<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عقل اول &#8211; ابوالسرمد</title>
	<atom:link href="https://abualsarmad.com/tag/%D8%B9%D9%82%D9%84-%D8%A7%D9%88%D9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<description>طلب کرنے والوں کے لئے علم</description>
	<lastBuildDate>Mon, 25 Mar 2024 06:07:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.9</generator>

<image>
	<url>https://abualsarmad.com/wp-content/uploads/2021/08/cropped-Asset-04-32x32.png</url>
	<title>عقل اول &#8211; ابوالسرمد</title>
	<link>https://abualsarmad.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>عالم ارواح ( تنزلات ستہ کا مرتبہ رابعہ)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ad-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%a8%d8%b9%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ad-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%a8%d8%b9%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 16 Nov 2023 16:18:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[اہل ملکوت اسفل]]></category>
		<category><![CDATA[اہل ملکوت اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[حُجّاب الوہیت]]></category>
		<category><![CDATA[روح انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[روح حیوانی]]></category>
		<category><![CDATA[روحانیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عالم افعالی]]></category>
		<category><![CDATA[عالم انوار]]></category>
		<category><![CDATA[عالم بے رنگ]]></category>
		<category><![CDATA[عالم ربانی]]></category>
		<category><![CDATA[عالم علوی]]></category>
		<category><![CDATA[عالم غیب]]></category>
		<category><![CDATA[عالم غیر محسوس]]></category>
		<category><![CDATA[عالم غیرمرئی]]></category>
		<category><![CDATA[عالم لطیف]]></category>
		<category><![CDATA[عالم مجردات]]></category>
		<category><![CDATA[عالم مفارق]]></category>
		<category><![CDATA[عالم ملکوت]]></category>
		<category><![CDATA[عام امر]]></category>
		<category><![CDATA[عقل اول]]></category>
		<category><![CDATA[عقل کل]]></category>
		<category><![CDATA[قلم اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[کروبیاں]]></category>
		<category><![CDATA[لوح محفوظ]]></category>
		<category><![CDATA[ملائکہ طبعیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ملائکہ عالیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ملائکہ مہیمین]]></category>
		<category><![CDATA[ملااعلی]]></category>
		<category><![CDATA[ملک البرق]]></category>
		<category><![CDATA[ملک الجبال]]></category>
		<category><![CDATA[ملک الرعد]]></category>
		<category><![CDATA[ملک الریح]]></category>
		<category><![CDATA[ملک السحاب]]></category>
		<category><![CDATA[نفس کل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=8064</guid>

					<description><![CDATA[عالم ارواح ( تنزلات ستہ کا مرتبہ رابعہ) تنزل ثالث یہ مرتبہ چہارم اور تعین سوم ہے۔ اس مرتبہ کو عالم ارواح یا جبروت کہتے ہیں اور یہ فَأَرَدْتُ ( پس میں نے چاہا) کا مقام ہے۔ روح قدسی جو <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ad-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%a8%d8%b9%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>عالم ارواح ( تنزلات ستہ کا مرتبہ رابعہ)</h1>
<h2>تنزل ثالث</h2>
<p>یہ مرتبہ چہارم اور تعین سوم ہے۔ اس مرتبہ کو عالم ارواح یا جبروت کہتے ہیں اور یہ فَأَرَدْتُ ( پس میں نے چاہا) کا مقام ہے۔ روح قدسی جو غیر مخلوق نورالہی ، نور محمدی ہے، اس غیر مخلوق روح قدسی کو جبروتی لباس پہنا کر روح سلطانی کے پردے کی صورت میں عالم جبروت میں اتارا گیا اور روح سلطانی نے روح قدسی کو خود میں چھپا لیا جیسے درخت تخلیق بھی بیج سے ہوتا ہے اور پیج کو اپنے اندر چھپائے بھی رکھتا ہے۔ روح سلطانی روح قدسی کا پہلا لباس ہے۔</p>
<p>اسی مقام پر فرشتوں کی تخلیق بھی ہوئی ۔ عالم جبروت میں انسان کی روح کی تمام صفات، احوال اور افعال وہی ہیں جو فرشتوں کے ہیں اور اسکی نورانیت بھی ویسی ہے۔ عالم ارواح الوہیت کی تفصیل ہے اور اس کے اسماء و صفات کا مرتبہ ہے ۔</p>
<p>جبروت عربی میں جوڑنے اور ملانے کو بھی کہتے ہیں۔ یہ مرتبہ مراتب الہیہ، مراتب حقی یا حقائق الہیہ (احدیت، وحدت، واحدیت ) اور مراتب کونیہ یا مراتب خلقی ( جبروت ملکوت اور ناسوت ) کے درمیان بمنزلہ پل ، سیڑھی اور واسطے کے ہے یعنی عالم امر کو عالم خلق سے جوڑتا ہے اس لیے اس کو جبروت کہتے ہیں۔ یہی مقام جبرائیل علیہ السلام  کاہے جو اللہ تعالیٰ اور انبیا کے درمیان وسیلہ رہے ہیں اور عبد و معبود اور خالق مخلوق کے درمیان تعلق جوڑنے پر معمور ہیں ۔ یہ مقام عالم غیب اور عالم کثیف کے درمیان گویا ایک برزخ ( پردہ ) اور سیڑھی ہے۔</p>
<p><span style="color: #993366;">(ارواح یہ وجود کا چوتھا مرتبہ اور تیسرا تنزل ہے ۔ پہلے تین  مراتب  مراتب الہیہ تھےوہ مراتب جو امر کن سے پہلے کے مراتب تھے۔ یہ مراتب علمی اور داخلی تھے ۔ ان میں کوئی شے بھی موجود فی الخارج نہیں۔ مرتبہ احدیث میں اسماء وصفات کی تفصیل تھی ، جہاں اعیان ثابتہ بھی علمی اور ان کے اقتضاءات بھی علمی ۔ ان میں کوئی شے بھی موجود فی الخارج نہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ موزوں ہو گا کہ کوئی شے ہی نہیں ۔ اشیاء کا وجود صرف مراتب کونیہ میں ہے۔)</span></p>
<p>تیسرا تنزل یعنی تیسرا تعین مظہر ارواح کا ہے ۔ ارواح ، اجسام کے مادے ہیں اورعوارض سے پاک، اورالوان و اشکال نہیں رکھتے۔( <span style="color: #993366;">عالم ارواح ، شکل ، وزن اور زمان و مکان سے پاک ہے۔ ارواح کا پیدا ہونا اور کمال کو پہنچتا تدریجا نہیں بلکہ دفعہ امرکن سے ہوتا ہے۔ وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةُ كَلَمَ بِالْبَصَرِ اور ہمارا حکم بس ایسا یک بیک ہے جیسے آنکھ کا جھپکا</span>) ان کے عالم کو عالم افعالی عالم انوار، عالم مجردات، عالم مفارق ، عالم ملکوت ( <span style="color: #993366;">اس وجہ سے کہتے ہیں کہ ملائکہ کی تخلیق اسی عالم میں ہوئی ہے ۔ صوفیہ کرام &#8221; جب مُلک&#8221; اور &#8220;ملکوت &#8221; کے الفاظ استعمال کرتے ہیں توملک سے ان کی مراد عالم شہادت اور ملکوت سے عالم ارواح ہوتی ہے</span> ۔)،عالم علوی ، عالم غیب، عالم امر(<span style="color: #993366;">عالم امر : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ عالم بلامدت و مادہ ، حق تعالیٰ کے امر کن سے وجود میں آیا ہے ۔</span>)،عالم غیرمرئی(<span style="color: #993366;">یہ عالم چشم سر سے دکھائی نہیں دیتا</span>) ہے عالم غیر محسوس(<span style="color: #993366;">حواس خمسہ ظاہری کی گرفت میں نہیں آتا</span>)، عالم ربانی ، عالم لطیف ، عالم بے رنگ ، کہتے ہیں ۔</p>
<p><span style="color: #993366;">(عالم کہتے ہیں ماسوی اللہ کو ، اس لیے مراتب الہیہ کے بعد وجود کے جتنے بھی مراتب ہیں، ان کو عالم کہا جاتا ہے، چنانچہ عالم ارواح ، عالم امثال ، عالم اجسام اور عالم صغیر (انسان) تو کہتے ہیں لیکن عالم احدیت ، عالم وحدت اور عالم واحدیت کہنا غلط ہے ۔ یہ مراتب الہیہ ہیں ، ان کے ساتھ عالم کا لفظ قطعا استعمال نہیں ہو گا۔)</span></p>
<h2>اس عالم میں ملائکہ دو قسم کے ہیں</h2>
<p>1: ایک قسم تو ان فرشتوں کی ہے جو عالم اجسام سے تدبیر و تصرف کا تعلق نہیں رکھتےان کو کروبیاں<span style="color: #993366;">(فرشتوں کی بنیادی تقسیم)</span> کہتے ہیں ۔</p>
<p>2۔ دوسری قسم ان فرشتوں کی ہے جو عالم اجسام سے تدبیر و تصرف کا تعلق رکھتے ہیں، ان کو روحانیاں<span style="color: #993366;">(فرشتوں کی بنیادی تقسیم)</span> کہتے ہیں</p>
<h2>کروبیوں کی پھر دو قسمیں ہیں :</h2>
<p>1۔ ایک قسم تو وہ ہے جو اپنی اور عالم کی خبر نہیں رکھتے اور جب سے پیدا ہوئے ہیں ، اللہ تعالی کے جلال و جمال میں گم ہیں ان کو ملائکہ مہیمین(<span style="color: #993366;"> یہ فرشتوں کی ایک خاص نوع ہے ، جنہیں نہ اپنی خبر ہے نہ غیر کی۔ یہ جب سے پیدا ہوتے ہیں ، اس وقت سے جلال و جمال الہی کے مشاہدے میں مستغرق ہیں۔ گویا ملائکہ میں یہ طبقہ مجاذیب ہے </span>۔) کہتے ہیں اور شریعت میں ملااعلی اور ملائکہ عالیہ &#8221; کہا جاتا ہے ۔ اولا عماء (<span style="color: #993366;">مراد لا مکان جب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : این کان ربنا ؟ کہ حضور ! ہمارا رب کہاں تھا تو آپ نے فرمایا : فی عماء یعنی عماء میں تھا۔  مکانیت ذات حق سے وابستہ نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے تقید لازم آتا ہے۔ لہذا عما  آپؐ نے لامکان ہی کو فرمایا یعنی وہ قبل تخلیق خلق بھی مکان سے منزہ تھا جیسا کہ اب منزہ ہے ۔ الآن کما کان</span> ۔)میں اللہ تعالٰی نے ملائکہ مہیمیین کو پیدا فرمایا ۔ ان کے بعد اسی صفت پر ایک اور فرشتے کو پیدا کر کے اس کو ابد الآباد تک کی تمام چیزوں کا علم عطاکیا، اس فرشتے کا نام عقل کل(<span style="color: #993366;">روح اعظم کو باعتبار عالم ، فاعل اور موثر ہونے کے عقل کل کہتے ہیں۔ یہ ایک مدرکہ نوریہ ہے جس سے ان علوم کی صورتیں ظاہر ہوتی ہیں، جو عقل اول میں ہیں</span> ۔) ہے عقل اول اور قلم اعلیٰ ہے(<span style="color: #993366;">عقل اول ، علم الہی کی شکل کا وجود میں محل ہے۔ علم الہی کا نور جو تنزلات تعینہ خلقیہ میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ علم الہی قلم اعلی کے ذریعہ سے لوح محفوظ کی طرف نازل ہوا۔ یہ لوح اس کے تعین نتزل کا محل ہے ۔ علم الہی ام الکتاب ، ہے اور عقل اول امام مبین ۔ عقل اول میں وہ اسرار الہیہ ہیں جو لوح محفوظ میں نہیں سما سکے اور علم الہی میں وہ سب کچھ ہے جس کا محل عقل اول نہیں بن سکتی ۔عقل اول اور قلم اعلیٰ در حقیقت ایک ہی نور کے دو نام ہیں ۔ اس نور کی نسبت عبد کی طرف کی جاتی ہے تو اسے عقل اول کہتے ہیں اور جب اس کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب کی جاتی ہے تو اسے قلم اعلیٰ کہتے ہیں ۔ پھر عقل اول سے جو در حقیقت نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ازل میں جبرئیل علیہ السلام پیدا کیے گئے اور ان کا نام روح الامین رکھا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی روح ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کے علم کا خزانہ بطور امانت سپرد کیا گیا ہے۔ اسی وجہ حضرت جبرئیل علیہ سلام مرکز علم قرار پائے ۔ اس نور کو جب انسان کامل کی طرف نسبت دی جائے تو وہ روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ملقب ہوتا ہے ۔ عقل اول ، قلم اعلی اور روح محمدی ان تینوں کی تعبیر جوہر فرد سے کی جاتی ہے ۔</span>)۔ پھر اس کے نیچے ایک اور فرشتے کو پیدا فرمایا تاکہ قلم اعلیٰ اس کو سارا علم تفصیلی پہنچا دے ، اس کو نفس کل اور لوح محفوظ (<span style="color: #993366;">نفس کل اور لوح محفوظ روح اعظم کو بہ اعتبار معلوم یا منفعل یا متاثر ہونے کے نفس کل اور لوح محفوظ کہتے ہیں۔ نفس عالم بھی اسی کا نام ہے ۔</span>)&#8221; کہتے ہیں۔ اس میں جو کچھ ہے وہ غیر مبدل ہے۔ اور دیگر فرشتے بھی ہیں۔ جن کو کائنات کا تھوڑا بہت علم عطا کیا گیا ہے ۔ یہ فرشتے بھی اقلام “ ہیں جو اپنے اوپر والے فرشتوں سے علم حاصل کر کے نیچے والے فرشتوں کو بہم پہنچاتے ہیں۔ ان نیچے والے فرشتوں کو الواح (<span style="color: #993366;">تقدیر الہی میں جو کچھ مقدر ہو چکا ہے ، اس کے نوشته ازلی کو &#8221; لوح کہتے ہیں۔ اسی کو کتاب مبین بھی کہتے ہیں۔ بعض صوفیہ کے نزدیک یہ الواح چار ہیں ۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">1 لوح قضا: اس میں ہر قسم کے محوواثبات ازلا درج ہیں ۔ یہ لوح عقل اول ہے</span></p>
<p><span style="color: #993366;">2لوح قدر : لوح نفس ناطقہ کلیہ جس میں لوح اول کا اجمال تفصیل میں آیا اور مقدرات کو اسباب سے متعلق کر دیا گیا ۔ اسی کولوح محفوظ بھی کہتے ہیں۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">3لوح نفس جزیہ سماویہ : اس میں وہ سب کچھ ہے جو اس عالم میں ہے یہ بشکل ہیئت و مقدار خود منقش ہے ۔ ان نقوش کو اسمائے دنیا بھی کہتے ہیں </span></p>
<p><span style="color: #993366;">4 لوح ہیولی : اس میں وہ تمام صورتیں ، کیفیات اور واردات شامل ہیں جو عالم شہادت میں پائی جاتی ہیں۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">لوح اول یعنی لوح قضا ، روح کے مشابہ ہے ۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">لوح ثانی یعنی لوح قدر ، قلب کے مشابہ ہے ۔</span></p>
<p><span style="color: #993366;">لوح ثالث یعنی لوح جزئیہ سماویہ ، خیال کی مشابہ ہے ۔</span>)۔ کہا جاتا ہے ۔ یہ الواح محو و اثبات کے محل ہیں ان الواح پر وہ اقلام ہر وقت لکھتے رہتے ہیں۔ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم نے معراج میں جو آواز سماعت فرمائی تھی۔ وہ ان ہی اقلام کی تھی۔ قلم اعلی لکھ کر فارغ ہو چکا۔</p>
<p>2۔ دوسرے وہ فرشتے ہیں جو برائے فیض ربوبیت ہیں ، ان کو حُجّاب الوہیت&#8221; کہتے ہیں ۔ عما میں سب فرشتے صف بہ صف کھڑے ہیں اور اپنی اپنی خدمتوں پر مامور ہیں۔ اپنے مقام سے سرمو تجاوز نہیں کر سکتے ۔ عقل کل اور نفس کل کے بعد صف اعلیٰ میں ملائکہ مقربین (<span style="color: #993366;"> انہیں  اولو العزم بھی کہا جاتا ہے اور ان کے تابع ، معین اور مددگار فرشتوں کو اتباع اولوا العزم کہا جاتا ہے، جو بہ کثرت ہیں۔</span>) مثلا حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام اور سب فرشتے حکم الہی کے منتظر ہیں ۔ یہ نافرمانی نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی تخلیق ہی اس طرح ہوئی ہےکہ یہ گناہ سے پاک (معصوم) ہیں ۔</p><h2>اقلام اور الواح</h2>
<p>ان ملائکہ کے بعد ملائکہ طبعیہ ہیں جو موکل ہیں ، جن میں سے بعض افزائش نسل پر اوربعض رزق رسانی پر اور بعض جسم انسانی سے متعلق دیگر امور پر مامور ہیں۔ اور بعض اعمال کی کتابت کے لئے ہیں، یہ اقلام اور الواح کی قسم سے ہیں۔ پھر یہ الواح بھی محو و ثبات کے محل ہیں ۔ ان میں جو گناہ لکھے جاتے ہیں ، رحمت الہی انہیں مٹادیتی ہے ۔ اور ہر فرشتہ اللہ تعالی کے اس نام کی تسبیح کرتا ہے، جس کا وہ خود مظہر ہے اور ان کی تسبیح اسمائے تنزیہ کے ساتھ ہوتی ہے ۔</p>
<h2>روحانیوں کی دو قسمیں ہیں</h2>
<p>: 1۔ ایک وہ روحانی ہیں جو سماویات میں تصرف کر تے ہیں، ان کو اہل ملکوت اعلی &#8221; کہا جاتا ہے۔</p>
<p>2دوسرے وہ روحانی ہیں جو ارضیات میں تصرف کرتے ہیں ، ان کو اہل ملکوت اسفل کہا جاتا ہے۔</p>
<p>لاکھوں فرشتے نوع انسانی کے مؤکل ہیں اور لاکھوں معدنیات کے ، لاکھوں نباتات کے اور لاکھوں حیوانات کے ، بلکہ یوں کہو کہ ہر چیز پر ایک فرشتہ موکل ہے، حتی کہ بارش کے ہر قطرے کے ساتھ ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے۔ اہل کشف نے کہا ہے کہ جب تک فرشتہ ساتھ نہ ہو ایک پتہ بھی درخت سے گر نہیں سکتا ہے احادیث میں ملک الجبال ، ملک الریح ، ملک الرعد ، ملک البرق اور ملک السحاب ( کا ذکر آیا ہے ۔</p>
<p>روحانیوں سے روح انسانی ہے ، جو ایک تعین مجرد ہے مادے سے اور لطیفہ ہے لطائف الہیہ سے ، جو لوح و قلم کے بالمقابل ہے بلکہ یہ دونوں اسمیں داخل ہیں ، کیونکہ روح انسانی عالم امکان میں تمام اشیائے کو نیہ اور اسمائے الہیہ کی مظہر جامع ہے اور اس کو ہر چیز کا تفصیلی علم بالفعل ہے۔ روح انسانی ہے کھٹکے عقل کل اور نفس کل سے جو علم چاہے حاصل کر لیتی ہے اگر چہ وہ ان سے افضل ہے ۔</p>
<h2>روح انسانی</h2>
<p>روج انسانی ایک ہے لیکن متعدد تعینات میں متعین بھی ہوتی ہے اور متعدد صورتوں میں متشکل بھی۔ ان صورتوں کو ارواح حیوانی ، کہتے ہیں۔ ہر انسان میں ایک روح حیوانی داخل ہے روح حیوانی جو ایک جسم لطیف ہے ، عالم ارواح اور عالم اجسام کے درمیان برزخ ہے۔  یہ بہ تبدیلی شکل سارے جسم میں اس طرح در آتی ہے کہ اس کا ہر جزء جسم کے ہر جزء میں در آیا ہوا ہے۔ بلکہ اس کا ہر جزء، بدن کے ہر جزء کے ساتھ مل کر ایک ہو گیا ہے ، اب محسوس ہی نہیں ہوتا کہ روح حیوانی جسم کے علاوہ بھی کچھ اور ہے۔ فلاسفہ جس کو روح حیوانی کہتے ہیں وہ قابل فناجسم بخاری ہے(<span style="color: #993366;">وہ ہوائے لطیف جو عناصر لطیف کے بخارات  سے جسم میں حیات کی صلاحیت پیدا کر کے اس میں حس و حرکت پیدا جرتی ہے اسے روح طبعی اور بدن ہوائی بھی کہتے ہیں</span>)</p>
<p>عقل کل کے ہر پرتو سے صاحب القویٰ کی روح حیوانی ایک قوت ہے، یہ عقل جزئی ہے ، روح حیوانی جس کے تعاون سے نیک  وید اور نفع و ضرر میں فرق کرتی ہے اور نفس کل کے پرتو سے ایک دوسری قوت ہے ، یہ نفس جزئی ہے ، جو بقائے جسم کے مصالح بدینیہ علی وجہ الکمال بدن کو مہیا کرتا ہے ۔ اسی وجہ سے بدن اور حیوانیت کے مقتضیات کی تکمیل کے لیے نفس جزئی ، روح کو مسخر کرتا ہے، لیکن نفس کی یہ ساری کوشش صرف حظوظ نفسانی کے لیے ہوتی ہے ۔</p>
<p>روح حیوانی کی ایک قوت &#8221; قوت شیطانی(قوت شر) ہے ، جو نفس کو ارتکاب حرام پر اکساتی رہتی ہے تاکہ حظ بدن حاصل ہو سکے ۔ اور روح حیوانی کی ایک قوت ، قوت ملکی&#8221; (قوت خیر ،ضمیر)ہے جو اصلاح آخرت کے اعمال کا تقاضا کرتی ہے ، اسی کا حکم دیتی ہے اور روح کے تابع رہتی ہے ۔</p>
<p>غرض روح حیوانی کی طرف روح انسانی کی نسبت، مقید کی نسبت ہے مطلق کیے سا تھ اور جزئی کی نسبت ہے کلی کے ساتھ ۔ روح حیوانی کو ممکن ، کہا گیا ہے ۔ روح حیوانی، روح انسانی کا جسد ہے۔ اسی کے ساتھ متحد ہے اور اسی کے ساتھ مرکب ، اور صرف اپنے متعین ہی میں مطلق کا ظہور و نمود ہے ۔ روح حیوانی اگرچہ اپنے مرتبہ اطلاق میں کل اشیاء کی عالم ہے اور تلذذ و تا لم سے پاک ہے، لیکن جب متشکل ہو کر روح حیوانی ہوئی تو اس مرتبہ میں علوم سے خالی ہے ۔ بدن سے تعلق کے بعد علم سے بہرہ ور ہوتی ہے اور تلذذ و تالم سے متصف &#8211; روح حیوانی بھی جو ہر لطیف اورابدی ہے موت کے بعد فنا نہیں ہوتی بلکہ بدن سے روح حیوانی کی علیحدگی کا نام &#8221; موت ہے۔ یہ روح بدن سے خارج ہو کر جسم پرزخی اختیار کر لیتی ہے یعنی صور مثالیہ میں سے کسی صورت سے متشکل ہو جاتی ہے اور پھر کبھی دنیا میں جسم سے متعلق نہیں ہوتی قبر میں جسم برزخی کے ساتھ روح حیوانی سے ہی سوال کیا جاتا ہے کیونکہ یہی ابدی (غیر فانی ہے۔</p>
<h2>روح حیوانی</h2>
<p>یہ روح حیوانی نیند کی حالت میں بدن سے الگ ہوکر سیر کرتی ہے اور کبھی یہ روح بیداری کی حالت میں دیکھنے والے کے جسم سے نکل کر سیر کرتی ہے اور اس کا جسم سونے والے کی مانند نظر آتا ہے اور جب دوبارہ بدن میں آتی ہے تو اس کا ہر جزء ، جسم کے ہر جزء پر منطبق ہو کر داخل ہوتا ہے۔  روح حیوانی اگرچہ جسم ہے لیکن ایسی لطیف ہے کہ ارواح میں داخل ہو سکتی ہے اور صور مثالیہ سے بھی الطف ہے۔  روح انسانی کے تعدد کے باوجود اس کی وحدت اور اجسام انسانی میں اس کا جاری وساری ہونا عارف پر منکشف ہوتا ہے لیکن مہجور اس سے ناواقف اور شک میں گرفتار رہتا ہے اور اس صورت میں روح حیوانی کو شخص انسانی &#8221; اور &#8221; مکلف بالشرع &#8221; کہتے ہیں ۔ چنانچہ بعض کی فضیلت بعض پر اسی روح حیوانی کے اعتبار سے ہے ۔</p>
<p>روح  حیوانی ایک مرتبہ اپنے وجود کے بعد کبھی فنا نہیں ہوتی ۔ دنیا میں  بہ شکل جسم عنصری برزخ میں بہ شکل جسم برزخی اور آخرت میں بہ شکل جسم محشور&#8221; رہتی ہے۔ روح حیوانی روح انسانی کا ظرف ہے کیونکہ مقید مطلق کا ظرف ہوتا ہے چنانچہ انسان کامل اس روح کو لذائذ نفسانی سے باز رکھ کر روح انسانی کے مشاہدے میں اس  کے تعین کو فنا کرتا ہے اور روح انسانی کے اطلاق وکلیت کا مشاہدہ کرتا ہے۔</p>
<h2>اختلاف معرفت</h2>
<p>روح کی معرفت میں اولیاء مختلف ہیں، ان کو روح کی معرفت ان کے مراتب کے مطابق ہوتی ہے ۔ راز اس میں یہ ہے کہ روح انسانی ایک اور کامل ہے لیکن تعینات کے ساتھ متعدد ہے اور ہر تعیین کی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں اور مخصوس لوازم بھی ، جو دوسرے تعین کے نہیں ہوتے ۔ لہذاروح انسانی بعض تعینات میں گرفتار جہل ہو کر تحت الثری میں جا گرتی ہے۔ اور بعض تعینات میں معرفت الہی میں کامل ہوکر علیین میں پہنچ جاتی ہے ۔ اختلاف معرفت ، استعداد تعینات کے اختلاف کے سبب ہوتا ہے ۔</p>
<h2>میثاق رسالت</h2>
<p>غرض روح حیوانی کامل بھی ہے اور ناقص بھی۔ متلذذ بھی اور متالم بھی لیکن متعینات میں شرط تعین کے ساتھ ۔ قلم اعلیٰ اور لوح محفوظ ، روح انسانی میں مزدوج اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وصحبہ وسلم کی روح مبارک ، روح اعظم(<span style="color: #993366;"> یہ روح محمدی ﷺ ہے ۔ تمام ارواح اسی کے مظاہر ہیں ۔ اس کو روح کل ، روح عالم ، جان عالم اور اضافتاً انانیت عظمی اور انانیت کبری بھی کہتے ہیں</span> ) ہے، جوہر وقت علم و کمال سے متصف ہے۔ آپ عالم ارواح میں ، تمام ارواح کی طرف بھی نبی تھے ۔ سب کے سب خواہ کامل ہوں یا ناقص ، روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں اور سب نے اقرار کیا ہے کہ جسم میں آنے کے بعد بھی ہم سب آپ کے مطیع و منقاد رہیں گے ۔ یہ میثاق رسالت میثاق ربوبیت کے بعد ہوا تھا ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&amp;linkname=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d8%25b9%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2585-%25d8%25a7%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25ad-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25a8%25d8%25b9%25db%2581%2F&#038;title=%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A7%D8%AD%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B9%DB%81%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ad-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%a8%d8%b9%db%81/" data-a2a-title="عالم ارواح ( تنزلات ستہ کا مرتبہ رابعہ)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85-%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%ad-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%a8%d8%b9%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</title>
		<link>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابو السرمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Nov 2023 03:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[حواشی مکتوبات]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جامعہ]]></category>
		<category><![CDATA[احدیت جمع]]></category>
		<category><![CDATA[ام الکتاب]]></category>
		<category><![CDATA[او ادنی]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ البرازخ]]></category>
		<category><![CDATA[برزخ کبریٰ]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط شے بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بشرط کثرت بالقوه]]></category>
		<category><![CDATA[بعد مشاہدہ تعین]]></category>
		<category><![CDATA[تعین اول وحدت حقیقی]]></category>
		<category><![CDATA[تعینات و تجلیات]]></category>
		<category><![CDATA[تعیین اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزل اول]]></category>
		<category><![CDATA[تنزلات ستہ]]></category>
		<category><![CDATA[تین مراتب کونی]]></category>
		<category><![CDATA[ثبوت اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[جوہراول]]></category>
		<category><![CDATA[حب ذاتی]]></category>
		<category><![CDATA[حجاب عظمت]]></category>
		<category><![CDATA[حقائق الممکنات]]></category>
		<category><![CDATA[حقيقة الحقائق]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت انسانی]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت محمدیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خیال اول]]></category>
		<category><![CDATA[درة البيضاء]]></category>
		<category><![CDATA[دو مراتب غیب]]></category>
		<category><![CDATA[رابطہ بین الظهور والبطون]]></category>
		<category><![CDATA[رفیع الدرجات]]></category>
		<category><![CDATA[روح اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[روح القدس]]></category>
		<category><![CDATA[روح محمدی]]></category>
		<category><![CDATA[سقوط اعتبارات]]></category>
		<category><![CDATA[ظل اول]]></category>
		<category><![CDATA[عرش مجید]]></category>
		<category><![CDATA[عقل اول]]></category>
		<category><![CDATA[فلک ولایت مطلقه]]></category>
		<category><![CDATA[قابلیت اولیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[قلم اعلی]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الصفات]]></category>
		<category><![CDATA[کنز الكنوز]]></category>
		<category><![CDATA[گنج مخفی]]></category>
		<category><![CDATA[لوح قضا]]></category>
		<category><![CDATA[مبدأ اول]]></category>
		<category><![CDATA[محبت حقیقیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه الجمع والوجود]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبه جامعه]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ثانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ جامع المراتب]]></category>
		<category><![CDATA[مرتبہ ولایت مطلقہ]]></category>
		<category><![CDATA[مشاہدہ ذات مع التعین]]></category>
		<category><![CDATA[مقام اجمالی]]></category>
		<category><![CDATA[مقام جمع]]></category>
		<category><![CDATA[منشاء اول]]></category>
		<category><![CDATA[موجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[نداء اول]]></category>
		<category><![CDATA[نشان اول]]></category>
		<category><![CDATA[نفس رحمانی]]></category>
		<category><![CDATA[وجود اول]]></category>
		<category><![CDATA[وجود مطلق]]></category>
		<category><![CDATA[وحدت قابلیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://abualsarmad.com/?p=7736</guid>

					<description><![CDATA[وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ) وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے) مرتبہ ثانیہ تنزل اول اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ <a class="read-more" href="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/">مزید پڑھیں</a>]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<h1>وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)</h1>
<p>وحدت(یا ھُوت ذات حق کا ایک مرتبہ جس میں قابلیت کثرت ہے جسے شئون ذاتیہ کہا جاتا ہے)</p>
<h2>مرتبہ ثانیہ تنزل اول</h2>
<p>اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :</p>
<p>میں گنج مخفی(وجود کا مرتبہ اول یعنی احدیت مراد ہے) تھا یعنی ذات کے غلبہ میں تمام صفات مخفی تھیں) پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق پیدا کی ہے(‌كُنْتُ ‌كَنْزًا ‌مَخْفِيًّا فَأَرَدْتُ أَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ)</p>
<p>حقیقت کا یہی ظہور ہے جو مجالی (جلوہ گاہیں مجلاء کی جمع مراد کائنات ، عوالم اور اشیاء)یعنی تعینات میں پایا جاتا ہے اور عارفوں (صوفیائے کرام کی اصطلاح میں عارف اس شخص کو کہتے ہیں جو صفات باری تعالیٰ کو بطریق حال ومکا شفہ پہچانتا ہو ، نہ کہ بطریق علم مجرد)کے مشاہدے میں آتا ہے۔ تعینات و تجلیات میں اس کا مشاہدہ دو طرح سے ہوتا ہے ۔</p>
<p>(1) یہ کہ ذات جب اسماء یا ارواح میں نزول کرتی ہے تو عارف اولا اس کا مشاہدہ کرتا ہے اور ثانیاً متعینات میں اس کے ظہور کی کیفیت کا ، اور تعینات کے ساتھ اس کے تقید کا، خواہ یہ اسمی تعینات ہوں یا غیر اسمی تعینات مشہود ہوں ، یہ مشاہدہ اکمل الکاملین کا ہے ۔ یہ مشاہدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے کیونکہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے :</p>
<p>ما رأيت شي الا ور أَيْتُ اللهَ قَبْلَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس سے پہلے حق کا ادراک ضرور کیا ہے ۔</p>
<p>(2)دوسرا مشاہدہ تعین اور تجلی کے درمیان ذات مطلقہ کا مشاہدہ ہے ، خواہ یہ مشاہدہ ذات مع التعین ہو یا بعد مشاہدہ تعین ۔ یہ مشاہدہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے ، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے :</p>
<p>مار أيْتَ شَيْئًا إِلَّا وَرَأَيْتُ اللهَ مَعَهُ</p>
<p>میں نے جس چیز کو بھی دیکھا ہے ، اس کے ساتھ حق کا ادراک ضرور کیا ہے</p>
<p>الغرض اس حقیقت کے تعینات بے حد و بے شمار ہیں لیکن ان کے کلیات چھ ہیں۔ دو مراتب غیب ہیں ، کیونکہ ان میں ذات اور غیر ذات سے ہر چیز غائب ہے۔ ان دونوں مرتبوں میں حق پر کسی چیز کو ظہور حاصل نہیں۔ مرتبہ اول میں غیب سے تعین اول ہے اور مرتبہ  ثانی میں غیب سے تعین ثانی( تعین اول (وحدت) اور تعین ثانی (واحدیت ) یہ دونوں مراتب غیب ہیں کیونکہ ان میں کوئی شے موجود فی الخارج نہیں، ان کا ظہور صرف علمی ہے نہ کہ عینی) ۔</p>
<p>باقی تین مراتب کونی (مراتب کونی سے مراد مرتبہ ارواح ، مرتبہ امثال اور مرتبہ اجسام ہیں۔)ہیں اور چھٹا مرتبہ جامع المراتب &#8220;(مرتبۂ جامع المراتب سے مراد تعین سادس یعنی انسان ہے ۔ مراتب وجود یا تنزلات ستہ کاعلم اجمالی۔) ہے</p>
<p>تعین اول یعنی حقیقت کا پہلا ظہور یہ ہے کہ حق تعالی نے اپنے وجود کو پایا اور&#8221; انا &#8221;  فرمایا،</p>
<p>اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنی ذات اور اپنی صفات اور تمام موجودات کو بعض کو بعض سے امتیاز کے بغیر اجمالی طور پر جان لینا ہے۔ یہ مرتبہ وحدت ہے</p>
<p>اور ساری کائینات بالاجمال علم میں آئی ۔ یوں عوالم بالاجمال حقیقت سے الگ نہیں۔ وہ ذات عالم کو ظاہر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عالم ذات سے الگ نہیں ہے وہ ذات  بالا جمال اسماء و صفات سے متصف ہے۔ اس طرح &#8221; سمیع &#8221; قدیر &#8221;  سے الگ نہیں یعنی کوئی اسم بھی دوسرے اسم سے علیحدہ نہیں ہے۔ یہ مرتبہ قابل محض ہے۔ یہاں کثرت ظاہر نہیں ؟ خواہ حقیقی ہو یا اعتباری  سارے عوالم اس مرتبہ میں نابود ہیں جب ذات نے اپنے وجود کو پایا اور &#8221; انا &#8221;  فرمایا تو چار چیزیں پائی گئیں</p>
<p>(1) &#8211; ذات وجود یعنی خود کو انا » فرماکر جانا۔ یہ ذات ہی وجود ہے ۔</p>
<p>(2)صفت علم یہ جاننا صفت ہے ۔</p>
<p>(3)- اسم نور جو خود پہ ظاہر ہوا تو جانا ، پس یہ ظہور نور ہے ۔ بعض حضرات نے انیت(وہ وجود جس کی طرف لفظ انا میںاشارہ کیا جاتا ہے ) ہی کو نور کہا ہے ۔</p>
<p>(4)- فعل شہود یعنی خود کو دیکھا تو جانا ، لہذا یہ دیکھنا شہود ہے</p>
<p>تعین اول کو وحدت حقیقی (وہ وحدت جس میں کسی وجہ سے کثرت نہ ہو اور جو تجزی کو قبول نہ کرے اور نہ اس کے مقابل اس کی کوئی ضد ہو۔ تجزی و تغیر، ضدیت و اثنینیت اورتشبیہ کو وہ قبول نہیں کرتی)</p>
<p>مرتبه الجمع والوجود،( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جمع باعتبار جانب ظہور ، وحدت سے عبارت ہے اور اس مرتبہ کا باطن ہے۔ اور اس مرتبہ میں ذات من حیث الاسماء والصفات پائی جاتی ہے یعنی اس مرتبہ تنزل میں ذات نے اسماء و صفات کی یافت کی ہے اور یہاں اطلاق اسماء و صفات کا ذات پر صادق آیا ہے)</p>
<p>مرتبه جامعه( اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات وصفات اور ظهور و بطون دونوں شامل ہیں اور یہ مرتبہ دونوں کا جامع ہے۔)</p>
<p>احدیت جامعہ، احدیت جمع، ( اعتبار ذات من حیث ھی بلا اعتبار اسقاط صفات و اثبات صفات بھی اس مرتبہ میں ہے ۔ نیز صفات کا اعتبار اجمالی بھی اس میں مندرج ہے اور اسی وجہ سے اس کو احدیت جامعہ بھی کہتے ہیں۔ )</p>
<p>مقام جمع ( وحدت ہی ذات و صفات اور بطون و ظہور کو اپنے اندر جمع کرتی ہے اور خلط ملط نہیں ہونے دیتی ۔)</p>
<p>حقيقة الحقائق ( ذات حق تعالی ہر شے کی حقیقت ہے ۔ ہر شے کا وجو د اعتباری ہے  وہ اپنا وجود حق تعالیٰ سے پائے ہوئے ہے ۔  اس مرتبہ میں اس کا تعین اول ہے اس لیئے اس کو حقیقۃ الحقائق کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ صور علمیہ اور اعیان ثابتہ کو حقائق الممکنات کہتے ہیں۔ چونکہ مرتبہ وحدت ، حقائق الممکنات کا مرتبہ اجمال ہے اس لیئے یہ مرتبہ حقیقۃ الحقائق ہوا۔)،</p>
<p>برزخ البرازخ، برزخ کبری (  یہ حق تعالی اور جملہ برازخ کے درمیان برزخ حائل ہے ۔)</p>
<p>حقیقت محمدیہ، وجہ وجوہ کائنات اور رونق بزم کائنات ہے  مزید دیکھیں <a href="https://abualsarmad.com/%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af%db%8c%db%81/">حقیقت محمدیہ</a></p>
<p>عقل اول ( یہ علم الہی کی شکل کا وجود میں محل ہے ۔ یہ علم الہی کا نور ہے جو تنزلات میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ اول ما خلق الله العقل سے اسی جانب اشارہ ہے ۔)</p>
<p>قلم اعلی (عقل اول اور قلم اعلی ، در حقیقت ایک ہی نور کے دو نام ہیں۔ جب اس نور کی نسبت عبد کی جانب کی جاتی ہے تو اس کو عقل اول کہتے ہیں اور جب اس نور کی نسبت حق تعالی کی جانب کی جاتی ہے تو اُس کو &#8221; قلم اعلیٰ &#8221; کہتے ہیں۔ پھر عقل اول سے جو در اصل نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم ہے، ازل میں جبرئیل علیہ السلام پیدا کیے گئے اور ان کا نام روح الامین رکھا گیا کیونکہ وہ ایک ایسی روح ہیں جن کو اللہ تعالی کے علم کا خزانہ بطور امانت سپرد کیا گیا ہے۔ اس نور کی اضافت جب انسان کامل کی جانب ہوتی ہے تو وہ روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لقب سے ملقب ہوتا ہے۔ قلم اعلی عقل اول اور روح محمدی (روح اعظم )کی تعبیر جوہر فرد کی جاتی ہے ۔ مظاہر خلقیہ میں ممیز ہونے کے طور پر جو ابتدائی تعینات حق ہیں، انھیں قلم اعلیٰ کہا جاتا ہے ۔)</p>
<p>روح اعظم (  روح اعظم یا روح محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اول ما خلق الله روحی بھی ارشاد فرمایا ہے  )</p>
<p>اور تجلی اول کہتے ہیں۔( لغت میں تجلی کے معنی ظاہر کرنے اور ظاہر ہونے کے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال الہی کا کسی پرپھینکا جانا تجلی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ ذات مطلق کا ظہور لباس تعین ہی میں ممکن ہے ، اسی لیئے صوفیہ کرام کی اصطلاح میں لباس تعین کو تجلی کہتے ہیں۔ ہر وہ شان اور کیفیت و حالت جس میں حق تعالی کا اس کی کسی صفت یا اس کے کسی فعل کا اظہار ہو تجلی ہے ۔<br />
اس مرتبہ وحدت کو تجلی اول اس وجہ سے کہتے ہیں کہ مرتبہ خفاء الخفاءیا مرتبہ لاتعین سے اس کا ظہور ہوا ہے۔ نیز اس کو تجلی اول کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تجلیات کا آغاز اس مرتبہ وحدت سے ہوتا ہے۔ اس سے پہلے مرتبہ احدیت ہے ، جس میں تجلی نہیں پائی جاتی کیونکہ تجلی کے لیے ایک متجلی اور ایک متجلی لہ کا ہونا ضروری ہے اور احدیت میں اثنینیت نہیں ، اس لیئے اس میں تجلی بھی ممتنع ہے ۔ احدیت میں نہ ناظر ہے نہ منظور تو تجلی کیسی ؟)<br />
یہ وحدت قابلیات ذات کی ہے (یہ مرتبہ اصل جمیع قابلیات کا ایک حالہ اجمالیہ بسیطیہ ہے۔ اس کا ظہور سب سے پہلے ہوا ہے۔ یہ جمیع قابلیات کا ہیولی اور مبدا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو قابلیت اولی بھی کہتے ہیں۔)اس مرتبہ میں ناسوت(عالم بشریت ، عالم اجسام ، اس کو مُلک، عالم شہادت اور عالم محسوسات بھی کہتے ہیں ۔) ملکوت(یعنی وہ عالم جو ملائکہ وارواح سے مختص ہے) سے(جومرتبہ ارواح ہے )جدا نہیں اورملکوت جبروت(یعنی مرتبه صفات مرتبه وحدت ، حقیقت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے (جو مرتبہ صفات ہے )ممتاز نہیں اور جبروت، لاہوت ( یعنی مرتبہ ذات ، گنج مخفی، هویت مطلقه )سے (یعنی الوہیت سے جومرتبہ ذات ہے) ممتاز نہیں ہے(  ناسوت، ملکوت ، جبروت اور لاہوت یہ چار عوالم سمجھے جاتے ہیں در حقیقت لاہوت عالم نہیں بلکہ مرتبہ ہے کیونکہ عالم کا لفظ لاہوت پر صادق نہیں آتا ۔ لفظ عالم علامت سے مشتق ہے ۔ لغوی اعتبار سے عالم وہ ہے جس کے ذریعہ سے کوئی دوسری شے پہچانی جاسکے ۔ اصطلاح صوفیہ میں ماسوی اللہ کو عالم کہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالی کو باعتبار اسماء وصفات پہچانا جاتا ہے ۔ عالم کا ہر جزء خواہ کتنا ہی چھوٹا ہو عوام کی نگاہ میں خواہ کتنا ہی حقیر اور بے قدر کیوں نہ ہو ، حق تعالٰی کے کسی نہ کسی اسم کا مظہر ضرور ہے ۔ اس لغوی اور اصطلاحی معنی کے اعتبار سے ناسوت ، ملکوت اور جبروت ہی عوالم ہیں ۔   مراد یہاں ان سے علی الترتیب مرتبه اجسام، مرتبه ارواح، مرتبه صفات اور مرتبہ ذات ہے ۔ یہ عوالم اس مرتبہ وحدت میں ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہیں کیونکہ مرتبہ وحدت اجمالی ہے جیسے گٹھلی میں برگ وبار اور شاخ و شجر ممتاز نہیں یا ہیضہ میں بال و پر اور رنگ و آواز ممتاز نہیں ، اسی طرح مرتبہ وحدت میں ذات وصفات اور اسماء و افعال موجود ہونے کے باوجود ممتاز نہیں ، کیونکہ امتیاز ، تفصیل کا متقاضی ہوتا ہے اور تفصیل کی اس مرتبہ میں گنجائش نہیں)</p>
<h2>اس وحدت کے دو اولین اعتبارات ہیں</h2>
<p>(1) سقوط اعتبارات یعنی ذات سے بالکلیہ تمام اعتبارات ساقط اور معدوم ہوں ، یہ احدیت ہے یعنی تمام اعتبارات کے سقوط  وعدم کے ساتھ ذات کا ایک ہونا۔ اسی لحاظ سے ذات کو احد کہا گیا ہے یعنی ایک ایسی ذات جس سے تمام اعتبارات دور کر دیئے گئے ہوں، اسی لیے ذات کا بطون ، اس کا اطلاق اور اس کی ازلیت اسی اعتبار سے متعلق ہے۔</p>
<p>(2)- ثبوت اعتبارات یعنی اس ذات میں بے حد و بے شمار اعتبارات مندرج ہوں ، یہ واحدیت ہے یعنی جملہ اعتبارات کے ساتھ ذات کا ایک ہونا، تمام اعتبارات وصفات کے ساتھ ذات کا ایک ہی نام ہو یعنی ایک ایسی ذات جو اعتبارات کے ساتھ ہے، پس واحد ثبوتی نام ہے،  سلبی نہیں ذات کا ظہور ، ذات کا وجود (یافت) ذات کی پیشگی ابدیت اسی اعتبار سے متعلق ہے ۔</p>
<p>(یہ وحدت جوانائے مطلق اور قابلیت محض کا مرتبہ ہے۔ اس کی دو جہتیں بن جائیں گی۔ پہلی جہت یہ ہے کہ اعتبارات اس سے ساقط ہوں، اس ذات سے متعلق کوئی اعتبار قائم نہ ہو۔ یہ نری ذات کی یکتائی ہے ، اس لیئے اس کو احدیت کہیں گے ۔ اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ مرتبہ احدیت میں ذات بلا اعتبار ہوتی ہے ، ہر اعتبار یہاں ساقط ہوتا ہے ، اسی لیے ذات کو اس مرتبہ میں احد کہتے ہیں واحد نہیں، کیونکہ احد سلبی نام ہے اور واحد ثبوتی اور اسی لیے احد ہی کو صمد کہا گیا ۔ صمد کہتے ہیں ٹھوس چٹان کو جس میں نہ کوئی چیز داخل ہو سکے ، نہ اس سے کوئی چیز خارج ہو سکے ۔ یہاں اسماء وصفات اور افعال کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاتا،یہ  احدیت ہے ۔ ذات بحت کے علاوہ یہاں کچھ نہیں ۔ بطون، اطلاق اور ازلیت ، وحدت کی اسی جہت (احدیت) سے متعلق ہے۔ &#8211;</p>
<p>دوسری جہت یہ ہے کہ بے حد و بے شمار اعتبارات اس وحدت سے متعلق قائم ہوں، بلکہ اس میں مندرج ہوں ۔ یہ ذات کی یکتائی جملہ اعتبارات کے ساتھ ہے، اس لیے اب اس کو واحدیت کہیں گے۔ اس مرتبہ میں ذات ، نری نہیں رہتی بلکہ بے شمار اعتبارات بھی اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسماء وصفات اور افعال بھی اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں ذات کو واحد کہتے ہیں احد نہیں، کیونکہ واحد ثبوتی نام ہے جب کہ احد سلبی &#8211; اسماء و صفات اور افعال کا اعتبار اسی مرتبہ میں ہوگا جو واحدیت ہے ۔ ذات کے ساتھ یہاں ہزاروں اعتبارات بھی ہیں ، ظہور ، وجود (یافت) اور ابدیت، وحدت کی اسی جہت (واحدیت) سے متعلق ہے۔ )</p>
<p>ان دونوں اعتبارات( جہت سقوط اعتبارات اور جہت ثبوت اعتبارات ۔) یا دیگر اعتبارات( اسماء وصفات اور افعال ہیں، صوفیہ کرام ان کے لیے بھی اعتبارات کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں) میں کوئی غیریت یا تفریق (حقیقی) نہیں۔ کثرت مغایرت احکام کی وجہ سے ہے اور وحدت میں کثرت بالفعل نہیں( کثرت یہاں بالقوہ ہوتی ہے کیونکہ وحدت ذات حق کا ایک ایسا مرتبہ ہے جس میں قایلیت کثرت ہے، بالقوہ نہ کہ بالفعل، ان قابلیات کثرت کو شئون ذاتیہ اور حروف عالیہ کہتے ہیں جو غیب الغیوب میں مخفی ہیں جس طرح شجر تخم میں طاؤوس بیضہ میں اور آگ سنگ چقماق میں۔) لہذا وحدت اس ذات کی یکتائی ہے جس نے خود کو بغیر سقوط اعتبارات اور بغیر ثبوت اعتبارات کے جانا ۔ مرتبہ ذات میں فرق نہ ثبوت اعتبارات کا ہے اور نہ سقوط اعتبارات کا( سقوط اعتبارات اور ثبوت اعتبارات کے بغیر ذات کی یکتائی کا نام ہے ۔ یہ سقوط وثبوت اعتبارات کے بغیر انائے مطلق ہے ۔)</p>
<p>پس یہ ذات کا ظہور اول ہے(اسی بنا پر اسے تجلی اول کہتے ہیں) ، احدیت اور واحدیت دونوں اس کی نسبتیں ہیں۔ اگر وحدت نہ ہوتی تو یہ نسبتیں بھی نہ ہوتیں ، جیسے عشق کی دو نسبتیں ہیں ، عاشق اور معشوق یہ دونوں عشق کے بغیر معدوم ہیں ۔ اسی طرح احدیت ، وحدت کے اوپر اور واحدیت ، وحدت کے نیچے ہے اور وحدت برزخ ہے یعنی ان دونوں کے درمیان ہے ۔ اس وحدت کو تجلی اول ، تنزل اول(ذات کا پہلا نزول اسی مرتبہ میں ہوا)، حقیقة الحقائق، برزخ کبری ، اصل البرازخ ، او ادنی (اوادنی : وحدت کا یہ نام قاب قوسین او ادنی سے ماخوذ ہے ۔ قاب قوسین صوفیہ کرام کے نزدیک وہ مقام اتصال ہے جہاں سے احدیت اور واحدیت کی قوسین میں امتیازپیدا ہو جاتا ہے۔ فنافی اللہ سے قبل یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج و شہود اور وجدان کی انتہا ہے ۔ تمیز کے دور ہوتے ہی قوسین بواسطہ سطوت تجلی ذات متحد ہو گئیں اور فنافی اللہ حاصل ہوگئی جس کی جانب او ادنی سے اشارہ ہے ۔)اور الف کہتے ہیں</p>
<p>(الف : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ الف نام ہے خط کا جو نقطہ سے بنتا ہے اور پھر خط ہی سے سارے حروف بنتے ہیں ، جیسا کہ مولانا عبد الرحمن جامی نے فرمایا :</p>
<p style="text-align: center;">یک نقطه الف گشت والف گشت حروف</p>
<p style="text-align: center;">در حرف الف بنامے موصوف</p>
<p style="text-align: center;">چون حرف مرکب شده آمد به سخن</p>
<p style="text-align: center;">ظرفیست سخن نقطه در وچوں مظروف</p>
<p> اک نقطہ الف ہو گیا اور الف سے حروف بن گئے پھر الف ہر حرف میں ایک نام سے موسوم ہو گیا۔ پھر جب حروف مرکب ہوئے تو سخن ہو گیا اور اب سخن ظرف ہے اور نقطه مانند مظروف)</p>
<p>چونکہ احدیت کو نقطہ کہا جاتا ہے ، اس لیے وحدت کو الف کہتے ہیں۔ )</p>
<p>اس مرتبہ ثانیہ یعنی وحدت کے اور بھی نام ہیں</p>
<p>قابلیت اولی : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مرتبہ تمام قابلیات کی اصل ہے ۔</p>
<p>مرتبہ ولایت مطلقہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پر ولایت مطلقہ کا دارو مدار ہے۔ اور ولایت کا کوئی مرتبہ ، ولایت مطلقہ سے بلند تر نہیں ۔ ولایت مطلقہ کہتے ہیں ولایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ ہی کی اتباع کامل کی وجہ سے ولایت خاتم الاولیاء کو بھی اس سے موسوم کیا جاتا ہے ۔</p>
<p>حجاب عظمت : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ سوائے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی یہاں تک نہ پہنچ سکا</p>
<p>محبت حقیقیہ : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہ مقام حب حقیقی و حب ذاتی ہے بفحوائے كنت كنزاً مخفيا فاحببت ان اعرف یہاں حب ذاتی اور توجہ بخلق کا ظہور ہوا۔</p>
<p>وجود مطلق : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس مرتبہ میں دیگر مراتب کے بخلاف ذات کا شعور اور اس کی یافت بہ اعتبارات ، مطلق و مجمل ہے اور ایک مرتبہ نے اس سے تقید پایا ہے۔</p>
<p>تعیین اول : اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں ذات کے لیئے اسماء وصفات کا اولا تقرر ہوا ہے ۔</p>
<p>رفیع الدرجات: اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وحدت ہی کے درجات کی تفصیل واحدیت میں ہوتی ہے، رفیع الدرجات ذو العرش سے اس طرف اشارہ ہے۔</p>
<p>اسی طرح اس مرتبہ کو کنز الكنوز ، کنز الصفات، احدیت الجمع،مقام اجمالی ، ام الکتاب، روح القدس، لوح قضا ، عرش مجید، درة البيضاء ، بشرط شے بالقوه ، بشرط کثرت بالقوه ، نفس رحمانی ، وحدت الحقیقۃ،حقیقت انسانی ، حب ذاتی ، رابطہ بین الظهور والبطون ،فلک ولایت مطلقه ،علم مطلق، ظل اول ، وجود اول ،موجود اول ، مبدأ اول ، نشان اول،منشاء اول ، جوہراول ، نداء اول ، خیال اول بھی کہتے ہیں۔ ان تمام اصطلاحی اسماء سے ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے کہ یہ ذات کا پہلا مرتبہ نزول ہے ۔</p>
<p><a class="a2a_button_facebook" href="https://www.addtoany.com/add_to/facebook?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Facebook" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_mastodon" href="https://www.addtoany.com/add_to/mastodon?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Mastodon" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_email" href="https://www.addtoany.com/add_to/email?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Email" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_twitter" href="https://www.addtoany.com/add_to/twitter?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Twitter" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_whatsapp" href="https://www.addtoany.com/add_to/whatsapp?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="WhatsApp" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_linkedin" href="https://www.addtoany.com/add_to/linkedin?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="LinkedIn" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_button_telegram" href="https://www.addtoany.com/add_to/telegram?linkurl=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&amp;linkname=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" title="Telegram" rel="nofollow noopener" target="_blank"></a><a class="a2a_dd addtoany_share_save addtoany_share" href="https://www.addtoany.com/share#url=https%3A%2F%2Fabualsarmad.com%2F%25d9%2588%25d8%25ad%25d8%25af%25d8%25aa-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b2%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa-%25d8%25b3%25d8%25aa%25db%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25aa%25d8%25a8%25db%2581-%25d8%25ab%25d8%25a7%25d9%2586%25db%258c%25db%2581%2F&#038;title=%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA%20%28%20%D8%AA%D9%86%D8%B2%D9%84%D8%A7%D8%AA%20%D8%B3%D8%AA%DB%81%20%DA%A9%D8%A7%20%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%A8%DB%81%20%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C%DB%81%29" data-a2a-url="https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/" data-a2a-title="وحدت ( تنزلات ستہ کا مرتبہ ثانیہ)"></a></p>]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://abualsarmad.com/%d9%88%d8%ad%d8%af%d8%aa-%d8%aa%d9%86%d8%b2%d9%84%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d8%aa%db%81-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%d8%aa%d8%a8%db%81-%d8%ab%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
