اصطلاحات تصوف

اصطلاحات تصوف

کسی بھی شعبہ کے علم کے حصول کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلےاس علم یا فن کی بنیا دی اصطلاحات اور ان کی تعریفات کو جانا جائے۔ پھر تفصیلی مسائل سمجھے جائیں اور اس کے بعد ہی دلائل  اور قیل و قال کی طرف متوجہ ہوا جائے مگر عموماً ایسا ہوتا ہے کہ طلبہ آغاز ہی میں کسی علم یا فن کی اصطلاحات کو علی وجہ البصیرت سمجھے بغیر مسائل اور دلائل اور علل و ابحاث میں پڑ جاتے ہیں۔ علم تصوف بھی مکمل ایک شعبہ فن ہے اصطلاحات تصوف سے واقفیت بھی ضروری ہے

مخصوص اصطلاحات تصوف

آب رواں: روح میں طیران( پرواز) پیدا ہونے سے جو دل کو فرحت حاصل ہوتی ہے۔ اس کو آب رواں سے تصوف میں تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کی  بارش ہے جو قلب کو آلائشوں سے اس طرح دھو کر صاف کر دیتی ہے جیسے بارش کی تیزی پتوں پر سے گردو غبار کو اجالا بناتی ہے۔

آخر: اس سے صفات و کمالات وافعال و انفعال کی صورت میں ذات کا ظہور مراد ہے۔

آدم: اللہ تعالیٰ کے خلیفہ اور عالم کی روح کو کہتے ہیں

آزاد: وہ شخص ہے جو علم و فضل و کمال کے باوجود بشری قیود اور جسمانی تعریفات سے چھٹکارا پالے اور دل کو لباس آراستگی و اسباب دنیوی سے اٹھا دے۔ خلق سے درگذر کرے اور ہمہ وقت جلال و جمال کی جانب متوجہ ہو۔ کسی آرزو کے ہر آنے کی امید اسے اپنی طرف نہ کھینچے، تکلیف و آرام سے اس میں کوئی تغیر نہ پیدا ہو۔ سونا مٹی اس کی نظر میں ایک سا ہو۔

آستان / آستانه : دربار ، بزرگان دین ، اولیاء اللہ کا مزار یا اس کااحاطه، درگاه –

آشنائی:رب تعالیٰ کا مخلوق کے ساتھ کلی و جزوی طور پر تعلق

آفاق : عالم في الخارج جس سے مراد دنیا ہے ، کائنات میں جو کچھ از قسم ظاہر و باطن ہے آفاق ہے ۔ سیر تفصیلی مراد ہے

آفتاب:  روح کی تجلی کو کہتے ہیں جو سالک کے دل پر کسب سے پہلے اور بعد میں وارد ہوتی ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے روح مراد ہے کیونکہ وہ جسم میں آفتاب کے مثل اور نفس ماہتاب کے مثل ہے ۔

آمدن:   سالک کا رجوع ہونا عالم بشریت کی طرف ۔ عین حالت استغراق یا سکر میں عالم ارواح سے عالم کون و مکاں کی طرف لوٹنا ۔

آن: وقت کو اور ادا کو کہتے ہیں

آنیت : ثابت کرنا وجود عینی کا حیثیت مرتبہ ذاتیہ ہے۔

آه: ایک حلاوت ہے کمال عشق کی

آھو (ہرن): فرد کامل جو وادی قدس کی فضا میں پھررہا ہو چوکڑیاں بھر رہا ہو۔

آیت قدسی: اس سے مراد عشق ہے

اب الارواح:اس سے روح محمدی ﷺ مراد ہے جو روح کل اور ہر تخلیق کا مبدأ ہے۔

ابتہال : گریہ وزاری کے ساتھ دعا بارگاہ الہی میں ، رجوع قلب و عجز و انکساری

ابد : ازل کے مقابل دوام ہمیشگی جس کی انتہاذات کے لیے نہ ہو جیسے کہ ابتدا نہیں ویسے انتہا بھی نہیں۔ ابد سے مراد بعد یت خدا جو کہ سمجھی گئی ہے۔

ابدال :۔  تبدیل ہو نے والے ۔ ابدال اس لیے  کہتے ہیں کہ دنیا ان سے خالی نہیں رہتی ۔ اگر ایک چلا جاتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ آجاتا ہے اور بعض عرفا ء نے ان کو ابدال کہنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ کسی بدن کو اپنی جگہ چھوڑ کر خود کسی اور جگہ چلے جاتے ہیں۔ یا اپنا ایمان یہاں چھوڑ کر وہ کسی بدن کے ساتھ کسی اور جگہ چلے جاتے ہیں۔

ابدان زکیہ:وہ اجسام جو آمیزش بشریت سے پاک ہیں جیسے فرشتے

ابر:اس سے وہ حجاب مراد ہے جو شہود کے حصول میں رکاوٹ بنتا ہے ۔ یہ اپنی لطافت کی بنا پر لطف انگیز ہوتا ہے ایسا کہ اکثر طالبین اس کے لطف میں پڑ کر تجلی جلالی حق کے منکر ہو کر کمال سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ابرو:الهام غیبی ، شان محبوبیت اور کلام مراد ہیں جو سالک کے دل پر بطور تجلی الہامی وارد ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سالک مقام قرب میں پہنچتا ہے۔ اس سے صفات الہی اور قاب قوسین بھی مراد لیتے ہیں۔

ابن الوقت:۔ وہ صوفی جو حال کے تابع ہو یا حال پر اختیار نہ رکھتا ہوجو تقاضائے وقت عمل کرے مغلوب الحال صاحب تلوین بھی کہتے ہیں ۔

ابوالحال: شیخ مکمل جو خود بھی کامل ہو اور دوسروں  کو بھی کامل بنائے۔

ابوالوقت:۔صاحب حال و قال،جس کا وقت تابع ہو صاحب تمکین  جو حال پر اختیار رکھتا ہو صوفی کامل  اور قطب الاقطاب بھی کہتے ہیں اسے ابو الحال اور صاحب تمکین کہتے ہیں

اتحاد:حضرت حق کی ہستی میں مستغرق ہونا

اتحاد الشریعۃ والطریقۃ: شریعت جو حق تعالیٰ کے حکم سے واجب ہوئی عین حقیقت ہےحقیقت اس حیثیت میں عین شریعت ہے کہ  کہ اس کیلئے معرفت ضروری ہے معرفت نہ ہونے سے گمراہی کا خطرہ ہے

اتصاف:ذات وصفات حق سے متصف ہوناحقیقی ذات و صفات اللہ کیلئے ہیں بندے کی ذات و صفات اعتباری ہیں  اس کا وجود ذات حق کے وجود اور صفات کا ظل ہے

اتصال:۔ عارف کامل کا اپنی ذات کو وجود مطلق سے متصل ملا حظہ کرنا ہے اس طرح کہ اپنی ذات اور وجود مطلق کی اضافت غیریت بالکل اٹھ جائے اس حالت میں عارف کامل وجود مطلق اور ذات حق سبحانہ تعالی کی بقا سے باقی رہتا ہے۔

اتہام  التوبۃ:بندہ کو اپنے نفس کاصحبت توبہ کی حالت میں کسی خیال کے  ساتھ   متہم کرنا

اتہام الطاعۃ:خطرات نفسانی سے توبہ کرنا

اثبات الخصوص:اس سے حق کا اثبات اور ماسوائے حق کی نفی مراد ہے۔

اثبات الحقيقة:  اس سے حق کا اثبات اور خلق کا تعین میں اس حیثیت سے مراد ہے کہ حق خلق کے ساتھ منفرد نہیں اور نہ خلق حق کے ساتھ۔ اس کو اثبات خلاصہ اہل الخلوص بھی کہتے ہیں۔

اجازت : از روئے مذہب جواز کسی عمل کا اختیار یا آزادی ۔ مرشد کی طرف سے بیعت لینے کا نیز تلقین اور ارشاد ہدایت کرنے کی اجازت کسی بزرگ یا عامل کا کسی شخص کو کوئی وظیفہ بتانا اور اس کے پڑھنے یا کام میں لانے کا اختیار دینا۔

اجازت مطلقه : مستقل اجازت مرشد کا قائم مقام خلق خدا کی ہدایت کرتا ہے اور مریدوں کو اپنے نام شجرہ دیتا ہے ۔

اجازت نیابت : صاحب مجاز شیخ کے حکم سے بیعت لیتا ہے اور انہیں اپنے شیخ کا مرید بناتا ہے ۔

احاطہ:۔اللہ تعالی کا ہر چیز پر محیط ہونا

احتساب:اس سے بندہ کا اپنے نفس سے محاسبہ کر نا مراد ہے نیز عارف کا تعینات کی تفصیل سے یعنی ان میں حقائق کو نیہ و شیون الہیہ کی تلاش و جستجو ہے۔

احد: اعد اد صفات و اسماء کی نفی کے اعتبار سے اہم ذات ہے اس کو مرتبہ لا تعین، مرتبہ سلب صفات  ذات خالص ، وجود بحت، احدیت صرفہ وغیرہ کہتے ہیں۔
احدیت :اس سے مراد مخلوق کو چھوڑ کر اللہ تعالی کی ذات یکتا کا مشاہدہ کرنا

احدیت الجمع: مرتبہ وحدت، حقیقت محمد ﷺ ، ابو الارواح، اسم اعظم اور آدم حقیقی کو کہتے ہیں

احدیت ذاتیہ : ذات کا اس طرح اعتبار کرنا کہ اس کو کسی چیز کی طرف بالکل نسبت نہ ہو۔ اس کو مرتبہ لا بہ شرط شے کہتے ہیں۔

احدیت صفاتیه : ذات کا اسماء وصفات کی کثرت میں ایک ہونا، اس اعتبار کو واحدیة الذات اوار احدیہ اسمائیہ بھی کہتے ہیں

احدیت فعلیہ : تمام افعال کو حضرت حق کا فعل سمجھنا اور دیکھنا۔

احدیت الکثرت: ایسی ذات واحد جس میں کثرت کا ادراک ہوتا ہے اس کو کثرت فی الوحدة بھی کہتے ہیں نیز حضرت جمع اور واحدیت الجمع بھی اس کے نام ہیں۔

احدیت العین: خلق کو حق میں اور حق کو خلق میں دیکھنے کو کہتے ہیں نیز جمع الجمع بھی اس کا ایک نام ہے۔

احسان: طرزِ عبودیت سے احکام کی بجا آوری اور نظرِ بصیرت سے ربوبیت کا مشاہدہ۔

احوال:مواہب ربانی  کو کہتے ہیں ۔سالک کی روحانی اوراخلاقی ترقی کے نتیجہ میں خوشگوار کیفیات کا طاری ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے پر جوفیوضات نازل ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے اِس کا باطن صاف ہوتا ہے اور یہ بندہ اپنے مولا کے قریب ہوتا ہے۔ ان فیوضات کے نازل ہونے کے اثرات کو احوال کہتے ہیں۔ اوران فیوضات کا نزول کسبی بھی ہوتا ہے اور وہبی بھی۔

احوط : دو یا زیادہ باتوں میں جو احتیاط سے قریب تر ہو ، جس میں غلطی سے بچنے کا زیادہ امکان ہو ، زیادہ احتیاط پر مبنی عمل۔

اخلاص: اپنے دِل کو ماسوا اللہ سے خالی کرنا اوراس کے ہر فعل کا خالص اللّٰہ  کیلئےہونا۔ اخلاص و صدق قریب قریب ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ صدق اصل ہے اور وہ فر ع جو اخلاص سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور اخلاص اُسکا تابع۔

اخلاق: اس سے مراد عبودیت کی تکمیل ہے۔ اس کے دس مرتبے ہیں: صبر ، شکر ، رضا، حیا، صدق، ایثار، خلق، تواضع ، فتوت، انبساط

اخباط:سکون کو کہتے ہیں۔ اس کی چار اقسام ہیں:

(1) اخباط العوام : اس کا مطلب اخلاق ذمیمہ میں نفس کا سکون ہے ۔

(2) اخباط المتوسطین: خطرات و غیرہ سے قلب کا سکون مراد ہے۔

(3) اخباط الخواص: اس سے مراد ایسی حالت ہے جس میں انسان کے نزدیک تعریف و برائییکساں ہو اور اسے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ ہو۔

(4) اخباط الباغین : سالک کا حق کے مشاہدہ میں مستغرق ہو نا مراد ہے۔

اخفیاء:اصحاب سر کو کہتے ہیں جن کو حق تعالیٰ نے مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے۔ اگر وہ موجود ہوتے ہیں تو لوگ ان کو نہیں پہچانتے اور اگر غائب ہوتے ہیں تو ان کو یاد نہیں کرتے۔

ادب: بندے کو ان چیزوں کی  جو حق تعالٰی کے لئے مختص ہیں اور ان کی جو بندےکیلئے مختص ہیں کماحقہ تمیز رکھنا۔ اس سے مراد عبودیت و بندگی کی نگہداشت ہے۔ اس کی سات اقسام ہیں:

(1) ادب شریعت : رسوم حق سے واقفیت کا نام ہے ۔ ۔

(2) ادب خدمت: اپنے آپ کو مبالغہ کے ساتھ رویت حق میں فنا کر دینا۔

(3) ادب خلق : مخلوق کو بہ شہود حق مشاہدہ کرنا۔

(4) ادب الصبیان : اس سے مراد او امر حق تعالی پر قیام ہے۔

(5) ادب الشیوخ : اس سے مطلب باطن کی ترتیب ہے یعنی ترتیب کی وجہ سے دل میں دوئی کےخیال کی گنجائش بھی نہ رہے۔

(6) ادب حق : اللہ تبارک و تعالی اور جو کچھ اس کے واسطے ہے اس کا پہچاننا۔

(7) ادب حقیقت: سالک کا حق کو حق اور خلق کو خلق جاننا اور پہچاننا کہ خلق کو اپنی خلاقیت میں حق سے کیا تعلق ہے ۔

ادراک:کسی چیز کو گہرائی تک جان لینا، احاطہ کرنا ہےاس کی دو اقسام ہیں

ادراک بسیط:وجود حق کا ادراک حق کے ادراک کے موافق ہو

ادراک مرکب:وجود حق کا شہود کے ساتھ ادراک کرنا

ادیب:اس سے مراد عارف ربانی ہے۔

ارادہ: (1)غذائے روح طلب کرنا۔ (2) خواہشات نفس کو مٹانا اور اللہ تعالی کی مرضی پر ہونا ۔ (3)   آتشِ محبت کا ایک شعلہ ہے جو دل میں حقیقت کی طلب پیداکردے۔

ارتفاع:َاٹھنا بلند ہونا بشری صفات سے ملکوتی صفات کی طرف ترقی کرنا

ارکان: چار عناصر مراد ہیں۔ آب، آتش، خاک، باد ۔

ارکان کمال: اس سے معرفت حق مراد ہے۔ اس پر عمل اور معرفت، باطل سے اجتناب ہے۔

ازلی :۔ ذات ازلی واجب الوجود اور قائم بالذات ہے۔ وہ ذات قدیم نہ پہلے کبھی معدوم تھی اور نہ آئندہ کبھی نیست و نابود ہوسکتی ہے۔قبلئیہ معقولہ ،ازل الازال

استجلاء:۔ظاہر ہونے  انسانی طاقت سے برترہستی کا ظہور

استتار:۔پردہ میں ہونا مراد ذات باری تعالی جو ہمیشہ پردہ میں رہتی ہے

استحضار : دلی لگاؤ ، پوری توجہ ، حضور قلب ، خلوص سالک کو اس قدر قدرت ہو کہ جس وقت جس خیال یا حال کوچاہے اپنے اوپر طاری کرلے پوری توجہ اور خلوص سے دل کو کسی طرف لگانا ، لو لگانا ۔

 استدراج :۔کے معنی احسان کی شکل میں مشقت اور تکلیف کا پوشیدہ ہونا ہے۔،شیطانی طاقت سے مافوق العادت کام کا ہونا۔

استغاثہ: ایک متداول فریادی دعا جو استغیث باللہ’ (  میں اللہ سے فریاد کرتا ہوں) سے شروع ہوتی اور مصائب میں پڑھی جاتی ہے ۔

استغٖفار: مغفرت توبہ گناہوں کی معافی کے لیے دعا کرنا، بخشش طلب کرنا۔

استغناء:   دنیا اور اس کی لذتوں سے رو گردانی، ضروریات کی فکر نہ ہونا ، ( خود داری کے ساتھ ) قناعت اور توکل ۔ سلوک کی وہ منزل جہاں پہنچ کر مالک خدا کے سوا ہر چیز سے بےنیاز ہو جاتا ہے۔

استغراق:۔عشق الہی میں ڈوب جاناخدا کی صفات و اسماء کے ذکر میں بے خودی کا عالم ، مراقبہ ۔ استغفار

استقامت: تقریب اسرار کا ذریعہ،،جملہ احکامِ شریعت و طریقت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جانا اور ہمیشگی کے ساتھ  عمل کرنا خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔

   استقامت کے تین درجے ہیں۔

اول تقویم: اِس سے مراد تادیب نفس ہے۔

دوم اقامت: اِس سے مراد تہذیب قلب ہے۔

سوم استقامت: اِس سے مراد تقریب اسرار ہے۔

استواء استوی: آیت قرآنی ” الرحمن علی العرش استوی رحمن ( خداے کریم) عرش پر غالب ہے، (مجازاً) علو اور بلندی کا سب سے اعلی اور بلند تر نقط    ۔

استہلاک:بقا باللہ سے پہلے کی منزل۔ طلب فنافی اللہ  اس سے مراد بالکل فنا ہو جانا ہے۔

اسرار الظاہرہ :ان اسرار کو کہتے ہیں جن کے قلب میں ورود کرنے سے دنیا کی محبت اور طلب نہیں رہتی۔

اسراف: طالب حق کو اس قدر فیض دینا جو اس سے کسی صورت سنبھالے نہ سنبھلے ۔ تلاش حق میں بے تکی عبادت کرنا

اسلام: یہ تسلیم و رضا ہے یعنی انبیاء علیہم السلام کی مکمل پیروی کرنا۔ اس کی دو قسمیں ہیں

اسلام شرعی (نماز ، روزه، حج ، زکوۃ وغیرہ، شریعت مکرمہ کے احکام بجالانا )

اسلام طریقی (ریاضات شاقہ ،کسب نفس کشی ذکر و شغل اور مراقبہ و غیرہ کرنا ۔

بعض نے مزید دو قسمیں کی ہیں۔ اسلام مجازی ( ممکن اور واجب کو غیر جانتا ) اور اسلام حقیقی (ممکن کو واجب سے غیر نہ جانتا )۔

اسماء وصفات : وہ لفظ یا عبارت جس کا اشارہ حق سبحانہ کی جانب ہو  باعتبار صفت یا ذات کے۔

اسماء توحيد :۔ اللہ تعالی کے اصلی نام سات ہیں۔ ان سات سے پھر چھ اور نام نکلتے ہیں۔ ان تمام اصلی اور فرعی اسماء کے مجموعے کو اسماء توحیدی کہتے ہیں۔ اصلی نام یہ ہیں(لا الہ، الا الله ،هو،حی ، واحد، عزیز، ودود) فر عی چھ نام ۔ ( حق ،قھار، قیوم ، وھاب، مهیمن، باسط)

اسم جامع:۔اسم جامع اللہ ہے تمام اللہ تعالی کے نام اس میں شامل ہیں

اسم جلالی : خداے تعالی کا وہ نام جس سے جلال و جبروت ظاہر ہو ، جیسے : جبار ، قہار ذوالجلال والاکرام ( کہا جاتا ہے کہ اس اسم کا ورد اگر الٹا پڑے تو خود پڑھنے والے کو نقصان پہنچ جاتا ہے) ۔

اسم جمالی : خدا تعالی کا وہ نام جس سے شان رحمت کا اظہار ہو ؟جیسے : رحمان – رحیم – لطیف – خبیر – مجیب ۔ رؤف – عفو

اسم ذات/ ذاتیہ : اسمائے الہی میں اللہ یا ھو جو صفات سے قطع نظر اس  کی ذات پر دلالت کرتے ہیں ۔وجود غیر پر موقوف نہ ہو

اسم صفات / صفت : اسمائے الہی میں سے (اللہ کے علاوہ) ہر ایک نام جو اس کی کسی نہ کسی صفت پر دلالت کرتا ہے ، جیسے ستار (بڑا پردہ پوش) غفار (بڑا مغفرت کرنے والا ) ۔

اشجان : مطلوب کی جدائی سے اندوہ گیں ہونا اور غم حاجت مندی رکھنا ۔

اشراق :   اس سے مراد ہے قلب کا نور محبت سے منور ہو جانا یہ تجلی حبی‏ ‏ کے لوازمات میں سے ہے ۔ صفائے باطن کی وجہ سے روشن ضمیری؛ کشف ، الہام ۔

اشفاق: اس سے مراد خوف اور رحم ہے۔

اشفاق العامہ گناہوں سے بچنے کو کہتے ہیں۔

اشفاق المرید : اپنے دل کو خطرات سے پاک صاف رکھنے سے مراد ہے۔

اصابع: اس سے صفت علم و قدرت مراد ہے

اصفیاء:ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے باطن کو دنیاوی آلودگیوں سے پاک صاف اور اپنے دل کو حضرت حق کی طرف رجوع میں مصروف رکھتے ہیں۔

اصحاب طیران : وہ اولیا جو فضا میں طیران (پرواز کر سکتے ہیں) کرتے ہیں اور جسم مثالی ان کا مصفا اور جسم عنصری ان کا مانند ہوا کے لطیف ہے ۔

اصحاب ظاہر/ ظواہر : وہ لوگ جو قرآن و حدیث کے ظاہری معنی پریا ان معنی پر جو منقول ہیں حصر کرتے ہیں اور ان کے علاوہ کوئی مطلب لینا جائز نہیں سمجھتے ۔

اصطلام:۔  وہ غلبہ جو دلوں پر وارد ہوکر انہیں سلب کر لیتا ہے ۔  محبت و شیفتگی جو سالک کے قلب پر غالب ہوتی ہے۔

اصل: صفات کی اصل الہیت ہے اور اسماء کی اصل ربوبیت۔ کل اسماء کا اشتقاق ربّ سے ہے اور کل صفات کا استخراج اللہ اور الہ ہے۔ یہ حجابات میں جمالی اور جلالی ذات سبحانہ کے جو ان حجابات سے آگے نظر بڑھاتا ہے وہ الہیت اور ربوبیت سے تجاوز کر کے حق وحدہ لاشریک کا امتیاز کر لیتا ہے۔

اصل الاصول: وحدت سے مراد ہے جو اصل ہے اس کو اصل حقائق بھی کہتے ہیں۔

اصول اسماء الهیه : امہات اسماء سے مراد ہیں جو حی، علیم، مرید ، قدیر، سمیع، بصیراورکلیم ہیں۔ ان کوسات ا مام (ائمہ سبعہ)  بھی کہتے ہیں۔

اصل الزمان:اس سے وقت مراد ہے جو ماضی و مستقبل کے درمیان ہے۔ اس کو نقد حال بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی گرفت و یافت نا ممکن ہے کیونکہ جب اس کا ادراک کرنا چاہتے ہیں تو فورا ہی وہ ماضی ہو جاتا ہے۔

اصول سہ گانہ :۔۔ کتاب و سنت ، عقل و فکر اور اجماع امت کےمطابق اصول

اعتبار:۔ حقیقت کے مقابلہ میں  استعمال ہوتا ہےجو شی حقیقی نہیں وہ اعتباری ہے جس کو خداوند تعالیٰ نے مقرر و متعین فرمایا ہو۔ اس کا اطلاق تجلیات و تعینات پر ہوتا ہے ۔

اعتبارات اربعه : وجود، علم، نور اور شہود سے مراد ہیں۔

اعتکاف: دل کو دنیا اور اس کے جھمیلوں سے فارغ کر کے حضرت حق تبارک و تعالیٰ کے ساتھ یکسو ر کھنا۔  اعتکاف وعکوف کو اقامت بھی کہتے ہیں۔

اعتصام :اس سے مراد اطاعت و فرمانیرداری کی حفاظت اور اس پر ہمہ تن وقت نگاہ رکھنا ہے۔

اعراس : بزرگان دین کے مزارات پر معتقدوں کے سالانہ اجتماع (جن میں قرآن خوانی ، وعظ و تقریر، تقسیم تبرکات اور لنگر کے علاوہ نعت خوانی اور ایصال ثواب اور سماع وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے) ۔

اعراض : وہ اشیا جو قائم بالذات نہ ہوں اور اپنے وجود کے لیے جسم یا مل (جوہر) کی محتاج ہوں ، مثلاً : رنگ و بو وغیرہ (اعراض نو ہیں : (1) کیف (2) کم (3) این (4) متی (5) اضافت (6) وضع (7)فعل (8) انفعال (9) مِلک –

اعراف: لغت میں کھجور کے درخت، ریت کے بلند ٹیلے اور جنت و دوزخ کے درمیان مقام کو کہتے ہیں۔  معرفت الہی میں بلند ترین مقام۔ حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں وہ مطلع جو شہود حق کے مقامات ہیں۔ روح انسانی جب تک عالم مثال اور عالم برزخ میں رہتی ہے عالم ناسوت کی طرف توجہ کرتی ہے لیکن جب اعراف میں پہنچتی ہے تو اس عالم سے تعلق ختم کر لیتی ہے۔

اعیان:حقائق عالم کی صورتیں جو علم باری تعالی میں ہیں، تعینات اور اجسام جو وجود ذات کے مظاہر ہیں، عملی صورتوں کا نام ہے

اعیان ثابته / خارجیه : ممکنات صور معانی صور علمیہ حق تعالی جو جمیع موجودات غیب اور شہادت پر شامل ہیں ، آئینہ عالم جو علم الہی میں قبل تخلیق موجود تھا اب بھی موجود ہے اور آئندہ بھی رہے گا ، صور علمیہ کو حقائق الاشیاء بھی کہتے ہیں نیز اعیان خارجیہ عالم ارواح کو کہتے ہیں ۔ وہ مظاہر جو خارج میں ظاہر ہوتے ہیں اعیان ممکنات اور وجودعینی اورعالم شہادت کے نام سے پکارے جاتے ہیں ۔

اعزام : مراتب محبت کے درجات میں آٹھواں درجہ اعزام یعنی طلب مطلوب میں اپنے کو ہلاک کر دینے کے درپے ہو جاتا ۔

اغیار : وہ لوگ جو محجوبان عن الحق اور وہم غیریت میں گرفتار ہیں

افتادگی:۔حالات اوزکیفیات کا چھپا نہ سکنا یا ضبط کی کمی ۔ باطنی حالت کا اظہار ہے ۔

افراد:یہ اقطاب کی طرح اولیاء کاملین ہیں لیکن قطب کے دائرہ میں نہ داخل ہیں اور نہ قطب کا ان پرتصرف ہے۔

افق: اس سے مراد وہ انتہا ہے جہاں مقربین کا سلوک پورا ہوتا ہے اس کو معراج و معارج بھی کہتےہیں

افق اعلی : روح کے مقام کی انتہاء اور مرتبہ واحدیت مراد ہے۔

افق العلى: اس سے مراد الوہیت ہے جسے حضرت المعانی اور تعیین ثانی اس بنا پر کہتے ہیں کہ جب سالک اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس سے حضرت حق تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں جیسے مردوں کو زندہ اور اندھوں کو بینا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نام حضرت ظہور التجلی بصورۃ الحق ہے۔

افق مبین : مقام قلب کی نہایت کو کہتے ہیں۔

اکوان: ( موجودات یا کائنات ) جملہ مادی موجودات جس کے لئے زمان اور مکان ہو۔ وہ اجرام جن سے مل کر یہ کائنات بنی ہے۔

اکبرالقربات:ذکر الہی کو کہتے ہیں اللہ کا ذکر بزرگ تر ہے

الان:  نقد وقت۔وقتِ حاضرایک غیرمتمکن حالت

التجاء:حق کو مضبوطی سے پکڑ نامراد ہے یعنی اس سے اطاعت کی محافظت اور رضاء الہی کی توفیق طلب کرنا

اللسانعلم حقائق کے بیان کرنے کو لسان کہتے ہیں ۔

القاء: عارف سالک کے دِل پر جو عالم غیب سے علم غیب وارد ہوتا ہے اسے القاء کہتے ہیں۔

القائے سبوحی: وہ القائے رحمانی جو حق تعالی کی طرف سے بلا کسی واسطہ کے بندہ کے قلب پر وارد ہوتا ہے اور بندہ اپنے  آقا کی طرف رجوع کرتا ہے  اسے داعی الی اللہ بھی کہتے ہیں

الوہيت والٰہيت: اسم الوہیت اللہ ہے،اس لفظ کو تفصیل صفات کے مقام میں خدائی و خداوندی سے اطلاق کرتے ہیں۔ یعنی وہ مقام جس میں رب اور مربوب کو اعتبار کرتے ہیں۔جملہ اسماء و صفات  وافعال کا جامع ہے اسے حضرت الہیت یا حضرت الوہییت کہتے ہیں

اِلہام: سالک کی صفائی قلب کے بعد جو واردات  قلب ہوں اور اُن پر سالک کا بغیر استدلال یقینِ کامل ہو۔

ام الكتاب: عقل اول اور مقام وحدت اپنی حقیقت محمد کی ملی قیام مراد ہے۔ بعضوں نے مرتبہ احدیت مراد لیا ہے۔

امانت: اس سے مراد عشق الہی اور اسرار حق تعالی ہیں جوزمین و آسمان کے انکار پر انسان نے اٹھائے اس امانت کا مقام قلب ہے۔ بعض نے انانیت حقیقی مراد لی ہے۔

امام مبین:اس سے کتاب اللہ اور بعض کے نزدیک انسان کامل مراد ہے

امثال : وہ مادی مظاہر جن میں عارف کو جلوہ الہی نظر آئے .

امر:   ایک عالم ہے جو بے مادہ مدت(زمان و مکان) کے موجود ہے۔ عقول اور نفوس اسی عالم سے ہیں اور اس کو عالم ملکوت اور عالم غیب بھی کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا امر ہی موجودات کی علت ہے۔ جو چیز نہ تھی پھر ہو گئی ۔وہ امر الہی سے ہوئی ۔

اُمناء : ایک گروہ ہے کہ جو اپنی باطنی حالت میں کامل اور محاسبہ کرنے والے ہوتے ہیں اور ظاہر سے بالکل بے خبر ، گروہ ملامتیہ ، وہ لوگ جو خود کو خواری اورخستہ حالی کے پردے میں مخفی رکھتے ہیں خود کو ظاہر نہیں کرتے ۔

 أمهات: چار عناصر اور سات آسمانوں کو اصطلاحاً اُمہات کہا جاتا ہے۔

انا: بندے کا اپنے افعال سے نکل جانا صوفیہ کہتے ہیں ۔ ( آنا بلا انا ) میں ، میں نہیں ۔اپنی ذات اور شخصیت کا اظہار۔وجود حق کہ ذات اپنے آپ کو اس کے ساتھ تعبیر کرتی ہے خواہ مطلق ہو خواہ مقید اور بعض کے نزدیک عبارت ہے ذات مطلقہ سے لہٰذا ہر مظہر کی انا وجود مطلق کی انا ہے، اور انا سے اشارہ ہے مرتبہ وحدت و حقیقت محمدی کی طرف بھی کہ اس کو علم مجمل اور یقین اول کہتے ہیں

انابت: توبہ کرنا’ رجوع الی اللہ ہونا اور تعینات سے خلاصی پانا۔

انانیت: حق سبحانہ و تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور تمام تعینات سے چھٹکارا پانا۔ ایسی حقیقت جس کی طرف بندے کی ہر چیز کی اضافت کی جائے۔ مثلاً میرا نفس میری روح اور میرے ہاتھ تو تیری حقیقت غیر حق ہے جبکہ لا الہ کا مطلب انانیت ہے اور الا اللہ کا مطلب اثبات حق تعالی ہے۔

اندماج: کسی چیز کی ماہیت میں یا کسی شے میں محو ہو کر ایک ہو جانا یا اس جیسا ہو جانا۔

اندراج: بغیر حلول و اتحاد کے ایک چیز کا دوسری چیز میں داخل ہو جانا۔

انزوا:اپنے دل سے تمام اسباب اور دنیاوی تعلق کو نکال دینا اور حق کے علاوہ مخلوق کی طرف متوجہ نہ ہونا اور دل سے دنیا و عقبی کو محو کر دینا ہے۔

انزعاجکسی مقصد کے حصول کی خاطر دل کا خواب غفلت سے بیدار ہو کہ دھڑ کنا انزعاج کہلاتا ہے۔

انس:  جمال حضرت الہیہ کے مشاہدے سے جو اثر دِل میں پیدا ہو اسے انس کہتے ہیں۔ اس کو جمال الجلال بھی کہتے ہیں۔

انسیت :دل کے مشاہدہ سے روح کا لطف اندوز ہونا۔

انفاس صادقه :ایسی خالص نیت جو ریاء وغیرت سے بالکل پاک ہو۔

انسان کامل: وہ ذات جو تمام اسماء وصفات الہی اور کل عالم کونی کلی و جزوی کی جامع ہو۔

انسان حیوانی: وہ انسان ہے جس میں حیوانیت غالب اور روحانیت مغلوب ہو، اس کی عقل کا نور جس کی ظلمت سے بجھ جاتا ہے۔

انقباض : ایک ایسی کیفیت جس میں سالک کی طبیعت ذکر الہی کی طرف رغبت نہیں کرتی ۔

انکشاف: کسی مخفی یا غیب کی بات کا بغیر وسیلہ ظاہری علم ہو جانا، کشف

انیت:۔وہ وجود جس کی طرف لفظ انا میں اشارہ کیا جاتا ہے ، اضافت کے راستے سے حقیقت ، چیز کی انیت اس چیز کی حقیقت ہوتی ہے حق کی جانب(انی انا ربك) بے شک میں ہی تیرا رب ہوں اور کامل خلقت کی جانب (انی رسول اللہ ) بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ۔

اوباش: اصطلاحا ایسے شخص کو کہتے ہیں جو حضرت حق تعالی کے علاوہ کسی بات، کسی شے ، اور کسی شخص کی پرواہ نہ کرے

اوتاد:یہ چار اولیاء اللہ ہیں جو زمین میں چاروں سمت میں مقرر ہیں۔ ان سمتوں کی حفاظت اور دیکھ بھال ان سے ہی متعلق ہے ایک کا نام عبد الحی جو مشرق میں مقرر ہے۔ دوسرے کا نام عبد الحلیم جو مغرب میں مقرر ہے، تیسرے کا نام عبد القادر جو جنوب میں مقرر ہے اور چوتھے کا نام عبد المجید ہےجو شمال میں مقرر ہے۔

اولیائے ظاہرین : ان کے سپرد خدمت ہدایت خلق ہوتی ہے یہ ظاہر میں ہدایت کا کام کرتے ہیں انہیں کشف حقائق یعنی کشف معنوی ہوتا ہے۔یہ کشف و کرامات سے سروکار نہیں رکھتے۔ انہیں ۔قطب الارشاد مطلق، قطب الارشاد ناجیہ، اولیاء ابرار، موحدین، محققین، اویسی، ملامتیه، طالبین، مریدین، سالکین، سائرین، طاہرین،عارفین ، عاشقین اور واصلین کہتے ہیں ۔

اولیاء مستورین : ان کے سپرد انصرام امور تکوینی ہوتا ہے  جسے کشف کونی یا کشف صوری کہتے ہیں، یہ اغیار کی نگاہ سے مستور رہتے ہیں یہ صاحب خدمت ہوتے ہیں ، انہیں رجال الغیب اور مردان غیب بھی کہتے۔ ہیں حق تعالیٰ ان کے حسن احوال اور کمالات باطنی کو اغیار کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھتا ہے ان کی شان ہے (أَوْلِيَائِي ‌تَحْتَ ‌قِبَائِي لَا يَعْرِفُهُمْ غَيْرِي).

اہل اللہ : زاہد لوگ ، عرفان الہی ، اللہ سے دوستی رکھنے والا

اہل باطن : عارف یا عارفان الہی ، کشف و کرامات والے ، جن کے دل پر زہد و ریاضت کی بدولت اسرار الہی منکشف ہوتے ہیں

اہل تجرید : وہ لوگ جو خواہش نفسانی سے مجرد اور لذات نفسانی سےعلیحدہ ہو چکے ہوں ۔

اہل ذوق:جو اپنے احساس و ذوق کی بنا پرتجلیات میں ڈوبے رہتے ہیں

اہل صفہ :حضور ﷺکے وہ غریب صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم جو سب کچھ چھوڑ کر دعوت و ارشاد کے ہو کر رہ گئے تھے۔

ایاز:مجازی معشوق مراد ہے

ایثار: جو کچھ ہو وہ سب بخش دے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردےاپنی انا سرنڈر کردے  اس کی اپنی ملک و ملکیت کوئی چیز نہ ہو۔

ایجاد:اعیان ثابتہ اور عالم میں وجود حقیقی کا ظہور اس سے مراد ہے۔

ایقان: عارف کا وہ انتہائی مقام ہے کہ اسے امر کا عین الیقین حاصل ہو جائے کہ ہر ذرہ میں ذات ہے اور اسی میں محویت ہو جائے۔

اینیت:مرتبہ ذاتیہ کی حیثیت سے وجود عینی کی تحقیق اینیت کہلاتی ہے۔

ایام بیض : قمری مہینے کی تیرھویں چودھویں اور پندرھویں تاریخیں (جن میں مسلمانوں کے نزدیک روزہ رکھنا انتہائی ثواب ہے ، کیونکہ یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے).

ب:۔ سے نقطہ آغاز مفہوم میں جیسے : بسم اللہ کی با قرآن کریم یک اصل ہے

ثانی مرتبہ وجود ، تعیین ثانی – تنزل دوم – موجودات خارجہ ۔

دوسرے حروف کے لیے سبب۔ سبب حجاب ہے مسبب تک پہنچنے کا ۔ تعین ثانی نہ ہوتا تو حق و خلق کے درمیان کوئی حجاب نہ ہوتا ۔

ب کا نکتہ : وحدت کو کہتے ہیں کیونکہ دائرہ کثرت کا مرکز وحدت ہی ہے ۔

باء :  باء سے تعیین اول کی طرف اشارہ ہے اورباء کے نقطہ سے ذات بحت وجود مطلق کی طرف اشارہ ہے۔

باب الابواب : تمام گناہوں سے توبہ کرنے کو باب الابواب کہتے ہیں اس لئے کہ سلوک کے بہت سے باب یعنی دروازے ہیں اور توبہ سب سے پہلا باب ہے ۔ جب تک سالک اس دروازہ سے نہیں گزرتا کوئی دروازہ اس کے لیے نہیں کھولا جاتا۔

بادِ صبا : بادیمانی ،یہ دونوں مترادف ہیں یعنی ایک معنی ہیں ۔ معشوق کو عاشق یا عاشق کو معشوق کی طرف سے جو ایک بوئے محبت اور کشش کی ہوا جو مشرق سے آتی ہے اس کو باد یمانی یا باد صبا کہتے ہیں ۔ وہ نفحات رحمانیہ جو مرشد سے قلب سالک پر آتے ہیں اور اسکو مست و بے خود کرتے ہیں ۔

بادہ : جام شراب حقیقت کو بادہ کہتے ہیں نیز جو تقدیر کے موافق ہواور اُس عشق و محبت الہی کو ( جو سالک کے دل پر اس طرح وارد ہو کہ اسے مست و بیخود بنا دے) یہ مستی حقیقی ہے ۔

باده فروش : صوفیائے کرام کی اصطلاح میں بادہ فروش پیر کامل کو کہتے ہیں اس لیے کہ وہ شراب عشق کے جام پلا پلا کر بے کیفوں کو باکیف اور بیہوشوں کو باہوش بناتا ہے ، مرشد کامل ، ہادی طریقت ۔

باران : رحمت الہی کی بارش مراد ہے ، فیض رحیمی کا سالک کے دل پر نازل ہونا۔

بارقہ : سالک پر شروع میں ایک تیز روشنی جلدی سے زائل ہو جانے والی وارد ہوا کرتی ہے اس کو بارقہ کہتے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ اس کو قیام ہونے لگتا ہے ۔

بائن :۔معنی تنہا ، منفرد اور جدا ۔

باز اشہب:۔ سیاه و سفید پروں والا باز ۔ سب پرندوں پر غالب ہوتا ہے۔بعض اولیاء اللہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

بازگشت: اس کا مطلب رجوع کرنا اور پھر نا ہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ تھوڑے ذکر کے بعد تین یا پانچ بار دل لگا کر مناجات کرے  ۔

بازی:اس سے مراد خالص تو یہ اور جذبہ حقانی ہے جس کی وجہ سے سالک کا دل متغیر نہیں ہوتا اور وہ حق کی طلب اور یافت میں مضبوط اور سر گرم رہتا ہے۔

باطل:اللہ کے علاوہ ہر چیز کو کہتے ہیں اس لئے کہ حضرت حق کے علاوہ ہر چیز باطل ہے

باطن:َکسی شے کا اندرونی حصہ، (ظاہر کی ضد)اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام وہ معارف و تجلیات جو سالک کے ادراک میں نہ آسکیں

باطن كل الحقائق : مرتبہ وحدت کو کہتے ہیں اس لئے کہ کوئی تعیین اس سے قبل نہیں ہے یہی مرتبہ وحدت باطن ہے ہر حقیقت الہیہ اور کو نیہ کا ہے۔

باطن العوام: مرتبہ احدیت کو کہتے ہیں اس لئے کہ اس کے بعد سوائے غیبت مطلق کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس کو مقام اوادنی ، غایۃ الغایات اور نہایۃ النہایات بھی کہتے ہیں ۔

باطن الوجود الظاہری : اس سے مراد اعیان ثابتہ ہیں یہی اعیان کی اصل ہیں فیض اقدس سے یہی مراد ہیں اور فیض مقدس سے اعیان ثابتہ ہیں۔

بالغ: اس سچے و پکے مرید کو کہتے ہیں جو اپنی خودی و خود نمائی سے بالکل علیحدہ ہو اور یہی طریقت کا بلوغ ہے۔  اس مرتبہ کے عارف کو عارف تام المعرفت کہتے ہیں۔

بام: تجلیات کے مقام کو کہتے ہیں

بحر مسجور:۔ یہ عرش کے نیچے ایک دریا ہے جس میں حضرت جبریل داخل ہوتے ہیں ۔ پھر نکل آتے ہیں اور اپنے پر جھاڑتے ہیں تو ستر ہزار قطرے ٹپکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر قطرے سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے۔ یہ ستر ہزار فرشتے ہر روز بیت المعمور میں داخل ہوتے ہیں ۔ ایک دروازے سے داخل ہوتے ہیں اور دوسرے دروازے سے نکل آتے ہیں اور پھر کبھی قیامت تک ان کے دوبارہ داخل ہونے کی نوبت نہیں آتی ۔
بدایت :اسماء و صفات کا عالم ارواح میں تحقق۔

بدلاء: یہ سات اولیاء اللہ ہیں کہ ہر ایک ان میں سے جب ایک جگہ سے دوسرے جگہ سفر کرتا ہے تو اپنی صورت پر اپنا جسم چھوڑ دیتا ہے تاکہ کسی کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ کہیں چلا گیا ان کے سوا کوئی اس طرح بدلتا نہیں۔

بدنہ:۔جب نفس انسانی ریاضت اور مجاہدہ سے آراستہ پیراستہ ہو جاتا ہے تو اسے بدنہ کہتے ہیں ۔ نفس امارہ

بربط :اس سے مراد حقیقی ذوق و شوق لئے جاتے ہیں۔

بذل: جو کچھ اپنے پاس ہو اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرے

برزخ :۔ دو چیزوں کے درمیان حائل کو کہتے ہیں اور مرنے کے بعد سے قیامت تک کے زمانے کو بھی اسی لئے برزخ کہتے ہیں۔برزخ کئی جگہ استعمال ہوتا ہے ایک عالم مثال  عالم شہادت اور عالم ارواح کے درمیان  برزخ ہے دوسرے دل روح اور مضغہ کے درمیان ، تیسرے سینہ دماغ اور دل کے درمیان چوتھے وحدیت یعنی حقیقت محمدی ﷺاحدیت و واحدیت کے درمیان برزخ ہے۔ اس کو برزخ البرازخ اور برزخ الکبری ، برزخ اعظم ، برزخ اکبر اور برزخ اول بھی کہتے ہیں جو ذات وصفات اور ظہور واخفا کے درمیان واقع ہے۔ پانچویں یہ کہ علم عالم اور معلوم کے درمیان برزخ ہے یہ حقیقت محمدی کی طرف اشارہ ہے ۔ چھٹے یہ کہ اسماء اعیان ثابتہ اور وجود کے درمیان برزخ ہیں۔ برزخ سے مرشد کا تصور کرنا اور اس سے فیض حاصل کرنا بھی وارد ہے۔

برق: وہ نور کی تجلیاں جو سالک راہ کے قلب پر چمکتی اور اسے سیر الی اللہ کی جانب کھینچتی ہیں اور پھر پوشیدہ ہو جاتی ہیں۔

بستان: سالک کے وجود کو کہتے ہیں اور صفت بساطت کشادگی کی جگہ و مقام بھی مراد ہیں۔

بسط :واردات قلبی کے کھل  جانے کو بسط کہتے ہیں۔سیر الی اللہ میں قلبی کشائش اور معارف الہیہ کا ادراک  باطنی ترقی

بسیط:۔ وسیع،۔پھیلا ہوا ،غیر مرکب تمام چیزوں میں حضرت حق کا جمال اس طرح مشہود و ظاہر ہو کہ ہرشے عین ذات معلوم ہو۔

بسے خرابی : عاشق کا محبوب کے عشق میں بالکل غرق و تباہ ہو جانا ہے۔

بصارت:۔ آنکھ سے کسی چیز کو دیکھنا
بصیرت :وہ قوت جو اولیاء کے دل سے پھوٹتی ہے اور نور قدس سے منور ہوتی ہے۔قوت مدرکہ کو نورانی کرتی ہے اس سے انسان اشیاء کی حقیقت اور ان کے باطن کو دیکھتا ہے۔ اسے قوت قدسیہ بھی کہتے ہیں۔

بطون : بطن کی جمع ۔ ہر چیز کا بطن ذات بحت ہے یعنی تمام کائنات کے مقابلہ میں ذات بحت کو بطن کہتے ہیں اور اسکی تفصیل یہ ہے کہ عالم شہادت کا بطن عالم مثال ہے اور عالم مثال کا بطن ارواح ہے اور عالم ارواح کا بطن اعیان ہے اور عالم اعیان کا بطن ذات بحت ہے ۔ بطون ذات فی الذات تاریکی محض ہے جو تمام تجلیات کے بعد ہے ۔

بطون ذات في الذات: اس سے مراد تاریکی محض ہے جو تمام تجلیات کے بعد ہے۔

بعد: جہل، غفلت ، حق سے دوری اور عرفان سے ناواقفیت کو کہتے ہیں۔

بقا:۔ سالک کے لیےایک مقام جہاں پہنچکر وہ حق کو موجود اورعالم کو معدوم دیکھتا ہےاللہ تعالی کے ساتھ مخلوق کا مشاہدہ ہے

بقا بالله : اس مقام پر پہنچ کر سالک عارف کی نظر پورے طور پرغیریت سے اٹھ جاتی ہے اور وہ صفات حق کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے۔ اس کی بشریت باعث جامعیت کمال اسمائی ہو جاتی ہے اور جسم روح کی خاصیت لے لیتا ہے۔

بقره :۔ نفس انسانی کو کہتے ہیں کہ جو ریاضت اور مجاہدہ کرنے کے واسطے تیار ہو ۔

بلاء: ہر وہ چیز جو حق تک پہنچنے میں رکاوٹ بنے۔ حق تعالیٰ کی جانب سے توجہ ہٹانے والی چیز کو بھی بلا کہتے ہیں۔

بلبل: اس سے مراد عاشق صادق ہے جو ہمیشہ ذکر و فکر میں مشغول اور نفس امارہ سے بالکل آزاد و فارغ رہے۔

بلوغ: سالک جب مقام فنا میں پہنچتا ہے اور سیر الی اللہ کے اختتام کے بعد سیر فی اللہ کا آغاز ہوتا ہے اور اپنی ذات میں جذبات الوہیت کے تصرفات اور آثار جذبات کی کیفیات کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ صفت جذ بہ الہی کا مظہر بنتا ہے۔ پھر اس صفت سے وہ دوسروں پر تصرف کرتا ہے اور تب ہی اس میں دعوت خلق کی قوت و استعداد پیدا ہوتی ہے۔ ایسے سالک کو بالغ کہتے ہیں۔

بندگی: مقام تکلیف مراد ہے۔

بنفشہ :اس نکتہ کو کہتے ہیں جس کا ادراک کوئی بھی قوت نہیں کر سکتی۔

بوسه:اصطلاحا اس سے جذبہ باطنی مراد ہے جو عاشق کو اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ بوسہ سرمایہ حیات و بقا ہے

بوادره : سالک کے دل پر غیب سے اچانک ایسی واردات جو قلب میں بسط یا قبض پیدا کرے اور اس سے دفعتا خوشی یا خوف طاری ہو جائے ، ایک نسیم غیبی جو اچانک عالم غیب سے آتی ہے ۔

بہار: سالکان روحانی کے ذوق و شوق کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک مقام علم مراد ہے۔

بہجت: اس واردات کو کہتے ہیں جو صاحب کسب کے دل پر عالم غیب سے وارد اورسرور حاصل ہوتا ہے۔

بے آرامی: اس سے تغیرات اور حالات کی طرف اشارہ ہے یعنی موجودات کا وجود ہر لمحہ اور ہر گھڑی بدلتا رہتا ہے

بیداری: عالم صحو اور ہوشیاری کو کہتے ہیں جو بندگی کی بنا پر دم نقد ہوتی ہے۔

بيت الحرم : انسان کامل کے دل کو کہتے ہیں جس میں غیر کا خیال آنا حرام ہے۔

بيت الحكمة: اس دل کو کہتے ہیں جس میں حقانی خلوص و اخلاص کا غلبہ ہو۔

بيت العزة: وہ دل مراد ہے جو جمع کے مقام فنافی الحق میں واصل ہو گیا ہو ۔

بیت المقدس: اس سے وہ دل مراد ہے جو غیر حق کے تعلق سے مطلقا پاک ہو۔

بیت المعمور: تجلیات الہی سے معمور دل مراد ہے۔

بیرون: سالک کا اپنی ہستی سے باہر یعنی حق سے فانی ہونا مراد ہے۔ بیرون سے آفاق اور اندرون سے انفس بھی مراد لیا جاتا ہے۔

بيضاء: نور محمدی ﷺ اور عقل اول مراد ہے یہی عماء کا مرکز، عدم ( سواد غیب) کی ضد اور وجود ہے۔

بیگانگی:اس سے مراد سالک کا الوہیت میں تمام عالم سے مستغنی و بے پرواہ ہوتا ہے۔

بیماری: سالک کو پیش آنے والے قلق و اضطراب اور قبض مراد ہیں۔

بے نوائی : فنا فی اللہ اور بشریت کے اضمحلال کو کہتے ہیں

پارسائی: اس سے ہر ایسی چیز سے بچنا مراد ہے جس میں کسی بھی برائی کا ذرا سا شائبہ ہو۔ اگر یہ بچنا خلوص نیت سے ہو تو بہتر ہے اور اگر اس نیت سے ہو کہ مخلوق خدا کی نظر میں یہ برا اور اچھا ہے تو اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔

پاکبازی: توحید خاص مراد ہے جس میں ماسوا کے خطرہ کا گذر بھی نہ ہو نیز جس کے عمل سے ثواب یا اپنے مرتبہ کی بلندی کی مطلق امید نہ ہو ۔

پائے کوفتن: وجد کرنا اس سے سالک کی وہ بیقراری مراد ہے جو محبوب حقیقی کے ذکر کے ذوق و شوق کی وجہ سے پیدا ہوتی۔ خواہ یہ حالت سماع میں ہو یا بغیر سماع کے۔

پدر:اس سے ملکی عقلیں مراد ہیں۔

پرده و پردگی: عاشق و معشوق کے درمیان کا حجاب جو طریقت کے لوازم میں سے ہے۔

پروانه:عاشق کا وجود مراد ہے۔

پیر میکدہ، پیر مغاں: مرشد کامل کو کہتے ہیں جو اپنے افعال و صفات کو حضرت حق تعالیٰ کی ذات میں بالکل فنا کر دے اور بقا باللہ کے مرتبہ پر فائز ہو کر نا قصوں کی تکمیل کرے۔

پیاله : اس سے چشم محبوب کی طرف اشارہ ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ موجودات عالم کا ہر ذرہ ایک پیالہ کے مثل ہے جس سے عارف حق معرفت کی شراب پیتا ہے اور اس سے مست و بے خود رہتا ہے۔ لیکن بعض نے پیالہ سے سالک کا دل مراد لیا ہے۔

پیام: حقیقت کی جانب سے سالک کے دل پر وارد ہونے والے وہ جذبات حبی مراد ہیں جو سالک کو مست و بیخود کر دیتے ہیں اسی طرح سالک کے قلب سے جذبات اٹھتے اور حقیقت کی سمت جاتےہیں۔ یہ وہ نسبت ہے جس سے فرشتے بھی بے بہرہ ہیں ۔

ییچ زلف: وہ ناسوتی معاملات مراد ہیں جو تعینات کے مقتضیات سے مخلوق میں رائج ہیں۔

پیشانی:انوار الہی کا ظہور مراد ہے۔

پیمانه: ناپنے اور پیمائش کرنے والی شے اور اصطلاح تصوف میں عارف کا قلب مراد ہے جوغیبی انوار کا مشاہدہ اور حقائق اشیاء مراتب اور مقامات کا ادراک کرتا ہے۔

پیمانه یا پیالہ بھر دینا: مرشد کامل کا مرید صادق کی تکمیل کر دینا۔

پیکان:اس سے تجلی حبی مراد ہے جو سالک کے دل و جگر میں پیوست ہو جاتی ہے اور عاشق کو معشوق کے علاوہ ہر چیز سے بے خبر کر دیتی ہے۔

ت :اس سے تعینات اور تعد دات کی طرف اشارہ ہے جس میں تفصیل در تفصیل ہے۔

تاب زلف: حقائق ممکنات مراد ہیں۔

تابستان: اس سے مقام عشق اور سوز قلبی مراد ہے۔

تاج:۔ تاج کمال، ہر ایک طریقت کا تاج کمال

تاراج:تمام اعمال اور ظاہری و باطنی احوال سلب ہو جانا۔

تافتن: اوامر الہی پر مکمل یقین مراد ہے۔

تانیس: تجلی فعلی مراد ہے جو مبتدی سالک کے لئے تزکیہ نفس و تصفیہ باطن کا باعث ہے اور وہ اس سے انس پاتا ہے۔

تبتل: ہر چیز سے منقطع اور کٹ کر صرف حضرت حق تعالی کی جانب متوجہ ہونا یعنی تجرید محض کی طرف رجوع کر لینا۔

تبتل المرید : اس سے تمام حظوظ نفسانیہ سے مکمل طور پر علیحد گی مراد ہے۔

تبليغ في النهايت : سالک کو انتہائی مقامات تک پہنچا دینا۔

تبسم:اس سے سرور محض مراد ہے   مشہور حدیث قدسی ہے کہ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا میں نے چاہا کہ مجھے پہچانا جائے تو مخلوق کو پیدا کر دیا تا کہ اس کے ذریعہ میری شناخت ہو ۔ یہی تبسم تخلیق آدم و عالم کا سبب بنا۔

تجدد امثال: اسم رحمن کی تجلی سے فیضان وجود ہوا۔ اسی بنا پر تجلیات رحمانی کا فیضان موجودات عالم پر ہمیشہ فائز رہتا ہے کیونکہ ہر تجلی ایک نئی تخلیق کرتی اور پچھلی تخلیق کو لے جاتی ہے۔ یہی فنا ہے اور خلق جدید کا آنا بقا ہے

تبصره: بغیر آمیزش بصر کے تمام چیزوں کو عین بصیرت سے ملاحظہ کرنا۔

تجرید:اس خیال سے کہ اللہ تعالی کا حق ادا کرنا واجب ہے انسان کا اپنے دل کو اغراض دین اور حال و مستقبل کی مصلحتوں سے پاک کر لینا تجرید ہے۔ خلائق وعلائق دُنیا سے اپنے آپ کو پاک کرنا۔

تجلی:غیبی انوار جو دلوں پر منکشف ہوتے ہیں ۔

تجلی ذات :اس سے مراد مکاشفہ ہے۔ اس کا مبدأ ذات خداوندی ہے اور یہ صرف اسماء و صفات کے واسطے سے ہی حاصل ہو تا ہے۔
تجلی صفات :۔ بندے کا صفات خداوندی سے متصف ہونے کو قبول کر لیا بجلی صفات ہے۔

تجلیہ: روح کو ان کدورات سے پاک کرنا جو اس میں بوجہ اس جسم عنصری کے پیدا ہوجاتی ہیں۔

تحقیق: حق کا صور اسماء الہیہ میں ظہور مراد ہے۔ بعض کے نزدیک کسی چیز کی ماہیت سے آگاہ ہونا اور از روئے اسماء وصفات کے ذات حق کو جاننا۔ ورنہ ذات باری کا ادراک محال ہے۔ علم و عرفان اور حقائق اشیاء کے حصول کو بھی تحقیق کہتے ہیں۔

تحلیہ :۔ معرفت سے اپنے کو آراستہ کرنا۔

تختم: عارفوں کے دلوں پرحقانیت کی مہر ہوتی ہے اس وجہ سے تمام برائیوں سے وہ بچے رہتے ہیں اور اس کی حفاظت میں ہوتے ہیں اسے تختم کہتے ہیں

تخلیہ:۔ بشری اوصاف(ماسوی اللہ ) سے دل کو خالی کرنا۔  اپنی خودی کو مٹانا

تدانی:اولیاء اللہ کی معراج کو کہتے ہیں۔

تدبیر: اس سے مراد عواقب امور کو سوچتا ہے یہ تفکر کے قریب ہے ۔ مگر اعتباری فرق ہے کہ اِس میں انجام کار سوچتا ہے اور اُس میں دلیل ہے ۔

تدلی: سالک کا عروج کے بعد نزول کرنا اور مرتبہ ذات سے صفات کی طرف جانا ہے ۔

ترانه:آہنگ محبت کو کہتے ہیں جس کے سنے سے سالک پر مستی و بے خودی طاری ہوتی ہے۔

ترسا: مرتبہ تنزیہہ کو کہتے ہیں اور وہ سالک مراد ہے جو نفس امارہ کی صفات ذمیمہ سے چھٹکارہ پا کرصفات حق سے متصف ہو جاتا ہے۔

ترسابچه و ترسازاده: حقائق و معانی کو کہتے ہیں اور وہ حالات غیبی مراد ہیں جو غیب سے سالک کے دل پر وارد ہوتے ہیں۔

ترسانی: تفرید و تجرید دونوں مراد ہیں۔ بعض لوگ دقائق ومعانی کے ادراک کو کہتے ہیں۔

ترکتاز:سالک کو سلوک میں پیش آنے والے جذبہ الہی کو کہتے ہیں۔

ترہات:دید بہ اور کرامات کے ظاہر کرنے کو کہتے ہیں۔

تزکیہ: نفس کو صفات ذمیمہ سے پاک کرنا۔یہ بغیر ریاضت و مجاہدہ  نہیں ہوتا

تسبیح: اس سے مرتبہ تقید مراد ہے۔

تسلیم: اپنے آپ کو اطاعت حق کے لئے مستعد و تیار کرنا اور سرخم کرنا نیز ہمہ تن اپنے کو فنا کر کے معشوق حقیقی میں مستغرق بلکہ خود بین معشوق ہو کر اپنے سے بے خبر رہنا ہے۔ اولیاء اللہ کے نزدیک یہ اعلیٰ مقام ہے۔

تسکین: قلب کی اس خنکی کا نام ہے جو جلن اور اضطراب کے بعد سالک پر منجانب اللہ وارد ہوتی اور سرور بخشتی ہے۔

تشبیه:ذات حق کا مع اسماء وصفات کے تمام مظاہر کو نیہ میں ظہور ہے۔

تصرفات:غلیہ مادی ہونا متصرف ہونا غالب ہونا تصرفات سے اعجاز یا کرامتیں بھی مراد ہوتی ہیں۔ اس کے معنی قوت اشیائے عالم پر تصرف رکھنا بھی ہیں۔

تصفیہ: دِل کا ماسوا اللہ سے پاک کرنا اور دِل میں غیر اللہ کو جگہ نہ دینا۔  تلافی کفارہ ندامت و پشیمانی

تصوف: تزکیۂ نفس کا طریقہ، اشیائے عالم کو صفات حق کا مظہر جاننا

تطہیر ذات: اپنی ذات کو ظاہر کی اور باطنی نجاستوں و آلودگیوں سے پاک وصاف کرنا ہے۔

تظلم: شیطان اور نفس امارہ کے دفعیہ سے اپنے آپ کو قاصر جان کر حضرت حق سے مدد چاہنا مرادہے

تعین:  ذات کے مرتبہ ظہور کو تعین کہتے ہیں۔ اپنی ذات کی یافت مراد ہے یہ کئی جگہ پر استعمال ہوا ہے۔ پہلا تعین اجمالی جس کو وحدت کہتے ہیں یعنی حق کا ایک وجود میں آنا اور انا( میں ) کہنا۔ دوسراتعین تفصیلی ہے جسے واحدیت کہتے ہیں۔ یعنی ذات کو اپنی ذات میں با تفصیل صفات کو پانا۔ یہ دونوں داخلی تعین ہیں باقی تعینات خارجی ہیں یعنی ارواح امثال اور اجسام وغیرہ

تفرقه : دل کو شکست میں ڈالنا اور حق سے دور ہونا۔ خلق کو دیکھنا اور حق سے غافل ہونا۔ خلق کو دیکھنا اور حق سے غافل ہوتا ہے ۔

تفرید:اپنی انانیت اور خودی ( کہ گناہ کبیرہ ہے) کو مٹانا تفرید ہے۔

تفکر: لغت میں اس کے معنی سوچنے اور فکر کرنے کے ہیں۔ یہ چراغ جیسا ہے جس سے خیر و شر ، نفع و نقصان معلوم ہوتے ہیں۔

تفویض: کسی چیز کو مادہ کے ساتھ پیدا کر نامراد ہے۔

تقریب وحدت:۔ یہ خاص قرب ہے جس میں غیر اللہ کے تصور بالکل محو ہو جاتا ہے اور محض قرب ہی قرب رہ جاتا ہے۔

تکلیف: ایسا فعل جس کو کرنے میں مشقت اور تکلیف ہو۔ اس میں تمام شرعی احکامات آتے ہیں۔

 تکوین :  امرکن سے مشتق ہے شے کا مادہ کے ساتھ پیدا کرنا ۔ کائنات جن اصولوں، قاعدوں اور فارمولوں پر تخلیق کی گئی ہے اور جن قاعدوں، ضابطوں اور مقداروں پر کائنات چل رہی ہے ان سب امور کے یکجائی کا نام ’’تکوین‘‘ ہے۔

تلبیس:کسی شخص کا یہ گمان کرتا کہ میں نے استقامت، توحید اور اخلاص کا لباس پہن رکھا ہے لہذا میں اللہ کا ولی ہوں لیکن حقیقت میں وہ لباس شیطانی دھوکہ ہو۔ اسےتلبیس کہتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسے مدعی ولایت کے ہاتھ پر خرق عادت کا ظہور ہو جاتا ہے وہ کرامت نہیں ہوتی بلکہ اسے مخادعہ (استدراج) کہتے ہیں۔

تلوین :۔  اہل تصوف کی اصطلاح میں فقر کے ایک مقام کا نام ہے۔  مشائخ طریقت کے نزدیک تلوین سے مراد سالک کے دل کا ان احوال میں پھرنا جو اس پر گزرتے ہیں۔ مطلوب حقیقی کی طلب میں سالک کا ایک حال سے دوسرے حال میں متبدل اور ایک صفت سے دوسری صفت میں منتقل ہوتے رہنا تلوین ہے۔

تمثل : کسی چیز کا ظہور اپنی اصلی جگہ کی موجودگی کے باوجود دوسری صورتوں میں ہونا جیسے حضرت جبرئیل علیہ السلام کا تمثل حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں۔

تمکین:استقامت اور ثبات کا ایک مقام ہے اور اہل تصوف کی اصطلاح میں اس سے مراد قرب الہی میں دل کے اطمینان کے ساتھ کشف حقیقت کا دائمی ہونا۔جبتک راہ میں ہے تلوین اور سالک مطلوب حقیقی سے واصل ہوگیا یہ تمکین اور اثبات ہے۔

تندی:صفت قہاری مراد ہے۔

تنزیه: عیوب اور امکانی نقصانات سے ذات باری تعالیٰ کو پاک جاننا نیز ان اعتبارات اور ظہورات کے با وجودہ ذات کو ہر حال میں مجرد اور منزہ جاننا اور تعینات و تشبیہات سے پاک سمجھنا مراد ہے۔

تنزل: ایک حال سے دوسرے حال یا ایک مقام سے دوسرے مقام میں اترنا تنزل کہلاتا ہے۔ تنزلات ستہ ایک مشہور مسئلہ ہے

تواجد :وجد کی استدعا و درخواست کرنا اور حالت وجد کا اظہار کرنا۔

تو انگری: کمالات حاصل ہو نامراد ہے۔

توبه نصوح:اپنے ارادہ سے تو بہ پر مکمل عمل پیرا ہونا اور بالکل سچی توبہ کر نامراد ہے۔

توجہ: اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ اپنی قلبی طاقت دوسروں کے دلوں پر ڈالنی اور اُنکو اپنے اختیار میں لانا۔ اور دوسرے یہ کہ اپنے وجود کو نابود کرنا یعنی اپنی خودی مٹانا اور فقط ذاتِ حق تعالٰی کو موجود وہست جاننا۔

توجہ کی چار قسمیں ہیں:

اول القائی: یعنی زیرِ سایہ شیخ مرید کا حاضر ہو کر توجہ پیر کے ساتھ ہر وسوسہ سے محفوظ رہنا اوراس کا متواتر اثر انداز ہونا۔

دوئم اتحادی: یعنی شیخ اور اراداتمند کی مجلس متحد ہو۔ ایک مقامِ معین پر شیخ توجہ دینے کے لیے اور ارادت مند توجہ لینے کے ئے آمادہ ہو۔

سوئم اتصالی: یعنی شیخ اور ارادت مند میں گو ہزاروں کوس کی مسافت ہو مگر مرید کے مجاہدے اور شیخ کی مہربانی  سے فیضانِ باطنی ارادت مند کو ہر لحظہ مستقل طور پر پہنچتا رہتا ہے۔

چہارم انعکاسی: یعنی فیضانِ معرفت ارادت مند پر اِس طرح جلوہ گر ہوتا ہے جیسے سورج آسمان پر ہو۔اور دھوپ زمین کےپانی پر پڑے اور اس کا عکس مکان کے اندر پایا جائے۔

توحید :۔ : اللہ تعالی کی وحدانیت، یکتائی اور اس کے لاشریک ہونے کا حکم لگاناتوحید ہے۔ توحید کے کئی ارکان اور مراتب ہیں۔

توکل :باوجود کوشش اور اعمال کے اللہ پر بھروسہ کرنا اور دل کو اسباب دنیوی اور ظاہری سے اٹھا کر صرف حضرت مسبب الاسباب کی طرف متوجہ کرنا اور حضرت حق کے علاوہ کسی کو نظر میں نہ لانا مراد ہے۔

تولی: سالک کا باطل کو چھوڑ کر حق کی تولیت میں اپنے کو بالکل دے دینا۔

تہلیل لسانی:۔ سے مراد یہ ہے کہ خیال وزبان کی مشارکت سے اس قدر پست آواز میں ذکر لا إلهَ إِلَّا اللہ کیا جائے کہ صرف خود کو سنائی دے جس طرح نماز میں تسبیحات وغیرہ پڑھی جاتی ہیں۔

تیمم : ظاہر و باطن کی صفائی اور تصفیہ کو کہتے ہیں۔

تیرمژه: اس سے مراد نور عزت کی نظارہ سوز شعاعیں ہیں جو عاشق کو معشوق حقیقی کے مقابل ہونے کی جسارت نہیں کرنے دیتیں اور خود اپنی نورانیت و محبوبیت سے عاشق کے جگر میں پیوست ہو جاتی ہیں۔

تیغ: اس سے مراد صفات جلالی ہے۔

ث: اس سے اشارہ ثواب دارین کی طرف ہے اور حق کا تعلق ازل سے لطف و کرم اور احسان و جزاء ے ہے۔

ثقلين: لغت میں دو گروہ اور عالم جن وانس کو کہتے ہیں۔ اصطلاح میں عالم دنیا اور عالم عقبی مراد ہیں۔ ثقلین دو مراتب کو نیہ کو کہتے ہیں۔ ایک مرتبہ خارجیہ دوسرا مرتبہ داخلیہ – مرتبه خارجیه اجسام و امثال اور ارواح ہیں اور مرتبہ داخلیہ واحدیت ، وحدت اور احدیت ہیں۔

ثقہ: حضورنبی کریم ﷺ کی کلام پاک کی تصدیق کے کرنے والے کو ثقہ کہتے ہیں اور جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے اس کو بھی ثقہ کہتے ہیں

جابسا: عالم برزخ مراد ہے جہاں ارواح، اجسام عنصری سے جدا ہو کر جاتی ہیں۔ یہ برزخ اس عالم مثال(جا بلقاء) سے مختلف ہے جہاں روحیں اس دنیا میں آنے سے قبل ہوتی ہیں۔ وہ مشرق اجسام میں اور یہ مغرب اجسام میں واقع ہے۔ وہ تنزلات کے مراتب سے اور یہ معارج کے مراتب سے ہے۔ یہاں ارواح اعمال کی مثالی صورتوں اختیار کرتی ہیں۔ یہ عالم بھی عالم روحانی جوہر نورانی غیر مادی ہے۔

جابلقا: اس سے وہ عالم مثال مراد ہے جہاں روحیں اس دنیا میں آنے سے پہلے ہوتی ہیں۔ مرتبہ مجمع البحرين، وجوب و امکان بھی کہتے ہیں یہاں بھی عالم کی مثال صورتیں پائی جاتی ہیں ۔

جام:عارف کے باطن سے مراد ہے نیز حقیقت جامعیہ ، مستی پیدا کرنے والی ہر چیز بھی مراد ہے۔

جامعیت آدم: یہ رتبہ احاطہ ہے اور اس وجود سے آدم کے لئے جامعیت ہے کیونکہ صورت الہی میں موجود تمام اسماء کا ظہورآدم میں ہوا۔

جان: خاص طور پر روح مراد ہے جو معانی و حقائق کا ادراک کرنے والی اور علوم ربانی کی معلم ہے۔ مجردہ  ارواح بھی مراد ہیں۔ عام طور پر اس سے روح حیوانی مراد لی جاتی ہے اس لئے کہ ہر جاندار کی روح کو جان کہتے ہیں۔

جاناں: صفت قیومی کو کہتے ہیں جس سے تمام موجودات قائم ہیں نیز معشوق مجازی بھی مراد لیا جاتا ہے۔

جان افزا: عاشق و معشوق کی نسبت مراد ہے اور اس ذکر کو بھی کہتے ہیں جو مذکور تعالی تک پہنچادے۔

جاں افزا: بقائے ابدی کی وہ صفت مراد ہے جس میں فنا نہیں ہے اس سے عاشق و معشوق کی نسبت بھی مراد ہے۔

جاہل: اصطلاح میں جھوٹے طالب اور مرید کو کہتے ہیں۔ نیز ایسا شخص جو اشیاء کے ذریعہ حق کو جائے۔

جبروت: اسماء وصفات الہی کی عظمت اور مرتبہ واحدیت مراد ہے کیونکہ یہاں بے شمار اعیان کا مشاہدہ ہوتا ہے اس سے عظمت الہی سالک کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔مرتبہ صفات مرتبہ وحدت اور حقیقت محمدیہ

جذب: وہ بلا کو شش کشائش اور کشش ہے جو بندہ کو حق کی طرف ہو۔

جذب الارواح:۔  بلندی قلوب ، مشاهدة اسرار ، مناجات ، مخاطبت  سے مراد بندے پر توفیق عنایت اور قلوب پر انوار ہدایت کا قرب و بعد اور صدق و صفا کی مقدار کے مطابق نازل ہوتا ہے ۔

جذبہ/جذبات:۔لطائف میں جانب فوق (اوپر) سے جو کشش پیدا ہوتی اس کو جذبات کہتے ہیں ۔   سلوک کی منازل طے کرنے میں سالک محتاج ہے اورجذبہ بلاتکلف اور بغیر کوشش و تکلیف کے ملنے  کو جاذ بہ بھی کہتے ہیں۔

جرس: اس جمالی خطاب کو کہتے ہیں جس میں تھوڑی خفگی اور قہر بھی ہو۔

جرعہ: اس سے وہ مستی و سر خوشی مراد ہے جو سالک کے دل میں مرشد بر حق کی عنایت سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے ظرف واستعداد کے مطابق ترقی ہوتی رہتی ہے۔

جسد: لغت میں انسان، جن و ملائکہ وغیرہ کے جسم کو کہتے ہیں۔ تصوف کی اصطلاح میں ایک صورت ہے جو روحوں سے متمثل ہو کر ظاہر ہوتی ہے خواہ وہ نوری ہو یا ناری۔

جسم: جو چیز لمبائی، چوڑائی اور گہرائی رکھتی ہو لغت میں اسے جسم کہتے ہیں۔ جرم اور جسم ایک چیز ہے جسم کا استعمال کثیف ہے اور جرم کا لطیف میں ہوتا ہے۔

جسم جسمانی : وہ جسم جو عالم ملک میں ہوتا ہے۔
جسم جلالی :اس سے مراد قبر، عظمت، کبریائی ، بزرگی ، بلندی اور اقدار کی صفت ہے۔

جسم ملکوتی: صوفیائے کرام کی اصطلاح میں انسان کے اوپر کے نصف دھڑ کو جسم ملکوتی اور نیچے کے نصف دھڑ کو جسم نفسانی کہتے ہیں۔ لیکن جب تہذیب نفس کما حقہ حاصل ہو جاتی ہے تو پورا جسم ہیئت وحدانی حاصل کر لیتا ہے۔

جعد: تجلی جلالی اور قہاری کو کہتے ہیں بعض کے نزدیک تجلی جمالی بھی مراد ہے۔

جعل:بنانا، کرنا، پیدا کرنا، تخلیق کرنا اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک جعل بسیط  دوسرا جعل مرکب ہے

جعل بسیط : جو علم الہی میں ایجاب کے ساتھ تقرر اعیان ثابتہ کے نفس سے عبارت ہے ان اعیان ثابتہ پر آثار و احکام مرتب نہیں ہوتے  یہ موجود فی الباطن ہے

جعل مرکب :اعیان ثابتہ خارج  پر آثار و احکام مرتب ہونا یہی  آثار و احکام کی ترتیب کا مرتبہ ہے۔

جفا:سالک کے دل کو مشاہدہ سے باز رکھنا اور سالک کی مرضی و فطرت کے خلاف امور پیش آنا مراد ہے۔

جلاوت : قلب میں ظہور انوار ، انوار مجرد از مادہ کا مشاہدہ ۔

جلاء : ذات حق کا ظہور اپنے نفس میں دیکھنا او جلوہ ظہور کے آفاق میں دیکھنے کواستجلاء کہتے ہیں ۔

 جلال :۔ بزرگی اس سے مراد قہر و غضب الہی کا اظہار بذریعہ الم و مصیبت ہے  یہ جمال کی ضد ہے۔ حق کی صفات جلال و جمال میں منحصر ہیں۔ جمال میں نرمی محبت اور لطف اور جلال میں قہر اور جبر ہے صفات باطنی کو جلال اور صفات ظاہری کو جمال کہتے ہیں۔ تصوف کی اصطلاح میں تجلی قہاری کو بھی جلال کہتے ہیں۔ جلال سے ذات بحت کی طرف اشارہ ہے جو گنج مخفی، مرتبہ وراء الوراء اور مرتبہ تقریبہ محض ہے جو عزت و جلال کے پردہ میں مخلوق کی آنکھوں سے پوشیدہ ہے کیونکہ اس کی حقیقت اور ہویت کو اس کے سوا اور کوئی ادراک ہی نہیں کر سکتا۔ البتہ کاملین پر اسماء و صفات و اعتبار کے پرے تجلی ہوتی ہے۔ جلال سے مراد حادث کا فنا ہو جانا اور قدیم کا باقی رہ جاتا ہے۔

جلوہ: مشاہدہ کو کہتے ہیں۔

جمال :۔ حق کی تجلی اور مشاہدہ  جلال کے خلاف ظہور ذات ہےصورت و سیرت کی خوبصورتی اس سے مراد انعام و اکرام ہے

جمع:۔ موجودات کی تمام  صورتوں میں حق کا مشاہدہ کرنابغیر مخلوق کے اللہ تعالی کو دیکھنا ہے۔

جمع الجمع : خلق کو حق اور حق کو خلق میں دیکھنا اور حق کو حق میں، خلق کو خلق میں مشاہدہ کرنا یعنی خلق کو خلق اور حق کو حق اور خلق کو حق اور خلق کو عین حق اور حق کو عین خلق دیکھنا مراد ہے۔

جمع مع الفرق:وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت دیکھنا۔ یعنی ذات میں صفات کو اور صفات میں اسماء کو اسماء میں افعال کو اور افعال میں آثار و نیز ذات کو عین اسماء اور اسماء کو عین صفات ، صفات کو عین افعال اور افعال کو عین آثار دیکھنا مراد ہے۔

جمعیت: ہمت کا حق کے ساتھ مشغولی میں متوجہ رکھنا اور غیر حق سے علیحدگی اختیار کرنا جمعیت کہلاتاہے۔

جنت: جنت جمال کا مظہر ہے جو اسم لطیف کی تجلی سے ظاہر ہوئی۔ اس کے آٹھ طبقے میں ہر طبقہ میں بہت سی جنتیں ہیں اور ہر جنت میں بہت سے  درجے ہیں۔

پہلا طبقہ جنت الاسلام اور جنت المجازات ہے۔ اللہ تعالی نے اس جنت  کو نیک اعمال سے پیدا فرمایا  صرف  نیک اعمال والے داخل ہونگے۔ اسے دار المقام اور جنت صوری بھی کہتے ہیں۔  قسم قسم کی کھانے پینے کی چیزیں، پانی، شہد ، شراب اور دودھ وغیرہ کی نہریں ہیں۔ یہ طبقہ عام مومنین کے لئے ہے۔

دوسرا طبقہ اس سے اعلیٰ ہے جس کو جنت الخلاء اور جنت المکاسب کہتے ہیں اور اس کو عقائد صالحہ سے پیدا کیا۔ صرف عقائد  صحیحہ والے اس میں داخل  ہونگے۔

تیسر اطبقہ جنت المواہب ہے ۔ یہ محض بخشش الہی سے حاصل ہوتی ہے اس میں کسب و اختیار کا دخل نہیں۔

چوتھا طبقہ جنت الاستحقاق ہے جس کو جنت النعیم و جنت الفطرۃ کہتے ہیں جو ابرارو نیک لوگوں کے لئے ہے۔

پانچواں طبقہ جنت الفردوس ہے جس کو جنت المعارف کہتے ہیں جس میں نہ شجر ہے نہ حجر، نہ محل نہ حور ، اس جنت کے لوگ ہمیشہ مشاہدہ میں رہتے ہیں۔ اس کو جنت وسیلہ بھی کہتے ہیں۔

چھٹا طبقہ جنت الفضیلہ ہے جس کے رہنے والے صد یقین ہیں۔  اس کو جنت السماء بھی کہتے ہیں۔

ساتواں طبقه درجہ رفیعہ ہے جس کو  جنت الصفات اورجنت الذات کہتے ہیں جو باطن عرش پر ہے جس کے رہنے والے حقائق الہیہ میں غرق ہیں، یہی حضرات صاحب خلافت الہیہ کے مقربین خاص ہیں۔

آٹھواں طبقہ مقام محمود ہے جو جنت ذات ہے۔

جنگ: امتحانات الہی کو کہتے ہیں جو ظاہری و باطنی بلاؤں کے ساتھ ہوں۔ اسماء وصفات کے تصادم کو بھی جنگ کہتے ہیں۔

جنائب :  حق کی جانب سے منازل نفوس میں سیر کرنے والے زہد و تقویٰ اور اطاعت کو لیے ہوئے مقامات قرب الہی میں پہنچتے ہیں اور سیر فی اللہ میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

جنود:۔ اولیاء اللہ کیونکہ وہ فتح و تسخیر اور ہدایت قلوب خلق میں بمنزلہ لشکرہیں

جنون: عشق میں ایسا مغلوب ہونا کہ اس غلبہ سے سر پیر کا ہوش نہ رہے۔ ہر چیز سے بالکل بے خبر ہو جاتا۔

جوہر :جو چیزیں اپنا مستقل وجود رکھتی ہیں ان کو جوہر کہا جاتا ہے جو قائم بالذات ہو اور محتاج کسی محل کا نہ ہو ۔ افراد اس کے پانچ ہیں ، ایک جسم ، دوسرا ہیولی ، تیسری صورت ، چوتھا نفس ناطقہ ، پانچویں عقل ۔

جوہر فرد : قلم کے باب میں قلم اعلیٰ اور عقل اول اور روح محمدی ہے یعنی ان تینوں کی تعبیر لفظ جوہر فرد سے ہوتی ہے ۔

جوئبار : مراسم عبودیت اور جن باتوں سے شان عبودیت ظاہر ہوتی ہے ان کو جو ئبار کہتے ہیں   جب بندہ صفات و افعال سے بالکل خالی و عاری ہو کر ہمہ تن حق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو حقیقی صفات اس میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ جیسے پانی جہاں نشیب پاتا ہے فوراً اتر آتا ہے۔ یہی عبودیت ، الوہیت کی یافت کا سبب ہے۔

جواهر العولم والانباء والمعارف: یہ وہ حقائق الہیہ ہیں جو شریعتوں، امتوں، زمانوں کے اختلافات کے سبب تبدیل اور متغیر نہیں ہوتے۔

جہان تاریک: وجود سالک کا حجاب مراد ہے اور بعض نے تعینات مراد لئے ہیں یہ زلف کے مترادف ہے کیوں کہ تعینات وجہ حق کی رویت کے لئے حجاب ہیں اور یہی تاریکی و ظلمت ہے۔

جہنم:جنت مظہر جمال اور دوزخ مظہر جلال ہے۔ اس کے بھی سات طبقے ہیں۔

پہلا طبقہ : اس کا نام لظی ہے اسے اللہ تعالٰی نے معصیت اور گناہ سے پیدا کیا  یہ طبقہ اہل معصیت اور ذنب (گناہ) کے لئے ہے۔

دوسرا طبقہ: جحیم ہے  اس کی تخلیق فجوراور طغیان سے کی۔ یہ ان لوگوں کا مسکن ہے جو بے راہ اور باطن میں سرگرم ہیں۔

تیسر اطبقہ: عسری ہے  ۔ اس کو بخل، حسد اور شہوت سے پیدا کیا۔ یہ ان لوگوں کا ٹھکانہ ہے جن کی یہ خصوصیات ہیں۔

چوتھا طبقہ : اس کا نام باویہ ہے  ۔ یہ منافقین کا ٹھکانہ ہے۔

پانچواں طبقہ : سقر ہے ۔ یہ متکبرین کا مسکن ہے۔

چھٹا طبقہ اس کا نام سعیر ہے۔۔ یہ شیاطین اور منکرین و ملحدین کا مسکن ہے۔

ساتواں طبقہ:اس کا نام جہنم ہے یہ مشرکین کا ٹھکانہ ہے

چشم: صفت جمالی مراد ہے سالک کے دل پر تجلی الہامی غیبی وارد ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ وہ مقام قرب میں پہنچتا ہے۔ بعض نے اس سے مرتبہ جمع مراد لیا ہے جو شہود کا مقام و محل ہے۔

چشم مست : سالک کا اپنے آپ کو حق کے مشاہدہ میں کم کر نامراد ہے۔

چشم پرخمار : سالک کا تجلیات میں بیخود ہو جانا ہے۔

چشم ترک: مراتب عالیہ کے پوشیدہ رکھنے کو کہتے ہیں جسے اہل کمال اس طرح پوشیدہ و مستور رکھتے ہیں کہسوائے حضرت حق کے کوئی ان سے واقف نہیں ہوتا۔

چلیپا: عالم طبعی مراد ہے

چنگ: اس سے حقیقی ذوق شوق مراد ہے۔

چنبر: محبوب کی زلف کا حلقہ جسے حلقہ دائرہ کونی بھی کہتے ہیں۔

چوگاں: مرتبہ کمال میں عالم اطلاق کو کہتے ہیں لیکن سلوک میں اسم آخر سے اسم اول تک منازل طے کرنا نیز سیر میں آفاق فی الخارج اور فکر و تفکر میں وسعت خیال عشق کے مشرب میں نامرادی کا وسیع میدان یعنی سالک کی مکمل فنا ہونا اور تعیین وجود کی لو بھی نہ باقی رہنا مراد ہے۔

چہرہ گلگوں: تجلی روحی مراد ہے جو سالک پر خواب، بیداری یا بیخودی میں طاری ہوتی ہے۔

چہره: مرتبہ واحدیت کی تجلی کی جانب اشارہ ہے ۔

چین بر افشاند: تعینات کے دور کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

حادث: ایسی ذات جو کسی دور میں معدوم تھی یعنی جو عدم سے وجود میں آیا ہو حادث کے ایجاد کرنے والے کو محدث کہتے ہیں ۔ اس کا الٹ قدیم ہے۔

حاکم: جو شریعت محمدی ﷺ کے احکامات سالک راہ طریقت پر جاری کرے۔

حال :۔جب عارف کسی منزل کو طے کر کے ذوق حاصل کرتا ہے تو وہ منزل اس کا حال ہے سالک کے دِل پر جو کیفیات بلا کوشش اللہ کی طرف سے وہبی طور پر وارد ہوں بوجہ صفات نفسی کے زائل ہو جانے اور  کوئی کیفیت نہ باقی نہ رہنے۔کو حال  کہتے ہیں۔

حال امر :  عالم ارواح مراد ہے۔

حب :۔ذات کا تعین اول میں ظہور فرمانا اور لباس حقیقت محمدیہ پہن کر لفظ انا سے اپنی ذات کو تعبیر فرمانا۔ حدیث قدسی کنت کنزا مخفيا فاحببت ان اعرف میں اس طرف اشارہ ہے۔ علم حق، مرتبہ وحدت، حقیقت محمدی ﷺ، حب حقیقی اور حب ذاتی مراد ہے۔

حب صرفہ:حب کے معنی محبت اور صرفہ صرف (خالص) یا تمام چیزوں سے انصراف اور روگردانی کرتےہوئے محبت ۔ایسی محبت جو باقی تمام محبتوں سے بیگانہ کردے

حجاب: تصوف میں اس سے وہ ما اسم مراد ہیں جو عاشق و معشوق کے وصل میں رکاوٹ بنیں اور دل میں اشیاء کو نیہ کے نقش ہو جانے اور ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو تجلیات ربانی کے قبول کرنے میں مانع ہوں۔

حجاب العزت:   اندھے پن اور بد حواسی کو کہتے ہیں۔ اس لئے کثیف ادراکات حقیقت ذات میں موثر نہیں ہو تیں۔ کیونکہ حق کا اور اک حقیقی سے ہی ہوتا ہے جو مکمل فنا کے بعد بقا اللہ کے مرتبہ میں حاصل ہوتا ہے۔

حجابات ظلمانی : اس سے صفات ذمیمہ مراد ہیں۔ طالب اور مطلوب کے در میان حائل پر دے۔ در اصل یہ شہوات و لذات جیسی جسم کی ظلمتوں کا دوسرا نام ہے۔
حجابات نورانی :یہ بھی طالب و مطلوب کے در میان پردے ہیں یعنی ان کا تعلق محرکات باطنیہ سے ہے مثلا عقل، سِرّ روح خفی جیسے نور روح کے پردے۔

حجلہ: حق کا اپنی صفات کے ساتھ متصف ہوتا ہے۔

حجلہ انس :اس سے مراد عالم لاہوت ہے۔

حدس:۔ بلا غور وحوض و حیلہ اچانک  ایک بات قلب میں القاء ہوجانا

حرق: وه متوسط تجلیات مراد ہیں جو فنا کی طرف کھینچتی ہیں۔ ابتدائی تجلیات کو برق اور آخری کو شمس   فی الذات کہتے ہیں۔ بعض نے حرق سے سوز عشقی مراد لیتے ہیں۔

حروف عالیات :ان شیون ذاتیہ اور اعیان ثابتہ کو کہتے ہیں جو غیب الغیب میں اس طرح پو شیدہ ہیں جیسے درخت  گٹھلی  میں۔

حریم: سینہ۔ مرکز دل ہے۔ مکہ کی متبرک چار دیواری بھی حریم ہے۔ چار دیواری خانہ کعبہ کے باہر کی دیوار احرام کا لباس

حریم کبری: اس سے ذات باری مراد ہے، عالم بھی مراد لیتے ہیں جو بے مادہ و مدت ہے۔ مرتبہ واحدیت کا  آستانہ ہے جسے جبروت کہتے ہیں۔

حریم مکان:اس سے وہ مقام مراد ہے جہاں صرف اور صرف ذات باری ہے۔

حسن : ہر چیز میں مکمل اعتدال کا نام ہے۔ نیز مجازی لباس میں حقیقت مطلقہ سے بھی مراد ہے۔

حضرات خمسہ الہیہ : اس سے مراد حضرت غیب مطلق ،حضرت علمیہ یعنی اعیان ثابتہ حضرت غیب برزخی یعنی عالم امر حضرت شہادت مطلقہ یعنی عالم خلق حضرت جامع یعنی انسان کامل ہے .

حضرات:حضرت کی جمع لفظ کلمہ تکریم کیلئےاور دربار اور بارگاہ کیلئےاسی معنی میں وحدت ،واحدیت اور ارواح و مثال وغیرہ کیلئے استعمال ہوتا ہے

حضوری: اس سے مراد یاد ہے کیونکہ حق ہر جگہ اور ہر گھڑی موجود ہے۔ اس سے جس قدر غفلت  ہو  وہی غائب ہوتا ہے۔

حضور:۔قلب کی توجہ حق تعالی کی طرف ہونا،اللہ تعالیٰ کے پاس حضور قلب سے موجود ہونا ہے، یہ منازل سلوک میں اہم ترین رکن ہے۔

حفظ العہد : بندہ کا اس مقام میں قیام جس میں حضرت حق اس کے لئے حد مقرر کر دے۔

حق :اسماء الہی میں سے ایک اسم ہے جس کے معنی ثابت، سزاوار ، واجب اور راست کے ہیں۔ اصطلاح میں وجود مطلق کو کہتے ہیں۔ یہ تین جگہ پر آتا ہے ۔ اول مقام سبب صفات میں جو منقطع الاشارہ ہے اور جسے لاتعیین اور واحدیت کہتے ہیں۔ دوم مقام وحدت اور عم مجمل میں ہے حقیقت محمدی ﷺ کہتے ہیں۔ سوم مرتبہ واحدیت میں جسے عکس رحمانی اور حقیقت آدم علیہ السلام کہتے ہیں۔

حقائق الہیہ:۔حقیقت کعبہ،  حقیقت قرآن ،حقیقت صلوۃ معبودیت صرفہ

حقائق الاشیاء: اعیان ثابتہ کو کہتے ہیں۔

حقائق القلوب:  عالم مثال مراد ہے۔

حقائق الہی: ان اٹھائیس کلی اسماء الہی کو کہتے ہیں جنہوں نے مرتبہ واحد رات میں ظہور پایا ہے۔

حقائق کونی: یہ بھی تعداد میں اٹھائیس ہیں اور ان ہی اٹھائیں اسماء الہی سے ظاہر ہوئے ہیں یہ سب مربوبات ہیں ۔

حقائق انبیاء: ۔حقیقت ابراہیمی حقیقت موسوی حقیقت محمدی حقیقت احمدی، حقیقت صرفہ

حقائق موجودات:  مرتبه وحدت میں  شئون ذاتیہ  مرتبہ  واحد یت میں اعیان ثابتہ یا صور علمیہ، مرتبه ارواح  میں حقائق کوئیہ،  مرتبہ  امثال یہ صور مثالیہ

اور مرتبہ اجسام میں صورہیولائی کہتے ہیں ۔

حق الیقین:یقین کی دو انتہاء جو واصلین کی غایت ہے اس سے مراد صدق یقینی ہے اور اس کی شہادت وہ سالک دیتے ہیں جو مقامات علیا پر فائز ہوتے ہیں۔ یہ فناء في اللہ کا مقام ہے۔  عین مقام احدیت میں شہود حق میں محو ہو کر اس کی بقا سے باقی رہنا مراد ہے۔

حقیقت:  ہر شے کی اصل اور ہستی اور ماہیت اور ذات کو حقیقت کہتے ہیں اور اس کا مقابل مجاز اوراعتبار ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا وجود حقیقی ہے اور باقی اعتباری ہے ماسوائے اللہ کو مجازاً موجود کہا جاتا ہے نہ کہ حقیقتا۔ اورکبھی لفظ حقیقت باطن کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اس وقت اس کا مقابل ظاہر ہوتا ہے    ذات بحت جملہ کائنات کی حقیقت ہے اور سب کا باطن ہے اس لئے اس کو ابطن البطون اور حقیقة الحائق کہتے ہیں۔

حقیقة الحقائق :ذات بحت جو ذات احدیت ہے ، مراد ہے۔ وہ تمام حقائق کی جامع ہے۔ اس کو حضرت الوجود بھی کہتے ہیں۔

حقیقت انسانی: حضرت علم میں تفصیل صفات اور مرتبہ واحدیت کو کہتے ہیں جس کو حقیقت آدم و حضرت جمع و حضرت الوہیت و حضرت ربو بیت اور حضرت ارتسام کہتے ہیں۔

حقیقت عبد : اصطلاح میں عدم مطلق کو کہتے ہیں۔ وہ سوائے ایک مفہوم کے کچھ نہیں کیونکہ وجود حقیقہ  حق ہی کا ہے اور عبد اس کا ایک اعتباری نام ہے۔

حقیقت محمدیہ :اس سے مراد حیات روی اور حیات حیوی کا مصدر ہے۔ یہ اہل ایمان کے دلوں کی زندگی ہے۔ حقیقت محمد یہ خلق کی پیدائش کا سبب اور ماسوای اللہ کی اصل ہے۔  اسم اعظم اور تعیین اول مراد ہے ۔

حکمت:فلسفہ کی اصطلاح اور لغت میں اس کے معنی عقلمندی اور درست کرداری کے ہیں۔ یہ ایک علم ہے جس میں خارجی موجودات سے بحث کی جاتی ہے ، اس کی تین اقسام ہیں : طبعی، ریاضی، الہی

حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں حقائق و اوصاف اور چیزوں کے خواص اور احکام کا جاننا مراد ہے۔

حکمت منطوق بها: شریعت و طریقت کے علوم کو کہتے ہیں۔

حکمت مسکوت عنها :  وہ اسرار حقیقت جن کو علماء ظاہر اور عوام نہیں جانتے اور انکار کرتے ہیں اور اس انکار کی وجہ  سے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔

حکمت مجہول عندنا: وہ اسرار مراد ہیں جن کی ایجاد کی حکمت ان میں پوشید ہ  ر کھی گئی ہے ۔

حلاوت :ان انوار روحانی کے ظہور کو کہتے ہیں جو مشاہدہ سے حاصل ہوں وہ مادہ سے خارج ہیں۔

حلقه بگوش:  وہ صاحب استعداد جو کلام الہی کے قبول کرنے کی استعد اور کھتا ہو۔

حمد:۔ کہتے ہیں حق تعالٰی کی عظمت و کبریائی کے بیان کو ، اس کی تعریف وثنا کو خواہ بذریعہ قلب ہو یا بذریعہ جوارح -حمد کا لفظ صرف حق تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، اس لیے کہ حمد کمال ذاتی کی وجہ سے ہوتی ہے اور حق تعالیٰ کا ہر کمال ذاتی ہے

حلول:۔ایک شے کا دوسری میں اس طرح سرایت کر جانا کہ دونوں میں کوئی امتیاز باقی نہ رہے

ایک موجود چیز کا دوسری موجود چیز میں داخل ہونا جیسے پانی گڑھے میں۔ جو چیز حلول کرتی ہے اسے حال کہتے ہیں ، اور جس میں حلول کرتی ہے اسے محل کہتے ہیں ۔ حکماء فلاسفہ کی اصطلاح میں ایک چیز کا دوسری چیز میں اس طرح مخصوص ہونا کہ پہلی چیز کی طرف عین اشار ہ  دو سرے کی طرف ہو، یہ دو طرح پر ہے : حلول سریانی اور حلول طریانی۔ سریانی یہ ہے کہ حال کے اجزاء یعنی عرض اجزا ئے محل یعنی جو ہر میں در آئیں اور ایک لمحہ کی تقسیم سے دوسرے کی تقسیم لازم آئے جیسے سیاسی و سفیدی کا حلول ۔ طریانی یہ ہے کہ حال کے اجزا محل کے اجزا میں آئیں بلکہ کل کل میں آئے۔ جیسےنقطہ کا حلول خط میں اور خط سطح میں اور سطح جمع میں۔ اس قسم کے حلول ماسوی اللہ میں تو تصور کئے جاسکتے ہیں  لیکن حق اس حلول سے قطعا منزہ و پاک ہے۔

حواس: یہ حاسہ کی جمع ہے ۔ یہ دس ہیں پانچ ظاہری پانچ باطنی۔ ظاہری یہ ہیں

(1)ذائقہ            (2)شامہ            (3) باصرہ            (4) سامعہ            (5) لامسہ

پانچ باطنی ہیں:

(1)- حس مشترک             (2) خیال            (3) متصرفہ          (4) وہم             (5)  حافظہ

حیرت:سالک کا مرتبہ احدیت میں محو ہونا اور تجلی اسم ” ھو” کا مشاہدہ کرنا اس کے لیے مقامِ حیرت ہے۔  خیال کا کسی چیز کو اور اس کے احاطہ میں لانے سے عاجز ہونا بھی مراد ہے۔

خاررہ: خودی کو کہتے ہیں اور ہر معصیت کو جو سلوک میں پیش آئے۔

خاطر: جو خطاب دل پر وارد ہو اور جس میں سالک کو اختیار نہ ہو۔ یہ چار قسم کا ہے :

1۔ ربانی: جو کبھی خطا نہیں کرتا اور کبھی موت، کبھی تسلط اور عدم انقطاع سے پہچانا جاتا ہے ۔

2۔ ملکی: جس کو الہام بھی کہتے ہیں۔

3 نفسانی: جس میں حظ نفس شامل ہو ۔ اسے ہا جس بھی کہتے ہیں ۔

4شیطانی: جو حق کی مخالفت کرتا ہے۔

خال: نقطہ سیاہ چشم کو کہتے ہیں۔ اصطلاح میں نقطہ وحدت اور تجلی جلالی کو من حیث الخفاء کہتے ہیں جو کثرت کا مبدأ و منتہا ہے۔

خال سیاه: عالم غیب اور عالم ہستی کو کہتے ہیں بعض نقطہ روح کو بھی کہتے ہیں جس کا مرکز قلب ہے  اسی سے سویداء قلب کہتے ہیں۔ اس سے مراد صفات اور لطف الہی بھی ہیں ۔ انسان کامل کا دل بھی مراد ہے اور یہ سواداعظم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔

خانقاه: اس سے مجازا خانہ مرشد اور حقیقت عالم تنزیہ مراد ہے۔

خد: نور ایمان کے ظاہر ہونے سے مراد ہے۔

خراب: سالک مستغرق مراد ہے۔

خراباتی: اس سے وہ سالک مراد ہے جو اپنی خودی چھوڑ کر نیستی اختیار کرے۔ اس کو صاحب تجرید بھی کہتے ہیں۔

خرابی: تدبیرات عقل اور تصرفات کو کہتے ہیں۔

خرابات: عارف اور مرشد برحق کے باطن کو کہتے ہیں جس سے عشق ، شوق اور اسرار الہی حاصل ہوتے ہیں۔ بعض کے نزدیک خرابات، عالم اسرار کو کہتے ہیں کہ وحدت در کثرت اور کثرت در و حدیت کے ملاحظہ میں مخفی ہے۔

خرقہ: مُرشد کے اُس لباس کو کہتے ہیں جو مرید کرنے کے وقت یا خلافت و اجازت دینے کے وقت عطا فرمائے اسے خرقۃ التصوف ،خرقہ تصوف اور خرقہ تبرک بھی کہتے ہیں۔

خزاں: وہ ہوئے معرفت جو مبتدی کو پہنچنے لگی ہو۔ بعض کے نزدیک خزاں سے انوار و تجلیات کا کم ہونا اور سالک کا نامرادی و نیستی کے مقام میں قدم رکھنا ہے ۔

خشوع: بندہ کا حق کے ساتھ ہمیشہ با خوف رہنا۔ خضوع بھی اس کے مترادف ہے۔

خشم: قبری صفات مراد ہیں۔

خط سبز:عالم برزخ کو کہتے ہیں ۔

خط سیاه: عالم غیب اور غیب الغیب مراد ہے۔

خط:۔ عالم ارواح کی طرف اشارہ ہے۔ جو غیب ہویت کے ساتھ سب سے قریب مرتبہ وجود ہے۔ مظاہر روحانی میں حقیقت کا ظہور جس سے تعینات ارواح مراد ہیں۔ بعض کے نزدیک حقیقت محمدی ﷺ اور برزخ کبری بھی مراد ہیں۔

خطره: وہ خیال جو بندہ کو حق کی طرف بلائے اور بندہ اس کے دور کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔

خفاء الخفاء: مرتبه سلب صفات ، ذات بحت اور ہویت کو کہتے ہیں۔

خفی: نام ایک لطیفہ کا ہے جو روح کے بعد ودیعت کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے روح پر فیض الہی کا فاضہ ہوتا ہے۔

خلاء: عالم تنزیہ اور ہویت مراد ہے۔

خلعت:۔ خلعت عرفان معرفت کا لباس

خلیل: جس میں محبت کا غلبہ ہو۔ معشوق حقیقی پر بھی اس کا اطلاق کرتے ہیں۔ مراتب محبت میں سے یہ چھٹا مرتبہ ہے۔

خلیفه: اصطلاح میں انسان کامل کو خلیفہ حق کہتے ہیں۔ اس کو بھی کہتے ہیں جس کو اپنا قائم مقام کریں جیسے کہ حضور نبی کریم صلی السلام کے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔

حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے چار خلفاء ہیں : حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین، حضرت حسن بصری اور حضرت کمیل بن زیاد رضی اللہ عنہم ۔ انہیں چار پیر کہتے ہیں جن سے چودہ خانوادے جاری ہوئے۔

خلق جدید :  حق کی طرف سے بندہ پر برابر فیض کا ورود ہو نا مراد ہے۔

خلوت: مخلوق کی محبت اور ہستی سے بیگانہ ہونے کو کہتے ہیں اس سے بغیر خطرات غیر حق کی حضوری مراد ہے۔

خلوت در انجمن : بظاہر خلق کے ساتھ اور باطن حق کے ساتھ رہنا مراد ہے ۔

خم : مقام تمکین اور بلند مقام مراد ہے۔ مجازی طور پر عارف کا قلب مراد ہے جس پر برابر فیضان الہی ہوتا ہے۔

خمخانه: عالم تجلیات مراد ہے۔

خمر:۔ شراب باده : عشق و محبت الہی جو سالک کے دل پر اس طرح وارد ہو کہ اسے مست بنادے۔

خم زلف: عالم تعینات و عالم خلق

خمار: باده فروش یعنی مرشد کامل مراد ہے۔ خمار سے سرور مستی اور خمار سے اوڑھنی اور پردہ  مراد ہے جس میں محبوب اپنے کو پوشیدہ رکھے۔ بعض کے نزدیک وصول کے مقام سے واپسی اور بعض کے نزدیک کثرت میں وحدت کا ظہور مراد ہے۔

خنجر: تنزیہی جاذیہ مراد ہے جو سالک کی ہستی کو فنا کر دیتا ہے۔

خندہ: اس سے تجلی ظہوری مراد ہے جو انبساط ذات کی جانب منسوب ہے۔

خودی: انانیت مراد ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں ایک اپنی خودی دوسری حق کی جس کو انا، مطلق کہتے ہیں

خواب: فناء اختیاری مراد ہے۔

خوف: اپنے آپ کو مکروہات سے بچائے اور احکام حق کی  بجا آوری میں عبودیت کے ساتھ سر گرم رہے۔

خیال: اس سے حق کا خیال مراد ہے یعنی خواب یا بیداری میں جو تصور کرے یا دیکھے اور کل فضا جس میں یہ عالم خلق واقع ہے حضرت حق کی وسعت خیال ہے۔ یعنی اعیان ثابتہ حضرت علم سے حضرت خیال میں منعکس ہیں۔ اس کا نام ظہور فی الخوارج ہے چونکہ حق کا خیال بھی حق سے باہر نہیں لہذا باوجود فی الخارج ہونے کے ابھی یہ تمام اس وقت بھی حق کے اندر ہی ہے۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ عالم نے وجود کی ہونہیں سو نگھی۔

داغ دل: اس سے جذب عشقی کا سالک کے دل میں مستقل ہو جانا مراد ہے۔

دام: عشق کی گرفتاری مراد ہے ۔

دانا: مرید صادق سالک کو کہتے ہیں جو حق کی راہ میں مضبوط و ثابت قدم ہو ۔

دائرہ امکان:۔عالم امر جو لفظ کن سے وجود میں آیا عالم خلق جو بتدریج مراحل سے  سے بنا کے مجموعے کودائرہ امکان کہتے ہیں
دار فروانی :اس سے مراد وہ گھر ہے جو مقامات عالیہ پر فائز لوگوں کو ارزانی ہو تا ہے۔ اسی گھر میں اللہ تعالی عار فین کی حفاظت فرماتا ہے اور کائنات کی نگاہوں سے انہیں پوشیدہ رکھتا ہے۔ عارفین اسی گھر میں جلوہ فرما ہوں گے اور ان پر بلند و بالا گنبد ہوں گے کہ ان کے درجات کاصلہ ہو گا۔

دبور: نفس امارہ کے غلبہ کو کہتے ہیں۔ اس کو مغرب کی طرف سے آنے والی ریح دبور سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ غلبہ نفس جسمانی طبیعت کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔

درویش: وہ طالب صادق ہے جو سوائے حق کے کسی اور چیز کا طالب نہ ہو اور نہ کسی سے کام رکھے۔

درة بيضاء: عقل اول کو کہتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : اول ما خلق الله درة بيضاء واول ما خلق الله العقل یعنی سب سے اللہ تعالٰی نے درۃ بیضاء اور عقل کو پیدا فرمایا۔

درازی زلف: مراتب تنزلات اور ظہورات میں تجلی جمالی کے عدم انحصار کو کہتے ہیں۔

درد: اس حالت کو کہتے ہیں جو محبت میں طاری ہوتی ہے اور محب اس کو برداشت نہیں کر پاتا۔ درد کی عام طور پر تین قسمیں ہیں

ایک عاشق کو معشوق کی جدائی سے ہوتا ہے۔

دوسر اسالک کو اپنے مبدأ سے دوری پر ہوتا ہے۔

تیسرے عارف کو کمال ذاتی کی بے نہایتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

در باختن: سالک کا اپنی نظر باطن سے گذشتہ آئندہ کے احوال محو کرنے کو کہتے ہیں۔

درجات :شریعت (علم ظاہری) پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ثوابملتا ہے اسے درجات کہا جاتا ہے۔

درون: عالم ملکوت مراد ہے۔ بعض کے نزدیک عالم انفس کو کہتے ہیں۔

دُر:نکات اسرار ، اور اشارات الہی مراد ہیں جو مادہ اور غیر مادہ میں محسوس ہوتے ہیں۔عارفوں کے الہامی الفاظ

دُرد: تلچھٹ اور اس سے مراد جاذبہ حقیقی ذاتی ہے

دریچه : انوار روحانی کو کہتے ہیں جس کا مقام دل ہے ۔

دست: صفت قدرت کو کہتے ہیں۔

دستگاه: تمام صفات اور کمالات کے حصول کو کہتے ہیں۔

دلائل ثلاثہ : اہل منطق کی اصطلاح میں دلالت مطابقی، تضمنی اور التزامی کو کہتے ہیں۔ حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں فنافی الشیخ ، فنافی الرسول اور فنافی اللہ مراد ہیں۔

دلبر : تجلی صفاتی مراد ہے اور بعض صفت قابض سے تعبیر کرتے ہیں۔

دلدار: حقیقت روحی اور صفت باطنی نیز سالک کے دل پر وارد ہونے والی صفات تجلیات بھی مراد ہوتی ہیں۔

دِل: وہ لطیفہ روحانی اور لطیفہ ربّانی ہے وہی حقیقتِ انسانی ہے۔ جس نے دِل کو پہچانا اُس نے خدا کو پا لیا جو دِل تک پہنچ گیا وہ خُدا رسیدہ ہوگیا۔  لطیفہ ربانی و روحانی اور حقیقت انسانی کہتے ہیں   بعض لوگ منظر باری بھی کہتے ہیں

دلائل: اس اضطرابی کیفیت کو کہتے ہیں جو ذوق اور عشق کی وجہ سے سالک کے باطن پر وارد ہوتی ہے۔

دلائل ثلاثہ صوفی کے مراتب ثلاثہ یعنی فنافی الشیخ فنافی الرسول فنافی اللہ کو کہتے ہیں دنیا خدا کی طرف سے غافل رہنا اور اپنی خواہشات میں مشغول اور مسر در رہنا

دنیا ہے بقول مولانا روم علیہ الرحمہ سے

دلکشائی: اس صفت فتاحی کو کہتے ہیں جس سے دل مانوس ہوتا ہے۔

دلق ده توی : مجموعہ، حواس ظاہرہ اور باطنہ کو کہتے ہیں ۔لفظی مطلب ہے کئی تہوں والی گدڑی دلق پوش مراد درویش دلق پہننے والا   ۔

دلق:اس سے مراد تعین ہے۔

دم: لغت میں سانس کو اور اصطلاح میں باطنی حرکت و دم کو کہتے ہیں۔ یعنی حرکت ذات باری کو۔ انسان اور حیوان کی سانس ذی روح کی ذات ہی کی حرکت سے ہے۔

دنیا: حق سے غافل ہونے اور اسے فراموش کرنےاور اپنی خواہشات میں مشغول رہنے کو کہتے ہیں

دور:سلوک کی انتہاء کو کہتے ہیں: النہایۃ ہی الرجوع الی البدایة۔ انتہا ہوئی ہے ابتدا کی طرف پلٹنا ہے۔

دوری:معارف کیفیات پر شعور ہو جانے کو کہتے ہیں۔ اس کو عام تفرقہ اور دقائق بھی کہتے ہیں۔

دوزخ: نفس امارہ مراد ہے

دوستی:سالک کی محبت کو کہتے ہیں۔

دوش:بمعنی شانہ یا پشت ، اصطلاح میں صفت کبریائی حق اور عالم ازل و عالم غیب مراد ہیں۔

دوست:محبت الہی کے شیفتہ کو کہتے ہیں اور یہی حقیقی دوستی ہے۔ حقیقی دوست انہیں کہتے ہیں جو آپس میں ایک دل ہوں یعنی ایک کے اطوار وصفات اور حالات و عادات سب دوسرے میں پائے جائیں۔ اسی بنا پر حدیث شریف میں ہے کہ جو اللہ کے ساتھ ہم نشینی چاہتا ہو تو وہ فقراء کے پاس بیٹھے کیونکہ یہی حقیقی دوست ہیں۔

دہاں: صفت متکلمی وحیات مراد ہے ۔

دیدار:دنیا میں دیدہ دل سے حق کو دیکھنا ہر چیز میں حق کو جلوہ گر دیکھنا اور کسی لمحہ ذات حق سے غافل نہ ہونا مراد ہے۔

دیر:اصطلاح میں مرشد کامل کو کہتے ہیں۔ عالم حیرت و عالم باطن کو بھی مراد لیتے ہیں کیونکہ اس میں پہنچنے کے بعد شوق الہی حاصل ہوتا ہے اور سالک اسرار الٰہی سے آگاہ ہوتا ہے ۔

دیده : سالک کے کل احوال پر اللہ تعالی کا مکمل طور پر مطلع ہو نامراد ہے ۔

ذات:  وجود مراد ہے۔ وجود، ذات ہستی اور ہست یہ سب ایک ہی معنی میں ہے۔ شہودی حضرات ذات کو وجود سے الگ کہتے ہیں کیونکہ عبد کی ذات عدم محض اور عدم مطلق ہے یہ ہر گز موجود نہیں ہو سکتی کیونکہ معدوم کا اعادہ محال ہے۔ لیکن وجودی حضرات ایک ہی معنی میں کہتے ہیں۔

ذات ساذج: اس کو ذات صرف وذات بحت کہتے ہیں کیونکہ اس ذات کے ساتھ کوئی اعتبار نہیں۔

ذات ہو : اس سے سلب صفات کے مرتبہ کی طرف اشارہ ہے اس کو ہویت کہتے ہیں۔

ذات با اعتبارات:  مرتبه واحدیت مراد ہے جس میں تفصیل صفات ہے۔

ذخائر الله :  یہ اولیاء اللہ کی ایک قوم ہے جن کی وجہ سے اللہ تعالٰی مخلوق سے ہلاؤں و آفتوں کو دفع کرتا ہے۔

ذکر وہ شئے ہے جس کے توسل سے مطلوب کی یا د ہو لہذا انسان کے جملہ افعال و اقوال و حالات بشرط یاد حق کے ذکر ہیں اور بصورت غفلت کے ضلالت

اور گمراہی ہے۔

ذوالعقل: وہ شخص مراد ہے جو مخلوق کو ظاہر اور حق کو باطن دیکھے اس وقت اس کے نزدیک حق آئینہ خلق ہو گا۔

ذوالعین :  وہ صاحب بصیرت کہ جو حق کو ظاہر اور حق کو باطن پائے اور حق خلق میں مستور و پوشیدہ ہو۔

ذھاب: دل کا ہر محسوس کے جس سے اپنے مشاہدہ کے سبب غائب ہونا۔

راه فنا: عاشقوں کی اصطلاح میں عشق کو اور ذاکرین کی اصطلاح میں ذکر کو کہتے ہیں۔

راز :۔ اس سے حق تعالیٰ کی معرفت جو عارفین کے دلوں میں پوشیدہ ہے، مراد ہے۔

رب الارباب :خداوند تعالیٰ کو کہتے ہیں جو اپنے اسم کے اعتبار سے تمام اسماء وصفات کا پیدا کرنے والا اور تمام مطالب و مقاصد پر حاوی ہے۔   یہی تعین اول کا مظہر ہے اور ربوبیت عظمی اس کے لئے مخصوص ہے۔ رب الارباب کا اطلاق اسم اللہ پر جامعیت کے اعتبار سے ہے۔

ربوبیت: اس سے تمام جہان کی پرورش اسماء الہی کے ظہور کے ذریعہ ہوتی ہے۔ ان اسماء کا ظہور مرتبہ احدیت میں ( جس کو بشرط شے کہتے ہیں ) ہوتا ہے۔

رتق:اس کے لغوی معنوی باندھنے کے ہیں لیکن اصطلاح میں مادۂ وحدانیہ کا جسے عنصر اعظم بھی کہتے میں مجمل و مختصر ہوتا ہے اور جو آسمان و زمین کی پیدائش سے پیشتر مطلق محمل تھا۔ عنصر اعظم سے مراد پہلا ہیولی ہے۔ رتق کا ذات احدیت پر بھی اطلاق کیا جاتا ہے۔

رجال :۔سے مرا در فقاء، خدام، بھائی بند ہیں یا مریدان با صفا، جن کو بارگاہ قدس خاص مقام حاصل ہوتا ہے۔

رجاء: حضرت حق سے محویت کی وجہ سے ہمیشہ مقام احدیت طلب کرنا ہے۔

رجعت: قہر الہی کی وجہ سے وصول کے مقام سے بطریق انقطاع پھر جانا مراد ہے۔

رحمن: جمعیت اسماء کے اعتبار سے یہ ایک اسم حق ہے اس سے تمام وجود اور کل کمالات تمام ممکنات پر فائز ہوتے ہیں۔

رحیم: یہ کمالات معنویہ کے اعتبار سے اہل ایمان پر ایک اسم ہے جیسے معرفت و توحید و غیرہ۔

رحمت امتنانیه : بغیر کسی عمل کی جزاء اور شرط کے نعمت الہی کا فیضان ہو نامراد ہے۔

رحمت وجو بیہ:اس سے وہ رحمت مراد ہے جو متقین کیلئے رکھی گئی ہے رحمت وجوبیہ  رحمت امتنانیہ میں بھی داخل ہے کیونکہ حق کا بندہ کے عمل رحمت وجو بیہ کے ساتھ وعدہ فرمانا منت محض ہے۔

رخ: تجلیات کو کہتے ہیں۔ نیز اسماء وصفات کے ظہور کی کثرت کی وجہ سے ذات الہی کو بھی کہتے ہیں۔ تجلی جمالی کا ظہور مراد ہے۔ اس وجہ سے اعیان عالم کا وجود ہے ۔ رُخ تفصیل اسماء کے مرتبہ و مقام یعنی مرتبه واحدیت نیز ذات حق کو کہتے ہیں۔

رخسار: حقیقت جامعہ کو کہتے ہیں اور یہی فاتحہ الکتاب ہے۔ بعض نے وحدانیت بھی مراد لی ہے۔

رداء : بندہ پر حق کی صفات کا ظہور ہونا حدیث قدسی الکبریاءردائی (کبریائی میری چادر ہے ) کی روسے اسے مقام کبریائی بھی کہتے ہیں۔

ردی: حق کی صفات کو باطل کے ساتھ ظاہر کرنا یعنی جو صفات حق کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں سے کسی صفت کو بندہ کا اپنے ساتھ برتنا۔ اس کو اصطلاح میں ردی یعنی ہلاکت کہتے ہیں۔

رسم : ہر وہ عبادت جو بلائیت تقرب حق ادا کی جائے اور رسم و عادة عمل میں آئے بے سود ہے۔ اس سے کبھی خلق اور صفات خلق بھی مراد ہوتی ہیں۔

رشحات: ۔لغوی معنی قطرات،وہ علوم و فیوض و معارف ودقائق و حقائق  جو سالک کے قلب پر وارد ہوں

رضا:بندہ کا ہر اس چیز پر خوش و خرم رہنا جو قضاء الہی سے اسے پہنچے۔ اس کا سب سے کم درجہ صبر ، اور سب سے اعلی تسلیم ہے ۔ یہ پانچ مقامات میں سے ہے : تو کل ، شکر ، رضا، تفویض، تسلیم۔

رعونت: حظوظ نفسانی اور طبعیت کے مقتضیات میں قائم و کھڑے رہنے کو کہتے ہیں۔

رغبت:کسی طرف میلان اور شوق ۔ یہ نفس، قلب اور سر سے اس طرح ہوتی ہے کہ نفس کی ثواب کی طرف قلب کی مطلوب کی جانب اور سر کی حق کی سمت ۔

رقیقہ:نورانی لطیفہ مارد ہے۔ کبھی رقیقہ سے وہ لطیفہ مراد ہوتا ہے جو دو چیزوں کے درمیان میں ربط پیدا کرے جیسے حق سے بندہ کی جانب مد د واصل ہے اس کو وسیلہ اور رقیقۃ المنزل بھی کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بندہ حق سے قریب ہوتا ہے۔ یہ وسیلہ اخلاق حسنہ ، علوم نافعہ ، مقامات رفیعہ اور اعمال وغیرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کو رقیقة العروج اور رقیقة الارتقاء کہتے ہیں۔ کبھی طریقت کے علوم اور سلوک پر ان کا اطلاق ہوتا ہے۔

رقیب:نفس امارہ اور ظاہری و باطنی پانچوں حواس مراد ہیں :

رنج: اس انقباضی کیفیت کا نام ہے جو کسی خلاف طبیعت واقعہ یاہات کے واقع ہونے سے دل پر طاری ہو

رنگ:ذات و صفات اور افعال و آثار کے ظہور سے مراد ہے جو ہر لمحہ ہر لحظہ نئی صورت و نیار لگ دکھاتا ہے۔

رند: جو حقائق و معارف ہر ایک سے بے پردہ و بے محابا بیان کرے اور اسے بھی کہتے ہیں جو ہر قسم کی قیود اور پابندیوں ورسم و عادات سے باہر نکل چکا ہو ۔ حق کی راہ میں ایسا بے باک ہو کہ کوئی اسے مقصد حاصل کرنے سے باز نہ رکھ سکے۔

روح: وجہ خاص حق ہے تمام ارواح اس کی فروع ہیں۔ جمادی، نباتی، حیوانی اور انسانی کے ہر ہر مرتبہ میں اس کا الگ الگ نام رکھا گیا۔ یہ نہ قریب میں ہے نہ دور نہ دائیں نہ بائیں نہ نیچے نہ اوپر میں ہے بلکہ تمام عالم میں وہ ظاہر ہے۔:

روح الالقاء:اس سے وہ فرشتہ مراد ہے جو بندوں کے قلوب پر امر الہی القا کرتا ہے۔
روح اعظم : روح کلی عقل اول، حقیقت محمدیہ، نفس واحده ، سب سے پہلے جسے اللہ تعالی نے پیدا فرمایا، خلیفہ اکبر ، جو ہر نورانی ہے جوہریت کے اعتبار سے نفس واحده نورانیت کے اعتبار سے عقل کہتے ہیں۔ اسی کے لیے عالم میں مظاہر کا وجود ہے۔ اسی سے عقل اول، قلم اعلی ، نور، نفس کلیہ اور لوح محفوظ جیسے اسماء کا وجود ہے۔

اولیاء اللہ کی اصطلاح میں یہی مظاہر ، سر ، خفا، روح، قلب، کلمہ ، روع، فواد ، صدر، عقل اور نفس ہیں ۔

روح حیوانی:وہ لطیف ہوا ہے جو عناصر کے لطیف بخارات سے متعدد مضمون کے بعد پیدا ہوتی ہے اور جسم میں زندگی کی قبولیت کی صلاحیت پیدا کر کے اس میں حس و حرکت پیدا  کر دیتی ہے۔ یہ ہڈیوں اور گوشت میں اس طرح سرایت کئے ہوئے ہے جس طرح آگ کوئلہ میں۔ اسی وجہ سے روح اصلی کو بدن سے تعلق ہے اور اس کی جدائی سے بدن مر جاتا ہے اس لئے کہ روح حیوانی ہی کے قلب سے بے تعلق ہو جانے کا نام موت ہے۔ اس لطیف بخار کا اصلی معدن قلب و دماغ و جگر ہے۔ اس میں ڈاکٹری کی تدبیر کا تصرف رہتا ہے ان کے علاوہ جو دو مزید اجزاء ہیں ان میں نہ کسی طبیب کی مرضی چلتی ہے کہ طبابت اور سائنس کی۔ اسے روح طبعی اور بدن ہوائی کہتے ہیں ۔

روح انسانی: یہ روح حیوانی پر ایک اضافی چیز ہے، نور الہی ہے جس کا پر تو روح حیوانی پر ڈالا جاتا ہے۔ یہ دراصل حضرت علیم کی شعاع علم ہے جو نطفہ انسانی پر چمکتی ہے ۔ اور رحم مادر میں تخلیق انسانی کی تکمیل کا باعث ہوتی ہے۔ اسے روح ملکوتی بھی کہتے ہیں۔

روح القدس: یہ وجود حق تعالی سے ایک خاص وجہ ہے جو کن کے احاطہ سے خارج ہے اور مخلوقات میں شامل نہیں، اس سے حضرت آدم علیہ السلام میں روح پھونکی گئی۔ یہ تمام کونی نقائص سے پاک اور وجہ الہی  کے ساتھ ہر چیز میں تعبیر کی جاتی ہے یہی وجہ ہر چیز میں اللہ کی روح ہے۔ اسی وجہ سے روح القدس کہلاتی ہے اس کو روح الارواح ،سرّ الہی اور وجو د ساری بھی کہا جاتا ہے۔

ہر چیز کے لئے محسوسات میں ایک روح مخلوق ہے جس کی وجہ سے وہ قائم ہے اس صورت کے لئے یہ روح ایسی ہے جیسے لفظ کے لئے معنی یہ روح اپنے قیام کے لئے روح القدس کی محتاج ہے۔ یہ عام محسوسات کے متعلق ہے مگر انسان کا مرتبہ جملہ محسوسات سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ اسے تین طریقوں سے روح سے تعلق ہے۔

روح مخلوق اور روح القدس کے علاوہ اسے ایک تیسری چیز سے بھی سابقہ ہے جو ان لوگوں کے درمیان برزخ کے بطور ہے۔ اور جس کے ذریعہ ان دونوں میں زیادہ قوی رابطہ رہتا ہے اور جسے روح انسانی یا روح ملکوتی یا روح الروح بھی کہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ عبد و معبود کے درمیان راز و نیاز کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔ چونکہ روح انسانی اپنی اصل اور حقیقت کے لحاظ سے روح اعظم ہے اور روح اعظم ذات الہی کی ربوبیت کا مظہر ہے اس لئے نا ممکن ہے کہ حضرت حق کے علاوہ کوئی اس کی حقیقت تک پہنچ سکے۔  جس طرح عالم کبیر یعنی کائنات میں بہت سے اسماء و مظاہر ہیں، مثلاً عقل اول، قلم اعلیٰ ، نور ، نفس کلی اور لوح محفوظ وغیرہ، اسی طرح عالم صغیر یعنی انسان میں بہت مظاہر و اسماء ہیں اور ظہورمراتب کے اعتبار سے ان اسماء کے اصطلاحی نام یہ ہیں:

–سر–خفی–روح–قلب–کلمہ–فواد–صدر– روع–عقل–نفس

کلام مجید و احادیث شریفہ میں یہ تمام اسماء مختلف مقامات پر آئے ہیں:

سر : اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا نور صرف صاحبان دل اور راسخین فی العلم ہی کو معلوم ہوتا ہے ۔

خفی : یہ اس لئے ہے کہ عارف اور غیر عارف سب پر مخفی و پوشیدہ ہے۔

روح : یہ لطیفہ ، بند کارب، حیات حسی کا مصدر اور قواے نفسانی پر فیضان حیات کا سر چشمہ ہے۔

قلب: یہ حق اور نفس کی جہتوں میں پلٹتا رہتا ہے کہ جب حق کی جہت میں ہو حق سے انوار کا استفاضہ کرے اور دوسری جہت میں آکر اس نور کا اضافہ کرے۔ قلب کو اپنی جامعیت کے لحاظ سے لطیفہ انسانیہ بھی کہتے ہیں۔

کلمہ : جب نور حق مذکورہ بالا طریقوں سے قلب کی وساطت سے نفس میں ظہور کرتا ہے تو اسےکلمہ کہتے ہیں۔

فواد: فاد کے معنی زخم اور تاثیر کے ہیں۔ متذکرہ بالا نور کے مبدع کے اثر سے متاثر ہونے کےبعد اس کا نام فواد ہو جاتا ہے۔

صدر : ان انوار کے بدن سے متصل ہونے کی حیثیت سے لطیفہ کا نام صدر ہو جاتا ہے۔ یہ انوار میدا قیاض کی جانب سے نازل ہوتے ہیں اور تمام انوار کا صدور صدر ہی ہوتا ہے۔

روع: مبدع قہار کے خوف و قہر سے نفس اثر لیتا ہے جو لطیفہ اس سے پیدا ہوتا ہے اس کا نام روع ہے۔

عقل: نفس جب اپنی ذات اور اپنے خاص تعین میں تمام شرائط کے اور صحیح حدود کے ساتھ مقید ہو جاتا ہے تو اسے عقل کہتے ہیں۔

نفس : بدن سے تعلق اوراس کی تدبیر کی جہت سے اسے نفس کہتے ہیں۔ جب نفس سے افعال نباتی کا ظہور ہو تو اسے نفس نباتی اور افعال حیوانی کا ظہور ہو تو نفس حیوانی کہتے ہیں۔ جب نفس حیوانی کا قوت روحانی پر غلبہ ہو تو نفس امارہ ہے۔ جب نفس پر قلب کی وساطت سے انوار چمکتے ہیں اور ان کی روشنی میں اس کی نظر انجام پر پڑتی ہے اور وہ عقل کے ساتھ اتفاق شروع کر دیتا ہے اور اپنی خرابیوں و خامیوں کا اسے ادراک ہونے لگتا ہے اور اپنی ترقی اور تکمیل کی تمنا اس میں پیدا ہو جاتی ہے تو اسے نفس لوامہ کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس کا نفس برے افعال پر ملامت کرتا ہے ۔ جب انوار نفس میں قوت حیوانی پر غلبہ پا جاتے ہیں تو اسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ وہ ترقی کرتے کرتے  تجلی الہی کا آئینہ بن جاتا ہے اور اس کا نام قلب ہو جاتا ہے ۔ یہی وہ قلب ہے جو دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ اور دو عالموں کاملتقا ہے جو حق کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔

نفس کو روح حیوانی سے اور عقل کو روح ملکوتی سے مناسبت ہے۔ قلب ان دونوں کے درمیان ہے ، اس میں جامعیت ہے۔ جس کی وجہ سے اسے لطیفہ انسانیہ کہتے ہیں۔ روح کی ترجمان گویا عقل ہے۔

جب سالک روح حیوانی کے غلبہ و تسلط سے کسی قدر آزاد ہو جاتا ہے تو اس کا قلب روح بن جاتا ہے اورعقل سر ہو جاتی ہے ۔ روح قلب سے لطیف تر اور سر عقل سے روشن تر ہے۔ قلب کا کام وجد، روح کا الفت، عقل کا یقین اور سر کا کام مشاہدہ ہے۔

روح روانی :عالم ملکوت میں نورانی ارواح کا لباس اسے روح سیر انی بھی کہتے ہیں۔
روح سلطانی :اللہ تعالی کا وہ نور جو اس نے دونوں عالم ، عالم لاہوت اور عالم جبروت کے در میان ارواح کو عطا فرمایا
روح سیرانی :اس سے مراد روح روانی ہے جس کا تعارف پہلے گزر چکا ہے۔
 روح عالم : حضرت آدم علیہ السلام سے عبارت ہے کیوں کہ وہ خلیفہ حق ہیں۔

روز:  دن کو دن اس لئے کہتے ہیں کہ یہ نوریت و جمعیت والا ہے۔ اس کو وحدت اور وجہ حق بھی کہتے ہیں نیز شب کو شب اس واسطے کہتے ہیں کہ اس میں ظلمت اور تفرقہ ہے۔ یہ دن کے مقابل ہے اسے شب کثرت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وجہ حق تعیین کے حجابات لے لیتا ہے اور یہی ظلمت و تاریکی ہے۔

روزہ: حالت تجرید اور خطرات کو رفع کر نامراد ہے۔ یہ تین قسم کا ہے

روزہ عام ، صبح سے شام تک کھانے پینے اور شریعت میں جو امور منع کئے گئے ہیں ان سے رکنا

روزه خاص: اپنی زبان کو بولنے ، کان کو سننے اور آنکھ کو ماسوی اللہ سے روگرداں کرتا ہے۔

روزه خاص الخاص: یہ ہے کہ سالک اپنے دل میں ماسوی اللہ اور کسی قسم کی آسائش کو جگہ نہ دے اور ایک گھڑی بغیر یاد حق کے نہ رہے۔

روسیایی: اس سے سواد الوجہ فی الدارین کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی وہ بلند مقام جہاں سالک دونوں جہان سے تجاوز کر جاتا ہے اور دنیا و آخرت، ظاہر و باطن سے بے تعلق ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں عالم اس کے لئے تاریک ہو جاتے ہیں۔ عدم اصلی کی طرف اس رجوع کو ہی حقیقی فقر کہتے ہیں۔

رویت حق:حق کو خلق میں دیکھنا۔ یہ مشہور مسئلہ ہے کہ خلق حق کا مظہر ہے۔ یہ وجود حق سے موجود ہوئی نہ کہ خود ہے۔ کیونکہ یہ نا ممکن ہے۔ اس لئے کہ غیر وجود حق عدم محض کا موجود ہونا محال ہے۔ در حقیقت وجود حقیقی حق ہے جو تشبیہات اور تعینات کے لباس کے ساتھ موجود ہے۔ اسی بنا پر جو کچھ عالم میں نظر آتا ہے وہ وجود حق ہے کہ اپنے اسماء وصفات کے ساتھ نظر آتا ہے نہ غیر ۔ اس لئے کہ مخلوق ایک موہوم اور معقول امر ہے۔ الحق محسوس والخلق معقول ( حق محسوس اور خلق معقول ہے ) شیخ اکبر رحمہ اللہ فصوص الحکم میں کہتے ہیں کہ حق کی رویت کے لئے تقید اور اطلاق کے اعتبار سے کئی مراتب ہیں جیسے انسان کے لئے تقید اور اطلاق کے اعبار سے بہت مراتب ہیں۔ یعنی جسم روح اور قلب وغیره به تمام مراتب ایک سے ایک لطیف اور مطلق ہیں۔ ہر مرتبہ میں رویت کی کیفیت بھی تقید اور اطلاق کے اعتبار الگ الگ ہے۔ مثلا رویت چشم سر باعتبار تقید ہے قلب کی رویت بہ نسبت جسم کے لطیف و مطلق ہے۔ روح کی رویت ، قلب کی بہ نسبت لطیف و مطلق ہے۔ اسی طرح سالک پر جس قدر لطافت اور اطلاق بڑھتا جائے گا رویت بھی بڑھتی جائے گی اور وہ حسب مراتب مقید کو مقید اور مطلق کو مطلق دیکھے گا۔ مقید مطلق کو نہ دیکھ سکے گا لیکن مطلق مقید کو دیکھے گا خواہ وہ جہاں ہو دنیا میں یا عقبی میں۔ دنیا میں جو حق کی رویت نا ممکن ہے جو اسی لئے کہ مقید مطلق کو نہیں دیکھ سکتا ہے۔ البتہ جس کسی نے بھی مجاہد ہ اور جاذ یہ حق کی مدد سے اپنے کو مطلق کیا وہ بے شک دنیا میں بھی اطلاق کے اعتبار سے حق کو بطریق اطلاق مشاہدہ کرے گا۔

 روئے: تجلیات کے انوار مراد ہیں۔ بعض نے انوار ایمان کے کشف، عرفان کے دروازوں کو کھولنے اور حقیقت کے جمال کے پردوں کو اٹھانے سے بھی مراد لیا ہے۔وہ علمی راز جواللہ تعالی اپنے کسی مخلص بندے کے دل میں ودیعت فرماتا ہے۔

رہبت:یہ دو قسم کی ہے ظاہری و باطنی ظاہری یعنی وعید سے ڈرتا اور باطنی یعنی سلب کیفیت سے خوفزدہ رہنا

ریاضت: شریعت محمدیﷺ کے مطابق عبادت اور صفائی قلب  حاصل کرنا ریاضت ہے دل کوطبیعت کے تقاضوں اور اس کی خواہشات سے پاک کرنا

ریحان: اس سے وہ نور مراد ہے جو تصفیہ قلب اور ریاضت و عبادت کے بعد حاصل ہو۔

ریاء:ظاہری و باطنی عبادت اور اعمال میں حق سے محجوب ہو کر خلق پر نظر رکھنار یا کہلاتا ہے۔

رَین:۔  سے مراد وہ زنگ ہے جو دلوں کو لگ جاتی ہے ۔

حجابات قلب تین قسم کے ہوتے ہیں :

مہر کی صورت میں اور یہ کفار کے دلوں پر لگی ہوتی ہے ۔

زنگ اور قساوت کی صورت میں اس کا تعلق قلوب منافقین سے ہے۔

زنگ اور حجاب کی صورت میں اس کا تعلق قلوب مومنین سے ہے ۔

زاجر: اس ناصح و واعظ کو کہتے ہیں جو مومن کے قلب میں حق کی جانب سے ہو۔ یہ ایک نور ہے جو بندہ موسن کے دل میں حضرت حق کی عنایت سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو حق کی جانب کھینچتا اور متنبہ کرتا ہے۔

زاہد:  وہ شخص مراد ہے جو عبادت و ریاضت اور تقویٰ اختیار کرے ،تھوڑی چیز پر قناعت کرے اور ہمیشہ اس پر عامل رہے۔ماسوی اللہ کو دل سے اٹھا کر دوئی اور غیریت کو اپنے پاس نہ آنے دے۔

زاہد خشک:۔ ریاکاروجاہل  صورت تو زہد کی رکھتا ہو مگر اصول اور معنی میں ایسانہ ہو اورسخت قلب، بے عشق و محبت ہو ۔

زبان: اسرار الہی کو کہتے ہیں۔

زبان شیریں: اس امر کو کہتے ہیں جو تقدیر کے موافق ہو۔

زجاجه: عبد موسن کے قلب کو کہتے ہیں(آئینہ)۔ مصباح روح کو اور شجرہ نفس قدسی کو اور شکوہ جسم کو ۔ زیتونہ سے وہ نفس مراد ہے جو نور قدسی کے استعمال کے لئے مستعد ہے۔ تجلی افعالی  جن صورتوں میں ہوتی ہے اسے زجاجہ کہتے ہیں۔

زخم دل و زخم جگر : درد عشق کی پیشگی مراد ہے۔

زر: ریاضت و مجاہدہ کو کہتے ہیں۔

زردی: سالک کی وہ صفت عشق مراد ہے جو سلوک میں پیش آتی ہے۔

زکوۃ : ترک ، ایثار اور تصفیہ باطن کو کہتے ہیں۔ اس کی بھی تین اقسام ہیں

زکوۃ عام: اپنے مال سے ایک سال گزر جانے کے بعد چالیسواں حصہ مساکین و فقر کو دے۔

زکوة خاص : سالک اپنے کو راہ خدا میں دے ڈالے اور اپنی خودی کو کم کر دے یہی حقیقی زکوۃ

ز کوۃ حسن: اس سے مجازاًً بوسہ اور حقیقتہ فیض روحانی مرشد اور جاذ بہ حقیقی مراد ہے ۔

زلف:  زلف  کے کئی معنی ہیں (1)تجلی جلالی (2) تجلی اسم و (3) جذ بہ عشق الہی (4) ظلمت کفر (5) مشکلات، رموز حقائق کہ جن کے ادراک سے عقل عاجز ہوتی ہے (6) ذات کے جملہ مظاہر اور حجابات حقیقت محمدیہ یعنی تعین اول سے لیکر عالم اجسام تک زلف کہلاتے ہیں۔ اور عالم غیبی کوبھی کہتے ہیں اور اس سے وہ وجود خاص مراد ہے جس کے درجہ کی معرفت سے تمام جہان کوعلم حاصل ہو۔

عشق الہی کے جذبہ کو کہتے ہیں نیز موجودات و تعینات بھی مراد ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ مراتب تنزلات و ظهورات میں تجلی جلالی کی طرف اشارہ ہے ۔

زم زم: وہ مشہور کنواں جو خانہ کعبہ کے نزدیک ہے۔ صوفیوں کے نزدیک علوم الحقائق کی طرف اشارہ اور اس سے پینے کو زم زم کہتے ہیں ۔

زمستان: مقام کشف کو کہتے ہیں۔

زنار: یک رنگ کو کہتے ہیں کہ عالم وحدت و حقیقت محمدی ﷺ میں یکجہت و یک رنگ اور صاحب یقین ہو کر کثرت کو اٹھا دے۔ اس کی تین اقسام ہیں

زنار محمود عبادت و عبودیت کے ساتھ متعلق ہے۔

زنار مذموم دنیا اور نفس کے ساتھ متعلق ہے۔

زنار بستن : یعنی خدمت کے لئے ہمہ تن مستعد ہو جانا۔

زنخ : لطف و محبت کا مقام مراد ہے۔

زواهر الانبیا ۔ زواہر العلوم – زواجر الوصلہ : علوم طریقت – رموز حقیقت اور اسرارالہی کو کہتے ہیں۔

زہد :دنیا اور اس کی لذتوں کو چھوڑ دینا

ساربان :۔ مرشد، سالک رہنما، سے کنایہ ہے جو سالکوں کے عشق کے بوجھ کو اپنی پیٹھ پر لادے رہتا ہے ۔قضاو قدر کو بھی کہتے ہیں

ساغر : لغت میں شراب کا پیالہ اور اصطلاح میں اس سالک کو کہتے ہیں جو انوارغیبی کا مشاہدہ اور مقامات کا ادراک کرے۔ بعض نے ساغر سے گردش چشم مرشدی مراد لی ہے جو سالک کو حقیقی مستی بخشتی ہے۔

 ساقی: معنوی فیض پہنچانے والے اور ترغیب دینے والے کو کہتے ہیں جو اپنے کشف و مشاہدہ سے حقائق و معارف بیان کرتا ہے۔ صور مثالیہ و جمالیہ بھی مراد ہیں جن کےدیکھنے سے سالک پر مستی طاری ہوتی ہے۔ یا مرشد برحق اور محبوب حقیقی، عارف کامل کو بھی کہتے ہیں۔ ساقی کو مطرب بھی کہتے ہیں کیونکه ترانه محبت اور نغمہ توحید سناکر مست کرنے میں ساقی، مطرب کا کام بھی انجام دیتا ہے۔

ساقی القوم:۔ رسول اللہ ﷺساقی سے مراد یا ذات باری تعالی ہے یا ساقی کوثر حضور ﷺ یا مرشد کامل ہیں ۔

سترکے معنی حفاظت کرنا اور ڈھانپنا ہیں اور ظاہر میں :۔ ان آفتوں اور بلاؤں سے حفاظت کرتا ہے جو بندے کی ہلاکت کا سبب ہوتی ہیں۔ اور باطن میں :۔ رسوائی اورغضب و ناراضی اور مرتبہ کے گرنے سے بچانا ہے۔

سجین : بہ اعتبار مراتب ، ارواح کے دو ٹھکانوں میں سے ایک ٹھکانہ اس میں بدار واح رہتی ہیں ۔

سرخی، سبزی، سفیدی: سرخی قوت سلوک ہے جو سرخ روئی کا باعث ہوتی ہے ، سبزی کمال لطف کو کہتے ہیں جو شادابی کا

باعث ہے اور سپیدی یک رنگی کو کہتے ہیں۔

سپند: کالے دانہ کو کہتے ہیں۔ اس سے تجلی ذات مراد ہے جس کا رنگ سیاہ ہے اسے ماہتیہ الحقائق بھی کہتے ہیں۔

ستر: پردہ کو کہتے ہیں جس کے اٹھنے سے سالک حق سے ملتا ہے۔ یہ پردہ عوام کے لئے غفلت کی سزا اور خواص کے لئے رحمت ہے کہ اگر ذات باری اپنے چہرہ سے پردہ اٹھادے تو اس کے انوار سب کچھ جلا کر خاک کر دیں۔ جب انوار حقیقت قلب عارف پر اپنی شعائیں ڈالتے ہیں اس وقت وہ اپنے قلب پر ایسا پردہ  طلب کرتے ہیں جو انہیں تجلی کا متحمل بنا دے۔ استتارسے ان کی یہی مراد ہے ۔

سجاده: اس کی اصل سہ جادہ ہے یعنی شریعت، طریقت اور حقیقت میں کمال حاصل کرنا۔

سجود القلب: سالک کا حق کے مشاہدہ میں اس طرح فانی و غرق ہونا کہ ہوش و حواس نہ باقی رہیں۔

سدرة المنتهى : عقل کلی کو کہتے ہیں جہاں پر سب کی سیر اور اعمال اور علوم عقلی تمام ہوتے ہیں۔ یہی اسماء خلقیہ کے مراتب کی انتہاء ہے۔

سر:۔ بھید الہی کو کہتے ہیں۔ لطیفہ ذات جو قلب میں رکھا گیا یہ محل مشاہد و ذات ہے۔ اس لطیفہ کو کہتے ہیں جو قلب انسانی میں امانہ پرکھا گیا ہے جیسے روح بدن میں، یہی مشاہدہ کا مقام ہے یہی ایک چیز ہے جو حق سے توجہ ایجادی کے وقت مخصوص کی گئی جس طرح موج کے وقت دریا سے موجیں متعین ہوتی ہیں۔ وہ عین ثابت ہے۔

سرائر الآثار : اسماء الہی کو کہتے ہیں جو ایوان خارجیہ کے باطن ہیں۔

سر الحال: وہ چیز مراد ہے جس کی وجہ سے اس حال میں حق تعالیٰ کی مراد پہچانی جائے یعنی جو کچھ وارد ہوا ہے اس کی حقیقت و ماہیت اور منشا کیا ہے۔

سر الحقيقة:  اس چیز کو کہتے ہیں جو ظاہر نہ ہو پوشیدہ ر ہے اور ہر شے میں موجود ہو۔ یہی باری تعالیٰ کی حقیقت ہے۔

سرالسر: حقائق و اعمال کے تفصیلی علم اور احدیت الجمع کو کہتے ہیں نیز بعض نے ہویت ذات مراد لی ہے۔

سر العلم: علم باری تعالی کا سر مراد ہے جو باری تعالٰی کی حقیقت ہے۔

سر القدر: حضرت حق تعالیٰ ہر ہر عین ثابت سے ازل میں جانا گیا یعنی مع ان تمام حالات و کوائف کے جو اس عین ثابت کے خارجی وجود سے ظاہر ہوں گے ۔ لہذا وہ کسی ایسی چیز کا حکم نہیں کرتا جو اس عین ثابت کے حالات سے ظاہر نہ ہو۔

سرخوش: اس سے مراد وہ مستی ہے جو جوش کے ساتھ ہو اور اس کا افاضہ دوسروں پر بھی ہو سکے۔

سرکشی: سالک کی سرکشی یہ ہے کہ خواہشات نفس کی مخالفت پر کمر بستہ رہے۔ اس کے برعکس حالت کو سرکشی نفس کہتے ہیں۔

سر قدیم :۔سے مراد اسرار قرآن – اسرار موت و حیات یا علم غیب یا اسم اعظم ، سر قدیم ہر ایک امر کا جامع ہے۔

سرو: اس سے مراد عالم کون ہے۔ سروخراماں سے مراد نور محمدی ﷺ ہے جس نے قد بالا کے مشاہدہ کے لئے باغ عالم کی سیر اختیار کی۔

سرور: اس سے ذات میں صفات شامل ہونے سے ذات کا لذت پانا مراد ہے۔

سریان: چلنے کو کہتے ہیں،۔حق تعالی کا مومن کے قلب میں سمانا

سعادت: ازلی طلب کو کہتے ہیں یعنی جس میں ابتدا سے ہی حق کی طلب رکھی گئی ہو ۔

سعۃ القلب:انسان کامل کا حقیقت برزخیہ کے ساتھ متحقق ہونا مراد ہے کیونکہ وہ وجوب اور امکان دونوں کا جامع ہے اس لئے کہ قلب کا مل ہی برزخ ہے۔

سفر : ہندہ  کا حق تعالٰی کی طرف توجہ کرنا۔ اس کی چار قسمیں ہیں

1 سفر اول ، سیر الی اللہ : بندہ کا منازل نفس سے افق مبین تک جو قلب کی انتہا اور تجلیات اسمائیہ کا مبدأ ہے سفر کرنا۔

 سیر فی اللہ : اس میں سالک اسماء صفات سے متصف اور متحقق ہوتا ہے اس کی انتہا افق اعلیٰ یعنی حضرت واحدیت تک ہے۔ اسے مقام روح بھی کہتے ہیں۔

3سیر باللہ : اس میں سالک عین جمع اور حضرات احدیت تک ترقی و سیر کرتا ہے۔ ولایت کا مقام بھی یہی ہے۔ یہاں دوئی نہیں ہے۔

4  سیر من الحق الی الحق یہ تکمیل کے واسطے ہے یہی مقام بقا بعد فنا اور فرق بعد الجمع ہے۔

سفر الحق: حق سبحانہ کا تنز لات و تعینات میں نزول فرمانا  جس کی ابتداء نقطہ وحدت ہے اور انتہا مرتبہ جامع یعنی انسان اسکو قوس نزولی کہتے ہیں۔   سفر العبد: مر تبہ جامع سے ذات احدیت کی طرف عروج کرنا اور مراتب تعینات کوطے کرنا  اس کی ابتداء انسان اور انتہاء نقطہ وحدت ہے  اسکو قوس عروجی  کہتے ہیں

سفر در وطن: سالک طبیعت بشری سے سفر کرے یعنی صفات بشری سے صفات ملکی پر فائز ہو کر اخلاق ذمیمہ سے اخلاق حمیدہ کی طرف منتقل ہو جائے۔

سکر:۔ اس طاقتور وارد (حیرت، وحشت، ولہ اور پیمان) کو کہتے ہیں جو قلب کو ظاہر کے دیکھنے سے غائب کر دیتا ہے۔ وقت مشاہد ہ جمال محبوب مست و بیخود ہو جانا اورعقل کا عشق سے مغلوب ہو جانا اورمحویت اورفنا کی  اس کیفیت میں ہونا کہ  عاشق و معشوق کی تمیز نہ رہے اس حالت میں حضرت منصور سے انا الحق اور حضرت بایزید بسطامی سے سبحانی ما اعظم الشانی صادر ہوامستی و بیخودی جس میں سالک صفات ذات میں محو ہوجاتا ہے

سکینہ: اس قلبی طمانیت کو کہتے ہیں جو سالک کے دل پر غیب کے اسرار نازل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ نور سالک کے دل میں جاگزیں ہو کر اسے مطمئن کرتا اور عین الیقین کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔

سلاب: یعنی سالک کا تمام ظاہری و باطنی احوال سے اختیار چھن جانا۔

سلب : سلب سے مراد نفی کرنا یعنی اللہ سے نقص کی نفی کرنا ۔ عقل کے پاس کوئی اثباتی دلیل نہیں وہ تو صرف سلب سے ہی رب کا وجود پاتی ہے۔

سلوک: قرب حضرت حق کی طلب مراد ہے اصطلاحا روح کے سفر، فناء بشریت اور بقاء الوہیت کوسلوک کہتے ہیں۔ لیکن لغوی اعتبار سے راستہ چلتا ہے۔

 سلام: درود محمد یﷺ کو کہتے ہیں لیکن اصطلا حا راضی برضار بنے کو کہتے ہیں۔ اس سے تسلیم ہے۔

سلامتی: کونین و دارین کی تفرید و تجرید مراد ہے۔

سلسلہ: اعتصام خلائق کو کہتے ہیں۔ اس سے بالواسطہ فیض مراد ہے ۔ خواہ آفاق میں ہو کہ تمام اشیاء کو سلسله به سلسلہ حضرت واحدیت سے فیض رحمانی پہنچتا ہے۔ وہ روحانی جماعت جو آپس میں ایک دوسرے سے وابستہ ومنسلک ہو۔ اس سے مراد زنجیر بھی ہے سالک کو سلسلہ سے متعلق و وابستہ ہونے کے بعد اولیاء و انبیاء حضرت الوہیت سے فیوض و برکات کی ارزانی ہوتی ہے۔

سلطان: اس کے لغوی معنی نشانی، بادشاہی و بادشاہ کے ہیں۔ اس کا مطلب عمل کا قائم ہوتا ہے جس کا قیام ہمیشہ اعمال پر ہو۔ اصطلاح میں مبتدی کے لئے استقامت بالعمل ہے اور متوسط کے لئے حضرت جبروت کا مشاہدہ اور منتہی کے لئے بقا بعد الفنا ہے۔

سلطانی: عشاق پر اعمال و احوال اور واردات انہی کا جاری ہوتا ہے۔

 سماعدھیان سے سننے والا،  نغمہ الست کوترنم یا خوبصورت آواز یا غنا یا شعر کو لحن  کے ساتھ سننے کو اسی طرح راگ، قوالی  سننے کو سماع کہا جاتا ہے صوفیاء تین چیزوں کی صحت  ضروری کہتے ہیں۔ زمان، مکان ، اخوان۔

سواد الوجہ فی الدار ین :كليتا اللہ تعالی میں فناء ہو جانا۔ اس طرح کہ انسان کا مطلقا اپنا وجود نہ رہے۔ نہ ظاہراًنہ باطناً۔ نہ دنیاوی اعتبار سے اور نہ اخروی اعتبار سے۔یہی فقر حقیقی اور رجوع الی العدم ہے۔

سوار: بطون حق کو کہتے ہیں ۔

سوخته جلال: عاشق کو کہتے ہیں مکمل فانی شخص بھی مراد ہے۔

سوز: اس سے مراد سوزش عشقی اور گدازی قلب ہے جو یاد الہی میں ہو۔

سوئے: وہ غیرت مراد ہے جو من حیث الیقین ہوتی ہے۔

سیاہی: مرتبہ احدیت، گنج مخفی اور تجلی مراد ہے ۔

سیب زن: مشاہدہ کی فرحت مراد ہے۔

سیر:۔سالک کا ایک حال سے دوسرے حال، ایک عقل سے دوسری عقل، ایک تجلی سے دوسری تجلی اور ایک مقام سے دوسرے مقام میں منتقل ہونا اور اصطلا حا جذبہ الہی مراد ہے۔

سیر و طیر:جب کشف و کرامات کی راہ سے یہ سلوک طے کیا جاتا ہے تو سیر ہے۔ اس طور پر راستہ دیر میں طے ہوتا ہے۔  جب بلا کشف و کرامت یہ راستہ طے ہوتا ہے تو اسے طیر کہتے ہیں۔ اس میں راستہ جلد طے ہوتا ہے اور اس کوصوفیا سلوک اتم کہتے ہیں۔

سیل: دلی احوال کے غلبہ کو کہتے ہیں۔

سیم: ظاہر و باطن کی صفائی اور تصفیہ کو کہتے ہیں۔

سیمرغ: اس سے مراد فنا کے بعد مقام بقا ہے۔

شارع: شارع سے مراد شریعت کا وضع کرنے والا ہے۔

شان الہی: تجلی حق سجا نہ اس اعتبار سے کہ وہ حق سبجانہ کی طرف سے بندہ پرنازل ہوتی ہے شان الہی کہلاتی ہے اور اس اعتبار سے کہ تجلی کے نازل ہونے سے بندہ پر ایک خاص اثر ہوتا ہے یہ تجلی عبد کا حال کہلاتی ہے۔

شاهد: اس چیز کو کہتے ہیں جو دل میں موجود ہو اور اس کا ذکر اس پر غالب ہو۔ اگر علم اس پر غالب ہو تو اس کو شاہد علم کہتے ہیں اور اگر وجد غالب ہو تو شاہد وجد کہتے ہیں۔ اگر حق ہو تو شاہد حق کہیں گے۔ بعضوں کے نزدیک نور تجلی کے فروغ کو جو ارواح کے ساتھ مخصوص ہو شاہد کہتے ہیں۔ اس کو تجلی نوری بھی کہتے ہیں۔

شاهد التوحيد :اس سے کونی حقائق کی یکجائی مراد ہے۔ ان میں سے ہر ایک میں ذات حق کا مشاہدہ کرنا ہے کیونکہ ہر فرد عالم کے لئے ایک خاص تعین کے ساتھ احدیت ہے۔

شاہد الوجود : نور محمد ی ﷺ کو کہتے ہیں جو اصل کا ئنات ہے۔

شام:شام سے مراد کثرت اور صبح سے مراد وحدت ہے۔ بعض کا قول ہے کہ مظاہر تعینات میں خفائے حق شام کہلاتا ہے اور صبح صور مظاہر میں حق کے ظہور کو کہتے ہیں۔

شباب:مقامات پر سیر کی تیزی و سرعت اور تصفیہ باطن مراد ہے۔

شب:عالم غیب، عالم ربوبیت اور عالم حروف مراد ہیں۔ شب کو تفرقہ اور کثرت نیز ظلمت کی وجہ سے شب کہتے ہیں۔

شب رو:شب بیدار کو کہتے ہیں۔

شب و روز:کفر و دین سے کنایہ ہے۔ حضرت شیخ اکبر قدس سرہ نے اس سے فص نوحی میں بطون اور ظہور انسانی مراد لیا ہے۔ یعنی رات سے عقول وروحانیت اور دن سے صور واجسام ۔

شب قدر: عین استہلاک میں وجود حق کے ساتھ سالک کی بقا کو کہتے ہیں

شبنم:فیضان حق مراد ہے جس سے ظاہری و باطنی تصفیہ حاصل ہو کر قلب کو شگفتگی حاصل ہوتی ہے۔

شب یلدا:سواد اعظم کو کہتے ہیں انوار کا انتہائی مقام

شجر :جسم ظاہر یعنی وجود ظاہری جو چاروں عناصر کا مجموعہ ہے مراد ہے۔

شحنہ سلطان کی طرف سے مقرر کردہ شہر کے متولی کو کہتے ہیں جن کے ذمہ شہر کا انتظام و انصرام ہوتا ہے۔

شراب: وہ ذوق و شوق مراد ہے جو سالک کے دل پر عالم باطن سے وارد ہوتا ہے اور اسے مدہوش کر دیتا

ہے۔ بعض کے نزدیک عشق، معرفت اور محبت بھی مراد ہے۔

شراب بیخودی:محویت و فنامراد ہے۔

شراب بے ساغر و جام :وہ شراب طہور جس سے سرور حقیقی مراد ہے۔

شراب بادہ خوار و شراب ساقی آشام:تجلی ذاتی اور حصول کمال ذاتی مراد ہے۔

شراب خانه: عالم معنی، باطن ، پیر کامل، عارف اور بعض نے عالم ملکوت مراد لیا ہے۔

شراب صاف:  وہ فیض ہے جو مبد آ فیاض سے ارواح مقدسہ پر فائض ہوتا ہے۔

شرط:نفس رحمانی کو کہتے ہیں۔

شریعت :ظاہر کی فقہ یعنی عبادات و معاملات کے ارکان و اعمال جسم و جوارح کے اعمال و احکام اور ان کے اصلاح و فساد کی فقہ، شریعیت کہلاتی ہے ۔ شریعت ظرف اور طریقت مظروف یا شریعت چھلکا اور طریقت مغز ہے

شست و شو:عاشق و معشوق کی صفائی قلب و حضوری جو نفس و نفسانیت سے عاری ہوں۔ اس سے دل کا ما سوئی اللہ سے پاک ہونا بھی مراد ہے۔

شطحیات:۔ جمع ہے شطح کی۔ یہ وہ کلمات جو مستی عشق اور ذوق محبت  (غلبۂ حال) میں صوفیائے کرام کی زبان سے  نکل جاتے ہیں جو بظاہر شریعت کے خلاف معلوم ہوتی ہیں مگر باطنا کسی راز کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔    یہ کلمات خواہش نفس سے مطلق نہیں کہے گئے بلکہ محویت وفنا سے صادر ہوئے ۔ یہ حضرات ان کلمات کے کہنے میں معذور سمجھے گئے کیونکہ یہ سکرو مستی میں زبان حال سے نکلے ۔

شعب الصدع :فرق کا ترقی کے ساتھ جمع کرنا یعنی حضرت وحدت سے حضرت احدیت کی طرف عروج کرنا۔

شعور: ذات وصفات حق سے آگاہ ہونے کو کہتے ہیں یہ شعور قابل تعریف ہے اس کے بر عکس غیریت کا شعور مذموم اور قابل ترک ہے۔

شغل: ذات وصفات کا تصور اور غیریت محو کر نامراد ہے۔

شکر: سالک اپنے کو نابود اور حق تعالی کو موجود جانے اور تمام صفات و افعال و کمالات حق ہی کی طرف منسوب کرے۔

شکل: عین ثابت کی کمیت کو کہتے ہیں جو جوہر میں آکر صورت پکڑتی ہے۔

شگوفه : علو مراتب مراد ہیں۔

شمع: نور عرفان اور نور الہی کو کہتے ہیں اور بعض کا قول ہے کہ اس سے انوار معرفت کا پر تو مراد ہے جو سالک میں ظاہر ہوتا ہے۔ شمع انجمن سے ذات معشوق بھی مراد لی جاتی ہے۔

شمائل:تجلی جمالی کے ظہور کو کہتے ہیں

شواہد الاسماء:احوال و اوصاف اور افعال کے ساتھ اکووان کا مختلف ہونا مثلاً مرزوق رازق پر دلالت کرتا ہے، حی محی پر اور میت ممیت پر وغیرہ۔

شوق: طلب حق مراد ہے۔

شوخ: التفات کی کثرت کو کہتے ہیں جو معشوق کی طرف سے ہو،۔معشوق  بھی مراد ہوتا ہے۔

شهود:رویت حق مراد ہے اس طرح پر کہ سالک تعینات کے مراتب اور صوری موہومات سے عبور کرے اور توحید عیانی کے مقام میں پہنچ کر تمام موجودات میں حق کا مشاہدہ کرے۔ غیریت فنا کر دے اور حق کے سوا کسی کو نہ دیکھے ۔ اس کا الٹ غیبیت ہے

شيخ:۔ اصطلاح صوفیہ میں اس سالک کو کہتے ہیں جو شریعت کی متابعت سے حقیقت کے مرتبہ عالی تک پہنچ جائے اور درجہ فنا سے بقا پر فائز ہو۔

شیخ کا معنی ”پیر“ اور ”خواجہ “، یا عمر رسیدہ ہو ۔ اسے شیخ کہا جاتا ہے۔ شیخ کی جمع مشائخ، مشخییۃ و مشخ و شیوخ آتا ہے “۔

لفظ شیخ کے کئی اصطلاحی معانی ہیں۔

(1) مصنفین و محققین کے نزدیک جس نے ہر علم میں ہر موضوع پر مستقل کتاب لکھی ہو۔

(2) فقہاء کے نزدیک جو شخص اس عمرکو پہنچے اس کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینا از روئے شریعت  جائز ہو ۔

(3) اہل حساب کے نزدیک شیخ اسے کہتے ہیں جس کی عمر پچاس سال سے تجاوز کر جائے۔

(4) اصفیاء کے نزدیک شیخ اسے کہتے ہیں جو سنت مصطفی  ﷺ کو زندہ کرے اور بدعات کو کو مٹائے

(5)جو مریدوں کے دلوں کو نور شریعت سے چمکائے

شیدا:اہل جذب و شوق اور مست و دنیا کو چھوڑ دینے والے بے خبر عاشق کو بھی کہتے ہیں۔

شیراز: شیراز لطیف ترین ناسوت سے مراد ہے۔ یہ ناسوت الطف ایک عالم ہے جو کثرت فی الوحدت اور وحدت فی الکثرت کے مشاہدہ میں پوشیدہ ہے۔ اسے عالم اسرار بھی کہتے ہیں اس مقام پر کاملین کی رسائی ہوتی ہے۔   حافظ شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بعض اشعار میں شیراز سے اس ناسوت الطف کو مراد لیا ہے کیونکہ شیر از ان کا وطن مجازی تھا اور وطن محبت ناسوت الطف کا پرتو ہے۔

شیرینی:ذوق و شوق اور جذب کو کہتے ہیں۔

شیشه:اس سے مراد پیمانہ ، جام اور دل ہے ۔

شیفته جمال: حسن حقیقی کے عاشق کو کہتے ہیں جو مجازی حسن کو بھی اس کے ساتھ دیکھے

شیون:۔شان کی جمع ۔ لغوی معنی کیفیت و حالت کے ہیں ۔ یعنی جاہ و جلال کی حالت ۔انہیں صورعلمیہ اور حقائق عالم کے اصول کہتے ہیں ۔

شیوه:جذبہ الہی مراد ہے اور بعض نے فطرت و عادات الہی بھی مراد لیتے ہیں۔

شے لطیف : وہ شے مراد ہے جو موجود ہونے کے باوجود دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے اور چھونے میں نہ آسکے ، جس طرح انفس میں عقل کہ موجود ہے مگر دیکھی سنی نہیں جاسکی اور آفاق میں جو ہر ۔

صاحب الزمان، صاحب الوقت والحال: وہ شخص جو برزخ اولی کی جمعیت کے ساتھ متحقق، حقائق اشیاء پر واقف اور حضرت حق کے تصرف کے ساتھ ماضی، حال اور مستقبل میں متصرف ہو۔

صبا:وہ ٹھنڈی لطیف و خوشگوار ہوا ہے جو عرش کے نیچے  صبح کو چلتی ہے۔ اس سے مراد و نفحات رحمانیہ ہیں جو مشرق روحانیت سے آکر مغرب ذات میں لے جاتی ہیں اور ان دواعی کو بھی کہتے ہیں جو نیک کاموں کے باعث ہوتے ہیں۔

صباحت : جمال ظاہر، جمال جس نے ظہور پایا، کھلا ہوا حسن ، حُسن کی ظاہری صورت ظاہری چمک دمک

صبح:شمس حقیقت کا طلوع، سالک کے تمام احوال و اعمال کا ظہور اور برزخ کبری مراد ہے جس کے ایک سمت ہوئیت کی غیبت اور دوسری سمت واحدیت کا ظہور ہے۔

صبر : معشوق حقیقی کی طلب اور محبت میں ثابت قدم رہنا اس کی یافت میں محنت و مشقت جھیلنا اور اس سے رتی بھر دل برداشتہ نہ ہو نا مراد ہے۔

صبوحی: سالک کی حق کے ہمراہ گفتگو مراد ہے جس سے سالک کو مسرت و سرور اور عیش نصیب ہو۔

صبيح الوجه : وہ جو اسم جواد کے ساتھ متحقق اور اس کا مظہر ہو لیکن چونکہ انسان کامل ﷺ کی ذات سب سے کامل و مکمل ہے اس لئے یہ اصطلاح صرف آپﷺ کے لئے ہے۔

صحو :-ذات احدیث میں غیریت کے ساتھ محو ہو جانا اس طاقتور وارد(سکر) کے چلے جانے کو کہتے ہیں ، یہاں تک کہ قلب غائب ہونے کے بعداحساس کی طرف لوٹ جائے ۔بیداری کی حالت کو صحو کہتے ہیں۔

صداء: اس سے ملکی حجاب مراد ہے جو آفاقی تعینات اور نفس کی ظلمت و تاریکی کے اثر سے قلب پر طاری ہو کر تجلیات و حقائق قبول کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ یہ شروع کی حالت ہے ، جب یہ حجاب بڑھ جاتا ہے اور دل پورے طور پر حقائق و تجلیات سے محروم ہو جاتا ہے تو اسے رین کہتے ہیں۔

صدق: ظاہر و باطن میں دل و زبان سے خفیہ و علانیہ حق تعالٰی اور خلق سے راستبازی سے پیش آنا (یا ایمانداری ) ۔

صدق النور :یہ وہ کشف ہے جس کے بعد کوئی پردہ نہیں کیونکہ سالک جس وقت مقام جمع میں پہنچتا ہے اس کو صدق النور کہتے ہیں۔

صراحی: مستی و سرخوشی کا مقام ہے جس میں سالک متحیر ہوتا ہے اور اس پر غیبی فتوحات وارد ہوتی ہیں۔ بعض کے نزدیک باطنی حسن ترتیب مراد ہے۔

صعق: وہ مکمل فنا مراد ہے جس میں حق کے سوا کسی چیز کا کوئی وجود باقی نہ رہے۔

صفات اضافیہ یعنی پیدا کرنا، رزق دینا، مارنا زندہ کرنا رنج و الم دیناا، انعام کرنا وغیرہ

صفات حقیقیہ یعنی اراده و قدرت ،سمع و بصر کلام ،علم حیاۃ اور تکوین ۔

صفات ذاتیہ : وہ صفات جن سے حق تعالٰی متصف ہے اور ان کی ضد نہیں ۔ مثلاً عظمت، کبریائی ، قدرت وعزت و غیرہ۔

صفات سبع ذاتیہ:۔حق تعالیٰ کے مرتبہ عین اور مرتبہ علم میں سات اعتبارات کلی ہیں۔ انھیں امہات حقائق اور سبع مثانی بھی کہتے ہیں ۔ وہ یہ ہیں ۔1 حیات – 2 علم ۔ 3- قدرت – 4. اراده – 5 سمع – 6 بصر 7 کلام – انہیں الہیت اور واحدیت کہا جاتا ہے ان سات صفات کے ج کہتےجامع کو الٰہ کہتے ہیں

صفات فعلیہ :وہ صفات جن کی ضد جائز ہو جیسے رضا، رحمت غیظ و غضب و غیرہ۔

صنم: وہ تجلیات صفاتی اور حقیقت روحی مراد ہیں جو سالک کے دل میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔

صوت سرمدی: ذات حق کی آواز کو کہتے ہیں جو مخلوق کی پیدائش سے پیشتر تھی اور مخلوق کی فنا کے بعد بھی رہے گی۔

صورالحق:صورت حق مراد ہے جو در حقیقت ذات نبوی ﷺ ہے کیونکہ آپ ﷺحقیقت احدیت واحد تیہ کا سرچشمہ ہیں تمام مخلوق آپ ﷺکی صورت پر ہے اور آپ ﷺ کے توسط و وسیلہ سے سب حق کی صورت پر ہیں۔ آپ ﷺ تمام صورتوں کی اصل ہیں کیونکہ حق کا تعین اول آپ ﷺ ہی ہیں۔

صوفی:  جو اپنے دل کو غیر حق سے بچاۓ اور شیطانی و نفسانی خطرہ کو دخل نہ ہو۔

صومعه:لغت میں نصرانیوں کے عبادت خانہ کو کہتے ہیں لیکن اس سے مراد مقام تنزیہہ ہے۔

صورعلمیہ، حق تعالی کے وجود کے آئینے جو عکس ان آئینوں  سے ظاہر ہوتا ہے ، اس کوظل بھی کہتے ہیں کیونکہ ظل، نور سے ظاہر ہوتا ہے ۔ نور نہ ہو تو ظل بھی نہیں

ضلال: گمراہ ہونے کو کہتے ہیں۔ حضرات صوفیہ عشق و محبت کے مرتبہ کو مراد لیتے ہیں

ضنائن:: لغت میں بخل و کنجوسی اور خاصہ کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح میں خاصہ ہی مراد ہے یعنی اہل اللہ کا وہ گروہ جس کو حضرت حق نے ان کی نفاست کی وجہ سے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے۔

 ضمیر:اندیشہ ، دل، اندرون دل اور جو کچھ اس میں پوشیدہ اور گزرتا ہے۔

ضیاء: اغیار کو چشم حقیقت سے دیکھنا اور غیر کو حق جاننا یہ نور الہی ہے جس کو فراست بھی کہتے ہیں۔

طامات:لاف گزاف، خود نمائی اور خود فروشی، جعل فریب اور عوام الناس کی تسخیر کے لئے کشف و کرامات دکھانے کو کہتے ہیں جو بالکل بے اصل ہے۔

طائر: اس سے مراد اولیاء مقربین و فرشتے اور بعض کے نزدیک صور علمیہ، اعیان ثابتہ ، تقدیر الہی و علم کا مقام مراد ہیں۔

طاہر الظاهر : وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے گناہوں و خطاؤں سے معصوم رکھا ہے۔

طاہر الباطن:وہ ہیں جن کو اللہ تعالی نے شیطانی وسوسوں، ہوا جس اور تعلق غیر سے محفوظ رکھا جیسے صد یقین اور اولیاء اللہ و غیرہ۔

طاہر السر والعلانیہ : وہ شخص جو خالق و مخلوق دونوں کے حقوق پورا کرنے کے لئے ہر وقت مستعد رہے اور ظاہر و باطن میں اس کی نظر حق پر رہے۔

طبیب روحانی: شیخ کامل، عالم اور وہ عارف مراد ہے جو کمالات آفات، امراض، دواؤں اور کیفیت و صحت روحانی سے واقف اور ان کی بیماریوں کے علاج جانتا ہو ۔

طرب: وہ دلی سرور جو حق کے مشاہدہ سے پیدا ہو۔

طراوت:انوار الہی کے ظہور کو کہتے ہیں۔لیاقت اور استعداد مراد ہے

طریقت سیر اور سلوک الی الله، قطع منازل، ترقی مقامات، تزکیہ باطن ، وصال اور قرب کے ساتھ ہونے کو کہتے ہیں۔ شریعت کے باطن کو طریقت  اور باطن کی فقہ بھی کہا جاتا ہے۔

طفل معانی :عالم لاہوت میں روح کی پہلی صورت جس صورت پر اللہ تعالی نے اسے پیدا کیا۔ اسے انسان حقیقی بھی کہتے ہیں۔

طفیلی :۔کے معنی ہے۔ ایسے لوگوں میں داخل ہونا جن میں سے شامل ہونے والا نہ ہو۔ اور ان لوگوں میں شامل ہونے کی اجازت بھی نہ لی ہو ۔عمومی طور پر وہ  جو کھانے کی تقریب میں کھانا کھانے کے لئے بغیر دعوت کے شامل ہو جاتا ہے۔

طلب: سے مراد طلب مولی ہے۔  طلب کامل اور طلب صادق اسے کہتے ہیں کہ شب و روز اپنے مولی کی یاد سے غافل نہ ہو اور دنیاد آخرت کی نعمتوں کی طرف بالکل متوجہ نہ ہو اور ہر روز بلکہ ہر آن طلب بڑھتی جائے

طمانیت: سالک کے قلب اور نفس کے حق کے ساتھ سکون پانے کو کہتے ہیں۔

طمس:سالک کے عادات ورسوم کو ترک کر کے صفت حق میں بالکل محو اور بے خود ہو جانے کو کہتے ہیں۔

طوالع : وہ انوار معارف مراد ہیں جو سالک کے دل پر تجلیات حضرت حق سے پیدا ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں سالک کا اپنے اخلاق و اوصاف کو نور باطن سے آراستہ کرنا ہے۔

طوامع: انوار توحید جو عارفوں کے دل میں طلوع ہوتے ہیں اور انوار سابقہ کو مخفی کر دیتے ہیں۔ (طوامع : لالچ)

طور:حال و شان کو کہتے ہیں۔نفس انسانی کا باطن  جسے مومن کی حقیقت الہیہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں

طے :۔کے معنی لپیٹنا ، اور ملانا۔ اس طرح کہ طویل ، کوتاہ اور بڑا چھوٹا ہو  جائے۔

اور صوفیائے کرام کے نزدیک ”  اس کی چار قسمیں ہیں۔ اول طے زمان وقت اور زمانہ کو لپیٹنا دوم طے مکان جگہ اورفاصلے کولپیٹنا سوم طے دنیا دنیا کی مسافت کو لپیٹنا  چہارم:۔ طے نفوس: نفسوں کو لپیٹنا

طیر:۔ جب بلا کشف و کرامت سے سلوک کاراستہ طے ہوتا ہے تو اسے طیر کہتے ہیں۔ اس میں راستہ جلد طے ہوتا ہے اور اسی کو صوفیا سلوک اتم کہتے ہیں۔

ظالم : یہ ظلم کا اسم اعل ہے اگر کلام کے جزم کے ساتھ مصدر سمجھ جائے تو جبر و زیادتی کرنے والے کے معنی ہوں گے۔ اگر لام پر پیش ہو تو تاریک کر دینے والے کے معنی ہوں گے اس بنا پر اہل محبت کی زبان میں معشوق کو کہتے ہیں۔

 ظاہر:۔کسی چیز کا وہ رُخ جو محسوس ہو یا نظر آتا ہو، کھلا ہوا رُخ ( باطن کی ضد)، باہر کا رخ اللہ تعالیٰ کے اسمائے صفاتی میں سے ایک اسم وہ معارف و تجلیات جو سالک کے ادراک میں آسکیں

ظاہر العلم : اعیان ممکنات کو کہتے ہیں ۔

ظاہر الممکنات ظاہر الوجود: اسماء البیہ کی تجلیات کو کہتے ہیں

ظل:۔سایہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کسی شے کا انعکاس یا پرتو جو تجلی یا ظہور کا پرتو ہے عالم کو اللہ سے وہی نسبت ہے جو سایہ کو اس شخص سے ہے جس کا وہ سایہ ہے   یہ ظل الہی ہے جس کو عالم کہتے ہیں۔

ظل الله ، ظل اله :اس کامل انسان سے مراد ہے جو حضرت واحدیت کے ساتھ متحقق ہو۔

ظلمت : عدم سے مراد ہے جو ادراک میں نہیں آسکتی۔

ظلوم و جهول : اس سے مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے والا اور غیر حق سے جاہل۔ کلام مجید میں ظلوم و جہول سے انسان کی تعریف مقصود ہے۔

عارف:اصطلاح میں اس شخص کو کہتے ہیں جس نے حال سے ذات و صفات و اسماء کا مشاہدہ کیا ہو یعنی وہ صاحب نظر عارف جس کو حضرت حق تعالٰی نے اپنی ذات و صفات اور اسماء وافعال کا بینا کر دیا ہو۔

عارف الوجود: اعیان ثابتہ کو کہتے جن کو ہمیشہ وجود مطلق حقانی پیش نظر ہے۔

عاشق: اصطلاح میں عاشق وہ ہے جو عقل سے دور اور اپنے سروپا سے بے خبر ہو سونے کھانے پینے کو اپنے اوپر حرام جانے۔ زبان اس کے ذکر میں ، دل فکر میں اور جان مشاہدہ حقیقی میں مشغول رہے۔

عارض: انوار ایمان کا کشف اور تجلی جمالی مراد ہیں

عالِم : وہ شخص جس نے ذات و صفات و اسماء الہی کے متعلق جو کچھ حاصل کیا ہوا ہے وہ علم الیقین کے ساتھ حاصل کیا ہے نہ کہ کشف و شہود کی راہ سے۔َ

عالَم  :علامت سے عالم مشتق ہے۔ لغوی اعتبار سے عالم وہ ہے جس کے ذریعے سے کوئی دوسری شے پہچانی جائے۔ اصطلاح صوفیا میں ماسوی اللہ عالم ہے۔ عالم کا وجود ظلی ہے   ۔ لہذا عالم صورت حق ہے اور حق تعالی روح عالم ہے بلحاظ خلیفہ حق ہونے کے آدم یا محمد کو جو انسان کامل ہیں، روح عالم کہا جاتا ہے۔

عالم اجسام : وہ عالم ہے جس کی تخلیق مادے سے ہوئی۔ اسی عالم کو عام خلق بھی کہتے ہیں کیونکہ خلق کے معنی ہیں ایک شے کے واسطے سے دوسری شے بنانا ۔
عالم اصلی :وہ عالم جس میں اللہ تعالی نے نور محمدی سے تمام ارواح کو پیدا فرمایا۔ اسے عالم لاہوت بھی کہتے ہیں۔

عالم امر : اعیان ثابتہ اور ارواح مراد ہیں جس سے کن عالم اعیان اور فیکون عالم ارواح ہے۔جو اللہ کے حکم سے وجود میں آیا

عالم برزخ یا عالم مثال جہاں ارواح، دنیا میں آنے سے پہلے رہتی ہیں” جابلقا ” کہلاتا ہے اور وہ عالم برزخ یا عالم مثال جہاں ارواح ، اجسام سے مفارقت کے بعد جارہتی ہیں ” جابلسا ” کہلاتا ہے۔ اس میں روحیں اعمال کی مثالی صورتیں اختیار کر لیتی ہیں ۔

عالم ثانی:مرتبہ واحدیت اور عالم صفت ہے۔

عالم جبروت :عالم لاہوت سے ارواح جس دوسرے عالم کی طرف اتریں اس دوسرے عالم کو عالم جبروت کہتے ہیں۔ عالم جبروت دو عالموں، عالم لاہوت اور عالم ملکوت کے در میان واقع ہے۔ عالم جبروت کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں احکام خداوندی کے مطابق امور سر انجام پاتے ہیں۔
عالم حقیقت :یہ عالم لاہوت میں انبیاء و اولیاء کا مقام ہے ۔ اس کی تشر یح میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد محل وصال ہے جہاں انسان و اصل بحق ہو تا ہے۔ اس کے متعلق ایک تیسرا قول بھی ہے کہ عالم حقیقت سے مراد عالم احسان میں دخول ہے۔ اس کو عالم قربت کانام بھی دیا جاتا ہے۔

عالم خارج: عالم ارواح جو اعیان ثابتہ کا سایہ ہے اس سے تمام عالم خلق مراد ہیں۔

عالم خلق: عالم اجسام سے مراد ہے اس کو عالم شہادت اور عالم ملک بھی کہتے ہیں۔جو مادہ سے تخلیق ہوا

عالم صغير وكبير : انسان اور اس کے جسم کو کہتے ہیں کیونکہ جو کچھ عالم کبیر میں موجود ہے اس کی نظیر جسم انسانی میں موجود ہے۔ عالم صغیر خاص عالم انسان کو کہتے ہیں۔ عالم صغیر عالم ارواح سے عالم اجسام تک کو کہتے ہیں۔ عالم کبیر عالم ارواح سے عالم اجسام تک ہے۔ اس سے مراد عالم باطن ہے جو وحدت، واحدیت اور احدیث سے مرکب ہے۔

عالم قربت :اسے عالم حقیقت بھی کہتے ہیں۔ جس کی تشریح ابھی آپ پڑھ کر آئے ہیں۔

عالم کون: ظاہری دنیا کو عالم کون کہتے ہیں۔ عالم کون و فساد عالم سفلی ۔ عالم فانی بھی یہی دنیا ہے۔ البتہ کل کائنات کو عالم کبیر یا قدرت کہتے ہیں۔
عالم لاہوت :روحوں کا پہلا وطن جہاں وہ تخلیق ہو گئیں۔ اسی عالم میں محو فناء ہے۔ کیونکہ فانی کو اس عالم میں قرب خداوندی حاصل ہو تا ہے۔ اس عالم تک ملا ئکہ نہیں پہنچ سکتے۔

عالم معنی : عارف کامل کا باطن اور عالم ارواح مراد ہے۔

عالم مثال: عالم ارواح اور عالم اجسام کے درمیان کا عالم یعنی جو کچھ عالم اجسام میں ہے اس کی نظیر عالم مثال میں ہے لیکن اتنا فرق ہے کہ عالم اجسام کثیف ہے اور عالم مثال لطیف۔

عالم مطلق : مرتبہ احدیت اور عالم باطن مراد لیتے ہیں۔

عالم الملک :عالم شہادت یا عالم اجسام واعراض۔ اسی عالم میں روحیں جسموں میں داخل ہوتی ہیں۔ اس کا دوسرا نام عالم سفلی ہے۔
عالم الباطن :دل میں ظاہر ہونے والا علم نہ کہ ظواہر میں صوفیاء کرام علیہم الرحمۃ کی جماعت نے اس کی کئی قسمیں بیان کی ہیں۔ مثلا علم ، حال، خواطر ، يقين ، اخلاص ، اخلاق اس کی معرفت ، اقسام دنیا کی معرفت، توبہ کی ضرورت، توبہ کے حقائق، توکل، زهد ، انابت ، فناء، علم لدنی۔

  عامہ : وہ علماء ہیں جنہیں صرف ظاہر شریعت کا علم ہو ۔ ان کو باطن سے کچھ حس نہیں ۔ ان کو علماء رسوم و علماء ظواہر بھی کہتے ہیں ۔

عبادلہ : صاحبان تجلیات مراد ہیں جو حقیقت کے کسی ایک اسم سے متصف ہوتے ہیں، اور وہ عبودیت کے ساتھ منسوب ہوتی ہیں۔

عبودیت:صدق نیت اور تصحیح نسبت کو کہتے ہیں کہ سالک اپنے سلوک میں بغیر جنت کی لالچ اور دوزخ کے خوف سے اس پر کار بند ہو۔

عبودة: سالک کا اپنے نفس کو رب کی عبادت کے لئے حاضر کرنا اور حق کے مقام فرق و جمع میں عبادت کرنا۔ یہ مقام اخص  الخواص کا ہے۔

عدم: نیست و نابود ہو جانا اس کی دو قسمیں ہیں ، ایک عدم محض جو وجود کا نقیض ہے جیسے شریک باری ۔ دوسر عدم اضافی جس سے مراد بطون اشیاء ہے۔

عدم العدم: مرتبه احدیت کو کہتے ہیں اس لئے کہ عدم کا عدم اثبات ہے ، یعنی وجود حقائق کے علاوہ کوئی موجود نہیں۔ اس مرتبہ کو عین الکافور بھی کہتے ہیں اس لئے کہ جس طرح اس کے چشمہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اسی طرح مرتبہ تک کسی کی رسائی نہیں۔

عرش : ایک ایسا جسم ہے جو تمام اجسام کو محیط ہے اور عرش بلندی کی وجہ سے موسوم ہے ۔ یہ سریر ملک سے تشبیہ دیا گیا ہے جسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں۔ قضا و قدر کے احکام کا نزول حکمرانی فرمانے کےفرمانے کے وقت اسی سے ہوتا ہے

عرض (جمع اعراض) وہ چیزیں جو مستقل طور پر(قائم بالذات) نہیں پائی جاتیں بلکہ جوہر کے اندر پائی جاتیں ہیں مثلا رنگ کو آپ مستقل طور پر نہیں دیکھ سکتے بلکہ ہمیشہ اسے کسی چیز کے اندر دیکھیں گے دیوار پر، لباس میں، کتاب میں وغیرہ۔

اس کے نو افراد ہیں:1۔کیف-2َکم- 3َاین-4َمتی-5َاضافت-6َوضعٓ-7َفعل-8ََانفعال-9َملک

عروج:۔ عالم اجسام سے احدیت تک پہنچنے کو کہتے ہیں جو اصل ہے۔سالک کا حق تعالیٰ کی ذات و صفات عالیہ کے مشاہدہ  میں مستغرق ہو جانا  اور مخلوق سے منقطع ہونایعنی سالک اپنے جسم کو محو کرنے سے عالم مثال میں اور عالم مثال کو محو کرنے سے عالم ارواح میں، عالم ارواح کو محو کرنے سے عالم اعیان میں اور عالم اعیان گم کرنے سے وحدت میں اور وحدت گم کرنے سے احدیث میں پہنچتا ہے اسی طرح نزول بھی ہوتا ہے۔

عزلت: خلق سے گوشہ نشینی کی وجہ سے میل جول سے علیحدہ ہونا ہے۔

عشرت:جذبات عشق کی لذت کو کہتے ہیں۔

عشق: شدت محبت، کشش معشوق، حب معشوق اور مرتبہ وحدت کو کہتے ہیں۔ یعنی حق تعالٰی نے اپنی حب ذاتی سے سب سے پہلے عشق کو پیدا کیا جس کو حقیقت محمد ی ﷺ کہتے ہیں۔

سالکین کےاسمیں پانچ درجے ہیں:

فقد ان دل : یعنی دل کا گم کر دینا۔   ۔

تاسف : ہر وقت بے دل عاشق بغیر معشوق کے اپنی زندگی سے افسوس کرتا رہے۔

3۔  وجد :  ۔ اس کی وجہسے عاشق کو کسی جگہ اور کسی وقت چین و آرام اور قرار نصیب نہیں ہوتا۔

4۔۔ بے صبری:   شوق و ذوق کی ایسی آگ بھڑکتی ہے جس سے وہ رات دن بے قرار رہتا ہے۔

5۔۔ ضیانت : عاشق اس درجہ میں پہنچ کر دیوانہ ہو جاتا ہے اور سوا معشوق کے اسے کچھ نظر نہیں آتا۔

عشق کی دو قسمیں ہیں: مجازی اور حقیقی۔

حقیقی عشق اللہ تعالی اور اس کے رسول کریم ﷺ کے عشق کو کہتے ہیں۔

عشق مجازی کی بھی دو قسمیں ہیں: نفسانی اور حیوانی

عشوه:تجلی جمالی کو کہتے ہیں۔

عقدہ کشائی: اس سے معشوق کی خاص صفت دلکشائی مراد ہے اس کو بسط کہتے ہیں۔

عقل اول:  یہ علم الہی کی شکل کا وجود میں محل اور علم الہی کا نور ہے جو تنزلات میں سب سے پہلے ظاہر ہوا۔ اول ما خلق الله العقل سے اسی جانب اشارہ ہے۔

عقل کل: تور محمد ی  ﷺ مراد ہے جو خارج میں پہلا مظہر ہے۔ تمام مخلوقات سے قبل اللہ تبارک و تعالٰی نے ایک جو ہر پیدا فرمایا۔ اور اس کو معظم و مکرم و مشرف فرمایا۔ وہ جوہریہ عقل تھی۔

عکس:اعیان ثابتہ کو عکس کہتے ہیں جو وجود کا بر عکس ہے۔ وجود عالم ہے اور عالم آئینہ اور معلوم

علم استدلالی وہ علم ہے جودلیل کے ذریعے سے حاصل ہوتاہے
علم حقیقت:اس سے مراد علم ظاہری اور باطنی کا مجموعہ ہے۔ اس علم کا حصول ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسی کو علم شریعت کہتے ہیں۔
علم العرفان :یہ علم دل کا چراغ ہے۔ اس کی روشنی میں انسان خیر و شر کو دیکھ سکتا ہے۔ انسان جس قدر اللہ تعالی کی بادشاہی ، اس کی پیدا کردہ کائنات اور اس کی صفات میں غور و فکر کر تا ہے اسی قدر اس کا اشتیاق بڑھتا ہے اور وہ اللہ تعالی کے جمال کو منکشف دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اسماء و صفات خداوندی میں اور زیادہ غور و تدبر کر تا ہے۔ اسے علم تفکر بھی کہتے ہیں۔

 علم کشفی :۔وہ علم ہے جو کشف کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے

علم لدنی :علم حقائق اور عرفان کو کہتے ہیں جو ذات حق سے براہ راست حاص حاصل ہو ۔

علم يقين :ایک چیز کا مکمل طور پر اس کیفیت و ماہیت کے ساتھ جاننا یہ علم عطائی ہے اور صرف اولیاء کاملین و مقربین کو نصیب ہوتا ہے۔ اس کا طریق الہامات ، تجلیات فتوحات، مکشوفات اور مشاہدات ہیں۔ اسی کو علم لدنی کہتے ہیں۔

یقین کے تین مرتبے ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین۔
علو :۔عارف کا ترقی کرتے کرتے درجہ لاہوت تک پہنچنا

علیین : بہ اعتبار مراتب ، ارواح کے دو ٹھکانوں میں سے ایک ٹھکانہ جہاں نیک ارواح رہتی ہیں  ، پھر اس میں بھی مراتب ہیں۔ اس کا سب سے اعلیٰ مرتبہ ” الرفيق الا علی ہے۔ اور یہ مخصوص ہے حضور کے لئیے ۔ اللهم بالرفیق الاعلیٰ سے اسی کی جانب اشارہ ہے۔

عماء: اس سے حقیقت الحقائق مراد ہے۔ یہ مرتبہ ذاتی ہے۔

عماء کے لغوی معنی رقیق ابر کے ہیں۔ جس طرح ابر کا ایک رخ آسمان کی طرف اور دوسرا زمین کی طرف ہوتا ہے اسی طرح عماء کا ایک درجہ سماء احدیت کی جانب اور دوسرا ارض واحدیت کی طرف۔ یعنی نہ حق ہے نہ خلق ، عماء، احدیت کے مقابل ہوا جس طرح احدیت میں اسما و صفات مضمحل ہوتے ہیں اور کسی چیز کا ظہور اس میں نہیں ہے اسی طرح عماء میں بھی کسی چیز کا ظہور نہیں۔ عماء اور احدیت میں یہ فرق ہے کہ عماء حکم ذات کو بمقتضائے اطلاق کہتے ہیں اور احدیت حکم ذات کو ذات میں ہونا کہتے ہیں۔

عندليب: اس سے عارف مراد ہوتا ہے جو ہمیشہ ذکر و فکر میں مشغول رہتا ہے۔

عنصر:آگ، پانی، مٹی، ہوا کو کہتے ہیں۔ ان کو امہات سلفی بھی کہتے ہیں۔ آگ کا ظہور اسم  قابض سے ، پانی کا اسم محی سے ، مٹی کا اسم ممیت سے اور ہوا کا اسم حی سے ہے۔

عوارض:۔ عارضہ کی جمع، پیش آنے والی چیزیں یعنی مرض ،دکھ ،بیماریاں

عید:۔ تجلیات جمالی اور ۔مشاہدات کے زمانے کو کہتے ہیں کیونکہ سالکوں کے لیے : صفات الہی کی تجلی کی دریافت کا ہوتا ہے ۔

عین:۔ ذات حق تعالٰی کے ساتھ اتحاد ہستی حق میں گم ہو جانا۔ سالک کا ذاتِ حق میں محو ہوتا اور لذتِ وصال پانا۔ مقام بقا باللہ میں پہنچنا۔

عین ثابت: وہ چیز جو حضرت حق کے علم میں موجود ہے مگر وجود خارجی کی بو بھی اب تک نہ سونگھی۔

عین الروح:اسے بصیرت بھی کئے ہیں۔ بصیرت کی تعریف پہلے گزر چکی ہے۔

عین الیقین :یہ عطیہ ربانی ہے یہ علم الیقین کے ذر یعے حاصل ہو تا ہے۔

 عینیت، دو مفہوموں کا مصداق من کل الوجوہ ایک ہونا ہے یعنی دو چیزیں ہر طرح سے ایک ہوں اور ان دونوں میں کوئی فرق نہ ہو جسے انسان اور حیوان ناطق یازید اور ذات زید ۔ ہر ایک دوسرے کا عین ہے جو انسان ہے وہی حیوان ناطق ہے

غارت: جذبہ الہی کو کہتے ہیں جو بے واسطہ سالک کے دل پر وارد ہوتا ہے ۔ بعض تجلی جلالی اور فناء کامل  مراد لیتے ہیں

غبغب :قہر آمیز لطف کو کہتے ہیں جو سالک کو چاہ صفات نورانی سے نکال کر چاہ ظلمانی ذات میں ڈالتا ہے۔

غڑت غڑوت:سالک کا سر سے پاؤں تک انواروتجلیات میں ڈوبنا، اوراس کی وجہ سے بے انتہا خوشی کی کیفیت کا طاری ہوتا۔

غراب: غین کے زبر کے ساتھ۔ اس کے معنی پہاڑ کے ہیں۔ حضرت احدیت سے جسم کلی کا بہت دور ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یا جسم کلی کے ادراک نورانیت سے خالی ہونے کے سبب نام ہے۔

غربت:طلب مقصود کو کہتے ہیں۔ بعض اس سے مجبوری و گرفتاری تعین اور مبدأ سے دوری مراد لیتے ہیں۔

غزل:۔ وہ باتیں  جوعشق کے متعلق ہوں ،عارفوں اور مرشدوں کے کلام سے عبارت ہے

غشاوه:وہ پردہ ہے جو گناہوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے آئینہ دل اور چشم بصیرت پر پڑ جاتا ہے۔

غمزه: عالم باطن کا جذبہ مراد ہے تاکہ طالب باصفا کا دل متغیر نہ ہو اور طلب میں استوار ہو۔ یہ بشریت کو فنا کرتا ہے۔

غمگسار: صفت رحمانی کے اثر کو کہتے ہیں۔

غم خوار : حضرت حق کی صفت رحمانی کا اثر مراد ہے۔

غمکده: مقام غم کو کہتے ہیں جس سے عاشق کا قلب مراد ہے۔

غنچہ: تخلیق سے قبل حقیقت عالم کو کہتے ہیں۔

غنی: بے نیاز ہے اور تمام کا ئنات اس کی محتاج ہے۔ ہر چیز اسی کے لئے ہے۔ غنی وہ بندہ ہے جو ماسوی حق ہر چیز سے بے نیاز و مستغنی ہو کیونکہ جب اس نے وجود پایا اور اس کو پہچانا تو ہر شے کو پایا بلکہ وہ کسی چیز کے واسطے وجود اور تاثیر نہیں دیکھتا اور شہود کی بنا پر محبوب کی ہر شے سے بے خبر ہوتا ہے.

غوث:اصطلاح میں قطب الاقطاب کو مخلوق کی فریادرسی اور حاجت روائی کے اعتبار سےغوث کہتے ہیں۔ یہ دنیا میں ایک ہوتا ہے۔   یہ قدم به قدم خاتم الانبیاءﷺ کے چلتا ہے اور قائم اللیل، نفع رسانی خلائق میں ثابت اور اولیاء اللہ پرحاکم ہوتا ہے۔

غین: وہ بار یک پردہ مراد ہے جو تصفیہ قلب کی وجہ سے کھل جاتا ہے اور تجلی کے نور سے زائل ہو جاتا ہے۔ قلب اور ایمان بالحق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔

غیب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات اور دوسرے عالم(باطن) میں جو سر کی آنکھوں سے نظر نہیں آتے ۔

غيب الغيوب: ذات و سماج، ذات بحت ، مرتبه احدیت اور غیب المصؤن مراد ہیں۔

غيب المكنون: مرتبه وراء الوراء، بستی صرف احدیث مطلقہ اور گنج مخفی مراد ہیں ۔ یہ ایک راز اور کنہ ذاتی ہے جسے حق کے سوا کوئی نہیں پہچان سکتا۔ اس واسطے یہ اغیار سے محفوظ اور نگاہوں و عقلوں سے پوشیدہ ہے۔

غیب ہوئیت: ذات غائب، غیب مطلق اور مرتبہ احدیت کو کہتے ہیں جس میں سواحق کے کسی کو یافت ادراک اور شعور نہ ہو۔ اس کو لا بشرط شے بھی کہتے ہیں۔

غیب اول: مرتبہ وحدت مراد ہے۔

غیبت :۔ مخلوق کے دیکھنے سے قلب کاعلیحدہ ہو جانا ہے۔

غیرت کا معنی رشک اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر غیرت یہ ہے کہ وہ انہیں قرب الہی سے دُور کرنے والی اور محرمات و مکروہات اشیاءغیر سے ان کا ارتکاب کرنے پر قہر و ابتلا نازل کر کے جزاء و عقاب دے کر ان کا ارتکاب کرنے سے انہیں روکے.

غیریت: دو چیزوں میں کسی قسم کا تغائراورامتیاز ہواور دونوں میں فرق ہو

فاتحة الوجود :۔ مراد انسان کیونکہ انسان ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جملہ موجودات کے قفل کھولے ہیں۔ انسان کو فاتحۃ الکتاب اور سبع مثانی بھی کہتے ہیں بوجہ ان سات صفات نفسہ کے یعنی حیات ،علم،اراده، قدرت ، سمع و بصر و کلام – انسان باعتبار ظاہر کے خلق اور باعتبار باطن کے حق ہے۔

فانی:اس سالک کو کہتے ہیں جو حق میں محو ہو جو حظوظ نفس کے شہود سے فناء ہو گیا۔

فترت: سالک کی طلب کی اس حرارت کا سرد ہو جانا مراد ہے جو شروع میں ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ جب واصل ہو جاتا ہے تو طلب کی تپش بھی ختم ہو جاتی ہے۔

فتوت: دنیا و آخرت میں خلق کے ایثار کو کہتے ہیں

فتح مبین : وہ چیز ہے جو سالک پر مقام ولایت میں مفتوح ہوتی ہے۔

فتق: کشادگی کو کہتے ہیں۔ یہ رتق کے مقابل ہے ۔ حق سے مادہ مطلقہ کی تفصیل مراد ہے یہ تفصیل ذات احدیث میں شیونات ذاتیہ سے موسوم ہے۔ حضرت واحدیت میں اس  کو اعیان یا نسب اسمائیہ  کہتے ہیں اورظہور  فی الخارج میں اس کا نام حقائق کو نیہ ہے۔

فتوح: اللہ تعالیٰ کی جناب سے بندہ کو ظاہری و باطنی نعمتوں کا عطا ہونا جیسے رزق مکاشفہ و علم معرفت وغیرہ ۔

فراست : ۔دلوں کی باتوں یا لوگوں کے حالات پر اللہ کے نورسے آگاہ ہونا۔

فرد:  یہ اولیاء اللہ کا ایک مرتبہ ہے۔ اس سے وہ ولی مراد ہے جو قطب الاقطاب کے واسطے کے بغیر بارگاہ  واحدیت سے فیضیاب ہو۔ فرد المحبوب اسے کہتے ہیں جو مرتبہ محبوبیت پر فائز ہو اور فرد الافراد وہ ہے اس میں تجرید و تفرید غالب ہو۔

فراق :مقام وحدت سے غیبت کو کہتے ہیں یعنی سالک کا وطن اصلی سے جو عالم بطون ہے عالم ظہور کیطرف بھی فراق اور منزل ہے پھر عالم ظہور سے عالم بطون میں جانا وصل ہے۔

فرق:۔بغیر اللہ تعالیٰ کے مخلوق کو دیکھنا ہے مشاہدۂ عبودیت کو کہتے ہیں اور صفتِ حیات اور صفتِ ممات دونوں کو کہتے ہیں

فرق اول: حق سے طلب کی کثرت اور رسوم خلقیہ کی وجہ سے محجوب ہو نا مراد ہے۔

فرق ثانی: خلق کا حق کے ساتھ مشہود ہونا، وحدت کو کثرت میں اور کثرت کو وحدت میں دیکھنا مراد ہے۔

فریب:استدراج مراد ہے  یعنی وہ  امر جو خلاف عادت غیرولی ، غیر نبی سے صادر ہو۔

فصل: وہ تفرقہ و تمیز  جو اتحاد کے بعد ہو

فغاں: یہ فریاد کے ہم معنی ہے۔ باطنی احوال بیان کرنا مراد ہے۔

فقدان: اس کے لغوی معنی سہو اور بھول کے ہیں۔ لیکن اس سے مراد اپنی مکمل محویت ہے کہ اپنے وجود کی بھی خبر نہیں۔

فقر: یہ تصوف میں فنا فی اللہ کا مقام ہے۔ اس مقام پر فائز لوگ دنیاو مافیھاسے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور انہیں بجز اللہ تعالی کے کسی کی ضرورت نہیں رہتی۔ذات حق میں فنا ہونے والا فقیر کہلاتا ہے۔
فناء:بشریت کی صفات ذمیمہ کو الله تعالی کی صفات سے بدل دینا۔اللہ تعالی کے مشاہدے کے ساتھ مخلوق سے غائب ہونا ہے

فنافی الله : سالک اپنی خودی کو نیست و نابود کر کے عشق و محبت حق کی راہ میں فنا کر دے۔ بعض کا قول ہے کہ فرق و تمیز کا حدوث و قدم کے درمیان سے زائل ہو جانا فنا فی اللہ کہلاتا ہے ۔

فنافی الرسول: سالک اپنے آپ کو رسول ﷺ میں گم کر دے اور قولا فعلا و عملا آپ ﷺکی متابعت و پیروی میں  کوئی فرق نہ کرے۔

فنافي الشيخ: سالک اپنے آپ کو مرشد و شیخ کے وجود میں اس طرح گم کرے کہ ہر قول و فعل اور عمل میں اس کی پیروی کرے ۔

فوائد: حضرت حق کا اپنے راز کو کسی کے ساتھ مخصوص کرنا جیسے انسان ہے۔

فهم زلف : راز دریافت کرنا مراد ہے۔

فیض اقدس: تجلی ذاتی کو کہتے ہیں جس سے وجود خارجی سے قبل حضرت علم میں اعیان کا تقرر ہوا۔

فیض مقدس اسمائے الہی کی تجلیات کو کہتے ہیں جو اعیان ثابتہ کو خارج میں صورعلمیہ کے مطابق وجود بخشتی ہے۔

قامت:تصور ذات اور اسماء وصفات ، آثار و افعال کہتے ہیں۔ عالم ارواح سے عالم اجسام تک کو قامت ۔ بعض اس سے عارف کا وجود مراد لیتے ہیں۔ قامت سے ببسم اللہ کا الف یعنی احد بھی مراد ہے جسے قامت بالا اور قد بالا بھی کہتے ہیں۔

قاب قوسین او ادئی: دائرة الوجود معانی امرالہی میں اسماء کا تقابل مراد ہے۔ حضرات صوفیہ کے نزدیک قاب قوسین سے بلند و اعلی کوئی مرتبہ نہیں۔ مقام او ادنی احدیت میں جمع ذاتیہ ہے جس میں تمیز اور اعتباری دوری فنا محض کی وجہ سے ختم ہو جاتی ہے۔

قاف: حقیقت انسانی مراد ہے۔ کوہ قاف کے متعلق عام طور پر یہ خیال ہے کہ وہ اپنی بزرگی اور برکتوں کی بنا پر تمام عالم کو گھیرے ہوئے ہے وہ سیمرغ کا مقام ہے ۔ حقیقت انسانی بھی تمام حقائق عالم کی جامع ہے۔ اس کی شناخت سے ذاتِ مطلق تک رسائی ہوتی ہے۔ سیمرغ سے ذات مطلق کی طرف کنا یہ کیا جاتا ہے کیونکہ مومن کا قلب جو حقیقت انسانی کا کوہ قاف ہے ذات مطلق کا سیمرغ ہے ۔

قبضواردات قلبی کے بند ہو جانے کو قبض کہتے ہیں۔

قدرت :وہ قوت جو ممکنات کو عدم سے وجود میں لاتی ہے۔ اسے صفت ربوبیت بھی کہتے ہیں۔

قدوس :۔معنی ہے ۔ پاک۔ بعض عارفین نے فرمایا ہے :۔ قدوس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی ہر ایسے کمال سے پاک ہے۔جو اس کی ذات کے لائق نہیں ہے اور اس طرح نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کہ وہ ہر نقائص سے پاک ہے۔ کیونکہ اس کی طرف نقائص کی نسبت درست ہی نہیں ہے۔
قدم :۔ حق سبحانہ تعالی کے علم میں جو ہرشی کے لئے ایک خاص قابلیت اور استعداد مقرر ہے ” قدم ” کہلاتی ہے۔ وہ نعمت جسکا بندے کے لئے ازل میں حکم کر دیا۔ حق کی اس آخری عنایت اور عطیہ کو بھی کہتے ہیں جس سے بندہ کی تکمیل ہوتی ہے۔

قدم صدق: اس سے وہ عظیم نعمتیں مراد ہیں جن کی خوشخبری حضرت حق اپنے صالح و مخلص بندہ کو دیتا ہے ۔

قرب: قاب قوسین کی حقیقت مراد ہے ۔ بندہ کا شریعت کے ساتھ طریقت پر نگاہ ر کھنا۔ طریقت کے ساتھ حقیقت کی محافظت کرتا ہے ۔ قرب اطاعت و فرماں برداری کے ساتھ قیام کو بھی کہتے ہیں۔

قربت :اسماء و صفات سے بندے کا علم و معرفت میں مستحکم ہو جانا اس طرح کہ کوئی چیز اسے مقصود سے دور نہ کر سکے۔

قشر : علم ظاہری کو کہتے ہیں کیونکہ علم ظاہری سے مغز یعنی علم باطنی کی حفاظت ہوتی ہے تاکہ فاسد نہ ہو جیسے چھلکے سے مغز کی حفاظت ہوتی ہے۔ علم ظاہر قشر (چھلکا) علم باطن لب (گودا) اور مغز جیسے علم شریعت علم طریقت کا قشر اور علم طریقت علم حقیقت کا قشر ہے۔

شریعت پوست مغز آمد حقیقت میان این آن باشد طریقت

شریعت مثل کھال اور حقیقت مثل مغز ہے ان دونوں کے درمیان طریقت ہے ۔

قصودقصد کی جمع ہے یعنی سچے ارادے اور سچی نیتیں جو اللہ کی طرف رجوع ہونے پر مبنی ہوں۔

قضا و قدر : قضاء حضرت حق کے اجمالی حکم کو اور قدر اس کے تفصیلی حکم کلی کو کہتے ہیں جو تمام اشیاء کے لئے اعیان ثابتہ کے اقتضا کے مطابق ہوتا ہے اور قدر اس حکم کلی کے اندازہ اور جزء معین مخصوص کرنے کو مخصوص زمانہ میں کہتے ہیں یہ ایسا ہے کہ اس سے ایک ذرہ کم و بیش نہیں ہوتا۔

قطاع الطریق :  رہزن وہ شخص ہے جو نہ تو کسی کا مرید ہو اور نہ اس نے سلوک پورا کیا ہو نہ کسی کا خلیفہ ہو۔ یوں ہی خلق خدا کو مرید کرنے لگے۔ ایسے ٹھگ اور راہزن کا مرید ہونا گمراہی ہے اور نہایت ممنوع

قطب:۔ سردار قوم جس پر قوم کا دارو مدار ہو۔ حق کی نظر کا مر کز،اقطاب سے مراد ایسے مریدان درگاہ ہیں۔ جو  تعلیم روحانی پا کر رک گئے ہوں۔ قطب غوث ہی کا نام ۔ سارا نظام عالم ظاہر و باطن اس کے تصرف میں ہوتا ہے۔ دنیا کا روحانی وزیراعظم قطب مدار کہلاتا ہے  حضرت اسرفیل علیہ السلام کے قلب پر ہوتا ہے ۔

قلب: اس نورانی جو ہر کو کہتے ہیں جو مادہ سے الگ اور روح و نفس کے درمیان ہے۔ انسان کی انسانیت اسی قلب سے ثابت ہے جس کا نام حکماء نے نفس ناطقہ رکھا ہے۔ اس کی روح باطن اور اس کا مرکب نفس حیوانی ہے، نفس حیوانی قلب یعنی نفس ناطقہ اور جسد کے درمیان ۔ حضرت حق تعالیٰ نے جسد کی مشکوۃ سے ، قلب کی زجاجہ سے مصباح کی روح اور شجرہ کی نفس کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جسد میں قلب جزو اعظم ہے وہ ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جو نیلوفر کی شکل کا سینہ کے بائیں جانب اوندھا لٹکا ہے۔ اس میں تین دل ہیں قلب منیب، قلب سلیم، قلب شهید –

قلب منیب : سے خطرات روحی اور نیک کام ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسے : تقوی۔ ریاضت و مجاہدہ – عبادت – ورع وغیرہ۔ چنانچہ اس آیه پاک (من خشی الرحمن بالغيب وجاء بقلب منيب ) میں لو اس قلب منیب کا ذکر ہے۔

قلب سلیم : اس سے حق سبحانہ کی محبت اور طلب علم اور علم عرفان حاصل ہوتا ہے اس آیہ پاک (یوم لا ينفع مال ولا بنون الا من اتى الله بقلب سلیم) میں اس قلب سلیم کا ذکر ہے۔

قلب شہید : اس سے توحید حقیقی اور ذرہ ذرہ میں شہور ذات حاصل ہوتا ہے اس آیتہ پاک میں (لمن كان له قلب او القى السمع و ہو شہید) میں اس کا ذکر ہے۔

قلم :یہ روح اعظم کی وجہ خاص ہے نور محمدی ﷺاس سے تعبیر ہے، نیز اسم بدیع کا مظہر ہے اس سے تمام کا ئنات ظہور میں آئی اور یہی رسول اللہ ﷺ کے تعین بشری کی روح ہے۔ قلم اعلی اور عقل اول دراصل ایک ہی نور کے دو نام ہیں جب حضرت حق کی طرف سے نسبت دی جاتی ہے تو قلم اعلی اور جب اس کی نسبت بندہ کی طرف کی جاتی ہے تو عقل اول کہا جاتا ہے۔ عقل اول   سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی تخلیق ہوئی۔ ان کا نام روح الامین اس لئے ہوا کہ وہ اللہ تعالی کے علم کے خزانہ کے امانت دار ہیں  ۔

قناعت: اس سے مراد تھوڑی چیز پر راضی ہونا ہے مگر اصطلاحا ہمہ وقت حضرت حق تعالی سے اس کی تقدیر اور احکام پر راضی رہنے اور اس سے اس کو طلب کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ پانچ مقامات میں سے ایک مقام ہے۔

قوت:عاشق کی غذا کو کہتے ہیں جو قدیم کا جمال ہے اس کی عقل ادراک کا احاطہ نہیں کر سکتی۔

قہر : تجلی جلالی کو کہتے ہیں یہ طالب کے لئے تائید حق ہے جو اسے فنا کر کے فنافی اللہ کی سرحد پر پہنچا دیتی ہے

قیام بالله : اس سے فنا کے بعد بقا کے وقت استقامت مراد ہے سالک کا تمام منازل پر عبور اور سیرعن الله باللہ اور فنافی اللہ کو تمام رسومات سے نکل کر پورا کرنا ہے۔

قیام لله : سیر الی اللہ کے آغاز میں طالب کا خواب غفلت سے بیدار ہونا۔

قیامت:  عالم ارواح، عالم مثال اور عالم ناسوت و عالم برزخ میں ازلی استعدادات  کے مطابق جو ہو چکا ہو رہا ہے ان تمام ارواج اور اسماء وصفات کو دوبارہ پھر جمع کر کے ان سے ان کی ازلی استعدادات اور اعمال و افعال جو انہوں نے عالم ناسوت میں انجام دیئے تصدیق کرنے کا نام قیامت ہے۔

کائن بمعنی صحبت و محبت رکھنے والا
کاسہ قلب :۔عارف باطن عارف اور حقیقت جامعہ کو بھی کہتے ہے۔

کامل: وہ شخص ہے جو عرفان میں پکا ہو ، اپنی خودی سے بالکل آزاد ، ذات حق میں محو ، شریعت طریقت حقیقت و معرفت میں مضبوط اور مقام فنا و بقا میں پہنچا ہو۔

کا فر بچہ: یہ گبر کا مترادف ہے یعنی وہ شخص جو عالم وحدت میں یکرنگ اور دل کو تمام ماسوی اللہ سے علیحدہ والگ کر کے سواد ہستی میں آرام و سکون پائے۔

کافه: مقام تفرقہ پر فائز شخص ہے۔

کابل: جھوٹا مرید جو نافرمان اور مرشد کامل سے بد اعتقاد ہوا اور اس کے قول کو قبول نہ کرے۔ اسےمردود طریقت بھی کہتے ہیں۔

کباب: اس دل کو کہتے ہیں جو جذبات عشقی سے تجلیات میں جل بھن جائے۔

کبر :عاشق پر صفات قہر کے تسلط کو کہتے ہیں اور بعضوں کے نزدیک کبر و کفر سے مراد عالم لاہوت و ملکوت ہیں۔

کبود:محبت کے اختلاط اور ملنے کو کہتے ہیں یہ نیلگوں کے معنی میں بھی ہے۔

کتاب مبین :لوح محفوظ مراد ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

ولا رطب ولا يابس إلا في كتاب مبين (الانعام: ۵۹) تر و خشک سب کتاب مبین میں ہے۔

کتم عدم : اس حالت سے مراد ہے جسے کنز محل کہتے ہیں یعنی وجود اشیاء ذات احدیت میں نکلی تھا۔

کثرت: مخلوقات اور ظہور اسماء کو کہتے ہیں جس کے مقابل وحدت ہے۔

کرامت:خلاف امر عادت کے ظہور کو کہتے ہیں جس کا ظاہر کرنے والا مدعی نبوت نہ ہو کیونکہ انبیاء علیہم السلام سے جو امور خلاف عادت ظاہر ہوتے ہیں ان کو معجزہ کہتے ہیں اور اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتے ہیں کرامت کہتے ہیں

کرسی: کل صفات فعلیہ کی تجلی سے عبارت ہے اور یہی اقتدار الہی کا منظر ، اوامر و نواحی کے نفاذ ، وجو دو عدم، تفصیل و ابهام، نفع و نقصان اور فرق و جمع کا مرکز ہے جس میں مختلف و متضاد صفات و آثار بالتفصیل ظاہر ہوتے ہیں۔ اس سے امر الہی وجود میں آتا ہے۔

کرشمہ: عالم باطن کے جذبہ کو کہتے ہیں تاکہ سالک کا دل سلوک میں متغیر نہ ہو اور طلب میں استواررہے۔ بعض توجہ حق تعالی اور انوار معرفت کے پر تو کو کہتے ہیں۔

الکسوۃالعنصریہ :۔ لباس عنصری اس سے مراد نور کا لباس ہے جو روحوں کو عالم الملک میں عطا ہوا ہے۔

کشادن چشم: مشاہدہ کرنے کو کہتے ہیں۔

کشف:۔غیبی امور سے حجابات کا اٹھنا اس کی دوقسمیں ہیں کشف کبریٰ کشف صغری

کعبه: خانہ خدا کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں اس سے قلب صافی مراد ہے ۔

کعبه مردان نه از آب و گل است طالب دل شو که بیت اللہ دل است

مردان خدا کا کعبہ مٹی چونے کا نہیں ہے ، دل کے طلب گار ہو کیونکہ اللہ کا گھر دل ہی ہے۔

کفر:یہ ناشکری کے معنی میں ہے۔  کفر کے معنی ظلمت کے بھی ہیں کیونکہ نور سے ظہور اور ظلمت سے پوشیدگی ہے۔ اصطلا حا اس کی دو قسمیں ہیں کفر مجازی اور کفر حقیقی۔

کفر حقیقی یہ ہے کہ ذات محض کو اس طرح ظاہر کرے کہ سالک ذات حق کو عین صفات اورعین ذات جانے ۔ ذات حق کو ہر جگہ دیکھے ، اور سوائے ذات حق کے کسی کو موجود نہ جائے۔ یہ حقیقت میں توحید و ایمان ہے اگر چہ عوام کو کفر معلوم ہوتا ہے۔

کفرمجازی:۔ناشکری ذات حق  اور گمراہی وہ ہے جو کفار و مشرکین میں  ہے جس میں شرک اور اللہ تعالی کی ناشکری ہے۔

کل: حق تعالی کا حضرت احدیت الہیہ کے اعتبار سے ایک ایسا نام ہے جو تمام اسماء پر جامع ہے۔ اس واسطے کہتے ہیں کہ حضرت حق کے اعتبار سے احد ہے اور اسماء کے اعتبار سے کل ہے۔ کبھی کل مرکب کے معنی میں ہوتا ہے۔

کلیہ اخزاں : محبوب کی جدائی و فراق کو کہتے ہیں۔

کلیساء: دیر کا مترادف ہے اسے عالم ناسوت بھی کہتے ہیں۔

کمال ذاتی: حق سبحانہ کا خود بخود موجود ہونا ۔

کمال اسمائی: مظاہر عالم میں حق سبجانہ کا نزول فرمانا، اور جلوہ گر ہونا

کمالات ثلاثہ:۔کمالات نبوت ۔کمالات رسالت ۔کمالات اولوالعزم

کنار:توحید کے اسرار دریافت کرنے اور ہمیشہ مراقبہ میں فرق رہنے کو کہتے ہیں۔

کنز:ذات احدیت جو غیب کے پردوں میں بھی تھی۔

كنز الكنوز : مرتبہ وراء الوراء اور غیب الغیوب کو کہتے ہیں۔کنہ ذات یا ذات بحت ہے جس کی حقیقت نہ بیان ہو سکتی ہے نہ عقل میں آسکتی ہے۔ یہاں پہنچ کر عارف پر عالم حیرت طاری ہوتا ہے۔ مرشد کامل کو بھی کہتے ہیں جس کی صحبت سے عشق الہی پیدا ہوتا ہے اور اسرار الہی منکشف ہوتے ہیں ۔

کنشت: عالم تعین اور شہود و معرفت مراد ہے

كوكب الصبح : اس تجلی سے مراد ہے جو سب سے پہلے ہوتی ہے کبھی نفس کلیہ کی مظہر یت پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ فَلَمَّا جِنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى گؤ کبا(الانعام: ۷۶) ( جب ان پر رات چھا گئی تو ایک ستارہ دیکھا) سے یہی مراد ہے۔

کون:ہر وجودی امر کو کہتے ہیں۔

کیمیا: موجود چیز پر قناعت کرنا۔ طلب کے ترک کو بھی کیمیا کہتے ہیں۔   مرشد کامل کی نظر اورعشق کو بھی کیمیا کہتے ہیں۔

کیمیائے خواص: کونین سے خلاصی پانے اور خالق کونین کے اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔

کیمیائے سعادت:۔تہذیب نفس رذائیل سے اجتناب و تزکیہ و فضائل کا اکتساب

کیمیائے عوام :اخروی باقی سامان و متاع کودنیاوی خالی اسباب سے بدل لینا مراد ہے۔

کین و کینه:نفس امارہ کا تسلط و غلبہ مراد ہے۔

گل: عمل کا نتیجہ اور معرفت کی لذت کو کہتے ہیں۔ حسن مجازی بھی اس سے مراد ہے۔

گلزار: کشف اسرار کا مقام ہے۔

گلستان:۔ باغ،گلزار، مشاہدات تجلیات حق سے کنایہ ہےاور مراد دنیا بھی ہے

گوش: اس سے اسم سمیع میں فنا حاصل کرنا اس کا مظہر ہو جانا اور بغیر حرف و آواز کلام کی طرف متوجہ ہو جانا مراد ہے۔

گوہر سخن: وہ واضح اشارہ مراد ہے جو مادہ اور غیر مادہ میں محسوس ہو۔

گوہر معانی: اسماء و صفات الہی مراد ہیں۔

گوے: تقدیر الہی کے سامنے سالک کی مجبوری مراد ہے۔ اس عارف کامل کو بھی کہتے ہیں جس کو فیض صمدیت اور عینیت ذاتی کی وجہ سے تمام عالم اور احوال یکساں ہو گئے ہوں یہی تمکین کا درجہ ہے۔

گیسو: طلب کے راستے کو کہتے ہیں جو عالم ہو یت میں ہو ۔ اس کو حبل المتین بھی کہتے ہیں۔

لاهوت  :۔ گنج مخفی مقام فنا محویت تامہ حقیقت وحدت جو جمیع اشیاء میں ساری ہے۔ مرتبہ ذات ۔ عالم ذات الہی جس میں سالک کو فنا فی اللہ کا درجہ ملتا ہے

لب :معشوق کے کلام کو کہتے ہیں یہ لطف رب و دود سے عبارت ہے ۔ بعض نے نفس رحمانی مراد لیا ہے جو ہستی کی شکل میں نیستی ظاہر کرتا ہے۔

لب شکریں : وہ مختلف منازل و طریقے مراد ہیں جو انبیاء و اولیاء کو تصفیہ باطن کے ساتھ حاصل ہوتے ہیں۔

لطف تجلی جمالی ،عمل وکردار میں نرمی اور نزاکت کو کہتے ہیں۔ اور لطف خداوندی سے مراد توفیق عمل اور گناہوں سے عصمت ہے ۔ ملاطفت کا معنی نیکی کرنا اور تلطف کا معنی نرمی کرنا .

لوائحمجاہدہ کے دوران سالک کی کیفیت،در اصل وہ انوار ذاتیہ ہیں جو نیکی کی چمک کے مانند ظاہر ہوتے ہی غائب ہو جاتے ہیں۔ ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ٹھہرتے۔

لوامعلوامع میں ٹھہراؤ بہ نسبت لوائح کے زیادہ ہوتا ہے اور کبھی کبھی دو دو تین تین لمحے تک بھی قائم رہتے ہیں ۔ گویا لوائح سے بڑھی ہوئی تجلیات ہیں۔ لوامع چمکنے کے ساتھ ہی اپنی تابش سے بندہ کو خودی سے منقطع کر کے خدا کے ساتھ جمع کر دیتے ہیں اور ان کی روشنی پوری طرح پھیلنے بھی نہیں پاتی کہ زوال شروع ہو جاتا ہے لیکن اثر کسی قدر بعد تک قائم رہتا ہے۔

لوحتقدیر الہی میں جو کچھ مقدر ہو چکا ہے اس کا نوشتہ از لی ۔ اسے کتاب مبین بھی کہتے ہیں۔

ماء القدس سے مراد علم لدنی ہے وہ ایک مقدس اور نورانی علم ہے جس سے سالک منور ہو جاتا ہے ۔ اور کثافت جسمانی اور وحدت سے پاک ہو کر تجلی حقیقی ذاتی اور نور قدیم سے مزین ہو جاتا ہے ۔

مبادی النهايات فریضہ عبادت کو کہتے ہیں یعنی نماز روزہ حج زکوہ یہ چاروں فرائض بندے کو انتہائی کمال تک پہنچا دیتے ہیں۔

مبدا: منبع، آغاز جائے آغاز اور جائے ظہور، معاش، مرتبہ وجود علمی  معاد کا متضاد۔ سالک کی ابتداء چونکہ اسمائے کلی کونی کی راہ سے ہوتی ہے اس لیے انہیں مبداء کہتے ہیں۔ حقیقت کے لحاظ سے ہر چیز کا مبداء حق تعالی ہے۔ احدیت ذات سے ہر چیز نکلی اور مختلف مدارج طے کرتی ہوئی آگے بڑھی۔

 مبدأ و معاد مبدأ سے مراد اول اورجائے آغازاور اصطلاح میں واجب ذات تعالیٰ  اور معاد سے مراد آخر،باز گشت اور جائے انجام ، یا ازل و ابد ۔ یا ۔ دنیا و آخرت میں یا ہر کام کے اول و آخر میں ۔

مجالی: جلوہ گا ہیں ، مجلا کی جمع ہے ۔ اس سے مراد کائنات ، عوالم اوراشیاء ہیں کیونکہ یہی اسماء و صفات کے مظاہر ہیں۔

مجاہدہ: ۔ کوشش، جد و جہد نفس کو اس کی صفات مجرد کرنے اور اوصاف ذمیمہ کو اوصاف حمیدہ میں تبدیل کرنے کی عملی کوشش ۔ مقابلہ نفس مخالفت ہوا۔

مجذوب: جس پر ایسا جذبہ الہی طاری ہو کہ ایک آن میں واسل بحق کر دے ۔ لیکن بعض کا قول ہے کہ مجذوب کو حضرت حق نے اپنے لئے پیدا فرمایا اور اپنی انسیت کے لئے پسند کیا اور غیر و غیریت کی کدورت سے اسے پاک کیا۔ اس نےتمام نعمتوں اور بخششوں کو اپنی ذات میں جمع کیا اور بغیر مجاہدات و ریاضات کے تمام مقامات پر فائز ہو گیا۔ تمام مدارج طے کرنے والے کومجذوب سالک کہتے ہیں۔ جس کی استعداد اعلی نہیں ہے اس کو مجذوب صرف کہتےہیں۔ سالک مجذوب  جس نے مجاہدہ و ریاضت سے پہلے تزکیہ نفس حاصل کیا

 مجاز: لغت میں اس سے مراد راستہ رہ گزر اور حقیقت کی ضد کو کہتے ہیں۔ اصطلاح میں اشیاء کو نیہ کے حقائق مراد ہیں۔ انسان کے وجود میں جو کچھ جواہر واعراض ہیں وہ سب اسماء الہی کے ظہورات ہیں۔ جس طرح آگ ، ہوا، پانی، اور مٹی انسانی وجود میں ۔

مجمع البحرین: یہ قاب قوسین سے عبارت ہے کہ دونوں بحر وجود وجوب اور امکان اس میں یکجا ہے ۔ بعض کہتے ہیں حقائق کونیہ اور اسماء الہیہ کے اجتماع کی وجہ سے اسے مجمع البحرین کہتے ہیں۔

محادثة باہم گفتگو یا کلام کرنا،خطاب حق تعالی جو عالم الملک و الشہادت سے عارفوں کی جانب ہوتا ہے۔ جس طرح کہ موسیٰ علیہ السلام کو درخت کی جانب سے ندا آئی تھی ۔

محاضرہ  قدرت الہی کی نشانیاں دیکھ کر حق تعالیٰ کے حضور کی کیفیت کا قلب میں پیدا ہوتا۔

محافظت: اوقات کے مراقبہ کو کہتے ہیں۔

محبت:یہ حبہ سے نکلا ہے ، حبہ اس بیج کو کہتے ہیں جو زمین میں پڑتا اور پوشیدہ ہو جاتا ہے۔ اس پر پانی پڑتا ، دھوپ چمکتی ہے مگر اس میں فرق نہیں آتا بلکہ وہ اپنے وقت پر اگتا، پھلتا اور پھولتا ہے۔ اسی طرح محبت جب دل میں جمتی ہے تو وہ موجودگی، غیر حاضری، بلا، مصیبت، آرام، لذت ، جدائی وصال کی بھی حالت میں متغیر نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی رہتی ہے۔ قلب کی حیات و زندگی کا سبب اور روحانی غذا ہوتی ہے۔ محبت کی انتہاء کو عشق سے موسوم کرتے ہیں ۔ محبت کا آغاز موافقت پھر میلان پھر موانست پھر مؤدت، پھر ہوا، پھر خلت ، پھر محبت پھر شغف پھرتیم پھر ولہ ہے اور آخری درجہ عشق ہے۔

محتسب:۔گنتی کرنے والا عقل سے کنایہ ہے،خلاف شرع کاموں سے روکنے والا

محجوب: اس سے وہ شخص مراد ہے جو حضرت حق سے بالکل غافل ہے ۔

محجوب مطلق :اس سے وہ شخص مراد ہے جو مقام حیرت پر فائز ہو اور کسی چیز کی اسے خبر نہ ہو۔

محقق: وہ شخص جس پر حقائق منکشف ہوں۔  جو حجت وبرہان سے گزر کر کشف الہی کے مرتبہ میں پہنچا ہو اور دیدہ دل سے مشاہدہ کرتا ہو اس طرح پر کہ اشیاء کے حقائق اگر چہ حق اور ثابت تو ہیں لیکن وہ سب حق تعالی کے وجود واحد سے ہیں ۔

محویت :۔ بندے کا اللہ کی ذات کے علاوہ ہر وجود سے لا تعلق ہو جانا،عادی صفات کو مٹا دینا۔ اپنے اخلاق و افعال کو حق میں فنا کردینا

محوذات: اس عاشق کو کہتے ہیں جو انوار ذات کی تابش میں محو ہو گیا ہو۔جس سے خلق محجوب ہو گئی ہو

محراب: ہر مطلوب و مقصود جس کی طرف دل متوجہ ہو ۔

مخدع :۔معرفت میں ایک مقام ، قطب الاقطاب یعنی غوث کا ایک خاص مقام اور اعلی مرتبہ،قطب کے مستور رہنے کی جگہ۔

مخلِص: جس کی عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہو۔

مخلَص: جس کو خداوند عالم نے شرک و معاصی سے پاک وصاف فرما دیا ہو۔

مخموری : مستی بے خودی مطلق اور فنائے سکر سے ایک ایسے تنزل میں آجانا جس میں پوری  بے خودی نہ ہو۔ بوجہ پوری بے خودی نہ ہونے کے افشائے سر حقیقت یہاں ممنوع ہے۔

مراتب ثلاثہ:۔۔: فنافی الشیخ فنافی الرسول۔ فنافی اللہ  کو کہتے ہیں ۔دلائل ثلاثہ  بھی کہلاتے ہیں

مراتب داخلیاحدیت اور وحدت اور واحدیت ذات کے  مراتب داخلی اور بطون کہلاتے ہیں ۔

مراتب خارجی:۔خارج اول : عالم ارواح اور خارج ثانی عالم مثال اور خارج ثالث عالم اجسام ۔ ان تینوں عالموں کو مراتب خارجی کہتے ہیں کیونکہ ذات کے وجود خارجی کے مظاہر یہی تین عالم ہیں ۔

مراتب محبت:  محبت کے مراتب   پہلا مرتبہ

(1) لحظه ۔۔محبت کا مادہ اور مودت کی اصل ہے گویا کہ نطفہ ہے محبت کا ۔

(2) رمقہ۔۔ محسوسات میں کسی  خوبی کا ادراک کر کے اس کی پیروی کا میلان۔

(3)ہوا۔۔ محبت و مودت کا ابتدائی درجہ اصل مراتب یہیں سے شروع ہوتے ہیں۔ (ہوا آرزو)۔

(4)ود۔۔ایک سر ہے جو کیفیت ہواکے بیدار ہونے سے باطن محبت میں داخل ہوتا ہے۔

(5)خلت۔۔سچی دوستی قوائے روحانی میں محبت کا جڑ پکڑ لینا۔

(6)حب۔۔ وہ حالت جس میں قلب ماسوائےالمطلوب کے پاک ہو جائے۔

(7)  عشق: محبت کا انتہائی مرتبہ افراط محبت ۔  عارفین کے نزدیک اس کا اطلاق ذات صمدیت پر نہیں ہوتا۔ وہاں افراط و تفریط کا گزر نہیں

بعض نے دس مدارج بیان کئے گئے ہیں: (1) موافقت (2) میل انسیت  یا موانست (3) ہوا(4) مؤدب (5) خلت (6) محبت (7) شغف (8) تَیم: محبت سے تاثیر پیدا کرنا، فیض دینا ۔ (9) ولولہ: آئینہ دل میں جمال دوست کو محفوظ کر لینا اور ہمیشہ اسی. مستی میں بیمار رہنا۔ (10) عشق : بے قرار ہو کر خود کو گم کرنا۔

مراد: محبوب جس کو جذب الہی نے اپنی جانب کھینچا ہو اور شدائد و مشقت میں وہ مبتلا نہ کیا گیا ہو۔

مراقبہ کے معنی غور کرنا یا کسی چیز پرتوجہ مرکوزکرنا ہے۔ مراقبہ ایک قلبی عمل ہے جو لفظ ’’رقیب‘‘ سے ماخوذ ہے۔ رقیب اسمائے الٰہی سے ایک اسم ہے جس کے معنی نگہبان، پاسبان کے ہیں۔ دل میں مقصود کے تصور کی محافظت کرنا۔ بندہ کا اپنے علم کوبغرض فیضان علم قدسی حق تعالی کی جانب رجوع کرنا۔

مرشدپیر، رہنمائے کامل راستہ دکھانے والا راه رشد عطا کرنے والا ۔ صراط مسقیم کی جانب رہنمائی کرنے والا۔

مریدمرشد کا پیروکار بیعت کرنے والا طالب ہدایت جس کا ارادہ حق تعالیٰ کے ارادہ میں محو ہو گیا ہو۔ جس کے لیے اسماء الہی کا دروازہ کھولا گیا ہو

مسامرہ بندے کو پوشیدہ طور پر اسرار غیبی کے بارے میں جو خطاب ہوتا ہے رات کی مناجات کو بھی مسامرة کہتے ہیں ۔

مست:۔ مرشد اور چشم معشوق سے کنایہ ہے ہشیار کی ضد متوالا اور مجذوب

مستریح:لغت میں راحت و آرام کا طلب گار مراد ہے لیکن اصطلاح میں وہ شخص ہے جسے اللہ تعالی نے ہر قدر پر مطلع کیا کیونکہ یہ ہر اس مقدور کو دیکھتا ہے جس کا معلوم وقت پر وقوع پذیر ہو نا ضروری ہے اور اس چیز کو بھی دیکھتا ہے جو مقدور نہیں ہے اور اس کا واقع ہونا نہیں ہے۔ ایسا شخص اس چیز کے انتظار سے راحت و آرام پا جاتا ہے جو وقوع پذیر نہیں ہوئی اور گزری ہوئی چیز پر رنج و حسرت سے نجات پا جاتا ہے۔

مستند المعرفه : حضرت واحدیت کے مرتبہ کو کہتے ہیں جس میں اسماء وصفات کی تفصیل ہے۔

مستوى الاسم اعظم : وہ بیت الحرام اور عرش معظم مراد ہے جس نے حق کو اپنے میں سمالیا ہے، وہ انسان کامل کا قلب ہے۔

مستہلک: ذات احدیث میں مکمل طور پر فانی شخص مراد ہے۔

مستی: عاشق کا معشوق حقیقی کے عشق میں من جميع الوجوہ گرفتار ہونا اور اس گرفتاری سے خوش ہونا مراد ہے۔

مستدرج:-وہ شخص ہے جس سے ایک ایک کر کے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ اور اس کو احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔

مسجد:۔ سجدہ گاہ اور سالکوں کی اصطلاح میں مظہر فیض نفس رحمانی، منظر تجلی اجمالی” اور آستانہ پیرومرشد کو کہتے ہیں ۔ ظاہر پرستوں کے زہدو ورع سے بھی کنایہ کرتے ہیں ۔

 مسخره: جو لوگوں کے درمیان اپنے کشف و کرامات بیان کرے اور درویشی و معرفت کی ڈینگیں مارے۔
مشاهده:۔ دل کی آنکھ سے حق کو دیکھنا۔حق کا مشاہدہ ،تجلیات صفات وافعال کی طرف توجہ کو مشاہدہ کہتے ہیں۔ اور ذات کی طرف توجہ کو معائنہ کہتے ہیں

مشرف الضمائر : وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالی نے آدمیوں کے قلوب پر مطلع کیا اور اس پر حق کا اسم باطن جلوہ گر ہوا جس سے وہ لوگوں کے قلوب پر مطلع ہوتا ہے۔

مشهد : (شہادت گاہ، قبرشهید) محل شہود وہ تجلی جو انوارالغیوب سے قلب پر وارد ہو اور کسی انکشاف کا باعث بنے۔

مشیت: تمام عالم کے لئے تجلیات ذاتیہ سے معدوم کی ایجاد اور موجود کی عدمیت مراد ہے۔

مصباح: اس سے مراد روح ہے جس سے جسم کثیفروشن اور زندہ ہوتا ہے۔ بعض دل کو بھی کہتے ہیں جس سے جسم روشن ہوا ہے۔

مصقله : اصطلاح میں ذکر الہی اور شغل و فکر و مراقبہ کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے آئینہ قلب نفسانیت کے رنگ اور خطرات سے پاک ہو جاتا ہے۔

مطرب :اصطلاح تصوف میں مرشد کامل ااور مرد اکمل مراد ہے جو مرید صادق کو فیض پہنچاتا ہے اور کامل کرتا ہے۔ بعض کے نزدیک حضرت حق تعالیٰ مرادے جو نغمہ الست کو چھیڑ نے والا ہے۔

مَظہر : ظہور کی جگہ مراد ہے۔ مظاہر مظہر کی جمع ہے۔ واقعی اعتبارات جو وجود مطلق سے نکلے ہیں مراد ہوتے ہیں۔ حضرات صوفیہ ہستی مطلق حقانی کے سوا تمام عالم کو وہم کہتے ہیں اور عالم کو عکس ، سایہ ، مرات، آئینہ بھی کہتے ہیں۔  آئینہ ظہور یعنی اعتبارات واقعیہ جن سے وجود مطلق نے ظہور پایا۔

مُظهِر : وجود مطلق ، وہ ہستی جو تعینات عالم میں متعین ہوئی۔

مظہراتم : صوفیائے کرام کی اصطلاح میں یہ ایک مشہور مسئلہ ہے۔ اصل میں مظہر اتم آنحضرت ﷺ ہی کا لقب خاص ہے اس لئے کہ آنحضرت ﷺ، حضرت رب العزت کا خاص مظہر اول ہیں اور تمام اشیاء اشخاص آپ ﷺ کے مظہر ہیں۔ آپ صلی الہ یکم حق کے اسم مبارک ” اللہ ” کے مظہر ہیں اور یہ تمام اسماء کا جامع ہے۔

معاد: رجوع به مبداء و تجلیات اسمائے الہی، انجام اور جائے انجام کو کہتے ہیں۔ حضرات صوفیہ کے نزدیک اعتبارات سے ان الفاظ کا استعمال مختلف موقعوں پر کیا جاتا ہے۔ سالک کی انتہاء اسمائے کلی الہی جن کی راہ سے اس کی رجوع و بازگشت ہوتی ہے معاد ہیں۔ دوسر الحاظ یہ ہے کہ ہر چیز کسی نہ کسی اسم کی مظہر ہے۔ اس لیے جملہ اسماء مبداء اور جملہ اشیاء معاد ہیں۔

معالم اعلام الصفات: معلم میم کے زیر کے ساتھ کسی چیز کے نشانہ کو کہتے ہیں اس کی جمع معالم ہے۔  علم عین ولام کے زبر کے ساتھ اسے کہتے ہیں جس سے آدمی مشہور ہو اس کی جمع اعلام ہے۔ اصطلاحاً اعضا بھی مراد ہیں جیسے آنکھ ہاتھ، کان، ناک وغیرہ اس لئے کہ ان اعضاء سے معالم اور صفات کے اصول ظاہرہوئے۔

معائنه: تجلیات کے وہ انوار جو سالک کے دل پر بے مثل وہے جہت وارد ہوں اور سالک ان میں محو ہوکر خودی سے بر طرف اور حق میں گم ہو جائے۔

معبودیت صرفه: یہ مرتبہ کل کی اصل ہے (صوفیانہ اصطلاح میں کل اللہ تعالیٰ کو کہتے ہیں) اور سب کی جائے پناہ اس مقام میں وسعت بھی کوتاہی کرتی ہے  اکابر انبیاء اولیا کرام کی انتہا مقام حقیقت صلوة تک ہے۔ جو عابدوں کی عبادت کا انتہائی مرتبہ ہے ۔معبودیت بندگی اور صرفہ صرف (خالص) یا تمام چیزوں سے انصراف اور روگردانی کرتےہوئے عبادت

معیت: ( ساتھ ہونا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے: وهو معكم این ما کنتم  یعنی تم جہاں کہیں ہو وہ ذات وصفات کے اعتبار سے ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے

معرفت :یہ ولی اللہ کی صفت ہے جو حق سبحانہ تعالی کو اس کے اسماء صفات سے پہچانتا ہے۔ اور الله تعالی اس کے معاملات میں سچائی پیدا کر دیتا ہے۔ اور اس کو اخلاق رذیلہ اور اس کی آفات سے پاک و صاف کر دیتا ہے۔ اس تزکیہ کے بعد وہ اللہ تعالی کا ہو کر رہ جاتا ہے وہ سر میں اللہ تعالی کے ساتھ مناجات کر تا ہے اور یہاں اس کی حاضری دائمی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ ایسے میں وہ وقت کا ترجمان بن جاتا ہے۔ اس کے اسرار قدرت کو بیان کر تا ہے۔ اور تصرفات کے بارے گفتگو کرتا ہے۔ معرفت کے حامل شخص کو عارف کہتے ہیں۔ اس کی تین اقسام ہیں (1) معرفت عقلی (2) معرفت علمی (3) معرفت کشفی

معشوق:حق تعالیٰ مراد ہے جس کو طالب سالک حقیقتاً پوری کوشش سے ڈھونڈے تو وہی دوستی کا مستحق ہے۔ مجازی طور پر ہر محبوب مطلوب کو کہا جاتا ہے۔

مغرب الشمس : اس سے تعینات کے ساتھ حضرت حق کی پوشیدگی اور جسم کے ساتھ روح کا چھپنا مراد ہے۔

مفتاح اول: اس سے تمام چیزوں کا احدیت ذاتیہ میں اندراج ہے جیسے درخت گٹھلی میں اور پودابیج میں اورحرف روشنائی میں ۔

مقام:۔ مرتبہ سلوک و قرب الی اللہ ۔ اس سے مراد بندے کا وہ مرتبہ ہے جو وہ توبہ ، زهد ، عبادات ، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے بارگاہ خداوندی میں حاصل کرتا ہے۔ جب تک وہ ایک مقام کے احکام پر پورا نہیں اتر تا دوسرے مقام کی طرف ترقی نہیں کر سکتا۔
معرفت میں ایک منزل کا نام بھی ہے۔

سالک کے دِل پر جو کیفیات بلا کوشش اللہ کی طرف سے وہبی طور پر وارد ہوں ایسی  کیفیت  جوہمیشہ کے لئے قائم رہے  مقام کہتے ہیں۔ آخری مقام فناء الفنا میں مقیم ہونا ۔ عروجی منازل کی سو منزلیں ہیں۔ 99 مراتب تکوین ہیں جن میں سے ترقی کرنا چاہیے ورنہ ناقص رہ جائے گا اور آخری منزل یعنی سویں منزل منزل تمکین ہے۔ یہی سالک کی اقامت کا ہے اس سے سوا بقا باللہ کے کوئی نہیں۔ اس مقام کو فقر اور مقام غنا کہتے ہیں۔

مقامات عشرہ..؛ مقام ولایت تک پہنچنے کے لیے دس مقامات ہیں 1توبہ…..2انابت…..3زُہد…..4قناعت…..5ورع…..6صبر…..7شکر…..8توکل…..9تسلیم…..10رضا…..ان کے حصول کے بغیر ولایت تک پہنچنا ناممکن ہے

مقعد صدق: مقام قدس ہے جہاں عیش و نشاط و سرور محض کے سوا کچھ نہیں

في مقعد صدق عند ملیک مقتدر (القمر : ۵۵) مقام قدس میں صاحب قدرت و اختیار بادشاہ کے پاس۔

مکاشفہ :اتصال یا تعلق باللہ کا نام مکاشفہ ہے۔ حضور معنوی،مکاشفہ سے چھپے راز عیاں ہو جاتے ہیں اور انسان باطن کی آنکھ سے سب کچھ دیکھنے لگتا ہے۔

مکنون المكنون : مرتبه احدیت ، گنج مخفی، منقطع الاشارہ اور مقام محویت مراد ہے ۔

ملامتی و ملامتیه :لغت میں شریعت محمدی صلی علیم کے مخالف کو کہتے ہیں لیکن ارباب تصوف کی اصطلاح میں وہ فقراء ہیں جو ظاہر میں بدنام اور باطن میں ہو شیار و خوش نام ہیں۔

ملجاء: لغوی معنی جائے پناہ اور اصطلاح میں دل کا اعتماد، حق پر حصول مراد کے لئے رکھنا ہے۔

ملاء: عالم تشبیہ مراد ہے۔

ملاحت : ایک حالت وجدانی ورائے حسن جو ممالک حسن و جمال پر مسلط ہوگئی اور اپنے فتنوں اور اپنی شور انگیزیوں کی وجہ سے عالم کو درہم برہم اور دلوں کو مسخر کرنے لگی اور جس شان سے صورت دلبری کو اقرب پایا اسی شان میں تجلی کرنے لگی۔

في الحقیقت ملاحت لمعہ نور وحدت حقیقی ہے جس نے مرتبہ اطلاق یعنی جہان بے مثالی سے تنزیل کیا اور جمال کے وسیلہ سے دلوں کو جذب کرنے لگی اور نہیں چاہتی کہ کسی کو مملکت تقید و مثال میں مقید رہنے دے۔

ملاحت بے نہایت: کمال الہی مراد ہے کہ کوئی شخص اس کی انتہاء کو پہنچتے ہیں کلی طور پر مطمئن ہو جائے۔

ملک: عالم ناسوت و عالم شہادت اور عالم محسوسات  مراد ہے۔

ملکوت:عالم غیب مراد ہے۔ ملائکہ اور ارواح و نفوس کیلئے مختص عالم۔ ملک و ملکوت دونوں عالم شہادت خارج میں ہیں عالم غیب ان کے ماوراء ہے۔

ملحد :حق کی راہ سے روگردانی کرنے والا فاسق اور بے دین مراد ہے۔ حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں ملحد کی پانچ اقسام ہیں

(1)ملحد شریعت اس کا عمل و اعتقاد شریعت کے خلاف ہو، خلاف شرع باتیں کرے

(2)ملحد طریقت: جو دنیاوی کاروبار میں مبتلا ہو کر حق سے غافل ہو جائے حالاں کہ بظاہر وہ اپنے آپ کو فقیر کہلا تا ہو۔

(3)ملحد حقیقت جو اپنے معبود برحق کو چھوڑ کر دنیا والوں کی خوشامد و چاپلوسی کرتا ہو اور خود کو فقیر کہتا ہو

(4)ملحد معرفت: وہ اپنے کو عارف کہلاتا ہے اور غیر کو دیکھتا رہتا ہے۔

(5)ملحد و حدت  سے ایسا موحد مراد  ہے جو ذات باری میں بالکل فنا ہو جائے اور حق کی انا اس کی انا ہو جائے۔

ممتنع الوجود:۔وہ تصورات جو وجود ذہنی سے وجود خارجی میں داخل نہ ہوسکیں مراد عدم ہے

ممکنات:۔عالم آثار (دنیا) میں جتنی ذی روح موجود ہیں انہیں ممکنات کہا جاتا ہے یہ ممکن کی جمع ہے

ممکن الوجود وہ تصور جن کا تعلق وجود اور عدم سے یکساں ہو انہیں ” ممکن الوجود “ کہا جاتا ہے۔  وہ ہے جو اپنی موجودیت کے لیے کسی غیر کا محتاج ہو اور اس میں حکم ( قانون قاعدہ) کے اختلافات جاری ہوں۔

مناجات کے معنی، احباب کے ساتھ چپکے چپکے بات کرنی ہے۔ بندے کی اللہ تعالی کے ساتھ سرگوشی : تلاوت ، اور اذکار کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی اپنے بندے کے ساتھ سر گوشی سمجھ ، اور معرفت کے دروازے کھلنے، اور حجابات کے اٹھنے کے ساتھ ہوتی ہے۔

منجاء: دل کی آفت سے چھٹکارہ پانےاور واپس پلٹنے کی جگہ کو کو کہتے ہیں۔

منزل:سالک کے قیام کی جگہ مراد ہے۔ چار منزلیں ہیں:  ناسوت- ملکوت -جبروت- لابوت

موالید ثلاثہ: مخلوق کی بنیادی تقسیم کے لحاظ سے تین قسمیں: جمادات، نباتات اورحیوانات

موانعات رکاوٹیں، سلوک میں موانعات وہ ہیں  جوخلاف شرع وصول الی اللہ  میں  سد راہ ہوں ۔ وہ مجمل طور پر چار ہیں

(1)خلاف شرع باتیں

(2)   قلب کی ماسوی سے آلودگی

معصیت، شرک و وسواس (3)

اخلاق ذمیمه (4)

موت اختیاریہوائے نفس کا قلع قمع۔ لذت جسمانی سے اعراض توبه موتو اقبل ان تموتو ا یعنی مرنے سے قبل مرجانے سے اسی موت کی طرف اشارہ ہے۔ اس مرگِ اختیاری کی مندرجہ ذیل اقسام ہیں:

(1) موت ابیض : سفید موت۔ یعنی بھوک، پیاس اور نیند پر قابو پا لینا۔

(2) موت احمر:۔ سرخ موت۔ یعنی خواہشات پر غلبہ پالیتا۔ لذائذ و خواہشات کی قربانی

(3) موت اخضر: ۔ سبز موت ۔ یعنی آئندہ کے متعلق امنگوں کو خیر باد کہہ دینا ۔ اس سے ترقی و سرسبزی شروع ہو جاتی ہے اس لیے اسے سبز موت کہا گیا ہے۔

(4) موت اسود: سیاہ موت ۔ یعنی دارین سے منہ پھیر لینا۔ الفقر سواد الوجه في الدارين چونکہ دونوں جہان سے آنکھ بند کر لی جاتی ہے اسے  سیاہ موت کہتے ہیں

اس کے ساتھ موت اختیاری(حق میں فنا) اور موت اضطراری(طبعی موت)

مورد فیض:۔حق تعالیٰ کی طرف سے سالک کے جس لطیفہ پر فیض وارد ہوتا ہے

میان : وسط، کمر، کنارے کی ضد۔ صوفیوں کی اصطلاح میں طالب مطلوب کے درمیان جو رابطہ اور بھید ہوتا ہے اس سے کنایہ ہے ۔ وہ لمحہ امر ہاریک جس کی دریافت خدا کی بخشش کے سبب ہوتی ہے ۔

میزان: انصاف کی ترازو ،عدالت، اہل ظواہر کے نزدیک وہ ترازو جو قیامت کے دن لوگوں کے اعمال تولنے کے لیے قائم ہوگی۔ اہل باطن کے نزدیک عقل جو انوار قدسی سے منور ہو چکی ہو۔

مے خانہمقام محبت سے بھی کنا یہ ہے پیرخانے و مرشد خانے کیلئے استعمال ہوتا ہے اور عالم عشق اور مشاہدات و تجلیات  مراد ہیں

ناسوت:عالم شہادت جو جمال کا مقام و محل ہے مراد ہے۔عالم بشریت ،عالم اجسام اور عالم محسوسات

 ناقوس :۔ راہب اپنی طاعت کی تائید میں بانگ نماز کی جگہ بجاتے ہیں (ظاہری ناقوس یعنی سکھ )۔ یہ کنایہ ہے اہل معرفت کی گفتگو سے جو وہ ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ وہ جذبہ جو خدا کی خبر دیتا ہے، طاعت وعبادت کی ترغیب دیتا ہے اور خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے ۔   باطنی ناقوس صور اسرافیل ہے۔ انفس میں ناقوس شریعت اذان ، ناقوس طریقت سماع، ناقوس حقیقت نغمه الست اور ناقوس معرفت صوت سرمد ی ہے جسے صدائے جرس بھی کہتے ہیں۔

نالہ : اس سے عاشق کی وہ مناجات مراد ہے جو معشوق کی طرف ہو اور بعض نے عاشق کی دعا بھی مراد لی ہے۔

ناله زار : محبت کی طلب کو کہتے ہیں ۔

ناله زیر :محبوب کے اس لطف و کرم کو کہتے ہیں جو عاشق پر ہو ۔

نامرادی: یہ اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سالک کو کوئی اراده و خواہش نہ رہے اس کا ارادہ و مرضی میں حق کی مرضی ہو جائیں

ناموس: عزت و حرمت ،پوشیدہ راز، انبیاء علیہم السلام کی ذات سے شریعت کا اجراء ہوتا ہے اس لئے ان کو ناموس کہتے ہیں۔ اس کی جمع نوا میس ہے۔ فرشتوں کو نوا میس الہیہ کہتے ہیں کیونکہ وہ معصوم ہوتے ہیں۔ اس کے ایک معنی راز کے بھی ہیں اسی لئے حضرت جبرئیل کو ناموس اکبر کہتے ہیں۔ عورت اس وجہ سے ناموس الہی کی گئی کہ وہ تخلیق انسانی کا محل و مقام ٹھہری۔

نایافت: محرومی  اور نقصان  اور نا قابل دریافت ۔عشق و طلب کی وہ کیفیت جو محرومی کی صورت میں ہوتی ہے۔

نبوة: اس سے مراد انسانوں و جنوں کو حقائق الہیہ سے باخبر کرنا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں

نبوة التعریف: اس سے معرفت وصفات و اسماء حق سے باخبر کر نامراد ہے۔

نبوة التشریع : اس سے مراد ہے کہ نبوة التعریف کے ساتھ احکام الہی کی تبلیغ ، اخلاق و کردار اور حکمت کی تعلیم بھی ہو۔ یہ صرف رسالت کے ساتھ مخصوص ہے۔

نجباء: یہ نجیب کی جمع ہے ، یعنی بزرگ لوگ۔ اصطلاح میں یہ چالیس اولیاء اللہ ہیں جن کو اللہ تعالی نے مخلوق کے معاملات کی اصلاح کے لئے مقرر فرمایا اور ان کو متصرف بنایا ہے۔

نخست :اس سے روز اول مراد ہے۔

نرگس: اس سے عارف کی آنکھ مراد ہے جو حیرت محمودہ سے سرفراز ہو ۔

نزول:۔اپنی تکمیل کے بعد دوسروں کی تکمیل وار شاد کے لئے مخلوق کی طرف متوجہ ہونا۔ اصطلاح میں اس کو سیر عن اللہ باللہ کہتے ہیں

نسبت : وہ ملکہ راسخہ محمودہ جو سالک اکتساب سے حاصل کرتا ہے اور جو ملکہ کہ اس کی روح کو جمیع جہات سے احاطہ کر لیتا ہے اور اُس کی صفت لازمی بن جاتا ہے اور اُس کا مرنا جینا اُس پرواقع ہوتا ہے۔

نضح :اعمال کا ہر قسم کے فساد سے پاک و صاف ہونا ۔

نظر: لغت میں نگاہ و فکر کو کہتے ہیں لیکن اصطلاح میں سالک کا حق کو صفات کے حجاب کے ساتھ دیکھنا کہ حق کی ذات کا ظہور صفات کی شکل میں ہوا۔ ورنہ بغیر حجاب کے صفات ذات دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں اگر چہ دیکھنے کی کیفیت میں فرق ضرور ہے۔

نظر بر قدم: یعنی پیروں پر نظر رہنا تا کہ دل پراگندگی سے محفوظ رکھے اور جس جگہ نظر نہ ڈالنا چاہیں نہ پڑے۔ اس سے عارف کی سیر کی طرف بھی اشارہ ہے اس لئے کہ وہ ہستی کی مسافتوں کو طے کرتا ہے

نغمہ:۔آواز سرود، خواہ گلے سے نکلے یا بانسری سے کنایتا حقائق و معارف(صوت سرمدی) مراد لئے جاتے ہیں

نفث روحی : نفث کے لغوی معنی پھونکنے کے ہیں۔ نفث روحی وہ خطرہ رحمانی ہے جو بلا واسطہ نہ ہو۔ بلکہ اس کا فیضان حق تعالیٰ سے عقل اول پر ہو۔ پھر وہاں سے ارواح قدسیہ پر ہو۔ پھر یہ فیضان روح حیوانیہ پر ہو جو کہ ہم میں موجود ہے۔ گویا یہ فیضان روح القدس کی وساطت سے ہوتا ہے۔

نفحات: فیوض جو مبدا فیاض کی جانب سے قبل سالک پر وارد ہوں اور روح سالک کو قدسی خوشبوؤں سے معطر کر دیں۔

نفس: اس کی جمع انفاس ہے۔ نفس سے مراد سانس ہے اس کو اصطلاح میں حرکت اور تجلی ذاتی بھی کہتے ہیں۔ نون کے زیر اور ف کے سکون (جزم) کے ساتھ اس کے معنی روح، کسی چیز کی حقیقت، ہستی اور ہر چیز کے عین کو کہتے ہیں۔ یہ نفس جو روح کے معنی میں ہے ایک بخاری لطیف ہے جس میں زندگی کی حرکت و طاقت ہے۔ حکماء اسے روح حیوانی کا نام دیتے ہیں یہ قلب اور جسم کے درمیان ہےاس کی چار اقسام ہیں:

نفس امارہ : جو نفس بشری شہوانی طبیعت کے تقاضوں کا مطیع و فرمانبردار ہو نفس امارہ کہلاتا ہے۔ نفس امارہ اوامر و نواہی کی کچھ پرواہ نہیں کرتا اور لذات نفسانی میں منہمک رہتا ہے۔

نفس لوامہ : یہ نفس کسی گناہ اور غلطی کے ارتکاب پر اپنے کو بہت ملامت کرتا ہے کیونکہ اس میں ہدایت کا نور ہوتا ہے۔ اس لئے وہ اس غلطی و گناہ سے شرمندہ کر کے تو بہ کراتا ہے۔
نفس مطمئنہ :ایسانفس جسے حق سے سکون حاصل ہو اور وہ طمانیت کی کیفیت پا چکا ہو۔
نفس ملہمہ : ایسا نفس الہام خداوندی سے بھلائی کے کام کرتا ہے۔لیکن بتقاضا طبیعت اس سے برے کام بھی ہو جاتے ہیں۔

نفس الامر : صور علمیہ اور اعیان ثابتہ مراد ہیں۔

نفس رحمانی: اس سے اضافی وجود مراد ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے واحد اور صور معانی کے اعتبار سے کثیر ہے۔ نفس رحمانی ان تمام اسماء کو جو اسم رحمن کے تحت ہیں راحت و آرام پہنچاتا ہے

نفس قدسیہ : وہ نفس ہے جس کو حضرت حق کی جانب سے یقین کی حد تک یہ ملکہ حاصل ہو گیا ہو کہ وہ جس وقت جو کچھ چاہے حاضر کرلے۔

نفس كل: یعنی حقیقت کل مراد حقیقت محمدیہ ہے کیونکہ جملہ عالم کی حقیقت و ماہیت یہی ہے اس سے لوح محفوظ مراد ہے۔

نفس ناطقه : روح انسانی مراد ہے اور یہی : قل الروح من أمر ربي   کہہ دیجئے کہ روح امر رہی ہے) سے مراد ہے۔ یہ قلب اور روح القدس کے درمیان برزخ ہے۔ روح انسانی اس کی سواری ہے قلب جب مصفی و پاک ہو جاتا ہے تو وہ بھی روح کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اس بنا پر بعض صوفیہ نے قلب کو بھی نفس ناطقہ کہا ہے۔

نفی :یہ کئی قسم ہے ایک صفات ذمیمہ کی نفی کرنا۔ دوسرے اپنی ہستی خودی کو مٹانا و نیز جمله اعتبارات غیریت اور حجابات کو اٹھا دنیا ۔

نفی و اثباتانکار اور اقرارخیال کی زبان سے لَاأِلٰہَ اِلآَااللّٰہُ کے ذکر کو نفی و اثبات کہتے ہیں۔ ذکر نفی و اثبات توحید کی دو جہتیں ہیں نفی اور اثبات اور کلمہ طیبہ مرکب ہے نفی اور اثبات سے ذات باری تعالی ان اوصاف سے مبرا و منزہ ہے جو اس کی شان کے شایاں نہیں۔ نفی ان ہی اوصاف ناقصہ کی کی جاتی ہے اور اس کی ذات کامل، اسمائے حسنیٰ اور ان اوصاف کا ملہ (جن کو اس نے خود بیان فرمایا ہے ) کا اثبات کیا جاتا ہے ۔ لیکن حقیقت خداوند عزوجل ہمارے نفی اور اثبات کا بھی محتاج نہیں ہے۔ ذات باری تعالی ہماری تمام تصورات و عبارات سے منزہ اور ماوری ہے۔

نقباء:نقیب کی جمع ہے یہ تعداد میں تین سو اولیاء اللہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے باطنی احوال کے واسطے مقرر فرمایا ہے۔ یہ لوگ حضرت حق کے اسم باطن سے متحقق ہیں۔ یہ انسانوں کے باطن سے آگاہ ہوتے ہیں اسی لئےکبھی کبھی خاص حکمت سے پوشیدہ باتوں اور امور کا اظہار بھی کر دیتے ہیں

نقل: اسرار و معانی کا کشف مراد ہے۔

نکاح معنوی روح اور بدن کا تعلق عاشق و معشوق کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کے درمیان نکاح معنوی کر دیا اور حق مہر کے طور پر تمام عالم کو انسان کی ملک بنا دیا۔ اس نکاح معنوی سے جو اولاد پیدا ہوئی وہ حسب ذیل ہے: علوم نطق، فصاحت اخلاق حسنہ صباحت بالفاظ دیگر صفات کمال اور جلال و جمال۔

مختلف الخاصیت اجزا کی ترکیب،  تناسب و اعتدال سے جس طرح صورت انسانی کو پیدا کیا۔ اس میں اپنے حسن کی تجلی ڈالی ۔ اس حسن نے نفس ناطقہ  انسانی کو اپنی جانب کھینچا اور اپنا عاشق بنالیا۔

نکتہ: لغت میں باریکی، پاکیزہ شخص اور پوشیدہ کو کہتے ہیں۔ لیکن اصطلاح میں یہ عبد و معبود کے درمیان ایک راز ہے جو آنا فانا بندہ کو پیام پہنچاتا ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے خواطر مراد ہیں۔

نکہت:۔معنی پھول کی خوشبو،اس پیغام سے کنایہ ہے جو ملک الموت لاتا ہے

نگاره: معشوق اور بعض کے نزدیک ذات حق مع صفات مراد ہے۔

نگاه داشت: اس سے خواطر کا مراقبہ ہے جیسے ایک ہی سانس میں چند مرتبہ کلمہ طیبہ بلا غیر کے خیال کے کہے۔ علاوہ ازیں اپنے نفس کو برائیوں سے بچانا بھی نگاہ داشت کہلاتا ہے۔

نما: اس سے عشرت پا نا مراد ہے جس سے بڑھ کر کوئی عیش سالک کے لئے نہیں۔

نماز: اس سے حضرت حق کی جانب باطنی توجہ اور ماسوی اللہ سے مکمل اعراض ورد گردانی ہے ۔

نہایت :۔ روح کا اس صفاء کی طرف رجوع جواسے تعلق بالجسد سے پہلے حاصل تھی۔

نور: وہ وجود مراد ہے جو تمام شکلوں اور کائنات میں جاری و ساری ہے ۔ ذات باری اور اس کے سایہ کو بھی نور سے تعبیر کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:

الله نور السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ  اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

نور سے وحدت بھی مراد لی جاتی ہے جس میں حق اپنے واسطے ظاہر ہے اور غیر کے لئے مظہراس بنا پر بعض صوفیہ کا قول ہے:

النور هو الظاهر لنفسه والمظهر لغيره نور اپنے لئے ظاہر ہے اور اپنے غیر کے لئے مظہر ہے۔

نور الانوار: اس سے ذات واجب مراد ہے۔

نور قدسی :۔ وہ نور جس کا فیض عالم ملکوت اور عالم جبروت کوپہنچتا ہے۔

نون و القلم : نون سے مراد علم اجمالی ۔ مرتبہ وحدت یعنی حقیقت محمد یہ ہے ۔ اور قلم سے علم تفصیلی یعنی مرتبہ واحدیت مراد ہے اس لئے کہ نون کے معنی دوات کے ہیں قلم لکھتا اور روشنی پھیلاتا ہے تو مرتبہ وحدت حقیقت محمدیہ ﷺ جملہ کائنات کی مجمل حقیقت ہے ۔ مرتبہ واحدیت نے اس سے روشنی لے کر جملہ حقائق و اسماء وصفات کی تفصیل کی تو بمنزلہ قلم کے ہوا ۔ اور کبھی نون و القلم سے عالم دنیا بھی مراد لیتے ہیں ۔

نیاز: لغت میں ضرورت کو کہتے ہیں۔ اصطلاح میں عاشق  کی ایک صفت ہے جس سے وہ معشوق کو اپنے اوپر اور اس کی ہر بات کو اپنی ہر بات پر ترجیح دیتا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول گرامی ہے : ” اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اپنی قرابت و رشتہ داری سے رسول اللہ ﷺ کی قرابت کو زیادہ دوست و عزیز رکھتا ہوں ۔ “

نے:. بانسری حضرات صوفیہ کی اصطلاح میں درویش صاحب حال اور واصل حق کو بھی، جو فانی فی اللہ اور باقی باللہ ہوتا ہے کو نے کہتے ہیں کیونکہ جس طرح نے کی آواز نے کی نہیں بلکہ نے نواز کی ہوتی ہے، اسی طرح واصل حق کی آوازہ بھی، واصل کی نہیں حق کی ہوتی ہے

واؤ: سے اشارہ وجہ مطلقیعنی وجہ اللہ

 واجب الوجوبواجب وہ ہے جو اپنے وجود کے لیے کسی غیر کا محتاج نہ ہو۔ وہ ذات حق ہے۔ جو اپنے وجود قیام و بقا کے لیے کسی غیر کا محتاج نہیں۔

واجب الوجوداس ہستی کو کہتے ہیں  جس کی نہ ابتداء ہے نہ انتہاء جس کا وجو د اس کی ذات کا مقتضا (ضروری) ہو۔

واحد:اسما و صفات کے اعتبار سے ذات کا اسم ہے ، احدیت، وحدت، واحدیت ( مراتب ثلاثہ) پر اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

واحد الوجود: تینوں داخلی مراتب کا مجموعہ مراد ہے اس کو عارف الوجود اور شاہد الوجود بھی کہتے ہیں۔

وادی ایمن :۔ کوہ طور کے دامن میں ایک صحرا ، صحرائے سلوک سے کنایہ ہے تصفیہ قلب جو قلب کو تجلی الہیہ کا قابل بنا دے۔

وارد:۔ وہ  غیبی معانی جو بغیر کسب کے وہبی طور پرعالم غیب سے سالک کے دل پر نازل ہوں ایسی کیفیت جو بندے کی برداشت سے باہر ہو

واسطہ:۔ پیر و مرشد  مرشد برحق کی برزخ مراد ہے جس پر ذکر و فکر کے وقت مرید کی نظر رہتی ہے ۔

واسطة الفیض اور واسطة المدد:اس سے انسان کامل مراد ہے جو خالق و مخلوق کے درمیان رابطہ و واسطہ ہے۔ خصوصا رسول اکرم  ﷺ کا وجو د مبارک – لولاک لما خلقت الافلاک (اگر آپ کو پیدانہ کرتا تو آسمانوں کو نہ پیدا کرتا۔

واصل : کسی شے سے وابستہ ہونے والا اللہ تعالی سے پیوست ہو جانے والا فنا فی اللہ

واعظ:۔ اسے مراد نفس لیا جاتا ہے جو وعظ ونصیحت کرتا رہتا ہے
وجد :حق کے راز کو پاکر روح کا خشوع اختیار کرنا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب انسان ذکر کی حلاوت محسوس کرتا ہے تو اس کے دل میں عشق کی چنگاری بھڑک اٹھتی ہے جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا اور ضبط کے باوجود بھی کسی نہ کسی رنگ میں اظہار ہو جاتا ہے۔ اظہار کی کیفیت و جد ہے۔

وجدان:اس سے ذات حق کو ہر جگہ اور ہر شے میں پانا اور اس میں محو اور گم ہو جانا اور اس سے لذت لینا مطلوب ہے۔

وجود:احدیت، ذات بحت ، اور ہستی مطلق مراد ہے جو مرتبہ سلب صفات ہے۔ وجود کی چھ اقسام

واجب الوجود،لازم الوجود (اللہ تعالی)

ممکن الوجود یعنی جسم مثالی

ممتنع الوجود یعنی روح مثالی

عارف الوجود  اعیان ثابتہ

شاہد الوجود  یعنی مرتبہ وحدت

واحد الوجود یعنی مرتبہ احدیت

وجود اکبر: وجود اور وحدت جمالی کو کہتے ہیں بعض کے نزدیک احدیت مراد ہے۔

وجود عام: مخلوق کا وجود اور ذات حق کی نسبت واضافت بھی مراد ہے ۔

وجود:سلطان حقیقت کے غلبے کے وقت بشریت کافناوجود ہے۔ اپنی حقیقت سے باخبر ہونا

وجود ذہنی :۔جس چیز کا تصور خیال اور ذہن کے پردے تک ہو اسے وجود ذہنی کہتے ہیں جیسے آسمان ہوائی جہازاور کتاب وغیرہ

وجود خارجی: وہ جیز جس کامستقل وجود ہمارےذہن کے باہر بھی ہو اسے وجود خارجی کہتے ہیں جیسے آسمان ہوائی جہازاور کتاب وغیرہ

وجه الحق: وجہ الشی وذات الشیء اور وجہ الحق سے مراد ذات حق ہے جو ہر چیز کی ذات ہے۔

وجه العناية: اس سے جذب و سلوک مراد ہے ۔ یہ دونوں و جہیں ہدایت کی ہیں۔

وحدت:حب ذاتی، حقیقت محمدی ﷺ ، برزخ کبری اور ذات مع علم اجمالی مراد ہیں۔

وحدت کی پانچ قسمیں ہیں:

۔ وحدت شخصی جیسے خالد بکر وزید۔

۔ وحدت نوعی جیسے انسان بہ نسبت زید و بکر و خالد کے

وحدت جنسی جیسے جو ہر بہ نسبت موجودات کی قسموں کے

وحدت ارادی جیسے مومن انبیاء ورسول کے تبلیغ احکام پر حضرت حق کو واحد جانتا ہے۔

وحدت حقیقی جو تعیین اول ہے ۔

ورد:۔  بار بار دہرانے کا عمل وہ ہے جو تمہاری طرف سے اللہ کی بارگاہ میں  پیش ہو۔

ورقاء: نفس کلیہ کو کہتے ہیں جو لوح محفوظ ہے۔

وسائط:۔وسائط سے مراد وہ اسباب دنیا و آخرت میں جو بندے اور اللہ جل شانہ کے درمیان واقع ہوتے ہیں ۔

وسائط تین طرح کے ہوتے ہیں ، وسائط مواصلات ،  سے مراد حق تعالیٰ کی طرف جانے کے راستے کے صحرا۔ وسائط متصلات مراد عبادات اور وسائط منفصلات  سے مراد خواہشات نفس ہیں ۔

وصال :اتصال بالحق کا دوسرا نام ہے وصال مخلوق سے انقطع کی قدر ہوتا ہے۔ ادنی وصال دل کی آنکھ سے مشاہدہ ہے۔ جب حجاب اٹھ جاتا ہے اورتجلی پڑتی ہے تو سالک کو اس وقت واصل کہاجاتا ہے ۔اس کے دو مفہوم ہیں
(1) وصل حقیقت محمدیہ کیونکہ سالک جب سلوک تمام کر کے یہاں پہنچتا ہے۔ تو واصل بحق ہوتا ہے۔
(2)۔ سالک کا اپنی صفات بشریت کو صفات حق سبحانہ میں فنا کر دینا۔۔

وصل: اس سے وحدت حقیقی مراد ہے جو ظہوروبطون کے درمیان وصل و ربط پیدا کرتی ہے ۔ محبت کے ساتھ رحمت کی سبقت بھی مراد لی جاتی ہے بعض کا قول ہے کہ وجود حق کے انوار و تجلیات کی وجہ سے سالک کا اپنی خودی کو یکسر فراموش کر دینا ماسوی اللہ سے اپنے کو بالکل منقطع کر لینا اور بے رنگی محض اور اطلاق صرف میں منہمک اور فنا ہو جانا مراد ہے۔

وصلت: اس عاشق کی صفت کو کہتے ہیں جو معشوق کے وصال کی خواہش رکھتا ہو۔

وصل الفصل:اس سے کثرت میں وحدت کا ظہور ہے یعنی جمع الفرق اس لئے کہ وحدت اپنی کثرت میں اور متفرقات کے لئے جامع اور واصل ہے۔ اس طرح فصل الوصل کا مطلب وحدت میں کثرت کا ظہورہے۔

وصل الوصل : سالک عالم کثیف جسمانی سے عروچ کرتا ہوا جمیع مراتب نزول کو یکے بعد دیگرے طے کرتا ہوا احدیث الجمع میں پہنچے اور واصل بحق ہو جائے۔ اعلی مراتب سے وصل مطلق اور ادنی مراتب سے مختلف و متضاد عناصر کے عالم مراد ہیں ۔

وصول:۔ کے معنی :- صوفیائے کرام کے نزدیک اللہ تعالیٰ  کے واحد وجود کے علم کا  ثابت اور قائم ہو جانا ہے ۔

وفاء:توفیق ازلی مراد ہے۔

وفا بالعهد :اس سے وہ عبد مراد ہے جو ازل میں الست بربکم ( کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ ) سے واقع ہوا اس سے عوام کے لئے احکام کا بجالانا اور نواہی سے بچتا، خواص کے لئے صدق نیت اور سلوک میں اللہ کی طرف بغیر کسی لالچ اور حرص و غرض کے نسبت کی صحت مراد ہے۔ اخص الخواص کے لئے عبودیت ہے۔ اس سے مراد نفس کو اپنے رب کی جمع و فرق دونوں مقامات میں عبادت میں حاضر کرنا ہے۔ علاوہ ازیں ہر وقت غیر محبوب سے نگاہیں بند رکھنا، ہر کمی اور نقص کو اپنی جانب اور ہر کمال وفضل کو اس کی جانب سے سمجھتا ہے۔

وقت :۔ایک منزل جس میں عارف کے لئے بہت مشکلات واقع ہوتی ہیں۔یہ منزل عرفان مشکل ترین منزل ہے

وقوف زمانی: اوقات کا محاسبہ جو زمانہ اچھائی میں گزرا اس پر شکر اور جو برائی میں گزرا اس پر توبہ و استغفار کرے۔ علاوہ ازیں اولیاء اللہ کے مراتب کا لحاظ رکھنے کو بھی وقوف زمانی کہتے ہیں۔

وقوف صادق: حق کے ساتھ سالک کا قیام اور وقوف مراد ہے ۔

وقوف عددی: ذکر قلبی کی تعداد کی رعایت مراد ہے۔

وقوف قلبیجناب باری تعالٰی کے ساتھ بیداری، حضوری قلب اس طرح ہو کہ قلب کو اس کے علاوہ کسی کی غرض ہی نہ ہو۔

ولایت: حضرت حق سے قربت حاصل کرنا اپنی خودی فنا کرنا اور قرب و تمکین کے مقام پر فائز المرام ہو جانا مراد ہے۔

ولایت سہ گانہ:۔ ولایت صغری جو اولیاء کی ولایت ہے اور ولایت کبری جو پیغمبروں کی ولایت ہے اور ولایت علیاء کا جو ملاء اعلی کی ولایت ہے

ہاء: یہ ظہور وجود کے مطابق ذات کا اعتبار ہے بعض کے نزدیک بطون اور غیب ہویت کے اعتبارسے ہے۔

ھاھوت: وہ مقام جس کی جانب کنت کنزا مخفیا میں اشارہ ہے۔

ھباء: وہ مواد کا مادہ مراد ہے جس میں حضرت حق نے عالم کی صورتوں کو مفتوح فرمایا ،تنزلات وجود کا وہ مرتبہ جس میں اجسام عالم کو کشادہ کیا جاتا ہے۔ اس کو اعتقاء اور ہیولی بھی کہتے ہیں۔ یہ دو قسم پر ہے۔ ایک روحانی جسے روح اعظم، ابو الارواح اور روح قدسی کہتے ہیں، اس کو روح محمدی ﷺسے بھی تعبیر کرتے ہیں جس سے تمام ارواح ظہور میں آئیں۔ دوسرا ہیولی جسمانی جس کو مادة المواد کہتے ہیں تمام جسموں کا مادہ ہے۔

ہجر:اس سے حق کے مشاہدے سے حجاب و دوسرے مواقع خلقیہ خواہ وہ لطیف ہوں یا کثیف کی وجہ سے محروم رہنا مراد ہے۔

ہجران: ظاہر و باطن میں غیر کی جانب التفات کرنا ہجران ہے۔ اشتیاق میں تڑپنا بھی ہجران ہے۔ ہجر دراصل وہ کیفیت ہے جو فراق بعد وصال میں پیدا ہو۔ وصل سے قبل جو کیفیت ہوتی ہے اسے ہجر نہیں کہتے بلکہ اضطراب کہتے ہیں۔

  ہجوم : کسی چیز کا کسی دل پر قوت کے ساتھ وارد ہونا بغیر اس کے کہ اس کے لیے اپنی طرف سے کوئی کوشش کی جائے۔

هست نیست:یہ موجود حقیقی اور وجود مطلق سے عبارت ہے کہ ہمیشہ موجود ہے مگر منزہ ہونے کی وجہ سے کسی کو نظر نہیں آتا اس لئے کہ بغیر اسم و صفات کے حجابات کے ذات بحت کا دیکھنا محال نا ممکن ہے۔ اس لئے کہ ذات مطلق و منزہ ہے نظر کی قید میں کیسے آسکتی ہے۔ وجود حق کو سوائے حق کوئی نہیں دیکھ سکتا

بستی: حق کا وجود اور بقا مراد ہے۔

ہشیاریغلبہ عشق سے افاقہ سکون کی جانب آنا، یعنی مقام سکر سے مقام صحو کی جانب آنا

ہفت منزل :۔ وہ سات وادیاں جو سالک کو راہ سلوک میں طے کرنی ہوتی  ہیں   : (1) وادی طلب (2) وادی عشق (3) معرفت الہی (4) استغنا(5) توحید (6) حیرت (7) فقر وغنا

ہمت:۔  اپنے لیے یا کسی اور کے لیے حصول کمالات کی غرض سے اپنی پوری قوتوں اور جمیع قوائے روحانی کے ساتھ حق تعالی کی جانب متوجہ ہونا ۔براق العارفین جس سے طالبان حق کو معراج  نصیب ہوتی ہے

همہ ازاوست: اصطلاح میں اسے توحید افعالی کہتے ہیں(سب کچھ اسی کی طرف سے ہے) کیونکہ افعال سے بھی توحید اور ذات کی بیگانگی ثابت ہوتی ہے اور وہ اس طرح پر کہ بھلائی برائی، رنج راحت، فائدہ،نقصان، موت، زندگی، کفر و ایمان، اطاعت و نافرمانی، غرض کہ جو کچھ افعال دنیا میں ہیں حق سے ہی ہیں جو تمام افعال کا فاعل حقیقی ہے والقدر خيره وشره من الله تعالی ( خیر و شر سب اللہ سے ہے ) سے توحید افعالی ثابت ہوتی ہے جس کومرتبہ شریعت بھی کہتے ہیں۔

ہمہ اوست: یعنی تمام عالم و جملہ موجودات افعال و آثار وصفات سب کچھ  عین سجانہ و تعالیٰ ہے بلکہ سب کچھ وہی ذات حقانی ہے یہ توحید حقیقی ہے معرفت و حقیقت یہی ہے ۔

همه با اوست: یہ اصطلاحا توحید صفاتی کہی جاتی ہے(سب کچھ اس  ذات کے ساتھ ہے) کیوںکہ حضرت حق کی تمام صفات سے توحید اور ذات کی یگانگی ثابت ہے اور وہ اس طرح پر کہ حیات ، علم ، ارادہ، قدرت، سمع ، بصر ، کلام ، خالقیت اور رازقیت وغیرہ تمام صفات کا وجو د بغیر ذات کے محال ہے ۔ کیونکہ تمام صفات کی معیت ذات کے ساتھ ہے۔ صفات ذات سے اور ذات صفات سے کسی وقت بھی الگ اور جدا نہیں۔

كلام مجيد ميں : وهو معكم این ما کنتم  ( تم جہاں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے ) جس سے توحید صفاتی ثابت ہوتی ہے اس کو نسبت، محبت،عینیت ،اضافت اور طریقت کہتے ہیں۔

ہمۃ الافاقہ: ہمت کا پہلا درجہ ہے اس میں سالک ماسوائے اللہ سے منقطع ہو کر ہمہ تن لقاء حق سبحانہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔

ہمۃ الانفه : یہ ہمت کا دوسرا درجہ  ہے جو سالک کو اجر کی طلب سے اس کے کسی بھی عمل پر تنگ کر دیتی ہے اور وہ اپنے کسی بھی عمل پر جزا کا طالب نہیں ہوتا بلکہ احسان کے طریقہ پر مشاہدہ کے ساتھ اور صرف حق کی رضا و قرب کی وجہ سے عبادت و نیک اعمال کرتا ہے۔

ہمت ارباب الہم العالیہ : یہ ہمت کا اعلی درجہ صرف حق کے ساتھ متعلق ہے اورغیر کی طرف کبھی التفات نہیں کرتی۔  اس کا مقصود صرف ذات باری ہوتی ہے۔

ھو: یہ خاص نام ذات کا بلا صفات کے ہے اور اس اسم کے علاوہ کوئی خاص نام ذات کا بغیر صفات کے نہیں آیا۔ یہی اسم نقطہ ذات سے خبر دیتا ہے۔ اس ذکر کو سلطان الاذکار بھی کہتے ہیں۔ اس اسم پرسالک کے ذکر کا اختتام ہوتا ہے۔

هوا:ھوی( خواہش نفس – آرزو)  طبیعت کی جانب نفس کا میلان اور علویت سے سفلیت کی جانب  جھکنے کی خواہش ۔

ہواجس:جمع ہا جس، نفسانی خطرات مراد ہیں۔

ہواجم:یہ ہجوم کی جمع ہے اس سے وہ سب کچھ جو بندہ کے قلب پر بغیر کسی عمل کے پے در پے وارد ہو مراد ہے۔

هوش دردم :حضرات نقشبندیہ  کا طریقہ ہے کہ جو سانس اندر سے باہر آئے وہ حضور و آگاہی سے ہو ، اس میں غفلت نہ ہو۔ یعنی ایک سانس کا دوسری سانس کی جانب انتقال حضوری سے ہو اور کوئی سانس ذکر حق سے غافل نہ ہو۔

هویت (مرتبہ وحدت یا مرتبہ ذات۔ لاھوت ) لفظ ھو سے مشتق ہے جو غائب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال میں آتا ہے۔ ھویت سے حق تعالٰی کی ذات کنہ(ذات بلند، اعلی، اللہ تعالی ذات حقیقی۔) کی طرف اشارہ باعتبار اس کے اسما و صفات اور اس کی غیوبیت کے۔ حق تعالٰی کی غیبت میں اس کی شہادت ہے اور اس کی شہادت عین اس کی غیبت ہے۔ انسان کی حالت پر اس کا قیاس نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وہ بالذات ایسا غیب ہے جو اس کو لائق ہے  اور اس کی شہادت بھی اسی کے شایانِ شان ہے ۔ وہ ایسا ہے جیسا کہ وہ خود کو جانتا ہے ۔ ما عرفناك حق معرفتك۔

ھیولی: ( بنیادی عنصر ) ماده وہ چیز ہے جس میں صوراشیاء ظاہر ہوتی ہیں اور وہ نفس رحمانی ہے۔ ہر وہ باطن بھی ھیولی ہے جو صورت ظاہر

رکھتا ہے۔

یاد:فراموشی کی ضد ہے۔ اصطلاح میں غیر حق کو فراموش کرنا اور نور حق کے موجیں مارتے سمندر میں غرق ہو جانا، اپنی خودی کو نیست و نابود کرنا اور اسم کی یاد سے مسمی میں پہنچ کر اس میں گم ہو جانا ہے۔

یادداشت: اصطلاحات حضرات نقشبندیہ  سے ہے اس سے مراد ذات حق سبحانہ میں محوو فنا ہو کر بقا باللہ ہو جانا۔

یا د کرد: اصطلاحات حضرات نقشبندیہ  سے ہے اس سے مراد ذکر لسانی و ذکر قلبی ہے

یادگاری:اس سے یاد الہی میں سانس جاری ہونا ہے اس کو پاس انفاس بھی کہتے ہیں ۔

 یار:۔ تجلی صفات  صفت تصرف الہی ، محبوب مرشد اور صاحب سے کنایہ ہے مددگار اور سہارا کے معنی میں آتا ہے

یافت : پانا اورفائدہ  یاوصول    قابل دریافت  ۔عشق و طلب کی وہ کیفیت جو ھل من مزید “ کی صورت ہمیشہ طالب رہتی ہے

یا قوت حمرا :َنفس کلیہ۔ کیونکہ بوجہ تعلق بہ جسم اس میں ظلمت ہے برعکس عقل کے۔ جسے درہ بیضا بھی کہتے ہیں۔ : حُمر کے معنی سرخ ہیں۔ لہذا یاقوت حمرا سرخ  یا قوت ہے۔

  یدان:اس سے وہ اسماء مراد ہیں جو آپس میں مقابل ہیں دو اسماء جمالی و جلالی ہیں جیسے جمیل و جلیل لطیف و قهارجملہ عالم کا ظہور ان صفات سے ہے کوئی مظہر جلال ہے کوئی مظہر جمال ،  نیز بعض نے اس سے حضرت وجوب و امکان مرادے کیا۔

 يقين :۔ شک کا ازالہ ۔ ایسا علم ہے جس میں وہم کی مزاحمت ، اور شک کی آمیزش نہ ہو اور اُس کے ساتھ کوئی گھبراہٹ اور بیقراری نہ ہو۔ اس کی تین قسمیں ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین۔

یوم الجمع : وقت لقاء بسوئے عین جمع ، روز قیامت

یوم الجمعہ: سالک کا واصل بحق ہونا اور مرتبہ جمیع میں پہنچنا یوم جمعہ و یوم عید ہے ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں