<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>سقوط اعتبارات &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B3%D9%82%D9%88%D8%B7-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%A7%D8%AA/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Sun, 24 Mar 2024 02:52:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>سقوط اعتبارات &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:20:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[ابطن كل باطن]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ازل الآزال]]></category>
		<category><![CDATA[اعتبارات ذات]]></category>
		<category><![CDATA[الغیب المسكوت عنہ]]></category>
		<category><![CDATA[انانیت حقہ]]></category>
		<category><![CDATA[باہوت]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط لاشے]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط لاکثرت]]></category>
		<category><![CDATA[بطون البطون]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت حق]]></category>
		<category><![CDATA[خفاء الخفاء]]></category>
		<category><![CDATA[ذات بحت]]></category>
		<category><![CDATA[ذات بلا اعتبار]]></category>
		<category><![CDATA[ذات ساذج]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[شان تنزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عدم العدم]]></category>
		<category><![CDATA[عنقا]]></category>
		<category><![CDATA[عین الکافور]]></category>
		<category><![CDATA[عین مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب الغيوب]]></category>
		<category><![CDATA[غیب مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[غیب ہویت]]></category>
		<category><![CDATA[قِدَم القِدَم]]></category>
		<category><![CDATA[کنز مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[کنہ حق]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لا تعین]]></category>
		<category><![CDATA[مجہول النعت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبة الهویت]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ اولی]]></category>
		<category><![CDATA[معدوم الاشارات]]></category>
		<category><![CDATA[مکنون المکنون]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الاشارات]]></category>
		<category><![CDATA[منقطع الوجدان]]></category>
		<category><![CDATA[نقطہ]]></category>
		<category><![CDATA[نہایۃ النہایات]]></category>
		<category><![CDATA[ھو]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت حق]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت حقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ہویت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[وجود البحت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7713</guid>

					<description><![CDATA[احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی) جسم کثیف سے جسم لطیف کا سفر (تنزل : ذات حق تعالٰی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل ہے(تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)</h1>
<h2>جسم کثیف سے جسم لطیف کا سفر</h2>
<p><span style="color: #993366;">(تنزل : ذات حق تعالٰی کا تعینات میں ظاہر ہونا تنزل ہے(تنزل کے معنی یہ ہیں کہ شے اپنے اصلی وجود میں بعینہ باقی رہ کر ظلی طور پر ایک دوسرا وجود اختیار کرے)۔ تنزلات ستہ تصوف کا مشہور مسئلہ ہے اس کا مختصر بیان یہ ہے کہ صوفیائے کرام نے ذات کے چھ مراتب قرار دیتے ہیں ۔  پہلا مرتبہ احدیث اس کو لاتعین ، ذات بحت کہتے ہیں۔)</span></p>
<p>احدیت، ذات حق کا تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی ہے جو وہم و گمان سے پاک ہے۔ اس میں کثرت کی گنجائش نہیں، یہاں ذات قیود سے آزاد ہوتی ہے۔ اطلاقیت اس مرتبہ کا خاصہ ہے۔ احدیت میں اعتبارات ذات، علم ، نور ، وجود اور شہود ضرور ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ میں حق تعالیٰ خود ہی علم ہے، خود ہی عالم اور خود ہی معلوم ۔ خود نور خود منوِّر اور خود منوَّر &#8211; خود وجود خود واجد اور خود موجود اس طرح خود شہود، خود شاہد اور خودمشہود &#8211; مگر اس مرتبہ میں ان اعتبارات کو بوجوہ ملحوظ نہیں رکھا گیا کیونکہ یہاں کسی قسم کے تعدد اور اعتبار غیریت کو دخل نہیں ہے ۔ یہ سقوط اعتبارات کی جہت ہے۔</p>
<p>جب کوئی چیز نہ تھی ، نہ پانی نہ خاک نہ ہوا نہ آگ ، نہ زمیں نہ آسماں ، نہ شجر نہ حجر ، نہ حیوانات تب ایک حقیقت (وجود حقیقی)تھی جو اپنے آپ موجود(موجود بالذات) تھی ہے جس کو عربی میں ہوبیت ہے ، فارسی میں ہستی۔ بعض حضرات اس کو عشق بھی کہتے ہیں ۔</p>
<p>یہ حقیقت اس مرتبہ (مراتب وجود کا پہلا مرتبہ مرتبہ لا تعین)میں تمام قیود سے پاک تھی اور اس کے تمام صفات و کمالات پوشیدہ تھے ۔ وہ اپنے کمال کے سبب کسی جانب متوجہ نہ تھی ۔ اپنے آپ پر حاضر تھی۔ اپنے غیر کی طرف متوجہ نہ تھی کیونکہ اس کا غیر تھاہی نہیں ۔ اس کی تمام صفات اُسی کی ذات(وجود مطلق) میں مندرج تھیں چنانچہ اس مرتبہ میں اس کا کوئی اسم اور کوئی صفت ظاہر نہیں۔ نہ کوئی نسبت نہ کوئی اضافت، بلکہ وہ صفت بطون و ظہور سے بھی پاک تھی ، اس کو اس مرتبہ میں ایک اور بہت نہ بولا جائے ، نہ اللہ ، نہ بندہ۔ اگرچہ بعض حضرات نے اس حقیقت کو اس مرتبہ میں بھی &#8221; اللہ &#8221; کہا ہے، لیکن اکثر صوفیہ کہتے ہیں کہ یہ اس حقیقت کا صرف تسمیہ ہے ، اس لیئے کہ الفاظ کی کوئی کمی تو ہے نہیں، جو چاہو نام رکھ لو لیکن نام رکھنے کا فائدہ کچھ نہیں کیونکہ نام رکھنے سے مقصود سمجھنا اور سمجھانا ہے ، اور یہاں صورت یہ ہے کہ کوئی اس حقیقت کو تعینات کے بغیر نہ پا سکتا ہے ، نہ سمجھ سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ جان سکتا ہے ۔ پھر جب یہ صورت ہے تو الفاظ سے اس کی جانب کیوں اشارہ کیا جائے وہ نام کی قید میں نہیں آ سکتی ، خواہ اس کے کتنے ہی نام رکھ لیئے جائیں ۔</p>
<p>وہ حقیقت اپنی یکتائی کے سبب عالم سے بے پروا ہے کیونکہ ذات بذات خود عالم کی طرف وجود و عدم کی نسبت یکساں رکھتی ہے، نہ اس کی موجودیت کی خواہش رکھتی ہے اور نہ اس کے عدم کی رغبت (اسی لئے اسے عدم العدم کہتے ہیں)، یہ بے پروائی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس حقیقت کو اس مرتبہ میں کوئی نہیں جان سکتا ، نہ ولی نہ نبی ہے کیونکہ وہ حقیقت اپنے اطلاق حقیقی (بے قیدی) کے سبب چاہتی ہے کہ نہ جانی جائے اور احاطہ و قید میں نہ آئے لیکن علم کا تقاضا ہے کہ معلوم اس کی گرفت میں آئے لہذا مر تبہ ذات کے ادراک سے عاجز رہنا عین ادراک (عدم علم کا علم بڑا علم ہے) ہے۔ پس تعینات ، اسماء ، صفات اور مظاہر کے بغیر ذات کی دریافت میں سعی کرنا عمر کو بے فائدہ  ضائع کرنا اور محال کو طلب کرنا ہے (ان کے بغیرادراک ممکن نہیں)۔ ایسی معرفت اس کے غیر کے لیئے ممتنع ہے ، الا یہ کہ بالا جمال ہوا اور وہ صرف یہ ہے کہ کائنات کے سوا ایک حقیقت تھی جس سے کائنات  کا ظہور ہوا ہے</p>
<p>وہ حقیقت اس مرتبہ میں تعین( حق کا اپنی ذات کو پانا)سے پاک ہے۔ کوئی ایک تعین اس حقیقت کو لازم نہیں، بلکہ ہر مرتبہ میں وہ ایک تعین، مرتبہ کے مطابق لیتی ہے۔ اور کسی تبدیلی کے بغیر مطلق بھی ہوتی ہے اور مقید بھی ، کلی بھی اور جزئئ بھی ، عام بھی اور خاص بھی، واحد بھی اور کثیر بھی ۔ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے الان کماکان یعنی اللہ تعالٰی اب بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ ازل میں تھا ۔</p>
<p>اس مرتبہ ذات کو غیب ہویت(ذات خالص جس میں اسم رسم نعت وصف کو بھی دخل نہ ہو)، غیب الغيوب (یہ مرتبہ مراتب معقولہ سے بلند ہے)، ابطن كل باطن(باطن کا باطن ترین کوئی بھی مطلع نہیں)، ہویت مطلقہ(کسی قید میں نہیں آتی )،لا تعین ( کسی تعن کا اعتبار نہیں نہ اسمائی نہ افعالی)، عین الکافور(چشمہ کافور میں کافوری قہر و غلبہ سےکافوری صفت اختیار کر لیتی ہے )، ذات ساذج(خاص ذات) ،منقطع الاشارات(کسی اشارے کی حاجت نہیں) ، منقطع الوجدان(ذاتی و صفاتی وجدان نہیں) ،احدیت مطلقہ(ذات اطلاق حقیقی کے ساتھ احد ہے)، مجہول النعت(نعت وصف ثبوتی یہاں اس کا بھی اعتبار نہیں )،عنقا(جیسے عنقا زیر دام نہیں آتااسی طرح ذات کسی یافت میں نہیں آتی)، نقطہ (نکتہ دائرہ ممکنات بناتا ہےاعتباری ہے) اور گنج مخفی(اس مرتبہ میں ذات کی قابلیتیں خود ذات سے بھی مخفی ہوتی ہیں) کہتے ہیں</p>
<p>اس مرتبہ ذات کے اور بھی نام ہیں، مثلا :ازل الآزال :۔کیونکہ یہ مرتبہ جمله مراتب قدیمیہ ازلیہ کی انتہا ہے اور اس قِدَم (قدیم)میں اس سے بالاتر کوئی مرتبہ نہیں۔</p>
<p>الغیب المسكوت عنہ : سکوت کلام کی ضد ہے اور کلام اسم وصفت کا محتاج ہے۔ یہاں نہ اسم کو دخل ہے ، نہ صفت کو ، نہ کلام کو ، سکوت کے سوا یہاں چارہ نہیں۔</p>
<p>ذات بحت : بحت کہتے ہیں خالص کو ، یہاں ذات خالص از اسم در سم اور نعت و وصف ہے ۔</p>
<p>ذات بلا اعتبار:۔ کیونکہ یہاں جملہ اعتبارات و تقیدات مفقود ہیں ۔</p>
<p>مرتبة الهویت : ذات بحت بحیثیت ھو ، یعنی ذات جو کامل ہے اپنی ذاتیت ہیں۔</p>
<p>علی ھذا القیاس اس مرتبہ کو  کنہ حق ، ہویت حق ، حقیقت حق ، وجود البحت ، عین مطلق ، غیب مطلق ، مکنون المکنون ، بطون البطون ، خفاء الخفاء، قِدَم القِدَم نہایۃ، النہایات ، معدوم الاشارات ، بشرط لاشے ، بشرط لاکثرت ، باہوت ، ھو، شان تنزیہ، انانیت حقہ ، ہویت حقہ ، اور کنز مخفی بھی کہتے ہیں ۔ ان تمام اسمائے مرتبہ سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ ذات اس مرتبہ میں نا قابل یافت وادراک ہے۔</p>
<p>احدیت بے رنگی وبے کیفی کا مرتبہ ہے ۔ یہاں ذات بے چند وچوں اور بے شبہ ونموں ہے ۔ بے وصف ، بے نعت ، بے نام ، بے نشان، بے زمان ، بے مکان ۔ یہ مرتبہ ہویت ہے۔ اس میں اول و آخرہویت ہی ہو یت ہے۔ یہاں طمع معرفت فضول ہے۔ کان اللہ ولم یکن معه شی اللہ ہی اللہ ہے اس کے ساتھ کچھ اور نہیں ۔ یہ مرتبہ لا ادریت ہے۔ اسی کے متعلق شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے کہا ہے :</p>
<p>كل الناس في ذات الله حمقاء</p>
<p>ذات حق کے علم میں سب احمق ہیں</p>
<p>نوٹ: یہ سب نام صوفیائے کرام نے سمجھانے کیلئے رکھے ہیں تاہم اس کے باوجود یہی واجب الوجود ذات باقی تمام مراتب کی عین اور حقیقت ہے۔ یہ ایک ایسا مرتبہ ہے۔ جس پر علم قدیم بھی احاط نہیں کرسکتا۔ مرتبہ احدیت رب تعالی کی کنہ ہے جو کسی وہم سے موہوم کسی علم سے معلوم اور کسی صفت سے موصوف نہیں ہوسکتی۔ اس مرتبہ پر صفات تو در کنار خود ذات کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&amp;linkname=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25af%25db%258c%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2588%25d9%2584%25db%258c%2F&#038;title=%D8%A7%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D9%84%DB%8C%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/" data-a2a-title="احدیت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ اولی)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%a7%d8%ad%d8%af%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جمع]]></category>
		<category><![CDATA[ام الکتاب]]></category>
		<category><![CDATA[او ادنی]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ البرازخ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط شے بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط کثرت بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بعد مشاہدہ تعین]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول وحدت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات و تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعیین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تین مراتب کونی]]></category>
		<category><![CDATA[ثبوت اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[جوہراول]]></category>
		<category><![CDATA[حب ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب عظمت]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الممکنات]]></category>
		<category><![CDATA[حقيقة الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خیال اول]]></category>
		<category><![CDATA[درة البيضاء]]></category>
		<category><![CDATA[دو مراتب غیب]]></category>
		<category><![CDATA[رابطہ بین الظهور والبطون]]></category>
		<category><![CDATA[رفیع الدرجات]]></category>
		<category><![CDATA[روح اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[روح القدس]]></category>
		<category><![CDATA[روح محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[ظل اول]]></category>
		<category><![CDATA[عرش مجید]]></category>
		<category><![CDATA[عقل اول]]></category>
		<category><![CDATA[فلک ولایت مطلقه]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت اولیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[قلم اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الصفات]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الكنوز]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لوح قضا]]></category>
		<category><![CDATA[مبدأ اول]]></category>
		<category><![CDATA[محبت حقیقیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه جامعه]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جامع المراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ولایت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[مشاہدہ ذات مع التعین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام اجمالی]]></category>
		<category><![CDATA[مقام جمع]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء اول]]></category>
		<category><![CDATA[موجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[نداء اول]]></category>
		<category><![CDATA[نشان اول]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[وجود مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت قابلیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7736</guid>

					<description><![CDATA[وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ) وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے) مرتبہ ثانیہ تنزل اول اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</h1>
<p>وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے)</p>
<h2>مرتبہ ثانیہ تنزل اول</h2>
<p>اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :</p>
<p>میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ اول یعنی احدیت مراد ہے) تھا یعنی ذات کے غلبہ میں تمام صفات مخفی تھیں) پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق پیدا کی ہے(‌كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًّا فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ)</p>
<p>حقیقت کا یہی ظہور ہے جو مجالی (جلوہ گاہیں مجلاء کی جمع مراد کائنات ، عوالم اور اشیاء)یعنی تعینات میں پایا جاتا ہے اور عارفوں (صوفیائے کرام کی اصطلاح میں عارف اس شخص کو کہتے ہیں جو صفات باری تعالیٰ کو بطریق حال ومکا شفہ پہچانتا ہو ، نہ کہ بطریق علم مجرد)کے مشاہدے میں آتا ہے۔ تعینات و تجلیات میں اس کا مشاہدہ دو طرح سے ہوتا ہے ۔</p>
<p>(1) یہ کہ ذات جب اسماء یا ارواح میں نزول کرتی ہے تو عارف اولا اس کا مشاہدہ کرتا ہے اور ثانیاً متعینات میں اس کے ظہور کی کیفیت کا ، اور تعینات کے ساتھ اس کے تقید کا، خواہ یہ اسمی تعینات ہوں یا غیر اسمی تعینات مشہود ہوں ، یہ مشاہدہ اکمل الکاملین کا ہے ۔ یہ مشاہدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>ما رأيت شي الا ور أَيْتُ اللهَ قَبْلَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس سے پہلے حق کا ادراک ضرور کیا ہے ۔</p>
<p>(2)دوسرا مشاہدہ تعین اور تجلی کے درمیان ذات مطلقہ کا مشاہدہ ہے ، خواہ یہ مشاہدہ ذات مع التعین ہو یا بعد مشاہدہ تعین ۔ یہ مشاہدہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے :</p>
<p>مار أيْتَ شَيْئًا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ مَعَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس کے ساتھ حق کا ادراک ضرور کیا ہے</p>
<p>الغرض اس حقیقت کے تعینات بے حد و بے شمار ہیں لیکن ان کے کلیات چھ ہیں۔ دو مراتب غیب ہیں ، کیونکہ ان میں ذات اور غیر ذات سے ہر چیز غائب ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں حق پر کسی چیز کو ظہور حاصل نہیں۔ مرتبہ اول میں غیب سے تعین اول ہے اور مرتبہ  ثانی میں غیب سے تعین ثانی( تعین اول (وحدت) اور تعین ثانی (واحدیت ) یہ دونوں مراتب غیب ہیں کیونکہ ان میں کوئی شے موجود فی الخارج نہیں، ان کا ظہور صرف علمی ہے نہ کہ عینی) ۔</p>
<p>باقی تین مراتب کونی (مراتب کونی سے مراد مرتبہ ارواح ، مرتبہ امثال اور مرتبہ اجسام ہیں۔)ہیں اور چھٹا مرتبہ جامع المراتب &#8220;(مرتبۂ جامع المراتب سے مراد تعین سادس یعنی انسان ہے ۔ مراتب وجود یا تنزلات ستہ کاعلم اجمالی۔) ہے</p>
<p>تعین اول یعنی حقیقت کا پہلا ظہور یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے وجود کو پایا اور&#8221; انا &#8221;  فرمایا،</p>
<p>اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی صفات اور تمام موجودات کو بعض کو بعض سے امتیاز کے بغیر اجمالی طور پر جان لینا ہے۔ یہ مرتبہ وحدت ہے</p>
<p>اور ساری کائینات بالاجمال علم میں آئی ۔ یوں عوالم بالاجمال حقیقت سے الگ نہیں۔ وہ ذات عالم کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالم ذات سے الگ نہیں ہے وہ ذات  بالا جمال اسماء و صفات سے متصف ہے۔ اس طرح &#8221; سمیع &#8221; قدیر &#8221;  سے الگ نہیں یعنی کوئی اسم بھی دوسرے اسم سے علیحدہ نہیں ہے۔ یہ مرتبہ قابل محض ہے۔ یہاں کثرت ظاہر نہیں ؟ خواہ حقیقی ہو یا اعتباری  سارے عوالم اس مرتبہ میں نابود ہیں جب ذات نے اپنے وجود کو پایا اور &#8221; انا &#8221;  فرمایا تو چار چیزیں پائی گئیں</p>
<p>(1) &#8211; ذات وجود یعنی خود کو انا » فرماکر جانا۔ یہ ذات ہی وجود ہے ۔</p>
<p>(2)صفت علم یہ جاننا صفت ہے ۔</p>
<p>(3)- اسم نور جو خود پہ ظاہر ہوا تو جانا ، پس یہ ظہور نور ہے ۔ بعض حضرات نے انیت(وہ وجود جس کی طرف لفظ انا میںاشارہ کیا جاتا ہے ) ہی کو نور کہا ہے ۔</p>
<p>(4)- فعل شہود یعنی خود کو دیکھا تو جانا ، لہذا یہ دیکھنا شہود ہے</p>
<p>تعین اول کو وحدت حقیقی (وہ وحدت جس میں کسی وجہ سے کثرت نہ ہو اور جو تجزی کو قبول نہ کرے اور نہ اس کے مقابل اس کی کوئی ضد ہو۔ تجزی و تغیر، ضدیت و اثنینیت اورتشبیہ کو وہ قبول نہیں کرتی)</p>
<p>مرتبه الجمع والوجود،( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جمع باعتبار جانب ظہور ، وحدت سے عبارت ہے اور اس مرتبہ کا باطن ہے۔ اور اس مرتبہ میں ذات من حیث الاسماء والصفات پائی جاتی ہے یعنی اس مرتبہ تنزل میں ذات نے اسماء و صفات کی یافت کی ہے اور یہاں اطلاق اسماء و صفات کا ذات پر صادق آیا ہے)</p>
<p>مرتبه جامعه( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات وصفات اور ظهور و بطون دونوں شامل ہیں اور یہ مرتبہ دونوں کا جامع ہے۔)</p>
<p>احدیت جامعہ، احدیت جمع، ( اعتبار ذات من حیث ھی بلا اعتبار اسقاط صفات و اثبات صفات بھی اس مرتبہ میں ہے ۔ نیز صفات کا اعتبار اجمالی بھی اس میں مندرج ہے اور اسی وجہ سے اس کو احدیت جامعہ بھی کہتے ہیں۔ )</p>
<p>مقام جمع ( وحدت ہی ذات و صفات اور بطون و ظہور کو اپنے اندر جمع کرتی ہے اور خلط ملط نہیں ہونے دیتی ۔)</p>
<p>حقيقة الحقائق ( ذات حق تعالی ہر شے کی حقیقت ہے ۔ ہر شے کا وجو د اعتباری ہے  وہ اپنا وجود حق تعالیٰ سے پائے ہوئے ہے ۔  اس مرتبہ میں اس کا تعین اول ہے اس لیئے اس کو حقیقۃ الحقائق کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ صور علمیہ اور اعیان ثابتہ کو حقائق الممکنات کہتے ہیں۔ چونکہ مرتبہ وحدت ، حقائق الممکنات کا مرتبہ اجمال ہے اس لیئے یہ مرتبہ حقیقۃ الحقائق ہوا۔)،</p>
<p>برزخ البرازخ، برزخ کبری (  یہ حق تعالی اور جملہ برازخ کے درمیان برزخ حائل ہے ۔)</p>
<p>حقیقت محمدیہ، وجہ وجوہ کائنات اور رونق بزم کائنات ہے  مزید دیکھیں <a href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81/">حقیقت محمدیہ</a></p>
<p>عقل اول ( یہ علم الہی کی شکل کا وجود میں محل ہے ۔ یہ علم الہی کا نور ہے جو تنزلات میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ اول ما خلق الله العقل سے اسی جانب اشارہ ہے ۔)</p>
<p>قلم اعلی (عقل اول اور قلم اعلی ، در حقیقت ایک ہی نور کے دو نام ہیں۔ جب اس نور کی نسبت عبد کی جانب کی جاتی ہے تو اس کو عقل اول کہتے ہیں اور جب اس نور کی نسبت حق تعالی کی جانب کی جاتی ہے تو اُس کو &#8221; قلم اعلیٰ &#8221; کہتے ہیں۔ پھر عقل اول سے جو در اصل نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ازل میں جبرئیل علیہ السلام پیدا کیے گئے اور ان کا نام روح الامین رکھا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی روح ہیں جن کو اللہ تعالی کے علم کا خزانہ بطور امانت سپرد کیا گیا ہے۔ اس نور کی اضافت جب انسان کامل کی جانب ہوتی ہے تو وہ روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب سے ملقب ہوتا ہے۔ قلم اعلی عقل اول اور روح محمدی (روح اعظم )کی تعبیر جوہر فرد کی جاتی ہے ۔ مظاہر خلقیہ میں ممیز ہونے کے طور پر جو ابتدائی تعینات حق ہیں، انھیں قلم اعلیٰ کہا جاتا ہے ۔)</p>
<p>روح اعظم (  روح اعظم یا روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اول ما خلق الله روحی بھی ارشاد فرمایا ہے  )</p>
<p>اور تجلی اول کہتے ہیں۔( لغت میں تجلی کے معنی ظاہر کرنے اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال الہی کا کسی پرپھینکا جانا تجلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ ذات مطلق کا ظہور لباس تعین ہی میں ممکن ہے ، اسی لیئے صوفیہ کرام کی اصطلاح میں لباس تعین کو تجلی کہتے ہیں۔ ہر وہ شان اور کیفیت و حالت جس میں حق تعالی کا اس کی کسی صفت یا اس کے کسی فعل کا اظہار ہو تجلی ہے ۔<br />
اس مرتبہ وحدت کو تجلی اول اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مرتبہ خفاء الخفاءیا مرتبہ لاتعین سے اس کا ظہور ہوا ہے۔ نیز اس کو تجلی اول کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تجلیات کا آغاز اس مرتبہ وحدت سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے مرتبہ احدیت ہے ، جس میں تجلی نہیں پائی جاتی کیونکہ تجلی کے لیے ایک متجلی اور ایک متجلی لہ کا ہونا ضروری ہے اور احدیت میں اثنینیت نہیں ، اس لیئے اس میں تجلی بھی ممتنع ہے ۔ احدیت میں نہ ناظر ہے نہ منظور تو تجلی کیسی ؟)<br />
یہ وحدت قابلیات ذات کی ہے (یہ مرتبہ اصل جمیع قابلیات کا ایک حالہ اجمالیہ بسیطیہ ہے۔ اس کا ظہور سب سے پہلے ہوا ہے۔ یہ جمیع قابلیات کا ہیولی اور مبدا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو قابلیت اولی بھی کہتے ہیں۔)اس مرتبہ میں ناسوت(عالم بشریت ، عالم اجسام ، اس کو مُلک، عالم شہادت اور عالم محسوسات بھی کہتے ہیں ۔) ملکوت(یعنی وہ عالم جو ملائکہ وارواح سے مختص ہے) سے(جومرتبہ ارواح ہے )جدا نہیں اورملکوت جبروت(یعنی مرتبه صفات مرتبه وحدت ، حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے (جو مرتبہ صفات ہے )ممتاز نہیں اور جبروت، لاہوت ( یعنی مرتبہ ذات ، گنج مخفی، هویت مطلقه )سے (یعنی الوہیت سے جومرتبہ ذات ہے) ممتاز نہیں ہے(  ناسوت، ملکوت ، جبروت اور لاہوت یہ چار عوالم سمجھے جاتے ہیں در حقیقت لاہوت عالم نہیں بلکہ مرتبہ ہے کیونکہ عالم کا لفظ لاہوت پر صادق نہیں آتا ۔ لفظ عالم علامت سے مشتق ہے ۔ لغوی اعتبار سے عالم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی دوسری شے پہچانی جاسکے ۔ اصطلاح صوفیہ میں ماسوی اللہ کو عالم کہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی کو باعتبار اسماء وصفات پہچانا جاتا ہے ۔ عالم کا ہر جزء خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو عوام کی نگاہ میں خواہ کتنا ہی حقیر اور بے قدر کیوں نہ ہو ، حق تعالٰی کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ضرور ہے ۔ اس لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ناسوت ، ملکوت اور جبروت ہی عوالم ہیں ۔   مراد یہاں ان سے علی الترتیب مرتبه اجسام، مرتبه ارواح، مرتبه صفات اور مرتبہ ذات ہے ۔ یہ عوالم اس مرتبہ وحدت میں ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہیں کیونکہ مرتبہ وحدت اجمالی ہے جیسے گٹھلی میں برگ وبار اور شاخ و شجر ممتاز نہیں یا ہیضہ میں بال و پر اور رنگ و آواز ممتاز نہیں ، اسی طرح مرتبہ وحدت میں ذات وصفات اور اسماء و افعال موجود ہونے کے باوجود ممتاز نہیں ، کیونکہ امتیاز ، تفصیل کا متقاضی ہوتا ہے اور تفصیل کی اس مرتبہ میں گنجائش نہیں)</p>
<h2>اس وحدت کے دو اولین اعتبارات ہیں</h2>
<p>(1) سقوط اعتبارات یعنی ذات سے بالکلیہ تمام اعتبارات ساقط اور معدوم ہوں ، یہ احدیت ہے یعنی تمام اعتبارات کے سقوط  وعدم کے ساتھ ذات کا ایک ہونا۔ اسی لحاظ سے ذات کو احد کہا گیا ہے یعنی ایک ایسی ذات جس سے تمام اعتبارات دور کر دیئے گئے ہوں، اسی لیے ذات کا بطون ، اس کا اطلاق اور اس کی ازلیت اسی اعتبار سے متعلق ہے۔</p>
<p>(2)- ثبوت اعتبارات یعنی اس ذات میں بے حد و بے شمار اعتبارات مندرج ہوں ، یہ واحدیت ہے یعنی جملہ اعتبارات کے ساتھ ذات کا ایک ہونا، تمام اعتبارات وصفات کے ساتھ ذات کا ایک ہی نام ہو یعنی ایک ایسی ذات جو اعتبارات کے ساتھ ہے، پس واحد ثبوتی نام ہے،  سلبی نہیں ذات کا ظہور ، ذات کا وجود (یافت) ذات کی پیشگی ابدیت اسی اعتبار سے متعلق ہے ۔</p>
<p>(یہ وحدت جوانائے مطلق اور قابلیت محض کا مرتبہ ہے۔ اس کی دو جہتیں بن جائیں گی۔ پہلی جہت یہ ہے کہ اعتبارات اس سے ساقط ہوں، اس ذات سے متعلق کوئی اعتبار قائم نہ ہو۔ یہ نری ذات کی یکتائی ہے ، اس لیئے اس کو احدیت کہیں گے ۔ اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ مرتبہ احدیت میں ذات بلا اعتبار ہوتی ہے ، ہر اعتبار یہاں ساقط ہوتا ہے ، اسی لیے ذات کو اس مرتبہ میں احد کہتے ہیں واحد نہیں، کیونکہ احد سلبی نام ہے اور واحد ثبوتی اور اسی لیے احد ہی کو صمد کہا گیا ۔ صمد کہتے ہیں ٹھوس چٹان کو جس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکے ، نہ اس سے کوئی چیز خارج ہو سکے ۔ یہاں اسماء وصفات اور افعال کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا،یہ  احدیت ہے ۔ ذات بحت کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ۔ بطون، اطلاق اور ازلیت ، وحدت کی اسی جہت (احدیت) سے متعلق ہے۔ &#8211;</p>
<p>دوسری جہت یہ ہے کہ بے حد و بے شمار اعتبارات اس وحدت سے متعلق قائم ہوں، بلکہ اس میں مندرج ہوں ۔ یہ ذات کی یکتائی جملہ اعتبارات کے ساتھ ہے، اس لیے اب اس کو واحدیت کہیں گے۔ اس مرتبہ میں ذات ، نری نہیں رہتی بلکہ بے شمار اعتبارات بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال بھی اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں ذات کو واحد کہتے ہیں احد نہیں، کیونکہ واحد ثبوتی نام ہے جب کہ احد سلبی &#8211; اسماء و صفات اور افعال کا اعتبار اسی مرتبہ میں ہوگا جو واحدیت ہے ۔ ذات کے ساتھ یہاں ہزاروں اعتبارات بھی ہیں ، ظہور ، وجود (یافت) اور ابدیت، وحدت کی اسی جہت (واحدیت) سے متعلق ہے۔ )</p>
<p>ان دونوں اعتبارات( جہت سقوط اعتبارات اور جہت ثبوت اعتبارات ۔) یا دیگر اعتبارات( اسماء وصفات اور افعال ہیں، صوفیہ کرام ان کے لیے بھی اعتبارات کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں) میں کوئی غیریت یا تفریق (حقیقی) نہیں۔ کثرت مغایرت احکام کی وجہ سے ہے اور وحدت میں کثرت بالفعل نہیں( کثرت یہاں بالقوہ ہوتی ہے کیونکہ وحدت ذات حق کا ایک ایسا مرتبہ ہے جس میں قایلیت کثرت ہے، بالقوہ نہ کہ بالفعل، ان قابلیات کثرت کو شئون ذاتیہ اور حروف عالیہ کہتے ہیں جو غیب الغیوب میں مخفی ہیں جس طرح شجر تخم میں طاؤوس بیضہ میں اور آگ سنگ چقماق میں۔) لہذا وحدت اس ذات کی یکتائی ہے جس نے خود کو بغیر سقوط اعتبارات اور بغیر ثبوت اعتبارات کے جانا ۔ مرتبہ ذات میں فرق نہ ثبوت اعتبارات کا ہے اور نہ سقوط اعتبارات کا( سقوط اعتبارات اور ثبوت اعتبارات کے بغیر ذات کی یکتائی کا نام ہے ۔ یہ سقوط وثبوت اعتبارات کے بغیر انائے مطلق ہے ۔)</p>
<p>پس یہ ذات کا ظہور اول ہے(اسی بنا پر اسے تجلی اول کہتے ہیں) ، احدیت اور واحدیت دونوں اس کی نسبتیں ہیں۔ اگر وحدت نہ ہوتی تو یہ نسبتیں بھی نہ ہوتیں ، جیسے عشق کی دو نسبتیں ہیں ، عاشق اور معشوق یہ دونوں عشق کے بغیر معدوم ہیں ۔ اسی طرح احدیت ، وحدت کے اوپر اور واحدیت ، وحدت کے نیچے ہے اور وحدت برزخ ہے یعنی ان دونوں کے درمیان ہے ۔ اس وحدت کو تجلی اول ، تنزل اول(ذات کا پہلا نزول اسی مرتبہ میں ہوا)، حقیقة الحقائق، برزخ کبری ، اصل البرازخ ، او ادنی (اوادنی : وحدت کا یہ نام قاب قوسین او ادنی سے ماخوذ ہے ۔ قاب قوسین صوفیہ کرام کے نزدیک وہ مقام اتصال ہے جہاں سے احدیت اور واحدیت کی قوسین میں امتیازپیدا ہو جاتا ہے۔ فنافی اللہ سے قبل یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج و شہود اور وجدان کی انتہا ہے ۔ تمیز کے دور ہوتے ہی قوسین بواسطہ سطوت تجلی ذات متحد ہو گئیں اور فنافی اللہ حاصل ہوگئی جس کی جانب او ادنی سے اشارہ ہے ۔)اور الف کہتے ہیں</p>
<p>(الف : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ الف نام ہے خط کا جو نقطہ سے بنتا ہے اور پھر خط ہی سے سارے حروف بنتے ہیں ، جیسا کہ مولانا عبد الرحمن جامی نے فرمایا :</p>
<p style="text-align: center;">یک نقطه الف گشت والف گشت حروف</p>
<p style="text-align: center;">در حرف الف بنامے موصوف</p>
<p style="text-align: center;">چون حرف مرکب شده آمد به سخن</p>
<p style="text-align: center;">ظرفیست سخن نقطه در وچوں مظروف</p>
<p> اک نقطہ الف ہو گیا اور الف سے حروف بن گئے پھر الف ہر حرف میں ایک نام سے موسوم ہو گیا۔ پھر جب حروف مرکب ہوئے تو سخن ہو گیا اور اب سخن ظرف ہے اور نقطه مانند مظروف)</p>
<p>چونکہ احدیت کو نقطہ کہا جاتا ہے ، اس لیے وحدت کو الف کہتے ہیں۔ )</p>
<p>اس مرتبہ ثانیہ یعنی وحدت کے اور بھی نام ہیں</p>
<p>قابلیت اولی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ تمام قابلیات کی اصل ہے ۔</p>
<p>مرتبہ ولایت مطلقہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پر ولایت مطلقہ کا دارو مدار ہے۔ اور ولایت کا کوئی مرتبہ ، ولایت مطلقہ سے بلند تر نہیں ۔ ولایت مطلقہ کہتے ہیں ولایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ ہی کی اتباع کامل کی وجہ سے ولایت خاتم الاولیاء کو بھی اس سے موسوم کیا جاتا ہے ۔</p>
<p>حجاب عظمت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سوائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی یہاں تک نہ پہنچ سکا</p>
<p>محبت حقیقیہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مقام حب حقیقی و حب ذاتی ہے بفحوائے كنت كنزاً مخفيا فاحببت ان اعرف یہاں حب ذاتی اور توجہ بخلق کا ظہور ہوا۔</p>
<p>وجود مطلق : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ میں دیگر مراتب کے بخلاف ذات کا شعور اور اس کی یافت بہ اعتبارات ، مطلق و مجمل ہے اور ایک مرتبہ نے اس سے تقید پایا ہے۔</p>
<p>تعیین اول : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات کے لیئے اسماء وصفات کا اولا تقرر ہوا ہے ۔</p>
<p>رفیع الدرجات: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وحدت ہی کے درجات کی تفصیل واحدیت میں ہوتی ہے، رفیع الدرجات ذو العرش سے اس طرف اشارہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح اس مرتبہ کو کنز الكنوز ، کنز الصفات، احدیت الجمع،مقام اجمالی ، ام الکتاب، روح القدس، لوح قضا ، عرش مجید، درة البيضاء ، بشرط شے بالقوه ، بشرط کثرت بالقوه ، نفس رحمانی ، وحدت الحقیقۃ،حقیقت انسانی ، حب ذاتی ، رابطہ بین الظهور والبطون ،فلک ولایت مطلقه ،علم مطلق، ظل اول ، وجود اول ،موجود اول ، مبدأ اول ، نشان اول،منشاء اول ، جوہراول ، نداء اول ، خیال اول بھی کہتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحی اسماء سے ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے کہ یہ ذات کا پہلا مرتبہ نزول ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/" data-a2a-title="وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
