<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>برزخ کبریٰ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%A8%D8%B1%D8%B2%D8%AE-%DA%A9%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%B0/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Wed, 13 Aug 2025 10:30:45 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>برزخ کبریٰ &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 May 2025 09:39:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[منتخب تحریریں]]></category>
		<category><![CDATA[اولین حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول تخلیق کا منبع]]></category>
		<category><![CDATA[حضرت انسان کامل]]></category>
		<category><![CDATA[عماء ابر رقیق]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کا تصور]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کی اصطلاح]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کی تعریف]]></category>
		<category><![CDATA[عماء کے بنیادی پہلو]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ عمائیہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=9234</guid>

					<description><![CDATA[عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں عماء صوفیاء کی اصطلاح میں ایک بنیادی اور انتہائی لطیف مفہوم رکھتی ہے، جو ذاتِ الٰہی کی ازلی اور غیرمخلوق حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ لفظ عربی زبان کے مادہ &#8220;ع م <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں</h1>
<p>عماء صوفیاء کی اصطلاح میں ایک بنیادی اور انتہائی لطیف مفہوم رکھتی ہے، جو ذاتِ الٰہی کی ازلی اور غیرمخلوق حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ لفظ عربی زبان کے مادہ &#8220;ع م و&#8221; سے نکلا ہے، جس کا عام معنی &#8220;اندھیرا&#8221;، &#8220;غیر مرئی&#8221;، یا &#8220;پوشیدگی&#8221; ہے۔ لیکن تصوف کے تناظر میں اسے &#8220;اللہ کی ذات کا وہ مقامِ غیب&#8221; سمجھا جاتا ہے جو تمام مخلوقات، وجود، اور حتیٰ کہ زمان و مکان سے بھی ماورا اور پوشیدہ ہے۔</p>
<h2>عماء کے بنیادی پہلو</h2>
<h3>1. ذاتِ باری تعالیٰ کا مطلق غیب</h3>
<p>عماء کو &#8220;لا تعیّن&#8221; (عدم تعین) کی حالت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی وہ مقام جہاں ذاتِ الٰہی کسی بھی صفت، شکل، یا حد سے ماورا ہے۔ یہ وہ &#8220;اولین حقیقت&#8221; ہے جہاں نہ کوئی مخلوق تھی، نہ کائنات، نہ نور، نہ ظلمت۔ صوفیاء اسے &#8220;قبل الکائنات&#8221; کی حالت قرار دیتے ہیں، جیسے حدیث قدسی میں آیا ہے: &#8220;کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ&#8221; (میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا، پھر میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں، سو میں نے مخلوق کو پیدا کیا)۔ یہاں &#8220;پوشیدہ خزانہ&#8221; عماء کی طرف کنایہ ہے۔ گویا حقیقت مطلق اور غیب مطلق کا نام عماء ہے</p>
<h3>2. فنا فی اللہ کا مقام</h3>
<p>صوفی سلوک میں جب سالک اپنی انا کو فنا کر دیتا ہے اور ذاتِ الٰہی میں گم ہو جاتا ہے، تو اسے &#8220;عماء کے سمندر میں غرق ہونا&#8221; کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سالک کو اپنی ذات کا احساس باقی نہیں رہتا، بلکہ وہ اللہ کی ذات کے ساتھ اتحاد (وحدت الوجود نہیں، بلکہ وحدت الشہود) محسوس کرتا ہے۔</p>
<h3>3. تخلیق کا مبدا</h3>
<p>بعض صوفیاء کے نزدیک عماء وہ &#8220;ابدی بادل&#8221; یا &#8220;غیر متعین ہیولٰی&#8221; ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ظہور بخشا۔ یہ نظریہ افلاطونی فلسفہ کے &#8220;عالمِ مُثُل&#8221; سے مشابہت رکھتا ہے، لیکن صوفیاء اسے خالصتاً قرآنی تصور &#8220;کُنْ فَیَکُونُ&#8221; (ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے) سے جوڑتے ہیں۔<br />
4. یہ ذات الٰہی کی وہ حالت ہے جہاں سے اسماء و صفات کا ظہور شروع ہوتا ہے۔<br />
5. بعض صوفیا کے مطابق عماء &#8220;تعین اول&#8221; ہے جو تمام تخلیق کا منبع ہے۔<br />
6. عماء کو اکثر &#8220;نفس رحمانی&#8221; (خدا کی نفس یا سانس) سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، جس سے تمام مخلوقات کا وجود وابستہ ہے۔<br />
عماء کا تصور ایک حدیث پر مبنی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: &#8220;أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟&#8221; (ہمارا رب مخلوقات کی تخلیق سے پہلے کہاں تھا؟) آپ ﷺ نے فرمایا: &#8220;كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ&#8221; وہ عماء(ابر رقیق)میں تھا، اس کے اوپر ہوا تھی اور اس کے نیچے بھی ہوا تھی۔<br />
پس اس حدیث شریف سے ثابت ہے کہ تمام مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالی عماء میں تھا اب صرف عماء کی حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے سو مقبول خالق کونین امام حسین اس حدیث شریف میں لفظ عماء کی تفسیر ایسے احسن طریقے سے بیان فرماتے ہیں جو انہی کے شایان شان ہے آپ نے فرمایا کہ مرتبہ عماء برزخ انسانی ہے چنانچہ حضرت امام عالی مقام علیہ الصلاۃ والسلام اپنی کتاب مرآت العارفین میں صفحہ 38 پر فرماتے ہیں<br />
یعنی برزخ انسانی تنزل ربانی کا مرتبہ ہے تاکہ رب اس مرتبہ میں صفات عبودیت سے متصف ہو اور ارتفاع عبد کا مقام ہے تاکہ بندہ اس مرتبہ میں صفات ربانی سے متصف ہو پس یہی برزخ انسانی مرتبہ عماء ہے جس کا حدیث مشہور میں ذکر ہے اور اس کلام پاک کی شرح جلا ء المرآت کے صفحہ 191 پر ہے کہ عماء کا معنی ابر رقیق ہے اور اس مرتبہ یعنی برزخی انسانی کو عماء اس واسطے کہا گیا ہے کہ اس میں اور ابر رقیق میں مناسبت تامہ ہے کیونکہ ابر رقیق آفتاب کا حاجب(پردہ) نہیں ہوتا اس طرح یہ مرتبہ اپنی کثرت سے وحدت کا حاجب نہیں ہے اس لیے کہ یہاں کثرت حقیقی نہیں ہے بلکہ محض اعتباری ہے اور چونکہ انسان کامل با اعتبار جامعیت کاملہ مرتبہ عمائیہ کے مشابہ ہے اس لیے حضرت انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کو عماء کہتے ہیں۔<br />
پس اس کلام الامام امام الکلام سے اظہر من الشمس عیاں ہیں کہ اللہ تعالی مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے مرتبہ عماء یعنی برزخ کبری انسان کامل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں تھا<br />
اور عماء کے نیچے اور اوپر ہوا ہونے سے حق اور خلق کی طرف اشارہ ہے یعنی برزخ جامع حضرت انسان کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی جہت اعلی حق اور جہت اسفل خلق ہے پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت کے اعتبار سے حق اور صورت کے لحاظ سے خلق ہیں پس آپ ہی حق اور آپ ہی خلق ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔<br />
حضرت امام حسین ابن علی علیہ الصلاۃ والسلام سے زیادہ عماء کی حقیقت کوئی کیا سمجھے گا اور اس سے واضح تر کیا سمجھایا جائے گا ۔اللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا فَهْمَ هٰذَا الْمَقَامِ بِحُرْمَةِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ<br />
ایسے ہی حضرت شیخ الاکبر محی الدین ابن عربی رضی اللہ تعالی عنہ اس راز کو عجیب انداز میں بیان فرماتے ہیں چنانچہ فتوحات مکیہ کے باب 358 میں صفحہ 266 پر قول تعالی كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّاکی شرح میں فرمایا<br />
فَجَعَلَ نَفْسَهُ كَنْزًا وَالْكَنْزُ لَا يَكُونُ إِلَّا مُکْتَزًِا فِي شَيْءٍ، فَلَمْ يَكُنْ كَنْزُ الْحَقِّ نَفْسَهُ إِلَّا فِي صُورَةِ الْإِنْسَانِ الْكَامِلِ فِي شَبِيهِهِ وَثُبُوتِهِ وَنَطْقِهِ، ھُنَاکَ كَانَ الْحَقُّ مَکْزُونًا فَلَمَّا كَسَا الْحَقُّ الْإِنْسَانَ ثَوْبَ َشِيبَتِهِ لِلْوُجُودِ ظَهَرَ الْكَنْزُ بِظُهُورِهِ فَعَرَفَهُ الْإِنْسَانُ الْكَامِلُ بِوُجُودِهِ<br />
یعنی اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا اس حدیث قدسی میں اللہ تعالی نے اپنی ذات کو خزانہ فرمایا ہے اور خزانہ کسی شے میں مخزون ہوتا ہے پس ذات حق کا خزانہ انسان کامل کی صورت میں علم الہی میں اس کی مشیت ثبوتی کے وقت مخفی تھا پس ذات الہی کا خزانہ انسان کامل میں مخزن مخزون تھا پھر جب اللہ تعالی نے انسان کامل کو مشیت وجودی کا لباس پہنایا تو انسان کا عمل کے ظہور سے وہ خزانہ ظاہر ہو گیا پس انسان کامل نے ذات الہی کو اپنے وجود سے پہچانا ۔<br />
اس کلام فیض نظام سے بھی روشن روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اللہ تعالی تمام مخلوقات کو کن کے ساتھ پیدا کرنے سے پہلے محمد پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں مخفی تھا کیونکہ آپ کا نور قدیم اور آپ کا فرمان أَنَا أَحْمَدُ بِلَا مِيمٍ ہے عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَأَكْمَلُ التَّحِيَّاتِ</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&amp;linkname=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25a1-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25aa%25d8%25b9%25d8%25b1%25db%258c%25d9%2581-%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25b7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b5%25d9%2588%25d9%2581%25db%258c%25d8%25a7%25d8%25a1-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba%2F&#038;title=%D8%B9%D9%85%D8%A7%D8%A1%20%DA%A9%DB%8C%20%D8%AA%D8%B9%D8%B1%DB%8C%D9%81%20%D8%A7%D8%B5%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%20%D8%B5%D9%88%D9%81%DB%8C%D8%A7%D8%A1%20%D9%85%DB%8C%DA%BA" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/" data-a2a-title="عماء کی تعریف اصطلاحات صوفیاء میں"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%a1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b5%d8%b7%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d8%b5%d9%88%d9%81%db%8c%d8%a7%d8%a1-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مراتب کلیہ</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:30:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[ارواح مجردہ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت محض]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب سته]]></category>
		<category><![CDATA[مراتب کلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[نفوس سماویہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7695</guid>

					<description><![CDATA[ مراتب کلیہ چھ ہیں حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں تنزل حق کے چھ مرتبے مقرر ہیں جنہیں مراتب کلیہ  مراتب ستہ بھی کہتے ہیں اول احد تیہ جس میں صرف اعتبار ذات ہے اس کو عالم غیب بھی کہتے ہیں۔ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1 style="text-align: right;"> مراتب کلیہ چھ ہیں</h1>
<p>حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں تنزل حق کے چھ مرتبے مقرر ہیں جنہیں مراتب کلیہ  مراتب ستہ بھی کہتے ہیں</p>
<p>اول احد تیہ جس میں صرف اعتبار ذات ہے اس کو عالم غیب بھی کہتے ہیں۔ بعض مرتبہ اول وحدت کو کہتے ہیں جو تعین اول ہے، برزخ کبری اور قابلیت محض ہے۔</p>
<p><strong>احدیت</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں صرف اللہ کی ذات کا اعتبار ہوتا ہے۔ اس مرتبے میں اللہ کی ذات کی وحدانیت اور اس کی صفات کی نفی کی جاتی ہے۔ اسے عالم غیب بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کسی مخلوق یا صفات کا ظہور نہیں ہوتا۔</p>
<p>مرتبہ ثانی واحدیت کو کہتے ہیں جس میں ذات تفصیلا اسما کا بھی اعتبار ہے۔</p>
<p><strong>واحدیت</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں اللہ کی صفات کا ظہور ہوتا ہے۔ اس مرتبے میں اللہ کی صفات کا تفصیلی بیان ہوتا ہے اور یہ صفات اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔</p>
<p>مرتبہ ثالث ارواح مجردہ ہیں جس میں عقول عالیہ اور اروح انسانیہ ہیں۔</p>
<p><strong>عالم ارواح</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں ارواح کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ ارواح اللہ کی تخلیق ہیں اور ان کا تعلق عالم غیب سے ہے۔ اس مرتبے میں ارواح کی حقیقت اور ان کے مراتب کا بیان ہوتا ہے۔</p>
<p>مرتبہ رابع ملکوت ہے جس میں نفوس سماویہ اور انسان یہ ہیں اس کو عالم مثال بھی کہتے ہیں۔</p>
<p><strong>عالم مثال</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں مثالی صورتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ صورتیں عالم ارواح اور عالم اجسام کے درمیان واسطہ کا کام کرتی ہیں۔ اس مرتبے میں مثالی صورتوں کی حقیقت اور ان کے مراتب کا بیان ہوتا ہے۔</p>
<p>مرتبہ خامس عالم ملکوت ہے کہ عالم اجسام اور عالم اعراض ہے اس کو عالم شہادت بھی کہتے ہیں۔</p>
<p><strong>عالم اجسام</strong> وہ مرتبہ ہے جہاں جسمانی صورتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ صورتیں مادی دنیا میں موجود ہوتی ہیں اور ان کا تعلق عالم مثال سے ہے۔ اس مرتبے میں جسمانی صورتوں کی حقیقت اور ان کے مراتب کا بیان ہوتا ہے۔</p>
<p>اور مرتبہ سادس عالم انسان کا مل ہے جو تمام مراتب کا جامع ہے۔</p>
<p><strong>عالم انسان کامل</strong> وہ مرتبہ ہے جو تمام مراتب کا جامع ہے۔ یہ مرتبہ حقیقت محمدیہ کا مظہر ہے اور انسان کامل کو تمام مراتب کا جامع سمجھا جاتا ہے۔ اس مرتبے میں انسان کامل کی حقیقت اور اس کے مراتب کا بیان ہوتا ہے.</p>
<p style="text-align: right;">(1)مرتبہ وحدت یعنی تعین اول حقیقت محمدیہ &#8211;</p>
<p style="text-align: right;">(2) مرتبه احدیت</p>
<p style="text-align: right;"> عالم ارواح  (3)</p>
<p style="text-align: right;">عالم مثال (4)</p>
<p style="text-align: right;">عالم ملک جس کو عالم اجسام عالم شہادت بھی کہتے ہیں (5)</p>
<p style="text-align: right;">(6) عالم انسان کامل</p>
<p style="text-align: right;">یہ جامع ہے جمیع مراتب کا بعض صوفیاء اس طرح چھ گنتے ہیں کہ</p>
<p style="text-align: right;">(1) مرتب اول ذات احدیت</p>
<p style="text-align: right;">(2) مرتبہ ثانی و حدت</p>
<p style="text-align: right;">(3) مرتبه واحدیت</p>
<p style="text-align: right;">(4) عالم ارواح</p>
<p style="text-align: right;"> (5) عالم مثال</p>
<p style="text-align: right;">(6) عالم اجسام</p>
<p style="text-align: right;">تنزلات ستہ بھی ان کو کہتے ہیں۔   اور بعض کہتے ہیں کہ  (1) مرتبہ ذات احدیت (2) مرتبہ حضرت واحدیت (3) مرتبہ ارواح مجرده (4) مرتبه نفوس عامله که عالم ملکوت و عالم مثال ہے(5) عالم ملک عالم شہادت ہے ( 6) مرتبہ کون جامع یعنی انسان کامل اور مرتبہ وحدت کو احدیت میں شمار کیا ہے</p>
<p style="text-align: right;"> بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ مراتب کلیہ آٹھ میں (1)، عالم  ملک (2)عالم ملکوت (3) عالم جبروت (4) عالم اعیان ثابتہ(5)اسماء الہیہ(6)صفات سبحانیہ (7)مرتبہ وحدت (8)ذات احدیت</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%25a8-%25da%25a9%25d9%2584%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%85%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%A8%20%DA%A9%D9%84%DB%8C%DB%81" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/" data-a2a-title="مراتب کلیہ"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%aa%d8%a8-%da%a9%d9%84%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جمع]]></category>
		<category><![CDATA[ام الکتاب]]></category>
		<category><![CDATA[او ادنی]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ البرازخ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط شے بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط کثرت بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بعد مشاہدہ تعین]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول وحدت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات و تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعیین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تین مراتب کونی]]></category>
		<category><![CDATA[ثبوت اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[جوہراول]]></category>
		<category><![CDATA[حب ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب عظمت]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الممکنات]]></category>
		<category><![CDATA[حقيقة الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خیال اول]]></category>
		<category><![CDATA[درة البيضاء]]></category>
		<category><![CDATA[دو مراتب غیب]]></category>
		<category><![CDATA[رابطہ بین الظهور والبطون]]></category>
		<category><![CDATA[رفیع الدرجات]]></category>
		<category><![CDATA[روح اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[روح القدس]]></category>
		<category><![CDATA[روح محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[ظل اول]]></category>
		<category><![CDATA[عرش مجید]]></category>
		<category><![CDATA[عقل اول]]></category>
		<category><![CDATA[فلک ولایت مطلقه]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت اولیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[قلم اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الصفات]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الكنوز]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لوح قضا]]></category>
		<category><![CDATA[مبدأ اول]]></category>
		<category><![CDATA[محبت حقیقیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه جامعه]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جامع المراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ولایت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[مشاہدہ ذات مع التعین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام اجمالی]]></category>
		<category><![CDATA[مقام جمع]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء اول]]></category>
		<category><![CDATA[موجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[نداء اول]]></category>
		<category><![CDATA[نشان اول]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[وجود مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت قابلیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7736</guid>

					<description><![CDATA[وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ) وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے) مرتبہ ثانیہ تنزل اول اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</h1>
<p>وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے)</p>
<h2>مرتبہ ثانیہ تنزل اول</h2>
<p>اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :</p>
<p>میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ اول یعنی احدیت مراد ہے) تھا یعنی ذات کے غلبہ میں تمام صفات مخفی تھیں) پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق پیدا کی ہے(‌كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًّا فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ)</p>
<p>حقیقت کا یہی ظہور ہے جو مجالی (جلوہ گاہیں مجلاء کی جمع مراد کائنات ، عوالم اور اشیاء)یعنی تعینات میں پایا جاتا ہے اور عارفوں (صوفیائے کرام کی اصطلاح میں عارف اس شخص کو کہتے ہیں جو صفات باری تعالیٰ کو بطریق حال ومکا شفہ پہچانتا ہو ، نہ کہ بطریق علم مجرد)کے مشاہدے میں آتا ہے۔ تعینات و تجلیات میں اس کا مشاہدہ دو طرح سے ہوتا ہے ۔</p>
<p>(1) یہ کہ ذات جب اسماء یا ارواح میں نزول کرتی ہے تو عارف اولا اس کا مشاہدہ کرتا ہے اور ثانیاً متعینات میں اس کے ظہور کی کیفیت کا ، اور تعینات کے ساتھ اس کے تقید کا، خواہ یہ اسمی تعینات ہوں یا غیر اسمی تعینات مشہود ہوں ، یہ مشاہدہ اکمل الکاملین کا ہے ۔ یہ مشاہدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>ما رأيت شي الا ور أَيْتُ اللهَ قَبْلَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس سے پہلے حق کا ادراک ضرور کیا ہے ۔</p>
<p>(2)دوسرا مشاہدہ تعین اور تجلی کے درمیان ذات مطلقہ کا مشاہدہ ہے ، خواہ یہ مشاہدہ ذات مع التعین ہو یا بعد مشاہدہ تعین ۔ یہ مشاہدہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے :</p>
<p>مار أيْتَ شَيْئًا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ مَعَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس کے ساتھ حق کا ادراک ضرور کیا ہے</p>
<p>الغرض اس حقیقت کے تعینات بے حد و بے شمار ہیں لیکن ان کے کلیات چھ ہیں۔ دو مراتب غیب ہیں ، کیونکہ ان میں ذات اور غیر ذات سے ہر چیز غائب ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں حق پر کسی چیز کو ظہور حاصل نہیں۔ مرتبہ اول میں غیب سے تعین اول ہے اور مرتبہ  ثانی میں غیب سے تعین ثانی( تعین اول (وحدت) اور تعین ثانی (واحدیت ) یہ دونوں مراتب غیب ہیں کیونکہ ان میں کوئی شے موجود فی الخارج نہیں، ان کا ظہور صرف علمی ہے نہ کہ عینی) ۔</p>
<p>باقی تین مراتب کونی (مراتب کونی سے مراد مرتبہ ارواح ، مرتبہ امثال اور مرتبہ اجسام ہیں۔)ہیں اور چھٹا مرتبہ جامع المراتب &#8220;(مرتبۂ جامع المراتب سے مراد تعین سادس یعنی انسان ہے ۔ مراتب وجود یا تنزلات ستہ کاعلم اجمالی۔) ہے</p>
<p>تعین اول یعنی حقیقت کا پہلا ظہور یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے وجود کو پایا اور&#8221; انا &#8221;  فرمایا،</p>
<p>اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی صفات اور تمام موجودات کو بعض کو بعض سے امتیاز کے بغیر اجمالی طور پر جان لینا ہے۔ یہ مرتبہ وحدت ہے</p>
<p>اور ساری کائینات بالاجمال علم میں آئی ۔ یوں عوالم بالاجمال حقیقت سے الگ نہیں۔ وہ ذات عالم کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالم ذات سے الگ نہیں ہے وہ ذات  بالا جمال اسماء و صفات سے متصف ہے۔ اس طرح &#8221; سمیع &#8221; قدیر &#8221;  سے الگ نہیں یعنی کوئی اسم بھی دوسرے اسم سے علیحدہ نہیں ہے۔ یہ مرتبہ قابل محض ہے۔ یہاں کثرت ظاہر نہیں ؟ خواہ حقیقی ہو یا اعتباری  سارے عوالم اس مرتبہ میں نابود ہیں جب ذات نے اپنے وجود کو پایا اور &#8221; انا &#8221;  فرمایا تو چار چیزیں پائی گئیں</p>
<p>(1) &#8211; ذات وجود یعنی خود کو انا » فرماکر جانا۔ یہ ذات ہی وجود ہے ۔</p>
<p>(2)صفت علم یہ جاننا صفت ہے ۔</p>
<p>(3)- اسم نور جو خود پہ ظاہر ہوا تو جانا ، پس یہ ظہور نور ہے ۔ بعض حضرات نے انیت(وہ وجود جس کی طرف لفظ انا میںاشارہ کیا جاتا ہے ) ہی کو نور کہا ہے ۔</p>
<p>(4)- فعل شہود یعنی خود کو دیکھا تو جانا ، لہذا یہ دیکھنا شہود ہے</p>
<p>تعین اول کو وحدت حقیقی (وہ وحدت جس میں کسی وجہ سے کثرت نہ ہو اور جو تجزی کو قبول نہ کرے اور نہ اس کے مقابل اس کی کوئی ضد ہو۔ تجزی و تغیر، ضدیت و اثنینیت اورتشبیہ کو وہ قبول نہیں کرتی)</p>
<p>مرتبه الجمع والوجود،( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جمع باعتبار جانب ظہور ، وحدت سے عبارت ہے اور اس مرتبہ کا باطن ہے۔ اور اس مرتبہ میں ذات من حیث الاسماء والصفات پائی جاتی ہے یعنی اس مرتبہ تنزل میں ذات نے اسماء و صفات کی یافت کی ہے اور یہاں اطلاق اسماء و صفات کا ذات پر صادق آیا ہے)</p>
<p>مرتبه جامعه( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات وصفات اور ظهور و بطون دونوں شامل ہیں اور یہ مرتبہ دونوں کا جامع ہے۔)</p>
<p>احدیت جامعہ، احدیت جمع، ( اعتبار ذات من حیث ھی بلا اعتبار اسقاط صفات و اثبات صفات بھی اس مرتبہ میں ہے ۔ نیز صفات کا اعتبار اجمالی بھی اس میں مندرج ہے اور اسی وجہ سے اس کو احدیت جامعہ بھی کہتے ہیں۔ )</p>
<p>مقام جمع ( وحدت ہی ذات و صفات اور بطون و ظہور کو اپنے اندر جمع کرتی ہے اور خلط ملط نہیں ہونے دیتی ۔)</p>
<p>حقيقة الحقائق ( ذات حق تعالی ہر شے کی حقیقت ہے ۔ ہر شے کا وجو د اعتباری ہے  وہ اپنا وجود حق تعالیٰ سے پائے ہوئے ہے ۔  اس مرتبہ میں اس کا تعین اول ہے اس لیئے اس کو حقیقۃ الحقائق کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ صور علمیہ اور اعیان ثابتہ کو حقائق الممکنات کہتے ہیں۔ چونکہ مرتبہ وحدت ، حقائق الممکنات کا مرتبہ اجمال ہے اس لیئے یہ مرتبہ حقیقۃ الحقائق ہوا۔)،</p>
<p>برزخ البرازخ، برزخ کبری (  یہ حق تعالی اور جملہ برازخ کے درمیان برزخ حائل ہے ۔)</p>
<p>حقیقت محمدیہ، وجہ وجوہ کائنات اور رونق بزم کائنات ہے  مزید دیکھیں <a href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81/">حقیقت محمدیہ</a></p>
<p>عقل اول ( یہ علم الہی کی شکل کا وجود میں محل ہے ۔ یہ علم الہی کا نور ہے جو تنزلات میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ اول ما خلق الله العقل سے اسی جانب اشارہ ہے ۔)</p>
<p>قلم اعلی (عقل اول اور قلم اعلی ، در حقیقت ایک ہی نور کے دو نام ہیں۔ جب اس نور کی نسبت عبد کی جانب کی جاتی ہے تو اس کو عقل اول کہتے ہیں اور جب اس نور کی نسبت حق تعالی کی جانب کی جاتی ہے تو اُس کو &#8221; قلم اعلیٰ &#8221; کہتے ہیں۔ پھر عقل اول سے جو در اصل نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ازل میں جبرئیل علیہ السلام پیدا کیے گئے اور ان کا نام روح الامین رکھا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی روح ہیں جن کو اللہ تعالی کے علم کا خزانہ بطور امانت سپرد کیا گیا ہے۔ اس نور کی اضافت جب انسان کامل کی جانب ہوتی ہے تو وہ روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب سے ملقب ہوتا ہے۔ قلم اعلی عقل اول اور روح محمدی (روح اعظم )کی تعبیر جوہر فرد کی جاتی ہے ۔ مظاہر خلقیہ میں ممیز ہونے کے طور پر جو ابتدائی تعینات حق ہیں، انھیں قلم اعلیٰ کہا جاتا ہے ۔)</p>
<p>روح اعظم (  روح اعظم یا روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اول ما خلق الله روحی بھی ارشاد فرمایا ہے  )</p>
<p>اور تجلی اول کہتے ہیں۔( لغت میں تجلی کے معنی ظاہر کرنے اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال الہی کا کسی پرپھینکا جانا تجلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ ذات مطلق کا ظہور لباس تعین ہی میں ممکن ہے ، اسی لیئے صوفیہ کرام کی اصطلاح میں لباس تعین کو تجلی کہتے ہیں۔ ہر وہ شان اور کیفیت و حالت جس میں حق تعالی کا اس کی کسی صفت یا اس کے کسی فعل کا اظہار ہو تجلی ہے ۔<br />
اس مرتبہ وحدت کو تجلی اول اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مرتبہ خفاء الخفاءیا مرتبہ لاتعین سے اس کا ظہور ہوا ہے۔ نیز اس کو تجلی اول کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تجلیات کا آغاز اس مرتبہ وحدت سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے مرتبہ احدیت ہے ، جس میں تجلی نہیں پائی جاتی کیونکہ تجلی کے لیے ایک متجلی اور ایک متجلی لہ کا ہونا ضروری ہے اور احدیت میں اثنینیت نہیں ، اس لیئے اس میں تجلی بھی ممتنع ہے ۔ احدیت میں نہ ناظر ہے نہ منظور تو تجلی کیسی ؟)<br />
یہ وحدت قابلیات ذات کی ہے (یہ مرتبہ اصل جمیع قابلیات کا ایک حالہ اجمالیہ بسیطیہ ہے۔ اس کا ظہور سب سے پہلے ہوا ہے۔ یہ جمیع قابلیات کا ہیولی اور مبدا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو قابلیت اولی بھی کہتے ہیں۔)اس مرتبہ میں ناسوت(عالم بشریت ، عالم اجسام ، اس کو مُلک، عالم شہادت اور عالم محسوسات بھی کہتے ہیں ۔) ملکوت(یعنی وہ عالم جو ملائکہ وارواح سے مختص ہے) سے(جومرتبہ ارواح ہے )جدا نہیں اورملکوت جبروت(یعنی مرتبه صفات مرتبه وحدت ، حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے (جو مرتبہ صفات ہے )ممتاز نہیں اور جبروت، لاہوت ( یعنی مرتبہ ذات ، گنج مخفی، هویت مطلقه )سے (یعنی الوہیت سے جومرتبہ ذات ہے) ممتاز نہیں ہے(  ناسوت، ملکوت ، جبروت اور لاہوت یہ چار عوالم سمجھے جاتے ہیں در حقیقت لاہوت عالم نہیں بلکہ مرتبہ ہے کیونکہ عالم کا لفظ لاہوت پر صادق نہیں آتا ۔ لفظ عالم علامت سے مشتق ہے ۔ لغوی اعتبار سے عالم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی دوسری شے پہچانی جاسکے ۔ اصطلاح صوفیہ میں ماسوی اللہ کو عالم کہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی کو باعتبار اسماء وصفات پہچانا جاتا ہے ۔ عالم کا ہر جزء خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو عوام کی نگاہ میں خواہ کتنا ہی حقیر اور بے قدر کیوں نہ ہو ، حق تعالٰی کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ضرور ہے ۔ اس لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ناسوت ، ملکوت اور جبروت ہی عوالم ہیں ۔   مراد یہاں ان سے علی الترتیب مرتبه اجسام، مرتبه ارواح، مرتبه صفات اور مرتبہ ذات ہے ۔ یہ عوالم اس مرتبہ وحدت میں ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہیں کیونکہ مرتبہ وحدت اجمالی ہے جیسے گٹھلی میں برگ وبار اور شاخ و شجر ممتاز نہیں یا ہیضہ میں بال و پر اور رنگ و آواز ممتاز نہیں ، اسی طرح مرتبہ وحدت میں ذات وصفات اور اسماء و افعال موجود ہونے کے باوجود ممتاز نہیں ، کیونکہ امتیاز ، تفصیل کا متقاضی ہوتا ہے اور تفصیل کی اس مرتبہ میں گنجائش نہیں)</p>
<h2>اس وحدت کے دو اولین اعتبارات ہیں</h2>
<p>(1) سقوط اعتبارات یعنی ذات سے بالکلیہ تمام اعتبارات ساقط اور معدوم ہوں ، یہ احدیت ہے یعنی تمام اعتبارات کے سقوط  وعدم کے ساتھ ذات کا ایک ہونا۔ اسی لحاظ سے ذات کو احد کہا گیا ہے یعنی ایک ایسی ذات جس سے تمام اعتبارات دور کر دیئے گئے ہوں، اسی لیے ذات کا بطون ، اس کا اطلاق اور اس کی ازلیت اسی اعتبار سے متعلق ہے۔</p>
<p>(2)- ثبوت اعتبارات یعنی اس ذات میں بے حد و بے شمار اعتبارات مندرج ہوں ، یہ واحدیت ہے یعنی جملہ اعتبارات کے ساتھ ذات کا ایک ہونا، تمام اعتبارات وصفات کے ساتھ ذات کا ایک ہی نام ہو یعنی ایک ایسی ذات جو اعتبارات کے ساتھ ہے، پس واحد ثبوتی نام ہے،  سلبی نہیں ذات کا ظہور ، ذات کا وجود (یافت) ذات کی پیشگی ابدیت اسی اعتبار سے متعلق ہے ۔</p>
<p>(یہ وحدت جوانائے مطلق اور قابلیت محض کا مرتبہ ہے۔ اس کی دو جہتیں بن جائیں گی۔ پہلی جہت یہ ہے کہ اعتبارات اس سے ساقط ہوں، اس ذات سے متعلق کوئی اعتبار قائم نہ ہو۔ یہ نری ذات کی یکتائی ہے ، اس لیئے اس کو احدیت کہیں گے ۔ اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ مرتبہ احدیت میں ذات بلا اعتبار ہوتی ہے ، ہر اعتبار یہاں ساقط ہوتا ہے ، اسی لیے ذات کو اس مرتبہ میں احد کہتے ہیں واحد نہیں، کیونکہ احد سلبی نام ہے اور واحد ثبوتی اور اسی لیے احد ہی کو صمد کہا گیا ۔ صمد کہتے ہیں ٹھوس چٹان کو جس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکے ، نہ اس سے کوئی چیز خارج ہو سکے ۔ یہاں اسماء وصفات اور افعال کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا،یہ  احدیت ہے ۔ ذات بحت کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ۔ بطون، اطلاق اور ازلیت ، وحدت کی اسی جہت (احدیت) سے متعلق ہے۔ &#8211;</p>
<p>دوسری جہت یہ ہے کہ بے حد و بے شمار اعتبارات اس وحدت سے متعلق قائم ہوں، بلکہ اس میں مندرج ہوں ۔ یہ ذات کی یکتائی جملہ اعتبارات کے ساتھ ہے، اس لیے اب اس کو واحدیت کہیں گے۔ اس مرتبہ میں ذات ، نری نہیں رہتی بلکہ بے شمار اعتبارات بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال بھی اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں ذات کو واحد کہتے ہیں احد نہیں، کیونکہ واحد ثبوتی نام ہے جب کہ احد سلبی &#8211; اسماء و صفات اور افعال کا اعتبار اسی مرتبہ میں ہوگا جو واحدیت ہے ۔ ذات کے ساتھ یہاں ہزاروں اعتبارات بھی ہیں ، ظہور ، وجود (یافت) اور ابدیت، وحدت کی اسی جہت (واحدیت) سے متعلق ہے۔ )</p>
<p>ان دونوں اعتبارات( جہت سقوط اعتبارات اور جہت ثبوت اعتبارات ۔) یا دیگر اعتبارات( اسماء وصفات اور افعال ہیں، صوفیہ کرام ان کے لیے بھی اعتبارات کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں) میں کوئی غیریت یا تفریق (حقیقی) نہیں۔ کثرت مغایرت احکام کی وجہ سے ہے اور وحدت میں کثرت بالفعل نہیں( کثرت یہاں بالقوہ ہوتی ہے کیونکہ وحدت ذات حق کا ایک ایسا مرتبہ ہے جس میں قایلیت کثرت ہے، بالقوہ نہ کہ بالفعل، ان قابلیات کثرت کو شئون ذاتیہ اور حروف عالیہ کہتے ہیں جو غیب الغیوب میں مخفی ہیں جس طرح شجر تخم میں طاؤوس بیضہ میں اور آگ سنگ چقماق میں۔) لہذا وحدت اس ذات کی یکتائی ہے جس نے خود کو بغیر سقوط اعتبارات اور بغیر ثبوت اعتبارات کے جانا ۔ مرتبہ ذات میں فرق نہ ثبوت اعتبارات کا ہے اور نہ سقوط اعتبارات کا( سقوط اعتبارات اور ثبوت اعتبارات کے بغیر ذات کی یکتائی کا نام ہے ۔ یہ سقوط وثبوت اعتبارات کے بغیر انائے مطلق ہے ۔)</p>
<p>پس یہ ذات کا ظہور اول ہے(اسی بنا پر اسے تجلی اول کہتے ہیں) ، احدیت اور واحدیت دونوں اس کی نسبتیں ہیں۔ اگر وحدت نہ ہوتی تو یہ نسبتیں بھی نہ ہوتیں ، جیسے عشق کی دو نسبتیں ہیں ، عاشق اور معشوق یہ دونوں عشق کے بغیر معدوم ہیں ۔ اسی طرح احدیت ، وحدت کے اوپر اور واحدیت ، وحدت کے نیچے ہے اور وحدت برزخ ہے یعنی ان دونوں کے درمیان ہے ۔ اس وحدت کو تجلی اول ، تنزل اول(ذات کا پہلا نزول اسی مرتبہ میں ہوا)، حقیقة الحقائق، برزخ کبری ، اصل البرازخ ، او ادنی (اوادنی : وحدت کا یہ نام قاب قوسین او ادنی سے ماخوذ ہے ۔ قاب قوسین صوفیہ کرام کے نزدیک وہ مقام اتصال ہے جہاں سے احدیت اور واحدیت کی قوسین میں امتیازپیدا ہو جاتا ہے۔ فنافی اللہ سے قبل یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج و شہود اور وجدان کی انتہا ہے ۔ تمیز کے دور ہوتے ہی قوسین بواسطہ سطوت تجلی ذات متحد ہو گئیں اور فنافی اللہ حاصل ہوگئی جس کی جانب او ادنی سے اشارہ ہے ۔)اور الف کہتے ہیں</p>
<p>(الف : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ الف نام ہے خط کا جو نقطہ سے بنتا ہے اور پھر خط ہی سے سارے حروف بنتے ہیں ، جیسا کہ مولانا عبد الرحمن جامی نے فرمایا :</p>
<p style="text-align: center;">یک نقطه الف گشت والف گشت حروف</p>
<p style="text-align: center;">در حرف الف بنامے موصوف</p>
<p style="text-align: center;">چون حرف مرکب شده آمد به سخن</p>
<p style="text-align: center;">ظرفیست سخن نقطه در وچوں مظروف</p>
<p> اک نقطہ الف ہو گیا اور الف سے حروف بن گئے پھر الف ہر حرف میں ایک نام سے موسوم ہو گیا۔ پھر جب حروف مرکب ہوئے تو سخن ہو گیا اور اب سخن ظرف ہے اور نقطه مانند مظروف)</p>
<p>چونکہ احدیت کو نقطہ کہا جاتا ہے ، اس لیے وحدت کو الف کہتے ہیں۔ )</p>
<p>اس مرتبہ ثانیہ یعنی وحدت کے اور بھی نام ہیں</p>
<p>قابلیت اولی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ تمام قابلیات کی اصل ہے ۔</p>
<p>مرتبہ ولایت مطلقہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پر ولایت مطلقہ کا دارو مدار ہے۔ اور ولایت کا کوئی مرتبہ ، ولایت مطلقہ سے بلند تر نہیں ۔ ولایت مطلقہ کہتے ہیں ولایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ ہی کی اتباع کامل کی وجہ سے ولایت خاتم الاولیاء کو بھی اس سے موسوم کیا جاتا ہے ۔</p>
<p>حجاب عظمت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سوائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی یہاں تک نہ پہنچ سکا</p>
<p>محبت حقیقیہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مقام حب حقیقی و حب ذاتی ہے بفحوائے كنت كنزاً مخفيا فاحببت ان اعرف یہاں حب ذاتی اور توجہ بخلق کا ظہور ہوا۔</p>
<p>وجود مطلق : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ میں دیگر مراتب کے بخلاف ذات کا شعور اور اس کی یافت بہ اعتبارات ، مطلق و مجمل ہے اور ایک مرتبہ نے اس سے تقید پایا ہے۔</p>
<p>تعیین اول : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات کے لیئے اسماء وصفات کا اولا تقرر ہوا ہے ۔</p>
<p>رفیع الدرجات: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وحدت ہی کے درجات کی تفصیل واحدیت میں ہوتی ہے، رفیع الدرجات ذو العرش سے اس طرف اشارہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح اس مرتبہ کو کنز الكنوز ، کنز الصفات، احدیت الجمع،مقام اجمالی ، ام الکتاب، روح القدس، لوح قضا ، عرش مجید، درة البيضاء ، بشرط شے بالقوه ، بشرط کثرت بالقوه ، نفس رحمانی ، وحدت الحقیقۃ،حقیقت انسانی ، حب ذاتی ، رابطہ بین الظهور والبطون ،فلک ولایت مطلقه ،علم مطلق، ظل اول ، وجود اول ،موجود اول ، مبدأ اول ، نشان اول،منشاء اول ، جوہراول ، نداء اول ، خیال اول بھی کہتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحی اسماء سے ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے کہ یہ ذات کا پہلا مرتبہ نزول ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/" data-a2a-title="وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کعبہ ربانی کے معارف مکتوب نمبر 263دفتر اول</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b9%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-263%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%88/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b9%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-263%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 27 Nov 2021 09:41:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مکتوبات دفتر اول دار المعرفت]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ صغریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[مکتوبات امام ربانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=4497</guid>

					<description><![CDATA[&#160;ان معارف کے بیان میں جو کعبہ ربانی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور نماز کے فضائل اور اس کے مناسب بیان میں جناب معارف آگاہ میاں تاج الدین کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&#160; اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b9%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-263%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%88/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[
<p><strong>&nbsp;</strong>ان معارف کے بیان میں جو کعبہ ربانی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور نماز کے فضائل اور اس کے مناسب بیان میں جناب معارف آگاہ میاں تاج الدین کی طرف صادر فرمایا ہے:۔&nbsp;</p>



<p><strong>اَلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى</strong> الله کی حمد ہے اور اس کے برگزیده&nbsp;بندوں پر سلام ہو۔<strong>&nbsp;</strong></p>



<p>آپ کے قدوم مسرت لزوم یعنی تشریف آوری کی خوشخبری سن کر مشتاق دوستوں کو بہت&nbsp;خوشی حاصل ہوئی ۔ اس پر الله کی حمد اور احسان ہے&nbsp;</p>



<p><strong>انصاف بده</strong><strong> </strong><strong>اے فلک مینا فام</strong><strong> </strong><strong>تازیں دو کدام خوب تر کرد خرام</strong><strong></strong></p>



<p><strong>خورشید جہاں تاب تو از جانب مشرق یاماہ</strong><strong> </strong><strong>جہاں گردمن از جانب شام</strong></p>



<p>&nbsp;ترجمہ: اے فلک مینا کے رنگ انصاف کر دونوں سے کس کا ہے آنا خوب تر&nbsp;</p>



<p>تیرا سورج ہے جو مشرق سے چڑھے یا مراجو کے آئے شام سے&nbsp;</p>



<p>جب آپ نے قدم رنجہ فرمایا ہے تو جلدی تشریف لائیں ۔ کیونکہ مشتاق مدت سےمنتظر ہیں اور بیت اللہ کی خبریں سننے کی آرزو رکھتے ہیں ۔ فقیر کے نزدیک جس طرح کعبہ کی صورت کیا ملک کیا بشر تمام خلائق کی صورتوں کے لئے مسجو والیہاہے اسی طرح اس(کعبہ شریف) کی حقیقت بھی ان صورتوں کے حقائق کے لئے مسجودالیہا ہے۔ اس واسطے وہ حقیقت تمام حقائق سے برتر ہے اور اس کی متعلقہ کمالات تمام حقائق کے متعلقہ کمالات سے بڑھ کر ہیں ۔ گویا یہ حقیقت حقائق کونی اور حقائق الہی کے درمیان برزخ (پردہ)ہے۔ حقائق الہی سے مراد عظمت و کبریا کے پردے ہیں جن کے پاک دامن کو کوئی رنگ و کیفیت نہیں گئی اور کسی ظلیت نے ان کی طرف راہ نہیں پایا۔ دنیوی عروجات اور ان کے ظہورات کی نہایت حقائق کونی کے انتہاء تک ہے اور حقائق الہی سے کامیاب ہونا آخرت پر مخصوص ہے۔ ہاں نماز میں جو مومن کی معراج ہے اور اس کی معراج میں گویا دنیا سے نکل کرآخرت میں چلا جاتا ہے۔ اس حظ (لذت)میں سے جو آخرت کو میسر ہوگا کچھ حصہ حاصل ہوجاتا ہے۔&nbsp;</p>



<p>میں خیال کرتا ہوں کہ نماز میں اس دولت کے حاصل ہونے کا عمده ذ ریعہ کعبہ کی طرف جو حقائق الہی جل شانہ کے ظہورات کا مقام ہے۔ نمازی کی توجہ کرنا ہے۔ پس کعبہ دنیا میں ایک عجو بہ ہے جوصورت میں دنیا سے ہے لیکن حقیقت میں آخرت سے ہے اور نماز نے بھی اس کے وسیلہ سے &nbsp;یہ نسبت پیدا کر لی ہے اور صورت و حقیقت میں دنیا و آخرت کی جامع ہے اور ثابت ہو چکا ہے کہ وہ حال جو نماز کے ادا کرنے کے وقت میسر ہوتی ہے۔ ان تمام حالات سے جو نماز&nbsp;کے سوا حاصل ہوں برتر ہے۔ کیونکہ وہ حالات اگر چہ اعلی سے اعلی ہوں دائرہ ظل سے باہرنہیں ہیں اور یہ حالت اصل سے حصہ رکھتی ہے۔ پس جس قدراصل اورظل کے درمیان فرق ہے اسی قدران حالات اور اس حالت کے درمیان فرق ہے اور مشاہدہ میں آتا ہے ۔ وہ حالت جو اللہ تعالیٰ کی عنایت سے موت کے وقت ظاہر ہو گی وہ نماز کی حالت سے برتر ہوگی کیونکہ موت احوال آخرت کے مقدمات میں سے ہے اور جوحالت آخرت کے زیادہ نزدیک ہے وہ زیادہ اتم(اعلیٰ درجہ کی) و اکمل ہے کیونکہ اس جگہ صورت کاظہور ہے اور وہاں حقیقت کا ظہور ۔ پس دونوں میں کس قدرفرق ہے اور ایسے ہی وہ حالت جواللہ جل شانہ کے کرم وفضل سے برزخ صغریٰ یعنی قبر میں میسر ہوگی ۔ اس حالت سے جومرگ کے وقت میسر ہوگی بڑھ کر ہوگی اور برزخ کبری&nbsp; یعنی روز قیامت کو کہ جہاں کا مشہود(مشاہدہ) اتم و اکمل ہے۔ برزخ صغریٰ کے ساتھ یہی نسبت ہے۔ اور اسی طرح برزخ کبری۔ یہود کی نسبت جنات النعیم کامشہود اتم واکمل ہے اور تمام مقامات سے برتر وہ مقام ہے جس کی نسبت مخبرصادق ﷺنے خبر دی ہے اور فرمایا ہے <strong>اَنَّ لِلّٰہِ جَنَّۃَ لَا فِیْھَا حُوْرٌ وَّلَا قُصُوْرٌ</strong> <strong>يَتَجَلَّى ‌ فيهارَبُّنَا ‌ضَاحِكًا </strong>اللہ تعالیٰ کی ایک جنت&nbsp;ہے جس میں نہ کوئی حور ہے اور کوئی محل اس میں الله تعالیٰ ہنستے ہوئےتجلی فرمائے گا پس تمام ظہورات میں سے ادنی ظہور و دنیا و مافیہا ہے اور ان ظہورات میں سے اعلی جنت بلکہ دنیا بالکل ظہور کا مقام نہیں ہے۔ وہ ظلی ظہورات اور مثالی نمائش جو دنیا کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ فقیر کے نزدیک سب امور دنیا میں بے شمار ہیں اور حقیقت میں وہ ظہورات خواه تجلیات صفات ہون خواہ تجلیات ذات سب دائرہ امکان(تمام ممکنات) &nbsp;میں داخل ہیں ۔ <strong>تَعَالَى اللہُ عَمَّا ‌يَقُولُ ‌الظَّالِمُونَ ‌عُلُوًّا ‌كَبِيرًا </strong>&nbsp;الله تعالیٰ اس بات سے جو ظالم کہتے ہیں بہت بلند ہیں۔&nbsp;</p>



<p>فقیر دنیا کو پورے طور پر ملاحظہ کرتا ہے تو خالی پاتا ہے اور مطلوب کی کچھ بو اس کے&nbsp;دماغ میں نہیں پہنچتی۔&nbsp;</p>



<p>حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔ اس جگہ مطلوب کو ڈھونڈنا اپنے آپ کو&nbsp;پریشان کرنا یا مطلوب کے غیر کو مطلوب جاننا ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ اس میں گرفتار (مشغولیت)ہیں اور خواب خیال میں آرام کئے ہوئے ہیں ۔ اس مقام میں صرف نماز ہی ہے جواصل سے کچھ حصہ رکھتی ہے اور مطلوب کی بولاتی ہے<strong>۔</strong><strong> </strong><strong>وَدُونَهٗ خَرْطُ الْقَتَادِ</strong> ( اور اس کے سوا بے فائد ه رنج و تکلیف ہے۔</p>



<p>           <strong><span class="has-inline-color has-vivid-red-color"><a href="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" data-type="URL" data-id="https://archive.org/details/umairastro90_yahoo_02_201902" target="_blank" rel="noopener">مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی دفتر اول صفحہ244 ناشر ادارہ مجددیہ کراچی</a></span></strong>           </p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&amp;linkname=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25da%25a9%25d8%25b9%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a8%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c-%25da%25a9%25db%2592-%25d9%2585%25d8%25b9%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2581-%25d9%2585%25da%25a9%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a8-%25d9%2586%25d9%2585%25d8%25a8%25d8%25b1-263%25d8%25af%25d9%2581%25d8%25aa%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%2F&#038;title=%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%DB%8C%20%DA%A9%DB%92%20%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%20%D9%85%DA%A9%D8%AA%D9%88%D8%A8%20%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1%20263%D8%AF%D9%81%D8%AA%D8%B1%20%D8%A7%D9%88%D9%84" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b9%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-263%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%88/" data-a2a-title="کعبہ ربانی کے معارف مکتوب نمبر 263دفتر اول"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%da%a9%d8%b9%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d9%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d9%81-%d9%85%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-263%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d8%a7%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
