہچانو اپنے نفسوں&nbsp; میں تواضع و انکساری &nbsp;اجاگر کرو، تمہارا وجود ایک پلید بوند سے بنا ہے تمہاری شروعات ذلیل پانی سے ہوئی ، اور تمہارا انجام ایک پھینکے ہوئے مردار کی طرح ہے۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جن کوطمع در بدر لئے پھرتی ہے، اور حرص کے بندے بن کے رہ جاتے ہیں، نفسانی خواہش انہیں بھڑ کا کر ایسی چیز کی طلب میں بادشاہوں کے در پر لے جاتی ہے جو ان کے نصیب میں نہیں ہے- اور اگر نصیب میں ہے تو نہایت ذلالت اور حقارت سے اس کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، &nbsp;رسول اللہ ﷺ کاارشاد گرامی ہے:</p>



<p><strong>اشد عقوبات الله عز وجل يعبده طلبه ما لم يقسم له</strong> . . اللہ تعالی کے سخت ترین عذابوں میں سے اپنے بندے کے لئے یہ ہے کہ وہ ایسی چیز کی طلب کرے جو اس کی قسمت میں نہیں ہے۔“</p>



<p>افسوس اس بات کا ہے کہ تو اپنی تقدیر اور کاتب &nbsp;تقدیر &nbsp;کونہیں جانتا، کیا تجھےیہ گمان ہے کہ دنیا والے وہ چیز تجھے دینے پر قدرت رکھتے ہیں جو تیرے مقدر میں نہیں۔ (ہرگز نہیں ، ) یہ شیطانی وسوسہ ہے جو تیرے دل و دماغ میں بس گیا ہے، تو اللہ کا بندہ نہیں ، بلکہ اپنے نفس اور حرص اور شیطان اور عادت اور درہم و دینار کا بندہ ہے، کوشش کر کہ تجھے کوئی نجات دہند ہ مل جائے تا کہ اس کی پیروی سے تجھے بھی فلاح ونجات مل سکے، (یعنی مرشد کامل کی جستجو کر ۔)</p>



<p>اللہ کے ایک کامل ولی فرماتے ہیں: <strong>من لم يرى المفلح لا يفلح</strong> &nbsp;&nbsp;”جس نے نجات والے کو نہ دیکھا ،اس نے نجات نہ پائی‘‘۔ تو کسی فلاح والے کو اگر دیکھتا بھی ہے تو سر کی آنکھ سے دل اور باطن اور ایمان کی آنکھ سے نہیں دیکھتا، تیرے پاس تو ایمان ہی نہیں تو دیکھنے والی آنکھ کہاں سے لاؤ گے جس سے نجات دلانے والے کو دیکھ سکے، ارشاد باری تعالی ہے<strong>: فَإِنَّهَا لَا ‌تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ ‌تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ</strong>”وہ (ظاہری) آنکھوں کو اندھا نہیں کرتا لیکن جوسینوں میں دل ہیں ۔ان ( کی آنکھوں کو اندھا کرتا ہے ۔‘‘ جو شخص خلقت کے ہاتھوں سے دنیا پانے کی خاطر حرص اور لالچ کرتا ہے، اور دین کو ایک (معمولی) انجیر کے بدلے میں فروخت کرتا ہے ۔ بقا کوفنا کے بدلے بیچ ڈالتا ہے، اس لئے اس کے ہاتھ نہ یہ دنیا لگتی ہے نہ آخرت، جب تک تمہارا ایمان ناقص ہے، اپنے نفس کی اصلاح کر اور اکل حلال کے حصول کے لئے کوشش کر ، تا کہ تو مخلوق کا محتاج نہ ہو جائے ، چنانچہ اپنے دین کو بیچ کر لوگوں کا مال نہ کھاؤ ، اور (اس غلط کاری سے باقی کو فانی سے نہ بدل ،ہاں جب تمہارا ایمان قوی اور کامل ہو جائے تو ہر سبب سے علیحدہ ہو جاؤ ، ارباب باطلہ سے قطع تعلق کرلو، اور اللہ تعالی پر توکل کرو۔ اپنے دل سے سب چیزوں کو چھوڑ دینے کی راہ اختیار کرو، دل کے ہمراہ اپنے شہر اور اہل وعیال ، اور اپنی دکان ( کاروبار ) اور اپنے جان پہچان والوں سے نکل جا، اور جو کچھ تیرے پاس ہے، اپنے اہل وعیال، اپنے بھائیوں اور دوستوں کو دے دے تیری حالت ایسی ہو جائے کہ جیسے موت کے فرشتے نے تیری روح قبض کر لی ہے اور موت کے اچکنے والوں نے تجھے اچک لیا ہے ، تو موت کا لقمہ بن گیا ۔ گو یا زمین پھٹ گئی اور تم اس میں سماگئے۔ یعنی تقدیر اور قضا نے تجھے اٹھا کر علم ومعرفت کے دریا میں ڈبو دیا ہے ۔ جو شخص اس مقام پر پہنچ گیا، عالم اسباب والے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ اسباب کے اثرات ظاہر پر پڑتے ہیں ، باطن پرنہیں ۔ اس حال میں سبب دوسروں کے لئے ہوتے ہیں، اس کے لئے نہیں۔</p>



<p>اے لوگو اگر تم پوری طرح سے دل کے ساتھ ان سب باتوں پر &nbsp;عمل نہیں کر سکتے تو اسباب اوران سے تعلق کو چھوڑ دو اگر تم سےیہ کلی طور پر نہ ہو سکے تو جس قدر ہو سکے اس قدرہی سہی &nbsp;، اگر پوری طرح سے نہیں تو تھوڑا ہی سہی ، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:</p>



<p><strong>‌تَفَرَّغُوا ‌مِنْ ‌هُمُومِ ‌الدُّنْيَا ‌مَا ‌اسْتَطَعْتُمْ</strong>جس قدر استطاعت ہو، دنیا کے بکھیڑوں سے بچ جاؤ۔“</p>



<p>سب کچھ اسی سے مانگو،غیر کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاؤ: بیٹا! اگر دنیا کی فکروں سے آزاد ہونے کی ہمت ہے تو ہو جاؤ، ورنہ اپنے دل کے ساتھ اللہ کی طرف دوڑ لگا دے اور اس کے دامن رحمت کو تھام لے،تاوقتیکہ تمہارے دل سے دنیا کی فکر نکل جائے ۔وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور ہر ایک چیز کے جاننے والا ہے، ہر چیز اس کے دست قدرت میں ہے، اس کے در کے ہور ہواور التجا کرو کہ تمہارے دل کو غیر سے پاک کر دے ، اور اسے ایمان اور اپنی معرفت اور اپنے علم سے بھر دے اور اپنے غیر سے بے نیاز کر دے اور تجھے یقین عطا فرمادے، اور تیرے دل کو اپنے ساتھ مانوس کر دے اور غیر کے انس سے نجات بخشے اور تیرے سب اعضاء کو اپنی اطاعت و بندگی میں لگائے رکھے، سب کچھ اس سے مانگو، غیر کی سامنے ہاتھ نہ پھیلاؤ ،اپنے جیسے بندوں کے سامنے نہ جھکو، بلکہ غیر کو چھوڑ کر اس کے ہورہو، اپناہر معاملہ اس کے ساتھ اس کے لئے رکھ، اس میں دوسرے کا تعلق نہ ہونے پائے ۔</p>



<p><strong>&nbsp;دل سے عمل نہ ہو تو علم بیکار ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا اگرز بان پر علم کا چشمہ جاری ہو اور علمی طور پر دل ساتھ نہ ہوتو یہ سوجھ بوجھ&nbsp; &nbsp;اللہ &nbsp;کی طرف ایک قدم بھی نہ بڑھنے دے گی ،سیر تو دل کی سیر ہے، قرب الہی تو باطنی قرب ہے،عمل حقیقی معنوں میں عمل ہے، جس میں اعضاء شرعی حدود کی پاسداری کرتے دکھائی دیں اور اس کے بندوں کی تواضع وانکساری اللہ ہی کے لئے کی جائے ، جوشخص اپنے نفس کو بلند مرتبہ جانےسمجھ لواس کی کوئی قدرومنزلت نہیں ، جس نے خلقت کے دکھلاوے کے لئے عمل کئے ، اس کا کوئی عمل نہیں،حقیقی عمل تو خلوت ہی میں ہوتے ہیں جلوت میں ان کا اظہار نہیں کیا جا تا سوائے ان کے ، جن کا ظاہری طور پر کرنا شرعا لازم ہے (یعنی نماز روزہ وغیرہ)، تجھ سے بنیاد کی مضبوطی میں کوتاہی سرزد ہوگئی ہے، نا پختہ بنیاد پر بننے والی عمارت کو مضبوط کرنا کیا فائدہ دے گا، اوپر کی چھت وغیرہ اوپر ہی اوپر دوبارہ مضبوط کی جاسکتی ہے، مگر بنیاد کی کمزوری کا کیا علاج ہے ،اعمال کی بنیادتوحید اور اخلاص پر ہے، جس کے پاس تو حید اور اخلاص نہیں ، اس کا کوئی عمل نہیں ۔ لہذا توحید اور اخلاص کے ذریعے اپنے عمل کی بنیاد کو مضبوط کرو، اپنی طاقت وقوت کے بل بوتے اعمال کی عمارت نہ اٹھا یہ بھروسے کی بات نہیں، بلکہ اللہ کی مدد اور نصرت سے اعمال کی عمارت بناء توحید واخلاص ہی اصل معمارہیں شرک و نفاق نہیں ،حقیقی توحید والاو ہی ہے جس کے علم کا چاند بلند ہوکر روشنی بکھیرے،( منافق کے کئے سے کچھ بھی نہیں بنتا۔)</p>



<p>ہماری التجاودعا یہی ہے کہ اللهم باعد بيننا وبين النفاق في جميع أحوالنا ‌ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ النار &#8220;یا الہی! ہمارے سب احوال میں ہم میں اور نفاق میں دوریاں ڈال دے اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ آمین!‘‘</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 55،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/41" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/41" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 41</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&amp;linkname=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F6229-2%2F&#038;title=%DA%86%DA%BE%D9%B9%DB%8C%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/6229-2/" data-a2a-title="چھٹی مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/6229-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ساتویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 01:53:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[تین قسم کے لوگ]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا آفتوں کا مجموعہ]]></category>
		<category><![CDATA[زبانی علم بے فائدہ.]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6230</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے ساتویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس السابع فی الصبر ‘‘ ہے۔ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے ساتویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس السابع فی الصبر<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقدہ 17شوال 545 ھ بروز اتوار بمقام خانقاہ شریف</mark></p>



<p><strong>&nbsp;اللهم صل على محمد و على آل محمد وافرغ علينا صبرا و ثبت أقدامنا و كير عطائك لناوارزقنا الشكر عليه إلى آخر الدعاء</strong></p>



<p>&nbsp;یا الہی ! حضرت محمد ﷺ اور آپ &nbsp;ﷺ کی آل پر رحمت بھیج ، اور ہمیں صبر کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہمارے لئے اپنی عطا ئیں اور زیادہ کر دے اور ہمیں شکر کرنے کی توفیق عطافرما۔آخر دعا تک ۔“</p>



<p><strong>دنیا کی زندگی آفتوں اور مصیبتوں سے بھری پڑی ہے:</strong></p>



<p>اے لوگو! صبر سے کام لو، دنیا کی زندگی آفتوں اور مصیبتوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ کوئی بچ سکا تو بہت ہی کم ،د نیا کی کوئی نعمت ایسی نہیں کہ جس کے ساتھ مصیبت اور غم نہ ہو۔ اس میں کوئی خوشی ایسی نہیں کہ جس کے ساتھ رنج نہ ہو، اس میں کوئی فراخی ایسی نہیں کہ جس کے ساتھ تنگی نہ ہو۔</p>



<p>شریعت کے دائرے میں دنیا سے اپنے مقدر کا لکھا لیتے رہو، یقینی بات تو یہ ہے کہ دنیا کی لذتوں سے جو مرض لاحق ہوا، شریعت ہی اس کا علاج ہے۔</p>



<p>بیٹا! جب تو کسی کے دامن سے وابستہ ہو تو قسمت کا لکھا شرع کے ہاتھ سے لے، جب تو خاص دوست (صدیق) کے مرتبہ پر پہنچے تو اپنا نصیب امر الہی کے ہاتھ سے حاصل کرو، اور جب تو فانی فی اللہ، واصل اور مقرب بارگاہ ہو جائے تو الہی فعل کے ہاتھوں سے لے ۔ پھر تجھے شرعی امور کا حکم دیا جائے گا ، اور ناپسندیدہ سے رو کے گا، تیرے دل میں فعل کے لئے خود بخود تحریک ہوگی۔</p>



<p><strong>اللہ کے بندے تین طرح کے ہیں:</strong><strong></strong></p>



<p>اللہ کے بندے تین طرح کے ہیں:</p>



<p>عامی -خاصی۔ خاص الخاص،</p>



<p>عامی وہ مسلمان ہے جو پر ہیز گار ہو، جوشریعت کا پابند ہو، اور شرع سے کسی پل جدا نہیں ہوتا ، اور اللہ کے اس فرمان پرعمل پیرا ہو</p>



<p><strong>وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا </strong>جو کچھ رسول &nbsp;ﷺ نے تمہیں دیا ہے، لےلو، اور جس چیز سے روکا ہے ، رکے رہو۔“ جب اس کے حق میں یہ تمام ہوتا ہے، اور اس کے ظاہر و باطن پرعمل کر چکے تو اس کا قلب ایسا روشن ہو جا تا ہے کہ وہ اس سے ہرشے کو دیکھنے لگتا ہے، اگر وہ کوئی چیز شریعت کے دائرے میں حاصل کرے تو اس کے لئے اپنے دل سے یقین چاہتا ہے،اور الہام ربانی کا منتظر رہتا ہے، کیونکہ الہام ربانی ہرشے میں عام ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:</p>



<p><strong>فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا</strong>’’اس نے نیکی اور بدی اس کے دل میں ڈال دی ہے ۔‘‘ وہ اپنے دل سے اعتبار چاہتا ہے اور الہام ربانی کا منتظر رہتا ہے ، اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ ظاہرامر پرعمل کرتا ہے اور وہ ظاہرامر یہ ہے کہ جو کچھ اس معیشت تیار کرنے والی دکان میں ہے، دینے والا دے رہا ہے، سب اس کے ہاتھ میں اور ملکیت میں ہے۔</p>



<p>پھر یہی عام خاص بن کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اپنے دل سے اعتماد چاہتا ہے، اور دل کے نور سے روشنی حاصل کر کے اس بارے میں امرالہی کو دیکھ لیتا ہے۔ یہ مقام تب حاصل ہوتا ہے جب وہ شریعت پرعمل کرتا ہے،اور اس کے ایمان کی قوت اور توحید کی قوت اور قوی جائے اور اس کا دل خلقت اور دنیا سے الگ ہو جائے ، دنیا کے جنگلوں اور دریاؤں کو عبور کر لے، اس مقام پر صبح &nbsp;صادق نمودار ہوتی ہے، اور سب طرح کے انوار :نورایمان،نورقرب الہی ، نورعمل ،نور بصر،نورتحمل واطمینان حاصل ہو جاتے ہیں، یہ ثمرات شرعی حقوق کے ادا کرنے کے بعد اس کی متابعت کی برکت سے حاصل ہوتے ہیں۔</p>



<p>&nbsp;اور خاص الخواص، یہ لوگ ابدال ہیں ۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے شریعت سے اعتماد (فتوی) لیتے ۔ پھر اللہ کا امر اور اس کا فعل اورتحریک دیکھتے ہیں اور اس کے الہام کے منتظر رہتے ہیں۔ ان تین طبقوں کے علاوہ تباہی در تباہی ،بیماری ، حرام در حرام ،دین کے سر کا درد، دین کے دل کا پھوڑا ہے، اور بدن میں &nbsp;سل کا مرض ہے۔</p>



<p><strong>تمہارے اعمال اس کی نظر میں ہیں:</strong></p>



<p>اے لوگو! اللہ تعالی طرح طرح سے (اپنے تصرفات سے) تمہارے احوال میں تبدیلی لاتا ہے تا کہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو، تمہارے اعمال اس کی نظر میں ہیں)-: تم ثابت قدم رہتے ہو ، یالڑکھڑ ا جاتے ہو، &nbsp;امرالہی کی تصدیق کرتے ہو، یا انہیں جھٹلاتے ہو، جوشخص رضائے الہی میں راضی نہ ہو، اس کی ہم نوائی نہیں ہوتی ، نہ ہی توفیق دی جاتی ہے ، جو قضائے الہی میں راضی نہیں اللہ بھی اس سے راضی نہیں ، جو خودنہیں دیتا، اسے بھی نہیں دیا جاتا ۔ جوکسی سے نہیں ملتا، کوئی اس کے پاس بھی چل کے نہ آئے گا۔</p>



<p><strong>ثابت قدمی کے بغیر ایمان کا دعوی خام ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>جاہل آدی! تیرا خیال ہے کہ اللہ تیری مرضی ومنشاء سے تغیر و تبدل کرے، کیا تو دوسراالہ ہے کہ اللہ تیری موافقت کرے۔ یہ تو الٹا معاملہ ہے، تو اس کے خلاف کرتا کہ ہدایت پائے ، اگر اللہ نے تقدیر نہ بنائی ہوتی تو جھوٹے دعوے نہ پہچانے جاتے ، جواہر کی پرکھ تجربوں سے ہوتی ہے، جس طرح تیرانفس احکام الہی کا انکاری ہے تو اپنے نفس کی ماننے سے انکاری ہو جا، جب تو اپنے نفس کی ماننے سے انکار کر دے گا تو دوسرے کے انکار پر بھی قدرت پالے گا ، ایمانی قوت کے اندازے سے ہی خرابیاں دور ہوسکتی ہیں ، ایمانی کمزوری سے گھر بیٹھنا اسے بزدل بنادے گا، اور اسے دور کرنے سے عاجز اور گونگا ہو جائے گا۔</p>



<p>ایمان کے قدم ہی ایسے ہیں جو انس وجن&nbsp; کے شیطانوں &nbsp;کے مقابلے پر ڈٹے رہیں، آفتوں اور مصیبتوں کے آنے پر نہ ڈگمگائیں، ثابت قدمی کے بغیر ایمان کا دعوی جھوٹا ہے، اگر ایمان کا دعوی ہے تو ہر ایک سے دشمنی کر اور سب کے خالق سے دوستی کر ، اگر وہ چاہے تو ایسی چیز کو تمہاری محبوب بنا کر محفوظ رکھے کہ جس سے تمہیں نفرت تھی ، کیونکہ دل میں محبت ڈالنے والا وہ ہے نہ کہ تم ہو، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ارشادفر مایا: <strong>‌حُبِّبَ ‌إِلَيَّ مِنْ ‌دُنْيَاكُمُ النِّسَاءُ، وَالطِّيبُ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ</strong> ”تمہاری دنیا سے تین چیز یں ایسی ہیں جو میری محبوب بنا دی گئی ہیں،خوشبو،عورتیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔نبی کریم ﷺکیلئے یہ چیزیں بعد میں محبوب &nbsp;کی گئیں، پہلے آپ کی طرف سے نفرت ، ان کا ترک اور بے نیتی اور روگردانی تھی ۔ چنانچہ</p>



<p><strong>فرغ أنت قلبك مما سواه حتى يحبب هو إليك ما يشاء من ذلك</strong> تو اپنے دل کو ماسوا اللہ سے خالی کر دے تا کہ وہ ان میں سے جس کی بھی جا ہے تیرے دل میں محبت ڈالدے۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 59،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/43" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/43" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 43</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b3%25d8%25a7%25d8%25aa%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D8%B3%D8%A7%D8%AA%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="ساتویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b3%d8%a7%d8%aa%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آٹھویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d9%b9%da%be%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d9%b9%da%be%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2022 01:45:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[باطنی بربادی]]></category>
		<category><![CDATA[بیکار زہد]]></category>
		<category><![CDATA[ریاکار شخص]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6228</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے آٹھویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس الثامن فی عدم المرااۃ ‘‘ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a2%d9%b9%da%be%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے آٹھویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس الثامن فی عدم المرااۃ<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقده 19/شوال 545 بروز منگل بوقت عشاء بمقام : مدرسہ قادریہ</mark></p>



<p><strong>&nbsp;ریا کار کا ظاہرآباد ہے اور باطن ویران:</strong><strong></strong></p>



<p>ریا کار کا لباس بظاہر صاف ستھرا اور دل پلید ہوتا ہے، مباح چیزوں میں زہد کرتا ہے اور نیکی کمانے میں سستی کرتا ہے۔ دین ( بیچ کر اس کے ذریعے کھا تا پیتا ہے۔۔۔ پر ہیز بالکل نہیں کرتا، کھلے عام حرام کھا تا ہے ۔ اس کی یہ حرکتیں عام لوگوں سے اوجھل ہیں جبکہ خواص اس کی حقیقت سے واقف ہیں، اس کاز ہد اور عبادت دکھاوے کے ہیں ۔ ریا کارکا ظاہرآباد ہے اور باطن ویران!</p>



<p>تیرے انداز زندگی پر افسوس ہے۔ اللہ کی طاعت قلب سے ہوتی ہے، قالب سے نہیں ، یہ سب چیز یں قلب اور باطن اور معانی سے تعلق رکھتی ہیں، ظاہر سے ان کا کوئی واسطہ نہیں، ظاہری طور پر تو جس لباس میں ہے اسے اتاردے، تا کہ میں تجھے اللہ سے ایسا لباس لے دوں جو کبھی پرانا نہ ہو ۔ یہ پہلے والا لباس اتاروتو وہ تمہیں پہناؤں، اللہ کے حقوق ادا کرنے میں جو لباس رکاوٹ بنتا ہے، اسے اتار ڈال ۔ جس لباس میں تو خلقت سے ملتا ہے اور خلقت سے تیرے شرک کا باعث بنتا ہے، اسے اتار کر پھینک دے۔ نفسانی خواہشوں اور بدمزاجی ، اورغرور اور نفاق کا پہناوا، اور خلقت میں اپنی مقبولیت اور ان کی توجہ اور عطیوں کے سب لباس الگ کر دے، دنیا کے کپڑے اتار کر آخرت کا لباس پہن لے، اپنی ہستی اور طاقت اور قوت سے کنارہ کش ہو جا -سب کو چھوڑ کر اللہ کے سامنے عاجز وکمزور ہو جا، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ کرنا چھوڑ دے خلقت میں سے کسی کو شریک نہ بنا اور ایسا کر کے شرک کی آفت سرنہ لے۔ ایسا کرنے سے : &#8211; تیرے اردگر دالطاف ربانی ہوں گے، رحمت الہی تیرے پاس ہوگی ۔ &nbsp;تجھے اطمینان نصیب ہوگا۔ نعمت واحسان کے کپڑے پہنو گے،تو رحمت سے &nbsp;مل جائے گا۔ تو اللہ کی طرف دوڑ ۔ سب کچھ اتار کر ، سب سے قطع تعلق کر کے اس کی طرف بھاگ کھڑا ہو۔ تا کہ وہ تجھے مطمئن کر دے اور حقیقت پر پہنچادے، اور پھر تیری ظاہری و باطنی قوتوں کو ملا دے۔ پھر اگر تم پر سب جہانوں کے دروازے بند کر دیئے جائیں اور سب طرح کے بوجھ لاددیئے جائیں تو مجھے کچھ نقصان نہ پہنچے گا بلکہ اللہ کی حفاظت تیرے شامل حال رہے گی۔</p>



<p>جس شخص نے خلقت کو توحید کے ہاتھ سےدنیا کوزہر کے ہاتھ سے اور ماسوا ان کو بے رغبتی کے ہاتھ سے فنا کر دیا، اس نے کامل نجات اور فتح حاصل کر نی دنیا وآخرت کی بھلائیوں سے نواز دیا گیا۔ اس سے پہلے کہ تمہاری زندگی کا سفر تمام ہو جائے ،اپنے نفسوں اور شیطانوں اور خواہشوں کو مار ڈالنالا زم ٹھہرالو: ۔ عام موت سے پہلے خاص موت کے ساتھ ضرور مر جاؤ ( وہ ماسوا اللہ سے جدائی ہے۔)</p>



<p><strong>ایمان والا پہلے اپنے باطن کو آباد کرتا ہے ، پھر ظاہرکو :</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو! میرا کہامانوں میں اللہ کی طرف سے ، اسی کی طرف بلانے والا ہوں، تمہیں اپنے نفس کی طرف نہیں بلکہ اس کے دراور طاعت کی طرف بلاتا ہوں ، منافق خلقت کو اللہ کی طرف نہیں بلکہ اپنے نفس کی طرف بلاتا ہے وہ تو نفسانی لذتوں ،خلقت میں مقبولیت کا طالب اور دنیا سے پیار کرنے والا ہے۔</p>



<p>جاہل آدمی! تو میری نصیحت پر کان نہیں دھرتا اور نفس و خواہشات کے ساتھ خلوت خانہ میں اکیلا بیٹھتا ہے۔ تجھے شیخ کامل کی ضرورت ہے، نفس اور حرص کوقتل کر دے اور ماسوا اللہ سے قطع تعلق کر لے، اپنے پیران عظام کے دروازے کولازم پکڑ ، فیض صحبت اٹھا، پھران سے الگ ہوکر اللہ کا ہم نشین ہو جا، جب تجھے ہی مرتبہ کامل طور پر حاصل ہو جائے تو اللہ کے حکم سے خلقت کی دوا، ہدایت کرنے والے، اور ہدایت قبول کئے گئے ہو جاؤ گے۔</p>



<p>تیری زبان پر ہیز گار اور دل گنہگار ہے، زبان اللہ کی تعریف کرنے والی جبکہ دل اس کے خلاف کرنے والا ہے ۔</p>



<p>تیرا ظاہر مسلمان اور باطن کا فر ہے، تیرا ظاہر تو حید والا اور باطن بت پرست ہے، تیراز ہد اور دین ظاہری ہے اور باطن خراب اور ویران جیسے غلاظت پر سپیدی اورگندگی کے ڈھیر پر قفل ہے جب تو اس حالت پر&nbsp; ہے تو شیطان نے تیرے دل پر خیمہ لگا کر اپنا ڈیرہ جمالیا</p>



<p>ایمان والا پہلے اپنے باطن کو آبادکرتا &nbsp;ہے پھر ظاہر کو&nbsp; جیسے کوئی &nbsp;شخص گھر بنا تاہے توپہلے&nbsp; اس کے اندر والے حصے پر بڑی رقم خرچ کرتا ہے مگر اس کا دروازہ خراب ہی ہوتا ہے، جب گھر کی اندرونی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے تب دروازہ بنا تا ہے۔ اسی طرح سے سالک اللہ کے ساتھ ابتدا کرے اور اس کی رضا طلب کرے، پھر اس کے حکم سے خلقت کی طرف توجہ کرو، اس توجہ کی ابتدا آخرت کی تحصیل کے لئے ہے، اس کے بعد دنیا سے اپنی قسمت کا لکھا حاصل کرو۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 62،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/45" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/45" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ 45</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a2%25d9%25b9%25da%25be%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D8%A2%D9%B9%DA%BE%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a2%d9%b9%da%be%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="آٹھویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a2%d9%b9%da%be%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 14 Mar 2022 22:42:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ کے محبوبوں کی آزمائش]]></category>
		<category><![CDATA[مخلوق سے شرم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6223</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے نویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس التاسع فی ابتلاء المومن ‘‘ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے نویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس التاسع فی ابتلاء المومن<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> بوقت منعقد ہ22شوال  545 بروز جمعہ صبح ، بمقام :مدرسہ قادر یہ</mark></p>



<p><strong>&nbsp;ایمان والے کی آزمائش میں کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>رسول اللہ &nbsp;ﷺ کا ارشاد عالی ہے: <strong>لَا يعذب الله حَبِيبَهُ وَلَكِنْ قَدْ ‌يَبْتَلِيهِ</strong></p>



<p>اللہ اپنے محبوب کو عذاب نہیں دیتا لیکن کبھی آزمائش میں ڈالتا ہے۔‘‘</p>



<p>ایمان والے کو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے آزمائش میں کوئی مصلحت ضرور ہے، جس کا بعد میں دنیا یا آخرت میں ظہور ہوتا ہے، لہذا وہ اس مصیبت کے ساتھ راضی اور اس پر صبر کرنے والا ہے، وہ اپنے پاک پروردگار پرکسی قسم کی تہمت نہیں رکھتا، اس کارب اس بلا کی وجہ سے اسے دوسرے امور سے روک دیتا ہے۔ اے دنیا میں مشغول رہنے والو! ان مقامات پر تمہیں کلام کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، کیونکہ تم اپنی زبانوں سے کلام کرتےہو دل سے نہیں، تم اللہ سے ، اور اس کے کلام سے ، اس کے پیغمبروں اور ان کے پیروکاروں سے روگردانی کرنے والے ہو، نبیوں کے پیروکار ہی ان کے خلفاء اور وصی ہیں ، تم تقدیر اور قدرت میں جھگڑا کرنے والے ہو، تم نے اللہ کی عنایات وعطایات کو چھوڑ کر خلقت کی عطاؤں پر تکیہ کر لیا ہے ۔ تمہاری بات اللہ اور اس کے نیک بندوں کے نزدیک اس وقت تک سنے جانے کے لائق نہیں، جب تک کہ تم اخلاص کے ساتھ تو بہ نہ کرو، اور توبہ پر ثابت قدم نہ ر ہوا اور اپنے ہرنفع اور نقصان میں راضی برضا ہو جاؤ کہ جس چیز میں خواہ عزت دے یا ذلت دے، امیری اور فقیری میں، عافیت اور مرض میں، ان چیزوں میں جن سے محبت رکھتے ہو، اور &nbsp;ان چیزوں میں جن سے نفرت رکھتے ہو۔</p>



<p><strong>خدمت کرو یہاں تک کہ مخدوم بن جاؤ:</strong><strong></strong></p>



<p>اے لوگو! اللہ کی اطاعت کرو تا کہ تمہاری اطاعت کی جائے ، خدمت کرو یہاں تک کہ مخدوم بن جاؤ، ۔ تقدیر اورقضائے الہی کی اتباع کرو، اس کے خادم بن جاؤ حتی کہ وہ تمہارے تابع اور خادم ہو جائیں ، ان کے سامنے جھک جاؤ یہاں تک کہ وہ تمہارے سامنے جھک جائیں ، کیا تم نے سنانہیں: <strong>‌كَمَا ‌تَدِينُ تُدَانُ </strong>”جبیاتم برتو گے، ویسا ہی تم سے برتا جائے گا۔“ جیسے تم ہو جاؤ گے جیسے عمل کر کے ویسے تم پر حکم مقرر کیا جائے گا۔ تمہارے اعمال ( جیسے تمہارے حاکم اللہ اپنے بندوں پرظلم نہیں کرتا تھوڑے عمل پر وہ بہت اجرت دیتا ہے، صحیح کا نام فاسد نہیں رکھتا، بچے کا نام جھونا نہیں رکھتا۔</p>



<p><strong>دنیادی بادشاہ تمہارے نصیب سے زیادہ دینے پر قادر ہیں:</strong></p>



<p>&nbsp;اے بیٹا! جب تو خدمت کرے گا ،مخدوم بنا دیا جائے گا، جب تو تقدیر کے ساتھ موافقت کر ے گا ، توفیق خبر دے دیا جائے گا۔ اللہ ہی کی خدمت گزاری کرے اسے چھوڑ کر دنیاوی بادشاہوں کی خدمت میں نہ لگ جانا جو تجھے نفع دے سکتے ہیں، نہ کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے لا پرواہی نہ کر، یہ تجھے کیا دے سکتے ہیں۔ کیاوہ چیز دے سکتے ہیں جو تیرے نصیب میں نہیں ہے۔ کیا وہ ایسی چیز تمہاری قسمت میں کر سکتے ہیں جواللہ نے تمہاری قسمت میں نہیں کی ہے، ان کے پاس تو نئی چیز کوئی بھی نہیں ہے، اگر تم یہ کہو کہ وہ ( قسمت سے باہر کی چیز دے سکتے ہیں تو تم نے کفر یہ بات کہی، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ کی ذات کے سوا کوئی:</p>



<p>نہ دینے والا ، نہ روکنے والا ، نہ ضرر دینے والا ، نہ نفع پہنچانے والا، نہ پہلے ہے، نہ پیچھے ہے بعد میں باقی رہنے والا اللہ ہی اللہ ہے ، اگر تو یہ کہے کہ میں اسے جانتا ہوں تو میں تجھ سے کہوں گا کہ تو اسے کیسے جانتا ہے۔ اگر تو اسے جانتا پھر اس کے غیر کو اس پر فوقیت نہ دیتے۔</p>



<p><strong>اللہ سے یوں شرما جیسے اپنے نیک پڑوسی سے شرماتا ہے:</strong><strong></strong></p>



<p>تم پر افسوس ہے کہ دنیا کے بدلے تم آخرت کو کیسے خراب کرتے ہو، اپنے نفس اور خواہش اور شیطان اور خلقت کی اطاعت کر کے اپنے مالک کی تابع داری کیسے فاسد کرتے ہو، اس کے غیر سے شکوہ وشکایت کر کے اپنے تقوی کو کیوں ضائع کرتے ہو، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالی : پرہیز گاروں کا حافظ و ناصر ہے، ان سے بدی کو روکنے والا ہے،ان کو تعلیم دینے والا ہے , انہیں اپنی معرفت عنایت کرنے والا ہے۔ ان کا ہاتھ پکڑنے والا ہے، ان کے دلوں کو دیکھنے والا ہے، انہیں تکلیف دہ چیزوں سے نجات عطا کرنے والا ہے، &#8211; انہیں ایسی جگہ سے رزق پہنچانے والا ہے، جہاں سے انہیں گمان بھی نہیں ،</p>



<p>اللہ تعالی نے اپنی بعض کتابوں میں ارشادفرمایا:</p>



<p>يا ابن ادم استحي مني كما تستحيي من جارك الصالح &#8211; ” اے ابن آدم ! مجھ سے یوں شرما جیسے اپنے نیک پڑوسی سے شرماتا ہے۔ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا:</p>



<p>إذا أغـلـق العبد ابوابه وارخى استارة واختفى من الخلق وخلا بمعاصي الله عز وجل يقول ال عز وجل يا ابن ادم جعلتني أهون الناظرين إليك . ’’ جب کوئی بندہ اپنے دروازے بند کر لیتا ہے، اور ان پر پردے ڈال دیتا ہے، اور خلقت سے چھپ جاتا ہےاور اس خلوت میں اللہ کی نافرمانی کرنے لگتا ہے۔</p>



<p>تو اللہ تعالی ارشادفرماتا ہے:۔ اے ابن آدم !تو نے اپنی طرف دیکھنے والوں میں سب سے زیادہ ادنی درجے کا مجھے سمجھا تو خلقت سے شرم کرتا ہے اور مجھ سے شرم نہ آئی۔</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 65،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/48" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/48" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ  48</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2586%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D9%86%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="نویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%86%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دسویں مجلس</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%af%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%af%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 14 Mar 2022 22:36:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[الفتح الربانی]]></category>
		<category><![CDATA[سینہ کی وسعت]]></category>
		<category><![CDATA[قدرت کی طرف متوجہ]]></category>
		<category><![CDATA[گمنامی کا لباس]]></category>
		<category><![CDATA[متقی تکلف سے بری]]></category>
		<category><![CDATA[مخلوق کے نگہبان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=6222</guid>

					<description><![CDATA[محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب &#8221;الفتح الربانی والفیض الرحمانی‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے دسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان&#8221; المجلس العاشر فی عدم التکلف ‘‘ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%af%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p> <mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>محبوب سبحانی غوث صمدانی ، شہباز لامکانی، حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی معروف کتاب  &#8221;</strong></mark><strong><mark style="background-color:#00d084" class="has-inline-color">الفتح الربانی والفیض الرحمانی</mark></strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘باسٹھ (62 ) مجالس میں سے دسویں مجلس کا خطبہ جس کا عنوان</strong></mark><mark style="font-weight: bold; background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color">&#8221;</mark><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);"> المجلس  العاشر فی عدم التکلف<mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color"><b style="background-color: rgb(0, 208, 132);">  </b></mark></b></mark><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color"><strong>‘‘</strong></mark>  ہے۔</strong></mark></p>



<p><mark style="background-color:#0693e3" class="has-inline-color"> منعقد ہ24شوال 545   بروز اتوار بوقت صبح</mark></p>



<p><strong>متقین اور منافقین کا عبادت الہی میں تکلف :</strong></p>



<p>رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا: <strong>«‌</strong><strong>أَنا ‌والأتقياء من أمتِي بُرَآء من التَّكَلُّف</strong>میں اور میری امت کے متقی تکلف سے بیزار ہیں ۔ متقی اللہ کی عبادت بلا تکلف کرتا ہے، کیونکہ عبادت تو اس کی عادت بن گئی ہے وہ اللہ کی بندگی اپنے ظاہر اور باطن دونوں سے اللہ کی بندگی بلا تکلف کرتا ہے۔ جبکہ منافق ہر حال میں تکلف کرتا ہے، خاص طور سے اللہ کی عبادت ظاہری طور پر تکلف سے ادا کرتا ہے، باطنی طور پر عبادت کا ترک کرنے والا ہے، &nbsp;، وہ متقیوں کے مقام میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا، ہر مقام کی بات الگ ہے، اور ہر عمل کے انسان بھی جداگانہ ہیں، لڑائی کے لائق بھی وہی ہے جو خاص طور سے اس کے لئے پیدا کیا گیا۔</p>



<p>نفاق والو! اپنے نفاق سے تائب ہو جاؤ اور اپنے فرار سے باز آؤ ۔ (اپنی اس بدخصلت کے باعث ) شیطان کو اپنی ہنسی اڑانے اور راحت پانے کا موقع کیوں دیتے ہو۔تمہاری نماز اور تمہارے روزے خلقت کے لئے ہیں ، خالق کے لئے نہیں ہیں، یہی حال تمہارے صدقے اور زکوۃ اور حج کا ہے۔ یہ سب بیکار ہوگا، عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ &nbsp;( عمل کرنے والے، مشقت اٹھانے والے ) ۔ اگر تم نے اس کا تدارک نہ کیا تو بہ نہ کی معذرت نہ کی تو عنقریب تم دہکتی ہوئی جہنم میں جلائے جاؤ گے۔ شریعت کی اتباع کو اپنا شعار بنالو، نئی نئی باتیں پیدا نہ کرو، سلف صالحین کا طریقہ لازم پکڑو، صراط مستقیم پر چلو۔ اللہ تعالی کوکسی سے تشبیہ نہ دواور نہ ہی اس کی تعطیل( معطل ہونا بیکار ہونا اللہ تعالی کسی کی مثل ہے اور نہ ہی بیکار) ٹھہراؤ ہے۔ بلکہ رسول اللہ &nbsp;ﷺ کی سنتوں پرعمل پیرا ہو جس میں کوئی تکلیف اور بناوٹ نہ ہو۔سنتوں کا یہ اتباع بغیر کسی سختی و تشدد کے بغیر کسی بے ادبی و گستاخی اور بغیر کسی غور وفکر کے ہو۔ ایسا کرنے سے اللہ تعالی تم پربھی ایسی وسیع رحمت والطاف کر یمانہ فرمائے گا جو تم سے پہلوں پر کئے ۔</p>



<p><strong>اوروں کو نصیحت خودرافضیحت :</strong><strong></strong></p>



<p>تیرے پرافسوس ہے کہ تو قرآن حفظ کرتا ہے مگر اس پرعمل نہیں کرتا، رسول ﷺکی احادیث یاد کرتاہےمگر ان پرعمل نہیں کرتا، تو یہ کیا کر رہا ہے۔</p>



<p>لوگوں کو کرنے کے لئے کہتا ہے اور خود وہ نہیں کرتا ، &nbsp;دوسروں کو روکتا ہے اور خود اس سے نہیں رکتا</p>



<p>ارشاد باری تعالی ہے:</p>



<p><strong>كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ </strong>اللہ کو سخت ناپسند ہے وہ بات کہ وہ کہو جو خودنہ کرو ۔“</p>



<p>وہ کیوں کہتے ہو جس کے خلاف خود کرتے ہو، ذرا شرم نہیں کرتے ۔ کیوں ایمان کا دعوی کرتے ہو اور ایمان نہیں لاتے ۔ ایمان ہی آفتوں کا مقابلہ کرنے والا ہے، ایمان ہی ہمارے بوجھوں کے نیچے صابر ہے۔ایمان ہی مقابل کو بچھاڑ نے والا اور ٹھکانے لگانے والا ہے۔ ایمان ہی اپنی خوبیوں کے باعث مکرم ومعظم ہے،ایمان ہی اللہ کی تعظیم کرتا ہے، ایمان کی کرامت تعظیم اللہ کے لئے ہے، جبکہ نفس وحرص کی کرامت ، شیطان اور اغراض نفسانیہ کے لئے ہے۔ جو اللہ کے در کو چھوڑ دیتا ہے، وہ خلقت کے در پر جا بیٹھتا ہے۔ جو اللہ کے راستہ کو کھو دیتا ہے اور اس سے بہک جاتاہے، وہ مخلوق کی راہ اختیار کرتا ہے، جس بندے سے اللہ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے، اس پر خلقت کے دروازے بند کر دیتا ہے، خلقت کے عطیئے اس سے روک دیتا ہے۔تا کہ:</p>



<p>اس طریقہ سے اسے اپنی طرف پھیر لے، گہرے پانیوں سے نکال کر اسے کنارے پر لا کھڑا کرے،اسے ناچیز سے چیز بنادے۔</p>



<p>تجھ پر افسوس ہے کہ تو سردیوں کے موسم میں اپنے تالاب کنارے بیٹھ کر خوش ہوتا ہے، عنقریب گرمیوں کا موسم آ کے جو پانی تیرے پاس ہے اسے چوس کر لے گا ، تالاب خشک کر کے تجھے مار ڈالے گا، تو دریا کنارے قیام کر جس کا &nbsp;پانی گرمیوں میں بھی ختم اور خشک نہیں ہوتا، اور سردیوں میں پھیلتا اور بڑھتا ہے، اللہ کے ساتھ رہ کر اللہ والا بن جا ، اور مالدار ، عزت والا ، امارت والا ، حاکم اور حکم چلانے والا بن جائے گا، اللہ کا تعلق جسے ماسوا سے بے پروا کر دے، ہر شے اس کی محتاج ہو جاتی ہے، یہ مقام زینت و آراستگی اور تمنا سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس چیز سے حاصل ہوتا ہے جو سینوں میں قرار پاتی ہے، اور جس کی تصدیق بندے کے عمل سے ہوتی ہے۔</p>



<p><strong>کم گوئی تیری عادت اور گمنامی تیرالباس ہو: </strong><strong></strong></p>



<p>اے بیٹا! کم گوئی تیری عادت اور گم نامی تیرا لباس ہونا چاہئے ، اور خلقت سے دور رہنا تیرا مقصود ہونا چاہے ۔ اگر ہو سکے تو زمین میں سرنگ نکال کر اس میں چھپ جاءچھپے رہنا تیری عادت ہو جائے ، یہاں تک کہ تیرا ایمان بڑھ جائے اور تیرے ایقان کے پاؤں جم جائیں، تیرے صدق وسچائی کے بازوؤں کے پرنکل آئیں ، اور تیرے دل کی آنکھیں کھل جائیں۔ اس مقام پر پہنچ کر تو اپنے مکان کی زمین سے بلند ہو جائے گا اور علم الہی کی فضا میں اڑنے لگے گا،مشرق ومغرب ، خشک وتر، زمین و پہاڑ اور آسمان وزمین کا چکر لگائے گا ۔ تیرے ساتھ تیرار ہبر ، تجھے امان دینے والا ہوگا ، اور اس سفر وحضر کا رفیق ہوگا اس وقت:</p>



<p>&nbsp;تیری زبان کو قوت گویائی عنایت ہوگی ، یہ گمنامی کالباس اتار دینا ،خلقت سے بھاگنا چھوڑ دینا، خلوت خانہ کی سرنگ سے نکل آنا ،یقینی طور پر تو خلقت کے لئے دوا ہے ۔ ان کے ملنے ملانے سے تیرے نفس کا کچھ نقصان نہیں ۔ ان کی کمی اور زیادتی ، ان کی تعریف اور برائی ، آنے اور نہ آنے کی پرواہ نہ کرنا ، کہاں گرے، کہاں پڑے، یہ دل سے نکال ڈال کیونکہ تو اپنے رب اللہ تعالی کی حضوری میں ہے۔</p>



<p><strong>ایک ہی دل میں دنیاو آخرت اور خالق و مخلوق کی سمائی کیسے:</strong></p>



<p>اے لوگو! اپنے خالق کو پہچانو اور اس کے حضور ادب سے رہو، جب تک تمہارے دل اس سے دور ہیں تم بے ادب بنے رہو گے۔ جب دل اس کے قریب ہو جائیں تو خوب ادب کرو، بادشاہ کی سواری آنے سے پہلے خدمت گارشور شرابے میں لگے رہتے ہیں : سواری آ جانے پر سب بادب بن کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، کیونکہ وہ اس سے قرب کی حالت میں ہیں، تب ان میں سے ہر ایک کسی گوشے کی طرف بھاگنے لگتا ہے ۔ خلقت کی طرف متوجہ ہونا خالق سےرخ پھیرنے کے برابر ہے، تمہیں فلاح ونجات حاصل نہ ہو گی جب تک کہ تو دوستوں سے الگ نہ ہو جائے اور اسباب سے کوئی واسطہ نہ ر کھے ۔نفع و نقصان میں خلقت کا دھیان چھوڑ دے،تم-بظاہر تندرست ہو مگر باطن میں بیمار ہو۔ بظاہر مال دار ہومگر حقیقت میں مفلس ہو ۔چلتے پھرتے زندہ ہومگر حقیقت میں مردہ ہو، ظاہری طور پر موجود ہومگر حقیقت میں معدوم ہو یہ اللہ کی ذات سے بھا گنا اور اس سے اعراض کرنا کب تک رہے گا،دنیا کی تعمیر آبادی اور آخرت کی خرابی و بربادی کب تک کرو گے ،تم میں سے ہر ایک کا ایک ہی دل ہے چنانچہ &#8211; اس سے دنیا و آخرت دونوں کی محبت کیسے کرو گے، اس میں خالق ومخلوق کی سمائی کیسے ہو ، یہ بات ایک ہی وقت میں ، ایک ہی دل میں کیونکر حاصل ہوسکتی ہے ۔ یہ دعوی جھوٹا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:</p>



<p><strong>الْكَذِبُ ‌مُجَانِبُ ‌الْإِيمَانِ كُلُّ ‌إنَاءٍ ‌يَنْضَحُ ‌بِمَا ‌فِيهِ</strong>’’جھوٹ ایمان سے دور رکھنے والا ہے، &nbsp;برتن میں جو کچھ ہوگا اس سے وہی ٹپکے گا۔‘‘ اسی لئے اللہ کے بعض بندوں کا کہنا ہے: <strong>الظاهر عنوان الباطن</strong> &nbsp;’’ظاہر باطن کی خبر دیتا ہے ۔‘‘۔</p>



<p>تمہارا باطن اللہ اور اس کے خاص بندوں پر ظاہر ہے&nbsp; جب تمہیں&nbsp; اللہ کے خاص بندوں میں سے کوئی مل جائے تو اس &nbsp;&nbsp;کے سامنے بادب رہو ، اسے ملنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اس کے پاس جا کر خود کو نا چیز سمجھ اور عاجزی اختیار کرو، صالحین کے لئے عاجزی اختیار کرنا، اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرنا ہے، عاجزی اختیار کرو، کیونکہ اللہ عاجزی اختیار کرنے والے کے درجات کو بلند کر دیتا ہے۔ بڑے کا ادب کرو، کیونکہ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشاد فرمایا:</p>



<p><strong>الْبَرَكَةُ ‌مَعَ ‌أَكَابِرِكُمْ</strong>’’بڑوں میں برکت ہے ۔ راوی( مؤلف کتاب ) کا کہنا ہے کہ حضور &nbsp;ﷺ کی بڑے سے مرادعمر کا بڑا نہیں ہے۔ بلکہ بڑھاپے کے ساتھ احکام الہیہ کی بجا آوری اور ممنوعات سے ر کے رہنا مراد ہے ۔ اور اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پابندی کرنا ہے، جو کہ پر ہیز گاری کے ساتھ ہو،حقیقت میں فرماں بردار ہی بڑا ہے، وگرنہ عمر کے کتنے ہی بڑے ہیں جن کی تعظیم کیسی ،ان سے سلام کرنا بھی جائز نہیں ، اور نہ ان کے دیکھنے میں برکت ہے، بڑے وہ ہیں جو : _متقی ہیں ، صالحین ، پرہیز گار ہیں ، علم پرعمل کرنے والے ہیں، عمل میں اخلاص کر نے والے ہیں ، جن کے دل صاف ہیں، ماسوا اللہ سے اعراض کرنے والے ہیں، اللہ ہی کے لئے عمل کر نے والے ہیں، جواہل دل ہیں ، اللہ کی معرفت والے ہیں، اللہ سے قرب والے ہیں، دلوں کا علم جب زیادہ ہو جاتا ہے، وہ اپنے رب سے قریب تر ہو جاتے ہیں، ہروہ دل جس میں دنیا کی محبت ہے، وہ اللہ سے حجاب میں ہے ( محبوب نہیں، محجوب ہے &#8211; ہر وہ دل جس میں آخرت کی محبت ہے، وہ اللہ کے قرب سے حجاب میں ہے۔ جس قدر تجھے دنیا میں رغبت ہوگی ، اس قدر آ خرت میں رغبت کم ہو جائے گی اور جس قدر رغبت آخرت میں ہو گی ،اتنی ہی اللہ کی محبت کم ہو جائے گی ، اس لئے اپنی ذات اور مقام کو پہچانو ۔ اپنے نفسوں کو اس درجہ پر نہ چھوڑ و جس &nbsp;&nbsp;درجہ میں اللہ نے انہیں جگہ نہیں دی ، اسی لئے اللہ کے بعض ولیوں نے فرمایا: <strong>من لم يعرف قدرة عرفته الاقدار قدرہ</strong> ” جس نے خودکونہ پہچانا ، تقدیر الہی اسے اس کی پہچان کر دے گی۔‘‘ چنانچہ ایسی جگہ نہ بیٹھو کہ جہاں سے اٹھادیا جائے ۔ جب کسی کے ہاں جاؤ تو ایسی جگہ نہ بیٹھو جہاں تجھے صاحب خانہ نے نہ بٹھایا ہو، کیونکہ تجھے وہاں سے ہٹا دیا جائے گا، اگر حیل و حجت کرو گے تو اٹھا کر ذلیل کر کے نکالے جاؤ گے۔</p>



<p><strong>انبیاء اور علما خلقت کے نگہبان ہیں:</strong></p>



<p>اے بیٹا! تو نے عمل نہ کیا اور اپنی عمر کتابیں پڑھنے&nbsp; اور انہیں یاد کرنے میں ضائع کردی تمہیں کیا فائدہ ہوا۔ رسول اللہ &nbsp;ﷺ نے ارشادفرمایا:</p>



<p><strong>يقول الله عز وجل يوم القيمة للانبياء والعلماء التم &nbsp;کنتم رعاۃ الخلق فما صنعتم في رعاياكم ويقول للملوك والأغنياء التم كنتم خزان كنوزي هل واصلتم الفقراء وربيتم الايتام وأخرجتم منها حقي الذي كتبته عليكم</strong> ” قیامت کے دن اللہ تعالی انبیا علیہم الصلوۃ والسلام اور علماء رحمہم اللہ سے فرمائے گا:’’ تم مخلوق کے نگہبان تھے تم نے اپنی رعایا کے ساتھ کیا کیا ، اور بادشاہوں اور امیروں سے فرمائے گا: ” تم میرے خزانوں کے خازن تھے، کیا تم نے محتاجوں کے حقوق ادا کئے ۔ اور کیا تم نے یتیموں کی پرورش کی اور تم نے ان سے میراحق (زکوۃ نکالا جو میں نے تم پر فرض کیا تھا‘‘۔ اے لوگو! رسول کریم &nbsp;ﷺ کے فرمان سے نصیحت حاصل کرو، اور ان کے کہے پر عمل کرو، کس چیز نے تمہارے دل سخت کر دیئے ہیں۔ اللہ کی ذات پاک ہے جس نے اپنی خلقت کے دکھ اٹھانے کی مجھے ہمت عطا فرمائی ہے، میں جب اڑنے کا ارادہ کرتا ہوں تو تقدیر کی قینچی میرے پر کاٹ دیتی ہے اور اڑنے سے روک دیتی ہے، اس کے باوجود مجھے اطمینان ہے کیونکہ میں شاہی بارگاہ میں مقیم ہوں ۔</p>



<p><strong>منافقو! اپنی حالت پر خود ہی غور کرو</strong></p>



<p>اے منافق! تجھ پر افسوس ہے کہ تو اس شہر سے میرے نکل جانے کی آرزورکھتا ہے۔ اگر میں حرکت کروں تو امر بدل جائے ، اعضاءالگ ہو جائیں ، اور اپنی بات بگڑ جائے ، بڑی تبدیلیاں آ جائیں ، لیکن میں جلد بازی سے اللہ کے عذاب آنے سے ڈرتا ہوں۔ میں خود سے تیار نہیں بلکہ ایسا ہونا میری تقدیر سے ہے، ایسا ضرور ہوگا، میں اس کے موافق اور اس کے حوالے ہوں ، الہی سلامتی اور تسلیم عنایت فرما۔ تیرے لئے افسوس ہے تو میری ہنسی اڑاتا ہے۔ حالانکہ میں اللہ کے در پر کھڑا ہوں اور اس کی مخلوق کو اس کی طرف بلا رہا ہوں ۔تجھے عنقریب جواب مل جائے گا، میں اوپر کی طرف ایک ہاتھ ہوں اور اس کے نیچے ہزاروں ہاتھ ہیں۔ اے منافقو ا تم جلدہی اللہ کا عذاب دیکھ لو گئے ، دنیا و آخرت میں اس کی مار پڑے گی ، زمانے کو حمل ٹھہرا ہوا ہے، اس سے جو کچھ بھی پیدا ہو گا تم جلد ہی دیکھ لو گے، میں تو دست قدرت کے تصرف میں ہوں ۔ کبھی وہ مجھے پہاڑ بنا دیتا ہے ، کبھی وہ مجھے زرہ بنا دیتا ہے او رکبھی دریا کر دیتا ہے ۔ کبھی وہ مجھے قطرہ بنا دیتا ہے ۔ کبھی وہ مجھے آفتاب بنادیتا ہے، اور کبھی چمک اور روشنی ۔وہ مجھے رات اور دن کی طرح پالتا رہتا ہے، <strong>كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْن</strong>ٍ &#8221; وہ ہر ایک دن نئی شان میں ہے۔ بلکہ ہر ایک میں، آج کا دن (یعنی دنیا تمہارے لئے ہے، اور ایک پل تمہارے (یعنی اللہ کے ولیوں کے لئے ہے ۔</p>



<p><strong>خلقت کی ایذارسانی پرحق کی رضا کے لئے صبر اختیار کر</strong></p>



<p>اے بیٹا! اگر تم سینے کی فراخی اور دل کی خوشی چاہتے ہوتو خلقت کی ایک نہ سنو، اوران کی بات پر توجہ نہ دو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ وہ اپنے خالق سے خوش نہیں ، پھر تم سے کیسے خوش ہوں گے ۔ ان میں سے اکثر بے عقل اور اندھے ہیں اور بے ایمان ہیں ، بلکہ اللہ کی تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کر تے ہیں ، ان لوگوں کی اتباع کروجو غیر اللہ کو کچھ نہیں سمجھتے، &nbsp;غیر اللہ کی نہیں سنتے۔ غیر اللہ کونہیں دیکھتے۔ تو خلقت کی ایذارسانی پرحق کی رضا کے لئے صبر اختیار کر، طرح طرح کی مصیبتوں کی آزمائش برداشت کر ، اللہ کا اپنے برگزیدہ بندوں کے ساتھ یہی وطیرہ ہے کہ:</p>



<p>&nbsp;ان کو سب سے الگ کر دیتا ہے،طرح طرح کی مصیبتوں ، آفتوں اور مشقتوں سے ان کی آزمائش کرتا ہے۔دنیاد آ خر ت اور عرش سے لے کر فرش تک ہر چیز ان پر تنگ کر دیتا ہے۔</p>



<p>&nbsp;جس سے ان کی ہستی فنا ہو جاتی ہے ، جب ان کی ہستی فنا ہو جاتی ہے تو انہیں نیا وجود عطا کرتا ہے، انہیں اپنا بنالیتا ہے نہ کہ &nbsp;غیر کا ،اب انہیں اپنے ساتھ قائم کرتا ہے نہ کہ دوسرے کے ساتھ انہیں نئی زندگی عطا کرتا ہے، جیسا کہ ارشادفرمایا: <strong>ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ‌فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ </strong>پھر ہم نے انہیں دوبارہ پیدا کیا، با برکت ہے اللہ ، سب سے اچھا پیدا کرنے والا ۔ پہلی خلقت مشترک ہے اور دوسری تنہائی والی ، جو اسے اپنے بھائیوں اور تمام ہم جنسوں سے جدا کر دیتی ہے ۔اس کے پہلے معنی میں تغیر و تبدل ہو جا تا ہے۔ اس کی بلندی پستی ہو جاتی ہے، وہ اللہ والا روحانی ہو جاتا ہے، اس کا دل غیر کود یکھنے سے تنگ ہو جاتا ہے۔ اس کا باطنی دروازہ مخلوق سے بند ہو جا تا ہے،</p>



<p>دنیا و آخرت، اور جنت و دوزخ ، اور ساری خلقت اور سب طرح کے عالم اسے ایک ہی معلوم ہوتے ہیں ، پھر یہ چیز اس کے باطن کی دسترس میں دے دی جاتی ہے وہ اسے ایسے نگل جاتا ہے کہ وہ ظاہرہی نہیں ہوتا ۔ ایسے دست باطن میں قدرت کے نشان ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ اس کا ظہور حضرت موسی علیہ السلام کے عصا مبارک میں ہوا۔ پاک ہے وہ ذات &nbsp;&nbsp;جو اپنی قدرت&nbsp; جس چیز میں اور جس کے ہاتھ میں چاہے ظاہر کرتا ہے، موسی علیہ السلام کا عصا جادوگروں کی ڈھیروں رسیاں وغیرہ نگل گیا ۔ اس کے اندر کوئی تبدیلی نہ آئی ، اللہ تعالی نے چاہا کہ فرعونیوں کو بتا دے کہ یہ اس کی قدرت ہے، حکمت نہیں ۔ اس دن جادوگروں نے جو مظاہرہ کیا تھا، وہ حکمت اور فن ہندسہ پرمبنی تھا ، اور جو کچھ موسی علیہ اسلام کے عصا میں ظاہر ہوا وہ اللہ تعالی کی قدرت اور خلاف عادت معجزہ تھا، اسی لئے جادوگروں کے سردار نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے کہا: موسی (علیہ السلام) کی طرف دیکھے، وہ کس حال میں ہیں ۔ اس نے کہا: موسی (علیہ السلام) کارنگ متغیر ہو گیا ہے،اورعصا اپنا کام کر رہا ہے۔</p>



<p>پھر سردار نے کہا: یہ اللہ تعالی کا عمل ہے، موسی (علیہ السلام کانہیں کیونکہ جادو گر اپنے جادو سے، اور صانع اپنی صنعت سے خوف نہیں کھاتا۔ ان کا یہ معاملہ دیکھ کر وہ جادوگر سردار اپنے ساتھیوں سمیت موسی علیہ السلام پر ایمان لے آیا۔</p>



<p><strong>حکمت والے علم سے اللہ کی قدرت تک رسائی :</strong></p>



<p>اے بیٹا! حکمت چھوڑ کر قدرت کی طرف کب دھیان دو نگے ۔ تیراعمل حکمت کے ذریعے اللہ کی قدرت سے کب ملائے گا ۔ تیرے عملوں کا اخلاص کب تجھے قرب الہی کے دروازے تک لے جائے گا۔ معرفت کا آفتاب عام و خاص کے دلوں کے چہرے کب تجھے دکھلائے گا، تو سنبھل جا! &#8211; بلا سے ڈر کے اللہ سے نہ بھاگ ۔ وہ اس سے تیری آزمائش کرتا ہے تا کہ معلوم کرے کہ تو رب کی طرف رجوع کر کے اس کا دروازہ چھوڑتا ہے یا نہیں۔ تو ظاہر کی طرف رجوع کرتا ہے یا باطن کی طرف ، &nbsp;پائے گئے کی طرف جاتا ہے یا نہ پائے گئے کی طرف ، دیکھے گئے کی طرف جاتا ہے یا نہ دیکھے گئے کی طرف ۔</p>



<p>تیرے حضور التجا ہے:<strong> اللهم لا تبتلناه اللهم ارزقنا القرب منك بلا بلاء والتهم قربا و لطفا ، اللهم قربا بلا بعده لا طاقة لنا على البعد منك ولا على مقاساة البلاء فارزقنا القرب منك مع عدم نار الأقـات فـإن كان ولا بد من ثار الأقات فاجعلنا فيها كالشمندل الذي يبيض و يفرح في النار وهي لا تضـرة ولا تخرفة اجعلها علينا كنار إبراهيم خليلك أثبت حوالينا عشبا كما أنبت و تولنا كما توليته واحفظنا كما حفظته . حواليه واغينا عن جميع الأشياء كما أغنيته واي</strong></p>



<p>الی! ہمیں آزمائش میں نہ ڈال، الہی ہمیں آ زمائش کے بغیر اپنا قرب عطا فرما، الہی! اپنا قرب ولطف عنایت فرما، الہی! ہمیں ایسا قرب عطا فرما جس میں دوری نہ ہو، ہم میں تجھ سے دوری کی طاقت نہیں ، نہ بلا کے برداشت کرنے کی ہمت ہے، آفتوں کی آگ بجھا کر اپنا قرب عنایت فرما: قرب کے لئے اگر آفتوں کی آگ ضروری ہے تو آتشی کیڑے (سمندل ) جیسا کر دے، جو آ گ ہی میں انڈے دیتا اور بچے نکالتا ہے، آگ نہ اسے جلاتی ہے نہ کوئی ضرر دیتی ہے، ہم پر اس آگ کو خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ کے مشابہ کر دے ۔ جیسے ان کے ارد گر دگلزار کھلایا، ہمارے آس پاس بھی چمن کھلا دے، جیسے انہیں سب چیزوں سے بے نیاز کر دیا تھا ہمیں بھی ان سب سے بے نیاز کر دے، جیسے ان کا والی اور غم خوار بنا، ہمارا بھی والی وغم خوار بن جا، جیسے ان کی حفاظت کی ، ہماری بھی حفاظت کر ، آمین!‘‘۔</p>



<p><strong>حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سیکھو اور ان کی پیروی کرو:</strong></p>



<p>&nbsp;حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سفر سے پہلے رفیق کو،گھر سے پہلے ہمسائے کو-وحشت سے پہلے غم خوار کو مرض سے پہلے پر ہیز کو مصیبت سے پہلے صبر کو -قضاسے پہلے رضائے الہی &nbsp;کو ، حاصل کر لیا تھا ، تم اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سیکھو، ان کے کہے اور کئے میں ان کی پیروی کروسے پاک ہے وہ ذات جس نے ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بلا کے دریا میں ان پرمہربانی کی ،۔ انہیں بحر بلا میں تیرنے کا حکم دیا اور خودان کی مددفرمائی ، انہیں دشمن پر حملے کا حکم دیا اور خودان کے ساتھ سوار تھا، انہیں بلند چوٹی پر چڑھنے کا حکم دیا اور اپنا ہاتھ ان کی کمر میں ڈال رکھا تھا ۔ انہیں خلقت کی دعوت طعام کا حکم دیا اور خرچ اپنے پاس سے دیا ہے، عنایت باطنی اور پوشیدہ مہربانی اس کا نام ہے۔</p>



<p><strong>قضاوقدر کے وقت اللہ کے سامنے چپ رہو</strong></p>



<p>اے بیٹا! قضا وقدر کے آتے وقت اللہ تعالی کے سامنے خاموش رہو، تا کہ اس کی طرف سے ہونے والی بہت سی رحمتیں دیکھ سکو کیا تم نے حکیم  جالینوس  کے غلام کا حال نہیں  سنا  وہ جان بوجھ کر  گونگا بیوقوف  اور بھولا بھالا بنا رہا   اور اس طرح جالینوس کا تمام علم سیکھ لیا، بہت بک بک کرنے  دل کے ساتھ جھگڑنے سے  اس پر اعتراض کرنے سے تیرے دل  میں اللہ   کی حکمت نہ آئے گی۔ اللهم ارزقنا الموافقة وترك المنازعة ‌رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ الہی ہمیں موافقت اور ترک منازعت عطا فرما، اور دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھلائی عطافرماء ، اور دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ۔ آمین!‘‘</p>



<p><strong><mark style="background-color:rgba(0, 0, 0, 0)" class="has-inline-color has-vivid-red-color"><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">فیوض یزدانی ترجمہ الفتح الربانی،صفحہ 67،مدینہ پبلشنگ کمپنی ایم اے جناح روڈ کراچی</mark></strong></mark></strong></p>



<p><a href="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/48" data-type="URL" data-id="https://www.arabicdawateislami.net/bookslibrary/4022/page/48" target="_blank" rel="noopener"><mark style="background-color: rgb(142, 209, 252);" class="has-inline-color"><b>   الفتح الربانی والفیض الرحمانی صفحہ  48</b></mark><strong><mark style="background-color:#8ed1fc" class="has-inline-color">دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان</mark></strong> </a></p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&amp;linkname=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25af%25d8%25b3%25d9%2588%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2585%25d8%25ac%25d9%2584%25d8%25b3%2F&#038;title=%D8%AF%D8%B3%D9%88%DB%8C%DA%BA%20%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%af%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/" data-a2a-title="دسویں مجلس"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%af%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ac%d9%84%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
